Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گڈ گورننس یا بند دروازے؟تجزیہ  :  شہزاد  قریشی

    گڈ گورننس یا بند دروازے؟تجزیہ : شہزاد قریشی

    پنجاب میں موجودہ حکومت کی جانب سے گڈ گورننس، میرٹ پر تقرریوں اور عوامی فلاح کے منصوبوں کا بارہا ذکر کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں جو اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں، وہ بلاشبہ قابلِ تحسین ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں بہتری، تعلیمی اداروں کی بحالی اور عوامی سہولیات پر توجہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عوامی مسائل کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلی واقعی عام آدمی تک پہنچ رہی ہے؟ حکومتی پالیسی اور زمینی حقیقت کے درمیان جو خلا موجود ہے، وہ ضلعی انتظامیہ کے دفاتر میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔راولپنڈی سے لے کر پنجاب کے دیگر اضلاع تک عام شہری کی سب سے بڑی شکایت یہی ہے کہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر جیسے اعلیٰ افسران عوام سے براہِ راست ملنے سے گریز کرتے ہیں۔ دفاتر میں وقت کی پابندی کاغذی حد تک تو موجود ہے، مگر عملی طور پر صورتحال مختلف ہے۔ عام شہری صبح سویرے اپنی درخواستیں لے کر دفاتر پہنچتا ہے، مگر افسران اکثر گیارہ بجے یا اس سے بھی بعد میں تشریف لاتے ہیں۔ اس کے بعد بھی پہلے چند مخصوص افراد، وی آئی پی یا ذاتی جان پہچان رکھنے والے افسر کے کمرے میں داخل ہوتے ہیں، جبکہ عام آدمی انتظارگاہ میں بیٹھا رہتا ہے۔ جب دوپہر کا وقت آتا ہے تو عام شہری کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ صاحب میٹنگ میں ہیں بعد میں آئیے۔ یوں ایک دن نہیں بلکہ کئی دن گزر جاتے ہیں، مگر انصاف کی دہلیز تک رسائی نہیں ہو پاتی۔ یہ رویہ صرف ایک فرد کی بےعزتی نہیں بلکہ حکومت کی مجموعی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ عوام وزیراعلیٰ کو روزانہ نہیں دیکھتے، وہ حکومت کو اپنے ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور اپنے ڈویژن کے کمشنر کے ذریعے پہچانتے ہیں۔ اگر یہی افسر عوام سے دور رہیں تو گڈ گورننس کا بیانیہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ مریم نواز نے سیاسی میدان میں متحرک کردار ادا کرتے ہوئے عوامی سطح پر جو مقبولیت حاصل کی ہے، وہ ضلعی سطح پر افسر شاہی کے رویے کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔ اگر یہ روش برقرار رہی تو یہ نہ صرف انتظامی ناکامی ہو گی بلکہ سیاسی نقصان کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ضلعی افسران کو محض فائلوں کی نہیں بلکہ عوام کی خدمت کی ذمہ داری بھی یاد دلائے۔ وقت کی پابندی، کھلے دروازے اور وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ہی وہ اقدامات ہیں جن سے گڈ گورننس محض نعرہ نہیں بلکہ حقیقت بن سکتی ہے۔ ورنہ خدشہ یہی ہے کہ عوام کے لیے کی جانے والی تمام اصلاحات، بند دروازوں کے پیچھے دم توڑتی رہیں گی۔

  • عالمی سیاسی منظرنامے میں پاکستان  کہاں کھڑا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی سیاسی منظرنامے میں پاکستان کہاں کھڑا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا اس وقت تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی سیاسی منظر نامے سے گزر رہی ہے۔ یک قطبی عالمی نظام دم توڑ رہا ہے اور اسکی جگہ کثیر قطبی دنیا جنم لے رہی ہے، جہاں طاقت کا توازن امریکہ، چین، روس اور علاقائی بلاکس کے درمیان تقسیم ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلی محض سفارتی نہیں بلکہ معاشی، عسکری اور فکری سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ امریکہ اور چین کی بڑھتی ہوئی رقابت نے عالمی سیاست کو نئی سمت دے دی ہے۔ یوکرائن جنگ نے روس اور مغرب کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا جبکہ مشرق وسطی ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ عالمی معیشت مہنگائی، سست روی اور عدم یقین کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ دباؤ میں ہیں۔ ایسے نازک عالمی ماحول میں اور عالمی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔ جغرافیائی طور پر آج بھی خطے میں پاکستان مرکزی حیثیت رکھتا ہے، چین کیساتھ قریبی تعلقات اور سی پیک جیسے منصوبے پاکستان کے لیے مواقعے فراہم کرتے ہیں۔ تاہم مغربی دنیا اور عالمی مالیاتی اداروں سے روابط کی ضرورت بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

    پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ بدلتی عالمی سیاست میں جذباتی نعروں کے بجائے حقیقت پسندانہ اور متوازن خارجہ پالیسی اپنائے، داخلی اتحاد، سیاسی استحکام اور معاشی اصلاحات کے بغیر عالمی سطح پر موثر کردار ممکن نہیں۔ دنیا کمزور معیشتوں کی بات کم اور مضبوط ریاستوں کی بات زیادہ سنتی ہے۔ بلاشبہ پاک فوج اور جملہ اداروں نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط ریاست ہے۔ پاکستان کی سیاسی قیادتیں ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہوکر قومی مفاد کو ترجیح دیں تو پاکستان بدلتی دنیا میں اپنے لیے وقار مقام حاصل کر سکتا ہے، بصورت دیگر عالمی تبدیلیاں ہمارے دروازے پر دستک دیتی رہیں گی اور ہم محض حالات کا شکوہ کرتے رہ جائیں گے۔

  • گوجرخان، اجڑے پارکس کا نوحہ،  کون ہے ذمہ دار؟تحریر:قمرشہزاد مغل

    گوجرخان، اجڑے پارکس کا نوحہ، کون ہے ذمہ دار؟تحریر:قمرشہزاد مغل

    "برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
    ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہوگا”

    غازیوں شہیدوں کی دھرتی تحصیل گوجرخان جس نے نامور شخصیات کو جنم دیا اس دھرتی کے ماتھے کے جھومر اور خوبصورت گلدستے میں وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان، اسپیکر قومی اسمبلی، چیف آف آرمی سٹاف، چیف جسٹس آف پاکستان، ڈی جی آئی ایس آئی سمیت دیگر کئی اہم عہدوں کے نام شامل ہیں۔ مگر افسوس صد افسوس یہاں کے باسی اور خطے کا مستقبل معصوم پھول جیسے بچے سرکاری جدید سہولیات سے آراستہ پارک جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جبکہ مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت 2010 میں اس وقت کے وزیر اعلٰی میاں شہباز شریف کے حکم پر محکمہ جنگلات کے وسیع رقبے چالیس کنال پر بننے والا شریف فاریسٹ پارک گزشتہ پندرہ سالوں میں پروان تو نہ چڑھ سکا بلکہ مقامی سرکردہ سیاسی نمائندگان اور متعلقہ اداروں کی عدم توجہی کے باعث ایک بھیانک داستان ضرور بن گیا، جبکہ اس کے علاوہ بعدازاں جی ٹی روڈ اور سروس روڈز کے درمیان بننے والے متعدد سمال پارک جو کبھی خوبصورت اور آباد ہونے کے ساتھ خوشی اور تفریح کا سماں ہوا کرتے تھے اب حکومتی اداروں، پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی، ضلعی و مقامی انتظامیہ، محکمہ جنگلات سمیت تمام حکومتی نمائندگان کی عدم توجہی اور بےحسی اور وسائل کے غلط استعمال اور ان پر توجہ نہ دینے کے سبب زبوں حالی کا شکار اور کھنڈرات بن چکے ہیں جو تفریحی کے بجائے ویرانی کے مناظر کا نوحہ بیان کرتے ہیں۔ بچوں کے لیے لگے جھولے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جڑی بوٹیوں کی بہتات سے شریف فاریسٹ پارک جنگل کا سماں پیش کرتا ہے، گند اور کچرے سے اٹے واش رومز متعلقہ اداروں کے منہ چڑاتے ہیں، یہ سب وسائل کی کمی، بدانتظامی معاشرتی ترقی میں رکاوٹ سمیت سیاسی رہنماؤں، اداروں کی غفلت سے یہ عظیم جگہیں کھنڈر بن کر ویران ہو چکی ہیں، جو عوامی بے بسی کی عکاسی کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس سے مقامی باسیوں کی مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔

    یہی پارکس لوگوں کو جوڑنے، سماجی سرگرمیوں کا مرکز ہونے کے بجائے تنہائی، بے بسی کا احساس دلانے سمیت والدین کی پریشانی کا موجب بھی ہیں کہ بچے کہاں کھیلیں، پارک فنکشنل نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔ شہر کے اندر بنے سمال پارکس جن پر لاکھوں کروڑوں لگائے گے مگر انتظامیہ، پی ایچ اے، دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے دیکھ بھال اور بنیادی سہولیات فراہم نہ کرنے، ٹوٹے جھولوں، بنچوں کی مرمت نہ ہونے، صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے ناقابل استعمال ہوکر مقامی انتظامی افسران کی کرپشن کی داستانیں سنا رہے ہیں انتظامیہ پارکوں کی مناسب دیکھ بھال میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ جس کی وجہ سے شہر کے پارکوں میں ویرانیوں کے ڈیرے ہیں جسکے باعث نشئیوں اور آوارہ نوجوان نے انکو اپنا مسکن بنا لیا ہے۔ جس کے سبب شہر کے اندر ان منی پارکس میں خواتین نے بھی جانا بند کر دیا ہے تمام پارکس تفریح کی بجائے مسائل کی جگہ اور خطرناک بچھوؤں ،سانپوں اور حشرات کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ معروف تجزیہ نگار شہزاد قریشی نے بھی شریف فاریسٹ پارک جو انتظامی عدم توجہی کا شکار ہو کر تباہ حالی کے مناظر پیش کر رہا ہے، جس میں بنیادی سہولیات کا فقدان اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری میں کوتاہی کی نشاندہی کے ساتھ انکی ذمہ داریاں باور کروائی گئیں۔ جس پر ہائر اتھارٹی متعلقہ حکام سمیت ضلعی و مقامی انتظامی افسران کو ہدایات جاری ہوئیں مگر بعدازاں ان پر عملدرآمد نہ ہونا بھی معنی خیز ہے، آخر ایسی کونسی وجوہات یا پس پردہ طاقتیں ہیں جو سرکاری وسیع رقبے پر اجڑے پارک کو فعال نہیں ہونے دے رہیں؟ آخر کس کو فائدہ پہنچانے کی خاطر سمال پارکس پر توجہ مرکوز نہیں کی جا رہی؟ کس کی ایما، کس کے کہنے اور کسے نوازنے کی خاطر متواسط طبقے کے افراد اور بچوں سے پارکس جیسی سہولت کو چھین کر سرکاری چالیس کنال لبِ جی ٹی روڈ رقبے کو ویران اور کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے؟ جبکہ اس کے برعکس مقامی سیاسی رہنماؤں کا اس اہم بنیادی مسلے پر چشم پوشی اختیار کرنا اور اسے مسلسل پس پشت ڈالنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے اور لمحہ فکریہ بھی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو جس طرح وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز پنجاب کے عوام کو تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے کوشاں ہیں اور خاص کر بچوں کی تفریحی مقامات کی بحالی اور تزئین و آرائش پر انکی توجہ مرکوز ہے اگر ہمارے مقامی رہنما انکو تحصیل گوجرخان کے باسیوں بلخصوص بچوں کی اہم ضرورت کی جانب توجہ مبذول کروائیں تو یقینا جس طرح انھوں نے پنجاب کے دیگر حصوں میں پارکس کی بحالی اور جدید سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی ہے تو وہ اہلیان گوجرخان کو دئیے گے دیگر جدید اور وقت کی اہم ضرورت پروجیکٹس کیساتھ شریف فاریسٹ پارک کو جدید سہولیات کیساتھ آراستہ کرنے کا بہت بڑا تحفہ دینے سے گریز نہیں کریں گی۔ میری وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے عاجزانہ گزارش ہے کہ وہ تحصیل گوجرخان کے باسیوں، بچوں کے کرب کو مدنظر رکھتے ہوئے شریف فاریسٹ پارک جسے مسلم لیگ ن نے ماضی میں بنوایا تھا اسے فنکشنل کروائیں بچوں کے لیے جدید جھولے، بیٹھنے کے لیے بنچز، خواتین و حضرات و بزرگوں کے لیے آرام دہ واکنگ ٹریکس بنوا کر تحصیل گوجرخان کے باسیوں کیساتھ اپنی بے پناہ اور انکو بیش قیمتی تحفہ عنایت فرمائیں۔ مزید برآں پارکوں کی دیکھ بھال اور وہاں موجود سامان اور ملازمین کو چیک کرنے کے لئے عوامی کمیٹیاں بنوائی جائیں جو نہ صرف نگرانی کے فرائض انجام دیں بلکہ اُس سامان کی حفاظت بھی کریں کیونکہ پارکوں کے نام پر مرمت اور دیگر سامان کی خریداری تو کی جاتی ہے لیکن یہ حقیقت سامنے نہیں آتی کہ وہ سامان آخر کہاں چلا جاتا ہے۔ اور تمام پارکس کے لیے سالانہ بنیادوں پر فنڈز مختص کیے جائیں تاکہ پارکس فعال رہیں۔ جس سے بچے، بزرگ، اور خواتین و حضرات تفریحی جیسی بنیادی سہولیات سے لطف اندوز ہوتے رہیں کیونکہ مہنگائی اور وسائل کی کمی کی وجہ سے متواسط طبقہ اپنے بچوں کو تفریحی کے لیے راولپنڈی یا مقامی نجی پارکس میں نہیں لے جا سکتا ہے۔ بقول شاعر کے (امیدِ بہار)
    "گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
    چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے”

  • آج کا نوجوان کتاب سے دور، قلم نگار:  اقصیٰ جبار

    آج کا نوجوان کتاب سے دور، قلم نگار: اقصیٰ جبار

    خوابوں کے چراغ،
    جو کبھی لفظوں میں جلتے تھے،
    اب اندھیروں میں گم ہیں۔
    فطرت کے راز،
    فلسفے کی گہرائی،
    داستانوں کے جہان
    سب ایک دھند میں کھو چکے ہیں۔

    کتاب، جو تھی روشنی کی مشعل،
    اب خاموش ہے،
    ایک بھولی ہوئی یاد کی طرح۔
    صفحات پر پھیلا سکون کا پیام،
    اب شور کی گونج میں دب چکا ہے۔

    آنکھیں اسکرین کی روشنی میں گم،
    فکر کے قافلے راستہ بھول گئے ہیں۔
    نہ سوال باقی، نہ جواب کا شوق،
    صرف ایک خالی پن،
    ایک بے سمت دوڑ۔

    کیا ہم لوٹیں گے اُس دریا کی جانب،
    جہاں حرف بہتے تھے؟
    جہاں سوچ کی خوشبو
    ذہنوں کو مہکاتی تھی؟
    یا یہ فاصلہ
    اک نہ ختم ہونے والا فسانہ بن جائے گا؟

    کتاب اب بھی پکارتی ہے
    خاموشی میں، تنہائی میں،
    اپنے حرفوں کے چراغوں سے

    اقصیٰ جبار

  • مہنگائی کا وار ذلت کا کردار،تحریر:غنی محمود قصوری

    مہنگائی کا وار ذلت کا کردار،تحریر:غنی محمود قصوری

    اس بات میں کافی سچائی ہے کہ گزشتہ چند مہینوں سے پاکستان اور خاص کر پنجاب میں جرائم میں واضع کمی آئی ہے،پنجاب میں اس وقت 90 فیصد جرائم میں کمی واقع ہو چکی ہے جس کا کریڈٹ سی سی ڈی کو پنجاب کو جاتا ہے،تاہم یہ بات بھی سو فیصد سچ ہے کہ اس وقت ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان بھی آیا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،معاشرے میں جرائم تب ہی بڑھتے ہیں جب قانون کمزور پڑ جائے اور سزا کا خوف ختم ہو جائے، بے روزگاری، مہنگائی اور تعلیم کی کمی لوگوں کو غلط راستوں پر دھکیل دیتی ہے، اوپر سے رشوت، سفارش اور پولیس و عدالتوں کی کمزور گرفت مجرموں کو کھلی چھٹی دے دیتی ہے،منشیات، گینگ کلچر، اور سوشل میڈیا فراڈ نئی نسل کو تیزی سے جرم کی طرف لے جا رہے ہیں جس کا سدباب بہت ضروری ہے
    جب زندگی کی بنیادی ضرورتیں ہی عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور نکل جائیں جیسے کہ آٹا مہنگا ہو جائے گیس غائب رہے بجلی کے بل پہنچ سے دور ہو جائیں اور بجلی کا بلب گھر میں روشنی دینے کی بجائے ایک لمبے چوڑے بل کی مد میں گھر میں قبر جیسی وحشت بپا کر جائے،
    نوجوانوں کیلئے روزگار کا کوئی سیدھا راستہ نا ہو تو پھر معاشرہ آہستہ آہستہ سلگنے لگتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے چہروں سے سکون اُڑ جاتا ہے گھروں میں جھنجھلاہٹ اور بے چینی ڈیرے جما لیتی ہے
    جب پیٹ خالی ہو اور جیب میں چند روپئے بھی نہ ہو تو انسان کا صبر بھی جواب دے دیتا ہے
    پھر وہی ہوتا ہے جو نہیں ہونا چاہئے

    ایسے عالم میں چھوٹے موٹے جھگڑے بڑے فساد بن جاتے ہیں اور چوری چکاری بڑھتی ہے تب نوجوانوں کا اعتماد، خواب اور حوصلہ سب کمزور پڑنے لگتے ہیں
    جب وڈیرے اور امیر سرعام قانون کی دھجیاں اڑائیں اور جب دل چاہے غریب کو چیونٹی کی طرح روند دیا جائے اور اوپر سے جب کہیں سے انصاف نہ ملے، ادارے بھی اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں تو لوگوں کا نظام پر سے یقین اٹھ جاتا ہے جس کی وجہ سے ایک ایسا خلا بنتا ہے جس میں غصہ، مایوسی اور جرائم پلتے ہیں اور پھر چند افراد،اداروں کی نااہلی سے جنت جیسا قطعہ ارض جہنم جیسا روپ دھار لیتا ہے

    سو باتیں کر لو، لکھ لو مگر سچ یہی ہے کہ بنیادی ضرورتیں جب مشکل ہو جائیں تو معاشرہ خاموشی سے بیمار ہونے لگتا ہےاور اس کا اثر ہر گھر، ہر گلی، ہر بندے پر پڑتا ہے اور یوں جرائم بڑھنے لگتے ہیں
    گورنمنٹ نے سی سی ڈی جیسا ادارہ بنا کر بہت اچھا کیا جس نے فوری رزلٹ دیا تاہم گورنمنٹ کو چائیے کہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بنے اداروں سے بھی ایسے ہی رزلٹ لیا جائے جیسے سی سی ڈی سے لیا ہے
    واضع رہے کہ پنجاب پولیس کی تعداد 2 لاکھ 22 ہزار کے قریب ہے تاہم محض 4300 سی سی ڈی اہلکاروں نے وہ کام کیا جو لاکھوں پنجاب پولیس کے اہلکار نا کر سکے تھے
    موجودہ حالات میں غریب کو ریلیف دینا اور شاہی پروٹوکول اور افسری،مراعات کو محدود کرنا وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے،گورنمنٹ تھوڑا سا طریقہ بدلے اور سوتیلی ماں کی بجائے سگی ماں جیسا کردار ادا کرے،ہیلمٹ چالان پر 2 ہزار لینے کی بجائے موٹرسائیکل کے پہلے چالان پر اس موٹرسائیکل کو ایک ہیلمٹ دیا جائے اور اگر پھر بھی اس کے باوجود اسی موٹر سائیکل سے ہیلمٹ نا پہننے کی غلطی ہو تو جرمانہ کیا جائے،گورنمنٹ بجلی کے بلوں میں 200 یونٹ سے اوپر کے استعمال ہونے والے جن لوگوں کو اگلے 6 ماہ کیلئے پھانسی لگاتی ہے اسے ختم کیا جائے،سرکاری و پرائیویٹ سکولوں میں ایک نصاب کیا جائے اور چھوٹے چھوٹے دکانداروں کی بجائے بڑے بڑے ان ڈیلروں کو سرعام چوکوں میں ٹھڈے مارے جائیں جو بلیک مارکیٹنگ کرکے لوگوں کو ضروریات زندگی سے محروم کرتے ہیں،سرکاری ہسپتالوں کو فعال کیا جائے اور عدالتی نظام بہتر کیا جائے،محکمہ عشر و زکوٰۃ کو فعال کرکے ایسا پابند کیا جائے کہ وہ لوگوں کو ان کا حق دیں تاکہ لوگوں این جی اوز سے 500 روپیہ کی ملنے والی امداد کے عیوض اخبارات میں اپنے چہروں کی نمائش نا کروائیں
    ایسے کام جب تک نہیں کئے جائنگے جرائم بڑھتے رہیں گے اس لئے گورنمنٹ فوری اقدامات کرے

  • تربیتی کارگاہ علمِ عروض  ،تحریر:عنبرین فاطمہ

    تربیتی کارگاہ علمِ عروض ،تحریر:عنبرین فاطمہ

    زیرِ اہتمام: تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس
    بانی و سرپرست: محترمہ عمارہ کنول چودھری

    تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کی علمی و ادبی کاوشوں کے تسلسل میں، محترمہ عمارہ کنول چودھری کی سرپرستی میں ایک ماہ پر محیط تربیتی کارگاہ بعنوان علمِ عروض منعقد کی گئی۔ اس تربیتی کارگاہ کا بنیادی مقصد نئی نسل کو اردو شاعری کے فنی اور عروضی رموز سے آگاہ کرنا اور تخلیقی اظہار کو مستحکم عروضی بنیادوں پر استوار کرنا تھا۔

    اس تربیتی کارگاہ کا آغاز مادام شاہانہ ناز صاحبہ نے مقررہ وقت پر نہایت خوش اسلوبی اور وقار کے ساتھ کیا، جبکہ مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ علالتِ طبع کے باعث شرکت سے معذور تھیں۔ مادام شاہانہ ناز صاحبہ نے آغاز ہی میں نہ صرف تربیتی کارگاہ کی فضا کو علمی ذوق اور ادبی سنجیدگی سے ہم آہنگ کیا، بلکہ ابتدائی اسباق کے تحت نظم و نثر کے امتیاز، غزل کی ہیئت و ساخت، قافیہ و ردیف، مطلع و مقطع اور حروفِ روی جیسے بنیادی مگر نہایت اہم موضوعات کو نہایت مؤثر اور مربوط انداز میں پیش کیا۔

    جلد ہی مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ، جو خود ایک نامور شاعرہ اور لکھاری ہیں۔ انہوں نے تربیتی فرائض سنبھالتے ہوئے باقاعدہ طور پر علمِ عروض کی تدریس کا آغاز کیا۔ انہوں نے مکتوبی و ملفوظی حروف، تقطیع کے اصول، بحور اور افاعیل جیسے دقیق اور باریک مباحث کو اس قدر سہل، مربوط اور مؤثر انداز میں سمجھایا کہ طالبات کے دلوں میں اس علم کے لیے فطری دلچسپی پیدا ہونے لگی۔
    ایک یادگار لمحہ وہ تھا جب مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ نے تمام طالبات سے فرمایا:
    "سب نے فعلن فعلن فعلن فعلن کے وزن پر ایک ایک شعر لکھنا ہے!”

    یہ لمحہ تمام طالبات کو نہ صرف ایک نئے موڑ پر لے گیا بلکہ ان کے سیکھے ہوئے علم کو عملی جامہ پہنانے کا بہترین موقع بھی فراہم کر گیا۔ علمِ عروض کے تمام قواعد و اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اشعار تحریر کرنا محض ایک تکنیکی عمل نہیں، بلکہ فنِ شعر وہ آئینہ ہے جس میں خیال نکھرتا ہے اور احساس چمکتا ہے۔

    طالبات نے نہایت ذوق و شوق کے ساتھ اشعار کہے اور یہ احساس مزید گہرا ہوتا چلا گیا کہ عروض صرف ایک فن نہیں بلکہ ایک شعوری تربیت ہے، جہاں الفاظ کا توازن اور جذبات کا رچاؤ یکجا ہو جاتا ہے۔

    کارگاہ کی انفرادیت یہ تھی کہ اس میں ہر عمر کی طالبات شامل تھیں۔ مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ کی شفقت، محبت اور مشفقانہ انداز ہر دل میں گھر کر گیا۔ جب وہ یہ فرماتیں:
    "بچو! مجھے معلوم نہیں آپ کس عمر کے ہیں، مگر میرے لیے آپ سب بچے ہی ہیں۔”
    تو ایک ایسا شفقت بھرا تعلق قائم ہو جاتا تھا جو سیکھنے کے عمل کو مزید مؤثر اور خوشگوار بنا دیتا۔

    یہ تربیتی کارگاہ نہ صرف علمِ عروض کے فہم کا ذریعہ بنی بلکہ تحریری اور تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے میں بھی ایک سنگِ میل ثابت ہوئی۔
    علمِ عروض کی اس بامقصد اور پُراثر تربیتی کارگاہ میں مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ نے نہ صرف نہایت خوش اسلوبی سے مفاہیمِ عروض کو آسان اور قابلِ فہم انداز میں سمجھایا، بلکہ عملی مشقوں کے ذریعے اس فن کو دلنشین اور بامعنی بھی بنا دیا۔
    کارگاہ کے دوران ایک اور یادگار لمحہ وہ تھا جب مادام معظمہ صاحبہ نے ہم سب سے باقاعدہ غزل لکھنے کی مشق کروائی۔ انہوں نے اپنی غزل کا ایک مقطع پیش کیا اور ہدایت دی کہ اسی کے قافیے اور ردیف کی پابندی کے ساتھ مکمل غزل تحریر کی جائے۔ وہ مقطع یہ تھا:
    اے شمس! اک دن میں دوستوں کو
    نکال پھینکوں گی آستیں سے

    اس مقطع میں قافیہ: "یں” اور ردیف: "سے” تھا، جس کی بنیاد پر طالبات نے نہایت خوبصورت اور بامعنی اشعار تخلیق کیے۔ اسی قافیہ و ردیف کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے بھی ایک غزل لکھی، جس کا ایک شعر کچھ یوں تھا:

    نہ تیرگی تھی، نہ روشنی تھی
    عجب مناظر تھے سرمگیں سے

    علمِ عروض کی اس بامقصد تربیتی کارگاہ کے اختتام پر مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ نے ایک جامع حتمی امتحان لیا، جس میں نہ صرف سابقہ تمام اسباق سے متعلق سوالات شامل تھے بلکہ عملی مشق کے طور پر ایک مکمل غزل بمع مطلع و مقطع تحریر کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔

    یہ مرحلہ تربیتی کارگاہ کا نچوڑ ثابت ہوا، جس نے طالبات کی فہم، مہارت اور تخلیقی صلاحیتوں کو حقیقی معنوں میں پرکھا۔ اس امتحان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی طالبات کے لیے تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کی جانب سے اسناد کے اجرا کا اعلان بھی کیا گیا۔

    ان خوش نصیب اور قابلِ فخر طالبات میں زینب لغاری، حلیمہ طارق، عنبرین فاطمہ، حمیرا انور اور طوبیٰ نور خانم کے اسمائے گرامی سرفہرست ہیں، جنہوں نے اپنی محنت، لگن اور عروضی بصیرت کے ذریعے یہ اعزاز حاصل کیا۔ ان کی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی کاوش کا ثمر تھی بلکہ مادام محترمہ کی مؤثر رہنمائی اور شفقت آمیز تدریس کا جیتا جاگتا ثبوت بھی تھی۔
    اس تربیتی کارگاہ کا اختتام نہایت خوش اسلوبی سے ہوا۔ یہ بامقصد علمی تربیتی کارگاہ بانی و سرپرستِ تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس محترمہ عمارہ کنول چودھری کی زیرِ نگرانی منعقد ہوئی، جس کا مرکزی ہدف نئی نسل کو اپنی زبان، تہذیب اور ادبی روایتوں سے جوڑنا تھا۔

    اختتامی مرحلے پر یہ احساس دل میں جاگزیں ہوا کہ ایسی علمی و ادبی تربیتی کارگاہیں نہ صرف شعری فنون کے فروغ کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ قومی زبان سے محبت کو بھی مضبوط بنیادیں فراہم کرتی ہیں۔ میری دلی خواہش ہے کہ تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے تحت آئندہ بھی اسی نوع کی تربیتی نشستیں منعقد ہوتی رہیں، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اپنی زبان، ادب اور ثقافت سے نہ صرف آشنا بلکہ گہری وابستگی بھی اختیار کریں۔

    علمِ عروض کی اس تربیتی کارگاہ نے ہمیں سخن فہمی اور فنِ شعر سے شناسائی عطا کی۔ یہ سعادت تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام نصیب ہوئی، جس پر ہم دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں۔

    آخر میں مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ، مادام شاہانہ ناز صاحبہ کی رہنمائی، اور بانی و سرپرست محترمہ عمارہ کنول چودھری کے اخلاص و عزم کو دل سے خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں۔
    دعا ہے کہ یہ تحریک علم، تہذیب اور قومی شناخت کے فروغ میں ہمیشہ مؤثر کردار ادا کرتی رہے۔

    آمین ثم آمین۔

  • ہیلمٹ۔صرف پہننا کافی نہیں، معیاری ہونا بھی ضروری

    ہیلمٹ۔صرف پہننا کافی نہیں، معیاری ہونا بھی ضروری

    ہیلمٹ۔صرف پہننا کافی نہیں، معیاری ہونا بھی ضروری
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    ہیلمٹ کا معیار اور ہماری سوچ
    بحثیت قوم ہم نے آج تک قانون شکنی کو اپنا اوڈنا بچھونا بنا رکھا ہے کیونکہ رشوت کا بازار جہاں گرم ہوگا اداروں کی کارکردگی ان کی اپنی خواہش کے مطابق ہوگی جو ہم 78 سالوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ ایک الگ بات ہے ہر آنے والی حکومت یہی سوچ کر آتی ہے کہ ہم کرپشن پر قابو پالیں گے، بس اس سے آگے کا کام مشکل ہے۔ آج ہم اسی تناظر میں ہیلمٹ کے معیار پر بات چیت کرتے ہیں۔

    قارئین! اگر ہم شہروں اور دیہات کی سڑکوں پر نظر دوڑائیں تو ایک چیز عام دکھائی دیتی ہے کہ ہیلمٹ کا استعمال بڑھ تو گیا ہے، مگر معیاری ہیلمٹ کا تصور ابھی بھی ہم سے کوسوں دور ہے۔ ٹریفک پولیس آئے روز سواروں کو ہیلمٹ پہننے کی تلقین کرتی ہے، مگر کیا کبھی اس بات پر توجہ دی گئی کہ عوام جو ہیلمٹ پہن رہے ہیں وہ صحت مند، مضبوط اور عالمی معیار کے مطابق ہیں بھی یا نہیں؟

    ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہیلمٹ پہننے کا مقصد صرف جرمانہ سے بچنا سمجھا جاتا ہے۔ یہ رویہ انسانی جان کی قدر میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہیلمٹ کسی بھی حادثے میں زندگی اور موت کے درمیان کھڑی وہ آخری دیوار ہے جس پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ مگر افسوس! ہم اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور صرف ہمارا مقصد چالان سے بچنا ہے جو بالکل غلط سوچ ہے۔

    ہمارے معاشرے میں “ڈنگ ٹپاؤ” پالیسی بہت مضبوطی سے رچ بس گئی ہے۔ موٹر سائیکل سوار صرف یہ دیکھتا ہے کہ کچھ بھی سر پر رکھ لو، پولیس چالان نہیں کرے گی۔ اسی سوچ نے بازاروں میں ناقص، غیر معیاری، غیر رجسٹرڈ اور کمزور ہیلمٹ کو فروغ دیا ہے۔ ان میں نہ کوئی حفاظتی تہہ ہوتی ہے، نہ شیل مضبوط ہوتا ہے، نہ جھٹکا جذب کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ حادثے کی صورت میں یہ ہیلمٹ ٹوٹ کر مزید نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ اکثر لوگ سیفٹی ہیلمٹ کا استعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

    پولیس نے ہیلمٹ پہننے کی پابندی تو سخت کر دی ہے، جو کہ مثبت قدم ہے۔ لیکن اس کے ساتھ پولیس کو ہیلمٹ کے معیار پر بھی سختی لانا ہوگی۔ اگر ایک شہری نے صرف ٹوپی نما ہیلمٹ پہنا ہوا ہے، تو اس سے اصل مقصد یعنی جان کی حفاظت پوری نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک دھوکہ ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہیلمٹ کے معیار کے لیے مخصوص اسٹینڈرڈ موجود ہیں جیسے DOT، ECE یا Snell۔ پاکستان میں بھی اگر ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ مشترکہ طور پر معیاری ہیلمٹ سرٹیفکیشن کا نظام بنائے تو غیر معیاری ہیلمٹ کی فروخت خود بخود ختم ہونے لگے گی۔

    ہماری غفلت جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ ہم صرف چالان کو ترجیح دیتے ہیں، جو کہ ایک قومی المیہ ہے۔ ہر سال ہزاروں افراد سڑک حادثات میں شدید زخمی ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت وہ ہوتی ہے جن کے پاس ہیلمٹ تو موجود ہوتا ہے، لیکن وہ ناکام ہیلمٹ ہوتا ہے۔ یہ ایک قومی سانحہ ہے جس پر کوئی توجہ نہیں دے رہا۔ سڑک پر تیز رفتاری، اوورلوڈنگ، اور لائسنس کے بغیر ڈرائیونگ کے ساتھ ساتھ غیر معیاری حفاظتی آلات بھی ہمارے حادثات کی بڑی وجہ ہیں۔

    صرف پولیس ہی نہیں، عوام کو بھی معیاری ہیلمٹ کی بنیادی پہچان سمجھنی چاہیے۔ ہیلمٹ کی اندرونی تہہ جھٹکا جذب کرنے والی ہو، فوم کی موٹائی مناسب ہو، باہر کا خول ٹھوس اور سخت ہو، پٹا مضبوط ہو اور آسانی سے نہ ٹوٹے، ہیلمٹ پر مینوفیکچرر کا نام اور اسٹینڈرڈ نمبر درج ہو، اور انتہائی ہلکا، کھوکھلا یا پلاسٹک نما ہیلمٹ کبھی نہ خریدا جائے۔

    ہماری زندگیاں قیمتی ہیں۔ صرف رسمی کارروائی پوری کرنے کے لیے ناقص ہیلمٹ پہن لینا سمجھداری نہیں۔ زندگی کو ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ حکومت، پولیس، میڈیا، اور عوام سب کو مل کر یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ معیاری حفاظتی سامان استعمال کرنا ہی اصل بچاؤ ہے۔

    آخر میں ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ ہیلمٹ صرف سر ڈھانپنے کا نام نہیں، بلکہ زندگی بچانے والی ڈھال ہے اور ڈھال ہمیشہ مضبوط ہونی چاہیے۔ آج ہی سے ہم خود سے وعدہ کریں کہ ہمیں اپنی حفاظت خود کرنا ہے۔

  • عاجزی ،کامیابی کی سیڑھی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عاجزی ،کامیابی کی سیڑھی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قرآن کریم میں اللہ تعالٰی بار بار انسان کو یاد دلاتا ہے کہ دولت، شہرت اختیار اور طاقت یہ سب آزمائشیں ہیں۔ کوئی شخص اگر بلند منصب پر فائز ہے اگر اسکے پاس دولت کی ریل پیل ہے، اگر اسکے نام کے چرچے ہیں تو یہ اُسکی کامیابی کا ثبوت نہیں یہ اُسکے امتحان کا آغاز ہے، سورہ توبہ میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ہم جسکو دنیا کی سہولتیں دیتے ہیں وہ اس لیے نہیں کہ وہ ہمارا خاص بن گیا ہے بلکہ اس لیے تاکہ اسکی آزمائش ہو سکے، دنیاوی نعمتیں اصل میں ذمہ داریاں ہیں، انعام نہیں۔ لیکن افسوس کہ آج کا انسان خاص طور پر وہ جو اختیار کی کرسی پر بیٹھ جائے وہ اپنی حقیقت بھول بیٹھتا ہے۔ وطن عزیز کا معاشرہ اسکی ایک زندہ مثال ہے، عام آدمی سے لیکر صاحب اقتدار تک، دفاتر ہوں، یا تھانے ہوں، یا انصاف دینے والے ہوں، یا وزارتیں ہوں، ہر جگہ ایک عجیب قسم کا تکبر، رعونت اور طاقت کا خمار بکھرا پڑا ہے۔ کسی کو کرسی ملی تو لہجہ بدل گیا، کسی کے پاس دولت آئی تو انسانیت چھن گئی، کسی کو سیٹ ملی تو اس نے اپنے ہی قدم زمیں پر ہوتے محسوس نہ کیے۔ حالانکہ رب نے صاف الفاظ میں فرمایا ہے کہ انسان کو غرور کے لیے نہیں بلکہ عاجزی کے لیے پیدا کیا گیا ہے، انسان کی اصل عزت اسکے عہدے میں نہیں بلکہ اسکے اخلاق میں ہے، اصل بلندی اسکی دولت میں نہیں اسکی عاجزی میں ہے۔ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے منصب کو عبادت کی جگہ رکھ دیا ہے اور عبادت کو رسم بنا دیا ہے۔ یہ وہی تکبر ہے جسے اللہ تعالٰی نے ناپسند فرمایا، یہ وہی غرور ہے جس نے شیطان کو شیطان بنایا معاشرے میں سرمایہ داروں، مذہبی رہنماؤں، بیوروکریسی کے افسران حتی کہ عام لوگوں تک میں یہ ایک بیماری پیدا ہو چکی ہے۔ ہر شخص اپنی جگہ خود کو سچا، سب کو کم تر اور اپنے دائرے میں اپنے اپکو ایک علیحدہ مخلوق سمجھنے لگا ہے۔ لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ سخت ترین حساب انہی لوگوں کا ہو گا جنہیں دنیا میں سب سے زیادہ اختیار دیا گیا تھا ہمارے معاشرے کی بدحالی کی اصل وجہ یہی اخلاقی زوال ہے۔ وہ معاشرے نہیں ٹوٹتے جن کے پاس کم وسائل ہوں وہ ٹوٹتے ہیں جہاں تکبر سستا اور انصاف مہنگا ہو جائے، وہ قومیں نہیں مرتیں جن پر غربت ہو، وہ مٹتی ہیں جہاں ضمیر مر جائے۔ ہمیں بلند عمارتیں نہیں بلند اخلاق درکار ہے ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہر اختیار ایک دن چھن جاتا ہے، ہر طاقت فنا ہو جاتی ہے، ہر اقتدار ختم ہو جاتا ہے لیکن جو انسان عاجزی اپناتا ہے وہ تاریخ دِلوں اور اللہ تعالٰی دونوں میں باقی رہتا ہے۔ آئیں خود سے یہ سوال کریں کیا ہم آزمائش میں کامیاب ہو رہے ہیں؟ یا ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہو چکے ہیں جو رب کی نعمتوں کو تکبر کی چابی بنا لیتے ہیں؟ اللہ تعالی ہمیں سچائی انصاف اور عاجزی کیساتھ جینے کی توفیق دے کیونکہ انسان کا اصل قد اسکی کرسی سے نہیں اسکی جھکی ہوئی گردن سے ظاہر ہوتا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت، دولت اور شہرت کبھی بھی انسان کو عظیم نہیں بناتیں یہ صرف اسکی آزمائش کو بڑا کرتی ہیں۔ کاش ہمارا معاشرہ اس سادہ حقیقت کو سمجھ سکے اصل مسلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں اصل خرابی یہ ہے کہ اختیار ملتے ہی انسان چھوٹا ہو جاتا ہے اور انا بہت بڑی۔

  • مریم نواز کی نیت، ویژن قابل تعریف مگر ..تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز کی نیت، ویژن قابل تعریف مگر ..تجزیہ:شہزاد قریشی

    پنجاب کی سیاست میں آجکل جو ہلچل ہے وہ کسی سے چھپی نہیں، وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کے اقدامات نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کیا واقعی صوبہ پنجاب ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے یا یہ بھی وہی روایتی دعوے ہوں گے جو ہر حکومت کے آغاز میں سننے کو ملتے ہیں؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ مریم نواز کے ناقدین بھی اب یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ صوبے میں پالیسی سازی کی رفتار تیز ہوئی ہے۔ چاہے معاملہ صحت کا ہو، صفائی کا ہو، تعلیم کا ہو، جدید ٹریفک نظام کا ہو یا سیف سٹی کا ہو یہ شفاف ترقیاتی منصوبوں کے فیصلے کم از کم ہوتے تو نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پالیسی سازی کبھی مسلہ رہی ہی نہیں۔ ہمارے یہاں مسائل ہمیشہ عملدرآمد پر گرتے ہیں اور یہی وہ نقطہ ہے جو اس پورے معاملے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ مریم نواز نے میرٹ، شفافیت اور زیرو ٹارلنس جیسے نعرے لگا کر پنجاب کے انتظامی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مگر یہ ڈھانچہ کوئی تختی نہیں جو بدل دیا جائے، یہ درجنوں برس کے اعداد، مفادات، رویوں اور ساخت کا مرکب ہے، اسے بدلنے کے لیے حکم سے زیادہ حوصلہ اور ادارہ جاتی دباؤ چاہیے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بیوروکریسی ہر حکومت کا اصل ستون ہوتی ہے، سیاست دان فیصلہ کرتے ہیں، لیکن ان فیصلوں کی روح بیوروکریسی ہی میں پھونکی جاتی ہے۔ اگر افسران میں وہی پرانی سست روی، وہی فائلوں کے گِرد اور وہی کل دیکھ لیں گے والا انداز رہا تو تبدیلی کا خواب حقیقت کا رخ نہ دیکھ سکے گا۔ مریم نواز نے میرٹ کی بات کی ہے، بہت اچھی بات ہے، لیکن میرٹ پر ایسا افسر بھی چاہیے جو صرف قابلیت نہیں رکھتا بلکہ جرآت بھی رکھتا ہو، جو سیاسی دباؤ، مقامی طاقتوروں کے اثرات اور اندرونی مزاحمت کو خاطر میں نہ لائے۔ پنجاب پولیس کا ذکر آتے ہی عوام کے ذہن میں تھانہ کلچر ابھرتا ہے وزیر اعلی نے ٹیکنالوجی، جدید ٹریفک سسٹم اور رول آف لاء کی بات کی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب پولیس اس ظاہری تبدیلی کے لیے تیار ہے۔ اصلاحات کا سب سے بڑا امتحان پولیس میں ہی ہوتا ہے کیونکہ پولیس وہ دروازہ ہے جہاں عوام روزانہ ریاست سے ملتے ہیں۔

    اگر تھانے وہی پرانے خوف اور سفارش کے مرکز رہے تو اوپر سے آیا ہوا انقلاب صرف سوشل میڈیا کی حد تک محدود رہ جائے گا۔ وزیر اعلی پنجاب لاھور میں بیٹھ کر بہترین منصوبہ بنا سکتی ہیں، مگر لاھور سی سی پی او آفس سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں اس پر عمل وہی ضلعی افسران کرے گا جو دل سے کام کرے گا یا رسمی خاکوں سے کام چلائے گا۔ کامیاب حکومتیں وہی ہوتی ہیں جو نچلی سطح کے افسران کو حوصلہ، اختیار اور جوابدہی تینوں چیزیں ایک ساتھ دیتی ہیں۔ اگر پنجاب میں واقعی تبدیلی لانی ہے تو فارمولا بہت سادہ ہے۔ اچھے افسر مضبوط نگرانی، سیاسی مداخلت سے مکمل آزادی، پائیدار اصلاحات اس فارمولا میں اگر ایک چیز بھی کمزور ہو تو پوری عمارت ہل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں اصل معرکہ وزیر اعلی کے دفتر میں نہیں بلکہ پنجاب کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنر اور سی پی او، ڈی پی او اور ماتحت عملے کی میز اور پٹواری کے دفتر میں ہے۔ مریم نواز کی نیت، ویژن اور رفتار تعریف کے لائق ہیں مگر پنجاب جیسے بڑے صوبے میں اصلاحات کا سفر بہت لمبا، مشکل اور مزاحمت سے بھرپور ہوتا ہے۔ اگر بیوروکریسی اور پولیس میں وہی انقلابی افسر آ گے، جنکی وزیر اعلی بات کر رہی ہیں، تو یقین کریں کہ چند برسوں میں پنجاب واقعی ہی پاکستان کا سب سے ترقی یافتہ صوبہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر پالیسی سازی اور فائل ورک میں ہی تبدیلی پھنس گئی تو یہ بھی ماضی کی اصلاحاتی داستانوں کی طرح صرف ایک اور کوشش بن کر رہ جائے گی۔ چاہے مریم نواز ہوں یا کوئی اور حکمران پائیدار تبدیلی اس وقت آتی ہے جب نظام بدلتا ہے، لوگ بدلتے ہیں اور ادارے بدلتے ہیں، سیاست دان سمت دکھاتے ہیں لیکن راستہ بیوروکریسی ہی بناتی ہے۔ اب یہ بیورکرویسی پر ہے کہ وہ پنجاب کو واقعی بدلنا چاہتی ہے یا صرف نئے نعروں کیساتھ پرانی روش پر چلتی رہنا چاہتی ہے۔

  • سوشل میڈیا،فیک نیوز،بیانیے کی جنگ

    سوشل میڈیا،فیک نیوز،بیانیے کی جنگ

    آج کا پاکستان صرف معاشی، سیاسی یا انتظامی چیلنجز کا شکار نہیں؛ ملک اپنی تاریخ کی سب سے بڑی پروپیگنڈہ، فیک نیوز اور ڈیجیٹل بیانیے کی جنگ کے بیچوں بیچ کھڑا ہے۔یہ جنگ روایتی نہیں۔ نہ اس میں توپیں گولے چل رہے ہیں، نہ سرحدوں پر محاذ گرم ہیں۔ اس جنگ کا میدان سوشل میڈیا ہے، اس کے ہتھیار گمراہ کن معلومات، جعلی بیانیے، آڈیو، ویڈیو ایڈیٹنگ، بوٹس، ٹرول فیکٹریاں اور ڈیجیٹل مہمات ہیں، جبکہ نشانہ عوام کا شعور اور ریاستی استحکام ہے۔

    دنیا بھر میں معلومات کی جنگ ایک نئی حقیقت ہے، مگر پاکستان میں اس کا حجم اور اثر کئی گنا بڑھ چکا ہے۔اب جھوٹی خبروں کی تخلیق ایک صنعت بن چکی ہے،ہر سیاسی، سماجی یا ریاستی مسئلہ صرف چند منٹوں میں "ٹویٹر ٹرینڈ” بن جاتا ہے،لاکھوں اکاؤنٹس بغیر شناخت کے گمراہ کن مواد پھیلا رہے ہیں،قومی سلامتی کے بیانیے مسلسل چیلنج ہو رہے ہیں،نوجوان نسل تیز ترین مگر غیر مصدقہ معلومات کی زد پر ہے،پاکستان آج ایک ایسی صورتحال میں ہے جہاں "خبر” اور "پروپیگنڈہ” میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بیانیے کی اس جنگ میں اندرونی انتشار پھیلانے والے عناصر،بیرونی مفادات کے سہولت کاراور بے نامی ڈیجیٹل اکاؤنٹس سب اپنے اپنے ایجنڈے کے ساتھ متحرک ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی ادارے، میڈیا، تعلیمی حلقے اور باشعور شہری غیر مصدقہ، اشتعال انگیز یا گمراہ کن مواد کی نشاندہی کریں، اس کا تجزیہ کریں اور عوام کو حقائق سے آگاہ رکھیں۔

    ہمیں یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ فیک نیوز حقیقی دنیا میں حقیقی نقصان پہنچاتی ہے۔جھوٹے بیانیے اداروں پر اعتماد کم کرتے ہیں، سماجی تقسیم بڑھاتے ہیں اور معاشرے میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔اسی لیے اس ڈیجیٹل یلغار کا مقابلہ جرأت سے،ثبوت کے ساتھ،مسلسل آگاہی کے ذریعےاور سنجیدہ مکالمے کے ساتھکرنا ہوگا۔بحث ضرور کیجیے ،اختلاف بھی کیجیے، مگر ذمہ داری کے ساتھ۔ نہ جذباتیت میں آئیں، نہ بغیر تحقیق کے کسی بیانیے کا حصہ بنیں۔

    پاکستانی سیاست میں ایک واضح تقسیم موجود ہے۔عمران خان کا سیاسی طرزِ عمل، بیانیہ، اور پھر اسے سوشل میڈیا پر جس شدت کے ساتھ پھیلایا جاتا ہے، ایک ایسے ماحول کو جنم دیتا ہے جو ریاستی اداروں سے ٹکراؤ،سیاسی انتہا پسندی،اور قومی بیانیے میں انتشارجیسے عوامل کو بڑھا دیتا ہے۔پاکستان کی استحکام کی ضرورتیں اور عمران خان کی سیاسی حکمتِ عملی ایک ہی سمت میں نہیں چل سکتیں،حقیقت یہ ہے کہ “پاکستان اور عمران ساتھ نہیں چل سکتے”

    پاکستان کو اس جنگ میں کامیابی کے لیے چند بنیادی اقدامات ضروری ہیں عوام میں ڈیجیٹل لٹریسی بڑھائی جائے،لوگ سیکھیں کہ خبر کی تصدیق کیسے کرتے ہیں، کس چیز کو شیئر نہیں کرنا چاہیے، اور کونسی معلومات مشکوک ہو سکتی ہے۔سوشل میڈیا قوانین کا مؤثر اور متوازن نفاذہونا چاہئے،ریاست اور عوام دونوں کو آزادیِ اظہار برقرار رکھتے ہوئے معلوماتی سلامتی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ دارانہ ڈیجیٹل حکمتِ عملی ترتیب دینی ہو گی،سیاسی بیانیہ اختلاف پر ہو، نفرت، گالی یا گمراہی پر نہیں۔ نوجوان نسل کی تربیت کرنی ہو گی،انہیں یہ سمجھانا کہ آن لائن دنیا اصل دنیا سے الگ نہیں یہاں پھیلایا گیا جھوٹ کسی کی زندگی بدل سکتا ہے۔

    پاکستان آج ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔بیانیے کی یہ جنگ ہمارے معاشرتی مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ جھوٹ کو چیلنج کریں،سچ کی حمایت کریں،اور کسی بھی سیاسی اختلاف کے باوجود پاکستان کو مقدم رکھیں،کیونکہ آخر میں ریاست، ادارے اور قوم ہی اصل حقیقت ہیں، بیانیے نہیں۔