Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ترقی کا راستہ مشکل ضرور ، مگر ناممکن نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ترقی کا راستہ مشکل ضرور ، مگر ناممکن نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا نیا سال مناتے ہوئے آگے کی سمت دیکھ رہی ہے اور ہم اب بھی ماضی کے ملبے میں کھڑے ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں۔ امریکہ، یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے نئے سال کو ہمیشہ ایک نئے ہدف، نئی رفتار اور واضح ترجیحات کے ساتھ خوش آمدید کہا، جبکہ پاکستان ہر سال یہی سوال دہراتا ہے کہ ہم پیچھے کیوں رہ گئے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ہمیں جواب معلوم ہے، مگر ماننے کی ہمت نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی بنیاد قانون کی بالادستی پر کھڑی ہے، انصاف سالوں نہیں، مہینوں میں ملتا ہے، ہمارے یہاں صدیوں انصاف کی تلاش میں لوگ مارے مارے پھرتے رہتے ہیں۔ علم وہ ہتھیار ہے جس سے قومیں دنیا فتح کرتی ہیں، مگر ہم نے تعلیم کو محض تقریروں اور اشتہارات تک محدود کر دیا ہے۔ جن قوموں نے لیبارٹریوں کو عبادت گاہ اور جامعات کو معیشت کا انجن بنایا، وہ آج دنیا کی سمت متعین کر رہی ہیں۔ ہم اب بھی اس بحث میں الجھے ہیں کہ نصاب کس کا ہو، جبکہ دنیا نصاب سے آگے نکل چکی ہے۔ معاشی میدان میں ہماری سوچ اب بھی ادھار، امداد اور وقتی سہارا کے گرد گھومتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک مصنوعات بیچتے ہیں، ٹیکنالوجی بیچتے ہیں، علم بیچتے ہیں اور ہم فخر سے قرض کے نئے پیکج کا اعلان کرتے ہیں۔ جب تک ہم پیدا نہیں کریں گے، بیچ نہیں سکیں گے، اور خود کو خود نہیں سنبھالیں گے، ترقی ایک نعرہ ہی رہے گی۔

    سب سے خطرناک زہر انتشار کی سیاست ہے۔ سیاست اگر قومی سمت طے کرنے کے بجائے ریاست سے ٹکراؤ بن جائے تو اس کا انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے۔ ترقی وہاں ہوتی ہے جہاں حکومتیں بدلتی ہیں مگر پالیسیاں نہیں، جہاں اختلاف میز پر ہوتا ہے، سڑکوں پر نہیں۔ ہم نے اختلاف کو دشمنی بنا دیا اور دشمنی کو سیاست۔ وقت کی پابندی، نظم و ضبط اور عمل یہ وہ اقدار ہیں جن پر قومیں کھڑی ہوتی ہیں۔ ہم تقریریں بروقت کر لیتے ہیں، مگر فیصلے بروقت نہیں کرتے۔ منصوبے شاندار ہوتے ہیں، مگر عمل غائب ہوتا ہے۔ فائلیں چلتی رہتی ہیں اور وقت ہاتھ سے نکلتا رہتا ہے۔ اب فیصلہ واضح ہے۔ یا تو پاکستان نئے سال میں خود کو بدلے گا، یا دنیا اسے مزید پیچھے چھوڑ دے گی۔ ترقی کا راستہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ شرط صرف ایک ہے خود فریبی چھوڑ دی جائے قانون، علم، عمل، نظم، برداشت اور قومی مقصد،یہ سب ایک ساتھ چلیں گے تو بات بنے گی، ورنہ ہر نیا سال پچھلے سال سے مختلف نہیں ہوگا۔ یہ وقت سوال پوچھنے کا نہیں، جواب ماننے کا ہے۔ اور سب سے پہلا جواب ہمیں خود دینا ہوگا۔

  • جاز نیٹ ورک کی لوٹ مار؟ گرتا معیار، بڑھتے نرخ اور پی ٹی اے کا غیر مؤثر کردار

    جاز نیٹ ورک کی لوٹ مار؟ گرتا معیار، بڑھتے نرخ اور پی ٹی اے کا غیر مؤثر کردار

    جاز نیٹ ورک کی لوٹ مار؟ گرتا معیار، بڑھتے نرخ اور پی ٹی اے کا غیر مؤثر کردار
    تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفےٰبڈانی
    پاکستان کی سب سے بڑی سیلولر کمپنی جاز (موبی لنک) اس وقت ملک بھر میں صارفین کی شدید تنقید کی زد میں ہے۔ مختلف شہروں اور دیہی علاقوں سے موصول ہونے والی شکایات کے مطابق نیٹ ورک سروس کے معیار میں مسلسل گراوٹ، پیکیجز کی آسمان کو چھوتی قیمتیں اور غیر مجاز کٹوتیوں نے صارفین کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک صارف نے حال ہی میں شکایت کی کہ جاز کا ویکلی فریڈم پیکیج، جو ابتدا میں 350 روپے میں متعارف کرایا گیا تھا، اب بڑھ کر 700 روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ اس کے برعکس سروس کا معیار دن بدن مزید خراب ہوتا جا رہا ہے۔ یہ محض ایک فرد کی شکایت نہیں بلکہ ملک بھر میں لاکھوں صارفین اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس آرٹیکل میں جاز نیٹ ورک کی مجموعی صورتحال، صارفین کی شکایات، ریگولیٹری اداروں کے کردار اور ممکنہ حل کا جائزہ مختلف مستند ذرائع کی بنیاد پر پیش کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی رپورٹس کے مطابق جاز 2025 میں بھی سب سے زیادہ شکایات موصول کرنے والی ٹیلی کام کمپنی رہی ہے۔ ستمبر 2025 میں ملک بھر سے ٹیلی کام سیکٹر کے حوالے سے تقریباً 5000 شکایات ریکارڈ کی گئیں، جن میں سے 1522 شکایات صرف جاز کے خلاف تھیں، جو مجموعی شکایات کا تقریباً ایک تہائی بنتی ہیں۔ اکتوبر 2025 میں جاز کے خلاف شکایات کی تعداد بڑھ کر 1619 ہو گئی، جبکہ جنوری 2025 کی رپورٹ میں جاز کے خلاف 5070 شکایات سامنے آئیں، جو تمام آپریٹرز میں سب سے زیادہ تھیں۔

    ملک کے مختلف حصوں سے موصول ہونے والی شکایات میں نیٹ ورک ڈاؤن ہونا، سگنلز کی کمی، انٹرنیٹ کی انتہائی سست رفتار اور کال ڈراپس جیسے مسائل نمایاں ہیں۔ اسلام آباد کے ایک صارف کے مطابق کئی علاقوں میں جاز کے سگنلز مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر نیٹ ورکس نسبتاً بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاز کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں صارفین اسے بدترین سروس فراہم کرنے والی کمپنی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ نہ کالز درست طریقے سے ملتی ہیں، نہ انٹرنیٹ قابلِ استعمال رہتا ہے اور نہ ہی کسٹمر کیئر تک رسائی ممکن ہوتی ہے۔

    ٹرسٹ پائلٹ جیسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی جاز کی ریٹنگ محض ایک اسٹار تک محدود ہے، جہاں صارفین نے غیر مجاز سبسکرپشنز اور بیلنس چوری کی متعدد شکایات درج کر رکھی ہیں۔ ریڈٹ پر ایک صارف نے انکشاف کیا کہ اس کے نمبر پر بغیر اجازت ایک سروس ایکٹیو کی گئی اور بیلنس کاٹ لیا گیا۔ یہ شکایات صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ دیہی علاقوں سے بھی نیٹ ورک کی خراب صورتحال کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اوپن سگنل کی فروری 2025 کی رپورٹ کے مطابق جاز نے نومبر 2024 میں اپنا 3G نیٹ ورک بند کیا، جو “4G فار آل” منصوبے کا حصہ تھا، تاہم اس فیصلے کے بعد سروس میں بہتری کے بجائے صارفین کے مسائل میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    سروس کے معیار میں گراوٹ کے ساتھ ساتھ جاز کے پیکیجز کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے صارفین کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ دسمبر 2025 تک ویکلی فریڈم پیکیج کی قیمت ٹیکس سمیت 565 روپے تک پہنچ چکی ہے، جس میں 50 جی بی ڈیٹا، 1000 جاز منٹس، 300 دیگر نیٹ ورک منٹس اور 1000 ایس ایم ایس شامل ہیں۔ بعض ذرائع میں اس قیمت کو 547 روپے بھی بتایا گیا ہے، تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ یہی پیکیج چند برس قبل کہیں کم قیمت پر زیادہ ڈیٹا کے ساتھ دستیاب تھا۔ ایک صارف کے مطابق جاز کا ہفتہ وار پیکیج جو ابتدا میں 200 روپے میں 12 جی بی دیتا فراہم کرتا تھا، اب 350 روپے میں صرف 6 جی بی تک محدود ہو چکا ہے۔

    آڈٹ جنرل آف پاکستان کی 2024-25 کی رپورٹ میں ایک تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق جاز نے مالی سال 2023-24 کے دوران صارفین سے پی ٹی اے کی منظور شدہ قیمتوں سے زائد 6.58 ارب روپے وصول کیے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اضافی وصولی 9 مختلف پیکیجز میں کی گئی، جن میں ہفتہ وار اور ماہانہ بنڈلز شامل تھے۔ مثال کے طور پر ایک پیکیج جس کی منظور شدہ قیمت 955 روپے تھی، اسے 1043 روپے میں فروخت کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے اس عمل کو کھلی لوٹ مار قرار دیتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

    غیر مجاز کٹوتیوں کے حوالے سے بھی صارفین کی شکایات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ ان کے اکاؤنٹس سے بیلنس خودبخود کٹ جاتا ہے، جبکہ انہیں کسی قسم کی سروس ایکٹیویشن کا علم تک نہیں ہوتا۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے اس نوعیت کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس کے بعد بعض صارفین نے جاز کے بائیکاٹ کی بھی اپیلیں شروع کر دی ہیں۔

    اس تمام صورتحال میں پی ٹی اے کا کردار بھی تنقید کی زد میں ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ریگولیٹری ادارہ کمپنیوں کی مبینہ لوٹ مار کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ اگرچہ پی ٹی اے نے 2025 میں سروس کے معیار پر جاز پر 30 ملین روپے جرمانہ عائد کیا اور کوالٹی آف سروس سروے کے ذریعے بہتری کی ہدایات جاری کیں، تاہم قیمتوں میں اضافے کو آپریٹرز کی بڑھتی لاگت کے تناظر میں جائز قرار دیا گیا۔ سینیٹ پینل نے 2024 میں ٹیلی کام پیکیجز میں 19 فیصد اضافے پر سوالات ضرور اٹھائے، مگر اس کے باوجود کوئی ٹھوس اور فیصلہ کن اقدام سامنے نہیں آ سکا۔ جاز نے بھی اوورچارجنگ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام قیمتوں میں اضافہ پی ٹی اے کی منظوری سے کیا گیا۔

    مجموعی طور پر جاز نیٹ ورک کی گرتی ہوئی سروس، بڑھتے ہوئے نرخ اور غیر مجاز کٹوتیوں نے صارفین کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ ریگولیٹری اداروں کی کمزور نگرانی عوامی بے چینی میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ اگر اداروں میں مؤثر چیک اینڈ بیلنس اور جواب طلبی کا نظام موجود ہوتا تو شاید صارفین کو اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ حکومت اور متعلقہ ریگولیٹرز کو فوری اور عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے ٹیلی کام کمپنیوں کو قواعد و ضوابط کا پابند بنانا ہوگا، قیمتوں پر مؤثر کنٹرول اور سروس کے معیار میں بہتری کو یقینی بنانا ہوگا، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے اور صارفین کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔

  • نمود و نمائش کی شکست پنجاب میں گڈ گورننس کا نیا باب،تحریر:قمرشہزاد مغل

    نمود و نمائش کی شکست پنجاب میں گڈ گورننس کا نیا باب،تحریر:قمرشہزاد مغل

    وہ جو مردوں کے بھی بس کا کام نہ تھا
    وہ معجزہ ایک بیٹی نے کر دکھایا ہے

    پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جو کام دہائیوں کی حکمرانی میں نہ ہو سکے وہ ایک بیٹی نے بطور پہلی خاتون وزیر اعلیٰ محض قلیل وقت میں کر دکھائے۔ مریم نواز شریف نے ثابت کر دیا کہ حکمرانی کے لیے صرف اختیار نہیں، بلکہ عوامی دکھوں کو محسوس کرنے والا حساس دل اور فولادی عزم درکار ہوتا ہے۔ پاکستان کی معاشرتی تاریخ میں کچھ فیصلے محض انتظامی نوعیت کے نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک پورے عہد کی اصلاح کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی حکمران عوام کے دلوں میں گھر کرتے ہیں جو معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھنا جانتے ہوں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے شادی بیاہ کی تقریبات میں ون ڈش قانون کا غیر متزلزل نفاذ محض ایک انتظامی حکم نامہ نہیں، بلکہ ایک عہد ساز اصلاح ہے جس نے پنجاب میں نمود و نمائش کے فرسودہ بتوں کو پاش پاش کر دیا ہے۔ یہ قدم گڈ گورننس کی ایک ایسی روشن مثال ہے جس نے عام آدمی کو اسراف اور نمود و نمائش کی اَن دیکھی زنجیروں سے آزاد کیا ہے جسے برسوں یاد رکھا جائے گا۔ حالیہ ہفتوں میں شادیوں کی متعدد تقاریب کے مشاہدات ہوئے جہاں پہلے دسترخوانوں پر اسراف کی دوڑ اور دکھاوے کا مقابلہ نظر آتا تھا، وہاں اب ایک خوشگوار نظم و ضبط اور سادگی کا راج ہے۔ میزبانوں کے چہروں پر وہ مالی بوجھ اور ذہنی دباؤ مفقود تھا جو عام طور پر لوگ کیا کہیں گے کے خوف سے پیدا ہوتا ہے۔ مریم نواز کی حکومت نے اس قانون پر سختی سے عمل کرا کے ثابت کر دیا ہے کہ جہاں ریاست کی نیت صاف ہو، وہاں معاشرتی تبدیلی محض خواب نہیں رہتی بلکہ حقیقت بن کر ابھرتی ہے۔

    یہ پنجاب حکومت کا تاریخی احسن اقدام ہے کہ اس نے عام آدمی کو اس معاشرتی کینسر سے نجات دلائی جس میں خوشی کے لمحات قرض اور پچھتاووں میں بدل جاتے تھے۔ قانون کی اس کامیابی نے عوام میں یہ اعتماد بحال کیا ہے کہ مریم نواز کی قیادت میں ریاست اب کمزور اور متوسط طبقے کی ڈھال بن کر کھڑی ہے۔ مگر اس تابناک تصویر کا ایک پہلو تشویشناک بھی ہے۔ پنجاب میں قانون کی گرفت مضبوط ہوئی تو صاحبِ ثروت طبقے نے اسلام آباد اور اس کے گردونواح کے پوش فارم ہاؤسز کو پناہ گاہ بنا لیا۔ پنجاب کی حدود سے نکلتے ہی سادگی کا وہ سفر تعطل کا شکار ہو جاتا ہے، جو کہ وفاقی انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت مریم نواز کے اس پنجاب ماڈل کو اپنائے اور اسلام آباد میں بھی اسی آہنی عزم کے ساتھ ون ڈش نافذ کرے۔ وقت کی پکار ہے کہ جوابدہی کے اس دائرے کو مزید وسیع اور کڑا کیا جائے۔ قانون کی خلاف ورزی پر صرف ہال مالکان ہی نہیں، بلکہ اس علاقے کی انتظامیہ اور فیلڈ اسٹاف کو بھی کٹہرے میں لایا جائے۔ جب تک سہولت کاری کرنے والے سرکاری کارندوں کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا جائے گا، تب تک قانون سے فرار کے راستے مکمل بند نہیں ہوں گے۔ ماضی کے حکمرانوں کے پاس وسائل بھی تھے اور وقت بھی، مگر جس ویژن اور سرعت کے ساتھ مریم نواز نے پنجاب کی انتظامی مشینری کو متحرک کیا، اس کی نظیر پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ ون ڈش قانون کا بلا امتیاز نفاذ ہو یا عام آدمی کی دہلیز تک ریلیف کی فراہمی، انہوں نے ہر شعبے میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ایک خاتون کا وزیر اعلیٰ بننا محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔ وہ مریم نواز ہی ہیں جنہوں نے روایت شکنی کرتے ہوئے دکھاوے کی سیاست کو دفن کیا اور گڈ گورننس کو ایک ایسا معیار بخشا جس تک پہنچنا اب آنے والے ہر حکمران کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

    بلاشبہ، وہ کام جو مردوں کے بڑے بڑے برج نہ کر سکے، وہ اس باہمت خاتون نے قلیل وقت میں کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ مریم نواز کا یہ سماجی وژن دراصل نئی نسل کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے اور شادی جیسے پاکیزہ بندھن کو آسان بنانے کی ایک مخلصانہ جدوجہد ہے۔ پنجاب نے ایک شاندار مثال قائم کر دی ہے، اب گیند وفاق کے اسکورٹ میں ہے کہ وہ کس طرح اس گڈ گورننس کو پورے ملک کا مقدر بناتا ہے۔ بلاشبہ، یہ ایک ایسا اقدام ہے جس پر پنجاب حکومت اور مریم نواز کی ٹیم ہر سطح پر تحسین کی مستحق ہے۔

    شعر
    مٹ جائے گی اک روز یہ دیوارِ تکبر
    سادگی ہی بنے گی پھر شعارِ زندگی

  • دوستی، انسان سے انسان تک کا خاموش سفر.تحریر:جان محمد رمضان

    دوستی، انسان سے انسان تک کا خاموش سفر.تحریر:جان محمد رمضان

    دوستی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہوتی۔ نہ یہ چہروں کی کشش پر رکتی ہے، نہ عمروں کے فرق پر ٹھہرتی ہے، اور نہ ہی دولت و غربت کے ترازو میں تولی جا سکتی ہے۔ یہ وہ تعلق ہے جو نظر سے پہلے دل میں اترتا ہے اور لفظوں سے پہلے احساس میں بولتا ہے۔ دوستی دراصل انسان کے اندر موجود انسانیت کو پہچان لینے کا نام ہے۔اس معاشرے میں جہاں اکثر رشتے فائدے اور ضرورت کے سہارے پنپتے ہیں، وہاں دوستی ایک ایسا نازک مگر سچا جذبہ ہے جو کسی شرط کے بغیر قبول کر لیا جاتا ہے۔ یہاں نہ لباس کی قیمت پوچھی جاتی ہے، نہ گھر کی وسعت دیکھی جاتی ہے۔ بس سامنے والے کا رویہ، اس کی نیت اور اس کا اخلاق ہی سب کچھ کہہ جاتا ہے۔ شائستگی وہ پہلا دروازہ ہے جس سے گزرے بغیر کوئی بھی دوستی کے صحن میں داخل نہیں ہو سکتا۔

    دیانتداری دوستی کی وہ بنیاد ہے جو نظر نہیں آتی مگر پوری عمارت کو سنبھالے رکھتی ہے۔ جھوٹ کے سہارے قائم ہونے والا تعلق وقتی ہو سکتا ہے، مگر دیرپا نہیں۔ سچا دوست وہ ہوتا ہے جو مشکل بات بھی سچ کے ساتھ کہہ دے، مگر انداز ایسا رکھے کہ سامنے والا ٹوٹنے کے بجائے سنبھل جائے۔ یہی دیانت رشتے کو مضبوط بناتی ہے اور اعتماد کو وقت کے تھپیڑوں سے محفوظ رکھتی ہے۔خلوص دوستی کی روح ہے۔ یہ وہ خاموش کیفیت ہے جو کسی دکھاوے کی محتاج نہیں۔ خلوص نہ بلند آواز میں بولتا ہے، نہ تعریف کا طالب ہوتا ہے۔ یہ بس موجود رہتا ہے ہر حال میں، ہر موڑ پر۔ خلوص ہی وہ قوت ہے جو دو اجنبی دلوں کو آہستہ آہستہ ایک دوسرے کا مانوس بنا دیتی ہے۔ جہاں خلوص نہ ہو، وہاں قربت بھی بے معنی لگتی ہے۔باہمی احترام کے بغیر کوئی بھی تعلق زیادہ دیر سانس نہیں لے سکتا۔ احترام وہ حد ہے جو دوستی کو بگاڑ سے بچاتی ہے۔ اختلاف رائے ہو سکتا ہے، مگر لہجے کی شائستگی، سوچ کی وسعت اور دل کی نرمی رشتے کو سلامت رکھتی ہے۔ سچا دوست وہ نہیں جو ہر بات پر متفق ہو، بلکہ وہ ہے جو اختلاف کے باوجود عزت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔

    دوستی میں عمر کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ کبھی کوئی ہم سے بہت بڑا ہو کر بھی ہمارے دل کی بات سمجھ لیتا ہے، اور کبھی ہم سے چھوٹا ہو کر بھی ہمیں جینے کا ہنر سکھا دیتا ہے۔ تجربہ اور معصومیت جب ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں تو دوستی کا رنگ اور گہرا ہو جاتا ہے۔ یہاں سیکھنے اور سکھانے کا سلسلہ خاموشی سے چلتا رہتا ہے۔اسی طرح دولت کی کمی یا فراوانی بھی دوستی کی راہ میں حائل نہیں ہوتی۔ امیر کا خلوص غریب کے خلوص سے کم یا زیادہ نہیں ہوتا۔ اصل فرق نیت کا ہے۔ وہ دوست جو خالی جیب کے ساتھ بھی مسکرا کر ساتھ بیٹھ جائے، اس سے قیمتی کوئی دولت نہیں۔ کیونکہ دوستی سکوں سے نہیں، سکون سے خریدی جاتی ہے۔سچی دوستی میں مقابلہ نہیں ہوتا، ساتھ چلنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ وہاں کامیابی پر حسد نہیں، بلکہ دل سے نکلنے والی خوشی ہوتی ہے۔ وہاں ناکامی پر طعنے نہیں، بلکہ سہارا ہوتا ہے۔ ایک اچھا دوست وہ سایہ ہے جو دھوپ میں لمبا اور اندھیرے میں قریب ہو جاتا ہے۔

    یہ رشتہ وقت کے ساتھ بدلتا ضرور ہے، مگر ختم نہیں ہوتا۔ کبھی باتیں کم ہو جاتی ہیں، کبھی ملاقاتیں، مگر دل کا رشتہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ خاموشی بھی اگر اعتماد سے بھری ہو تو دوستی کا حسن بڑھا دیتی ہے۔ دوستی کسی معیار، کسی شکل، کسی حیثیت کی پابند نہیں۔ یہ بس ایک احساس ہےصاف، سچا اور بے لوث۔ اگر شائستگی، دیانتداری، خلوص اور احترام موجود ہوں تو دوستی خود راستہ بنا لیتی ہے۔ کیونکہ اصل میں دوستی انسان کو انسان سے جوڑنے کا سب سے خوبصورت ذریعہ ہے۔

  • سپہ سالار کی پیشانی پر اقتدار کا غرور نہیں بلکہ ذمہ داری کا نور

    سپہ سالار کی پیشانی پر اقتدار کا غرور نہیں بلکہ ذمہ داری کا نور

    تاریخ کچھ ناموں کو صرف صفحات پر نہیں لکھتی،وہ انہیں قوم کے شعور میں نقش کر دیتی ہے۔چیف آف ڈیفنس فورسز،فیلڈ مارشل ،چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر انہی ناموں میں سے ایک ہیں،وہ نام جو خاموشی میں گونجتا ہے،اور وقار میں بولتا ہے،وہ سپہ سالار جن کی پیشانی پر اقتدار کا غرور نہیں،بلکہ ذمہ داری کا نور جھلکتا ہے۔جن کی نگاہ میں وقتی شہرت نہیں،بلکہ صدیوں پر محیط ریاستی بقا کا خواب ہے۔ جنرل سید عاصم منیر ،ایک ایسا نام جو خاموشی، ضبط اور ریاستی ذمہ داری کے بھاری مفہوم کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ان کی قیادت میں وردی صرف طاقت کی علامت نہیں رہی، بلکہ قانون، آئین اور قومی وقار کی پاسدار بن کر ابھری ہے،معرکۂ حق ان کے عہد میں ایک مسلسل جدوجہد کی علامت ہے،حق کے بیانیے کا دفاع، ریاست کی رِٹ کی بحالی، اور اس اصول کا اعادہ کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ یہ معرکہ بندوق کی گھن گرج سے زیادہ عزم کی خاموش گونج میں سنائی دیتا ہے۔

    بھارت کے ساتھ معاملات میں، جذباتیت کے بجائے وقار اور مضبوط مؤقف ان کی شناخت رہا۔ اشتعال کے جواب میں اشتعال نہیں، بلکہ دلیل، تیاری اور دفاعی صلاحیت کے واضح پیغام نے یہ باور کرایا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر کمزور نہیں۔ یہی وہ “منہ توڑ جواب” ہے جو زبان سے نہیں، ریاستی سنجیدگی سے دیا جاتا ہے۔بھارت نےپہلگام ڈرامے کے بعد آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا تو پاکستان نے معرکہ حق میں وہ جواب دیا کہ بھارت ابھی تک عالمی دنیا میں رسوا ہو رہا ہے،اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کی کامیابیوں کی گونج ،فتح کے نغمے امریکی صدر ٹرمپ بھی ایک دو نہیں کئی بار گا چکے ہیں،جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے دنیا کو یہ سبق دیا کہاصل جواب نعرے نہیں ہوتے،اصل جواب تیاری، تدبر اور ناقابلِ تسخیر دفاع ہوتا ہے۔دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرامن کی بات کرناصرف طاقتور ہی جانتا ہے،اور یہ ہنر انہیں خوب آتا ہے۔

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی حکمتِ عملی فولاد کی مانند مضبوط اور نیت آئین کی طرح شفاف رہی،یہی وجہ ہے کہ خاک و خون میں لتھڑی سرزمین دوبارہ امن کی خوشبو سے مہکنے لگی۔یہ کامیابیاں خاموش ہیں،مگر ان کی گونج ہر محفوظ گھر میں سنائی دیتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فیلڈ مارشل،چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر کا کردار تسلسل اور ادارہ جاتی مضبوطی کا مظہر ہے۔ انٹیلی جنس کی بہتری، سرحدی نظم و نسق، اور ریاستی اداروں کے باہمی ربط نے اس ناسور کے خلاف نمایاں کامیابیاں ممکن بنائیں۔عالمی سطح پر، پاکستان کی آواز ان کے عہد میں متوازن اور باوقار انداز میں سنی گئی۔ مختلف عالمی رہنماؤں اور عسکری و سفارتی حلقوں سے ملاقاتوں میں پاکستان کے مؤقف کو نہ صرف سنا گیا بلکہ سمجھا بھی گیا چاہے وہ علاقائی سلامتی ہو، انسدادِ دہشت گردی میں تعاون ہو یا عالمی استحکام کی گفتگو،امریکی صدر سے ملاقاتیں ہوں، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ،تمام کامیابیوں کا سہرا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سر جاتا ہے

    جنرل سید عاصم منیر کی قیادت کا خلاصہ ایک جملے میں کیا جا سکتا ہے،طاقت میں تحمل، مؤقف میں وضاحت، اور عمل میں آئینی شعور،یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی سپہ سالار کو تاریخ میں جگہ دلاتے ہیں اور قوم کو اعتماد عطا کرتے ہیں۔جنرل سید عاصم منیر صرف ایک فوجی سربراہ نہیں وہ ایک نظریہ ہیں،ریاست ماں ہوتی ہے،
    اور ماں کی حفاظت عبادت،ان کی قیادت میں وردی خوف کی علامت نہیں،تحفظ کی علامت بنی،طاقت دھمکی نہیں،تحمل بن گئی اور یہی وجہ ہے کہ جب تاریخ پاکستان کے مشکل ادوار کو لکھے گی تو ایک باب خاموش وقار،
    ناقابلِ شکست عزم اور جنرل سید عاصم منیر کے نام ہوگا۔جنرل سید عاصم منیر وہ سپہ سالارجو نہ نعرہ بیچتا ہے،نہ شہرت مانگتا ہے،بس ریاست کا بوجھاپنے کندھوں پر اٹھا کرخاموشی سے چلتا رہتا ہے۔اور قوم ان کے پیچھے
    سر اٹھا کر کھڑی ہے۔کیونکہ جب وردی میں ایسا عزم ہو،تو پرچم خود بخود بلند ہو جاتا ہے۔

  • دو روزہ تر بیتی کارگاہ بعنوان، رموز و اوقاف ،تحریر:  عنبرین فاطمہ

    دو روزہ تر بیتی کارگاہ بعنوان، رموز و اوقاف ،تحریر: عنبرین فاطمہ

    زیرِ اہتمام تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس، بانی و سرپرست محترمہ عمارہ کنول چودھری ، دو روزہ تربیتی نشست کے سلسلے میں پہلی نشست بعنوان رموز و اوقاف مورخہ 25 دسمبر، 2025 بروز جمعرات شب 8 بجے بذریعہ صوتی پیغام منعقد ہوئی۔

    علم و ادب سے لبریز اس تربیتی کارگاہ کی میزبانی و تربیت کی ذمہ داری محترمہ سدرہ تنولی نے انجام دی۔ نشست کا باضابطہ آغاز مادام سدرہ تنولی کے پرخلوص سلام اور تعارف سے ہوا۔ آپ کا تعلق خیبر پختونخوا کے خوبصورت شہر مانسہرہ سے ہے۔ ادبی دنیا میں آپ کا سفر متنوع قابل قدر ہے۔ آپ نہ صرف کہانی نویس، افسانہ نگار، کالم نگار اور تبصرہ نگار ہیں، بلکہ "لوحِ ادب اکادمی” کے نام سے ایک ادبی ادارہ بھی کامیابی سے چلا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ ملکی اور بین الاقوامی سطح کے مختلف علمی و ادبی اداروں سے منسلک ہیں۔

    تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام نشست کا آغاز محترمہ سدرہ تنولی نے رموزِ اوقاف کے تعارف و اہمیت بتاتے ہوۓ کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جیسے بول چال میں آواز کا زیر و بم اور توقف جذبات کا اظہار کرتے ہیں، ویسے ہی تحریر میں رموزِ اوقاف معانی کی وضاحت اور ربط پیدا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ انگریزی میں انہیں(Punctuation )کہتے ہیں۔ محترمہ سدرہ تنولی صاحبہ نے موضوع کو نہایت سلیقے سے بیان کیا، جس سے سامعین کو رموزِ اوقاف کی اہمیت کا بخوبی ادراک ہوا۔ انہوں نے نہ صرف ان علامات کی وضاحت کی بلکہ ان کے عملی استعمال پر بھی مفصل گفتگو کی۔

    انہوں نے بتایا کہ ” سکتہ” (،) کا استعمال جملے میں چھوٹے مرکبات یا الفاظ کے درمیان وقفے کے لیے کیا جاتا ہے، جبکہ "ختمہ” (۔) جملے کے اختتام پر استعمال ہوتا ہے تاکہ مفہوم مکمل طور پر واضح ہو جائے۔ "سوالیہ نشان” (؟) سوالات پر مبنی جملوں میں استعمال ہوتا ہے، جو قاری کو جملے کی نوعیت سے آگاہ کرتا ہے۔علامتِ استجابیہ (!) جسے ندائیہ یا استجابیہ بھی کہا جاتا ہے، جذبات جیسے خوشی، غم، حیرت یا تعجب کے اظہار کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

    "علامتِ تفصیل” (:)کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ علامت کسی بات کی وضاحت یا اس کی تفصیل پیش کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، اور قاری کو ذہنی طور پر تیار کرتی ہے کہ آگے کچھ وضاحتی نکات آئیں گے۔

    "واوین” (” ") کے بارے میں بتایا کہ یہ اقتباس یا کسی خاص جملے کو نمایاں کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ "قوسین” ([ ]) ضمنی بات یا وضاحتی مواد کے اضافے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    انہوں نے بڑی بصیرت سے واضح کیا کہ اگر رموزِ اوقاف کو ان کے مقررہ اصول و ضوابط کے مطابق استعمال نہ کیا جائے، تو نہ صرف جملے کا حسن متاثر ہوتا ہے بلکہ مفہوم میں بھی ابہام اور غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔

    نشست کے اختتام پر شرکاء نے محترمہ سدرہ تنولی سے مختلف سوالات کیے جن کے جوابات انہوں نے نہایت دلنشین، مدلل اور مؤثر انداز میں دیے۔

    یہ علمی نشست تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام منعقدہ دو روزہ تربیتی کارگاہ کا پہلا دن تھا،جو اختتام پذیر ہوا۔

    بطورِ طالب علم و نو آموز لکھاری، میرے لیے یہ نشست بے حد معلوماتی اور فائدہ مند ثابت ہوئی۔ رموزِ اوقاف کے استعمال کی اہمیت اور باریکیوں کو جان کر مجھے یقین ہو گیا کہ تحریر کی تاثیر انہی چھوٹی چھوٹی علامتوں سے وابستہ ہے۔ تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس اسی طرح کی تعلیمی، ادبی اور تہذیبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھے تاکہ ہماری زبان، ثقافت اور فکری ورثے کو مزید تقویت حاصل ہو۔

  • قومیں تقریروں سے نہیں ہنر مند ہاتھوں سے بنتی ہیں،تحریر:رقیہ غزل

    قومیں تقریروں سے نہیں ہنر مند ہاتھوں سے بنتی ہیں،تحریر:رقیہ غزل

    قوموں کی ترقی محض قدرتی وسائل، جغرافیائی محلِ وقوع یا آبادی کی کثرت سے مشروط نہیں ہوتی بلکہ اصل قوت انسانی سرمایہ ہوتا ہے۔ دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن ممالک نے اپنی افرادی قوت کو تعلیم، مہارت اور پیشہ ورانہ تربیت سے آراستہ کیا، وہی ترقی کی دوڑ میں آگے نکلے۔ چین، جاپان، سنگاپور اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود اپنے عوام کو ہنرمند بنا کر عالمی معیشت میں نمایاں مقام حاصل کیا۔چین کی معاشی ترقی کا آغاز اس وقت ہوا جب وہاں کی قیادت نے یہ ادراک کر لیا کہ اگر آبادی کو بوجھ بننے سے بچانا ہے تو اسے زراعت، صنعت اور ٹیکنالوجی سے جوڑنا ہوگا۔ تعلیم کو محض ڈگری تک محدود رکھنے کی بجائے فنی تربیت کو قومی ترجیح بنایا گیا۔ کرپشن کے خلاف سخت قوانین نافذ کیے گئے، بدعنوانی کو ناقابلِ معافی جرم قرار دیا گیا اور نتیجتاً عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ آج چین دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک بن چکا ہے اور عالمی معیشت میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔اسی طرح جاپان کی ترقی بھی کسی معجزے کا نتیجہ نہیں بلکہ علم و ہنر کے امتزاج کا ثمر ہے۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ جاپانی ماہرین نے صدیوں قبل چین سے فنی مہارتیں سیکھیں اور بعد ازاں مغربی ٹیکنالوجی کو اپنے ہنر سے ہم آہنگ کیا۔ یہی حکمتِ عملی جاپان کو جدید صنعتی ریاست بنانے کا سبب بنی۔بدقسمتی سے پاکستان، جسے اللہ تعالیٰ نے قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور اسٹریٹجک محلِ وقوع جیسی بے شمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے، آج بھی معاشی بدحالی اور بیروزگاری کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ ہماری تعلیمی پالیسیاں زیادہ تر نظریاتی اور کتابی حد تک محدود ہیں، جن کا عملی زندگی سے براہِ راست تعلق کمزور ہے۔ نتیجتاً ہر سال لاکھوں نوجوان ڈگریاں حاصل کر کے روزگار کی تلاش میں در بدر پھرتے ہیں، جبکہ مارکیٹ کو درحقیقت ہنرمند افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ حکومت اتنی ملازمتیں پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی جتنے گریجویٹس تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کا واحد راستہ ووکیشنل اور ٹیکنیکل ایجوکیشن ہے، جو نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت میں عملی کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی ہنر سیکھنے کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے، حالانکہ ترقی یافتہ ممالک میں فنی تعلیم کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔


    تاہم اس گھپ اندھیرے میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو شکوہ نہیں کرتے بلکہ عمل سے چراغ جلاتے ہیں۔چند روز قبل صحافیوں کے ایک وفد کو ایک ایسے آفاقی وژن کے حامل شخص کے منصوبے دیکھنے کا موقع ملا۔وفد کی قیادت صحافیوں کی ایک تنظیم(ساک)کے جنرل سیکیرٹری ضمیر آفاقی نے کی اورلیفٹیننٹ کمانڈر راشد محمود (ر)پاکستان نیوی بھی ہمارے ساتھ تھے جو کہ سوشل میڈیا انٹلیکچوئل انفلوئنسر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی تنظیم (کاسب) کے پلیٹ فارم سے ملت کے مقدر کے ستارے بھی تراش رہے ہیں کیونکہ ان کا پختہ یقین ہے کہ ہنر مند ہاتھو ں سے مقدر بدلا جا سکتا ہے درحقیقت ایسے ہی ہنر مند ہاتھوں کی جستجو اور قدر افزائی کے لیے دانشوروں کا یہ قافلہ نکلا تھا تاکہ قوم کے اصل اثاثوں کو سامنے لایا جا سکے۔

    پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ نے ریٹائرمنٹ کے بعد بیرونِ ملک آرام دہ زندگی اختیار کرنے کے بجائے اپنے وطن کے پسماندہ طبقات کی خدمت کو مقصدِ حیات بنایا۔ شیخوپورہ کے نواحی علاقے مہموں والی میں دو سرکاری اسکولوں کو اڈاپٹ کر کے انہوں نے جو سفر شروع کیا، وہ آج ایک قومی ماڈل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ان اسکولوں میں نہ صرف تعلیمی معیار نمایاں طور پر بہتر ہوا بلکہ ان کے ساتھ قائم ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز نے نوجوانوں کو باعزت روزگار کے قابل بنا دیا۔

    شیخوپورہ کے ایک گاؤں سے شروع ہونے والا یہ سفرمعاون فاؤنڈیشن کے زیر انتظام آج ملک کے مختلف حصوں میں پھیل چکا ہے۔ یہاں بچے صرف کتابیں نہیں پڑھتے، بلکہ زندگی جینے کا ہنر سیکھتے ہیں۔ یہاں بچیاں صرف تعلیم حاصل نہیں کرتیں بلکہ خودمختار بننے کی تیاری کرتی ہیں۔ یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات تقریباًاسی فیصد تک نجی شعبے میں باعزت روزگارحاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ مزید برآں“اخوت”کے تعاون سے بلاسود قرضوں کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ نوجوان اپنا روزگار خود شروع کر سکیں۔وفاقی و صوبائی تعلیمی محکموں، نجی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے اشتراک سے چلنے والے یہ منصوبے اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ اگر نیت درست ہو تو پسماندگی کو شکست دی جا سکتی ہے۔یہ ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز دراصل ان نوجوانوں کے لیے نئی زندگی کا دروازہ ہیں جو حالات کے ہاتھوں تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ سلائی مشین سے کمپیوٹر لیب تک، کلاس روم سے ورکشاپ تک ہر جگہ ایک ہی پیغام ہے کہ ہنر عزت دیتا ہے، خودداری سکھاتا ہے۔


    یہ ادارے خاص طور پر ان بچوں اور بچیوں کے لیے امید کا سہارا ہیں جو غربت، گھریلو ذمہ داریوں یا وسائل کی کمی کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر کوجزو لازم بنایا گیا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اس وقت اس نیٹ ورک کے تحت ملک بھر میں تقریباً تین سوسے زائد تعلیمی و ووکیشنل ادارے کام کر رہے ہیں، جہاں سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نجی شعبے میں روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ان اداروں کی ایک نمایاں خصوصیت طالبات کی بڑی تعداد ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ماحول محفوظ اور شفاف ہو تو والدین اپنی بچیوں کو تعلیم اور ہنر حاصل کرنے سے نہیں روکتے۔ مزید برآں، بلاسود قرضوں اور نجی و سرکاری اداروں کے تعاون نے اس ماڈل کو مزید مؤثر بنا دیا ہے۔یہ تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کو اگر معاشی خودمختاری اور سماجی استحکام درکار ہے تو اسے تعلیم کے ساتھ پیشہ ورانہ تربیت کو قومی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔

    ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ کے منصوبے اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ درست سمت، مخلص قیادت اور عملی اقدامات سے قومی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ان اداروں سے نکلنے والے نوجوان جب اپنے خاندان کا سہارا بنتے ہیں تو اصل ترقی کی تصویر سامنے آتی ہے۔بلاشبہ ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ کے تعلیمی و تربیتی منصوبے پاکستان کے لیے روشنی کے مینارہیں جو حکمرانوں کو واضح پیغام دے رہے ہیں کہ پیشہ ورانہ تربیت سے ہی قومی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔یہ منصوبے ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ قوموں کا مستقبل تقریروں، سوالوں اور موازنوں میں نہیں بلکہ ہنر مند ہاتھوں، باعمل ذہنوں اور مخلص قیادت میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ یہی وہ ماڈل ہے جو بتاتا ہے کہ اگر نیت درست ہو تو وسائل خود راستہ بنا لیتے ہیں۔شاید یہی وہ چراغ ہیں جن کی روشنی ایک دن پورے معاشرے کو منور کرے گی۔اب سوال یہ نہیں کہ پاکستان چین یا جاپان بن سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب اپنی صلاحیتوں پر یقین کر کے ہنر مند پاکستان کی بنیاد رکھیں گے۔کیونکہ قومیں تقریروں سے نہیں ہنر مند ہاتھوں سے بنتی ہیں۔

    رقیہ غزل
    رقیہ غزل
  • مریم نواز کا مُکا اور عمران خان کا زہر،تحریر : علی ابن ِسلامت

    مریم نواز کا مُکا اور عمران خان کا زہر،تحریر : علی ابن ِسلامت

    ظاہر ہے کہ زبان کی کوئی ہڈی نہیں ہوتی، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اس پر کوئی پابندی نہیں ہوتی۔یہ کہاوت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہماری زبان ایک طاقتور ہتھیار ہے اور اسے غلط استعمال کرکے ہم کسی کو بہت تکلیف پہنچا سکتے ہیں۔سیاست میں اس وقت تکلیف نہیں بلکہ مخالفین سیاسی قتل کی سازشوں میں مصروف ہیں، آج 26 دسمبر 2025 ہے جب سہیل آفریدی کی لاہور آمد اور دن ہے ، ایک جانب تحریک انصاف کی سٹریٹ موومنٹ کی تیاری تو دوسری جانب مذاکرات کی خواہش اپنی قیادت کو بھی پریشان کیے ہوئے ہیں۔۔ اطلاعات کے مطابق رات کو لاہور سے پولیس نے پی ٹی آئی کے 600 سے زائد سرگرم کارکنان کو حراست میں لیا ،پولیس نے سٹی کینٹ صدر اور ماڈل ٹاون ڈویژن سے متعدد افراد کو حراست میں لیا، وجہ یہ کہ تحریک انصاف کی ریلی تھی، ۔ آخر سہیل آفریدی کے پنجاب یا لاہور آنے پر پابندی کیوں ، رکاوٹیں کیوں ہیں؟ مستقبل میں یہ معاملہ بہت آگے تک جائے گا۔

    مریم نواز نے 2019 میں ایک مبینہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک یہ اعتراف کر رہے تھے کہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا مگر دباؤ میں فیصلہ سنایا گیا، اس ویڈیو کو جاری کرنے کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ نواز شریف کا کیس سیاسی بنیادوں پر تھا، حالانکہ اس کی صداقت پر بہت سوال اٹھائے گئے تھے اور جج نے بعد میں اس ویڈیو کو جعلی قرار دیا تھا، تب مریم نواز نے سب سے بڑی اور اہم پریس کانفرنس کر کے مکا لہرا کر دعوہ کیا تھا کہ اور بھی بہت ساری وڈیوز موجود ہیں اگر کسی نے ہوشیاری کی کوشش کی تو بہت ساری چیزیں سامنے لاؤں گی، اسی طرح مریم نواز پر نیب دفتر پر حملے کا الزام بھی تھا۔نواز شریف پر گوجرانوالہ جلسہ میں آرمی کے خلاف تنقید کا تذکرہ بھی قابل ذکر ہے۔

    یہ سب چیزیں شاید ملکی سیاست یا کسی بھی پارٹی کے سیاسی سٹرکچر کیلئے فائدہ مند نہیں تھیں، پھر ایک معاملہ عسکری اداروں پر سیاسی الزامات کا بھی تھا، ملک میں تین سیاسی جماعتیں سب سے زیادہ وقت مختلف ادوار میں مختلف صوبوں میں رہی، سب ہی ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر آئے اور انہی کو بدنام کیا، کبھی ووٹ کو عزت دو کا نعرہ تو کبھی انصاف کی دعویدار سیاسی جماعت نے ٹویٹر ٹرینڈز چلائے، معاملہ کہیں کا بھی سیاسی لوگوں نے اسٹیبلشمنٹ سے جوڑ دیا، پہلے آرمی کو اپنی ذاتی مفاد کیلئے سیاست میں شامل کیا، سب سیاسی جماعتوں نے مداخلت کی اجازت دی پھر ملکی مفاد تک جانا پڑا تو سیاسی لوگ ذاتی دشمنی میں اداروں کو روندتے چلے گئے۔

    مریم نواز نے اداروں کو دھمکیاں دیں کہ مجھے انصاف چاہیے، پھر انہی نے حکومت میں آ کر قانون میں بھی تبدیلیاں کیں،شہباز شریف کی پہلی حکومت ، پی ڈی ایم دور میں چھبیسویں آئینی ترمیم تو پھر 2025 میں 27ویں آئینی ترمیم، کیا ہوا کیسے ہوا ؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں سب جانتے ہیں، عمران خان جنرل باجوہ کی وہ تعریفیں کی کہ لگنے لگا تھا کہ جنرل باجوہ ہی دنیا میں عقل ودانش کے مالک ہیں، پھر وہ وقت بھی آیا کہ جنرل باجوہ جو عمران خان کی نظر میں سب سے بڑا محب وطن تھا کپتان نے اس کو میر جعفر اور میر صادق کی صفوں میں کھڑا کر دیا، آخر وہ زہر جو سوشل میڈیا کے ذریعے سے جینزی یا سوشل میڈیا تک پہنچا وہ ہر طالب علم اور عمران خان کے شیدائی کے ذہن میں زہر بن کر پھیل چکا ہے۔اگر عمران خان کہے کہ مجھے باجوہ کا آئیڈیا نہیں تھا تو نوجوان نسل جو آج باشعور بنی ہوئی ہیں ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ عمران خان جب اقتدار میں آیا تو 26 سال سیاسی تجربہ کا دعوی کرتا تھا، اہم سوال یہ ہے کہ اگر آج نوجوان یہ سمجھتا ہے کہ اداروں کی مداخلت ہے تو عمران خان جو سیاست میں رِہ چکا تھا، مشرف کے خلاف تحریک چلا چکا تھا، جیل جا چکا تھا، اس کو علم کیوں نہیں تھا، اگر اسکو 26 سال میں پتہ نہیں چلا تھا تو پھر خود جس میں شعور کی کمی تھی وہ کیا شعور دے سکتا تھا، عمران خان کا ساتھ دینے والے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی اصلیت کا ہمیں علم نہیں تھا تو پھر وہ کتنے باخبر ہو سکتے ہیں؟

    آج پی ٹی آئی ورکر کو لیگی کارکن قبول نہیں، پی ٹی آئی ، پیپلز پارٹی اور لیگی قیادت ذاتی محفلوں میں بہترین تعلقات رکھتے ہیں وہ زندگی کو لطف اندوز بناتے ہیں مگر عوام کو بیوہ قوف بنایا جاتا ہے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ عمران خان نے جو زہر مقتدر حلقوں کے خلاف عوام تک پہنچایا وہ ایسے سرایت کر چکا ہے کہ اب اس کو توڑ نظر نہیں ا ٓ رہا، ظاہر ہے کہ اس کو خود آج پی ٹی آئی اور عمران خان بھی افورڈ نہیں کر سکتے ، سیاست میں تشدد ا ٓ چکا ہے، وہ زہر جو سب سیاستدانوں نے تقسیم کیا آج اس زہر کا اثر تمام کی جان لے چکا ہے، نظام کو بوسیدہ کرتے کرتے نظام دین نے سب سیاسی جماعتوں کی جمہوری سوچ کا خاتمہ کر دیا ہے، اپنی سیاست کے لیے ملکی معیشت کو تباہ کیا، عمران خان نے وہ وہ زبان استعمال کی کہ آج زبان بندی ہو چکی ہے،عمران خان جانتے تھے کہ کبھی کبھی، سخت الفاظ کسی جسمانی چوٹ سے زیادہ تکلیف پہنچا سکتے ہیں، لیکن مزاہمت سے ہیرو بننے سے قاصر رہے، جھوٹ کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کیا، کبھی امریکی سازش تو کبھی سائفر کا لہرانا، کبھی جنرل باجوہ پر ایکسٹینشن کا الزام تو کبھی امریکی غلامی نا منظور کا دعوی، قطع نظر کہ باجوہ ایکسٹینشن چاہتا ہو گا، لیکن غلامی خود بھی کرتے رہے ، امریکہ سے امیدیں لگائیں، ٹرینڈز چلائے گئے، اس جھوٹی سیاست نے ملک پر گہڑا اثر ڈالا، ن لیگ میں بھی ذاتی انا اچھے سیاستدان کھا گئی، لہذا جھوٹ بولنے سے ہم نہ صرف دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اپنی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

    خلاصہ یہ ہے کہ ہماری زبان ایک قیمتی تحفہ ہے اور اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ جو زہر عمران خان نے پھیلایا تھا آج اس کی زد میں خود بھی آ چکے ہیں، جو مزاہمت کو سیاست کا اصل چہرہ سمجھ بیٹھے ہیں وہ ملک کو پیچھے لے جا چکے ہیں لیکن آج بھی یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آ رہی، سب سیاسی جماعتیں اگر اپنے گریبان میں نظر جھکائیں تو شاید سیاست سے تشدد کا خاتمہ ممکن ہو جائے ، جو زہر پی ٹی آئی سوشل میڈیا اور چند ڈالر خور یوٹیوبرز نے دوسروں کی جان لینے کیلئے پھیلایا تھا آج وہ ان کو سانسیں بھی بند کر چکا ہے، کہتے ہیں کہ پاپولیرٹی انسان کو پاگل کر دیتی ہے ، کون پاپولیرٹی کے چکر میں پاگل ہوا یہ سب جانتے ہیں۔اب سیاسی ورکرز جان لیں کہ ماضی میں نہ عمران خان کا پھیلایا ہوا زہر کام آیا اور نہ مریم نواز کا لہرایا ہوا مُکا کام آیا۔لہذا ملک میں جو حالات پیدا کر دئیے گئے اس کو دیکھتے ہوئے مذاہمت نہیں بلکہ مفاہمت کو اپنا شعار بنا لینا چاہیے کیونکہ اب سب لالچی سیاست دان جمہوری روایات، عقل و فہم، فکری سوچ، اخلاقیات، اور نوجوانوں کا مستقبل کھا گئے ہیں ۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورۂ پاکستان انتہائی اہم،تجزیہ:شہزادقریشی

    متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورۂ پاکستان انتہائی اہم،تجزیہ:شہزادقریشی

    متحدہ عرب امارات کے صدر کا پاکستان کا دورہ محض رسمی نہیں بلکہ اسٹریٹجک نوعیت کا حامل ہوگا، اور اس کے اثرات قلیل المدت کے ساتھ ساتھ طویل المدت بھی نظر آ سکتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات جذبات، تاریخ اور مفادات تینوں کی بنیاد پر استوار ہیں۔ خلیج میں مقیم لاکھوں پاکستانی، ترسیلاتِ زر، دفاعی تعاون اور سرمایہ کاری یہ سب اس رشتے کو غیر معمولی وزن دیتے ہیں۔ امکان یہی ہے کہ اس دورے میں سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر، بندرگاہوں اور زراعت جیسے شعبے زیرِ بحث آئیں گے۔ پاکستان اس وقت معاشی استحکام کی جس جدوجہد سے گزر رہا ہے، اس میں یو اے ای کی براہِ راست سرمایہ کاری اور مالی تعاون نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاسی اعتماد کی بحالی یہ دورہ عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام ہوگا کہ پاکستان سفارتی طور پر تنہا نہیں۔ یو اے ای جیسے مضبوط اور مستحکم ملک کا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا خطے میں پاکستان کے سیاسی وزن کو تقویت دے گا۔

    علاقائی اور عالمی تناظر مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال، توانائی کی سیاست اور عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیاں ان سب میں پاکستان اور یو اے ای کا قریبی مشاورت میں آنا وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ دفاعی و سلامتی تعاون اگرچہ یہ پہلو زیادہ نمایاں نہیں کیا جاتا، مگر پسِ پردہ دفاعی تعاون، تربیت اور سلامتی کے امور بھی اس دورے کے ایجنڈے کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ اگر اس دورے کو محض بیانات اور تصویروں تک محدود نہ رکھا گیا، بلکہ ٹھوس معاہدات اور عملی پیش رفت سامنے آئی، تو یہ پاکستان کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اصل کامیابی کا پیمانہ یہی ہوگا کہ دورے کے بعد عوام کو معاشی بہتری اور ریاست کو سفارتی مضبوطی کی صورت میں کیا حاصل ہوتا ہے۔یہ دورہ امکانات سے بھرپور ہے اب یہ پاکستانی پالیسی سازوں کی سنجیدگی اور عملدرآمد پر منحصر ہے کہ ان امکانات کو حقیقت میں کیسے بدلا جاتا ہے۔

  • بے زبانوں کا جرم کیا ہے،تحریر:ملک سلمان

    بے زبانوں کا جرم کیا ہے،تحریر:ملک سلمان

    معصوم، بے زبان و بے گھر کتوں کو مارنے کی باتیں سن کر دل شدید دکھی ہے۔ پورے پاکستان میں کتا کاٹنے کے واقعات کی تعداد محض تین سے چار ہے۔ معصوم کتوں کو مورود الزام ٹھہرانے سے پہلے سوچیے کہ ہم نے ان بے زبانوں کو سوائے نفرت کے دیا ہی کیا ہے؟

    ُگاؤں سے لیکر شہر تک ہر جگہ ان کو دیکھتے ہی دھتکار کر بھگا دیا جاتا ہے حتیٰ کہ بلاوجہ پتھر مار کر یا چھڑی کے ساتھ پیٹا جاتا ہے کہ بھاگو یہاں سے، جب آپ بے زبانوں کو بلاوجہ پتھر مارو گے تو جواب میں خیر کی امید کیونکر رکھنی۔آپ نے کسی بے گھر کتے یا بلی کو آخری دفعہ روٹی کا ٹکڑا کب دیا، کبھی پرندوں کیلئے گھر کی چھت یا باغیچے میں دانہ یا پانی رکھا؟ کل سے نہیں آج سے ہی تجربہ کرکے دیکھ لیجئے گھر کے باہر گھومتے کسی کتے یا بلی کو روٹی یا گوشت کا ایک ٹکڑا دیجئے وہ فوری طور پر آپ کو پلکیں جھپک کر یا دم ہلا کر شکریہ ادا کرے گا جبکہ آسمان کی طرف نظر اٹھا کہ رزق کی فراہمی کیلئے اللہ کا شکر ادا کرتا نظر آئے گا۔

    یورپین ممالک کی اکثریت جبکہ بہت سارے اسلامی ممالک میں بھی جنگلات، سڑک کنارے اور فٹ پاتھ پر لکڑی کے چھوٹے چھوٹے باکس رکھے ہوتے ہیں کہ کتے اور بلیاں موسمی شدت سے بچ سکیں جبکہ "فوڈ شئیرنگ ود اینمل” تو عام رویہ ہے۔بچپن میں ہم بہن بھائیوں نے صبح ناشتے میں امی سے دو روٹیاں لینی ایک خود کھانی جبکہ ایک کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے پرندوں کوڈال دینے۔امی نے گھر کی چھت پر مٹی کے کونڈوں میں گندم، باجرہ اور پانی بھر کر رکھ دینا کہ پرندے کھائیں گے۔بچن میں ایک دفعہ سکول جاتے ہوئے راستے میں دیکھا کہ ایک کتا گندگی کے ڈھیر سے کھانے کیلئے کچھ تلاش کر رہا تھا میں نے لنچ بکس والا کھانا اسے دے دیا،کھانا کھا کر اس نے جس طرح سے آسمان کی طرف دیکھا وہ منظر دیدنی تھا کہ یہ ایک روٹی کیلئے بھی فوری اللہ کا شکر ادا کر رہا ہے۔

    تب سے آج تک عادت ہے کہ میں ڈبل روٹی اور بسکٹ ساتھ رکھ لیتا ہوں جہاں بھی کتا بلی یا جانور بھوکا لگے اسے کھلا دیتا ہوں۔ پریمیئم، سگنیچر اور infinte کارڈ پر مختلف بیکری شاپ پر 50فیصد تک ڈسکاؤنٹ مل جاتا ہے، اپنی استطاعت کے مطابق ڈسکاؤنٹڈ اشیاء لے کر ان بےزبان جانوروں میں تقسیم کر کے جو دلی تسکین ملتی ہے اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

    انسانیت صرف انسانوں کے ساتھ اچھے سلوک کا نام نہیں بلکہ اصل انسانیت یہی ہے کہ آپ اپنے ارد گرد تمام جانداروں کاخیال رکھیں خاص طور پر بے زبان پرندوں اور جانوروں کا، انہیں بھی بھوک لگتی ہے، انہیں ناصرف کھانا دیجئے بلکہ سردی کی شدت اور گرمی کی حدت سے بچانے کیلئے بھی جتنا ہوسکے ضرور کوشش کریں۔ بے زبان جانوروں پر پتھر برسانے، تشدد کرنے اور انکو زہر دیکر مارنے کی بجائے انہیں روٹی یا گوشت کا ایک ٹکڑا دے دیں۔ جس کتے کو آپ نے کبھی ایک ٹکڑا روٹی بھی دی ہوگی وہ کبھی پلٹ کر آپکو نہیں کاٹے گا۔ ان بے زبان اور معصوم جانور کو نفرت اور زخم نہیں محبت اور پیٹ بھرنے کیلئے کھانا دیجئے۔ فریش کھانا نہیں دے سکتے تو کم از کم مہمانوں کا بچا ہوا کھانا ہی ڈال دیا کریں۔

    یہ جانور نہ صرف معصوم اور پیارے ہیں بلکہ اس زمین کیلئے ضروری بھی ہیں انہیں ختم کرکے ماحولیاتی آلودگی کو مزید سنگین اور خطرناک حد تک نہ لیکر جائیں۔حکومت اور سرکاری انتظامی مشینری کو چاہئے کہ ان بے گھر کتوں کو زہر نہیں ویکسینشن کریں تاکہ یہ بھی معاشرے کا پرامن اور خوبصورت کردار بن کر زندگی گزار سکیں۔ یورپ میں کتے گھر کے فرد بھی ہیں اور معاشرے کا کارآمد کردار بھی جہاں یہ سکیورٹی سے لیکر بچوں کوانسانی شکل والے حیوانوں سے بچا کر باحفاظت سکول ڈراپ کرنے تک کا کام کرتے ہیں۔حضرت عمر کا کہنا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک پیاس سے مرگیا تو اللہ کو حساب دینا ہوگا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ایک بہت گنہگار خاتون کو اللہ نے اس بات پر معاف کر دیا کہ اس نے اپنے موزے کی مدد سے کنویں سے پانی نکال کر پیاسے کتے کو دیا ۔

    بے زبان و بے گھر جانوروں کے تحفظ کے لیے ڈی آئی جی اپریشن لاہور فیصل کامران انتہائی قابل تعریف و تقلید کردار ادا کر رہے ہیں ۔ لاہور پولیس کے زیر انتظام پولیس اینیمل ریسکیو سینٹر میں زخمی کتے اور بلیوں کے لیے بہترین علاج معالجہ اور کھانےکی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ہم اپنے پالتو کتوں ہسکی، جرمن شیفرڈ اور گولڈن ریٹریور پر ماہانہ پچاس ہزار سے دولاکھ تک خرچ لیتے ہیں لیکن گلیوں بازاروں میں گھومنے والے ان بے گھروں کوایک وقت کی روٹی بھی نہیں دے سکتے۔وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں خاص طور پر انتہائی درد دل رکھنے والی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے گزارش ہے کہ میڈم خدارا ان بے زبان و بے گھر مخلوق کا سہارا بنیں، ان کیلئے ووڈن ہوم، ویکسینیشن، ویٹنری ہسپتال، اینیمل ریسکیو سینٹر اور معیاری خوارک کی فراہمی کا انتظام کرکے پنجاب کو بین الاقوامی سطح پر مثبت تشخص کے ساتھ متعارف کروائیے۔