Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ایٹمی پاکستان سے فاتح پاکستان،قوم بنیان مرصوص،تحریر:نور فاطمہ

    ایٹمی پاکستان سے فاتح پاکستان،قوم بنیان مرصوص،تحریر:نور فاطمہ

    مئی کی نرم دھوپ جب وطنِ عزیز کی فضاؤں پر اترتی ہے تو یہ صرف موسم کی تبدیلی نہیں لاتی، بلکہ یہ یاد دلاتی ہے اُس عظیم لمحے کی جب اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دفاعی قوت، حوصلے اور ناقابلِ تسخیر استقامت کی وہ نعمت عطا کی جس پر پوری قوم سربسجود ہے۔ یہ مہینہ ایمان، اتحاد اور قربانی کی داستان ہے،ایک ایسی داستان جس میں قوم نے مل کر اپنے وجود کا دفاع کیا اور سرخرو ٹھہری۔یہ وہی مہینہ ہے جس کی یادوں میں آپریشن بنیان مرصوص کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ایک ایسا مرحلہ جہاں پاکستان کی مسلح افواج نے نہ صرف دشمن کے عزائم کو خاک میں ملایا بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیا کہ یہ سرزمین صرف جغرافیہ نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہے اور نظریے کا دفاع ہمیشہ جانوں سے کیا جاتا ہے۔

    ناقابلِ تسخیر دفاع ، اللہ کی عطا، قوم کا فخر،مئی میں ہی پاکستان ایٹمی پاکستان بنا اور مئی میں ہی جب بھارت نے پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت کی تو پاکستان نے ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ دنیا دنگ رہ گئی،آٹھ دہائیوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جو دفاعی قوت عطا کی، وہ کسی ایک ادارے یا حکومت کی کامیابی نہیں، بلکہ یہ پوری قوم کے ایمان، قربانیوں اور اتحاد کا ثمر ہے۔ میدانِ جنگ میں فتح صرف ہتھیاروں سے نہیں ملتی، بلکہ وہ دلوں کے یقین، نیت کی سچائی اور اللہ کی نصرت سے حاصل ہوتی ہے۔پاکستان کی مسلح افواج،خصوصاً بری، بحری اور فضائیہ نے جس پیشہ ورانہ مہارت، حکمتِ عملی اور جرات کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ کے سنہرے اوراق میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ دشمن کی ہر چال ناکام ہوئی اور ہر وار بے اثر ثابت ہوا۔جب بات دفاعِ وطن کی ہو تو پاک فضائیہ کے شاہینوں کا ذکر کیے بغیر یہ داستان مکمل نہیں ہوتی۔ یہ وہ جانباز ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر فضاؤں میں دشمن کو للکارا اور اپنی مہارت سے دنیا کو حیران کر دیا۔جدید فضائی جنگ کے اس دور میں، جب ٹیکنالوجی اور مہارت کا امتحان ہوتا ہے، پاک فضائیہ نے دشمن کے جدید ترین طیاروں کو بھی ناکام بنایا۔ خاص طور پر دشمن کے جدید رافیل طیارہ کو گرانا نہ صرف ایک عسکری کامیابی تھی بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی تھا کہ پاکستان کے شاہین صرف پرواز ہی نہیں کرتے، بلکہ فتح کے پرچم بھی لہراتے ہیں۔

    پاکستان کی عسکری میدان میں یہ کامیابی ایک پیغام ہے کہ جب ایمان، مہارت اور حب الوطنی ایک ہو جائیں تو کوئی طاقت ناقابلِ شکست نہیں رہتی۔ہر فتح کے پیچھے کچھ ایسے نام ہوتے ہیں جو تاریخ کے صفحات پر سنہری حروف میں لکھے جاتے ہیں۔ وہ شہداء جنہوں نے وطن کی مٹی پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، درحقیقت وہی اس فتح کے اصل معمار ہیں۔ ان کی قربانیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ آزادی اور سلامتی کی قیمت ہمیشہ بلند ہوتی ہے۔ان شہداء کو سلام پیش کرنا محض الفاظ نہیں، بلکہ ایک عہد ہے کہ ہم ان کے مشن کو جاری رکھیں گے اور اس وطن کے دفاع میں کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    آپریشن بنیان مرصوص،معرکہ حق،یہ فتح ہمیں ایک اور اہم سبق بھی دیتی ہے،جب قوم ایک ہو جائے، جب اختلافات پسِ پشت ڈال دیے جائیں، جب نفرت کی دیواریں گر جائیں تب ہی اصل کامیابی حاصل ہوتی ہے۔اس عظیم کامیابی کو صرف جشن تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے اتحاد، شعور اور نظریاتی مضبوطی میں ڈھالا جائے۔یہ دن صرف خوشی منانے کے نہیں، بلکہ تجدیدِ عہد کے ہیں۔یہ وقت ہے کہ ہم اللہ کا شکر ادا کریں، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور اس نظریے کو مضبوط کریں جس کی بنیاد پر پاکستان قائم ہوا تھا۔میڈیا، تعلیمی ادارے اور معاشرے کے تمام طبقات پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قوم میں شعور بیدار کریں، نوجوانوں میں جذبۂ حب الوطنی کو فروغ دیں اور اس پیغام کو عام کریں کہ "ہم متحد بھی ہیں، ہم فاتح بھی ہیں اور ہمارا مستقبل بھی ہمارا ہے۔”

    مئی کا مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی مدد ہمیشہ ان قوموں کے ساتھ ہوتی ہے جو اپنے مقصد پر قائم رہتی ہیں۔یہ فتح کسی ایک جماعت یا ادارے کی نہیں، بلکہ پوری قوم کی فتح ہے۔آئیے! اس عشرۂ فتح میں ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم اپنے اختلافات کو بھلا کر ایک قوم بنیں گے،ہم اپنے نظریے کا تحفظ کریں گے،اور ہم دفاعِ پاکستان کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہیں گے،کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں نہ صرف حال میں کامیاب بنائے گا بلکہ مستقبل میں بھی سرخرو کرے گا۔

  • خوف سے سکون تک،تحریر: اقصیٰ جبار

    خوف سے سکون تک،تحریر: اقصیٰ جبار

    انسان کا المیہ یہ ہے کہ وہ حال کے خیمے میں بیٹھ کر مستقبل کے سرابوں کا پیچھا کرتا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ایک ایسا معمار ہے جو اپنی زندگی کی عمارت کو مستقبل کے نامعلوم گوشوں میں محفوظ کرنا چاہتا ہے۔ اس عمل میں ہم اتنے محو ہو جاتے ہیں کہ اس ’لمحے‘ کی مٹھاس سے محروم ہو جاتے ہیں، جو حقیقت میں ہماری زندگی کا واحد حقیقی اثاثہ ہے۔ ہم سب ایک ایسی دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں جس کا اختتام کہیں نہیں ہے، اور اس دوڑ میں ہم اپنی خوشیوں، اپنے سکون، اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو دھیرے دھیرے قربان کرتے جا رہے ہیں۔
    آج کے تیز رفتار دور میں، ہم نے ’منصوبہ بندی‘ اور ’اضطراب‘ کے درمیان فرق مٹا دیا ہے۔ مستقبل کا خوف، دراصل ان واقعات کا خوف ہے جو ابھی وقوع پذیر ہی نہیں ہوئے۔ ہم ان اندیشوں میں گھلے جاتے ہیں جو شاید کبھی حقیقت کا روپ دھاریں ہی نہیں۔ ہم اپنی توانائی کا ایک بڑا حصہ ان خدشات پر صرف کر دیتے ہیں جو ہمارے کل کے بارے میں ہوتے ہیں۔ ہم اپنی پڑھائی، اپنے کیریئر، اپنے امتحانات، اور اپنی سماجی حیثیت کو لے کر اس قدر فکرمند رہتے ہیں کہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم ’زندہ‘ بھی ہیں۔ یہ فکر، جو ایک حد تک تو اصلاحی ہو سکتی ہے، جب حد سے بڑھ جائے تو ایک بیماری بن جاتی ہے جسے ہم ’مستقبل کا خوف‘ کہتے ہیں۔

    ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم نے کامیابی کو ’مستقبل کا ایک جزیرہ‘ بنا دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سکون تب ملے گا جب ہم ڈگری مکمل کر لیں گے، جب ہمیں ملازمت مل جائے گی، جب ہم کسی بڑے عہدے تک پہنچ جائیں گے۔ اس سوچ کے تحت ہم اپنی موجودہ زمین پر قدم جمانا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم ایک ایسی انتظار گاہ میں بیٹھے ہیں جہاں ہم زندگی شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ زندگی کوئی منزل نہیں، یہ تو وہ راستہ ہے جس پر ہم اس وقت چل رہے ہیں۔ اگر ہم راستے کے مناظر سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے، تو منزل پر پہنچ کر بھی ہمیں وہ سکون نہیں ملے گا جس کی ہمیں تلاش ہے۔

    ہم اکثر سوچتے ہیں کہ کیا ہم کل کے امتحان میں کامیاب ہو پائیں گے؟ کیا ہم اپنی ذمہ داریاں نبھا پائیں گے؟ کیا ہمارا مستقبل محفوظ ہے؟ یہ سوالات فطری ہیں، مگر جب یہ سوالات ہمارے دماغ پر سوار ہو جائیں، تو یہ حال کی کارکردگی کو متاثر کرنے لگتے ہیں۔ ایک طالب علم جو سی ایس ایس (CSS) یا کسی بھی مشکل امتحان کی تیاری کر رہا ہو، وہ اگر ہر وقت ناکامی کے خوف میں مبتلا رہے گا، تو وہ اپنی تیاری پر پوری توجہ نہیں دے پائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مستقبل کا حد سے زیادہ خوف، ہمارے حال کو بھی برباد کر رہا ہے۔

    حال میں جینے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم مستقبل کی منصوبہ بندی نہ کریں یا اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کریں۔ منصوبہ بندی کرنا دانشمندی ہے، مگر اس میں ڈوب جانا حماقت ہے۔ حال میں جینے کا مطلب ہے کہ ہم اپنی پوری توجہ، اپنی پوری توانائی اور اپنے تمام تر حواس کو اپنے موجودہ کام پر مرکوز کریں۔ جب ہم فکرِ فردا سے آزاد ہو کر اپنے کام میں ڈوب جاتے ہیں، تو ہمارا کام نہ صرف زیادہ معیاری ہوتا ہے بلکہ ہمارا ذہنی سکون بھی برقرار رہتا ہے۔
    ایک مشہور قول ہے کہ ’’جو گزر گیا وہ خواب تھا، جو آنے والا ہے وہ خیال ہے، اصل میں وہی ہے جو تیرے سامنے، تیرے حال میں ہے۔‘‘

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارا دماغ ایک وقت میں ایک ہی چیز پر توجہ دے سکتا ہے۔ اگر ہمارا دماغ کل کی فکروں میں الجھا ہوا ہے، تو ہم آج کے کام کو کیسے مکمل کر سکتے ہیں؟ یہ ہماری زندگی کی سب سے بڑی تضاد ہے۔ ہم آج کو کل کے لیے قربان کر رہے ہیں، اور پھر کل جب آئے گا تو وہ بھی تو ’آج‘ ہی بن جائے گا۔ تب ہم پھر کسی اور ’کل‘ کی فکر میں مبتلا ہوں گے۔ اس طرح ہماری پوری زندگی ایک ایسی لکیر بن کر رہ جاتی ہے جس میں صرف بھاگ دوڑ ہے اور ٹھہر کر سانس لینے کا کوئی وقفہ نہیں۔

    حال کے سکون کو پانے کے لیے ہمیں ’شکر گزاری‘ (Gratitude) کے فلسفے کو اپنانا ہوگا۔ جب ہم ان چیزوں پر غور کرتے ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں، تو ہمارا ذہن خود بخود سکون کی حالت میں آ جاتا ہے۔ ہم اکثر ان چیزوں کے بارے میں سوچ کر دکھی ہوتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہیں یا جن کے چھن جانے کا ہمیں ڈر ہے۔ یہ فکر ہمیں ناشکرا بناتی ہے۔ حال میں جینے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحات کی قدر کریں۔ ایک کپ چائے کی چسکی، کسی عزیز سے کی گئی گفتگو، یا کوئی کتاب پڑھتے ہوئے ملنے والی خوشی—یہ وہ چھوٹے چھوٹے لمحات ہیں جو ہماری زندگی کو روشن بناتے ہیں۔

    نفسیاتی طور پر دیکھیں تو مستقبل کا خوف انسان کو ’مستقبل بین‘ (Visionary) نہیں، بلکہ ’مستقبل زدہ‘ (Future-Anxious) بنا دیتا ہے۔ ایک صاحبِ قلم کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ جو وقت آپ کے ہاتھ میں ہے، وہ ایک امانت ہے۔ اسے مستقبل کے غیر یقینی خدوخال کو سنوارنے کی فکر میں ضائع کرنا، وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے گراف کو دیکھیں۔ کیا ہم صرف پریشانیوں کا گراف بنا رہے ہیں یا ہم سکون اور اطمینان کے پل بھی تعمیر کر رہے ہیں؟
    توازن کا فلسفہ ہی زندگی کا حسن ہے۔ ہمیں ایک ویژن تو رکھنا چاہیے، مستقبل کے خواب بھی دیکھنے چاہئیں، لیکن ان خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے جو محنت درکار ہے، اسے موجودہ لمحے میں ادا کرنا چاہیے۔ جب آپ آج کا کام خلوص اور ایمانداری سے کرتے ہیں، تو آپ کا کل خود بخود سنور جاتا ہے۔ آپ کا آج، آپ کے کل کی بنیاد ہے۔ اگر آپ کی آج کی اینٹیں مضبوط ہوں گی، تو کل کی دیواریں خود بخود مستحکم ہوں گی۔

    آئیے، آج سے ایک عہد کریں۔ ہم کل کے اندیشوں کو اللہ پر چھوڑ دیں گے۔ ہم منصوبہ بندی کریں گے، ہم محنت کریں گے، لیکن نتائج کے خوف کو اپنی ذات پر حاوی نہیں ہونے دیں گے۔ جب ہم کسی کام کو عبادت کی طرح کرتے ہیں، تو نتیجہ خود بخود بہتری کی صورت میں نکلتا ہے۔ اور اگر نتیجہ ہماری توقع کے مطابق نہ بھی ہو، تو بھی ہم اس اطمینان کے ساتھ جی سکتے ہیں کہ ہم نے اپنا آج پوری دیانتداری سے گزارا ہے۔
    یاد رکھیے، زندگی گزر جانے کا نام نہیں، بلکہ پھلنے پھولنے کا نام ہے۔ مستقبل کا خوف ایک سراب ہے، اور اس سراب سے بچنے کا واحد راستہ، حال میں اپنے قدموں کو مضبوطی سے جمانا ہے۔ آیئے، کل کے نامعلوم اندیشوں کو ایک طرف رکھ کر آج کے سورج کو خوش آمدید کہیں۔ اپنی محنت کو اپنا مقصد بنائیں، مگر نتائج کی فکر کو اپنی ذات کا حصہ نہ بنائیں۔ کیونکہ جب آپ کا ’حال‘ پرسکون اور مستحکم ہوتا ہے، تو آپ کا ’مستقبل‘ خود بخود ایک محفوظ سمت کا تعین کر لیتا ہے۔

    اب ہمیں فردا کے خواب دیکھنے سے زیادہ حال کے چراغ جلانے کی ضرورت ہے۔ زندگی کے ہر لمحے میں ایک ایسی روشنی پوشیدہ ہے جسے ہم کل کی فکر میں دھندلا دیتے ہیں۔ اپنے ذہن کو اس غیر ضروری بوجھ سے آزاد کریں، گہری سانس لیں اور ارد گرد کی دنیا کو دیکھیں، جہاں ہزاروں امکانات آپ کے منتظر ہیں۔ یاد رکھیں، آپ کی زندگی کا اصل رقبہ وہی ہے جو اس وقت آپ کے قدموں تلے ہے۔ اسے خوف کی دھول سے نہیں، اطمینان کے پھولوں سے مہکائیں۔ کیونکہ یہی آج ہے، جو کل کی تاریخ بنے گا۔

  • بحیرہ عرب میں  پاکستان نیوی کا کامیاب ریسکیو آپریشن،تحریر:جان محمد رمضان

    بحیرہ عرب میں پاکستان نیوی کا کامیاب ریسکیو آپریشن،تحریر:جان محمد رمضان

    بحیرہ عرب میں پیش آنے والی ایک ہنگامی صورتحال نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان نیوی نہ صرف دفاعی محاذ پر مستعد ہے بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے بھی ہر وقت تیار رہتی ہے۔ ایک مال بردار جہاز MV GAUTAM، جو عمان سے بھارت کی جانب رواں دواں تھا، دورانِ سفر اچانک تکنیکی خرابی کا شکار ہو کر کھلے سمندر میں پھنس گیا۔ ایسے حالات میں فوری ردعمل نہ ہو تو یہ صورتحال سنگین حادثے کی شکل اختیار کر سکتی تھی۔جیسے ہی جہاز کی جانب سے ہنگامی کال موصول ہوئی، پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے بغیر کسی تاخیر کے اپنے جہاز PMSA Ship KASHMIR کو جائے وقوعہ کی جانب روانہ کیا۔ ریسکیو ٹیم نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم سے کم وقت میں متاثرہ جہاز تک رسائی حاصل کی اور صورتحال کا مکمل جائزہ لیا۔

    متاثرہ جہاز پر کل 7 افراد سوار تھے، جن میں 6 بھارتی اور ایک انڈونیشی شہری شامل تھا۔ ریسکیو آپریشن کے دوران تمام افراد کو بروقت خوراک، ابتدائی طبی امداد اور ضروری تکنیکی معاونت فراہم کی گئی۔ اس فوری امداد نے نہ صرف عملے کی جانوں کو محفوظ بنایا بلکہ ممکنہ بڑے حادثے کو بھی ٹال دیا۔پاکستان نیوی کی ٹیم نے صرف انسانی امداد تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ جہاز کے ضروری نظام کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے۔ تکنیکی خرابی کو دور کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ جہاز اور اس کے عملے کی مکمل حفاظت کو یقینی بنایا گیا، جو اس آپریشن کی کامیابی کا اہم پہلو ہے۔

    یہ کامیاب ریسکیو آپریشن پاکستان کی بحری صلاحیتوں، پیشہ ورانہ مہارت اور انسانی ہمدردی کا واضح ثبوت ہے۔ کھلے سمندر میں اس نوعیت کے واقعات میں بروقت کارروائی نہ ہو تو انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان نیوی نے نہ صرف اس خطرے کو ختم کیا بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنی عالمی ساکھ کو بھی مضبوط کیا۔اس واقعے کی خاص بات یہ بھی ہے کہ امداد حاصل کرنے والے افراد مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے، لیکن پاکستان نیوی نے کسی تفریق کے بغیر انسانیت کی بنیاد پر ان کی مدد کی۔ یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سمندری قوانین اور انسانی اقدار کے تحت پاکستان ہر مشکل گھڑی میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا ہے۔یہ ریسکیو آپریشن اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان نیوی ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ پیشہ ورانہ مہارت، بروقت فیصلہ سازی اور انسانی ہمدردی کا امتزاج ہی وہ خصوصیات ہیں جو پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار بحری قوت کے طور پر نمایاں کرتی ہیں۔

    پاکستان نیوی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف ملکی سمندری حدود کی محافظ ہے بلکہ عالمی سطح پر انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے بھی ایک قابلِ اعتماد ادارہ ہے۔

  • پاکستان کا ابھرتا وقار اور داخلی تضادات ایک دوہرا بیانیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کا ابھرتا وقار اور داخلی تضادات ایک دوہرا بیانیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی وقار بمقابلہ داخلی اسکینڈلز پاکستان کے امیج کو دوہرا چیلنج

    سفارتی کامیابیاں یا گورننس کا بحران؟ غیر قانونی تعمیرات نے سوالات کھڑے کر دیے

    وقار کی تعمیر، اعتماد کی شکست بااثر شخصیات اور غیر قانونی فلیٹس کا تنازع

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان کا ابھرتا وقار اور داخلی تضادات ایک دوہرا بیانیہ
    بین الاقوامی سیاست میں کسی بھی ریاست کی ساکھ محض سفارتی کامیابیوں سے نہیں بلکہ داخلی طرزِ حکمرانی، شفافیت اور قانون کی بالادستی سے تشکیل پاتی ہے۔ حالیہ عرصے میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی اور دفاعی حکمتِ عملی کے ذریعے ایک فعال اور ذمہ دار ریاست کا تاثر دینے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ وزارتِ خارجہ، عسکری قیادت اور دیگر ریاستی اداروں کی مربوط کاوشوں نے عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، خاص طور پر علاقائی کشیدگیوں میں ثالثی اور توازن کی پالیسی نے اسے ایک ذمہ دار اسٹیک ہولڈر کے طور پر پیش کیا۔

    تاہم اسی مثبت بیانیے کے ساتھ ایک متوازی اور تشویشناک حقیقت بھی ابھر کر سامنے آئی ہے غیر قانونی تعمیرات اور مبینہ طور پر بااثر شخصیات کی ان میں شمولیت۔ اربوں روپے مالیت کے فلیٹس اور ان میں اعلیٰ شخصیات کی سرمایہ کاری کے انکشافات نے نہ صرف عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی بلکہ عالمی مالیاتی اداروں اور قرض دہندگان کے لیے بھی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ یہ تضاد پاکستان کے امیج کے لیے ایک بنیادی چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ ایک طرف ریاست خود کو شفافیت، قانون کی حکمرانی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے علمبردار کے طور پر پیش کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف داخلی سطح پر ایسے اسکینڈلز اس بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ بین الاقوامی سرمایہ کار اور مالیاتی ادارے صرف معاشی اعداد و شمار نہیں دیکھتے بلکہ گورننس، احتساب اور ادارہ جاتی شفافیت کو بھی بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ ایسے اسکینڈلز داخلی سطح پر بھی خطرناک اثرات مرتب کرتے ہیں۔ عام شہری، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے، جب دیکھتا ہے کہ طاقتور طبقے قانون سے بالاتر نظر آتے ہیں، تو ریاستی نظام پر اس کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ یہ عدم اعتماد طویل المدتی طور پر سماجی استحکام اور ریاستی رٹ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کے اثرات کم اہم نہیں۔ جب ایک ملک بیک وقت مثبت سفارتی کردار اور داخلی بدعنوانی کے الزامات کا حامل ہو، تو عالمی بیانیہ غیر یقینی کا شکار ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً، وہ سفارتی کامیابیاں جو بڑی محنت سے حاصل کی جاتی ہیں، ایسے تنازعات کی وجہ سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال کا حل محض تردید یا وقتی بیانیے میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں پوشیدہ ہے۔ شفاف تحقیقات، بلاامتیاز احتساب، اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف واضح کارروائی نہ صرف داخلی اعتماد بحال کر سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مثبت پیغام دے سکتی ہے کہ پاکستان اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنے اور درست کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    آخرکار ریاست کی اصل طاقت اس کے اداروں کی کارکردگی اور اس کی قیادت کی دیانت داری میں ہوتی ہے۔ اگر پاکستان اپنے داخلی تضادات کو مؤثر انداز میں حل کر لیتا ہے، تو اس کی سفارتی کامیابیاں نہ صرف برقرار رہیں گی بلکہ مزید مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکیں گی۔

  • فتح ٹو بمقابلہ Pinaka اور Pralay: جنوبی ایشیا میں پریسژن اسٹرائیک کی بدلتی ہوئی حرکیات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    فتح ٹو بمقابلہ Pinaka اور Pralay: جنوبی ایشیا میں پریسژن اسٹرائیک کی بدلتی ہوئی حرکیات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    پاکستان کی جانب سے حالیہ کامیاب تجربہ، FATEH-II گائیڈڈ میزائل کا، جنوبی ایشیا میں روایتی ڈیٹرنس (deterrence) میں ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اپنی بڑھائی گئی رینج، اعلیٰ درستی (precision) اور maneuverability کے باعث یہ نظام روایتی توپ خانے سے نکل کر پریسژن ڈیپ اسٹرائیک صلاحیت کی جانب ایک واضح نظریاتی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، جو خطے کے عسکری توازن کو نئی شکل دے رہا ہے۔

    FATEH-II: پاکستان کی پریسژن ڈیپ اسٹرائیک صلاحیت

    FATEH-II ایک جدید گائیڈڈ راکٹ سسٹم ہے جس کی رینج تقریباً 400 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے، جو اسے quasi-theatre strike ہتھیاروں کے زمرے میں شامل کرتی ہے۔
    روایتی آرٹلری راکٹس کے برعکس، اس میں شامل ہیں
    * جدید ایویونکس اور نیویگیشن سسٹمز
    * اعلیٰ درجے کی ہدفی درستگی
    * میزائل دفاعی نظام سے بچنے کے لیے maneuverable trajectory

    یہ نظام پاکستان کے راکٹ آرٹلری کو ایک ایسے پریسژن اسٹرائیک پلیٹ فارم میں تبدیل کرتا ہے جو دشمن کے علاقے کے اندر گہرائی میں موجود اہم اہداف جیسے ایئر بیسز، لاجسٹک مراکز اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اہم بات یہ ہے کہ FATEH-II، ایک قابلِ اعتماد روایتی متبادل فراہم کرکے اسٹریٹجک (جوہری) آپشنز پر انحصار کم کرتا ہے۔

    بھارتی نظام: Pinaka اور Pralay
    بھارت اس میدان میں دو اہم نظام رکھتا ہے:
    1. Pinaka MLRS
    * بنیادی طور پر ملٹی بیرل راکٹ لانچر (MBRL) سسٹم
    * روایتی طور پر کم رینج، تاہم بھارت 400–500 کلومیٹر تک توسیع شدہ ورژنز پر کام کر رہا ہے
    * بنیادی مقصد ایریا سیچوریشن، نہ کہ نقطہ وار درستگی

    2. Pralay میزائل
    * ایک ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل جس کی رینج 150–500 کلومیٹر ہے
    * بھاری وارہیڈ (350–1000 کلوگرام) لے جانے کی صلاحیت
    * اہم اسٹریٹجک اہداف جیسے رن ویز اور کمانڈ انفراسٹرکچر کے لیے ڈیزائن کیا گیا

    تقابلی جائزہ
    خصوصیت FATEH-II (پاکستان) Pinaka (بھارت) Pralay (بھارت)قسم گائیڈڈ راکٹ / quasi-ballistic MLRS (راکٹ آرٹلری) ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل رینج تقریباً 400 کلومیٹر 40–75 کلومیٹر (موجودہ) 150–500 کلومیٹر،درستگی اعلیٰ (گائیڈڈ) کم (ایریا سیچوریشن) اعلیٰ،کردار پریسژن ڈیپ اسٹرائیک میدانِ جنگ سپورٹ اسٹریٹجک روایتی حملہ،موبلٹی زیادہ زیادہ زیادہ

    اہم نکات
    * FATEH-II بمقابلہ Pinaka:
    FATEH-II رینج اور درستگی دونوں میں Pinaka سے واضح طور پر برتر ہے۔
    * FATEH-II بمقابلہ Pralay:
    Pralay زیادہ طاقتور اور بھاری بیلسٹک میزائل ہے، لیکن FATEH-II لچک، بقا (survivability) اور لاگت کے لحاظ سے بہتر ہے۔
    * نظریاتی فرق:
    * پاکستان: پریسژن روایتی ڈیٹرنس کی طرف پیش رفت
    * بھارت: سیچوریشن (Pinaka) اور بیلسٹک اسٹرائیک (Pralay) کا امتزاج

    پاکستان کے لیے اسٹریٹجک اہمیت
    1. روایتی ڈیٹرنس کو مضبوط بنانا
    FATEH-II پاکستان کو جوہری سطح تک گئے بغیر گہرائی میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت دیتا ہے، جس سے بحران میں استحکام بڑھتا ہے۔

    2. کاؤنٹر فورس صلاحیت

    یہ درج ذیل اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے:
    * ایئر بیسز
    * لاجسٹک مراکز
    * میزائل سائٹس

    3. بقا اور لچک
    موبائل لانچ پلیٹ فارمز اور maneuverable پرواز اسے میزائل دفاعی نظام کے خلاف زیادہ محفوظ بناتے ہیں۔

    4. کم لاگت پریسژن جنگ
    بیلسٹک میزائلز کے مقابلے میں، یہ کم لاگت پر زیادہ حملوں کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
    5. اسٹریٹجک سگنلنگ

    یہ نظام تکنیکی صلاحیت اور دفاعی تیاری کا واضح پیغام دیتا ہے۔

    نتیجہ
    FATEH-II پاکستان کی روایتی اسٹرائیک صلاحیت میں ایک اہم اضافہ ہے۔ اگرچہ بھارت کا Pralay زیادہ بھاری اور طاقتور ہے، لیکن FATEH-II آرٹلری اور اسٹریٹجک میزائلز کے درمیان خلا کو پُر کرتا ہے اور درستگی، لچک اور قابلِ اعتماد ڈیٹرنس فراہم کرتا ہے۔

    جدید جنگ میں طاقت سے زیادہ اہمیت رفتار اور درستگی کی ہو گئی ہے۔ اس میدان میں FATEH-II پاکستان کو ان ممالک کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے جو بغیر جوہری حد عبور کیے پریسژن ڈیپ اسٹرائیک کر سکتے ہیں۔

    جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن اب صرف جوہری ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اس بات سے طے ہو رہا ہے کہ کون پہلے، تیزی سے اور درست حملہ کر سکتا ہے۔

    مصنف کے بارے میں
    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار ہیں جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدید کاری پر مہارت رکھتے ہیں، اور Research and Evaluation Cell for Advancing Basic Amenities and Development کے رکن ہیں۔

  • نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں میں ذہنی دباؤ میں خطرناک اضافہ

    نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں میں ذہنی دباؤ میں خطرناک اضافہ

    ایک نئی تحقیق نے یہ بات واضح کی ہے کہ اگر والدین کو لگتا ہے کہ ان کے نوعمر بچے ایک “راز” ہیں تو تازہ ڈیٹا ان کی اندرونی دنیا کو بہتر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    یہ سروے امریکی ادارے نے 18 ستمبر سے 10 اکتوبر کے درمیان کیا، جس میں 13 سے 17 سال کی عمر کے 1,391 نوجوانوں سے سوالات کیے گئے۔ تحقیق کے مطابق اگرچہ لڑکے اور لڑکیاں کئی بنیادی مسائل جیسے اسکول کا دباؤ اور ذہنی صحت کے چیلنجز میں ایک جیسے تجربات رکھتے ہیں، لیکن ان کی مدد اور سماجی دباؤ کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی اچھے نمبرز لینے کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ دونوں گروہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ عام طور پر لڑکیاں بہتر گریڈ حاصل کرتی ہیں اور اساتذہ کی طرف سے زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ حقیقت پہلے سے موجود تعلیمی اعداد و شمار سے بھی مطابقت رکھتی ہے، جن میں لڑکیوں کی تعلیمی کارکردگی اوسطاً بہتر دیکھی گئی ہے۔

    تاہم ماہر نفسیات ڈاکٹر اینی ماہیوکس کے مطابق یہ فرق اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ تعلیمی نظام ہر طالب علم کے لیے یکساں طور پر مؤثر نہیں ہے۔ ان کے مطابق اسکول کا نظام زیادہ تر ایسے بچوں کے لیے موزوں ہوتا ہے جو زیادہ صبر اور کم بے چینی کے ساتھ بیٹھ کر کام کر سکیں، جبکہ لڑکوں میں اس عمر میں دماغی نشوونما مختلف رفتار سے ہوتی ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی اپنے مستقبل کے حوالے سے کافی سنجیدہ ہیں۔ دونوں گروہ ایک اچھی نوکری، بہتر آمدنی اور دوستوں کے ساتھ مضبوط تعلقات کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ماہر نفسیات ڈاکٹر لیزا ڈیمور کے مطابق یہ تصور غلط ہے کہ نوجوان صرف سطحی چیزوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوعمر نوجوان اپنی تعلیم اور مستقبل کے بارے میں سنجیدہ سوچ رکھتے ہیں۔سروے کے مطابق صرف 2 فیصد نوجوانوں نے کہا کہ ان کا کوئی دوست نہیں ہے، جو ایک مثبت بات سمجھی جا رہی ہے۔تاہم فرق یہاں بھی موجود ہے 95 فیصد لڑکیوں نے کہا کہ ان کے پاس ایسا قریبی دوست موجود ہے جس سے وہ مدد لے سکتی ہیں،جبکہ لڑکوں میں یہ شرح 85 فیصد تھی،ماہرین کے مطابق اس فرق کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لڑکوں کو بچپن سے جذباتی کمزوری ظاہر نہ کرنے کی تربیت دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی مشکلات شیئر کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ لڑکیوں میں اضطراب اور ڈپریشن زیادہ رپورٹ ہوتا ہے، جبکہ لڑکوں میں نشہ آور اشیاء کا استعمال، لڑائی جھگڑے اور کلاس میں خلل ڈالنے جیسے رویے زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ لڑکے ذہنی دباؤ کا کم شکار ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈیمور کے مطابق جب لڑکیاں دباؤ میں ہوتی ہیں تو وہ اندرونی طور پر ٹوٹنے لگتی ہیں، جبکہ لڑکے اکثر اپنے دباؤ کو غصے یا خطرناک رویے کی شکل میں ظاہر کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نوعمر لڑکوں کے جارحانہ یا خطرناک رویوں کو صرف “بدتمیزی” سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے ذہنی دباؤ کی علامت بھی سمجھنا چاہیے۔اسی طرح ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کی تربیت میں جذباتی اظہار کو بھی اہمیت دینی چاہیے تاکہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں صحت مند سماجی اور ذہنی نشوونما حاصل کر سکیں۔یہ تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ نوعمر لڑکے اور لڑکیاں ایک جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن ان کے تجربات اور ردعمل مختلف ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بہتر تعلیم، جذباتی رہنمائی اور کھلے ماحول کے ذریعے نوجوانوں کی بہتر مدد کی جا سکتی ہے۔

  • بچوں کو سوشل میڈیا کے خطرات سے بچانے کا بہترین طریقہ

    بچوں کو سوشل میڈیا کے خطرات سے بچانے کا بہترین طریقہ

    دنیا بھر میں بچوں اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات اور خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں۔ کچھ حلقے اس بات کے حامی ہیں کہ نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگائی جائے یا اس کی عمر کی حد بڑھا دی جائے، تاہم ایک ماہر تعلیم کا کہنا ہے کہ اصل حل پابندی نہیں بلکہ بچوں کو “تنقیدی سوچ” سکھانا ہے۔

    نیو زی لینڈ کی یونیورسٹی آف آکلینڈ کی سینئر لیکچرر اور نئی کتاب “Teaching Critical Thinking to Teenagers” کی مصنفہ ڈاکٹر ماری ڈیوس کے مطابق اگر بچوں کو چھوٹی عمر سے یہ سکھایا جائے کہ وہ آن لائن معلومات کو سوال کی نظر سے دیکھیں، تو وہ جھوٹی خبروں، فراڈ اور غلط معلومات سے بہتر طور پر بچ سکتے ہیں۔ڈاکٹر ڈیوس کے مطابق تنقیدی سوچ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی بھی معلومات، خیال یا دعوے کو قبول کرنے سے پہلے اس کا تجزیہ کرے، سوال اٹھائے، اور ثبوت دیکھے۔ اس میں مختلف آرا کو سمجھنا اور یہ جانچنا شامل ہے کہ کون سا مؤقف زیادہ مضبوط ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں سوشل میڈیا اور اس کے الگورتھمز کی وجہ سے نوجوان بغیر سوچے سمجھے معلومات قبول کرنے کے عادی ہو رہے ہیں، جو انہیں غلط معلومات اور آن لائن دھوکے کے خطرات سے دوچار کرتا ہے۔

    ڈاکٹر ڈیوس کے مطابق صرف سوشل میڈیا پر پابندی لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ جب بچے بڑے ہوں گے تو وہ بغیر تیاری کے سوشل میڈیا استعمال کریں گے۔ ان کے مطابق اصل ضرورت یہ ہے کہ بچوں میں خود اعتمادی اور سمجھ بوجھ پیدا کی جائے تاکہ وہ خود فیصلہ کر سکیں کہ کون سی معلومات درست ہے اور کون سی غلط۔وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ تنقیدی سوچ بچوں کی ذہنی صحت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ جب انسان کو حالات پر کنٹرول کا احساس ہو تو اس کی بے چینی کم ہو جاتی ہے۔

    ماہر تعلیم کے مطابق والدین بچوں کو تنقیدی سوچ سکھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ مشورہ دیتی ہیں کہ والدین بچوں کے ساتھ مل کر خبروں اور معلومات پر بات کریں، مثال کے طور پر یہ کہیں “یہ خبر دلچسپ لگتی ہے، آؤ ہم مل کر اس کے بارے میں مزید تحقیق کریں۔”اسی طرح والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں سے سوال کریں جیسے “تمہیں یہ بات کہاں سے ملی؟”“اس کے پیچھے کیا ثبوت ہے؟”اس طرح بچوں میں سوال کرنے اور سوچنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔

    ڈاکٹر ڈیوس کے مطابق نوجوانوں کو صرف پڑھنے لکھنے کی نہیں بلکہ بات چیت کرنے اور سوال کرنے کی بھی تربیت دینی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بچے اعلیٰ سطح کے سوال کرنا سیکھ جائیں جیسے “اس کی مثال کیا ہے؟”، تو وہ گہرائی میں جا کر سوچنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ماہر تعلیم کا کہنا ہے کہ مستقبل کی نوکریوں میں تخلیقی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت سب سے اہم ہوگی۔ ان کے مطابق اگر نوجوان صرف اے آئی یا ٹیکنالوجی پر انحصار کریں گے تو وہ خود سوچنے کی صلاحیت کھو سکتے ہیں، جو مستقبل میں ان کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ڈاکٹر ڈیوس یہ بھی بتاتی ہیں کہ 11 سے 12 سال کی عمر بچوں کے دماغ کی نشوونما کا اہم دور ہوتا ہے۔ اس وقت جو مہارتیں سیکھی جاتی ہیں وہ مضبوط ہو جاتی ہیں، جبکہ جن چیزوں کو استعمال نہ کیا جائے وہ آہستہ آہستہ کمزور ہو سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان سے بات کریں اور ان کی سنیں۔ اگرچہ نوجوان بعض اوقات دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن انہیں پھر بھی اپنے والدین کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچوں کے ساتھ مضبوط تعلق قائم ہو تو وہ مشکل حالات جیسے آن لائن دباؤ یا غلط اثرات کے بارے میں والدین سے کھل کر بات کر سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کے بجائے بچوں کو سوچنے، سوال کرنے اور معلومات کو پرکھنے کی صلاحیت دینا زیادہ مؤثر حل ہے۔ یہی مہارتیں انہیں نہ صرف آن لائن خطرات سے بچاتی ہیں بلکہ مستقبل میں بہتر اور کامیاب انسان بنانے میں بھی مدد دیتی ہیں۔

  • طلاق اور معاشرے کا دوہرا معیار،تحریر: ریحانہ جدون

    طلاق اور معاشرے کا دوہرا معیار،تحریر: ریحانہ جدون

    طلاق مرد دیتا ہے، مگر طلاق یافتہ کا لیبل عورت کے ماتھے کا ایسا داغ بنا دیا جاتا ہے جو مٹائے نہیں مٹتا۔

    طلاق ایک تلخ حقیقت ہے لیکن ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہےکہ اس فیصلے کا سارا بوجھ صرف عورت کے حصے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ طلاق مرد دیتا ہے، مگر طلاق یافتہ کا لیبل عورت کے ماتھے کا ایسا داغ بنا دیا جاتا ہے جو مٹائے نہیں مٹتا۔اور تو اور ستم ظریفی دیکھیں کہ طلاق کی وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں، انگلیاں ہمیشہ عورت پر ہی اٹھتی ہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ اس گھر کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے مرد نے کیا کیا؟ یا مرد کے وہ کیا رویے تھے جنھوں نے بات یہاں تک پہنچائی؟

    مرد سے سوال کرنا جیسے معاشرے میں منع ہے۔

    طلاق کے بعد مرد کے لیے نئی زندگی شروع کرنا آسان بنا دیا جاتا ہے، جبکہ عورت کو قدم قدم پر یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ ناکام ہوگئی ہے۔ اسے ایک اچھی بیوی، ایک اچھی ساتھی نہ بن پانے کے طعنے دیے جاتے ہیں، گویا رشتہ نبھانے کی ساری ذمہ داری صرف اسی کی تھی۔

    یہ رویہ نہ صرف عورت کی ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ اسے سماجی طور پر بھی تنہا کردیتا ہے۔

    ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ طلاق کسی کے لیے، کسی بھی طرح خوشی کا فیصلہ نہیں ہوتا، یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے جس کے بعد ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ مزید اس انسان کو ملامت کیا جائے۔۔۔ جب اسے بار بار ملامت کیا جائے تو وہ ڈپریشن کا شکار ہوکر خود کو ایک ناکام انسان ہی سمجھنے لگتا ہے اور کئی زندگیاں اس ڈپریشن کی نذر ہوگئی ۔۔

    ہمارے معاشرے کا یہ ایک تلخ پہلو ہے کہ طلاق کا سارا ملبہ اور سماجی بدنامی صرف عورت کے حصے میں آتی
    وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں۔ رشتہ دو لوگوں کے درمیان ہوتا ہے اور اسکے ختم ہونے کی ذمہ داری بھی کسی ایک پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ عورت کو اس کے ماضی کے بجائے اس کی ہمت اور شخصیت سے پہچانیں، نہ کہ کسی ایک لفظ سے جو اس کی زندگی کا کل اثاثہ نہیں۔

  • مزدور ڈے پر بھی مزدور کی مزدوری ،تحریر: نور فاطمہ

    مزدور ڈے پر بھی مزدور کی مزدوری ،تحریر: نور فاطمہ

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں یکم مئی کو “یومِ مزدور” بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے۔ جلسے ہوتے ہیں، تقاریر کی جاتی ہیں، اخبارات میں مضامین شائع ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ہمدردی کے پیغامات کی بھرمار ہو جاتی ہے۔ مگر ان سب رنگینیوں کے بیچ ایک حقیقت بڑی خاموشی سے کھڑی رہتی ہے: وہ مزدور جس کے نام پر یہ دن منایا جاتا ہے، وہ خود اس دن بھی مزدوری کر رہا ہوتا ہے۔

    یہ کیسا تضاد ہے کہ جس کے حق میں آواز بلند کی جاتی ہے، وہی شخص اس آواز کو سننے سے محروم رہتا ہے۔ اینٹیں اٹھاتا ہوا مزدور، سڑک پر پسینہ بہاتا محنت کش، کارخانوں میں مشینوں کے ساتھ جُھلا ہوا ہاتھ ، یہ سب آج بھی اپنی روزی کی تلاش میں ہوتے ہیں، چاہے کیلنڈر پر یکم مئی ہی کیوں نہ درج ہو،ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں مزدور کی اجرت کا ذکر تو ہوتا ہے، مگر اس کے زخموں کا مداوا نہیں کیا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ مزدور کی تنخواہ 40 ہزار تک پہنچ گئی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اعداد و شمار اکثر کاغذوں کی حد تک محدود رہتے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ کئی مزدور آج بھی اتنی اجرت سے محروم ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے پورا کر پاتے ہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ مزدور ڈے بھی ایک “تقریب” بن کر رہ گیا ہے۔ جہاں چند بااثر افراد تقریریں کرتے ہیں، کیمرے چلتے ہیں، تالیاں بجتی ہیں، اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ مگر مزدور کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ نہ اس کے حالات بدلتے ہیں، نہ اس کے بچوں کی تقدیر،اصل سوال یہ ہے کہ آخر کون ان کے حق میں آواز اٹھائے گا؟ کون ان کے پسینے کا اصل معاوضہ دلائے گا؟ اور کب تک مزدور صرف نعروں اور پوسٹروں کی زینت بنا رہے گا؟یہ وقت ہے کہ ہم مزدور ڈے کو صرف منانے کے بجائے سمجھیں۔ مزدور کو ہمدردی نہیں، انصاف چاہیے۔ اسے تقریر نہیں، حق چاہیے۔ جب تک اس کے ہاتھ کی محنت کو اس کا پورا حق نہیں ملتا، تب تک ہر یومِ مزدور ایک ادھورا دن ہی رہے گا۔

    مزدور وہ خاموش طاقت ہے جس پر معیشت کی عمارت کھڑی ہے۔ اگر یہ ہاتھ رک جائیں تو دنیا کا پہیہ بھی رک جائے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اس طاقت کو صرف یاد رکھنا چاہتے ہیں یا اسے اس کا اصل مقام بھی دینا چاہتے ہیں۔

  • وقارِ پاکستان: عسکری و سفارتی ہم آہنگی کا ثمر،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وقارِ پاکستان: عسکری و سفارتی ہم آہنگی کا ثمر،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اندرونی کمزوریاں، بیرونی کامیابیاں ، سمت کا تعین ضروری
    حکمرانی کا کڑا امتحان: دعووں سے آگے بڑھنے کا وقت

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان: عالمی وقار سے عوامی بہبود تک، ایک سنجیدہ جائزہ
    حالیہ برسوں میں پاکستان کے عالمی وقار میں جو بہتری دیکھنے میں آئی ہے، وہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا جا رہا ہے اور مختلف عالمی معاملات میں اس کی شرکت اور مؤثر سفارت کاری کو سراہا جا رہا ہے۔ اس مثبت تبدیلی کا بڑا سہرا پاکستان کی عسکری قیادت اور وزارتِ خارجہ کو جاتا ہے، جنہوں نے نہایت تدبر اور حکمت عملی سے عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کا دفاع کیا اور اس کے وقار کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    تاہم، کسی بھی ملک کی اصل ترقی کا پیمانہ اس کی داخلی صورتحال ہوتی ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں—پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان—میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں قائم ہیں۔ یہ تنوع جمہوریت کی خوبصورتی تو ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام صوبائی اور وفاقی حکومتیں باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوام کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کریں۔ صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف جیسے شعبے وہ بنیاد ہیں جن پر ایک مضبوط معاشرہ استوار ہوتا ہے۔

    بدقسمتی سے، ہمارے ہاں اکثر پالیسیوں سے زیادہ بیانات پر زور دیا جاتا ہے، اور عملی اقدامات میں تسلسل کی کمی نظر آتی ہے۔ ترقی کے لیے محض اعلانات کافی نہیں ہوتے بلکہ ٹھوس حکمت عملی، مستقل مزاجی اور نتائج پر مبنی کارکردگی درکار ہوتی ہے۔ عوام اب نعروں سے آگے بڑھ چکے ہیں؛ وہ عملی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں جو ان کی روزمرہ زندگی کو بہتر بنائے۔

    بیوروکریسی، جو ریاستی نظام کا ایک اہم ستون ہے، اس سے بھی عوام کی بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ ایک فعال، ایماندار اور وقت کا پابند سرکاری نظام ہی عوامی مسائل کے حل کو ممکن بنا سکتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کئی اداروں میں تاخیر، غیر سنجیدگی اور روایتی سستی آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ حالانکہ ترقی یافتہ اقوام کی کامیابی کا راز ان کی ادارہ جاتی مضبوطی اور وقت کی سخت پابندی میں پوشیدہ ہے۔

    عوامی اعتماد کسی بھی ریاست کی اصل طاقت ہوتا ہے۔ جب شہریوں کو یہ یقین ہو کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جا رہا ہے، تو وہ ریاست کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر یہ اعتماد متزلزل ہو جائے تو ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکمران اور ادارے اپنی کارکردگی سے عوام کا اعتماد بحال کریں۔
    پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ یہاں کی زرخیز زمینیں، معدنی ذخائر اور نوجوان آبادی وہ سرمایہ ہیں جو ملک کو ترقی کی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ان وسائل کا مؤثر استعمال کیا جائے اور شفافیت، میرٹ اور دیانتداری کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے۔

    پاکستان ایک عظیم صلاحیتوں کا حامل ملک ہے، جس کے پاس آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی سطح پر حاصل ہونے والے وقار کو داخلی استحکام اور عوامی خوشحالی میں تبدیل کیا جائے۔ اگر حکومت، بیوروکریسی اور عوام سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کو خلوص اور دیانتداری سے ادا کریں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ترقی یافتہ اقوام کی صف میں نمایاں مقام حاصل کر لے گا۔