Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آج کا نوجوان کتاب سے دور، قلم نگار:  اقصیٰ جبار

    آج کا نوجوان کتاب سے دور، قلم نگار: اقصیٰ جبار

    خوابوں کے چراغ،
    جو کبھی لفظوں میں جلتے تھے،
    اب اندھیروں میں گم ہیں۔
    فطرت کے راز،
    فلسفے کی گہرائی،
    داستانوں کے جہان
    سب ایک دھند میں کھو چکے ہیں۔

    کتاب، جو تھی روشنی کی مشعل،
    اب خاموش ہے،
    ایک بھولی ہوئی یاد کی طرح۔
    صفحات پر پھیلا سکون کا پیام،
    اب شور کی گونج میں دب چکا ہے۔

    آنکھیں اسکرین کی روشنی میں گم،
    فکر کے قافلے راستہ بھول گئے ہیں۔
    نہ سوال باقی، نہ جواب کا شوق،
    صرف ایک خالی پن،
    ایک بے سمت دوڑ۔

    کیا ہم لوٹیں گے اُس دریا کی جانب،
    جہاں حرف بہتے تھے؟
    جہاں سوچ کی خوشبو
    ذہنوں کو مہکاتی تھی؟
    یا یہ فاصلہ
    اک نہ ختم ہونے والا فسانہ بن جائے گا؟

    کتاب اب بھی پکارتی ہے
    خاموشی میں، تنہائی میں،
    اپنے حرفوں کے چراغوں سے

    اقصیٰ جبار

  • مہنگائی کا وار ذلت کا کردار،تحریر:غنی محمود قصوری

    مہنگائی کا وار ذلت کا کردار،تحریر:غنی محمود قصوری

    اس بات میں کافی سچائی ہے کہ گزشتہ چند مہینوں سے پاکستان اور خاص کر پنجاب میں جرائم میں واضع کمی آئی ہے،پنجاب میں اس وقت 90 فیصد جرائم میں کمی واقع ہو چکی ہے جس کا کریڈٹ سی سی ڈی کو پنجاب کو جاتا ہے،تاہم یہ بات بھی سو فیصد سچ ہے کہ اس وقت ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان بھی آیا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،معاشرے میں جرائم تب ہی بڑھتے ہیں جب قانون کمزور پڑ جائے اور سزا کا خوف ختم ہو جائے، بے روزگاری، مہنگائی اور تعلیم کی کمی لوگوں کو غلط راستوں پر دھکیل دیتی ہے، اوپر سے رشوت، سفارش اور پولیس و عدالتوں کی کمزور گرفت مجرموں کو کھلی چھٹی دے دیتی ہے،منشیات، گینگ کلچر، اور سوشل میڈیا فراڈ نئی نسل کو تیزی سے جرم کی طرف لے جا رہے ہیں جس کا سدباب بہت ضروری ہے
    جب زندگی کی بنیادی ضرورتیں ہی عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور نکل جائیں جیسے کہ آٹا مہنگا ہو جائے گیس غائب رہے بجلی کے بل پہنچ سے دور ہو جائیں اور بجلی کا بلب گھر میں روشنی دینے کی بجائے ایک لمبے چوڑے بل کی مد میں گھر میں قبر جیسی وحشت بپا کر جائے،
    نوجوانوں کیلئے روزگار کا کوئی سیدھا راستہ نا ہو تو پھر معاشرہ آہستہ آہستہ سلگنے لگتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے چہروں سے سکون اُڑ جاتا ہے گھروں میں جھنجھلاہٹ اور بے چینی ڈیرے جما لیتی ہے
    جب پیٹ خالی ہو اور جیب میں چند روپئے بھی نہ ہو تو انسان کا صبر بھی جواب دے دیتا ہے
    پھر وہی ہوتا ہے جو نہیں ہونا چاہئے

    ایسے عالم میں چھوٹے موٹے جھگڑے بڑے فساد بن جاتے ہیں اور چوری چکاری بڑھتی ہے تب نوجوانوں کا اعتماد، خواب اور حوصلہ سب کمزور پڑنے لگتے ہیں
    جب وڈیرے اور امیر سرعام قانون کی دھجیاں اڑائیں اور جب دل چاہے غریب کو چیونٹی کی طرح روند دیا جائے اور اوپر سے جب کہیں سے انصاف نہ ملے، ادارے بھی اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں تو لوگوں کا نظام پر سے یقین اٹھ جاتا ہے جس کی وجہ سے ایک ایسا خلا بنتا ہے جس میں غصہ، مایوسی اور جرائم پلتے ہیں اور پھر چند افراد،اداروں کی نااہلی سے جنت جیسا قطعہ ارض جہنم جیسا روپ دھار لیتا ہے

    سو باتیں کر لو، لکھ لو مگر سچ یہی ہے کہ بنیادی ضرورتیں جب مشکل ہو جائیں تو معاشرہ خاموشی سے بیمار ہونے لگتا ہےاور اس کا اثر ہر گھر، ہر گلی، ہر بندے پر پڑتا ہے اور یوں جرائم بڑھنے لگتے ہیں
    گورنمنٹ نے سی سی ڈی جیسا ادارہ بنا کر بہت اچھا کیا جس نے فوری رزلٹ دیا تاہم گورنمنٹ کو چائیے کہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بنے اداروں سے بھی ایسے ہی رزلٹ لیا جائے جیسے سی سی ڈی سے لیا ہے
    واضع رہے کہ پنجاب پولیس کی تعداد 2 لاکھ 22 ہزار کے قریب ہے تاہم محض 4300 سی سی ڈی اہلکاروں نے وہ کام کیا جو لاکھوں پنجاب پولیس کے اہلکار نا کر سکے تھے
    موجودہ حالات میں غریب کو ریلیف دینا اور شاہی پروٹوکول اور افسری،مراعات کو محدود کرنا وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے،گورنمنٹ تھوڑا سا طریقہ بدلے اور سوتیلی ماں کی بجائے سگی ماں جیسا کردار ادا کرے،ہیلمٹ چالان پر 2 ہزار لینے کی بجائے موٹرسائیکل کے پہلے چالان پر اس موٹرسائیکل کو ایک ہیلمٹ دیا جائے اور اگر پھر بھی اس کے باوجود اسی موٹر سائیکل سے ہیلمٹ نا پہننے کی غلطی ہو تو جرمانہ کیا جائے،گورنمنٹ بجلی کے بلوں میں 200 یونٹ سے اوپر کے استعمال ہونے والے جن لوگوں کو اگلے 6 ماہ کیلئے پھانسی لگاتی ہے اسے ختم کیا جائے،سرکاری و پرائیویٹ سکولوں میں ایک نصاب کیا جائے اور چھوٹے چھوٹے دکانداروں کی بجائے بڑے بڑے ان ڈیلروں کو سرعام چوکوں میں ٹھڈے مارے جائیں جو بلیک مارکیٹنگ کرکے لوگوں کو ضروریات زندگی سے محروم کرتے ہیں،سرکاری ہسپتالوں کو فعال کیا جائے اور عدالتی نظام بہتر کیا جائے،محکمہ عشر و زکوٰۃ کو فعال کرکے ایسا پابند کیا جائے کہ وہ لوگوں کو ان کا حق دیں تاکہ لوگوں این جی اوز سے 500 روپیہ کی ملنے والی امداد کے عیوض اخبارات میں اپنے چہروں کی نمائش نا کروائیں
    ایسے کام جب تک نہیں کئے جائنگے جرائم بڑھتے رہیں گے اس لئے گورنمنٹ فوری اقدامات کرے

  • تربیتی کارگاہ علمِ عروض  ،تحریر:عنبرین فاطمہ

    تربیتی کارگاہ علمِ عروض ،تحریر:عنبرین فاطمہ

    زیرِ اہتمام: تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس
    بانی و سرپرست: محترمہ عمارہ کنول چودھری

    تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کی علمی و ادبی کاوشوں کے تسلسل میں، محترمہ عمارہ کنول چودھری کی سرپرستی میں ایک ماہ پر محیط تربیتی کارگاہ بعنوان علمِ عروض منعقد کی گئی۔ اس تربیتی کارگاہ کا بنیادی مقصد نئی نسل کو اردو شاعری کے فنی اور عروضی رموز سے آگاہ کرنا اور تخلیقی اظہار کو مستحکم عروضی بنیادوں پر استوار کرنا تھا۔

    اس تربیتی کارگاہ کا آغاز مادام شاہانہ ناز صاحبہ نے مقررہ وقت پر نہایت خوش اسلوبی اور وقار کے ساتھ کیا، جبکہ مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ علالتِ طبع کے باعث شرکت سے معذور تھیں۔ مادام شاہانہ ناز صاحبہ نے آغاز ہی میں نہ صرف تربیتی کارگاہ کی فضا کو علمی ذوق اور ادبی سنجیدگی سے ہم آہنگ کیا، بلکہ ابتدائی اسباق کے تحت نظم و نثر کے امتیاز، غزل کی ہیئت و ساخت، قافیہ و ردیف، مطلع و مقطع اور حروفِ روی جیسے بنیادی مگر نہایت اہم موضوعات کو نہایت مؤثر اور مربوط انداز میں پیش کیا۔

    جلد ہی مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ، جو خود ایک نامور شاعرہ اور لکھاری ہیں۔ انہوں نے تربیتی فرائض سنبھالتے ہوئے باقاعدہ طور پر علمِ عروض کی تدریس کا آغاز کیا۔ انہوں نے مکتوبی و ملفوظی حروف، تقطیع کے اصول، بحور اور افاعیل جیسے دقیق اور باریک مباحث کو اس قدر سہل، مربوط اور مؤثر انداز میں سمجھایا کہ طالبات کے دلوں میں اس علم کے لیے فطری دلچسپی پیدا ہونے لگی۔
    ایک یادگار لمحہ وہ تھا جب مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ نے تمام طالبات سے فرمایا:
    "سب نے فعلن فعلن فعلن فعلن کے وزن پر ایک ایک شعر لکھنا ہے!”

    یہ لمحہ تمام طالبات کو نہ صرف ایک نئے موڑ پر لے گیا بلکہ ان کے سیکھے ہوئے علم کو عملی جامہ پہنانے کا بہترین موقع بھی فراہم کر گیا۔ علمِ عروض کے تمام قواعد و اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اشعار تحریر کرنا محض ایک تکنیکی عمل نہیں، بلکہ فنِ شعر وہ آئینہ ہے جس میں خیال نکھرتا ہے اور احساس چمکتا ہے۔

    طالبات نے نہایت ذوق و شوق کے ساتھ اشعار کہے اور یہ احساس مزید گہرا ہوتا چلا گیا کہ عروض صرف ایک فن نہیں بلکہ ایک شعوری تربیت ہے، جہاں الفاظ کا توازن اور جذبات کا رچاؤ یکجا ہو جاتا ہے۔

    کارگاہ کی انفرادیت یہ تھی کہ اس میں ہر عمر کی طالبات شامل تھیں۔ مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ کی شفقت، محبت اور مشفقانہ انداز ہر دل میں گھر کر گیا۔ جب وہ یہ فرماتیں:
    "بچو! مجھے معلوم نہیں آپ کس عمر کے ہیں، مگر میرے لیے آپ سب بچے ہی ہیں۔”
    تو ایک ایسا شفقت بھرا تعلق قائم ہو جاتا تھا جو سیکھنے کے عمل کو مزید مؤثر اور خوشگوار بنا دیتا۔

    یہ تربیتی کارگاہ نہ صرف علمِ عروض کے فہم کا ذریعہ بنی بلکہ تحریری اور تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے میں بھی ایک سنگِ میل ثابت ہوئی۔
    علمِ عروض کی اس بامقصد اور پُراثر تربیتی کارگاہ میں مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ نے نہ صرف نہایت خوش اسلوبی سے مفاہیمِ عروض کو آسان اور قابلِ فہم انداز میں سمجھایا، بلکہ عملی مشقوں کے ذریعے اس فن کو دلنشین اور بامعنی بھی بنا دیا۔
    کارگاہ کے دوران ایک اور یادگار لمحہ وہ تھا جب مادام معظمہ صاحبہ نے ہم سب سے باقاعدہ غزل لکھنے کی مشق کروائی۔ انہوں نے اپنی غزل کا ایک مقطع پیش کیا اور ہدایت دی کہ اسی کے قافیے اور ردیف کی پابندی کے ساتھ مکمل غزل تحریر کی جائے۔ وہ مقطع یہ تھا:
    اے شمس! اک دن میں دوستوں کو
    نکال پھینکوں گی آستیں سے

    اس مقطع میں قافیہ: "یں” اور ردیف: "سے” تھا، جس کی بنیاد پر طالبات نے نہایت خوبصورت اور بامعنی اشعار تخلیق کیے۔ اسی قافیہ و ردیف کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے بھی ایک غزل لکھی، جس کا ایک شعر کچھ یوں تھا:

    نہ تیرگی تھی، نہ روشنی تھی
    عجب مناظر تھے سرمگیں سے

    علمِ عروض کی اس بامقصد تربیتی کارگاہ کے اختتام پر مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ نے ایک جامع حتمی امتحان لیا، جس میں نہ صرف سابقہ تمام اسباق سے متعلق سوالات شامل تھے بلکہ عملی مشق کے طور پر ایک مکمل غزل بمع مطلع و مقطع تحریر کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔

    یہ مرحلہ تربیتی کارگاہ کا نچوڑ ثابت ہوا، جس نے طالبات کی فہم، مہارت اور تخلیقی صلاحیتوں کو حقیقی معنوں میں پرکھا۔ اس امتحان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی طالبات کے لیے تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کی جانب سے اسناد کے اجرا کا اعلان بھی کیا گیا۔

    ان خوش نصیب اور قابلِ فخر طالبات میں زینب لغاری، حلیمہ طارق، عنبرین فاطمہ، حمیرا انور اور طوبیٰ نور خانم کے اسمائے گرامی سرفہرست ہیں، جنہوں نے اپنی محنت، لگن اور عروضی بصیرت کے ذریعے یہ اعزاز حاصل کیا۔ ان کی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی کاوش کا ثمر تھی بلکہ مادام محترمہ کی مؤثر رہنمائی اور شفقت آمیز تدریس کا جیتا جاگتا ثبوت بھی تھی۔
    اس تربیتی کارگاہ کا اختتام نہایت خوش اسلوبی سے ہوا۔ یہ بامقصد علمی تربیتی کارگاہ بانی و سرپرستِ تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس محترمہ عمارہ کنول چودھری کی زیرِ نگرانی منعقد ہوئی، جس کا مرکزی ہدف نئی نسل کو اپنی زبان، تہذیب اور ادبی روایتوں سے جوڑنا تھا۔

    اختتامی مرحلے پر یہ احساس دل میں جاگزیں ہوا کہ ایسی علمی و ادبی تربیتی کارگاہیں نہ صرف شعری فنون کے فروغ کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ قومی زبان سے محبت کو بھی مضبوط بنیادیں فراہم کرتی ہیں۔ میری دلی خواہش ہے کہ تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے تحت آئندہ بھی اسی نوع کی تربیتی نشستیں منعقد ہوتی رہیں، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اپنی زبان، ادب اور ثقافت سے نہ صرف آشنا بلکہ گہری وابستگی بھی اختیار کریں۔

    علمِ عروض کی اس تربیتی کارگاہ نے ہمیں سخن فہمی اور فنِ شعر سے شناسائی عطا کی۔ یہ سعادت تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام نصیب ہوئی، جس پر ہم دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں۔

    آخر میں مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ، مادام شاہانہ ناز صاحبہ کی رہنمائی، اور بانی و سرپرست محترمہ عمارہ کنول چودھری کے اخلاص و عزم کو دل سے خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں۔
    دعا ہے کہ یہ تحریک علم، تہذیب اور قومی شناخت کے فروغ میں ہمیشہ مؤثر کردار ادا کرتی رہے۔

    آمین ثم آمین۔

  • ہیلمٹ۔صرف پہننا کافی نہیں، معیاری ہونا بھی ضروری

    ہیلمٹ۔صرف پہننا کافی نہیں، معیاری ہونا بھی ضروری

    ہیلمٹ۔صرف پہننا کافی نہیں، معیاری ہونا بھی ضروری
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    ہیلمٹ کا معیار اور ہماری سوچ
    بحثیت قوم ہم نے آج تک قانون شکنی کو اپنا اوڈنا بچھونا بنا رکھا ہے کیونکہ رشوت کا بازار جہاں گرم ہوگا اداروں کی کارکردگی ان کی اپنی خواہش کے مطابق ہوگی جو ہم 78 سالوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ ایک الگ بات ہے ہر آنے والی حکومت یہی سوچ کر آتی ہے کہ ہم کرپشن پر قابو پالیں گے، بس اس سے آگے کا کام مشکل ہے۔ آج ہم اسی تناظر میں ہیلمٹ کے معیار پر بات چیت کرتے ہیں۔

    قارئین! اگر ہم شہروں اور دیہات کی سڑکوں پر نظر دوڑائیں تو ایک چیز عام دکھائی دیتی ہے کہ ہیلمٹ کا استعمال بڑھ تو گیا ہے، مگر معیاری ہیلمٹ کا تصور ابھی بھی ہم سے کوسوں دور ہے۔ ٹریفک پولیس آئے روز سواروں کو ہیلمٹ پہننے کی تلقین کرتی ہے، مگر کیا کبھی اس بات پر توجہ دی گئی کہ عوام جو ہیلمٹ پہن رہے ہیں وہ صحت مند، مضبوط اور عالمی معیار کے مطابق ہیں بھی یا نہیں؟

    ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہیلمٹ پہننے کا مقصد صرف جرمانہ سے بچنا سمجھا جاتا ہے۔ یہ رویہ انسانی جان کی قدر میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہیلمٹ کسی بھی حادثے میں زندگی اور موت کے درمیان کھڑی وہ آخری دیوار ہے جس پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ مگر افسوس! ہم اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور صرف ہمارا مقصد چالان سے بچنا ہے جو بالکل غلط سوچ ہے۔

    ہمارے معاشرے میں “ڈنگ ٹپاؤ” پالیسی بہت مضبوطی سے رچ بس گئی ہے۔ موٹر سائیکل سوار صرف یہ دیکھتا ہے کہ کچھ بھی سر پر رکھ لو، پولیس چالان نہیں کرے گی۔ اسی سوچ نے بازاروں میں ناقص، غیر معیاری، غیر رجسٹرڈ اور کمزور ہیلمٹ کو فروغ دیا ہے۔ ان میں نہ کوئی حفاظتی تہہ ہوتی ہے، نہ شیل مضبوط ہوتا ہے، نہ جھٹکا جذب کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ حادثے کی صورت میں یہ ہیلمٹ ٹوٹ کر مزید نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ اکثر لوگ سیفٹی ہیلمٹ کا استعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

    پولیس نے ہیلمٹ پہننے کی پابندی تو سخت کر دی ہے، جو کہ مثبت قدم ہے۔ لیکن اس کے ساتھ پولیس کو ہیلمٹ کے معیار پر بھی سختی لانا ہوگی۔ اگر ایک شہری نے صرف ٹوپی نما ہیلمٹ پہنا ہوا ہے، تو اس سے اصل مقصد یعنی جان کی حفاظت پوری نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک دھوکہ ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہیلمٹ کے معیار کے لیے مخصوص اسٹینڈرڈ موجود ہیں جیسے DOT، ECE یا Snell۔ پاکستان میں بھی اگر ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ مشترکہ طور پر معیاری ہیلمٹ سرٹیفکیشن کا نظام بنائے تو غیر معیاری ہیلمٹ کی فروخت خود بخود ختم ہونے لگے گی۔

    ہماری غفلت جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ ہم صرف چالان کو ترجیح دیتے ہیں، جو کہ ایک قومی المیہ ہے۔ ہر سال ہزاروں افراد سڑک حادثات میں شدید زخمی ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت وہ ہوتی ہے جن کے پاس ہیلمٹ تو موجود ہوتا ہے، لیکن وہ ناکام ہیلمٹ ہوتا ہے۔ یہ ایک قومی سانحہ ہے جس پر کوئی توجہ نہیں دے رہا۔ سڑک پر تیز رفتاری، اوورلوڈنگ، اور لائسنس کے بغیر ڈرائیونگ کے ساتھ ساتھ غیر معیاری حفاظتی آلات بھی ہمارے حادثات کی بڑی وجہ ہیں۔

    صرف پولیس ہی نہیں، عوام کو بھی معیاری ہیلمٹ کی بنیادی پہچان سمجھنی چاہیے۔ ہیلمٹ کی اندرونی تہہ جھٹکا جذب کرنے والی ہو، فوم کی موٹائی مناسب ہو، باہر کا خول ٹھوس اور سخت ہو، پٹا مضبوط ہو اور آسانی سے نہ ٹوٹے، ہیلمٹ پر مینوفیکچرر کا نام اور اسٹینڈرڈ نمبر درج ہو، اور انتہائی ہلکا، کھوکھلا یا پلاسٹک نما ہیلمٹ کبھی نہ خریدا جائے۔

    ہماری زندگیاں قیمتی ہیں۔ صرف رسمی کارروائی پوری کرنے کے لیے ناقص ہیلمٹ پہن لینا سمجھداری نہیں۔ زندگی کو ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ حکومت، پولیس، میڈیا، اور عوام سب کو مل کر یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ معیاری حفاظتی سامان استعمال کرنا ہی اصل بچاؤ ہے۔

    آخر میں ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ ہیلمٹ صرف سر ڈھانپنے کا نام نہیں، بلکہ زندگی بچانے والی ڈھال ہے اور ڈھال ہمیشہ مضبوط ہونی چاہیے۔ آج ہی سے ہم خود سے وعدہ کریں کہ ہمیں اپنی حفاظت خود کرنا ہے۔

  • عاجزی ،کامیابی کی سیڑھی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عاجزی ،کامیابی کی سیڑھی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قرآن کریم میں اللہ تعالٰی بار بار انسان کو یاد دلاتا ہے کہ دولت، شہرت اختیار اور طاقت یہ سب آزمائشیں ہیں۔ کوئی شخص اگر بلند منصب پر فائز ہے اگر اسکے پاس دولت کی ریل پیل ہے، اگر اسکے نام کے چرچے ہیں تو یہ اُسکی کامیابی کا ثبوت نہیں یہ اُسکے امتحان کا آغاز ہے، سورہ توبہ میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ہم جسکو دنیا کی سہولتیں دیتے ہیں وہ اس لیے نہیں کہ وہ ہمارا خاص بن گیا ہے بلکہ اس لیے تاکہ اسکی آزمائش ہو سکے، دنیاوی نعمتیں اصل میں ذمہ داریاں ہیں، انعام نہیں۔ لیکن افسوس کہ آج کا انسان خاص طور پر وہ جو اختیار کی کرسی پر بیٹھ جائے وہ اپنی حقیقت بھول بیٹھتا ہے۔ وطن عزیز کا معاشرہ اسکی ایک زندہ مثال ہے، عام آدمی سے لیکر صاحب اقتدار تک، دفاتر ہوں، یا تھانے ہوں، یا انصاف دینے والے ہوں، یا وزارتیں ہوں، ہر جگہ ایک عجیب قسم کا تکبر، رعونت اور طاقت کا خمار بکھرا پڑا ہے۔ کسی کو کرسی ملی تو لہجہ بدل گیا، کسی کے پاس دولت آئی تو انسانیت چھن گئی، کسی کو سیٹ ملی تو اس نے اپنے ہی قدم زمیں پر ہوتے محسوس نہ کیے۔ حالانکہ رب نے صاف الفاظ میں فرمایا ہے کہ انسان کو غرور کے لیے نہیں بلکہ عاجزی کے لیے پیدا کیا گیا ہے، انسان کی اصل عزت اسکے عہدے میں نہیں بلکہ اسکے اخلاق میں ہے، اصل بلندی اسکی دولت میں نہیں اسکی عاجزی میں ہے۔ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے منصب کو عبادت کی جگہ رکھ دیا ہے اور عبادت کو رسم بنا دیا ہے۔ یہ وہی تکبر ہے جسے اللہ تعالٰی نے ناپسند فرمایا، یہ وہی غرور ہے جس نے شیطان کو شیطان بنایا معاشرے میں سرمایہ داروں، مذہبی رہنماؤں، بیوروکریسی کے افسران حتی کہ عام لوگوں تک میں یہ ایک بیماری پیدا ہو چکی ہے۔ ہر شخص اپنی جگہ خود کو سچا، سب کو کم تر اور اپنے دائرے میں اپنے اپکو ایک علیحدہ مخلوق سمجھنے لگا ہے۔ لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ سخت ترین حساب انہی لوگوں کا ہو گا جنہیں دنیا میں سب سے زیادہ اختیار دیا گیا تھا ہمارے معاشرے کی بدحالی کی اصل وجہ یہی اخلاقی زوال ہے۔ وہ معاشرے نہیں ٹوٹتے جن کے پاس کم وسائل ہوں وہ ٹوٹتے ہیں جہاں تکبر سستا اور انصاف مہنگا ہو جائے، وہ قومیں نہیں مرتیں جن پر غربت ہو، وہ مٹتی ہیں جہاں ضمیر مر جائے۔ ہمیں بلند عمارتیں نہیں بلند اخلاق درکار ہے ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہر اختیار ایک دن چھن جاتا ہے، ہر طاقت فنا ہو جاتی ہے، ہر اقتدار ختم ہو جاتا ہے لیکن جو انسان عاجزی اپناتا ہے وہ تاریخ دِلوں اور اللہ تعالٰی دونوں میں باقی رہتا ہے۔ آئیں خود سے یہ سوال کریں کیا ہم آزمائش میں کامیاب ہو رہے ہیں؟ یا ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہو چکے ہیں جو رب کی نعمتوں کو تکبر کی چابی بنا لیتے ہیں؟ اللہ تعالی ہمیں سچائی انصاف اور عاجزی کیساتھ جینے کی توفیق دے کیونکہ انسان کا اصل قد اسکی کرسی سے نہیں اسکی جھکی ہوئی گردن سے ظاہر ہوتا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت، دولت اور شہرت کبھی بھی انسان کو عظیم نہیں بناتیں یہ صرف اسکی آزمائش کو بڑا کرتی ہیں۔ کاش ہمارا معاشرہ اس سادہ حقیقت کو سمجھ سکے اصل مسلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں اصل خرابی یہ ہے کہ اختیار ملتے ہی انسان چھوٹا ہو جاتا ہے اور انا بہت بڑی۔

  • مریم نواز کی نیت، ویژن قابل تعریف مگر ..تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز کی نیت، ویژن قابل تعریف مگر ..تجزیہ:شہزاد قریشی

    پنجاب کی سیاست میں آجکل جو ہلچل ہے وہ کسی سے چھپی نہیں، وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کے اقدامات نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کیا واقعی صوبہ پنجاب ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے یا یہ بھی وہی روایتی دعوے ہوں گے جو ہر حکومت کے آغاز میں سننے کو ملتے ہیں؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ مریم نواز کے ناقدین بھی اب یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ صوبے میں پالیسی سازی کی رفتار تیز ہوئی ہے۔ چاہے معاملہ صحت کا ہو، صفائی کا ہو، تعلیم کا ہو، جدید ٹریفک نظام کا ہو یا سیف سٹی کا ہو یہ شفاف ترقیاتی منصوبوں کے فیصلے کم از کم ہوتے تو نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پالیسی سازی کبھی مسلہ رہی ہی نہیں۔ ہمارے یہاں مسائل ہمیشہ عملدرآمد پر گرتے ہیں اور یہی وہ نقطہ ہے جو اس پورے معاملے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ مریم نواز نے میرٹ، شفافیت اور زیرو ٹارلنس جیسے نعرے لگا کر پنجاب کے انتظامی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مگر یہ ڈھانچہ کوئی تختی نہیں جو بدل دیا جائے، یہ درجنوں برس کے اعداد، مفادات، رویوں اور ساخت کا مرکب ہے، اسے بدلنے کے لیے حکم سے زیادہ حوصلہ اور ادارہ جاتی دباؤ چاہیے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بیوروکریسی ہر حکومت کا اصل ستون ہوتی ہے، سیاست دان فیصلہ کرتے ہیں، لیکن ان فیصلوں کی روح بیوروکریسی ہی میں پھونکی جاتی ہے۔ اگر افسران میں وہی پرانی سست روی، وہی فائلوں کے گِرد اور وہی کل دیکھ لیں گے والا انداز رہا تو تبدیلی کا خواب حقیقت کا رخ نہ دیکھ سکے گا۔ مریم نواز نے میرٹ کی بات کی ہے، بہت اچھی بات ہے، لیکن میرٹ پر ایسا افسر بھی چاہیے جو صرف قابلیت نہیں رکھتا بلکہ جرآت بھی رکھتا ہو، جو سیاسی دباؤ، مقامی طاقتوروں کے اثرات اور اندرونی مزاحمت کو خاطر میں نہ لائے۔ پنجاب پولیس کا ذکر آتے ہی عوام کے ذہن میں تھانہ کلچر ابھرتا ہے وزیر اعلی نے ٹیکنالوجی، جدید ٹریفک سسٹم اور رول آف لاء کی بات کی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب پولیس اس ظاہری تبدیلی کے لیے تیار ہے۔ اصلاحات کا سب سے بڑا امتحان پولیس میں ہی ہوتا ہے کیونکہ پولیس وہ دروازہ ہے جہاں عوام روزانہ ریاست سے ملتے ہیں۔

    اگر تھانے وہی پرانے خوف اور سفارش کے مرکز رہے تو اوپر سے آیا ہوا انقلاب صرف سوشل میڈیا کی حد تک محدود رہ جائے گا۔ وزیر اعلی پنجاب لاھور میں بیٹھ کر بہترین منصوبہ بنا سکتی ہیں، مگر لاھور سی سی پی او آفس سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں اس پر عمل وہی ضلعی افسران کرے گا جو دل سے کام کرے گا یا رسمی خاکوں سے کام چلائے گا۔ کامیاب حکومتیں وہی ہوتی ہیں جو نچلی سطح کے افسران کو حوصلہ، اختیار اور جوابدہی تینوں چیزیں ایک ساتھ دیتی ہیں۔ اگر پنجاب میں واقعی تبدیلی لانی ہے تو فارمولا بہت سادہ ہے۔ اچھے افسر مضبوط نگرانی، سیاسی مداخلت سے مکمل آزادی، پائیدار اصلاحات اس فارمولا میں اگر ایک چیز بھی کمزور ہو تو پوری عمارت ہل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں اصل معرکہ وزیر اعلی کے دفتر میں نہیں بلکہ پنجاب کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنر اور سی پی او، ڈی پی او اور ماتحت عملے کی میز اور پٹواری کے دفتر میں ہے۔ مریم نواز کی نیت، ویژن اور رفتار تعریف کے لائق ہیں مگر پنجاب جیسے بڑے صوبے میں اصلاحات کا سفر بہت لمبا، مشکل اور مزاحمت سے بھرپور ہوتا ہے۔ اگر بیوروکریسی اور پولیس میں وہی انقلابی افسر آ گے، جنکی وزیر اعلی بات کر رہی ہیں، تو یقین کریں کہ چند برسوں میں پنجاب واقعی ہی پاکستان کا سب سے ترقی یافتہ صوبہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر پالیسی سازی اور فائل ورک میں ہی تبدیلی پھنس گئی تو یہ بھی ماضی کی اصلاحاتی داستانوں کی طرح صرف ایک اور کوشش بن کر رہ جائے گی۔ چاہے مریم نواز ہوں یا کوئی اور حکمران پائیدار تبدیلی اس وقت آتی ہے جب نظام بدلتا ہے، لوگ بدلتے ہیں اور ادارے بدلتے ہیں، سیاست دان سمت دکھاتے ہیں لیکن راستہ بیوروکریسی ہی بناتی ہے۔ اب یہ بیورکرویسی پر ہے کہ وہ پنجاب کو واقعی بدلنا چاہتی ہے یا صرف نئے نعروں کیساتھ پرانی روش پر چلتی رہنا چاہتی ہے۔

  • سوشل میڈیا،فیک نیوز،بیانیے کی جنگ

    سوشل میڈیا،فیک نیوز،بیانیے کی جنگ

    آج کا پاکستان صرف معاشی، سیاسی یا انتظامی چیلنجز کا شکار نہیں؛ ملک اپنی تاریخ کی سب سے بڑی پروپیگنڈہ، فیک نیوز اور ڈیجیٹل بیانیے کی جنگ کے بیچوں بیچ کھڑا ہے۔یہ جنگ روایتی نہیں۔ نہ اس میں توپیں گولے چل رہے ہیں، نہ سرحدوں پر محاذ گرم ہیں۔ اس جنگ کا میدان سوشل میڈیا ہے، اس کے ہتھیار گمراہ کن معلومات، جعلی بیانیے، آڈیو، ویڈیو ایڈیٹنگ، بوٹس، ٹرول فیکٹریاں اور ڈیجیٹل مہمات ہیں، جبکہ نشانہ عوام کا شعور اور ریاستی استحکام ہے۔

    دنیا بھر میں معلومات کی جنگ ایک نئی حقیقت ہے، مگر پاکستان میں اس کا حجم اور اثر کئی گنا بڑھ چکا ہے۔اب جھوٹی خبروں کی تخلیق ایک صنعت بن چکی ہے،ہر سیاسی، سماجی یا ریاستی مسئلہ صرف چند منٹوں میں "ٹویٹر ٹرینڈ” بن جاتا ہے،لاکھوں اکاؤنٹس بغیر شناخت کے گمراہ کن مواد پھیلا رہے ہیں،قومی سلامتی کے بیانیے مسلسل چیلنج ہو رہے ہیں،نوجوان نسل تیز ترین مگر غیر مصدقہ معلومات کی زد پر ہے،پاکستان آج ایک ایسی صورتحال میں ہے جہاں "خبر” اور "پروپیگنڈہ” میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بیانیے کی اس جنگ میں اندرونی انتشار پھیلانے والے عناصر،بیرونی مفادات کے سہولت کاراور بے نامی ڈیجیٹل اکاؤنٹس سب اپنے اپنے ایجنڈے کے ساتھ متحرک ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی ادارے، میڈیا، تعلیمی حلقے اور باشعور شہری غیر مصدقہ، اشتعال انگیز یا گمراہ کن مواد کی نشاندہی کریں، اس کا تجزیہ کریں اور عوام کو حقائق سے آگاہ رکھیں۔

    ہمیں یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ فیک نیوز حقیقی دنیا میں حقیقی نقصان پہنچاتی ہے۔جھوٹے بیانیے اداروں پر اعتماد کم کرتے ہیں، سماجی تقسیم بڑھاتے ہیں اور معاشرے میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔اسی لیے اس ڈیجیٹل یلغار کا مقابلہ جرأت سے،ثبوت کے ساتھ،مسلسل آگاہی کے ذریعےاور سنجیدہ مکالمے کے ساتھکرنا ہوگا۔بحث ضرور کیجیے ،اختلاف بھی کیجیے، مگر ذمہ داری کے ساتھ۔ نہ جذباتیت میں آئیں، نہ بغیر تحقیق کے کسی بیانیے کا حصہ بنیں۔

    پاکستانی سیاست میں ایک واضح تقسیم موجود ہے۔عمران خان کا سیاسی طرزِ عمل، بیانیہ، اور پھر اسے سوشل میڈیا پر جس شدت کے ساتھ پھیلایا جاتا ہے، ایک ایسے ماحول کو جنم دیتا ہے جو ریاستی اداروں سے ٹکراؤ،سیاسی انتہا پسندی،اور قومی بیانیے میں انتشارجیسے عوامل کو بڑھا دیتا ہے۔پاکستان کی استحکام کی ضرورتیں اور عمران خان کی سیاسی حکمتِ عملی ایک ہی سمت میں نہیں چل سکتیں،حقیقت یہ ہے کہ “پاکستان اور عمران ساتھ نہیں چل سکتے”

    پاکستان کو اس جنگ میں کامیابی کے لیے چند بنیادی اقدامات ضروری ہیں عوام میں ڈیجیٹل لٹریسی بڑھائی جائے،لوگ سیکھیں کہ خبر کی تصدیق کیسے کرتے ہیں، کس چیز کو شیئر نہیں کرنا چاہیے، اور کونسی معلومات مشکوک ہو سکتی ہے۔سوشل میڈیا قوانین کا مؤثر اور متوازن نفاذہونا چاہئے،ریاست اور عوام دونوں کو آزادیِ اظہار برقرار رکھتے ہوئے معلوماتی سلامتی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ دارانہ ڈیجیٹل حکمتِ عملی ترتیب دینی ہو گی،سیاسی بیانیہ اختلاف پر ہو، نفرت، گالی یا گمراہی پر نہیں۔ نوجوان نسل کی تربیت کرنی ہو گی،انہیں یہ سمجھانا کہ آن لائن دنیا اصل دنیا سے الگ نہیں یہاں پھیلایا گیا جھوٹ کسی کی زندگی بدل سکتا ہے۔

    پاکستان آج ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔بیانیے کی یہ جنگ ہمارے معاشرتی مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ جھوٹ کو چیلنج کریں،سچ کی حمایت کریں،اور کسی بھی سیاسی اختلاف کے باوجود پاکستان کو مقدم رکھیں،کیونکہ آخر میں ریاست، ادارے اور قوم ہی اصل حقیقت ہیں، بیانیے نہیں۔

  • این-25 مستونگ تا چمن شاہراہ کی تعمیر و توسیع ، بلوچستان کی ترقی کی نئی راہ

    این-25 مستونگ تا چمن شاہراہ کی تعمیر و توسیع ، بلوچستان کی ترقی کی نئی راہ

    بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں قدرتی وسائل کی فراوانی اور جغرافیائی اہمیت ایک روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔ تاہم اس ترقی کی بنیاد مضبوط انفراسٹرکچر، بہتر سفری سہولیات اور محفوظ شاہراہوں سے ہی ممکن ہے۔ انہی قومی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے این-25 مستونگ تا چمن شاہراہ کی تعمیر و توسیع کا عظیم منصوبہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نگرانی میں تیزی سے جاری ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے معاشی سرگرمیوں کا نیا دروازہ ثابت ہو رہا ہے۔این-25 قومی شاہراہ بلوچستان کے دل میں موجود اہم شہروں مستونگ، کچلاک، کوئٹہ، قلعہ عبداللہ اور چمن کو آپس میں ملاتی ہے۔ یہ سڑک اہم تجارتی راستے کا حصہ بھی ہے، جس کی وجہ سے اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ روزانہ ہزاروں مسافر، ٹرک، بسیں اور تجارتی گاڑیاں اس شاہراہ پر سفر کرتی ہیں۔ تاہم ماضی میں اس سڑک کی خستہ حالی، تنگ گزرگاہیں اور خطرناک موڑ ٹریفک حادثات اور سفر میں دشواریوں کا سبب بنتے رہے۔ یہی وجوہات اس منصوبے کی فوری ضرورت کی بنیاد بنیں۔

    این-25 کی تعمیر و توسیع کا منصوبہ مجموعی طور پر 198 کلومیٹر طویل ہے جسے تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے،
    پہلا حصہ،مستونگ تا کچلاک 88 کلومیٹر،اس حصے میں پرانی روڈ کی مرمت، کشادگی اور حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔
    دوسرا حصہ کچلاک تا قلعہ عبداللہ 62 کلومیٹر،یہ حصہ نہ صرف ٹرانسپورٹ کے لحاظ سے اہم ہے بلکہ کوئٹہ شہر کی ٹریفک لوڈ کو بھی کم کرنے میں مددگار ہوگا۔
    تیسرا حصہ قلعہ عبداللہ تا چمن 48 کلومیٹریہ مرحلہ سب سے اہم اور چیلنجنگ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں خوجک ٹنل (2.5 کلومیٹر)،چمن باؤنڈز (2.5 کلومیٹر)جیسے اہم اسٹرکچرز شامل ہیں۔اسی تیسرے حصے پر پہلے مرحلے میں بین الاقوامی معیار کے مطابق تیزی سے کام جاری ہے۔ قلعہ عبداللہ تا چمن سیکشن نہ صرف سب سے زیادہ ٹریفک لوڈ برداشت کرتا ہے بلکہ ملکی و غیر ملکی تجارت کے لحاظ سے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اس سیکشن کی کشادگی اور بہتری سے پورے خطے میں سفری اور تجارتی سہولت میں انقلاب آ جائے گا۔

    خوجک ٹنل بلوچستان کا ایک تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کا حامل حصہ ہے۔ اس 2.5 کلومیٹر طویل ٹنل پر جدید طرز پر بحالی اور توسیع کا کام فروری میں شروع کیا جا رہا ہے۔ نئی ڈیزائننگ، حفاظتی دیواریں، وینٹی لیشن سسٹم اور لائٹنگ سسٹم خوجک ٹنل کو عالمی معیار کے برابر لے آئیں گے۔ اس ٹنل کی بہتری سے سردیوں میں برفباری کے دوران ٹریفک جام اور حادثات میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔منصوبے کی تعمیر پاکستان کے معروف انجینئرنگ ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے سپرد کی گئی ہے۔ ایف ڈبلیو او مشکل ترین علاقوں میں اعلیٰ معیار کے انفراسٹرکچر بنانے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں بھاری مشینری، محفوظ روڈ الائنمنٹ، ڈرینیج سسٹمز، فلائی اوورز اور حفاظتی دیواروں کی تنصیب جیسے چیلنجز ایف ڈبلیو او کی پیشہ ورانہ صلاحیت کا عملی ثبوت ہیں۔

    چونکہ این-25 نہ صرف تعمیراتی لحاظ سے حساس منصوبہ ہے بلکہ اس پر روزانہ عوام اور تجارتی ٹریفک بھی چلتی ہے، اس لیے اس کی مجموعی سیکیورٹی پاک فوج اور ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے ذمہ ہے۔ یہ ادارے تعمیراتی عملے، مشینری اور مقامی آبادی کی مکمل حفاظت یقینی بنا رہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی موجودگی سے علاقے میں اعتماد اور امن کا ماحول فروغ پا رہا ہے۔یہ منصوبہ بلوچستان اور پاکستان کی معاشی، سماجی اور تجارتی ترقی کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

    چمن بارڈر پاکستان اور افغانستان کے درمیان سب سے بڑا زمینی تجارتی دروازہ ہے۔ بہتر شاہراہ سے تجارتی ٹرکوں کی آمدورفت تیز ہوگی، جس سے درآمدات و برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔کشادہ سڑکوں اور بہتر الائنمنٹ کی بدولت سفر کم وقت اور زیادہ آرام دہ ہو جائے گا۔ ٹوٹ پھوٹ، کھڈوں اور تنگ موڑوں سے نجات ملنے سے مسافروں کو بڑی سہولت میسر آئے گی۔منصوبے میں مقامی لیبر، مشین آپریٹرز، ٹیکنیشنز، ڈرائیورز، کھانے پینے کی سروسز اور دیگر شعبوں میں ہزاروں ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں۔ طویل المدتی طور پر بھی یہ شاہراہ تجارت میں اضافے کے ذریعے روزگار کے نئے دروازے کھولے گی۔سرد علاقوں خصوصاً خوجک ٹاپ پر برفباری کے دوران حادثات عام تھے۔ نئی سڑک، ٹنل کی بہتری، حفاظتی گارڈریل اور جدید سائن بورڈز کے بعد حادثات میں نمایاں کمی آئے گی۔سڑکوں کی بہتری ہمیشہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے۔ جب علاقے میں تجارت بڑھے گی، روزگار ملے گا تو امن و استحکام خود بخود مضبوط ہوں گے۔ این-25 اس سلسلے میں حقیقی معنوں میں خوشحالی کی شاہراہ ثابت ہو گی۔

    این-25 کی کامیاب تکمیل عوام کے تعاون، حکومتی ذمہ داری اور سیکیورٹی اداروں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ یہ منصوبہ بتا رہا ہے کہ جب ریاست اور عوام ایک سمت میں قدم بڑھائیں تو ترقی خود راستہ بنا لیتی ہے۔ بلوچستان کی عوام اس منصوبے کو امن، ترقی اور معاشی روشنائی کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔این-25 شاہراہ نہ صرف آج کے لیے اہم ہے بلکہ مستقبل قریب میں یہ سی پیک، وسطی ایشیائی ریاستوں، گوادر پورٹ اور افغانستان کے درمیان تجارت کا مرکزی راستہ بن جائے گی۔ بین الاقوامی سطح پر روابط بڑھیں گے، خطے میں ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے اور بلوچستان کو وہ اہمیت ملے گی جس کا وہ برسوں سے مستحق ہے۔

  • راز، رشتے اور احساس کی آبرو ،تحریر: حنا سرور

    راز، رشتے اور احساس کی آبرو ،تحریر: حنا سرور

    زندگی کے ہجوم میں کچھ رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہمارے دل پر نرم تتلیوں کی طرح بیٹھتے ہیں۔ کبھی خونی نسبتوں کی صورت، کبھی دوستی اور کبھی خاموش چاہت کے روپ میں۔ مگر زمانہ اپنے قوانین پر چلتا ہے ہر رشتہ ہمیشہ کے لیے مقدر نہیں ہوتا۔ کوئی لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب راستے بچھڑ جاتے ہیں، ہاتھ چھوٹ جاتے ہیں اور رہ جاتی ہے صرف یاد کی دھیمی خوشبو،لیکن اصل کمال وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں تعلق ختم ہوتا ہے۔اسی کیفیت کو ایک جملے میں یوں سمیٹا گیا ہے "اگر تعلق ختم ہونے کے بعد بھی راز اور عزت محفوظ رہے تو سمجھ جانا کسی خاندانی اور نسلی شخص سے واسطہ پڑا تھا۔”

    یہ جملہ تہذیب اور نجابت کی چادر میں لپٹا ہوا کردار کا آئینہ ہے۔اصل شرافت، بچھڑنے کے دنوں میں پہچانی جاتی ہے،ساتھ رہ کر محبت جتانا، وفا کے قصے کہنا اور احترام کے پل باندھنا کوئی فن نہیں۔ اصل فن وہ ہے کہ جب دو دلوں کے راستے جدا ہو جائیں،خوابوں کی گلیاں خالی ہو جائیں،رشتے کا سایا پیچھے رہ جائے،پھر بھی زبان وہی مٹھاس رکھے، نگاہ وہی حیا اور دل وہی پاکیزگی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کی اصل نسل، اصل تربیت اور اصل ظرف سامنے آتا ہے۔خاندانی لوگ جو رشتوں کی قبروں پر بھی بدگمانی کے پتھر نہیں رکھتے،خاندانی ہونا نصیب کی بات نہیں، اسلوبِ زندگی کا انتخاب ہے۔ ایسے لوگ راز کو امانت سمجھ کر سینے میں دفن کر دیتے ہیں،ان کے نزدیک اعتماد ٹوٹ جانے سے اعتماد کی حرمت کم نہیں ہوتی۔ جدائی کے بعد بھی زبان کا وقار قائم رکھتے ہیں،وہ بچھڑتے ہوئے بھی بدذوق جملوں کا سہارا نہیں لیتے۔ محبت ختم ہونے پر بھی احترام کا دامن نہیں چھوڑتے،کیوں کہ ان کے نزدیک عزت دینا خود کی پرورش کی علامت ہے، دوسروں کا حق نہیں۔ دل شکستہ ہو کر بھی نیت کا دامن میلا نہیں ہونے دیتے،جو اپنے اندر کی صفائی نہ کھوئے، وہی اصل میں خاندانی ہوتا ہے۔

    جدائی انسان کی تھکن نہیں بتاتی، اس کا ظرف بتاتی ہے۔ جب کوئی شخص بچھڑ کر بھی آپ کے بارے میں کوئی تلخ لفظ نہ کہے،آپ کی کسی کمزوری کو تماشہ نہ بنائے،آپ کی خاموشیوں کو بازار میں نہ بیچے،آپ کی عزت کو اپنی شکست کا بدلہ نہ بنائے،تو سمجھ لیں کہ آپ نے ایک ایسا کردار دیکھا ہے جو اب زمانوں میں کم پیدا ہوتا ہے۔ہمیں سیکھنا چاہیے کہ رشتے ٹوٹنے سے اخلاق نہیں ٹوٹتا،محبت ختم ہونے سے تہذیب ختم نہیں ہو جانی چاہیے،بچھڑ جانا دشمنی نہیں بن جانا چاہیے،راز اگر کبھی امانت بن جائے تو قیامت تک امانت ہی رہنا چاہیے،اصل شرافت وہ ہے جو جدائی کے لمحوں میں روشن رہے۔

    اگر زندگی میں کبھی کوئی ایسا شخص ملے جو رخصت ہوتے ہوئے بھی آپ کے لیے عزت ہی چھوڑ جائے،جو خاموش ہو کر بھی آپ کی بھرم داری نبھائے،جو بچھڑ کر بھی آپ کی ساکھ کو بدنما نہ ہونے دے،تو یقین جانیے، آپ نے کسی بڑے دل، بڑے ظرف اور بڑی تربیت والے انسان کو چھوا ہے،ایسے لوگ قسمت کی بارش ہوتے ہیں،کم چھوٹتے ہیں، مگر دل پر ہمیشہ کے لیے نشان چھوڑ جاتے ہیں۔

  • بدلتی عالمی صورتحال پر توجہ کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    بدلتی عالمی صورتحال پر توجہ کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں شور شرابے سے باہر نکل کر بدلتی ہوئی عالمی صورتحال پر توجہ دیں۔ ریاستوں کے تعلقات، معاشی تعاون اور علاقائی توازن نئی سمتوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ داخلی ہم آہنگی کو مضبوط بناتے ہوئے باہمی احترام، مکالمے اور تعاون پر مبنی حکمت عملی اپنائیں۔ عالمی، تبدیلیاں ان ممالک کے لیے مواقعے پیدا کرتی ہیں جو اتحادِ فکر، استحکام اور دوراندیش سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ ملک کی اصل ضرورت یہ نہیں کہ کون کس کا ذمہ دار ہے، اصل ضرورت یہ ہے کہ اجتماعی دانش کو بیدار کیا جائے، پالیسیوں میں تسلسل لایا جائے اور سماجی رویوں میں اعتدال پیدا کیا جائے۔ جب تک قوم جذبات کے بجائے بصیرت کو اپنا رہنما نہیں بناتی ترقی کے امکانات محدود ہی رہیں گے۔ دنیا میں تبدیلیاں ناگزیر ہیں مگر افسوس کہ ہم اب تک یہ طے نہیں کر پائے کہ ہم تبدیلیوں کا حصہ بننا چاہتے بھی ہیں یا نہیں۔ دنیا اس وقت ٹیکنالوجی، جدید معاشی طریقے کار اور سائنسی تحقیق کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اقوام اپنے مستقبل کی سمت متعین کر رہی ہیں، معیشتوں کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کر رہی ہیں اور ذہنی صحت کو سماجی پالیسی کا بنیادی حصہ بنا رہی ہیں۔ اس کے برعکس وطن عزیز اب بھی توانائی، مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام جیسے بنیادی مسائل کے گرد ہی گھوم رہا ہے۔ نتیجتاً ہم ترقی یافتہ دنیا کی رفتار سے مسلسل پیچھے ہوتے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے صورتحال کو مزید بگاڑا ہے، تحقیق، دلیل اور تنقیدی شعور کمزور پڑ گیا ہے۔ جبکہ جذباتی ردعمل، سطحی رائے اور غیر سنجیدہ گفتگو عام ہوتی جا رہی ہے۔ یہ رجحان معاشرے کی فطری کمزوری کا واضح ثبوت ہے۔

    سیاسی جماعتوں کا طرز عمل بدستور محاذ آرائی اور الزام تراشی کے گرد گھوم رہا ہے۔ قومی مسائل کے حل کے لیے اجتماعی لائحہ عمل اختیار کرنے کے بجائے سیاسی بیانیے، ذاتی مفادات اور جماعتی ترجیحات غالب ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت کے پاس ملک کو سمت دینے کی سکت کم اور مخالفین کو زیر کرنے کی خواہش زیادہ ہے۔ اسی سبب عوام میں شدید بےچینی اور بداعتمادی جنم لے رہی ہے۔ وطن عزیز اس وقت جس پیچیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے اس پر سنجیدہ اور بامعنی غور و فکر کی ضرورت ہے۔ توانائی بحران، مہنگائی، اقتصادی ابتری اور حکومتی بے سمتی اپنی جگہ موجود ہے۔ مگر حالیہ ایام میں جو بحث غیر ضروری طور پر زور پکڑ رہی ہے وہ معاشرتی رویوں کی وہ کیفیت ہے جسے عمومی طور پر ذہنی بے سمتی یا نفسیاتی انتشار کہا جا رہا ہے۔ تاہم قوم میں جذبہ بہت ہے، بس سمت کی کمی ہے۔ ہمارا بحران صلاحیت کا نہیں ترجیحات کا ہے اگر ہم جذباتی فیصلوں کے بجائے فکری و اجتماعی ذمہ داری کی طرف آئیں تو آج بھی بہت کچھ بہتر ہو سکتا ہے۔ وطن عزیز کے بدنصیبی یہ نہیں کہ دنیا بدل رہی ہے بدنصیبی یہ ہے کہ ہم ابھی تک یہ طے نہیں کر پا رہے کہ ہم بدلنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں۔