Baaghi TV

Category: متفرق

  • سانپ کے کاٹنے پر شہری نے بھی بدلہ لیتے ہوئے سانپ کو کاٹ لیا

    سانپ کے کاٹنے پر شہری نے بھی بدلہ لیتے ہوئے سانپ کو کاٹ لیا

    بھارتی ریاست بہار میں سانپ کے کاٹنے پر ایک 65 سالہ شخص نے سانپ کو کاٹ لیا یہ واقعہ اتوار کو پیش آیا اور وہ پیر کی صبح شہری انتقال کر گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست بہار کے ضلع نلندا میں چانڈی تھانے کے تحت مدھوڈے گاؤ ں کے65 سالہ شہری راما ماہٹو اپنے گھر کے باہر بیٹھا تھا کہ زہریلے سانپ نے اس کے پاؤں پر کاٹ لیا اور قریبی درخت کے پاس چھپ گیا۔

    مقتول کے اہل خانہ نے پولیس کو بتایا کہ راما مہتو ، جو شراب کے زیر اثر تھا ، اپنے گھر کے سامنے بیٹھا ہوا تھا کہ سانپ نے اس کی ٹانگ پر کاٹا جس پر ماہٹو غصے میں آگیا اور بدلہ لینے کے لیے سانپ کو پکڑ کر چبا گیا سانپ کو چباتے ہوئے ، مہاتو کو اس کے چہرے پر 10 سے زیادہ بار کاٹا گیا۔

    رپورٹس کے مطابق شہری کے گھر والوں نے صورتحال دیکھنے کے بعد اسے اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی تاہم دیہاتی نے اسپتال جانے سے انکار کر دیا اور گھر کے اندر جا کر سو گیا۔

    اس کے بعد اس نے سانپ کو نکال کر قریبی درخت پر رکھ دیا ہم نے اسے علاج کے لیے ہسپتال جانے کا کہا لیکن اس نے انکار کر دیا اور سو گیا ماہٹونے دعوی کیا کہ یہ بچہ سانپ ہے اور یہ زہریلا نہیں ہوگا تاہم پیر کی صبح وہ مردہ حالت میں پایا گیا-

  • پانی ہزار نعمت  تحریر:  ام سلمیٰ

    پانی ہزار نعمت تحریر: ام سلمیٰ

    اللہ پاک کی نعمتوں میں اہم نعمت پانی جس کی اہمیت کو ہم اس طرح سمجھ لیں کے ہمارے جسم میں کم از کم 55 فیصد جسم ہے۔ دوسری طرف زمین کی سطح 71 فیصد پانی ہے۔ ہمارے ماحولیاتی نظام میں ایک عام مادہ ، کیا ہمیں اسے محفوظ کرنے کی ضرورت ہے؟
    پانی ایک نایاب اور محدود وسیلہ ہے۔
    یقین کریں یا نہ کریں ، جبکہ ہماری زمین کا 71 فیصد حصہ پانی سے ڈھکا ہوا ہے ، اس پانی کا صرف 3 فیصد حصہ میٹھا پانی ہے۔ اس 3 فیصد میں سے ، صرف 1 فیصد ابھی ہمیں دستیاب ہے ، باقی 2 فیصد گلیشیئرز میں میں بند ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 1 فیصد اکیلے ہی انسانوں ، جانوروں اور پودوں کی زندگی سمیت آبادیوں کے پورے دُنیا کو برقرار رکھنا کے موجود ہے۔ جتنی تیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے ، اگر ہم اسے محفوظ نہیں کرتے ہیں تو ہمارے پاس اس ایک فیصد دستیاب پانی میں پورا کرنا مشکل ہوگا.

    زندگی کے لیے پانی ضروری ہے۔
    پانی کو بچانے کی وجہ اتنی ہی واضح ہے۔ ہمیں زندہ رہنے کے لیے پانی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے نہ صرف ہمیں برقرار رکھنے کے لیے بلکہ ہمارے رہن سہن کو۔ جو کھانا ہم کھاتے ہیں ، فصلیں ، مویشی ، سب میٹھے پانی پر انحصار کرتے ہیں تاکہ مستقبل کے استعمال کے لیے قابل عمل ہو۔

    پانی ضائع کرنے سے دیگر اشیاء کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔کیوں جب سمندری پانی کو پروسیس کر کے استعمال کیا جائے تو وہ کہیں زیادہ قیمت بڑھ جاتی ہے.
    پانی کم ہونے کی وجہ سے ، کچھ اشیاء جن کو اس کی ضرورت ہو پیدا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ، کچھ اشیاء نایاب ہو تی جائیں گی یا ان کی قیمت زیادہ ہو تی جائے گی.

    ہمارے پاس پینے اور نہانے کے علاوہ میٹھے پانی کے بہت سارے استعمال ہیں کپڑے دھونے میں کاشت کاری اور روزمرہ کی اسی طرح کی دیگر سرگرمیاں ہیں جن میں میٹھے پانی کا استمعال ہے.

    ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی پانی ضروری ہے۔
    جیسے کے ہمیں معلوم ہے کے ہمارے نباتات اور حیوانات کو زندہ رہنے کے لیے میٹھے پانی کی ضرورت ہے اگر ہم پانی کا استعمال مناسب کریں گے تو ان کے لیے بھی پانی بچا سکیں گے۔

    ہمیں میٹھے پانی کے استمال پر توجہ رکھنی ہوگی اور اس ضائع ہونے سے محفوظ کرنا ہوگا اور اس میں ناکامی ہماری آگے آنے والی نسلوں کے لیے نقصان دے ہوگی.پانی واضح طور پر ایک اہم ضرورت ہے ۔ جتنا ہم پانی کو بچائیں گے ، زمین اتنی ہی زیادہ آباد ہوگی۔
    پانی کا تحفظ اپنے گھر سے شروع کریں۔ پانی کی کھپت کو کم کرنے کے لیے چھوٹے طریقوں کو اپنانے سے ، ہم اجتماعی طور پر طویل عرصے میں اپنے ماحول اور کمیونٹی پر بڑا اثر پیدا کرنے کے قابل ہو سکیں گے انشاء اللہ.

    @salmabhatti111

  • میرے قائد محمد علی جناح  تحریر: مدثر حسین

    میرے قائد محمد علی جناح تحریر: مدثر حسین

    قائد اعظم محمد علی جناح جس نے ہندوستان کے بکھرے ہوئے مسلمانوں کو ایک الگ آزاد اور خودمختار ریاست کا تحفہ دیا ویسے تو جدوجہد آزادی تو 1857 میں ہی شروع ہو چکی تھی۔ مگر ہر بار کی طرح اس قوم کو تقسیم کیا جاتا رہا جدوجہد آزادی میں مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔لیکن اس وقت ان کو کوئی ایسی قیادت نہ مل سکی جو متحد کر کے جدوجہد آزادی کا آغاز کرے بالآخر ایک عظیم انسان کی صورت میں ایک لیڈر قائداعظم محمد علی جناح مل گیا۔

    جو ہندوستان کے مسلمانوں کا اور علامہ محمد اقبال کے خواب کی تعبیر مکمل کرنے کے لیے کافی تھا۔ گویا اس خواب کی تعبیر کا وقت آن پہنچا قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی سیاسی بصیرت کے ذریعے مسلسل جدوجہد کی وہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کے مسلمان اب کبھی بھی انگریزوں کی غلامی نہیں کر سکتے۔

    اور نہ ہی ہندوستان کے دوسرے مذاہب کے ساتھ مسلمان اکٹھے رہ سکتے ہیں پس یہی وجہ تھی کہ دو قومی نظریہ پیش کر دیا گیا جس میں کہا گیا ہندو اور مسلمان اب اکٹھے نہیں رہ سکتے اس بات کی نفی کبھی بھی نہیں کی جا سکتی آج ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہے۔ کہ اس وقت ایک الگ ریاست کا قیام کتنا ضروری تھا۔

    اس وقت دوراندیش لیڈر یہ جان چکے تھے مسلمانوں کی آزادی ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ان کی آنے والی نسلیں محفوظ رہیں گی۔

    ہم قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ اس جدوجہد میں شامل پوری قوم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی قربانیوں کی داستانیں ہم پڑھتے اور سنتے آ رہے ہیں۔ اور جدوجہد آزادی کی داستانیں اتنی درد ناک ہیں کہ پڑھتے پڑھتے آنکھیں آشک بار ہو جاتی ہیں۔

    ہندوستان کے مسلمانوں نے بھی ایک تاریخ رقم کی اپنی قربانیوں کی ہماری علماء کرام نے جو اپنی جانوں کے نزرانے پیش کیے وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ کلمہ حق بلند کرتے کرتے سولی پر چڑ گئے۔

    ان قربانیوں کی بدولت آج ہم آزاد اور خودمختار قوم ہیں اے قائد اعظم محمد علی جناح تیرا اس قوم پر احسان ہے احسان جسے ایک پہچان دی جسے ایک نام دیا پاکستان کا قیام ایک انقلاب تھا۔آو آج ہم ایک عہد کریں دشمن جتنا بھی طاقتور اور چالاک کیوں نہ ہو ہمیں کبھی ہار نہیں ماننی اور کبھی بھی طاقتور کے سامنے اپنا سر نہیں جھکانا نہ گھٹنے ٹیکنے ہیں مقاصد کے حصول کے لئے قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔

    اس وقت کے مسلمانوں کی قیام پاکستان کے لیے دی جانے والی جانی و مالی قربانیوں کے نتیجے میں آج ہماری نسلیں آزاد، خودمختار اور محفوظ ہیں اے بابائے قوم محمد علی جناح تیرا نام تاقیامت چمکتا رہے گا آپ کی قبر پر رحمتوں کا نزول ہوں اللہ تعالٰی آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں اور اللہ پاک آپ کی مغفرت فرمائیں

    آمین ثم آمین یا رب العالمین

    @EngrMuddsairH

  • پاکستان کیلئے ہر دم حاضر گمنام ہیروز ! تحریر احسن علی بٹ

    پاکستان کیلئے ہر دم حاضر گمنام ہیروز ! تحریر احسن علی بٹ


    آج کل جہاں دشمن ہمارے پیارے ملک پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں وہاں ہمارے گمنام ہیروز اپنے وطن پاکستان کے دفاع کیلئے ہر دم تیار ہیں آج میری گمنام ہیروز کی مراد وه تمام محب وطن پاکستانی ہیں جو بے لوث ہوکر اپنی مدد اپ کے تحت دشمن کی سوشل وار کا مقابلہ کر رہے ہیں اور دشمن کو لاجواب کر رہے ہیں یہ تمام لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں جو اپنے پیارے وطن کے لیے ہر دم حاضر ہوتے ہیں یہ سوشل میڈیا کی جنگ (وار) لڑنا بہت اہم ہے دشمن ممالک ہمارے ملک کے خلاف عالمی سطح پر جھوٹی خبرے پھیلاتا ہے تاکہ پاکستان سے دوسرے ممالک نفرت کریں اور پاکستان کی عزت و وقار میں فرق آجائے لیکن اب ایسا نہیں چلے گا الحمداللہ ہماری نوجوان نسل اب میدان میں اگئی ہے اور دشمن کی ہر سازش کو بے نقاب کرنے کیلئے تیار ہے خاص کر ہمارا ہمسایہ ملک بھارت پاکستان کے خلاف غلط معلومات سوشل میڈیا پر پھیلا رہا ہے کہ پاکستانی شدت پسند لوگ ہیں پاکستانی امن نہیں چاہتے اور اس طرح کی بہت سی فیک چیزے جو بھارت اپنے میڈیا پر چلا رہا ہے اور پاکستان کے خلاف دنیا کو اکسانے کی کوشش کررہا ہے لیکن اب مجھے فخر ہے کہ نوجوان نسل جن کو میں گمنام ہیروز کا لقب دیتا ہوں یہ بھارت کی سازشوں کو چکنا چوڑ کررہے ہیں اور پاکستان کا حقیقی اور مثبت چہرہ دنیا کے سامنے لارہے ہیں کہ پاکستانی امن پسند لوگ ہیں اور ہم امن چاہتے ہیں ہم انتہا پسند نہیں ہیں ہم خطے کے امن پر ہی یقین رکھتے ہیں
    بھارت جتنی مرضی اب پاکستان مخالف جھوٹی کمپين چلوا لے بھارت کو اب منہ کی کھانی پڑے گی کیوں کہ اب پاکستانی یوتھ ان کی چھترول اب سوشل میڈیا وار میں بھی کرے گی اور پاکستان کا نام جو بدنام کرنا چاہے گا اس کو یہ گمنام ہیروز بے نقاب کریں گے اور مودی جو کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے اور کشمیریوں کے حقوق ان سے چھین رہا ہے اور ظلم کی انتہا کر رہا ہے پاکستانی گمنام ہیروز اس پر خاموش نہیں رہے گے مودی اور بھارتی فورسز کے ظلم کو بے نقاب کرتے رہے گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ مودی حقیقت میں انتہا پسند ہے اور آج دو سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے کہ جموں کشمیر میں مودی اور بھارتی فورسز نے کرفیو لگایا ہوا ہے اور کشمیر میں ناانصافی کررہے ہیں کہاں گے انصاف فراہم کرنے والے عالمی ادارے کو انصاف کے دعوے دار ہیں اور کہاں گے ہیومن رائٹس کہاں گے عالمی قوانین کیوں بھارت کے آگے عالمی ادارے خاموش ہیں کیا وجہ ہے ؟؟
    ہمارے گمنام ہیروز نے جس طرح کشمیر کے معاملے پر آواز اٹھائی اور کشمیر میں ہونے والے ظلم کو دنیا کے سامنے رکھا اس پر تمام کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں اب وقت ہے کہ ہم ایک قوم بن کر اپنے دشمن کا مقابلہ کریں اور دشمن کے جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈا کو اسی طرح بے نقاب کرتے رہے پاکستان کا جھنڈا ہمشہ بلند رہے گا اور ہم ہر دم وطن کے دفاع کیلئے حاضر رہے گے
    آئیں آج عہد کرتے ہیں کہ اپنے پیارے وطن پاکستان کو جب جب ہماری ضرورت پڑے گی اسی جذبہ سے اپنے ملک کی خدمت کرے گے جس طرح سے ہمارے اباؤ اجداد نے اس وطن کو حاصل کرنے میں قربانیاں دی ہیں اور انکی بے پناہ جدوجہد اور قربانیوں کے بعد یہ پیارا وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان ملا اور میری للّه پاک سے دعا ہے کہ ہمیں سب کو اپنے عظیم ملک پاکستان کی خدمت کرنے کیلئے جذبہ عطاء فرما
    پاکستان زندہ باد!
    Twitter Account : ‎@AhsanAliButtPTI

  • یہ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے   تحریر  : راجہ حشام صادق

    یہ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے تحریر : راجہ حشام صادق

    ایک فرق تو ہر انسان کو نظر آ رہا ہے کہ ماضی کا پاکستان اور آج کا پاکستان ماضی کے دور سے بہت بہتر ہے اب ہماری قوم کے اندر جو شعور آ رہا ہے ایسا ماضی میں نہ تھا۔ اب ہر پاکستانی کو اس کے حقوق کا پتہ چل چکا ہے۔

    آج کے اس سوشل میڈیا کے دور میں کوئی ظالم کسی پر ظلم یا کسی مظلوم کو دبا نہیں سکتا یہی تبدیلی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔ آج کے پاکستان میں عوام میں اتنا شعور تو آیا کہ وہ ظالموں اور جابر لوگوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔ کوئی آٹھ سال پہلے پشاور جانے کا اتفاق ہوا دل میں ایک ڈر سا تھا۔ دل اور ذہن میں ایک خوف تھا کہ آئے روز جس شہر کے اندر دھماکے ہوتے ہیں۔ نہ جانے کس مقام پر زندگی تمام ہو جائے سانسیں ساتھ چھوڑ جائے ایسے ماحول میں کون کس پر یقین کرئے سامنے سے آنے والے شخص پر بھروسہ کیسے کرئے کہ وہ پاس آ کر کہیں بارود ہی نہ بن جائے اور اپنے ساتھ کئی معصوم جانوں کو اڑا کر نہ لے جائے۔

    اللہ پاک کا شکر ہے کہ وقت گزرا حالات بدلے قوم کے ذہنوں سے دہشتگردی کا خوف ختم ہوتا گیا افواج پاکستان کی قربانیوں سے اس ملک میں امن لوٹا۔
    اور آج اللہ پاک کے فضل و کرم سے الحمداللہ یہ ملک پاکستان تیرا اور میرا پاکستان محفوظ ہے ماضی کی تمام جمہوری حکومتوں نے اس ملک پاکستان کے اندر دہشتگردی کروائی ملک دشمنوں کے ہاتھوں ہمارے حکمران بکتے رہے ملک میں افرا تفری اور قتل و غارت کی قیمت وصول کرتے تھے۔ایسے سیاستدانوں کے ساتھ نفرت کی وجہ بھی یہی تھی۔ اور شاید میری طرح آپ نے بھی ان ماضی کی پارٹیوں کو چھوڑ کر ایک ایسی جماعت ہا تحریک کے سربراہ کا ساتھ دیا جس کی حب الوطنی پر آج بھی کسی کو کوئی شک نہیں جس لیڈر نے انصاف کا نعرہ بلند کیا بائیس سال جدوجہد کی اور اقتدار میں آیا ایسے لیڈر کا ساتھ میرے اور ملک کے لاکھوں نوجوانوں نے بغیر کسی مفاد کے دیا بغیر کسی عہدے یا ذاتی فائدے کے دن رات محنت کی ان ہی نوجوانوں کے ووٹ اور بہادری کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ وطن ایک دلیر ایماندار اور مضبوط جمہوری حکومت کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔

    ہزاروں نوجوانوں نے اس تحریک کو کامیاب کرنے کے لئے قربانیاں دیں
    یہ اس ملک کے نوجوانوں کا ہی حوصلہ تھا کہ کبھی آنسو گیس کا سامنا کیا تو کبھی لاٹھی چارج کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنا کر ڈرایا گیا
    سینے پر گولیاں کھائیں تعلقات ختم کیئے لیکن اس ملک کی بہتری کے لئے ڈٹے رہے۔ آج بھی اس ملک کا نوجوان اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑا ہے۔

    آج کا نوجوان جس نے اس پیارے وطن کا سوچا جس کے اندر آج بھی لڑنے کا جذبہ موجودہ ہے جو آج بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس کی یہ محنت اور جدوجہد کا پھل آنے والی نسلیں کھائیں گی۔ مشکل کی اس گھڑی میں جو نوجوان اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑے ہیں مورخ ان کو محب وطن پاکستانی لکھے گا تاریخ میں ان بہادروں کا نام سنہرے حروف میں لکھا جائے گا ۔یاد رکھیں ظالم اور جابر حکمرانوں کے خلاف اعلان جنگ کرنے والوں کو تاریخ ہمیشہ بہادر کے نام سے پڑھے اور لکھے گی ۔

    ان شاء اللہ ملک پاکستان کو تا قیامت قائم و دائم رہنا ہے۔ وطن کی حفاظت کے لئے قربانیاں دینے والے وطن کے بیٹوں کو سلام ان کی جرات کو سلام جنہوں نے اس وطن کی سرحدوں پر لڑ کر قربانی دیں یا اس سسٹم کے خلاف کھڑے ہوئے جو ماضی کے حکمرانوں نے بنا رکھا تھا پانچ سال تیرے پانچ سال میرے
    میڈیا پے تم مجھے برا بھلا کہو میں تمہیں کہوں گا پر شام کا کھانا ایک سات ہو گا یہ جمہوریت تھی۔

    نوجوانوں اور اس وطن کے دلیر بیٹوں کے ہوتے ہوئے کوئی اس ملک کو کوئی شکست نہیں دے سکتا
    تو نوجوانوں یہ جنگ ابھی جاری ہے بس تم نے کھبرانا نہیں ہے ابھی مشکل وقت ہے جو کھڑا رہے گا تاریخ میں امر ہو جائے گا
    یہ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے یہ سبز ہلالی پرچم یونہی صدا بلند رہے۔ ان شاء اللہ

    اللہ پاک آپ سب کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • واٹس ایپ  اور ہمارا استعمال .تحریر: امان الرحمٰن

    واٹس ایپ اور ہمارا استعمال .تحریر: امان الرحمٰن

    محترم پاکستانیو دُشمن اپنا ہر حربہ استعمال کر رہا ہے اور جدید دور میں جدید ہتھیاروں سے پاکستان کہ خلاف ہر محاذ پر متحرک ہےاور یہ وہ ہتھیار نہیں کہ بندوق ، ٹینک یا ہوائی جہاز لیکر ہم پر حملہ آور ہے، ہم اب ففتھ جنریشن وارجیسی جنگ کے نرغے میں ہیں لیکن ایسے میں ہمیں انفارمیشن وار کا استعمال کر تے ہوے ہمیں ففتھ جنریشن وار کو اچھے سے لڑنے کی پوزیشن بنانا ہے۔
    دشمن پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے اِس دور میں انفارمیشن وار کو بھرپور انداز میں سوشل میڈیا پرمتحرک ہے۔ اور ایسے میں پاکستانی سوشل میڈیا کے بے شُمار پاکستانی بھی دُشمن کے سامنے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہُوے دشمن کو جواب دے رہے ہیں لیکن پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ زیادہ ایکٹو ٹویٹر اور فیسبک پر جواب دے رہے ہیں لیکن یہ ماننا پڑے گا کے واٹس ایپ پر ہم اُتنا ایکٹیو نہیں ہیں اور نہ ہی حکومت اِس طرف توجہ دیتی دکھائی دے رہی ہے ۔

    دُشمن واٹس ایپ پر فرقہ وارانہ لٹریچر پھیلا رہا ہے اور مختلف واٹس ایپ گروپوں میں سُنیوں کو شیعہ کے خلاف جھوٹ پر مبنی اور شیعہ کہ خلاف جُھوٹا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اور ہمارے بہت سے وہ پاکستانی اِس جھوٹے پروپیگنڈے سے پاکستانیوں کے دمیان تفرقہ ڈالنے کیلئے بہت زیادہ کام کر رہے ہیں جو بنا تحقیق کےایسا جھوٹا مواد آگے شیئر کرتے ہیں اور اِسی طرح دشمن کا پھیلایا جھوٹا پروپیگنڈہ واٹس ایپ پر بہت جلد بہت سارے لوگوں تک پہنچ جاتا ہے کیسے۔۔؟

    وہ اِس طرح کے واٹس ایپ ہر بچے کے موبائل میں انسٹال ہے اور چھوٹے بچوں کے ذہن کچے ہوتے ہیں اور بحیثت مسلمان ہمارے بچے جلد طیش میں آجاتے ہیں اور اِس لٹریچر کو جلدی جلدی اپنے دوستوں کو کزن وغیرہ کو سینڈ کرتے ہیں اور وہ لٹریچر جلد ہی سینکڑوں ہزاروں پاکستانی بچوں تک پہنچ جاتا ہے لیکن بڑے بھی کم نہیں ہیں وہ بھی یا تو جزبات میں یا کم علمی کی وجہ سے بنا تحقیق کیئے آگے شیئر کر دیتے ہیں تو لہٰذا ہمیں اِس چیز پر خاص طور پر بہت ذیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے اورایسے مواد کو روکنا انتہائی ضروری ہے ۔

    ہمیں چاہئے کے اپنے بچوں اور بڑے دوستوں کو اپنے عزیز و اقارب کو اِس مسلہ پر سنجیدگی سے غور کرنا ہے بلکہ یہ ذہن نشین کر لیں کہ اِسے روکنا بھی ہے کیوں کے نبیﷺ نے فرمایا ہے کے جب تم تک کوئی ایسی بات پہنچے تو پہلے تحقیق ضرور کر لیا کرو کے کیا یہ بات سچ ہے۔؟ اور جب تسلی کرلو تو تب وہ بات آگے پہنچاؤ۔ لیکن یہاں ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل ہے جیسے ہی کچھ رسیو ہوتا ہے پڑھتے ساتھ آگے شیئر کر دیتے ہیں اور جس سے ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ ہم انجانے میں گناہ بھی کر رہے ہوتے ہیں جو ہمارے ایمان کیلئے بھی خطرہ ہے اور مُعاشرے کے بگاڑ کیلئے بھی۔ کیوں نہ ہم خود سے آج ایک عہد کریں کہ ہم نے اب ایک ذمہ دار شخص بن کر اپنے ملک اور مُعاشرے میں بہتری لانے میں اپنا حصہ ڈالنا ہے اور ہر اُس بری بات کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے اور ہر اچھے اور مثبت تحریر کو چاہے وہ پوسٹ کی شکل میں ہو یا کسی تحریر میں میں اچھائی کو عام کروں گا اور بُری اور ایسی کسی بات کام کا حصہ دار نہیں بنوں گا ، یقین کیجئے یہی بگاڑ جو ہمارے معاشرے میں ایک عام اور معمولی حصیت اختیار کر چُکا ہے یہ ختم ہوجائے گا جیسے قطرہ قطرہ پانی سے دریا بن جاتا ہے ایسے ہی ہم قطرہ قطرہ کر کے اپنے اِرد گرد پھیلتی برائی اور دشمن قوتوں کے منفی پروپیگنڈے کا ناکام بنادیں گے اِن شاء اللہ ۔

    ہمیں ایک ذمہ دار مسلمان اور پاکستانی بن کر اِسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہُوے اپنانا ہے اور اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔
    پاکستان کی آرمی پاکستان کے بارڈرز کی حفاظت کر رہی ہے اور ہم سولین پاکستانیوں کو اپنے اندر کہ حالات سنبھالنا ہے ایسے ہی اپنے ارد گرد میں دُشمن کو جواب دینا ہے جو ہمار اندر گُھسا بیٹھا ہے اور ہم نے اُسے حکمت سے اپنے جزبات کو قابو رکھتے ہُوے تگڑا جواب دینا ہے اِن شاء اللہ
    پاک افواج زندہ آباد
    پاکستان پائندہ آباد

  • کیا دانتوں کی صفائی کروانی چاھیے؟(4) تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    کیا دانتوں کی صفائی کروانی چاھیے؟(4) تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹویٹر ھینڈل : @nabthedentist

    بطور ڈینٹل سرجن کلینک پر جب ھم کسی مریض کو دانتوں کی صفائی کا مشورہ دیں تو سب سے پہلی بات جو سننے کو ملتی وہ یہ کہ دانتوں کی صفائی سے تو دانت خراب ھوجاتے میں نے سنا کسی نے صفائی کروای تو اسکے دانت ھلنا شروع ھوگئے کوی کہتا پڑوسی نے کروائ اسکے دانتوں میں ٹھنڈا گرم آگیا تو آئے آج اس پر تفصیلی بات کرتے کہ

    کیا دانتوں کی صفائی کروانی چاھیئے؟
    اور اگر کروانی چاھیئے تو کب اور کیوں کروانی چاھیئے؟
    کیا دانتوں کی صفائی کا کوی نقصان ھے؟
    کیا صفائی کے بغیر بھی کوی حل ھے؟
    صفائی اور رگڑائی میں فرق کیسے سمجھنا چاھیئے؟
    کیا صفائی سے دانت سفید ھوجاتے؟
    تو ایک ایک کرکے ان سب پر مختصرا بات کرتے
    تو اس سب کا جواب کچھ یوں ھے کہ جی بلکل اگر آپ کے دانتوں کو صفائ کی ضرورت ھے اور آپکا ڈینٹل سرجن یہ سمجھتا ھے کہ دانتوں کی صفائی کروائے بغیر مسئلے کا حل نھیں ھوگا تو دانتوں کی صفائی لازمی فی الفور کروایئں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ پائ جانے والی بیماری مسوڑوں کا انفیکشن یعنی Gingivitis ھے جسکی وجہ سے مسوڑوں سے خون آنا اور پھر اسکے بعد دانتوں پر Plaque اور پھر Calculus کا لگ جانا جوکہ پتھر نما ھوتے یعنی Periodontis کی بیماری لاحق ھوجاتی یہ نا صرف مسوڑھے خراب کرتی ان سے خون نکلنے کا باعث بنتی بلکہ آگے چل کر دانتوں کا ھلنا اور نکلنے تک نوبت آجاتی جسم کے دوسرے حصے پر اسکے مضر اثرات الگ دل کے مسئلے معدے کی خرابی خون کی کمی ھیپاٹائٹس کو خراب کرنے اور کئ موذی مرض کا باعث بنتی اس سے اندازہ لگایا جاسکتا کہ جس مسئلے کو ھم سب سے کم تر سمجھتے وہ کتنے بھیانک رنگ روپ اختیار کرسکتا اسلئے اگر آپ کے دانتوں میں مسوڑوں میں مسئلہ ھو تو فوری ڈینٹل سرجن سے رجوع کریں اگر وہ دوائ اور oral hygiene کو برقرار رکھنے لئے ماؤتھ واش اور ٹوتھ پیسٹ دینا ھی کافی سمجھے تو ٹھیک نھیں تو لازمی صفائی کروایئں

    اب آتے ھیں کیا صفائی سے دانتوں کو کوی نقصان ھوتا اسکو جاننے لئے ھم کو سمجھنا ھوگا کہ اگر گھر گندا ھو تو اسکو صاف کرنا ضروری ھی نھیں مجبوری ھوتا نھیں صاف کرینگے تو بیماریاں پھینلنگی ایسے ھی منہ بھی ایک گھر ھے اسکی صفائ میں کوی کمی رہ جائے یا کسی بیماری وجہ سے وہاں مسئلے آجائیں تو اسکی صفائ بھی اتنی ھی ضروری اب جب صفائ ھوتی تو اس سے دانتوں کے درمیان جو پتھر نما گندگی ھوتی جس نے مسوڑوں کو زخمی بھی کیا ھوتا اور نیچے بھی دکھیلا ھوتا انکو صاف کیا جاتا تو ظاہر سی بات وقتی طور پر جگہ خالی معلوم ھوتی جس سے کئ لوگوں کو گمان ھوتا کہ Spaceبن گئی حالانکہ ایسا نھیں اور اگر واقعتا ایسا ھو بھی جائے تو یہ اس سے لاکھ گنا بہتر کہ منہ میں آپ بیماریوں کے ڈھیر لئے پھریں دوسرا کہ دانتوں میں ٹھنڈا گرم آجاتا ایسا وقتی طور پر کبھی کبھی ھوتا جب ھم الٹرا سانک مشین سے صفائ کرتے تو گرم مشین ناڑوں کو sensitize کردیتے ماوتھ واش اور ٹوتھ پیسٹ کا استعمال اس مسئلے کو ایک آدھ ھفتے میں ٹھیک کردیتا یہ نارمل ھے اسکا آنا کوی معنی رکھتا لیکن اصل ایشو تب ھوتا جب مریض کسی جعلی ڈاکٹر کے ہاتھ لگتا اور وہ صفائی کے نام پر سب دانتوں کی رگڑائی کردیتا جس سے دانتوں کی اوپر کی سطح اتر جاتی مریض خوش ھوتا کہ میرے دانت سفید ھوگئے مگر وہ بیچارا ساری زندگی لئے sensitivity لیکر چلا گیا ھوتا ھے یاد رکھیں دانتوں کی صفائی صرف گندگی ھٹاتی مسوڑوں کو مضبوط کرتی دانتوں کو مسوڑوں کو صحت کو بچاتی لیکن دانتوں کو سفید یا کوی نیا رنگ نھیں دیتی جو مریض کے دانتوں کا اصل رنگ ھے وھی اسکو ملتا دانتوں کی صفائی شوگر کے مریض اور دوسری بیماریوں سے جڑے لوگوں کو ھر 6 ماہ بعد کرانی چاھیئے اور جو صحت مند لوگ ھیں انکو صفائی کے بعد ھر 6 ماہ بعد چیک اپ کرایئں ضرورت پڑی تو ٹھیک نھیں تو ضرورت پر ھی کروانی چاھیئے
    یاد رکھیں صفائی نصف ایمان ھے

  • انسانی دانتوں والی مچھلی کے انٹرنیٹ پر چرچے

    انسانی دانتوں والی مچھلی کے انٹرنیٹ پر چرچے

    امریکہ کی ریاست شمالی کیرولائنا میں ایسی مچھلی پکڑی گئی ہے جس کے دانت حیران کن طور انسانی دانتوں جیسے دکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی ریاست شمالی کیرولائنا میں ایک شخص نے مچھلیاں پکڑنے کے لیے جال پھینکا کے اس دوران اس کے ہاتھ انسانی دانتوں والی مچھلی بھی آ گئی مذکورہ شخص نے مچھلی کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔

    رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر لوگوں کی جانب سے مچھلی کو دیکھ کر کافی حیرت کا اظہار کیا گیا ہےمچھلی کی شناخت بطور شیپس ہیڈ فش ہوئی ہے مچھلی کا منہ بھیڑ جیسا نظر آتا ہے جب کہ یہ اپنا شکار پکڑنے کے لیے تہہ در تہہ موجود دانتوں کا استعمال کرتی ہے مچھلی کا نام بھیڑ کے منہ کی طرح دکھائی دینے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

    رپورٹ کے مطابق عجیب الخلقت مچھلی پکڑنے والے مارٹن نامی شخص نے بتایا کہ وہ شیپس ہیڈ فش ہی پکڑنے آئے تھے جب ان کا سامنا انسانی دانتوں والی مچھلی سے ہوا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ مچھلی کو پکڑنے کا عمل کافی دلچسپ رہا جب کہ اس کا ذائقہ بھی کافی منفرد اور لذیذ تھا۔

  • ہوائی فائرنگ پر دلہن نے شادی سے انکار کر دیا

    ہوائی فائرنگ پر دلہن نے شادی سے انکار کر دیا

    بھارتی ریاست اترپردیش میں ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں چچا کے زخمی ہونے پر دلہن نے شادی سے انکار کر دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع میرٹھ میں دلہے والوں کی جانب سے ہوائی فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں دلہن کے چچا زخمی ہو گئے فائرنگ سے چچا کے زخمی ہونے پر 22 سالہ دلہن ارم نے شہزاد نامی دلہے کے ساتھ شادی سے انکار کر دیا۔

    دلہن نے کہا کہ میں اس شخص سے شادی کیسے کر سکتی ہوں جس کے مہمانوں کی فائرنگ سے میرے چچا زخمی ہو گئے باراتیوں کا میرے خاندان کے ساتھ برتاؤ ٹھیک نہیں تھا اور جب میں ان کے ساتھ جاؤں گی تو یہ میرے ساتھ نہ جانے کیسا رویہ اختیار کریں گے۔

    دولہا اپنی ہونےوالی بیوی کودیکھنےکےبعد موقع سےکیوں فرارہوگیا؟

    رپورٹس کے مطابق دلہن ارم کے شادی سے انکار کے بعد اس کے گھر والوں نے دلہا کی گاڑی توڑنے کے بعد دلہے کے رشتے داروں کی پٹائی کی اور انہیں کچھ دیر کے لیے یرغمال بھی بنالیا تھا بعدازاں پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورت حال پر قابو پایا اور واقعے کا مقدمہ درج کر لیا۔

    پولیس کا کہنا تھا کہ تقریب کی ویڈیو کی مدد سے فائرنگ کرنے والوں کی شناخت کی جائے گی تاہم دلہا شہزاد اور اس کے بھائی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اگر لائسنس یافتہ اسلحے سے فائرنگ کی گئی ہے تو اسلحہ لائسنس کی منسوخی کی رپورٹ بھیجی جائے گی دلہن کے چچا کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    پونے: دلہن کی گاڑی کے بونٹ پر بیٹھ کر شادی میں انٹری ، ویڈیو وائرل

  • ملک میں ہر قسم کے جرائم میں اضافہ۔! تحریر: رضیہ سلطانہ

    ملک میں ہر قسم کے جرائم میں اضافہ۔! تحریر: رضیہ سلطانہ

    گزرتے وقت کے ساتھ ماد روطن میں ہر قسم کے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خواہ وہ چوری ڈکیتی ہو، اغوا برائے تاوان، بھتہ وصولی یا پھر لڑکیوں کو اغوا کر کے انہیں فروخت کرنے کا مکروہ دھندہ۔ جنسی زیادتی کے علاوہ منشیات فروشی سے نوجوان نسل کو اس منحوس لت میں مبتلا کروا کر ان کی وڈیوزکے ذریعے قابل اعتراض بنا کر انہیں بلیک میل بھی کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے جو نہ صرف گھناؤنہ اقدام ہے بلکہ خوفناک بھی ہے۔ اس لحاظ سے تمام صوبے غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ حکومت کا اپنا کردار ہے جو عوام کو سہولیات پہنچانے کی بجائے اپنی پوری توجہ اپوزیشن پر الزام تراشی پر ہی رکھے ہوئے ہے۔ جبکہ دوسری طرف تمام اپوزیشن جماعتوں کا بھی یہی حال ہے۔ وہ سب کے سب اپنا ہی نہیں بلکہ ملک و قوم کاقیمتی وقت برباد کر کے عوام کو در بدر کرا رہی ہیں۔ ملک نہ ہوا بلکہ جنجال پورہ بن چکا ہے۔ آخر حکومت اور حکمراں کب سنجیدہ ہوں گے اوراپنی مظلوم عوام کو تحفظ فراہم کرائیں گے۔ تین برسوں سے یہی تماشاجاری ہے۔ شہری اس صورت حال سے بہت پریشان اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ پالیسی میکر بھی اس اہم باریکیوں کی جانب توجہ دیں جن پر بار بار ایک پیج پر ہونے کا واویلہ کیا جاتا ہے۔ کسی بھی حکومت کے لیے اس کے اقتدار کے تین برس کم نہیں ہوتے۔ کرنے والوں کے لیے پندرہ دن بھی بہت ہوتے ہیں مگر اس کے لیے قوت ارادی کا فعال ہونا ضروری ہے۔ تحریک انصاف اب اپنے انصاف کے تقاضے پورے کرے۔ قوم کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے۔ عوام کو مایوس نہ کیا جائے۔!! ٭