Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مشکل کی گھڑی میں، مرکزی مسلم لیگ کھڑی ہے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    مشکل کی گھڑی میں، مرکزی مسلم لیگ کھڑی ہے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    حالیہ موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں چاروں طرف پانی ہی پانی ہے۔ مگر زندگی کا محافظ یہ پانی، خیبر کے لوگوں کےلیے زندگی کا سب سے بڑا دشمن ثابت ہو رہا ہے۔ خوبصورت و دلنشیں گھاٹیاں اس وقت غم اور پانی دونوں میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ بارش کا زور ایسا تھا کہ پہاڑ جیسے لرز کر مٹی مٹی ہوگئے۔ لمحوں میں بستیاں اجڑ گئیں۔ وہ گھر جو کسی مزدور نے کئی برسوں میں چاہت و محبت اور خون پسینے کی کمائی سے بنایا تھا۔ لمحوں میں مٹی کا ڈھیر بن گیا۔کہیں مائیں جگر گوشوں کو ڈھونڈ رہی ہیں، تو کہیں دُودھ پیتا بچہ ماں سے زیادہ بھوک سے تڑپ رہا ہے۔ کوئی پیٹ بھرنے کی تگ و دو میں پانی کے پیٹ میں جا گرا ہے، تو کوئی زخمی ماں کےلیے دوا دارو لینے گیا، لاش بن کر لوٹا ہوگا۔
    یہ قدرتی آفات ہمیشہ ہمارے ظرف کا امتحان لیتی ہیں۔ حکومتیں حرکت میں آئیں، فوج نے ہیلی کاپٹروں سے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، ریسکیو 1122 کے جوانوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر زندگیاں بچائیں، اور پاک فوج نے ایک دن کی تنخواہ اور سیکڑوں ٹن راشن عطیہ کیا، میڈیکل کیمپ لگے، مگر ایسے وقتوں می ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ درد دل والوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

    مجھے خوشی سے زیادہ حیرت ہوئی،جب پاکستان مرکزی مسلم لیگ کو اس کڑی آزمائش میں سرگرداں پایا۔ اس جماعت کا نام برسوں سے سن رکھا تھا، مگر چند ماہ قبل ایک نیوز چینل کے دفتر میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم صاحب سے ایک ملاقات ہوئی، تو مرکزی مسلم لیگ کے بارے مزید جاننے کا تجسس ہوا۔ ڈیجیٹل ریسورسز سے معلومات نے اس جماعت کا ایک اور رخ میرے سامنے کھول دیا کہ یہ صرف سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک فلاحی قافلہ ہے، جو مشکل وقت میں خاموش تماشائی نہیں بنتا۔ آج جب خیبر پختونخوا کے لوگ مشکل سے دو چار ہیں،تو پاکستان مرکزی مسلم لیگ اپنی اعلیٰ قیادت کے ہمراہ آن گراؤنڈ مدد کےلیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔مینگورہ کا آدھا شہر جب پانی میں ڈوبا تو کئی کئی فٹ پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا۔ لوگ کھلے آسمان تلے یا چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور تھے۔ ایسے میں مرکزی مسلم لیگ کی امدادی ٹیمیں وہاں لوگوں کو کھانا اور طبی امداد فراہم کرنے جا پہنچیں۔ بونیر، سوات، شانگلہ اور باجوڑ تک امدادی کیمپ پھیل چکے ہیں۔ بطور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ محمد عبداللہ کی فیس بک وال، کئی برسوں سے سامنے آرہی ہے۔ یہ نوجوان آج کل مرکزی مسلم لیگ خیبرپختونخوا کا ترجمان ہے، ان کی وال پر مرکزی مسلم لیگ کی خواتین اور بچیوں کو فلاحی کاموں میں مصروف دیکھ کر حیرت و خوشی ہوئی۔ سینکڑوں نوجوان دن رات ملبہ صاف کرتے، راشن بانٹتے، گھروں سے کیچڑ نکالتے دکھائی دیے۔ ان کے پاس سیاسی نعرے نہیں تھے، بلکہ آنکھوں میں خدمت کا جذبہ تھا۔حیرت زدہ ہوں کہ نوجوان کس طرح رب کی رضا کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ وہ ہاتھ جو کل شاید موبائل پر سوشل میڈیا چلا رہے تھے، آج وہی ہاتھ آج ملبے صاف کر رہےہیں۔ وہ پاؤں جو کل کسی ریلی میں شریک تھے، آج سیلابی پانی میں گھٹنوں تک دھنسے دکھائی دیتے ہیں۔ شکریہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ، مگر اب ہمیں ان موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کےلئے سنجیدہ رویہ اپنانا ہوگا،ورنہ روز میرے ملک کا کوئی نہ کوئی حصہ ڈوبتا، اور مرتا رہے گا۔

  • خیبر پختونخوا سیلاب، مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیوں پر ایک نظر

    خیبر پختونخوا سیلاب، مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیوں پر ایک نظر

    خیبر پختونخوا کے سرسبز وادیوں کا دل مینگورہ، آج ایک المیہ کی تصویر پیش کر رہا ہے، حالیہ دنوں میں آنے والے شدید سیلاب نے علاقے کو بدترین تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ لوگوں کے گھر، کاروبار، خواب اور زندگی کی ساری رونقیں پانی میں بہہ گئیں۔مینگورہ شہر کا نصف حصہ زیرِ آب آ چکا ہے۔10 ہزار سے زائد مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔گھروں اور دکانوں میں دس دس فٹ پانی داخل ہوا، جس کے بعد گارا اور کیچڑ نے علاقے کو گندگی کے ڈھیر میں بدل دیا۔ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی معطل ہے، جبکہ خوراک اور طبی سہولیات کی شدید قلت ہے۔ایسے میں مرکزی مسلم لیگ نے فوری اور منظم امدادی سرگرمیاں شروع کیں،مرکزی مسلم لیگ نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوراً مینگورہ، بونیر، سوات اور گرد و نواح کے علاقوں میں ریلیف کیمپ قائم کیے۔ ان کیمپوں کے ذریعے روزانہ دو ہزار سے زائد افراد کو پکا پکایا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔خواتین، بچوں اور بزرگوں کو ترجیحی بنیادوں پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔سیلابی پانی کے باعث علاقے میں الرجی، جلدی امراض اور سانس کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ایسے میں مرکزی مسلم لیگ نے مفت میڈیکل کیمپ قائم کیے ہیں۔ماہر ڈاکٹرز اور نرسز پر مشتمل طبی ٹیمیں مختلف شہروں سے متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکی ہیں۔اب تک ہزاروں مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے، جن میں بچے، خواتین اور بزرگ شامل ہیں۔متاثرین کو پلاسٹک کی چادریں دی جا رہی ہیں تاکہ وہ بارش سے وقتی پناہ لے سکیں۔مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے اب تک 500 سے زائد خاندانوں میں خشک راشن (آٹا، چاول، دالیں، چینی، گھی وغیرہ) تقسیم کیا جا چکا ہے۔مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے بچوں کے لیے دودھ، بسکٹس اور دیگر بنیادی ضروریات کی اشیاء بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم خود مینگورہ میں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وقت خدمت کا ہے، سیاست کا نہیں۔ ہمارا مشن ہے کہ متاثرہ افراد کو فوری ریلیف دیا جائے اور ان کی زندگی کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے ،مرکزی مسلم لیگ کے ہزاروں نوجوان، مرد و خواتین، بزرگ اور طبی عملہ رضاکارانہ بنیادوں پر سیلاب زدگان کی مدد میں مصروف ہیں۔ وہ گھروں سے کیچڑ نکالنے میں مدد دے رہے ہیں۔متاثرین کو نفسیاتی سہارا اور حوصلہ فراہم کر رہے ہیں۔صفائی ستھرائی، پانی کی نکاسی اور بیماریوں کی روک تھام کے کاموں میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔لیکن افرادی قوت کی مزید ضرورت ہے، کیونکہ ہر متاثرہ گھر کو دوبارہ رہنے کے قابل بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ وقت سیاست، قومیت یا مسلک کے فرق کا نہیں، بلکہ انسانیت کے ناطے ایک ہونے کا ہے۔ سیلاب متاثرین آج ہماری مدد کے منتظر ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی کام کرنے والی تنظیموں کی مدد کریں،مالی، طبی یا رضاکارانہ خدمات پیش کریں،سوشل میڈیا پر آگاہی پھیلائیں،دعاؤں کے ساتھ عملی مدد کا بھی مظاہرہ کریں

    مرکزی مسلم لیگ نے مینگورہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں اپنی امدادی سرگرمیوں سے ثابت کیا ہے کہ اگر نیت خالص ہو تو کسی بھی آفت کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ جنگ صرف ایک جماعت یا تنظیم کی نہیں، ہم سب کی ہے۔

  • راہ چلتے ملی پرچی اور میاں عامر محمود کے 33 صوبے .تحریر:سید امجد حسین بخاری

    راہ چلتے ملی پرچی اور میاں عامر محمود کے 33 صوبے .تحریر:سید امجد حسین بخاری

    میں فیلڈ جرنلسٹ نہیں ہوں، میں ڈاٹس کونیکٹ کرکے خبر تلاش کرتا ہوں اور اسے خبر کی بنیاد پر تجزیہ پیش کرتا ہوں، جو کم و بیش درست ہوتا ہے۔ آج سپیرئیر یونیورسٹی کے تاریخی ہال میں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی، یہ وہی ہال تھا جہاں چند سال پہلے میں نے لفافہ جرنلزم پر اپنا ریسرچ پیپر پیش کیا تھا، لیکن آج کی میٹنگ مختلف نوعیت کی تھی، سٹیج پر سپیرئیر گروپ کے کاروباری حریف میاں عامر محمود صوبوں کی تقسیم پر دلائل دے رہے تھے، انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہر ڈویژن کو ایک صوبہ بنایا جائے، اور ملک کو 33 انتظامی یونٹس میں تقسیم کیا جائے، ہر صوبے میں 16 محکمے بنانے کی تجویز کے ساتھ ساتھ انہوں نے کمشنر کو چیف سیکرٹری بنا دیا جائے، انہوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ "ابھی آتے ہوئے کسی نے ایک لفافہ دیا ہے، جس میں کچھ مزید تجاویز ہیں جو میری نظر میں قابل عمل ہیں۔” لفظ کسی کو سنتے ہی میں نے ڈاٹس ملانا شروع کر دئیے، معدنیات بل کی مخالفت، نہروں کے معاملے پر احتجاج، ستائیسویں ترمیم پر شور شرابا، ان تین نکات نے مقتدر حلقوں کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کر دیا ہے۔ پاکستان میں صوبوں کی تقسیم سے فی الحال سیاسی جماعتوں کا اثر کم کرنے کا تاثر ملتا ہے، جیسے پیپلز پارٹی کو دیہی سندھ تک محدود کرنا، کراچی، حیدر آباد اور سکھر پر پرو اسٹیبلشمنٹ ایم کیو ایم کا اثر بڑھے گا، پنجاب میں ن لیگ کو جی ٹی روڈ یا شمالی پنجاب کی جماعت بنانا جبکہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کو اثر کم ہو جائے گا، کیا تقسیم سے زیادہ بلدیاتی نظام کو بہتر نہیں بنانا چاہیے؟ کیا اس تقسیم سے اپنی پسند کا وزیرِ اعلیٰ لانے میں آسانی نہیں ہو جائے گی؟ اس ساری بحث سے لگ رہا ہے کہ مسائل حل کرنا مقصود نہی بلکہ عوام کو مزید چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں تقسیم کر کے کمزور کرنا ہے تاکہ نظام کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ ہو۔ بہرحال ہال میں موجود نوجوانوں نے اسی سے ملتے جلتے سوالات کئے، لیکن کسی سوال کا جواب نہیں ملا اور تشنگی ابھی باقی ہے،

    بہرحال سپیرئیر کے ریسرچ ہال میں بریانی، قورمہ اور چائے پی کر میں نے دفتر کی راہ لی، کمرے میں بیٹھ کر تصویر بنائے اور اپنے گھر میں بستر پر بیٹھے یہ روداد تحریر کردی ہے، بہرحال مولانا فضل الرحمان، زرداری ، نواز شریف اور ایم کیو ایم اگر وسیع تر قومی مفاد میں ایک ہوسکتے ہیں تو لاہور کی دو بڑی کاروباری حریف شخصیات کے ساتھ بیٹھنے پر بھی حیرانی ہر گز نہیں ہونی چاہیے، جنریشن زی کو خواب دکھانے کے سفر کا آج آغاز ہوچکا ہے، ون یونٹ سے لیکر اٹھارویں ترمیم تک تجربے ہوچکے ہیں، ایک اور تجربہ سہی، کیونکہ پاکستان ایک تجربہ گاہ ہے اور یہاں جنگ کے ڈیزائن بھی سیاست دان ہی بناتے ہیں

  • جمہور کی حالت قابل رحم ،تجزیہ :  شہزاد قریشی

    جمہور کی حالت قابل رحم ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جب جمہوریت کو نقصان پہنچا یا اس کا خاتمہ ہوا تو اس جمہوریت میں صرف اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ہی شامل نہیں رہی بلکہ اکثر سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین نے بھی کسی نہ کسی انداز میں کردار ادا کیا ہے سیاسی جماعتوں کی باہمی لڑائیاں اکثر سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہیں نتیجہ جمہوریت کا ڈھانچہ اندر سے کمزور ہوا اقتدار کے حصول کے لیے سیاسی رہنما اکثر اصولوں پر سمجھوتا کرتے رہے خود سیاسی جماعتوں نے آمروں کے ساتھ اتحاد کیا یا انہیں جائز قرار دیا تاکہ اپنی سیاسی بقاء کو یقینی بنا سکیں سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوری کلچر قائم کرنے میں ناکام رہیں ایوب خان کے مارشل لاء میں کچھ سیاسی رہنماؤں نے حمایت کی ضیاء الحق کے دور میں بھی کئی سیاسی جماعتیں ان کے ساتھ شامل ہوئیں پرویز مشرف کے دور میں کنگز پارٹی کے نام سے سیاسی اتحاد وجود میں آیا ہر دور میں کچھ نہ کچھ سیاسی عناصر نے آمریت کو مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا تاریخ گواہ ہے اقتدار کی حوس اور آپسی اختلافات کے باعث جمہوری نظام کو نقصان پہنچایا پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان مسلم لیگ تحریک انصاف جمعیت علماء اسلام متحدہ قومی موومنٹ عوامی نیشنل پارٹی کئی سیاسی جماعتوں پر بدعنوانی اور اقرباء پروری کے الزامات لگے ایک دوسرے کے دور حکومت میں قید و بند کی صحبتیں بھی برداشت کیں سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے لیے قربانیاں بھی دیں اور غلطیاں بھی کیں ان سیاسی جماعتوں کا مثبت کردار یہ رہا آئین کی بحالی عوامی نمائندگی آمریت کے خلاف جدوجہد کے ساتھ ساتھ منفی کردار بھی ادا کرتے رہے اسٹیبلشمنٹ سے سودے بازی کرپشن خاندانی سیاست اور ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی کوشش قصہ مختصر جہاں جمہوریت کے لیے قربانیاں دیں وہاں جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ بھی کیا پارلیمان کو فعال کرنے کے بجائے زیادہ زور سڑکوں کی سیاست اور دھرنوں پر دیا گیا جس سے جمہوری عمل متاثر ہوا جمہوریت کے نام پر عوام کو گمراہ کیا گیا جمہوریت ہی نہیں جمہوری نظام کو بدنام کیا گیا ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی ٹیم نے سن 1973 کا آئین دیا جو جمہوریت کا بنیادی ستون ہے اس آئین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا گیا بھٹو کے بنائے گئے آئین کا آئینی سوال دو اور دو چار کی طرح بالکل آسان ہے پھر بھی ہمارے سیاسی رہنماؤں سے حل ہونے کا نام نہیں لے رہا تاہم جمہور کی حالت قابل رحم ہے

  • معرکہ حق کے غازیوں اور شہیدوں کو سلام ،تحریرڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    معرکہ حق کے غازیوں اور شہیدوں کو سلام ،تحریرڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    قوموں کی تاریخ میں کچھ ایسے لمحات آتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے ان کے اجتماعی حافظے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ وہ مواقع ہوتے ہیں جب ایک قوم اپنے وجود، عقیدے اور نظریے کے دفاع میں سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے بے شمار معرکے ہیں جن میں وطن کے بیٹے، ایمان کی حرارت اور قربانی کے جذبے سے سرشار ہو کر دشمن کے سامنے ڈٹ گئے۔ یہ معرکے صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں بلکہ نظریاتی، فکری اور سماجی میدانوں میں بھی جاری رہے۔ انہی معرکوں کے نتیجے میں ہمارے پاس وہ گراں قدر سرمایہ شہداءو غازیان ہے، جن کی قربانیاں ہمارے آج اور آنے والے کل کی ضمانت ہیں۔
    معرکہ حق” کا مطلب محض ایک جنگ نہیں بلکہ یہ ایک ایسے موقف اور جدوجہد کا نام ہے جو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن مرحلہ بن جائے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں: ایک حق کا، جس میں قربانی اور استقامت درکار ہے، اور دوسرا باطل کا، جو وقتی سہولت اور ظاہری کامیابی فراہم کرتا ہے۔ معرکہ حق میں شریک ہونے والے افراد محض سپاہی نہیں ہوتے، بلکہ وہ حق کے نمائندے اور باطل کے سامنے جرات واستقامت اور بہادری وشجاعت کا مینار بن جاتے ہیں۔
    پاکستان کی تاریخ میں 1947ءسے لے کر آج تک کئی ایسے مواقع آئے جب غازیوں اور شہیدوں نے اپنی جان، مال اور آسائش کو قربان کر کے قوم کو سربلند کیا۔
    1948ءکی جنگِ کشمیر — قیامِ پاکستان کے فوراً بعد، جب کشمیر کے مسلمان بھارتی جارحیت کا شکار ہوئے، پاکستانی افواج اور قبائلی مجاہدین نے معرکہ حق میں شرکت کی اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔ 1965ءکی جنگ — جب دشمن نے رات کی تاریکی میں حملہ کیا، لیکن پاکستانی افواج اور عوام نے جس دلیری سے مقابلہ کیا، وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔ 1971ءکا دفاعی معرکہ — اگرچہ اس کے نتائج قوم کے دلوں کو غمگین کر گئے، لیکن اس معرکے میں ہمارے شہیدوں اور غازیوں کی بہادری آج بھی قابلِ فخر ہے۔ کارگل معرکہ 1999ئ— بلند و بالا پہاڑوں پر لڑنے والے جوانوں نے معرکہ حق کی نئی مثال قائم کی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ — 2001ءکے بعد سے پاکستانی افواج، پولیس اور عوام نے جس طرح قربانیاں دیں، وہ ایک طویل مگر لازوال داستان ہے ۔
    پاکستان کی تاریخ کا تازہ ترین معرکہ حق 10مئی کو لڑا گیا جس میں پاکستان نے اپنے دشمن بھارت پر شاندار فتح حاصل کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ بری، بحری اور فضائی افواج کے جوانوں نے جرا¿ت و بہادری کی ایسی مثال قائم کی جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ اس معرکے میں وطنِ عزیز کے کئی سپوت جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ بے شمار جوان غازیوں کے رتبے پر فائز ہوئے۔بری، بحری اور فضائی افواج نے جس جرا¿ت، حکمتِ عملی اور برق رفتاری کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا بھر میں عسکری مبصرین کو حیران کر دیا۔ عالمی میڈیا نے اس کارروائی کو پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک درخشاں باب قرار دیا۔ بی بی سی، رائٹر اور الجزیرہ جیسے بڑے اداروں نے لکھا کہ پاکستان نے نہ صرف دفاعی حکمتِ عملی میں مہارت دکھائی بلکہ جارحانہ اقدام کے وقت بھی بین الاقوامی قوانین اور جنگی اصولوں کی پاسداری کی۔ امریکی اور یورپی دفاعی ماہرین نے اس کارروائی کو “ Precision Strike” یعنی انتہائی درست اور کامیاب حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جدید ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ تیاری اور افواج کے باہمی تعاون نے دشمن کو غیر متوقع انداز میں پسپا کر دیا۔ عرب میڈیا نے اسے امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ فخر قرار دیا، جبکہ بھارتی دفاعی مبصرین نے بھی یہ تسلیم کیا کہ پاکستان نے اپنی عسکری برتری اور جنگی تیاری کا بھرپور ثبوت پیش کیا ہے۔ مجموعی طور پر 10 مئی کی یہ کارروائی پاکستان کی عسکری صلاحیتوں اور دفاعی عزم کی زندہ مثال ثابت ہوئی، جس نے دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور طاقتور ملک ہے جو اپنے دفاع اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔
    پاکستان کے دفاع کےلئے جانیں قربان کرنے شہیدوں اور جانیں ہتھیلی پر رکھ دشمن کے دانت کھٹے کرنے والے غازیوں کی عظیم قربانیوں اور لازوال خدمات کے اعتراف میں اسلام آباد میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں صدرِ پاکستان، وزیراعظم، مسلح افواج کے سربراہان، وفاقی وزراء، معززین اور شہداءکے اہلِ خانہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک اور قومی ترانے سے ہوا۔ صدرِ پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہداءہماری قوم کا فخر ہیں اور ان کی قربانیاں پاکستان کی بقا و سلامتی کی ضمانت ہیں۔ غازیوں کو خصوصی اعزازات سے نوازا گیا جبکہ شہداءکے اہلِ خانہ کو تمغے اور اسناد پیش کی گئیں۔ حاضرین نے کھڑے ہو کر شہداءکو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تقریب کا اختتام دعائے پاکستان اور پاک فوج کے حق میں نعرہ تکبیر سے ہوا، جس سے ماحول جذبہ حب الوطنی سے لبریز ہو گیا۔
    حقیقت یہ ہے کہ غازی اور شہید — امت کی متاعِ گراں قدر ہیں ۔ اسلامی تعلیمات میں شہید کو زندہ قرار دیا گیا ہے، جنہیں اللہ کے ہاں رزق ملتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مردہ مت کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تم شعور نہیں رکھتے” (البقرہ: 154)شہید کا مقام نہ صرف آخرت میں بلند ہے بلکہ دنیا میں بھی اسے اعزاز و افتخار سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسی طرح غازی وہ ہے جو معرکہ حق میں شریک ہو کر زندہ واپس آئے۔ غازی کی زندگی، ایمان و عمل کا چلتا پھرتا پیغام ہوتی ہے۔
    پاکستان میں شہداءاور غازیوں کو اعزاز دینے کا ایک منظم نظام موجود ہے، جو نہ صرف عسکری سطح پر بلکہ عوامی شعور میں بھی ان کی خدمات کو اجاگر کرتا ہے۔حکومت کی جانب سے شہداءاور غازیوں کو اعزاز دینے کے کئی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جب ایک قوم اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہے تو اس کے اندر باہمی محبت اور اتحاد پیدا ہوتا ہے۔نوجوان نسل میں وطن کے لیے قربانی دینے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔دنیا کو یہ پیغام ملتا ہے کہ پاکستان اپنے محافظوں کی قدر جانتا ہے۔معرکہ حق کے غازیوں اور شہیدوں کی خدمات کو صرف تقریبات یا اعزازات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے تذکرے تعلیمی نصاب میں شامل کیے جائیں — ان کے کارنامے نصاب کا حصہ بنیں تاکہ نئی نسل ان سے واقف ہو۔معرکہ حق کے غازی اور شہید وہ چراغ ہیں جو قوم کے مستقبل کو روشن کرتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کی طرف سے ان کے لیے اعزاز و اکرام نہ صرف ان کی قربانیوں کا اعتراف ہے بلکہ ایک پیغام بھی ہے کہ یہ ملک اپنے محافظوں کو فراموش نہیں کرتا۔ ہمیں بطور قوم یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہم اپنے شہداءو غازیوں کی قربانیوں کو صرف یاد ہی نہ رکھیں بلکہ ان کے مشن کو بھی آگے بڑھائیں — تاکہ پاکستان ہمیشہ سر بلند، محفوظ اور باوقار رہے۔

  • ٹک ٹاک کا اے آئی ماڈریٹرز تعینات کرنے کا فیصلہ،  ملازمین کی ہڑتالیں شروع

    ٹک ٹاک کا اے آئی ماڈریٹرز تعینات کرنے کا فیصلہ، ملازمین کی ہڑتالیں شروع

    شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک کی جانب سے انسانی ماڈریٹرز کو ہٹا کر مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈریٹرز تعینات کرنے کے اعلان کے بعد جرمنی میں ملازمین نے ہڑتالیں شروع کر دی ہیں۔

    برطانوی اخبار کے مطابق ابتدائی طور پر جرمنی میں ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیم کو اے آئی اور کنٹریکٹ ورکرز سے بدلنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 150 ملازمین برطرف ہوں گے۔کمپنی کے اعلان کے بعد ملازمین کی نمائندگی کرنے والی ٹریڈ یونین نے مذاکرات کی کوشش کی، تاہم ٹک ٹاک نے فوری طور پر مطالبات ماننے سے انکار کر دیا۔برلن میں ٹک ٹاک کے سب سے بڑے دفتر میں تقریباً 400 ملازمین کام کرتے ہیں، جن میں سے 40 فیصد افرادی قوت ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیم کا حصہ ہے۔ برطرفی کے بعد یہاں عملے میں نمایاں کمی ہو جائے گی۔

    جرمنی کے ماڈریٹرز روزانہ ایک ہزار تک ویڈیوز کا جائزہ لیتے ہیں اور نقصان دہ مواد جیسے تشدد، فحاشی، غلط معلومات اور نفرت انگیز تقاریر کو ہٹانے کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال میں ٹک ٹاک نے دنیا بھر میں ٹرسٹ اینڈ سیفٹی کے عملے میں کمی کی ہے اور اس نظام کو زیادہ تر اے آئی کے حوالے کر دیا ہے۔

    ٹرمپ استقبال، پیوٹن کے اوپر بی-2 اسٹیلتھ طیاروں کی پرواز

    آسٹریلیا میں بھارتی طالب علموں کا گروہ چوری میں گرفتار

    یاسین ملک کی بیٹی کی عالمی رہنماؤں سے والد کی جان بچانے کی اپیل

    شرح پیدائش، چین کا بچوں کے والدین کو سالانہ 500 ڈالر معاوضہ

  • ٹرمپ،پیوٹن ملاقات، نتائج کیا ہوں گے،تجزیہ:  شہزاد قریشی

    ٹرمپ،پیوٹن ملاقات، نتائج کیا ہوں گے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    الاسکا میں ٹرمپ اور پوٹن ملاقات ہوئی ہے اس ملاقات کے باوجود کوئی امن معاہدے یا جنگ بندی پر سمجھوتہ نہیں ہوا روس نے کوئی جنگ بندی قبول نہیں کی ماہرین کا خیال ہے کہ جنگ کے اصل مسائل پر کوئی اثر نہیں ڈالا روسی صدر جنگ بندی کی شرطوں سے منحرف رہا، صرف مذاکرات کا تاثر پیدا کرنے تک محدود رہا تاہم روسی صدر کے لیے پہلی مرتبہ مغربی زمین پر ایسا اعزاز ملا حقیقی طور پر جنگ کا خاتمہ محض ڈپلومیسی سے ممکن نہیں، یوکرائن کی مزاحمت مغربی ممالک کی مدد اور روس یہ اقتصادی دباؤ ہی اسے جلد ممکن بنا سکتے ہیں روس اور یوکرائن کی جنگ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان معاملہ نہیں ہے بلکہ اس میں پورے یورپ اور مغربی اتحادی ممالک کی شمولیت لازمی ہے اس کی چند بڑی وجوہات ہیں،

    یورپی سلامتی کا مسئلہ نیٹو کے ممالک روسی جارحیت کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں یہ مسئلہ صرف امریکی صدر اور روسی صدر کا نہیں ہے

    پاکستان میں اور دنیا بھر میں جشن آزادی منایا گیا زندہ قومیں اپنی آزادی کا دن جوش و خروش سے مناتی ہیں اور اپنے محسنوں کو یاد کرتی ہین ثابت کرتی ہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں قوم تو زندہ ہے مگر نام نہاد سیاسی جماعتیں جو قومی سیاسی جماعتوں سے اب صوبائی اور علاقائی ہو چکی ہیں اپنے کرتوتوں سے خود تو اجڑ چکی ہیں قوم کو بھی اجاڑ کر رکھ دیا ہے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر اپنے ذاتی اقتدار ذاتی مفادات کی خاطر قوم کو تقسیم کر دیا ملک و قوم کی حفاظت پر معمور پاک فوج اور جملہ اداروں کے خلاف ماضی اور حال میں افواہیں پھیلائیں نوجوان نسل کے ذہنوں میں قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرکے انکو گمراہ کیا قوم تھوڑا نہیں پورا سوچے اور غور کرے جن سیاسی جماعتوں سے اقتدار چھن جاتا ہے وہ پاک فوج اور جملہ اداروں کے خلاف صدائیں بلند کرتے ہیں ماضی حال ان سیاسی جماعتوں کا دیکھ لیں عوام کی لاشیں پانی میں بہتی دیکھ کر سندھ طاس معاہدے پر سینہ کوبی کرنے والے سیاست دانوں نے ڈیم بنانے پر توجہ کیوں نہیں دی؟ کبھی ان قومی مسائل پر توجہ کیوں نہیں دی؟ نئے جھوٹ اور نئے فریب انکی تقریروں سے آپکو ملیں گے جمہوریت کے نام پر خود تو اجڑے ہیں قوم کو بھی اجاڑ کر رکھ دیا ہے امریکہ سے لیکر مغربی ممالک میں انکے اعمال کی وجہ سے ان سیاسی جماعتوں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی پاک امریکہ تعلقات کی دوبارہ بحالی پاک فوج کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے بھارت بالخصوص مودی کو کون سمجھائے ہماری پاک فوج صرف فوج نہیں انکے اندر جذبہ جہاد ہے اگر دوبارہ کوئی قدم اٹھایا تو بھارت کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑے گا

  • پاکستان ہمیشہ زندہ باد .تحریر۔ بنت حوا

    پاکستان ہمیشہ زندہ باد .تحریر۔ بنت حوا

    آج فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا ایک بیان نظر سے گزرا جو کہ 14 اگست کے دن کی مناسبت سے پیغام تھا

    "پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی آزادی کا مظہر بھی ہے، مذہبی اقلیتیں آج بھی ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔”فیلڈ مارشل عاصم منیر

    اس میں کوئی شک یا دو رائے نہیں کہ پاکستان میں ہر مذہب کے لوگوں کو تحفظ حاصل ہے لیکن یہاں مسلمانوں کو خاص کر اہل تشیع کو اپنے عقیدے کے مطابق اجتماع کرنے کی آزادی نہیں بلکہ اہلِ تشیع کو اپنے عقیدے کے مطابق اجتماع کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کے پی کے سے لے کر پنجاب تک اربعین واک اور دیگر علامتی اجتماعات پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ ایک طرف داتاصاحب کے عرس مبارک پر ہماری سی ایم صاحبہ کا بیان کہ زائرین کو ہر طرح سکیورٹی فراہم کی جائے اور سبیلیں اور لنگر نیاز دیئے جائیں نے عجیب کیفیت کر دی ،ایک طرف ہماری سی ایم بزرگان دین اللہ کے ولی کے زائرین کے لئے ایسا حکم دے رہی اور دوسری طرف نواسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زائرین کی علامتی اربعین واک پر پابندی عائد کردی جاتی ہے اور مسافروں کو کھانا اور سبیل اور پانی دینے والوں کو سخت کارروائی کی دھمکی دی جاتی ہےواک کا آغاز کرونا کی وبا کے وقت ہوا اور چہلم امام حسین علیہ السلام پر جو لوگ نجف سے کربلا جانے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ عشق حسین میں یہاں پر ہی پیدل چل کر ضریح عباس،ضریح حسین علیہ السلام پر حاضری دیتے اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں
    یہ نہ تو سیاسی جلوس ہوتا اور نہ ہی اس میں بد امنی ہوتی ہے
    ہر زائر کے لبوں پر صرف عشق حسین علیہ السلام کےاس طرح کے نعرے ہوتے
    "ہے ہماری درسگاہ،کربلا کربلا ”
    لبیک یا حسین علیہ السلام
    سلام شہنشاہ وفا
    جو نہ تو کسی کی دل آزاری کرتے اور نہ ہی کسی کے خلاف بلکہ انسانیت اور وفا کی علامت ہیں لیکن سلام ہے ہماری صوبائی حکومت خاص کر ہمارے وزیر داخلہ محسن نقوی اور ہماری سی ایم صاحبہ پر اور ضلعی انتظامیہ چکوال پر جنھوں نے پیدل چلنے والے افراد کے خلاف دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ کیا اور کنٹینر لگا کر رستے بلاک کئے اور ٹریفک بلاک کر دی گئی لیکن وہ بھول گئے کہ ایسے اقدامات سے سفر عشق کے مسافر رکتے نہیں اور زائرین کا سفر رکا نہیں لیکن مریضوں اور دوسرے لوگوں کے لئے زندگی مشکل ضرور بن گئی

    ضلعی انتظامیہ چکوال کی کیا بات ہے 12 سے 15 اگست 144 کا نفاذ ہوتا ہے وہ بھی صرف اربعین واک پر باقی پوری تقریبات کو آزادی تھی خود 144 لگا کر پبلک ایونٹ محفل موسیقی پروگرام ہوتا ہے ،13 اگست کو ہی کریالہ کے مقام پر کبڈی میچ ہوتا ہے 14 اگست کھوکھر زیر کبڈی میچ کا انعقاد ہوتا ہے لیکن نہ تو "انصاف پسند "ڈی پی او چکوال اور نہ ہی ڈی سی صاحبہ کو خلاف ورزی نظر آتی ہے ۔زائرین کے لئے پانی اور کھانا دینے پر پابندی ہوتی ہے اور جگہ جگہ زائرین کو کھانا دینے والوں کو تنگ کیا جاتا ہے اور ایک زائر کے گھر سے پکی ہوئی دیگیں اٹھا کر اپنے مہمانوں کو کھلادی جاتی ہیں

    یہ دوہرا معیار کیوں؟ اگر ہمارے اعلی حکام کو سمجھ لگتی تو اربعین واک سے بہت سے لوگوں کو معاشی فائدہ حاصل ہوتا ہے

    لنگر،فروٹ،خشک میوہ جات،پیکٹ والی اشیاء،دودھ دہی غرض ہر طرح کی اشیا خوردو نوش کی خریداری پر فائدہ ہی تھا نقصان نہیں لیکن یہاں دوہرا معیار ہے اس سے نقصان کس کا ہوا ؟حکومت پنجاب اور ضلعی انتظامیہ کے امیج کا کیونکہ جب عوام دیکھتے ہیں کہ ایک طرف اجتماعات کو آزادی ہے اور دوسری طرف اہل بیت کے نام پر نکلنے والے مسافروں کو رکاوٹوں،کنٹینرز اور مقدمات کا سامنا ہے تو پھر مثبت سوچ نہیں رکھی جا سکتی
    اگر ریاست واقعی مذہبی آزادی اور ہم آہنگی چاہتی ہےاور پاکستان کو پر امن،ہم آہنگی،اور یکجہتی کا مرکز دیکھنا چاہتی ہے اسے تمام مسالک،ہر عقیدے کے ساتھ برابری کا رویہ اور یکساں سلوک اپنانا ہوگا بصورتِ دیگر یہ دوہرا معیار نہ صرف عوام کے اعتماد کو کھوکھلا کرے گا بلکہ معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کرے گا اور معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائے گا
    پاکستان کو زندہ باد کہنا آسان ہے، مگر اس نعرے کو حقیقت بنانے کے لیے تلخ حقائق کا سامنا کرنا اور انصاف کے ترازو کو برابر رکھنا ناگزیر ہے۔

    سوچئے گا ضرور اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

  • ملکی قومی جماعتیں صوبوں تک محدود کیوں ہوئیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملکی قومی جماعتیں صوبوں تک محدود کیوں ہوئیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملکی سیاسی جماعتیں کسی زمانے میں قومی جماعتیں ہوا کرتی تھیں آج وہی جماعتیں صوبوں تک محدود ہو چکی ہیں زیادہ تر جماعتیں یا تو علاقائی سیاسی قوتیں ہیں یا عملا اس مقام تک پہنچ چکی ہیں مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی۔ پی ٹی آئی اندرونی بحرانوں کی زد میں ہے یہ جماعت بھی اب پیپلز پارٹی یا ن لیگ کی طرح صوبے تک محدود ہو چکی ہے تمام سیاسی جماعتوں میں دو قسم کے گروپ موجود ہیں ایک مزاحمتی اور ایک مفاہمتی گروپ مفاہمتی گروپ مزاحمتی گروپ پر حاوی ہے۔ جس سیاسی جماعت کو حکومت بنانے میں چھوٹی اور علاقائی مذہبی جماعتوں کا تعاون درکار ہو وہ جماعت قومی جماعت نہیں کہلوا سکتی ان سیاسی جماعتوں کی قومی حیثیت ختم ہو چکی ہے مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی تحریک انصاف روایتی طور پر قومی جماعتیں سمجھی جاتی تھیں ان جماعتوں کا اثر متعدد صوبوں میں رہا ہے مسلم لیگ (ن) پنجاب میں مضبوط تھی نواز شریف کی بار بار حکومتوں کا تختہ الٹ دیا گیا اسکے اثرات ان کی جماعت پر پڑے کسی بھی ن لیگ کی مرکزی قیادت نے (ن) لیگ بطور جماعت کو مقبول کرنے پر توجہ نہیں دی تاہم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے ن لیگ کے ورکروں اور عہدداروں کو پنجاب میں زندہ رکھا آج اس جماعت کی حیثیت یہ ہے کہ قومی سطح پر اسکی حمایت محدود ہوتی جا رہی ہے۔

    پیپلز پارٹی صرف سندھ تک محدود ہے کراچی جیسے شہر میں بلدیاتی انتخابات میں نوجوانوں کی اکثریت کا جھکاؤ جماعت اسلامی کی طرف دیکھا گیا ہے پی ٹی آئی میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں یہ جماعت بھی اب قومی جماعت کہلوانے کے قابل نہیں رہی قیادت کا فقدان صاف نظر آرہا ہے۔ مذہبی جماعتوں کا حال بھی کچھ اسی طرح ہے اور روایتی قومی جماعتوں کی چنگاری ماند پڑ رہی جمہوری اداروں کی بہت سے قومی اور بین الاقوامی اُتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے جمہوری اداروں کی خود مختاری متاثر ہو رہی ہے جمہوریت کو مستحکم کرنے میں ناکام آئین اور قانون کی حکمرانی پر عمل نہیں کیا پارلیمنٹ ہاوس میں ایک دوسرے کو غدار ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے نہ سیاسی گلیاروں میں سیاست نظر آتی ہے نہ جمہوریت نہ جمہور کی فکر جمہور کی فکر کا عالم یہ ہے شدید گرمی میں گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ

  • شانِ پاکستان، تحریر سعد فاروق

    شانِ پاکستان، تحریر سعد فاروق

    شانِ پاکستان
    تحریر سعد فاروق
    زمین کے ہر گوشے میں کوئی نہ کوئی کہانی چھپی ہوتی ہے۔ کہیں کسی پہاڑ کی چوٹی صدیوں سے ہوا کو چیرتی کھڑی ہے، کہیں کوئی دریا اپنی موجوں میں صدیوں کا سفر سمائے بہہ رہا ہے، اور کہیں کسی دھرتی کا ذرّہ بھی اپنی پہچان، اپنی عظمت اور اپنی کہانی کا امین ہوتا ہے۔ ہماری دھرتی — پاکستان — بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے، جو وقت کے اوراق پر سنہری حروف میں لکھی گئی ہے۔ یہ سرزمین صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک خواب کی تعبیر، ایک قربانی کا صلہ، اور ایک ایسی روشنی کا مینار ہے جو اندھیروں میں بھٹکتے انسان کو راستہ دکھاتا ہے۔

    پاکستان کی بنیاد کسی لالچ یا اقتدار کی ہوس پر نہیں رکھی گئی، بلکہ یہ ایک نظریہ تھا، ایک وعدہ تھا، اور ایک ایمان تھا۔ یہ وعدہ محمد علی جناحؒ اور ان کے ساتھیوں نے ایک ایسی قوم سے کیا، جو غلامی کی زنجیروں میں جکڑی تھی۔ یہ ایمان علامہ اقبالؒ نے اپنے اشعار میں بیدار کیا، وہ خواب جو انہوں نے دیکھا، ہر لفظ میں ایک عزم کی صدا تھی۔ اقبال کا یہ خواب محض سیاسی نقشہ نہیں بلکہ روحانی انقلاب کا پیش خیمہ تھا۔

    یہ سرزمین گنگا جمنا کی تہذیب کی دھرتی بھی ہے اور قرآن کی ہدایت کا مرکز بھی۔ یہاں کے پہاڑوں میں ہمالیہ کی سادگی اور وقار جھلکتا ہے، تو صحراؤں میں ریت کے ذروں کی صدیوں پرانی دانائی چھپی ہے۔ وادیٔ سندھ کی گواہی دینے والے کھنڈرات آج بھی بتاتے ہیں کہ یہ خطہ تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ ہڑپہ اور موہنجو داڑو کی مٹی میں نہ جانے کتنے قصے دفن ہیں، جو وقت کی زبان میں کہے جانے کے منتظر ہیں۔

    پاکستان کی شان اس کے قدرتی حسن میں بھی ہے۔ شمال کے برف پوش پہاڑ، وادیٔ ہنزہ کے شفاف جھرنے، سوات کی سبز وادیاں، گلگت کے چمکتے گلیشیئرز، اور بحیرۂ عرب کے نیلگوں پانی—یہ سب مل کر قدرت کا ایسا شاہکار بناتے ہیں، جو دنیا میں نایاب ہے۔ دنیا کے دوسرے حصے میں لوگ کروڑوں خرچ کر کے ایسی فضا تلاش کرتے ہیں، جو یہاں ہر سانس میں گھلتی ہے۔

    مگر پاکستان کی اصل شان صرف اس کی مٹی، پہاڑ یا دریا نہیں، بلکہ اس کے لوگ ہیں۔ وہ کسان جو دھوپ میں جل کر، پسینے کو بارش بنا کر فصل اگاتے ہیں۔ وہ مزدور جو اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں محنت کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ وہ سپاہی جو اپنی نیند قربان کر کے ہماری نیند کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ استاد جو کچے سکول میں بیٹھ کر بھی علم کا چراغ جلاتا ہے۔ یہ سب پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

    پاکستان کی تاریخ میں وہ لمحے بھی ہیں جب دشمن نے اس کی طرف میلی نظر ڈالی، مگر اس دھرتی کے بیٹے دیوار کی طرح کھڑے ہو گئے۔ 1965 کی جنگ میں لاہور کی فضاؤں میں گونجتے ہوئے نعرے، 1971 کی آزمائش میں بھی عزم کا مینار، اور کارگل کی برفانی چوٹیوں پر بہادری کی داستانیں—یہ سب پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ ہمارے سپاہی اپنی جان دے کر بھی دشمن کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ یہ دھرتی کبھی خالی نہیں ہوگی، یہاں ہمیشہ ایک سپاہی کھڑا ہوگا، ایک جوان سانس لے گا، اور ایک ماں اپنے بیٹے پر فخر کرے گی۔

    پاکستان کی شان اس کے نوجوان ہیں، جن کے خواب ستاروں سے بھی اونچے ہیں۔ یہ نوجوان جب قلم پکڑتے ہیں تو علم کے میدان میں جھنڈے گاڑ دیتے ہیں، جب ہنر دکھاتے ہیں تو دنیا حیران رہ جاتی ہے، اور جب کرکٹ کے میدان میں اترتے ہیں تو پوری قوم ایک ساتھ دھڑکتی ہے۔ عبدالستار ایدھی جیسے لوگ اس شان کو انسانیت کی معراج تک لے جاتے ہیں، جن کی زندگی ایک پیغام تھی کہ محبت اور خدمت سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں۔

    یہ سرزمین مشکلات سے بھی گزری ہے—سیلابوں کا قہر، زلزلوں کا زخم، معاشی بحرانوں کا بوجھ—مگر پاکستانی قوم نے ہر بار راکھ سے اٹھ کر نیا جنم لیا۔ یہاں کا بچہ بھی اگر کھلونا ٹوٹ جائے تو لکڑی اور ڈبے سے نیا بنا لیتا ہے، یہ قوم بھی اسی بچے کی طرح ہر مشکل میں سے راستہ نکال لیتی ہے۔

    پاکستان کی شان اس کے رنگ، اس کی زبانیں، اس کی ثقافت اور اس کی محبت میں چھپی ہے۔ پنجابی کی مٹھاس، سندھی کا وقار، بلوچی کی بہادری، پشتون کا غیرت مند دل، اور کشمیری کی وفاداری—یہ سب ایک ہی پرچم کے سائے تلے جُڑ کر ایک ایسی قوسِ قزح بناتے ہیں، جسے دیکھ کر ہر دل فخر سے بھر جاتا ہے۔

    پاکستان کا پرچم صرف کپڑے کا ٹکڑا نہیں، یہ قربانیوں کی چادر ہے۔ اس کا سبز رنگ امید اور ایمان کا نشان ہے، اس کا سفید رنگ اقلیتوں کی عزت اور محبت کی علامت ہے۔ جب یہ پرچم ہوا میں لہراتا ہے، تو اس کے سائے میں لاکھوں شہیدوں کی ارواح مسکراتی ہیں۔

    آج کا پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک چیلنج اور ایک موقع دونوں ہے۔ یہ ملک اپنی صلاحیت، اپنے وسائل اور اپنی نوجوان نسل کی طاقت سے وہ سب کر سکتا ہے جو بڑے بڑے ملک بھی نہیں کر پاتے۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ہم اپنی شان کو پہچانیں، اپنے اختلافات کو بھول کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں، اور اس عزم کو زندہ رکھیں جو 1947 میں ہمارے بڑوں کے دل میں تھا۔

    شانِ پاکستان یہ ہے کہ ہم نہ صرف اپنی پہچان پر فخر کریں بلکہ دنیا کو دکھائیں کہ یہ قوم محنت، محبت اور قربانی سے کیا کچھ کر سکتی ہے۔ یہ شان ہمیں ورثے میں ملی ہے، اور ہمیں اسے آنے والی نسلوں تک امانت کے طور پر پہنچانا ہے۔ کیونکہ پاکستان صرف ہمارا آج نہیں، یہ ہمارے کل کا ضامن بھی ہے۔

    پاکستان زندہ باد۔