Baaghi TV

Category: متفرق

  • افغان حکومت کا قیام اور تشکیل ، تحریر:صائمہ رحمان

    افغان حکومت کا قیام اور تشکیل ، تحریر:صائمہ رحمان

    افغانستان میں مضبوط اسلامی قومی حکومت کی تشکیل کا عمل شروع ہو چکا ہے افغان طالبان کی موجودہ حکمت عملی ماضی سے مختلف ہے طالبان کے نائب امیر اور قطر میں سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر المعروف ملا برادرکو سونپی جا رہی ہے۔ ملا عبدالغنی برادر کو ملا برادر” کے نام سے جانا جاتا ہے جو 1994 میں افغانستان میں قائم ہونے والی تنظیم طالبان کے بانی قائدین بھی رہے ملا عبدالغنی برادر 1968 میں افغانستان کے صوبے ارزوگان میں پیدا ہوئے ان کا تعلق افغانستان کے انتہائی بااثر پوپلزئی قبیلے سے ہے، وہ کئی سال افغان صوبے قندھار میں مقیم رہے اور طالبان دور میں ہرات کے گورنر رہنے کے علاوہ طالبان فوج کے سربراہ بھی رہے چکے ہیں ۔ 2001 میں ملا عبدالغنی برادر نائب وزیر دفاع بھی رہے

    فروری 2010 میں پاکستان اور امریکا کی مشترکہ کارروائی میں ملا برادر کو پاکستان سے گرفتار کر لیا گیا تھا اور افغان حکومت سے امن مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے اُنہیں 2018 میں رہا کر دیا گیا۔ 2020 میں ملا عبدالغنی برادر نے امریکا کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے جس کے بعد ہی افغانستان میں امریکا کی 20 سالہ جنگ کا خاتمہ ہوا۔ اگر طالبان کے تنظیمی ڈھانچے پر نظر ڈالی جائے تو سربراہ امیر مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ سابق چیف جسٹس طالبان اور 2016 سے طالبان کے سربراہ بھی ہیں اور سیاسی ، مذہبی عسکری امور پر حتمی فیصلے کے مجاز ہیں نائب ملا محمد یقیوب بانی طالبان ملا عمر کے صاحبزادے ہیں اور ملٹری آپریشنل کمانڈر ہیں نائب امیر سراج حقانی سربراہ حقانی نیٹ ورک ہیں اس کے علاوہ سنئیر جج ملا عبدالحکیم نگران طالبان عدالتی نظام اور دوحہ مذاکراتی ٹیم کی قیادت کرتے ہیں لیڈر شپ کونسل یعنی رہبری شوری طالبان اعلی ترین مشاورتی فیصلہ ساز اتھارٹی 26 اراکین پر مشتمل ہے۔

    طالبان کو اپنی حکومت کے قیام سے جلد ہی افغانستان میں موجود تجربہ کار غیر ملکی عسکریت پسندوں کی حمایت میسر آئی۔ اس حمایت نے طالبان کو عسکری محاذ اور ملک پر اپنا قبضہ جمانے میں بھرپور مدد فراہم کی۔طالبان کے افغانستان کے کنٹرول کے بعد تمام امریکی سفارتی اہلکاروں کو کابل سے نکال لیا گیا ہے دوسری طرف یہ ترجمان وائٹ ہاوس کا کہنا تھا کہ طالبان نے شہریوں کو بحفاطت ائیر پورٹ جانے کی اجازت دی امید کرتے ہیں طالبان اپنے وعدوں کو پورا کرے گئے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے افغانستان میں طالبان کی فتح قرار دیا اور تسلیم بھی کر لیا۔ دوسری طرف کینیڈا کے وزیراعظم نے طالبان کی حکومت نہ مانے کا اعلان کیا ہے ان کا موقف یہ تھا کہ منتخب افغان حکومت کو طاقت کے زور پر ہٹایا گیا برطانوی وزیرخارجہ نے افغان حکومت کے قیام کی امید ظاہر کی ہے

    پاکستان سےزیادہ افغانستان میں امن کا خواہشمند کوئی ملک ‏نہیں، موجودہ صورتحال میں افغان رہنماؤں پربھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پاکستان نے طالبان کی جانب سے افغان سرزمین کسی اور ملک کے خلاف اور دہشتگردی کے لیے ‏استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔پاکستان افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہے پاکستان افغانستان میں دیر پا امن کے لئے بھرپور اقدامات کرنے کے لئے تیار ہیں افغان وفد نے آرمی چیف سے ملاقات کے دوران پاک فوج کی قربانیوں اور کامیابیوں کو سہراہا اور ساتھ ہی پاک فوج کی افغانستان کی سماجی واقتصادی ترقی اور امن کے لئے کوششوں کو قابل قدر قرار دیا۔

    email saima.arynews@gmail.com

  • امریکہ نے کیا غلطیاں کیں ؟؟ طالبان اچھے کیوں ہیں ؟؟ طعنے دینے والوں کو صاف جواب

    امریکہ نے کیا غلطیاں کیں ؟؟ طالبان اچھے کیوں ہیں ؟؟ طعنے دینے والوں کو صاف جواب

    ۔ اچھا ایک چیز جو میں کمنٹس میں ، سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پرمسلسل دیکھ رہا ہوں کہ لوگ بہت طعنے دے رہے ہیں کہ شاید ہم طالبان کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ مشورے دے رہے ہیں کہ اتنے اچھے آپکو طالبان اور ان کا نظام لگتا ہے تو افغانستان چلے جائیں تو ۔ میں آپکو بتاوں ہو کیا رہا ہے ۔

    ۔ ہم بھی اور بھی کئی لوگ کئی دنوں سے کہہ رہے تھے کہ یہ نظر آرہا ہے کہ طالبان نے افغانستان پر غلبہ حاصل کرکے وہاں حکومت بنا لینی ہے تو ہم نے رپورٹ تو کرنا ہے جو دیکھائی دے رہا ہے ۔ کوئی اور فورس آتی ہے اور وہ طالبان کو ہٹاتی ہے تو ہم وہ بھی رپورٹ کریں گے ۔ تو اس چیز کو ذہن میں رکھیں ۔ اب اچھی چیزیں سامنے آرہی ہیں تو اچھا ہی رپورٹ کریں گے ۔ جب بری آئیں گی تو بڑا بھی رپورٹ کریں گے ۔۔ دوسرا جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم بڑے خوش ہیں طالبان سے اور وہ اتنے ہی اچھے ہیں تو آپ وہاں چلے جائیں تو اس کی مثال کچھ یوں ہے ۔ کہ ہم تو فن لینڈ سے بھی بڑے خوش ہیں ۔ ہم تو ناروے سے بھی بہت خوش ہیں ۔ بڑے اچھے ملک ہیں ۔ بڑے خوبصورت ملک ہیں ۔ انسانی حقوق کا ان ملکوں میں بہت خیال رکھا جاتا ہے ۔ لیکن ہم وہاں نہیں جاتے ۔ تومیری نظر میں یہ بیکار کی باتیں ہیں ۔ جو لوگوں کو خوشی ہورہی ہے ۔ جو memesبن رہی ہیں ۔ لطیفے چل رہے ہیں ۔ پرانے آڈیو اور ویڈیو کلپس اس حوالے سے وائرل ہورہے ہیں وہ لوگوں کو یہ خوشی نہیں کہ طالبان جیت گئے ہیں ۔ طالبان نے معرکہ سر کر لیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ امریکہ ہار گیا ہے ۔ اس کے بڑے بول زمین بوس ہونے پر لوگ خوش ہیں ۔ وہ جو امریکہ کہتا تھا کہ either you are with us or against usاس پر خوش ہورہے ہیں کہ امریکہ زلیل ورسوا ہوکریہاں سے نکالا ہے ۔

    ۔ اسی لیے اب تو جوبائیڈن بھی کہہ رہا ہے ۔ کہ افغانستان کو درست طور پر سپرپاورز کا قبرستان کہا جاتا ہے۔ افغانستان میں جو کچھ ہم نے گزشتہ 20 سالوں میں دیکھا، اس سے ثابت ہو گیا کہ وہاں فوجی طاقت سے کوئی تبدیلی لانا ممکن نہیں ہے۔ یعنی اب امریکہ مان گیا ہے کہ اس کی پالیسی غلط تھی ۔ بش نے غلط حملہ کیا افغانستان پر ۔ ۔ تو آج سے چالیس سال پہلے جو rambo
    کی فلم آئی تھی ۔ اس میں اس نے کہا تھا اس وقت ان کو سن لینا تھا ۔ کہ افغانستان سپر پاور کا قبرستان ہے ۔ اب وہ جو سارے لوگ اعتراض کر رہے تھے اور تنقید کررہے تھے وہ جا کرجوبائیڈن کو برا بھلا کہیں ۔ ۔ اس چیز پر بات کریں نہ یہ کہ امریکی کتنے موقع پرست ہیں کہ اپنی تمام ہار کی ذمہ داری جوبائیڈن نے افغان فوج پر ڈال دی ہے ۔ کہ مجھ کو افغان لیڈر شپ کہہ رہی تھی کہ ہم لڑیں گے یہ کریں وہ کریں گے ۔ مگر انھوں نے ہتھیار ڈال دیے ۔ تو ہمارا کیا قصور ۔ ۔ تو امریکہ ، اسکے حمایتوں اور امریکی انتظامیہ کو ذرا آئینہ دیکھا دوں کہ یہ جو مغرب کا رونا دھونا ہے کہ بندوق کی مدد سے اقتدار پر قبضہ کرناجائز ہے۔تو جب افغانستان پر حملہ ہوا ، عراق پر حملہ ہوا ، لیبیا پر حملہ ہوا وہاں امریکہ نے کیسے تبدیلی لانے کی کوشش کی ۔ ۔ بندوق کی زور پر ۔۔ تو یہ لاجک اپنی موت آپ مر جاتی ہے ۔ اور عراق یا لیبیا میں کون سے weapons of mass destruction مل گئے ۔ ساتھ ہی ایران نے کتنے ممالک پر حملہ کر دیا ہے جو پابندیاں لگائی گئیں ۔ جبکہ دیکھا جائے تو امریکہ نے ہی کیا دو دفعہ نیو کلیئرحملے ۔

    ۔ اب آپ خود سوچیں کہ آپ کی پالیسی جو ہے وہ کتنی دیر پا اور دوراندیش ہے ۔ اب یہ امریکہ اور مغرب نے سوچنا ہے ۔ ہم تو ویسے ہی third world country ہیں ۔ ہمیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔۔ کیوبا ، ویتنام ، عراق ، ایران ، لیبیا ، شام ہر جگہ امریکہ کو مار پڑی ہے ۔ تو رہنے دو نہ یار ۔ امریکہ نے ہمیشہ صرف تباہی کی ہے ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہو چکی ہے ۔ اب اس کے اخلاقی جواز یا غیر اخلاقی جواز کی بحث اپنی اہمیت کھو چکی ہے ۔ کچھ لوگ اسے آج مان لیں گے اور کچھ کل ۔ ۔ جیسا کہ چین اور روس نے طالبان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا اعلان کردیا ہے تو ایران کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکی شکست سے امن کا راستہ ہموارہوگیا ہے ۔ یہاں تک کہ ترکی نے کابل ائیرپورٹ کی سکیورٹی سنبھالنے کا منصوبہ ترک کر دیا۔ یعنی وہ بھی اب پیچھے ہٹ گیا ہے ۔ امریکہ بھی green signal دے چکا ہے کہ وہ بھی طالبان کی حکومت کو مان لے گا اگر طالبان اسکو کچھ تسلیاں کروادیں ۔

    ۔ اچھا یہ اب حقیقت ہے کہ طالبان کے جیتنے میں اور طالبان کی گورننس میں زمین آسمان کا فرق ہوگا ۔ اس بار آپ دیکھیں تو طالبان بہت کوشش کر رہے ہیں یہ ثابت کرنے کے لیے کہ یہ پہلے والے طالبان نہیں ہیں ۔ اس سلسلے میں بہت سے ایسے اقدامات بھی کرتے دیکھائی دے رہے ہیں جیسے عورتوں کے متعلق ، دیگر فرقوں کے حوالے سے ، داڑھی کے حوالے ۔۔۔ ۔ چلیں دو چیزوں کا فرق آپکو بتاتا ہوں کہ کابل ایئرپورٹ کا انتظام وانصرام امریکہ نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے ۔ وہاں آپ دیکھ لیں کیا ۔ قیامت کا منظر برپا ہے ۔ کہ بیچارے وہ افغانی جو ان کی غلامی کرتے رہے جو ان کو سپورٹ کرتے رہے وہ جہازوں سے نیچے گر رہے ہیں۔ ان کو امریکی وہاں پر گولیاں مار رہے ہیں ۔ پر دوسری جانب وہ اپنے پالتو کتوں تک کو جہازوں کی سیٹوں پر بیٹھا کر لے جا رہے ہیں ۔ اور یہ کوئی مفروضہ یا سنی سنائی خبر نہیں ہے مستند افغان میڈیا رپورٹ کر رہا ہے ۔

    ۔ دوسری جانب کابل کی سڑکوں پر سکون ہے۔ کاروبار ، سکول سب کچھ کھلا ہے ۔ محرم کے حوالے سے شعیہ کمیونٹی کو اجازت ہے کہ وہ جلوس نکالے ۔ ۔ طالبان رہنما مختلف ہسپتالوں کا دورہ کر رہے ہیں ڈاکٹرز کو کام جاری رکھنے اور تحفظ کی یقین دہانی کروارہے ہیں ۔ تاجر برداری سے مل رہے ہیں ان کو بھی تسلی دے رہے ہیں کہ آپ افغانستان چھوڑ کر نہ جائیں۔ ۔ ایک دن پہلے لوٹ مار کے حوالے سے خبر آتی ہے اگلے ہی روز وہ مسلح افراد گرفتار ہو جاتے ہیں جو طالبان کے نام پر لوٹ مار کر رہے تھے۔ ۔ یہاں تک کہ سابق افغان صدر حامد کرزئی کہہ رہے ہیں کہ طالبان سے مثبت بات چیت ہوئی ہے۔۔ تو طالبان کافی کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے سے متعلق ہر پراپیگنڈہ کا اثر زائل کریں اور دنیا کو بتائیں کہ اب وہ نوے کی دہائی والے نہیں ۔ یہ بھی بدل چکے ہیں ۔ ۔ پر اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ ان کی مرکزی سوچ بدل جائے گی ۔ مرکزی سوچ تو وہ ہی ہے ان کی ۔ کہ طالبان افغانستان کو بنائیں گے تو وہ ہی اسلامی امارات ۔ جس کے لیے وہ کئی دہائیوں سے جدوجہد کررہے ہیں ۔ ۔ میری نظر میں مغربی میڈیا یا ممالک اس وجہ سے خوف زدہ ہیں کہ امریکہ نے افغانستان میں ایک نفراسٹکچر بنا دیا ہوا ہے ۔ جیسے سٹرکیں ، پل ، ایئر پورٹس وغیرہ ۔ افغانستان کے خزانے میں بھی کوئی چار بلین ڈالرز ہیں ۔ اور اب افغانستان پر ایک آنے کا قرضہ نہیں ۔ تو اگر وہ پانچ سات بلین ڈالرز قرضہ بھی لے لیتے ہیں اور وہ چار بلین اپنا بھی لگاتے ہیں تو حقیقت میں تو افغانستان ایک لش پش جگہ بن جائے گی ۔ ۔ ایسا ہوجاتا ہے تو افغانستان طالبان کی قیادت میں ایک ماڈل مسلم ریاست بن جائے گی ۔ دراصل یہ چیز مغرب کو خوف زدہ کرتی ہے ۔ کیونکہ یوں ہو گیا تو ہر مسلمان کہے گا کہ ریاست ایسی ہونی چاہیے کیونکہ انکا system of justice عام آدمی کو apeal کرتا ہے ۔ کیونکہ عام آدمی کو آپ جتنا مرضی قانون سمجھا لیں ۔ پڑھا لیں ۔ وہ کہتا ہے کہ یار مجھے چالیس سال ہوگئے ہیں ۔ میرے بزرگ بھی فوت ہوگئے ہیں لیکن ہماری زمین کا مقدمہ وہیں ہے ۔ تو اس کو نہیں سمجھ آتی یہ بات ۔

    ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ والا سسٹم خراب ہے اور طالبان والا اچھا ہے ۔ یا طالبان کا خراب ہے اور یہ والا سسٹم اچھا ہے ۔ ۔ بات کی جائے تو یہ درست ہے طاقت کا توازن اس وقت طالبان کے حق میں ہے۔ لیکن صرف طاقت کے بل بوتے پر طالبان، افغانستان میں امن قائم نہیں کر سکتے، کیونکہ خود امریکہ اور نیٹو ممالک اس حکمت عملی میں ناکام ہو چکے ہیں۔۔ بیس سال پہلے اور آج کے طالبان میں فرق یہ ہے کہ اس بار وہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھ رہے ہیں۔ بیس سال پہلے وہ جنگ و جدال کو ہی ہر مسئلے کا حل سمجھتے تھے۔۔ میرا خیال ہے کہ افغانستان کے طالبان نے خانہ جنگی سے گریز اور اپنے رقیبوں ، دشمنوں کو عام معافی دینے کا جو اقدام اٹھایا ہے۔ وہ ایسا اقدام ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ساری دنیا، طالبان کی اس دریا دلی اور ”نئی بصیرت“ پر حیران ہے۔ خدا کرے یہ سلسلہ یوں ہی آگے بڑھے اور افغانستان کے نئے حکمران افغان عوام کے خیر خواہ ہی ثابت ہوں ۔

  • افغان طالبان فاتح، جنگ بندی کا اعلان ، تحریر:صائمہ رحمان

    افغان طالبان فاتح، جنگ بندی کا اعلان ، تحریر:صائمہ رحمان

    افغانستان پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم ترین ملک ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے ، مشترکہ اعتقاد اور باہمی دلچسپی پاکستان کے افغانستان کی طرف رکاوٹ بننےکے بنیادی عوامل ہیں۔ یہ جنوب اور وسطی ایشیا پر مشتمل مجموعی سڑکوں پر محل وقوع ہے جو پاکستان کے لئے اس کی اہمیت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

    تاہم ، افغانستان کے اندرونی اور بیرونی مفادات کی بنا پر عدم تعاون کا رویہ خاص طور پر سرد جنگ کے نتیجے میں افغانستان کی ترقی کا رخ موڑ گیا۔ افغانستان پر طالبان کی حکمرانی کے چار سالوں کے بعد ، پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کبھی بھی مستثنیٰ نہیں تھے

    جس کی گہری جڑیں تاریخی روابط ، روایتی وابستگی ، معاشرتی تفاوت کی مماثلت ، مشترکہ مذہبی شناخت ، نسلی ثقافتی غلامی اور اسٹریٹجک شراکت داری سبھی تقسیم ہند سے قبل کے برصغیر کے زمانے کی ہیں۔ اس کے باوجود ، تقسیم کے بعد کی علاقائی حرکات اور برطانوی راج اور افغانستان کے مابین امور کی میراث میں ، دونوں کے مابین دوطرفہ تعلقات ہیں ، جس میں اتار چڑھاؤ نمایاں ہے۔ پھر بھی لوگوں سے لوگوں کی سطح پر وابستگی اور گرمجوشی اگر عام نہیں تو عام طور پر خوشگوار رہے ہیں۔ نائن الیون کے بعد ، امریکہ کی سربراہی میں بین الاقوامی اتحاد نے افغانستان پر حملہ کیا۔ اس نے طالبان کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا اور تب سے ہی افغانستان کا سیاسی چہرہ اوورٹ جبر اور خفیہ سازشوں کے ذریعے سنبھال لیا گیا۔

    15 اگست کو افغان طالبان نے 22 صوبوں پر کنڑول حاصل کرنے کے بعد کابل کا گھیراو کیا طالبان نے زیر قبضہ صوبوں میں محکمہ انٹیلی جنس ، گورنر کا دفاتر، پولیس ہیڈ کواٹرز اور مقامی جیلوں پر کنٹرول حاصل کیا ساتھ ہی واشنگٹن نے امریکی سفارت خانے کو تمام اہم اور حساس دستاویزات کو تلف کردینے کا حکم بھی دیا اور سٹاف کو بحفاظت نکالنے کے لئے اپنے فوجی ائیر پورٹ پر تعینات بھی کئے۔پینٹا گون کے سیکرٹری اطلاعات جان کربی نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال بہت خراب ہے ہم طالبان کی تیز رفتار پیس قدمی سے پریشان ہیں۔

    امن اقتدار کی منتقلی کے معاہدے کے مطابق افغان صدر اشرف غنی اپنی ٹیم اور اہلخانہ کے ساتھ ہمراہ ملک سے فرار ہو ئےطالبان کی کابل شہر میں انٹری ہوتے ہی افراتفری پھیل گئی طالبان قیادت نے لوٹ مار روکنے کے لئے اور امن وا مان قائم کرنے کےلئے اپنے کمانڈرز اور جنگجووں کو تعینات کر دیا۔20 سال بعد قبضہ کرنے کے ساتھ ہی افغانستان میں جنگ بندی کا اعلان کر دیا ترجمان سہیل شاہین نے بیان میں کہا طالبان کو ہدایت دی گئی کہ بغیر اجازت گھروں میں داخل نا ہوا جائے کسی کی جان ، مال اور عزت کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ افغانستان میں 16 اگست کی صبح صدرارتی محل میں سورت النصر کی تلاوت اور دورد شریف کا ورد بھی کیا گیا ساتھ ہی افغان طالبان نے سرکاری ٹی وی پر نشریات میں شہریوں سے پر امن رہنے کو کہا کابل ائیر پورٹ سے تمام پروازیں منسوخ کر دی ۔

    ائیر پورٹ پر موجود عینی شاہدین کے مطابق کابل ائیر پورٹ میں ہزاروں کی تعداد میں افراد موجود تھے جو کابل چھوڑنے کی وجہ سے جہازوں میں سوار ہونے کی کوشش کرتے رہے اور تین نوجوان ایک G17 طیارے کے پہیوں یا سامان رکھنے والے خانے میں چمٹ گئے جس کی وجہ سے ان کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ۔روس چین ایران نے طالبان حکومت کا خیر مقدم کیا اور دوستانہ تعلقات کا اعلان کیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستا ن پر افغانستان کی صورتحال کا اثرا کیا ہو گا اپنا بارڈر سکیور کرنے کا ہوم ورک مکمل کر چکا ہے ٹی ٹی پی یا تو ختم ہوجائے گی ضم ہو جائے گی آنے والے دن پاکستان کے لیے بہتری زیادہ اور خطرات کم ہیں اشرف غنی کے ملک سے فرار اور طالبان کے کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد پیدا ہونے والی ‏صورتحال پر پاکستان نے پالیسی بیان جاری کیا طالبان لیڈر شپ کو کامیابی مل چکی ہے پاکستان اب کیا اقدامات کرے گا۔

    امریکہ کا افغانستان سے چلا جانا پورے خطے پاکستان روس چین کے لیے ایک امید اور خوشخبری اعلان ہے بھارت افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتا رہا کس طرح بھارت افغانستان میں امن کو نقصان پہنچاتا رہا .

    طالبان کے کنڑول کے بعد کابل کی صورتحال اب کنٹرول ہو رہی ہے اب امریکہ کی فوجی شکست اور اس کے انخلاء کو افغانستان میں زندگی ، سلامتی اور پائیدار امن کی بحالی کا موقع بننا چاہیے افغانستان میں استحکام کی بحالی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں اور ایران چاہتا ہے پڑوسی اور برادر ملک کی وجہ سے افغانستان میں تمام گروہ قومی معاہدہ تشکیل دیں۔ طالبان 2001 کے بعد سے اب تک اپنی سب سے بہتر پوزیشن میں ہیں یہ وہ طالبان ہیں یہ جارحانہ انداز میں پیش قدمی کرنے اور ملک کو واپس لینے کی صلاصیت رکھتے ہیں امریکہ نے جدید ترین فوجی سازوسامان ، 3لاکھ مضبوط افواج اور ایک فضائی قوت پر اربوں ڈالر خرچ کِیے جو کہ طالبان کے پاس نہیں تھے لیکن پھر فتح ان کی ہوئی ۔
    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • کیا عراق میں خانہ جنگی کا خاتمہ اور امریکی افواج کا انخلاء ممکن ہو پائے گا؟ تحریر: محمد مستنصر

    کیا عراق میں خانہ جنگی کا خاتمہ اور امریکی افواج کا انخلاء ممکن ہو پائے گا؟ تحریر: محمد مستنصر

    ایک طرف جہاں امریکا نے اتحادی افواج سمیت 31 اگست تک مکمل طور پر افغانستان چھوڑ جانے کا اعلان کیا ہے تو وہیں امریکا نے عراق سے بھی سال 2021 کے آخر تک اپنی افواج نکال کر عراق میں جنگی مشن ختم کرکے آئندہ صرف عراقی افواج کی تربیت،مشورہ سازی اور داعش کے خلاف درکار ضروری مدد فراہم کرنے تک محدود رہنے کا اعلان کیا ہے۔ عراقی حکومت کا بھی دعوی ہے کہ عراقی افواج میں صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنی سرزمین کا دفاع کر سکیں اس لئے عراق میں قیام امن کے لئے اب امریکی افواج کی ضرورت باقی نہیں رہی تاہم امریکا چاہے تو عراقی افواج کو انسداد دہشتگردی کی تربیت اور مشاورت میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ امریکا اور عراق اپریل 2021 میں امریکی فوج کے مشن کو تبدیل کرنے پر متفق ہوئے تھے اور تب یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ امریکا اپنی افواج عراق سے نکال لے گا تاہم بعض وجوہات کی بناء پر اس وقت امریکی افواج کے عراق سے انخلاء کا ٹائم فریم مقرر نہیں کیا گیا تھا۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ درحقیقت عراق میں تعینات امریکی افواج کے مشن کی نوعیت تبدیل کی گئی ہے اور کوئی امریکی فوجی واپس نہیں بلایا جا رہا کیونکہ امریکا خطے میں اپنی موجودگی ناگزیر سمجھتا ہے اور اس مقصد کے لئے امریکا نے تمام خلیجی ممالک میں اپنے اڈے قائم کر رکھے ہیں۔ امریکا میں بعض لوگ امریکی افواج کے عراق سے انخلاء کے حامی تو ضرور ہیں مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ امریکا کے ہاتھ سے عراق نکل جائے شاید اسی لئے امریکہ اپنے کچھ فوجی عراق میں موجود رکھنا چاہ رہا ہے تاہم یہ تعداد ابھی واضح نہیں۔

    بظاہر عراق میں امریکی فوجیوں اور ماہرین کے موجود رہنے کا مطلب یہی ہے کہ عراق میں امریکی مداخلت برقرار رہے گی۔ امریکی صدر جوبائیڈن سمجھتے ہیں کہ امریکا کو اب مشرق وسطی سے اپنی افواج نکال کر چین اور روس کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو روکنے پر ذیادہ توجہ دینی چاہئے تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ افغانستان کی طرح عراق سے بھی امریکا اپنی افواج نکالنے پر مجبور ہوا ہے نہ کہ امریکا کو اپنے فوجی مشن میں کامیابی ملی ہے۔ سال 2003 میں عراق میں 1 لاکھ 60 ہزار امریکی اور ان کے اتحادی فوجی موجود تھے مگر اب یہ تعداد صرف 25 سو رہ گئی ہے جبکہ کچھ سپیشل فورسز بھی عراق میں موجود ہیں جو داعش کا مقابلہ کرنے میں مقامی افواج کی مدد کرتے ہیں۔ بین الاقوامی دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ عراق میں امریکی افواج کی موجودگی خاصی متنازعہ بن چکی ہے بالخصوص جنوری 2020 میں جب ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کو عراقی ملیشیاء کے لیڈر ابو مہندی سمیت بغداد میں مارا گیا تو عراقی عوام نے امریکا کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا جبکہ عراقی پارلیمںنٹ میں بھی قرارداد پاس کی گئی جس میں امریکی افواج کے عراق سے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ سال 2003 میں اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے عراق پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ذخیرہ کرنے اور عراق میں بین الاقوامی دہشتگردوں کے ٹھکانے موجود ہونے کے الزامات لگاتے ہوئے امریکی فوج کے اتحادیوں سمیت عراق پر حملہ کرنے کے احکامات جاری کئے تھے یوں تو امریکی صدر جارج بش نے عراق کو امن کا گہوارہ بنانے کے بلند و بانگ دعوے کئے تھے مگر عراق پر امریکی یلغار کے بعد کشیدگی اور بدامنی میں کئی گنا اضافہ دیکھنے کو ملا اور خانہ جنگی برپا ہو گئی

    عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کے حق میں امریکا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں سول سوسائٹی کی طرف سے بڑے پیمانے پر مظاہرے کئے گئے جبکہ امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں نے بھی عراق سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا یوں سال 2011 میں امریکی فوج عراق سے چلی گئی تاہم داعش کی طرف سے عراق کے کچھ شہروں پر قبضے کے بعد عراقی حکومت نے دوبارہ امریکا سے مدد طلب کی تو سال 2014 میں دوبارہ عراق میں امریکی فوج پہنچ گئی اسی تناظر میں اب بھی بعض حلقوں کا ماننا ہے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کے بعد عراق میں مختلف گروہوں کے مابین اقتدار کے لئے پانے جانے والے اختلافات خانہ جنگی کی صورت اختیار کر سکتے ہیں اور یہ صورتحال امریکی افواج کے عراق میں مزید قیام کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی امریکا اپنی افواج کے عراق سے انخلاء اور سالوں پر محیط عراق میں جاری جنگ کے خاتمے کے لئے سنجیدہ ہے یا پھر داعش سمیت دیگر شرپسند قوتوں کو جواز بنا کر خلیجی ممالک میں اپنا اثر ورسوخ قائم رکھنے کے لئے امریکی اور اتحادی افواج کی عراق سمیت دیگر خلیجی ممالک میں موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے نیا گیم پلان سامنے لایا جائے گا۔
    @MustansarPK

  • میری دھرتی کے محافظ .تحریر: فروا نذیر

    میری دھرتی کے محافظ .تحریر: فروا نذیر

    انسان ایک معاشرتی جانور ہے۔ انسان اور حیوان میں فرق صرف شعور کا ہے۔ انسان نے جب شعور حاصل کیا تو یہ دوسری مخلوقات سے افضل اور نمایاں ہو گیا۔ شعور کا تقاضہ ہے کہ ایک خاص تہذیب اور رہن سہن اختیار کیا جائے۔ جب مختلف تہذیبیں وجود میں آتی ہیں تو مختلف قومیں، ممالک اور معاشرے بنتے ہیں۔ جب معاشرے اور قومیں الگ الگ ہوتی ہیں تو ان کے مفادات بھی علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ اور جب مفادات علیحدہ ہوں تو اپنے مفادات اور حدود کا دفاع لازم ہو جاتا ہے۔
    پاکستان ہمارا ملک ہے۔ ہمارا اپنا ایک الگ نظریہ، اپنی جغرافیائی حدود، اپنا ماضی اور اپنی اخلاقی روایات ہیں۔ پاکستان کے بھی اپنے مفادات اور محافظ ہیں۔ پاکستان روزِ اول سے ہی اسلام دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔ چنانچہ پاکستان کو پہلے دن سے ہی مختلف سازشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمارا سب سے پہلا دشمن ہمارا ہی ہمسایہ بنا۔ پاکستان کی شہہ رگ ہی پاکستان کے حوالے نہیں کی گئی۔ ان سب حالات میں وسائل کی کمی کے باوجود پاکستان کو اپنے سے پانچ گنا بڑے ملک سے محفوظ رکھنا واقعی جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ کام افواجِ پاکستان کے ذریعے کیا۔ افواجِ پاکستان شروع سے ہی انتہائی کم وسائل کے باوجود احسن طریقے سے پاکستان کا دفاع کرتی آ رہی ہیں۔ تقسیمِ ہند کے وقت پاکستان کے حصے میں ایک بھی آرڈیننس فیکٹری نہیں آئی۔ لیکن اس کے باوجود بھی پاکستان نے ہمت نہیں ہاری اور وجود میں آنے کے ایک سال بعد ہی لڑی جانے والی جنگ میں کشمیر کا ایک بڑا حصہ بھارت سے آزاد کرا لیا۔ اس کے بعد کی جنگوں میں بھی پاکستان نے بھارت کو ناکوں چنے چبوائے۔
    آخر کون ہیں وہ جو دشمن کے توپوں کے سامنے سینہ سپر کرتے ہیں؟ کیا وہ فرشتے ہیں؟ جنات ہیں؟ یا کوئی اور نادیدہ مخلوق؟
    وہ افواجِ پاکستان کے جوان ہیں۔ جو زمین پہ ہوں تو شیر، فضا میں ہوں تو شاہین اور پانی میں ہوں تو شارک بن جاتے ہیں۔ حالت جنگ میں پہلے مورچوں پہ موجود ہوتے ہیں اور دشمن کے گولوں کو اپنے سینے پہ روکتے ہیں۔ لیکن مادرِ وطن پر کوئی آنچ نہیں آنے دیتے۔ جب حالتِ امن ہو تو اکثر اوقات سول اداروں کے ساتھ عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ کوئی بھی قدرتی آفت آئے یا کہیں ایمرجنسی ہو جائے، ایک ایسا فقرہ ہے جسے سننے کے بعد ہر انسان مطمئن ہو جاتا ہے اور اس کی سانس میں سانس آ جاتی ہے اور وہ ایک فقرہ یہ ہے:-
    "افواجِ پاکستان نے کنٹرول سنبھال لیا”
    بارڈر پہ جنگ ہو یا شہری علاقوں میں زلزلہ، دیہات میں طوفان ہو یا قصبوں کی آگ، ہر جگہ افواجِ پاکستان کے سپوت ہی پہلی صفوں میں ملتے ہیں۔ ہر جگہ قربانی اور دفاعِ وطن کے جذبے سے سرشار یہ جوان دفاعِ وطن میں مگن ہیں۔ کہیں کندھوں پہ رائفل لئے ہوئے مورچوں کی حفاظت کر رہے ہیں تو تو کہیں منفی بیس ڈگری کے درجۂ حرارت میں پاکستان کے تاج سیاچن کی چوٹیوں کے دفاع میں مگن ہیں۔ کہیں فضاؤں اور سمندروں کا سینہ چیرتے ہوئے وطن کے رکھوالے بنے ہوئے ہیں تو کہیں گمنام مجاہد بن کر اس دھرتی ماں کی حفاظت کے کئے گئے وعدے کی تکمیل کے لئے دشمنوں کے دیس میں بھیس بدلے کوڑا کرکٹ اکٹھا کر رہے ہیں۔ ان کی زندگی بھی گمنامی میں گزرتی ہے اور موت بھی گمنامی میں آتی ہے۔ اس دھرتی ماں کے لئے انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا ہے۔
    صلیبی جنگوں کے زمانے میں صلیبیوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو شکست دینے کے نت نئے طریقے آزمائے اور ایجاد کئے۔ جن میں ایک یہ بھی تھا کہ افواج اور عوام میں اگر دوری پیدا کر دی جائے تو اس ملک پر آسانی سے قبضہ کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ یہ سلسلہ اسی وقت سے شروع ہو چکا ہے۔ کبھی کوئی الزام عائد کیا جاتا ہے تو کبھی کیا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ وطن بیزار لوگ افواجِ پاکستان پر تنقید کرنا ثواب سمجھتے ہیں اور ہماری بھولی بھالی عوام ان پر یقین کر کے مزید آگے پھیلانے میں بھی معاون بن جاتی ہے۔ جیسے پچھلے دنوں سابق آرمی چیف جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کے بارے میں ایک افواہ اڑائی گئی کہ انہوں نے آسٹریلیا میں کوئی جزیرہ خریدا ہے۔ حالانکہ حقیقتاً دنیا میں کہیں بھی اس جزیرے کا کوئی وجود نہیں اور اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد سے جنرل (ر) کیانی ایک دن بھی بیرونِ ملک نہیں گئے، وہ راولپنڈی میں اپنے گھر میں رہتے ہیں۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ افواجِ پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے کس حد تک پراپیگنڈہ ہو رہا ہے۔
    دشمن سالانہ اربوں ڈالر اس انفارمیشن وارفیئر پر خرچ کر رہا ہے۔ تاکہ عوام اور افواج کے درمیان تناؤ قائم کیا جا سکے۔
    لیکن ہم نے اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینا اپنے خاندان سے دور تپتے صحراؤں میں دن رات دشمن کی گولیوں کے نشانے پہ کھڑے ہو کر دھرتی ماں کی حفاظت پہ ڈٹے ان جوانوں کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑنا۔
    ایک طاقت ور فوج ہی ایک مضبوط ملک کی علامت ہے۔
    اللہ پاک پاکستان کو قائم و دائم رکھے۔ آمین
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان ہمیشہ پائندہ باد

    Twitter id: @InvisibleFari_

  • افغانستان میں ذلت آمیز شکست ۔ جو کہتے تھے پتھروں کے دور میں دھیکل دیں گے ہوئے ذلیل ورسوا !!!

    افغانستان میں ذلت آمیز شکست ۔ جو کہتے تھے پتھروں کے دور میں دھیکل دیں گے ہوئے ذلیل ورسوا !!!

    افغانستان کے حوالے سے اتنی خبریں ہیں کہ ہر پانچ منٹ بعد خبر پرانی ہو جاتی ہے ۔ ہاں البتہ ایک قدر ان خبروں میں مشترک ہے کہ یہ خبریں اشرف غنی ، مودی اور جوبائیڈن کی نیندیں حرام کرنے کے لیے کافی ہیں ۔

    ۔ اشرف غنی کے گرد تو ویسے ہی گھیرا روز بروز تنگ ہوتا جا رہا ہے ۔ پر اب تو امریکہ کو بھی لالے پڑے ہوئے ہیں کہ پتہ نہیں جب طالبان کابل پر قبضہ کریں گے تو کابل میں اس کے سفارت خانے کا کیا حشر کیا جائے گا ۔ مودی کی بات کی جائے تو بھارت کی تنصیبات اور جنگی آلات سمیٹے اور لپیٹے جا رہے ہیں۔ کہیں ہیلی کاپٹر تو کہیں بھارت کے جنگی جہاز طالبان قبضے میں لے رہے ہیں ۔ اب اس غم میں امریکہ ہو یا بھارت یا پھر ان کی کٹھ پتلی غنی حکومت سب پاکستان کو مودر الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ ہمارے وجہ سے یہ افغانستان میں رسوا ہوگئے ذلیل وخوار ہوگئے ۔

    ۔ ایک لمحے کے لیے چلیں ایسا مان بھی لیں تو پھر بھی امریکہ ، بھارت اور نیٹو ممالک کو ڈوب مرنا چاہیئے کہ پاکستان ہاتھوں دنیا کی سپر پاورز کو شکست ہوگی ۔۔ سی آئی اے ، ایم آئی 6 ، موساد ، را ۔۔۔۔ ان سب ایجنسیوں کو بھی ڈوب مرنا چاہیئے اگر ایسا ہے تو ۔۔ ان تمام ممالک کی فوج کو بھی چوڑیاں پہنچ لینی چاہیئے ۔ اور ان تمام فرسٹ ورلڈ ممالک کی عوام کو اپنی حکومت کو گریبان سے پکڑ لینا چاہیے کہ انھوں نے ہم کو دنیا میں بدنام کروا دیا ۔۔ کہ بیس سالہ جنگ ، 2.3ٹریلین ڈالرز اور دو لاکھ چالیس ہزار ہلاکتوں کے باوجود افغان حکومت بیس دن بھی طالبان کے سامنے نہ کھڑی ہوسکی ۔

    ۔ اور اگر اس سب کے پیچھے پاکستان ہے تو پھر امریکہ سمیت اس کے تمام حواریوں کو کسی صورت سپر پاور رہنے کا حق نہیں ہونا چاہیئے ۔ جو ایک ملک کی سازش کی وجہ سے ٹریلین ڈالر خرچ کر، بیس سال لگا کر بھی جنگ نہیں جیت سکے ۔ میں آپکو بتاوں کہ یہ سب مغربی میڈیا کے ذریعے پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اور اپنی شکست کو مان لینے کی بجائے ۔ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی ایک مذموم سازش ہے ۔ سچ یہ ہے کہ امریکہ جو ٹریلین ڈالر افغانستان میں لگا کر گیا ہے وہ سب ہوا ہو چکا ہے ۔ امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے جو افغان فورسز کو ٹریننگ دی ۔ وہ ایسی ہے کہ وہ صرف سرنڈر کرنا جانتے ہیں ۔ ابھی تک تین لاکھ تو دور کی بات کسی بھی جگہ تین ہزار افغان فوجی بھی طالبان کا سامنا کرتے دیکھائی نہیں دیے ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ افغان حکومت اور افغان فوج کرپشن میں نمبرون ہے ۔ جو اسلحہ اور پیسہ ان کو ملتا تھا ۔ وہ افغان فوج تک پہنچتا ہی نہیں تھا ۔ یہ بابر سے باہر ہی بیچ دیا کرتے تھے ۔ اب وہ طالبان کے پاس جاتا تھا کہاں جاتا تھا یہ کام سی آئی اے کا تھا وہ پتہ لگاتی ۔کہ americi tax payerکا پیسہ کہاں غائب ہورہا ہے ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ طالبان جس بھی شہر جا رہے ہیں کوئی مذمت ہوہی نہیں رہی ہے ۔ اشرف غنی حکومت کے گورنر یا تو دوسرے ملکوں میں بھاگ رہے ہیں یا پھر طالبان سے معاہدے کررہے ہیں اور جان بخشی کروا رہے ہیں۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ افغان طالبان نے بڑے شہروں پر قبضہ کیا تو مزاحمت ہی نہ ہوئی اور ان کی مقامی انتظامیہ یہ کہتے ہوئے بری الذمہ ہوتی گئی کہ علاقے کے معززین نے خون ریزی سے بچنے کیلئے فوج ہٹانے کی درخواست کی تھی جو قبول کر لی گئی۔ ۔ پھر افغانستان کے قائم مقام وزیر خزانہ تو ملک سے فرار ہوئے ہی ہیں ۔ یہاں تک وہ احسان فراموش نائب صدر امراللہ صالح جیسے لوگ جو صبح شام پاکستان کے خلاف غلاظت بکتے تھے ۔ اب وہ بھی دم دبا کر کابل سے بھاگ چکے ہیں ۔ اب اطلاعات ہیں کہ وہ تاجکستان سے بیٹھ کر ویڈیو پیغام میں آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے ۔ یعنی جلتے ہوئے جہاز سے جیسے چوہے نکل نکل کر بھاگتے ہیں وہ صورتحال بنی ہوئی ہے ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ ہر شہر میں طالبان کا استقبال کیا جا رہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کرپٹ افغان حکومت سے لوگ تنگ تھے ۔ افغان صحافی ہیں bilal sarwayانھوں نے رپورٹ کیا ہے کہ طالبان ہرات کی 207ظفر کارپس میں مہمانوں کی طرح داخل ہوئے ، چائے پی ، قبائلی عمائدین ساتھ تھے ۔ ایک بھی گولی نہیں چلی اور سب نے سرنڈر کر دیا ۔۔ اس صورتحال میں مغرب اور بھارت گھبراہٹ میں اپنے لوگوں کو تو افغانستان سے نکال ہی رہے ہیں ۔ ساتھ ہی مغربی میڈیا اور بھارتی میڈیا بھی بوکھلاہٹ کا شکار دیکھائی دیتا ہے ۔ ایک ایسے انجانے خوف کا شکار دیکھائی دیتا ہے کہ طالبان جب آئیں گے تو پتہ نہیں کیا کریں گے ۔ اب اس ڈر میں وہ مفروضوں پر مبنی ایسی خبریں پھیلا رہے ہیں کہ لوگوں کو گمراہ کیا جائے ۔ اب دو خبریں ہیں ایک کہ طالبان کی تیز پیش قدمی کے پیش نظر امریکہ نے تین ہزار اہلکار افغانستا ن بھیجنے کا فیصلہ کر لیاہے ۔ ان تمام اہلکاروں کو اگلے24سے 48 گھنٹوں کے دوران کابل کے حامد کرزئی ایئر پورٹ پر تعینات کیا جائے گا ۔ ساتھ ہی اگر افغانستان میں ایئر پورٹ کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہوئی تو ایک انفینٹری بریگیڈ کویت میں بھی تعینات کیا جائے گا ۔ جبکہ امریکی فوج اور ایئر فورس کا ایک ہزار اہلکاروں پر مشتمل مشترکہ یونٹ قطر میں بھی تعینات کیا جائے گا۔

    ۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو آسان الفاظ میں یہ سمجھیں کہ امریکہ اور طالبان کا معاہدہ ختم ۔ مجھے فی الحال اس خبر کی خبریت پر شک ہے ۔ کیونکہ امریکہ اس کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ ہاں اشرف غنی اور بھارت کو وقتی خوشی اور حوصلہ دینے کے لیے یہ خبر ٹھیک لگتی ہے ۔ یا کیا پتہ امریکہ اشرف غنی کو تسلی دینے کی کوشش کی ہو کہ ڈٹے رہو اور مرتے رہو ۔ دوسری جانب یہ خبریں بھی چل رہی ہیں کہ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ اور سیکرٹری آف ڈیفنس نے اشرف غنی سے بات کی ہے کہ وہ مستعفی ہوں تاکہ طالبان کو مذاکرات کے لیے راضی کیا جا سکے ۔

    ۔ تو جس چیز سے میں آغاز کیا تھا کہ گروانڈ پر تو امریکہ ، بھارت ، نیٹو اور تمام اتحادی ممالک افغانستان میں ہار چکے ہیں اور اب صرف ایک بیانیے کی جنگ جاری ہے ۔ اور ان سب کا مودا ایک ہی ہے کہ افغان جنگ ہاری ہے تو پاکستان کی وجہ سے ۔۔۔ یہ سب ایک ڈھکوسلا ہے ۔ فریب ہے ، دھوکہ ہے اور پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے ۔۔ صورتحال یہ ہے کہ طالبان مزید پانچ صوبائی دارالحکومتوں غزنی، ہرات،قلعہ نو ،لشکر گاہ اور قندھار پر قبضہ کرچکے ہیں ۔ ۔ بغیر مزاحمت پسپائی پر افغان حکومت نے غزنی کے اپنے ہی گورنر محمد داؤد لغمانی کو کابل آتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے ۔ افغانستان کا تیسرا بڑا شہر اور صوبائی دارالحکومت ہرات بھی طالبان کے قبضے میں ہے ۔ طالبان ٹوٹل انیس کے قریب صوبوں پر قبضہ کر چکےہیں ۔

    ۔ حالات یہاں تک بگڑ چکے ہیں کہ صدر اشرف غنی نے دارالحکومت کابل کو بچانے کیلئے خطے کے ممالک اور غیرقانونی مسلح ملیشیا گروپوں سے بھی التجا کر رہے ہیں۔ کہ آؤ اور ہماری مدد کر دو ۔ ۔ اس وقت افغان حکومت ، امریکہ اور بھارت کے لیے ہر چیز الٹ سمت میں جا رہی ہے اور طالبان امریکہ کی توقع سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ افغانستان پر قابض ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی روکنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔۔ شمال سے مغرب ہر طرف آپکو طالبان کا ہی جھنڈا دیکھائی دے گا ۔ یہاں تک اسماعیل خان جیسے وار لارڈ بھی طالبان کے ہاتھ پر بیعت کرتے اور سرنڈر کرتے دیکھائی دے رہے ہیں ۔ ۔ افغان فوج کی پسپائی کے مناظر کو دیکھیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر وہ تحریک نہیں۔وہ جذبہ نہیں۔ جو طالبان کے جذبے کا مقابلہ کر سکے۔ ۔ افغان فوجی مرنا نہیں چاہتے ۔ طالبان کو دیکھتے ہی دوڑیں لگا دیتے ہیں۔ یہ بات ہے بھی بالکل درست ۔ آخر کیوں وہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کی کٹھ پتلی حکومت کیلئے اپنی جان کی قربانی دیں۔

    ۔ عجیب بات ہے کہ صدر اشرف غنی تین لاکھ پچاس ہزار فوجیوں پر مشتمل طاقت کے ہوتے ہوئے پرانے وارلارڈز سے التجائیں کر رہے ہیں کہ میدان میں اتریں اور حکومت کو بچائیں۔ وہ عوام میں بھی جہاں ممکن ہے۔ اسلحہ تقسیم کر رہے ہیں اور تلقین فرما رہے ہیں کہ طالبان کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں۔۔ سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی فوج وہ بھی مغربی طاقتوں کی تربیت یافتہ اور ان کی مسلح کردہ کہاں گئی؟ ۔ مغربی سٹریٹجک منصوبہ سازوں، دفاعی مفکروں اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے والے دانشوروں کو یہ چیزیں اور سوالات اپنی حکومتوں سے پوچھنے چاہیئے ۔ نہ کہ ہم کو موردالزام ٹہرانا چاہیئے ۔۔ ان کو پوچھنا چاہیے کہ بیس سالہ مغربی جنگ نے افغانستان میں کتنے لاکھ لوگوں کو بے گھر کیا؟

    ۔ چلیں لاکھوں افغانوں کی ہلاکت کی خبروں کی صداقت پرشک کیا جا سکتا ہے۔ لیکن خود امریکی ذرائع چالیس ہزار طالبان کو موت کے گھاٹ اتارنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں عام شہری اس جنگ میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ رات کو دیہاتیوں کے گھروں میں گھس کر حملہ کرنے اور چادر و چاردیواری کی روایتی حرمت کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں کو کیا افغان بھول پائیں گے؟ ۔ اور کیا کابل میں متعین امریکہ کے اشاروں پہ ناچنے والوں کو افغانستان میں خون خرابے کا ذمہ دار قرار نہیں دیں گے؟ ۔ میرے خیال سے افغان حکومت کو بات اس وقت سمجھ آ جانی چاہئے تھی جب صدر ٹرمپ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ خود براہ راست طالبان سے مذاکرات کریں گے۔ کابل کی طرف سے سہما سا احتجاج اور درخواستیں کہ دیکھیں ۔۔۔۔ہمارا کیا بنے گا۔ امریکہ کے فیصلے کو تبدیل نہ کر سکے۔

    ۔ تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ صدر اشرف غنی کو ملا۔ وہ بھی تو طالبان سے بات چیت کو معنی خیز بنا سکتے تھے۔ پر اقتدار کی خواہش اندھا کردیتی ہے۔ آخری وقت تک لڑنے کی جرأتمندی کے بیکار نعرے گھڑنے سے زمینی طاقت کا توازن تو نہیں بگاڑا جا سکتا۔

    ۔ امن معاہدہ ہو یا طالبان کابل کا گھیرائو کرکے دبائو ڈالیں۔ لکھ لیں اشرف غنی کو امریکہ میں پناہ لینا ہی پڑے گی۔ جیسے ہزاروں کی تعداد میں امریکی فوج کے حامی جہازوں میں لاد کر امریکہ اور دیگر ملکوں میں لائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح کسی دن سنیں گے کہ صدر غنی ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔

  • جس کی غیرت نے حضور کے قدموں کو بھی روک دیا, تحریر :خنیس الرحمٰن

    جس کی غیرت نے حضور کے قدموں کو بھی روک دیا, تحریر :خنیس الرحمٰن

    اسلام تیزی کے ساتھ پھیل چکا تھا. میرے نبی ﷺ کو ایک بہادر قوی شخص کی ضرورت تھی. آپ اپنے رب سے دعائیں کیا کرتے کہ یا عمرو بن ہشام دے دے یا عمر ابن خطاب دے دے. اسلام سے خار کھانے والے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی کایا ایسی پلٹی کہ دار ارقم میں پہنچ کر رسول اللہ ﷺ کو خوشخبری سنادی کہ آج آپ کی دعا قبول ہوچکی ہے. عمر آچکا ہے اب ہر طرف اسلام کا بول بالا ہوگا. توحید کی آوازیں گونجیں گی.وہی ہوا حالات بدلے عمر رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے کے بعد حرم جا پہنچے, بیت اللہ میں نماز ادا کی کسی کی جرأت نہ تھی مکہ کے اس جری جوان کا راستہ روک سکے .حضرت صہیب بن سنانؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کیا تو اسلام ظاہر ہوگیا ،انہوں نے علانیہ طور پر اسلام کی دعوت دینا شروع کی ۔ہم نے بیت اللہ کا طواف کیااور بیت اللہ میں نماز پڑھی ۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں جب سے عمرؓ نے اسلام قبول کیا تو ہم طاقتور اور مضبوط ہوتے گئے.
    تقویٰ کا معیار ایسا تھا صحابی ابی بن کعب رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کہ تقویٰ کیا ہے ؟.
    فرماتے ہیں میں جب خطاب کی بکریاں چرایا کرتا تھا راستے میں جو کانٹے پڑے ہوتے اس کاہٹاتا اسی کو تقوی کہتے ہیں ۔ہر محاز پر غزوے میں رسول اللہﷺ کے دائیں بازو بن کررہے. غزوہ بدر میں قیدیوں سے متعلق مسئلہ بنا تو اللہ رب العزت نے بھی سیدنا عمر بھی خطاب کی رائے کو ترجیح دی. اللہ نے سلطنت عطاء کی, بائیس لاکھ مربع میل کے حاکم بنے.سخت گو عمر نرم گوشہ اختیار کرگئے .جب خلیفہ کا تعین کیا جارہا تھا مخالفتیں بڑھنے لگیں ,کئی اصحاب کہنے لگے کہ ابو بکر آپ ہم پر کسی کو خلیفہ مقرر کرکے جارہے ہیں ,آپ نے ساتھیوں کو تسلی دی, وقت نے دیکھا وہ عمر جو سخت گو تو ان کی طبیعت میں نرمی آگئی. خلافت کے بوجھ نے انہیں اپنے اللہ سے مزید قریب کردیا. قحط آجاتا تو جو رعایا کھاتی وہی کھاتے ,ایک دن خادم پنیر لے آیا اس سے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ جب سب مدینے والے کھائیں گے اس وقت میں کھاؤں گا.
    انصاف میں بھی آپ سے اعلیٰ مثال آج تک کوئی نہ قائم کرسکا.مصر کے حاکم عمرو بن عاص کے بیٹے نے غریب آدمی کو نقصان پہنچایا آپ نے عدالت قائم کی بیٹے کو بھی سزا دی اور حاکم مصر کو بھی سزا سنادی .ماتحت کوئی والی اگر اصراف کرتا تو جاکر پوچھ تاچھ کرتے اور اصلاح کرتے. مال غنیمت سے حاصل ہونے والے مال میں ایک دن ہار لایا گیا اٹھا کر قاصد کو واپس کردیا.
    خدا خوفی اتنی تھی کہ کہتے اگر دریا فرات کے کنارے کتا بھی مرجائے تو میں جوابدہ ہوں. ایک دفعہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کے پہاڑ پر تشریف لے گئے، ہمراہ ابوبکر ؓ ،عمرؓ اور عثمان ؓ بھی تھے، اُحد کاپہاڑ لرزنے لگا توحضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قدم مبارک اُحد پر مارتے ہوئے فرمایا: ’’اے اُحد! ٹھہر جا، تجھ پر اس وقت نبی، صدیق اور شہید کے علاوہ اور کوئی نہیں۔‘‘اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ: ’’اللّٰھم ارزقني شھادۃ في سبیلک وموتا في بلد حبیبک‘‘ ۔۔۔ ’’اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت کی موت دینا اور موت آئے تو تیرے حبیب( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے شہر میں آئے ۔‘‘
    آخری ایامِ حیات میں آپؓ نے خواب دیکھا کہ ایک سرخ مرغ نے آپؓ کے شکم مبارک میں تین چونچیں ماریں، آپؓ نے یہ خواب لوگوں سے بیان کیا اور فرمایا کہ میری موت کا وقت قریب ہے۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ ایک روز اپنے معمول کے مطابق بہت سویرے نماز کے لیے مسجد میں تشریف لے گئے، اس وقت ایک درّہ آپ کے ہاتھ میں ہوتا تھا اور سونے والے کو اپنے درّہ سے جگاتے تھے، مسجد میں پہنچ کر نمازیوں کی صفیں درست کرنے کا حکم دیتے، اس کے بعد نماز شروع فرماتے اور نماز میں بڑی بڑی سورتیں پڑھتے۔ اس روز بھی آپؓ نے ایساہی کیا، نماز ویسے ہی آپؓ نے شروع کی تھی، صرف تکبیر تحریمہ کہنے پائے تھے کہ ایک مجوسی کافر ابو لؤلؤ (فیروز) جو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، ایک زہر آلود خنجر لیے ہوئے مسجد کی محراب میں چھپا ہوا بیٹھا تھا، اس نے آپؓ پر تین زخم کاری اس خنجر سے لگائے . وہ شخصیت جس کی غیرت نے حضور نبی اکرم ﷺ کے قدموں کو اس کے محل میں داخل ہونے سے روک دیا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے محل میں چلا گیا.

  • یوم آزادی اور قربانیاں ،تحریر : ارشد محمود

    یوم آزادی اور قربانیاں ،تحریر : ارشد محمود

    آزادی کا لفظ ذہن میں آتے ہی درد کی ٹیسیں بھی اٹھتی ہیں ۔ آزادی اپنے ساتھ ہجرت کے زخم بھی لاتی ہے ۔ آزادی بغیر تکالیف کے ممکن ہے اور نہ ہی اپنے اصل مفہوم میں آزاد ہونا۔ پاکستانی قوم اپنے یوم آزادی کو اس شان و شوکت سے مناتی ہے کہ پوری دنیا میں اس کی دھوم مچی ہوتی ہے ۔ پاکستانیوں کو اپنے اس دن کو منانا بھی اسی شان و شوکت سے چاہیے کہ غلامی سے آزادی تک کا سفر بڑا ہی خوف ناک اور اندوہ ناک بھی تھا ۔ خالی لٹتے لٹاتے ، کٹتے کٹاتے اور اپنوں کے لاشوں کو بغیر کفن دفن آہوں میں دفناتے خونی لکیر کو عبور کرنے کا نام آزادی تھا ۔ غلامی سے آزادی تک کا سفر آخری مغل بادشاہ سے لے کر جنگ آزادی ، تحریک خلافت و دیگر تحاریک سے ہوتا ہوا تقسیم برصغیر پر آکر رک سا گیا ۔ اس جگہ پر مسلمانوں کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ ہم ہندوؤں کے ساتھ نہیں رہ سکتے ۔ مسلمانوں نے برصغیر پر صدیوں حکومت کی تھی اور انگریز کے بعد وہ محکوم بن کر بھی اپنا ماضی نہیں بھول سکتے تھے ۔ اس وقت ہندوؤں نے انگریزوں کا ساتھ دے کر اپنا آپ مضبوط کیا اور پھر جب ایسٹ انڈیا کمپنی و انگریز نے برصغیر چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو ہندوؤں نے سرتوڑ کوشش شروع کی کہ وہ پورے برصغیر پر قابض ہوجائیں۔ یوم آزادی کے روز ہمیں اس وقت کی مسلم قیادت کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انھوں نے دنیا جہاں کی دشمنی مول لی ، خزانوں کو ٹھوکر ماری ، قیادتوں کے خواب چھوڑے اور پھر وہ کردکھایا جو کہ ناممکن حد تک مشکل تھا۔

    قیام پاکستان کا خواب جس قدر طویل تھا اسی قدر پرخطر بھی تھا ۔ جب فیصلے کی امید دونوں طرف بندھ گئی تو خوف و ہراس بھی پھیل گیا ۔ وہ لوگ جو صدیوں سے ایک دوسرے کے ہم ساے تھے ، ایک دوسرے کے ساتھ کھاتے پیتے ، اٹھتے بیٹھتے اور غمی و خوشی میں شریک ہوتے تھے ۔ دشمن بن گئے ۔ یہ ظاہر کرتا تھا کہ مسلم قیادت نے بروقت اور صحیح فیصلہ کیا ہے ۔ ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم و تشدد شروع ہوا ۔ حالات بے قابو ہوے تو ہجرت کے فیصلے شروع ہوے ۔ ہندو بلوائیوں نے انسانیت کے نام پر کلنک کا ٹیکا لگا دیا۔ مسلم قافلوں پر حملے کرتے ، جوان بیٹیوں کو چھوڑ کر سب کو شہید کردیتے ۔ وہ جو بچپن میں ایک دوسرے کے گھروں میں کھیلے تھے وہی آج راکھی باندھنے والی مسلم بہن کو ہوس کا نشانہ بناکر اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے نظر آ رہے تھے۔ قیام پاکستان جہاں شہداء کی مرہون منت ہے وہی پر پاک باز مسلم خواتین کی عزت و آبرو کا بھی مقروض ہے ۔

    آج ہم سب پاکستان میں موجود ہیں کسی بھی قسم کا خوف ہے اور نہ ہی کوئی بوجھ ۔ معاشرے پر نظر دوڑائیں تو معلوم پڑتا ہے کہ تقسیم برصغیر کے وقت دی جانے والی لاکھوں قربانیاں رائیگاں گئی ہیں۔  اس وقت ہندو مسلم جھگڑے تھے ، ہندو ہوس زدہ درندے بلوائیوں کی شکل میں قافلوں کے قافلے تہہ تیغ کردیتے تھے ۔ آج علاقوں میں ، گلیوں اور چوراہوں میں مسلم ہوس کے مارے لوگ پاکستانی بچیوں اور عورتوں کی عزتوں کے درپے ہیں۔ "پاکستان کا مطلب کیا ؟ لاالہ الا اللہ ” کا نعرہ لگانے والے ملک میں صنف نازک کی حفاظت کرنے میں ناکام نظر آرہا ہے ۔ قوانین موجود ہیں ، عمل درآمد کون کرواے ؟ آئیے اس بار جشن آزادی کے موقع پر اپنے آپ سے عہد کریں کہ اپنی بساط کے مطابق پاکستان کو اسلامی تعلیمات کے زیر اثر بنانے کی کوشش کریں گے ۔

  • 2 کروڑ 36 لاکھ ڈالر کی جوتی

    2 کروڑ 36 لاکھ ڈالر کی جوتی

    دبئی میں دنیا کا مہنگا ترین جوتا تیار کیا گیا ہے جس کی مالیت پاس 2 کروڑ 36 لاکھ ڈالر (3 ارب 86 کروڑپاکستانی روپے) ہے-

    باغی ٹی وی : اس زنانہ جوتے میں سونے کی پتری لگائی گئی ہےجبکہ 100 سے زائد چھوٹے ہیرے بھی اس جوتےجڑے گئے ہیں جبکہ دو بڑے ہیرے بھی لگائے گئے ہیں جو اس کے حسن کو چار چاند لگا رہے ہیں جن میں 15 کیریٹ کا ڈی پرفیکٹ قیمتی پتھر بھی شامل ہے.

    دنیا کی یہ سب سے مہنگی جوتوں کی جوڑی مشہورِ زمانہ ’’جادا دبئی‘‘ اور ’’پیشن جیولرز‘‘ نے مل کر تیار کی ہے جسے ’’پیشن ڈائمنڈ شوز‘‘ کا برانڈ نیم دیا گیا ہے اس جوتے کو برج خلیفہ کے ہوٹل میں ڈسپلے کیا گیا ہے۔

    جادا دبئی کی شریک بانی، ماریا مجاری کہتی ہیں کہ ایسی ایک جوڑی کی تیاری میں ان کی کمپنی کو 9 مہینے سے بھی زیادہ لگ گئے کیونکہ یہ کام بہت احتیاط اور نفاست کا متقاضی تھا-

    واضح رہے کہ یہ کمپنی اس سے پہلے بھی ہیروں والے مہنگے ترین جوتے تیار کرچکی ہے البتہ، قیمتی سینڈلز کی اس نئی رینج میں انتہائی نایاب اور منفرد ہیرے استعمال کیے گئے ہیں؛ جن کی بناء پر یہ دنیا کی مہنگی ترین سینڈلز بھی بن گئی ہیں۔

  • افغان مہاجرین، پاکستان سمیت اقوام متحدہ اور یورپی دنیا کے لئے ایک چیلنج .تحریر: محمد مستنصر

    افغان مہاجرین، پاکستان سمیت اقوام متحدہ اور یورپی دنیا کے لئے ایک چیلنج .تحریر: محمد مستنصر

    افغان طالبان اور امریکا کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی رو سے امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد افغانستان میں حکمرانی کے لئے افغان طالبان اور حکومتی افواج کے درمیان جھڑپوں میں شدت آ چکی ہے جس کے نتیجے میں ایک بار پھر افغانوں کی بڑی تعداد ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکی ہے تاہم اس بار جنگی جھڑپوں سے جان بچا کر دیگر ممالک میں پناہ لینے والے افغان مہاجرین کا رخ ماضی کے برعکس پاکستان کی طرف کم ہے اور وہ براستہ ایران، ترکی جانے کو ترجیح دے رہے ہیں اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یورپی ممالک میں خاصی تشویش پائی جا رہی ہے کہ افغان مہاجرین کی بڑی تعداد براستہ ایران ترکی پہنچ کر یورپ کے دیگر ممالک میں بھی پھیل جائیگی اور یوں یورپ کو افغان مہاجرین کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان میں طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان جاری جنگ کے نتیجے میں ہر روز 2 ہزار سے زائد افغان مہاجرین ترکی پہنچ رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس تعداد میں کئی گنا اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ افغانستان سے براستہ ایران افغان مہاجرین کا ترکی پہنچنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ سلسلہ 2016 میں شروع ہوا واضح رہے کہ افغانستان سے ترکی پہنچنے کے لئے افغان مہاجرین کو قریب 3 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے۔

    افغانستان سے ترکی پہنچنے والے افغان مہاجرین کی مشکلات کے حوالے سے جرمنی کی ایک تحقیقاتی تنظیم "فریڈرچ البرٹ فائونڈیشن” نے بتایا کہ ہزاروں افغان مہاجرین افغانستان سے ترکی پہنچنے کے لئے بال بچوں اور خواتین سمیت انتہائی دشوار گزار راستوں پر سفر کرتے ہیں، اس سفر کے دوران نہ تو ان کے پاس کھانے پینے کے کچھ ذیادہ اسباب موجود ہوتے ہیں نہ ہی موسم کی شدت سے بچنے کے لئے ضروری سامان ہمراہ ہوتا ہے۔اففانستان سے ترکی تک کا یہ دشوار گزار راستہ دراصل سمگلنگ کرنے والوں کی دریافت ہے۔ ان راستوں سے تجارت کی غرض سے مختلف اشیاء کی غیرقانونی نقل وحمل کی جاتی ہے اور سمگلرز نے اس راستے پر کئی مقامات پر ٹھکانے بھی بنا رکھے ہیں تاہم اس راستے پر حفاظتی انتظامات اب خاصے سخت کر دیئے گئے ہیں اور صرف انہی خاندانوں کو ایران سے گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے جن کے پاس افغانی پاسپورٹ اور ایران کا ویزہ موجود ہو۔ ترکی پہنچ کر یورپ میں پناہ لینے کے خواہشمند کچھ افغانی خاندان براستہ پاکستان بھی ایران میں داخل ہوتے ہیں مگر اس راستے پر سفری اخراجات کافی ذیادہ اٹھانے پڑتے ہیں اس لئے امیر افغانی خاندان ہی یہ راستہ اختیار کر پاتے ہیں۔ ترکی جانے والے افغان مہاجرین کی آخری منزل ترکی پہنچنا نہیں ہوتا بلکہ وہ سمندری راستوں کے ذریعے یونان سے گزر کر یورپ کے دیگر ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں تاہم افغان مہاجرین کا یہ سفر خطرات سے خالی نہیں ہوتا کیونکہ ترکی اور یونان کے درمیان سمندر عبور کرنے کے دوران کئی مہاجرین جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ دسمبر 2020 میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے مہاجرین کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 14 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین آباد ہیں۔ پاکستان میں افغان مہاجرین کی آمد کا سلسلہ 1979 میں شروع ہوا اور روس کے افغانستان پر حملے کے دوران دس لاکھ افغان مہاجرین نے پاکستان میں پناہ لی تھی۔ 1980 میں اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں نے افغان مہاجرین کی رجسٹریشن اور انہیں امداد کی فراہمی کے لئے پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کئے تھے۔ 1981 سے 1990 کے دوران پاکستان میں رجسٹرڈ ہونے والے افغان مہاجرین کی تعداد 20 لاکھ تھی جس میں صرف ایک سال یعنی سال 1990 کے دوران 12 لاکھ کا اضافہ ہوا اور یہ تعداد 32 لاکھ تک جا پہنچی اور ایک محتاط اندازہ لگایا گیا کہ 5 لاکھ افغان مہاجرین بغیر رجسٹریشن کرائے پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تعاون سے پاکستان کے صوبوں پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 334 مقامات پر مہاجرین کیمپ بنائے گئے۔ 1996 میں جب طالبان نے افغانستان کے علاقوں جلال آباد اور کابل کا کنٹرول حاصل کیا تو 50 ہزار افغان مہاجرین خیبر پختونخوا میں داخل ہوئے اسی طرح 1999 میں جب طالبان نے مزار شریف کا کنٹرول حاصل کیا تو تب بھی ہزاروں کی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان آئے جبکہ سال 2001 میں جب اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تو ان دنوں میں بھی لاکھوں افغان مہاجرین نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں پناہ لی۔

    افغان حکومت کی طرف سے معیشت کی بحالی، نقدی، ضروریات زندگی کی اشیاء اور سفری اخراجات کی ادائیگی پر سال 2002 سے سال 2007 کے درمیان 11 لاکھ افغان مہاجرین واپس گئے تاہم رضاکارانہ طور پر واپسی کا یہ عمل ابھی مکمل ہی نہیں ہو پایا تھا کہ جنگی صورتحال کے پیش نظر اب دوبارہ افغانوں کی بڑی تعداد پاکستان میں داخلے کی خواہشمند ہے تاہم اب ماضی کی طرح بغیر سفری دستاویزات کوئی افغان مہاجر یا افغان مہاجرین کی آڑ میں کوئی شرپسند پاکستان داخل نہیں ہو سکے گا کیونکہ پاک افغان سرحد 2 ہزار 6 سو 40 کلومیٹر کے 90 فیصد حصے پر 13 فٹ بلند خاردار دیواریں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ پاک افغان سرحد کی جدید ترین آلات سے نگرانی کرنے کے ساتھ 100 مختلف مقامات پر چوکیاں بھی بنائی گئی ہیں تاکہ افغان مہاجرین کی غیر قانونی نقل و حمل کو روکنے کے ساتھ شرپسندوں کی دراندازی کے واقعات کا خاتمہ کیا جاسکے۔ افغانستان میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر افغان مہاجرین کو کئی چیلنجز درپیش ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ اور یورپی ممالک اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے پیشگی اقدامات کریں تاکہ دہائیوں پر محیط افغان مہاجرین کی صورت میں انسانی المیہ اور پڑوسی ممالک کو درپیش چیلنجز کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔