بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کی بات کی جاے ۔تو کئی سال قبل کی بات ہے کہ پہلے گھروں کا ماحول کم تعلیم یافتہ رہ کر بھی کیا خوب تھا.جب بچے جوتے پہن کر پاؤں کو گھسیٹ کر چلتے دکھائی دیتے تو ماں اُسے اِس حرکت پر سرزنش کرتی اور کہتی کہ اچھے بچے اس طرح نہیں چلا کرتے،اسی طرح زور زور سے ہنسنے،چیخنے چلانے سے منع کرتی،آہستہ بولنے کی ترغیب دیتی.اور دیگر آداب گھروں میں بچوں اور بچیوں کی تربیت کے لیے مائیں سکھاتی ہوئی نظر آتی تھیں،وہ اس مقولے پر عمل کرتی تھیں کہ کھلاو سونے کا نوالہ لیکن دیکھو شیر کی نگاہ سے ، یہی وجہ ہے کہ ان کی تربیت میں پروان چڑھنے والی اولاد اپنی اسی بہترین تربیت کی وجہ سے مثالی اولاد قرار پاتی تھی،ماں سے اولاد قرآن سیکھنے.دعائیں یاد کرنے.قصے کہانیاں وغیرہ سننے کی عادی تھی.اس طرح بچے طفلی مکتب کے زمانے سے ہی بچوں کے عالم شمار ہوتے.یومیہ تلاوتِ قرآن کا ماحول پابندی سے ہوتا.ان میں پھر دادا دادی اگر تلاوت کر رہے ہوتے تو بچے ان کی گود میں جا کر بیٹھتے اور قرآن سنتے.اِسی حسن تربیت اور ماحول سے بچے تربیت یافتہ ہو کر نکھرتے تھے.اسی طرح بچوں کے کھیل بھی نرالے ہوتے تھے۔اور اس کے برعکس آج دیکھا جاے تو آج کل
پبلسٹی ۔مشہوری ہمارے معاشرے کا بڑھتا ہوا ناسور ہے ۔۔بچے سے لیکر بزرگ تک جس کے پاس ٹچ موبائل ہے ہر کسی کی یہ کوشش ہے کہ راتوں رات انٹرنیٹ کی دنیا میں مشہور ہوا جاے ۔اس مشہوری کے چکر میں اکثریت والدین اپنے کم عمر بچوں کا استعمال بھی کررہے ہیں ۔اگر ان کو کہا جاے کہ خدا کا واسطہ یار بچوں کے ننھے دماغوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کرو ۔تو ان کے چمچے کہیں گے ۔۔کہ جناب یہ تو جلتا ہے بچے سے جلتے ہے ۔مطلب کہ آئنہ نہیں دیکھنا ۔الٹا طنزیہ کلام شروع ۔۔بچوں کے کچے ذہنوں کو استعمال کرنے والے جانتے نہیں کہ کل یہی بچے ان کے سامنے صرف تقاریر لمبے بھاشن ہی جھاڑیں گے ۔۔اخلاق خدمت کی ہرگز توقع نہ رکھیے گا ۔کیونکہ آپ نے بچوں کو صرف سکرین کے آگے بول کر لوگوں کو متاثر کرنا سکھایا ۔آپ نے ہجوم میں بچےکو سلام کرنا تو سکھایا لیکن گھر بزرگ نانا نانی دادا دادی سے ملنے کی بھی پابندی لگا دی ۔کہ نہیں وقت نہیں ہے ۔۔بہت مصروفیات ہے وڈیو بنانے میں ۔۔ہمارے ہاں بچوں کو فون لیپ ٹاپ آئ پیڈ دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم بہت ماڈرن ہے ۔۔ہمارے بچے بہت ماڈرن ہے ۔مطلب اپنی طرف سے یورپی گوروں کے بچوں کی نقل ۔لیکن آپ جانتے ہیں یورپی ملکوں میں بچوں کو فون نہیں دیتے ۔اگر دیتے ہیں تو والدین پر زمہ داری ہے کہ بچے پہ پوری نگرانی کی جاے ۔بچہ فون میں کچھ غلط تو نہیں سیکھ رہا ۔بچے کی ہر ایکٹویٹی پر نظر رکھنا والدین کی زمہ داری میں ہوتا ہے اور یہ زمہ داری حکومت یا بچے کے سکول کی طرف سے بھی ہوتی ہے ۔۔لیکن ہم تو بچوں کو فون دے کر بچوں کی تربیت کرنا ہی بھول گے ۔ہمیں نہیں پتہ بچے فون میں کیا دیکھ رہے ۔کیا سیکھ رہے ہیں ۔یا پھر کم عمر بچے کسی غلط ایکٹویٹی کا حصہ تو نہیں بن گے ۔۔ہم خوش ہوتے ہیں بس اس بات پر دیکھو بچہ گیم کھیل کھیل کر انگریزی سیکھ گیا ۔دیکھ میرا بچہ کتنا لائق ہے مشکل سے مشکل اون لائن گیم کھیل لیتا ہے جیتتا بھی ہے لیکن کبھی غور کیا ۔وہی بچہ نماز پڑھتا ہے۔کیا اس بچے کو نماز پڑھنا آتی ہے ۔کیا اس بچے کو چھ کلمہ آتے ہیں ۔کیا اس بچے کے بولنے کے انداز میں بدتمیزی تو نہیں جھلک رہی ۔۔۔کیا بچہ چوبیس گھنٹے موبائل فون استعمال کر کر کہ نفسیاتی اور چڑا چڑا تو نہیں ہورہا ۔کیا بچہ اپنے فون کے بنا دو گھنٹے بھی رہ سکتا ہے ۔۔یہ تو ہم بھول ہی گے ۔۔ہم نے بچوں کو سکھایا کیا ۔صرف مشہور ہونا ۔۔کہ جتنا بولو گے اتنے لائک اتنا زیادہ پیسہ اتنا زیادہ تالی مارنے والا ہجوم ۔بچوں کی اچھی تربیت صرف والدین کے لیے اہم نہیں ۔بلکہ معاشرے کا ایک بہترین انسان بننانے کے لیے بھی اہم ہے ۔ایسا انسان جس پر ہر کوی ناز کرے ۔۔جو سڑک میں گرا پتھر ثابت نہ ہو بلکہ تپتے صحرا میں وہ دھوپ کی مانند درخت ہو جو اپنے اخلاق سے دوسروں کو چھاوں دے سکیں ۔حضور اکرم صلى الله عليه وسلم حضرت عبداللہ ابن عباس رضى الله تعالى عنه کو بچپن میں تعلیم فرماتے ہیں ”اے بچے! خدا کو یاد رکھ تو اس کو اپنے سامنے پائے گا، اور جب تو سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر اور جب تو مدد چاہے تو اللہ ہی سے مدد مانگ اور جان لے اس بات کو کہ اگر تمام لوگ اس بات پر اتفاق کرلیں کہ تجھ کو کچھ نفع پہنچانا چاہیں تو ہرگز اس کے سوا کچھ نفع نہیں پہنچاسکتے جو کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے واسطے لکھ دیا ہے اور اگر سب لوگ اس پر متفق ہوجائیں کہ تجھے کچھ نقصان پہنچانا چاہیں تو ہرگز اس کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے جو اللہ نے تیرے واسطے لکھ دیا ہے۔(مشکوٰة شریف،ص:۴۵۳)
پبلسٹی مشہوری کی بجاے بچپن سے ہی توحید کی بنیاد پر بچہ کی ذہن سازی کی جائے اور اس کا یقین اللہ کی ذات پر پختہ کرادیا جائے تو اس کے اثرات نمایاں محسوس ہوتے ہیں، توہمات سے اس کا دل ودماغ پاک رہتا ہے اس کے اندر غیرت اور خودداری آجاتی ہے اور بچپن میں بناہوا یقین دل میں پختگی کے ساتھ جم جاتا ہے۔
۔
Category: متفرق

پبلسٹی کا جنون تحریر حنا

بھارت پاکستان سے ایک بار پھر ہار گیا !!!.تحریر: نوید شیخ
افغانستان کے بارے عموما لوگوں کا خیال یہ ہے کہ وہاں پر امریکی ، اسکے اتحادیوں اور طالبان کے مابین ایک جنگ وجدل جاری تھی ۔ یعنی صرف دو حریف تھے ۔
۔ پر رکیں ۔ کہانی میں زرا twist ہے ۔ افغان سرزمین پر دو ممالک اور بھی تھے جو ایک دوسرے سے نبر آزما تھے ۔ ایک بھارت اور پاکستان ۔۔۔ ۔ سب سے پہلے اگر کسی دل میں یہ خیال ہے کہ بھارت افغانستان میں ڈولیپمنٹ کرنے کے لیے بیٹھا ہوا تھا ۔ وہاں ڈیم بننا اور انکی پارلیمنٹ کی بلڈنگ بننا، سڑکیں بننا ہی اسکا کام تھا ۔ تو میں اسکی سادگی پر ہنس ہی سکتا ہوں ۔
۔ کوئی تو وجہ ہوگی کہ اتنے شاید بھارتی افغانستان میں نہیں تھے ۔ مگر انکے کونسل خانے افغانستان کے ہر شہر میں تھے ۔ پھرشہر بھی وہ جو پاکستانی سرحد کے قریب ہوں ۔ بھارت کی چالوں بارے تو پاکستان کو پہلے ہی پتہ تھا ۔ اور ہمارا دفتر خارجہ اس بارے بھارت کو دنیا میں ایکسپوز بھی کرتا رہا ہے ۔ ٹی ٹی پی سے لے کر بی ایل اے اور اس جیسی دیگر تنظیموں ۔۔۔ ان کا سب کا ماسٹر مائنڈ بھارت تھا ۔ ۔ اب یہ جو آہ وبکا بھارت میں جاری ہے اسکی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ حقیقت میں پاکستان نے بھارت کو افغانستان میں چت کر دیا ہے ۔ ۔ اس وقت سہیل شاہین ہوں ، ذبیح اللہ مجاہد ہوں ، یا شہباب الدین دلاور سب بھارت کو باری باری اسکی افغانستان میں اوقات اس لیے دیکھا رہے ہیں ۔ کہ بھارت اب نئی گیم کھیلانا شروع ہوگیا ہے ۔
۔ بھارت اب دنیا کو یہ باور کروانے کے چکروں میں ہے کہ پاکستان اورافغان طالبان مل کر بھارت پر حملہ آور ہوں گے ۔ کبھی یہ پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ مسعود اظہر طالبان سے ملے ہیں تو کبھی ان کو امر اللہ صلاح انقلابی لیڈر دیکھائی دینا شروع ہوجاتا ہے ۔ وجہ صرف ایک ہے ۔ جو طالبان نے کلیئر کر دی ہے کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونا دیں گے ۔ اس کا دکھ سب سے زیادہ بھارت کو ہے ۔ ۔ یہ تین بلین ڈالرز کا اس کو اتنا دکھ نہیں ہے ۔ اصل سرمایہ کاری اس کی ٹی ٹی پی اور بی ایل اے والی ڈوبی ہے ۔ ۔ اب یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ دراصل بھارت افغان فورسز کو ٹریننگ دیتا ہی نہیں تھا ۔ یہ کرتے کچھ یوں تھے ۔ ان افغانوں کو electکرتے تھے جن کا تعلق پاکستان اور افغانستان دونوں سے ہوتا ۔ پھر انکو بھارت لے جا کر ۔ ان کو پاکستان کے خلاف کاروائیاں کرنے کی ٹریننگ دی جاتی ۔ ذہن سازی کی جاتی ۔ اور جب کوئی ایسا مشن ہوتا تو ان کو افغانستان بھیج دیا جاتا ۔ اور یہ وہاں سے پاکستان پہنچ کر اپنا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچاتے ۔ اس میں امراللہ صالح نے بھارت کا پورا پورا ساتھ دیا ۔ کیونکہ اس کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا ۔ یوں بھارتی ۔۔۔ را۔۔۔ اور این ڈی ایس کے گٹھ جوڑ سے پاکستان کا مغربی بارڈر بھی destablizeکرنے میں لگی ہوئی تھی ۔ پر اب اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان اس امتحان میں بھی سرخرو ہوچکا ہے ۔ اس طرح ایک اور محاذ پر پاکستان نے بھارت کو شکست فاش دے دی ہے ۔
۔ یہ فتح بھی ان گمنام جوانوں اور سپاہیوں کے نام ہے جن کو کوئی نہیں جانتا ۔ کیونکہ یہ جنگ ٹینکوں اور طیاروں اتار کر نہیں لڑی گئی ۔ پس پردہ رہ کر کام کرنے والوں نے جیتی ہے ۔ یہ کام انٹیلی جنس ایجنسیز اور سفارت کاروں نے کیا ہے۔ ۔ اسی لیے کابل میں سابقہ ہندوستانی سفیر گوتم نے طالبان کے قبضے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ افغان چہرے کے ساتھ پاکستان کی پیش قدمی ہے۔۔ اب دنیا بھی اس بات کو مان رہی ہے کہ پاکستان کو اس جنگ میں فتح ملی ہے اور انڈیا افغانستان میں بیس سال لگا کر بہت لوگوں کی ذہن سازی کرکے 14 قونصل خانے کھول کر، ہزاروں افغان طالب علموں کو وظیفے دے کر اور سب سے زیادہ یہ کہ تین ارب ڈالر خرچ کرکے بھی ہار گیا ہے اور اب اس کی حکومت جو ایک سکتے کی کیفیت میں ہے۔ آئندہ کے لیے وہ راستے ڈھونڈ رہی ہے۔ ۔ پر یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگ ابھی مکمل طور پر ختم بھی نہیں ہوئی ہے ۔ اس وقت بھارت ان کوششوں میں ہے کہ کسی طرح ان ٹی ٹی پی والوں کو طالبان سے منحرف کرکے داعش کی چھتر چھایا میں لیا جائے ۔ اور پھر وہاں سے نئی گیم کا آغازکروایا جائے ۔
۔ جہاں طالبان اپنے آپ کو ایک سخت گیر ملیشیا سے زیادہ سیاسی قوت بنانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں ۔ اب انکے خلاف افغانستان کے اندر سے ہی نئی سازش رچی جارہی ہے ۔ جس میں
ISIS-Kکو ایک ایسی طاقت بنانے کی کوشش جاری ہے ۔ جس میں TTP سمیت تمام طالبان مخالف طاقتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے گا ۔ اگر یہ ہوجاتا ہے تو یہ خطے میں ایک اور نئے گھناونے کھیل کا آغاز ہے۔۔ حالانکہ دیکھا جائے تو افغانستان میں جنگ تو ختم ہوچکی ہے ۔ امن آچکا ہے ۔ اب یہ نئے سرے سے پھر سے جنگ کی شروعات کرنے کی کوشش کی جاری ہے ۔ ۔ جوبائیڈن بھی دنیا کو بتا رہا ہے کہ بہت زیادہ یہ اسلامک اسٹیٹ والے افغانستان میں آگئے ہیں۔ یہ اور حملے بھی کریں گے ۔ اس لیے ہم ڈرون حملے جاری رکھیں گے ۔ ۔ اب رک جائیں سوال یہ ہے کہ داعش یا اسلامک اسٹیٹ کو افغانستان میں چلا کون رہا ہے ۔ تو 8 اکتوبر 2020 کو فارن پالیسی میگزین نے لکھا تھا کہ انڈینز اور سینٹرل ایشیائی لوگ اسلامک اسٹیٹ کا نیا چہرہ ہیں۔۔ یہ لکھتا ہے کہ شام میں جاری عالمی جہادی تحریک میں بھی ہندوستانی اور وسطی ایشیائی لوگوں کا ایک اہم رول تھا۔۔ اقوام متحدہ کی جون کی رپورٹ کے مطابق امریکی انخلا سے پہلے کچھ مہینوں میں آٹھ سے دس ہزار جہادی جنگجو وسط ایشیائی ریاستوں سے افغانستان میں داخل ہوئے تھے۔ ان میں سے کچھ طالبان اور زیادہ تر اسلامی ریاست خراساں میں شامل ہوئے۔۔ اب یاد کریں وہ اسٹوری جس میں بھارتی بینک دہشتگردی کے لیے منی لانڈرنگ میں ملوث نکلے تھے۔ پھر اجیت ڈول کے بیانات کو ملا لیں تو ساری کہانی آپکو خود سمجھ آجائے گی ۔ ۔ نئی گریٹ گیم شروع ہو چکی ہے ۔ یہ BRI اور greater euroasia partnership vs B3W بھی ہے ۔ اور روس چین ایران پاکستان بمقابلہ امریکہ نیٹو اور بھارت بھی ہے۔ ۔ دیکھا جائے تو اگر طالبان دیگر دہشت گرد گروہوں کو عالمی دہشت گردی سے نہیں روک پائے تو پھر عالمی طاقتیں وہی کریں گی جو داعش کے خلاف انہوں نے عراق اور شام میں 2014ء میں کیا۔ بوٹ زمین پہ رکھے جائیں نہ جائیں لیکن ہوائوں سے گولہ باری جاری رہ سکتی ہے۔
۔ اس لیے طالبان اور اُن کی تاریخ ساز فتح پھر واضح طور پر حملہ آور کا ہدف معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے کہ جب وہ فتح کے ثمر سمیٹ اور سنبھال رہے ہیں اور حکومت سازی کی شکل میں اپنی بےمثال عسکری، سیاسی اور سفارتی کامیابیوں کے بعد پُرامن اور مستحکم افغانستان کے لئے مصروفِ عمل ہیں۔
۔ دشمن کا ارادہ مکمل بےنقاب ہے کہ انہیں یہ نہ کرنے دیا جائے اور پھر سے جنگ و جدل میں اُلجھا دیا جائے ۔ ۔ باوجود اس کے کہ وہ عام معافی کا اعلان کر چکے اور ان کی تبدیلی بھی واضح ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پُرامن افغانستان کے دشمن کی یہ آخری کوشش کتنی کامیاب ہوتی ہے؟ ۔ خدشات و خطرات تو بہت ہیں، کابل ایئرپورٹ حملوں کے بعد پورے افغانستان ہی نہیں خطے کے ممالک میں بھی تشویش کا درجہ پھر بہت بلند ہو گیا ہے۔۔ اس وقت ہم پاکستانیوں کو دعا کے ساتھ اپنی کوشش تو کرنی ہی ہے کہ بے پناہ مشتعل یا انتہائی مایوس ہو کر امریکی انتظامیہ، نیٹو اور خود طالبان کوئی غلط فیصلہ نہ کرلیں۔ ۔ اس حوالے سے پاکستان کے فیصلہ ساز ناصرف یہ کہ اپنی انفرادی صلاحیتوں کو مکمل بروئے کار لائیں بلکہ دوستوں کے اشتراک سے ’’پُرامن و مستحکم افغانستان‘‘ کے لئے سفارتی کوشش اور باہمی مذاکرات کو کامیاب کروایا جائے ۔ کوئی راہ نکالی جائے۔ بلیم گیم اور مہلک شک و شبہ سے بچا جائے۔۔ اِس مرتبہ پاکستان اپنی مرضی سے یہ کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ یاد رکھیں اسلام آباد پر کوئی کچھ مسلط نہیں کر سکتا بلکہ بڑے بڑے کرداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لئے پاکستان سے تعاون لینا ناگزیر ہو گیا ہے۔
۔ سانحہ کابل ایئر پورٹ کے حوالے سے امریکہ نے ہنگامی اور تشویشناک صورت حال میں پاکستان سے تعاون کی جو درخواست کی اور پاکستان نے اسے فوری تسلیم کرکے جو ہنگامی انتظامات کئے ہیں وہ دونوں ملکوں میں افغان مسئلے کی پیچیدگیوں کو طوالت سے پیدا ہونے والے باہمی اعتماد میں ہوئی کمی اور شک و شبہات کو دور کرنے میں معاون ہوں گے لیکن پاکستان کے شہروں کراچی، اسلام آباد، ملتان اور فیصل آباد میں امریکی فوجیوں یا شہریوں اور دوسرے غیر ملکیوں کی آمد اور ہوٹلز میں قیام کو محفوظ بنانا پاکستان کے لئے بڑا انتظامی چیلنج ہے۔
۔ خصوصاً داسو کے چینی انجینئروں پر ہلاکت خیز خود کش حملے، جوہر ٹائون کے بم دھماکے اور گوادر میں چینی ماہرین پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں یہ سہولت اور مہمان نوازی ریاستِ پاکستان کے لئے چیلنج ہی نہیں ایک بڑا انتباہ بھی ہے۔ ۔ اس حوالے سے سارا انحصار صوبائی حکومتوں کے سیکورٹی انتظامات پر ہی نہیں خود وفاقی حکومت اور ہمارے سیکورٹی اداروں کو مکمل الرٹ رہنا ہوگا۔ ۔ فی الحال میرے خیال میں خطے کے تمام ممالک اگر مل کر رہے تو یہ داعشی دہشتگردی صرف وقتی چیلنج ہے اور انشاء اللہ اس پر جلد قابو پالیا جائے گا۔

بیوی کے جھگڑے سے بچنے کیلئے شوہر نے پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی
نئی دہلی: بیوی کے جھگڑے سے خود کو بچانے کیلئے شوہر نے پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی-
باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست گجرات میں بیوی کے غصے سے بچنے کے لیے شوہر نے گھر کے قریب پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی اور پھر پولیس کے سامنے گرفتاری بھی پیش کر دی۔
کوئٹہ: دہشت گردوں کے خلاف آٔپریشن : 11 دہشت گرد ہلاک
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے ملزم ڈیوچھاڈا سے جب واقعے کی تفصیلات جانیں تو ملزم کا کہنا تھا کہ وہ پولیس اسٹیشن کے عقبی علاقے میں رہائش پذیر ہے اس نے ایسا اپنے بیوی کے غصے سے بچنے کے لیے کیا اس کا اپنی بیوی سے پیسوں اور اخراجات کے معاملے پر اکثر جھگڑا رہتا تھا اور وہ ان روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آ چکا تھا جن سے جان چھڑانے کے لیے اس نے یہ انوکھا اقدام اٹھایا-
پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں دفعہ 436 کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔

دبئی: گاڑی کی نمبر پلیٹ 16 کروڑ میں نیلام
دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے گزشتہ روز کاروں کی خصوصی نمبر پلیٹس کی نیلامی کی گئی-
باغی ٹی وی :دبئی میں کاروں کی خصوصی نمبر پلیٹس کیلئے 36 ملین درہم سے زائد کی بولیاں لگائی گئیں، نیلامی میں دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی(آر ٹی اے) نے سو قسم کی ڈبل، ٹرپل، چار گنا اور پانچ اعداد والے نمبروں کی بولیاں لگوائیں۔
جس میں خصوصی نمبر پلیٹس کی نیلامی میں ای ففٹی فائیو نمبر کی پلیٹ 16 کروڑ میں فروخت ہو گئی ہے ڈبلیو 29 کی دو اعشاریہ پانچ ملین درہم جبکہ ایکس 35 کی بولی دو اعشاریہ چار ملین درہم کی رہی۔
لاہور: بلیاں پالنے پر نوجوان خاتون پر اپنے ہی گھر والوں نے تیزاب پھینک دیا
عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ، آر ٹی اے نے ہوٹل مینجمنٹ کے تعاون سے نیلامی کے مقام پر تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی تھیں۔ نیلامی میں محدود نشستیں لگائی گئی تھیں اور بولی کی جسٹریشن بھی ہال ہی میں کی جا رہی تھی۔
اس سے قبل 2019 میں شارجہ میں نمبر پلیٹ 36 لاکھ 10ہزار درہم میں فروخت ہوئی کاروں کی منفرد نمبر پلیٹس مجموعی طور پر ایک کروڑ 34 لاکھ 95 ہزار درہم میں نیلام ہوئیں تھیں-

تمباکو نوشی ترک کرنے کے فوائد تحریر ، راحیلہ عقیل
سگریٹ کے ڈبے پر بھیانک تصویر گلا سڑا منہ اور ساتھ لکھی ہدایات کے باوجود تمباکو نوشی کرنے والوں میں کوئی ڈر خوف نظر نہیں آتا وہ جانتے بوجھتے اپنی صحت کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ساتھ سگریٹ کے دھوئیں سے آس پاس موجود افراد بھی اسکا شکار ہوتے ہیں چھوٹے بچوں کے سامنے تمباکو نوشی کرنا نا کے صرف بچوں کو نقصان پہنچایا جارہا بلکہ بچوں کو انجانے میں نشے کی ترغیب بھی دی جارہی، بہت سے گھروں میں اگر ایک والد تمباکو نوشی کرتا ہے تو لازمی سی بات ہے اسکے بچے بھی یہی چیز سیکھیں گے” کہ ایسا کیا مزہ ہے اس میں بچے گھروں سے باہر جاکر دوستوں میں تمباکو نوشی کرتے پھر دھیرے دھیرے یہ عادی ہوجاتے جب تک گھروالوں کو خبر ہوتی بچہ اس نشے کا عادی ہوجاتا آپ بچے کو ڈانٹیں ماریں اس پر دباو ڈالیں گے تو مزید بچہ بگڑے گا وہ چڑچڑا ہوگا اسکو سکون ملے گا صرف تمباکو نوشی میں، والدین کو اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کے ہمارے بچے کن دوستوں میں اٹھ بیٹھ رہے کہیں انکا کوئی دوست ساتھی انکو تمباکو نوشی پر تو نہیں لگا رہا
تمباکو نوشی انسانی معاشرے کی ایک بہت بڑی کمزوری ہے اس کے کئی جسمانی وذہنی نقصانات ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ایک بڑے طبقے میں اس کا استعمال مدتوں سے دیکھا جارہا ہے تمباکو نوشی کے رحجان کوکم کرنے اور اس پر قابو پانے کے لیے بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں، ہر سال ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد تمباکونوشی سےمتعلق بیماریوں کےباعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔یعنی یہ زہر روزانہ سیکڑوں افراد کو لقمہ اجل بناتاہے، تمباکو ہر لحاظ سے نقصان دہ ہے ۔اس کے پتے pestisides ہیں اس میں پندرہ اقسام کےسرطان مخفی بتائے جاتے ہیں جن کی براہ راست وجہ تمباکو ہے۔دنیا میں جو دس بڑی بیماریاں جن میں چھ کی وجہ تمباکو نوشی بتائی جاتی ہے۔ پاکستان میں سگریٹ نوشی کےانسداداور نان اسموکرز کے تحفظ کا قانون مجریہ2002سے رائج ہے ۔جس کے تحت عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کرنا قانون جرم ہے جس کی سزاقید کےساتھ جرمانہ بھی ہے، اسکے باوجود ہمیں سڑکوں پر دفاتر میں کھلے عام یہ نشہ کرتے لوگ نظر ہیں جن میں کوئی ڈر خوف نہیں نا ہی قانون کی سختی نظر آتی ہے،
اکثر طلباء پرھائی کا دباؤ کم کرنے کے لیے تمباکو نوشی کا سہارا لیتے نظر آتے ہیں، بکثرت سگریٹ نوشی سے سیل یعنی تپ محرقہ (ٹی بی) کی بیماری ہونے لگتی ہے۔والدین، استادوں اور سماج کے معزز لوگوں کو مل کر حقہ نوشی اور سگریٹ نوشی کے خلاف موثر اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اکثر ہونہار اور اچھے لڑکے سگریٹ نوشی کی وجہ سے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے سرطان جیسی خطرناک بیماریاں ہوتی ہیں اور تمباکو نوشی کرنے والا اپنی اوسط عمر سے پندرہ سال پہلے دنیا سے گزر جاتاہے، تشویش ناک بات یہ ہے کہ ملک میں روزانہ تقریباً 1200 بچے سگریٹ نوشی کا آغاز کر رہے ہیں۔یعنی تمباکو نوشی کی جانب بڑھانے والے ہر پانچ میں سے دو کی عمر دس سے بارہ سال ہے۔تمباکو نوشی میں مبتلا افرادکے لیے عوامی مقامات پر تمباکونوشی کی ممانعت، تعلیمی اداروں میں تمباکو کی مصنوعات کی رسائی اوراٹھارہ سال سے کم عمر کےافرادکو سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے،لیکن اسکے باوجود آپ کو ہر دوسرا بچہ سگریٹ لیتا نظر آئے گا چائیے پھر وہ خود چھپ کر تمباکو نوشی کرے یا کسی کے لیے خرید رہا ہو دکاندار کو اس سے کوئی سرکار نہیں
حکومت پاکستان کو تمباکو نوشی پر ہر سال ٹیکس لازمی لگانا چاہیے اس سلسلے میں کچھ اقدامات کیے جارہے ہیں جن پر عمل ہونے سے کافی حد تک پاکستان میں تمباکو نوشی پر قابو پالیا جائے گا، ہمیں چائیے زمہ دار ہوجاہیں ایسے اچھے اقدامات میں حکومت کو سپورٹ کریں تاکہ ہماری نسلیں اس زہر سے بچ سکیں
*تمباکو نوشی ترک کرنے کے فوائد*
شائد آپ خود آپ کو زیادہ صحتمند اور تازہ دم محسوس کریں، آپ کی روزمرہ کی ادویات میں کمی ھونے کے زیادہ امکانات ہیں، درازی عمر اور اچھی صحت کا واحد راستہ،
اپنے پیاروں کو بچوں کو اس نشے سے بچائیں کیونکہ آپکی جان قیمتی ہے کوشش کریں جلد ازجلد اس لت سے آزادی ملے،
جنگیں، بغاوتیں کیوں ؟ کیسے؟ اور کب تک؟ تحریر۔ آمنہ امان
حضرت آدم کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے درمیان ہوئی لڑائی بظاہر تو اک قتل پر ہی تھم گٸ تھی مگر درحقیقت وہ صرف شروعات تھی آدم کے بیٹوں کی تعداد بڑھی تو لڑاٸیاں جنگوں میں بدلتی چلی گٸیں اور وجوہات بھی بڑھتیں گٸیں۔
کہتے ہیں زر ۔زن اور زمین ہی انسانوں کے درمیان وجہ جنگ رہے ہیں تاریخ دیکھیں تو کسی حد تک وجہ درست معلوم ہوتی ہے۔ قدیم یونانی دیو مالائی داستانوں کے مطابق تاریخ کی سب سے بڑی جنگ ۔۔جنگ ٹراۓ یا ٹراۓ کی جنگ ہے وجہ فساد زن یعنی شہزادی ہیلن تھی اس طرح زمین کی خاطر سکندراعظم مقدونیہ سے نکلا اور آدھی زمین تخت وتاراج کرگیا۔ انگریزوں نے ہندوستان کو سونے کی چڑیا سمجھا اور زر کیلیے لاکھوں میل دور آگۓ اور کٸ چھوٹی بڑی جنگوں کے بعد ہندوستان پر قبضہ کیا۔ مگر کیا جنگوں کی صرف یہ تین وجوہات ہی ہیں؟
نہیں اک پہلو مذہب بھی ہے ۔ اور تاریخ میں سب سے زیادہ جنگیں مذہب کو لے کر ہی ہوٸیں اور اب تک ہوتی چلی جارہیں ہیں ۔یہ جنگیں پہلے تو حقیقت میں کلمتہ اللہ کی سربلندی کے لیے کی جاتیں تھیں ۔حق اور سچ کی فتح شیطانیت کا خاتمہ اور پوری دنیا پر اللہ کا حکم امن اوسلامتی کے راج کے نفاز کے لیے تھیں مگر رفتہ رفتہ ماضی کی جنگوں کی طرح یہ بھی بس اک وجہ بن کے رہ گیا۔ اب حالت یہ ہے کہ ممالک تو چھوڑ مذہب کے اندر بھی اپنا اپنا گروہ بنا کر فرقوں کے نام دے کر لڑتے ہیں گویا ہابیل اور قابیل کے محض نام ہی بدلے ہیں۔
درحقیقت اقتدار کی خواہش اور طاقت کا حصول ہی جنگ کی اصل وجہ ہوتا ہے اپنی بات اور اپنے آپ کو صحیح منوانا اور دوسرے کو مطیع کرنا یہی ہابیل قابیل کے درمیان لڑاٸ کی اصل وجہ تھی اور یہی آج تک کی ہر جنگ کی وجہ ہے۔
اسلحے اور ٹیکنالوجی کی نت نٸ خوفناک ایجادات کے بعد اب ممالک کو کمزور کرنے کے لیے جنگ کی اک نٸ قسم سامنے آٸ ہے ففتھ جنریشن وار ۔۔محض افواہیں اڑاٸیں اور جھوٹ اتنی شدت سے پھیلا دیں کہ سچ لگنے لگے اس کا مقصد کسی ملک کی عوام کو تقسیم کرنا اور اتنی نفرتیں پھیلا دینا ہے کہ جب اتحاد درکار ہو وہ اک دوسرے پر الزامات میں مصروف ہوں۔ فرقہ واریت لسانیت اور صوباٸیت کا فروغ اس کے اہم اہداف ہوتے ہیں اور اداروں کے مابین نفرت پھیلانا بھی اس جنگ کا مقصد گویا ملک کے جڑیں اتنی کھوکھلی کر دی جاٸیں کہ اس کا انتظامی ڈھانچہ گرانے کے لیے اک ہلکا سا دھکا ہی کافی رہے شام لیبیا اور عراق اس کی حالیہ مثالیں ہیں۔
جنگیں لڑنے اور اس سے بچنے کے لیے ہر ملک دفاعی بجٹ مختص کرتا ہے اور اگر زرا بھی دھیان دیں تو دفاعی بجٹ بذات خود بہت سی جنگوں اور بغاوتوں کو جنم دیتا ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ دفاعی بجٹ کی حامل سوکالڈ سوپر پاورز کے سالانہ بجٹ کا اور خراجات کا تقابل کریں تو انسان ورط حیرت میں گم ہوجاتا ہے کہ یہ کیا گورکھ دھندا ہے۔
امریکہ یا چاٸنہ کا دفاعی بجٹ ہی دیکھ لیجیے کیا اس میں لاکھوں کی آرمی کی تنخواہیں یونیفارمز کھانا پینا رہاٸش پینشنز دفاعی آلات کی خریداری مشینری کی مرمت پیٹرول اور ٹریننگ کے اخراجات ہی پورے ہوجاٸیں تو بہت ہے جبکہ اک جنگی بحری بیڑا مع الات خریدیں تو سالانہ بجٹ بہت کم پڑ جاۓ تو یہ سارے باقی اخراجات کیا پورا سال روکے رکھے جاتے ہیں؟ ابدوزیں لیزر گنز حساس سینسرز کے لیس جوتے ہیلمٹ اور لباس کی قیمت لاکھوں ڈالرز میں ہوتی ہے پھر یہ اخراجات کیسے پورے کیے جاتے ہیں ؟
تو چلیے دیکھتے ہیں کچھ ہوشربا انکشافات جن سے اندازہ ہو کہ سپر پاورز اپنے اخراجات کیسے پورے کرتیں ہیں۔ دنیا میں منشیات کی چالیس فیصد پیداوار برما یعنی میانمر میں ہوتی ہے یہیں تیار ہوتی یہیں سے سپلاٸ کی جاتی ہے۔دوسرا پیداواری مقام افغانستان ہے تیسرا میکسیکو اور پھر ٹیکساس۔ ان علاقوں میں کبھی امن نہیں ہوا عوام کی حالت خستہ ہے غربت اور خانہ جنگی نے عوام سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں چھین لی ہیں ۔ یہی حال پٹرولیم مصنوعات کے قدرتی وساٸل رکھنے والے ممالک کا ہے۔ وہی شام عراق ہو یا تنزانیہ ان کے خزانے سے سپر پاورز خوشحال اور وہ خود تباہ حال ۔افریقی ممالک کا تو جرم بالکل ناقابل معافی ہے کیونکہ ان کی زمین سونا اور ہیرے اگلتی ہے لہذا خانہ جنگی اور بھوک افلاس ان کا مقدر ٹھہرا دٸیے گۓ۔ اب منشیات کی سمگلنگ ہو یا سونا ہیروں اور پیٹرول کی لوٹ مار ان سب کے پیچھے آپ کو سپر پاورز کی ایجنسیز کا ہاتھ ملے گا اور اس ملک کی عوام کے ہاتھوں میں انہی سپر پاورز کا بنایا اسلحہ نظر أۓ گا۔ کسی بھی ملک میں کوٸ بھی قیمتی معدنیات ہوں یا اس کی جغرافیاٸ اہمیت ہووہاں جنگ یا بغاوت ضرور ہوگی اور اسلحہ سپر پاورز کا دکھتا ہے۔ یعنی اک پنتھ دو کاج۔ آپس میں لڑوا کر اسلحہ بیچ کر پیسے بناٶ اور ساتھ وہاں کے وساٸل بھی لوٹو۔ تو جناب یوں بناۓ جاتے ہیں بحری بیڑے جدید سیٹلاٸٹ اور ابدوزوں کے ذخیرے۔
اب ایسے میں کسی ملک کی ارمی حلال طریقے سے بیکریز سیمنٹ اور ہاٶسنگ سوساٸیٹیز بنا کر بجٹ کی کمی پورا کرنا چاہے تو اس کے خلاف پروپیگنڈا آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ اب سوال تو یہ ہے کہ پورے پورے ملک تباہی اور بربادی کی آگ میں جھونک کر انسانیت کے علمبردار بن جانا اور پھر سپر پاور کہلانا کیوں؟
مذہب کے لیے لڑنے والوں میں نوے فیصد لوگوں کی اپنی زندگی اسی مذہب کے أصولوں کے خلاف ہوتی ہے جس کی خاطر وہ دوسرے کی جان تک لے لیتا ہے۔ تو کیا وجہ مذہب ہے؟ یا اپنے آپ کو درست ثابت کرنا اپنی بات منوانا اور دوسرے کو غلط ثابت کرنا؟
آج یہودیوں کو دجال کا انتظار ہے ہندو کالکی کے اوتار کے انتظار میں ہیں عیساٸ حضرت عیسی کے منتظر مسلمان امام مہدی کے منتظر ہیں مگر کیوں؟
کیا یہ سب اپنی اپنی زندگیاں اپنے اپنے دین ومذہب کے عین مطابق گزار رہے ہیں ؟ یا گزارنے کو تیار ہیں؟ ہرگز نہیں یہ بس اس وعدے کے ایفا ہونے کے منتظر ہیں کہ ان کا نجات دہندہ اۓ گا اور پھر اس کے ساتھ مل کر وہ باقی سب کا خاتمہ کرکے پوری دنیا پر راج کریں گے۔ مطلب خواہش وہی ہابیل وقابیل والی ہے اپنا آپ درست منوانا اور دوسرے کو زیر کرنا۔ مگر انسان اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لیے خالق کی زمین پر جتنا بھی کشت وخون بہا لے ہوگا وہی جو خالق چاہے گا رسی درزا ضرور ہو گی مگر کھینچی بھی اتنے زور سے جاتی ہے کہ سپر پاورز منہ کے بل آگرتیں ہیں۔ اپنی انا کی تسکین اور غرور کی خاطر چاہے ساری نسل انسانی کا خاتمہ کردے کوٸ الله أكبر کی گونج برقرار رہے گی۔ ان شاء اللہ
رہے نام اللہ کا۔
@AmanHarrisآزادی کے بعد بھی آزادی کی ضرورت۔ تحریر: سریر عباس
14 اگست 1947 کو ملک پاکستان کاغذی طورپہ آزاد ہوا۔
لیکن ذہنی طورپہ آج بھی یہ ملک اور اس ملک کی عوام آزاد نہ ہوسکی البتہ حکمران آزاد ہیں۔
کیونکہ ملک کی آزادی کیلئے اصل کردار اداء کرنے والے ملک کے آزاد ہوتے ہی پیچھے ہوگئے اور لوٹیروں نے قبضہ کر لیا۔
علماء و صوفیاء جنہوں نے بھرپور انداز میں تحریک پاکستان اور مسلم لیگ کو قوت بخشی جب پاکستان بننے کے بعد انہیں عہدوں کی آفر کی گئی تو اکثر نے اس آفر کو ٹھکرا دیا جن میں سب سے بڑا نام شیخ الاسلام حضرت خواجہ قمر الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ (سیال شریف سرگودھا) کا ہے۔
اسی طرح مولانا عبد الستار خان نیازی جنہوں نے تحریک پاکستان کیلئے تن من دھن قربان کیا۔
پاکستان بننے کے بعد 1953 کی تحریک ختم نبوت میں صف اول کے مجاھد ہونے کی وجہ سے قید ہوئے اور سزائے موت کی سزاء سنائی گئی۔
یعنی ملک پاکستان کے اصل وارث اسی دن سے ظلم ستم و جبر کا شکار ہونا شروع ہوگئے جس دن بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو جس ایمبولنس پہ لے جایا جارہا تھا اس کا راستے میں پٹرول ختم ہوگیا۔
پٹرول ختم ہوگیا یا ختم کیا گیا۔۔۔
اس پر بہت ساری بحث و تکرار ہو چکی ہے اور اب بھی وقتاً فوقتاً یہ موضوع زیر گردش رہتا ہے۔
لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد جب بانی پاکستان کی وفات اور پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی وفات کے بعد
ملک پاکستان کو کوئی مخلص لیڈر نہیں ملا۔
اگر کوئی مخلص ہوکے سامنے آیا تو اسے ایسا دبایا گیا کہ وہ دوبارہ یا تو سر نہیں اٹھا سکا یا پھر سانس ہی نہیں لے سکا۔
یہ جاگیردارانہ نظام دن بدن ترقی کرتا چلا گیا
اور آج یہ نظام اتنا طاقتور ہوگیا ہے کہ قومی اسمبلی میں بیٹھے یہ قوم کے لٹیرے
جو من میں آتا ہے اپنی عیاشی کیلئے بل پاس کرکے آزاد ہوتے جارہے ہیں حالانکہ اس ملک کا آئین شریعت کا پابند ہے۔
لیکن یہاں جو نفاظ شریعت کی بات کرتا ہے اس کیلئے ذہنی و جسمانی سختیاں تو ہیں ہی ساتھ میں غیر شرعی قانون بھی پاس کر کے مزید پابند کرتے چلے جارہے ہیں۔
قومی و عوامی مسائل پہ کارکردگی صفر، معیشت پہ کارکردگی صفر، وزارت داخلہ و خارجہ پالیسی صفر،
لیکن مہنگائی و بے رزگاری بڑھانے میں یہ حکمران مکمل آزاد ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں لیکن
عوام مکمل طورپہ ظلم و ستم اور مہنگائی کے چنگل میں جکڑی ہوئی ۔
ملک آزاد حاصل کیا لیکن ہم آزاد نہ ہوسکے.
پاکستان میں نظام عدل اس قدر کمزور ہوچکا ہے کہ پاکستان کے اکثر تھانوں میں تعنیات کیا ہوا "ایس۔ایچ۔او” کی اتنی قدر نہیں ہوتی جتنی قدر ہمارے منتخب کردہ "ایم۔این۔اے” یا "ایم۔پی۔اے” کی زبان کی ہوتی ہے۔
لیکن اس زبان کو طاقت دینے میں ہمارا اپنا بھرپور ساتھ ہوتا ہے
کیونکہ ہم نے پڑوسی کے ساتھ جھگڑا کرنا اپنی وراثت سمجھا ہوا ہے اسی طرح اگر پڑوسی نے بھی ہم سے لڑنے کا ٹھیکہ اٹھایا ہوتا ہے۔
اور جب پڑوسی یا کوئی بھی رشتہ دار ہم سے لڑ پڑے تو "ڈائریکٹ” قانون کا دروازہ نہیں کھٹکٹاتے
بلکہ ہم ایم این اے کا دروازہ کھٹکٹاتے ہیں جنکے ہم نے نعرے لگائے ہوتے ہیں
اب ان ایم این اے کو مزید نعروں کی ضرورت پڑ جاتی ہے اور تھانوں کو جس طرح پہلے یرغمال بنایا ہوتا ہے وہاں اب مزید دب دبا جما کے اپنا رعب ظاہر کرنا ان کا کام بن جاتا ہے۔
وہ ایم این اے جس کا کام خارجہ پالیسی کو مضبوط کرنا ہوتا ہے
وہ صرف اپنے ماتحتوں کو مضبوط کرتا ہے۔
تھانے دار کو رشوت دلواتا ہے اور اپنی مرضی کے فیصلے کراکے اس ذہنی غلام قوم سے اپنی واہ واہ سمیٹ لیتا ہے اور ساتھ میں اگلے الیکشن کیلئے ووٹ بھی پکا کر لیتا ہے۔
سوچنے کی بات تو یہ ہیکہ اس ایم این کا اپنا کیس کبھی ایسا نہیں آتا جس میں پڑوسی کا جھگڑا یا رشتہ دار کا معمولی جھگڑا شامل ہو
بلکہ یہ کام اس نے اپنے سپورٹروں کے ذمہ لگائے ہوتے ہیں۔
ہمیں اپنی سوچ اپنے معیار اور اپنے انتخاب کو بدلنا ہوگا
تانکہ ہم اس معاشرے کو ذہنی غلامی سے نکال کر آزاد ہو سکیں۔
@1sareer
افغانستان کیسے دنیا کا امیر ترین ملک بن سکتا ؟ تحریر: راؤ اویس مہتاب
آج کی اس تحریر میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ افغانستان کیسے دنیا کا امیر ترین ملک اور پاکستان کیسے دنیا کی سب سے اہم منڈی بن سکتا ہے۔ جبکہ چین کیوں امریکہ کی حماقتوں پر خوش ہے اور آنے والے دن کیسے اس خطے کی قسمت بدلنے والے ہیں۔ افغانستان کے بارے میں جو بات ہم بار بار سنتے ہیں وہ یہ ہے کہ افغانستان سپر پاورز کا قبرستان ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی افغانستان کے حوالے سے کئی چیزیں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ اس وقت چین امریکی صدر بائیڈن کے غلط فیصلوں پر قہقے لگا رہا ہے۔ جہاں بھارت یہ شور مچا رہا ہے کہ پاکستان اس جنگ میں سب سے بڑا فاتح ہے وہاں دنیا کے بڑے معاشی ملک یہ کہہ رہے ہیں کہ چین طالبان کے زیر قبضہ دولت کو استعمال کر کے اپنی طاقت میں حیران کن اضافہ کر سکتا ہے۔کیا آپ کو پتا ہے کہ امریکہ سمیت یورپ میں 2030 کے بعد شائد ہی کوئی ایسی گاڑی ہو جو الیکٹرک نہ ہو اور پٹرول سے چلتی ہو اس کی وجہبڑھتی ہوئی Pollution سمیت ماحولیات سے دنیا کو لاحق خطرات سے نبٹنا ہے اور جب دنیا کی سب گاڑیاں خاص طور پر مغربی ممالک اور ترقی یافتہ ممالک میں الیکٹرک ہو جائیں گی تو انہیں چلانے کے لیے پٹرول کی بجائے۔ طاقتور بیٹریوں کی ضرورت ہو گی۔
آج گاڑی چلانے کے لیے جتنا اہم سعودی عرب کا پٹرول ہے دس سال بعد وہ اہمیت بیٹریاں بنانے والی دھاتیں لے لیں گی۔اور دھات وہ چیز ہے جسے فیکٹریوں میں نہیں بنایا جا سکتا بلکہ معدنیات کے طور پر زمین سے نکالا جاتا ہے۔ بیٹری ایک دھات لیتھیم سے بنتی ہے ۔ اور دنیا بھر میں لیتھیم کی ڈیمانڈ میں دوہزار چالیس تک چالیس گنا اضافہ ہو جائے گا۔clean energy technologiesکے لیے جن اہم منرلز کی ضرورت ہےاس میں Solar PV
اور Electricity networks بنانے کے لیے کاپر، ایلومینیم جبکہ EVs and battery storage کے لیئے کاپر، نکل کوبالٹ،لیتھیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ معدنیات آج کی ماڈرن انڈسٹری کی Backbone ہیں۔کیا آپ کو پتا ہے کہ پینٹا گون کی ایک اسٹڈی کے مطابق افغانستان کے چونتیس میں سے صرف ایک صوبے غزنی میں$1 trillion
کےuntapped mineral depositsموجود ہیں۔جبکہ اس سے پہلے ہونے والی اسٹڈیز کے مطابق افغانستان میںiron, copper, cobalt, goldاور دیگر ایسے منرل جس میں
Lithiumبھی شامل ہے کے بڑے خزانے ہیں۔ جو آج کی ماڈرن انڈسٹری کے لیے ضروری ہیں اور یہی چیز افغانستان کو دنیا کے سب سے اہم Mining centers
میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ ماننا ہے امریکی حکام کا۔۔پینٹا گان کے Internal memo کے مطابقافغانستان لیتھیم کا سعودی عرب ہے۔ یعنی جتنا تیل سعودی عرب میں ہے اتنا لتھیم افغانستان میں ہے اور لیتھیم کے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر افغانستان میں موجود ہیں۔ جو موبائل فون، ٹیبلٹس، لیپ ٹاپ، کیمروں، ڈرونز اور دوسری ڈیوائسز کی بیٹریز کے علاوہ الیکٹرک کارز کی ری چارج ایبل بیٹریز کا بھی لازمی جزو ہے۔جو آج دنیا میں ختم ہو جائیں تو دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کا کام ٹھپ ہو جائے۔ اور افغانستان میں تیس کھرب ڈالر سے زائد کی یہ معدنیات موجود ہیں۔ جبکہ بہت سی جگہیں افغانستان میں بد امنی اور دیگر وجوہات کی بنا پر آج تکExplore ہی نہیں ہو سکی۔جیسے تیل سے مشرقِ وسطیٰ کی معیشت دیکھتے ہی دیکھتے بدل گئی ویسے ہی معدنیات سے مالامال ملک ان سے فائدہ اٹھا کر اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔جبکہ افغانستان میں یہ معدنیات اتنی بہتات میں موجود ہیں کہ یہ دنیا بھر کی انویسٹمنٹ کمنیوں کو اپنی طرف راغب کر سکتی ہیں اور وہاں نسلوں سے جنگیں لڑنے والے نوکریاں ملنے کی صورت میں اپنی قسمت بدل سکتے ہیں۔
لیکن اس وقت امریکہ کی صورتحال دیکھ کر چینی حکام یقینا قہقے لگا رہے ہوں گے۔ کہ امریکہ نے بیس سال میں ٹریلین ڈالر لگا کر ہزاروں فوجیوں کی قربانی دے کر کیا پایا۔جبکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ چین جو روڈ نیٹ ورکس بنانے کا ماہر ہے، افغانستان میں کابل سے اسلام آباد تک روڈ کا منصوبہ تیار کیے بیٹھا ہے، کاپر کی مائننگ کا بڑا کنٹریکٹ وہ کرزئی حکومت کے دور میں لے چکا ہے جبکہ لیتھیم کی مائننگ کے منصوبے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ چین، روس اور پاکستان پر طالبان کی مدد کا الزام ہے جبکہ چین اور پاکستان کے آپس میں تعلقات بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اس لیے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ چین طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان کی دولت سے مستفید ہو سکتا ہے۔ وہ افغانستان سے مزید Copper, cobalt اور سونا بھی نکالنے کی منصوبہ بندی کیے بیٹھا ہے تو امریکہ کو کیا ملا۔ امریکہ کی انڈسٹری اب کیسے Survive کرے گی جبکہ چین افریکہ میں بھی معدنیات کے بڑے منصوبے شروع کر کے بیشتر افریکی ممالک کو اپنے ہاتھ میں کر چکا ہے۔دنیا کو سمجھ نہیں آرہی کہ بائیڈن نے یہ کیا کیا ہے اور یہ امریکہ کی ایک Major strategic failure ہے۔ افغانستان کو اس وقت انفرا سٹرکچر کی ضرورت ہے جبکہ چین کو بھی اپنے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کے لیے افغانستان میں انفرا سٹرکچر بلڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں کی ضرورتیں بھی ایک ہیں اور دوستی بھی۔چین کے پاس یہ قابلیت ہے کہ و ہ ایک سال میں 100 coal power plant تیار کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے اسے Raw material کی ضرورت ہے جو اب وہ افغانستان سے حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ طالبان سے کیا حاصل کر سکتا ہے۔امریکہ کی منصوبہ بندی تھی کہ اس خطے میں امن قائم نہ ہو تاکہ چین یہاں پر اپنا کام نہ کر سکے اسی لیے اس نے ایک طرف طالبان سے معاہدہ کر کے نکلنے کا منصوبہ بنا لیا تو دوسری طرف افغان فورسز کو لڑائی کے لیے نہ صرف تیار بلکہ اکساتا رہا ۔ لیکن افغانستان کے ہمسایہ ممالک نے امریکہ کی اس چال کو الٹ کے رکھ دیا۔ اب طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان میں اگر امن قائم ہوتا ہے تو چین اس سے سب سے زیادہ مستفید ہو سکتا ہے۔
دوہزار دس کی ہی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 420 ارب ڈالر مالیت کا لوہا270 ارب ڈالر مالیت کا تانبہ بھی موجود ہے۔ جبکہ افغانستان کی جی ڈی پی بارہ بلین ڈالر کے قریب ہے۔ افغانستان میں غیر قانونی کان کنی پہلے ہی زوروں پر ہے،2001 کے بعد سے افغان حکومت کو مقامی سرداروں اور وار لارڈز کی جانب سے 30 کروڑ ڈالر سالانہ کا نقصان ہو رہا تھا۔ جب امریکہ نے دوہزار ایک میں افغانستان پر حملہ کیا تو اس وقت بھی افغانستان کے صوبے لوگر میں چین ایک تانبہ کی کان میںMining کر رہا تھا۔ صرف اسی کان میں تانبہ کی مالیت کا اندازہ لگایا جائے تو وہ پچاس بلین ڈالر سے زائد ہے۔لیکن میں یہ ویڈیو کرتے ہوئے مسلسل یہ سوچ رہا ہوں کہ پاکستان کو اس کا کیا فائدہ ۔۔۔۔ طالبان کے بعد اگر کوئی دوسرا گروپ یا ملک اگر اس فتح کا کریڈٹ لینے کا مستحق ہے تو وہ پاکستان ہے۔ اگر سب کچھ چین ہی لے جائے گا تو پاکستان کو اتنی قربانیاں دینے کا کیا فائدہ ہو گا۔ پاکستان کے پاس بلوچستان میں معدنی ذخائر نکالنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے تو افغانستان میں کیا کرے گا۔ کیا پاکستان صرف اپنی راہداری، گوادر اور سی پیک سے ہی مستفید ہو پائے گا۔ کیا پاکستان معدنیات کی منڈی نہیں بن سکتا۔چین کے پاس افغانستان پہنچنے کا پاکستان کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ افغانستان سے چین کی سرحد ایک برفانی اور پہاڑی علاقہ پر ہے جہاں سفر کرنا بہت مشکل اور مہنگا پڑتاہے۔
افغانستان کے صوبہ بدخشان کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے مویشی پالتے ہیں اور وہاں تاجر ٹرکوں پر کھانے پینے کی چیزیں اور آٹا لے جاتے ہیں اور اس کے بدلے میں ان کے مویشی خرید لاتے ہیں۔ اس روٹ پر ایک چکر کم از کم پندرہ دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔ اور یہ صرف گرمیوں میں ہی ممکن ہوتا ہے۔تو پاکستان چین کے پاس واحد روستہ ہے اپنی چیزوں کو دنیا کی منڈیوں تک پہنچانے کا۔لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ہم ساری زندگی اپنی جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھانے کے علاوہ بھی کچھ کر پائیں گے۔
بہر حال افغانستان میں امن پاکستان کو سینٹرل ایشیا سمیت پورے رجن کا تجارتی مرکز بنا دے گا، پاکستان کے لیے وسطی ایشیا کا توانائی سے مالامال علاقہ بھی کھل جائے گا۔
لیکن طالبان کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ اس کے لیے امن سمیت سرمایہ کاری کے لیےPerfect
ماحول فراہم کرنا پڑے گا۔ پاکستان اور افغانستان کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن پاکستان اس کے باوجود بلوچستان کی معدنیات سے مستفید نہیں ہو پا رہا۔ افغانستان کی معدنیات بھی ایک بٹن دبانے سے باہر نہیں آجائیں گی۔ بلکہ اس کے لیے دنیا کی بہترین کمپنیوں سے بہتریں کان کنوں کی ضرورت ہو گی۔ جبکہ شفاف کنٹریکٹس اور ممالک کے ساتھ معاہدے بھی ایک بڑا امتحان ہو گا۔
جبکہ اس وقت ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ افغانستان میں امن قائم ہو چکا ہے اور طالبان نے افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان پر قبضہ کرنا آسان اور اسے MAINTAINکرنا مشکل ہے۔ افغانستان کے تمام وار لارڈز ہمسایہ ممالک میں پناہ لے چکے ہیں ان کی طاقت ابھی تک موجود ہے، اگر طالبان نے انہیں حکومت میں جائز حق دے کر قومی حکومت نہ بنائی تو افغانستان میں امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو پائے گا۔
مورنگا تحریر -محسن ریاض
مورنگا کو ایک کرشماتی پودا کہا جاتا ہے اس کو عام زبان میں سوہانجنا کہتے ہیں اس کو صدیوں سے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس کو پاکستان میں شجر کاری کرتے وقت لازمی کاشت کریں کیونکہ اس کی کئی وجوہات ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ ایک سخت جان پودا ہے اور موسم کی شدت آسانی سے برداشت کر سکتا ہے اس کے علاوہ اس کی بڑھوتری بہت تیزی کے ساتھ ہوتی ہے اور یہ ایک سال میں نو سے دس فٹ تک بڑھ سکتا ہے اس کو برسات کے موسم میں باآسانی قلم کے ذریعے اگایا جا سکتا ہے اسں کی علاوہ اس کا بیج کے ذریعے بھی زبردست اگاؤ ہے یہ کسی بھی علاقے میں نرسری پر بھی دستیاب ہوتا ہےاور یہ دودھ والے جانوروں کے لیے بھی ایک مفید غذا ہے جس کی مدد سے مقدار کو بڑھایا جا سکتا ہے اور صحت پر بھی مثبت اثرات رونما ہوتے ہیں انسانی صحت کے لیے بھی یہ بے حد مفید ہے کیونکہ اس میں پروٹین کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے اس کے علاوہ اس میں وٹامن سی اور آئرن بھی پایا جاتا ہے اس کے انسانی صحت پر فوائد بیان کریں تو اس میں سب سے پہلے یہ بلڈ شوگر کو کم کرتا ہے اس کی علاوہ اس میں اینٹی بیکٹیریل زرات ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ جلد کو محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے اس میں کیلشیم اور فاسفورس ہوتا ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے بہت مفید ہے اس کو کئی طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے جس میں سب سے مقبول طریقہ اس کا پاؤڈر کی شکل میں استعمال ہے اس طریقہ کار کے مطابق اس کو چھاؤں میں خشک کیا جاتا ہے اور اس کی بعد اس کو پیس کر پاوڈر بنایا جاتا ہے اور کھانے کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ قہوے کی شکل میں اسے استعمال کیا جاتا ہے جس میں اس کی چھال اور پتوں کو پانی میں ابال کر قہوہ بنایا جاتا ہے اس کے علاوہ اس کا جوس بھی پیا جاتا ہے اس کے پیسٹ کو چہرے پر جھریوں اور کیل مہاسوں سے بچاو کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور آجکل ایک اور طریقہ بے حد مقبول ہو رہا ہے جسے مورنگا پیسٹ کہتے ہیں اور آجکل یہ ملک کی اکثر سٹورز پر دستیاب ہوتا ہے اور آنلائن بھی آپ اسے منگوا سکتے ہیں پاکستان میں اس وقت ڈاکٹر شہزاد بسرا صاحب اس کی پروموٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور لوگوں کو اس کے فوائد بتا رہے ہیں -تاکہ اس کو زیادہ سے زیادہ کاشت کیا جاسکے اس کے علاوہ وہ اپنے یوٹیوب چینل ہیلتھی لائف سٹائل کے ذریعے بھی لوگوں کو صحث مند زندگی گزارنے کے رازبتا رہے ہیں اور وہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے پروفیسر بھی ہیں۔ڈاکٹر شہزاد بسرا صاحب نے بتایا کہ صرف چار ماہ کے استعمال سےان کا کولیسٹرول لیول اڑھائی سو سے ڈیڑھ سو پر آ گیا تھا اور اپنی چینل میں برطانیہ پلٹ شخص گلزار سے ان کی صحت میں بہتری سے متعلق چند سوال پوچھے تو ان کے جوابات یہ تھے کہ ان کی عمر اسی سال کے قریب ہے اور طرح طرح کی ادویات استعمال کر کے ان کا جگر اور گردے تقریباً ناکارہ ہو چکے تھے مگر مورنگا پاؤڈر کے استعمال کے بعد وہ ایک اچھی زندگی گزار رہے ہیں -مورنگا کے تمام فوائد تو شائد گنے نا جا سکیں مگر ان تمام فوائد کو دیکھتے ہوئے ہر انسان کو ایک بار ضرور اس کا استعمال کرنا چاہیے اس کا پہلا فائدہ تو ماحول پر ہوتا ہے اور دوسرا اس سے انسانی صحت بھی لاجواب رہتی ہے اگر ہم عہد کریں کہ شجرکاری کرتے وقت اس کو لگائیں تو ماحول دوستی کےساتھ ساتھ اور بھی کئی طرح کے فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں
ٹویٹر-mohsensays@

طالبان کو درپیش چیلنجز تحریر: ثمرہ اشفاق
15اگست بھارت کے یوم آزادی والے دن افغان طالبان باآسانی تمام صوبوں پر اپنا کنٹرول سنبھالنے کے بعد دارالحکومت قابل پہنچے۔خون ریزی اور افراتفری سے بچنے کے لئے صدارتی محل میں مذاکرات شروع ہوئے۔سابق صدر اشرف غنی یہ بھانپ چکے تھے کہ جہاں سرکاری فوج ریت کا ڈھیر ثابت ہوئی اور ہتھیار ڈال دیئے وہاں اقتدار سے الگ ہونا ہی مصلحت ہے۔اس لیئے ان سمیت تمام سرکاری عہدیداران نے ملک سے فرار اختیار کر لی۔
یوں افغانستان میں ایک بار پھر اقتدار طالبان کے حصے میں آیا۔ اقتدار سنبھالتے ہی بدلے ہوئے طالبان کے بدلے ہوئے انداز تھے۔تمام لوگوں کے لئے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے طالبان نے کسی کے خلاف بھی انتقامی کارروائی نہ کرنے کا اعلان کیا۔خواتین کو تعلیم سمیت تمام شرعی حقوق دینے کا اعلان کرتے ہوئے لوگوں سے پرامن رہنے اور بلا خوف وخطر کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
غیر ملکیوں سے سفارت خانے نہ بند کرنے اور انہیں مکمل سیکیورٹی کی یقین دہانی کروائی گئی۔
گو کہ بظاہر افغانستان میں معمولات زندگی بحال ہونے لگے لیکن طالبان کو ابھی بیشتر چیلنجز درپیش ہیں،جن میں سب سے اہم مسئلہ معاشی ہے، امریکہ جو کہ افغانستان میں شکست سے دو چار ہو کر نکل رہا ہے اس نے افغانستان کے مرکزی بینک کے ساڑھے نو ارب ڈالر یہ کہہ کر منجمد کر دیئے کہ اس رقم کی رسائی ہرگز طالبان تک نہیں ہونے دیں گے۔اس کے بعد عالمی مالیاتی ادارے یعنی آئی ایم ایف نے بھی مالی امداد یہ کہہ کر روک دی کہ طالبان کو تسلیم کرنے کے حولے سے عالمی موقف غیر واضع ہے۔اس کے بعد جرمنی نے بھی 43 کروڑ ڈالر کی امداد بند کر دی۔تاہم یورپی یونین نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد جاری رکھی ہے۔اس طرح طالبان کے لیے امداد کے بغیر معیشت چلانا ایک بڑا چیلنج ہے۔
معاشی چیلنج کے ساتھ ساتھ طالبان کے لیئے اقوام عالم کا اعتماد جیتنا اور خود کو تسلیم کروانا بھی کسی چیلنج سے کم نہیں۔گو کہ طالبان کا انداز انتہائی محتاط ہے اور وہ کہیں بھی خود پر تنقید کا موقع نہیں دینا چاہتے لیکن عالمی برادری اس حکومت کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے اور پہل کرنے سے کترا رہی ہے۔پاکستان،روس اور چین کے ساتھ سفارتی تعلقات بہتر ہونے کے باوجود ابھی تک واضح حمایت حاصل نہ ہو سکی۔
اس کے علاوہ بہت سے پڑھے لکھے اور ہنرمند افراد بھی افغانستان سے باہر یا تو جا چکے ہیں یا جانے کے انتظار میں ہیں۔جبکہ طالبان یہ اعلان کر چکے کہ اپنے ملک کی ترقی میں یہاں رہ کر کردار ادا کریں۔ان کا اعتماد حاصل کرنا بھی افغانستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔
تیسرا بڑا مسئلہ ملک میں امن و امان برقرار رکھنا ہے۔
امریکہ کے ساتھ ساتھ بھارت بھی افغانستان سے ناکام اور مایوس ہو کر نکلا ہے۔بھارت افغانستان میں سرمایہ کاری کے بہانے وہاں کی سر زمین استعمال کر کہ امریکہ،اشرف غنی اور این ڈی ایس کی معاونت سے پاکستان میں بدامنی پھیلاتا رہا ہے۔اگرچہ سفارتی بہروپیے وہاں سے نکال لئے گئے لیکن بھارت بچے کچھے جاسوسوں اور دہشت گردوں کے ذریعے افغانستان میں بدامنی کی کوشش کرے گا۔
چاہے وہ قومی پرچم کو لے افغان عوام کو شتعال دلانا ہو یا خواتین کے حقوق کے نام پر پراپیگنڈا،بھارت باز نہیں آئے گا۔
دوسری جانب امریکہ بھی اپنا اثرورسوخ آسانی سے ختم نہیں کرے گا۔اپنی شکست کے گھاؤ بھرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
جیسا کہ امریکہ نے خدشہ ظاہر کیا اور قابل ایئر پورٹ حملوں سے گونج اٹھا جس میں اب تک 183 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی اور اس کو جواز بنا کر صوبے ننگرہاری میں آج امریکہ کی جانب سے ڈرون حملا کیا گیا۔اور قابل دھماکے کے منصوبہ ساز کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔
کہتے ہیں کہ افغانستان بادشاہوں کا قبرستان ہے،اس کو فتح کرنے کے خواب دیکھنے والے بس خواب ہی دیکھتے رہ گئے۔
لیکن افغانستان مزید کسی بدامنی یا خونریزی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔پاکستان میں امن،افغانستان میں امن سے مشروط ہے۔طالبان متعدد بار یقین دہانی کروا چکے کہ اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔امید کرتے ہیں ایسا ہی ہو ۔اب افغان عوام طالبان کو تسلیم کر چکی ہے تو امید کرتے ہیں اقوام عالم بھی طالبان کو تسلیم کر کہ امن کی خاطر حکومت سازی کا موقع دیں گے۔اس خطے میں بہت خون بہہ چکا،اب چمن کو کھلنے دو۔








