Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تیل اور پاکستان،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    تیل اور پاکستان،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے تھے کہ اگر یہ جنگ 2 سے 3 ماہ سے زیادہ طویل ہو گئی تو پاکستان کے لیے اس کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔ اب تک 15 دن گزر چکے ہیں اور ابھی تک کسی واضح حل یا قابلِ اعتماد جنگ بندی کا راستہ نظر نہیں آ رہا۔
    اس پس منظر میں سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ پاکستانی روپیہ کس طرح ردِعمل دکھائے گا۔

    مختصر مدت (Short Term)
    قریب مدت میں رمضان کے باعث بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر بدستور مضبوط ہیں۔ فارن ایکسچینج فارورڈ پریمیم منی مارکیٹ کی سطح سے اوپر ٹریڈ ہو رہے ہیں، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زرمبادلہ کی لیکویڈیٹی نسبتاً آرام دہ ہے۔ آئی ایم ایف اور وزارتِ خزانہ کے درمیان رابطوں کی خبریں بھی مجموعی طور پر مثبت ہیں۔
    گزشتہ دو ہفتوں میں برآمدات سے آنے والی رقوم میں کچھ سستی آئی ہے۔ اسی دوران درآمدی ادائیگیوں کو مرحلہ وار کرنے کی ایک شعوری کوشش بھی نظر آ رہی ہے تاکہ کسی بھی دن انٹر بینک مارکیٹ پر غیر معمولی دباؤ نہ پڑے۔ یہ طریقہ کار روپے کی قدر پر غیر ضروری دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے امکان ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں روپیہ ایک محدود دائرے میں رہے گا۔ تاہم دو اہم مالی دباؤ سامنے ہیں:
    عید کے فوراً بعد تیل کی بڑی ادائیگیاں
    ایک ارب ڈالر سے زائد کی یورو بانڈ ادائیگیاں

    درمیانی مدت (Medium Term)
    یہ وہ مرحلہ ہے جہاں صورتحال کافی غیر واضح ہو جاتی ہے۔
    نیا تیل نظام (The New Oil Regime)
    آبنائے ہرمز اب مؤثر طور پر تیل کی قیمتوں کے تعین کا ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔ مارکیٹیں اب حقیقی سپلائی میں کمی کے بجائے رکاوٹ کے امکانات کی بنیاد پر تجارت کر رہی ہیں، جس سے تیل کی قیمتیں ساختی طور پر زیادہ غیر مستحکم ہو گئی ہیں۔ تیل اب محض ایک کموڈیٹی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک اثاثہ کی طرح برتاؤ کر رہا ہے۔
    اس سے ایک نیا معاشی ماحول پیدا ہو رہا ہے:
    توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا خطرہ
    طلب کے معمول کے چکر سے ہٹ کر اچانک اتار چڑھاؤ
    عالمی تجارت کے بہاؤ میں ساختی غیر یقینی صورتحال

    ترسیلاتِ زر کا مسئلہ
    ترسیلاتِ زر نے ہر بحران میں خاموشی سے پاکستان کو سہارا دیا ہے، لیکن اب یہ سہارا پہلے جیسا یقینی نہیں رہا۔ اگر خلیجی معیشتیں سست ہو گئیں تو مزدوروں کی طلب بھی کم ہو جائے گی۔ بیرونِ ملک کم مزدور ہوں گے تو زرِ مبادلہ کی آمد بھی کم ہو گی اور ملک کے اندر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ ایک سست رفتار مگر طاقتور خطرہ ہے جو پاکستان کی معاشی سمت کو بدل سکتا ہے۔

    عالمی مالیاتی حالات
    جغرافیائی سیاسی خطرات بڑھنے کے باعث عالمی مالیاتی حالات سخت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے یورو بانڈ اور CDS پہلے ہی تقریباً 100 بیسس پوائنٹس بڑھ چکے ہیں، جو بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں تبدیلی کا اشارہ دیتے ہیں۔
    اس سے مارکیٹ سے قرض لینے کی لاگت اور غیر یقینی دونوں بڑھ جاتے ہیں۔ یورو بانڈ یا پانڈا بانڈ مارکیٹ تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے جبکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور پورٹ فولیو سرمایہ کاری بھی محدود رہ سکتی ہے۔ اس طرح بیرونی مالی وسائل کا زیادہ انحصار حکومتی پالیسی کے اعتماد اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون پر ہو جائے گا۔

    ممکنہ اثرات
    یہ تمام عوامل کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے، مالیاتی دباؤ میں اضافہ اور پالیسی لچک میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ جیسے ہی مہنگائی کی توقعات بڑھتی ہیں، شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رہ سکتی ہے۔ اس سے روپے پر دباؤ اور معاشی نمو کی رفتار کمزور ہو سکتی ہے۔ مجموعی اثر خاصا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    بنیادی امکان (Base Case)
    پاکستان کے لیے یہ امکان کم ہے کہ وہ روپے کو سہارا دینے کے لیے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے خرچ کرے۔ اس کے بجائے ایڈجسٹمنٹ درآمدات کو سختی سے منظم کرنے اور بیرونی توازن کو زیادہ پائیدار بنانے کے ذریعے آئے گی۔ روپیہ وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ کمزور ہو سکتا ہے، لیکن اس مرحلے پر کسی اچانک یا بڑی قدر میں کمی کا امکان کم نظر آتا ہے۔

  • عالمی امن کا سوال اور امریکی قیادت کی ذمہ داری ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عالمی امن کا سوال اور امریکی قیادت کی ذمہ داری ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    جب ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ وائیٹ ہاؤس میں آئے تو ان کی تقاریر اور بیانات میں ایک مرکزی نکتہ بار بار سامنے آیا: دنیا میں جنگوں کو ختم کرنا اور عالمی امن کو فروغ دینا۔ اس اعلان نے بہت سے ممالک اور خطوں میں امید پیدا کی کہ شاید امریکہ اپنی عالمی طاقت اور اثر و رسوخ کو اس بار جنگوں کے خاتمے اور سفارتی حل کے لیے استعمال کرے گا۔ تاہم موجودہ عالمی صورتحال ان توقعات کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
    خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اس وقت شدید کشیدگی اور غیر یقینی حالات سے گزر رہا ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، اور اس پورے منظرنامے میں امریکہ کی براہِ راست یا بالواسطہ موجودگی نے خطے کو ایک بار پھر عالمی سیاست کے خطرناک مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس کشیدگی کے اثرات صرف ان ممالک تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا اس کے معاشی، سیاسی اور سماجی اثرات محسوس کر رہی ہے۔

    عالمی معیشت پہلے ہی کئی بحرانوں سے دوچار ہے، اور جنگی ماحول نے ان مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال، سفری خدشات اور سیکیورٹی مسائل نے عام شہری کی زندگی کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور توانائی کے بحران کے خدشات دنیا کے مختلف حصوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ ان جنگی اور سیاسی کشیدگیوں کے اثرات سب سے زیادہ عام آدمی پر پڑتے ہیں، جو نہ پالیسی سازی میں شریک ہوتا ہے اور نہ ہی جنگ کے فیصلوں میں اس کی کوئی رائے شامل ہوتی ہے۔
    ایسے حالات میں عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرے۔ اگر واقعی عالمی امن کو ترجیح دی جائے تو ضروری ہے کہ جنگی بیانیے کے بجائے سفارت کاری، اعتماد سازی اور مذاکرات کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ دنیا کے کئی خطوں میں جاری تنازعات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی اور سفارتی راستوں کو ترجیح دی جائے۔

    آج کا بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا عالمی طاقتیں اپنے اعلانات اور وعدوں کے مطابق واقعی امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کریں گی یا عالمی سیاست بدستور طاقت کے توازن اور اسٹریٹیجک مفادات کے گرد ہی گھومتی رہے گی۔ اگر صورتحال اسی طرح کشیدہ رہی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، بین الاقوامی استحکام اور دنیا کے عام شہری کی زندگی پر اس کے اثرات مزید گہرے ہوتے جائیں گے۔
    دنیا اس وقت قیادت کی منتظر ہے—ایسی قیادت جو جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دے اور سفارت کاری کو طاقت کے استعمال پر فوقیت دے۔ کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ پائیدار امن ہمیشہ مذاکرات کی میز پر ہی قائم ہوتا ہے، میدانِ جنگ میں نہیں۔

  • عالمی جنگیں اور امن کی ضرورت۔تجزیہ :شہزاد قریشی

    عالمی جنگیں اور امن کی ضرورت۔تجزیہ :شہزاد قریشی

    آج کی دنیا سائنسی ترقی، ٹیکنالوجی اور معاشی ترقی کے باوجود بے چینی اور عدمِ استحکام کا شکار نظر آتی ہے۔ مختلف خطوں میں جاری جنگیں اور سیاسی کشیدگیاں انسانیت کے لیے ایک بڑا سوال بن چکی ہیں۔ طاقتور ممالک کی سیاسی اور فوجی رقابتوں کا سب سے زیادہ اثر عام انسان پر پڑ رہا ہے۔ عام آدمی مہنگائی، عدمِ تحفظ، ہجرت اور خوف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

    بیسویں صدی میں دنیا نے دو بڑی تباہ کن جنگیں دیکھیں: World War I اور World War II۔ ان جنگوں نے کروڑوں انسانوں کی جانیں لے لیں اور دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ ان سانحات کے بعد عالمی امن قائم کرنے کے لیے اقوام متحدہ جیسے ادارے قائم کیے گئے تاکہ ممالک کے درمیان تنازعات کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بھی دنیا کے کئی حصوں میں جنگیں جاری ہیں۔

    موجودہ دور میں عالمی سیاست کے مرکز میں بڑی طاقتیں اور ان کے مفادات ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ عالمی سیاست اور فوجی طاقت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی بھی عالمی سطح پر اثر ڈالتی ہے۔ اسی طرح یورپ میں جاری روس یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل حماس جنگ جیسے تنازعات نے دنیا کے امن کو شدید متاثر کیا ہے۔

    ان جنگوں کی بنیادی وجوہات میں سیاسی مفادات، قدرتی وسائل پر قبضہ، علاقائی بالادستی، نظریاتی اختلافات اور عالمی طاقتوں کی رقابت شامل ہیں۔ جب ممالک اپنے مفادات کو انسانیت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں تو تنازعات شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں، معیشتیں کمزور ہو جاتی ہیں اور معاشروں میں خوف اور عدم استحکام پیدا ہو جاتا ہے۔

    عام آدمی آج واقعی تھک چکا ہے۔ وہ مسلسل مہنگائی، بے یقینی اور جنگوں کے خطرات میں زندگی گزار رہا ہے۔ ایک مزدور، کسان یا متوسط طبقے کا فرد چاہتا ہے کہ دنیا میں سکون اور استحکام ہو تاکہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں مطمئن ہو سکے۔ عام انسان کو جنگ نہیں بلکہ امن، روزگار اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق چاہیے۔

    بین الاقوامی سطح پر امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ طاقتور ممالک ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ جنگ کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور انصاف پر مبنی فیصلوں کو ترجیح دی جائے۔ عالمی اداروں کو بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ تنازعات کو بڑھنے سے پہلے ہی حل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی انصاف، تعلیم اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا بھی انتہائی ضروری ہے۔

    آخرکار دنیا میں پائیدار امن صرف طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ انصاف، برداشت اور انسانیت کے ذریعے قائم ہو سکتا ہے۔ اگر عالمی رہنما اپنے سیاسی اور معاشی مفادات سے بڑھ کر انسانیت کے درد کو سمجھیں تو دنیا میں جنگوں کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ آج پوری دنیا کا عام انسان یہی دعا اور امید رکھتا ہے کہ جنگوں کے بجائے امن، سکون اور بھائی چارے کا دور آئے، تاکہ آنے والی نسلیں ایک محفوظ اور بہتر دنیا میں زندگی گزار سکیں۔

  • مصنوعی سیاستدان اور قیادت کا بحران،تجزیہ :شہزاد قریشی

    مصنوعی سیاستدان اور قیادت کا بحران،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاست اس وقت ایک عجیب دور سے گزر رہی ہے۔ بظاہر جمہوریت موجود ہے، پارلیمنٹ قائم ہے، سیاسی جماعتیں فعال ہیں اور ہر روز بیانات اور پریس کانفرنسوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ لیکن اگر اس ساری سیاسی سرگرمی کو ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہماری سیاست میں اصل قیادت اور فکری گہرائی تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پارلیمنٹ کے ایوان میں حقیقی سیاستدانوں کی جگہ مصنوعی کردار ادا کرنے والے لوگ بڑھتے جا رہے ہیں۔

    آج اگر کوئی شخص پارلیمنٹ ہاؤس کی کارروائیوں کو غور سے دیکھے تو اسے اندازہ ہوگا کہ قومی مسائل پر سنجیدہ بحث کم اور سیاسی تماشہ زیادہ نظر آتا ہے۔ ایسے ایسے بیانات سننے کو ملتے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک اس وقت جن سنگین مسائل کا شکار ہے، ان پر وہ توجہ دکھائی نہیں دیتی جس کی ایک ذمہ دار قیادت سے توقع کی جاتی ہے۔

    پاکستان اس وقت مہنگائی، بے روزگاری، توانائی بحران اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، صنعتیں توانائی کی قلت سے پریشان ہیں اور نوجوان طبقہ روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہے۔ ایسے میں قوم کو ایسی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو مسائل کو سمجھتی ہو، ان کے حل کے لیے واضح حکمت عملی رکھتی ہو اور قوم کو اعتماد دے سکے۔

    مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ میں ایسے افراد کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے۔ چند ایک لوگ ضرور موجود ہیں جو سیاسی بصیرت رکھتے ہیں، جنہیں ملکی اور عالمی حالات کا ادراک ہے اور جو سنجیدہ انداز میں بات کرتے ہیں، مگر ان کی تعداد اتنی کم ہے کہ انہیں انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ باقی اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل دکھائی دیتی ہے جن کے نزدیک سیاست ایک سنجیدہ قومی ذمہ داری کے بجائے محض ایک سیاسی مشغلہ بن چکی ہے۔

    یہ صورتحال صرف پارلیمنٹ تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں کے اندر بھی یہی مسئلہ موجود ہے۔ جماعتوں میں نظریاتی کارکن کم ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ ایسے لوگ لے رہے ہیں جن کا سیاست سے تعلق زیادہ تر اقتدار کے حصول تک محدود ہے۔ سیاسی تربیت، مطالعہ اور فکری بحث کا جو کلچر کبھی سیاست کا حصہ ہوا کرتا تھا، وہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔

    ان حالات میں جب قیادت کے بحران کی بات ہوتی ہے تو اکثر لوگوں کی نظر ایک ہی نام پر جا کر ٹھہرتی ہے اور وہ نام ہے نواز شریف ۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے پاکستان کی سیاست میں طویل عرصہ گزارا ہے اور اقتدار و اپوزیشن دونوں کے تجربات سے گزرے ہیں۔ ان کے حامی انہیں ایک مضبوط سیاسی لیڈر کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ مخالفین ان پر تنقید بھی کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود یہ بات اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کی سیاست میں ان کا کردار اور اثر و رسوخ ایک حقیقت ہے۔

    تاہم ایک صحت مند جمہوری نظام کا تقاضا یہ ہے کہ قیادت صرف چند افراد تک محدود نہ رہے بلکہ نئی قیادت سامنے آئے۔ نوجوان سیاستدان تیار ہوں، سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری روایات مضبوط ہوں اور ایسے لوگ آگے آئیں جو ملک کے مسائل کو سمجھتے ہوں اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی کر سکیں۔پاکستان کی غریب عوام اس وقت سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ وہ روزانہ مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی سے لڑ رہی ہے۔ ان کے لیے سیاسی بیانات یا ٹی وی ٹاک شوز کی گرما گرمی سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ان کی زندگی میں بہتری آئے۔اگر پاکستان کی سیاست کو واقعی مضبوط بنانا ہے تو مصنوعی سیاستدانوں کے اس ہجوم سے نکل کر حقیقی قیادت کو سامنے لانا ہوگا۔ سیاست کو دوبارہ سنجیدگی، نظریے اور قومی خدمت کے جذبے سے جوڑنا ہوگا۔ کیونکہ قومیں صرف نعروں اور تقریروں سے نہیں بلکہ بصیرت، دیانت اور مضبوط قیادت سے آگے بڑھتی ہیں۔

  • اسلام میں عورت کا مقام اور عظمت ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اسلام میں عورت کا مقام اور عظمت ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    فرمانِ آقاِ دو جہاں حضرت رسول اللہﷺ ہے؛

    "علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد(وعورت) پر فرض ہے۔”
    (سنن ابن ماجہ)

    اسلام وہ دینِ برحق ہے جس نے عورت کو معاشرے کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے تمام بنیادی حقوق عطا کیے ہیں۔ عورت اور مرد معاشرے کے دو اہم ارکان ہیں جن کے بنا معاشرہ ارتقاء کی منازل طے نہیں کر سکتا ۔ اسی لئیے اسلام نے عورت کے بنیادی حقوق کا خصوصی خیال رکھا ہے۔

    ہر قیمتی شے چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ کیونکہ ہر چھپی ہوئی شے نایاب ہوتی ہے۔ پردہ اور حیا عورت کے زیور ہیں۔ پردہ عورت پہ ناصرف واجب ہے۔ بلکہ اخلاقی و روحانی و معاشرتی تقاضا بھی ہے ۔ یہ اس کے تقدس کی علامت ہے۔

    ہر سال 8 مارچ خواتین کے عالمی دن پر ان کے حقوق کے حوالے سے بات کی جاتی ہے۔ میں اکثر کہتی ہوں کہ سب سے پہلے تو عورت کو خود اپنے مقام ،اپنے مرتبے کا شعور ہونا چاہئیے ۔آپ کسی سے اپنے حقوق کی بات تبی کر سکتے ہیں۔ جب آپ کو خود اپنے مقام کا علم ہو گا۔ خود تعلیم حاصل کریں۔ اور کسی مغربی گروہ کا شکار ہونے کی بجائے اپنے مذہب اسلام میں عورت کے حقوق کو جانیں۔

    مغرب جس کی ہمارے معاشرے کے نام نہاد لبرلز تقلید کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں ، میں عورتوں کے قانونی طور پہ برابری کے حقوق کے حصول کی پہلی آواز 1848ء میں اٹھائی گئی۔ جسے فیمی نزم کا نام دیا گیا۔ امریکہ جیسے آزاد خیال ملک میں عورت کو ووٹ ڈالنے تک کا حق حاصل نہ تھا۔ نہ وارثت میں کوئی حصہ۔ یعنی مغرب میں قانونی و معاشرتی طور پہ عورت کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ اس تحریک میں ان حقوق کے حصول کے لئیے آواز اٹھائی گئی۔ جو کہ اسلام نے 1400 سال پہلے ہی عورت کو فراہم کر دیئے تھے۔ شاید مغرب والوں نے بھی اس تحریک کی شروعات سے پہلے اسلام میں عورت کے ان حقوق کا مطالعہ کیا ہو گا۔ عورت جسے قبل اسلام زندہ درگور کیا جاتا تھا۔ اسلام نے اسے وارثت کا حق دیا، تعلیم کے حصول میں برابری کے حقوق عطا کئیے۔عبادت میں مساوی حقوق دئیے۔ حتی کہ نکاح میں اپنی مرضی کا حق دیا۔

    مغرب میں فیمی نزم تحریک ان کے معاشرے کی ضرورت تھی۔ مگر اسلام نے تو یہ ضرورت 1400 سال قبل ہی پوری کر دی۔ آج کل کا خود کو لبرلز کہنے والا سڑکوں پہ اوٹ پٹنگی حرکات کرنے والا مخصوص گروہ فیمی نزم تحریک کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنے غلط عزائم کو پروان چڑھانے کی کوشش میں ہے۔ دراصل یہ عورت کے اصل حقوق سے توجہ ہٹانے کا باعث ہے۔ عورت کے آج کل کے اصل حقوق تو یہ ہیں۔ کہ اسے تعلیم سے لے کر جاب تک برابری کے امواقع حاصل ہوں، وہ اگر باپردہ کسی جاب کی اہل ہے۔ تو پردے کو وجہ ِ رکاوٹ نہ بنایا جائے۔ وہ اگر حالتِ سفر میں ہو۔ تو اسے احساس ِتحفظ رہے۔ اسے کسی فحش نظر یا جملے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اور وہ بحفاظت اپنی منزل تک پہنچ سکے۔

    اسلام سے بڑھ کر عورت کو مقام اور حقوق کسی اور نظام نے نہیں دیئے۔ ہمارے مذہب نے عورت کو جو مقام دیا ہے۔ دنیا کے کسی بھی آئین یا قانون میں اور کہیں بھی نہیں۔ اسلام نے عورت کو عورت سے عظیم عورت بنایا ہے۔ اسلام نے بتایا کہ جنت ایک عورت یعنی ماں کے قدموں تلے ہے۔ اسلام نے ہمیں عورت کے مثالی کردار دیئے ہیں ۔ ایک شریک حیات کے روپ میں بی بی سیدہ خدیجؑہ ،ایک بیٹی کی روپ میں بنتؑ محمد ﷺ جناب بی بی سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا ، ایک بہن کے روپ میں جناب بی بی سیدہ زینبؑ، اور ایک ماں کے روپ میں مادرؑ ِ حسنین کریمیںنؑ ہمارے لئیے موجبِ رہنمائی ہیں۔ عورت تو وہ ہے۔ جو نہتی بھی ہو تب بھی اپنی فکر و ہمت سےقصرِ یزید (لعین) کے در و دیوار ہلا دے ۔ عورت کو کمزور کوئی کیونکر کہے ۔ اگر وہ اپنا مقام خود جان لے۔ جو اسے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے۔ عورت کا مقام یہ ہے۔ کہ قرآن کریم میں سورہ نساء موجود ہے۔

    عورت بہت عظیم جذبات کی مالک ہے۔وہ سفید رنگ ہے۔ جو ہر رنگ اپنے اندر سمو سکتی ہے۔اپنے عورت ہونے پہ فخر محسوس کریں۔مگر اپنے فرائض کو بھی ساتھ لے کے چلیں۔ فخر محسوس کریں۔ کہ آپ کینزِ زہرا ع اور کینزِ زینبؑ ہیں۔ آپ کے سامنے کوئی فحش گروہ نہیں بلکہ یہ عظیم ہستیاںؑ رہنمائی کے لئیے ہونے چاہئیں۔۔

    عورت کا دن تو ہر نیاء دن ہے۔ پھر صرف ایک دن ہی کیوں۔۔۔۔ میرا سلام ہے ۔ان تمام خواتین کو جو کھیتوں میں اپنے مردوں کے شانہ بشانہ محنت کرتی ہیں۔ اور ناصرف ان کا بازو بنتی ہیں۔ بلکہ ملکی معشیت کی مظبوطی میں بھی اپنا کردار اہم ادا کر رہی ہیں۔ ان تمام خواتین اساتذہ کو جو روز سینکڑوں اذہان کو شعور بخشنے کا سبب ہیں۔ ان تمام گھریلو خواتین کو جو گھر میں رہ کر گھر کو بخوبی چلا رہی ہیں۔ اور اپنے گھر کے ارکان کے لئیے باعث ِسکون ہیں۔ ان تمام ماؤں کو جو اپنے اولادوں کی بہترین تربیت کر رہی ہیں۔میرا سلام ہے۔ اسلام کی ہر باحیا و باپردہ بیٹی کو، جو اپنے مقام و تقدس سے آگاہ ہے۔

    آخر میں میرا خواتین کا عالمی دن میری رہنما ہستیوںؑ ، حضرت بی بی سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا اور سیدہ زینب الکبریٰ سلام اللہ علیہا کے نام ہے۔ اللہ رحمن الرحیم سے دعا ہے۔ کہ وہ تمام بیٹیوں کو ہماری ان عظیم رہنماؤں سلام اللہ علیھا کی پیروی کرنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین

    میں بیٹی، میں ماں، بہن ، ہم سفر میں
    سبھی کا سکوں میں سدا چاہتی ہوں

    عطاۓ خدا ہیں مرے حوصلے بھی
    میں عنبرؔ ہمیشہ نبھا چاہتی ہوں

  • مشرق وسطیٰ جنگ، نئی مہنگائی کی لہر،عام آدمی ہی "پسے”گا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرق وسطیٰ جنگ، نئی مہنگائی کی لہر،عام آدمی ہی "پسے”گا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکتی ہوئی جنگ کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کی گونج پوری دنیا کی معیشت میں سنائی دیتی ہے۔ یہ خطہ دنیا کے توانائی کے بڑے ذخائر کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی عالمی منڈیوں میں پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو توانائی کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جس کا بوجھ بالآخر عام آدمی کے کندھوں پر ہی آ کر پڑتا ہے۔

    دنیا کے ترقی پذیر ممالک پہلے ہی مہنگائی، قرضوں اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ اگر پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خوراک، صنعت اور روزمرہ استعمال کی ہر چیز مہنگی ہو جائے گی۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو فیکٹریوں کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے، مال برداری کے اخراجات بڑھتے ہیں اور بالآخر ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں کمزور معیشتوں والے ممالک کے لیے عوام کو ریلیف دینا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

    خاص طور پر ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے وہ ممالک جو توانائی کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے یہ بحران مزید سنگین ثابت ہو سکتا ہے۔ پہلے ہی بجٹ خسارے اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے یہ ممالک اگر مہنگی توانائی خریدنے پر مجبور ہوئے تو ان کی معیشتوں پر شدید دباؤ پڑے گا۔ اس کا براہِ راست اثر عوام کی زندگی پر پڑے گا جہاں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ ماہرین معاشیات خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال طویل عرصے تک کشیدہ رہی تو دنیا ایک نئی مہنگائی کی لہر کا سامنا کر سکتی ہے۔ اس مہنگائی کی سب سے بڑی قیمت وہ عوام ادا کریں گے جو پہلے ہی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ جنگ چاہے کسی بھی خطے میں لڑی جائے، اس کے معاشی اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔

  • وزیراعظم کا قومی ہاکی ٹیم کے ہر کھلاڑی کے لیے 15 لاکھ روپے انعام کا اعلان

    وزیراعظم کا قومی ہاکی ٹیم کے ہر کھلاڑی کے لیے 15 لاکھ روپے انعام کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف نے قومی ہاکی ٹیم کے ہر کھلاڑی کے لیے 15 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے-

    وزیراعظم کے دفتر کی میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ورلڈ کپ کوالیفائر میں شرکت کرنے والی قومی ہاکی کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں ٹیم کے ہر کھلاڑی کے لیے 15 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے یہ اقدام نہ صرف ٹیم کی محنت اور کھیل کے لیے لگن کا اعتراف ہے بلکہ پاکستان میں ہاکی کے فروغ کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔

    قومی ہاکی ٹیم کی ورلڈ کپ کوالیفائرز میں شرکت نے شائقین کے درمیان جوش و خروش پیدا کر دیا ہے اور یہ انعام ان کی ثابت قدمی اور محنت کا واضح اعتر اف ہے۔

    6 مارچ کو اسماعلیہ، مصر میں ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائرز کے سنسنی خیز سیمی فائنل میں پاکستان نے جاپان کو 3-4 سے شکست دی،جس کے نتیجے میں نہ صرف ٹیم فائنل میں پہنچ گئی بلکہ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی بھی کر گئی میچ میں پاکستان نے شاندار واپسی کا مظاہرہ کیاپاکستان نے پہلے کوارٹر میں برتری حاصل کی، تاہم جاپان نے دوسرے کوارٹر میں اس کا مقابلہ کرتے ہوئے اسکور برابر کر دیا۔

    تیسرے کوارٹر میں جاپان نے دو گول کر کے 1-3 کی برتری حاصل کر لی، جس سے پاکستانی ٹیم پر شدید دباؤ پڑا، لیکن آخری کوارٹر میں گرین شرٹس نے زبرد ست مزاحمت دکھاتے ہوئے 3 گول کر کے میچ 3-4 سے جیت لیا،پاکستان کے لیے محمد عماد، ابو بکر محمود، سفیان خان اور افراز نے ایک ایک گول کیا۔ محمد عماد کو جاپان کے خلاف شاندار کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

    میچ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے جارحانہ کھیل میں برتری حاصل کرتے ہوئے سرکل میں 28 حملے کیے جبکہ جاپان نے صرف 17، جس سے ٹیم کے جارحانہ رویے کی عکاسی ہوتی ہےاس فتح کے ساتھ پاکستان نہ صرف کوالیفائرز کے فائنل میں پہنچ گیا بلکہ ہاکی ورلڈ کپ 2026 میں حصہ لینے کی بھی ضمانت حاصل کر لی۔

  • پیٹرول بم: جب حکمرانی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے،تحریر:  میجر (ر) ہارون رشید

    پیٹرول بم: جب حکمرانی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    از میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدیت میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    پاکستان ایک بار پھر اُس صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جسے عوام عام طور پر “پیٹرول بم” کہتے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافے نے گھریلو صارفین، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جو پہلے ہی مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
    ایسے وقت میں جب عوام کسی ریلیف کی توقع کر رہے تھے، اس فیصلے نے لاکھوں خاندانوں پر معاشی دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پاکستان میں روزانہ تیل کی کھپت تقریباً 4 لاکھ 80 ہزار بیرل ہے، جو تقریباً 7 کروڑ 80 لاکھ لیٹر یومیہ بنتی ہے۔
    دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک کے پاس تقریباً 28 دن کا اسٹریٹیجک ذخیرہ موجود ہے، جو تقریباً 1 کروڑ 34 لاکھ 40 ہزار بیرل یعنی تقریباً 2 ارب 15 کروڑ لیٹر پیٹرولیم مصنوعات پر مشتمل ہے۔
    جب اچانک 55 روپے فی لیٹر قیمت بڑھا دی جاتی ہے تو وہ ذخائر جو پہلے کم عالمی قیمتوں پر خریدے گئے تھے، فوری طور پر کاغذی طور پر بے پناہ قدر حاصل کر لیتے ہیں۔ سادہ حساب کے مطابق یہ پہلے سے موجود ذخیرے پر تقریباً 118 ارب روپے کی اضافی مالیت پیدا کر دیتا ہے۔

    عام شہری کے ذہن میں اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے: اس غیر متوقع فائدے کا اصل فائدہ کس کو پہنچتا ہے؟

    ایک ایسا نظام جو غیر منصفانہ دکھائی دیتا ہے،اصولی طور پر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین حکومت، اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) اور نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے فریم ورک کے تحت کیا جاتا ہے۔ سرکاری وضاحت عموماً عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ، کرنسی کی قدر میں کمی اور مالی دباؤ کے گرد گھومتی ہے۔
    تاہم عوامی تاثر یہ بنتا جا رہا ہے کہ یہ نظام زیادہ تر آئل کمپنیوں، بڑے ڈسٹری بیوٹرز اور ان عناصر کو فائدہ پہنچاتا ہے جو قیمتوں میں اضافے سے پہلے ایندھن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب قیمتیں اچانک بڑھتی ہیں تو ان کے پاس موجود ذخیرہ راتوں رات قیمتی ہو جاتا ہے اور انہیں بغیر کسی اضافی معاشی سرگرمی کے بھاری منافع حاصل ہو جاتا ہے۔دوسری طرف عام شہری، جس کے پاس نہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی طاقت، صرف زیادہ قیمت ادا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

    انسانی قیمت

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ پاکستان کے نازک معاشی ڈھانچے میں پیٹرول اور ڈیزل ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور بجلی کی پیداوار کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ایک قیمت بڑھنے سے ایک سلسلہ وار ردِعمل پیدا ہوتا ہے:
    ٹرانسپورٹ کے کرائے فوراً بڑھ جاتے ہیں
    اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں کیونکہ نقل و حمل مہنگی ہو جاتی ہے
    جہاں فرنس آئل یا ڈیزل استعمال ہوتا ہے وہاں بجلی کی پیداوار کی لاگت بڑھ جاتی ہے
    کاروباروں کے آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے
    آخرکار مہنگائی کی رفتار مزید تیز ہو جاتی ہے۔
    ایک ایسے معاشرے میں جہاں لوگ پہلے ہی مہنگی بجلی، بڑھتے ہوئے گیس کے بل، بھاری ٹیکسوں اور جمود کا شکار اجرتوں سے نبرد آزما ہیں، اس کے اثرات انتہائی سنگین ہوتے ہیں۔ پاکستان کے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور تنخواہ دار طبقہ ان جھٹکوں کو برداشت کرنے کی بہت کم صلاحیت رکھتا ہے۔ بہت سے خاندانوں کے لیے بنیادی ضروریات زندگی بھی ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہیں۔

    ساختی مسئلہ
    پاکستان کی معیشت پہلے ہی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور بیرونی قرضوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ مقامی صنعت کو پہلے ہی مہنگی توانائی، پالیسیوں کے عدم استحکام اور سستے قرضوں تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
    ایسے ماحول میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کاروبار کرنے کی لاگت کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ صنعت کی مسابقت کم ہو جاتی ہے، برآمدات متاثر ہوتی ہیں اور سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ معاشی ترقی کو فروغ دینے کے بجائے ایسی پالیسیاں ملک کو معاشی جمود کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔

    انصاف کا سوال

    عام شہریوں کے لیے شاید سب سے تکلیف دہ سوال انصاف کا ہے۔
    جب عوام بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کا بوجھ اٹھا رہے ہوتے ہیں تو اسی وقت حکومت کے بہت سے عہدیداروں اور بیوروکریسی کے مختلف طبقات کو مفت یا بھاری سبسڈی والا پیٹرول، بجلی اور دیگر سہولیات بطور سرکاری مراعات ملتی رہتی ہیں۔
    یہ حکمرانی کے ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے:
    کیا معاشی فیصلے کرنے والے خود ان فیصلوں کے اثرات سے محفوظ رہیں؟
    کسی بھی فعال جمہوریت میں معاشی مشکلات کا بوجھ پورے معاشرے کو، خاص طور پر اقتدار میں موجود افراد کو، مشترکہ طور پر برداشت کرنا چاہیے۔ جب پالیسی ساز خود اپنے فیصلوں کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں تو عوام کا اعتماد بتدریج ختم ہونے لگتا ہے۔
    قانونی اور حکمرانی کا پہلو
    پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کو واضح طور پر بتانا چاہیے:
    قیمتوں میں اضافے کا اصل فارمولہ کیا ہے
    آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کردار اور منافع کی شرح کیا ہے
    ہر لیٹر پیٹرول میں شامل ٹیکسوں کی مقدار کتنی ہے
    قومی اسٹریٹیجک ذخائر کو کس طرح منظم کیا جا رہا ہے
    پارلیمانی نگرانی اور آزادانہ آڈٹ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عوامی وسائل بالواسطہ طور پر نجی مفادات کو فائدہ نہ پہنچا رہے ہوں۔
    شفافیت کے بغیر ریگولیٹرز، آئل کمپنیوں اور بااثر حلقوں کے درمیان گٹھ جوڑ کے شبہات مزید مضبوط ہوتے جائیں گے۔

    آگے کا راستہ

    پاکستان اس وقت ایک اہم معاشی موڑ پر کھڑا ہے۔ ملک ایسی پالیسیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا جو عدم مساوات کو بڑھائیں اور عوامی اعتماد کو کمزور کریں۔
    حقیقی اصلاحات میں شامل ہونا چاہیے:
    ایندھن کی قیمتوں کے تعین کا شفاف نظام
    ریاستی ڈھانچے میں غیر ضروری مراعات کا خاتمہ
    کم آمدنی والے طبقات کے لیے ہدفی ریلیف
    توانائی کے شعبے میں تنوع اور کارکردگی میں طویل مدتی سرمایہ کاری
    سب سے بڑھ کر حکمرانی کو قلیل مدتی مالیاتی چالوں کے بجائے عوامی فلاح کو ترجیح دینی چاہیے۔
    پاکستان کے عوام نے دہائیوں کی معاشی مشکلات کے باوجود غیر معمولی صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مگر اس استقامت کو لامحدود برداشت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
    کوئی بھی قوم اس وقت ترقی نہیں کر سکتی جب اس کے شہری یہ محسوس کریں کہ نظام ان کے لیے نہیں بلکہ ان کے خلاف کام کر رہا ہے۔

    اس لیے اصل سوال اب بھی یہی ہے
    کون آگے بڑھے گا، ان بگاڑوں کو درست کرے گا اور پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو انصاف، شفافیت اور قومی مفاد کی راہ پر ڈالے گا؟

  • ایران تاریخ کے سبق اور آج کا فیصلہ. تجزیہ : شہزاد قریشی

    ایران تاریخ کے سبق اور آج کا فیصلہ. تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ حالات میں ایران ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے۔ جنگی دباؤ اور داخلی چیلنجز کے باعث ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران کو اپنے مستقبل کے بارے میں ایک واضح اور حقیقت پسندانہ فیصلہ کرنا ہوگا۔ عالمی طاقتیں بھی اپنے اپنے انداز میں اس صورتحال کو دیکھ رہی ہیں؛ امریکہ طاقت کے ذریعے اثر و رسوخ رکھتا ہے، اسرائیل جارحانہ حکمت عملی اپناتا ہے، جبکہ روس اور چین زیادہ تر موقع کے مطابق اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
    ایسے حالات میں ایران کو اپنی تاریخ سے سبق لینا چاہیے۔ ایران پہلے ہی عراق کے ساتھ آٹھ سالہ طویل جنگ لڑ چکا ہے جس میں بے شمار انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور معیشت کو شدید نقصان پہنچا، مگر اس جنگ سے کوئی فیصلہ کن فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ یہ تجربہ واضح کرتا ہے کہ طویل جنگیں اکثر قوموں کو کمزور ہی کرتی ہیں۔
    آج ایران کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ جذباتی ردعمل کے بجائے دور اندیشی سے پالیسی بنائے۔ داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور متوازن سفارت کاری ہی وہ راستہ ہے جو ایران کو مزید بحرانوں سے بچا سکتا ہے۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ طاقت صرف جنگ سے نہیں بلکہ دانشمندانہ فیصلوں سے بھی حاصل کی جاتی ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید سیاسی اور عسکری کشیدگی کے دور سے گزر رہا ہے۔ ایران، اسرائیل اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف اس خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان کے آرمی چیف Syed Asim Munir کا Saudi Arabia کا دورہ عالمی اور علاقائی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ دورہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی یا اقتصادی نوعیت کے نہیں بلکہ تاریخی، مذہبی اور دفاعی بنیادوں پر بھی قائم ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک دفاعی تعاون کے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بڑا بحران پیدا ہوتا ہے تو پاکستان کی طرف دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کو مسلم دنیا کی مضبوط اور منظم افواج میں شمار کیا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے خطے کے کئی ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو اہمیت دیتے ہیں۔

    حالیہ کشیدہ حالات میں آرمی چیف کا سعودی عرب کا دورہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ پاکستان خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ جنگی ماحول، فضائی راستوں کی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود اس سطح کا دورہ ایک مضبوط سفارتی اور عسکری پیغام سمجھا جاتا ہے۔ اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ پاکستان اپنے قریبی اتحادی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

    بین الاقوامی مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست اور اہم اقتصادی شراکت دار ہے جبکہ دوسری طرف Iran پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ سرحدی، تجارتی اور سفارتی تعلقات بھی اہم ہیں۔ اسی لیے پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ خطے کے مسائل کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے نہ کہ جنگ کے ذریعے۔

    اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کا کردار صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ مسلم دنیا میں ایک ممکنہ سفارتی پل کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان کئی علاقائی تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی پاکستان کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ اپنے متوازن تعلقات اور سفارتی تجربے کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کرے۔

    یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا براہِ راست اثر عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر پڑتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ذمہ دار ملک کا فعال اور متوازن کردار نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

    مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک آزمائش بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ اگر پاکستان دانشمندانہ سفارت کاری، متوازن پالیسی اور علاقائی رابطوں کو مؤثر انداز میں استعمال کرے تو وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے بلکہ مسلم دنیا میں ایک ذمہ دار اور مؤثر قوت کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو مستقبل کی عالمی سیاست میں ایک اہم اور باوقار مقام دلا سکتا ہے۔