Baaghi TV

Category: متفرق

  • تمباکو نوشی مضر صحت ہے  تحریر : ثناء شاہ

    تمباکو نوشی مضر صحت ہے تحریر : ثناء شاہ

    ” پھر ایک سگریٹ جلا رہا ہوں
    پھر ایک تیلی بجھا رہا ہوں
    تیری نظر میں یہ مشغلہ ہے
    میں تو اس کا وعدہ بھلا رہا ہوں
    سمجھنا مت اس کو میری عادت
    یہ دھواں جو میں اُڑا رہا ہوں
    یہ تیری یادوں کے سلسلے ہیں
    میں تیری یادیں جلا رہا ہوں ”

    اللّٰه تعالی کی دی گئی نعمتوں میں سے سب سے انمول نعمت تندرستی ہے۔ تندرستی کو ہزار نعمت بھی کہا گیا ہے ۔ سگریٹ پینے والوں نے کبھی غور کیا ہے کہ وہ اس دھکتے جلتے سگریٹ سے اپنے ہاتھوں سے اپنی صحت بگاڑ رہے ہیں وہ اپنے وجود کو زہریلے دھویں کے حوالے کر کے نا صرف خود سے زیادتی کر رہے ہوتے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ اپنے ماں باپ بیوی بچوں کے ساتھ بھی زیادتی کر رہے ہوتے ہیں۔ اس جیتی جاگتی دنیا میں آنکھوں کے سامنے لاکھوں لوگ اس زہر قاتل کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں پھر بھی یہ لوگ عبرت نہیں پکڑتے۔

    سو یوں ہوا کہ پریشانیوں میں پینے لگے
    غمِ حیات سے منہ موڑتے ہوئے سگریٹ

    ریسرچ کرنے سے سگریٹ پینے کے ان نقصانات کا بھی پتہ چلا ہے جو پہلے کسی کے علم میں نہیں تھے۔ اس نشے سے صرف پھیپھڑوں کا کینسر ہی نہیں بلکہ اور اقسام کے دیگرکینسر کا بھی خطرہ ہے ان میں جگر اور بڑی آنت کے کینسر ، اندھا پن اور ذیابیطس جیسی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں۔
    جو لوگ سگریٹ نہیں پیتے لیکن اس کے دھوئیں میں سانس لیتے ہیں، ان میں بھی دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    "بی بی سی کے رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سائسندانوں نے طویل عرصے تک سگریٹ نوشی کرنے کے باوجود کچھ افراد کے پھیپھڑوں کے صحت مند رہنے کی وجوہات جاننے کی کوشش کی ہے۔
    50 ہزار سے زیادہ افراد پر کی گئی تحقیق کے نتائج کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والے ان افراد کے ڈی این اے میں مثبت تبدیلیوں کی وجہ سے پھیپھڑوں کی کارکردگی میں بہتری آتی ہے اور یہ سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔

    میڈیکل ریسرچ کونسل کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر پھیپھڑوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی موثر ادویات تیار کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔

    تاہم سائنسدانوں کے مطابق سگریٹ نوشی سے اجتناب کرنا ہی بہترین عمل ہے”۔

    سگریٹ پینے والے کو سوچنا چاہیے کہ جلد یا بدیر اس نشے نے اسکے پورے جسم کو اپنے لپیٹ میں لے لینا ہے اور اسکا وجود نا صرف ناکارہ بلکہ دوسروں کے لئے بوجھ بنتا جاۓ گا اس کو پھیپھڑوں کے کینسر کے ساتھ ساتھ دوسری خطرناک بیماریوں کا بھی سامنا ہوگا تب انھیں احساس ہوگا کہ انھوں نے کس طرح بے دریغ اپنی زندگی ضائع کردی لیکن تب پانی سر سے گزر چکا ہوگا۔

    آئیں ملک کر انسانیت کو اس ناسور سے نجات دلوانے میں مدد کریں پاکستان کو سگریٹ نوشی سے پاک و صاف کریں لوگوں میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کریں ۔

    کوشش میں برکت ہوتی ہے اور کوشش کرنے والوں کی کبھی ہار نہیں ہوتی ۔

  • توبہ کا قانون۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    توبہ کا قانون۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    اس دنیا میں انسان کو آزمائش کے لیے بھیجا گیا ہے اور ہر وقت اُس کا امتحان ہو رہا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے جب آپ آزمائش سے گزر رہے ہوتے ہیں تو غلطیاں بھی ہوتی ہیں اور گناہ بھی سرزد ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کا ایک قانون دیا ہے۔ جب کوئی شخص  کسی گناہ میں مبتلا ہو جائے تو فوراً اپنے رب کی طرف پلٹ آئے۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔

    عام طور پر توبہ اور استغفار ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، اصل میں یہ دو الگ الگ الفاظ ہیں۔ توبہ کا مطلب ہے لوٹنا، یعنی مجھ سے ایک غلطی کا ارتکاب ہوا ہے، ایک گناہ سرزد ہوا ہے، میں اس کو چھوڑ کر صحیح راستے کی طرف آتا ہوں تو اس کو توبہ کہا جاتا ہے۔عربی زبان میں اس کا مطلب لوٹنے کا ہے۔ یعنی آپ نے ایک گناہ کا کام کیا اور اس کو چھوڑ دیا، اپنی اصلاح کا فیصلہ کر لیا اور اب آپ وہ کام نہیں کریں گے۔ مثال کے طور پر ایک آدمی شراب پیتا تھا اس نے کہا کہ میں آج کے بعد شراب نہیں پیوں گا، جھوٹ بولتا تھا اس نے کہا کہ آج کے بعد جھوٹ نہیں بولوں گا  تو یہ توبہ ہے۔

    استغفار کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہنا، بخشش کی دعا کرنا۔ عام طور پر توبہ اور استغفار ایک ہی معنی میں بولے جاتے ہیں۔ توبہ و استغفار اس لیے بھی ایک ساتھ بولے جاتے ہیں کہ جس وقت آدمی کسی گناہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو یہا ں ایک دوسری چیز یہ بھی ہے کہ اس نے گناہ کیا تو تھا، چنانچہ جو کچھ کیا ہے اس پر مغفرت چاہے گا، اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا کرے گا۔ اس لیے یہ دونوں الفاظ ایک ساتھ بول لیے جاتے ہیں پر دونوں میں فرق ہے۔ دونوں الفاظ کو ملا کر ہم توبہ و استغفار کہہ رہے ہوتے ہیں، گویا دونوں باتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ گناہ چھوڑ بھی دو اور اللہ سے مغفرت بھی طلب کرو۔

    صرف توبہ کا لفظ بول لینا توبہ نہیں ہے۔ توبہ کی حقیقت یہ ہےکہ آپ نے گناہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آپ اگر یہ کہہ دیں کہ میں نے توبہ کی ہے اور اس کا معنی یہ لیں کہ  میں نے توبہ کا لفظ بول دیا ہے تو یہ توبہ نہیں ہے۔

    اگر توبہ کا مطلب گناہ کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کرنا ہے تو اللہ تعالیٰ کو "تواب” کہنے سے کیا مراد ہو گا؟
    عربی زبان میں الفاظ اپنے فاعل کے لحاظ سے اپنے معنی تبدیل کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ اللہ تعالیٰ کے لیے شاکر کا لفظ استعمال کریں گے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ جو آپ کے جذبہِ شکر گزاری کو قبول کرتا ہے، اور جب بندے کے لیے شاکر کا لفظ استعمال کریں گے تو اس کا مطلب وہ جو شکر ادا کرتا ہے۔
    اسی طرح یہاں "تواب ” سے مرا د ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و برکت کے ساتھ آپ کی طرف آتا ہے، یعنی وہ جو آپ کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔

    قرآن مجید نے توبہ کا قانون بھی بتا دیا ہے۔ یعنی جب آپ سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو آپ سب سے پہلے اس گناہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کریں گے پھر یہ کہ آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کا فیصلہ کریں گے اور اپنے ایمان کی تجدید کریں گے۔ جب کوئی آدمی گناہ کرتا ہے تو حقیقت میں وہ ایمان سے خالی ہو جاتا ہے، کیونکہ ایمان کے ساتھ گناہ کا ارتکاب نہیں ہو سکتا۔ آپﷺ نے اس لیے فرمایا کہ جب کوئی بدکاری کرتا ہے یا چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ قانونی لحاظ سے تو وہ مسلمان ہی شمار ہو گا لیکن وہ حقیقتِ ایمان سے محروم ہو چکا ہوتا ہے۔ کیونکہ جب تک ایمان کی حقیقت کا شعور ہے تب تک آپ اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر گناہ نہیں کر سکتے۔

    توبہ کے قانون میں ہے کہ جب کوئی گناہ ہو جائے تو فوراً اس پر توبہ کی جائے۔ گناہ کی ایک کیفیت ہوتی ہے جو انسان پر طاری ہو جاتی ہے، بالخصوص جنس سے متعلق جو گناہ ہیں ان میں تو ایسا ہی ہوتا ہے کہ انسان جذبات سے مغلوب ہو جاتا ہے۔ باقی گناہوں میں بھی یہی ہوتا ہے کہ ایک پردہ پڑ جاتا ہے اور اس میں آدمی کسی گناہ کا ارتکاب کر لیتا ہے۔ جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فوراً توبہ کر لی، یعنی جیسے ہی شعور بیدار ہوا، غفلت ختم ہوئی تو آپ بیدار ہو گئے اور آپ نے کہا کہ نہیں یہ گناہ میں آئندہ نہیں کروں گا، یہ وہ چیز ہے جس کے اوپر اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ میں نے اپنے اوپر لازم کر رکھا ہے کہ میں اس رجوع کو قبول کر لوں گا۔

    یہ قانون ان گناہوں کے بارے میں ہے جن کا تعلق بندے اور اللہ کے درمیان ہے، بعض ایسے معاملات بھی ہوتے ہیں جس میں کوئی دوسرہ بندہ بھی متاثر ہوتا ہے تو ایسی صورتحال میں توبہ کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے؟
    اس پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ انشاءاللہ بہت جلد باغی ٹی وی کی ویب سائٹ پر میرے اگلے کالم میں آپ اس بارے میں  پڑھ سکیں گے۔ تب تک کے لیے اللہ نگہبان۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • انسان کا  اللہ سے رشتہ تحریر : اسامہ خان

    انسان کا  اللہ سے رشتہ تحریر : اسامہ خان

    دنیا میں آنے سے پہلے انسان جنت میں اپنی مرضی کی زندگی گزارتا تھا اس کو نہ تو وہاں کوئی کمانے کی ٹینشن ہوتی تھی اور نہ ہی کسی اور مسئلے کی۔ لیکن انسان نے اللہ کا حکم نہ مانا اور وہ کام کر بیٹھا جو اللہ نے روکا تھا اور بے شک انسان خطا کا پتلا۔ اللہ تعالی نے اسی بات سے ناراض ہو کر انسان کو دنیا پر بھیج دیا کہ جاؤ کماؤ اور کھاؤ انسان دنیا پر آیا محنت مزدوری شروع کی تاکہ کھا سکے تاکہ اپنے جسم کو ڈھانپ سکے۔ تاکہ اپنی زندگی کو آسان بنا سکے تاکہ اللہ کی بتائی ہوئی عبادات کو پورا کر سکے اور اللہ کے حکم کو پورا کر سکے۔ بے شک اللہ تعالیٰ انسان کو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے لیکن کبھی کبھی ماں بھی ناراض ہو جاتی ہے کہ میری اولاد میری بات نہیں مانتی اس لیے کہتے ہیں اللہ تعالی سے معافی مانگتے رہنا چاہیے اور اچھے کی دعا کرتے رہنا چاہیے بے شک اللہ تعالی معاف کرنے والا ہے۔ اللہ تعالی کو انسان سے اتنی محبت تھی کہ جب اس نے دیکھا کہ میرے بندے بھٹک رہے ہیں تو اللہ تعالی نے نبیوں کا سلسلہ شروع کر دیا اللہ تعالی نے ہر دور میں نبی بھیجا تاکہ اپنی مخلوق کو اپنے اصل خالق حقیقی کے بارے میں آگاہ کر سکیں اور ساتھ ساتھ اللہ تعالی جب ان سے ناراض ہوا تو ان پر عذاب نازل کیا لیکن جب حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا پر آئے تو رحمت کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب نبی ہونے کا دعوی کیا تو اپنے یہ رشتے دار مخالف ہوگئے لیکن حضور پاک نے سچ کا راستہ نہ چھوڑا تکلیفیں برداشت کی لیکن اپنی امت کے لئے ہمیشہ دعا مانگتے رہے اللہ تعالی کو بھی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم بہت پیارے ہیں جس کی وجہ سے وہ ان کی بات نہیں ٹالتے۔ آج ہم مسلمانوں پر اگر عذاب نازل نہیں ہوتا تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے ہے ہمیں ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہنا چاہیے اور اللہ سے معافی مانگتے رہنا چاہیے اور بے شک اللہ نے فرمایا ہے کہ تمہارے رزق میرے ذمہ ہے اس بات پر یقین کرتے ہوئے ہمیشہ حلال رزق کی کوشش کرنی چاہیے اور اللہ سے برے کاموں کی پناہ مانگنی چاہیے بے شک وہ رحیم و کریم ہے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی جنگیں لڑیں آپ وہ  پہلے نبی تھے جس سے حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی پوچھ کر گھر کے اندر داخل ہوتے تھے اللہ تعالی نے حضور صل وسلم کو بہت سے معجزے عطا کیے ان میں سے ایک معجزہ چاند کو دو ٹکڑوں میں کرنا تھا۔ حضور پاک صلی اللہ وسلم جیسا صادق اور امین انسان آج تک پوری دنیا میں نہیں آیا ہوگا۔ ہم مسلمانوں کو چاہیئے حضور صل وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلے تاکہ اللہ تعالی کی رضا حاصل کرسکیں جب حضور پاک صل وسلم نے اسلام کی تبلیغ شروع کی اور بہت سے لوگ مسلمان ہوئے تو اس وقت کوئی فرقہ واریت نہیں تھی سب خدا کو ماننے والے تھے اور اس کے آخری نبی کو ماننے والے تھے اور سب ایک ہی کلمہ پڑھتے تھے جو کہ حضور پاک صل وسلم کا ہے اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے تھے لیکن آج انسان اللہ کی رضا تو چاہتا ہے لیکن فرقہ واریت سے باہر نکلنا چاہتا اس اسلام پر نہیں چلنا چاہتا جو حضور پاک صل وسلم لے کر آئے دنیا میں۔ حضور پاک صل وسلم نے کبھی فرقہ واریت کا حکم نہیں دیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا کہ میں اللہ کا آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا یہ اللہ کا دین ہے اسلام اس پر چلو تاکہ حق پر چل سکو۔ لیکن افسوس آج مسلمان فرقہ واریت میں پڑگئے اور ایک دوسرے کو ہی کافر کہنے لگ گئے اور آخر میں ہم سب مسلمان پھر جاتے ہیں اللہ کی بارگاہ پر اور اس سے معافی کے طلب گار ہوتے ہیں اللہ پاک ہمیں سیدھے راستے پر چلنے چلنے کی توفیق عطا فرمائے امین 

    Twitter : @usamajahnzaib

  • ایک آدمی کا کچرا دوسرے آدمی کا خزانہ،تحریر: نوید شیخ

    ایک آدمی کا کچرا دوسرے آدمی کا خزانہ،تحریر: نوید شیخ

    افریقہ میں ivory coastایک چھوٹا سا ملک ہے ۔ مگر یہاں پر ایک ایسا جزیرہ ہے جو دنیا بھر میں جانا جاتا ہے ۔ جہاں سیاحوں کا جم گھٹا لگا رہتا ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ تیرا ہوا جزیرہ ہے ۔ آپ اس کو سمندر میں جہاں مرضی لے جائیں اور جو مرضی نظارے کریں ۔ یہ انسان نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے ۔ دنیا میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا جزیرہ ہے۔ یہ عابدجان lagon
    کے مرکز میں واقع ہے۔ ۔ حیران کن چیز یہ ہے کہ یہ جزیرہ پانی کی خالی بوتلوں سے بنا ہے اور اس میں تمام وہ سہولیات موجود ہیں ۔ جو کسی اچھے اور بڑے ہوٹل میں ہوتی ہیں ۔ بلکہ یہ کسی بڑے ہوٹل سے بھی زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہ ماحول دوست ہے ۔ یہاں تک کہ انسانی فضلہ بھی اس جزیرے پر recycle کیا جاتا ہے ۔پھر جو کچھ آپ کسی ہوٹل میں انجوائے کرتے ہیں اور اس میں کر سکتے ہیں جیسا کہjackozi poolrelaxations areasbarsResturantWIFIAC۔ یہ ہوٹل واقعی ایک مصنوعی جزیرہ ہے جو تیرتا ہے۔ اور اسے ایک جگہ سے دوسری جگی منتقل بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس مصنوعی جزیرہ یا ہوٹل کو تعمیر کرنے میں 8 لاکھ خالی پلاسٹک کی بوتلوں کا استعمال ہوا ہے ۔

    ۔ جس شخص نے اس کو تعمیر کیا ہے وہ ایک فرانسیسی ہے اس کا نام ہے ۔Eric Beckerاور اب یہ اس وقت ایک کامیاب کاروبار کر رہا ہے ۔ericکا کہنا ہے کہ اس جزیرہ کو بنانے میں چھ سال لگے ہیں ۔ 2018میں یہ مکمل ہوا تھا ۔ یہ تیرتا جزیرہ ایک ہفتے میں 100سے زائد لوگوں کی مہمان داری کرتا ہے ۔ دنیا کے بڑے بڑے ماحولیاتی ادارے ، میگزین اور نیوز چینلرز اس شخص پر ڈاکیومینٹری بنا چکے ہیں ۔ کیونکہ اسکا یہ آئیڈیا ایک جانب تو ماحول کو آلودہ ہونے سے بچا رہا ہے دوسرا اس آئیڈیا کی وجہ سے coastal lineکی صفائی ہورہی ہے ۔ eric
    مسلسل beachesسے کچرا خود بھی اکٹھا کرتا ہے اور اس میں اسکی لوکل لوگ مدد بھی کرتے ہیں ۔ کیونکہ اس پلان اس جیسے اور بہت سے جزیرے بنانے کا ہے ۔

    ۔ اب جو مقامی باشندے ہیں وہ eric beckerکو “Eric plastic jug”کہہ کر پکارنا شروع ہوگئے ہیں ۔ ivory coast پر Mr. Eric Becker آئے تو کوئی کام دھندہ کرنے مگر ان کو یہاں گند اور غلاظت ہی دیکھائی دیا ۔ ایک کے بعد ایک تیرتی ہوئی خالی بوتل انکو پانی میں دیکھائی دیتی تھی۔ پھر ایک دن اس نے اسی کوڑے کرکٹ کو استعمال کرکے ایک جنت نما تیرتے ہواجزیرہ بنانے کا فیصلہ کیا ۔ اس نے اپنے غیر معمولی خواب کو حقیقت بنانے کے لیے اپنی تقریبا ہر چیز بیچ دی۔ شروع میں لوگ اس کو پاگل اور بے وقوف سمجھتے تھے ۔ پر جب یہ جزیرہ بن گیا تو سب حیران بھی ہوئے ۔ اور یہ ہی حیرانی ericاوراسکے جزیرے کی شہرت کا باعث بنی ۔۔ اس جزیرے کی تعمیر میں اس کا پہلا قدم اتنا زیادہ تیرتا ہوا کچرا ڈھونڈنا شامل تھا جتنا کہ وہ اپنے ہاتھ میں اٹھا سکتا تھا – ۔ اس کو بنانے کے لیے eric becker نے تیرتی ہوئی ہر چیز کو اکٹھا کیا۔ پلاسٹک کی بوتلیں ، polystyrene scraps, tap shoes وغیرہ ۔ یہ ایک محنت طلب مشق تھی جو بالآخر اس معاملے میں مہارت کی صورت اختیار کر گئی ۔

    ۔ اس جزیرے کی عمارتیں پلاسٹک سے بنے پنجروں کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئیں۔ اس کے بعد انہیں لکڑی اور سیمنٹ کی ہلکی پرت سے ڈھانپ دیا گیا۔ جس سے پوری چیز لکڑی کی تعمیر کا تاثر دیتی ہے ۔ پلاسٹک کا فضلہ صرف زمین کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ 260 میٹر لمبا circular bridge کشتیوں کے لیے ساحل کا کام کرتا ہے۔ اس کا کل وزن 200 ٹن ہے۔

    ۔ اس جزیرہ میں موجود عمارت کو توانائی فراہم کرنے کے لیے سولر پینل اور جنریٹر نصب کیے گئے ہیں ۔ پینے کے پانی کے لیےعمارت کو زمین سے جوڑنے کے لیے پائپ لگائے گئے ہیں۔ جزیرے میں ایک بار ریستوران ، دو سوئمنگ پول ، ایک چھوٹا سا پل ، گھروں میں دو کھلے بنگلے ، مختلف درخت ، اور ایک walk way ہے جو تیرتے ہوئے ڈھانچے کے مرکز سے باہر نکلتا ہے ۔ جو 1000 مربع میٹر پر محیط ہے۔۔ اس resortپر لوگوں کو کشتی کے ذریعے جزیرے پر لایا جاتا ہے۔ اس جزیرے پر ایک دن کا کرایہ 100ڈالر چارج کیا جاتا ہے – جس میں کھانا اور فیری ٹرپ بھی شامل ہے -۔ دیکھا جائے تو یہ ایک مختلف قسم کا جزیرہ ہے۔ نہ صرف اس کی تیرتی فطرت کی وجہ سے ، بلکہ اس کے بنیادی مواد کی وجہ سے بھی۔ یہ مصنوعی جزیرہ ایک حقیقی تجسس ہے ۔ ۔ اگر دیکھا جائے تو eric نے صرف ایک آئیڈیا سے سوچ کا انداز بدلنے کے ساتھ ساتھ ۔ بڑھتی آلودگی سے نمٹنے کا ایک ایسا فارمولہ دے دیا ہے جس سے دنیا بھر کی آبی گزرگاہوں ، جھیلوں ، ندی نالوں اور جزیروں کو نہ صرف صاف کیا جاسکتا ہے ۔ بلکہ اس پلاسٹک فضلے سے اور بھی بہت سی ایسی چیزیں بنائی جاسکتی ہیں ۔ جو فائدہ بھی دے سکتی ہیں اور کارآمد بھی ہوسکتی ہیں ۔ کیونکہ خوبصورتی یہ ہے کہ ہم پلاسٹک کی بوتلوں سے کسی آلودگی کو کسی اچھی چیز میں بدل دیں۔ plastic waste recycling plants بنائے جاسکتے ہیں ۔ جوبہت سے چیزیں بنانے میں کام آسکتا ہے ۔ جب آپ پلاسٹک کی بوتلوں سے جزیرے بنا سکتے ہیں تو کشتیاں بھی بنائی جاسکتی ہے اور بھی بہت سی ایسی چیزیں ہونگی یقینی طور پر جو بنائی جاسکتی ہوں ۔ ایک چیز جو میں نے بھی اور آپ نے بھی اکثر گھروں میں دیکھی ہو گی کہ لوگ پلاسٹک کی بوتلوں کو پودے لگانے کے لیے بہت اچھے طریقے سے استعمال کرتے ہیں ۔ اس حوالے سے بہت سی turtorial videos بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں ۔ Eric Becker کی ایک کہاوت ہے کہ “One man’s trash is another man’s treasure,”یعنی "ایک آدمی کا کچرا دوسرے آدمی کا خزانہ ہے”۔ بات تو ٹھیک ہے کیونکہ eric نے ماحول کو صاف کرنے اور ناممکن کو ممکن کرنے کے علاوہ بہت لوکل لوگوں کو روزگار بھی مہیا کر دیا ہے اور اس چھوٹے سے آئیڈیا کی بدولت اور اس کے جزیرے کی بدولت ivory coast کو دنیا بھر میں مشہور کروادیا ہے ۔

    ۔ سبق ہم سب کے لیے یہ ہے کہ انسان اس دنیا کو بہتر بنانا چاہے تو صرف ایک پلاسٹک کی خالی بوتل ہی کافی ہے

  • ‏موٹروے واقعہ اور معاشرتی تضاد،  تحریر: فروا نزیر

    ‏موٹروے واقعہ اور معاشرتی تضاد، تحریر: فروا نزیر

    جیلوں میں مردوں کے علاوہ بے شمار ایسی خواتین ہیں جو چند ہزارروپے نہ ہونے کی وجہ سے قید کاٹ رہی ہیں،کچھ عرصہ پہلے ایک خاتون کی خبر آئی کہ کئی سال سے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے جیل کاٹ رہی تھی ،جوانی میں سزا ہوئی اور 45سال کی عمر میں اسے اعلیٰ عدالت نے باعزت بری کر دیا ،کسی لبرل ،فیمینسٹ نے کوشش کی کہ ان کی ادائیگی کر کے ان کو رہائی دلائی جائے ،یانظام انصاف کو تیز اور موثر بنانے کی جدوجہد کی ہو؟ایسا نہیں ہوا،حالیہ معاملے میں خاص بات یہ تھی کہ خاتون کا تعلق ایلیٹ کلاس سے تھا،دوسرا یہ واقعہ موٹروے پر ہوا جو کہ اشرافیہ ہی استعمال کرتی ہے اور یہ ان کیلئے قابل قبول نہیں تھا کہ ان کے راستے غیر محفوظ ہوں ،عوام سے الگ رہنے کیلئے اشرافیہ نے گیٹڈ کمیونیٹز پہلے ہی بنالیں ہیں جہاں انہوں نے اپنی مرضی کا پاکستان بنایا ہوا ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس وقت عملی طور پر دو پاکستان ہیں ،ایک اشرافیہ کیلئے اور دوسراوہ جس میں عوام رہتے ہیں۔جس معاشرے میں ناانصافی اور ظلم ایک خاص حد پار کر جاتاہے تو اس کا ردعمل ظاہر ضرورہوتاہے ،آپ اس کے ایک مظہر کو روکیں گے تو وہ دوسری شکل میں ظاہر ہو گا ۔دولت کی غیر منصفانہ تقسیم جس حد تک بڑ ھ چکی ہے 

    اور جتنی تیز ی سے اس میں اضافہ ہورہا ہے،اس میں حالات مزید سنگینی کیطرف جانے کا خدشہ ہے ،اشرافیہ کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ نچلے طبقات کو ساتھ لے کر چلے ،حکومت کو پورا ٹیکس دے،جب لوگوں کو شعور نہ دے کر ان پر حکومت کریں گے تو پھر اس طرح کے واقعات جو کہ جہالت ہی کا مظہر ہیں ، بھگتنے پڑیں گے،تمام تدبیریں کام نہیں آئیں گی،دراصل یہ طاقت کا ناجائز استعمال ہے ،جس طرح ایک بیوروکریٹ اپنی کرسی کا غلط استعمال کرتاہے ،کمیشن اور کرپشن کے ذریعے کروڑوں کماتاہے ،ایک بزنس مین پورا ٹیکس نہیں دیتا،اشیا میں ملاوٹ کرتاہے،اپنے ملازمین کو کم تنخواہ دیتاہے،محترم عدنان عادل کے مطابق ایک شاپنگ مال میں ایک سیلز گرل کی چودہ ہزار روپے تنخواہ ہے اور وہ دس گھنٹے کام کرتی ہے ،کیا یہ زیادتی نہیں؟ اس لڑکی کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کاروباری شخص یا خاتون نے کبھی یہ سوچا کہ اگر اس کی بچی اسطرح کام کررہی ہوتی تواسے کیسا محسوس ہوتا،ایک پارٹی میں شرکت کیلئے جو خواتین میک اپ پر ایک عام ملازم کی تنخواہ سے زیادہ خرچ کر دیتی ہیں،معلوم کرلیں ، کورونا وبا کے دنوں میں  انہوںنے ہی صرف پندرہ ہزار لینے والے ملازمین کو نکالا ہوگا ۔

    سفاکیت ہر جگہ پر موجود ہے ۔ہر کوئی دوسرے کی کمزوری سے فائدہ اٹھا رہاہے ،ایک سیاستدان عوام سے ان کی خوشحالی کا وعدہ کرکے ووٹ لیتا ہے اور اس کے بعد خوشحالی صرف اس کے اپنے خاندان ہی کو نصیب ہوتی ہے، ڈاکو کے اختیار میں کیا ہوتاہے؟وہ شخص جو اس کے قابو آجائے،چاہے تو گولی مار دے یا خاتون ہو تو زیادتی کا نشانہ بنا دے ، اس دن خاتون ان کی درندگی کا شکار ہوگئی ، اس نے بھی عورت کی عزت کی پرواہ کئے بغیراپنے اختیار کا ناجائز استعمال کیا ۔حقیقت یہ ہے کہ جس کا جہاں بس چلتاہے ،وہ اپنے اختیار کا غلط او ر مقروح حدتک ناجائز استعمال کرتاہے۔یہ ہمارا عمومی رویہ بن چکا ہے،جب تک ہم سب اس بات پر متفق نہیں ہونگے کہ ،ظلم ،،،ظلم ہوتاہے چاہے کسی کے ساتھ بھی ہو،اس کے خلاف ایک جیسی شدت کیساتھ آواز نہیں اٹھائیں گے ،اس وقت تک کوئی قانون،ضابطہ جرم کو ہونے سے نہیں روک سکتا۔

  • غریب ماہی گیر ایک ہی رات میں کروڑپتی بن گیا

    غریب ماہی گیر ایک ہی رات میں کروڑپتی بن گیا

    نئی دہلی: بھارت میں نایاب نسل کی مچھلی نے غریب ماہی گیروں کو راتوں رات کروڑ پتی بنا دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق غریب بھارتی ماہی گیر پابندی ہٹنے کے بعد پہلے ہی روز شکار پر پہنچے جہاں ان کی قسمت جاگ اٹھی اور ماہی گیروں نے ایک رات میں ہی سوا کروڑ روپے سے زائد کما لیے۔

    رپورٹس کے مطابق مچھلی کے شکار پر جانے والے کشی کے ناخدا چندرا کانت اور ان کے ساتھیوں نے سمندر میں جال پھینکا تو کچھ ہی دیر میں ان کے جال میں طب کی دنیا میں مہنگی ترین مچھلی "سوا” آ گئی نایاب مچھلی کے شکار نے مچھیروں کو حیرت میں ڈال دیا اور ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔

    کشتی کے ناخدا نے ساحل پر پہنچنے سے قبل ہی شکار کی گئی مچھلیوں کی ویڈیو اپنے دوستوں کو بھیج دی جو کہ جلد ہی وائرل ہو گئی اور جب مچھیرے ساحل پر پہنچے تو مچھلی خریدنے والوں کی لائن لگی ہوئی تھی۔

    شہری کو بلاوجہ ٹریفک جام کرنے کے جرم میں ساڑھے تین سال قید

    ماہی گیروں نے پکڑی جانے والی 157 مچھلیوں کو فی مچھلی 85 ہزار بھارتی روپے کے حساب سے فروخت کیا اور ایک کروڑ 33 لاکھ بھارتی روپے کما لیے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل راچی کے ساحلی علاقے ابراہیم حیدری کے ماہی گیروں کے سمندر میں جال ڈالتے ہی بیش قیمت دو “سوا” مچھلیاں پھنس گئیں تھیں جو بعد میں لاکھوں روپے میں فروخت ہوئی تھیں-

    واضح رہے کہ مذکورہ مچھلی کی جھلی سے سرجری کے دھاگے بنتے ہیں اور یہ دھاگے جسم کی اندرونی جراحی میں استعمال ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ مچھلی انتہائی مہنگی فروخت ہوتی ہےسوا مچھلی کی اندرونی جھلی سے بننے والے ریشے قدرتی طور پر بایو ڈگریڈیبل ہوتے ہیں اور جسم کے اندر جاکر کچھ عرصے بعد از خود گھل کر ختم ہوجاتے ہیں۔

    سری لنکا: 80 سال بعد ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش

  • شہری کو بلاوجہ ٹریفک جام کرنے کے جرم میں ساڑھے تین سال قید

    شہری کو بلاوجہ ٹریفک جام کرنے کے جرم میں ساڑھے تین سال قید

    ویلز کے شہر سوان سی میں ڈیوڈ ہیمسن نامی 51 سالہ شہری کو بار بار، بلاوجہ ٹریفک جام کرنے کے ’جرم‘ میں ساڑھے تین سال کی سزا سنا دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق، ڈیوڈ ہمسن پچھلے سات سال میں سینکڑوں مرتبہ سوان سی شہر کے مرکزی پولیس اسٹیشن کے بالکل سامنے والی سڑک پر بیچوں بیچ کھڑا ہو کر ٹریفک جام کرچکا ہے پولیس اور مقامی انتظامیہ نے اسے بار بار تنبیہ کی جبکہ ٹریفک جام کرنے کی پاداش میں وہ 9 مرتبہ جیل کی ہوا بھی کھا چکا ہے۔

    پچھلے سال اپنی تین سالہ قید مکمل کرنے کے بعد وہ ایک بار پھر اسی سڑک پر چلتی گاڑیوں کے درمیان آ کر کھڑا ہوگیا جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہونے لگا۔ اس حرکت پر سوان سی پولیس نے اسے ایک بار پھر گرفتار کرلیا ہے اور اسے ساڑھے تین سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے-

    یہ گونگا بہرہ نہیں لیکن پھر بھی زیادہ بات چیت نہیں کرتا۔ اس سے جب بھی پوچھا گیا کہ وہ بار بار ٹریفک کیوں جام کرتا ہے تو اس نے کبھی کوئی جواب نہیں دیا۔

    ہیمسن کی تازہ ترین گرفتاری کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ نفسیاتی ماہرین سے اس کا معائنہ کروایا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ آخر اس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے جو وہ بار بار ٹریفک کی روانی متاثر کرنے کا سبب بن رہا ہے-

    تقریباً ڈیڑھ ماہ کی سرتوڑ کوشش کے باوجود، نفسیاتی ڈاکٹر بھی ہیمسٹن سے یہ معلوم کرنے میں ناکام رہے کوئی نہیں جانتا کہ آخر وہ کس نیت، کس ارادے اور کس مقصد کے تحت بار بار ٹریفک جام کی وجہ بنتا ہے۔

  • سری لنکا: 80 سال بعد ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش

    سری لنکا: 80 سال بعد ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش

    کولمبو: سری لنکا میں 80 سال بعد کسی ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے ’ایجنسی فرانس پریس‘ (اے ایف پی) کے مطابق دارالحکومت کولمبو سے 90 کلو میٹر کی دوری پر بنائے گئے ہاتھیوں کے سنٹر میں موجود 25 سالہ "سورنگی” نے جڑواں بچوں کو جنم دیا ہے ہاتھیوں کی دیکھ بھال کے لیے سری لنکن حکومت کی جانب سے پناولا کے مقام پر 1975 میں بنائے گئے آشرم کے حکام کے مطابق کچھ دن قبل ہی انہوں نے ہاتھیوں کے ہمراہ دو چھوٹے ہاتھی دیکھے تھے۔


    جس کے بعد انہوں نے کئی دن تک ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ اس ہتھنی نے ان جڑواں بچوں کو جنم دیا ہےسنٹر کی انتظامیہ اور ڈاکرز کا کہنا ہے کہ دونوں بچے معمول سے تھوڑے چھوٹے ہیں لیکن ماں اور بچے بالکل محفوظ اور صحت مند حالت میں ہیں۔

    واضح رہے کہ سری لنکا میں آخری مرتبہ 1941 میں کسی ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی تھی سورنگی نے 2009 میں بھی ایک نر ہاتھی کو جنم دیا تھا جب کہ اب بھی ان کے ہاں دونوں نر ہاتھی پیدا ہوئے ہیں 25 سالہ ہتھنی کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کا والد 17 سالہ ہاتھی ہے-

    سری لنکا کو دنیا بھر میں ہاتھیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وجہ سے شہرت حاصل ہے اور وہاں تقریبا 7 ہزار 500 تک ہاتھی موجود ہیں ڈھائی کروڑ سے کم آبادی والے ملک کے بڑے گھرانوں کے لوگ ہاتھیوں کو گھروں میں رکھ کر دولت یا اعلیٰ ہونے کی تشہیر کرتے ہیں۔

    سری لنکن حکومت نے جانوروں کی حفاظت کے لیے سخت قوانین فافذ کر رکھے ہیں، برا سلوک کرنے والے ملزم کو تین سال قید کی سزا تک ہو سکتی ہے اور ان سے ہاتھی چھین کر سرکاری تحویل میں لے لیا جاتا ہے کیونکہ سری لنکا کا امیر طبقہ اپنی دولت کی نمائش کے لیے ہاتھیوں کو پالتو جانوروں کے طور پررکھتے ہیں جبکہ ان کے ساتھ برا برتاو کے بھی کئی واقعات رپورٹس ہو چکے ہیں۔

    علاوہ ازیں ہاتھیوں سمیت دیگر کچھ جانوروں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے پر موت کی سزا تک کے قوانین بھی نافذ ہیں مگر ایسے قوانین پر ناذ و شادر ہی عمل کیا جاتا ہے۔

    سرکاری ریکارڈز کے مطابق سری لنکا بھر میں 200 کے قریب ہاتھی گھروں میں موجود ہیں جبکہ ملک میں 75 ہزار سے زائد ہاتھی پائے جاتے ہیں۔

  • تنباکو سے تمباکو .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    تنباکو سے تمباکو .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    ”آگ بنا دھر راکھ تمباکو” کہاوت کا مطلب ہے کہ جیسے بغیر آگ دھرے تمباکو بے کار ہے ویسے ہی کام بغیر تدبیر بھی بے کار ہے۔ مذکورہ کہاوت میں لفظ تمباکو ہماری آج کی تحریر کا باعث ہے،اردو میں یہ لفظ سنسکرت سے آیا ہے۔ تمباکو ایک پودا ہے جس کے پتوں کو سکھا کر سگریٹ، بڑ ی یا حقے وغیرہ میں ڈال کر استعمال میں لایا جاتا ہے اور اس سے ہلکا نشہ ہوتا ہے۔ اسی سے تمباکو نوشی نکلا اور پھر تمباکو پینے والے کو تمباکو نوش کہا جانے لگا۔فارسی میں تنباکو کہتے ہیں جو اردو میں بھی مستعمل رہا ہے، آدمی اور مشین نامی کتاب میں لکھا ہے کہ ”رہا ذائقے کا معاملہ تو ہم چائے قہوہ اور تنباکوکی اچھائی کا پتہ چلانے کے لیے۔۔۔۔ درجہ وار تقسیم کرسکتے ہیں“ اگر انگریزی کے لفظtobacco کی بات کروں تو اس کے متعلق مختلف آرا موجود ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ لفظ ہسپانوی اور پرتگالی لفظ tabaco سے نکلا ہے اور ادھر بحیرہ کریبین کے جزائرمیں بولی جانے والی زبان سے آیا تھا۔ خیال ہے کہ تمباکو کے پتوں کو لپیٹنا مراد ہے یا پھر L شکل کا ایک پائپ ہے جو کہ تمباکو کے دھوئیں کو سونگھنے کے لیے مستعمل تھا۔پندرہویں صدی میں ہسپانوی، پرتگالی اور اطالوی لوگ ایک عربی لفظ کو استعمال کرتے تھے جوکہ طُبّاق تھا جسے جرمن عربی لغت نگار Hans Bodo Gerhardt Wehr نے tobacco سے جوڑا ہے، ویسے تو طباق سے مراد دھونی والا پودا ہے۔ذہن میں یہ بات بھی آرہی ہے کہ شاید tobacoکو ہی طباق نہ بنا لیا ہوکیوں کہ عرصہ درازتک یہ پودا بطوردرد کش دوائی استعمال میں رہا ہے۔ تمباکو کا اصل وطن وسطی وجنوبی امریکا ہے جہاں یہ قبل مسیح سے استعمال میں تھااسے امریکا سے باہر متعارف کروانے کا سہرا یورپی اقوام کے سر جاتا ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ تمباکو پر تحقیق اور اس کے وسیع پیمانے پر صنعتی شکل اختیار کرجانے کی وجہ سے امریکا کی معیشت کو شروع میں بڑا سہارا ملا تھا۔ تمباکو سب سے زیادہ کیوبا، چین اور امریکا میں پیدا ہوتا ہے۔ براعظم امریکا میں ہی ایک ملک کا نام جمہوریہ ٹرینیڈاڈو ٹوبیگو ہے، ٹوبیگو ایک جزیرہ ہے اور اس نام کی وجہ تسمیہ موٹے سگار کی سی شکل ہے۔جزیرے کو یہ نام 1511ء میں ہسپانوی حکم نامے سے ملا تھا۔ تمباکو کی 70سے زائد اقسام ہیں اور اس کے خشک پتوں کو سگریٹ اور سگار میں جب کہ ہندو پاک میں حقے کی شکل میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں کی اکثریت کہتی ہے کہ وہ اپنے غموں کو دھوئیں میں اڑا دیتے ہیں جسے شاعر نے اس طرح سے بیان کیا ہے

    ؎کچھ دیر دھوئیں کی لہروں میں
    دنیا سے کنارہ کرتا ہوں
    اگر ہندوستانی حقے کی بات کی جاے تو یہ عربی کے لفظ حقق سے نکلا لگتا ہے جس کا مطلب ہوگا چلم اور کسی قدر پانی سے بھرا ہوا ظرف جس کے ذریعہ تمباکو پیتے ہیں۔ اسے ایران میں قلیان لکھتے ہیں جبکہ بولتے غلیان ہیں جیسا کہ آقا کو آغا بولتے ہیں۔ حقے کے لیے انگریزی زبان میں Hubble bubble کی اصطلاح مستعمل ہے جس کی وجہ گڑگڑ کی آواز ہے۔ ویسے تاریخ میں ایک شخصیت بھی گزری ہے جسے خواجہ حسن نظامی مرحوم نے شہید الحقہ کے نام سے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ اسی کتاب”تمباکو نامہ” مطبوعہ 1923ء میں حقہ بارے مزید لکھتے ہیں کہ” ہندوستانی حقہ تمام دنیا سے اعلا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ہندوستانی حقہ تمام دنیا کے طریقہ جات تمباکو نوشی سے اعلا ہے۔ اور دنیا کی کوئی قوم اس معاملہ میں ہندوستانی عقل و دماغ کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ یورپ والے تو تمباکو کی اصلاح کرنا جانتے ہی نہیں، ان کے ہاں تو شروع سے سگریٹ سگار کا رواج ہے اور آج تک اس میں کسی قسم کی ترمیم نہیں ہوئی، حالاں کہ وہ ہر چیز میں روزانہ تبدیلی کرتے رہتے ہیں۔ لباس ان کا بدل جاتا ہے، خیالات ان کے بدل جاتے ہیں، ایجادوں میں ان کے ہاں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں، صرف تمباکو نوشی ایک ایسی بدقسمت چیز ہے جس کے طریقہ میں انھوں نے کوئی تغیر اور فرق پیدا نہیں کیا جس سے اس کے زہریلے مادہ میں کمی ہوجاتی ہے۔ ترک، مصری اور افغانی وغیرہ اقوام نے بے شک حقہ کو اختیار کیا یعنی وہ بھی حقہ کی صورت کی ایک چیز جس کو نرگیلہ کہتے ہیں استعمال کرتے ہیں، مگر کمی یہ ہے کہ ان کو تمباکو کی اصلاح کرنی نہیں آتی وہ سوکھا تمباکو ایک چھوٹی سی چلم پر رکھ دیتے ہیں، اس چلم میں گنجایش بہت کم ہوتی ہے اور اس کے آس پاس دیواریں بھی نہیں ہوتیں، تمباکو رکھنے کے بعد بمشکل ایک دو کوئلے دو انچ قطر کے تمباکو پر رکھ دیتے ہیں اور دو تین دم کھینچ کر تمباکو جلا دیتے ہیں۔ یہ ہندوستان کی سی لطافت و نفاست وہاں نہیں ہوتی کہ تمباکو بھی گڑ، گلاب اور دیگر ادویات سے درست کیا جاتا ہے اور ا س کے زہریلے اثرات کم کردئیے جاتے ہیں۔ اور چلم بھی اتنی بڑی ہوتی ہے کہ جس میں بہت سی آگ آسکے۔ اور آہستہ آہستہ پیتے ہیں تاکہ تمباکو کا زہر پانی میں جذب ہوتا چلا جاے۔ ” ادھر جو لفظ نرگیلہ بتایا گیا ہے وہ فارسی کے لفظ نرگیل سے ماخوذ ہے جس کے معنی ناریل کے ہیں جب کہ سنسکرت میں اس کو نرکیلا کہا جاتا ہے اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ شروع میں حقہ ناریل کے چھلکوں سے بنایا جاتا تھا۔ مصحفی غلام ہمدانی کہتے ہیں
    ؎جو دم حقے کا دوں بولے کہ ”میں حقا نہیں پیتا”
    بھروں جلدی سے گر سلفا، کہے ”سلفا نہیں پیتا”

    مندرجہ بالا اقتباس سے یہ مت سمجھیے گا کہ میں حقے کے حق میں ہوں بلکہ تمباکو کا کسی بھی طرح سے استعمال بیماریوں کو لانے کا سبب سمجھتا بھی ہوں اور اپنے آپ کو بچا کر بھی رکھتا ہوں خصوصاََ سگریٹ وغیرہ کے دھوئیں سے کہ لطف اندوز کوئی اور ہو رہا ہوتا ہے اور پھیپھڑے ہمارے بیماری کا گھر بن رہے ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو کا استعمال اموات کی بڑی وجہ بنتا جارہا ہے۔باغی ٹی وی کی انتظامیہ کا اقدام لائق تحسین ہے کہ انھوں نے تمباکو نوشی کے خلاف مہم شروع کی ہوئی ہے۔ میڈیا کو اس حوالے سے کردار اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ قوانین پر عمل پیرا ہونا۔

  • ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم  .تحریر:صائمہ رحمان

    ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم .تحریر:صائمہ رحمان

    ہماری قوم پاکستانی ایک مضبوط، بہادر مستحکم قوم تصور کی جاتی ہے یوں تو ہم بڑے جوش جذبے سے نعرے لگاتے ہیں قائداعظم محمد علی جناج زندہ باد کے نعرے لگاتے لیکن کیا ہم قائد کے بتائے ہوئے اصولوں پرعمل پیرا ہیں بھی یا نہیں ؟ اتحاد ، ایمان اورتنظیم
    اپریل 1948ء کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’میرے نوجوان دوستو! آپ اپنی شخصیت کو محض سرکاری ملازم بننے کے خول میں محدود نہ کیجئے۔ اب نئے میدان، نئے راستے اور نئی منزلیں آپکی منتظر ہیں۔ سائنس، تجارت، بنک، بیمہ، صنعت و حرفت اور نئی تعلیم کے شعبے آپکی توجہ اور تجسس کے محتاج ہیں۔” آج بھی قائد اعظم کے بتائے اصول ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ قائد اعظم ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اپنا تمام تر وقت حصولِ علم کیلئے وقف کریں اور اپنے ملک کیلئے حقیقی معنوں میں اثاثہ بنیں اور خدمت خلق کو اپنا شعار بنالیں۔ آج آدھی صدی گذار چکے ہیں جس ریاست کے قیام کے لئے انتھک جدوجہد قربانیاں دی گئی جس مقصد کے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا ہم اس مقصد سے بہت دور ہو چکے ہیں ہم صرف اپنا فائدہ دیکھتے ہیں ملک کا نہیں سوچ رہء کیتنی مشکلات کے بعد ہم نے حاصل کیا گیا اور ہم اپنے پاکستانی قوم کی حثییت کیا ہم اہنا اپنے ملک کے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں؟

    ہم اس ملک کو تخلیق کرنے کے مقاصد ہی نہ پورے کر پا رہے دستور کی تدوین سے لیکر جمہوری اداروں کی تشکیل ہو یا ملکی استحکام سے لے کر داخلی و خارجی پالیسیوں کی ترتیب ہو، سب کچھ ادھورا چھوڑا ہوا ہے کوئی بھی اس ملک کا نہیں سوچ رہا قائداعظم کے فرمان سے ہم پاکستانی قوم بہت پیچھے رہے گئی ہے۔ بس حوسِ اقتدار کی خاطرحکمران قائد اعظم کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے الجھ کر گروہوں میں بٹ چکے ہیں ۔ پاکستان کو ترقی دینے قائداعظم کی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کے بجائے نسلی، لسانی، علاقائی اور صوبائی تعصبات کا شکار ہو چکے ہیں ملک میں اب صرف ۔ اقتصادی بحران، دہشت گردی، مہنگائی، کرپشن، اقرباء پروری اور قتل و غارت گری ہے اس سب کا ذمہ دار ہم سب پاکستانی ہیں
    یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ کیا ہم وہ سنہری اصول جن کی بنیاد پر پاکستان کو حاصل کیا گیا کیا ہم ان اصولوں پر چل رہے ہیں یعنی محبت، یقین محکم، تحمل اور برداشت آج ہم نے خود ان اصولوں کا گلا اپنے ہاتھوں سے گھونٹ رہے ہیں کیا ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم وقت کی پابندی کرتے ہیں ؟ قانون پر چلتے ہیں؟

    ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ہم واقعی زندہ قوم ہیں ؟یا یہ ایک نغمہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں
    علامہ اقبال نے کہا تھا؛ نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
    کہ صبح و شام بدلتی ہیں اُن کی تقدیریں۔۔۔
    ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ہم نے پاکستان کی ترقی کے لئے کیا کیا ہے یہ تاریخ آپ کے سامنے ہے۔ کیا بحیثیتِ پاکستانی قوم ہم نے کوئی ایسا قابل ذکر کارنامہ سرانجام دیا ہے جو زندہ قوموں کا شیوہ ہوتا ہے ؟
    شاعر مشرق علامہ اقبال نے اس پاکستانی قوم کو اٹھانے کے لئے کے لئے اپنی ساری زندگی صرف کر دی۔ بڑی مشکل سے یہ قوم جاگی اور بالآخر پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیربنایالیکن بد قسمتی دیکھئے کہ یہ قوم بلا آخرپھر سو چکی ہےنہ انہیں اپنی خبر ہے اور نہ کسی اور کی خبر ۔
    اگر ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم ہم سچے دل سے صرف پاکستان کا سوچئے تو یہ ملک بہت ترقی کرسکتا ہے کیونکہ ہمارے ملک میں ایسی کوئی کمی نہیں بس اس ملک سے سچی محبت کرنے والے لوگ چاہیے جو اس ملک کو ترقی کی طرف لے جائے اور ہم پر فرض ہے ہم اس کو سنھبانے اور اس لو ٹنے کے بجائے اس کی حفاظت کرے کیوں کہ یہ ملک ہیں تو ہم ہیں۔

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6