Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ریاست کی بقا کی اصل قیمت، پاک فوج کی قربانیاں اور شہداء کا قرض،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ریاست کی بقا کی اصل قیمت، پاک فوج کی قربانیاں اور شہداء کا قرض،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں آئین بننے اور ٹوٹنے کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود ریاست، عوام نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کبھی آئین معطل ہوا، کبھی توڑا گیا اور کبھی آئین کو محض ایک تقریری کتاب بنا کر الماریوں میں بند کر دیا گیا۔ سوال یہ نہیں کہ آئین کتنی بار بنا اصل سوال یہ ہے کہ آئین پر کب اور کس نے عمل کیا؟ جمہوریت کے نام پر جلسے ہوئے نعروں کی گونج رہی مگر جمہوریت کے ثمرات کبھی گلی، محلے، کھیت اور کارخانے تک نہ پہنچ سکے۔ ووٹ مانگا گیا، اقتدار ملا مگر عام آدمی کے مسائل ہر دور میں پس منظر میں دھکیل دئیے گے۔ ریاست ہو گی ماں جیسے نعرے لگائے گے۔ قانون کی حکمرانی محض تقاریر اور قراردادوں تک محدود رہی، قانون کمزور کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ثابت ہوا۔ توانائی کے بحران دہائیوں تک قومی و مباحث کا حصہ رہے مگر بجلی اور گیس کے بحران کا مستقل حل کسی حکومت کی ترجیح نہ بن سکا، وقتی اقدامات سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور الزام تراشی کے سوا عوام کو کچھ نہ ملا، ہر آنے والا حکمران ماضی کو کوستا رہا، اور مستقبل کو وعدوں کے رحم و کرم پر چھوڑتا رہا۔ سچ یہ ہے کہ وطن عزیز میں اقتدار کی سیاست زیادہ تر عوامی خدمت نہیں بلکہ ذاتی و گروہی مفادات کی جنگ رہی ہے۔ ملک کی تعمیر و ترقی کو نعرہ ضرور بنایا گیا مگر اسے قومی عہد کبھی بھی بنایا نہ جا سکا عام آدمی آج بھی اسی سوال کیساتھ کھڑا ہے کیا یہ خوبصورت وسائل سے مالا مال ملک کبھی اسکے لیے بھی بنے گا؟ قصہ مختصر آئین، جمہوریت، قانون یہ سب الفاظ پاکستان میں بہت استعمال ہوئے مگر کم برتے گے۔ پاکستان میں آئین محض ایک دستاویز نہیں بلکہ ایک اجتماعی عہد تھا مگر افسوس کہ یہ عہد ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہا۔

    جمہوریت کے نعرے یہاں سب سے زیادہ لگے مگر جمہوریت سب سے زیادہ مظلوم رہی پارلیمان کے تقدس کے قصیدے پڑھے گے مگر عام آدمی کو کچھ نہ ملا۔ جمہوریت اگر عوام کی فلاح کا نام ہے تو پھر یہ کیسی جمہوریت ہے جس کے ثمرات صرف ایوانوں تک محدود رہے؟ قانون کی حکمرانی کے نعرے لگاتے رہے مگر قانون کمزور کے لیے زنجیر اور صاحب اقتدار کے لیے سہارا بن گیا۔ توانائی بحران دہائیوں تک قومی المیہ بنا رہا مگر کسی حکومت نے اسے قومی، ہنگامی حالت سمجھنے کی زحمت نہ کی، بجلی اور گیس کے بحران کو وقتی نعروں سبسٹڈیوں اور بیانات سے ٹالا جاتا رہا یہ بحران نہیں طرزِ حکمرانی کی نااہلی کا مسلسل ثبوت تھا۔ سیاست خدمت نہیں اقتدار کی کشمکش رہی ملک کی تعمیر و ترقی کو قومی فریضہ نہیں بلکہ انتخابی نعرہ بنا دیا گیا۔ ناکامیوں، آئینی انحرافات اور سیاسی مفادات کی جنگ کے تمام تر حقائق کے باوجود ایک سچ ایسا ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔

    پاکستان اگر آج بطور ریاست قائم ہے اگر اسکے شہر، گاؤں اور سرحدیں دشمن کی یلغار سے محفوظ ہیں تو اسکے پیچھے وہ خون ہے جو پاک فوج کے جوانوں نے اس مٹی کے لیے بہایا یہ کوئی جذباتی دعوی نہیں یہ زمینی حقیقت ہے۔ ملک کے ہر حصے میں، ہر ضلعے، ہر قصبے کے قبرستان گواہ ہیں کہ اس دھرتی کی حفاظت صرف بیانات سے نہیں لاشوں، قبروں اور پرچم میں لپٹی میتیوں سے ہوئی ہے۔ جوانوں نے نہ حکومت دیکھی، نہ اقتدار، نہ مفاد انھوں نے صرف وردی دیکھی حلف دیکھا اور وطن کی مٹی کو اپنی جان سے زیادہ عزیز جانا، انکی قربانیوں کی بدولت آج سیاست دان سیاست کر رہے ہیں۔ ادارے تنقید برداشت کر رہے ہیں اور عوام بھی سوال اٹھانے کے قابل ہے۔ آج ہم اگر قلم اٹھا سکتے ہیں، اختلاف کر سکتے ہیں، سوال پوچھ سکتے ہیں تو یہ آزادی ہمیں انہی قبروں سے ملتی ہے جن پر سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے۔ یہ بھی تاریخ کا کڑوا سچ ہے کہ ریاستی غلطیوں کی قیمت اکثر وردی نے ادا کی ہے جب پالیسی ناکام ہوئی تو بندوق تھامنے والا جوان آگے تھا، جب دشمن نے وار کیا تو سینہ تان کر کھڑا ہونے والا سپاہی تھا۔ شہادت اپنی جگہ مگر وطن کی حفاظت کا آخری مورچہ ہمیشہ پاک فوج ہی بنی۔ یہ ملک کسی تقریر سے نہیں، کسی نعرے سے نہیں بلکہ شہداء کے خون سے کھڑا ہے۔ اگر آج پاکستان محفوظ ہے تو یہ کسی ایک حکومت، ایک جماعت یا ایک دور کا کارنامہ نہیں بلکہ ان ماؤں کی قربانی ہے جہنوں نے بیٹے دئیے، ان بیویوں کی خاموشی ہے جہنوں نے سہاگ قربان کیا۔ اور ان بچوں کی آنکھوں میں ٹھہرے ہوئے وہ خواب ہیں جو وطن پر نثار ہو گے۔ یہ قرض شاید کبھی ادا نہ ہو سکے مگر یاد رکھنا، ماننا اور سرجھکانا کم از کم ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔

  • قائدِ اعظمؒ۔ ایک عزم، ایک قیادت، ایک انقلاب،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    قائدِ اعظمؒ۔ ایک عزم، ایک قیادت، ایک انقلاب،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    لیڈر لوگوں کو شعور دیتے ہیں۔ نئی نسل کو انقلاب کے لیے تیار کرتے ہیں۔ وہ تاریخ کے اوراق میں نئی داستانیں رقم کرتے ہیں۔ اور دلوں میں ہمیشہ کے لیے بس جاتے ہیں۔ انہیں کسی نام نہاد طاقت کی آشیرباد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایسی ہی ایک متاثر کن شخصیت، دور اندیش لیڈر، مدبر سیاست دان اور فہم و فراست سے آراستہ قانون دان ہمارے محسن، ہمارے قائد، محمد علیؒ جناح ہیں۔

    برصغیر پاک و ہند کی تاریخ گواہ ہے۔ کہ مسلمانوں نے آٹھ سو سال سے زائد عرصہ یہاں حکمرانی کی تھی۔ پھر یہاں نوآبادیاتی نظام قائم ہوا۔ اور انگریزوں کے دور سو سالہ دورِ حکومت کا آغاز ہو گیا۔ چونکہ مسلمان اپنے وطن پہ اس بیرونی تسلط کے خلاف مزاحمت کا موجب رہے تھے۔ اس لئیے اس دو سو سالہ نو آبادیاتی تسلط میں ایک طرف انگریزوں کے زیرِ عتاب ر ہے۔ تو دوسری طرف ہندوؤں کے متعصبانہ رویہ کا بھی شکار رہے۔ مسلمانوں کے اس محکومی کے دور میں ایک چراغ روشن ہوا۔ جن کا نام محمد علیؒ جناح تھا۔ جو آگے چل کے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے نجات دہندہ و رہبر ثابت ہوئے۔
    قائدِ اعظم محمد علیؒ جناح 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کا آغاز 1982ء میں کیا۔ اور 1893ء میں میٹرک پاس کرنے کے بعد قانون کی اعلی تعلیم کے حصول کے لئیے لندن روانہ ہو گئے۔ آپ بچپن سے ہی منفرد اور تعمیری سوچ کے حامل تھے ۔ معروف مصنف اور سوانح نگار ہیکٹر بولیتھو نے 1954ء میں قائدِ اعظمؒ کی سوانحِ حیات Jinnah: Creator” of Pakistan” میں ایک واقعہ لکھتے ہیں۔ کہ ‘ قائدِاعظمؒ نے کھارادر میں اپنے محلے کے بچوں کو کنچے کھیلتے دیکھا تو ان سے کہا کہ وہ کنچے نہ کھیلیں، اس سے ان کے ہاتھ اور کپڑے گندے ہوتے ہیں۔ اس کے بجائے انہوں نے ان بچوں کو کرکٹ کھیلنے کا مشورہ دیا اور کرکٹ سکھائی بھی۔ پھر جب قائدِاعظمؒ برطانیہ جانے لگے تو انہوں نے اپنی کرکٹ کِٹ انہی بچوں کے حوالے کردی۔

    قائدِ اعظمؒ ایک سچے مسلمان اور محبِ رسول اللہﷺ تھے ۔ آپ نے لندن کی "لنکنز اِن” یونی ورسٹی میں اس لئیے داخلہ لینے کو ترجیح دی ۔ کہ اس کے صدر دروازے کے اوپر دنیا کو قوانین سے متاثر کرنے والے عظیم رہنماؤں میں سب سے اوپر جناب رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰﷺ کا نامؐ مبارک درج تھا۔ آپ نے 19 سال کی عمر میں بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ اور 1896ء میں وطن واپس آ گئے ۔ قائدؒ نے وطن واپسی پہ لندن میں اپنے ساتھی وکلاء سے کہا۔ "میں ایک بہت بڑے مقصد کے لیے ہندوستان واپس جا رہا ہوں”۔

    وطن واپسی پہ قائدِ اعظمؒ نے برصغیر کی سیاست کو ایک نیا رخ دیا۔ آپ نے مسلمانوں کے حقوق کے لئیے عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھا ۔ اور 1906ء میں نیشنل کانگریس میں شمولیت اخیتار کی۔ آپ کو ہندو، مسلم اتحاد کا سفیر کا خطاب دیا گیا۔ مگر کانگریس کا عملی طور پہ حصہ بننے کے بعد قائدِ اعظمؒ پہ ہندو متعصبانہ اور مفاد پرست رویہ جات نے آشکارا کر دیا ۔ کہ اس کا مسلمانوں کی بہتری سے کوئی واسطہ نہیں ۔ 1913ء میں آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اخیتار کی ۔ اور مسلمانوں کے حقوق اور انکی جُداگانہ حیثیت کی بقاء کے لئیے سیاسی و آئینی جہدوجہد کا باقائدہ آغاز کر دیا ۔ جو آپ نے تادمِ مرگ جاری رکھا۔

    برصغیر کے ہندو سیاست دانوں اور قائد اعظمؒ کی سوچ و فکر کے زاویوں میں بے حد فرق تھا۔ ایک دفعہ گاندھی نے ان سے کہا:۔”آپ نے مسلمانوں پر مسمریزم کر دیا ہے”۔ جناحؒ نے برجستہ جواب دیا:۔” جی اور آپ نے ہندؤوں پر ہپناٹزم ”۔

    قائد اعظم محمد علیؒ جناح نے اپنی دور اندیش سوچ اور فہم و فراست کے سبب یہ جان لیا تھا۔ کہ مسلمانوں کی بہتری و بقاء صرف الگ وطن کے حصول میں ہے۔ آپ نے اپنی اعلیٰ قائدانہ صلاحیتوں اور مدبرانہ حکمت ء عملی سے مسلمانوں میں حیران کن عزم، اتحاد اور انقلابی سوچ و افکار پھونک دیئے تھے۔ مسلمانوں کی بہترین دانشورانہ انداز میں رہبری پہ قائد کو قائدِ اعظمؒ کا خطاب پہلی بار 1938ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پٹنہ میں اجلاس میں مولانا مظہر الدین کی طرف سے ملا ۔ جو پورے برصغیر میں پھیل گیا۔ سن 1941ء میں ایک مرتبہ قائدِ اعظمؒ مدراس میں مسلم لیگ کا جلسہ کر کے واپس جارہے تھے۔ کہ راستے میں ایک قصبہ سے گذر ہوا۔ جہاں مسلمانوں نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ سب پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا رہے تھے۔ اسی ہجوم میں پھٹی پرانی نیکر پہنے ایک آٹھ سال کا بچہ بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہا تھا،اسے دیکھ کر قائدِ اعظمؒ نے اپنی گاڑی روکنے کو کہا اور لڑکے کو پاس بلا کر پوچھا ”تم پاکستان کا مطلب سمجھتے ہو؟“لڑکا گھبرا گیا۔قائدؒ نے اس کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے پیار سے پھر وہی سوال پوچھا۔ لڑکا بولا ۔ ”پاکستان کا بہتر مطلب آپ جانتے ہیں،ہم تو بس اتنا جانتے ہیں جہاں مسلمانوں کی حکومت وہ پاکستان اور جہاں ہندووں کی حکومت وہ ہندوستان۔“قائدِ اعظمؒ نے اپنے ساتھ آئے صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ”مدراس کا چھوٹا سا لڑکا پاکستان کا مطلب سمجھتا ہے۔۔ لیکن گاندھی جی نہیں سمجھ سکتے۔“یہ بات صحافی نے نوٹ کرلی۔ اور اگلے روز تمام اخبارات میں یہ خبر شائع ہو گئی۔

    امریکی مورخ و مصنف سٹینلے وولپرٹ 1984ء میں شائع ہونے والے اپنی مشہور کتاب "Jinnah of Pakistan” میں لکھتے ہیں ۔
    “تاریخ کا رخ بدلنے والے لوگ بہت کم ہوتے ہیں، دنیا کا نقشہ بدلنے والے اس سے بھی کم، اور ایک نئی قوم کی بنیاد رکھنے والے تو نہ ہونے کے برابر۔ محمد علیؒ جناح نے یہ تینوں کام انجام دیئے۔”

    بابائےؒ قوم نے ناصرف برصغیر کے مسلمانوں کو ایک متحد قوم میں ڈھالا، بلکہ اس قوم کی آنے والی نسلوں کے لئیے اپنے غیر متزلزل عزم اور مسلسل جدو جہد وجہد سے ایک آزاد وطن پاکستان بھی حاصل کیا۔ پاسبانِؒ ملت نے 1947ء میں دستور ساز اسمبلی میں خطبہِ صدارت میں ایک واضح لائحہء عمل دیتے ہوئے فرمایا؛” اگر ہم اس عظیم مملکت پاکستان کو خوش اور خوشحال بنانا چاہتے ہیں ۔ تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں بالخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرنی ہو گی۔ ”

    زندہ قومیں اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھولتیں۔ 25 دسمبر، یومِ قائد کے موقع پر، قوم محسنِ ملت قائداعظم محمد علیؒ جناح کو سلام پیش کرتی ہے۔
    ؂
    ملت کا پاسباں ہے محمد علیؒ جناح
    ملت ہے جسم، جان ہے محمد علیؒ جناح

  • جب تلاش اسکرین سے نکل کر ثقافت بن جائے

    جب تلاش اسکرین سے نکل کر ثقافت بن جائے

    کبھی وقت تھا کہ سوال ذہن میں آتا تو انگلیاں گوگل کی طرف بڑھتی تھیں، اب سوال ابھرتا ہے اور انگلی خود بخود ٹک ٹاک کی اسکرین پر پھسل جاتی ہے،اب سوال صرف یہ نہیں کہ کیا جاننا ہے، سوال یہ ہے کہ کیسے جاننا ہے اور اسی سوال کے جواب میں پاکستانی صارف نے ایک نئے ڈیجیٹل ہم سفر کا انتخاب کیا ہے،ٹک ٹاک،2025 میں ٹک ٹاک پاکستان کا یہ دعویٰ کہ وہ ملک میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا سرچ پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے، پاکستانی ڈیجیٹل مزاج کی ایک گہری تصویر ہے۔

    لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں ٹک ٹاک پاکستان کی جانب سے صحافیوں کے لیے منعقد ہونے والا “سرچ آن ٹک ٹاک” ایونٹ ایک ڈیجیٹل مکالمہ تھا،اس موقع پر ٹک ٹاک کے ہیڈ آف کمیونیکیشن ساؤتھ ایشیا عماد اور جنوبی ایشیا کے لیے کنٹینٹ آپریشنز کے سربراہ عمائس نوید نے اس بدلتی ہوئی حقیقت پر روشنی ڈالی کہ ٹک ٹاک علم، خبر، رہنمائی اور روزمرہ فیصلوں کا پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے۔اسی تقریب میں ٹک ٹاک نے پاکستان میں 2025 کے دوران سب سے زیادہ سرچ کیے جانے والے موضوعات اور رجحانات جاری کی جو پاکستانی معاشرے کی اجتماعی سوچ، دلچسپیوں اور ترجیحات کا آئینہ ہیں۔

    پاکستانی ٹک ٹاکر کا مزاج محض اسکرول کرنے کا نہیں،وہ ویڈیو دیکھتا نہیں بلکہ ویڈیو میں داخل ہو جاتا ہے۔جب وہ “التت قلعہ، ہنزہ” سرچ کرتا ہے تو صرف تاریخ نہیں چاہتا، وہ پتھروں میں بسی خاموشی، پہاڑوں کی ابدی وقار اور شمالی ہوا کی ٹھنڈک کو محسوس کرنا چاہتا ہے۔اسلام آباد، لاہور، کراچی اور دریائے چناب،یہ مقامات نہیں، شناخت کے استعارے ہیں۔یہ سرچز اس بات کا اعلان ہیں کہ پاکستانی صارف اب اپنے وطن کو نئے زاویے سے دیکھ رہا ہے، اور ٹک ٹاک اس نظر کا عدسہ بن چکا ہے۔

    پاکستان میں کرکٹ محض کھیل نہیں، جذبات کی زبان ہے،بابر اعظم کی سنچری ہو یا پاکستان بمقابلہ بھارت اور جنوبی افریقہ کے مقابلے ،ٹک ٹاک سرچ بتاتی ہے کہ قوم اب بھی ایک گیند پر خوش اور ایک وکٹ پر خاموش ہو جاتی ہے۔ٹک ٹاک نے کرکٹ کو اسکرین کے کونے میں بند اسکور بورڈ سے نکال کر عوامی مکالمہ بنا دیا ہے جہاں ہر شخص مبصر ہے، ناقد ہے،سیلاب جیسے سانحات ہوں یا وائرل نام جیسے “نادیہ میری سونی سوہنی”یہ سرچز بتاتی ہیں کہ پاکستانی صارف خبر کو تنہائی میں نہیں دیکھنا چاہتا،وہ خبر کے ساتھ وابستگی چاہتا ہے، تبصرہ چاہتا ہے، ردِعمل چاہتا ہے۔ٹک ٹاک یہاں لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس کے ساتھ ایک اجتماعی تجربہ فراہم کرتا ہے جہاں دکھ بھی بانٹا جاتا ہے اور امید بھی۔

    2025 کی رپورٹ کا سب سے روشن پہلو علم اور خودی کی تلاش ہے،#StudyTok میں 60 فیصد اور #FitnessTok میں 66 فیصد اضافہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پاکستانی نوجوان اب خود کو بہتر بنانا چاہتا ہے،مصنوعی ذہانت ، سافٹ ویئر اپ ڈیٹس، پروڈکٹ ریویوز اور مہندی ڈیزائنز،یہ سب اس نئی نسل کے سوالات ہیں، جن کے جواب وہ مختصر، سادہ اور بصری انداز میں چاہتی ہے۔

    2025 کی سرچ رپورٹ: ایک نظر میں

    مقامات،اسلام آباد، التت قلعہ ہنزہ، دریائے چناب، لاہور، کراچی

    خبریں و لمحات:بابر اعظم کی سنچری، پاک بمقابلہ جنوبی افریقہ، پاک بمقابلہ بھارت، نادیہ میری سونی سوہنی، سیلاب

    ٹی وی شوز:ترک ڈرامے، تماشا، میری بہوئیں، میں منٹو نہیں ہوں، ہم ایوارڈز 2025

    کھانے:لاوا برگر، بریانی، آلو، دبئی چاکلیٹ، ماچا ڈرنک

    نمایاں رجحانات،پروڈکٹ ریویوز، سافٹ ویئر اپ ڈیٹس، مہندی ڈیزائنز، بلیوں کی مزاحیہ ویڈیوز، AI

    2025 میں ٹک ٹاک پاکستان محض ایک ایپ نہیں رہا،یہ عہدِ حاضر کا ثقافتی جریدہ بن چکا ہے،یہاں ہر سرچ ایک سوال نہیں،ہر ویڈیو ایک جواب نہیں،بلکہ دونوں کے درمیان پاکستانی زندگی کی مکمل کہانی ہے،اور شاید یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان تلاش بھی ٹک ٹاک پر کرتا ہے۔

  • پاکستانی بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور کیوں؟تحریر:  تابندہ طارق عکس

    پاکستانی بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور کیوں؟تحریر: تابندہ طارق عکس

    پاکستانی بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور اس لیے ہیں کہ”اس کی اولین وجہ غربت بھی ہے،شعور کی کمی بھی،ہر پاکستانی ہنرمند،لاتعداد صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔”لیکن اس کے باوجود اپنے ملک کی ترقی و بقاء کے لیے کچھ کرنے کی چاہ ہونے کے بجائے، دوسرے ملک رہائش پذیر ہونا اولین ترجیحات میں شامل کر لیتا ہے۔ہر پاکستانی تعلیم حاصل کرنے کے بعد فوراً دوسرے ملک جا کر اپنے ہنر کے جوہر دکھانا چاہتے ہیں۔”مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال بھی اعلی تعلیم یافتہ تھے۔لیکن انھوں نے قلم کے ذریعے کروڑوں دل میں روشنی کے دیپ جلائے،آزادی کی شمع،قید سوچوں کے محور کو نئی امنگوں میں ابھارا تھا۔”اپنی شاعری سے مسلمانوں میں آزادی کا جذبہ پیدا کر سکتے ہیں۔”تو کیا آج کی نوجوان نسل اپنے ہنر سے اپنے ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے کچھ کرنےکی ہمت کیوں نہیں کرتےہیں۔اپنے ہنر کا استعمال اپنے ملک کی ترقی، کی بجائے دوسرے ملک جانے کو درجی دینا ضروری سمجھتے ہیں۔”اور اس کا الزام بھی ملک کے حکمرانوں کو دیتے ہیں۔”اگر حکمران کچھ نہیں کر رہے،تو مطلب عوام دوسرے ملک بھاگ جائے۔یہ تو کوئی مشکلات کا حل نہیں ہے۔

    ہمارے ملک میں ہزاروں پڑھے لکھے نوجوان موجود ہیں۔لیکن کہتے ہیں ملک میں بیروزگاری عام ہے۔ملک میں روزگار کے مواقع فراہم نہیں کئے جا رہے۔”اس لیے لاکھوں روپے کا قرض اٹھا کر دوسرے ملک روزگار کی تلاش و معاش کے لیے اپنے پیاروں سے دور جانے کو تو تیار ہو جاتے ہیں۔لیکن وہی لاکھوں روپے پاکستان میں لگانے کو تیار نہیں،حالانکہ وہی پیسے پہاں لگا کر نہ صرف اپنے لیے کاروبار کی صنعت لگا کر اپنے ساتھ ساتھ بہت سے اور بے روزگاروں کو بھی روزگار فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔”پاکستان میں زیادہ تر غریب طبقہ افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ نہ تو ان کے پاس اچھی تعلیم حاصل کرنے کی استطاعت ہوتی ہے، اور نہ ہی بنا تعلیم کے انھیں نوکریاں کرنے کے مواقع ملتے ہیں۔اس لیے وہ پاکستان کو چھوڑ کر دوسرے ملک ہجرت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کئی پاکستانی بیرون ممالک ویزہ لے کر چلے جاتے ہیں اور کئی بیچارے مجبور ہو کر تو غیر قانونی راستے اختیار کر لیتے ہیں۔”جس کی وجہ سے بہت بار کئی پاکستانیوں کو اپنی مال اور جان دونوں سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔کئی ماؤں کے لخت جگر موت کی لپیٹ میں گہری نیند کی آغوش میں سو جاتے ہیں۔”جن میں سے کچھ کی تو لاشیں بھی روپوش ہو جاتی ہیں،اور کچھ والدین ہی اپنے پیاروں کا آخری دیدار نصیب ہوتاہے۔”جو پاکستانی غیر قانونی طریقے سے خیر و عافیت سے دوسرے ملک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ان میں سے بھی کچھ وہاں کی ایمبیسی کے ہاتھ لگ جانے پر ساری زندگی تاریک قید خانوں میں گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔جو روزگار تلاش و معاش میں تھوڑے بہت کامیاب ہو جاتے ہیں،تو وہ ساری زندگی چھپ چھپ کر اور ڈر ڈر کر کے ہر لمحہ گزارتے رہتے ہیں۔ہر لمحہ پکڑے جانے کی تلوار ان کے سر پر لٹکتی رہتی ہے،اور گھر والے پرسکون ہو جاتے ہیں،کہ ان کے لخت جگر ان کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے دوسرے ملک پیسے کما رہا ہے،لیکن وہ اس بات سے بالکل بھی واقف نہیں ہوتے ،کہ ان کا لخت جگر وہاں کن مشکلات کا سامنا کر کے،اپنی زندگی داؤ پر لگا کر، ان کی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے اپنی زندگی کو کن خطرات میں ڈال رہا ہے۔

    "پاکستانی بیرون ملک ہجرت کرنے کو آسان سمجھتے ہیں،جبکہ اپنے ملک کو چھوڑ کر دوسرے ملک میں افسران کی غلامی کرنے س،انھیں فخر محسوس ہوتا ہے۔حالانکہ ہمارے ملک میں جتنی زیادہ قابلیت موجود ہے اتنی قابلیت کسی بھی ملک کے نوجوان نسل میں موجود نہیں ہے۔ہمارے ملک کے ہنر سے دوسرے ممالک کے حکمران اور عوام مستفیض ہو رہے ہیں۔لیکن وہی ہنرمندی،صلاحیت،قابلیت اور ذہانت کا مظاہرہ پاکستانی دوسرے ممالک میں اپنی جیب سے اخراجات کر کے انھیں تو ترقی یافتہ بنانے میں دن رات مشقت کر رہے ہیں۔”اپنا سکون،اپنی آزادی،اپنے پیاروں سے دور رہنا اور کتنی ہی مشکلات اس بیرون ملک کی ہجرت میں وہ برداشت کرنا گوارا کر لیتے ہیں۔پر اپنے ملک میں بہتری کی ایک لوع جلانا انھیں مشکل لگتا ہے۔

    ہمارے حکمران عوام کی معاشی بحران بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔اور عوام ان کی ہاں میں ہاں ملانے میں،خامشی سے سب قبول کر رہی ہے۔اگر حکمرانوں کے ناجائز ٹیکس لینے پر عوام یک آواز ہو کر نہ دینے کا احتجاج کر دے تو کوئی حکمران ناجائز طریقے سے عوام کو لوٹنے کی کوشش نہیں کر سکتا ہے۔اور انہی معاشی مسائل نے پاکستانیوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کر رکھا ہے۔لیکن یہاں صرف حکمران ہی ذمہ دار نہیں ہیں،بلکہ عوام بھی برابر کی شریک ہے،ہر آنے والے دنوں میں ٹیکسوں کی لاگت میں اضافے ہو رہے ہیں۔لیکن عوام ٹیکس ادا کرنے کو تیار ہیں،آواز اٹھانے کو تیار نہیں ہیں۔جب ملک میں پہلی بار ٹیکس نافذ کیا گیا،اگر تب عوام اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرتی تو آج یقیناً عوام کے ساتھ اتنی نا انصافی نہ برتی جاتیں،ان ٹیکسوں سے ملک کی بھلائی اور بہتری کے لیے کچھ کرنے کے بجائے، حکمران اپنی تجوریاں بھرنے میں گامزن ہیں۔
    "حالات حاضرہ میں ان حکمرانوں کے خلاف کوئی کارروائی ہو ایسا عوام چاہتی ہی نہیں،بلکہ حکمرانوں کے ہر ناجائز طریقے کار پر مجبور اور زبان جیسی نعمت ہوتے ہوئےبھی،گونگے بن کر ہر اشارے پر عمل درآمد ہو جانے کو تیار رہتے ہیں۔”کیا ایسے ہی حالات کے لیے مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے اپنے الفاظ کو قلم بند کیا تھا،اقبال کا خواب روشن پاکستان کا تھا۔جس کے لیے ہمارے قائد نے ہماری افواج اور بزرگوں نے لاکھوں قربانیاں پیش کی تھیں۔

  • منی مارشل لاء کا گمراہ کن بیانیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    منی مارشل لاء کا گمراہ کن بیانیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز میں آجکل ایک مخصوص طبقہ بار بار یہ دعوی کرتا نظر آتا ہے کہ ملک میں منی مارشل لاء نافذ ہے اگر اس دعوے کو زمینی حقائق کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو یہ بیانیہ ناصرف کمزور بلکہ گمراہ کن محسوس ہوتا ہے۔ مارشل لاء کی تاریخ ہمارے سامنے ہے، آئین کی معطلی، اسمبلیوں کی تحلیل، سیاسی سرگرمیوں پر پابندی اور براہ راست فوجی حکمرانی۔ سوال یہ ہے کیا آج پاکستان میں ان میں سے کوئی ایک عنصر بھی موجود ہے؟ جواب صاف اور واضح ہے (نہیں)، آج پاکستان میں آئین موجود ہے، پارلیمنٹ فعال ہے اور سب سے بڑھ کر ملک میں منتخب جمہوری حکومتیں برسراقتدار ہیں۔ مرکز میں وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کام کر رہی ہے، مسلم لیگ ن بڑی پارلیمانی جماعت ہے، پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ ہے، سندھ میں پیپلزپارٹی کی منتخب حکومت موجود ہے، کے پی کے میں پی ٹی آئی کی جمہوری حکومت ہے، بلوچستان اور پنجاب میں بھی آئینی سیٹ اپ کے تحت حکومتیں کام کر رہی ہیں۔ اگر یہ سب جمہوریت نہیں تو پھر جمہوریت کسے کہتے ہیں؟

    منی مارشل لاء کا شور دراصل سیاسی ناکامیوں اور عوامی حمایت میں کمی پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش معلوم ہوتی ہے۔ جب دلیل کمزور پڑ جائے تو اداروں پر الزام تراشی آسان راستہ بن جاتی ہے یہ طرزِ عمل نہ صرف سیاسی بلوغت کے منافی ہے بلکہ قومی مفاد کے بھی خلاف ہے۔ ریاستی ادارے خصوصا قومی سلامتی کے ادارے کسی ایک جماعت یا فرد کے نہیں بلکہ پوری قوم کے ہوتے ہیں۔ ان پر بے بنیاد حملے دراصل ریاست کی جڑوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے مگر اختلاف اور تخریب میں فرق ہونا چاہیے اگر واقعی کوئی غیر آئینی اقدام ہو تو اسکی نشاندہی آئینی فورمز، پارلیمنٹ اور عدالتوں کے ذریعے کی جائے نہ کہ سوشل میڈیا کے نعروں اور اشتعال انگیز بیانات سے۔

    منی مارشل لاء کا بیانیہ پھیلانا دراصل عوام کو کنفیوژن میں ڈالنے اور ریاستی اداروں اور جمہوری نظام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام، معاشی بہتری اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے نہ کہ ایسے بیانیوں کی جو مایوسی اور بداعتمادی کو فروغ دیں۔ جمہوریت کو کمزور کرنے کے بجائے اسے مضبوط کرنا ہی تمام سیاسی قوتوں کی ذمہ داری ہے کیونکہ آخرکار نقصان کسی ایک جماعت کا نہیں پورے پاکستان کا ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ منی مارشل لاء نافذ ہے کا شور جو سنائی دے رہا ہے یہ دعوی سننے میں جتنا سنسنی خیز لگتا ہے اتنا ہی بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔ یہ بیانیہ نہ صرف آئینی حقائق کے منہ پر طمانچہ ہے بلکہ جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی ایک خطرناک کوشش بھی ہے۔ اصل مسئلہ جمہوریت نہیں بلکہ کچھ سیاسی عناصر کی اپنی ناکامیاں ہیں جنہیں چھپانے کے لیے ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جب سیاست خدمت کے بجائے الزام تراشی بن جائے تو ایسے ہی بے سروپا نعرے جنم لیتے ہیں۔ ریاستی اداروں کے خلاف عوام کو بھڑکانا کسی بھی طور سیاسی جدوجہد نہیں بلکہ قومی مفاد کے خلاف اقدام ہے۔ یہ طرز سیاست ایک خطرناک بلکہ ناقابل قبول بھی ہے۔ اداروں کو کمزور کرنے کا نقصان کسی حکومت یا جماعت کو نہیں بلکہ پوری ریاست کو ہوتا ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے اسی آگ سے کھیل رہے ہیں۔ جمہوریت کو کمزور کرنے والے دانستہ یا نادانستہ پاکستان کے مفادات سے کھیل رہے ہیں۔ قوم کو ایسے بیانیوں سے ہوشیار رہنا ہو گا اور سیاسی قوتوں کو یاد رکھنا ہو گا کہ سیاست اقتدار کے لیے نہیں ریاست کے استحکام کے لیے ہوتی ہے۔

  • سر! یہ آپ کا ویژن ہے،تحریر: علی ابن ِسلامت

    سر! یہ آپ کا ویژن ہے،تحریر: علی ابن ِسلامت

    موجودہ حالات میں پاکستان دفاع کے علاوہ ہر میدان میں ناکام نظر آ رہا ہے جبکہ حکومت ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کا کریڈٹ لیتی ہے، مسبب الاسباب کوئی نہ جانے کون تھا لیکن اس ملک کو شہباز شریف جیسا مفاہمت پسند لیڈر ملا۔ جہاں اپوزیشن کو بند گلی میں دھکیلا گیا، صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنا یا گیا، عدالتیں میں ترامیم کے ذریعے اختیارات چھین لیے گئے ، معیشت تباہی کے دھانے پر ہے،بیرون ملک دورے عروج پر رہے لیکن نتائج وہ حاصل نہ ہو سکے جن کی امیدیں لگائی جاتیں رہیں۔

    وفاقی حکومت نے پہلے بیس ماہ میں شہباز حکومت نے موجودہ 20 ماہ میں 19 ہزار 369 ارب روپے قرض لیا، 11 ہزار 300 ارب روپے مقامی، 869 ارب روپے غیرملکی قرض۔ ملکی قرض 76 ہزار 979 ارب روپے ہو گیا، قرضوں کے انبار کے باوجود ملک میں سیاسی گہما گہمی ، معاشی و سیاسی بحران نئے ریکارڈ قائم کر چکا ہے، اوور سیز پاکستانی موجودہ حکومت سے فی الحال متنفر ہو چکے ہیں۔ ویسے تو ریکارڈ لفظ بہتر کیلئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہاں سرمایہ کاری میں زوال کا نیا ریکارڈ قائم ہونے کا خدشہ ہے جو ہمیں نہیں پتہ چلا کہ کس کا ویژن ہے مگر غریب ، نادار، لاچار اور مظلوم عوام کے سامنے شہباز شریف کا چہرہ آتا ہے۔ ایک سال میں پاکستانیوں نےدبئی میں 10دس ارب ڈالر کی جائیدادیں خریدیں،لیکن اپنے ملک میں سرمایہ کاری نہیں کر رہے لہذا سرمایہ کاری کےلئے رول آف لاءبہت اہمیت رکھتا ہے۔

    رواں مالی سال مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاری میں گراوٹ کا ایک ناخوشگوار ریکارڈ قائم ہوسکتا ہے۔ انوسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی کی شرح 13فیصد سے بھی نیچے گر سکتی ہے۔ سال 2023 میں انوسٹمنٹ پالیسی کا اعلان کرکے انوسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی کی شرح 20 فیصدتک لیجانے کا ہدف طے کیا گیا تھا۔ غیر سرمایہ کاری لانے کیلئے SIFC بھی قائم کی گئی جو ابتک ڈیلیور کرنے میں ناکام رہی ہے۔ تجارت اور صنعت سے وابستہ افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی غیریقینیت اور دہشت گردی پر قابو پا کر سرمایہ کاری کے ماحول کر بہتر کیا جائے۔

    بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش فی کس آمدنی کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کو سب سے پیچھے دیکھنا پڑتا ہے جس کا کریڈٹ لینے کیلئے عسکری اور نہ ہی مقننہ سامنے آتی ہے جبکہ سیاسی لیڈرز اور پارلیمان تو تسلیم کرتا ہے کہ ہم پر دباؤ ہے جس کی وجہ سے ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔‏1990 میں پاکستان کی فی کس آمدنی بنگلہ دیش کے مقابلے میں دوگنی اور بھارت کے مقابلے میں 56 فیصد زیادہ تھی۔ 2024 میں بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی پاکستان سے 53 فیصد زیادہ ہے، جبکہ بھارت کی فی کس آمدنی پاکستان سے 71 فیصد زیادہ ہو چکی ہے۔ آپ خود سوچیے کہ کیا کمبوڈیا اور برما بھی پاکستان سے بہتر؟ پاکستان میں معاشی حالات کا یہ عالم ہے کہ اس سال 24 ہزار پاکستانی کمبوڈیا گئے، 12 ہزار واپس نہیں آئے۔ 4 ہزار پاکستانی برما گئے، ڈھائی ہزار واپس نہیں آئے۔

    دسمبر کے دوسرے ہفتے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی دوسری جائزہ رپورٹ آئی ہے، 54 شرائط پر قرضہ دیا تھا، اب 11 مزید شرائط لگائی ہیں، چینی کے استعمال والی اشیاء پر ایف ای ڈی لگایا جائے گا۔مشیرِ خزانہ مزمل اسلم نے بتایا کہ عوام پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی 80 فیصد دے رہے ہیں، اس میں بھی 5 فیصد اضافہ ہونے جا رہا ہے، حکومت کو ٹیکس پالیسی اور گورننس پر بات کرنی چاہیے جبکہ پی بی ایس کی آفیشل رپورٹ کیمطابق رجیم چینج سے ایک ہفتہ پہلے اخبار کی ہیڈ لائنز کے مطابق پی ٹی آئی نے وزیرِ اعظم عمران خان کی سربراہی میں پہلے تین سالوں 55 لاکھ نوکریاں پیدا کی اِس دوران پوری دنیا میں کورونا وبا بھی پھیل چکی تھی جبکہ آج کی صورتحال یہ ہے کہ پچھلے تین سالوں میں 14 لاکھ بیروزگار ہوئے

    نا چیز دو دن قبل سوال سے آگے پروگرام سماعت کر رہا تھا جس میں سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفظ پاشا مہمان تھے، وہ بتا رہے تھے کہ ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس میں پاکستان 190 ممالک میں 168 نمبر پر ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان اور بنگلہ دیش 135 کے قریب ہیں اور ان کی رینکنگ بہتر ہوتی جا رہی ہے۔1990 تک ہماری کارکردگی بہتر رہی، ہماری فی کس آمدنی ہندوستان سے بہتر تھی لیکن آج ہندوستان سے 40 فیصد کم ہوچکی ہے، یہ حقائق سننے کے بعد مجھے اپنے اور بچوں کے مستقبل کے ساتھ حال کی بھی فکر ہونے لگی کہ اگر یہی صورتحال رہی تو شہباز شریف کا ویژن تو تباہ ہو ہی جائے گا مگر نواز شریف کی بنائی گئی ن لیگ کا ویژن بھی تباہ ہو جائے گا۔17 دسمبر 2025 کو چئیرمین آل پاکستان ٹیسکٹائل ملز ایسوسی ایشن نے بتایا کہ ملک بھر میں 144 ٹیکسٹائل ملز بند ہو گئیں اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ویژن کے ساتھ اگر ٹیسکٹائل بند ہو رہی ہیں تو پھر اسی ویژن کے ساتھ ان کو بھی تباہی کی جانب جان ہو گا جو اس ویژن کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر رہے ہیں۔

    پاکستان سے رواں سال 85 لاکھ افراد بیرون ملک گئے۔آج پاکستان کا عالمی کرپشن انڈیکس میں 135، نائیجیریا کا 140 نمبر ہے، کرپشن کے ساتھ ملک کو چلانا جمہوریت کے ساتھ چلانے سے ان تمام کیلئے زیادہ آسان ہو چکا ہے۔ہر محکمہ عوام کیلئے دھما کہ ثابت ہو رہا ہے، کبھی لوگوں کو کاروبار تباہ کیا جاتا تو کبھی پولیس کو با اختیار بنانے کی بجائے بے اختیار بنا دیا جاتا ہے جہاں بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، کبھی چالان کے نام پر تو کبھی ٹریفک قوانین کے ذریعے، کبھی انکروچمنٹ تو کبھی کرائم کنٹرول، کبھی انصاف کا نعر ہ تو کہیں عورت کو با اختیار بنانے کا دعوی، یہ کام سب نے شروع تو کیے لیکن ان کو مکمل کرنے سے سب عاری رہے جس کی وجہ سے غربت کے ساتھ جرم، ظلم اور زیادتیاں معاشرے کا حصہ بنتی رہیں، پنجاب حکومت کے کچھ اقدام قابلِ تعریف ہیں جو ملک میں بہتری کا آغاز کر رہے ہیں۔

    ن لیگ مارچ 2022 سے حکومت میں ہے ، احسن اقبال صاحب نے کل ایک بیان دیا کہ حکومت کو مزید 15 سال دیے جائیں ترقی کے لیے پھر ملک کا کچھ ہو سکتا ہے، پرسوں شاہزیب خانزادہ کو بتا رہے تھے کہ ہم ایکسپورٹ کی صلاحیت کو نہیں بڑھا پا رہے، سوال یہ ہے کہ اگر آپ یہ نہیں کر سکتے تو ملک کو آگے کون لیکر جائے گا؟ ‏جب عمران خان کے دور میں عالمی مارکیٹ میں تیل $100 تھا اس وقت پٹرول کی قیمت 150 روپے فی لیٹر تھی آج عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت $60 ڈالر سے کم مگر پٹرول کی قیمت 265 روپے فی لیٹر ہے۔ اب سوال کریں گے کہ اس وقت ڈالر کا ریٹ کیا تھا اور آج؟ جواب بھی لے لیں ڈالر کا ریٹ عمران خان نے تو نہیں بھڑایا؟ دوسرا اس وقت پیٹرولیم لیوی 20 روپے تھا اور آج 80 روپے فی لیٹر ہے۔ کیا پھر ہم یہ کہیں کہ پرانے پاکستان کے بعد نئے پاکستان کا نعرہ برُا تھا مگر ا تنا بڑا نہیں تھا جتنا آج تمام سیاسی جماعتوں نے مقتدر حلقوں کی مدد سے تحریک عدم اعتماد کے بعد ہمیں پرانا پاکستان واپس دے کر عوام کے ساتھ بُرا کیا۔لہذا ہماری خواہش ہے کہ یہ ویژن ہمارا نہ رہے بلکہ سر ! آپ کا ویژن آپ کو مبارک ہو۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • اصلاحات کی راہ میں حائل دیواریں،مسیحائی کا نوحہ اور سسکتی انسانیت،تحریر :قمرشہزاد مغل

    اصلاحات کی راہ میں حائل دیواریں،مسیحائی کا نوحہ اور سسکتی انسانیت،تحریر :قمرشہزاد مغل

    مسیحا جب سے بیوپاری ہوئے ہیں
    سبھی جذبے یہاں آری ہوئے ہیں

    شعبہ صحت کی زبوں حالی اور اس میں اصلاحات لانے کی راہ میں حائل رکاوٹیں ایک ایسا موضوع ہے جس پر برسوں سے بحث ہو رہی ہے، لیکن نتیجہ وہی "ڈھاک کے تین پات” والا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر زمین پر اللہ کا وہ سایہ ہے جو انسانیت کو تکلیف سے نجات دلاتا ہے، اسی لیے اسے "مسیحا” کا لقب دیا گیا۔ مگر افسوس کہ آج کے سرکاری ہسپتالوں میں یہ لقب اپنی معنویت کھوتا جا رہا ہے۔ ہماری میڈیکل یونیورسٹیوں نے صرف "پیشہ ور” پیدا کیے ہیں، "انسان دوست” نہیں۔ ایسے ڈگری ہولڈر ڈاکٹر جن میں تربیت کی کمی ہے انکے لہجے کی تلخی غریب مریض کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک پاشی کا کام کرتی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی زبوں حالی اور انتظامی خرابیوں پر جب بھی بات ہوتی ہے، تو اکثر سارا ملبہ تمام ڈاکٹروں پر گرا دیا جاتا ہے۔ بے شک، چند کالی بھیڑوں اور ہتک آمیز رویہ رکھنے والے ڈاکٹروں کی وجہ سے پورا شعبہ بدنام ہے، لیکن حقیقت کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اسی نظام میں ایسے "ولی کامل” ڈاکٹرز بھی موجود ہیں جن کا وجود انسانیت کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی غریب مریض کو سب سے پہلے جس چیز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ "علاج” نہیں بلکہ "تضحیک” ہے۔ مریضوں کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنا اور لواحقین کو حقارت کی نظر سے دیکھنا اور مریضوں کو بلاجواز بڑے شہروں میں ریفر کرنا اب ایک "معمول” بن چکا ہے جو ان کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنتا ہے۔ جب تک سرکاری افسران اور سیاسی اشرافیہ خود ان ہسپتالوں میں علاج نہیں کرائیں گے، تب تک عام آدمی کی تضحیک کا یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ بلاشبہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اقتدار سنبھالتے ہی شعبہ صحت میں انقلابی اصلاحات کا عزم ظاہر کیا۔ عوام کو علاج معالجے کی جدید سہولیات باہم پہنچانا "فیلڈ ہسپتال” اور "کلینک آن ویلز” جیسے منصوبے اسی ویژن کا حصہ تھے تاکہ غریب کو اس کی دہلیز پر علاج مل سکے۔ تاہم، زمینی حقیقت یہ ہے کہ سی ایم کے ویژن کو "ہائر اتھارٹی” کے ایوانوں میں بیٹھے چند افسران اور بااثر مافیا سبوتاز کر رہا ہے۔ جب تک اوپر بیٹھی بیوروکریسی اور ہسپتالوں کی انتظامیہ مخلص نہیں ہوگی، سی ایم کے احکامات صرف فائلوں کی زینت بنے رہیں گے۔ پنجاب کے شعبہ صحت میں اصلاحات لانا اس لیے بھی مشکل بنا دیا گیا ہے کہ ہائر اتھارٹی میں موجود بعض کالی بھیڑیں (Status Quo) برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال تب تک نہیں بدلے گی جب تک "احتساب کا عمل” بلا امتیاز شروع نہیں ہوتا۔ اگر کسی ڈاکٹر یا پیرا میڈیکل اسٹاف کی غفلت سے جان چلی جائے تو انکوائری کمیٹیوں کا قیام محض "وقت گزاری” کا حربہ ہوتا ہے۔ ان کمیٹیوں کی رپورٹس کبھی منظرِ عام پر نہیں آتیں اور نہ ہی کبھی کسی طاقتور کو سزا دی جاتی ہے۔ صرف اعلیٰ حکام کے ہنگامی دوروں اور معطلیوں سے کام نہیں چلے گا، بلکہ ایک ایسا خودکار نظام درکار ہے جہاں مریض کی شکایت پر فوری اور شفاف کارروائی ہو۔

    ہیپاٹائٹس سی ورٹیکل پروگرام کے بیشتر ڈاکٹرز کمیشن اور مراعات کے چکر میں مریض کو طاقت کی دوائی کے نام پر "ٹھیکے کی وہ ادویات” جن کے فارمولے سے عام آدمی تو دور فارماسسٹ بھی ناواقف ہوتے ہیں جسکے غیر معیاری ہونے کے خدشات ہمیشہ برقرار رہتے ہیں لکھ کر دیتے ہیں تو جب ایک غریب مریض اپنی جمع پونجی نکال کر باہر سے وہ مخصوص دوا خریدتا ہے اور اسے آرام نہیں آتا، تو یہ صرف دوا کی ناکامی نہیں بلکہ پورے انسانیت کے نظام کی ناکامی ہے۔ ادویات کی خریداری میں کمیشن، مشینوں کی مرمت کے نام پر خورد برد، اور تبادلوں کا کاروبار یہ وہ چند عوامل ہیں جن کی وجہ سے چیف منسٹر مریم نواز کا اصلاحاتی ایجنڈا رکاوٹوں کا شکار ہے۔ جب ہسپتالوں کے ایم ایس اور سیکرٹری لیول کے افسران سیاسی مصلحتوں یا ذاتی مفادات کے لیے ملی بھگت کر لیں، تو حکومتی ترجیحات دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ اس صورتحال کا ذمہ دار صرف ڈاکٹر یا نچلا عملہ نہیں، بلکہ وہ پورا سسٹم ہے جس میں سزا اور جزا کا تصور ختم ہو چکا ہے۔ جب بدتمیزی کرنے والے ڈاکٹر یا کرپشن کرنے والے افسر کو "سیاسی پشت پناہی” یا "یونین کے دباؤ” پر بچا لیا جائے، تو بہتری کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟ سی ایم کو اگر اپنا ویژن کامیاب بنانا ہے تو انہیں ہسپتالوں کے دوروں کے ساتھ ساتھ "ہائر اتھارٹی” کی صفائی کرنی ہوگی۔ جب تک سیکرٹریٹ سے لے کر ہسپتال کے وارڈ تک احتساب کا ایک کڑا اور شفاف نظام وضع نہیں ہوتا، تب تک "مسیحائی” صرف کتابوں تک محدود رہے گی اور غریب مریض یوں ہی نظام کی بھٹی میں جلتا رہے گا۔ وزیر اعلی پنجاب کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی "ہائر اتھارٹی” اور بیوروکریٹک رکاوٹیں ہیں جو کسی بھی تبدیلی کو ہضم کرنے کے لیے تیار نہیں رہتیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی چوری، ٹیسٹوں کی مشینوں کا جان بوجھ کر خراب رکھنا اور نچلے سے اوپر کے عملے کی "ملی بھگت” وہ دیواریں ہیں جنہیں مسمار کرنا آسان نہیں ہے۔ جب تک ہسپتالوں کے ایم ایس اور انتظامیہ کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کر کے سخت "کے پی آئیز” (KPIs) پر نہیں پرکھا جائے گا، اصلاحات کا ثمر عام آدمی تک نہیں پہنچے گا۔اصلاحات تبھی کامیاب ہو سکتی ہیں جب وزیر اعلیٰ "سزا و جزا” کے نظام کو سختی سے نافذ کریں انکے پاس سیاسی عزم موجود ہے، لیکن شعبہ صحت کی درستگی کے لیے انہیں نظام کے اندر موجود ان کالی بھیڑوں سے لڑنا ہوگا جو اصلاحات کی راہ میں روڑے اٹکاتی ہیں۔ اگر وہ اپنی ٹیم، خصوصاً سیکریٹری صحت اور ہسپتالوں کے سربراہان کو جوابدہ بنانے میں کامیاب ہو گئیں، تو پنجاب کا شعبہ صحت واقعی بدل سکتا ہے یہ معرکہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔

  • ہر ناپسندیدہ فیصلہ سازش نہیں ہوتا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہر ناپسندیدہ فیصلہ سازش نہیں ہوتا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کی سیاست اس وقت جس فکری ابتری اور بیاناتی انتشار سے گزر رہی ہے اس میں سب سے خطرناک رحجان یہ بنتا جا رہا ہے کہ ہر عدالتی فیصلہ، ہر انتظامی اقدام اور ہر ناگوار نتیجے کو بلاتحقیق اور بلاتاریخ جانے براہ راست پاک فوج سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں اور حامیوں نے اس طرزِ فکر کو باقاعدہ سیاسی حکمت عملی بنا لیا ہے۔ جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ قومی اداروں کے وقار کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ حالیہ دنوں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد جسٹس جہانگیری کے حوالے سے جو شور شرابا برپا کیا گیا وہ اسی روش کی واضح مثال ہے۔ بغیر یہ سمجھے کہ عدالتی فیصلے کس بنیاد پر ہوتے ہیں فورا انگلیاں پاک فوج کی طرف اٹھا دی گئیں۔ حالانکہ اگر ذرا سا بھی تاریخ کا مطالعہ کر لیا جائے تو حقائق بلکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔

    جسٹس جہانگیری کا ماضی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں وہ ایک وقت میں پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالے رہے، پھر پی ایس ایف کے پلیٹ فارم سے سیاست میں متحرک رہے، اس کے بعد ضیاء دور کے ایک جنرل کیساتھ تعلقات رہے اور اسی جنرل کی سفارش پر قائم لیٹریسی اینڈ ماس ایجوکیشن کمیشن (lamic) میں وہ بطور اسسٹنٹ خدمات انجام دیتے رہے۔ یہ سب کچھ ضیاء الحق کے دور سے پہلے اور بعد کی اس سیاسی تاریخ کا حصہ ہے جسے نظر انداز کرنا خود فریبی کے مترادف ہے۔ جب ضیاء الحق کا اقتدار حادثے کا شکار ہوا اور پیپلزپارٹی کا دور آیا تو جمہوری تسلسل کے تحت انہیں گورنر پنجاب جنرل ٹکا خان مرحوم کا پولیٹیکل سیکریٹری ٹو گورنر مقرر کیا گیا۔ پھر بعد میں انہیں سی ڈی اے اسلام آباد میں لینڈ پروکیومنٹ ڈائریکٹوریٹ جیسی پرکشش ذمہ داری ملی جس نے انکی پیشہ وارانہ زندگی کو نئی سمت دی پھر یہ کچھ عرصہ وکالت بھی کرتے رہے۔ اب حالیہ معاملے میں جس جعلی ڈگری کیس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا اسے بھی محض اس لیے متنازع بنانے کی کوشش کی گئی کہ فیصلہ پی ٹی آئی کے بیانیے کے مطابق نہیں تھا۔ سوال یہ ہے اگر تین ججز ایک قانونی عمل کے تحت کسی ڈگری کو جعلی قرار دیتے ہیں تو اس میں پاک فوج کو گھسیٹنے کی کیا منطق ہے؟

    قوم کو سمجھنا ہو گا کہ ہر ناپسندیدہ فیصلہ سازش نہیں ہوتا، ہر عدالتی حکم کسی ادارے کی مداخلت کا نتیجہ نہیں ہوتا، سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر تاریخ سے ناواقفیت اور جذباتی نعروں کے ذریعے قومی اداروں کو متنازع بنانا ایک خطرناک کھیل ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ الزام تراشی سے پہلے حقائق جانیں اور یہ تسلیم کریں کہ ادارے اپنی آئینی حدود میں فیصلے کر رہے ہیں۔ ہر معاملے میں پاک فوج کو موردِ الزام ٹھہرانے سے نہ سیاست مضبوط ہوتی ہے اور نہ ہی جمہوریت تھوڑی سی احتیاط، تھوڑا سا مطالعہ اور کچھ سیاسی بلوغت ہی اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے

  • امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات ،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات ،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    امت محمدیہ میں اللہ نے لاتعداد علما اور فقہا پیدا فرمائے لیکن ان میں امام ابن تیمیہ ایک ہی تھے ۔صدیاں گزر گئیں امام ابن تیمیہ جیسی کوئی دوسری علمی شخصیت پیدا نہیں ہوئی ۔ امام صاحب کا تعلق حران کے معروف علمی خاندان سے تھا جس کے بارے میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے ” ایں ہمہ خانہ آفتاب است “ ۔ امام ابن تیمیہ حدیث ، تفسیر ، فقہ ، اصول فقہ ، تاریخ ، اسماءالرجال ، فسلفہ ،منطق ، ادب کے امام تھے ۔ ان کے علاوہ بھی وہ تمام علوم جو اس وقت رائج تھے حاصل کئے ۔ کوئی بھی ایسا علم نہ تھا جو حاصل نہ کیا ہو۔ تاہم علم تفسیر آپ کا پسندیدہ موضوع تھا ۔ آپ کی تربیت بہت ہی پاکیزہ علمی گھرانے میں ہوئی تھی ۔ قوت حافظہ غضب کا تھا جس کتاب کو ایک دفعہ دیکھ لیتے وہ آپ کو مکمل طور پر یاد ہوجاتی ۔ قرون اولیٰ کے بعد جن چند اہم شخصیات نے اسلام کی نشرواشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا ان میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سرفہرست ہیں ۔ امام ابن تیمیہ مجدد تھے اور علم وہدیت کا ایک ایسا سرچشمہ تھے جن کی ضیا پاشیوں سے دنیائے اسلام جگمگا اٹھی تھی ۔اگر ہم موجودہ حالات کا موازنہ امام صاحب کے دور سے کریں تو ہمیں کافی حد تک مطابقت نظر آتی ہے ۔امام صاحب کی زندگی میں دنیائے اسلام فتنہ تاتار کی غارت گری کا شکار تھی دینی ، سیاسی ، سماجی اور اخلاقی اعتبار سے زبوں حالی کا شکار تھی ، خلافت اسلامیہ پارہ پارہ ہوچکی تھی ۔ حقانیت کا آفتاب ڈوب چکا تھا کہ اللہ نے امام صاحب کو علم وہدی کا آفتاب بنا پر دمشق کے آسمان پر طلوع کیا ۔ آج بھی اگر ہم دیکھیں تو دنیائے اسلام اسی طرح کے حالات سے دوچار ہے ۔ گو کہ آج ہم میں امام ابن تیمیہ جیسی کوئی ہستی اور شخصیت موجود نہیں تاہم امام صاحب کی کتب سے ہم رہنمائی لے سکتے ہیں ۔

    زیر تبصرہ کتاب ” امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات “ اسی نقطہ نظر سے لکھی گئی ہے ۔ یہ کتاب اہل علم کےلئے بہتر ین تحفہ ہے، اس کتاب کی اشاعت سے دارالسلام نے ایک اہم علمی خدمت انجام دی ہے ۔اردو زبان میں ایسی شہرہ آفاق، جامع ، علمی اور تحقیقی کتاب کی ضرورت عرصہ دراز سے محسوس کی جارہی تھی ۔ یہ اپنے موضوع پر شاندار ، بیمثال اور لاجواب کتاب ہے جو کہ دارالسلام انٹرنیشنل کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد کی تصنیف ہے ۔عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں ساتویں صدی ہجری میں پیدا ہونے والے امام ابن تیمیہ نے اس وقت کی ملت اسلامیہ پر چھائے جمود ، تاریکی اور بزدلی کو اپنے قلم ، کردار اور گفتار سے دور کیا۔وہ ملت اسلامیہ کی ان چند شخصیات میں سے تھے جنھوں نے علمی جہاد کے ساتھ ساتھ قلمی جہاد بھی کیا ۔اپنی زبان وبیان اور گفتار وکردار سے مجاہدین اسلام میں جہاد کی روح پھونک دی جبکہ اپنی تلوار سے فتنہ تاتار کا منہ موڑ دیا ۔ یہ کتاب امام ابن تیمیہ کی زندگی ، حالات ، حیات اور خدمات کے متعلق میرے سالہاسال کے مسلسل مطالعہ کا ماحاصل ہے ۔ یہ کتاب علما ، طلبہ ، اساتذہ ، سیاستدانوں اور حکمرانوں سمیت ہر ایک کےلئے مشعل راہ ہے ۔ اس کتاب کے مطالعہ سے آج بھی ملت اسلامیہ پر چھائے جمود اور بزدلی کو دور کیا جاسکتا ہے ۔ امام ابن تیمیہ اپنے وقت کے مجدد ، مصلح اور مجاہد تھے ۔یہی وجہ تھی کہ وہ پوری زندگی حکومتی ایوانوں اور راہداریوں سے دور رہے ۔ انھوں نے کوئی عہدہ قبول نہیں کیا ۔ ساری زندگی مسجد اموی سے متصل ایک چھوٹے سے حجرے میں دین کی آبیاری ، درس وتدریس ، تصنیف وتحقیق اور جہاد فی سبیل اللہ میں گزار دی ۔ وہ راست بازی ، حق گوئی وبے باکی ، زہد وبہادری کے اعلیٰ منصب پر فائز تھے ۔کتاب میں امام صاحب کی ولادت ، خاندان ، ابن تیمیہ کہنے کی وجہ ، ابتدائی حالات ، علوم شریعت کی تجدید ، حصول علم ، دیگر عصری علوم کا حصول ، باکمال مصنف ، محبت رسول کا والہانہ جذبہ ، مخالفین کے درمیان ہمہ گیر شخصیت ، ملکی معاملات میں اصلاحی کردار ، امام صاحب بیحثیت بت شکن ، جیل کی زندگی ، کبائر علما ءکے ہاں امام ابن تیمیہ کا مقام ومرتبہ ، امام ابن تیمیہ بطور ایک مجدد ، تاتاری جنگوں میں شرکت ، شاہ تاتار سے گفتگو ، امام صاحب بطور ایک کامیاب مناظر ، راہبوں ، صلیبیوں ، پادریوں، نجومیوں ، صوفیوں سے مناظرے ، امام صاحب کا دور ابتلاوآزمائش ، ابتلا وآزمائش میں ثابت قدمی ، امام صاحب کے شاگردان رشید ، تصانیف ، آپ کی مشہور تصانیف ، فضل وکمال ، وفات اور جنازہ ۔۔۔۔۔جیسے اہم موضوعات کو زیر بحث بنایا گیا ہے ۔ 4کلر آرٹ پیپر پر طبع شدہ کتاب ظاہری اعتبار سے جتنی خوبصورت ہے باطنی اعتبار سے اس سے بھی کہیں زیادہ دلکش اور جاذب نظر ہے ۔ ایسی علمی ، اصلاحی اور رہنما کتاب کا مطالعہ ہر ایک کےلئے بے حد ضروری ہے ۔کتاب کی قیمت 2700 روپے ہے ۔یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹیریٹ سٹاپ سے حاصل کی جا سکتی ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کے لیے درج فون نمبر 04237324034 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

  • 2025 میں پنجاب کی کارکردگی کا تاثر دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ واضح،تجزیہ”شہزاد قریشی

    2025 میں پنجاب کی کارکردگی کا تاثر دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ واضح،تجزیہ”شہزاد قریشی

    قومیں نعروں سے نہیں، کردار کی پختگی سے بنتی ہیں، حکمرانی کا اصل حسن عوام کے دکھوں کا مداوا ہے، نہ کہ اقتدار کا شور

    کیا آنے والے دنوں میں سیاستدان الزام کی سیاست ترک کر کے خدمت کی راہ اپنائیں گے؟ اگر ایسا نہ ہوا تو تاریخ بڑے بے رحم انداز میں فیصلہ سنایا کرتی ہے

    سیاست اگر خدمت سے خالی ہو جائے تو محض ایک تماشہ بن کر رہ جاتی ہے، اور یہی تماشہ ہم نے ملک کے اکثر حصوں میں دیکھا

    سالِ دو ہزار پچیس جب تاریخ کے اوراق میں رقم ہونے کو ہے تو قومی سیاست کا منظر ایک ایسے شوریدہ دریا کی مانند دکھائی دیتا ہے جس میں آوازیں تو بہت ہیں، مگر سمت کا تعین کم۔ ملک کے چاروں گوشوں میں سیاست دانوں کی زبانیں تیز، لہجے، بلند اور دعوے بے شمار رہے۔ الزام در الزام کا ایسا سلسلہ چلا کہ اصل مسائل گردِ راہ میں دب کر رہ گئے اور عام آدمی حسبِ معمول تماشائی بن کر رہ گیا۔ یہ وہ زمانہ ہے جب قوموں کی تقدیر کا فیصلہ تقریروں سے نہیں بلکہ تدبیر سے ہوا کرتا ہے، مگر افسوس کہ ہمارے ہاں گفتار کو کردار پر فوقیت دی جاتی رہی۔ اس عمومی ابتری میں اگر کہیں نظم و نسق کی کوئی کرن دکھائی دیتی ہے تو وہ پنجاب کے افق پر نمایاں نظر آتی ہے، جہاں وزیراعلیٰ نے سیاست کے شور سے ہٹ کر حکمرانی کے تقاضوں کو سمجھنے اور نبھانے کی سعی کی۔ پنجاب کے شہروں کی گنجان آبادی ہو یا دیہات کی دور افتادہ بستیاں، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے باب میں جو عملی اقدامات سامنے آئے، وہ محض اشتہار کی زینت نہیں بلکہ عوامی زندگی سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں اصلاح، عوامی خدمات کی فراہمی اور انتظامیہ کو جواب دہ بنانے کی کوششیں اس بات کی شاہد ہیں کہ اقتدار اگر چاہے تو خدمت کا روپ دھار سکتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ کوئی بھی حکومت کامل نہیں ہوتی، مگر یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ 2025 میں پنجاب کی سطح پر کارکردگی کا تاثر دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ واضح رہا۔ جب باقی سیاسی افق پر گرد و غبار چھایا رہا، تب یہاں کم از کم یہ احساس زندہ رکھا گیا کہ حکومت کا پہلا فرض عوام کی خبرگیری ہے، نہ کہ محض مخالفین کی خبر لینا۔ چراغ حسن حسرت کے بقول، سیاست اگر خدمت سے خالی ہو جائے تو محض ایک تماشہ بن کر رہ جاتی ہے، اور یہی تماشہ ہم نے ملک کے اکثر حصوں میں دیکھا۔ مولانا ابو الکلام آزاد کی فکر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قومیں نعروں سے نہیں، کردار کی پختگی سے بنتی ہیں، اور حکمرانی کا اصل حسن عوام کے دکھوں کا مداوا ہے، نہ کہ اقتدار کا شور۔ سالِ رفتہ ہم سے یہ سوال چھوڑ کر جا رہا ہے کہ کیا آنے والے دنوں میں سیاست دان الزام کی سیاست ترک کر کے خدمت کی راہ اپنائیں گے؟ اگر ایسا نہ ہوا تو تاریخ بڑے بے رحم انداز میں فیصلہ سنایا کرتی ہے، اور قومیں پھر افسوس کے سوا کچھ ہاتھ نہیں لایا کرتیں۔ روس کے صدر پوٹن نے یورپی رہنماؤں کے بارے میں جو الفاظ ادا کیے ان سے ناصرف دکھ ہوا بلکہ عالمی سفارتی اقدار پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا۔

    قیادت کا اصل حسن طاقت کے اظہار میں نہیں بلکہ ضبط، بردباری اور اخلاقی وقار میں ہوتا ہے۔ روس جیسے بڑے ملک کے صدر سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود اخلاقیات کا دامن تھامے رکھیں گے۔ بین الاقوامی تعلقات میں زبان محض الفاظ نہیں ہوتی بلکہ رویوں اور نیتوں کی عکاس ہوتی ہے۔ اختلاف اپنی جگہ، مفادات کی جنگ بھی اپنی جگہ، مگر تہذیب اور اخلاق وہ اقدار ہیں جو طاقتور کو مزید معتبر بناتی ہیں۔ اگر عالمی رہنما ان حدود کا خیال نہ رکھیں تو پھر امن، مکالمے اور سفارتکاری کی باتیں محض کھوکھلے نعرے بن کر رہ جاتی ہیں۔