Baaghi TV

Category: بلاگ

  • فضائل ومناقب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ،تحریر : ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    فضائل ومناقب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ،تحریر : ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ وہ نام ہے جو تاریخ کے صفحات پر نور کی مانند چمکتا ہے اور جس کی عظمت کا اعتراف وہی دل کرتا ہے جوایمان کی مٹھاس وحلاوت سے لبریز ، انصاف شناس اور علم دوست ہو۔ ان کے ذکر کے بغیر تاریخِ اسلام مکمل نہیں ہوتی اور ان کے بغیر صحابہ کا قافلہ ادھورا ہے۔ یہ وہ ہیں جن کے بارے میرے رب نے فرمایا کہ اللہ ان سے اور و ہ اللہ سے راضی ہوئے۔ وہ صرف ایک صحابی نہ تھے، وہ ایک کاتبِ وحی، ایک مدبر حکمران، ایک بے مثال مفاہمت کرنے والے، ایک بے نظیر مصلح اور امت محمدیہ علی صاحبھاالصلاۃ والسلام کو اتحاد کی لڑی میں پرو دینے والے ایک باوقار قائد اور خلفاء اربعہ کے جانشین تھے۔

    جب مکہ فتح ہوا اور کفارِ قریش کے سرداروں کے دل جھکنے لگے۔ یہ وہ وقت تھا جب کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دل بھی نورِ ایمان سے روشن ہوا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی بیعت کی اور دینِ حق میں داخل ہو کر اپنی زندگی کو اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ رسول مقبول ﷺ نے ان پر اعتماد کیا،اتنا اعتماد کیا کہ انہیں مقربین میں شامل کرلیا ، یہاں تک کہ انہیں کاتبِ وحی مقرر کردیا۔ یہ کوئی عام منصب نہ تھا، یہ وہ ذمہ داری تھی جو اللہ کے کلام کو زمین پر محفوظ کرنے کے لیے سونپی جاتی تھی۔ سوچنے کی بات ہے کہ وہ شخص جس کے ہاتھ سے وحیِ الٰہی لکھی جائے،سبحان اللہ اس کے دل کی کیا کیفیت ہوگی ؟ اس کا ایمان کس اعلیٰ درجے کا ہوگا ،اس کی امانت، دیانت اور پاکیزگی کیسی ہوگی؟اور ان کے دل میں رسول اللہ اور اہل بیت اطہار کی کیا عظمت ومقام ہوگا۔؟

    رسول مقبول ﷺ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو نہ صرف کاتب وحی مقرر فرمایا بلکہ انھیں اپنے مقرب ترین صحابہ میں شامل کیا اور ان کے لیے دعا بھی فرمائی۔ دعا کیا تھی؟ کوئی دعا نہ تھی بلکہ ایک عطا۔۔۔ ایک سند۔۔۔اورایک گواہی تھی : "اللھم الجعلہ ھادیا مھدیا واھد ب یعنی اے اللہ! اسے ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنا اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے۔ یہ دعا بتاتی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ۔۔۔اللہ تعالیٰ اور پیغمبر آخر الزمان جناب محمد رسول ﷺ کے محبوب تھے اور امت کے لیے ذریعہ ہدایت تھے۔

    جب امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی تو آپ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر مقرر کیا۔ وہ دن اور پھر ان کا 20 سالہ گورنری کا دور — سب تاریخ کا روشن باب بن گئے۔ جب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو آپ نے بھی کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اسی منصب پر برقرار رکھا جس پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فائز کیا تھا ۔جب انہیں خلافت کی خلعت پہنائی گئی اورامیر المومنین کے منصب پر فائز ہوئے تو امت میں مثالی امن، سکون اور ترقی لائے۔ شام، جو کبھی رومیوں کی سرزمین تھی، اسلامی تمدن، علم، طاقت، اور عدل کا مرکز بن گیا۔ سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں صرف زمین ہی نہیں سنواری بلکہ امت کے دل بھی جوڑے۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی امت کے لیے خدمات تاریخ کا ایک شاندار ، ایمان افروز اور سنہرا باب ہے۔یہ باب اپنے اندر فتوحات اور جرأت وبہادری کے اسباق لیے ہوئے ہے۔ ان کی عظیم ترین خدمات میں سے ایک عظیم خدمت یہ تھی کہ انہوں نے اسلامی تاریخ کی پہلی بحری فوج بنائی۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمان سمندروں میں جانے سے گھبراتے تھے، لیکن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے دلوں سے یہ خوف نکالا اور انہیں یہ بتایا کہ اسلام نہ صرف خشکی پر بلکہ سمندر پر بھی غالب آ سکتا ہے۔ انہوں نے قبرص فتح کیا، بحری بیڑے کو مضبوط کیا اور دشمنوں کو یہ پیغام دیا کہ اسلام ایک عالمی طاقت بن چکا ہے۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی دانائی ، صلح جوئی اور فہم وفراست کا سب سے اہم باب اس وقت کھلا جب داماد رسول امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد بحران پیدا ہوا۔ امت دو حصوں میں بٹنے کو تھی خونریزی جاری تھی ۔ ایسے نازک وقت میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی یوں امت ایک بار پھر متحد ہو گئی۔ یہ واقعہ ’’ عام الجماعۃ ‘‘ کہلاتا ہے۔۔۔۔یعنی وہ وقت جب امت میں ایک بار پھر اتحاد قائم ہوا۔ نواسہ رسول جگر گوشہ بتول سیدنا حسن رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے "سید” کہا ا ور فرمایا کہ اللہ ان کے ذریعے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائے گا۔ یہ صلح۔۔۔۔۔۔سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ رعنہ کی عظمت، حلم اور حکمت کی علامت ہے۔
    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی حلم و بردباری تھی۔ ان کے دشمن گالی دیتے، مگر وہ خاموش رہتے۔ ایک بار کسی نے ان سے بد زبانی کی تو آپ نے فرمایا : اگر میں بدلہ لوں تو تم خوش ہو جاو گے، اگر میں معاف کر دوں تو میرا رب راضی ہو جائے گا اور میں اپنے رب کی رضا کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ وہ جواب تھا جو صرف وہی دے سکتا ہے جس کا دل معرفت ومحبت الٰہی اور تقویٰ سے لبریز ہو اور جو اپنی ذات سے بالاتر ہو کر امت کے نفع کے بارے میں سوچتا ہو۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کادور خلافت۔۔۔۔ تاریخ اسلام کا مستحکم، طاقتور اور پرامن دور مانا جاتا ہے۔ آپ کے دور خلافت میں اسلامی ریاست کی حدود مشرق و مغرب تک پھیل گئیں۔ رعایا مطمئن، عدالتیں فعال اور دشمن خاموش تھے۔ آپ نے شریعت کی روشنی میں نظام حکومت چلایا اور اہل علم کو عزت دی۔ ان کا طرزِ حکمرانی آج بھی حکمرانوں کے لیے ایک نمونہ ہے۔

    حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات 60 ہجری میں دمشق میں ہوئی۔ ان کی وفات صرف ایک فرد کی وفات نہ تھی بلکہ ایک دور کا اختتام تھا۔۔۔۔ایک ایسا دور جو عدل، حکمت، حلم، اور فہم سے مزین تھا۔ علماء کرام و محدثین عظام نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی تعریف کی ہے۔ امام احمد بن حنبل، امام ذہبی، امام ابن کثیر، امام ابن تیمیہ، امام غزالی سب نے ان کی مدح کی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے امت کو علم کے نور سے روشن کیا اور ان کی گواہی آج بھی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایمان پر ایمان رکھنا، ان سے محبت کرنا، ان کے مناقب بیان کرنا صرف محبت نہیں ایک مسلمان کے عقیدہ کا جزو لازم ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میرے ا صحاب کو گالی نہ دو، کیونکہ اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرو، ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر نہیں ہو سکتا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اتحاد امت کے داعی ، کاتب وحی ، رسول اللہ کے مقرب ، اہل ایمان کے خال ( ماموں ) فتنوں کو دبانے والے ،آپ کی زندگی قرآن و سنت کی روشنی سے منور اور آپ کی حکمرانی امت کے لیے باعثِ رحمت تھی۔ آپ پر اعتراض تبصرے یا تجزیے کرنے والا عالم نہیں، جاہل اور متعصب ہے, اس کا ایمان مشکوک ہے۔ اور آپ سے محبت کرنے والا صاحب ایمان ہے،

    اللہ تعالیٰ ہمیں اہل بیت اطہار، تمام صحابہ کرام ، بالخصوص سیدنا علی ابی طالب ، سیدنا امیر معاویہ، سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنھم کی محبت عطا فرمائے اور ہمیں ان فتنہ انگیز زبانوں سے محفوظ رکھے جو صحابہ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ یہی عقیدہِ اہل سنت ہے، یہی راہِ اعتدال ہے، اور یہی راستہ ایمان کی خوشبو سے لبریز ہے۔

  • نیاز احساس، تحریر:پارس کیانی

    نیاز احساس، تحریر:پارس کیانی

    نیاز احساس یا احساساتی ضرورت جسے (Emotional Need)بھی کہا جاتا ہے۔انسانی رشتوں کی بنیاد میں ایک خفیہ مگر بنیادی ضرورت کے طور پر چھپی ہوئی ہے جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ صرف محبت یا توجہ کی معمولی خواہش نہیں، بلکہ ایک گہری نفسیاتی ضرورت ہے جو انسانی جذبات، ذہنی سکون، اور رشتوں کی مضبوطی سے جڑی ہے۔ بچے کی طرح بالغ انسان بھی اس ضرورت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ جب یہ پوری نہیں ہوتی تو دل میں خالی پن پیدا ہوتا ہے، اور زندگی کے ہر تعلق میں خلا محسوس ہوتا ہے۔

    ہر فرد کے لیے تعلق، محبت، توجہ اور جذباتی تصدیق کی ضرورت ضروری ہے۔ اگر یہ فراہم نہ کی جائے، تو انسان اندر سے تنہا، کمزور اور بے سکون محسوس کرتا ہے۔ یہ خلا مال و دولت یا دنیاوی آرام سے کبھی نہیں بھرا جا سکتا۔ چاہے انسان کے پاس سب سہولتیں ہوں، مگر نیازِ احساس پوری نہ ہو تو اندرونی خالی پن اور بےچینی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے بعض لوگ زندگی میں ناکامی، جذباتی دباؤ یا ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    رشتوں میں جذبات کی تسکین نہ ہونا صرف فرد کو متاثر نہیں کرتا بلکہ تعلقات کی مضبوطی اور پائیداری پر بھی اثر ڈال دیتا ہے۔ والدین، بچے، شریک حیات، دوست یا استاد، ہر تعلق میں اگر دوسرے فرد کی جذباتی ضرورت کو نظرانداز کیا جائے، تو رشتے کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ والدین اگر بچوں کی ضرورت کو صرف جسمانی یا مالی حوالے تک محدود رکھیں، تو اعتماد اور جذباتی سکون متاثر ہوتا ہے۔ بالغ افراد میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے: شریک حیات یا دوست کی جذباتی تصدیق، توجہ اور احترام کی کمی رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے۔

    انسان جب اپنے جذبات کی قدر محسوس کرتا ہے، اسے سننے والا ملتا ہے اور یہ یقین ہو کہ اس کی قدر کی جا رہی ہے، تو وہ زیادہ پرسکون، مثبت اور متوازن رویہ اختیار کرتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر یہ ضرورت رد یا نظر انداز کی جائے تو اندرونی خلا اور تنہائی بڑھتی ہے، جو معاشرتی تعلقات میں غلط فہمیاں اور فاصلے پیدا کرتی ہے۔نیازِ احساس صرف محبت یا جذباتی تعلق تک محدود نہیں۔ یہ ہر انسانی جذبے، خواہش اور تعلق کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ چاہے یہ احترام کی خواہش ہو، تعریف کی ضرورت ہو، یا یہ کہ کوئی آپ کے جذبات کو سمجھے، یہ سب زندگی میں اہمیت رکھتے ہیں۔ رشتوں کی حقیقت تبھی مکمل ہوتی ہے جب ہم اس ضرورت کو پہچانیں اور پورا کریں۔

    انسانی زندگی میں نیازِ احساس کو نظرانداز کرنا یا کم سمجھنا ایک خامی ہے جو نہ صرف فرد کو اندر سے خالی کرتی ہے بلکہ رشتوں کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ ہر تعلق اور انسانی تعامل اسی وقت مکمل اور صحت مند رہتا ہے جب اس میں جذبات کی تسکین اور احساس کی تصدیق شامل ہو۔ یہ وہ سرمایہ ہے جو دنیاوی کامیابی یا مال و دولت سے کبھی خریدا نہیں جا سکتا۔جب ہم اپنے رشتوں میں جذبات کی قدر اور احساس کی اہمیت سمجھتے ہیں، تو نہ صرف رشتے مضبوط ہوتے ہیں بلکہ انسانیت بھی مکمل اور پرامن رہتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو زندگی کو معنی اور سکون سے بھر دیتا ہے، اور انسانی تعلقات کو وہ گہرائی دیتا ہے جس کے بغیر محبت یا رشتہ محض رسمی لفظ رہ جاتا ہے۔نیاز احساس، (Emotional need) شدت سے چاہے جانے کی خواہش نہیں، بلکہ کسی بھی رشتے میں انسانی ذات کو پوری شدت سے تسلیم کیے جانے کا نام ہے۔

  • ٹرمپ، معدنیات اور مشرقِ وسطیٰ  ،تحریر : علی ابن ِسلامت

    ٹرمپ، معدنیات اور مشرقِ وسطیٰ ،تحریر : علی ابن ِسلامت

    پاکستانی حکام بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ پاکستان کے پاس 60 کھرب ڈالر کی نایاب معدنیات موجود ہیں۔ التجا ہے کہ دعویٰ کرنے والے حکمرانوں کی طرح آپ نے یہ نقطہ یاد ر کھنا ہے کیونکہ عنقریب پاکستان کے 60 کھرب ڈالر اور بلوچستان ، خیبر پختونخواہ ، پنجاب ، سندھ حتی کہ کشمیر کے نوجوانوں کے مستقبل کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔ میں آپ کو چند اسٹرٹیجک معاملات کی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کے حوالے دے کر بات سمجھاتا ہوں
    حنا ربانی کھر ایک پاکستانی سیاست دان ہیں، جو پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ خارجہ اور پہلی خاتون رکن اسمبلی رہیں جو قومی بجٹ پیش کرنے کا اعزاز رکھتی ہیں، ان کے سیاسی قد کاٹھ کی وجہ سے ان کو جانا جاتا ہے کیونکہ وہ سابق گورنر غلام مصطفیٰ کھر کی بھتیجی ہیں، سال 2002 میں مظفر گڑھ سے رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئیں تھیں لہذا طویل سیاسی کیرئیر کی وجہ سے ان کے تجزیہ ، بیانات اور خبروں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر مستند سمجھا جاتا ہے
    گزشتہ روز حنا ربانی کھر نے ایک سلجھے ہوئے انداز میں الجھا ہوا بیان دیا جس نے مجھے اور چند تاریخی پسِ منظر پر نظر رکھنے والوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا، میں حیران تھا کہ پیپلز پارٹی سے بڑے قد کے سیاستدان ہمیشہ بڑی بات پر توجہ مرکوز کرواتے ہیں لیکن ان کو نظر انداز کیا جاتا ہے، یہ بیان اس لیے بھی اہم تھا کہ اس میں پاکستان کی تمام معدنیا ت اور مستقبل کی پالیسیوں کا نچوڑ موجود تھا، ان کا یہ تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا پاکستان کی تعریف کرنا پاکستان کی خوش قسمتی ہے۔ دوسری جانب آج ایک اور چونکا دینے والی خبر سامنے آئی، پاکستان دفتر خارجہ کیمطابق امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ میں وزیر اعظم شہباز شریف کو شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

    میں پریشان ہوں کہ یہ تعریفیں ہمیشہ نقصان دیتی ہیں ، تاریخ کے اوراق اٹھا کر دیکھیں تو جب جب امریکہ نے تعریف کی ہمیں مشکل حالات اور امتحان میں ڈالا گیا۔ آج ٹرمپ اگر تعریف کر رہے ہیں تو یقیناً ہمیں بہت بڑی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ موجودہ دور میں ٹرمپ غزہ پر حکمرانی، ایران پر چڑھائی، کمبوڈیا پر قبضے ، وینزویلا پر حکومت ، گرین لینڈ کی ملکیت اور درجنوں امریکی مفادات کی پالیسیوں پر کام شروع کر چکا ہے۔
    سولہ جنوری 2025 کو ایک امریکی جریدے نے خود لکھا تھا کہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں ایک مستقل پیٹرن یہ ہے کہ وہ غیر ملکی بغاوتوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے مگر فیصلہ کن وقت پر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ امریکا کی وعدہ شکنی،بغاوت پر اکسانا، پھر پیچھے ہٹ جانا ہے۔

    چیچنیا ، بوسنیا، ہوائے، عراق، ہنگری، کردستان، شام اور اب ایران تک، تاریخ گواہ ہے کہ امریکی قیادت آزادی اور حمایت کے بلند بانگ دعوے تو کرتی ہے، لیکن عملی طور پر اپنے اسٹریٹجک مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ان تحریکوں کو تنہا چھوڑ دیتی ہےجس کا خمیازہ لاکھوں جانوں، مہاجرت اور تباہی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ خدشہ ہے کہ ہمیں بھی ایران، افغانستان ، بھارت کے سامنے تنہا نہ کر دیا جائے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ سُپر پاور کی تعریفوں پر ننگے پاؤں ناچنے سے پہلے حنا ربانی کھر جیسی خواتین سے حکومت کو مدد ضرور لے لینی چاہیے۔ ماضی گواہ ہے کہ 1991میں صدر جارج بش نے عراقی عوام کو صدام حسین کے خلاف اٹھنے کی ترغیب دی۔امریکی اتحادی افواج نے عراق میں بغاوت پر اکسانے والے پمفلٹس بھی گرائے۔۔بغاوت کے عروج پر عراق کے 18 میں سے 14 صوبے حکومتی کنٹرول سے نکل گئے تھے۔اس کے باوجود امریکا نے باغیوں کی عملی مدد سے انکار کیا اور صدام کو انہیں کچلنے دیا۔اس کریک ڈاؤن میں 50 ہزار سے زائد افراد مارے گئے اور 15 لاکھ کرد بے گھر ہوئے۔

    یہی کام آج مڈل ایسٹ میں امریکہ کر رہا ہے لیکن شاید سمجھدار سمجھنے سے قاصر ہیں یا پھر سونے کے انڈے کے چکر میں مرغی ذبح کر رہے ہیں۔ جنگ تو جنگ معدنیات نکالنے کے منصوبوں کے ذریعے پورے پورے خطے پر قابض ہو رہا ہے۔ جہاں بس نہ چلے وہاں صدر اٹھا لیے جاتے ہیں۔ زمانہ جانتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ دنیا بھر میں سٹریٹیجک معدنیات کے حصول کے لیے چین کے مقابلے پر صف آرا ہے۔

    جب جب ہماری تعریفیں شروع ہوئیں مخالفین زیادہ ہوئے، بجا کہ مئی 2025 کی بھارت جنگ کے بعد بہت سے لوگ پاکستان کے شیدائی ہیں۔ مگر حیران کن طور پر چین کے بعد امریکہ بھی بلوچستان کی معدنیات کے میدان میں شامل ہو چکا ہوا ہے۔ چین پہلے ہی چاغی میں معدنیات کی کان کنی کر رہا ہے، 11 دسمبر 2025 کو بتایا گیا کہ امریکہ نے بھی ریکوڈک منصوبے میں بھاری سرمایہ کاری کرے گا ۔ امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے بتایا تھا کہ امریکہ کا ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایکسم) ریکوڈک پروجیکٹ میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔بتا یا گیا تھا کہ آنے والے برسوں میں سرمایہ کاری بڑھ کر دو ارب ڈالر ہو جائے گی جس سے چھ ہزار امریکیوں اور ساڑھے سات ہزار پاکستانیوں کو روزگار ملے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا بلوچستان کا مزدور اور پسماندہ شخص روزگار کا مستحق ہو گا؟

    یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ریکوڈک کیا ہے ،ریکوڈک دراصل بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع کان ہے جس کا شمار دنیا میں تانبے اور سونے کی بڑی کانوں میں ہوتا ہے۔ یہ کان گوادر سے آٹھ سو کلومیٹر اور کراچی سے تقریباً 13 سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں تک رسائی دشوار گزار علاقے کے باعث بےحد مشکل ہے۔ ریکوڈک کا منصوبہ دہائیوں پرانا ہے مگر اس دوران قانونی تنازعات اور سکیورٹی خدشات کی بنا پر اس پر باقاعدہ کام شروع نہیں ہو سکا۔ حقیقت ہے کہ عسکریت پسندوں نے بلوچستان میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو بارہا نشانہ بنایا جس کی وجہ ہے کہ یہاں غیر ملکی سرمایہ کار پیسہ لگانے سے گریز کرتے رہے ہیں۔

    ابھی تک ریکوڈک منصوبے میں کان کنی کے حقوق بیرک گولڈ کمپنی کے پاس ہیں۔ اس کمپنی کا صدر دفتر کینیڈا کے شہر اونٹاریو میں واقع ہے اور یہ دنیا بھر میں تانبے اور سونے کی کان کنی میں مہارت رکھتی ہے ۔بیرک گولڈ ریکوڈک کان میں50 فیصد حصے کی مالک ہے جب کہ 25 فیصد پاکستان کی وفاقی حکومت اور بقیہ 25 فیصد بلوچستان کی صوبائی حکومت کے پاس ہے۔

    چین ریکوڈک کان میں براہِ راست شراکت دار نہیں مگر چاغی ضلعے ہی میں واقع تانبے کی ایک اور کان سینڈک میں چینی کمپنی ایم سی سی کھدائی کر رہی ہے۔ ماضی میں یہی چینی کمپنی ریکوڈک میں بھی دلچسپی رکھتی تھی مگر یہ بیرک گولڈ کے پاس چلا گیا تھا ۔ چین دنیا بھر میں پیدا ہونے والا 54 فیصد تانبہ استعمال کرتا ہے۔جبکہ امریکہ ہر سال آٹھ ہزار ٹن سٹریٹیجک معدنیات درآمد کرتا ہے جن کا 70 فیصد حصہ چین سے آتا ہے۔ امریکہ کو اسی بات کی تشویش ہے کہ اگر چین اپنی سپلائی روک دے تو اس کی ہائی ٹیک امریکی صنعت بحران کا شکار ہو جائے گی۔ امریکہ اپنی صنعت کو بحران سے بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہو جاتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ امریکی صدر کی تعریفیں اسی دورِ حکومت میں بہت بڑی مشکلات میں ڈالنے جا رہی ہیں۔لہذا اب سوچنے کا وقت ہے کہ ہمیں اپنا معاشی قبلہ کونسا رکھنا ہے ۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • گوجرخان ترقی کی شاہراہ پر بکھرتا ایک خواب،تحریر :  قمرشہزاد مغل

    گوجرخان ترقی کی شاہراہ پر بکھرتا ایک خواب،تحریر : قمرشہزاد مغل

    مصلحت کوش مفسر! مری جرات تو دیکھ
    جس کو سب کہتے ہیں اندھیر، اسے رات تو دیکھ
    شہر در شہر بکھرتی ہوئی اس خلقِ خدا
    کی تباہی میں ذرا اپنے بھی حالات تو دیکھ

    کہنے کو تو گوجرخان پوٹھوہار کا دل ہے، لیکن آج یہ دل حکومتی بے حسی، انتظامی نااہلی اور سیاسی یتیمی کے باعث سسک رہا ہے۔ جی ٹی روڈ پر واقع یہ اہم ترین تحصیل، جو لاکھوں کی آبادی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، آج اپنے بنیادی حقوق کے لیے پکار رہی ہے۔ کیا یہ وہی پاکستان ہے جسے ہم 2026 میں ایک جدید ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے؟ تحصیل گوجرخان کی آٹھ سے دس لاکھ کی آبادی کے لیے ایک مکمل ہسپتال تک موجود نہیں۔ گوجرخان کے وسط سے گزرنے والی جی ٹی روڈ پر ٹریفک کا بے ہنگم اژدھام اب صرف وقت کا ضیاع نہیں بلکہ انسانی جانوں کا ضیاع بن چکا ہے۔ فلائی اوور کی عدم موجودگی کسی المیہ سے کم نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں شہروں کے بیچ سے گزرنے والی شاہراہوں پر سگنل فری کوریڈورز اور فلائی اوورز دہائیوں پہلے بنائے جا چکے ہیں، مگر یہاں کی عوامی ضرورت کو فائلوں کی نذر کر دیا گیا ہے۔ کیا حکمران کسی بڑے حادثے کے منتظر ہیں؟ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی حالتِ زار دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ جی ٹی روڈ کے لب پر واقع اس ہسپتال میں، جہاں ہر لمحہ حادثات کا خدشہ رہتا ہے، ایک نیورو سرجن تک میسر نہیں۔ ہیڈ انجری کا مریض زندگی اور موت کی جنگ لڑتا ہوا پونے گھنٹے کی مسافت طے کر کے راولپنڈی جانے پر مجبور ہے، اور اکثر یہ سفر آخری سفر ثابت ہوتا ہے۔ شعبہ صحت کا منہ چڑاتی یہ حقیقت کہ ایکسرے ڈیپارٹمنٹ کلاس فور ملازمین کے رحم و کرم پر ہے جبکہ دو بجے کے بعد ایکسرے ڈیپارٹمنٹ عموما بند ملتا ہے جو صحت کے نظام پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔

    مزید برآں یہاں کے باسیوں کا خون اتنا سستا ہے کہ انہیں بنیادی سہولیات میسر نہیں محض چار لیب ٹیکنیشنز پر بلڈ بینک اور لیبارٹری کا چوبیس گھنٹے بوجھ ڈالنا انسانیت سوز رویہ ہے۔ جو او پی ڈی کے علاوہ لیبر روم، آپریشن تھیٹر سمیت دیگر ٹیسٹ 24 گھنٹے ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔جدید دور میں جہاں دنیا سمندر کے پانی کو میٹھا بنا کر گھر گھر پہنچا رہی ہے، گوجرخان کے شہری بھاری بھرکم بل بھرنے کے باوجود پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ سرکاری پانی کی سپلائی کا کئی کئی روز غائب رہنا انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت ہے۔ پانی زندگی ہے، اور گوجرخان کے عوام سے یہ زندگی چھینی جا رہی ہے۔

    تحصیل گوجرخان میں ہنرمند نوجوانوں کی فوج موجود ہے، لیکن حکومتی سطح پر صنعتی فروغ نہ ہونے کی وجہ سے بیروزگاری کا جن بے قابو ہو چکا ہے۔ یہاں صنعتی زونز کا قیام وقت کی ضرورت ہے تاکہ مقامی لوگوں کو روزگار ملے۔ جب تک یہاں بڑے صنعتی پلانٹس نہیں لگیں گے، یہاں کی معیشت وینٹی لیٹر پر ہی رہے گی۔ آراضی ریکارڈ سینٹر کی حالتِ زار یہ ہے کہ عوام اپنے ہی حق کے لیے سارا دن ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ متعدد کاؤنٹرز خالی پڑے ہیں اور ایک دو اہلکار کچھوے کی چال سے کام کر رہے ہیں۔ کیا ڈیجیٹل پاکستان کا خواب یہی ہے؟ اہلیان گوجرخان مطالبہ کرتے ہیں کہ گوجرخان جی ٹی روڈ پر فوری طور پر فلائی اوور کی تعمیر شروع کی جائے۔ ہسپتال میں نیورو سرجن، ایکسرے ٹیکنیشنز اور لیب عملے کی کمی فوری پوری کی جائے۔ پانی کی فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر نئے منصوبے شروع کیے جائیں۔ گوجرخان کو صنعتی زون قرار دے کر سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی جائے۔

    بقول شاعر
    اب بھی وقت ہے بدلو اپنا چلن ورنہ
    تاریخ کی زد میں آؤ گے تو مٹ جاؤ گے
    نہ تمہاری داستاں ہوگی نہ تمہارا نام ہوگا
    جب حق کے متلاشی سرعام نکل آئیں گے

  • امن کی پاسبانی، قربانیوں کی گواہی اور بلوچستان کا محفوظ مستقبل،تحریر:نور فاطمہ

    امن کی پاسبانی، قربانیوں کی گواہی اور بلوچستان کا محفوظ مستقبل،تحریر:نور فاطمہ

    قوموں کی تاریخ میں کچھ لمحات محض سرکاری دورے نہیں ہوتے، بلکہ وہ عزم، قربانی اور ریاستی وقار کی علامت بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک بامعنی اور باوقار موقع اس وقت دیکھنے میں آیا جب وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہیڈکوارٹرز فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) کا دورہ کیا۔ یہ دورہ ریاست کی سلامتی، شہداء کی قربانیوں اور بلوچستان کے پُرامن مستقبل کے عزم کی جھلک نمایاں تھی۔ہیڈکوارٹرز آمد پر آئی جی ایف سی نارتھ، میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے وفاقی وزیرِ داخلہ کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس استقبال میں نہ صرف عسکری نظم و ضبط کی جھلک تھی بلکہ اس جذبے کی بازگشت بھی سنائی دیتی تھی جو وطن کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ بیدار رہتا ہے۔

    دورے کا سب سے پُراثر لمحہ وہ تھا جب وفاقی وزیرِ داخلہ نے یادگارِ شہداء پر حاضری دی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں خاموش پتھر بھی قربانیوں کی داستان سناتے ہیں اور جہاں جھکے ہوئے سر اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ آج کا امن ان جانوں کا مرہونِ منت ہے جو وطن کی مٹی پر نچھاور ہو گئیں۔ وزیرِ داخلہ نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عہد کی تجدید کی کہ ان عظیم قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔اس موقع پر وزیرِ داخلہ کو بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور مستقبل کی حکمتِ عملی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ یہ بریفنگ محض اعداد و شمار تک محدود نہ تھی بلکہ اس میں ایک ایسے خطے کی تصویر پیش کی گئی جو مشکلات کے باوجود استقامت، حوصلے اور قربانی کی روشن مثال بنا ہوا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد، عوام کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے اپنائی گئی حکمتِ عملی نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ ریاستی ادارے ہمہ وقت متحرک اور چوکس ہیں۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیاں اور امن کے قیام کے لیے کی جانے والی انتھک کوششیں لائقِ تحسین ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست اپنے محافظوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور بلوچستان کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی موجودگی نے اس دورے کو مزید تقویت بخشی، جو اس بات کی علامت ہے کہ وفاق اور صوبہ یکجا ہو کر بلوچستان کے امن، ترقی اور استحکام کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔

    یہ دورہ اس حقیقت کا مظہر تھا کہ امن کوئی اتفاق نہیں بلکہ قربانی، مستقل مزاجی اور اجتماعی عزم کا ثمر ہے۔ فرنٹیئر کور کے جوان، سیکیورٹی ادارے اور ریاستی قیادت مل کر اس خواب کی تعبیر میں مصروف ہیں جس میں بلوچستان امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنے۔ اور جب تک یہ جذبہ زندہ ہے، کوئی اندھیرا اس سرزمین کے مستقبل کو تاریک نہیں کر سکتا۔

  • ’ونڈر بوائے‘ کا سراب، پھر بھی تمھیں یقین نہیں؟تحریر:رقیہ غزل

    ’ونڈر بوائے‘ کا سراب، پھر بھی تمھیں یقین نہیں؟تحریر:رقیہ غزل

    پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مقتدر حلقوں کو عوامی مقبولیت کے حامل کسی بڑے لیڈر کا متبادل تلاش کرنا ہوتا ہے، تو کسی نہ کسی ‘ونڈر بوائے’ کی لانچنگ کی جاتی ہے۔ حال ہی میں معروف سینئر صحافی سہیل وڑائچ صاحب نے اپنے کالم میں جس پراسرار ‘ونڈر بوائے’ کے ظہور کی نوید سنائی تھی، اب سیاسی پردے پر ابھرنے والے مناظر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ اقرار الحسن صاحب ہیں۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا محض ٹی وی سکرین کی مقبولیت اور جذبات سے بھرپور بیانیے کسی حقیقی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں؟ کیا وہ شخص جو اپنی ٹیم کو ‘راج’ نہ کروا سکا، وہ ایک پوری قوم کو ‘عوام راج’ کے خواب دکھانے کا اہل ہے؟

    اقرار الحسن کی سیاسی عقل اور شعور کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ انھوں نے اپنی جماعت کا نام ‘عوام راج’ رکھا ہے، حالانکہ جمشید دستی پہلے ہی ‘عوامی راج’ کے نام سے پارٹی چلا رہے ہیں۔ جس شخص کا علم اتنا محدود ہو کہ اسے اپنی جماعت کے نام کے لیے بھی دوسروں کے نام کا سہارا لینا پڑے، وہ کروڑوں لوگوں کی تقدیر کا فیصلہ کیسے کرے گا؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ صحافتی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ ایک ایسا شخص جو ‘بلیک میلر’ کے طور پر مشہور ہوا، اسے اچانک مسیحا بنا کر کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟ ‘سرِ عام’ کے نام پر انھوں نے جتنے لوگوں کو ‘بے نقاب’ کرنے کا دعویٰ کیا، حیرت انگیز طور پر ان میں سے کسی ایک کا کاروبار بھی مستقل بند نہ ہو سکا، البتہ موصوف کے اپنے ذاتی کاروبار اور بینک بیلنس میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہوتی گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب صرف اتفاق ہے یا اس کے پیچھے بلیک میلنگ کی وہ کہانیاں ہیں جن کا چرچا زبان زدِ عام ہے؟

    کسی بھی انسان کے اخلاص اور اس کی قیادت کی صلاحیت کا سب سے بڑا گواہ اس کا اپنا ماضی اور اس کے قریبی ساتھی ہوتے ہیں۔ اقرار الحسن کا پروگرام ’’سرِ عام‘‘ جس شہرت اور بلندی پر پہنچا، وہ کسی ایک فرد کا کمال نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے درجنوں پروڈیوسرز، کیمرہ مینوں اور ریسرچرز کی انتھک محنت شامل تھی۔ لیکن تضاد کی انتہا دیکھیے کہ برسوں گزر جانے کے بعد بھی آج تک اس ٹیم کا کوئی ایک رکن بھی عوامی سطح پر اپنی پہچان نہ بنا سکا۔ جہاں ٹیم کے مخلص ساتھی گمنامی کی دھول چاٹتے رہے، وہاں موصوف کے ذاتی کاروبار ملک بھر میں پھیلتے گئے اور ان کی اپنی زندگی شاہانہ تعیش اور چکا چوند کا نمونہ بن گئی۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص اپنے ان ساتھیوں کو ان کی محنت کا جائز کریڈٹ نہ دے سکا جنھوں نے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا، وہ قوم کے ساتھ کتنا مخلص ہوگا؟اخلاص کے اس فقدان کی ایک اور واضح مثال ان کے اپنے خاندان کی برانڈنگ ہے۔ موصوف کے صاحبزادے کو تو الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ہر گھر میں پہنچا دیا گیا، لیکن کیا کوئی ‘سرِ عام’ کی ٹیم کے کسی ایک رکن کے بچے کا نام بتا سکتا ہے؟ کیا ان کے بچوں کا حق نہیں تھا کہ انھیں بھی وہی مواقع ملتے جو اقرار صاحب کے اپنے بچے کو ملے؟ یہ رویہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہاں صرف ‘اپنی ذات’ اور ‘اپنے خاندان’ کی ترقی پیشِ نظر ہے، نہ کہ ان لوگوں کی جو آپ کی کامیابی کی بنیاد بنے۔ جو شخص اپنی چھوٹی سی ٹیم میں انصاف قائم نہ کر سکا، وہ کروڑوں کی آبادی والے ملک میں ‘عوام راج’ کیسے قائم کرے گا؟

    آج جب پنجاب میں ‘کالے قوانین’ کا راج ہے، جہاں سانس لینے پر بھی پہرے بٹھا دیے گئے ہیں اور ذرا سی سیاسی جنبش پر گرفتاریاں معمول بن چکی ہیں، وہاں ایک مخصوص شخص کو سیاسی چھتری فراہم کرنا اور اسے پارٹی بنانے کی خصوصی چھوٹ دینا کئی شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ پلانٹڈ ‘ونڈر بوائے’ دراصل مخصوص اشرافیہ اور گملوں میں اگنے والی سیاست کا ایک نیا مہرہ ہے جسے صرف ووٹ بینک کو تقسیم کرنے اور عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے لایا گیا ہے۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ایک طرف مصدق ملک کہتے ہیں کہ ‘کون سا ونڈر بوائے؟ وہ جو کام کرنا چاہتا ہے وہ تو ہم خود ہی کر دیں گے’، اور دوسری طرف یہی ونڈر بوائے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنی ہی حمایتی حکومت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ ‘عوام کو سستی بجلی اور پٹرول دیا جائے’۔ جناب! آپ حکومت میں ہو کر مطالبہ کس سے کر رہے ہیں؟ یہ نورا کشتی اب پرانی ہو چکی ہے اور عوام اب اس مصنوعی اداکاری کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

  • جہیز .تحریر:تابندہ طارق عکس

    جہیز .تحریر:تابندہ طارق عکس

    لخت جگر دے دینا کوئی کم تھوڑی ہے جس کے ساتھ جہیز دینا اہم قرار دے دیا گیا ہے۔انسان کی قیمت تو ادا کرنا ممکن ہی نہیں ہے پھر بھی انسان کو چیزوں کے ترازو میں تولنا کہاں کا انصاف ہے۔لڑکی والے تو نہیں کہہ سکتے لیکن لڑکے والے تو آگے بڑھ کر دل بڑا کر ہی سکتے ہیں کے انھیں جہیز نہیں چاہیے ہے۔ان کے گھر میں ضرورت کی ہر چیز موجود ہوتے ہوئے بھی کیسے فخر سے سب لے جاتے ہیں۔کاش یہ سوچیں کچھ بدلیں ایک دفعہ خود کو اس بات پر رکھ کر سوچیں کہ اگر بہو گھر لے جانے کے بجائے انھیں اپنے بیٹوں کو گھر سے رخصت کرنا پڑے اور صرف بیٹا نہیں بلکہ اس کے ساتھ سود کے طور پر جہیز بھی دینا پڑے اور پھر ساس سسر کی خدمت اور سالیوں اور سالوں کی باتیں بھی سننی پڑیں۔بچے ہونے کے بعد وہ بھی سنبھالیں پڑیں گھر کے کام بھی جدوجہد سے کرنے پڑ جائیں تو یہ سب وہ کر سکیں گے؟ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ انتہائی ناقابل قبول حقیقت ہے۔ایک بہو،ایک بیوی ایک بھابھی یہ سب کچھ کرتی ہے لیکن پھر بھی اسے عزت نہیں ملتی کیوں؟ کیا وہ عزت کی حق دار نہیں ہے؟

    ہمارے معاشرے کا الگ ہی المیہ ہے اپنی بیٹی کو اپنی بیٹی ہی سمجھتے رہتے ہیں جس نے کل کو کسی اور کے گھر کی زینت بننا ہوتا ہے اور جو ان کے گھر آتی ہے اسے کبھی بیٹی کا درجہ نہیں دیتے۔حالانکہ کے قابل غور تو یہ حقیقت ہے کے اصل بیٹی تو بہو ہی ہوتی ہے اسے بیٹی کا مقام دیں بیٹی کی طرح رکھیں اور بہو کو بھی چاہیے وہ بیٹی بننے کی کوشش کرے کچھ سمجھوتے تو سب کو کرنے پڑتے ہیں۔

    جہیز کی بنیاد پر رشتوں کی تعمیر مت کریں جہیز کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے لڑکوں کو انکار کی صورت میں پہل کرنی چاہیے تاکہ اس کا ہمارے معاشرے سے خاتمہ ہو سکے۔

  • عشرت فاطمہ سے معذرت کے ساتھ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    عشرت فاطمہ سے معذرت کے ساتھ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    کچھ آوازیں وقت کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہیں، اور کچھ آوازیں تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ عشرت فاطمہ اُنہی آوازوں میں سے ایک ہیں جنہیں ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے ناظرین اور سامعین عشروں تک سنتے رہے۔ خبروں کی سنجیدگی، تلفظ کی شائستگی اور لہجے کی ٹھہراؤ—یہ سب اُن کی پہچان رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عشرت فاطمہ نے پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا کے ابتدائی اور سنجیدہ دور میں اپنی محنت، ریاضت اور تسلسل سے ایک مقام بنایا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر مقام دائمی ہوتا ہے؟ کیا ہر سفر کی کوئی منزل نہیں ہوتی؟ اور کیا ہر پیشے میں ریٹائرمنٹ کا تصور محض ایک بے معنی رسم ہے؟

    عشرت فاطمہ کا یہ کہنا کہ “ریڈیو پاکستان نے مجھے دیوار سے لگا دیا، کہا گیا کہ اب آپ کی ضرورت نہیں، آپ کام کی نہیں”—یہ جملے سن کر دکھ بھی ہوا اور حیرت بھی۔ دکھ اس لیے کہ ایک طویل عرصے تک کسی ادارے سے وابستگی رکھنے والا فرد جب یوں شکوہ کناں ہو تو بات دل کو لگتی ہے۔ اور حیرت اس لیے کہ پینتالیس برس… جی ہاں، پورے 45 سال—کیا یہ کم مدت ہے؟ کیا یہ کسی ادارے کی بے قدری کی علامت ہے یا غیر معمولی برداشت، رواداری اور احترام کی؟

    اگر ہم حساب لگائیں تو پینتالیس برس کی ملازمت کا مطلب یہ ہے کہ عشرت فاطمہ نے کم و بیش اپنی پوری جوانی، اپنی توانائی، اپنی شناخت اسی ادارے کو دی۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر کسی نے 45 سال مسلسل کام کیا ہو تو اس کی عمر ستر کے لگ بھگ پہنچ چکی ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں، خواہ وہ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر، ریاستی اداروں میں ریٹائرمنٹ کا ایک واضح اصول موجود ہے۔ کہیں ساٹھ، کہیں پینسٹھ، کہیں زیادہ سے زیادہ ستر۔ اس کے بعد نہ صرف جسمانی تقاضے بدلتے ہیں بلکہ پیشے کی نوعیت بھی۔

    ٹیلی وژن کی دنیا کو ہی دیکھ لیجیے۔ وہاں تو نیوز کاسٹر کے لیے چہرہ، عمر، اسکرین پریزنس اور تازگی بنیادی شرائط میں شامل ہیں۔ چالیس سال کے بعد تو بڑے چینلز بھی نیوز کاسٹر لینے سے گریز کرتے ہیں۔ مگر ریڈیو پاکستان—جسے ہم اکثر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں—وہی ریڈیو عشرت فاطمہ کو تقریباً ستر سال کی عمر تک برداشت کرتا رہا، موقع دیتا رہا، عزت دیتا رہا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ادارہ بے حس تھا یا حد درجہ بردبار؟یہ کہنا کہ “مجھے دیوار سے لگا دیا گیا” شاید جذباتی ردعمل ہو، مگر یہ مکمل سچ نہیں۔ اصل سچ یہ ہے کہ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ ادارے افراد سے بڑے ہوتے ہیں، اور اداروں کو آگے بڑھنے کے لیے نئی آوازوں، نئے لہجوں اور نئی نسل کو جگہ دینی پڑتی ہے۔ اگر ہر بزرگ آواز ہمیشہ مائیک پر قائم رہے تو پھر آنے والوں کے لیے دروازے کہاں کھلیں گے؟

    ریڈیو پاکستان نے عشرت فاطمہ کو صرف ملازمت نہیں دی، بلکہ پہچان دی، نام دیا، وقار دیا۔ ایک ایسا وقار جو آج بھی اُن کے نام کے ساتھ جڑا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ انہیں کیوں رخصت کیا گیا، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پینتالیس برس بعد بھی رخصتی کو توہین سمجھنا درست ہے؟ کیا یہ کہنا مناسب ہے کہ “آپ کام کی نہیں”—جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان ایک وقت کے بعد کام کے اُس معیار پر پورا نہیں اترتا جو ادارے کو درکار ہوتا ہے؟ادب ہمیں سکھاتا ہے کہ شکوہ بھی ایک فن ہے، اور خاموشی بھی ایک وقار۔ بعض اوقات خاموشی، شور سے زیادہ باوقار ہوتی ہے۔ عشرت فاطمہ اگر خاموشی سے رخصت ہوتیں، اپنے ماضی پر فخر کرتیں، نئی نسل کے لیے دعا کرتیں، تو شاید ان کی آواز پہلے سے زیادہ معتبر ہو جاتی۔ مگر میڈیا پر آ کر ادارے پر الزام دھرنا—وہ ادارہ جس نے نصف صدی کے قریب آپ کو برداشت کیا—یہ رویہ دل کو زخمی کرتا ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ ریڈیو پاکستان کوئی ذاتی ادارہ نہیں، یہ ریاستی ادارہ ہے۔ یہاں فیصلے افراد کی پسند یا ناپسند سے نہیں بلکہ پالیسی، عمر، صحت اور ادارہ جاتی ضرورت کے تحت ہوتے ہیں۔ اگر عشرت فاطمہ کو وقت پر ریٹائر کر دیا گیا تو یہ کوئی انوکھا فیصلہ نہیں، بلکہ ایک فطری اور قانونی عمل ہے۔ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ عزت صرف مائیک پر بولنے سے نہیں ملتی، بلکہ وقت پر خاموش ہو جانے سے بھی ملتی ہے۔ بڑے لوگ وہی ہوتے ہیں جو اپنے عروج کو بھی وقار سے جیتے ہیں اور زوال کو بھی وقار سے قبول کرتے ہیں۔ عشرت فاطمہ کا ماضی قابلِ احترام ہے، مگر حال میں شکوہ کناں لہجہ اس احترام کو دھندلا دیتا ہے۔یہ کالم کسی نفی کے لیے نہیں، بلکہ ایک تلخ مگر ضروری سوال کے لیے ہے پینتالیس سال بعد بھی اگر ادارہ آپ کا ساتھ نہ دے تو کیا یہ ناانصافی ہے، یا وقت کا فطری تقاضا؟

    عشرت فاطمہ سے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ریڈیو پاکستان نے آپ سے بے وفائی نہیں کی، بلکہ آپ کو وہ سب کچھ دیا جو ہر کسی کے حصے میں نہیں آتا۔ عزت، شناخت، طویل وابستگی،یہ سب نعمتیں ہیں۔ شاید اب شکوے نہیں، شکر کا وقت ہے۔ کیونکہ تاریخ اُنہی کو یاد رکھتی ہے جو رخصت ہوتے وقت بھی مسکراتے ہیں، اور یہی مسکراہٹ اصل پہچان بن جاتی

  • انسانیت کا کیمو فلاج،تحریر:پارس کیانی

    انسانیت کا کیمو فلاج،تحریر:پارس کیانی

    ہم جس دنیا میں رہتے ہیں، وہاں سب سے زیادہ جو چیز بک رہی ہے وہ سچ نہیں، تاثر ہے۔ یہاں نیت سے زیادہ نعرہ، کردار سے زیادہ چہرہ، اور عمل سے زیادہ اعلان معتبر مانا جاتا ہے۔ انسان کے لفظ نرم ہوتے جا رہے ہیں مگر رویے سخت، زبان شائستہ ہوتی جا رہی ہے مگر دل تنگ۔ بظاہر سب کچھ درست دکھائی دیتا ہے، مگر ذرا سا کھرچنے پر اندر سے کچھ اور ہی نکل آتا ہے۔
    ہر انسان خود کو بہتر ثابت کرنے کی ایک مسلسل کوشش میں ہے۔ کوئی اخلاق کا سہارا لیتا ہے، کوئی تہذیب کا، کوئی مذہب کا، کوئی نظریے کا۔ مگر یہ سب اکثر اس لیے نہیں کہ وہ واقعی بہتر بننا چاہتا ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ سوال سے بچ سکے۔ سوال اگر اٹھ جائے تو چہرے اترنے لگتے ہیں، اس لیے انسان نے خود کو اتنا آراستہ کر لیا ہے کہ کوئی اس کے اندر جھانکنے کی جسارت ہی نہ کرے۔

    ہم انصاف کی بات کرتے ہیں مگر صرف وہاں جہاں ہمارا نقصان نہ ہو۔ ہم انسانیت کے گیت گاتے ہیں مگر صرف اپنے جیسے انسانوں کے لیے۔ ہم برابری کا درس دیتے ہیں مگر اپنی برتری کو خاموشی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ ہمیں اصول بہت عزیز ہیں، مگر صرف اس وقت تک جب تک وہ ہمارے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں۔ اصول اگر مفاد سے ٹکرا جائیں تو ہم اصول کی نئی تشریح گھڑ لیتے ہیں۔
    یہ رویہ کسی ایک معاشرے، کسی ایک قوم یا کسی ایک مذہب تک محدود نہیں۔ طاقت جہاں بھی ہو، اس کے چہرے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ دلیلیں بدل جاتی ہیں، زبان بدل جاتی ہے، مگر جواز وہی رہتا ہے۔ کہیں اسے تہذیب کہا جاتا ہے، کہیں سلامتی، کہیں ترقی، کہیں روایت۔ نام بدل جاتے ہیں، مگر انسان کے ہاتھ میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی پردہ ہوتا ہے۔

    جدید دنیا نے اس عمل کو مزید نفیس بنا دیا ہے۔ اب انسان صرف وہ نہیں چھپاتا جو وہ کرتا ہے، بلکہ وہ یہ بھی طے کرتا ہے کہ اسے کیا دکھانا ہے۔ دکھ بانٹنا نہیں، دکھ پیش کرنا اہم ہو گیا ہے۔ ہمدردی ایک کیفیت نہیں، ایک اظہار بن گئی ہے۔ خاموشی اب احساس نہیں، ایک حکمتِ عملی ہے۔ اور بےحسی کو مصروفیت کا نام دے کر قبول کر لیا گیا ہے۔
    نسل، رنگ اور مذہب کے نام پر جو خلیجیں ہیں، وہ بھی اسی رویے کا نتیجہ ہیں۔ ہر گروہ خود کو حق پر اور دوسرے کو خطا پر سمجھتا ہے۔ ہر ایک کے پاس اپنی برتری کا کوئی نہ کوئی اخلاقی یا تاریخی جواز ہے۔ کوئی بھی خود کو آئینے میں دیکھنے پر آمادہ نہیں، کیونکہ آئینہ سوال کرتا ہے، اور سوال ہمیں ننگا کر دیتے ہیں۔

    اصل مسئلہ یہ نہیں کہ انسان میں کمزوریاں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو خوبیوں کا لباس پہنا دیتا ہے۔ وہ ظلم کو مجبوری، مفاد کو دانائی، اور بےحسی کو حقیقت پسندی کہہ کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتا ہے۔ یوں ضمیر خاموش ہو جاتا ہے اور انسان مطمئن، حالانکہ کچھ بھی درست نہیں ہوتا۔
    اگر انسان واقعی بدلنا چاہے تو اسے کسی انقلاب، کسی نعرے یا کسی بڑے دعوے کی ضرورت نہیں۔ اسے صرف اتنی ہمت چاہیے کہ وہ خود کو بغیر آرائش کے دیکھ سکے۔ وہ مان سکے کہ وہ جیسا دکھتا ہے، ویسا ہے نہیں۔ وہ تسلیم کر سکے کہ جو پردے اس نے اوڑھ رکھے ہیں، وہ دوسروں کے لیے نہیں، خود اپنے ضمیر کو دھوکہ دینے کے لیے ہیں۔ انسان شاید اس لیے بھی اس دوہرے پن کا عادی ہو چکا ہے کہ سچ کے ساتھ جینا آسان نہیں۔ سچ قربانی مانگتا ہے، قیمت وصول کرتا ہے، اور آئینہ دکھاتا ہے۔ جبکہ دکھاوا سہولت دیتا ہے، قبولیت دلاتا ہے اور سوال سے بچا لیتا ہے۔ اس لیے ہم نے آہستہ آہستہ اصل ہونے کے بجائے موزوں ہونا سیکھ لیا ہے۔ ہم نے سیکھ لیا ہے کہ کب خاموش رہنا ہے، کب بولنا ہے، کہاں آنسو دکھانے ہیں اور کہاں مسکراہٹ سجانی ہے۔ یوں ہم خود بھی نہیں جان پاتے کہ ہمارے اندر جو رہ گیا ہے، وہ حقیقت ہے یا برسوں کی مشق سے تیار کیا گیا کوئی محفوظ چہرہ۔۔۔۔۔
    اور یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقت اپنا نام ظاہر کرتی ہے۔

    یہ جو اخلاق، تہذیب، انسانیت اور اصولوں کی خوبصورت تہیں ہم نے خود پر چڑھا رکھی ہیں، یہ سب دراصل انسانیت کا "کیموفلاج” ہیں۔

  • اقتدار کا نہیں، سوچ کا بحران ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقتدار کا نہیں، سوچ کا بحران ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وقت آگے نکل گیا، سیاست وہیں کھڑی ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور ان کے بیشتر قائدین ایک عجیب خوش فہمی میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ انہیں یہ گمان ہے کہ اقتدار کے چند حربے، وقتی اتحاد اور طاقت کے مراکز سے قربت نے گویا وقت کو ان کے لیے روک دیا ہے۔ جیسے سب کے سب گھڑیال کے گھنٹے سے لٹکے ہوں اور گرنے کا کوئی خطرہ نہ ہو۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ وقت نہ رکا ہے، نہ رکتا ہے، اور نہ کسی کا انتظار کرتا ہے۔ دنیا بہت آگے نکل چکی ہے۔ جدید ریاستیں عوامی فلاح، شفاف طرزِ حکمرانی، ٹیکنالوجی، میرٹ اور جواب دہی کو اپنی بنیاد بنا چکی ہیں، جبکہ پاکستان کی سیاست آج بھی فرسودہ سوچ، ذاتی مفادات اور اقتدار کی جنگ میں الجھی ہوئی ہے۔ ہم کیلنڈر کے لحاظ سے اکیسویں صدی میں ہیں، مگر عملی سیاست صدیوں پیچھے کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جمہوریت، جسے عوام کی حکمرانی کا نام دیا جاتا ہے، ہمارے ہاں ایک سنجیدہ نظام کے بجائے مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ انتخابات ہوں یا پارلیمان، آئین ہو یا عوامی نمائندگی—ہر شے طاقت کے کھیل، سودے بازی اور وقتی مفادات کی نذر ہو چکی ہے۔ عوام کو صرف ووٹ کے دن یاد رکھا جاتا ہے، اقتدار میں آتے ہی وہی عوام مسائل اور مطالبات کے ساتھ غیر ضروری سمجھ لی جاتی ہے۔سیاسی جماعتیں ماضی کے نعروں، شخصیت پرستی اور جذباتی بیانیوں کے سہارے حال اور مستقبل پر حکمرانی کی خواہش رکھتی ہیں۔ انہیں یہ احساس ہی نہیں کہ معاشرہ بدل چکا ہے، نئی نسل سوال کرتی ہے، دلیل مانگتی ہے اور کارکردگی کو معیار بناتی ہے۔ مگر ہمارے سیاستدان آج بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ عوام وہی ہیں، حالات وہی ہیں، اور سیاست ہمیشہ اسی ڈگر پر چلتی رہے گی۔

    تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اور نظام وقت کے ساتھ خود کو نہیں بدلتے، وقت انہیں پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ اگر پاکستان کی سیاست نے خود احتسابی، جدید تقاضوں اور حقیقی جمہوری اقدار کو قبول نہ کیا تو یہ بحران صرف سیاسی نہیں رہے گا بلکہ ریاستی اور سماجی بحران میں تبدیل ہو جائے گا۔ یہ دراصل اقتدار کا نہیں، سوچ کا بحران ہے۔ اور جب تک سوچ نہیں بدلے گی، نہ جمہوریت مضبوط ہو گی، نہ عوام کے مسائل حل ہوں گے، اور نہ ہی پاکستان وقت کے ساتھ قدم ملا سکے گا۔