Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بحیرۂ عرب کے نگہبان ، پاک بحریہ کی شاندار کامیابی

    بحیرۂ عرب کے نگہبان ، پاک بحریہ کی شاندار کامیابی

    بحیرۂ عرب کی نیلی وسعتیں ہمیشہ سے جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست اور عالمی تجارت کی شہ رگ رہی ہیں۔ ان لہروں کے زیر و بم میں جہاں موسموں کا تغیر موجزن ہے، وہیں طاقت، سلامتی اور ذمہ داری کی ایک نا ختم ہونے والی کہانی بھی رقم ہوتی رہتی ہے،ایک ایسی کہانی جس میں پاکستان نیوی کا کردار ایک درخشاں ستارے کی مانند جہانِ آب و ہوا کو روشن کیے ہوئے ہے اور اسی روشن کردار کی تازہ ترین مثال وہ شاندار آپریشن ہے جو پاک بحریہ کے بہادر جوانوں اور پی این ایس تبوک نے کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کے تحت CTF-150 کی معاونت کرتے ہوئے انجام دیا اور دنیا کو ایک مرتبہ پھر یاد دلا دیا کہ پاکستان کے بحری محافظ نہ صرف چوکس ہیں بلکہ اپنے مشن، اپنی سرزمین اور سمندری قانونِ عالم UNCLOS کے اصولوں کے نگہبان بھی ہیں۔

    ریجنل میری ٹائم سکیورٹی پٹرول کے دوران پی این ایس تبوک کی نگاہ ایک بے نامی، غیر رجسٹرڈ مشکوک ماہی گیر کشتی پر ٹھہری،یہ کاروائی دوراندیشی، پیشہ ورانہ مہارت اور عالمی بحری ذمہ داری کا مظہر تھی۔ ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد جب تبوک کے جوانوں نے اس کشتی کی تلاشی لی، تو 2000 کلوگرام سے زائد میتھم فیٹامائن (ICE) برآمد ہوئی،ایک ایسی مقدار جس کی خطے کی منڈی میں مالیت تقریباً 130 ملین امریکی ڈالر بنتی ہے۔یقیناً یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں تھی۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس نے منشیات کی عالمی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو کاری ضرب لگائی اور اسے ثابت کیا کہ پاک بحریہ نہ صرف اپنے ساحلوں کی محافظ ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک مضبوط دیوار ہے جس پر غیر قانونی تجارت کی یلغار شکست و ریخت سے دوچار ہوتی ہے۔

    یہ آپریشن گزشتہ دو ماہ میں پاک بحریہ کی تیسری بڑی انسداد منشیات کارروائی ہے۔ تین کامیابیاں،دو ماہ، اور ہر کارروائی پہلے سے زیادہ بڑی، پہلے سے زیادہ کامیاب۔ یہ سلسلہ کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں پر محیط تربیت، بے مثال نظم، جدید آلات سے لیس جہازوں اور سب سے بڑھ کر اس جذبے کی پیداوار ہے جو پاکستان نیوی کے ہر سپاہی، ہر افسر اور ہر کمانڈر کے دل میں روشن ہے۔یہ کامیابیاں بتاتی ہیں کہ پاک بحریہ کی آنکھ کبھی نہیں سوتی۔ وہ سمندر کی گہرائیوں سے لے کر افق کی آخری لکیر تک مسلسل نگاہ رکھتی ہے۔ یہ وہ عزم ہے جو پاکستان کی سمندری حدود کو محفوظ رکھنے کا اٹل وعدہ ہے۔

    اس آپریشن نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان نیوی صرف ایک روایتی بحری قوت نہیں، بلکہ جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک فعال اور پیشہ ورانہ فورس ہے۔ اعلیٰ تربیت یافتہ کمانڈوز، تکنیکی ماہرین، اور انٹیلی جنس نیٹ ورک،یہ سب ایک مربوط نظام کی صورت میں کام کرتے ہیں، جو کسی بھی مشکوک حرکت کو نظر انداز نہیں ہونے دیتا۔پی این ایس تبوک کی کارروائی میں جو سرعت، دقتِ نظر اور غیر معمولی مہارت سامنے آئی، وہ اسی پیشہ ورانہ تربیت اور نظم و ضبط کا مظہر ہے۔ ایسے آپریشنز نہ صرف پاک بحریہ کی قابلیت کو عالمی دنیا کے سامنے اجاگر کرتے ہیں بلکہ پاکستان کے مثبت کردار اور امن کے لیے اُس کی کوششوں کو نمایاں بھی کرتے ہیں۔

    کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کے پلیٹ فارم پر پاکستان کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ CTF-150 کے تحت ہونے والے اس آپریشن نے دنیا کو ایک بار پھر یاد دلایا کہ پاکستان نہ صرف اپنے مفادات کے تحفظ میں سنجیدہ ہے بلکہ عالمی برادری کے ساتھ مل کر سمندری امن کے لیے بھی پیش پیش ہے۔یہ وہ جگہ ہے جہاں قومیں مل کر دنیا کو ایک محفوظ راستہ دیتی ہیں،تجارت کا، تعاون کا، ترقی کا۔ اور پاکستان اس تعاون میں ایک معتبر، ذمہ دار اور ثابت قدم ملک کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اسے یقیناً عالمی امن کے نقشے پر ایک سنجیدہ، مؤثر اور قابلِ اعتبار شراکت دار کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔

    پاکستان نیوی کے یہ سپاہی نہ صرف وردی پہنے ہوئے افراد ہیں، بلکہ وہ قومی غیرت، پیشہ ورانہ سچائی اور انسانیت کے دشمنوں کے خلاف کھڑی ایک مضبوط دیوار ہیں۔ ان کی ہر کامیابی پر قوم سر بلند ہوتی ہے، ان کی ہر قربانی پر ملک کی آنکھ نم ہوتی ہے، اور ان کی ہر کارروائی پر دنیا پاکستان کو مزید احترام کی نظر سے دیکھتی ہے۔پاکستان نیوی کا یہ آپریشن نہ صرف ایک عسکری کامیابی ہے بلکہ قانون کی حکمرانی کی ایک مثال بھی ہے۔ UNCLOS کے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ سمندری حدود میں قانون کے نافذ کرنے والا ایک ذمہ دار ملک ہے۔
    قانون کی یہ پاسداری پاکستان کے امدادی مشن، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز، اور انسداد اسمگلنگ اقدامات میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔یہی اصول پسندی دنیا کو اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ پاکستان کی بحری نگرانی صرف طاقت کے اظہار کے لیے نہیں، بلکہ اصول اور انصاف کے عالمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔

    ہر کامیاب آپریشن کے بعد جب پی این ایس تبوک یا کوئی اور پاکستانی جہاز واپس اپنی بندرگاہ کی جانب بڑھتا ہے، تو اُس پر لہراتا ہوا سبز ہلالی پرچم صرف ایک نشان نہیں ہوتا یہ وہ نورانی علامت ہے جو بتاتی ہے کہ پاکستان کا فرض شناس بیٹا اپنا فریضہ ادا کر آیا ہے۔یہ پرچم سمندر کی لہروں سے باتیں کرتے ہوئے کہتا ہے “تم موجزن رہو، ہم تمہاری حفاظت کے لیے ہر دم حاضر ہیں۔”پاکستان نیوی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ سمندر کی گہرائیوں سے لے کر عالمی بحری شاہراہوں تک، ہر محاذ پر پاکستان کا وقار بلند رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پی این ایس تبوک کا یہ شاندار آپریشن نہ صرف ایک کامیابی بلکہ ایک پیغام ہے، کہ پاکستان سمندری امن کا محافظ ہے، منشیات کے خلاف جنگ میں مضبوط دیوار ہے، اور عالمی ہم آہنگی میں غیر متزلزل شراکت دار ہے۔آج پوری قوم پاکستان نیوی کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ان محافظوں کو سلام جن کی بدولت ہمارے ساحل محفوظ ہیں، ہماری تجارت رواں ہے، ہمارا مستقبل روشن ہے۔

    پاک بحریہ زندہ باد۔
    پاکستان پائندہ باد۔

  • پاکستان کا اصل مسئلہ قیادت کا بحران،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کا اصل مسئلہ قیادت کا بحران،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز میں ایک بار پھر سیاسی شور، جلسوں اور ممکنہ نئی تحریک کی باز گشت گونج رہی ہے۔ مگر اس شور میں ایک عجیب سی خاموشی بھی سنائی دیتی ہے ایک ایسی خاموشی جو سیاسی کمزوری، قیادت کے بحران اور عوامی بے اعتمادی کی کہانی سناتی ہے۔ سوال یہ ہے آج کی تحریکیں ماند کیوں پڑ گئی ہیں؟ اور وہ کون سی کڑیاں ٹوٹ چکی ہیں جن سے کبھی سیاسی تحریکیں طاقت حاصل کرتی تھیں؟ سچ یہی ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ قیادت کا بحران ہے وہ عظیم، قدآور، نظریاتی رہنما اب ناپید ہیں جن کی زبان میں اثر تھا، جن کے قدموں میں عوام کی طاقت تھی اور جن کے فیصلے ذاتی نہیں بلکہ قومی مفاد کی علامت ہوتے تھے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوم ایک مقصد پر اگھٹی ہوئی اس کی قیادت کسی نہ کسی مضبوط شخصیت کے ہاتھ میں تھی۔ ایوب کے خلاف تحریک بھٹو کا عوامی ابھار ہو، ایم آر ڈی کی جدوجہد ہو یا 2007 کی وکلاء تحریک ہر دور میں ایسی شخصیات موجود تھیں جن کا قد، ویژن اور اثر موجودہ سیاست میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ نوابزادہ نصراللہ مرحوم، خان ولی خان مرحوم، قاضی حسین احمد مرحوم، غوث بخش بزنجو، عطا اللہ مینگل، مفتی محمود اور دوسرے کئی سیاستدان یہ سب وہ نام تھے جن کے ہوتے سیاسی تحریکیں صرف شور نہیں ہوتیں ایک سمت رکھتی تھیں۔ ایک حدف ہوتا تھا، سب سے بڑھ کر ایک قیادت ہوتی تھی، آج کا منظر نامہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ تحریکیں موجود ہیں، نعروں کی گونج ہے، پریس کانفرنسیں ہیں، سوشل میڈیا کا شور ہے، مگر قائد نہیں۔ ماضی کے رہنما نظریات رکھتے تھے آج کی سیاست شخصیات اور ٹرینڈز پر کھڑی ہے اِدھر ایک بیان، اُدھر ایک بیان، اِدھر ایک کلپ، بس یہی سیاست رہ گئی ہے۔

    سیاسی جماعتوں میں اندرونی انتخابات کا نہ ہونا، خاندانوں اور محدود حلقوں کا قبضہ، رہنما سازی کے عمل کو بالکل مفلوج کر چکا ہے۔ دوسری جانب جب جمہوری سلسلہ بار بار ٹوٹے تو سیاسی قیادت درخت کی طرح جڑیں کبھی مضبوط نہیں بنا سکتی۔ جب سیاست اصول سے ہٹ کر مفاد، لوٹے بازی اور وزارتوں کے گرد گھومنے لگے تو عوامی لیڈر کم اور سیاسی دکاندار زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔ قیادت وہ ہوتی ہے جو گلی، محلوں، یونین کونسلوں اور عوامی جدوجہد سے ابھرے، نہ کہ جھوٹے فالورز سے۔ آج کی سیاسی تحریکیں شور تو بہت کرتی ہیں مگر روح سے خالی ہیں، وجہ ایک ہی ہے قیادت کا بحران۔ وطن عزیز اس وقت ایک ابھرتے ہوئے سیاسی خلاء کے بیچ کھڑا ہے ایسا خلاء جسے پر کرنے کے لیے نئے قدرآور رہنماؤں، نئی سیاسی سوچ اور عوامی اعتماد کی ضرورت ہے۔ جب تک ایسی قیادت سامنے نہیں آتی وطن عزیز میں کوئی نئی تحریک کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی صرف آوازیں رہیں گی اثر نہیں ہوگا۔ قوموں کی تقدیر یاد رکھیے جلوسوں سے نہیں بدلتی، نظریاتی قیادت اور مضبوط سیاسی روایت سے بدلتی ہے، وطن عزیز اسی قیادت کا منتظر ہے۔

  • ذہنی معذور لڑکی سے زیادتی،مجرم کی گرفتاری،فیصل کامران کی فرض شناسی

    ذہنی معذور لڑکی سے زیادتی،مجرم کی گرفتاری،فیصل کامران کی فرض شناسی

    ذہنی معذور لڑکی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ، جس نے ہمیں انسانیت کے درد اور معاشرتی ذمہ داریوں کی تلخ یاد دلائی۔ مگر ایسے ہی لمحوں میں ایک روشنی بھی نمودار ہوتی ہے، انصاف کی راہ پر قدم بڑھانے والے پولیس افسران، اور وہ ادارہ جو غنڈہ گردی اور ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہوتا ہے۔ آج ہم اسی دو جہتی منظرنامے پر چراغ ڈالیں گے ایک طرف ظلم کی وحشت، دوسری طرف پولیس کی زمینی اور ضمیری کامیابی ملے گی

    بدقسمتی کی انتہا تب ہوتی ہے، جب کوئی ایسا دل زخمی ہوتا ہے جو خود اپنی پوری حفاظت کرنے سے قاصر ہو۔لاہور میں ذہنی معذور لڑکی کے ساتھ اس زیادتی کا واقعہ محض ایک جرم نہیں، بلکہ انسانی ضمیر کی دھڑکنوں میں باس مل جانے والی چوٹ ہے۔ ایک معصوم، کمزور وجود کو بہانے سے ورغلا کر، کرایہ کے کوارٹر میں زندگی کا ایک ایسا سبھا کر دینا ، یہ انسانی کمزوری کا استحصال ہے، طاقت اور اعتماد کی زیادتی ہے، اور سب سے بڑھ کر ایک معاشرتی سانحہ ہے۔یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زیادتی صرف جسمانی حدوں کو عبور نہیں کرتی، بلکہ روح کو بھی زخمی کرتی ہے۔ یہ ظلم ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نہ صرف اس کی آواز سنیں، بلکہ اسے یقین دلائیں کہ انصاف ممکن ہے، اور وہ تنہا نہیں ہے۔

    اسی اندوہناک تصویر میں ایک تابناک کردار سامنے آتا ہے ، لاہور پولیس، اور خاص کر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران، ان کا فوری نوٹس لینا اور اس واقعہ پر خصوصی ٹیم تشکیل دینا، ایک عزمِ بیدار انسانیت کا مظہر ہے۔ ایسے افسران کی موجودگی بتاتی ہے کہ پولیس صرف طاقت کا زرخریدہ ہتھیار نہیں، بلکہ ایک ضمیر دار ادارہ بھی ہو سکتی ہے جو مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کی قسم کھا چکا ہے۔اس واقعہ میں، کوٹ لکھپت ٹیم کی قیادت ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی نے نہ صرف پیشہ ورانہ مہارت دکھائی بلکہ ہمت اور عزم کا مظاہرہ بھی کیا۔ ملزم کی گرفتاری،جو کرایہ کے کوارٹر میں لڑکی کو ورغلانے اور زیادتی کرنے والا تھایہ بتاتی ہے کہ پولیس نے کسی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کا استعمال، ملزم کے ہسپتال آنے اور فرار ہونے کے مناظر کی شناخت، سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ تفتیش نہ صرف سنجیدہ تھی بلکہ جدید انداز میں کی گئی۔اور پھر، ملزم کو جنڈر کرائم سیل کے حوالے کرنا یہ ایک سنجیدہ اور درست اقدام ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ پولیس محض گرفتاری پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ قانونی، ماہر اور حساس انداز سے انصاف کے راستے کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتی ہے۔


    ایسی گھمبیر اور تکلیف دہ داستانوں میں ہمیں وہ روشنی تلاش کرنی چاہیے جو ناامیدی کے اندھیرے کو چیر دے۔ پولیس کی جانب سے فوری کارروائی اور قانونی تقاضوں کا احترام کرنا، ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ معاشرتی نظام نے اپنی ذمہ داری نبھانی شروع کردی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسے واقعات کو خاموشی سے برداشت نہیں کیا جائے گا، اور معاشرہ انہیں نظر انداز نہیں کر سکتا۔یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ ظلم کے خلاف صرف انصاف کی نہیں، بلکہ انسانی وقار کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ جب پولیس ایک معذور لڑکی کی حفاظت میں قدم اٹھاتی ہے، تو وہ اعلان کرتی ہے کہ ہر انسان کی عزت مقدس ہے، اور کوئی جرم چھوٹے درجے کا تصور نہیں کیا جائے گا۔بچیوں اور معذور افراد پر ہونے والی زیادتی ہماری معاشرتی وجدان کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔ یہ جرم صرف ایک فرد کی بربادی نہیں، بلکہ پوری آبادی کی اخلاقی تشویش ہے ، یہ سوال ہے کہ ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں کمزوروں کو تحفظ ملتا ہے یا نہیں۔ ایسے میں پولیس کا ٹھوس اور بروقت کارنامہ، ہمیں بتاتا ہے کہ جرم کے خلاف ہمارا موقف کمزور نہیں، بلکہ پختہ اور پرعزم ہے۔ہمیں اپنے طور پر بھی ذمہ دار رہنا ہوگا۔ ہمیں بچوں کی حفاظت کے طور پر سبق سکھانا ہے، معذور اور کمزور افراد کے حقوق کو اجاگر کرنا ہے، اور معاشرتی شعور کو بلند کرنا ہے تاکہ ایسے جرائم پر پردہ نہ چُھپا رہے، بلکہ وہ فوری طور پر منظرِ عام پر آئیں اور ان کے مرتکب کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر پیش کیا جائے۔

    فیصل کامران جیسے افسران ہماری امید کا ستون
    انسانی داستانوں میں ایسے روشن کردار کم ہی ملتے ہیں جو انصاف کی راہوں پر نہ صرف رہنمائی کرتے ہیں بلکہ خود وہی روشنی بن جاتے ہیں۔ ڈی آئی جی فیصل کامران کا کردار اس سانحہ میں ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ پولیس صرف طاقت کا اظہار نہیں، بلکہ انصاف کی ضمانت بھی بن سکتی ہے۔ ان کی فعالیت، عزم، اور حساسیت ، یہ سب ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ صرف ایک عہدہ نہیں، بلکہ ایک ضمیری آواز ہیں۔ان کی قیادت میں بنائی گئی ٹیم نے ہمیں یہ محسوس کروایا ہے کہ انصاف ایک خواب نہیں، حقیقت ہے۔ اگر ادارے مضبوط ہوں اور پولیس افسران اپنا فرض نبھائیں، تو وہ سنگین جرائم کا سدِ باب کر سکتے ہیں اور معاشرے کو ایک بہتر سمت پر گامزن کر سکتے ہیں۔


    یہ واقعہ ایک زخم ہے جو ہماری انسانیّت پر گرا ہے، مگر پولیس کی کارکردگی نے وہ مرہم فراہم کیا ہے جو دل کو کچھ سکون دے سکتا ہے۔ ہمیں اس سکون کو صرف محسوس نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے ایک تحریک میں بدلنا چاہیے۔ ہمیں چاہیئے
    آگاہی بڑھائیں ، معذور افراد کی حفاظت اور ان کے حقوق کے بارے میں شعور پھیلائیں۔شکایات کی راہ ہموار کریں ، ایسے واقعات کی اطلاع دینے والے ہر فرد کو یہ یقین دلائیں کہ انصاف ممکن ہے۔ ان افسران کی حوصلہ افزائی کریں جو ضمیری اور پیشہ ورانہ طور پر انصاف کی راہ پر چلتے ہیں، جیسے فیصل کامران اور ان کی ٹیم، ہر گھر، ہر سکول، اور ہر محلہ ایک ایسا کلچر بنائے جہاں کمزوروں کا تحفظ اولین ترجیح ہو۔

  • عکسِ بےنظیر، آصفہ بھٹو،وقار، مسکراہٹ اور خدمت کا سفر.تحریر:راجہ سفیر

    عکسِ بےنظیر، آصفہ بھٹو،وقار، مسکراہٹ اور خدمت کا سفر.تحریر:راجہ سفیر

    سیاسی تاریخ میں بعض چہرے ایسے ہوتے ہیں جو محض افراد نہیں رہتے، بلکہ ایک علامت بن جاتے ہیں،روشنی، جدوجہد اور تسلسل کی علامت۔ پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید بھی ایسی ہی شخصیت تھیں جن کے وقار، اندازِ گفتگو، مسکراہٹ اور عوامی محبت نے نسلوں کو متاثر کیا۔آج جب آصفہ بھٹو کو دیکھا جاتا ہے تو اُن میں اپنی والدہ کی جھلک دکھائی دیتی ہےوہی ٹھہراؤ، وہی نرمی، اور وہی عوام سے قریبی تعلق کا احساس،بینظیر بھٹو کی وراثت صرف سیاسی نہیں تھی؛ وہ امید، جدوجہد اور ایک بہتر پاکستان کے خواب کی وراثت تھی۔ آصفہ بھٹو ان ہی خوابوں کے تسلسل کو اپنے انداز میں آگے بڑھاتی نظر آتی ہیں۔

    سیاسی میدان میں اُن کی موجودگی نسبتاً نئی سہی، مگر سماجی سطح پر وہ عرصہ دراز سے سرگرم ہیں،بالخصوص صحت، انسانی حقوق اور فلاحی کاموں میں اُن کی دلچسپی نمایاں رہی ہے۔ پولیو کے خاتمے کی مہم میں ان کی سرگرم شمولیت انہیں نئی نسل میں ایک ایسی آواز بنا دیتی ہے جو خدمت اور ذمہ داری کو سیاست سے پہلے رکھتی ہے۔ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر محترمہ بینظیر بھٹو تک، عوامی رابطہ اس خاندان کی شناخت رہا ہے۔آصفہ بھٹو کی عوامی تقریبات، دورے اور سوشل پالیسی سے جڑے موضوعات پر توجہ بھی اسی روایت کا تسلسل محسوس ہوتی ہے۔ اُن کے انداز میں ایک سادگی اور باوقار سنجیدگی ہے جسے دیکھ کر لوگ اکثر کہتے ہیں کہ “یہ بینظیر کی مسکراہٹ ہے”۔

    آصفہ بھٹو نہ صرف ایک سیاسی خانوادے کی نمائندہ ہیں بلکہ نئی نسل کے احساسات اور طرزِ فکر کی بھی عکاس ہیں۔ وہ جدید سیاسی بیانیے، سوشل میڈیا سے عوامی رابطے، خواتین کے حقوق اور نوجوانوں کے کردار جیسے موضوعات پر کھل کر بات کرتی ہیں۔یہی وہ پہلو ہے جو انہیں پاکستان کی بدلتی ہوئی سیاست میں ایک ابھرتی ہوئی سماجی آواز بناتا ہے۔بینظیر بھٹو نے ہمیشہ کہا کہ وہ پاکستان کی بیٹی ہیں۔آصفہ بھٹو کے متعلق یہ تاثر عام ہے کہ وہ اپنی ماں کے نامکمل خوابوں کو اپنے طریقے سے آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں،چاہے وہ تعلیم کا فروغ ہو، صحت کے مسائل ہوں، یا کمزور طبقات کی آواز بننے کا معاملہ،ان کے لہجے میں وہی نرمی ہے، اور اُن کی گفتگو میں وہی احترام جو بینظیر کی شخصیت کا حصہ تھا۔

    آصفہ بھٹو کا سفر ابھی طویل ہے، مگر اُن کی شخصیت میں موجود وہ وقار، مسکراہٹ اور عوام سے محبت انہیں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔وہ نہ کسی کا نعم البدل ہیں، نہ کسی کے سائے میں چھپی ہوئی شخصیت،بلکہ ایک خود مختار، اعتماد سے بھرپور اور انسان دوست آواز جو اپنے انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔وہ واقعی عکسِ بےنظیر کی طرح محسوس ہوتی ہیں،مگر اپنی شناخت کے ساتھ، اپنی روشنی کے ساتھ، اور اپنے عزم کے ساتھ۔

  • ہم جنس رجحانات، اثرات اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر:آصف شاہ

    ہم جنس رجحانات، اثرات اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر:آصف شاہ

    دنیا بظاہر جتنی وسیع نظر آتی ہے، انسانی جذبات اور رجحانات کی دنیا اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ وقت کے ساتھ نظریات بدلتے ہیں، رویّے ڈھلتے ہیں، اور معاشرتیں نئے سوالوں کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔ آج ہمارے معاشرے میں بھی ایک ایسا موضوع زیرِ بحث ہے جو اکثر غلط فہمیوں، جذباتی ردِعمل، اور معلومات کی کمی کا شکار رہتا ہے ہم جنس رجحانات،ہم جنس پرستی۔ اس موضوع کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے سنجیدگی، حکمت، اور علمی توازن کے ساتھ دیکھیں، نہ کہ نفرت، الزام یا خوف کے زاویے سے۔

    پاکستانی معاشرے میں معلومات، میڈیا، اور انٹرنیٹ کے بے تحاشا پھیلاؤ نے نوجوان نسل کو بے شمار عالمی رویّوں سے روشناس کر دیا ہے۔ ایسے میں بعض نوجوان جسمانی بلوغت، ذہنی الجھنوں، یا تشنۂ توجہ کے باعث بعض ایسے رجحانات کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں جن کی اصل وجوہات وہ خود بھی نہیں سمجھتے۔تاہم یہ سمجھنا لازم ہے کہ ہم جنس رجحان کسی ایک وجہ سے پیدا نہیں ہوتا،اس کے پیچھے کئی نفسیاتی، سماجی، اور بعض صورتوں میں طبی عوامل بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ ہم جنس رویّوں کو صرف "فیشن”، "بگاڑ” یا "مغربی اثر” قرار دیتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔اصل تشویش نوجوانوں کی اخلاقی، ذہنی، اور جسمانی سلامتی ہے،نہ کہ کسی فرد کی ذاتی شناخت یا اس کے احساسات،یہ بھی ضروری ہے کہ ہم کسی بھی انسان کی تذلیل یا نفرت انگیزی سے بچیں۔ نفرت کبھی اصلاح نہیں لاتی، بلکہ بگاڑ کو بڑھاتی ہے۔ نوجوانوں کو صحیح رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، لیبلز اور طعنوں کی نہیں۔

    وہ نوجوان جو کم عمری میں کسی جسمانی یا جذباتی تجربے سے گزریں، بعد میں شدید ذہنی پریشانی یا شناختی کشمکش کا شکار ہو سکتے ہیں۔ایسے نوجوان اکثر یہ نہیں سمجھ پاتے کہ ان کے جذبات کی نوعیت کیا ہے، اور معاشرہ ان سے کیا چاہتا ہے۔ نتیجتاً وہ خاموش تنہائی یا خوف میں رہنے لگتے ہیں۔اصل نقصان "رجحان” نہیں بلکہ غیر ذمہ دارانہ یا استحصالی تعلقات ہیں،چاہے وہ ہم جنس ہوں یا مخالف جنس،ان میں جذباتی شکاری ، بلیک میلنگ، یا نقصان دہ رویّے شامل ہو سکتے ہیں۔نوجوانی وہ دور ہے جہاں انسان جذبات، جسم اور ذہن کے نئے دروازے کھلتے محسوس کرتا ہے۔ ایسے میں کئی عوامل نوجوان کو عارضی یا وقتی ہم جنس کشش کی طرف لے جا سکتے ہیں،گھر میں بے توجہی، سختی یا جذباتی تنہائی نوجوان کو ایسے لوگوں کی طرف دھکیل سکتی ہے جو اسے فوری توجہ اور قبولیت دیں۔بعض اوقات گہری دوستی جذباتی انحصار میں بدل جاتی ہے، اور نوجوان بغیر سمجھے اسے رومانوی کیفیت سمجھ لیتے ہیں۔کم عمری میں کسی اذیت ناک تجربے کے باعث ذہن بعض اوقات اپنے ردعمل میں عارضی یا مستقل بدلاؤ پیدا کر لیتا ہے۔آن لائن مواد ذہن کو فریب دے سکتا ہے، خاص طور پر جب نوجوان کو صحیح رہنمائی نہ مل رہی ہو۔

    نوجوان دورِ جدید میں اپنی "شناخت” کو تلاش کرنے کے لیے اکثر جذبات کو امتحان سمجھتے ہیں۔نوجوان نسل کو صرف منع کردینے سے کچھ نہیں ہوتا۔ ان کی حفاظت کا راز مکالمے، اعتماد اور تربیت میں ہے۔اگر بچہ والدین سے ہر بات کھل کر کر سکے تو وہ غیر صحت مند تعلقات کی طرف کم جائے گا۔ جنسی تعلیم یہ تعلیم بے حیائی نہیں، بلکہ تحفظ ہے۔نوجوان کو یہ جاننا ضروری ہے جسم کی حدود کیا ہیں؟کون سی دوستی اچھی اور کونسی درست نہیں ہے؟بلیک میلنگ کیا ہوتی ہے؟آن لائن کیا خطرات چھپے ہیں؟مضبوط مذہبی اور اخلاقی بنیاد نوجوان کو مضبوط کردار عطا کرتی ہے۔لیکن یہ تربیت محبت سے ہو،دھمکی یا خوف سے نہیں۔اسکول اور کالج کی فضا کو محفوظ اور مثبت بنانا ضروری ہے، تاکہ وہاں کوئی بچہ تنہا یا غیر محفوظ محسوس نہ کرے۔اگر کوئی نوجوان شدید الجھن، ڈپریشن یا خوف کا شکار ہو تو اسے فوراً تربیت یافتہ سائیکالوجسٹ تک پہنچانا چاہیے۔یہ کوئی "کمزوری” نہیں بلکہ ذہنی صحت کی حفاظت ہے۔

    ہماری ذمہ داری یہ نہیں کہ کسی نوجوان پر لیبل لگا دیں۔ بلکہ اسے سمجھیں،اس کے خوف کو سنیں،اس کی غلطیوں پر شفقت سے اصلاح کریں،اور اسے محفوظ راستہ دکھائیں،جو معاشرہ گفتگو کے دروازے بند کر دے، وہاں غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔جو معاشرہ محبت اور حکمت کے ساتھ رہنمائی کرے، وہاں کردار مضبوط ہوتے ہیں۔ہم جنس رجحانات کا موضوع صرف تنقید یا جذباتی بحث کا معاملہ نہیں۔ یہ ہمارے نوجوانوں کی ذہنی کیفیت، ان کی شناخت، اور ان کی حفاظت سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔اسے حل کرنے کے لیے نہ نفرت کی ضرورت ہے، نہ خوف کی،بلکہ علم، حکمت، اور انسان دوستی کی ضرورت ہے۔اگر ہم نوجوان نسل کو محبت، رہنمائی، اعتماد اور مضبوط اخلاقی بنیاد فراہم کریں، تو وہ خود بخود صحت مند راستے کا انتخاب کرے گی۔معاشرتی اصلاح کا واحد صحیح راستہ دل کے دروازے کھولنا، مکالمہ قائم رکھنا، اور ہر انسان کی عزت کو مقدم رکھنا ہے۔

  • استحصال بھی صوبائی سروس کا اور احتساب بھی صوبائی افسران کا،تحریر:ملک سلمان

    استحصال بھی صوبائی سروس کا اور احتساب بھی صوبائی افسران کا،تحریر:ملک سلمان

    پیپلز پارٹی کی سندھ میں دہائیوں سے مسلسل حکومت کا ایک ہی راز ہے کہ وہ اپنے صوبائی افسران اور سیاسی کارکنان کو عزت دیتے ہیں۔ یہی پالیسی خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے لگاتار تیسرے اقتدار کی وجہ بنی۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں صوبائی افسران شدید محکومی اور استحصال کا شکار ہیں۔ جہاں گریڈ 22میں صوبائی افسران کی سیٹ ہی نہیں تو گریڈ 21 اور 20 میں انتہائی کم سیٹیں دی گئیں ہیں۔ جس کی وجہ سے ایک ساتھ این ایم سی اور ایس ایم سی کرنے والے وفاقی افسران تو فوری پرموٹ ہوجاتے ہیں جبکہ صوبائی افسران اس انتظار میں لگ جاتے ہیں کہ پہلے جائیں گے تو ہماری باری آئے گی۔ یہی حالات گریڈ 18سے19میں جانے والوں کے ہیں جہاں 100 سے زائد افسران پی پی جی کرکے کئی سال سے ترقی کی راہ تک رہے ہیں، اسی طرح 17سے18 کیلئے پی ایس ایم جی کرکے انتظار کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں۔

    صوبائی افسران کی ترقی ”مشن امپاسبل” سے کم نہیں، مہینوں ٹریننگ لیٹ کی جاتی ہے، سارے تاخیری حربوں کے باوجود ٹریننگ کرنے میں کامیاب ہونے والوں کو پروموشن بورڈ میں غیر ضروری تاخیر کرکے لامتناہی انتظار کی سولی پرلٹکا دیا جاتا ہے۔ خدا خدا کرکے بورڈ کیا جاتا ہے تو وہاں بھی صوبائی افسران کو ترقی دینے کی بجائے بغیر کسی سولڈ وجہ کے ڈیفرڈ کر دیا جاتا ہے۔صوبائی سروس کے جن افسران کو معزز عدلیہ الزامات اور کیسز سے باعزت بری کر چکی ہے انہی کیسز میں انٹی کرپشن کی طرف سے تفتیش جاری کا کہہ کر ترقی نہ دینا سخت زیادتی اور توہین عدالت کے مترادف ہے۔جس کیس میں مرکزی ملزم چوہدری پرویز الہیٰ عدالت سے بری ہوچکے ہیں۔ اسی کیس میں صوبائی افسران پر الزامات کی تفتیش کو تین سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، بدنیتی کی انتہا کہیے کہ تین سال سے چالان نہیں جمع کروایا جارہا اور زیر تفتیش کا کہہ کر صوبائی افسران کو ترقی نہ دینا انٹی کرپشن کی نااہلی اور بدترین انتقامی کاروائی ہے۔ اسی کیس میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسر ان بھی کمیٹی ممبر تھے لیکن انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں اور صوبائی افسران کو جیل بھی جانا پڑا اور آج تک ترقی کی راہ تک رہے ہیں۔

    ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل سے لیکر تمام ملکی و غیر ملکی تنظیموں کی سروے رپورٹ میں پولیس کرپشن انڈیکس میں ہمیشہ ٹاپ تھری پوزیشن پر رہی ہے لیکن جب سے انٹی کرپشن کے قوانین کے برخلاف پولیس افسران کو انٹی کرپشن کا ہیڈ لگایا گیا ہے کسی ایک پی ایس پی افسر تو درکنار ڈی ایس پی لیول کے جونئیر پولیس افسر کے خلاف بھی کاروائی نہیں کی گئی۔ کرپٹ پولیس اہلکاروں کا احتساب تو درکنار، گریڈ 17کے ڈی ایس پی کو ڈویژنل سربراہ انٹی کرپشن لگا دیا گیا۔ اس سے زیادہ مضحکہ خیز شرمناک ڈرامہ کیا ہوگا کہ جہاں گریڈ 20کے کمشنر، آر پی او اور سی پی او ہوں وہاں گریڈ 17 کا ڈی ایس پی ڈویژنل سربراہ انٹی کرپشن۔ حتیٰ کہ انٹی کرپشن کے گریڈ 18کے ڈپٹی ڈائریکٹر بھی بھی گریڈ17کے ڈی ایس پی ماتحت ہیں۔
    میڈم وزیر اعلیٰ اور ملکی سلامتی کی محافظ ایجنسیز کو مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
    چیف سیکرٹری نے اہم پوزیشن پر اوپر سے لیکر نیچے تک سنئیر سیٹوں پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے جونئیر افسران لگا رکھے ہیں جبکہ صوبائی افسران کے ساتھ استحصال کا معاملہ الٹ ہے کہ بہت ساری جگہوں پر پی ایم ایس کے سنئیر افسران کو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے جونئیر افسران کے ماتحت لگایا گیا ہے۔
    کج شہر دے لوک وی طالم سن
    کج سانو مرن دا شوق وی سی

    یہی وجوہات ہیں کہ صوبائی سروس کے بہت سارے افسران گریڈ 20میں جانا عذاب سمجھتے ہیں کہ انہیں نوے ماڈل کھٹارا گاڑی اور کھڈے لائن پوسٹنگ دے کر کلرک بنادیا جائے گا۔ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسران کی پوسٹنگ دیکھتے جائیں اور شرماتے جائیں گریڈ سترہ والے کو اٹھارہ جبکہ کتنے ہی گریڈ اٹھارہ کے افسران کو گریڈ انیس اور بیس میں ڈی جی، ایم ڈی اور سی ای او کی سنئیر سیٹوں پر نوازشیں کی گئی ہیں۔ ان مزکورہ لاڈلے افسران کے بارے یہ بات زبان زدعام ہوتی جا رہی ہے کہ فلاں جونئیر افسر فلاں پاور فل سنئیر افسر کا کماؤ /پلاؤ پتر ہے۔میڈم وزیراعلیٰ آپ کے دور حکومت میں خواتین افسران کوسیکرٹری، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کی اہم ترین سیٹوں پر تعینات کیا گیا لیکن صوبائی سروس سے کسی ایک خاتون آفیسر کو بھی سیکرٹری، کمشنر یا ڈی سی نہیں لگایا گیا۔

    پنجاب کی صوبائی سیکرٹریز کی 42 سیٹوں میں سے 6/7سیکرٹریز کی سیٹیں بامشکل پی ایم ایس افسران کو دی گئی ہیں وہ بھی غیر اہم سے محکمہ جات۔ 41 میں سے صرف 12 اضلاع میں صوبائی سروس کے ڈپٹی کمشنر ہیں باقی تمام اہم اضلاع میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسران تعینات ہیں۔ اسی طرح اہم اضلاع کے اے ڈی سی آر اور اسسٹنٹ کمشنر کی بڑی تحصیلوں پر بھی پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے جونئیر ترین افسران براجمان ہیں۔سی ای او IDAP، خود مختار اٹھارٹیز، ورلڈ بنک سمیت انٹرنیشنل فنڈنگ والی تمام سیٹیں بھی پی ایم ایس افسران کے لیے شجر ممنوعہ قرار دے کر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے جونئیر افسران کو اربوں روپے کے استعمال کیلئے سیا و سفید کا مالک بنا دیا گیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے گزارش ہے کہ جس صوبے کی آپ وزیراعلیٰ ہیں اسی کے صوبائی افسران بے یارومددگار دہائیاں دے رہے اور کوئی پرسان حال نہیں۔میڈم وزیراعلیٰ صوبائی افسران کو انکا جائز حق دیا جائے تاکہ وہ دل و جان سے پنجاب کی خدمت کرسکیں.

  • سستے اناروں کے بدلے پاکستانی خون، نامنظور!

    سستے اناروں کے بدلے پاکستانی خون، نامنظور!

    سستے اناروں کے بدلے پاکستانی خون، نامنظور!
    تحریر:ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    جب سے تورخم اور چمن بارڈر بند ہوئے ہیں، بازاروں میں انار کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔ ایک کلو انار جو کابل میں دس روپے کا مل رہا ہے، لاہور، کراچی اور پشاور میں ڈیڑھ سے دو سو روپے تک پہنچ چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ مذاق اڑا رہے ہیں کہ "انار تو سونا ہو گیا”۔لیکن یہ مذاق نہیں، خون ہے۔ ہر وہ انار جو سرحد پار سے آتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ایک گولی بھی آتی ہے جو کسی پاکستانی سپاہی کے سینے میں لگتی ہے۔ ہر وہ سیب اور انگور کا ٹرک جو افغانستان سے گزرتا ہے، اس کے نیچے شاید کوئی دھماکہ خیز مواد چھپا ہو تاہےجو ہمارے شہروں میں پھٹتا ہے۔

    اس لیے واضح پیغام ہے کہ سستے اناروں کے بدلے پاکستانی خون، نامنظور!

    رواں سال میں اب تک فتنہ الخوارج تحریکِ طالبان پاکستان نے 1300 سے زائد دہشت گرد حملے کیے ہیں۔ ان میں 1600 سے زیادہ پاکستانی شہید اور 2500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کوئی تھنک ٹینک کی رپورٹ نہیں، یہ ہمارے قبرستانوں کی حقیقت ہے۔ ہر حملے کے پیچھے افغانستان کے اندر موجود محفوظ پناہ گاہیں ہیں، جہاں TTP، القاعدہ اور داعش خراسان کے دہشت گرد آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں، تربیت لے رہے ہیں، ویڈیوز بنا رہے ہیں اور سرحد پار کر کے ہماری گردنوں پر چھری چلا رہے ہیں اور بم پھوڑ رہے ہیں۔

    یہ کوئی نئی بات نہیں ہے 2021 میں جب امریکی چلے گئے تو ہم نے سوچا تھا کہ شاید امن ہو جائے گا۔ ہوا کیا؟ دو سال کے اندر TTP نے دوبارہ سر اٹھایا اور آج ہم 2014 سے بھی بدتر صورتحال میں کھڑے ہیں۔

    افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے نام پر جو کنٹینرز آتے ہیں، ان میں سے کتنے واقعی سامان لے کر آتے ہیں اور کتنے اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور منشیات؟ 2024-25 میں پاکستانی کسٹمز نے متعدد کنٹینرز پکڑے جن میں ہیروئن، شیشہ، جدید اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد ملا۔ یہ سب "افغان ٹرانزٹ ٹریڈ” کے نام پر بھارت اور دیگر ممالک سے آ رہا تھا اور راستے میں ہماری سڑکوں، ہماری فوج اور ہمارے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

    اب جب سرحد بند کی گئی تو افغان تاجر چیخ رہے ہیں کہ "ہمارا کاروبار تباہ ہو گیا”۔ اچھا۔ تو کیا ہم اپنے بچوں کی لاشیں گن کر کاروبار کریں؟

    افغانستان کے پاس ایران کا چاہ بہار پورٹ ہے، ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان کے راستے ہیں۔ رواں سال ہی افغانستان نے ایران کے راستے 1.6 بلین ڈالر کی تجارت کی جبکہ پاکستان کے راستے صرف 1.1 بلین ڈالر کی۔ یعنی متبادل موجود ہے، بس وہ تھوڑا مہنگا ہے۔

    کیا ہمارا خون سستا ہے..؟ ،کیا ہمارے اور ہمارے بچوں اور خاندانوں کے خون کی کوئی اہمیت نہیں ہے ..؟،نہیں ہماراخون بہت قیمتی ہے،جس کی قیمت کوئی نہیں چکا سکتا،

    جب سے ہم نے سرحد بند کی تو کابل میں انار کی قیمت دس روپے کلو سے پانچ روپے کلو تک پہنچ گئی ،اس کے برعکس پشاور میں دو سو روپے تک چلی گئی۔ یہ فرق صرف پھل کی قیمت کا نہیں، یہ زندگی اور موت کا فرق ہے۔

    کابل میں بیٹھے طالبان حکمران کہتے ہیں کہ "TTP پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے”۔ اچھا۔ تو پھر ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ افغان انار، آلو، سیب، انگور، قالینیں اور لاجورد تو یہ سب افغانستان کا اندرونی مسئلہ ہے،ہمارا کیا ہے۔ ہمارے کسان، ہماری مارکیٹیں، ہمارے گودام بھرے پڑے ہیں۔ ہم بغیر افغان پھلوں کے بھی جی لیں گے، لیکن اپنے بچوں ،اپنے خاندانوں کے بغیر نہیں جی سکتے۔

    طالبان کو یاد رکھنا چاہیے کہ 2021 سے پہلے پاکستان نے ان کی بہت مدد کی تھی۔ ان کے زخمیوں کا علاج ہمارے ہسپتالوں میں ہوا، ان کے رہنما ہماری سرزمین پر رہے، ان کی فیملیاں یہاں رہیں۔ اب جب وہ اقتدار میں ہیں تو وہی پرانی "اسٹریٹجک ڈیپتھ” والی پالیسی چلا رہے ہیں۔ یہ پالیسی نہیں چلے گی۔

    اب پاکستان کی پالیسی واضح ہے کہ یا تو TTP کو ختم کرو، یا ہم خود ختم کریں گے… چاہے سرحد پار جا کر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

    آج پشاور کا بچہ، کوئٹہ کی ماں، کراچی کا تاجر، لاہور کا طالب علم ، سب ایک ہی زبان بول رہے ہیں کہ "ہم اپنے فوجیوں کی لاشوں کی قیمت پر انار نہیں کھائیں گے” "ہم اپنے بچوں کی شہادت کی قیمت پر سیب نہیں کھائیں گے” "ہم اپنوں کے خون کی قیمت پر کوئی تجارت نہیں کریں گے”

    یہ کوئی سیاسی بیان نہیں، یہ قومی ضمیر کا بیان ہے۔

    سرحد پر کھڑا پاکستانی سپاہی سردی میں کانپ رہا ہے، گرمی میں پسینے سے شرابور ہے، گولیوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہے۔ وہ اپنی جان دے رہا ہے تاکہ ہم اپنے گھروں میں چین سے سو سکیں، اپنے بچوں کو سکول بھیج سکیں، اپنی بیٹیوں کی شادیاں کر سکیں۔

    اس کی قربانی کی قیمت پر انار، انگور اور سیب کی کوئی تجارت قبول نہیں۔

    جب تک افغانستان میں TTP کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں، جب تک سرحد پار سے ہماری گردنوں پر چھری چلتی رہے گی، جب تک ہماری ماؤں کے آنسو نہیں رکیں گے، تب تک سرحد بند رہے گی۔ تب تک ایک دانہ بھی اندر نہیں آئے گا۔

    پاکستانی خون کے بدلے انار؟ یہ سودا ہمیں منظور نہیں!
    سب سے پہلے پاک فوج اور عوام . پاکستان زندہ باد!

  • عورت، فطرت کا نازک سہارا ،تحریر:نور فاطمہ

    عورت، فطرت کا نازک سہارا ،تحریر:نور فاطمہ

    کائنات کے وسیع و عریض صحرا میں، جہاں سخت چٹانیں بھی موجود ہیں اور نرم ریت بھی، فطرت نے چند چیزوں کو خاص مہربانی کے ساتھ تراشا ہے۔ ان میں سے ایک عورت ہے،جس کی نرمی میں طاقت ہے،جس کی نزاکت میں وقار ہے،اور جس کی خاموشی میں پوری کائنات کی گونج چھپی ہے۔عورت، گویا کسی شاعر کے دل سے پھوٹا ہوا نغمہ ہو، جسے ہوائیں بھی ذرا آہستہ چھوتی ہیں، اور روشنی بھی دبے قدموں اترتی ہے۔

    عورت نازک ہے، مگر یہ نازکی اس کے وجود کی کمزوری نہیں، اس کی نفاست کا وہ روپ ہے جسے قدرت نے بڑی محبت سے چنا ہے۔وہ پھول کی مانند ہےجو نرم ضرور ہوتا ہے،لیکن خوشبو کی صورت دلوں کو فتح کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔وہ دل کا چراغ ہے،جو ذرا سے جھونکے میں لرز بھی جاتا ہے،اور اسی لرزش میں گھر بھر کی روشنی بھی چھپی ہوتی ہے۔عورت کی قیمت اس کے وجود سے ہے،دنیا کی ہر قیمتی شے نرم، نازک اور دلکش ہوتی ہے۔مگر عورت کی قیمت محض حسن میں نہیں،وہ اس کے کردار کی وسعت،اس کی محبت کی گہرائی،
    اور اس کی برداشت کی بلندی میں ہے۔وہ ماں بن کر محبت کا سمندر بانٹتی ہے،بیٹی بن کر گھر کی رونق کا چراغ بنتی ہے،بہن بن کر وفا کی ڈھال ہوتی ہے،اور بیوی بن کر ایک مرد کی دنیا کو سکون کا گھر بنا دیتی ہے۔ایسی ہستی کمزور نہیں ہوتی،وہ پورے گھر کی بنیاد ہوتی ہے۔

    قدرت نے مرد کے کندھوں پر عورت کی حفاظت کا فریضہ رکھا ہے،یہ فریضہ کوئی تخت نہیں، ایک امانت ہے۔محافظ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ مرد حکم چلائے،بلکہ یہ کہ وہ عورت کے احساسات کا سپاہی بنے،اس کی عزت کا نگہبان ہو،اور اس کے اعتماد کا پاسبان،طاقت اس وقت تک طاقت نہیں بنتی جب تک وہ کسی کی حفاظت کا وسیلہ نہ بنے۔اگر یہ قیمتی نعمت آپ کے نصیب میں آ جائے،اگر زندگی نے آپ کے دامن میں عورت کی صورت میں ایک ہمسفر رکھ دیا ہے تو سمجھ لیجیے کہ قسمت نے آپ پر مہربانی کی ہے۔یہ وہ نعمت ہے جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی،یہ وہ خوشبو ہے جو دل کے چاروں گوشوں کو مہکا دیتی ہے۔لہٰذا اس کی مسکراہٹ کی قیمت پہچانیے،اس کی خاموشیوں کی زبان سمجھئے،اس کے خوابوں کو سہارا دیجئے،اس کے خوفوں کی چھاؤں بنیے،اور اس کے نازک دل کو اپنی طاقت سے امن دیجئے،یہی وہ "حفاظت” ہے جس کا حق عورت رکھتی ہے اور جس کا امتحان مرد پر لازم ہے۔

    عورت ایک پھول نہیں، ایک باغ ہے۔وہ ایک نغمہ نہیں، پوری غزل ہے۔وہ نازک ضرور ہے، مگر اس نرمی میں دنیا کو سنوار دینے کی قدرت ہے۔اس کی حفاظت کیجیےکیونکہ حفاظت اس کی ضرورت نہیں،اس کی قدر کا ثبوت ہے.

  • بے حسی کا زمانہ اور گم ہوتی ذمہ داری،تحریر:شاہد یوسف

    بے حسی کا زمانہ اور گم ہوتی ذمہ داری،تحریر:شاہد یوسف

    کبھی ایک وقت تھا جب قومی اخبارات میں کسی مسئلے کی نشاندہی کی جاتی تو پورے محکمے میں ہلچل مچ جاتی تھی افسران حرکت میں آتے تحقیقات شروع ہوتیں اور عوام کو یقین ہوتا کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے مگر آج منظرنامہ یکسر بدل چکا ہے میڈیا شور مچاتا رہتا ہے رپورٹس شائع ہوتی ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی عوامی مسائل اب سرکاری فائلوں میں دب کر رہ گئے ہیں اور جنہیں ان کے حل کا ذمہ دار بنایا گیا تھا وہی اب اس بے حسی کا حصہ بن چکے ہیں کرپشن اقربا پروری اور اختیارات کا غلط استعمال اب معاشرتی معمول بن گیا ہے وہ ادارے جو عوام کی خدمت کے لیے بنائے گئے تھے وہی عوامی مشکلات کی جڑ بن چکے ہیں اے سی سے لے کر چیف سیکرٹری تک اور ایس ایچ او سے لے کر آئی جی تک سب کسی بڑے واقعے کے منتظر رہتے ہیں تاکہ بعد میں رسمی کارروائی کی جا سکے چھوٹے مسائل پر بروقت توجہ نہ دینے کے باعث وہی مسئلے وقت کے ساتھ سنگین بحران میں بدل جاتے ہیں اگر ذرا قریب سے دیکھا جائے تو سب سے زیادہ بدعنوانی اے سی اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر کے زیرِ انتظام چلنے والے شعبہ پٹوار میں نظر آتی ہے زمینوں کے انتقال حدبندی اور فرد کے اجراء سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے کاغذ تک سب کچھ چائے پانی کے بغیر ممکن نہیں عام شہری برسوں فائلوں کے پیچھے دوڑتا ہے مگر انصاف اور قانون صرف ان کے لیے دستیاب ہوتا ہے جن کے پاس تعلق یا سفارش ہو۔

    سوال یہ ہے کہ جو افسر اپنے دفتر میں بیٹھے پٹواریوں کو ایمانداری سے کام نہیں کرواتا وہ اپنی تحصیل یا ضلع میں کس تبدیلی کا خواب دیکھ سکتا ہے دوسری طرف محکمہ پولیس کی مثال لیجیے اربوں روپے کی مراعات جدید سہولیات اور وسائل کے باوجود کیا کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ تھانوں میں کرپشن کم ہوئی ہے ایک عام شہری آج بھی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے سفارش ڈھونڈتا ہے اور اکثر اوقات بغیر کچھ دئیے انصاف کا دروازہ بند رہتا ہے ظلم یہ ہے کہ عوام کے محافظ خود شکایت کا مرکز بن چکے ہیں افسران بالا جب کبھی فیلڈ میں جا کر کارروائی کرتے ہیں تو میڈیا کے کیمرے ان کے ساتھ ہوتے ہیں چند تصاویر اور بیانات کے بعد عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اصلاح شروع ہو گئی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ انہی افسران کے اپنے دفاتر میں کرپشن اور نااہلی کا راج ہے جب اپنے دفتر میں ایمانداری قائم نہیں کی جا سکتی تو فیلڈ میں قانون کی عملداری کیسے ممکن ہے ریاست صرف قانون بنانے سے نہیں چلتی بلکہ قانون پر عمل درآمد سے مضبوط ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں قانون کمزور اور طاقتور مضبوط ہوتا جا رہا ہے عوام کا اعتماد اداروں سے ختم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ انصاف اب فائلوں فون کالز اور سفارشوں کے گرد گھومتا ہے اگر واقعی تبدیلی مقصود ہے تو اس کا آغاز نیچے سے ہونا چاہیے دفاتر کے اندر سے احتساب دیانت اور شفافیت صرف نعرے نہیں بلکہ نظام کی بنیاد بننے چاہیے جب تک افسران اپنے ماتحت عملے کو قانون کے تابع نہیں کریں گے جب تک پولیس اپنے دروازے عام آدمی کے لیے نہیں کھولے گی اور جب تک کرپشن کو معمول سمجھنے کا رویہ ختم نہیں ہوگا تب تک کوئی اصلاح ممکن نہیں ورنہ وہ وقت دور نہیں جب عوام کا یقین مکمل طور پر ختم ہو جائے گا میڈیا شور مچاتا رہے گا رپورٹس بنتی رہیں گی مگر سننے والا کوئی نہیں ہوگا کیونکہ ہم نے اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داری دفاتر کے دروازوں پر چھوڑ دی ہے۔

    شاہد یوسف نارنگ منڈی

  • جماعت اسلامی کا اجتماع عام۔۔۔۔۔ بدل دو نظام ،تحریر:محمد یوسف انور

    جماعت اسلامی کا اجتماع عام۔۔۔۔۔ بدل دو نظام ،تحریر:محمد یوسف انور

    عظیم الشان اجتماع عام جماعت اسلامی پاکستان جواکیس،بائیس،تئیس نومبر2025 ء کو مینارِپاکستان کے سائے تلے منعقد ہونے جا رہا ہے یقیناً اپنے معنوی اور نظریاتی پس منظر کے اعتبار سے ایک سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ”بدل دو نظام“ کے جرات افروز سلوگن کے زیرِ سایہ یہ اجتماع ایک نئے عزم، نئی توانائی اور ایک اُٹھتے ہوئے شعور کی علامت بنتا دکھائی دیتا ہے۔ گٹھا ٹوپ اندھیروں میں روشنی کا مینار بن جانے کا تصور صرف ایک استعاراتی پکار نہیں بلکہ ایک اجتماعی اُمید، ایک اجتماعی جدوجہد اور ایک اجتماعی بیداری کی علامت ہے جو قوم کے دلوں میں نئی زندگی پھونکنے کے لیے بے قرار ہے۔یہ اجتماع صرف سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک فکری تسلسل، نظریاتی استقامت اور تحریکی سفر کا وہ قدم ہے جو کم و بیش ایک صدی کے فاصلوں پر محیط جدوجہد کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ بانی جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی ولولہ انگیز، فکر انگیز اور غیر متزلزل قیادت نے جس قافلے کو روانہ کیا تھا، وہ قافلہ آج بھی اُسی جذبے، اُسی حرارت اور اُسی اخلاص کے ساتھ رواں دواں ہے۔ سیدمودودیؒ کا فکر، اُن کی تعلیمات اور اُن کا تصورِ انقلاب آج بھی اِس سفر کی بنیاد، سمت اور رُوح ہے۔اِسی فکری مشعل کو لے کر میاں طفیل محمدؒ نے جس سوزِ دروں، انکساری اور عزمِ راسخ کے ساتھ قافلے کی رہنمائی کی، وہ تاریخِ پاکستان کے تحریکی اور سیاسی سفر میں ایک روشن باب بن چکی ہے۔ پھر قاضی حسین احمدؒ کی جرات مندانہ قیادت نے جماعت اسلامی کے سفر میں نئی تیزی، نیا ولولہ، نئی توانائی اور نئی وسعتیں پیدا کیں۔ اِن کی خطابت، اِن کا عوامی رشتہ اور اِن کی فکری پختگی نے جماعت کو ایک نئی شناخت عطا کی۔ اِن کے بعد سید منور حسنؒ نے ایک مدبرانہ، متین اور عمیق بصیرت پر مبنی قیادت کا سلسلہ آگے بڑھایا جس نے جماعت اسلامی کے نظریاتی تشخص کو مزید استحکام بخشا۔ سراج الحق کی درویشانہ صفات اور نرم خو مگر پُرعزم قیادت نے جماعت کے حسنِ کردار اور خدمتِ خلق کے پہلو کو اور زیادہ نمایاں کیا۔آج اِس تسلسل کے بعد محترم حافظ نعیم الرحمن امیر جماعت اسلامی پاکستان کی صورت میں جماعت کے سامنے ایسی قیادت موجود ہے جس میں جرات بھی ہے وژن بھی ہے حکمت بھی ہے اور عمل کی برق رفتاری بھی۔ اِن کی شاہین صفت پرواز جماعت کے کارکنان اور عام لوگوں میں نئی اُمید پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ کراچی کی سیاست سے لے کر قومی سطح کے مسائل تک اِن کی جدوجہد نے اِنہیں ملک کے نوجوانوں، متوسط طبقے اور شہری مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کرنے والے طبقات کے دلوں میں مقبول کر دیا ہے۔ اِن کی قیادت میں ”بدل دو نظام“ کا نعرہ محض ایک سیاسی جذباتیت نہیں بلکہ تبدیلی کے ایک منظم، باوقار، سنجیدہ اور بامقصد راستے کی طرف دعوت ہے۔اِس عظیم اجتماع کے ناظم کہنہ مشق اور منجھے ہوئے سیاست دان لیاقت بلوچ ہیں جن کی سیاسی بصیرت، تنظیمی مہارت اور مزاج کی پختگی اِس اجتماع کو ایک نئی سمت، نئی توانائی اور متاثرکن نظم دے رہی ہے۔ اِن کی موجودگی اِس اجتماع کی وقعت اور اہمیت کو مزید بڑھا رہی ہے۔یہ اجتماع نہ صرف پاکستان کے اندر مایوسی کے اندھیروں کو چاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ یہ انقلابِ اسلامی کی نوید، ایک نئی صبح کے آغاز اور قوم کے لیے اُمید کی کرن بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی، معاشی، سماجی اور تہذیبی صورتحال میں جب ہر سمت اضطراب، بے یقینی اور بے سمتی کے بادل چھائے ہوئے ہیں ایسے میں یہ اجتماع ایک اجتماعی شعور کی بیداری، اتحادِ امت کی مضبوطی اور پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک نئی راہ کا تعین کر سکتا ہے۔اِس اجتماع میں نہ صرف ملک بھر سے لاکھوں افراد شرکت کریں گے بلکہ دنیا بھر کے اسلامی ممالک کے قائدین بھی اِس میں شریک ہوں گے جو نہ صرف باہمی رشتوں کو مضبوط کرنے کا سبب بنے گا بلکہ امتِ مسلمہ کے اندر وحدت، ہم آہنگی اور باہمی تعاون کا ایک نیا دور شروع کرنے کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے۔ عالمی سطح پر اُمت مسلمہ کو درپیش چیلنجز، بحران اور اختلافات ایسے مواقع کا تقاضا کرتے ہیں جہاں ایک سنجیدہ، بامقصد اور نظریاتی بنیادوں پر قائم تحریک سب کو ایک ساتھ بٹھا کر مشترکہ لائحہ عمل سوچنے کا ماحول فراہم کرے۔یہ اجتماع پاکستان کے عوام میں بھی ایک ولولہ تازہ پیدا کرے گا۔ عام آدمی جو مہنگائی، معاشی عدم استحکام، بے روزگاری، ظلم، ناانصافی اور کرپٹ نظام سے تنگ آ چکا ہے اِسے ایک منظم، باکردار، اُصولی اور متبادل قیادت کا تصور فراہم کیا جائے گا۔ یہ احساس کہ قوم تنہا نہیں، یہ وطن محض مایوسی کی داستان نہیں بلکہ یہاں بھی ایک ایسا کردار موجود ہے جو اُمید دلانے، راستہ دکھانے اور عملی جدوجہد کے ذریعے ایک روشن مستقبل کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔مینارِ پاکستان کا تاریخی مقام اِس اجتماع کی معنویت کو مزید گہرا کرتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے ایک تاریخی قرارداد نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک وطن کا تصور پیش کیا تھا۔ آج وہی مقام ایک نئی قرارداد، ایک نئے عزم، ایک نئے سفر اور ایک نئی تبدیلی کی طرف خوش آمدید کہہ رہا ہے۔ یہ اجتماع اِس بات کا اعلان ہے کہ قوم ایک بار پھر اپنی توانائی، اپنی وحدت، اپنے شعور اور اپنی دینی و قومی ذمہ داری کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اگر یہ اجتماع اپنے مقاصد، اپنی روح اور اپنے سلوگن کے مطابق کامیاب ہوتا ہے تو یقیناً یہ پاکستان کے لیے وہ موڑ ثابت ہو سکتا ہے جس کے بعد قوم اپنی راہیں خود متعین کرے، اپنی منزلیں خود چنے اور اپنے مستقبل کو نئی روشنیوں سے ہمکنارکر دے۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد،اِس کی قیادت کی مسلسل قربانیاں اور اِس کا نظریاتی استحکام پاکستان کے لیے ایک نعمت بن سکتا ہے بشرطیکہ قوم اِس بیداری کے لمحے کو پہچانے اور اِسے مضبوطی کے ساتھ تھام لے۔یہ اجتماع نہ صرف جماعت اسلامی کے لیے بلکہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ یہ اُمید کی نوید بھی ہے جدوجہد کی علامت بھی اور تبدیلی کا اعلان بھی۔ اگر قوم نے اِس پکار کا مثبت جواب دیا تو یہ اجتماع واقعی اندھیروں میں روشنی کا مینار ثابت ہو سکتا ہے۔وہ روشنی جو آنے والی نسلوں کے لیے تابناک مستقبل کی خبر بھی دے اور راستہ بھی دکھائے