Baaghi TV

Category: متفرق

  • آج کل کے نوجوانوں میں باغی پن کیوں؟ تحریر:صائمہ رحمان

    آج کل کے نوجوانوں میں باغی پن کیوں؟ تحریر:صائمہ رحمان

    جب انسان جوان ہوتا ہے تو اس وقت نوجوانوں میں قویٰ مضبوط، اور حوصلے بُلند ہوتے ہیں، ان کو سب کچھ اچھا نظر آتا ہے ان کےاندر اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی وہ دماغ سے کم اور دل سے کام لیتے ہیں ۔ وہ پہاڑوں سے ٹکرانے کے لئے پرعزم ہوتا ہے اپنی من مانی کرتے ہیں لیکن جب ان کے راستے تبدیل کیے جاتے ہیں تو ہجانی کفیت کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھراس کا رَدِعمل نظر آنے لگتا ہے جو ان کے لئے اور والدین کے لئے مسئلے کا باعث بنتا ہے نوعمروں میں ذہنی صحت کے مسائل عام سوچنے سے کہیں زیادہ عام ہیں آج کا نوجوان باغی ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں دو قسم کے نوجوان موجود ہیں ایک وہ جو امیر ہیں جواپنی موج مستی میں مست، اپنی مرضی کرتے من پسند کام کوئی روکے ٹوکنے والا نہیں دُوسرا طبقہ متوسط اور غریب نوجوانوں کا ہے جو محنت سے پڑھتے ہیں اور ایک میانہ روی اختیار کرتے ہیں اور اپنی زندگی میں متوازن رکھتے لیکن کبھی ان نوجوان کے اندر باغیانہ رویّہ اُبھارنے لگتا ہے ۔ نوجوان من چاہی خواہشات ابھرنے لگتی ہیں

    برہم ہوتے غصہ کرتے غلط قدم اٹھاتے ہیں اور اس کے بعد شدید اضطرابی کیفیت کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں جو ان کی زندگی میں بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں اور پھر بغاوت کی طرف چل بڑھتے ہیں اپنی کچھ ماہرِ نفسیات، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والےماہر سے پوچھا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ آج کا نوجوان باغی اس لئے اس کے پیچھے بہت سے بہت سے عوامل کار فرما ہیں اور ایسے حالات ہیں جو ان کو باغی بننے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
    آج کے نوجوانوں یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو لگتا ہے کہ ان کو کوئی سمجھتا نہیں، نا کوئی سنتا ہے وہ سمجھتے ہیں جو وہ کہے رہے ہیں وہ ٹھیک ہے باقی جو ان کوسمجھا رہے ہیں ان کو برا سمجھنے لگتے ہیں جسے کہ وہ ان کے دشمن ہوں۔ پھران کے اندر غصّے کے جذبات اُبھارنے لگتے ہیں، بالآخر وہ بغاوت پر اُتر ہی آتے ہیں۔ اور اپنے جذباتی قدم سے اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔

    نوجوان نسل معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں جو آںے والے یہ نوجوانوں ملک کامستقبل بننے ہیں نوجوان کسی بھی ملک کی معاشی، اقتصادی اور سماجی فلاح و بہبود و ترقّی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ جب نوجوان پڑھ لکھ کر نکلتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں کئی خواب ہوتے ہیں ہم یہ کرے گئے وہ کریں گے پہلا خواب تو اچھی ملازمت حاصل کرنے کا ہوتا ہے جس کے لیے وہ جگہ جگہ انٹرویو دیتے ہیں، کچھ جگہوں پر ناکامی دیکھنی پڑتی ہے جس کے باعث وہ فرسٹریشن اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر یہ کیفیت ان کو غلط صیحح کا فیصلہ نہیں کر پاتے اور باغی پن کا شکار ہوتے ہیں۔ نوجوانوں کی تربیت میں والدین کے ساتھ ساتھ استاتذہ بہت اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ اس عمر کے نوجوان والدین سے زیادہ اپنے استاتذہ کی سنتے اور کچھ تو اپنے استاتذہ کی عادتوں کو اپناتے ہیں اور ان کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں ۔

    والدین کو چاہییے ایسے نوجوانوں پر خاص توجہ دیں ایک طریقے سے ان ہو ہیڈل کرے جتنا ہو سکے ان عمر کے نوجوانوں کے ساتھ ٹایم گذارے تاکہ ان کو ان سیکورٹی محسوس نا ہو اور اپنی بتاوں کو شئیر کرے ان کو اپنا دوست بنائے ۔

    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • تمباکو نوشی جان لیوا .تحریر :ام سلمیٰ

    تمباکو نوشی جان لیوا .تحریر :ام سلمیٰ

    جی کئی بار ہم ایسا سنتے ہیں کے تمباکو نوشی جان لیوا ہے تو پھر لوگ اب بھی ایسا کیوں کر رہے ہیں؟
    تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں . پھر بھی یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اگر یہ بہت برا ہے تو اچھے خاصے سمجھدار لوگ ایسا کیوں کر رہے ہوتے ہیں؟ اداکار ہوں یہ سماجی لوگ فلموں میں کام کرنے والے یہ میگزینوں میں آپ ہر جگہ کچھ انتہائی خوبصورت اور باصلاحیت لوگوں کو سگریٹ نوشی کرتے دیکھتے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے ، "وہ بہت اچھے لگ رہے ہیں! یہ میرے لیے کیسے برا ہو سکتا ہے؟ ” یا "اگر میں تمباکو نوشی کرو تو شاید میں ایسا ہی لگوں ٹھیک ہے لیکن شاید ہمیں انہیں دیکھنے میں اچھا لگتا ہے لیکن انسان کے اندرونی جسم کی کہانی بالکل مختلف کہانی ہے۔

    تمباکو کے استعمال سے ہر سال 54 لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں – ہر چھ سیکنڈ میں اوسطا ایک شخص – اور دنیا بھر میں 10 میں سے ایک بالغ کی موت ہوتی ہے۔
    تمباکو تمام صارفین میں سے نصف کو ہلاک کرتا ہے۔
    دنیا میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد اس وقت تقریباََ ایک ارب سے زیادہ ہے۔
    نیکوٹین انتہائی نشہ آور ہے۔ نیکوٹین کا نشہ آور اثر تمباکو کے بڑے پیمانے پر استعمال کی بنیادی وجہ ہے۔ بہت سے تمباکو نوشی کرنے والے سگریٹ نوشی کے درد سے بچنے کے لیے سگریٹ نوشی جاری رکھتے ہیں۔ تمباکو نوشی کرنے والے اپنے رویے کو ایڈجسٹ کرتے ہیں مثلاً زیادہ گہرائی سے سانس لیتے ہوئے تاکہ جسم میں نیکوٹین کی ایک خاص سطح کو برقرار رکھا جاسکے۔
    سگریٹ نوشی کرنے والوں میں سے نصف اپنی 18 ویں سالگرہ تک باقاعدہ تمباکو نوشی کر رہے ہوتے ہیں ، اور 90 فیصد نے 21 سال کی عمر سے شروع کر دیتے ہیں.
    ہر روز 12 سے 17 سال کی عمر کے تقریبا 4 4000 بچے اپنا پہلا سگریٹ پیتے ہیں اور ان میں سے ایک اندازے کے مطابق 1300 باقاعدہ سگریٹ پینے والے بن جائیں گے۔

    نوعمری میں تمباکو کا استعمال دیگر غیر صحت بخش رویوں سے بھی وابستہ ہے ، بشمول لڑائی جھگڑوں میں ملوث ہونا ، ہتھیار اٹھانا ، اور زیادہ خطرہ جنسی رویے میں شامل ہونا۔
    تمبا کو نوشی نہ صرف آپ کے لیے سخت نقصان دہ بلکے آپ کے ساتھ جُڑے لوگو کے لیے اور آپ کے ارد گرد کے افراد کے لیے بھی سخت نقصان دہ ہے۔

    تمباکو نوشی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتی ہے اور فضا میں زہریلی آلودگی پھیلاتی ہے۔ سگریٹ کے جو ٹوٹے بچتے ہیں وہ بھی ماحول کے لیے خطرناک اس کی باقیات میں موجود زہریلے کیمیکل مٹی اور آبی گزرگاہوں میں گھس جاتے ہیں ، جس سے بالترتیب مٹی اور پانی کی آلودگی ہوتی ہے۔

    جانور اور پودے جو سگریٹ کی باقیات سے رابطے میں آتے ہیں یا زہریلے مادوں کو جذب کرتے ہیں وہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔

    اس طرح یہ نہ صرف سگریٹ کا دھواں بھی ماحول کے کے نقصان ده ہے جو لوگوں اور ماحول پر کئی طرح کے اثرات مرتب کرتا ہے بلکہ سگریٹ کی بنائی کے عمل کے دوران جاری سگریٹ ٹوٹے باقیات اور دیگر فضلہ بھی ماحول کے کے سخت نقصان دہ ہے.

    تمباکو کی صنعت اس سیارے کو نقصان پہنچا رہی ہے جس پر ہم رہتے ہیں ، ماحولیاتی نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں ، پانی ، زمین اور ہوا کو آلودہ کرتے ہیں.اور زمین کو دھکیل رھے ہیں ایک عالمی تباہی کی طرف.

    جو لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں جب انکو بتایا جاتا ہے کے ان کے لیے تمباکو نوشی ان کے نقصان دہ ہے وہ یہ سب جانتے ہوئے بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہں ہوتے.
    زیادہ تر تمباکو نوشی کرنے والے دفاعی موقف اختیار کرتے ہیں . یقینی طور پر وہ جانتے ہیں کہ تمباکو نوشی غیر صحت مند ہے لیکن اور وہ اپنے علاوہ کسی اور کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں؟ یقینی طور پر ، سگریٹ کے بارے میں کچھ بھی غیر قانونی نہیں ہے ، ٹھیک ہے؟ وہ بندوقیں نہیں ہیں لیکن ہر سال اس سے مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے

    تمباکو نوشی سے پرہیز کریں اپنے کے اپنے ساتھ جُڑے لوگوں کے لیے اور بہترین ماحول کے لیے۔
    Twitter Handle
    @aworrior888

  • افغانستان، عالمی طاقتیں اور نیا اکھاڑہ .تحریر: ارشد محمود

    افغانستان میں آخر کار وہ کام شروع ہوچکا ہے جس کا اندیشہ تھا اور میرے جیسے کچھ لوگ اس کا دبے لفظوں میں اظہار بھی کرچکے تھے ۔ آسان فتح اپنے پیچھے ہولناکی بھی لاتی ہے ۔ امریکا و دیگر عالمی طاقتوں نے جب دیکھا کہ ان کی تربیت یافتہ افغان فوج مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور پنج شیر میں بھی دوسرا گروپ حاوی ہوچکا ہے تو انھوں نے مبینہ طور پر اپنا وہ گروپ میدان میں اتار دیا ہے جس نے شام میں بالکل اس وقت اپنا آپ دکھا کر پانسہ پلٹ کر رکھ دیا تھا جب اسلام قوتیں کام یاب ہورہی تھیں ۔ وہاں پر بھی جب یہ طاقتیں ناکام ہوئیں تو انھوں نے داعش نامی بدنام زمانہ دہشت گرد جماعت کو میدان میں اتار کر مسلمانوں کے خون کو مزید ارزاں کردیا ۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ داعش تو اپنے آپ کو اسلامی جماعت گردانتے ہیں اور علی الاعلان دعویٰ بھی یہی ہوتا ہے تو عرض صرف اتنی ہے کہ آپ کا مطالعہ جہاں کم ہے وہی آپ کی غور وخوض کرنے کی قابلیت بھی قدرے کم ہی ہے ۔ بہرحال اس وقت افغانستان سے عالمی طاقتیں اپنے افراد بڑی تیزی سے نکال کر افغانستان کو ایک نیا اکھاڑہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہوچکی ہیں ۔

    خبروں کے مطابق کابل ائیرپورٹ پر 2 خودکش دھماکوں میں بچوں ، خواتیں اور 13 امریکی فوجیوں سمیت 60 کے قریب افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور اس کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی ہے ۔ معلومات کے مطابق ایک دھماکہ ایئرپورٹ کے سامنے ہوٹل کے قریب ہوا۔ ہوٹل میں زیادہ تر برطانوی اہلکار ٹھہرے ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ دوسرا دھماکہ ایئرپورٹ گیٹ کے سامنے ہوا۔ ہدف کابل ایئرپورٹ کے باہر جمع لوگ تھے۔ عرب میڈیا کے مطابق طالبان نے ایئرپورٹ کے اطراف میں سکیورٹی سخت کردی اور لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ بھی کی۔ ائیر پورٹ پر دھماکے کے بعد زخمیوں کو ریڑھیوں پر ہسپتال لے جایا گیا۔ ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ امارت اسلامیہ کابل ایئرپورٹ پر شہریوں پر بمباری کی مذمت کرتی ہے۔ دھماکے کے مقام کی سکیورٹی امریکی افواج کے ہاتھ میں تھی۔ شرپسند حلقوں کو سختی سے روکا جائے گا۔ ترجمان طالبان نے کہا کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔ کابل دھماکوں کی تحقیقات کا حکم اور خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے۔ کابل ہسپتال ایمرجنسی کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ دھماکوں کے 60 کے قریب زخمیوں کو لایا گیا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی حکام کو یقین ہے کہ ایئرپورٹ حملے میں داعش خراسان گروپ کا ہاتھ ہے۔ امریکی سینٹ حکام کمانڈر جنرل میکنزی نے کہا ہے کہ کابل دھماکوں میں 12 امریکی اہلکار ہلاک اور 15زخمی ہو گئے۔ کابل ائرپورٹ پر حملے کے باوجود انخلاء آپریشن جاری رہے گا۔ حملے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ترجمان پینٹاگون جان کربی کے مطابق کابل ایئرپورٹ کے باہر دو دھماکے ہوئے۔ کابل ائرپورٹ کے ایبے گیٹ پر دھماکہ کمپلکس اٹیک کا نتیجہ تھا۔ دھماکے میں امریکی فوجی اور عام شہری دونوں ہلاک ہوئے ہیں۔ کابل ائرپورٹ سے اڑنے والے اطالوی فوجی طیارے پر فائرنگ کی گئی۔ کوئی نقصان نہیں ہوا۔ سربراہ نیٹو نے کہا ہے کہ اتحادی افواج ترجیحی بنیادوں پر کابل سے انخلاء کا عمل جاری رکھیں۔ پاکستان نے کل ایئرپورٹ دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے۔ متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہیں۔ بچوں سمیت قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی اطلاع ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا کابل دھماکوں میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار بچوں سمیت دیگر افراد کی جان لئے جانے کے دلخراش واقعہ پر بے حد افسوس ہے۔ قائد حزب اختلاف کا متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ طالبان حکام نے داعش کی طرف سے ایئرپورٹ کے علاقے میں خودکش حملوں کا خطرہ ظاہر کیا تھا۔ علاوہ ازیں ڈیڈ لائن ختم ہونے میں 5 روز باقی، افغانستان سے امریکی انخلا میں تیزی آگئی، 24 گھنٹے کے دوران 19 ہزار افراد کو نکال لیا گیا۔ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا نے افغانستان میں موجود اپنے شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ کابل کے ہوائی اڈے پر دہشت گرد حملے کے خطرے کے پیش نظر وہاں جانے سے گریز کریں۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ طالبان نے 31 اگست کو انخلا کی آخری تاریخ کے بعد بھی امریکی شہریوں اور خطرے سے دوچار افغانوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق ترک فضائیہ نے اپنے 345 فوجیوں کو اسلام آباد منتقل کیا۔ قندھار ایئرپورٹ بین الاقوامی پروازوں کیلئے کھول دیا گیا۔ غیرملکی پاسپورٹوں پر طالبان نے اسلامی امارات کی مہر لگائی۔ فرانس اور نیدرلینڈز کابل ایئرپورٹ سے اپنے شہریوں کے انخلاء کا آپریشن آج بند کردیں گے۔ بیلجیم نے اپنے تمام شہریوں کو افغانستان سے نکال لیا۔ حکومت بیلجیم نے کہا ہے کہ بدھ کو آخری 5 فلائٹس کابل اور اسلام آباد کے درمیان چلائی گئیں۔ یورپین کمشن نے کہا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو مہاجرین کیلئے سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ پاکستان سے بات چیت مہاجرین کی ممکنہ آمد کی تیاری کیلئے ہے۔رات گئے امریکی کماندر نے تصدیق کی ایئرپورٹ پر ہونے والے دونوں دھماکے خودکش تھے۔

    یہ ایک پہلا قدم ہے جو داعش کے نام پر اٹھایا گیا ہے ۔ اس کے بعد تسلسل سے یہ کام ہوتا رہے گا ۔ عالمی طاقتیں اس وقت کوشش میں ہیں کہ ان کے افراد زیادہ سے زیادہ افغانستان سے نکل سکیں ۔ یاد رہے کہ مکمل نہیں نکالے جائیں گے بلکہ چند ایک گم نام و غیر معروف افراد کو رہنے دیا جائے گا اور پھر آنے والے دنوں میں اسی طرح کے خود کش دھماکے ہوں گے اور طالبان کی شکل و صورت اختیار کرکے گھناؤنا کھیل کھیل کر انھیں بدنام کیا جاے گا۔ یہ ان کا پرانا وتیرہ ہے ۔ پاکستان پر پھر سے ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوچکی ہے ۔ اسے جہاں پاکستانی سرحدوں کو محفوظ رکھنا ہے وہی پر افغانستان میں داعش کو پاوں جمانے نہ دینا بھی اس کا سردرد ہوگا ۔ افغانستان میں داعش کا مطلب ہے کہ بھارت اسرائیل و امریکا ہمیں پھر سے گھیر کر بیٹھ جائیں ۔ کشمیر میں بھی تحریک آزادی کو اس سے دھچکا لگ سکتا ہے ۔ یہ میرا اپنا تجزیہ اور خیالات ہیں جو میں اپنی معلومات کے سہارے الفاظ میں ڈھال رہا ہوں ۔ داعش اور دیگر گروہوں کو طالبان کی حکومت کے خلاف استعمال کیا جاے گا اور ایک لمبی پراکسی وار کا کام شروع ہوگا ۔ طاقتوں کا پلڑا بے شک طالبان کا بھاری ہوگا لیکن اندرون خانہ حمایت دیگر گروہوں کی بھی ہوگی ۔ اس سب میں طالبان کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ انھیں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا اور احتیاط سے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اپنے پتے واضح کرنے ہوں گے۔ ایک بڑی اور لمبی جنگ پھر سے افغانستان کے دروازے پر کھڑی ہے جس میں افغانیوں کو ہی افغانیوں سے لڑوا کر اپنے مفادات کو سمیٹا جاے گا اور مزید ہولناکی کے لیے داعش کو بھی داخل کردیا گیا ہے ۔

  • آزادی ،تحریر:ارم شہزادی

    آزادی ،تحریر:ارم شہزادی

    لفظ آزادی بے پناہ وسعت رکھتا ہے اور آزادی کی تعریف زمانہ قدیم سے لے کر زمانہ جدید تک مختلف افکار کے مطابق مختلف رہی۔ آزادی کہتے کسے ہیں؟ آج کا یہ اہم موضوع ہونا چاہیئے تھا لیکن بدقسمتی سے اس پر اس طرح کام نہیں ہورہا جس کی وجہ سے معاشرہ بجائے محفوظ ہونے کے انتشار کا شکار ہے۔ کیا آزادی کا مطلب مدر پدر آزادی ہے؟ کیا آزادی دین سے بیزاری کا نام ہے؟ کیا آزادی کا مطلب اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی کی جان مال کو غصب کرنے کا نام ہے یا پھر آزادی معاشرے میں رہتے ہوئے جیو اور جینے دو کی پالیسی کا نام ہے؟ ہم مسلمان ہیں اور بحثیت مسلم ہمارے ہاں آزادی کا تصور زرا مختلف ہے لیکن یہاں دیکھیں گے کہ مغرب آزادی کی تعریف کیسے کرتا ہے؟ اسکے قدیم اور جدید مفکرین کیسے بیان کرتےہیں؟
    ہیگل مغربی مفکرین میں ایک اہم نام سمجھا جاتا ہے۔ وہ آزادی کے متعلق لکھتا ہے "دنیا کی تاریخ سوائےاس امر کے اور کسی واقعہ سے بھرپور نہیں کہ انسان ارتقائی لحاظ آزادی کے تحفظ میں مسلسل کوشش جاری رکھی اور وہ آج تک تحفظ آزادی کے لیے سرکرداں ہے، البتہ آزادی کی نوعیت میں فرق ضرور پڑتا رہا ہے۔ کبھی یہ آزادی زاتی نوعیت کی رہی کبھی مجموعی نوعیت کی، کبھی شخصی حکومت کی آزادی کا تحفظ رہا ہے، کبھی جمہوری طرز کا بچاؤ ہوتا رہا ہے۔ بہرحال حقوق کے تحفظ کی آزادی کی بنا پر تاریخ ارتقائی مراحل طے کرتی رہی ہے۔ جہاں تک مشرقی اقوام کا تعلق ہے انکے زہن میں انفرادی آزادی، سماجی آزادی کے علاوہ روحانی آزادی بھی سمائی رہی ہے۔” ہیگل کے نزدیک فرد کی آذادی کی ضامن صرف ریاست ہے ۔اگر فرد کو ریاست کی پشت پناہی حاصل نا ہو تو فرد کی آزادی کیا اسکی جان مال کو بھی خطرہ ہے۔اسکا مطلب ہیگل انسان کی انفرادی آزادی کے ساتھ اسکی قومی آزادی کا خواہاں ہے۔اسکے نزدیک انفرادی آزادی کا راز رائج الوقت قوانین کی اطاعت اور اپنے حقوق کی اسانی سے جڑا ہے۔ ایسے حقوق جن کی بنیاد خوش اخلاقی پر قائم ہو۔اخلاقی قدروں کے تقاضے کے مطابق اگر کوئی فرد کچھ وقت کے لیے ریاست کے دوسرے حصے یا دوسری ریاست چلا جاتا ہے تو بھی اپنی ریاست کے قوانین کی پاسداری اسکے فرائض میں ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو دوسری ریاست بھی اسکی عزت کرےگی اسکے وقار میں اضافہ ہوگا۔ کیا اجکل ایسا ہورہا ہے؟ کیا آزادی کا یہ کانسیپٹ متصادم نہیں ہے موجودہ دور کے لفظ آزادی کی تشریح میں؟ ایک اور مغربی مفکر ہےفشے (Fachte) کا کہنا بھی یہی ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف ریاستوں میں رہنے والے لوگوں کے مزاج اطوار مختلف ہیں اور اس اختلاف نے انفرادی آزادی کی مختلف اقسام کو جنم دیا۔اور اسی لیے دنیا میں ثقافت کے بھی کہئ رنگ ہوتے ہیں۔جو بالآخر افراد کی نفسیات، خیالات، اور مطمع ہائے نظر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔فرد بنیادی طور پر اطاعت کے لیے پیدا ہوا ہے چاہے یہ اطاعت ریاست کی ہو، یا مقتدر اعلیٰ کی، اخلاقی نوعیت کی ہو یا روحانی۔ ہرفرد کو اطاعت شعار ہونا پڑتا ہے، لیکن اس اطاعت کے باوجود اسکے کچھ حقوق ہیں، ان حقوق کا آسانی سے حاصل ہوجانا آزادی کی دلیل ہے۔کسی بھی فرد کو حقوق اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتے جب تک اسکا تعلق براہ راست کسی ریاست سے نہیں ہوتا۔

    ایک اور مفکر جان سٹورٹ مل ہے ۔اسکا نظریہ آزادی تھوڑا مختلف ہے ہیگ اور فشے سے یہ شخصی آزادی کو اہمیت زیادہ دیتا ہے ریاست کے اختیارات محدود کرتا ہے یہ کہتا ہے کہ ریاست اس وقت دخل دے سکتی ہے جب کسی دوسرے کے مفاد عامہ کو نقصان ہو۔ ورنہ شخص جہاں چاہے جائے جو مرضی کرے کسی کو حق نہیں کہ وہ اسکی آزادی کو سلب کرے اگر یہ بات مان لی جائے تو بات وہی ہے جو اس سے پہلے والے مفکرین کر چکے کہ آزادی کا مطلب دوسروں کو روند دینے کا نہیں بلکہ اخلاقی اقدار اپناتے ہوئے معاشرے میں امن قائم کرنا ہے۔ مل ایک قدم اگے ضرور بڑھتا ہے وہ خواتین. کی آزادی کو بھی شامل کرتا ہے۔ وہ خواتین کو تمام حقوق مردوں کے برابر نا سہی لیکن کچھ حقوق ضرور ملنے چاہیئں۔ مل کا خیال ہے فرد کو نجی ملکیت کا حق ہونا چاہیئے کیونکہ نجی املاک افرادمعاشرہ کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    ٹامس ہل گرین آزادی کا مداح ہے لیکن ساتھ وہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ فرد کے جو دل میں آئے وہی کرتا پھرے چاہے اس سے دوسرے کو نقصان ہی کیوں نا پہنچے بلکہ وہ آزادی کو کی حد مقرر کرنے پر زور دیتا ہے۔آزادی اسی وقت تک مستحسن ہوسکتی ہے جب وہ کسی دوسرے کے نقصان کا موجب نا بنے۔ اسک کہنا ہے کہ آزادی کا مطلب. معاشرے کی فلاح ہے ناکہ مزاحمت۔ ایک اور مفکر ہر برٹ اسپنسر ہے کا کہنا ہے۔”ہرایک انسان اپنی مرضی اور عمل میں ازاد ہے، بشرطیکہ وہ دوسرے انسانوں کی آزادی پر دست درازی نا کرے جو اسی کی طرح انہیں حاصل ہے۔”ان تمام مفکرین کی اراء میں بھی کہیں ازادی کا مطلب دوسروں کو تہس نہس کرنا نہیں بلکہ آزادی کوریاست کے تابع کرنا ہے دوسروں کی آزادی کا اتنا ہی خیال رکھنا ہے جتنا کہ اپنی آزادی پھر یہاں کیوں لوگ چند دنیوی فائدے کے لیے ملکی اقدار کو داؤ پے لگا دیتے ہیں کیسے وہ اسائلم کے لیے یا روپے پیسے کے لیے ملکی اداروں کی ساکھ داؤ پے لگا دیتے ہیں؟ ریاست زمہ دار ہے اپکی تو کیوں اسکے خلاف برسرپیکار ہیں؟ اپنی ریاست یا اپنا ملک اپکی پہچان ہے اسکے نام کو وقار کو داؤ پے لگاؤگے تو عزت خود بھی کہیں نہیں پاؤگے۔ شخصی آزادی یا اجتماعی آزادی ہو ریاست سے وفاداری کا تقاضا کرتی ہے۔ اللہ پاک ہمیں ہمارے ملک کے ساتھ وفادار رہنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ امین
    جزاک اللہ
    تحریر تحقیق ارم رائے

  • مستحکم افغانستان کے لئے مربوط کوششوں کی ضرورت .تحریر: محمد مستنصر

    مستحکم افغانستان کے لئے مربوط کوششوں کی ضرورت .تحریر: محمد مستنصر

    افغان طالبان نے حیرت انگیز فتوحات حاصل کرتے ہوئے 15 اگست کے روز چند گھنٹوں میں کابل کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے تخت افغانستان پر اپنی عملداری قائم کرلی، دنیا نے اس بار افغان طالبان کی ایک نئی شکل و صورت اور حکمت عملی کا بھی مشاہدہ کیا کہ کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے کوئی قتل عام کیا ناں ہی سرکاری و نجی املاک کو کسی قسم کا نقصان پہنچایا تاہم اب بھی بہت سارے سوالات کے جوابات تلاش کرنا باقی ہیں کیونکہ تاریخ کبھی بھی صرف رونما ہونے والے واقعات کا مجموعہ نہیں ہوا کرتی بلکہ پیش آنے والے واقعات کے درپردہ محرکات اور ان کے پیچھے کارفرما سوچ تک بذریعہ سوال و جواب ہی پہنچا جاتا ہے۔ بنیادی نقطہ یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حالیہ فتوحات نے امریکا کی ناں صرف افغانستان بلکہ جنوب ایشیائی خطے میں ناکام پالیسیوں پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ دنیا کی سپرپاور بننے کے جنون میں مبتلا امریکا کی ان ناکام پالیسیوں سے کئی انسانی المیے جنم لے سکتے ہیں تاہم اگر چین اور پاکستان مربوط کوششیں کریں تو اس سے ایک نیا افغانستان ابھر کر سامنے آئے گا جو ناں صرف چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی کامیابی میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں ماہرین کی طرف سے یہ سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ افغانستان کے نئے حکومتی سیٹ اپ کے قیام کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا؟ بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے لئے کیا منصوبہ بندی کی جائے گی؟ کیا مستقل بنیادوں پر خواتین اور اقلیتوں کے تحفظ کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے؟

    کیا طالبات کو تعلیم اور خواتین کے لئے ملازمتوں کے مواقع بحال رکھے جائیں گے؟ دنیا بھر کی حکومتوں، بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کی نظریں افغانستان اور طالبان کی حکمت عملی پر مرکوز ہیں۔ مہذب اور ترقی یافتہ دنیا میں بسنے والے افغان طالبان سے وہ سب کچھ چاہتے ہیں جو ترقی پذیر ممالک کی اکثریت میں عوام کو میسر نہیں تاہم بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی جیسا کہ خواتین کو ملازمتوں میں مناسب نمائندگی دینا، بچیوں کو تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنا اور اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے جیسے اقدامات ممکن ہیں اور یقینی طور پر افغان طالبان اپنے وعدوں اور ارادوں کو پورا کریں گے جس کے لئے افغان طالبان پر حامی ممالک کی طرف سے دبائو بھی ہے۔ اس حقیقت میں تو اب کوئی دو رائے نہیں کہ افغان طالبان افغانستان کے کونے کونے میں پھیل چکے ہیں اور صرف کابل یا کسی مخصوص علاقے میں افغان طالبان نے فتح حاصل نہیں کی بلکہ وسطی افغانستان کی طرح دوردراز علاقوں میں بھی اپنی عملداری قائم کر لی ہے تاہم دور دراز دیہی علاقوں میں قانون ہاتھ میں لینے کے جو واقعات رپورٹ ہوئے ان پر بھی طالبان قیادت کو سنجیدگی سے سر جوڑنا ہوگا کیونکہ طالبان کی قیادت و سیاست کا امتحان ابھی ختم نہیں بلکہ شروع ہوا ہے اور انہیں افغانستان اور افغان باشندوں سے اپنی محبت کے ساتھ اپنی اہلیت کا بھی عملی نمونہ پیش کرنا ہے

    جسے ایک نئی آزمائش اور نئی گیم کے آغاز کے طور پر دیکھا جانا چاہئے اور اس سلسلے میں مغربی دنیا کو بھی اپنا مثبت رول ادا کرتے ہوئے افغان طالبان کی سرپرستی اور قیادت میں بننے والے نئے حکومتی سیٹ اپ کو بھرپور انداز میں سپورٹ کرنا ہوگا تاکہ دو دہائیوں پر محیط حالیہ خانہ جنگی کے بعد افغانستان امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے اور سالہا سال سے مہاجرین کی زندگی بسر کرنے والے افغان باشندے ایک پرامن اور خوشحال افغانستان میں زندگی بسر کر سکیں۔

  • ڈاک، سندیسا، پوسٹ ،تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    ڈاک، سندیسا، پوسٹ ،تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    ماضی میں ہم نے ایک گانا سنا تھا جو جاوید اختر نے لکھا تھا جس کے الفاظ تھے
    ؎ سندیسے آتے ہیں ہمیں تڑپاتے ہیں
    جوچٹھی آتی ہے، وہ پوچھے جاتی ہے
    سندیسا اصل میں سنسکرت کے لفظ سندیش سے ہے جو کہ پراکرت میں آکر سندیس ہوگیااور اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے اس سے مرادپیغام، خبر اور اطلاع ہے۔چٹھی جو کہ سنسکرت زبان کے”چتر”اور”اکا“ سے ماخوذ ہے۔چٹ،پرچی،خط، مراسلہ،رقعہ،پتر،مکتوب،سندکارگزاری،اجازت نامہ، پاس، پرمٹ اور لیبل جیسے الفاظ چٹھی کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔کسی دور میں جب کسی کے گھر چٹھی آتی تھی تو غمی اور خوشی کے ملے جلے جذبات دیکھنے کو ملتے تھے اور جب تک وہ چٹھی پڑھا ئی نہیں جاتی تھی سکون نصیب نہیں ہوتا تھا۔ ایسے میں اکثر وبیشتر چٹھی رساں ہی چٹھی کو پڑھنے کا فریضہ سرانجام بھی دیا کرتا تھا کہ اس دور میں پورے گاؤں میں یا تو امام مسجد پڑھ سکتا تھا یا پھر اسکول کا استاد۔چٹھی سے ہی چٹھی بہی لفظ بنا جس سے مراد خطوط کی آمد وروانگی درج کرنے والا رجسٹر ہوتا ہے، چٹھی چپاتی یا پتر بھی ہے جس سے مرادلکھت پڑھت ہوتا ہے،چٹھی سند بھی لفظ تھا جس سے مرادصداقت نامہ یا انگریزی لفظ سرٹیفیکیٹ ہے اور چٹھی کا کھیل بھی ہے جس کا مطلب قرعہ اندازی اور لاٹری سمجھ لیجیے۔ایک کہاوت بھی ذہن کے کسی گوشے میں موجود ہے ”چٹھی نہ پروانہ مار کھائیں ملک بیگانہ (حکومت کی بدانتظامی سے بدمعاش خواہ مخواہ لوگوں کو لوٹتے پھرتے ہیں)۔اس کہاوت کو اپنی حکومت پر نہ رکھ چھوڑئیے گا کیوں کہ اپنا ملک تو سفید ہاتھی ہے جس کو ماسواے معدودے لوگوں کے اکثرنے شروعات سے ہی لوٹنا شروع کردیا تھا اور لوٹ بھی وہی رہے ہیں جنھوں نے قوانین پر عمل درآمد کروانا تھا۔چھوٹے موٹے راہ زن تو اپنی راہ ہی کھوٹی کررہے ہیں کیوں کہ چند پیسوں کی خاطر وہ دنیا کے بھی مجرم بن رہے ہیں اورآخرت کے بھی۔ملکی خزانے لوٹنے والے تو عیش وعشرت سے زندگی گزار رہے ہیں اور ہزاروں لوٹنے والا پولیس کے ہاتھوں سرراہ مبینہ مقابلے میں مارا جارہا ہے۔ملکی خزانوں کو لوٹنے والوں کا معاملہ روزآخرت پر رکھتے ہیں۔آپ اظہر نیر کا شعر ملاحظہ کیجیے
    ؎تھی اس کی بند مٹھی میں چٹھی دبی ہوئی
    جو شخص تھا ٹرین کے نیچے کٹا ہوا
    ڈاک خانہ ہماری زبان میں اس طرح سے آیا ہے کہ آج بھی اسے سنا، پڑھا اور سمجھا جاسکتا ہے اگرچہ اس کے متبادل پوسٹ آفس لفظ زیادہ مستعمل ہے۔لفظ ”ڈاک“ پراکرت کے لفظ ”ڈک“ سے نکلا ہے جس کے مترادف الفاظ سلسلہ،برید،تسلسل،تواتر،پوسٹ،چوکی اور متلی وغیرہ ہیں۔ڈاک کا مطلب خط وغیرہ موصول اور روانہ کرنے کا نظام ہے۔چٹھیوں کے تھیلے کو بھی ڈاک کہا جاتا ہے۔جابجا سواری کا نظام مراد گھوڑوں یا پالکی کی چوکی جو سڑک پر مسافروں وغیرہ کولے جانے کے لیے کی جاے۔ویسے لفظ ڈاک سے مراد بندرگاہ کا ایک حصہ بھی ہے جہاں جہاز آکر ٹھہرتے ہیں۔
    ؎کیا لکھوں حال تباہ اپنا کہ سودا وہ جو لوگ
    چاہتے تھے یہ دن ان کے یاں سے واں تک ڈاک ہے
    ڈاک سے بواپسی ڈاک بھی بنایا گیا جس سے مراد خط ملتے ہی یاپہلی ڈاک سے ہے۔ محکمہ ڈاک، محصول ڈاک،ڈاک ایڈیشن،،ڈاک بجلی(ٹیلی گراف)،ڈاک بہنگی، ڈاک پالکی، ڈاک پرچی اور ڈاک چوکی وغیرہ جیسے الفاظ اسی ڈاک سے جوڑ کر بناے گئے ہیں۔ پراکرت کے اسی لفظ ڈاک کے ساتھ فارسی کا خانہ لگاکر ڈاک خانہ بنایاگیا جو کہ یہاں پر ظرفیت کا معنی دیتا ہے جیسے باورچی خانہ، شراب خانہ ویسے ایک لفظ ڈاک گھر بھی موجود ہے جوکہ پراکرت کے دو لفظوں ”ڈاک“ اور ”گھر“ کو ملا کربنایا گیا ہے۔شیخ محمد عبداللہ کی سوانح عمری ”آتش چنار“کے صفحہ نمبر 391پر لکھا ہوا ہے ”پاکستان کے قیام پر سری نگر کے ڈاک خانہ پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا گیا“۔اب آئیے لفظ پوسٹ آفس کی طرف جو کہ دو لفظوں پوسٹ اورآفس سے مل کر بنا ہے۔لفظ Post کا مطلب کھمبا، ستون،کھونٹا،عہدہ، اسامی،تقرراورڈاک کا نظام وغیرہ ہے۔پوسٹ آفس کو عربی میں مکتب البرید،ترکی میں Postane اور فارسی میں ادارہ پست کہتے ہیں۔میری معلومات کے مطابق پوسٹ آفس کا لفظ پہلی بار اردو میں معرکہ چکبست و شرر میں ملتا ہے۔اسی سے پھر ڈاکیا پوسٹ مین بن گیا۔ لفظ پوسٹ لاطینی زبان میں بطور سابقہ اور بہ معنی پیچھے یا مابعد کے بھی مستعمل ہے جیسے پوسٹ گریجوایٹ اور اب اگر پوسٹ مارٹم پر غور کیا جاے تو معلوم ہوگا کہ مرنے کے بعد نعش کے طبی معائنہ یا تجزیہ کرنے کو پوسٹ مارٹم کہتے ہیں۔مارٹم بھی لاطینی زبان سے ہی انگریزی میں آیاہے۔پوسٹ باکس،پوسٹ بواے،پوسٹ بیگ،پوسٹ پارسل،پوسٹ کارڈ اورپوسٹ ماسٹرجیسی ان گنت اصطلاحات اب ہمارے ہاں موجود ہیں۔اردو زبان کی یہی خوبی ہے جو اسے بین الاقوامی زبانوں کے درمیان لاکھڑا کرتی ہے کہ یہ زبان مختلف زبانوں کے لفظوں کو اس قدر خوب صورتی سے اپنے اندر سموتی ہے کہ وہ لفظ اس کا حصہ بن کر رہ جاتا ہے۔

  • آخر پولیس بھی تو ہماری ہے تحریر : سیف الرحمان

    آخر پولیس بھی تو ہماری ہے تحریر : سیف الرحمان

    کسی بھی معاشرے کو سدھانے کیلئے مختلف قوانین بنائے جاتے ہیں۔ ان قوانین کا مقصد معاشرے میں موجود جرائم کو روکنا اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل ہوتا ہے۔ یہ قوانین ہمارے منتخب ارکان اسمبلی پارلیمنٹ میں بیٹھ بناتے ہیں۔ جب کوئی بھی قانون متفقہ طور پر یا اکثریت رائے سے منظور ہو جاتا ہے تو اس کی پاسداری ملک میں رہنے والے تمام افراد پر لازم ہو جاتی ہے ۔ قانون کی عمل داری یا آپ کہہ سکتے ہیں کہ ریاست کی رٹ کو بحال رکھنے کیلئے دنیا بھر میں ایک منعظم نظام رائج ہے۔ اس نظام میں مختلف سکیورٹی اور سو لین ادارے کام کرتے ہیں۔ ان تمام اداروں میں ایک ادارہ پولیس کا بھی ہے۔
    پولیس ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے وہ عزت و احترام حاصل نہیں کر سکی جس کی وہ مستحق ہوتی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں ایک وجہ پولیس رشوت کے نام پر غنڈہ گردی ہے۔ اب یہاں سوال بنتا ہے کہ رشوت کے نام پر کرپشن تو ہر ادارے میں ہو رہی ہے لیکن پھر پولیس ہی ذیادہ بدنام کیوں؟
    آپ سیاستدانوں کو دیکھ لیں کتنی کرپشن کر رہے ہیں۔ آپ ججز کی مثالیں دیکھ لیں۔ آپ اعلی بیوروکریسی کو دیکھ لیں۔ کرپشن اور رشوت خوری تو ہر جگہ کسی نا کسی شکل میں موجود ہے لیکن ان تمام کے جرائم کو لے کر سارے ادارے کو بدنام تو نہیں کیا جاتا جبکہ پولیس میں چند گنتی کے لوگوں کی وجہ سے ساری پولیس فورس کو ہی کیوں مشکوک نظر وں سے دیکھا جاتا ہے؟
    پولیس پر عوام کا عدم اعتمام کسی ایک صوبہ یا کسی ایک شہر تک محدود نہیں ۔ یہ سارے ملک میں ایک جیسا ہے۔اس کی ایک وجہ جو مجھے سمجھ آئی شاہد سیاستدانوں کا پولیس جیسے پروفیشنل ادارے پر اثررسوخ ہو سکتا ہے یا پھر میرٹ کی بجائے سفارشی کلچر بھی اسکی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔
    اگر چاروں صوبوں کی پولیس کو ہم الگ الگ درجہ بندی یا کارکردگی کی بنیاد پر پرکھیں تو اس حساب سے پختون خواہ کی پولیس نے پہلے کی نسبت عوام میں اپنی کھوئی ہوئی ساخت کافی حد تک بحال کی ہے۔ اس کا سارا کریٹ مرحوم IGKPKناصر دورانی اور سابقہ وزیر اعلی پختون خواہ پرویز خٹک صاحب کو جاتا ہے ۔ پختون خواہ پولیس اس وقت چاروں صوبوں کی پولیس کیلئے رول ماڈل ہے۔ گو کہ ابھی بھی وہ معیار نہیں جس کو ہم جدید تقاضوں سے لیس کہہ سکیں بہرحال رشوت خوری اور غنڈا گردی کے اعتبار سے کافی بہتری آئی ہے۔
    اگر ہم پنجاب پولیس کو دیکھیں اس میں کافی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ پنجاب پولیس کوسابقہ حکمرانوں نے مخالفین کے منہ بند کروانے اور مخالفین کو ماورائے عدالت قتل کروانے کیلئے بہت استعمال کیا۔ ان اقدام نے پنجاب پولیس کو بطور ادارہ بہت نقصان پہنچایا۔آپ 2014 ماڈل ٹاؤن واقعہ ہی دیکھ لیں۔جس طرح حاملہ خواتین کو گولیاں ماری گئی دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس واقعہ کو مکمل سیاسی سرپرستی حاصل تھی۔ ایسے واقعات اداروں کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔
    اس وقت پنجاب حکومت کو پنجاب پولیس میں بہتری کاچیلنج درپیش ہے ۔ کیونکہ تحریک انصاف کے منشور میں عدل وانصاف اور اداروں کو سیاسی اثرورسوخ سے آذا کرنا تھا۔ پنجاب پولیس رشوت خوری ۔غنڈا گردی۔ ماورائے عدالت قتل اور سیاسی اثر رسوخ کی وجہ سے بہت بدنام ہو چکی۔یہ اقدام شاہد %10فیصد لوگ کرتے ہوں گے لیکن انکی وجہ سے ساری پنجاب پولیس کو لوگ مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں۔ بزدار حکومت اگر اس چیلنج سے نکل گئی تو تاریخ ان کو سنہرے حروف میں یاد رکھے گی۔ آئی جی پنجاب پولیس کی بہتری کیلئے دن رات محنت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ کافی حد تک بہتری نظر آ بھی رہی ہے۔ جس کی مثال حالیہ دنوں میں مینار پاکستان کا واقعہ ہو یا رکشہ میں بیٹھی مسافر خواتین سے بدسلوکی پنحاب پولیس نے چند گھنٹوں میں انتہائی مہارت اور پروفیشنل طریقہ سے جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا جس پر وہ شاباش کی مستحق ہے۔
    اگر سندھ پولیس کو دیکھا جائے تو ایک ہی بات ذہین میں آتی ہے بھتہ اورسیاسی غلام اور رشوت خور۔ میرا کئی بار کراچی آنا جانا ہوا۔ یقین کریں وہاں پہنج کر اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگتا ہوں۔ آپ راؤ انوار کا کیس دیکھ لیں کیسے بے دردی سے اس نے نقیبﷲ مصود کو قتل کیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق 2011سے 2018کے بھیچ راؤ انوار نے تقریبا 444لوگوں کا encounterکیا تھا۔ اب آپ خود اندازہ لگا لیں اس بندے کی وجہ سے سندھ پولیس کتنی بدنام ہوئی ہے۔
    سندھ پولیس سیاسی اثر رسوخ کے زیر اعتاب سمجھی جاتی ہے۔ میرٹ کا فقدان اور سیاسی قیادت کی شہانہ طرز حکمرانی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ سندھ پولیس کو معیاری پولیس نابننے دینے کی ایک بڑی وجہ کرپشن ہے۔ سندھ میں پولیس جیسے ادارے کو جان بوجھ کر مفلوج رکھا جا رہا ہے۔ یہاں سندھ پولیس کی بجائے سیاسی قیادت کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ہو گا۔ جب تک سندھ حکومت پولیس کو ٹھیک نہیں ہونے دے گی یہ ممکن ہی نہیں کوئی اعلی افسر اسے ٹھیک کر سکے۔
    اسلام آباد پولیس اس وقت دور جدید کے تقاضوں کو پورا کرتی نظر آتی ہے۔ بعض لوگ انکے معیار پر بھی انگلیاں اٹھاتے نظر آتے ہیں لیکن کیپٹل پولیس عالمی معیار اور دور جدید کے تقاضوں کو پورا کرتی نظر آتی ہے اور اسکی ایک اہم وجہ پولیس فورس میں میرٹ اور پڑھے لکھے جوانوں کی شمولیت ہے۔ چند عرصہ پہلے حکومت نے اسلام آباد پولیس کی یونیفارم میں خفیہ کیمرے لگانے کا کہا تھا ۔ اگر یہی معیار سارے پاکستان میں رکھا جائے تو انشاءاﷲ ہماری ساری پولیس بہتر ہو سکتی ہے۔ اگر میرٹ پر بھرتیاں اور پڑھے لکھے لوگوں کو پولیس فورس میں لایا جائے۔ جدید تقاضوں کو دیکھتے ہوئے انکی ضروریات کو پورا کیا جائے۔ اعلی معیار کی ٹرینگ دی جائے۔ پرانے تھانہ کچہری کلچر کو بلکل ختم کیا جائے اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق FIRسے لے کر کیس کے میرٹ تک ٹریس ایبل بنایا جائے تو کوئی شک نہیں ہماری پولیسنگ کا معیار عالمی معیار جیسا بن جائے۔ اس سارے پراسس میں حکومت وقت کا بہت اہم رول ہے۔
    یہاں ان شہداء کو سلام پیش نا کرنا بھی ذیادتی ہو گی جنہوں نے فرائض کی ادائیگی میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ا ﷲ تعالی انکی مغفرت فرمائے اور ان سب کے اہل خانہ کو صبرو جمیل عطا فرمائے۔ آمین
    آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ اگر پولیس اور عوام کے بھیچ فاصلے کم کرنے ہیں تو پولیس کو اپنا رویہ بدلنا ہو گا۔ دوستانہ ماحول میں عوام سے بات کرنی پڑے گی۔ عوام کو احساس دلانا ہو گا کہ پولیس ان کی محافظ ہے دشمن نہیں۔ پولیس کا اولین کام بھی عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔ عوام کو بھی اپنے محافظوں کی عزت کرنی چاہئے۔ ان کے لئے بھی میڈیا کوریج اور سرکاری سطح پر انعامات دینے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ ہر سال ایک دن پولیس کے نام سے قومی سطح پر منایا جائے۔ سکولوں کالجوں میں پولیس بارے بچوں کو بتایا جائے۔ شہداء کی فیملیز کو آنر کیا جائے۔ ان کو بھی معاشرے میں اسی عزت و احترام سے ملا جائے جیسا باقی اداروں کیلئے ہم رکھتے ہیں۔ کیونکہ آخر پولیس بھی تو اپنی ہی ہے۔
    شہد تم سے یہ کہہ رہے ہیں____لہو ہمارا بھلا نا دینا
    قسم ہے تم کو اے سرفروشوں___لہو ہمارا بھلا نا دینا
    وضو ہم اپنے لہو سے کر کے___خدا کے ہاں سرخروں ہیں ٹھہرے
    ہم عہد اپنا نباہ چلے ہیں________تم عہد اپنا بھلا نا دینا
    @saif__says

  • دنیا کی سب سے چھوٹی "گائے رانی” چل بسی

    دنیا کی سب سے چھوٹی "گائے رانی” چل بسی

    ڈھاکہ: سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دنیا کی سب سے چھوٹی گائے چل بسی۔

    باغی ٹی وی :مختلف نیوز پورٹل ، سوشل میڈیا پوسٹس اور ساور میں لائیو سٹاک آفس نے کہا ہے کہ رانی ، جسے اس کے مالکان نے دنیا کی سب سے چھوٹی گائے ہونے کا دعویٰ کیا ہے ، ڈھاکا کے ساور صوبے میں فوت ہو گئی ہے۔

    صوبہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ لائیو سٹاک آفیسر عبدالمطلب نے اس کی موت کی خبر کی تصدیق کی کہا کہ "مویشی دو دن پہلے بیمار پڑا اور اسے ڈیڑھ بجے کے قریب لائیو سٹاک آفس لے جایا گیا اسے علاج دیا گیا لیکن بچایا نہیں جا سکا۔ بعد میں شکور ایگرو فارم کے اہلکارگائے کو واپس لے گئے-”

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق گائے رانی کا پیٹ کافی زیادہ سوج گیا تھا جس کے بعد اسے علاج کے لیے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹرز اس کی جان نہیں بچا سکے اور وہ محض چند گھنٹوں میں ہی دنیا سے رخصت ہوگئی ڈاکٹرز نے بتایا کہ گائے کے پیٹ پر سوجن زیادہ کھانے اور گیس جمع ہوجانے کے باعث ہوئی۔

    واضح رہے کہ عید الضحیٰ سے قبل دنیا کی سب سے چھوٹی گائے ’میڈیا اسٹار‘ بن گئی تھی جسے دیکھنے روزانہ ہزاروں لوگ فارم کا رخ کر رہے تھےگائے کی عمر تقریباً دو سال تھی اور اس کا قد 20 انچ تھا جو اپنی معصومیت اور سب سے چھوٹا قد ہونے کی وجہ سے سب کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔

    گائے کے مالک کا کہنا تھا کہ اس گائے کا نام انہوں نے رانی رکھا گائے کے مالک کا دعویٰ تھا کہ اپنی عمر کے اعتبار سے رانی دنیا کی بونی ترین گائے تھی جس کا وزن ‏‏26 کلو تھا۔

  • دنیا میں زمین کا وہ مقام جہاں پہلی بار بارش ریکارڈ کی گئی

    دنیا میں زمین کا وہ مقام جہاں پہلی بار بارش ریکارڈ کی گئی

    دنیا میں زمین کا ایک ایسا مقام بھی موجود ہے جہاں پہلی بار بارش ریکارڈ ی گئی گرین لینڈ کی سطح سمندر سے 2 میل بلند چوٹی پر موجود وسیع و عریض پٹی پر بارش نے ماہرین کو حیران کر دیا

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جسے ماہرین موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں زمین کے ایسے مقام پر جہاں 1950 سے جب سے بارش کا ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے آج تک بارش ریکارڈ نہیں ہوئی تھی وہاں آسمان سے پانی برسنے نے سائنسدانوں کو حیران اور پریشان کر دیا۔

    امریکہ میں طوفانی بارشیں، 22 افراد ہلاک متعدد لاپتہ

    اس 3 ہزار 2سو 16 میٹر بلند چوٹی پر عموماً درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے ہوتا ہے مگر حال ہی میں وہاں گرم ہوا کے نتیجے میں شدید بارش ہوئی اور 7 ارب ٹن پانی برفانی پٹی پر برس گیا۔

    سورج کے قریب 60 کروڑ سال پُرانا ایک اور سورج دریافت

    یو ایس نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کے موسمیاتی اسٹیشن نے 14 اگست کو اس مقام پر بارش کو برستے دیکھا مگر ان کے پاس جانچ پڑتال کے لیے پیمانہ ہی نہیں تھا کیونکہ یہاں کبھی بارش نہیں ہوئی گرین لینڈ کے اس مقام پر 3 دن تک درجہ حرارت اوسط سے 18 سینٹی گریڈ زیادہ رہا جس کی وجہ سے بیشتر علاقوں میں برف پگھلتے دیکھا گیا۔

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

    ماہرین کے مطابق گرین لینڈ میں جولائی میں بھی بڑے پیمانے پر برف پگھلی تھی اور 2021 گزشتہ صدی کا چوتھا سال بن گیا جب اس طرح بڑے پیمانے پر برف پگھلی اس سے قبل 1995، 2012 اور 2019 میں ایسا ہوا تھا۔

  • افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال، افغان سیاسی وفد کا پاکستان دورہ ،تحریر:صائمہ رحمان

    افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال، افغان سیاسی وفد کا پاکستان دورہ ،تحریر:صائمہ رحمان

    افغانستان میں20 سال بعد ایک بار پھر طالبان کے قبضے نے افغان شہریوں اور عالمی برادری کے ذہنوں میں نئے سوالات جنم رہے ہیں کہ کیا طالبان پہلے کی طرح سخت پابندیاں عائد کریں گے یا اس دفعہ حکمت عملی تبدیل کرے گئے افغان طالبان کی جانب سے افغان عوام اور عالمی برادری سےجووعدےکیےگئے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ انہیں کس طرح پورا کرتے ہیں۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کافاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ افغانستان میں فوج بھیجنا ملک کی تاریخ کا سب سے ‏غلط فیصلہ تھا۔انہوں نے کہا کہ جوبائیڈن کو نہیں پتہ صدر کا منصب کتنا اہم ہے جلد بازی میں انخلا کا فیصلہ اور ‏بداتنظامی امریکا کیلئے باعث شرم ہے اتنے سالوں میں امریکا کی اتنی بے عزت نہیں ہوئی ‏جتنی اب ہورہی ہے۔ٹرمپ نے اشرف غنی کو بدمعاش قرار دیا اور کہا کہ شروع سے اشرف غنی پر بھروسہ نہیں تھا اور ‏نہ ہی وہ پسند تھے البتہ طالبان سربراہ سے ہمیشہ اچھی بات ہوئی۔ ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ اسلامک امارات تما م ممالک سےاچھےتعلقات چاہتی ہے تمام ممالک سےاچھے سفارتی اور تجارتی تعلقات چاہتے ہیں کسی بھی ملک کیساتھ تجارت معطل نہیں ت کر رہے کسی بھی ملک کیساتھ تجارت معطل رکھنے کی افواہیں بھی بےبنیاد قرار دی ہیں ۔ امریکی صدرجوبائیڈن کہنا ہے کہ ہم 31 اگست تک افغانستان سےمکمل انخلا کرنا چاہتے ہیں ہم نےاسامہ کو مارا،افغانستان میں القاعدہ کوختم کیا ہمارے پاس دہشت گردی سےلڑنےکی صلاحیت رکھتے ہیں ہمیں انتہائی سنگین خطرات سےنمٹنےپرتوجہ دیناہوگی طالبان ایک وجودی بحران سے گزررہے ہیں طالبان جائزحکومت کےطور پر خودکو تسلیم کرانا چاہتے ہیں مجھےنہیں لگتا کہ طالبان تبدیل ہوئے ہیں طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا جس سےعالمی برادری انہیں تسلیم کرے۔

    افغانستان میں بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظرافغان سیاسی وفد کا کل پاکستان کا دورہ کیا جس میں افغان اولسی جرگہ کے اسپیکر میر رحمان رحمانی بھی شامل ہیں۔ افغان سیاسی وفد میں محمد یونس قانونی، استاد محمد کریم، احمد ضیا مسعود، احمد ولی مسعود، عبدالطیف پیدرام اور خالد نور شامل تھےافغان سیاسی وفد کی وزیراعظم عمران خان ،آرمی چیف ،ڈی جی آئی ایس آئی سے بھی ملاقات ہوئی افغان اولسی جرگہ کے اسپیکر میر رحمان رحمانی کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان تشریف لائیں اسپیکر افغان اولسی جرگہ رحمان رحمانی کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل کو ختم کردیا گیا جو افسوسناک ہے اور ہمارے دورے کا مقصد مفاہمت ،خون ریزی کا خاتمہ کرنا ہے اس ملاقاتوں میں تمام ایشوز پر بات چیت کی گئی اب آئندہ مرحلہ افغانستان میں حکومت سازی ہے اور تمام فریقین کو حکومت میں شامل کرنےسے ہی کامیابی ملے گی ہم افغان عوام کی آزادی اظہاررائے،قانون کے نفاذ پریقین رکھتے ہیں۔

    اولسی جرگہ میر رحمان رحمانی کا یہ بھی کہنا تھا اگر طالبان ناکام ہوگئے تو پھر 1996 والی صورت حال ہوگی اورحکومت ایسی ہونی چاہیے جوافغان عوام کیلئے قابل قبول ہو۔
    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6