Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر: ایس اے شازِم

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر: ایس اے شازِم

    تاریخ پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو ایک حقیقت ہمیشہ نمایاں دکھائی دیتی ہے کہ حق اور باطل کی جنگ کبھی ختم نہیں ہوئی۔ وقت بدلتا رہا، کردار بدلتے رہے، طریقے بدلتے رہے، مگر معرکۂ حق ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں جاری رہا۔ کبھی یہ جنگ میدانوں میں لڑی گئی، کبھی عدالتوں میں، کبھی قلم سے، اور کبھی ضمیر کے اندر۔ یہی وہ معرکہ ہے جو انسان کے کردار کا اصل امتحان بنتا ہے۔

    قرآن مجید ہمیں بار بار یہ سبق دیتا ہے کہ سچائی کا راستہ مشکل ضرور ہوتا ہے مگر انجام کے اعتبار سے ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔ باطل وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتا ہے، اس کے پاس دولت، اختیار اور شور ہو سکتا ہے، مگر اس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔ حق خاموش ضرور ہوتا ہے مگر مضبوط ہوتا ہے، کیونکہ اس کی بنیاد انصاف، دیانت اور سچائی پر قائم ہوتی ہے۔

    آخر میں، یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حق کا راستہ اگرچہ کٹھن ہے مگر یہی راستہ انسان کو عزت، سکون اور کامیابی دیتا ہے۔ باطل وقتی شور تو پیدا کر سکتا ہے مگر ہمیشہ باقی نہیں رہ سکتا۔ وقت آخرکار حق کے حق میں فیصلہ سناتا ہے۔

    آج اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو محسوس ہوگا کہ معرکۂ حق صرف بڑی بڑی جنگوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ ایک ملازم جب رشوت لینے سے انکار کرتا ہے تو وہ معرکۂ حق لڑ رہا ہوتا ہے۔ ایک صحافی جب سچ لکھنے کی ہمت کرتا ہے تو وہ اس معرکے کا سپاہی ہوتا ہے۔ ایک استاد جب ایمانداری سے نئی نسل کی تربیت کرتا ہے تو وہ بھی حق کی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔

    بدقسمتی یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں حق کا ساتھ دینے والے کم اور تماشائی زیادہ ہو گئے ہیں۔ لوگ ظلم دیکھتے ہیں مگر خاموش رہتے ہیں۔ جھوٹ سنتے ہیں مگر مصلحت کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔ ناانصافی پر دل تو دکھتا ہے مگر زبان خاموش رہتی ہے۔ یہی خاموشی رفتہ رفتہ باطل کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ یاد رکھیے، ظلم صرف ظالم کے ہاتھوں نہیں بڑھتا بلکہ خاموش لوگوں کی بے حسی سے بھی پروان چڑھتا ہے۔

    تاریخ میں جتنے بھی بڑے معرکے ہوئے، ان میں کامیابی ہمیشہ ان لوگوں کو ملی جنہوں نے حق کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا۔ واقعۂ کربلا اس کی عظیم مثال ہے۔ یہ صرف ایک جنگ نہیں تھی بلکہ حق، صبر اور اصولوں کی بقا کی جنگ تھی۔ وہاں تعداد کم تھی مگر حوصلے بلند تھے۔ طاقت کم تھی مگر سچائی موجود تھی۔ یہی وجہ ہے کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود حق کا نام آج بھی زندہ ہے جبکہ ظلم اپنے انجام کو پہنچ چکا۔

    دیکھا جائے تو آج کے انتشار بھرے معاشرے میں اگر کوئی ایک جملہ ہمیں اپنی اصل کی طرف لوٹا سکتا ہے تو وہ ہے؛ "ہم بنیانِ مرصوص ہیں”۔ یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسا اصول ہے جو ایک مضبوط قوم کی بنیاد رکھتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو ہمیں قرآن مجید میں دیا گیا کہ اہلِ ایمان ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ہوتے ہیں۔ ایسی دیوار جس میں نہ دراڑ ہوتی ہے اور نہ کمزوری۔
    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی اس معیار پر پورا اترتے ہیں؟

    آج ہمارا معاشرہ لسانی، فرقہ وارانہ اور ذاتی مفادات کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم کا شکار ہے۔ ہر فرد اپنی ذات کے حصار میں قید ہے اور اجتماعی مفاد کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں تو پیش پیش ہیں مگر ایک دوسرے کا سہارا بننے میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل کسی بھی مضبوط قوم کی علامت نہیں۔
    بنیانِ مرصوص بننے کے لیے صرف الفاظ کافی نہیں ہوتے، بلکہ اس کے لیے کردار کی پختگی، نیت کی صفائی اور عمل کی یکجہتی ضروری ہوتی ہے۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنا ہی اصل طاقت ہے۔ جس طرح ایک دیوار کی اینٹیں الگ الگ ہو کر کچھ نہیں ہوتیں، مگر جب وہ جڑ جاتی ہیں تو ایک ناقابلِ تسخیر مضبوطی اختیار کر لیتی ہیں، اسی طرح قومیں بھی اتحاد سے ہی مضبوط بنتی ہیں۔
    ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں بھی اس اصول کو اپنانا ہوگا۔ چاہے وہ گھر ہو، تعلیمی ادارہ ہو یا معاشرہ اگر ہم ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کریں، ایک دوسرے کا بوجھ بانٹیں اور ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھیں تو ہم واقعی بنیانِ مرصوص بن سکتے ہیں۔

    معرکۂ حق ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ سچائی کا راستہ قربانی مانگتا ہے۔ جو لوگ آسانی، مفاد اور وقتی فائدے کی خاطر اصول چھوڑ دیتے ہیں، وہ وقتی طور پر کامیاب نظر آ سکتے ہیں مگر تاریخ میں عزت ہمیشہ اصولوں پر قائم رہنے والوں کو ملتی ہے۔ کردار کی اصل پہچان یہی ہے کہ انسان مشکل وقت میں کس طرف کھڑا ہوتا ہے۔
    معرکۂ حق صرف تقریروں یا نعروں سے نہیں جیتا جا سکتا۔ اس کے لیے عمل درکار ہے۔ ہمیں اپنے گھروں، اداروں اور معاشرتی رویوں میں انصاف کو جگہ دینی ہوگی۔ اگر ہم چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی سچائی اختیار کر لیں تو یہی چھوٹے قدم مل کر بڑے انقلاب کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
    اگر ہم نے سچ میں ترقی کرنی ہے تو ہمیں اپنے اندر اتحاد، اخوت اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہوگا۔ ہمیں یکجا ہو کر دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنی ہوگی تبھی ہم پورے یقین سے کہہ سکیں گے۔
    "ہم بنیانِ مرصوص ہیں۔”

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: زرین زاہد

    ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: زرین زاہد

    کائنات کا نظام ازل سے حق اور باطل کی پیہم کشمکش کے گرد گھومتا رہا ہے۔ تاریخ کے ہر موڑ پر باطل جب بھی سر اٹھاتا ہے ، وہ اپنے مکر و فریب، مادی وسائل اور عددی برتری کے زعمِ باطل میں مبتلا ہوتا ہے۔ حق کی اصل طاقت مادیت کے انبار میں نہیں ہے ؛ بلکہ اس قلبی جذبے اور روحانی قوت میں پنہاں ہوتی ہے جسے "یقینِ محکم” کہا جاتا ہے۔ اللہ رب العزت نے ان مجاہدوں اور راہِ حق کے مسافروں کی صفت بیان کرتے ہوئے ایک ایسی جامع اصطلاح استعمال کی ہے ؛ جو رہتی دنیا تک ہمت، شجاعت اور استقامت کا دائمی استعارہ بن گئی ہے۔

    یہ محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک غازی کے عزم اور ایک مجاہد کے ایمان کا وہ مضبوط ترین پڑاؤ ہے؛ جہاں دنیا کی تمام تر ترغیبات دم توڑ دیتی ہیں۔ اللہ رب العزت نے اپنی لاریب کتاب قرآنِ مجید کی سورۃ الصف میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں آشکار فرمایا ہے:
    ” انَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ
    ترجمہ: بے شک اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے؛ جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں، گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔“
    اس آیتِ کریمہ میں ان نفوسِ قدسیہ کا تذکرہ ہے ؛ جو اپنے نصب العین کی خاطر اس قدر فرض شناسی سے کام لیتے ہیں کہ جذبات کے تمام بندھن توڑ دیتے ہیں۔ وہ مجاہد جو اپنی علیل اور ضعیف ماں، ٹانگوں سے معذور باپ اور حالات کے ستائے مجبور بھائی کو تنہا چھوڑ کر صرف اس لیے نکل پڑتے ہیں کہ پکارِ حق انہیں چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ انہوں نے ہر رشتے سے اول اللہ کی رضا اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو رکھا ؛ تو خالق کائنات نے بھی انہیں اپنے محبوب اور پسندیدہ لوگوں کی فہرست میں شامل فرما کر ابدیت بخش دی۔ "بنیانِ مرصوص” ایک ایسا عہدِ وفا ہے کہ جب مجاہد اس کی حقیقت کو پا لیتا ہے ؛ تو اسے ایسی غیبی طاقت عطا ہوتی ہے کہ وہ تنِ تنہا باطل کے سامنے ہمالیہ جیسی استقامت کا مظہر بن جاتا ہے۔ باطل اپنے تمام تر ہتھیاروں کے ساتھ تڑپتا، چیختا اور للکارتا رہ جاتا ہے اور جب حق کی پکڑ میں آتا ہے تو فرار کے راستے ڈھونڈتا ہے؛ مگر یہ دیوار اسے راستہ نہیں دیتی۔

    بنیانِ مرصوص محض اینٹ، پتھروں اور گارے سے تعمیر شدہ کسی دیوار کا نام نہیں ؛ بلکہ یہ وہ قلبی اتحاد ہے ،جہاں انفرادی مفادات، ذاتی خواہشات اور گروہی وابستگیاں ختم ہو کر ایک عظیم اجتماعی مقصد کے سانچے میں ڈھل جاتی ہیں۔ یہ رب العزت کا وہ خاص اشارہ ہے ان جری جوانوں کے لیے جنہوں نے دنیاوی جاہ و حشم، آسائشوں اور گھر بار کے سکون کو صرف اس لیے ٹھکرا دیا کہ ان کا اللہ سے لو لگانے کا سودا ہو چکا تھا۔ یہ وہ فولادی دیوار ہے جسے نہ تو دنیاوی لالچ کی دیمک چاٹ سکتی ہے اور نہ ہی موت کا مہیب خوف گرا سکتا ہے۔
    آج جب میں نے بنیانِ مرصوص کے عنوان پر قلم اٹھایا ہے، تو میرا ذہن ان عظیم بہادروں کی طرف مڑ گیا ہے ؛ جن کی داستانیں تاریخ کے سینے پر روشنائی سے نہیں ؛ بلکہ خونِ جگر سے لکھی گئی ہیں۔ میں ان غازیوں اور شہداء کا ذکر کیسے نہ کروں ؛ جنہوں نے اپنی رخصتی کے دوسرے ہی دن سہاگن کی چمکتی اور اُمید بھری آنکھوں کو الوداع کہا، اپنے جواں سال بھائی کا جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھایا، مگر وطن کی پکار سن کر دہلیز سے رخصت ہوتی اپنی لاڈلی بہن کی ڈولی کو مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ان کے نزدیک بہن کی جدائی سے بڑا دکھ وطن کی حرمت پر آنے والی آنچ تھی۔

    ان کے ارادے چٹانوں سے زیادہ سخت اور فرض کی پکار ہر خونی رشتے سے بلند تھی۔ اسی صفِ اول کے ایک سپاہی کی داستان روح کو تڑپا دیتی ہے ؛ جس نے اپنی اس معصوم نومولود بچی کو جسے اس نے جگر کا ٹکڑا اور اپنی زندگی کا کل اثاثہ قرار دیا تھا،؛ اپنے ہی ہاتھوں میں دم توڑتے دیکھا۔ اس باپ کے دل پر کیا گزری ہوگی؟ مگر اس کے قدم نہیں ڈگمگائے۔ فرض کا تقاضا اتنا اٹل تھا کہ اسے اپنی لختِ جگر کو مٹی کی آغوش میں اتارنے کی مہلت بھی نہ ملی؛ کیونکہ سرحد پر دشمن کی ناپاک آہٹ سنائی دے رہی تھی اور اسے اس "سیسہ پلائی دیوار” کی وہ اینٹ بننا تھا؛ جس پر قوم کی سلامتی کا انحصار تھا۔

    یہی وہ لوگ ہیں؛ جو "بنیانِ مرصوص” کی حقیقی اور عملی تصویر ہیں۔ ان کے نزدیک اپنے ذاتی دکھ ہیچ اور قومی وقار و ملی حمیت مقدم ہے۔ آج کے اس پر آشوب دور میں ہمیں بھی اسی جذبے، اسی اتحاد اور اسی یقینِ محکم کی ضرورت ہے۔ اگر ہم فرقوں، لسانیت اور ذاتی مفادات کے حصار سے نکل کر ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو جائیں، تو دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت ہمیں زیر نہیں کر سکتی۔ یاد رکھیے! حق کا معرکہ صرف بارود اور گولی سے میدانِ جنگ میں ہی نہیں جیتا جاتا؛ بلکہ یہ کردار، گفتار اور استقامت کے میدان میں بھی لڑا جاتا ہے۔ ہم نے اپنے عمل سے ثابت کرنا ہے؛ کہ ہم آج بھی وہی سیسہ پلائی ہوئی دیوار یعنی "بنیانِ مرصوص” ہیں۔

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:مریم خضر

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:مریم خضر

    تاریخ کے سنہرے اوراق کو جب جب بھی پلٹا گیا تب تب ہی یہ ثابت ہوا کہ مسلمانوں کو شکست دینے کے خواب جو دشمنان اسلام دیکھتے رہے تھے، وہ فضا میں کرچیوں کی مانند ایسے بکھرے ہیں کہ جس کی چبھن کو یاد کر کے آج بھی دشمن کے زخم ہرے ہو جاتے ہیں۔ اگر بات کی جائے اس میدان کی جو "جنگ بدر” میں سجا تھا۔ مسلمانوں کی اتنی قلیل تعداد اور کفار کثیر تعداد کے ہوتے ہوئے بھی بری طرح سے شکست سے دوچار ہوا تھا۔ کفار طاقت کے نشے میں چور ہو کر ایسے لشکر سے ٹکرایا جو مدد خدا اور قوت ایمانی کے بل بوتے پر لڑ رہا تھا۔ حتی کہ معزز فرشتوں کی صفیں بھی اس دن اتری تھیں مسلمانوں کی مدد کرنے کے لیے۔ باطل حق کے سامنے پاش پاش ہو گیا۔ پھر 1965 میں دشمن نے بزدلی کا اعلی مظاہرہ کرتے ہوئے رات کے وقت وطن عزیز پر دھاوا بول دیا۔ اسے لگا تھا کہ وطن عزیز کے محافظ خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوں گے۔ اور وہ صبح کی چائے لاہور میں نوش فرمائیں گے۔ لیکن اسے کیا خبر تھی کہ اس قوم کی مائیں بچپن میں ہی اپنے بچوں کو گھٹی میں وطن سے وفاداری اور شہادت کا درس دیتی آئی ہیں۔ پاکستان جنگی ساز و سامان اور اسلحہ میں دشمن سے کئی گنا کم تھا۔ لیکن ہماری قوم کے جیالوں میں جذبہ ایمانی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ بھارت نے "چونڈہ” کے محاذ پر قابض ہونے کی کوشش کی تو ہمارے نوجوانوں نے اپنے سینوں پر بم باندھ کر ان کے ان گنت ٹینکوں کو اڑا دیا تھا اور فتح و نصرت اپنے نام کر لی تھی۔
    کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
    لگانے آگ جو آئے تھے آشیانے کو
    وہ شعلے اپنے لہو سے بجھا دیے تم نے

    حال ہی میں دوبارہ دشمن نے "اسلامی جمہوریہ پاکستان” کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ کئی بار ناکامیوں کا سامنے کرنے کے باوجود دشمن متعدد بار یہ کوشش کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے اس ملک کو مٹا دیا جائے۔ دشمن کی آنکھ میں اسلام کے نام پر بنی یہ ریاست کھٹکتی ہی رہتی ہے۔ لیکن ہماری بہادر فوج نے دشمن کے دانت اس انداز میں کھٹے کئے ہیں کہ اب وہ رہتی دنیا تک یہ زخم یاد کر کے بلبلاتا رہے گا۔ بھارت کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ جذبہ ایمانی سے سرشار ہمارے نوجوانوں نے بہادری کی ایسی مثالیں قائم کی ہیں کہ پوری دنیا داد دیے بغیر نہ رہ سکی۔ جانبازوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وطن عزیز کی حفاظت کی ہے۔ فضا میں کارنامے سر انجام دیتے ہوئے دشمن کے ان گنت جنگی جہازوں کو مار گرایا ہے۔ تاک تاک کر نشانے لگائے ہیں کہ کوئی بھی نشانہ خطا نہ ہونے پائے۔ دشمن کے وہ جنگی جہاز جن کی دھوم اور شہرت پوری دنیا میں تھی۔ وہ زمین پر سجدہ ریز ہوئے پڑے تھے۔ دشمن کا غرور خاک میں مل گیا تھا۔ پاکستان کی افواج کی فضا میں ہونے والی کاروائی کو دیکھ کر دنیا دنگ رہ گئی۔ لیکن یہ سب صرف اس وقت تک ہی محدود نہیں ہے۔ بلکہ مستقبل میں جب بھی کوئی دشمن اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کی کوشش کرے گا تب ہی اسے یہ باور کروایا جائے گا کہ اس کا پالا کس قوم سے پڑا ہے۔ ایسی قوم کہ جو تلواروں کے سائے میں پل کر جوان ہوئی ہے۔ جو شہادت کو تمغہ سمجھ کر اپنے سینے پر سجاتی ہے۔ جس کے لیے وطن عزیز سب سے اولین ترجیح ہوتی ہے۔ ہم "بنیان مرصوص”رہے تھے، رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ یعنی کہ "سیسہ پلائی دیوار” جس کو کوئی بھی گرا نہ سکے۔ نوجوان ماؤں اور بہنوں کے آنچل کی لاج رکھتے ہیں۔ قائد سے کیے ہوئے وعدے کی پاسداری کرتے ہیں۔ جو وطن عزیز ان گنت قربانیوں کے صلے میں ملا اس کی قدر دل کی گہرائیوں سے کرتےہیں۔ دشمن ہمیشہ سے ہی وطن عزیز کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے میں مشغول رہتا ہے۔ لیکن اسے کیا معلوم ہے کہ ان جڑوں کی آبیاری میں خون سینچا گیا ہے۔ کیا بھلا کبھی خون کا رنگ بھی پھیکا پڑا ہے؟ بات کی جائے فلسطین کی تو وہاں بھی مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہہ گئی ہیں لیکن پھر بھی انہوں نے کلمہ حق کی بلندی کے لیے وہ سب کچھ کیا جو ایک مسلمان کرتا ہے۔ انہوں نے باطل کو جس انداز میں للکارا ہے۔ دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر جس طرح وہ بہادر نوجوان کھڑے ہوئے ہیں یہ کام صرف جذبہ ایمانی ہی کروا سکتا ہے۔ زندگی ان پر تنگ ہو گئی لیکن پھر بھی وہ ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کے جذبے سرد نہیں پڑے۔ بلکہ مزید ابھر کر وہ سامنے آئے ہیں۔ اللہ رب العزت پاکستان کی افواج کو سلامت رکھے۔ یہ وہ فوج ہے جس نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اپنے سر لے لی ہے۔ اللہ رب العزت اس فوج سے دنیا کی امامت کا بہترین کام لے۔ آمین ثم آمین

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر:مائرہ سعید

    ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر:مائرہ سعید

    جنگی معرکے چاہے ہتھیاروں کی مدد سے لڑے جائے یا پھر اپنی جسمانی طاقت کے بل بوتے پر؛ ہمت، دلیری، پامردی اور عزم و استقلال کی روشن مثالیں پیش کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے! جب بھی باطل قوتوں نے سر اٹھایا ہے۔ حق کے علمبرداروں نے انہیں اپنے زورِ بازو کے دم سے نیست و نابود کیا ہے۔ پاکستان کے ماضی پر اگر نظر دوڑائی جائے تو ایسے بہت سے واقعات صفحہ قرطاس پر بکھرے دکھائی دیتے ہیں۔ جب پاکستانی فوج نے متحد ہو کر ظلم و جبر کے خلاف نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ! اپنے عملی اقدام سے دشمنانِ پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ اپنے اس اقدام سے افواجِ پاکستان نے تاریخ میں ہمت و جواں مردی کی کبھی نہ بھلائی جانے والی مثال رقم کی۔

    10 مئی 2025 کا دن بھی پاکستانی تاریخ میں ایک ایسے ہی یادگار باب کے طور پر ثبت ہوا۔ جب افواجِ پاکستان نے بنیان مرصوص "سیسہ پلائی دیوار” کی عمدہ مثال پیش کی۔ 7 مئی سے 10 مئی کے دوران بھارت کی جانب سے پاکستان کے مختلف حصوں پر پے در پے کیے جانے والے حملوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہی۔ جن کے باعث دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدگی اختیار کر گئے۔ ان حالات نے پاکستان کو ایک ایسے نازک موڑ پر لا کھڑا کیا، جہاں کسی بھی غلط فیصلے کے سنگین نتائج کا سامنا پوری قوم کو کرنا پڑ سکتا تھا۔ ایسے میں افواج نے اپنی فوجی طاقت کو استعمال میں لاتے ہوئے ان تمام حالات کے پیشِ نظر وطن عزیز کی بقاء اور سلامتی کی خاطر متحد ہو کر بھارتی حملوں کے منہ توڑ جواب میں آپریشن "بنیان مرصوص” کا باقاعدہ آغاز کیا۔ پاکستان کی سرحدوں پر بھارت کی جانب سے کیے جانے والے حملے جب شدت اختیار کر گئے؛ تو اس کے جواب میں پاکستانی فوج نے اپنے دفاع میں اس کاروائی کا آغاز کیا۔ پاکستان نے 10 مئی کو علی الصباح میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے بھارتی اہداف کو نشانہ بنایا۔ موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں مختلف ایئر بیسز اور عسکری تنصیبات کو تباہ کیا گیا تھا۔ بھارتی فوج کو نہ صرف مالی بلکہ جانی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

    آپریشن” بنیان مرصوص” جو اپنے نام سے ہی اپنے مقصد کو عیاں کر رہا تھا۔ جس نے دشمن کو ایک واضح اور دو ٹوک پیغام دیا۔ انہیں نہ صرف شکست سے دوچار کیا بلکہ مستقبل کے لیے بھی واضح تنبیہہ کی کہ اگر دوبارہ جارحانہ رویہ اپنایا تو اس کے نتائج پہلے سے کئی گنا زیادہ سنگین اور ناقابلِ تلافی ہوں گے۔

    اس کاروائی کے ذریعے انہوں نے نہ صرف دشمنوں کی چالوں کو ناکام بنایا بلکہ یہ ثابت کیا کہ پاکستان کا دفاعی سسٹم نہ صرف مضبوط ہے بلکہ ہر دم اپنے ملک کی حفاظت کے لیے تیار ہے۔ اس اقدام کی بدولت نہ صرف پاکستان کو عسکری کامیابی حاصل ہوئی بلکہ قومی وقار اور خودداری میں بھی اضافہ ہوا۔ قوم کا افواج پر یقین مزید پختہ ہوا۔ پاکستان ایک سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہے ایسی آہنی دیوار جسے کوئی بھی عبور کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ جو یہ کوشش کرتا ہے وہ اس سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتا ہے۔ اس کے وجود کا کوئی ذرہ باقی نہیں رہتا۔

    آپریشن کا اختتام ہوتے ہی پاکستان کے مختلف علاقوں سے "اللہ اکبر” کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ یہ وہ موقع تھا جب پوری قوم نے اپنے جوانوں کے اس جرات مندانہ اقدام کو دل سے سراہا۔ ہر خاص و عام شخص کی آنکھوں میں فوج کے لیے محبت و عقیدت اور فخر کے ملے جلے تاثرات نمایاں تھے۔ عوام نے گھروں، سرکاری دفاتر اور سوشل میڈیا کے استعمال سے محافظوں کی کامیابیوں پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔غرض! ہر سوں فتح کی خوشی میں جشن سا سماں دیکھنے کو ملا۔ جبکہ دوسری جانب جھوٹے پروپیگنڈوں کا سہارا لے کر پاکستان کو نقصان پہچانے والوں کی تمام تر کوششیں رائیگاں گئی۔ وہ اپنی شکست کو چھپانے کے لیے دلیلیں پیش کرتے رہے۔ انہیں نہ صرف اپنی ہار کا سامنا کرنا پڑا بلکہ وہ اپنے ہی ملک و قوم کے سامنے شرمندہ تعبیر بن گئے۔
    پاکستان کا یہ اقدام ہمیشہ ہمارے لیے قابلِ تقلید رہے گا۔ پاکستان کا ہر فرد اس سیسہ پلائی دیوار کی ایک اینٹ ہے۔ جب تمام اینٹیں متحد ہوتی ہیں تب ہی عمارت مضبوط اور مستحکم بنتی ہے۔

    میدان چاہے جنگ کا ہو یا نفرت کا، رشوت کا ہو یا بدعنوانی کا، قتل و غارتگری کا ہو یا فریب کاری کا، ظلم و جبر کا ہو یا پھر نا انصافی کا؛ ہر فرد اس میدان کو روکنے میں، اس کے خلاف آواز اٹھانے میں بنیان مرصوص ہے۔ ہم سب کو چاہیے کہ اپنی حقیقی زندگیوں میں بھی برائی کے تمام عوامل کے خلاف بنیان مرصوص بنیں۔ تاکہ ہم محض کسی خاص موقع پر نہیں بلکہ ہر دن، ہر لمحہ خود سے یہ کہ سکیں "ہم بنیان مرصوص ہیں”۔

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں جان لڑانے اور خطرہ سہنے کے لیے تیار ہوں۔ اللّٰہ تعالیٰ کو جو فوج چاہیے۔ اس میں تین صفحات پائی جانی چاہئیں۔ ایک یہ کہ وہ خوب سوچ سمجھ کر اللّٰہ کی راہ میں لڑے اور کسی ایسی لڑائی نہ لڑے جو کسی فی سبیل اللہ کی تعریف میں نہ آتی ہو۔ دوسری یہ کہ وہ بدنظمی انتشار میں مبتلا نہ ہو۔ بلکہ مضبوط کے ساتھ صف بستہ ہو کر لڑے۔تیسری یہ کہ دشمنوں کے مقابلے میں اس کی کیفیت "سیسہ پلائی سی کی سی ہو۔”

    تاریخ شاہد ہے کہ ذلت ورسوائی ہمیشہ ان کے حصے میں آتی ہے جو پروپیگنڈا اور مادی برتری کے نشے میں بدمست ہو کر حیثیت سے بڑے خواب دیکھنے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ زمینی حقائق کیا ہیں۔ کچھ ایسا ہی ہمارے ہمسایہ ملک نے گزشتہ برس مئی میں کیا۔ پہلے پہلگام کا سانحہ کروایا پھر بنا تحقیق و ثبوت کے پاکستان پر الزام لگا دیا۔ اسی کو جواز بنا کر 7 مئی 2025 کو رات کے اندھیرے میں حملہ کر دیا۔ جواب میں پاکستان کا آپریشن بنیان المرصوص محض ایک عسکری جواب نہ تھا بلکہ تزویراتی انا کے منہ پر پڑنے والا وہ عالمی طمانچہ تھا جس کی حدت دشمن کے ایوانوں میں برسوں محسوس کی جاتی رہے گی۔ دشمن کی خام خیالی تھی کہ وہ سرحدوں پر مہم جوئی کرکے مغربی سرحدوں سے فتنۃ الخوارج کو مہرے بنا کر ارض پاکستان کی سالمیت سے کھلواڑ کر لے گا۔ مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کا واسطہ اس سپہ سالار سے ہے جو سید بھی ہے حافظ قرآن بھی ہے۔ جس کے سینے میں قرآن ہو اس کے لشکر کا سکوت کسی مہیب طوفان کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ اس کی ضرب کا کوئی مداوا نہیں ہوتا۔
    ستیزہ کار ہے ازل سے تا امروز
    چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی

    جب سرحد پر فضائیں خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیں اور شب کی سیاہی دشمن کے ناپاک عزائم میں ضم ہو جائے تو ایک آواز گونجتی ہے۔ ایک عہد، ایک قسم اور ایک نعرہ پاکستان زندہ باد۔ یہ نعرہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ایک فوجی کا آخری سانس بن جاتا ہے جو وہ اپنے وطن پر وار دیتا ہے۔ یہ نعرہ ایک پائلٹ کا جگر ہے جو فضا میں دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے کہ میں اقبال کا شاہین ہوں جو گرنا نہیں جھپٹنا جانتا ہوں۔ ہمارے محافظ دشمن کو بتاتے ہیں کہ یہ پاک دھرتی، یہ شہداء کے خون سے سینچی ہوئی دھرتی، یہ خطہ زریاب، یہ دھرتی لاوارث تو نہ تھی، یہ بزدلوں کا ٹھکانہ تو نہ تھی، یہ سڑک کے کنارے لگے درخت کا پھل تو نہ تھی۔ پھر کیوں میرا ہمسایہ 7 مئی کو رات کے اندھیرے میں اس پر چڑھ دوڑا۔ اس عیار کو یہ معلوم تھا کہ اس کے مذموم اور ناپاک ارادوں کو پاک فوج کے غیور، نڈر، جری اور جذبہ شہادت سے سرشار نوجوان ایک ہی وقت میں خاک میں ملا دیں گے۔

    پاکستان نے 10 مئی 2025 کو آپریشن بنیان المرصوص کا آغاز کیا دشمن کے جدید جنگی نظام کو منجمد کرنے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ ان کے چھ رافیل طیارے زمیں بوس کرکے ایسے دانت کھٹے کیے کہ رہتی دنیا تک قند و شیریں اشیا کو منہ لگانے سے پہلے سو بار سوچے گا۔ جن ہتھیاروں پر جن طیاروں پر بھارت کو ناز تھا۔ ہمارے شاہینوں کی مہارت کے سامنے بے بس نظر آئے۔ معرکہ حق نے بھارت کو یہ واضح پیغام دیا کہ
    نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو
    تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

    معرکہ حق صرف ایک جنگ نہیں بلکہ فیصلہ کن موڑ تھا۔ جس نے پاکستان کی تقدیر کا رخ موڑ دیا۔ یہ معرکہ عزم و ہمت، حکمت عملی اور دلیر قیادت کا ایسا مظاہرہ تھا جس نے دنیا کو ایک مضبوط پیغام دیا۔ پاکستان نہ صرف اپنی خود مختاری کا دفاع کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک ذمہ دار کردار ادا کر سکتا ہے۔ جس کی مثال حالیہ ایران امریکہ جنگ میں ثالثی کے کردار میں آپ کے سامنے ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور نظر انداز کیا جاتا تھا۔ معرکہ حق نے ثابت کیا کہ قومیں آزمائشوں میں نکھرتی ہیں اور یہی وہ لمحات ہیں جب پاکستان نے خود کو دنیا کے سامنے منوایا۔ آئیں سب مل کر اس عزم کا اعادہ کریں کہ ہم اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ اپنے وطن کی حفاظت کریں گے اور ہر سازش کا ناکام بنا دیں گے۔
    وطن کی خاک گواہ رہنا، ہم نے یہ عہد نبھایا ہے
    ہر دشمن کو للکارا ہے، ہر وار کو ٹھکرایا ہے

    قومیں صرف جغرافیائی سرحدوں کا نام نہیں ہوتیں بلکہ وہ نظریات، اقدار اور قربانیوں کی امین ہوتی ہیں۔ جب کوئی قوم اپنے مقصد، اپنے نصب العین اور اپنی شناخت پر متحد ہو جائے تو وہ ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن جاتی ہے۔ تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ اتحاد میں طاقت ہے اور تفرقہ کمزوری کی علامت۔ “ہم بنیانِ مرصوص ہیں” دراصل اسی اتحاد، استقامت اور مضبوطی کی علامت ہے جو کسی بھی معرکۂ حق میں کامیابی کی ضمانت بنتی ہے۔
    بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر کھڑے ہوتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

  • پاکستان عالمی بحرانوں سے نکل آیا،  سیاسی جماعتوں کو خود احتسابی کی ضرورت ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان عالمی بحرانوں سے نکل آیا، سیاسی جماعتوں کو خود احتسابی کی ضرورت ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عسکری و ریاستی اداروں نے ملک کو سنبھالا، اب سیاسی قیادت عوامی خدمت کا امتحان دے

    وی آئی پی سیاست نہیں، عوامی خدمت وقت کی ضرورت — آنے والے انتخابات سے قبل جماعتوں کو خود کو بدلنا ہوگا

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اندرونی استحکام، سیاسی سنجیدگی اور قومی یکجہتی کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ گزشتہ برسوں میں عالمی سطح پر پیدا ہونے والے بحران، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود پاکستان نے جس تدبر اور حکمت عملی کے ساتھ اپنے مفادات کا دفاع کیا، اس میں بلاشبہ عسکری قیادت، سفارتی اداروں اور دیگر ریاستی اداروں کا اجتماعی کردار نمایاں رہا۔ ایک مربوط ٹیم ورک کے ذریعے نہ صرف پاکستان کو کئی بین الاقوامی چیلنجز سے نکالا گیا بلکہ دنیا میں پاکستان کا تشخص ایک ذمہ دار اور سنجیدہ ریاست کے طور پر بھی ابھر کر سامنے آیا۔ آج پاکستان بعض اہم عالمی معاملات میں ثالثی اور مصالحتی کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم دوسری جانب ملک کی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ آنے والے انتخابات کی تیاری صرف جلسوں، نعروں اور میڈیا مہمات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی جماعتوں کی حقیقی تنظیم سازی پر توجہ دیں۔ سیاسی جماعتیں کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہوتی ہیں اور اگر انہی کے اندر انتشار، اقرباپروری، مفاداتی سیاست اور غیر سنجیدہ عناصر شامل ہوں گے تو جمہوریت کا اصل حسن متاثر ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اندر موجود ایسے عناصر کا احتساب کریں جو جماعتوں کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ان مخلص، باصلاحیت اور دیانت دار افراد کو آگے لائیں جو واقعی عوامی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست میں وی آئی پی اور پروٹوکول کلچر نے عوامی رابطے کو کمزور کیا ہے۔ سیاسی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوامی نمائندگی صرف عہدوں، تصاویر اور بیانات سے نہیں بلکہ میدان میں موجود رہنے، عوام کے مسائل سننے اور عملی خدمت سے حاصل ہوتی ہے۔ جو لوگ خود کو جماعتوں کے مرکزی رہنما کہتے ہیں، انہیں اپنے کارکنوں اور زمینی حقائق سے رابطہ مضبوط کرنا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت ان کے کارکن اور عوامی اعتماد ہوتے ہیں، نہ کہ محض ٹی وی مباحث یا سوشل میڈیا مہمات۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی مقبولیت یا غیر مقبولیت کے بحث سے بالاتر ہو کر قومی سیاست کو سنجیدگی، نظریاتی وابستگی اور خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ عوام اب صرف نعروں سے متاثر نہیں ہوں گے بلکہ وہ کارکردگی، کردار اور خدمت کو ووٹ دیں گے۔ جمہوریت کا حسن بھی یہی ہے کہ اقتدار کو عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا جائے، نہ کہ ذاتی تشہیر یا مفادات کا۔ اگر سیاسی جماعتیں واقعی مستقبل کی سیاست میں اپنا مقام مضبوط کرنا چاہتی ہیں تو انہیں اپنی تنظیموں کو فعال، نظریاتی اور عوام دوست بنانا ہوگا۔ یہی مضبوط جمہوریت اور مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے۔

  • چولستان یونیورسٹی، ڈاکٹر طارق جاوید کی بطور وائس چانسلر ذمہ داریوں کا آغاز ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    چولستان یونیورسٹی، ڈاکٹر طارق جاوید کی بطور وائس چانسلر ذمہ داریوں کا آغاز ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    وقت کے وسیع دامن میں کچھ لمحات ایسے بھی آتے ہیں جو محض رسمی نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے اوراق میں ایک روشن حوالہ بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک خوشگوار لمحہ اُس وقت سامنے آیا جب چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کی قیادت ایک ایسے صاحبِ علم، صاحبِ کردار اور صاحبِ بصیرت انسان کے سپرد کی گئی، جنہیں میں نہ صرف ایک وائس چانسلر کے طور پر بلکہ ایک دیرینہ رفیق، ہم خیال ساتھی اور مخلص دوست کے طور پر جانتا ہوں۔ پروفیسر ڈاکٹر ایم۔ طارق جاوید کی بطور وائس چانسلر تقرری بلاشبہ ایک ادارہ جاتی فیصلے سے کہیں بڑھ کر ایک فکری، علمی اور اخلاقی سمت کا تعین ہے—ایک ایسا فیصلہ جو آنے والے برسوں میں اس جامعہ کی شناخت کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کرے گا۔

    زندگی کے سفر میں بہت سے لوگ ملتے ہیں، کچھ محض راہگزر کے ساتھی ہوتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی موجودگی انسان کی سوچ، فکر اور طرزِ عمل پر دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید اُنہی شخصیات میں سے ہیں جن کے ساتھ گزرا ہوا وقت آج بھی ذہن کے دریچوں میں تازہ ہے۔جامع زرعیہ فیصل آباد میں ڈاکٹر طارق جاوید ،ڈاکٹرمحسن رضا اور راقم شاہد نسیم یک جان تین قالب تھے۔چار دہائیوں سے ذیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اور خود غرض زمانے کے نشیب وفراز نے ہماری دوستی پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔ ہم آج بھی ایک دوسرے کے لئے ویسے ہی ہیں ۔ڈاکٹر طارق جاوید کی شخصیت میں جو سادگی ہے، وہ بناوٹ سے پاک ہے؛ جو محنت ہے، وہ دکھاوے سے عاری ہے؛ اور جو قابلیت ہے، وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہی اوصاف انہیں ایک عام استاد سے ایک غیر معمولی قائد میں ڈھالتے ہیں۔

    تعلیم کے میدان میں اصل کامیابی صرف ڈگریوں کے حصول یا عہدوں کے ارتقاء سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے جانچی جاتی ہے کہ انسان اپنے علم کو کس حد تک دوسروں کے لیے روشنی بنا پاتا ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی زندگی اسی اصول کی عملی تصویر ہے۔ انہوں نے ہمیشہ علم کو بانٹنے، طلبہ کو آگے بڑھانے اور تحقیق کے نئے دروازے کھولنے کو اپنا نصب العین بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب وہ اس عظیم ذمہ داری پر فائز ہوئے ہیں تو دل یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منصب ان کے لیے نہیں بلکہ وہ اس منصب کے لیے بنے ہیں۔

    چولستان یونیورسٹی، جو پہلے ہی اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی ہے، اب ایک ایسے رہنما کے ہاتھوں میں ہے جو نہ صرف ادارے کی علمی ضروریات کو سمجھتا ہے بلکہ دورِ حاضر کے تقاضوں سے بھی بخوبی آگاہ ہے۔ آج کا زمانہ صرف روایتی تعلیم کا نہیں بلکہ تحقیق، جدت اور عملی مہارت کا زمانہ ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی سوچ میں یہی ہم آہنگی موجود ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک یونیورسٹی کی ترقی صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ اسے معاشرے، صنعت اور معیشت کے ساتھ جڑنا ہوگا۔ ان کی قیادت میں یہ جامعہ یقیناً تحقیق کو تجارتی مواقع میں بدلنے، طلبہ کو عملی میدان کے لیے تیار کرنے اور قومی معیشت میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوگی۔

    مجھے بخوبی یاد ہے کہ بطور ساتھی انہوں نے ہمیشہ مشکل حالات میں بھی حوصلہ نہیں ہارا۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور لہجے میں اعتماد اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ وہ مسائل کو رکاوٹ نہیں بلکہ مواقع سمجھتے ہیں۔ یہی رویہ آج ایک وائس چانسلر کے طور پر ان کی سب سے بڑی طاقت بنے گا۔ کیونکہ اداروں کی ترقی صرف وسائل سے نہیں بلکہ وژن، عزم اور قیادت کی مضبوطی سے ہوتی ہے—اور یہ تینوں خوبیاں ان کی شخصیت میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔

    ایک سچا معلم ہمیشہ اپنے شاگردوں کے مستقبل کو اپنے حال پر ترجیح دیتا ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید بھی اُن اساتذہ میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی توانائیاں صرف اپنی ذات کی ترقی پر صرف نہیں کیں بلکہ اپنے طلبہ کو بھی کامیابی کی راہوں پر گامزن کیا۔ ان کے شاگرد آج مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، اور یہ ان کی تربیت کا عملی ثبوت ہے۔ ایسے میں جب وہ ایک بڑے ادارے کی قیادت سنبھالتے ہیں تو یہ توقع بجا ہے کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو روشن کریں گے۔

    چولستان کے وسیع میدان، جو کبھی صرف ریگستان کی پہچان تھے، آج علم و تحقیق کے نئے افق بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس خطے میں تعلیم کا فروغ نہ صرف مقامی سطح پر ترقی لائے گا بلکہ قومی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی تقرری اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ ان کی قیادت میں یہ جامعہ نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک مثالی ادارہ بن سکتی ہے۔

    یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آج کے دور میں تعلیمی اداروں کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے—وسائل کی کمی، معیارِ تعلیم کا دباؤ، اور عالمی سطح پر مقابلہ۔ لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب قیادت مضبوط ہو تو مشکلات راستہ نہیں روکتی بلکہ راستے بناتی ہیں۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی پیشہ ورانہ بصیرت اور انتظامی صلاحیتیں ان چیلنجز کو مواقع میں بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ وہ نہ صرف ایک بہترین استاد ہیں بلکہ ایک مدبر منتظم بھی ہیں، اور یہی امتزاج کسی بھی ادارے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

    بطور دوست، ان کی کامیابی میرے لیے ذاتی خوشی کا باعث ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر یہ ایک اجتماعی مسرت ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ایک ایسے رہنما کے سپرد ہوا ہے جو دیانت، محنت اور قابلیت کا پیکر ہے۔ میں اور ڈاکٹر محسن رضا دل کی گہرائیوں سے انہیں اس عظیم منصب پر فائز ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، ہمت اور حکمت عطا فرمائے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھا سکیں۔
    مجھے پورا یقین ہے کہ ان کی قیادت میں چولستان یونیورسٹی نہ صرف تعلیمی میدان میں نئی کامیابیاں حاصل کرے گی بلکہ تحقیق، جدت اور معاشی ترقی کے نئے باب بھی رقم کرے گی۔ ان کا وژن، ان کی محنت اور ان کی قیادت اس ادارے کو ایک نئی شناخت دے گی—ایک ایسی شناخت جو قومی اور عالمی سطح پر باعثِ فخر ہوگی۔

    آخر میں، میں اپنے اس عزیز دوست، قابل ساتھی نو منتخب وائس چانسلر کو یہی کہنا چاہوں گا کہ آپ کی یہ کامیابی،تعیناتی آپ کی محنت کا ثمر توہے ہی۔۔۔لیکن آج خوشی کے اس موقع پرمجھے آپ کے شریف النفس والد محترم یاد آرہے ہیں جو جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ایڈمن آفس کے قابل رشک ملازم تھے ،جنہوں نے کبھی اپنی خدمات اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔۔۔۔۔ میرا دل یہ گواہی دیتا ہے کہ ان ہی کی دعاؤں کی بدولت یہ ممکن ہوا ہے اور آپ کا مستقبل اس سے بھی زیادہ روشن ہے۔ آپ کی قیادت میں یہ جامعہ یقیناً ترقی کی نئی منازل طے کرے گی، اور آپ کا نام ان رہنماؤں میں شامل ہوگا جنہوں نے نہ صرف اداروں کو سنوارا بلکہ قوموں کے مستقبل کو بھی روشن کیا۔

    اللہ تعالیٰ آپ کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور آپ کے علم، بصیرت اور قیادت کو اس ملک و قوم کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین۔

  • مزدور کا مجبور ڈے سارا سال رہتا ہے،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    مزدور کا مجبور ڈے سارا سال رہتا ہے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    مزدور کے لیے مزدور ہونا اتنا تلخ احساس نہیں جتنا مجبور ہونا ہے مہنگائی بے روزگاری وہ سیاسی دہشت گردی ہے جو ایک مزدور کو مجبور بنا کر اُسی کے ہاتھوں مروا دیتی ہے اس بے حسی و بے یارو مددگار دور میں جی کر زندگی پہ احسان کرنے والے مزدور کے ہاتھوں کے چھالے ایک عبادت گزار کے ماتھے پر بنے سجدوں کے نشان سے زیادہ خدا کو محبوب ہیں۔

    حقیقی مزدور وہ ہے جو محنت میں دیانتدار ہو مزدور کی اُجرت کے بارے میں ایک حدیث بہت بیان کی جاتی ہے کہ مزدور کی مزدوری اُس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو اس حدیث کی حقیقی وضاحت سے آشنا ہونا ہی ایک حقیقی مزدور کی پہچان کرواتا ہے یعنی مزدوری اس ایمانداری سے کی جائے کہ پسینے سے شرابور ہو جائے جو مزدوری کے ساتھ مخلص نہیں وہ محنت چور ہے اُس کی اُجرت برکت سے محروم ہے سب سے بہترین کمائی انسانی ہاتھوں کی محنت ہے مزدور حادثے کا شکار تو ہو سکتا ہے مگر بیماری کا نہیں۔مزدوری کا جسم ورزش کا محتاج نہیں ہوتا۔مزدوری انبیاء اکرام کا پیشہ رہا ہے۔حضرت سلیمان ؑ کو خدا نے زمین کی ہر مخلوق پر حکومت عطا کی تھی مگر وہ اپنا گزارا ٹوکریاں بنانے کی مزدوری سے کیا کرتے تھے۔حضرت داود ؑ نے خدا سے مزدوری مانگ کر لی تھی اُن کے ہاتھوں میں لوہا موم کی طرح نرم ہو جایا کرتا وہ جنگی لباس زرا بناتے گویا بکریاں اونٹ چرانے سمیت ہر قسم کی مزدوری خدا کے محبوب بندوں کا پیشہ رہی وہ پیشہ جو خدا کی دوستی پر فائز کرتا ہے مزدور مزدوری سے نہیں حکومت کی طرف سے پیدا کیے گئے سخت حالات کی مجبوری سے مارا جاتا ہے۔روز کمانا،روز کھانا، مزدور ڈے کی چھٹی کے دن بھی کام پر لا کھڑا کرتا ہے اس دن چھٹی کی بجائے اُجرت دوگنی دے کر مزدور ں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

    میں نے ایسے انصاف پسند مزدور بھی دیکھے ہیں جو اپنی روٹی ساتھ لیکر کام پہ جاتے ہیں مزدور کی روٹی جواس کی ہتھیلی کی چنگیر پر رکھی ہے اس کے اوپر ایک پیاز ہوتا ہے تازہ پیاز وٹامن اے بی اور سی کا مجموعہ ہوتا ہے کسی اور غذا میں یہ تینوں وٹامن یکجا نہیں پائے جاتے پیاز مزدور کی مادری خوراک ہے۔

    مزدور کسی بھی ریاست کے حسن سلوک کا خاص مستحق طبقہ ہے مزدوروں کی تعداد اُس ملک میں سب سے زیادہ ہوتی ہے جہاں عام عوام کے لیے ماہر و قابل احباب کے زیرسایہ تعلیم و تربیت کے معیاری فری انتظامات نہ ہوں اور اگر ہوں تو وہ اتنے مہنگے ہوں کہ ایک مزدور باآسانی اپنے بچوں کو پرائیویٹ طور پر ترقی کے مقام پر نہ پہنچا سکے۔ترقی یافتہ ممالک میں مزدور بھی تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور ان کی یومیہ اُجرت اتنی پرکشش ہوتی ہے کہ انہیں مزدوری احساس کمتری کی نظر سے دیکھا جانے والا پیشہ نہیں لگتا۔حقوق کی فراوانی میں باوقار زندگی گزارنے والے مزدوری پیشے میں رہتے ہوئے بھی اپنے بچوں کو شاندار مستقبل سے ہمکنار کر سکتے ہیں ہمارے ہاں انسانی حقوق کے فقدان نے مزدور کو صلہ رحمی کا مستحق بنا کے رکھا ہوا ہے کسی بھی دولت یافتہ کاروباری شخص کی ترقی کے پیچھے مزدورں کی محنت کا ہاتھ ہوتا ہے۔

    مزدور کے حالات زندگی کی عکاسی ایک دردناک کیفیت ہے جیسے بیان کرتے قلم بھی اشک بار ہو جاتا ہے مگر احساس مزدور اجاگر کرنے کے لیے اس کرب سے گزرنا بہت ضروری ہے تاکہ صاحب اختیار لوگ کی رُوحوں کو جھنجھوڑا جا سکے مزدور اور مجبور ایک ہی تصویر کے دورُخ ہیں وہ مزدور ہی ہوتا ہے جو بھیک میں ملے پانی کو ٹھکرا کر صبر کے گھونٹ پی کر سفید پوشی کی لاج رکھتا ہے بھٹے پر مزدوری کرتی ماں کو دیکھ کر اس کا بچہ اپنے نصیب کو اس لیے کوستا ہے کہ وہ اپنی جنت کو دھوپ میں جلتا دیکھ رہا ہوتا ہے اس مزدور ماں کے احساس و جذبات کی قیمت کاغذ کے نوٹ ادا نہیں کر سکتے اسی لیے خدا نے اپنی دوستی کا اجر قائم کر رکھا ہے۔جہاں مزدوری کی اُجرت سے زیادہ ضروریات زندگی مہنگی ہوں وہاں ناانصافی کی حکومت قائم ہوتی ہے۔زمین پر قائم ملکوں کے نام پر اُن انسانوں کی قربانیاں دی جاتیں ہیں جن کے لیے خدا نے زمین تخلیق کی ہے گویا حساب زمین کا نہیں زمین پر بسنے والے انسانوں کا لیا جائے گا۔اس زمین پر بسنے والی مزدورں کی لاتعداد گنتی نے خدا کو بتانا ہے کہ بجلی گیس پانی راشن دوائی انصاف سمیت تمام ضروریات زندگی اتنی مہنگی تھیں کہ ہم پسینے کی جگہ خون بھی بہا دیں تب بھی ساری سہولتیں خرید نہیں سکتے اور جنہوں نے یہ ظلم مسلط کیے ہیں اُن کے لیے یہ سب مفت دستیاب ہوتی ہیں اُس دن محب وطنی کا لبادے میں چھپے انسانی حقوق کے مجرموں کو حسرت ہو گئی کہ کا ش ہم بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھنے کی بجائے وہ مزدور ہی ہوتے جن کا دوست خدا آج ہم سے ان کے حقوق کا حساب مانگ رہا ہے۔مزدور سمیت تمام پیشوں سے وابستہ انسانوں کے جائز حقوق کی زمہ داری ریاست کو چلانے والوں پر ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے وہ ریاست انہی کے حقوق کی چوری سے اپنی نسلوں کے مقدر سنوار رہی ہے اس ناانصافی کے نظام میں کئی صاحب کردار لوگ بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے مزدور ابھی تک جیے جارہے ہیں۔ مزدور ملکی و عوامی ترقی کے معمار ہیں ان کو مہنگائی کی سولی سے اتار کر سستی ضروریات زندگی سے وابستہ کرنا ہی ان کا حق دینا ہے۔

  • رائٹرکو اپنی تحریروں جیسا توہونا چاہیے،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    رائٹرکو اپنی تحریروں جیسا توہونا چاہیے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    تحریروں میں اچھی باتیں لکھنے والا رائٹر ضروری نہیں عملی زندگی میں بھی اچھا آدمی ثابت ہو بہت سے مشہوررائٹر دیکھے ہیں جو رائٹر تو بڑے ہیں مگر آدمی چھوٹے ہیں جو اپنی تحریروں میں نفاست پاکیزگی ا حساس و جذبات سے بریزالفاظ و جملوں پر مبنی منظر کشی سے قارئین کی رُوح کو چھو لیتے ہیں گمان ہوتا ہے آسمان سے اترے منظر ہیں مگر وہ ذاتی زندگی میں غیر معیاری گفتگو کرتے ہیں ایک آدمی کے اندر بہت سے آدمی ہوتے ہیں پرتیں ہٹنے یا ہٹانے والے حالات کا سامنا ہو تو پتا چل جاتا ہے۔تین طرح کے لکھاری دریافت ہوئے ہیں ایک جیسا لکھتے ہیں ویسے ہی خود ہوتے ہیں۔دوسراجیسا لکھتے ہیں اُس سے بلکل مختلف ہوتے ہیں تیسرے جو ملے جھلے سے ہیں۔

    سینکڑوں الفاظ بغیر غلطی کے تاثیر سے لبریز لکھنے والے رائٹر خوش بیانی میں ناکام ہوتے ہیں چندجملے کیفیت آمیز لب و لہجے سے لوگوں کے سامنے نہیں بول سکتے اس کے برعکس ایک اداکار جو رائٹر نہیں مگر ایک رائٹر کے جملوں سے ادکاری میں لفطی بیانی کے زریعے انسانی اعصاب پر گہرا اثر چھوڑ دیتے ہیں۔باکرداررائٹرز بہت کم ہیں جو جیسا لکھتے ہیں ویسا بولتے بھی ہیں عام زندگی میں بھی اپنی تحریروں جیسا جیتے ہیں۔دوسرے درجے کے رائٹر جن کی شاعری و تحریروں میں انسانی قدروں کی اعلیٰ ترجمانی ملتی ہے مگر ذاتی طور پر وہ لالچی بدزبان بے فیض ہوتے ہیں وجہ یہ ہے کہ ان کے دماغ کا ایک قلمی حصہ خوبصورت ہے اور باقی عملی حصہ غیر معیاری ہے لگتا ہے ساری اچھائی قلم کے زریعے کاغذ پر اتار کر عام زندگی میں اچھائی سے خالی ہوجا تے ہیں ان کا خلوص مفاداتی مال و شہرت کی غرض پر ہے یعنی مصنوعی حسن سلوک کی اداکاری کرتے ہیں یہ فنکار بڑے ہیں مگر آدمی چھوٹے ہیں کیمرے کے سامنے بہت متاثر و قیمتی اداکاری کرتے ہیں مگر خدا کے کیمروں کے سامنے اس کی مخلوق سے عملی طور پر بڑے آدمی کے احسا س میں چھوٹے سلوک کرتے ہیں انسانوں میں اداکار بہت ہیں مگر اداکاروں میں انسان بہت کم ملتے ہیں ہر شخص نے اچھائی کا ایک اپناطریقہ اور مقدار مقرر کی ہوتی ہے جو نسلی خصلت کا تعارف ہے کچھ لوگ صرف اتنے ہی اچھے رہتے ہیں کہ ان سے کسی کو فائدہ نہیں مگر نقصان بھی نہیں پہنچ رہا وہ اسی پر مطمن ہیں۔ کچھ بڑی برداشت وہمت کا ظرف رکھتے ہیں فائدہ دے کر نقصان اپنے اعمال نامے میں صلے کے طور پر محفوظ کر لیتے ہیں اس عمل کے اجر کا حسن میرے حسن بیان سے باہر ہے کیونکہ یہ خدائی معاملہ بن جاتا ہے۔

    فن فروش انسان کسی کو مفت میں میسر ہونا خسارہ سمجھتے ہیں شہرت سے دنیا کمانے والوں کو انسانیت کمانے کے گمان میں لانے سے پہلے انہیں معاملات کے ترازو میں تول لیں تاکہ ان کی بات اور ذات کا تضاد واضع ہو سکے۔ادکاری کے ذریعے معاشرے میں مصنوعی رنگ بھرنے سے نام تو کمایا جا سکتا ہے مگر اجر نہیں کیونکہ حقیقی کردار نبھانے سے بلند وقار اوراعلیٰ معیار میسر ہوتا ہے ایسے باکردار لوگوں کے مرنے کے بعد بھی ان کے نیکیاں لکھنے والے فرشتوں کو چھٹی نہیں ملتی۔علم کے سمندر سے عمل کا قطرہ زیادہ قیمتی ہے یہ دنیا بڑی حیرت ناک و پراسرار ہے یہاں اکثریت میں اچھائی کے پیچھے کمائی چھپی ہے جن کا نظریہ یہ ہے کہ پیسا ہو چاہے جیسا ہو۔میرے نزدیک دنیا کی دولت خدا کا انسانی ایمان و معیارچیک کرنے والا ایک ٹیسٹر ہے جیسے انسان بھی استعمال کرکے نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔

    انسان ہو کر انسانیت کمانا ہی اصل خدائی کمائی ہے بے وقعت کر دینے والی دولت کے تالاب میں غوطے کھا کر مرنے سے بہتر ہے غربت کی زمین پر خودداری کے فاقوں میں سینہ تان کر جیا جائے یہ حیات خودداری بڑے لوگوں کا انتخاب ہوتا ہے جو چھوٹے فن کو بھی منتخب کرتے ہیں تو اسے عزت دلا دیتے ہیں ورنہ زیادہ تر چھوٹے لوگ بڑے فن کا انتخاب کرکے اُس فن کی عزت کا لباس پہنے پھرتے ہیں ان سے جب انسانی حسن سلوک کا واسطہ پڑتا ہے تونتیجہ افسوس نکلتا ہے چھوٹا آدمی بڑے فن کو بھی چھوٹابنا دیتاہے اوربڑا آدمی چھوٹے فن کو بھی بڑا بنا دیتا ہے۔بڑا آدمی بڑے فن سے وابستہ ہوتا ہے تو اس کے گزر جانے کے بعد بھی ان کی تخلیق زمانے میں ٹھہری رہتی ہے۔عام لوگ وقت تخلیق میں محدود وقت کے لیے خاص ہو جاتے ہیں یعنی جب وہ تخلیق کرتے ہیں تو وہ وہ نہیں ہوتے جو عام وقت میں ہوتے ہیں اسی لیے عام وقت میں انہیں ملیں تو دوسرا شخص پاتے ہیں عزت دلانے والا عمل عاجزی کا تقاضا کرتا ہے مگر جب عاجزی کی بجائے غرور تکبر بدسلوکی پاتا ہے تو آسمانی فضاؤں میں اُڑنے والے کو زمینی پستیوں پہ لا کھڑا کر دیتا ہے یہی وجہ ہے اکثر شہرت پانے والے لوگ گمنامی میں نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں جو وقت شہرت میں احترام انسانیت بھول کر لوگوں کا مزاق اُڑایا کرتے تھے وہ مرگ بسترپر آتے ہی آنسوؤں سے باتیں کرتے امداد کے طلبگار ہوجاتے ہیں کتنے ہی ایسے شہکار تھے جنہیں زمین کا معدہ پانی کی طرح پی گیا اور زمانہ دیکھتے کا دیکھتا ہی رہ گیا۔اور کئی ایسے بڑے تخلیق کا رجوساری زندگی فن فروشی سے بچتے ہوئے فاقوں میں زندگی گزار گئے ان کے چلے جانے کے بعد ان کی تخلیقات نے ان کو ایسا زندہ کیا کہ لوگ انہیں مل نہ سکنے پر پچھتا تے ہیں۔ رائٹرکو اپنی تحریروں جیسا توہونا چاہیے۔

  • آن لائن دباؤ ، لڑکیاں خود کو مارکیٹ کی پروڈکٹ سمجھنے لگی ہیں،انکشاف

    آن لائن دباؤ ، لڑکیاں خود کو مارکیٹ کی پروڈکٹ سمجھنے لگی ہیں،انکشاف

    جدید ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا، فلٹرز اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اثرات نے نوجوان لڑکیوں کی زندگی کو جس طرح بدل دیا ہے، اس پر ایک نئی کتاب نے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    برطانوی مصنفہ فرییا انڈیا (Freya India) نے اپنی پہلی کتاب “Girls®” میں دعویٰ کیا ہے کہ آج کی نوجوان خواتین خود کو انسان کے بجائے ایک “پروڈکٹ” کی طرح دیکھنے لگی ہیں، جسے مارکیٹ کے مطابق بہتر، پیک اور ریٹنگ کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔“لڑکیاں خود کو مارکیٹ کی پروڈکٹ سمجھنے لگی ہیں”فرییا انڈیا، جو 26 سالہ مصنفہ ہیں، نے امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ “نوجوان خواتین اب اپنے آپ کو ایک ایسی چیز کے طور پر دیکھ رہی ہیں جسے مارکیٹ کے مطابق بہتر بنایا جائے۔ وہ اپنی زندگی کے تجربات کو پیک کرتی ہیں اور پھر آن لائن لوگوں کی رائے اور ریٹنگ کا انتظار کرتی ہیں۔”ان کے مطابق یہ رجحان صرف ذاتی احساسات تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے سماجی اور معاشی نظام کا حصہ ہے، جہاں انسانیت کی جگہ “ڈیجیٹل پریزنٹیشن” نے لے لی ہے۔

    کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح نوجوان لڑکیاں اپنی خود اعتمادی کے مسائل کے دوران ایسے ڈیجیٹل ماحول میں گھری ہوئی ہیں جہاں چہرے بدلنے والے فلٹرز ،مصنوعی ذہانت پر مبنی ایڈیٹنگ ٹولز،انسٹاگرام انفلوئنسرز کے مکمل طور پر ایڈٹ شدہ لائف اسٹائل شامل ہیں،ان کے مطابق یہ سب چیزیں حقیقی زندگی کے احساسات کو مزید پیچیدہ اور غیر حقیقی بنا رہی ہیں۔فرییا انڈیا لکھتی ہیں کہ جب نوجوان ذہنی دباؤ یا جذباتی مسائل کا شکار ہوتی ہیں تو انہیں ٹک ٹاک تھراپی ویڈیوز، یوٹیوب مشورے، اور آن لائن میڈیکل اشتہارات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو اصل علاج کے بجائے “فوری حل” پیش کرتے ہیں۔

    کتاب میں ڈیٹنگ ایپس اور پورن انڈسٹری کے اثرات پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ مصنفہ کے مطابق آج کی نوجوان نسل کو محبت اور رشتوں کے حوالے سے بھی ایک مصنوعی دنیا میں رکھا جا رہا ہے، جہاں ٹنڈر جیسے ایپس انسانی تعلقات کو “سوائپ کلچر” میں بدل دیتے ہیں،انفلوئنسرز خوف اور کنفیوژن کو منافع میں تبدیل کرتے ہیں،نوجوان لڑکیوں کو اپنی فطری خواہشات پر بھی شرمندہ کیا جاتا ہے،فرییا انڈیا کے مطابق موجودہ بحران صرف ٹیکنالوجی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے سماجی تبدیلیاں بھی ہیں، جیسے مذہبی اور اخلاقی نظام کا کمزور ہونا،خاندانی ڈھانچے میں بگاڑ،کمیونٹی اور اجتماعی زندگی کا خاتمہ ہے،ان کے مطابق یہی خلا سوشل میڈیا نے پر کیا، مگر اس نے “حقیقی تعلق” کے بجائے “ڈیجیٹل متبادل” فراہم کیے۔ مصنفہ کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نئی نسل یہ بھی نہیں جانتی کہ وہ کس چیز کو نقل کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے “ہم صرف اسکرول کر رہے ہیں، کام کر رہے ہیں، خرید رہے ہیں اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ،لیکن تنہائی کے ساتھ۔”

    فرییا انڈیا نے بتایا کہ انہوں نے یہ خیال 2021 میں اس وقت محسوس کیا جب وہ ایک کیفے میں کام کر رہی تھیں اور نوجوان لڑکیوں کے رویوں کو غور سے دیکھ رہی تھیں۔ یہی مشاہدات بعد میں ان کی کتاب کی بنیاد بنے۔