Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:علشبا

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:علشبا

    ہم بنیانِ مرصوص ہیں” ایک نہایت بامعنی اور پُراثر جملہ ہے۔ یہ عربی زبان کے الفاظ ہیں جن کے مفہوم میں اتحاد، مضبوطی، یکجہتی اور باہمی تعاون کا عظیم پیغام پوشیدہ ہے۔ اس جملے کا مطلب ہے: *“ہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ہیں۔”* یعنی جب لوگ ایک صف میں کھڑے ہوں، ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور متحد ہو کر زندگی گزاریں، تو کوئی طاقت انہیں کمزور نہیں کر سکتی۔ اسلام بھی مسلمانوں کو یہی تعلیم دیتا ہے کہ وہ آپس میں محبت، بھائی چارے اور اتحاد کے ساتھ رہیں۔ جب انسان مل جل کر کام کرتے ہیں تو مشکلات آسان ہو جاتی ہیں اور کامیابی کے راستے کھلنے لگتے ہیں۔ اتحاد نہ صرف ایک قوم کی طاقت بنتا ہے بلکہ اس کی عزت، ترقی اور خوشحالی کا سبب بھی بنتا ہے۔

    اتحاد کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت تصور کیا جاتا ہے۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جو قومیں متحد رہتی ہیں، وہ ہمیشہ ترقی کی بلندیوں تک پہنچتی ہیں، جبکہ اختلافات اور انتشار کا شکار قومیں زوال کی طرف بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ اگر ہم ترقی یافتہ اقوام کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کامیابی کے پیچھے نظم و ضبط، باہمی تعاون اور قومی اتحاد کارفرما ہے۔ اس کے برعکس جہاں لوگ ذاتی مفادات، لسانی اختلافات اور تعصب میں مبتلا ہوں، وہاں امن اور ترقی قائم نہیں رہ سکتی۔ اتحاد انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔

    اسلام نے ہمیشہ مسلمانوں کو اتحاد اور بھائی چارے کی تعلیم دی ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ *“اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔”* اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں اتحاد کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر جسم کے کسی ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم بے چینی محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کو بھی ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا چاہیے۔ اسلام میں اخوت، ہمدردی اور محبت کا درس اسی لیے دیا گیا تاکہ معاشرے میں امن اور یکجہتی قائم رہے۔

    اسلامی تاریخ اتحاد کی روشن مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ جنگِ بدر، جنگِ احد اور دیگر معرکوں میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی اور وسائل محدود تھے، لیکن ان کے دل ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط سے بھرپور تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ بڑے دشمنوں پر غالب آئے۔ اگر مسلمان آپس میں اختلافات کا شکار ہوتے تو کامیابی ممکن نہ ہوتی۔ خلافتِ راشدہ کے دور میں بھی مسلمانوں نے اتحاد کی بدولت دنیا کے وسیع علاقوں میں امن، عدل اور انصاف قائم کیا۔

    پاکستان بھی اتحاد کی بنیاد پر قائم ہونے والا ملک ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ایک آزاد وطن کے حصول کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی، جان و مال کی قربانی دی، مگر اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹے۔ اگر مسلمان متحد نہ ہوتے تو پاکستان کا قیام ممکن نہ ہوتا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے قوم کو ہمیشہ *“اتحاد، ایمان اور تنظیم”* کا سنہری اصول دیا۔ آج بھی اگر ہم ان اصولوں پر عمل کریں تو پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکتا ہے۔

    بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں بہت سے مسائل کی اصل وجہ عدم اتحاد ہے۔ لوگ زبان، نسل، صوبے اور فرقے کی بنیاد پر ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ یہ نفرتیں نہ صرف معاشرتی سکون کو تباہ کرتی ہیں بلکہ قومی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان اختلافات کو بھلا کر صرف پاکستانی قوم بن کر سوچیں۔ اگر ہم متحد رہیں گے تو کوئی طاقت ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

    تعلیم یافتہ نوجوان کسی بھی ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ پاکستان کی نوجوان نسل میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اگر نوجوان اتحاد، محنت اور حب الوطنی کو اپنا شعار بنا لیں تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ نفرت، حسد اور منفی سوچ سے دور رہیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں نوجوان اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام عام کر سکتے ہیں۔ اگر نوجوان اپنی توانائیاں ملک و قوم کی خدمت میں صرف کریں تو پاکستان ایک عظیم اور مضبوط ملک بن سکتا ہے۔

    قدرتی آفات اور مشکل حالات میں پاکستانی قوم کا اتحاد ہمیشہ نمایاں نظر آتا ہے۔ سیلاب، زلزلے یا دیگر مشکلات کے وقت لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری قوم میں اتحاد اور ہمدردی کا جذبہ موجود ہے۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس جذبے کو صرف مشکل وقت تک محدود نہ رکھیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی اپنائیں۔

    آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ *“ہم بنیانِ مرصوص ہیں” محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک مکمل پیغام ہے۔* یہ ہمیں اتحاد، بھائی چارے، محبت اور قربانی کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم سب ایک مضبوط دیوار کی طرح متحد ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں کمزور نہیں کر سکتی۔ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی اسی میں ہے کہ ہم اختلافات کو ختم کریں، ایک دوسرے کا احترام کریں اور مل جل کر اپنے وطن کی خدمت کریں۔ بلاشبہ اتحاد میں ہی طاقت ہے، اور یہی طاقت قوموں کو کامیابی اور ترقی کی منزل تک پہنچاتی ہے۔

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،​تحریر: راشد عاطف

    ہم بنیان مرصوص ہیں،​تحریر: راشد عاطف

    ​انسانی تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں زندہ جاوید ٹھہریں جنہوں نے اتحاد، یکجہتی اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر حالات کے طوفانوں کا مقابلہ کیا۔ قرآن کریم نے ایک مثالی گروہ کی صفت بیان کرتے ہوئے "بنیان مرصوص” کی اصطلاح استعمال کی ہے جس کا مفہوم ایسی عمارت یا دیوار ہے جس کی اینٹوں کو پگھلے ہوئے سیسے سے جوڑ دیا گیا ہو جسے کوئی دراڑ کمزور نہ کر سکے اور کوئی بیرونی قوت ڈھا نہ سکے۔ آج کے پرفتن دور میں جہاں امتِ مسلمہ اور بالخصوص ہمارا معاشرہ لسانی، صوبائی اور فروعی اختلافات کی زد میں ہے "بنیان مرصوص” بننا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

    ​اتحاد کی حقیقت اور فلسفہ
    ​بنیان مرصوص صرف ایک استعارہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جس طرح ایک مضبوط عمارت کی پائیداری اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ اس کی ہر اینٹ دوسری اینٹ کو سہارا دے رہی ہو اسی طرح ایک زندہ قوم کا ہر فرد دوسرے فرد کا محافظ اور مددگار ہوتا ہے۔ جب افراد اپنی انا، ذاتی مفادات اور گروہی تعصبات کو پس پشت ڈال کر ایک بڑے مقصد کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ ایک ایسی ناقابل تسخیر قوت بن جاتے ہیں جس کے سامنے وقت کے بڑے بڑے فرعون سرنگوں ہو جاتے ہیں۔

    ​اسلامی تاریخ میں ہجرتِ مدینہ کے بعد "مواخاتِ مدینہ” بنیان مرصوص کی پہلی اور سب سے روشن مثال تھی۔ انصار اور مہاجرین نے جس طرح ایک دوسرے کے وجود کو قبول کیا اور اپنے وسائل بانٹے اس نے ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی جس نے صدیوں تک دنیا کی رہنمائی کی۔

    ​آج ہمیں جن حالات کا سامنا ہے ان میں فکری انتشار سب سے بڑا خطرہ ہے۔ دشمن ہمیں حصوں میں تقسیم کر کے کمزور کرنا چاہتا ہے۔ کہیں ہمیں رنگ و نسل کے نام پر لڑایا جاتا ہے تو کہیں جغرافیائی حدود کے نام پر نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں۔ "ہم بنیان مرصوص ہیں” کا دعویٰ تبھی سچا ثابت ہو سکتا ہے جب ہم ان تمام مصنوعی دیواروں کو گرا دیں جو ہمیں ایک دوسرے سے دور کرتی ہیں۔

    ​ایک صحافی اور قلم کار کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہے کہ میں معاشرے میں پھیلے ان تضادات کو ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کروں۔ ہماری تحریریں معاشرے کو جوڑنے کا سبب ہونی چاہئیں نہ کہ توڑنے کا۔ جب ہم ایک مقصد ایک پرچم اور ایک نظریے کے تحت متحد ہوتے ہیں تو کفر کی باطل قوتیں ہمیں نقصان پہنچانے سے قاصر رہتی ہیں۔

    ​سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کے لیے صرف عددی برتری کافی نہیں بلکہ کردار کی پختگی اور مقصد سے لگن ضروری ہے۔ اس کے لیے درج ذیل تین بنیادیں ناگزیر ہیں:
    ​نظریاتی ہم آہنگی: ہمارے درمیان اتحاد کی بنیاد مادی فائدہ نہیں بلکہ ایک اعلیٰ اخلاقی اور نظریاتی مقصد ہونا چاہیے۔
    ​ایثار و قربانی: بنیان مرصوص کی ہر اینٹ دوسری اینٹ کا بوجھ اٹھاتی ہے۔ ہمیں بھی ایک دوسرے کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا اور ضرورت پڑنے پر اپنے مفاد کی قربانی دینی ہوگی۔
    ​اندرونی استحکام: عمارت تبھی گرتی ہے جب اس کے اندر دراڑیں پڑ جائیں۔ ہمیں اپنی صفوں میں موجود انتشار پسند عناصر پر نظر رکھنی ہوگی اور باہمی مکالمے کے ذریعے اختلافات کو ختم کرنا ہوگا۔

    ​میرے وطن خاص طور پر بلوچستان کی مٹی نے ہمیشہ بہادری اور وفاداری کی داستانیں رقم کی ہیں۔ یہاں کی ثقافت، زبانیں اور روایات مختلف ہو سکتی ہیں لیکن دکھ سکھ ایک ہیں۔ جب ہم اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں یا ترقی کے خواب دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری طاقت صرف اتحاد میں ہے۔ اگر ہم بکھر گئے تو ریت کے ذروں کی طرح اڑ جائیں گے اور اگر جڑ گئے تو وہ چٹان بن جائیں گے جس سے ٹکرا کر لہریں پاش پاش ہو جاتی ہیں۔

    ​”ہم بنیان مرصوص ہیں” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہےاپنے آپ سے اپنے وطن سے اور اپنے خالق سے۔ یہ عہد ہے کہ ہم مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں چھوڑیں گے، ہم اپنی صفوں میں اتحاد کا سیسہ پلائیں گے اور کسی بھی بیرونی سازش کو اپنی یکجہتی میں دراڑ نہیں ڈالنے دیں گے۔
    ​آئیے! آج ہم یہ عزم کریں کہ ہم اپنی تحریروں، اپنے عمل اور اپنی سوچ سے اس دیوار کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ جب تک ہم ایک ہیں، ہم ناقابل شکست ہیں۔ ہماری بقا، ہماری ترقی اور ہماری پہچان صرف اور صرف اسی "بنیان مرصوص” کی صفت کو اپنانے میں پوشیدہ ہے۔

  • ہم بنیان المرصوص ہیں ،تحریر: عظمی نایاب

    ہم بنیان المرصوص ہیں ،تحریر: عظمی نایاب

    بنیان المرصوص عربی زبان کا خوبصورت لفظ ہے جس کا مطلب ہے سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار یہ اصطلاح قران مجید سے لی گئی ہے جہاں اللہ تعالی فرماتا ہے
    بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں،

    ہم سب بنیان المرصوص ہیں یہ ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان متحد ہوں حق پر چلنا انتہائی دشوار مرحلہ ہے لیکن حق پر رہتے ہوئے باطل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونا مسلمانوں کی ایمانی طاقت ہے اسباب کی پرواہ کیے بغیر طویل لشکر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر دشمن کو پاش پاش کر دینے کا حوصلہ مسلمان میں موجود ہے کیونکہ ہمارا دین ہمیں اتحاد کا درس دیتا ہے محبت کا درس دیتا ہے غزوہ بدر میں مسلمان بہت قلیل تعداد میں دشمن کے سامنے موجود تھے بہت کم ہتھیار لیکن ایمان کی دولت سے مالا مال اور اس دولت کے ہوتے ہوئے حق کو کوئی نہیں ہرا سکتا

    قران مجید میں ارشاد ہے
    حق اگیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل مٹنے کے لیے ہے،
    کربلا کے میدان میں اس کی ایک اور مثال پیش کی گئی جو رہتی دنیا تک قائم رہے گی جس کا بول بالا رہے گا جس کا علم ہمیشہ بلند رہے گا بے شمار ہتھیار بھاری نفری طاقت کے غرور میں چور باطل اور ان کے سامنے نواسہ رسول حضرت امام حسین اور ان کا اہل و عیال ایک بار پھر ایمان کی طاقت باطل کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ایک ایسی دیوار جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے مستحکم کرتی ہے سہارا دیتی ہے گرنے نہیں دیتی تاریخ گواہ ہے کہ اج بھی حسین رضی اللہ کی قربانی زندہ ہے اور باطل مٹ چکا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اخوت کے جذبے میں مسلمان کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیا تھا یہ بنیان المرصوص ہی تھا کہ ایک بھائی دوسرے کا سہارا بنے
    علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے
    فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
    موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

    جب جب دشمن نے اپنے ناپاک عزائم ہم پر مسلط کرنا چاہے ہماری قوم نے یک جان ہو کر دشمن کا مقابلہ کیا ہم ہیں بنیان المرصوص ہمارا مقابلہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں کیونکہ ہم ایمان اتحاد محبت یگانگت اور اپنی روایات پر عمل پیرا ہے ہمارا دشمن یہ جان چکا ہو گا کہ ہمیں ہرانا محض اس کا ایک خواب ہی رہ جائے گا ہمارا ایک ایک بچہ جوان اس ملک کا دفاع کرنا اپنا ایمانی تقاضا قرار دیتا ہے دشمن چاہے داخلی ہو یا خارجی ہمیں ہر سطح پر اس کو ہرانا ہے ایک قوم بن کر ہر شر پسندی کا مقابلہ کرنا ہے چاہے وہ میدان جنگ ہو یا قدرتی افات ہمارے ہر جوان اور بچے نے ہر موقع پر یکجا ہو کر ملک کی خدمت کی ہے زلزلہ ہو یا سیلاب ہر ازمائش میں قوم کو تنہا نہیں چھوڑا ہماری مثال اس جسم کی سی ہے کہ جس کا ایک حصہ اگر تکلیف میں مبتلا ہو تو پورا جسم اس کو محسوس کرتا ہے کیونکہ ہم بنیان المرصوص ہیں

    اج کل کے دور میں معرکہ حق کی صورتیں بدل چکی ہیں کردار بدل چکے ہیں اب جنگ میدانوں سے نکل کر فکر کی جنگ ہے اخلاق کی جنگ ہے تعلیم کی جنگ ہے جھوٹ نفرت نہ انصافی کی جنگ ہے ہمیں ہمیشہ کے لیے بنیان المرصوص بننے کی ضرورت ہے نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں اگر نوجوانوں میں ایمان شعور علم اور کردار پیدا ہو جائے تو قوم ترقی کی بلندیوں کو چھو لیتی ہیں اج کے نوجوان کو اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا ہوگا سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے نکلنا ہوگا اور اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں استعمال کرنا ہوگا آج ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم صرف نعروں تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنی عملی طور پر خدمات انجام دیں اپنے کردار کو بہتر بنائیں اور اپنے دین کی اصل تعلیمات کو اپنائیں کیونکہ ایک مضبوط قوم صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اعلی اخلاق اور اتحاد سے بنتی ہے معرکہ حق کبھی ختم نہیں ہوتا ہر دور میں حق اور باطل نئے انداز میں سامنے اتے رہتے ہیں
    شاعر نے کیا خوب کہا ہے

    ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
    نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

    ہر دور میں اہل حق کو اپنا کردار ادا کرتے رہنا ہوگا اگر اخلاص کے ساتھ اگے بڑھا جائے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی ہم بنیان المصوص ہیں یہ ذہن میں رکھتے ہوئے جب قوم متحد ہوتی ہیں اور حق پر ڈٹ جاتی ہیں اللہ پر یقین رکھتی ہیں تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کو بھی شکست دے سکتی ہیں ہمیں اپنے اندر صبر برداشت اور محبت کو تشکیل دینا ہوگا اللہ تعالی ہمیں حق کو پہچانے اور اس پر قائم رہنے اور بنیاد المصوص بننے کی توفیق عطا فرمائے امین

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر: انیسہ عامر

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر: انیسہ عامر

    کائنات کی وسعتوں میں جب پہلا حرفِ "کُن ” گونجا ہوگا ۔ تو مٹی کے اس ڈھیر نے شاید یہ نہ سوچا ہوگا کہ اسے کسی بلند مقصد کی اینٹ بننا ہے۔ وجود کی اس لامتناہی بے ترتیبی میں انسان کا ظہور محض ایک مادی واقعہ نہیں، بلکہ ایک روحانی اجتماعیت کا نقطۂ آغاز تھا۔
    لفظ بنیان مرصوص کی گہرائی میں اتر کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فرد کی حیثیت ایک قطرے کی سی ہے۔ جو تنہا ہو تو تپتے ہوئے صحرا کی ریت میں گم ہو جاتا ہے، لیکن اگر یہی قطرہ سمندر کے وجود میں ڈھل جائے تو لہروں کا تلاطم بن کر چٹانوں کے جگر پاش پاش کر دیتا ہے۔ بنیانِ مرصوص محض ایک لفظ نہیں،
    یہ ایک فلسفہ ہے۔ ایک ایسی دیوار کا نقشہ جس میں ہر اینٹ دوسری اینٹ کا سہارا ہے۔ جہاں دراڑیں پڑنا وجود کے خاتمے کی تمہید ہوتی ہیں اور استحکام، بقا کی پہلی شرط۔

    جب ہم ” بنیانِ مرصوص” کہتے ہیں، تو ہم اس سیسہ پلائی ہوئی دیوار کا تذکرہ کرتے ہیں جس کے اجزاء اپنی انفرادیت کو ایک بڑے مقصد کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ عشق کی بھٹی میں تپ کر، خودی کے سانچے میں ڈھل کر،جب روحیں ایک دوسرے میں پیوست ہوتی ہیں۔ تو وہ گوشت پوست کا انبار نہیں رہتیں، بلکہ ایک ناقابلِ شکست حصار بن جاتی ہیں۔

    تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی نظریات کی بنیادیں کھوکھلی ہوئیں، تہذیبوں کے محل تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے۔ رومی، یونانی اور بازنطینی سلطنتیں اپنی مادی قوت کے باوجود اس لیے مٹ گئیں کیونکہ ان کے ڈھانچے میں وہ باہمی پیوستگی نہ تھی جو اسے ” بنیانِ مرصوص” بناتی۔ اس کے برعکس، صحرائے عرب سے اٹھنے والی وہ لہر جس نے قیصر و کسریٰ کے ایوانوں کو لرزا دیا، وہ محض تلواروں کی چمک نہ تھی، بلکہ اس فکر کا کرشمہ تھا جس نے کالے کو گورے پر، اور عربی کو عجمی پر فوقیت دینے کے بجائے تقویٰ اور اتحاد کو بنیاد بنایا۔وہاں کوئی اجنبی نہ تھا،وہاں کوئی دوسرا نہ تھا۔ سب ایک ہی تسبیح کے دانے تھے۔ جن کا مرکز ایک،جن کا رخ ایک،جن کی منزل ایک۔

    آج کا دور مادیت پرستی کا وہ طوفان ہے جہاں انسان اپنی شناخت کی تلاش میں خود کو دوسروں سے کاٹ رہا ہے۔ ہم نے انفرادی کامیابی کو تو معراج سمجھ لیا، لیکن یہ بھول گئے کہ اکیلا درخت کبھی جنگل نہیں بن سکتا۔ ہماری فکر آج حصاروں میں قید ہے۔ ہم نے فرقوں کی، رنگوں کی، اور نسلوں کی دیواریں تو کھڑی کر لیں، مگر وہ دیوار نہ بنا سکے جو دشمن کے سامنے سدِ سکندری بنتی۔

    فلسفہِ وجودیت کے پیروکار جب یہ کہتے ہیں کہ "دوسرا جہنم ہے”۔ تو وہ اس عظیم وحدت کی نفی کرتے ہیں جو بنیانِ مرصوص کی جان ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کے لیے آئینہ نہ بنیں، اگر ہم ایک دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائیں، تو معاشرہ ریت کے اس ڈھیر کی مانند ہو جاتا ہے جسے ہوا کا ایک معمولی جھونکا اڑا لے جاتا ہے۔
    آؤ کہ آج ہم، اپنے وجود کی کرچیوں کو سمیٹیں، اور ان کو ارادے کی آنچ پر پگھلائیں۔ نفرتوں کے ملبے سے نکل کر، محبتوں کی ایک ایسی دیوار اٹھائیں ۔ جس کی بنیادیں زمین کی گہرائیوں میں ہوں، اور جس کے کنگرے ستاروں سے باتیں کریں۔ ہم بنیانِ مرصوص ہیں، ہم وہ آہنی زنجیر ہیں، جس کی ہر کڑی ایک عہد ہے، جس کا ہر موڑ ایک گواہی ہے۔ ہم بکھرنے کے لیے نہیں،بلکہ کائنات کو تسخیر کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔

    بنیانِ مرصوص بننے کے لیے صرف ظاہری اتحاد کافی نہیں، اس کے لیے باطنی ہم آہنگی ضروری ہے۔ جب تک فکر کی گہرائیوں میں ہم ایک نہیں ہوں گے، ہماری صفوں میں خلل رہے گا۔ یہ ایک ایسی بلند فکری سطح ہے،جہاں انا کا بت پاش پاش ہو جاتا ہے۔ جہاں ” میں” مر جاتی ہے،اور ” ہم” کا جنم ہوتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں شاعر کی بصیرت اور سپاہی کی ہمت یکجا ہو جاتی ہے۔ جہاں قلم کی نوک اور تلوار کی دھار ایک ہی منزل کی سمت اشارہ کرتی ہیں۔

    آج کے دور میں بنیانِ مرصوص بننے کا مطلب صرف میدانِ کارزار میں کھڑے ہونا نہیں، بلکہ فکری محاذ پر بھی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہے۔ علم کی روشنی وہ سیمنٹ ہے جو انسانیت کی اینٹوں کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے۔
    اگر فکر آزاد نہ ہو،اگر سوچ پابندِ سلاسل ہو، تو وہ دیوار کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی۔ ہمیں اپنے شعور کو ان بلندیوں تک لے جانا ہوگا جہاں ہمیں یہ ادراک ہو کہ ہماری بقا ہماری وحدت میں ہے۔ دشمن ہمیں مٹانے کے لیے ہماری صفوں میں دراڑیں ڈھونڈتا ہے، لیکن اسے معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری جڑیں اس مٹی کے ضمیر میں پیوست ہیں۔

    بنیانِ مرصوص ہونا ایک دائمی عمل ہے۔ یہ کوئی ایک دن کا واقعہ نہیں، بلکہ لمحہ لمحہ خود کو تعمیر کرنے کا نام ہے۔ جب ہم اپنی خواہشات کو اجتماعی مفاد پر قربان کرتے ہیں، جب ہم اپنے بھائی کی تکلیف کو اپنی آنکھ کا آنسو سمجھتے ہیں، تب ہم اس عظیم عمارت کا حصہ بنتے ہیں جسے وقت کا سیلاب بھی نہیں بہا سکتا۔ ہم وقت کی پیشانی پر لکھا ہوا،وہ حرفِ حق ہیں جو کبھی مٹ نہیں سکتا۔ ہم وہ چٹان ہیں، جس سے ٹکرا کر لہریں پاش پاش ہو جاتی ہیں۔ ہم وہ سکون ہیں، جو طوفان کے مرکز میں ہوتا ہے۔

    آخری بات یہ کہ ” بنیانِ مرصوص” ہونا صرف ایک عزم نہیں، بلکہ ایک تقاضا ہے۔ وہ تقاضا جو ہم سے ہماری بہترین صلاحیتوں کا نچوڑ مانگتا ہے۔ آسمان کے نیلے پن سے لے کر،زمین کی سیاہی تک،جہاں جہاں حق کی آواز گونجے گی۔ وہاں ہم کھڑے ہوں گے،ایک ایسی دیوار بن کر، جسے پار کرنا ناممکن ہے۔ جسے ڈھانا محال ہے، کیونکہ ہم بنیانِ مرصوص ہیں۔

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر:اقصیٰ جبار

    ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر:اقصیٰ جبار

    قرآنِ کریم کی سورہ الصف کی آیت نمبر 4 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: *”بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں، گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار (بنیان مرصوص) ہوں۔”* یہ اصطلاح "بنیان مرصوص” محض ایک مادی دیوار کی عکاسی نہیں کرتی، بلکہ یہ اس فولادی اتحاد، یکجہتی اور ایمانی قوت کا استعارہ ہے جو کسی بھی قوم کو ناقابلِ تسخیر بنا دیتی ہے۔ "ہم بنیان مرصوص ہیں” کا نعرہ درحقیقت اس عہد کی تجدید ہے کہ جب حق اور باطل کا معرکہ درپیش ہو تو اہل ایمان کے درمیان کوئی دراڑ، کوئی رنگ و نسل کا فرق اور کوئی لسانی عصبیت حائل نہیں ہو سکتی۔

    اسلام کی پوری عمارت ہی توحید اور وحدت پر قائم ہے۔ ایک اللہ، ایک رسول اور ایک قبلہ کی بنیاد پر جو معاشرہ تشکیل پاتا ہے، اس کی اصل طاقت اس کا باہمی اتحاد ہے۔ "بنیان مرصوص” وہ دیوار ہوتی ہے جس کی اینٹوں کے درمیان کوئی خلا باقی نہ رہے۔ جب مومنین کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں اور ان کے مقاصد ایک ہو جاتے ہیں، تو وہ دنیا کی بڑی سے بڑی مادی طاقت کے سامنے سینہ سپر ہو جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان اس صفت سے متصف رہے، دنیا کی کوئی طاقت انہیں مغلوب نہ کر سکی۔
    آج کے دور میں جب باطل طاقتیں نت نئے طریقوں سے اہل حق پر حملہ آور ہیں، "بنیان مرصوص” بننا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ یہ معرکہ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں، بلکہ یہ نظریاتی، معاشی اور علمی میدانوں میں بھی برپا ہے۔ دشمن کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ وہ صفوں میں انتشار پیدا کرے، فرقہ واریت کو ہوا دے اور گروہ بندیوں کے ذریعے ہمیں کمزور کرے۔ ایسے میں ہمارا یہ اعلان کہ "ہم بنیان مرصوص ہیں” اس بات کا ثبوت ہونا چاہیے کہ ہم اپنی چھوٹی چھوٹی رنجشوں کو پس پشت ڈال کر ایک عظیم مقصد کے لیے متحد ہیں۔
    جس طرح سیمنٹ اینٹوں کو جوڑتا ہے، ایمان مومنین کے دلوں کو جوڑتا ہے۔
    اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دینا ہی وہ مادہ ہے جو گروہ کو ایک جان بناتا ہے۔
    صف بستہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنے قائد اور نظام کے تابع ہیں۔

    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ مسلمان آپس میں جسم کی طرح ہے جس کے ایک حصے میں تکلیف سے تمام جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔”
    موجودہ عالمی تناظر میں، جہاں انسانیت سسک رہی ہے اور اہل حق کو دیوار سے لگانے کی کوششیں جاری ہیں، ہمیں اپنے اندر وہی تڑپ پیدا کرنی ہوگی جو صحابہ کرام کے دور میں تھی۔ "بنیان مرصوص” بننے کا مطلب یہ ہے کہ اگر جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم اسے محسوس کرے۔ مظلوموں کی پکار پر لبیک کہنا اور ظلم کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جانا ہی اصل بندگی ہے۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ "بنیان مرصوص” بننا محض ایک خواب نہیں بلکہ ایک شرعی مطالبہ ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ معرکہ حق میں سرخرو ہوں اور اللہ کی محبت کے حقدار بنیں، تو ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں رنگ، نسل، زبان اور فرقے کے بتوں کو پاش پاش کر کے ایک ایسی دیوار بننا ہوگا جسے وقت کا کوئی طوفان نہ گرا سکے۔ ہماری بقا، ہماری عزت اور ہماری کامیابی صرف اور صرف "بنیان مرصوص” بننے میں ہی پنہاں ہے۔
    بقول حضرت اقبال
    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:محمد ہشام علی ہاشمی

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:محمد ہشام علی ہاشمی

    تاریخِ انسانیت کے طویل اوراق جب بھی پلٹے جاتے ہیں، ان میں کچھ باب ایسے ہوتے ہیں جو محض روشنائی سے نہیں بلکہ شہیدوں کے مقدس لہو اور غازیوں کے پرعزم پسینے سے لکھے جاتے ہیں۔ یہ وہ عظیم باب ہوتے ہیں جہاں حق اور باطل، روشنی اور تاریکی ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہوتے ہیں۔ حق، جو کبھی اپنی بقا کے لیے ظاہری تعداد یا مادی اسلحے کا محتاج نہیں ہوتا، اور باطل، جو ہمیشہ اپنے غرور اور تکبر کے نشے میں چور ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک عظیم الشان معرکہِ حق و باطل اس پاک سرزمین پر بھی آیا، جب رات کے اندھیرے میں بزدلی کی چادر اوڑھے، ایک مکار دشمن نے اس خام خیالی کے ساتھ حملہ کیا کہ وہ صبح کا ناشتہ ہمارے شہروں میں کرے گا۔ لیکن وہ یہ بھول گیا تھا کہ اس کا واسطہ اس قوم سے ہے جس کے دلوں میں ایمان کی شمعیں روشن ہیں، اور جو میدانِ جنگ میں محض افراد کا ہجوم نہیں رہتے، بلکہ قرآن کی تفسیر کے عین مطابق ’’بنیان مرصوص‘‘ یعنی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جایا کرتے ہیں۔

    وہ ایک خاموش رات تھی جب ہوائیں بھی سہم گئی تھیں۔ بھارت نے اپنے عددی غلبے اور ٹینکوں کے بے پناہ غرور میں اندھا ہو کر بین الاقوامی اصولوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے پاکستان کی سرحدوں پر شب خون مارا۔ ان کا گھمنڈ آسمان کو چھو رہا تھا، ان کا خیال تھا کہ یہ نئی نویلی ریاست ان کے آہنی قدموں تلے کچل دی جائے گی۔ اچانک توپوں کی خوفناک گھن گرج نے رات کے سناٹے کو چیر کر رکھ دیا۔ آسمان سے آگ اور بارود کی بارش ہونے لگی۔ دشمن کا ٹڈی دل لشکر مستی میں آگے بڑھ رہا تھا، یہ سوچتے ہوئے کہ شاید چند گھنٹوں کی مار ہے اور یہ سبز ہلالی پرچم سرنگوں ہو جائے گا۔ مگر وہ بدبخت تاریخ کا یہ اٹل سبق فراموش کر بیٹھے تھے کہ جب مٹی کی سچی محبت اور ربِ ذوالجلال پر کامل یقین ایک نقطے پر ملتے ہیں، تو ایک ایسی طاقت جنم لیتی ہے جسے دنیا کی کوئی توپ نہیں توڑ سکتی۔

    جیسے ہی جنگ کا بگل بجا، یہ قوم ایک جسمِ واحد کی مانند جاگ اٹھی۔ ماؤں نے مصلے بچھا لیے، اور اپنے جگر گوشوں کے ماتھے چوم کر دعاؤں کے سائے میں انہیں محاذِ جنگ پر روانہ کیا۔ بوڑھے باپوں کی آنکھوں میں فخر کی چمک ابھر آئی۔ سرحد پر کھڑے ہمارے شیر دل جوانوں نے جب دیکھا کہ دشمن ان کی دھرتی ماں کی طرف ناپاک قدم بڑھا رہا ہے، تو ان کی رگوں میں دوڑتا خون ابلتا ہوا لاوا بن گیا۔ وہ صرف فوجی نہیں تھے، وہ تاریخِ اسلام کے عظیم ہیروز کے وارث تھے۔ انہوں نے دشمن کی گولہ باری کے سامنے اپنے سینوں کو فولادی سپر بنا لیا اور واقعی ’’بنیان مرصوص‘‘ کی وہ زندہ تفسیر بن گئے جس کا ذکر کلامِ پاک میں کیا گیا ہے۔ ہر خندق ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ بن گئی، ہر جوان ایک پوری فوج کا ججذبہ سمیٹ کر کھڑا ہو گیا۔

    یہ معرکہ محض توپوں کا نہیں تھا؛ یہ تکبیر کی گونجتی صداؤں اور باطل کے کھوکھلے غرور کے درمیان ایک جنگ تھی۔ بی آر بی نہر کا بہتا پانی گواہ ہے کہ کس طرح وطن کے سرفروش جوانوں نے اپنے جسموں سے بارود باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے پرخچے اڑائے۔ چونڈہ کا میدان دشمن کی بکتر بند گاڑیوں کا قبرستان بن کر رہ گیا۔ فضاؤں میں ہمارے عقابوں نے وہ کمال دکھایا کہ دشمن کے جنگی طیارے بے بس ہو کر زمین بوس ہونے لگے۔ سمندر کی لہروں پر ہمارے غازیوں نے دشمن کے دلوں پر وہ ہیبت طاری کی کہ ان کے جہاز اپنے ہی ساحلوں پر محصور ہو گئے۔ ہر محاذ پر ایک ہی جنون کارفرما تھا: "یا غازی یا شہید”ہمارے فوجیوں کے پاس وہ روحانی وورثہ تھا جو انہیں ہارنے نہیں دے رہا تھا۔ وہ ایک ایسی دیوار بن چکے تھے جس سے ٹکرا کر دشمن کا ہر حملہ پاش پاش ہو رہا تھا۔ رات کے اندھیرے میں حملہ کرنے والا بزدل دشمن اب دن کی روشنی میں اپنی جانیں بچا کر بھاگنے پر مجبور تھا۔

    حق و باطل کا یہ خون ریز معرکہ بالآخر حق کی ایک شاندار اور فیصلہ کن فتح پر ختم ہوا۔ وہ دشمن جو لاہور میں فتح کا جشن منانے کے خواب دیکھ رہا تھا، اب عالمی برادری کے سامنے جنگ بندی کی بھیک مانگ رہا تھا۔ پاکستان کے ان غازیوں اور شہیدوں نے دنیا کی عسکری تاریخ کا رخ موڑ دیا اور ثابت کر ددیا کہ حتمی فتح مشینوں سے نہیں، بلکہ غیر متزلزل جذبوں اور رب کی نصرت سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس جنگ نے دنیا کے سامنے یہ حقیقت عیاں کر دی کہ پاکستانی قوم کوئی ریت کی دیوار نہیں جسے کوئی تیز جھونکا گرا دے، بلکہ یہ وہ ’’بنیان مرصوص‘‘ ہے جسے گرانے کا خواب دیکھنے والے خود مٹی میں مل جاتے ہیں۔

    آج جب ہم ان شہیدوں کی قربانیوں کو دل میں بساتے ہیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا ایک ایک قطرہ خون ہم سے کلام کرتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب تک اس قوم کے دلوں میں اللّٰہ کی محبت اور دھرتی کا عشق زندہ ہے، دنیا کی کوئی طاقت اس ملک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتی۔ ہماری بقا اسی میں ہے کہ ہم متحد رہیں، اور دشمن کے ہر وار کے سامنے وہی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے رہیں۔ یہ پیارا وطن آج بھی ہم سے یہی تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں ایسا اتحاد پیدا کریں کہ دنیا کو بتا دیں کہ ہم ایک نظریاتی قوم ہیں، اور خدا کی قسم، ہم بنیان مرصوص ہیں۔

  • ہم بنیانِ مرصوص ہیں،تحریر: بسمہ مجید

    ہم بنیانِ مرصوص ہیں،تحریر: بسمہ مجید

    انسان جب تنہا ہوتا ہے تو اُس کی قوت محدود، اُس کی آواز مدھم اور اُس کا اثر عارضی ہوتا ہے؛ لیکن جب یہی انسان ایک مقصد، ایک فکر اور ایک جذبے کے تحت متحد ہو جائیں تو وہ ایک ایسی طاقت بن جاتے ہیں جسے تاریخ “بنیانِ مرصوص” کے نام سے یاد رکھتی ہے۔ “بنیانِ مرصوص” محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ ایسی حقیقت جو اتحاد، استقامت اور ایثار کے ستونوں پر قائم ہوتی ہے۔

    قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ اللہ اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اُس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ یہی “بنیانِ مرصوص” کا حقیقی مفہوم ہے۔ ایک ایسی دیوار جس میں ہر اینٹ اپنی جگہ مضبوطی سے جڑی ہو، جس میں کوئی دراڑ نہ ہو، اور جسے کوئی طوفان متزلزل نہ کر سکے۔ یہ مثال ہمیں صرف جنگ کے میدان کے لیے نہیں دی گئی بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔

    آج کا دور انتشار، خود غرضی اور انفرادیت پسندی کا دور ہے۔ ہر فرد اپنی ذات کے خول میں مقید ہو کر اجتماعی مفاد کو نظر انداز کر رہا ہے۔ یہی وہ کمزوری ہے جو قوموں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اگر ہم واقعی ترقی، کامیابی اور وقار چاہتے ہیں تو ہمیں “میں” سے نکل کر “ہم” کی طرف آنا ہوگا۔ کیونکہ “ہم” ہی وہ قوت ہے جو ناممکن کو ممکن بنا سکتی ہے۔

    بنیانِ مرصوص بننے کے لیے سب سے پہلی شرط اخلاص ہے۔ جب تک ہمارے دلوں میں نیت کی پاکیزگی نہیں ہوگی، ہمارا اتحاد محض دکھاوا رہے گا۔ اخلاص وہ بنیاد ہے جس پر اعتماد کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اور اعتماد کے بغیر کوئی بھی اتحاد دیرپا نہیں ہو سکتا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک دوسرے پر یقین رکھنا، ایک دوسرے کے لیے کھڑا ہونا، اور ایک دوسرے کی کمزوریوں کو ڈھانپنا ہی اصل طاقت ہے۔

    دوسری اہم صفت قربانی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں عروج پاتی ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کو اجتماعی بھلائی پر قربان کر دیتی ہیں۔ جب ایک فرد اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر قوم کے مفاد کو ترجیح دیتا ہے تو وہ اس دیوار کی مضبوط اینٹ بن جاتا ہے۔ لیکن جب ہر اینٹ اپنی الگ شناخت بنانے کی کوشش کرے، تو دیوار کبھی قائم نہیں رہ سکتی۔ ہماری تاریخ میں بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں لوگوں نے بنیانِ مرصوص بن کر ناممکن کو ممکن بنایا۔ چاہے وہ آزادی کی جدوجہد ہو یا کسی آزمائش کا وقت، جب بھی قوم نے اتحاد کا مظاہرہ کیا، کامیابی اُس کے قدم چومتی رہی۔ لیکن جب ہم نے اختلافات، تعصبات اور انا کو اپنے درمیان حائل ہونے دیا، تو ہمیں نقصان اٹھانا پڑا۔

    آج بھی ہمیں اسی سبق کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں پھیلتی ہوئی نفرتوں، فرقہ واریت اور تقسیم کو ختم کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری طاقت ہمارے اختلافات میں نہیں بلکہ ہماری یکجہتی میں ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں بنیانِ مرصوص کی عملی تصویر بننا ہوگا۔

    تعلیم، اخلاق اور شعور اس سفر کے اہم زادِ راہ ہیں۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ سکھانا ہوگا کہ اتحاد کیا ہوتا ہے، دوسروں کا احترام کیسے کیا جاتا ہے، اور اجتماعی بھلائی کے لیے کیسے کام کیا جاتا ہے۔ جب ہمارے نوجوان اس شعور کے ساتھ پروان چڑھیں گے تو وہ ایک ایسی قوم کی بنیاد رکھیں گے جو واقعی بنیانِ مرصوص ہوگی۔

    یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بنیانِ مرصوص بننے کا مطلب یکسانیت نہیں بلکہ ہم آہنگی ہے۔ ہر فرد کی اپنی سوچ، اپنی رائے اور اپنی پہچان ہوتی ہے، لیکن اصل کمال یہ ہے کہ ہم ان اختلافات کے باوجود ایک مقصد کے لیے متحد رہیں۔ جیسے ایک دیوار میں مختلف اینٹیں ہوتی ہیں، لیکن سب مل کر ایک مضبوط ساخت بناتی ہیں۔ آخر میں، ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی بنیانِ مرصوص ہیں؟ کیا ہم ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں؟ کیا ہم اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی بھلائی کے لیے کام کرتے ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں ابھی سے خود کو بدلنا ہوگا۔ کیونکہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بکھری ہوئی اینٹیں نہ رہیں بلکہ ایک مضبوط دیوار بن جائیں۔ ایسی دیوار جو ہر طوفان کا مقابلہ کر سکے، ایسی دیوار جو حق کی حفاظت کر سکے، اور ایسی دیوار جس پر آنے والی نسلیں فخر کر سکیں۔

    آئیے عہد کریں کہ ہم نہ صرف لفظوں میں بلکہ عمل میں بھی بنیانِ مرصوص بنیں گے۔ ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے، ایک دوسرے کی طاقت بنیں گے، اور مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں گے جو اتحاد، محبت اور استقامت کی روشن مثال ہو۔ کیونکہ جب ہم واقعی “ہم” بن جائیں گے، تبھی ہم بنیانِ مرصوص کہلانے کے حق دار ہوں گے۔

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:عالیہ رمضان

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:عالیہ رمضان

    دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں ہمیشہ سربلند رہیں جنہوں نے اتحاد و یگانگت کو اپنا شعار بنایا۔ جب افراد ایک مقصد کے تحت یکجا ہو جائیں تو بڑی سے بڑی طاقت بھی ان کے سامنے کمزور پڑ جاتی ہے۔ “ہم بنیان مرصوص ہیں” ایک ایسا تصور ہے جو صرف الفاظ کی خوبصورتی نہیں بلکہ اجتماعی قوت، باہمی اعتماد اور استقامت کی عملی تصویر ہے۔

    قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ اللہ اُن لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو اُس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر کھڑے ہوتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ یہی “بنیان مرصوص” کا حقیقی مفہوم ہے۔ ایسی مضبوط دیوار جس کی ہر اینٹ دوسری اینٹ کا سہارا بنے۔ اگر ایک اینٹ کمزور پڑ جائے تو پوری دیوار متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر معاشرے کا ایک فرد کمزور ہو جائے تو اس کی کمزوری پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہے۔

    افسوس کہ آج ہم اسی بنیادی اصول سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ذاتی مفادات، تعصبات اور انا پرستی نے ہمیں مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ہم نے زبان، علاقے، مسلک اور نظریات کی بنیاد پر ایسی دیواریں کھڑی کر لی ہیں جنہوں نے ہمارے اتحاد کو کمزور کر دیا ہے۔ حالانکہ ترقی اور استحکام کا راستہ باہمی اتفاق اور یکجہتی سے ہو کر گزرتا ہے۔

    اسلام نے ہمیشہ اخوت اور بھائی چارے کا درس دیا۔ ہمیں سکھایا گیا کہ مومن ایک جسم کی مانند ہیں، اگر جسم کا ایک حصہ تکلیف میں ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ یہی احساس ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور ہمیں اجتماعی قوت عطا کرتا ہے۔

    شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

    یہ شعر اس حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کی مضبوطی میں اپنا کردار ادا کرے۔ اگر ہر شخص اپنی ذمہ داری کو سمجھ لے تو کوئی طاقت قوم کو کمزور نہیں کر سکتی۔

    تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ جب مسلمانوں نے اتحاد کو اپنایا تو وہ ناقابلِ شکست قوت بن گئے۔ ان کے پاس وسائل کم تھے مگر ان کے دل ایک تھے، ان کا مقصد واضح تھا اور ان کے قدم ثابت تھے۔ یہی اتحاد ان کی اصل طاقت تھا۔ لیکن جب اختلافات نے جنم لیا تو زوال نے بھی راستہ پا لیا۔

    آج اسی سبق کو دوبارہ یاد کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ انفرادی کامیابی عارضی ہو سکتی ہے مگر اجتماعی کامیابی دیرپا ہوتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ترقی کرے تو ہمیں اپنی ذات سے بلند ہو کر اجتماعی بھلائی کے لیے سوچنا ہوگا۔

    موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک بڑی طاقت ہے۔ یہ چاہے تو دلوں کو جوڑ سکتا ہے اور چاہے تو نفرتوں کو بڑھا سکتا ہے۔ ہمیں اپنی تحریروں، گفتگو اور رویوں کے ذریعے مثبت سوچ کو فروغ دینا چاہیے۔ ایک اچھا لفظ، ایک مخلصانہ مشورہ اور ایک مددگار رویہ کئی دلوں کو قریب لا سکتا ہے۔

    “ہم بنیان مرصوص ہیں” کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے کمزور بھائیوں کا سہارا بنیں۔ یتیموں، محتاجوں، مظلوموں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھیں۔ ایک مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جو اپنے ہر فرد کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔

    اقبالؒ نے فرمایا:

    منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
    ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک

    یہ اشعار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہماری اصل پہچان اتحاد میں ہے۔ جب ہم تقسیم ہو جاتے ہیں تو ہماری طاقت بکھر جاتی ہے، اور جب متحد ہوتے ہیں تو پہاڑوں کو بھی ہلا سکتے ہیں۔

    اختلافِ رائے فطری ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا دانشمندی نہیں۔ اصل کامیابی اس میں ہے کہ ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کریں اور مشترکہ مقاصد کے لیے مل کر کام کریں۔

    آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم “میں” سے “ہم” کی طرف سفر کریں۔ اپنی انا کو چھوڑ کر اجتماعیت کو اپنائیں۔ محبت، رواداری اور اخوت کو فروغ دیں۔ کیونکہ مضبوط قومیں نفرت سے نہیں بلکہ اتحاد سے بنتی ہیں۔

    آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے قول و فعل سے اس پیغام کو زندہ کریں گے۔ ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے، ایک دوسرے کی طاقت بنیں گے اور عملی طور پر ثابت کریں گے کہ واقعی ہم بنیان مرصوص ہیں۔

  • ہم بنیانُ مرصوص ہیں،تحریر: ثروت اقبال

    ہم بنیانُ مرصوص ہیں،تحریر: ثروت اقبال

    قرآنِ مجید کی سورۃ الصف کی ایک آیت دل کے کسی گوشے میں جا کر یقین دلاتی ہے
    كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ
    یعنی وہ ایسے ہیں جیسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار۔

    یہ الفاظ محض منظر نہیں پیش کرتے بلکہ ایک ایسی حقیقت بیان کرتے ہیں جِسے ایک مومن قوم اپنے کردار سے زندہ کرتی ہے۔ "بنیانُ مرصوص” وہ دیوار ہے جس کی اینٹیں جدا نہیں ہوتیں، جو ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں، ایک دوسرے کو سہارا دیتی ہیں، اور مل کر ایسی طاقت بن جاتی ہیں جسے کوئی طوفان ہلا نہیں سکتا۔
    یہ صرف جسموں کی صف بندی نہیں بلکہ نیتوں کی پاکیزگی اور مقصد کی یکجائی کا نام ہے۔ یہاں "میں” کی نفی ہوتی ہے اور "ہم” کا آغاز ہوتا ہے۔ جو ایک منتشر ہجوم کو ایک مضبوط امت میں بدل دیتی ہے۔

    تاریخِ اسلام اس کی روشن مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی، وسائل محدود تھے، مگر ان کے درمیان ایسا اتحاد تھا جو انہیں ناقابلِ شکست بنا رہا تھا۔ وہ ایک صف میں، ایک مقصد کے تحت، اپنے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قیادت میں کھڑے تھے۔ یہی وہ کیفیت تھی جہاں "بنیان مرصوص” ایک عملی حقیقت بن کر سامنے آئی۔
    حضرت عمرؓ کا طرزِ عمل بھی اسی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے۔ وہ صفوں کی درستی پر زور دیتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ قوموں کی کامیابی صرف قوت میں نہیں، بلکہ نظم، اتحاد اور ترتیب میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
    ہم اسی امت کا حصہ ہیں، اور ہم اسی ملک کے وارث ہیں جو "لا الٰہ الا اللہ” کے نام پر حاصل کیا گیا۔ ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں، ہجرتیں کیں، آزمائشوں کا سامنا کیا لیکن وہ بکھرے نہیں، وہ جڑے رہے۔ وہ ایک مضبوط دیوار بنے رہے ، ایک مثالی اور ایک زندہ "بنیان مرصوص”۔
    آج بھی یہی ہماری پہچان ہے اور یہی ہماری ضرورت بھی ہے۔
    ہم اس وقت حقیقی معنوں میں "بنیانُ مرصوص” بن سکتے ہیں جب ہم اپنے اختلافات کو تقسیم کا ذریعہ بننے سے محفوظ رکھیں، جب ہم اپنی انا کو پسِ پشت ڈال کر اجتماعی بھلائی کو ترجیح دیں، اور جب ہم ایک دوسرے کے لیے سہارا بنیں، نہ کہ بوجھ۔

    پاکستان کی ترقی صرف وسائل یا منصوبوں سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے دلوں کا جڑنا ضروری ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے جڑیں گے، تب ہی ہم وہ دیوار بن سکتے جس کی ہمیں تعلیم دی گئی ہے۔
    ہر فرد اس دیوار کی ایک اینٹ ہے۔ اگر ایک اینٹ کمزور ہو تو پوری دیوار متاثر ہوتی ہے اور اگر ہر اینٹ مضبوط ہو تو دیوار ناقابلِ تسخیر بن جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں خود کو سنوارنا ہوگا، اپنے کردار کو مضبوط بنانا ہوگا، اور اپنے تعلق کو دوسروں کے ساتھ بہتر بنانا ہوگا۔ تاکہ
    ہم ہجوم نہیں، ایک قوت بنے رہیں۔
    ہم الگ الگ نہیں، ایک ہیں۔ ہم صرف ساتھ نہیں کھڑے، بلکہ ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہیں۔
    آئیے اپنے عمل سے ثابت کریں کہ ہم واقعی ایک مضبوط دیوار ہیں۔
    ہم وہ قوم ہیں جو جڑنا جانتی ہے، سنورنا جانتی ہے، اور آگے بڑھنا جانتی ہے۔
    کیونکہ ہم بکھری ہوئی اینٹیں نہیں
    ہم بنیان مرصوص ہیں۔

    یہ آیت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہم کمزور نہیں، منتشر نہیں بلکہ ہم ایک مضبوط اکائی ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں جس کی بنیاد ایمان، اتحاد اور اخوت پر رکھی گئی ہے۔
    بنیانِ مرصوص ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے۔
    اسلامی تاریخ میں جب معرکہ بدر ہوا تب بھی ہم بنیان مرصوص تھے۔
    پاکستان کی تاریخ میں جب پاکستان وجود میں آیا تب بھی ہم بنیان مرصوص تھے اور "معرکہ حق” ہوا تب بھی دنیا نے دیکھا کہ ہم بنیان مرصوص ہیں۔

    اسی اتحاد کی ایک خوبصورت اور مثال ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے معاملے میں نظر آتی ہے۔ جب بھی دنیا کے کسی کونے میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ہستی کے احترام کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب بات ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آتی ہے تو امتِ مسلمہ کا ہر فرد اپنے تمام اختلافات بھلا کر ایک صف میں آ کھڑا ہوتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب دلوں کی سرحدیں مٹ جاتی ہیں، زبانوں کے فرق ختم ہو جاتے ہیں اور دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے مسلمان ایک ہی جذبے میں ڈھل جاتے ہیں۔ کوئی مشرق میں کھڑا ہے، کوئی مغرب میں، مگر سب کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ یہ محبت ہمیں ایک لڑی میں پرو دیتی ہے۔ اس وقت امت واقعی بنیان مرصوص کا منظر پیش کرتی ہے۔سیسہ پلائی دیوار کی مانند، جہاں ہر فرد اپنے ایمان، اپنی غیرت اور اپنی محبت کے ساتھ اس دیوار کی ایک مضبوط اینٹ بن جاتا ہے۔ یہ اتحاد اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ جب معاملہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حرمت کا ہو، تو مسلمان نہ بٹتے ہیں، نہ جھکتے ہیں بلکہ ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن کر سامنے آتے ہیں۔
    اس وقت پوری امت سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہو جاتی ہے، نہ کوئی دراڑ، نہ کوئی کمزوری۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے دل اب بھی ایک دھڑکن میں بندھے ہوئے ہیں، اور ہم آج بھی بنیان مرصوص بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کیونکہ جب ایک امت دل سے جڑ جائے، تو وہ واقعی سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے اور ایسی دیوار کو کوئی طاقت گرا نہیں سکتی۔
    یہی ہماری اصل قوت ہے کہ ہم صرف حالات کے دباؤ میں نہیں، بلکہ شعور کی روشنی میں بھی ایک ہو سکتے ہیں۔
    جب ہم اپنے ارد گرد خیر کو عام کرتے ہیں، کسی گرتے ہوئے کو سہارا دیتے ہیں، کسی مایوس کو حوصلہ دیتے ہیں، تو دراصل ہم اس مضبوط دیوار کی ایک نئی اینٹ رکھ رہے ہوتے ہیں۔ یہ خاموش نیکیاں، جو قوموں کو اندر سے مضبوط بناتی ہیں۔
    ہم وہ دیوار ہیں جسے ایمان جوڑتا ہے اور اخلاص مضبوط بناتا ہے۔

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ، تحریر : انیلا صفدر

    ہم بنیان مرصوص ہیں ، تحریر : انیلا صفدر

    6-7 مئی بروز منگل 2025 کی درمیانی شب یکایک بریکنگ نیوز چلنے لگی ۔ کہ انڈیا نے پاکستان پر حملہ کر دیا ۔ ہر طرف فون اور پیغامات گردش کرنے لگے ۔ کہ سب خیریت ہے ، کہاں حملہ ہوا ، کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا ، کہیں مالی نقصان تو نہیں ہوا۔ ایک دم سے افراتفری کی صورت حال ہو گئی۔

    انڈیا جو قیام پاکستان سے ہی ہمارا ہمسایہ ہونے سے زیادہ اپنی خود ساختہ دشمنی کا حق ادا کر رہا ہے اور پاکستان کو گزند پہنچانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ اس کا ثبوت یہ آج تک ہونے والی چار جنگیں ہیں اور ان کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر آئے دن انڈین کی چھیڑ خانی سے جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اور یہ نقصان صرف پاکستان کا ہی نہیں ہوتا بلکہ جب انڈین کو منہ توڑ جواب دیا جاتا تو ان کا بھی نقصان ہوتا ہے ۔ اور انڈین اپنی ڈھٹائی کا ثبوت دیتے ہوئے ہر نقصان پر پردہ ڈال دیتا ہے ۔آج تک انڈیا سے ہونے والی جنگیں چاہے وہ 48-1947 ہو یا 1965 اور چاہے 1971 کی ہو یا پھر 1999 کار گل کی ، انڈیا نے ہمیشہ یہی دعوی کرتا رہا ہے کہ وہ جیت گیا ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاک افواج ہمیشہ ہی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اپنے وطن اور عوام کے دفاع میں ڈٹے رہے ۔

    ایک سال قبل جب انڈیا نے 6 مئی کی رات کو پاکستان پر میزائل سے حملہ گیا ۔ تو پاکستان کی ساری فورسز ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے ہو گئے ۔اور اپنے مکار و عیار دشمن کو دھول چٹا دی ۔ 7-6 مئی 2025 کی رات کو انڈیا اور پاکستان میں شدید مسلح جنگ کا آغاز ہوا۔ جسے انڈیانے ” آپریشن سندور ” کا نام دیا ، پاکستان پر میزائل سے حملہ کر دیا ۔ اور حملے کا جواز انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو سیاحوں پر ہونے والے حملے کو بنایا گیا ۔ جو شدت پسندوں کے حملہ کرنے سے 26 لوگ ہلاک ہو گئے ۔ اور شر پسندوں کی بجائے اس کا الزام پاکستان پر لگا دیا گیا ۔

    ہمارا دشمن بزدل ہے لیکن عیاری میں اس کوئی ثانی نہیں۔ اس کے میزائل حملوں کو کامیابی سے ناکام کیا گیا۔ اور اسے تنبیہ کی گئی کہ اپنی حرکتوں سے باز آ جائے۔ لیکن جب وہ باز نہیں آیا تو پاک فوج نے جوابی کاروائی کا فیصلہ کیا ۔اور آپریشن سندور کے مقابلے میں "معرکہ حق کو بنیان المرصوص ” کا نام دیا گیا ۔بنیان المرصوص کا مطلب ہے
    "بہت مضبوطی سے جڑی دیوار”
    ان الفاظ کو قرآن میں استعمال کیا گیا ہے سورہ الصف کی آیت نمبر 4 میں بیان کیا گیا ہے
    "حقیقت یہ ہے کہ اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کے راستے میں میں اس طرح صف بنا کر لڑتے ہیں۔ جیسے وہ ( بنیان مرصوص ) یعنی سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہوں ۔

    ایک طرف جنگی جوش و جذبہ اور دوسری طرف قرآنی آیت سے لئے گئے نام نے فوج اور قوم دونوں میں جوش و ولولے کی نئی روح پھونک دی ہو۔ پاکستان نے انڈیا کے سب حملوں کو ناکام بنایا۔ ہر آنے والا ڈرون زمین بوس کیا گیا ۔ اور وہ رافیل طیارے جو انڈیا نے پاکستان کے لئے ایک دہشت اور خوف کی علامت بنا رکھے تھے ایک یا دو نہیں بلکہ ہمارے شاہینوں نے آٹھ طیاروں کے پرخچے اڑا دئیے۔ جس سے ہماری ائیر فورس کی مہارت اور دیدہ دلیری کا واضح ثبوت دیا ہے ۔ وہ طیارے جن کا نام لے کر دوسروں کو دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ وہ ہوا میں ہی ہوا کر دیئے گئے۔

    انڈیا یہ دعوے کرتا رہا کہ اس نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، بہاولپور، مرید کے اور مظفر آباد میں مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں پر میزائل سے حملے کئے۔ جبکہ پاکستان نے ردعمل دیتے ہوئے ان دعووں کی تردید کی اور بتایا کہ سویلین مقامات کو نشانہ بنایا گیا ۔ اسی وجہ سے 26 لوگ اپنی جان سے گئے اور 46 لوگ زخمی ہوئے۔ پاکستان اور انڈیا میں 88 گھنٹوں تک کشیدگی جاری رہی ۔ اس سارے وقت میں ایک لمحہ بھی ایسا نہ تھا جب پاک افواج یا قوم میں سے کسی کا کوئی جذبہ کم ہوا ہو ۔ انڈیا نے رات کے جس بھی پہر حملہ کیا اسے منہ توڑ جواب ملا ۔ اور جب ان پر بھی جوابی کارروائی کی گئی تو کہیں بھی ہماری ائیر فورس نہیں چوکی۔ ایسے منظم اور مربوط حکمت عملی سے حملہ کیا گیا کہ خدا کی رحمت اور فضل و کرم سے ہم ہر جگہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہی ثابت ہوئے۔

    10 مئی 2025 کو بالآخر عالمی دباؤ اور امریکہ کی ثالثی کے بعد جنگ بندی ممکن ہوئی ۔ اس جنگ کا آغاز تو انڈیا نے کیا لیکن اس کو پایہ تکمیل تک پاک افواج نے پہنچایا۔ اور دنیا پہ ثابت کیا کہ اگر ہم میں اندرونی معاملات پر اختلافات ہیں تو وہ اپنی جگہ ، لیکن جب کوئی میلی نظر سے وطن عزیز کی طرف دیکھے کا تو ہم حقیقی بنیان مرصوص ہیں۔ جن کے وطن سے بڑھ کر کچھ نہیں اس ملک کا دفاع اور بقا سب سے اولین ترجیح ہے۔ جس پر ہر اختلاف کو بھلا کر ہم ایک ہیں ۔

    معرکہ بنیان المرصوص نے انڈیا کی پیشہ وارانہ مہارت کا نہ صرف پردہ چاک کر دیا ہے بلکہ اقوام عالم میں پاکستان کا نام بحیثیت مضبوط ومربوط افواج کے روشن کیا ہے۔ پاک افواج کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت نے دنیا کو دنگ کر دیا ہے ۔اللہ ہمارے ملک اور اس کی افواج کا حامی و ناصر ہو۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ
    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں
    ہم بنیان المرصوص ہیں
    جو وطن کے دفاع کے لئے ہمہ وقت ہمہ تن تیار ہیں۔
    پاکستان زندہ باد
    پاک افواج پائندہ باد