Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یونیورسٹیاں یا ٹارچر سیل؟تحریر:اعجازالحق عثمانی

    یونیورسٹیاں یا ٹارچر سیل؟تحریر:اعجازالحق عثمانی

    دنیا بھر میں تعلیمی ادارے علم و تربیت کے مراکز ہوتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں کئی ادارے تعلیمی یا علمی مرکز نہیں بلکہ ٹارچر سیل ہیں جہاں تعلیم و تربیت کے نام پر جسمانی اور ذہنی تشدد جائز سمجھا جاتا ہے۔ سکولوں میں بچوں کو زمانہ جاہلیت کی طرز پر جانوروں کی طرح مارا پیٹا جاتا ہے۔ اور جہاں ڈنڈے اور ہاتھ نہیں اٹھائے جاسکتے، وہاں ذہن کو نشانہ بنا لیا جاتا ہے۔ یہاں تمام اختیارات پروفیسر صاحبان کا حق، جبکہ سوال، طالب علموں کا جرم ہوتا ہے۔

    یونیورسٹی آف لاہور میں آج سے قریبا 15 روز پہلے اویس نامی طالب علم کی خود کشی اور آج ایک اور پھر اسی یونیورسٹی کی چھت سے کود کر ایک طالبہ کی خود کشی کی کوشش افسوسناک تو ہے ہی۔مگر اس سے کہیں زیادہ اس نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ آئے روز نوجوان نسل کے ایسے واقعات میں صرف ایک فرد ہی اپنا قاتل نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ معاشرے کا اجتماعی قتل ہوتا ہے۔ قاتل کبھی استاد ہوتا ہے تو کبھی ادارہ،اور کبھی یہ کام والدین کرتے ہیں اور کبھی ہم سب یعنی یہ سماج۔

    یونیورسٹی پروفیسرز کے پاس آپ کی ڈگری کی تکمیل تک تمام اختیارات ہوتے ہیں۔ ہمارے سیاست دانوں پر نام کا احتساب تو ہوتا ہے۔مگر پروفیسرز کے اختیارات کے ناجائز استعمال پر سوال تک نہیں کیا جاسکتا۔ فیل کر دیا جائے،اسائنمنٹ میں گریڈز برباد کر دیے جائیں مگر آپ بول نہیں سکتے۔ بولیں گے تو سمجھو کہ ڈگری اب آسانی سے اور وقت پر تو مکمل نہیں ہونے والی۔ نفسیات میں اسے پاور ابیوز کہا جاتا ہے۔یونیورسٹی آف لاہور کا طالبعلم اویس بھی نفسیاتی دباؤ کا شکار رہا۔ اور پھر حالات اسے اس نہج پر لے گئے کہ جہاں اسے زندگی سے زیادہ موت کا رستہ آسان لگا۔ اور آج کے دن یونیورسٹی آف لاہور ہی کی فاطمہ نامی طالبہ نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔ وجوہات جو بھی ہوں۔ خودکشی کا خیال یونہی ایک دن میں ہی پیدا نہیں ہوجاتا۔ کبھی مہینوں تو کبھی سالوں کی ذہنی اذیت ہوتی ہے جو ایسے اقدامات پر انسان کو مجبور کر دیتی ہے۔ یہ اب پرانی نسل نہیں رہی صاحب!جسے آپ جیسے مرضی جس لاٹھی سے ہانپتے رہیں۔ یہ نئی نسل ہے، نئے ذہن ہیں، منفرد سوچتے ہیں۔ اور سمجھنے، سمجھانے کا طریقہ بھی الگ ہے انکا۔ اب وہ دور جاہلیت نہیں کہ باپ اور استاد کے ہر غلط صحیح کو یہ اخلاقی جواز حاصل ہو کہ چپ رہنا ہے، سہنا ہے۔

    کہنے والے تو یہ اس لیے بھی کہیں گے کیونکہ یہ آسان مگر جھوٹا بیانہ ہے کہ یہ دونوں کمزور اور بزدل تھے کہ مشکلات سب پر آتی ہیں۔اصل کمزور تو یہ نظام ہے، جو اختیار اور طاقت تو دیتا ہے مگر ساتھ ضمیر نہیں دیتا۔اگر آج بھی آپ اور میں نے اسے صرف دو طالب علموں یا ایک یونیورسٹی کا معاملہ سمجھ کر چھوڑ دیا تو کل اویس اور فاطمہ کی جگہ کوئی اور نام ہوگا، اور تب بھی ہم صرف یہ پوچھ رہے ہوں گے کہ آخر یہ بزدل جنریشن خودکشیاں کیوں کر رہی ہے۔

  • "لفظوں کی جادوگری یا ضمیروں کا قتل”،تحریر:  قمرشہزاد مغل

    "لفظوں کی جادوگری یا ضمیروں کا قتل”،تحریر: قمرشہزاد مغل

    شعر!
    وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

    دنیا بدل گئی، ہتھیار بدل گئے، مگر طاقتور کی انا اور بدمعاشی کا انداز نہیں بدلا۔ آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، وہاں گولی سے زیادہ خطرناک بیانیہ بن چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقت کا نشہ حد سے بڑھ جائے تو وہ لفظوں کے مفاہیم بدلنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔ آج کے جدید دور میں، جہاں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے راگ الاپے جاتے ہیں، وہاں میڈیا کی ایک باریک واردات کے ذریعے پوری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے۔ وینزویلا کے صدر کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے، کیونکہ جسے دنیا بھر کا میڈیا گرفتاری پکار رہا ہے، وہ درحقیقت ایک آزاد ریاست کے سربراہ کا مبینہ اغوا ہے۔ چشم کشا حقیقت تو یہ ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی عدالت نے، خواہ وہ ہیگ کی عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) ہو یا عالمی فوجداری عدالت (ICC)، مادورو کے خلاف نہ تو کوئی فیصلہ سنایا اور نہ ہی ان کی گرفتاری کا کوئی وارنٹ جاری کیا تھا۔ یہ کارروائی کسی عالمی قانون کے تحت نہیں بلکہ ایک عالمی بدمعاش کی اپنی عدالتوں میں طے شدہ ایجنڈے کے تحت عمل میں لائی گئی۔ کیا اب طاقتور ممالک کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ جس ملک کا چاہیں دروازہ توڑیں اور وہاں کے منتخب سربراہ کو اٹھا کر اپنے ساتھ لے جائیں؟ اگر یہی قانون ہے، تو پھر عالمی اداروں اور عدالتوں کی حیثیت ایک رسمی تماشے سے زیادہ کچھ نہیں۔ لفظوں کا یہ ہیر پھیر دراصل انسانی ضمیروں کو تھپکیاں دے کر سُلانے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ جب خبر رساں ادارے اغوا کو گرفتاری کا نام دیتے ہیں، تو وہ غیر محسوس طریقے سے اس غیر قانونی فعل کو قانونی جواز فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔ یاد رکھیے جب تک ہم اس ننگی جارحیت کو اس کے اصل نام اغوا سے نہیں پکاریں گے، ہم اپنی ذہنی غلامی کے طوق کو قانون کی حکمرانی کا زیور سمجھتے رہیں گے۔ آج وینزویلا کے صدر کی باری ہے، کل کسی اور ریاست کی خودمختاری کا جنازہ نکلے گا۔ کیا ہم محض تماشائی بنے رہیں گے؟ یا ہم میڈیا کے اس خود ساختہ بیانیے کو رَد کر کے ظالم کو اس کے اصل نام سے پکارنے کی ہمت کریں گے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ اس منافقت کو بے نقاب کیا جائے اور دنیا کو بتایا جائے کہ یہ قانون کی بالادستی نہیں، بلکہ جنگل کا وہ قانون ہے جہاں صرف طاقتور کی مرضی ہی انصاف کہلاتی ہے۔ اگر آج انسانیت خاموش رہی، تو تاریخ اس گرفتاری کو نہیں بلکہ اس خاموشی کو سب سے بڑا جرم قرار دے گی۔ اپنے شعور کو بیدار کیجیے، خبر نہیں، خبر کے پیچھے چھپی سازش کو پڑھیے، اگر ہم نے آج اس باریک واردات کو بے نقاب نہ کیا، تو تاریخ ہمیں ایک ایسے دور کے باسی لکھے گی جنہوں نے زنجیروں کو زیور اور قاتلوں کو مسیحا تسلیم کر لیا تھا۔

    بقول شاعر!
    ظلم کو ظلم، اغوا کو اغوا نہ کہنا بھی جرم ہے
    خاموشی اگر طوق بنے، تو پھر زندگی وبال ہے

  • پاکستان کی بڑھتی سفارتی اہمیت،ریاستی ہم آہنگی کا ثمر ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی بڑھتی سفارتی اہمیت،ریاستی ہم آہنگی کا ثمر ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کو حالیہ مہینوں میں امریکہ اور یورپ میں جو سفارتی توجہ اور پذیرائی حاصل ہوئی ہے، وہ محض اتفاق نہیں بلکہ ریاستی سطح پر ایک نسبتاً مربوط حکمتِ عملی کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ عالمی سیاست میں جہاں مفادات مستقل اور دوستیاں عارضی ہوتی ہیں، وہاں کسی ملک کی اہمیت اس کے رویّے، استحکام اور پیغام کی یکسانیت سے متعین کی جاتی ہے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کی عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور ان کی ٹیم، نے علاقائی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی اور اسٹرٹیجک توازن کے حوالے سے جو واضح اور ذمہ دار مؤقف اختیار کیا ہے، اس نے مغربی دارالحکومتوں میں پاکستان کے بارے میں سنجیدگی کو تقویت دی ہے۔ مغرب کے لیے خطے میں استحکام ایک کلیدی ترجیح ہے، اور پاکستان کا اس ضمن میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر سامنے آنا ایک اہم سفارتی اثاثہ ہے۔ ساتھ ہی وزارتِ خارجہ اور وزیرِ خارجہ کی ٹیم نے حالیہ عرصے میں روایتی جوشِ خطابت کے بجائے خاموش، محتاط اور نتیجہ خیز سفارت کاری کو ترجیح دی ہے۔ کثیرالجہتی فورمز پر متوازن بیانیہ، غیر ضروری تنازعات سے اجتناب اور عالمی طاقتوں کے ساتھ عملی مکالمہ یہ تمام عوامل پاکستان کے تشخص کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس وقت ریاستی سطح پر پیغام کا تضاد کم نظر آ رہا ہے۔

    عسکری اور سفارتی بیانیے میں ہم آہنگی وہ عنصر ہے جسے عالمی طاقتیں نہایت سنجیدگی سے لیتی ہیں۔ یہی ہم آہنگی پاکستان کو دوبارہ عالمی میز پر قابلِ گفتگو فریق بنانے میں مدد دے رہی ہے۔سفارتی کامیابی اسی وقت دیرپا ثابت ہوگی جب اسے معاشی بحالی، سیاسی استحکام اور ادارہ جاتی مضبوطی میں تبدیل کیا جائے۔آخرکار پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ نہیں کہ وہ وقتی طور پر عالمی توجہ حاصل کر لے، بلکہ یہ ہے کہ اس توجہ کو قومی مفاد میں ڈھالتے ہوئے خود کو ایک مستحکم، قابلِ اعتماد اور باوقار ریاست کے طور پر منوائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو وقتی پذیرائی کو مستقل احترام میں بدل سکتا ہے۔

  • چند لکیریں ” یادوں کی لکیریں” پر،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    چند لکیریں ” یادوں کی لکیریں” پر،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    گزشتہ چار ماہ سے کچھ نہیں لکھ پایا کہ آج کل نشہ ریل(Reel) میں مبتلا ہوں۔ کچھ دن قبل انسٹاگرام پر سکرولنگ کرتے، حمرا شعیب کی کتابیں نظر سے گزریں۔ آج کل میرا رجحان پرانے لکھاریوں کی کتب خریدنے سے کہیں زیادہ نئے قلم کاروں کی طرف ہو چلا ہے۔ اس رجحان نے بیسیوں مرتبہ پریشان بھی کیا۔مگر اس کے باوجود یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اس سلسلے کی پرائمری وجہ اچھی تحریر پڑھنا نہیں، بلکہ بطور لکھاری ایک خاموش سا مقصد ہے۔ سو ہم نے حمرا شعیب کی دو کتب منگوا لی۔ ” یادوں کی لکیریں” مصنفہ مصوفہ کی پہلی تصنیف ہے، اور حجم میں بھی قدرے مختصر ہے،سو اسکا مطالعہ پہلے کرنے کا ارادہ بنا۔ پڑھ کر پبلیکیشن ہاؤس کو کوسا،اور مصنفہ کےقلم کے لیے بے ساختہ دعائیں نکلی۔یہ کتاب دراصل مصنفہ کی نانی کی زندگی کی یادداشتوں، وفا،دکھوں اور صبر کی خاموش جدوجہد کی کہانی ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار حالات کی سختیوں کے باوجود، صبر و وفا کا دامن نہیں چھوڑتا۔ گو کہ کتاب کا اسلوب بہت ہی سادہ ہے مگر مصنفہ نے تمام واقعات کو محض واقعات کے طور پر نہیں بلکہ احساس کی شکل میں پیش کیا، جو کہ کہانی کو اثر انگیز بناتا ہے۔ اس کتاب کی ایک ہی خوبی ہے کہ یہ خلوص اور سچائی پر مشتمل ہے نا کہ بناوٹی ہے۔ بیماری، جدائی، موت، سماجی جبر اور عورت کی بے لوث قربانی جیسے کئی واقعات نہایت سادگی سے سامنے آتے ہیں، تو بعض دفعہ نانی کے مکالمے اور جملے سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ بعض مقامات پر بیان و مکالمہ کی غیر ضروری طوالت و جملوں کی تکرار نے کہانی اور روانی دونوں کو متاثر کیا۔ کہانی بعض مقامات پر فکری و زمانی ترتیب کھو دیتی ہے۔ اور ابواب کے درمیان کمزور ربط بھی بطور قاری کے لیے مشکلات کا باعث رہا۔ منظر نگاری میں یکسانیت اور فنی سطح پر بہتری کی گنجائش تھی۔ لفظ مصنف کے ہوتے ہیں، مگر ورق (کتاب) پبلیکیشن ہاؤس کی۔ مگر بدقسمتی سے کتاب دیکھ کر پبلیکیشن ہاؤس کی غفلت نمایاں طور پر نہیں آئی۔ املا، رموز اوقات اور زبان کی بنیادی غلطیاں چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں کہ مسودہ کسی معیاری ادارتی عمل سے گزرا ہی نہیں۔ متن کی ترتیب، پیراگراف کی نشت۔۔۔۔ افسوس۔ مگر لفظوں کی چمک دمک سے پرے، سچائی کی سیاہی سے لکھنے پر حمرا شعیب کو مبارک باد اور دعائیں۔

  • وینزویلا کی عبرت اور پاکستان کی عظمت،تحریر :قمرشہزاد مغل

    وینزویلا کی عبرت اور پاکستان کی عظمت،تحریر :قمرشہزاد مغل

    بقول شاعر
    "تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
    ہے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات”

    تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ قومیں صرف زمین سے نکلنے والے سونے یا تیل کے ذخائر سے محفوظ نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی بقا کا ضامن وہ فولادی دفاع ہوتا ہے جس کے سامنے دشمن کے ارادے پاش پاش ہو جائیں۔ وینزویلا کی مثال آج کی دنیا کے لیے وہ نوحہ ہے جسے ہر خود مختار ریاست کو غور سے سننا چاہیے۔ 300 ارب بیرل تیل، وسیع رقبہ اور سنہری ساحل رکھنے والا یہ ملک نقشے پر قدرت کا شاہکار تھا، مگر اس کی بنیادیں کھوکھلی تھیں۔ وہاں بلند و بانگ نعرے تو تھے، مگر دفاع کی وہ ڈھال مفقود تھی جو کسی بھی قوم کی آخری پناہ گاہ ہوتی ہے۔ جب وقت نے کروٹ لی تو دنیا نے دیکھا کہ تیل کے کنویں ٹینکوں کا راستہ نہیں روک سکے اور نہ ہی بلند و بالا سڑکیں میزائلوں کے سامنے دیوار بن سکیں۔ جس ملک کے صدر کو اس کے بیڈروم سے اٹھا لیا گیا، اس نے ثابت کر دیا کہ اگر دفاع ناقابلِ تسخیر نہ ہو تو معیشت محض ایک عارضی سراب اور خود مختاری ایک خوشنما فریب ہے۔ مگر اسی عالمی نقشے پر ایک اور ریاست بھی ہے جس کا نام پاکستان ہے۔ ہمارے پاس شاید وینزویلا جتنا تیل نہیں، ہم شاید دنیا کی سب سے بڑی معیشت بھی نہیں، مگر ہمارے پاس وہ اثاثہ ہے جس کی ہیبت سے عالمی ایوانوں میں لرزہ طاری رہتا ہے۔

    آج پاکستان جس پُراعتماد لہجے میں عالمی سطح پر اپنا موقف پیش کرتا ہے، اس کے پیچھے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر (فیلڈ مارشل کے بلند پایہ عزم کے حامل سپہ سالار) کی بصیرت اور قیادت کھڑی ہے۔ دشمن جب پاکستان کی طرف دیکھتا ہے تو اسے صرف ایک جغرافیہ نظر نہیں آتا، بلکہ اسے وہ جذبہِ ایمانی اور عسکری قوت نظر آتی ہے جس نے ناممکن کو ممکن بنا رکھا ہے۔جنرل سید عاصم منیر کا یہ تاریخی اور دلیرانہ اعلان کہ ہم کو لگا کہ ہم ڈوب رہے ہیں تو آدھی دنیا کو ساتھ لے کر ڈوبیں گے محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایٹمی پاکستان کی اس طاقت کا اظہار ہے جو دشمن کو اس کی حد میں رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ پیغام اس بات کی سند ہے کہ پاکستان کوئی آسان شکار نہیں جسے چند گھنٹوں کے آپریشن سے مفلوج کیا جا سکے۔ یہاں کی فضائیں بیدار ہیں، یہاں کے ریڈار دشمن کی ہر حرکت پر نظر رکھتے ہیں اور یہاں کے کمانڈ سینٹرز کبھی اندھیرے میں نہیں ڈوبتے۔ افواجِ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ قوموں کی زندگی وسائل سے زیادہ ان کی دفاعی صلاحیت اور سپہ سالار کے پختہ عزم سے وابستہ ہوتی ہے۔ آج اگر ہم اپنی سرحدوں کے اندر محفوظ ہیں، تو یہ اس آہنی حصار کا کرشمہ ہے جسے ہمارے شہداء کے لہو اور غازیوں کی ہمت نے سینچا ہے۔

    دشمن جانتا ہے کہ پاکستان کا دفاع وہ چٹان ہے جس سے ٹکرانے والا خود پاش پاش ہو جائے گا۔ وینزویلا کی بربادی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ معیشت کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اگر محافظ کمزور ہوں تو سب کچھ ایک بٹن دبانے سے صفر ہو سکتا ہے۔ لیکن الحمدللہ پاکستان کا دفاع فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں آج اس مقام پر ہے جہاں ہم اپنے مستقبل کا فیصلہ کسی غیر کی دھمکی پر نہیں، بلکہ اپنی قومی غیرت کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے اور رہے گی کہ وسائل قوموں کو چمک دیتے ہیں، مگر افواج قوموں کو زندگی دیتی ہیں۔ پاک فوج زندہ باد، قائدِ اعظم کا پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

  • امریکہ، وینزویلہ ،مسلم دنیا کے لیے وارننگ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ، وینزویلہ ،مسلم دنیا کے لیے وارننگ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ اور وینزویلہ کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر یہ حقیقت عیاں کر دی ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت، مفاد اور وسائل فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی دعوے اکثر ثانوی بن کر رہ جاتے ہیں۔ وینزویلہ کے معاملے نے نہ صرف لاطینی امریکہ بلکہ پوری دنیا، بالخصوص مسلم دنیا کے لیے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ وینزویلہ کے وسیع تیل ذخائر، اندرونی سیاسی انتشار اور معاشی کمزوری نے بیرونی مداخلت کے لیے راستہ ہموار کیا۔ جب ریاستیں داخلی طور پر کمزور ہو جائیں تو بیرونی طاقتیں جمہوریت، انسانی حقوق یا سلامتی کے نام پر فیصلے مسلط کرنے میں دیر نہیں لگاتیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں ریاستی خودمختاری محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ مسلم دنیا کے لیے اس بحران میں واضح سبق ہے کہ خودمختاری کا تحفظ صرف عسکری طاقتیں ہی نہیں کرتیں بلکہ مضبوط معیشت، سیاسی استحکام اور مؤثر سفارت کاری بھی ضروری ہے۔ قدرتی وسائل اگر شفاف نظام اور قومی اتفاق کے بغیر ہوں تو وہ نعمت کے بجائے عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ عالمی ادارے، خصوصاً اقوام متحدہ، ایسے مواقع پر مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے یہ تاثر مزید گہرا ہو رہا ہے کہ دنیا ایک ایسے نیو ورلڈ آرڈر کی طرف بڑھ چکی ہے جہاں اصول کم اور طاقت کا توازن زیادہ اہم ہے۔ یک قطبی نظام بتدریج ختم ہو رہا ہے اور عالمی سیاست اب معیشت، توانائی اور ٹیکنالوجی کے گرد گھوم رہی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا وینزویلہ جیسا ماڈل مستقبل میں کسی اور ملک پر آزمایا جا سکتا ہے؟ زمینی حقائق اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے ہیں۔ جہاں سیاسی انتشار، معاشی کمزوری اور اسٹریٹیجک اہمیت اکٹھی ہو، وہاں بیرونی دباؤ کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم دنیا اس بدلتی ہوئی عالمی حقیقت کو سنجیدگی سے سمجھیں، داخلی اتحاد کو مضبوط بنائیں اور علاقائی و عالمی سطح پر خوددار اور متوازن پالیسی اپنائیں۔ بصورت دیگر تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ جو قومیں وقت کے تقاضوں کو نظر انداز کرتی ہیں، وقت ان کے بارے میں فیصلے خود کر لیتا ہے۔

  • اب نہیں تو کب؟ تحریر:رقیہ غزل

    اب نہیں تو کب؟ تحریر:رقیہ غزل

    دو روز پہلے آسمان روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ شہر آتش بازی کی بارش میں نہائے ہوئے تھے، پٹاخوں کی گونج، مسکراتے چہرے اور مبارک بادوں کے شور میں ایک اور سال رخصت ہوا اور ہم نئے سال میں داخل ہو گئے۔ ہر طرف یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ جیسے قوم واقعی خوشحالی کے سنگِ میل پر کھڑی ہو، تمام دکھ پیچھے رہ گئے ہوں اور آگے صرف امید ہی امید ہو۔ دعوے بھی پورے اعتماد سے کیے جا رہے تھے کہ تاریخی آتش بازی میں ہم نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے مگر جب بارہ بجنے کا شور تھما، فضا ساکت ہوئی اور یکم جنوری کا سورج طلوع ہوا تو دل نے ایک ایسا سوال کیا جس کا جواب کسی تقریر، کسی دعوے اور کسی آتش بازی میں موجود نہیں تھا: کیا واقعی ہم نئے سال میں داخل ہوئے ہیں یا صرف پرانی محرومیوں پر نیا کیلنڈر ٹانگ دیا گیا ہے؟

    یہ سوال کسی ماضی کی کہانی نہیں بلکہ اسی لمحے کی تصویر ہے جس میں ہم سانس لے رہے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں سے آج بھی یہی آواز آ رہی ہے کہ پاکستان معاشی ترقی کی جانب گامزن ہے اور حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔ اگر سب کچھ واقعی درست سمت میں ہے تو پھر عام آدمی کی آنکھ میں سکون کیوں نہیں؟ اگر خوشحالی دستک دے چکی ہے تو گھروں کے چولھے اب بھی ٹھنڈے کیوں ہیں؟ اور اگر ترقی ہو رہی ہے تو اس کی آواز صرف پٹاخوں اور تشہیری نعروں میں ہی کیوں سنائی دیتی ہے؟

    پورا سال عوام کو بتایا جاتا ہے کہ خزانہ خالی ہے، حالات نازک ہیں، قربانی ناگزیر ہے اور کمر کسنا وقت کی ضرورت ہے مگر جیسے ہی نیا سال شروع ہوتا ہے، قربانی کا بوجھ وہیں کا وہیں رہتا ہے اور مراعات کا پلڑا اچانک بھاری ہو جاتا ہے۔ کفایت شعاری عوام کے لیے اور فیاضی اختیار کے ایوانوں میں،اسی ترتیب کو اب نظم و ضبط اور معاشی حکمتِ عملی کا نام دیا جا رہا ہے۔ عوام کے حصے میں صرف قصے آتے ہیں، وہ قصے جن میں ہر روز ایک نئی ہوش ربا داستان شامل ہو جاتی ہے، گویا ہم جدید دور کی ’الف لیلیٰ‘ کا حصہ بن چکے ہوں۔دنیا نے ہماری آتش بازی کے رنگ نہیں دیکھنے، اسے وہی نظر آتا ہے جو عالمی اداروں کی رپورٹیں دکھا رہی ہیں۔ آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ واضح طور پر بتاتی ہے کہ پاکستان میں اشرافیہ کی بدعنوانیوں میں اضافہ ہوا ہے، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم گہری ہو رہی ہے اور غربت مزید پھیل رہی ہے۔ جس معاشی استحکام کو کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے وہ وقتی ہے اور اس کا بوجھ براہِ راست عوام اٹھا رہے ہیں۔ یوں بیانیے اور حقیقت کے درمیان فاصلہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک طرف ترقی کے دعوے ہیں اور دوسری طرف عالمی اداروں کی وارننگ۔ آئینہ کچھ اور دکھا رہا ہے اور زبان کچھ اور بول رہی ہے، اور اس تضاد کی شدت عوام کی روزمرہ زندگی میں پوری طرح عیاں ہے۔

    اسی تضاد کی سب سے نمایاں مثال قومی اثاثوں کی نجکاری ہے اور اس ضمن میں سب سے حساس اور دل دہلا دینے والا نام پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کا ہے۔ پی آئی اے محض ایک ادارہ نہیں بلکہ قومی تاریخ، وقار اور شناخت کی علامت رہی ہے۔ برسوں کی بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور ناقص فیصلوں کے ذریعے اسے دانستہ کمزور کیا گیا اور اب اسی کمزوری کو بنیاد بنا کر کہا جا رہا ہے کہ اس کا واحد حل نجکاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی ادارے کو علاج سے محروم رکھا جائے اور پھر اسے فروخت کے لیے پیش کر دیا جائے تو کیا اسے اصلاحات کہا جا سکتا ہے؟پی آئی اے کے پاس آج بھی قیمتی زمینیں، اسٹریٹجک روٹس، تربیت یافتہ عملہ اور خطے میں ایک پہچان موجود ہے مگر نجکاری کے بیانیے میں یہ سب ثانوی بنا دیا گیا ہے۔ بولیوں کی شفافیت پر سوالات، کم قیمت لگنے کا تاثر اور قومی مفاد کی مبہم تشریح اس خدشے کو بڑھاتی ہے کہ یہ قومی اثاثہ بھی اونے پونے داموں منتقل کر دیا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے فیصلوں میں نقصان ہمیشہ عوام کا ہوا اور فائدہ چند مخصوص گروہوں کو پہنچا۔

    اسی معاشی فضا میں یہ سوال بھی شدت سے ابھرتا ہے کہ اگر پاکستان واقعی ترقی کی راہ پر ہے تو کمپنیاں اپنا کاروبار سمیٹ کر واپس کیوں جا رہی ہیں؟ غیر ملکی سرمایہ کاری سکڑ کیوں رہی ہے؟ اور کاروباری طبقہ عدم تحفظ کا شکار کیوں ہے؟ سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں استحکام اور اعتماد ہو۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ جن نوجوانوں نے بیرونِ ملک جانے کا فیصلہ کیا انھیں بھی اب روکا جا رہا ہے۔ نہ یہاں روزگار میسر ہے اور نہ باہر جانے کی راہ آسان۔ ایک پوری نسل درمیان میں لٹک چکی ہے۔دوسری طرف سڑکوں پر غریب لوگوں کو ہیلمٹ اور ٹریفک چالانوں کے ہزاروں روپے کے بوجھ نے
    نچوڑ کر رکھ دیا ہے مگر کسی کو ترس نہیں آتا۔ ناجائز ٹیکسوں کے دباؤ میں پہلے ہی پسے عوام پر اب کوڑا ٹیکس بھی عائد کر دیا گیا ہے۔ صحت کا نظام وینٹی لیٹر پر ہے، مہنگائی عام آدمی کی کمر توڑ رہی ہے، بے روزگاری نوجوانوں کو دیوار سے لگا چکی ہے، اور آٹا، دال، دوائیں اور ایندھن آج بھی خواب بنتے جا رہے ہیں۔

    ایسے میں کروڑوں روپے کی آتش بازی اور نمائشی تقریبات خوشی کا تاثر نہیں دیتیں بلکہ بے حسی کا اعلان محسوس ہوتی ہیں۔ یہ سب کسی قدرتی آفت یا ناگہانی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مخصوص سوچ کا حاصل ہے ،وہ سوچ جس میں ریاست وسائل سے نہیں بلکہ نیت سے خالی دکھائی دیتی ہے۔

    تشہیری منصوبوں پر ساری توانائیاں صرف کر رہی ہے تاکہ ایک بہتر تصویر پیش کی جا سکے، یقینا منصوبے اچھے ہیں مگر تب جب عوام خوشحال ہوںجبکہ یہاں توگزشتہ برس یہ حال رہاکہ فیصل آبادکی کپڑا مارکیٹوںمیں شدید مندی رہی اور یہی حال ہر جگہ رہا بلکہ اسکولوں اور کالجوں میں داخلوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور اسی بنیاد پر اب تعلیمی نجکاری کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔مسئلہ صرف نجکاری نہیں بلکہ وہ ذہنیت ہے جو ہر چیز کو محض منافع کے ترازو میں تولتی ہے اور مسائل کا حل نہیں بلکہ جان چھڑاؤ اور وقت ٹپاؤ جیسی حکمت عملیوںپر عمل پیرا ہونا فخر سمجھتی ہے۔

    پٹاخوں کی روشنی میں سب سے واضح منظر یہ ہے کہ ریاستی وسائل خاموشی سے نیلام ہو رہے ہیں اور عوام کو تماشائی بنا کر مصروف رکھا گیا ہے۔’تجھے ہونا تھا فرشتوں سے بھی افضل،مگر ہائے انسان! تو درندوں سے بھی بدتر نکلا‘مرگِ احساس واقعی بدترین مرگ ہے، اور ہم اسی عہد میں سانس لے رہے ہیں۔ نئے سال کے آغاز میں جو سوال پیدا ہوئے تھے، وہ آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ میں ایسے شخص کو زندوں میں کیا شمار کروں جو نہ سوچتا ہو، نہ خواب دیکھتا ہو، نہ حق اور باطل میں فرق کرتا ہو، اور خاموشی اختیار کر کے نہ صرف اپنے بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی تاریک کر دے۔اگر ملک کو واقعی آگے بڑھنا ہے تو یہ سفر نعروں، چراغاں اور آتش بازی سے نہیں بلکہ شعور، سوال اور جواب دہی سے طے ہو گا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم صرف کرنے والوں سے نہیں بلکہ برداشت کرنے والوں سے بھی طاقت پاتا ہے۔ اور آخرکار یہی حقیقت بچ رہتی ہے کہ خاموشی بھی ایک جرم ہے اور اب بھی اپنے حقوق نہیں پہچانو گے تو کب پہچانو گے ؟

  • عالمی تھانیدار اور وینزویلا.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    عالمی تھانیدار اور وینزویلا.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    پوری دنیا کے کان ایک بار پھر کھڑے ہو گئے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ اس دنیا میں کہیں کوئی بڑی چوری یا ڈاکا پڑا ہے۔ بلکہ عالمی تھانیدار نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ اب ملکوں کے نقشے اسی کے حکم سے بنیں اور بگڑیں گے۔ ملکوں کو مرضی سے چلانے کے لیے تو طاقت ور تھانیدار پہلے ہی بہت معروف تھے۔مگر تازہ اعلان کچھ زیادہ ہی بے باک ہے کہ بھیا! ہم نے وینزویلا پر فوجی حملہ کرکے اس کے صدر کو بیوی سمیت گرفتار کر رکھا ہے۔ تھانیدار کا ایسا اعلان اس دنیا میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ اب کوئی یہ بھی نہ سمجھ بیٹھے کہ وینزویلا کا صدر "مادورو” کوئی نیک آدم زاد ہے یا کوئی فرشتہ صفت حکمران۔ آمریت پسند، سیاسی حریفوں سے بدترین سلوک کئی ایک تلخ حقائق ہیں۔ مگر تھانیدار صاحب! آپ کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ آپ کسی بھی ملک گھسیں اور صدر کو گرفتار کرکے ساتھ لے آئیں۔ مادورو کے بارے جان کر اگر آپ کو بھی انصاف یہی عالمی معیار لگ رہا ہے تو برخوردار اپنے صدر کو تیار رکھیں، اگلی باری آپ کی بھی ہوسکتی ہے۔ اس معیار کے مطابق تو آدھی دنیا کو اب تک واشنگٹن کے حوالات میں ہونا چاہیے تھا۔

    واشنگٹن کے تھانیدار کا کہنا ہے کہ یہ مادورو منشیات فروش اور اسمگلر ہے۔ اور بات بھی ٹھیک ہے۔ یہ نا سمجھ بیٹھے گا کہ واشنگٹن کی نیت نیک ہے۔ زیادہ دور نہیں اپنے پڑوسی افغانستان کو دیکھ لیجیے، جس کےلیے یہاں سے ہی نعرہ لگا تھا کہ دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کریں گے۔ مگر نتائج آپ کے سامنے ہیں،راکھ، لاشیں، اور وہی پرانے سوداگر۔
    لیکن واشنگٹن کے عزائم صاف ہیں، وہ نیک نہیں، رسید بک ساتھ لاتا ہے۔ "اپنا کام بنتا، بھاڑ میں جائے (باقی) جنتا”۔

    لیکن وینزویلا کا جرم کیا ہے آخر؟؟ جب آپ کے پاس تیل کے بڑے بڑے ذخائر ہوں۔ مگر آپ واشنگٹن کے دائرہ اثر سے باہر نکلنے کی ضد کریں تو یہ جرم ہے، اور ایسا سنگین جرم ہے کہ جس کی واشنگٹن تھانے میں ذرہ برابر بھی معافی نہیں۔

    کئی برسوں سے وینزویلا نے ضد پال رکھی تھی۔ یہ وہی ضد ہے جو کسی دور میں شاویز نے پالی تھی۔2002 میں اسے فوج کے ذریعے ہٹایا گیا، مگر عوامی حمایت نے اسے 48 گھنٹوں کے دوران ہی واپس لا بیٹھایا۔
    تب سے یہ سلسلہ جاری ہے، کبھی پابندیاں، کبھی رجیم چینج، کبھی اپوزیشن کو ہیرو بنا کر پیش کرنا۔ مگر مادورو نے بھی سوشلسٹ نعرے، امریکا مخالف بیانات اور اس سے بھی بڑا جرم کیوبا اور ایران سے دوستیاں بڑھانے کی کوششیں جاری رکھی۔وہ بھی پرانے دوستوں کے نقش قدم پر چل رہا تھا ،مگر وہ آمرانہ اقتدار کے لطف میں اتنا مگن ہوگیا تھا کہ۔۔۔

    گزشتہ انتخابات میں مادورو کی شکست کے ٹھوس شواہد موجود ہیں مگر وہ قابض رہا۔ لیکن اب عالمی تھانیدار کا فرمان آیا ہے کہ "منصفانہ انتقالِ اقتدار تک امریکہ وینزویلا کو چلائے گا”۔ وہ بھی زبردستی قابض تھا اور آپ بھی، تو دونوں میں فرق کیا رہا؟ مگر آپ نے اگر ایسا ہی کرنا ہے تو یہ اقوام متحدہ، بین الاقوامی قوانین اور آزادی و خودمختاری کی باتیں صرف فرضی اور کتابی ہیں۔ ابھی چند دن پہلے تک تو آپ امن کے داعی بنے پھرتے تھے۔ امن کا نوبل انعام لینا چاہتے تھے۔ ہر جگہ جا جا کر جنگ بندی کا کریڈٹ لے رہے تھے۔ اب خود کیوں جنگ پر اتر آئے؟۔ ان جنگ بندی کی کوششوں کو پھر صرف ڈھونگ ہی سمجھا جائے۔

  • ہم کہاں کھڑے ہیں؟تحریر: منصب علی وٹو

    ہم کہاں کھڑے ہیں؟تحریر: منصب علی وٹو

    ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں شور بہت ہے، مگر سوچ نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ زبانیں متحرک ہیں لیکن ضمیر خاموش، انگلیاں دوسروں کی طرف اٹھتی ہیں مگر خود احتسابی کا آئینہ گرد آلود پڑا ہے۔ یہ سوال اب محض فلسفیانہ نہیں رہا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، بلکہ یہ سوال ہماری اجتماعی بقا سے جڑ چکا ہے۔

    آج کا انسان معلومات سے بھرا ہوا مگر شعور سے خالی دکھائی دیتا ہے۔ سوشل میڈیا کی اسکرین پر لمحہ بھر میں رائے قائم کر لی جاتی ہے، بغیر یہ سمجھے کہ ہر سچ آدھا نہیں ہوتا اور ہر جھوٹ مکمل نہیں۔ ہم نے سوچنے کی محنت چھوڑ دی ہے اور مان لینے کو عقل مندی سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قومیں زوال کی پہلی سیڑھی اترتی ہیں۔

    ہمارا المیہ یہ نہیں کہ ہم مسائل کا شکار ہیں، المیہ یہ ہے کہ ہم نے مسائل کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ مہنگائی، ناانصافی، تعصب، بے روزگاری،یہ سب اب خبروں کا حصہ نہیں بلکہ معمول کی گفتگو بن چکے ہیں۔ جب کوئی معاشرہ ظلم پر چونکنا چھوڑ دے تو سمجھ لیجیے کہ وہاں ظلم مضبوط ہو چکا ہے۔ہم اکثر قیادت کو کوستے ہیں، نظام کو گالیاں دیتے ہیں، مگر یہ سوال پوچھنے سے کتراتے ہیں کہ کیا ہم خود اس نظام کا حصہ نہیں؟ ایک رشوت لیتا ہے، دوسرا خاموش رہتا ہے؛ ایک جھوٹ بولتا ہے، دوسرا اسے شیئر کر دیتا ہے۔ یوں برائی اکیلی نہیں رہتی، اسے اجتماعی تحفظ مل جاتا ہے۔

    تعلیم کا حال یہ ہے کہ ڈگریاں تو بڑھ رہی ہیں مگر دانش کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم نے تعلیم کو روزگار کا زینہ تو بنا لیا، مگر کردار سازی کا ذریعہ نہ بنا سکے۔ نتیجہ یہ کہ ہنر مند تو پیدا ہو رہے ہیں، مگر دیانت دار انسان ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ قومیں عمارتوں سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں اور کردار نصاب سے نہیں، تربیت سے بنتا ہے۔مذہب، جو ہمیں جوڑنے آیا تھا، ہم نے اسے تقسیم کا ہتھیار بنا لیا۔ ہر فرقہ، ہر گروہ، ہر جماعت خود کو حق کا ٹھیکیدار سمجھنے لگی ہے۔ ہم نے خدا کو بھی اپنی انا کے دفاع کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ اصل دینداری تو عاجزی سکھاتی ہے، نفرت نہیں۔

    سنجیدہ قلم کار بار بار یہ احساس دلاتے ہیں کہ اصل جنگ باہر نہیں، اندر ہے۔ وہ جنگ جو انسان اپنے ضمیر سے لڑتا ہے۔ اگر یہ جنگ ہار جائے تو بڑے سے بڑا انقلاب بھی کھوکھلا رہ جاتا ہے۔ تبدیلی نعروں سے نہیں، نیت سے آتی ہے۔ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ اصلاح کا آغاز اوپر سے نہیں، خود سے ہوتا ہے۔ جب ایک فرد سچ بولنے کا حوصلہ کرے، انصاف پر سمجھوتہ نہ کرے، اختلاف کو دشمنی نہ سمجھے تو وہی فرد معاشرے میں خاموش انقلاب کی بنیاد رکھتا ہے۔یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، سنجیدہ سوالات کا ہے۔ یہ وقت دوسروں کو بدلنے کے خواب دیکھنے کا نہیں، خود کو بدلنے کی جرات کا ہے۔ اگر ہم نے آج سوچنا نہ سیکھا تو کل سوچنے کا حق بھی کھو دیں گے۔

    آخر میں سوال وہی ہے:
    ہم کہاں کھڑے ہیں؟
    اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ
    ہم کہاں کھڑا ہونا چاہتے ہیں؟

    فیصلہ ہمیں کرنا ہے،بطور فرد، اور بطور قوم۔

  • یوٹیوب کی سیاست اور قومی سلامتی،ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    یوٹیوب کی سیاست اور قومی سلامتی،ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    قومی سلامتی اور یوٹیوب کی سیاست یہ کیسا المیہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی سیاست کو ناکامی کا سامنا ہوتا ہے تو اس کا ملبہ قومی سلامتی کے اداروں پر ڈالنے کی روایت پھر سے زندہ ہو جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک سیاسی جماعت اور اس کے ہم نوا چند یوٹیوبرز نے ایک کالم کو بنیاد بنا کر وہ بحث چھیڑ دی ہے جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ریاستی مفاد کے بھی سراسر خلاف ہے۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان ایک حساس جغرافیائی خطے میں واقع ہے۔ یہاں قومی سلامتی محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ریاست کی بقا کا ضامن ہے۔ مگر افسوس، ہمارے ہاں سوشل میڈیا کے مائیک نے ہر اس شخص کو دانشور بنا دیا ہے جس کے پاس کیمرہ، انٹرنیٹ اور کچھ منٹ کی جذباتی تقریر موجود ہو۔ دنیا کے کسی بھی مہذب اور ذمہ دار ملک میں قومی سلامتی کے اداروں کو اس طرح سرِبازار موضوعِ تماشا نہیں بنایا جاتا۔ امریکہ ہو یا یورپ، ترکی ہو یا چین وہاں اختلاف رائے ضرور ہوتا ہے مگر اداروں کو متنازع بنانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ کیونکہ وہاں یہ شعور موجود ہے کہ ادارے کمزور ہوں تو ریاست بھی کمزور ہو جاتی ہے۔پاکستان میں مگر صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ اقتدار میں ہوتے ہوئے یہی حلقے انہی اداروں کو سلام پیش کرتے نہیں تھکتے تھے، آج اقتدار ہاتھ سے نکلتے ہی وہی ادارے تنقید کا آسان ہدف بن گئے۔ یہ تضاد محض سیاسی نہیں، بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ کسی کالم یا تجزیے کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرنا، پھر اس پر یوٹیوب عدالتیں لگانا، دراصل اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ سوال یہ نہیں کہ سوال اٹھائے جائیں یا نہیں،

    سوال یہ ہے کہ کس نیت، کس فورم اور کس حد تک؟ قومی سلامتی کے معاملات جذبات نہیں، ہوش مانگتے ہیں۔ یہ لائکس، سبسکرائبرز اور ویوز کا ایندھن نہیں ہوتے۔ جو لوگ آج غیر ذمہ دارانہ گفتگو کر رہے ہیں، وہ شاید یہ بھول رہے ہیں کہ ایسے بیانیے دشمن قوتیں کتنی تیزی سے استعمال کرتی ہیں۔ ریاست اور سیاست میں فرق نہ کرنا ہی ہمارے مسائل کی جڑ ہے۔ سیاست حکومت کے لیے ہوتی ہے، مگر سلامتی ریاست کے لیے۔ جو قوم اس فرق کو مٹا دیتی ہے، تاریخ اس کے ساتھ نرمی نہیں برتتی۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی اختلاف کو سیاسی دائرے میں رکھا جائے اور قومی اداروں کو سیاسی اکھاڑے سے باہر رکھا جائے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ریاستی اداروں کی تضحیک جمہوریت نہیں، خودکشی کے مترادف ہے۔ پاکستان کو اس وقت شور نہیں، شعور کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جن کندھوں پر اس ملک کی سلامتی کا بوجھ ہے، انہیں کمزور کرنے کا مطلب اپنے ہی مستقبل کو غیر محفوظ کرنا ہے۔
    بقول شاعر
    یہ خاک و خوں کا سفر یوں ہی رائیگاں نہ گیا
    وطن کی آن پر جب بھی آنچ آئی، ہم نے جان دی