Baaghi TV

Category: متفرق

  • ‏زرائع کامیابی  تحریر: آنوشہ امتیاز

    ‏زرائع کامیابی تحریر: آنوشہ امتیاز

    ‏زرائع کامیابی۔۔
    اس دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو ہر چیز کے روشن پہلو دیکھتے ہیں اور ہر کام کو اس یقین کے ساتھ شروع کرتے ہیں، کہ ہم اس میں ضرور کامیاب ہوں گے، وہ مشکلات اور عارضی رکاوٹوں کے ساتھ جنگ کرتے ہیں اور بالآخر ضرور کامیاب ہو جاتے ہیں، کیونکہ اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیشہ ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔۔۔
    دوسری قسم کمزور دل لوگوں پہ مشتمل ہے، یہ کام کرنے سے پہلے کئی ماہ سوچتے ہیں کہ کیا ہم کامیاب ہو سکیں گے، ناکامی کا خطرہ ان کے دل سے نہیں نکلتا اور خیالی مشکلات کے بھوت ان پر سوار رہتے ہیں، بلآخر اپنی کمزوریوں کی بدولت ہمیشہ ناکام رہتے ہیں، ناکامی کا تجربہ ان کے پیشِ نظر رہتا ہے اور وہ فکر میں گھرے رہتے ہیں، اللّٰہ تعالیٰ کا قانون ایسے لوگوں کے ساتھ رعایت نہیں کرتا اور کامیابی ان کے شامل حال نہیں ہوتی ۔۔۔
    کامیابی کی ضروری شرائط کو تین جامع الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے ، "کامیابی، دیانتداری، عزم بالجزم "۔۔
    کامل یک سوئی یعنی ایک مقصد پر تمام قوتوں کا اجتماع،
    صحیح قوت فیصلہ، دنیا اور اہل دنیا کے متعلق مکمل معلومات،
    کام کے ساتھ زوق و شوق،
    اللّہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور خیالات کی پاکیزگی،
    ایمانداری، محنت اور استقلال،
    الفاظ کم کام زیادہ ،
    محنت، توکل اور اللّٰہ پر بھروسہ،
    کامیابی کی منزل پر پہنچنا دشوار نہیں، بشرطیکہ صحیح راستہ چنا جائے، جو شخص مناسب حالات اور بہتر مواقع کا منتظر رہتا ہے وہ اپنی قبر آپ کھودتا ہے، کیونکہ دنیا میں جتنے بھی بڑے آدمی گزرے ہیں وہ باوجود مخالفت کے کامیاب ہوئے ہیں یا یہ کہنا چاہیے کہ ہر کامیاب انسان زمانے کے مخالف سمت جا کر ہی کامیابی حاصل کرتا ہے۔۔۔
    گویا کامیابی کا واحد راستہ ہی ناکامی ہے،
    اور زندگی میں آگے بڑھنے کے لئیے ضروری ہے کہ انسان مواقع سے فایدہ اٹھانے کے لیے تیار رہے، جو لوگ آج کے کام کو کل پہ چھوڑ دیتے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ آج ہم نے کیا کر لیا جو کل کر لیں گے ، کامیابی کے محل کو حاصل کرنے کے لیے انسان اس کا دروازہ خود بناتا ہے، اور کام یا مقصد جتنا اچھا اور بڑا ہو گا اتنی ہی دقتیں اٹھانا پڑیں گی۔۔
    درحقیقت مشکل کاموں کو سرانجام دینے میں ہی لطف ہے ، ورنہ ہر شخص آسان کام پہ ہی ہاتھ ڈالتا، وہ فتوحات جو آسانی سے حاصل ہو جائیں، کم قیمت ہو جاتی ہیں، اور قابلِ قدر فتوحات وہ ہیں جو انتھک محنت کا نتیجہ ہوں، کمزور انسان مواقع کے انتظار میں رہتے ہیں جبکہ عقلمند انسان اپنے مواقع خود پیدا کرتا ہے۔۔
    کامیابی کے چند اقوال درج ذیل ہیں۔۔
    "عمدہ اور صاف و شفاف چشموں کی تلاش نہ کرو، اپنا ڈول جہاں سے بھر سکتے ہو بھر لو”۔۔
    "جفا کشی کے سمندر کی تہہ کامیابی کے موتیوں سے بھری پڑی ہے”۔
    "اپنی تمام طاقتوں کو جمع کر کے ایک مرکز پہ لگاؤ”۔۔
    "کامیابی کا زینہ ناکامی کے ڈنڈے سے تیار ہوتا ہے”۔ ۔
    "انسان دنیا کے سمندر میں تنکے کی طرح بہہ جانے کے لئے پیدا نہیں ہوا بلکہ اس لئیے بھیجا گیا ہے کہ ملاح کی طرح موجوں کا مقابلہ کرتا ہوا آوروں کو پار اتارنے کی کوشش کرے”۔۔
    "دنیا میں وہی پست ہیں، جن کے حوصلے پست ہیں” ۔۔
    نپولین سے اس کے سپہ سالار نے کہا کہ کوہ ایلپس پہ چڑھنا ناممکن ہے، نپولین نے کہا ناممکن کا لفظ پست لوگوں کی لغات میں پایا جاتا ہے چنانچہ اس کی عالی ہمت نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، ایک دفعہ راجہ رنجیت سنگھ جب دریائے اٹک پہ پہنچا تو آگے دریا پار کرنے کا سامان نہیں تھا، اس نے گھوڑا دریا میں ڈال دیا کسی نے کہا جناب یہ معمولی دریا نہیں یہ اٹک ہے، رنجیت سنگھ نے فوراً کہا،
    "جس کے دل میں اٹک اس کے لئے اٹک” چونکہ عالی ہمت تھا اس لئے پار ہو گیا،اور کامیاب ہوا،
    ان سب باتوں سے ہم یہ سبق سیکھتے ہیں کہ انسان کو بلند ہمت ہونا چاہیئے، محنت اور جستجو کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اور صبرو استقلال کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اللّٰہ سبحانہ وتعالی ہم سب کو زندگی کے ہر موڑ پہ کامیابیاں عطا فرمائے،
    آمین یارب العالمین…

  • ترکی میں لگی خوفناک  آگ، حادثاتی یا تخریب کاری  تحریر : توحید احمد رانا ازمیر، ترکی

    ترکی میں لگی خوفناک آگ، حادثاتی یا تخریب کاری تحریر : توحید احمد رانا ازمیر، ترکی

    ترکی کے جنگلوں میں آگ لگنا کوئی نئی بات نہیں ہے، ہزاروں سال پرانی تاریخ قدرتی حوادث سے بھری پڑی ہے، جہاں ایک طرف تو زلزلوں نے شہر کے شہر تباہ کردیے وہاں آگ نے بھی ایسے بہت سے شہر صفحہ ہستی سے جلا کر راکھ کردیے

    ترکی کا وسیع رقبہ جنگلوں اور پہاڑوں پر مبنی ہے، محکمہ جنگلات محکمہ پانی و زراعت سے بھی بڑا ہے ہر پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے کے لئے باقاعدہ راستہ بنایا جاتا ہے تقریباً ہر سال گرمیوں میں ترکی کے جنگلوں میں آگ لگنا ایک معمول کا عمل ہے، سخت گرمی میں سورج کی دھکتی شعاوُں سے ایسا ممکن ہے کیونکہ زیادہ تر درخت چیڑ کے ہیں جو بڑی جلدی آگ پکڑ لیتے ہیں۔ کچھ واقعات میں ٹوٹی ہوئی شیشے کی بوتلوں نے بھی میگنیفائر کا کام کیا، مگر سب سے زیادہ آگ لگنے کے واقعات پکنک منانے والوں کی باربی کیو کی آگ یا پھر چلتی گاڑی سے سگریٹ پھینکنے سے ہوتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ ایک چھوٹی سی لاپروائی سے منٹوں میں سینکڑوں ایکڑ جنگل جل کر راکھ ہوجاتا ہے اور آگ پر قابو پانے میں کئی گھنٹے یا دن لگ جاتے ہیں کیونکہ مسلسل سمندر سے زمینی علاقوں اور زمینی علاقوں سے سمندر کی طرف چلنے والی تیز ہوائیں بھی آگ کو پھیلانے میں مدد دیتی ہیں۔

    ترکی ہر سال اس آگ سے نپٹنے کے لئے پانی لانے والے نئے جہاز، ہیلی کاپٹر یا جنگل اور پہاڑی راستوں پر اسانی سے چلنے والی گاڑیاں خریدتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان مشکل حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے آگ بجھانے والے آلات کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس بھی کرتا رہتا ہے

    آگ لگانے کے تخریبی واقعات بھی عام ہیں اور یہ زیادہ تر مشہور سیاحتی مقامات کے قریبی ان جنگلات میں ہوتے ہیں، جہاں محکمہ ماحولیات نے ہر قسم کی تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی لگائی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں کچھ عرصے بعد رہائشی منصوبے یا ہوٹلز وغیرہ کی تعمیر کی اجازت مل جاتی ہے۔ مثال کے طور پر موئلہ صوبے کے سب سے مشہور سیاحتی مرکز بودروم شہر کے اس ہوٹل تک بھی آگ پہنچ گئی ہے جو اس جگہ تعمیر کیا گیا تھا جہاں جنگل میں کچھ سال پہلے آگ لگی یا جان بوجھ کر لگائی گئی تھی مگر بعد میں نئے درخت لگانے کی بجائے ہوٹل کی تعمیر کی اجازت مل گئی تھی۔

    موجودہ آگ کو ترک ماہرین اور تجزیہ نگار ماحولیاتی دہشتگردی کے طور پر بیان کر رہے ہیں۔ شرپسندوں کی طرف سے جنگلوں میں آگ لگانے کے اتنے وسیع اور منظم طریقے سے تخریب کاری پہلی دفعہ دیکھنے میں آئی ہے، جہاں صرف چار دن میں (اٹھائیس سے اکتیس جولائی تک) 26 صوبوں کے 98 سے زائد مقامات پر اچانک آگ کا بھڑک اٹھنا بھی اس بات کا ثبوت ہے اور پولیس کے ہوائی ڈرونز نے بھی مختلف جگہوں پر شرپسندوں کو آگ لگاتے کیمرے کی آنکھ سے پکڑا ہے اور اس بار یہ آگ صرف سیاحتی مراکز ہی نہیں بلکہ دور دراز کے شہری علاقوں کے قریبی جنگلات میں بھی لگائی گئی ہے جس کے نتیجے میں بوقت تحریر 4 قیمتی انسانی جانوں کے نقصان علاوہ ہزاروں کی تعداد میں مویشی اور جنگلی جانور تلف ہوچکے ہیں، املاک کے نقصانات کا اندازہ لگانا ابھی تقریبا ناممکن ہے۔ آگ بجھانے کے لیے 45 ہیلی کاپٹر، 6 عدد پانی لے جانے والے ہوائی جہاز، 1080عدد فائیربرگیڈ کی گاڑیاں، 2270 عدد ابتدائی مداخلت والی جییپیں، 10,550 آگ بجھانے کے ماہرین 280 عدد پانی کے ٹینکروں کی مدد سے کوشاں ہیں، ترک صدر جناب رجب طیب ایردوآن کی طرف سے پانچ صوبوں (انطالیہ، میرسن، عثمانیہ، موئلہ اور عادانا) کو آفت زدہ علاقہ قرار دے کر ایمرجنسی لگا دی گئی ہے

    دو تین سال پہلے جب یونان کے مختلف علاقوں میں آگ لگی تھی تو ترکی نے ہمسایہ ملک کی بھر پور مدد کی تھی آگ بجھانے میں مگر آج حالات یہ ہیں کہ ترکی کے اپنے آگ بجھانے کے وسائل ناکافی ہوچکے ہیں، آزربایجان اور یوکرین نے اپنے ہوور جہاز مدد کے لیے بھیجے ہیں . پاکستان نے بھی ترک بھائیوں کی ضرورت پڑنے پر ہر قسم کی مدد کی یقین دہانی کروائی ہے

    امید اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ ترکی کو اس مشکل وقت اور سخت امتحان سے جلد نکالے۔ مالی اور جانی نقصان پر صبر عطا کرے۔ آمین

    @Tarvelogue

  • پودا لگانا ہے اور درخت بنانا ہے تحریر: خالد اقبال عطاری

    پودا لگانا ہے اور درخت بنانا ہے تحریر: خالد اقبال عطاری


    دنیا میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کے مضر اثرات پیدا ہو رہے ہیں جسکے روکنے اور سدباب کرنے کا ایک حل یہ بھی ہے کہ ذیادہ سے ذیادہ شجر کاری کی جائے. کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی ٹوٹل آبادی کا 25 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے. جبکہ ہمارے پاکستان میں یہ 4 سے 5 فیصد ہے. بڑھتی ہوئی گرمی کو روکنے کیلئے بھی شجر کاری نہایت اہم ہے. اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا پروجیکٹ بلین ٹری سونامی بھی کافی زبردست رہا. جسے عالمی طور پر بھی سراہا گیا. ماحولیاتی تبدیلی کو دیکھتے ہوئے ایک مزہبی تنظیم دعوت اسلامی کے امیر مولانا الیاس عطار قادری صاحب نے بھی پودے لگانا کا ذہن دیا. تو انکے ایک ذیلی ادارے عالمی تنظیم فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن FGRF نے بھی ایک اگست کو پاکستان بھر میں 26 لاکھ پودے لگانے کا اعلان کیا ہے. جن کا نعرہ یہ ہے کہ پودا لگانا ہے اور درخت بنانا ہے. پودے تو ہر کوئی لگا دیتا ہے لیکن اکثریت بعد میں اس کا دیہان نہیں رکھتی جسکے بنا پر وہ ضائع ہو جاتا ہے. فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن FGRG کا ایک وسیع نیٹ ورک پاکستان کے تقریباً ہر شہر میں موجود ہے. فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن اتنی کوشش کر رہی ہے کہ سوشل میڈیا پر پاکستان کے ہر علاقے کے لحاظ سے بتا رہی ہے کہ کس علاقے میں کونسی قسم کا پودا موزوں رہے گا. پودا لگانا ثواب کا کام اور صدقہ جاریہ بھی ہے. جیسا کہ اس حدیث پاک سے ثابت ہو رہا ہے.
    ہما پیارے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نے ارشاد فرمایا :
    "درخت لگانا ایک ایسی نیکی ہے. جو بندے کی موت کے بعد بھی جاری رہتی ہے جبکہ وہ اپنی قبر میں ہوتا ہے” .
    تو ہمیں چاہیے کہ آئیں اور ایک اگست کو فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن FGRG کے تحت ہونے والی شجرکاری میں ان کا ساتھ دیں جس سے ہمیں نیکیوں کا خزانہ بھی ہاتھ آئے گا اور ہمارے پیارے وطن پاکستان کو سر سبز و شاداب، خوبصورت اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک کریں.

  • کمشنر کا کتا گم گیا. تحریر ارشد محمود

    کمشنر کا کتا گم گیا. تحریر ارشد محمود

    ” حضرات ایک ضروری اعلان سنیں ، محترم جناب کمشنر صاحب کا کتا گم گیا ہے جس صاحب کو ملے وہ کمشنر آفس پہنچا دے ۔ اگر ہماری کارروائی کے دوران وہ کتا کسی سے برآمد ہوا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جاے گی” یہ اعلان کل گوجرانوالہ کی سماعتوں سے ہوتا ہوا سوشل میڈیا پر پہنچا اور پھر ٹویٹر پر #کمشنرکاکتا گم گیا ہیش ٹیگ کے ساتھ چند ایک ٹویٹس نظر آئیں ۔ جانوروں سے محبت کرنا اچھی بات ہے اور پالتو جانوروں سے محبت تو کچھ زیادہ ہی ہوجاتی ہے ۔ ابھی چند دن قبل عید قرباں پر چند ایک مناظر نظروں سے گزرے تھے جن میں قربانی کے جانوروں کو پالنے والے یا پھر انھیں خرید کر قربان کرنے والے رو رہے تھے ، مضطرب تھے لیکن زبان پر شکر کے کلمات تھے ۔ خیر یہ تو ایک الگ معاملہ ہے ۔ اصل بات پر واپس آتا ہوں ۔ کمشنر انگریزی باقیات میں سے وہ چیز ہے جو ابھی بھی اپنے آپ کو ضلع کا مالک کل سمجھتا ہے۔ کچھ لوگ خدا ترس ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اہل ضلع پرسکون رہتے ہیں وہ درویش صفت لوگوں کو تنگ کرنا گوارا نہیں کرتے اور مجرموں اور قانون شکنوں کے خلاف زمین تنگ کیے رکھتے ہیں ۔

    اب ہمیں یہ تو بات معلوم نہیں کہ کمشنر صاحب نے اعلانات کروانے کا خرچہ بذمہ سرکار کیا ہے یا پھر اپنی جیب سے ادا کیا ہے ۔ یہاں تو سرکاری مال کو اس طرح سے خرچ کیا جاتا ہے جیسے وہ حرام کا مال ہو۔ سرکاری گاڑیوں میں سبزی لانے ، بچوں کو سکول چھوڑنے ، ماسی و پھوپھی کو لانے، سسرال کے کام کرنے اور گھر کا دیگر سودا سلف لانے کا کام بھی کیا جاتا ہے اور سرکاری ڈرائیور کو نجی ڈرائیور سمجھ کر خاتون خانہ کی چاکری پر لگا دیا جاتا ہے ۔ سرکاری مالیوں کو گھر کے لان کی صفائی ستھرائی کے لیے بلایا جاتا ہے ۔ خیر یہ تو ضمنی باتیں آگئی ہیں ۔ جناب کمشنر کے کتے کی بات ہورہی تھی ۔ گوجرانوالہ میں روز کسی نہ کسی تھانے میں کسی کی گم شدگی کی درخواست آتی ہوگی ۔ روز کوئی نہ کوئی لاش سرراہ ملتی ہوگی جسے سردخانے پہنچا دیا جاتا ہوگا کہ ورثا کے ملنے تک محفوظ رہ سکے ۔ کمشنر گوجرانوالہ نے اس طرح کے معاملات میں کتنے اعلانات کروانے کا تردد کیا ہوگا ۔انسان کو تو درخواست نمبر سے زیادہ وقعت ہی نہ ملی کیوں کہ دل میں درد ہو تو صاحب بہادر رات کی نیند سے محروم ہو جائیں ۔ رات کمشنر صاحب امید واثق ہے کہ کتے کے نہ ملنے کی وجہ سے نیند سے محروم ہوں گے ۔ اس سے پہلے کسی غریب ، اجڈ ، گنوار ، جاہل ، لاچار و معذور کی فریاد پر شاید ہی اس طرح سے مضطرب ہوے ہوں کہ سرکاری سرپرستی میں سرکاری اہلکاروں کو کتا ڈھونڈنے پر لگا دیا ۔ کمشنر صاحب کو ہم یہ تو کہہ نہیں سکتے کہ کچھ شرم ہوتی ہے ، کچھ حیا ہوتی ہے کیوں کہ ہم ٹھہرے عام شہری جن کی اوقات کمشنر کے کتے سے بھی کم ہے ۔

  • زندہ لاشیں  تحریر بشارت حسین

    زندہ لاشیں تحریر بشارت حسین

    پہلی بار یہ لفظ بارہ تیرہ سال کی عمر میں سنا جب میرے پڑوس میں ایک شخص گرا اور اس کی کمر کی ہڈی ٹوٹ گئی کافی علاج معالجے کے باوجود بھی جب وہ ٹھیک نہ ہوا تو ایک دن اس کے گھر جانا ہوا جب حال پوچھا تو کہنے لگا زندہ لاش ہوں اب تو بس زندگی جیسے کیسے گزارنی ہے سانس تو چلتی ہے لیکن اپنا بھی پتا نہیں نیچے کا حصہ ناکارہ ہو چکا۔
    مجھے لگا اس کی بات تو کافی حد تک ٹھیک ہے
    لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مجھے احساس ہوا کہ وہ شخص تو مجبور تھا محتاج ہو گیا تھا
    درحقیقت وہ زندہ لاش نہیں تھا زندہ لاشوں سے تو ہمارا معاشرہ بھرا پڑا ہے۔
    جہاں ہر گھر،ہر محلے،ہر گلی اور ہر جگہ چلتی پھرتی دوڑتی زندہ لاشیں نظر آتی ہیں۔
    بڑی بڑی گاڑیوں میں کلبوں میں بڑے بڑے ہوٹلوں میں تفریحی مقامات پہ بینکوں میں بسوں میں الغرض ہر شعبہ زندگی میں زندہ لاشوں کا راج ہے۔
    زندہ لاشیں ہی تو ہیں روڈ پہ ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے لوگ مر رہے ہوتے زخمی تڑپ رہا ہوتا ہے بلبلا رہا ہوتا ہے مدد کیلئے پکار رہا ہوتا لیکن کوئی مدد کیلئے نہیں آتا گاڑیاں اپنی ہی سپیڈ میں جا رہی ہوتی ہیں کوئی تماشا دیکھنے فوٹو لینے ذرا سا آہستہ ہو جاتا ہے پھر نکل جاتا ہے۔ بنائی ویڈیو یا تصویر کو سوشل میڈیا کی نظر کیا جاتا ہے لائک کمنٹ آتے ہیں بس اس کا فرض پورا ہو جاتا ہے یہ ہیں زندہ لاشیں جن کے اندر اتنی بھی ہمدردی نہیں ہوتی ہے کسی کو ہسپتال پہنچا سکیں کسی کی زندگی بچا سکیں۔
    کسی کے جگر کے ٹکڑے کو مرنے سے بچانے کی جسارت کر لیں۔ نہیں کبھی نہیں کیونکہ ان کو کیا ہے وہ انکا بیٹا نہیں بھائی نہیں بیٹی نہیں ان سے کوئی رشتہ نہیں پھر کیوں مدد کریں کیوں اپنا وقت ضائع کریں۔
    جب انسانیت کے مقدس رشتے کو یوں پامال کیا جاتا ہے یوں پس پشت ڈالا جاتا ہے تو پھر میں کہتا ہوں وہ شخص نہیں یہ زندہ لاشیں ہیں جن کو اپنے مفاد کے علاوہ کچھ نظر نہیں اتا۔
    جب کہیں مظلوم پہ ظلم ہو رہا اور مجمع اکٹھا ہو کر اس کا تماشا کر رہا ہو وہاں مظلوم کا ساتھ دینے والا کوئی نہ ہو تو مجھے وہ سب زندہ لاشیں نظر آتی ہیں وہ سب درد انسانیت سے عاری زندہ لاشیں۔
    ایک غریب آدمی جب اپنی جمع پونجی لیکر دل کو سو دلاسے دے کر ہسپتال آتا ہے تو وہاں معالج کے بجائے ایک لٹیرا ہوتا ہے جسکو اس کے پھٹے کپڑے دیکھ کر بھی حیا نہیں آتی ۔ اپنے کمیشن کی خاطر ایسے عجیب و غریب ٹسٹ لکھ کر دیے جاتے ہیں جن کا اس کی بیماری سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کمیشن کی خاطر خوامخواہ مہنگی دوائیاں لکھ کر تھما دی جاتی ہیں۔
    یہاں ایسے لوگوں کو دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ یہ درحقیقت زندہ لاشیں ہیں۔
    جب دودھ میں پانی ملانے والے کو دیکھتا ہوں تو سمجھ آتی ہیں زندہ لاشیں تو یہ ہیں جنکو نہ کسی کی صحت کا احساس ہے نہ کسی کی زندگی کا۔ پڑوس میں غریب کے بچے بھوکے سو رہے ہیں اور گھر میں شراب نوشی کی محفل جمی ہے زندہ لاشیں تو یہ ہیں۔
    قوم کے بچے سڑکوں پہ دھکے کھا رہے ہیں اور صاحب اقتدار قوم کا پیسہ لوٹ کر ملک سے بھاگ رہے ہیں اپنے اثاثے بنا رہے ہیں کوئی پرواہ نہیں سڑکوں پہ پھول بچتے ہوئے ان پھولوں کی جن کے والدین نے ان کیلئے کیا کیا سپنے دیکھے ہوتے ہیں پھر انکو زندہ لاشیں نہ لکھوں تو کیا لکھوں؟
    جب راستے پہ عورتوں کو چھیڑا جاتا ہے تو کوئی ان درندوں کو نہیں روکتا یہ سوچ کر شاید کہ یہ انکی کچھ نہیں لگتی حقیقت یہ نہیں حقیقت یہ ہے کہ ان کے اندر انسان مر چکا ہے۔
    گھروں میں نوکروں سے جانوروں جیسا سلوک، پولیس کا امیروں سے درد مندانہ اور غریبوں سے ظالمانہ سلوک دیکھ کر لگتا ہے کہ انسانیت مر گئی ضمیر مر گئے اب ان زندہ لاشوں سے کسی بھی اچھائی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
    کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کرنے والا دھوکے سے لوگوں سے پیسہ بٹورنے والا ، زمینوں کی غلط خرید و فروخت کرنے والا ، پانی جیسی نعمت کو بھی غلط طریقے سے فروخت کرنے والا، ذخیرہ اندوزی کرنے والا ان سب کو کیا کہوں جن کے اندر کا انسان یہ کہنے کے بھی قابل نہیں کہ تم غلط کر رہے ہو۔
    معاشرے کا ہر وہ شخص زندہ لاش ہے جس میں احساس نہیں دوسروں کیلئے ہمدردی نہیں محبت نہیں۔ جسکو کسی کی پرواہ نہیں کہ کوئی بھوکا مر رہا ہے یا پیاسا مر رہا ہے کوئی زخمی ہے یا مظلوم ہے۔
    اب اپنے گریبان میں بھی جھانکیں آپ کا صف میں کھڑے ہیں؟
    کہیں آپ بھی زندہ لاش تو نہیں؟

    https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

  • رزق حلال عین عبادت ہے   تحریر:شعیب حسن

    رزق حلال عین عبادت ہے تحریر:شعیب حسن

    رزق حلال کے فوائد”رزق حلال عین عبادت ہے”
    رزق حلال کے فوائد
    رزق حلال کو آسان الفاظ میں جائز روزی یا جائز ذریعہ معاش کہ سکتے ہیں۔رزق حلال کا کمایا ہوا تھوڑا رزق حرام کی کمائ کے کروڑوں سے بھاری ہوتا ہے۔اس حلال کی کمائ کے تھوڑے پیسوں سے نسل کی نسل لاکھوں برائیوں سے برے عیب سے بچ جاتی ہیں۔سچائ اور دیانت داری کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہیں اور اللہ کا قرب حاصل کر لیتی ہیں۔اس لیے اپنے مال کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس مال کی خامیوں کو بھی ہمیں دوسروں کو اگاہ کرتے رہنا چاہیے۔
    اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال رزق کو عبادت قرار دے کر انسانوں کے لیے ایسے راستے کی طرف روشنی ڈالی ہے کہ اگر انسان حلال رزق کمائے تو انسان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ عبادت اور اللہ کے قریب جانے کو حق دار بن جاتا ہے۔
    اللہ اپنی کتاب قرأن کرم فرقان حمید میں حکم دیتا ہے کہ
    "اے ایمان والو اپنے رزق کو آپس میں باطل کی راہ سے نا کھاؤ بلکہ باہمی رضامندی کے ساتھ تجارت کی راہ سے نفع حاصل کرو
    (سورۃ النساۂ)
    حلال طریقے سے رزق کمانے میں اللہ نے اتنا سکون رکھا ہے کہ جو شخص حلال رزق کمائے اور وہی حلال رزق اپنی اولاد کو کھلائے گا آخرت میں صدیقوں اور شہدوں میں اپنے اپ کو پائے گا۔
    کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ارکان اسلام کو پورا کرنے سے بھی معاف نہیں کیے جاتے بلکہ حلال رزق کمانے سے اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے معاف ہو جاتے ہیں۔
    دین اسلام نے انسانوں کو کئی طریقوں سے محنت کرنے معاشی جدوجہد کرنے حلال رزق کمانے پر نہ صرف زور دیا ہے بلکہ ساتھ ساتھ اس کو حاصل کرنے کے بہت ہی آسان طریقے بتائے ہیں جیسے انسانی عقل تسلیم کر چکی ہے
    "اے لوگو جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں سے پاک اور حلال چیزیں کھاؤ(سورۃ البقرہ)
    حلال رزق اپنے اندر اتنی طاقت رکھتا ہےکہ انسان اللہ سے جو بھی دلی خواہشات کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر التجا کرتا ہے تو اللہ اسی وقت وقت اپنی بارگاہ میں قبول فرماتے ہیں۔حرام کی کمائ کا ایک لقمہ بھی انسان اگر کھا لے تو اس کی چالیس دن دعا قبول نہیں ہوتی۔کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ ہماری دعائیں قبول ہوں
    کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ حلال رزق کما کر اپنے اہل و ایال اور اولاد کو کھلا کر آخرت می صدیقوں اور شہدوں میں شامل ہو
    اللہ ہم سب کو حلال رزق کمانے کی توفیق بخشے
    کیوں کہ رزق حلال عین عبادت ہے
    رزق حلال کو آسان الفاظ میں جائز روزی یا جائز ذریعہ معاش کہ سکتے ہیں۔رزق حلال کا کمایا ہوا تھوڑا رزق حرام کی کمائ کے کروڑوں سے بھاری ہوتا ہے۔اس حلال کی کمائ کے تھوڑے پیسوں سے نسل کی نسل لاکھوں برائیوں سے برے عیب سے بچ جاتی ہیں۔سچائ اور دیانت داری کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہیں اور اللہ کا قرب حاصل کر لیتی ہیں۔اس لیے اپنے مال کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس مال کی خامیوں کو بھی ہمیں دوسروں کو اگاہ کرتے رہنا چاہیے۔
    اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال رزق کو عبادت قرار دے کر انسانوں کے لیے ایسے راستے کی طرف روشنی ڈالی ہے کہ اگر انسان حلال رزق کمائے تو انسان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ عبادت اور اللہ کے قریب جانے کو حق دار بن جاتا ہے۔
    اللہ اپنی کتاب قرأن کرم فرقان حمید میں حکم دیتا ہے کہ
    "اے ایمان والو اپنے رزق کو آپس میں باطل کی راہ سے نا کھاؤ بلکہ باہمی رضامندی کے ساتھ تجارت کی راہ سے نفع حاصل کرو
    (سورۃ النساۂ)
    حلال طریقے سے رزق کمانے میں اللہ نے اتنا سکون رکھا ہے کہ جو شخص حلال رزق کمائے اور وہی حلال رزق اپنی اولاد کو کھلائے گا آخرت میں صدیقوں اور شہدوں میں اپنے اپ کو پائے گا۔
    کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ارکان اسلام کو پورا کرنے سے بھی معاف نہیں کیے جاتے بلکہ حلال رزق کمانے سے اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے معاف ہو جاتے ہیں۔
    دین اسلام نے انسانوں کو کئی طریقوں سے محنت کرنے معاشی جدوجہد کرنے حلال رزق کمانے پر نہ صرف زور دیا ہے بلکہ ساتھ ساتھ اس کو حاصل کرنے کے بہت ہی آسان طریقے بتائے ہیں جیسے انسانی عقل تسلیم کر چکی ہے
    "اے لوگو جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں سے پاک اور حلال چیزیں کھاؤ(سورۃ البقرہ)
    حلال رزق اپنے اندر اتنی طاقت رکھتا ہےکہ انسان اللہ سے جو بھی دلی خواہشات کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر التجا کرتا ہے تو اللہ اسی وقت وقت اپنی بارگاہ میں قبول فرماتے ہیں۔حرام کی کمائ کا ایک لقمہ بھی انسان اگر کھا لے تو اس کی چالیس دن دعا قبول نہیں ہوتی۔کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ ہماری دعائیں قبول ہوں
    کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ حلال رزق کما کر اپنے اہل و ایال اور اولاد کو کھلا کر آخرت می صدیقوں اور شہدوں میں شامل ہو
    اللہ ہم سب کو حلال رزق کمانے کی توفیق بخشے
    کیوں کہ رزق حلال عین عبادت ہے

  • هیجان  تحریر: سیدہ بشری

    هیجان تحریر: سیدہ بشری

    دو شدید انتہاؤں کے درمیان اعتدال ہے ۔۔اسکے آر پار دونوں اطراف پر موجود سوچ کو ہم نے لبرل یا قدامت پسند میں تقسیم کر دیا معاشرہ جنکو شدت پسند کہتا وجہ ہے ا نکے سخت خیالات چاہے وہ مذہبی ہوں ثقافتی ہوں تہذیبی ہوں یا تمدنی ۔ وہیں ایک دوسرا گروہ ہے جنکو لبرل کہا جاتا ۔ لفظ لبرل کی تعریف تو یہ ہے کے دوسروں کو انکے خیالات احساسات اور انکی روایات کے مطابق آزاد چھوڑ دو ۔۔پر ایسا ہے نہیں لبرل بھی شدت پسندوں کی ضد نہیں بلکہ دوسرے حصے کے شد ت پسند ہیں ۔کیونکہ یہ بھی دوسرے کے خیالات احساسات نظر یات یا جذبات کے احترام کے شدید منکر ۔کیونکہ وہ اس لفظ کی تعریف کے برعکس وہ چاہتے جو انکا عقیدہ سوچ یا نظریہ ہے ۔۔اس دو انتہاؤ ں کی جنگ نے ایک هیجان پیدا کر کے رکھ دیا ۔
    ہر کوئی اپنی حد پر ایک سرحد بنا کر اس پر مسلح پہرہ دے رہا ادھر منشا کے خلاف بات ہوئی ادھر حملہ آور تیار ۔ایک جنگ کا سماں بن چکا جہاں سوچ سمجھ کو تالا لگا کر ضد پر ڈٹ جانے کا نام انکے نظریہ کی حفاظت ہے ۔اگر نظر انداز ہوا تو وہ اعتدل ہوا ۔۔اعتدال ہی وہ واحد حل ہے جو ان دو حدوں کے بین بین سہی راستہ ہے ۔جو سكهاتا ہے کے سنو احترام سے سنو ۔قایل کرو اگر نہیں کر سکتے تو چھوڑ دو ۔پر یہ حق کسی کو نہیں کے کسی کو لٹھ کے زور بازو پر کچھ منوا لو۔کسی کو کسی کی جان لینے کا حق نہیں ۔ہم نے ایک سوچ بنا لی کسی کی داڑھی دیکھی قمیض شلوار پہنا دیکھا اور اس نے کوئی جرم کیا فورا مذھب کو گا لی دو ۔
    یا کوئی جرم ہوا اور جسکے ساتھ ظلم ہوا وہ اگر آزاد ہے تو آزادی کو جرم ۔
    نہ ہی مذھب غلط ہوتا نہ آزادی غلط وہ فرد ہوتا جو جرم کرتا ۔یہ تفریق ہمیں سمجھنا ہو گی ۔
    مذھب کسی پر جبر نہیں کرتا ۔نا جرم کی تبلیغ کرتا ۔پھر دین پر سوال کیوں ؟
    کسی بھی معاشرے میں جب اعتدال کی جگہ انتہا لے لے پھر وہاں اخلاقی تباہی مقدر بن جاتی ہے ۔
    ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھو ۔بردآشت واحد اکائ ہے جو سبکو جوڑ کر رکھتی ہے ۔
    آزادی کی تعریف کو سمجھو اور اسکی حد تجاوز کرنے سے پرہیز کرو ۔جہاں اپنی آزادی سے نکلے سمجھو دوسرے کی حد پر حملہ اور ہوا ۔۔
    جنسی تفریق کا راگ الاپ کر ہم نے مرد عورت کو دو الگ مخلوقا ت بنا دیا ۔برابری کی بات کریں تو تو برابری کی حدوں کی جانکاری لینا لازم ۔تعلیم، انصاف، جائیداد، نوکری، شادی ، کاروبار کی آزادی یہ وہ معاملات ہیں جن پر ایک برابر حق ہے کسی کو حق نہیں کے کوئی ان پر مرضی مسلط کرے ۔پر وہیں ہمارےہاں خاندانی نظام کے تحت سبکے اپنے طور طریقے ہوتے جنکے افراد پاپند ہوتے بلا تفریق جنس ۔اپنی روايات کو اگر مانتے ہو تو ٹھیک اگر غلط لگے تو انکو بدلو ۔۔سڑک پر نکل کر باجا بجا کر کچھ نہیں بدلے گا ۔۔اس سے سوآئے اضطراب کے کچھ نہیں ملے گا۔۔وہ لوگ جو عورت کے نام پر عورت مارچ کا حصہ بنے انہی میں سے ایسے ابلیس بھی نکلے جن نے سر تن سے جدا کر کے بے رحمی سے قتل کیا عورت کو وہ جو خود کو سو آزاد خیال کہتے انہی نے گھروں میں عورتوں پر ظلم ڈھائے ۔پھر کس کا بھروسا ۔یہ آزادی کے نام پر منافقت ہے جو ہم کرتے ۔ہمارے ہاں ظلم ہوتے دیکھ کر سب تماشائ ہوتے اور جب ظلم ہو جاتا پھر دھڑے بازی وہی عورت کارڈ مذھب کارڈ آزادی کارڈ زندہ ہو جاتا ۔ہیش ٹیگ ٹرینڈ بنتے ۔پھر چار، دس روز بعد نیا قصہ نئی کہانی ۔ان كارڈز سے نکل کر انسان بن کر انسانیت کے لئے سوچو اور اقدام کرو ۔اپنے گھر قبیلے سے سٹارٹ کرو خود تبدیلی نظر آئے گی ۔منبر کو حق کے لئے استعما ل کرو اپنے قلم کو سچ کے لئے اٹھاؤ قانون کا نفاذ اور انصاف کے فروغ کے لئے آواز اٹھاؤ سسٹم بدلنا ہو گا ۔جسکی لاٹھی اسکی بھینس جیسے محاورے کو جسکی بهینس اسکی لاٹھی کرنا ہو گا ۔اگر کوئی آواز اٹھانا بنتی ہے وہ اس عدالتی اور پولیس کے نظام کے لئے ہے سارا گھن چکر ان دو اداروں کی وجہ سے ہے ۔جہاں طاقتور آزاد ہے ہر ظلم کے ساتھ جہاں کمزور کا مقدر دھکے ہیں ۔۔باغی ہونے سے کچھ نہیں ملتا کیونکہ طغیانی سے فصلیں سیراب نہیں ہوتی بلکہ چمن اجڑ جاتے ایسے ہی شدت پسندی سے نسلیں فیض یاپ نہیں ہوتی ۔حد پكڑ نا سیکھو ۔علم اور نمبر کی ووڑ میں تربیت کو سب سے اہم مقام دو ۔اپنی نسلوں کو جنونی اور پاگل ہونے سے بچا و ۔۔https://twitter.com/SyedaBushraSha3?s=08

  • تاریخ کے ابواب  تحریر: نایاب آصف

    تاریخ کے ابواب تحریر: نایاب آصف

    تاریخ کے ابواب کے تابندہ کرنوں کی مانند چمکتے ہوئے صفحات پر نظر پڑی تو میری چشم فلک نے قمر روشن کو حسن مکاں و لا مکاں کی خاطر شق ہوتے دیکھا٫روحانیت کے نیر اعظم کو اپنے قول و فعل سے بنی نوعِ انسان کو منور کرتے دیکھا٫قرآن کو پہاڑوں کی بجائے انسان کے سینے پر اترتے دیکھا٫ دشمنان اسلام کے مظالم کی تاریخ کو عفو و درگزر کی عظیم مثالوں سے مٹتے دیکھا٫عرب کے درندہ صفت انسانوں کو اپنے جذبہ ایمانی سے قیصر و کسریٰ کے محلات کو زیر کرتے دیکھا تو میرے ذہن میں یہ بات جنم لی کہ اس عظیم انسان کی امت کو بھی اتنا ہی عظیم ہونا چاہیے کہ جس کی آفتاب عالم تاب کی مانند شخصیت نے انسانیت کے قلب و جگر کو اپنے نور سے روشن کر دیا۔
    وہ پیر کامل ،دونوں جہانوں کا تاجدار انسانیت کی ہچکولے کھاتے ہوئی کشتی کا بیڑا پار لگانے آیا۔اس دار فانی کا زرہ زرہ اپنی استعداد کے مطابق اس ہستی کے کمال سے فیض یاب ہوا۔یہ وہی ذات تھی کہ جو راتوں کو رو رو کر اپنی امت کو نار جہنم سے آزادی کا پروانہ ملنے کی دعائیں کرتی تھی۔
    ان کی امت کون ہے؟
    ہم امت مسلمہ ہیں۔❤️
    کیا کبھی ہم نے سوچا کہ قیامت کے دن ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھائیں گے؟ بدقسمتی سے آج ہم تباہی کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں۔12 ربیع الاول کے موقع پر صرف چراغاں کرنے اور ذاتِ اقدس کے قصیدے بیان کرنے سے ہم محبت کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔آج فرانس میں ہمارے وہ نبی جو اپنی امت کے لئے اشک بار رہتے تھے ان کی توہین کی گئی اور افسوس امت مسلمہ ہمیشہ سے چند مظاہرے کرنے کے بعد خاموش ہو گئی۔ دنیا میں مسلمانوں کی پستی کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اپنے نبی کی پیروی کرنا چھوڑ دی ہے۔ہمیں اپنے کردار سے ثابت کرنا ہو گا کہ ہم واقعی میں اس عظیم ہستی کی امت کہلانے کے لائق ہیں۔ہمیں صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے دنیا پر رعب قائم کرنا ہوگا تا کہ ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کرنے کی کسی کی ہمت نہ ہو۔ آئیے آج ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اپنے اقوال و افعال کو اپنے نبی کی زندگی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رول ماڈل مانیں گے ان کی ذاتِ مبارکہ کے اعلیٰ نمونے کو سامنے رکھ کر ویسا بننے کی کوشش کریں گے۔ہم اپنے کردار سے ایک دفعہ پھر اس دنیا پر اپنی دھاک بٹھائیں گے کیونکہ ہم اس نبی کی امت ہیں جن کی شان کے قصیدے غیر مسلم بھی پڑھتے ہیں۔
    سر باسورتھ سمتھ کا قول ہے:
    "اس دنیا میں اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس نے منصفانہ طور پر ایمانداری سے حکومت کی ہے تو وہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہے”

  • لاک ڈاؤن اور کراچی کی تباہ شدہ پبلک ٹرانسپورٹ   تحریر:  ام سلمیٰ

    لاک ڈاؤن اور کراچی کی تباہ شدہ پبلک ٹرانسپورٹ تحریر: ام سلمیٰ

    بے بس کراچی کے شہری جو کئی دہائیوں سے اپنے مسائل کے حل کے انتظار میں ہے.
    پہلے بھی یہاں ٹریفک کا انتظام اس قابل نہں ہے آبادی کے تناسب سے لوگ با آسانی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر سکیں پھر کورونا کے معاملات اس وقت بھی سندھ میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے لیکن کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کا وہی حال ہے گاڑیاں کھچا کھچ بھری ہوئی کورونا کے لیے بتائی گئے احتیاط تدابیر پر کوئی عمل نہں کر رہا. پبلک ٹرانسپورٹ میں ڈرائیور اور کنڈیکٹر حضرات بتائی گئی احتیاطی تدابیر نہں آپناتے اور نہ ہی اس پے عمل کرواتے نظر آتے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے کورونا ہے ہی نہں. خدانخوستہ جس حساب سے بسوں میں عوام کا رش نظر آتا ہے یہ ہی ایک بڑی وجہ نہ بن جائے کررونا پھیلانے کی صوبائی گورمنٹ لاک ڈاؤن کے احکامات جاری کرتے ہوئے اس چیز کو مد نظر رکھے کے جن احکامات کا اعلان کیا جا رہا ہے ان پر سختی سے لوگ عمل پیرا ہوں یا ان احکامات کے لاگو ہونے کا بعد کوئی چیک پوائنٹ ضرور ہوں مانیٹر نگ کا اور احکامات کو نہ ماننے والوں کو جرمانہ کیا جائے تاکہ لوگ سختی سے احکامات پر اعمال در آمد کریں.
    لاک ڈاؤن کی وجہ سے جب تمام ادارے ایک ہی وقت میں بند کر دیے جاتے ہیں تو ٹریفک کا دباؤ بے تحا شا بڑھ جاتا ہے سڑکوں پر اور اس وجہ سے ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ پڑتی ہے اور لوگوں کے لئے سفر کا وقت بڑھاتی ہے ،اس سے بھی ذہنی تناؤ اور دیگر متعلقہ بیماریوں میں اضافہ ہوتا ہے اسی ذہنی دباؤ کی وجہ سے عام لوگ نقل و حمل سے متعلق تشویش کا شکار رہتے ہیں اور ان کی ذہنی بیماریوں میں ہائی بلڈ پریشر اور اضطراب اضافہ ہوتا ہے.

    تب صحت کے ان مسائل کا نتیجہ طبی بلوں میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں کم اور درمیانی آمدنی والے مزدور طبقے کو معاشی عدم استحکام کا زیادہ خطرہ بن جاتا ہے۔

    نقل و حمل کے محدود وسائل کی وجہ سے خواتین خاص طور پر متاثر ہوتی ہیں مزید انفراسٹرکچر اور سہولیات میں صرف سرمایہ کاری کرکے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے مسائل توجہ طلب ہیں صرف بجٹ میں پیسہ مختص کرنے سے یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے بلکے انکو حل کرنے کے لیے جامع حکمت عملی اور موثر اداروں میں ہے۔
    کراچی میں آبادی کے تناسب سے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات انتہائی کم ہیں رجسٹرڈ بسوں اور منی بسوں کی تعداد لگ بھگ 21،800 ہے ، اس لئے ایک بس میں روزانہ 257 مسافر سوار ہوتے ہیں ، ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے چونکہ بسیں انفرادی لوگ چلاتے ہیں جو کرایہ کی آمدنی کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا چاہتے ہیں ، چھت کے اوپر بیٹھنے سمیت ، بس اسٹاپ پر مسافروں کے لیے زیادہ دیر انتظار کرنا عام ہے ان کے لیے کوئی قوانین نہں بنائے گئے.

    اس کے علاوہ سرکاری اور نجی بسیں غیر مستحکم اور غیر آرام دہ ہیں۔اور ان بسوں کی بناوٹ کی وجہ سے ان بسوں میں خواتین کو تنگ کرنے کے واقعات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں.

    صوبائی گورنمنٹ بسوں کی وجہ سے کررونا کے پھیلاؤ کو روکنے پر فوری توجہ دے.

    @umesalma_

  • بتیسی فکس کراون یا ڈینٹل ایمپلانٹ (3) ،تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    بتیسی فکس کراون یا ڈینٹل ایمپلانٹ (3) ،تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹویٹر : @nabthedentist

    جوان انسان کہ منہ میں 32 دانت ھوتے جن میں چار عقل ڈارھیں ضروری نھیں سبکو آئیں اس حساب سے کم از کم ایک نارمل انسان کے منہ میں 28 دانت تو آنا لازم ھے
    جسم کے مضبوط ترین حصوں میں سب سے مضبوط ھڈی ھے اور ھڈیوں میں دانت سب سے مضبوط ترین مانے جاتے ظاہر ھے اگر یہ اتنے مضبوط ھیں تو اللہ نے ان سے کوی سخت قسم کا کام بھی لینا ھوگا اور جب یہ سارے یا ایک یا ایک سے زیادہ دانت نکل جاتے تو ان کے نیچے موجود مسوڑھے جو جسم کے کمزور حصوں میں سے ایک ھیں ان کو وہ سخت کام کرنا پڑجاتا جو وہ کر نھین پاتے جس سے مسوڑوں میں انفیکشن زخم ساتھ والے دانتوں میں مسئلے ٹوٹ پھوٹ کیڑا لگنا ٹیڑھا ھوکر اس خالی جگہ میں گرنا اوپر والے دانتوں کا قد نکال لینا یہ سب کچھ ھونا شروع ھوجاتا جسکے نتیجے میں مزید دانتوں کے نکلنے کا خطرہ درد تکلیف کا دائمی ھوجانا تکلیف والے سایئڈ سے کھانا نا کھاکر اس سایئڈ کا ناکارہ ھوجانا شامل ھے وہ ھوسکتا
    اسلئے جب کبھی کسی کا دانت کسی بھی وجہ سے نکل جائے یا نکلوانا پڑ جائے تو وہ ایک ماہ سے لیکر 6 ماہ کے اندر نئے دانت لگوا لے
    نئے دانت کبھی بھی اصل کے متبادل نھیں ھوسکتے مگر وہ کسی بھی طور نا لگوانے سے ھزار گنا بہتر ھے
    آپکا کھانا پینا شروع ھوجاتا زندگی میں سکون آجاتا ساتھ والے دانت یا پھر مسوڑوں کے مسئلے ختم ھوجاتے
    نئے دانت لگوانے میں آپکے پاس درج ذیل آپشن موجود ھیں

    1۔ اتارنے لگانے والے دانت
    Removable Denture

    مشہور زمانہ بتیسی اسی کٹیگری میں آتی یہ ایک دانت سے لیکر پوری بتیسی یعنی 32 دانت تک حسب ضرورت لگوائے جاسکتے یہ باقی آپشن کی نسبت سستے ساتھ والے دانتوں کو نقصان دیئے بغیر لگ جاتے انکا نقصان یہ اتارنے لگانے والے ھوتے خیال کم رکھا جانے کی وجہ سے خراب ھوجاتے منہ میں ایڈجسٹ نسبت مشکل سے ھوتے وقت کیساتھ ڈینٹل کلینک چکر لگتے ھی رھتے جسکے منہ میں کوی دانت نا ھو اسکے لئے یہ آپشن سب سے بہتر ھے

    2۔ فکس دانت کراون یا بیریج
    Crowns and Bridge

    جب کوی دانت کی دیوار ٹوٹ جائے یا اسکا روٹ کینال ٹریٹمنٹ ھوا ھو تو ایسے دانت کو مضبوطی دینے لئے فلنگ کیساتھ اس پر فکس کراون لگایا جاتا ھے جب دانت موجود نا ھو تو ساتھ والے دانتوں کو کٹنگ کرکے انکا ناپ لیکر خالی جگہ میں دانت لگایا جاتا اسکو bridge کہا جاتا ھے
    یہ فکس ھوتے اسلئے یہ اتارنے والوں سے بہتر رھتے یہ ان سے نسبتا زیادہ قیمت کے ھوتے ھیں اسوقت دنیا میں سب سے زیادہ یہی لگائے جاتے

    3.ایمپلانٹ Implant

    فکس برج میں جہاں ایک دانت لگانے لئے ساتھ والے دو دانتوں کی کتنگ کی جاتی وہ ایک لحاظ سے دو دانتوں کا نقصان بھی ھے جو اور 5 سال بعد خراب ھونے کی صلاحیت رکھتے جس سے برج کو اتار کر ساتھ والے مزید دانتوں کو لینا پڑ سکتا ایسے میں فکس دانت لگانے لئے ایک اور آپشن ھے وہ ھے ایمپلانٹ اس میں ساتھ والے دانتوں کو چھیڑا نھیں جاتا جو ایک دانت نکلا اسکی جگہ ایمپلانٹ screw کردیا جاتا اوپر کراون لگایا جاتا یہ سب سے بہترین آپشن ھے مگر کافی مہنگا ھوتا ھے اسلئے پاکستان میں بہت کم لوگ اس جانب راغب ھوتے

    دانت فکس ھوں یا اتارنے لگانے والے لیکن اگر انکی صفائ نا رکھی گئی خیال نا رکھا گیا تو لیبارٹری کے بنے ھوئے یہ دانت بہت جلد خراب ھوجاتے اسلئے اصل دانتوں کی حفاظت سے زیادہ انکی حفاظت ضروری ھے