Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شانِ پاکستان .تحریر: زید محسن

    شانِ پاکستان .تحریر: زید محسن

    شانِ پاکستان
    تحریر: زید محسن
    کسی بھی قوم کیلیے ملک کا وجود اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی ملک کیلئے قوم کا وجود لازم ہے۔ یہ علمِ مدنیت کا مسلّمہ قانون ہے کہ کرہ ارض کا کوئی خطہ اس وقت ایک مخصوص ملک کہلانے لگتا ہے، جب اس میں ایک مخصوص تعداد میں افراد آ بستے ہیں، اور وہ افراد جو زمین کے کسی حصے پر آ بستے ہیں، ان کیلئے وہ حصہ ملک ہو جاتا ہے اور وہ افراد اس ملک کی قوم بن جاتے ہیں۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ قوم و ملک لازم و ملزوم ہیں۔

    ایک دوسرے کے بغیر ان دونوں کا وجود یا تو ہوتا نہیں ہے، اگر ہوتا ہے تو خطرے میں ہوتا ہے۔ ہاں البتہ ترجیحات کے حوالے سے تفاوت ہو جاتا ہے کہ کبھی قوم کو ملک کی زیادہ ضرورت پڑ جاتی ہے اور کبھی ملک کو قوم کی زیادہ حاجت ہوتی ہے۔

    ایک وقت تھا کہ ہم افراد کی صورت میں ایک ملک کی تلاش میں تھے کیونکہ جس ملک کی ہم قوم تھے وہاں ہماری قومیت خطرے سے دوچار تھی، سو کل ہمیں ایک ملک کی ضرورت تھی، جو پاکستان کی صورت حاصل ہوا اور آج اس ملک کو قوم کی ضرورت ہے جو پاکستان کی شان اور آن کو بڑھائے اور خود شانِ پاکستان بن جائے۔

    کسی بھی ملک کی شان کا انحصار اس کی قوم پر ہوتا ہے اور خود قوموں کی شان افراد کے ہاتھوں بڑھتی ہے، جیسا کہ اقبال رحمتہ اللّٰہ علیہ نے فرمایا تھا:
    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا

    اس شعر کے ذریعہ اقبال قوم کے ہر ہر فرد کے اندر اس جذبے اور شعور کو اجاگر فرما رہے ہیں کہ جب قوم کا ہر ایک فرد اپنے حصے کا کام کرتا ہے تو تقدیرِ اُمم و ممالیک بدلنا شروع ہوتی ہے۔ پھر ملک کی شان و شوکت بڑھتی ہے اور قوموں کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔

    اگر ہم اس تناظر میں دیکھیں تو اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ پاکستان کی شان و شوکت کی اصل ضمانت بھی قوم ہی ہے اور شانِ پاکستان بھی قومِ پاکستان ہی ہے۔

    قوم کا ہر وہ شخص جو تعمیر و ترقی میں ذرا برابر بھی حصّہ ملا رہا ہو، چاہے وہ تندور پر بیٹھا نان بائی ہو کہ جس کے ذریعے سے قوم کو پیٹ بھر کر جینا نصیب ہوتا ہے۔ چاہے وہ کھیت میں کام کرتا کسان ہو کہ جس کے ذریعے سے قوم کی خوراک کا بندوبست ہوتا ہے۔ چاہے وہ گھر بنانے والا دیہاڑی دار مزدور ہو کہ جس کے ذریعہ سے قوم کو سر ڈھانکنے کی جگہ ملتی ہے۔ چاہے وہ مختلف قسم کی تجارت کرنے والا تاجر ہو کہ جس کے ذریعے سے قوم کے پیسے کا پہیہ گھومتا ہے۔ چاہے وہ چھوٹی بڑی نوکریاں کرنے والا کوئی فرد ہو کہ جس کے ذریعہ سے قوم کی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔ چاہے وہ مسند پر بیٹھا ہوا عالمِ حق ہو کہ جس کی راست گوئی اور تربیت سے قوم کے دین کی حفاظت ہوتی ہے۔ چاہے وہ انتظامی امور سے متعلقہ کوئی فرد ہو کہ جس کے ذریعے قوم کے انتظامات چل رہے ہوتے ہیں۔ چاہے وہ برّی، بحری یا فضائی سرحدوں پر پہرا دیتا محافظ ہو کہ جس کے ذریعے قوم کی حفاظت ہوتی ہے۔

    الغرض، ہر وہ شخص جو ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ملا رہا ہے اور تخریب و انہدام سے بچا رہا ہے، وہ نہ صرف شانِ پاکستان کو بڑھا رہا ہے، بلکہ خود بھی شانِ پاکستان اور ملک و قوم کا ستارہ بنتا جا رہا ہے۔

    اس کے بر خلاف وہ شخص جو ملک کی ترقی کی بجائے نقصان اور انہدام کو اپنی زندگی کا حصّہ بنا رہا ہے اور اس کی ترجیحات میں ملکی اور قومی مفاد بعد میں اور تنظیمی یا انفرادی مفاد پہلے ہے، وہ چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے پاکستان کی شان کو گھٹانے کیلئے کوشاں ہے۔ چاہے وہ بغاوت پر اترا ہوا ہتھیار اور اسلحے سے لیس باغی ہو۔ چاہے وہ حکومتی عہدوں پر بر اجمان رشوت خور اور میرٹ کا قاتل عہدے دار ہو۔ چاہے وہ وردی میں ملبوس لیکن غیروں کے ہاتھوں فروخت شدہ ذہنیت رکھنے والا غدار فوجی ہو۔ چاہے وہ کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا وہ فرد ہو جو اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہو۔ چاہے وہ پاکستان سے باہر بیٹھ کر تخریب کاری میں ملوث باغی ہو یا غیر ذمہ دار شہری ہو۔

    الغرض جو کوئی بھی ذاتی مفاد کیلیے قومی و ملی نقصان کا باعث بن رہا ہے، یا ملک کو خطرات کی طرف دھکیل رہا ہے، یا کسی بھی انداز سے ملک و قوم کے سر کو نیچا کرنے ذریعہ بن رہا ہے وہ شانِ پاکستان میں کمی کا ذمہ دار ہے، کیونکہ ملک میں رہتے ہوئے یا بیرونِ ملک ہوتے ہوئے کوئی بھی اقدام فرد کا ذاتی اقدام نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک قوم کا تشخص بن جاتا ہے اور قومیں ملک کے نام سے موسوم ہو جاتی ہیں اور پھر جب جب قوم کے کسی برے عمل کا تذکرہ ہوتا ہے تب تب ملک کے اوپر تنقیدی انگلی اٹھ جاتی ہے۔

    اسی لئے اگر شانِ پاکستان مطلوب ہے تو ہمیں بحیثیتِ مجموعی و انفرادی اپنے کردار، گفتار، اطوار اور اقدار پر توجہ دینی ہوگی کیونکہ ہم ہی پاکستان ہیں اور ہم ہی پاکستان کی شان بڑھانے یا گھٹانے کا ذریعہ ہیں۔

    اور ایک آخری بات یہ بھی سمجھ لینی چاہیے کہ جس قدر پاکستان کی شان بڑھے گی اور جس قدر وطنِ عزیز کا نام بلند و بالا ہوگا، اسی قدر ہر ایک پاکستانی کی شان و شوکت میں بھی اضافہ ہوگا اور اتنا ہی معزز تر ہر پاکستانی بھی ہو جائے گا۔ سو بات وہی ہے کہ قوم کی شان و آن، ملک کی شان و شوکت میں ہے اور ملک کی شان، وقار و عظمت قوم کی شان و رفعت میں کیونکہ یہ دونوں ہی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ ان دونوں کی بقا بھی یکجا اور فنا بھی یکجا!

    سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے!

  • شان پاکستان.تحریر:حمزہ ارشد

    شان پاکستان.تحریر:حمزہ ارشد

    شان پاکستان
    ازقلم: حمزہ ارشدسادہوکی تحصیل کامونکی ضلع گوجرانوالہ
    پاکستان ایک ایسا نام ہے جو آزادی، قربانی، خودداری، اور ایمان کی خوشبو سے مہکتا ہے۔ یہ محض ایک ملک نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہے، جو ایک ایسی قوم کی تعبیر کا ہے، جس نے غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر اپنے عقیدے، ثقافت اور شناخت کی بنیاد پر ایک الگ وطن حاصل کیا۔ "شان پاکستان” صرف اس کے جھنڈے، فوج یا ایٹمی طاقت میں نہیں، بلکہ اس کی عوام، تاریخ، روایات، جدوجہد اور مستقبل کے خوابوں میں پوشیدہ ہے۔

    پاکستان 14 اگست 1947 کو وجود میں آیا، لیکن اس کی بنیاد کئی دہائیوں کی سیاسی جدوجہد، فکری بیداری اور ناقابلِ بیان قربانیوں پر رکھی گئی تھی۔ برصغیر کے مسلمان دو قومی نظریے کے تحت ایک ایسی ریاست چاہتے تھے جہاں وہ آزادی سے دین اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ لاکھوں مسلمانوں نے ہجرت کی، ہزاروں شہید ہوئے، مائیں لٹیں، بچے بچھڑے اور انہی سب نے مل کر ایک وطن کی بنیاد رکھی۔ پاکستان کا اصل چہرہ اس کا نظریہ ہے، جس کی بنیاد "لا الہ الا اللہ” پر ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ "پاکستان اسی روز وجود میں آ گیا تھا، جب برصغیر کا پہلا شخص مسلمان ہوا تھا۔” یہ نظریہ ہمیں مذہبی آزادی، عدل، مساوات، اور رواداری کا سبق دیتا ہے۔ یہی نظریہ "شان پاکستان” کی اصل روح ہے، جو ہمیں دنیا کے باقی ممالک سے ممتاز کرتا ہے۔

    پاکستان کی ثقافت اس کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔ پنجاب کی دھمال، سندھ کی اجرکیں، بلوچستان کی روایتی چادریں، خیبر پختونخوا کا پگڑی دار وقار، گلگت بلتستان کی وادیاں، یہ سب مل کر ایک ایسا حسین گلدستہ بناتے ہیں جو دنیا میں منفرد اہمیت کا حامل ہے۔ ہماری زبانیں (اردو، پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی، سرائیکی)، روایات، لباس، خوراک، موسیقی اور مہمان نوازی سب "شانِ پاکستان” کا حصہ ہیں۔ سبز ہلالی پرچم صرف کپڑے کا ٹکڑا نہیں، یہ ہماری شناخت، عقیدہ اور اتحاد کی علامت ہے۔ اس میں سبز رنگ مسلمانوں اور سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ چاند اور ستارہ ترقی اور روشنی کی علامت ہیں۔ جب یہ پرچم فضا میں لہراتا ہے تو ہر پاکستانی کا دل فخر سے بھر جاتا ہے۔

    پاکستان کا دفاعی نظام دنیا کے بہترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ ہماری فوج، ایئر فورس، نیوی اور انٹیلیجنس ایجنسیاں ملک کے تحفظ کے لیے چوبیس گھنٹے تیار رہتی ہیں۔ پاکستان وہ واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت رکھتا ہے، اور یہی اس کی ایک بڑی "شان” ہے۔ کارگل، سوات، اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہماری افواج نے بے مثال قربانیاں دے کر دنیا کو دکھا دیا کہ ہم ایک غیرت مند قوم ہیں۔

    28 مئی 1998 کو پاکستان نے کامیابی سے ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کو بتا دیا کہ ہم صرف امن چاہتے ہیں، کمزوری نہیں۔ یومِ تکبیر ہماری خودمختاری، جرات اور ٹیکنالوجی میں مہارت کی یادگار ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے سائنسدان "شان پاکستان” ہیں جنہوں نے قوم کو ناقابل تسخیر بنایا۔

    اگرچہ تعلیمی میدان میں ہمیں ابھی بہت آگے جانا ہے، مگر کچھ کامیابیاں قابلِ فخر ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام، پاکستان کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائنسدان، عالمی سطح پر ہمارے علمی مقام کی علامت ہیں۔ کرکٹ، ہاکی، اسکواش اور کبڈی جیسے کھیلوں میں پاکستانی کھلاڑیوں نے دنیا میں نام پیدا کیا۔ عمران خان، جہانگیر خان، جان شیر خان، اور بابر اعظم جیسے سپورٹس ہیروز نہ صرف کھیل کے میدانوں میں جیتے بلکہ عالمی سطح پر "شان پاکستان” بنے۔

    پاکستانی شعراء، ادیب، گلوکار اور فنکار بھی "شانِ پاکستان” ہیں۔ علامہ اقبال، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، پروین شاکر، اور منیر نیازی جیسے شعراء نے اردو ادب کو جِلا بخشی۔ نصرت فتح علی خان اور عابدہ پروین جیسے فنکاروں نے صوفی موسیقی کو عالمی سطح پر پہچان دی ہے۔

    کچھ وقت قبل بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جارحیت کا مظاہرہ کیا، جس کے تحت اس نے "آپریشن سندور” کے نام سے مختلف پاکستانی علاقوں پر حملے کیے۔ بھارتی عزائم کا مقصد پاکستان کو دفاعی طور پر کمزور دکھانا تھا، مگر افواجِ پاکستان نے بروقت اور مؤثر ردِعمل کے تحت "آپریشن بنیان مرصوص” کا آغاز کیا۔ آپریشن بنیان مرصوص کے تحت جوابی کارروائی میں نہ صرف دشمن کے حملوں کو ناکام بنایا گیا بلکہ پانچ بھارتی طیارے مار گرائے گئے اور کئی جاسوس ڈرون بھی تباہ کیے گئے۔ دشمن کے متعدد لانچ پیڈز اور مواصلاتی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے بھارت کو واضح پیغام ملا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتا۔

    دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو (K2) بھی پاکستان میں واقع ہے، جو پاکستان کی شان میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ زلزلہ ہو یا سیلاب، غربت ہو یا مہنگائی، پاکستانی قوم ہر مشکل وقت میں ایک جسم بن جاتی ہے۔ دنیا نے دیکھا کہ کیسے پاکستانی عوام نے لاکھوں افغان مہاجرین کو سینے سے لگایا، کیسے کورونا وبا میں جذبۂ خیرات اور خدمت نے دنیا کو حیران کر دیا۔ ہندو، عیسائی، سکھ، پارسی، پاکستان میں رہنے والی اقلیتیں بھی اس ملک کی ترقی میں برابر کی شریک ہیں۔ ان کا احترام، مساوی حقوق، اور قومی سطح پر کردار بھی "شان پاکستان” کا مظہر ہے۔

    "شان پاکستان” صرف ماضی کی بات نہیں، بلکہ مستقبل کی امید بھی ہے۔ آج کا پاکستان جدید ٹیکنالوجی، آئی ٹی، کلین انرجی، تعلیم اور خود کفالت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سی پیک جیسے منصوبے عالمی معاشی میدان میں پاکستان کی اہمیت بڑھا رہے ہیں۔

    پاکستان ایک قدرتی معجزہ ہے۔ ایک نظریہ، ایک تحریک، ایک قوم، اور ایک وعدہ — جو رب سے کیا گیا تھا۔ "شان پاکستان” صرف ایٹمی طاقت یا پرچم نہیں، بلکہ اس کے عوام کی غیرت، عقیدہ، محنت، قربانی اور امید کا نام ہے۔ اگر ہم خود کو پہچان لیں، اور قومی وحدت کو مضبوط کریں، تو کوئی طاقت ہمیں دنیا میں ممتاز ہونے سے نہیں روک سکتی۔

    پاکستان زندہ باد!

  • شانِ پاکستان.  تحریر: فاطمہ افضال

    شانِ پاکستان. تحریر: فاطمہ افضال

    شانِ پاکستان
    تحریر: فاطمہ افضال
    میں نے سنا ہے کچھ مٹیوں میں خدا کی خاص خوشبو ہوتی ہے…
    کچھ زمینیں صرف زمین نہیں ہوتیں، وہ دعاؤں کی قبولیت گاہ ہوتی ہیں…
    اور کچھ پرچم صرف کپڑا نہیں ہوتے، وہ کلمے کی حرمت کا سایہ ہوتے ہیں۔
    ایسی ہی ایک زمین ہے — پاکستان!

    یہ وطن ایک معجزہ ہے۔ ایک ایسی روشنی، جس نے ظلمتوں کے سمندر میں چراغ جلایا۔ پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں، یہ ایک نظریہ، ایک ایمان، ایک دعا ہے جو صدیوں کی سجدہ گاہوں سے اُٹھی اور رب کے “کن” سے حقیقت بنی۔ یہ سرزمین صرف مسلمانوں کا خواب نہیں تھی، یہ ایک عہد تھا — “لا الہ الا اللہ” کے نام پر جینے اور مرنے کا عہد۔

    قائداعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا:
    “ہم نے پاکستان زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ اسلام کے اصولوں پر عمل کرنے کے لیے حاصل کیا ہے۔”

    یہی ہماری اساس ہے۔ اور جب کوئی قوم اپنی اساس کو بھول جائے تو وہ بکھر جاتی ہے، مگر پاکستان نے ہر کٹھن امتحان میں خود کو زندہ اور باوقار قوم کے طور پر ثابت کیا۔

    قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    “اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ”
    (اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط کرے گا)
    یہی ایمان تھا جس نے ہمیں دشمنوں کے حصار میں بھی سربلند رکھا۔ جنگِ آزادی، 65 کی جنگ، کارگل، دہشت گردی، زلزلے، سیلاب — کوئی مصیبت ہمیں مٹا نہ سکی۔ اس قوم نے اپنے شہداء کے لہو سے آزادی کو سینچا، اپنی غیرت سے سرحدوں کو محفوظ کیا، اور اپنی قربانیوں سے دنیا کو حیران کر دیا۔

    پاکستان کی شان صرف اس کی آزادی نہیں، بلکہ اس کی وفا، قربانی اور خواب ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جہاں ماں نے بیٹے کو وطن پر قربان کیا تو فخر کے آنسو بہائے، جہاں بیٹی نے شہید باپ کی وردی کو سینے سے لگا کر صبر کی چادر اوڑھی۔

    یہ وہ زمین ہے جہاں ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ نے ایٹمی طاقت بنا کر دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیا، جہاں عبدالستار ایدھیؒ نے بے سہارا انسانیت کو ماں کی طرح گود دی، جہاں ارفع کریم نے کم عمری میں پاکستان کا نام دنیا کے نقشے پر روشن کر دیا۔

    یہ ہے شانِ پاکستان — غیرت، علم، قربانی، ہنر اور وفا کا امتزاج۔
    آج اگرچہ ہمارے سامنے بے شمار چیلنجز ہیں، لیکن یہ قوم پہاڑ کی طرح مضبوط ہے۔ ہمارے نوجوان دنیا بھر میں آئی ٹی، سائنس، طب، کھیل اور کاروبار میں پاکستان کا پرچم بلند کر رہے ہیں۔ وہ ثابت کر رہے ہیں کہ وسائل سے زیادہ اہم عزم ہوتا ہے، اور ہمت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔

    اقبالؒ نے کہا:
    “افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”

    اگر ہم اپنے بچوں کو صرف ڈگری نہیں بلکہ کردار دیں، اپنی معیشت میں صرف ترقی نہیں بلکہ انصاف پیدا کریں، اپنے رویّوں میں صرف دعویٰ نہیں بلکہ اخلاص پیدا کریں، تو کوئی طاقت ہمیں دنیا کی قیادت کرنے سے روک نہیں سکتی۔
    رسولِ اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
    “حب الوطن من الایمان”
    (وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے)

    لہٰذا ہمیں اس وطن سے محبت کو صرف نعرے تک محدود نہیں رکھنا بلکہ عمل، قربانی اور بہتری کی مسلسل کوشش میں ڈھالنا ہے۔ ہمیں ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں انصاف طاقت سے بالاتر ہو، جہاں ہر مذہب اور ہر شخص کی عزت محفوظ ہو، جہاں عورت کو مقام ملے اور بچہ علم کے نور سے مالا مال ہو۔

    آج کا پاکستان صرف ماضی کی قربانیوں کا امین نہیں بلکہ مستقبل کی اُمیدوں کا مرکز ہے۔ “ڈیجیٹل پاکستان” کا خواب، ٹیکنالوجی میں ترقی، نوجوانوں کی عالمی کامیابیاں، اور کھیل کے میدانوں میں فتح — یہ سب اس بات کے گواہ ہیں کہ پاکستان کا سفر آگے کی طرف ہے۔

    یہ وطن ہم سب کے لیے ایک تحفہ، ایک امانت، ایک اعتماد ہے۔ اس کی حفاظت اور ترقی ہم سب کا فرض ہے۔

    اور آخر میں…
    جب سبز ہلالی پرچم آسمان میں لہراتا ہے تو دل کی گہرائیوں سے آواز آتی ہے:

    یہ وطن ہمارا ہے…
    یہ خوابوں کا نہیں، شہیدوں کا صدقہ ہے،
    یہ دعاؤں کا نہیں، سجدوں کا انعام ہے،
    یہ ہماری پہچان ہے… ہماری آخری امید ہے۔

    دعا:
    یا اللہ! اس وطن کی حفاظت فرما،
    اسے عدل، علم اور امن کا گہوارہ بنا،
    اور ہمیں اس کی سچی خدمت کی توفیق عطا فرما۔
    آمین

    پاکستان زندہ باد

  • شان پاکستان . تحریر: علشبہ اسحاق

    شان پاکستان . تحریر: علشبہ اسحاق

    شان پاکستان
    تحریر: علشبہ اسحاق
    لفظ "شان ِپاکستان” کوئی بلند و بالا عمارت نہیں، کوئی محلاتی طاقت نہیں، بلکہ یہ اس مزدور کا پسینہ ہے جو صبح سویرے رزقِ حلال کی تلاش میں نکلتا ہے۔ یہ اس ماں کا صبر ہے جو اپنے بچوں کو پڑھا لکھا کر اس قوم کا معمار بناتی ہے۔ یہ اس اُستاد کا قلم ہے جو آنے والی نسلوں کو شعور، علم اور ہنر کی شمع تھماتا ہے۔ اور یہ اس سپاہی کی وردی ہے جو سرد راتوں، برستی بارشوں اور تپتے دنوں میں بھی بارڈر پر کھڑا اپنے وطن کے ایک ایک ذرے کی حفاظت کرتا ہے۔

    پاکستان کی اصل شان، وہ لاکھوں شہداء ہیں جنہوں نے "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ” کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنی جان، مال، عزت، حتیٰ کہ اپنی نسلوں تک کو قربان کر دیا۔ ان کی قربانیوں کا نتیجہ یہ آزاد سرزمین ہے۔ وہ قربانیاں ہماری مٹی میں دفن نہیں ہوئیں بلکہ ہمارے ضمیر، ہماری پہچان اور ہمارے پرچم میں آج بھی بسی ہوئی ہیں۔ آج بھی اگر ایوانِ قائد سے لے کر وادی کشمیر تک فضاؤں میں کان لگایا جائے تو ان شہیدوں کی گونجیں سنائی دیتی ہیں۔ اگر اس وطنِ عزیز کی شان کی بات کی جائے تو، ہر قوم کی شان اُس کے نوجوان ہوتے ہیں اور پاکستان کے نوجوانوں کی شان تو پھر بےمثال ہے! کیسے، آئیے پڑھتے ہیں۔

    ہم وہ نسل ہیں جنہوں نے 1947 کی جدوجہد کو اپنی آنکھوں سے تو نہیں دیکھا، مگر اپنے بزرگوں کی آنکھوں میں اس وقت کی چمک، خواب اور تکلیف کو ضرور محسوس کیا ہے۔ یہی چمک آج ہماری آنکھوں میں بھیہے، یہی خواب ہمارے دلوں میں پل رہے ہیں، اور یہی تکلیف ہمیں خوددار بناتی ہے۔ ہم صرف موبائل اور سوشل میڈیا کے دیوانے نہیں، ہم اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو جدیدیت کو اپنی طاقت بناتی ہے۔

    ہم نے بارہا ثابت کیا ہے کہ کبھی بھی مشکل وقت آئے ، کوئی سانحہ، قدرتی آفت یا دشمن کا وار، ہم سب سے آگے ہوتے ہیں۔ہم نوجوان ہی اپنی آستینیں چڑھا کر نکلتے ہیں، لوگوں کو بچاتے ہیں، کھانا بانٹتے ہیں، خون دیتے ہیں، امداد جمع کرتے ہیں۔ ہم جذباتی ضرور ہیں، مگر کمزور نہیں۔ ہم نٹ کھٹ بھی ہیں، مگر نادان نہیں۔ ہم ٹیکنالوجی سے جُڑے ہیں، مگر حالات سے بےخبر نہیں۔

    ابھی حالیہ پاک بھارت کشیدگی نے بھی ہمیں ثابت کیا کہ ہم نوجوان صرف لفظوں کے جنگجو نہیں، بلکہ نظریاتی محافظ بھی ہیں۔ دشمن کی طرف سے سوشل میڈیا پر نفرت کا طوفان آیا، مگر ہم نے پیار، علم اور دلیل سے مقابلہ کیا۔ جب ان کی زبان میں طنز تھا، ہم نے اپنی زبان میں دعا دی۔ اور جب للکارا گیا، تو ہم نے کہا: "ٹھہرو ذرا، وضو کر کے آتے ہیں۔”

    کیونکہ ہمیں پتا ہے کہ صرف حدیدی ہتھیار نہیں، ایمان بھی ایک مضبوط ہتھیار ہوتا ہے۔ یہی ایمان، یہی جذبہ ہمیں ہر مشکل وقت میں مضبوط بناتا ہے۔ دشمن چاہے محاذ پر آئے یا سوشل میڈیا پر، ہم ہر میدان میں تیار ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اب جنگ صرف بارود کی نہیں، بلکہ علم، ہنر، سوشل میڈیا اور نظریے کی بھی ہے اور ہم نے یہ جنگ جیتنی سیکھ لی ہے۔

    جہاں ہمارے ہاتھ میں قلم ہے، وہیں کی بورڈ پہ انگلیوں کو رقص کرواتے ہیں، وہیں تلوار اٹھانے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ ہم وہ نسل ہیں جو اپنی شناخت کو سنوارنے اور بچانے کے فن سے واقف ہے۔ ہمیں نہ بکنے کا شوق ہے، نہ کسی کے سامنے جھکنے کی عادت۔ ہم صرف اپنے خالق کی طرف جھکتے ہیں اور صرف اپنے وطن کے لیے جیتے ہیں۔
    آج اگر کوئی پوچھے کہ پاکستان کی شان کیا ہے؟

    تو ہم فخر سے کہیں گے: یہ ہمارے نوجوان ہیں! وہی نوجوان جو خواب دیکھتے بھی ہیں، اور اُنہیں سچ بھی کر کے دکھاتے ہیں۔ ہم انہیں ارشد ندیم کا بتائیں گے کہ ارشد ندیم نے جب نیزہ پھینکا تو صرف گولڈ میڈل نہیں جیتا، پوری قوم کا دل جیتا، وہ لمحہ آج بھی ہمارے سینے میں دھڑکتا ہے۔ اور علی سیف؟ اُس نے "MilKar” سے ہزاروں دلوں کو جوڑا، جہاں سب نے ساتھ چلنا سیکھا، علم و ہنر بانٹنا سیکھا۔ ہم انہیں اپنی بہن اقصیٰ کا بتائیں گے کہ اقصیٰ اجمل نے جب نابینا بہنوں کے لیے سلائی مشین بنائی، تو دنیا نے جانا کہ یہ بیٹیاں صرف گھر کی زینت نہیں، بلکہ پوری قوم کا فخر بھی ہیں۔ تب ہم نے اپنی نئی نسل کی آنکھوں میں ایک نئی چمک دیکھی، یہ وہ چمک کچھ کر دکھانے کی تھی۔ شہروز کاشف نے برف پوش پہاڑوں کو چھوا، لیکن ہمارے دلوں کو گرم کر گیا۔ اور پھر جب یُمنہ مجید نے آسمان پر نظریں جمائیں، تو پوری دنیا نے دیکھا کہ ہماری بیٹیاں صرف ستارے نہیں گنتیں، خود ستارہ بن جاتی ہیں۔ اور ہماری کرکٹر ثناء میر، وہ تو کرکٹ کے میدان میں لاجواب کارکردگی سے خود پوری قوم کی آنکھوں کا تارا بن چکی ہیں۔

    تو اب ہم سکون سے کہہ سکتے ہیں نہ ان سے، کہ ہاں یہ ہم ہیں!
    ہم نوجوان، ہم طلباء، ہم کارکن، ہم مائیں، ہم اساتذہ، ہم سپاہی، ہم خواب دیکھنے والے، اور ہم وہ لوگ جو ان خوابوں کو پورا کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ہم میں وہ جوش ہے جو صرف جذبے سے نہیں، ایمان سے آتا ہے۔ ہمیں اللہ پر یقین ہے، اور پاکستانی ہونے پر فخر۔ہم وہ نسل ہیں جو شکست کو تسلیم نہیں کرتی، اور فتح پر تکبر نہیں کرتی اور ہر صبح اپنے وطن کو بہتر بنانے کا عہد لے کر جاگتی ہے۔

    شانِ پاکستان ہم سے ہے، ہم نوجوانوں سے، جو دل میں عزم، آنکھوں میں خواب اور ہاتھوں میں عمل کا چراغ لئے اپنے وطن کی راہوں کو روشن کر رہے ہیں۔ وقت کی گرد، حالات کی سختی اور دشمن کی سازشیں ہمیں ہلا نہیں سکتیں، کیونکہ ہماری بنیادوں میں شہداء کا لہو ہے اور دلوں میں پاکستان کی محبت۔ جب تک ہم سانس لیتے ہیں، یہ وطن محفوظ ہے، اور جب ہم نہیں ہوں گے۔ تب بھی ہمارے خواب اس سرزمین کو زندہ رکھیں گے۔ یہی ہے پاکستان کی اصل شان۔

  • شان پاکستان تحریر: زرین زاہد (نارووال)

    شان پاکستان تحریر: زرین زاہد (نارووال)

    شان پاکستان
    تحریر: زرین زاہد (نارووال)
    جنت سے کہیں بڑھ کر حسیں میرا وطن ہے
    ہمسر ہے فلک کی جو زمیں میرا وطن ہے

    پاکستان کے لفظی معنی:
    پاک کے معنی خالص اور صاف کے ہیں ؛ جبکہ ستان کا مطلب زمین یا وطن ہے ۔ لفظ پاکستان کا لفظی مطلب "پاک لوگوں کی سر زمین” ہے ۔

    شان پاکستان:
    شان پاکستان سے مراد پاکستان کا وقار ، جلال ، عظمت یا خوبصورتی ہے ۔ پاکستان ایک عظیم ملک ہے اور یہ ایک منفرد شناخت اور تاریخ رکھتا ہے ۔ پاکستان نہ صرف اسلامی نظریے پر قائم ہوا ؛ بلکہ قدرتی وسائل، دلکش قدرتی مناظر، بہادر قوم، اور مضبوط افواج جیسی نعمتوں سے مالا مال ہے۔ پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا، خود مختار معیشت کی جانب بڑھتے قدم، باصلاحیت نوجوان، اور دین سے وابستگی یہ سب کچھ پاکستان کی شان اور فخر کی علامتیں ہیں۔ ہماری تہذیب، ثقافت، ادب، اور مہمان نوازی بھی پاکستان کی شناخت اور عظمت کا حصہ ہیں۔

    قیام پاکستان:
    ہمارا ملک پاکستان 27 رمضان المبارک 14 اگست 1947 عیسوی کو دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا ۔ علامہ اقبال نے پاکستان کا تصور پیش کیا ؛ جسے قائد اعظم نے عملی صورت دی ۔ پاکستان کے قیام میں محترمہ فاطمہ جناح ، سرسید احمد خان ، مولانا حالی ، مولانا شبلی ، مولانا محمد علی جوہر ، مولانا شوکت علی ، مولانا ظفر علی خان سر فہرست ہیں ۔ علامہ اقبال نے اپنی ولالہ انگیز شاعری کے ذریعے قوم کو خواب غفلت سے بیدار کیا ۔ پاکستان صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ؛ بلکہ کڑوروں مسلمانوں کی قربانیوں کا ثمر ہے ۔ یہ وطن پاکستان ہماری آن ،بان اور شان ہے ۔ یہاں کی فضا ،پہاڑ ، ندیاں ، دریا ، میدان اور ہر ذرے میں محبت اور قربانی کی خوشبو ہے ۔

    اسلامی نظریہ:
    پاکستان کا مطلب لا الہ الااللہ یعنی ایک ایسی ریاست ہے ؛ جہاں مسلمان اپنی زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزار سکیں ۔ یہی نظریہ پاکستان کی بنیاد ہے ۔پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اسلام ہمارا مکمل ضابطہ حیات ہے ۔

    قدرتی خوبصورتی:
    پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے ۔ یہاں کے شمالی علاقے ، کشمیر ، سوات ،گلگت ، ہنزہ اور چترال کی پہاڑیاں دنیا بھر میں مشہور ہیں ۔ یہاں چار موسم ہیں ۔ کھیتوں کی ہریالی ، دریاؤں کی روانی اور پہاڑوں کی شان و شوکت اسے مزید خوبصورت بناتی ہے ۔

    ثقافت اور روایات:
    پاکستان کی ثقافت دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ہے ۔ ہر صوبہ پنجاب ، سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ اپنی الگ الگ پہچان اور خوبصورتی رکھتا ہے ۔ پاکستانی مہمان نواز ،محبت کرنے والے اور جفاکش لوگ ہیں ۔

    افواجِ پاکستان:
    پاکستان کی افواج ہمارے ملک کا فخر اور شان ہے ۔ یہ بہادر سپاہی دن رات وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ پاک فوج نے نہ صرف دشمن کے حملوں کا دلیری سے مقابلہ کیا ؛ بلکہ ہر مشکل وقت میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ؛ پھر چاہے زلزلہ ہو ، سیلاب یا کوئی اور قدرتی آفت ہو ۔ پاکستان کی بری ، بحری اور فضائی افواج جدید ترین ہتھیاروں ، جذبہ شہادت اور بے مثال تربیت سے لیس ہے ۔ ان کی کی بدولت ہم سکون اور آزادی کی زندگی گزار رہیں ہیں ۔ پاکستان فوج دنیا کی بہترین افواج میں شامل ہے ۔ ہماری افواج نے ہر مشکل میں ملک کا دفاع کیا جس میں 1965 اور 1971 کی جنگ شامل ہے ہو ۔

    تاریخ:

    پاکستان کی تاریخ تہذیبوں اور سلطنتوں سے بھری پڑی ہے ۔ جن میں موہنجوڈارو اور ٹیکسلا کی قدیم تہذیبں شامل ہیں ۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان ایک علیحدہ مملکت کے طور پر ابھرا ۔

    پاکستانی قوم کا اتحاد و یگانگت:
    پاکستان کی اصل شان اس کے عوام کا اتحاد اور باہمی یگانگت ہے۔ جب بھی وطن پر کوئی مشکل گھڑی آئی ہے ؛ پاکستانی قوم رنگ، نسل اور زبان سے بالاتر ہو کر ایک جھنڈے تلے جمع ہو جاتی ہے۔ 1965 کی جنگ میں قوم نے شانہ بشانہ دشمن کا مقابلہ کیا، جبکہ زلزلہ 2005 اور سیلاب 2010 میں پاکستانی عوام نے ایک دوسرے کی مدد کے لیے دل کھول کر تعاون کیا۔
    یہی اتحاد نہ صرف اپنے ملک کے اندر نظر آتا ہے ؛ بلکہ بیرونی دنیا میں بھی جھلکتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ مصائب زدہ مسلمان ممالک کی مدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ فلسطین، بوسنیا، افغانستان، شام اور دیگر خطوں میں مظلوم مسلمانوں کے لیے پاکستان نے مالی امداد، طبی سہولتیں اور انسانی ہمدردی پر مبنی تعاون فراہم کیا۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی قوم نہ صرف اپنے لیے بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک مہربان دل رکھتی ہے۔

    پاکستان کے قدرتی وسائل:
    پاکستان قدرت کی بے شمار نعمتوں سے مالا مال ہے۔ یہاں زمین کے نیچے اور اوپر دونوں سطحوں پر ایسے خزانے موجود ہیں ؛ جو کسی بھی اور ملک کی ترقی اور خود کفالت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ صوبہ بلوچستان معدنی دولت میں سب سے آگے ہے ۔ یہاں پر سونا، تانبہ، کرومائیٹ، لوہا اور قیمتی پتھروں کے بڑے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ پنجاب میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی نمک کی کان کھیوڑہ واقع ہے ؛ جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی ضروریات پوری کرتی ہے۔ سندھ میں تیل اور قدرتی گیس کے وسیع ذخائر ہیں ؛ جو صنعت اور گھریلو ضرورت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

    دریائے سندھ، جہلم اور چناب جیسے بڑے دریا نہ صرف زراعت کے لیے پانی فراہم کرتے ہیں ؛ بلکہ پن بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔زرعی پیداوار کے لحاظ سے پاکستان ایک خوش نصیب ملک ہے۔ یہاں کی زرخیز زمین گندم، چاول، کپاس، گنا، کینو اور آم جیسی فصلیں پیدا کرتی ہے ؛ جو دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ مچھلی، جنگلات اور لائیو اسٹاک بھی ہمارے قدرتی وسائل میں شامل ہیں۔

    پاکستان کی سائنسی و تعلیمی کامیابیاں:
    پاکستان نے سائنسی اور تعلیمی میدان میں بھی نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے طبیعیات میں نوبل انعام حاصل کیا ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کو دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بنایا اور یہ ہماری خودمختاری کی ضمانت ہے۔ سپارکو کے ذریعے پاکستان نے خلائی تحقیق میں قدم رکھا اور مواصلاتی سیٹلائٹ خلا میں بھیجے۔ تعلیمی ادارے بھی ہزاروں ذہین طلبہ کو تیار کر رہے ہیں۔

    پاکستان ہماری پہچان، ہمارا فخر ہے ۔
    اس کی حفاظت اور ترقی کے لیے ہم سب کا اتحاد اور قربانی ہی اس کی اصل شان ہے۔

  • شانِ پاکستان .تحریر: محمد نوید عزیز ،لالہ موسی ضلع گجرات

    شانِ پاکستان .تحریر: محمد نوید عزیز ،لالہ موسی ضلع گجرات

    شانِ پاکستان
    تحریر: محمد نوید عزیز ،لالہ موسی ضلع گجرات
    "پاکستان زندہ باد!” یہ نعرہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک جذبہ، ایک عقیدہ، ایک امید ہے۔ یہ ایک ایسی سرزمین کی پہچان ہے جو قربانیوں کی بنیاد پر وجود میں آئی۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ "شانِ پاکستان” کیا ہے؟ تو میرا دل بے ساختہ کہے گا، "یہ میرے وطن کے وہ گمنام سپاہی ہیں، وہ محنتی کسان ہیں، وہ مائیں ہیں جو شہیدوں کو جنم دیتی ہیں، وہ بچے ہیں جو کتابیں سینے سے لگا کر خواب دیکھتے ہیں، اور وہ سائنسدان ہیں جو ستاروں سے آگے سوچتے ہیں۔”

    14 اگست 1947 کو جب دنیا سو رہی تھی، ایک قوم جاگ رہی تھی۔ رات کے اندھیرے میں ایک نئی صبح نے جنم لیا۔ یہ صبح صرف ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک نظریاتی فتح تھی۔ پاکستان کا قیام اس وقت ممکن ہوا جب لاکھوں مسلمانوں نے اپنا سب کچھ قربان کر کے، اس خاک کے لیے خون بہایا۔

    قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ہمیں ایک ایسا وطن ملا، جہاں مسلمان آزاد ہو کر اپنے دین، ثقافت اور تہذیب کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ یہ آزادی ہی ہماری شان ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جس کا اندازہ صرف وہی کر سکتا ہے جو غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو۔

    اگر ہم جغرافیائی لحاظ سے دیکھیں، تو پاکستان ایک جنت نظیر ملک ہے۔ شمال میں برف پوش پہاڑ، جنوب میں نیلگوں سمندر، مشرق میں زرخیز میدان اور مغرب میں پرشکوہ پہاڑ۔ یہ سرزمین ہر موسم، ہر منظر، اور ہر رنگ کا حسین امتزاج ہے۔

    کیا آپ نے کبھی سوات کی وادیوں میں بہتے چشموں کی موسیقی سنی ہے؟ کیا آپ نے سندھ کے تھر میں صحرا کے سینے پر اگتے پھول دیکھے ہیں؟ کیا آپ نے بلوچستان کے پہاڑوں میں چھپی خاموشی کو محسوس کیا ہے؟ یا پنجاب کے کھیتوں میں جھومتی فصلوں کی مہک کو سونگھا ہے؟ اگر نہیں، تو آپ نے "شانِ پاکستان” کا ایک اہم پہلو ابھی نہیں جانا۔

    پاک فوج، رینجرز، فضائیہ اور بحریہ کے وہ بہادر جوان، جنہوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ملک کا دفاع کیا — یہی تو ہیں اصل شانِ پاکستان۔ چاہے وہ 1965 کی جنگ ہو ہمارے جانباز ہمیشہ آگے بڑھے۔

    آج جب ہم پرامن راتیں سوتے ہیں، تو یہ انہی محافظوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ وطن کے یہ سپوت ہر مشکل وقت میں سرحدوں پر سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں۔ ان کی جرأت، ہمت، اور قربانی، پاکستان کی شان ہے۔

    شانِ پاکستان صرف ماضی کی عظمتوں میں نہیں چھپی بلکہ ہمارے آج کے نوجوانوں میں زندہ ہے۔ ارفع کریم، ڈاکٹر عبدالسلام جیسے عظیم افراد نے دنیا کو دکھایا کہ پاکستان صرف ایک ترقی پذیر ملک نہیں، بلکہ ایک باصلاحیت قوم ہے جو اگر موقع ملے تو دنیا کو بدل سکتی ہے۔

    پاکستان کے طلبہ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ نوجوان موبائل ایپلی کیشنز، سافٹ ویئر، اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان ہی مستقبل کی امید ہیں اور یہ امید ہی ہماری شان ہے۔

    پاکستان ایک کثیرالثقافتی ملک ہے۔ پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو، سرائیکی، اور ہزارہ وال ثقافتوں کا امتزاج، ایک ایسا گلدستہ ہے جس کی خوشبو پوری دنیا میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

    چاہے وہ سندھ کی اجرک ہو یا پنجاب کی پگ، بلوچستان کی چادر ہو یا خیبر پختونخوا کی چترالی ٹوپی۔ ہر علاقہ اپنی الگ پہچان رکھتا ہے، اور یہی تنوع ہماری اصل طاقت ہے۔

    ہمارے لوک گیت، قوالیاں، صوفی شاعری، اور ادب دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں۔ فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، بانو قدسیہ، اور عمیرہ احمد جیسے ادیبوں نے "شانِ پاکستان” کو لفظوں میں ڈھالا۔

    کبھی قدرتی آفات آئیں، کبھی دہشت گردی کا سامنا ہوا، پاکستان نے ہر بار کمر باندھی۔ 2005 کا زلزلہ ہو یا 2010 کے سیلاب، پوری قوم نے جس اتحاد و بھائی چارے کا مظاہرہ کیا، وہ شانِ پاکستان کی ایک روشن مثال ہے۔

    ہم نے اندھیرے دیکھے، دہشتگردی کے سائے سہے، لیکن کبھی ہمت نہیں ہاری۔ ہم نے لاشیں اٹھائیں لیکن حوصلہ نہیں ہارا۔ ہم نے اپنے بچوں کو شہید ہوتے دیکھا، مگر دشمن کے سامنے سر نہیں جھکایا۔

    یہی جذبہ، یہی غیرت، یہی وفا ۔ ہماری اصل شان ہے۔

    اب ہمیں صرف ماضی پر فخر نہیں کرنا، بلکہ مستقبل سنوارنا ہے۔ ہمیں ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں ہر بچہ تعلیم حاصل کرے، ہر بیٹی محفوظ ہو، ہر مزدور کو حق ملے، ہر مریض کو علاج میسر ہو، اور ہر شہری کو انصاف حاصل ہو۔

    ہمیں کرپشن کے خلاف آواز اٹھانی ہے، ناانصافیوں کو ختم کرنا ہے، اور وطن کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھنا ہے۔ یہی نئے پاکستان کا خواب ہے، اور یہی خواب ہماری شان بن سکتا ہے۔

    "شانِ پاکستان” کوئی ایک واقعہ، ایک انسان، یا ایک جگہ نہیں۔ یہ ایک احساس ہے، ایک جذبہ ہے، جو ہر پاکستانی کے دل میں دھڑکتا ہے۔ جب ہم قومی ترانہ سنتے ہیں، جب ہم پرچم کو لہراتا دیکھتے ہیں، جب ہم عالمی مقابلوں میں اپنے کھلاڑیوں کو فتح حاصل کرتے دیکھتے ہیں — تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں۔

    آئیے! ہم سب مل کر وعدہ کریں کہ ہم اپنے وطن کو دل و جان سے چاہیں گے، اس کی خدمت کریں گے، اور اپنی نسلوں کو "شانِ پاکستان” کا مطلب سکھائیں گے۔

    پاکستان زندہ باد!

  • شانِ پاکستان.تحریر:رباب گل

    شانِ پاکستان.تحریر:رباب گل

    شانِ پاکستان
    تحریر:رباب گل
    جب وطن کی بات ہو، تو ہر محبِ وطن کا دل جوشِ محبت سے لبریز ہو جاتا ہے۔ پاکستان صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ہمارے جذبات، ہمارے خواب، ہماری پہچان اور ہماری روح کی آواز ہے۔ جب ایک بچہ اس پاک سرزمین پر جنم لیتا ہے، وہ صرف ایک فردِ وطن نہیں ہوتا بلکہ ایک چراغ ہوتا ہے، جو آگے چل کر اس ملک کی روشنی بنے گا۔ اگر اسے گھر سے وطن کی محبت کا سبق ملے تو وہ چاہے ابھی دنیا کے علوم سے ناآشنا ہو، لیکن اتنا ضرور جانتا ہے کہ جب کوئی کہے "پاکستان”، تو اُس کا جواب "زندہ باد” کے نعرے سے دینا ہے۔

    پاکستان کا قومی ترانہ جب کسی محفل میں گونجتا ہے تو دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، جسم میں ایک عجب سا جوش دوڑنے لگتا ہے، آنکھیں چمکنے لگتی ہیں اور سینہ فخر سے تن جاتا ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو سرحدوں سے باہر رہنے والے پاکستانیوں کے دلوں میں بھی ویسے ہی بیدار ہوتا ہے، جیسے وہ وطن کی مٹی میں سانس لے رہے ہوں۔ یہ مٹی اتنی پیاری ہے کہ پردیس کی چمک دمک بھی اس کے مقابلے میں ماند پڑ جاتی ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قدرتی وسائل کی وہ دولت عطا کی ہے، جس پر دنیا رشک کرتی ہے۔ یہاں کے میدان ہوں یا پہاڑ، سمندر ہو یا صحرا، دریا ہو یا سونا اگلتی زمین ہر منظر قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ ایسی زمین جو گندم، چاول، مکئی، کپاس، گنا، سبزیاں اور لذیذ پھلوں سے بھری پڑی ہے۔

    یہی نہیں، یہاں کی معدنیات، قدرتی گیس اور توانائی کے ذخائر دنیا کے لیے حیرت کا باعث ہیں اس خطے کو رب العالمین نے ان نعمتوں سے نوازا ہے کہ دنیا رشک کرتی ہے، جو ہمارے پاس قدرتی طور پہ موجود ہے سارے یورپین ممالک اس طرح کی مصنوعی سجاوٹیں بنا کر دنیا کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔

    مالکِ کریم نے پاکستان کی سر زمین اس قدر خوبصورت بنائی کہ یہاں کونسی نعمت جو نہیں ہے سمندر ،دریا ، معدنیات ، پہاڑ ، صحرا اور سونا اگلتی زمین سے نوازا ہے کوئی ایسی فصل نہیں جو یہاں نہیں ہوتی گندم ، باجرہ ، مکئی ، گنا ، کپاس ہر طرح کی سبزیاں اور پھل یہاں اس زمین پہ اگتے ہیں ۔ دوسرے ممالک ہمارے ملک سے اشیاء فروخت کرتے درآمدات برآمدات کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے اور اس طرح ملکی معیشت بھی بہتر رہتی ہے اور دوستانہ تعلقات بھی بحال رہتے ہیں ۔۔

    پاکستان کی معیشت کا پہیہ بھی اسی زرخیز زمین اور محنتی عوام کے باعث رواں دواں ہے۔ درآمدات و برآمدات کے ذریعے ہم نہ صرف دنیا سے روابط استوار کرتے ہیں بلکہ اپنے اقتصادی ڈھانچے کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک سے ہمارے دوستانہ تعلقات ہیں، جن میں سب سے نمایاں چین ہے جس کی دوستی آزمائشوں کے ہر لمحے میں ہمارے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔

    پاکستان کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی۔ یہی ہماری اصل پہچان ہے۔ جب کوئی پوچھتا ہے کہ "پاکستان کا مطلب کیا ہے؟” تو ہم سینہ تان کر، فخر سے کہتے ہیں:
    "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ”۔

    یہی کلمہ ہماری رگوں میں لہو بن کر دوڑتا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں ہر مذہب، ہر قوم، ہر رنگ اور ہر نسل کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ مسلمانوں کی مساجد، ہندوؤں کے مندر، عیسائیوں کے گرجا گھر اور سکھوں کے گردوارے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ پاکستان میں ہر فرد کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ یہ وسعتِ قلبی اور رواداری شاید ہی کسی اور ملک میں دیکھنے کو ملے۔

    پاکستان چار خوبصورت صوبوں پر مشتمل ہے اور ہر صوبہ اپنی ثقافت، زبان، لباس، رسم و رواج اور قدرتی تحائف کے باعث پہچانا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ مہمان نواز، محبت کرنے والے اور باہمی احترام کے جذبے سے سرشار ہیں۔ پاکستان وہ خوش نصیب ملک ہے جسے چار حسین موسم عطا ہوئے ہیں، ہر موسم اپنے ساتھ رنگ، خوشبو اور ذائقے کی ایک نئی دنیا لے کر آتا ہے۔

    یہ وطن بڑی قربانیوں سے حاصل ہوا۔ ماؤں نے اپنے لختِ جگر قربان کیے، بہنوں نے اپنے بھائیوں کو شہادت کے لیے رخصت کیا اور جوانوں نے اپنے خون سے اس پاک پرچم کی لاج رکھی۔ 14 اگست 1947 صرف ایک تاریخ نہیں، یہ ایک خواب کی تعبیر ہے، ایک نئی صبح کی امید ہے، جو قربانیوں کی سرخی سے روشن ہوئی۔

    اس وطن عزیز کے لیے کئی ماؤں نے اپنے لخت جگر قربان کیے، کئی بچے یتم ہوئے اور یہ سر زمین 14 اگست 1947 کو مسلمانوں کے حصے میں آئی ۔لوگ رشک کرتے ہیں اس سر زمین پہ کے جنت کے خطوں میں سے ایک خطہ ہے یہ ملک کشمیر کی وادیوں اور حسین مناظر سے مالا مال یہ ملک اور اس اس ملک سے محبت کرنے والے لوگ پاکستانی پرچم کے سائے تلے ایک مٹھی ہیں کی مانند ہیں ۔۔

    پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین افواج میں سے ہے، جو وطن کی حفاظت کے لیے ہر پل تیار رہتی ہے۔ جب بھی دشمن نے میلی آنکھ اٹھائی، ہمارے بہادر سپاہیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اس سرزمین کو بچایا۔ ہماری فوج صرف ہتھیاروں سے نہیں، ایمان، قربانی اور غیرت سے لیس ہے۔

    پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور یہی طاقت دشمن کو حملے سے پہلے کئی بار سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ چاہے ہم میں اختلافات ہوں، لیکن جب بات پاکستان کی عزت اور سالمیت کی ہو، تو ہم سب ایک پرچم تلے، ایک قوم بن جاتے ہیں۔ 1965ء کی جنگ اس اتحاد اور حب الوطنی کی روشن مثال ہے، جب بچے، جوان، بوڑھے سب وطن کے لیے یکجان ہو گئے۔

    ہمیں اپنے پاکستان پر فخر ہے اور ہم دعا گو ہیں کہ رب العالمین اس وطن کو ہمیشہ سلامت رکھے، ترقی دے اور ہم سب کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کی توفیق دے۔

    اللّٰہ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین، ثم آمین۔

  • شان  پاکستان . تحریر:سیدہ فاطمہ

    شان پاکستان . تحریر:سیدہ فاطمہ

    شان پاکستان
    تحریر:سیدہ فاطمہ
    اللّٰہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک نعمت ہمارا ملک پاکستان ہےجو ہمارے بانی قائد اعظم محمد علی جناح اور لاکھوں مسلمانوں کی جان و مال کی قربانیاں دینے کے بعد حاصل ہوا ۔ شاعر مشرق علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر ہے۔

    اللّٰہ تعالیٰ نے ہمارے ملک پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ۔پاکستان ہمارا ملک بہت ساری خوبصورتیوں سے مالا مال ہے۔ قومی زبان ، قومی ترانہ ، عظمت ، وقار ، تاریخ ثقافت ، قدرتی حسن ، قدرتی خزانے،مساجد ،پاکستان میں کئی تاریخی اور خوبصورت مساجد ہیں جو اس کی اسلامی شناخت کو ظاہر کرتی ہیں ۔

    پاکستان کی سرزمین پر کئی عظیم تہذیبوں نے جنم لیا ،جن میں وادی سندھ کی تہذیب بھی شامل ہے۔پاکستان کی معیشت زراعت ،صنعت اور خدمات پر مشتمل ہے۔سیاست ، پاکستان ایک جمہوری ریاست ہےاور اس کا نظام حکومت پارلیمانی ہے ۔

    پائیدار ترقی کے لیے امن کی ضرورت ہے ـ غربت کا خاتمہ ، بھوک کا خاتمہ ، بہتر صحت ، آسودہ زندگی ، معیاری تعلیم ، صنعتی مساوات ، صاف پانی اور صفائی ، باکفایت اور صاف توانائی ، معقول روزگار اور معاشی نمو ، پائیدار شہر اور آبادیاں ، ذمہ دارانہ تصرف اور پائیدار ، صنعت جدت پسندی اور انفراسٹرکچر ، عدم مساوات میں کمی ، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقدام ، زیر آب حیات ،زمین پر زندگی ، امن ، انصاف اور مضبوط ادارے ، مقاصد کے لیے شراکت داری ۔

    ان تمام شرائط پر عمل کرنے کے بعد ہی پائیدار ترقی کے لیے امن کی ضرورت مکمل ہو سکتی ہے۔امن کے لیے قوم میں اتحاد اور یکجہتی قائم کرنے کے بعد ہی ملک پاکستان میں پائیدار ترقی ہو سکتی ہےـ!

    قدرتی حسن ، پاکستان میں ہمالیہ ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلے ، سرسبز و شاداب وادیاں ، صحرا اور ساحل سمندر جیسی متنوع قدرتی خزانے خوبصورتیاں پائی جاتی ہیں۔پاکستان کی ثقافت بہت امیر اور متنوع ہے، جس میں مختلف زبانیں ، روایات اور فنون لطیفہ شامل ہیں ۔پاکستانی عوام محنتی ، مہمان نواز اور بہادر سمجھے جاتے ہیں ۔

    ہمارا پرچم ملک پاکستان کی شان ہے۔ ہم سب پاکستانی قوم جشنِ آزادی جوش و خروش سے مناتے ہیں ۔ اپنے گھر ، سکولوں ، گلیوں کو سجاتے ہیں ۔ کپڑے بناتے ہیں اور اسٹیکرز بھی خریدتے ہیں ۔

    ہمیں اپنے وطن سے محبت کرنے کے لیے خدمات انجام دینی چاہیے ۔ امن ، اتحاد ، بھائی چارہ قائم کرنے کے بعد ہی ہمیں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے ۔!
    پاکستان کا مطلب کیا ؟لا الہ الااللہ

    پہلے ہمیں پاکستان کا مقصد سمجھنا چاہیے ۔ ہمارا ایمان ، عقیدہ درست ہونا چاہیے تاکہ آزاد ملک پاکستان کی حفاظت ، خدمات ایمانداری سے انجام دیں ۔ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔ معاشرتی ، اقتصادی اور سماجی نظام قائم کرنا ضروری ہے ۔ تعلیمی اداروں کا نظام اعلیٰ ہونا چاہیے تاکہ تعلیم ہر فرد کا حق ادا ہو جائے ۔ شہری کو انصاف ملے ، غربت کا خاتمہ ہو، کوئی بھوکا ، پیاسا نہ سوئے ۔ ہر فرد کی انفرادی اور اجتماعی آزادی ، عزت نفس ،حقوق اور انصاف کی فراہمی سے جڑی ہوتی ہے ۔

    ہماری پاکستانی افواج ہمارے ملک پاکستان کی شان ہے ۔

    معاشرے میں انسان کی شخصیت کی پہچان اس کے اچھے اخلاق سے نمایاں ہوتی ہے ۔ انسان کی شخصیت ہی اس کے کردار کا آئینہ ہوتی ہےـ!

    ایک خوبصورت معاشرہ کامیاب ہونے کے لیے ہمیں اچھی تعلیم و تربیت کے ساتھ گھر کے ماحول میں آپس کے تعلقات کو نرم لہجے اور صبر وتحمل کے ساتھ سب کو برداشت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔!

    جب ہمارا ہر کام اللّٰہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ہو جائے گا تو دنیا آخرت میں کامیابی حاصل ہو جائے گی ـ
    "پیارے نبی محمد ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے ۔!”ہمیں بھی سیرتِ مبارکہ سے سبق حاصل کرنا چاہیے ۔

    ایک خوبصورت معاشرہ کامیاب ہونے کے لیے ہمیں اچھی تعلیم و تربیت کے ساتھ گھر کے ماحول میں آپس کے تعلقات کو نرم لہجے اور صبر وتحمل کے ساتھ سب کو برداشت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔!

    پاکستان کی معیشت زراعت ، صنعت اور خدمات پر مشتمل ہے۔ 14اگست ہمیں یاد دلاتا کہ یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا ۔
    دلانے کا دن ہے بلکہ یہ بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ ابھی ہمیں بہت کچھ کرنا باقی ہےـ آ زادی کی حفاظت اور اس کے ثمرات کو ہر شہری تک پہنچانے کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے ـ

    ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے ملک کے درپیش مسائل کا سامنا کریں گے اور اسے حقیقی معنوں میں آزاد اور خوشحال بنائیں گے ـ صرف اسی صورت میں ہم اپنے اسلاف کے خواب کو پورا کر سکیں گے اور 14اگست کو ایک حقیقی آزادی
    کا دن قرار دے سکیں گے ـ کیونکہ آزادی محض ایک لفظ تاریخ کا حصہ نہیں ، بلکہ یہ ایک مسلسل سفر ہے جس کا مقصد ہر شہری کو آ زادی اور انصاف فراہم کرتا ہے ۔ 14اگست ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا ہمیں اپنی تمام تر کوششیں اس مقصد کے حصول کے لیے وقف کرنی ہیں ـ!

    ہمارے اسلاف نے جو خواب دیکھا تھا وہ ایک فلاحی ریاست کا تھا جہاں ہر شہری کو انصاف ملے ، جہاں کوئی بھوکا پیاسا نہ سوئے ، جہاں تعلیم ہر فرد کا حق ہو اور جہاں قانون کی حکمرانی ہوـ لیکن آ ج ہمیں خود احتسابی کرنی چاہیے کہ ہم اس خواب کی کتنی تکمیل کر پائے ہیں۔ 14 اگست کا دن ہمیں ہر سال ملک پاکستان کی آ زادی یاد دلاتا ہے۔

    ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے ملک کے درپیش مسائل کا سامنا کریں گے اور اسے حقیقی معنوں میں آزاد اور خوشحال بنائیں گے ۔ صرف اسی صورت میں ہم اپنے اسلاف کے خواب کو پورا کر سکیں گے اور 14 اگست کو ایک حقیقی آزادی کا دن قرار دے سکیں گے ۔

    آزادی محض ایک لفظ تاریخ کا حصہ نہیں ، بلکہ یہ ایک مسلسل سفر ہے۔!

  • شانِ پاکستان. تحریر: جواد اکبر

    شانِ پاکستان. تحریر: جواد اکبر

    شانِ پاکستان
    تحریر: جواد اکبر
    دنیا میں ہر قوم کی ایک پہچان، ایک وقار اور ایک منفرد شان ہوتی ہے۔ یہ شان کسی فرد، کسی علامت یا کسی نظریے سے جنم لیتی ہے، جو قوم کے اجتماعی شعور، تاریخ، ثقافت، قربانیوں اور کامیابیوں کا عکاس ہوتی ہے۔ جب ہم پاکستان کی بات کرتے ہیں تو ہمارے پیشِ نظر صرف ایک جغرافیہ نہیں ہوتا بلکہ ایک خواب، ایک جدوجہد، ایک نظریہ اور ایک عظیم حقیقت ہوتی ہے جس نے لاکھوں قربانیوں کی بدولت جنم لیا۔ پاکستان کا قیام محض زمینی حدود کی تشکیل نہیں تھا، بلکہ یہ ایک نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ یہ نظریہ "لا الہ الا اللہ” کے گرد گھومتا ہے، جو مسلمانوں کو ایک الگ شناخت، ثقافت، عبادات اور طرزِ زندگی کے ساتھ زندہ رہنے کا حق دیتا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ اقبالؒ جیسے باوقار رہنماوں کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک الگ وطن کے لیے عظیم قربانیاں دیں۔ یہ وطن صرف ایک پناہ گاہ نہیں، بلکہ اسلامی اقدار، عدل، مساوات، حریتِ فکر اور معاشرتی انصاف کی علامت کے طور پر قائم ہوا۔

    شانِ پاکستان کی سب سے بڑی بنیاد وہ قربانیاں ہیں جن پر اس مملکتِ خداداد کی عمارت کھڑی ہے۔ تحریکِ پاکستان کے دوران لاکھوں مسلمان شہید ہوئے، ہزاروں خواتین کی عصمتیں پامال ہوئیں، کروڑوں افراد نے ہجرت کی، اپنے گھربار، زمینیں، مال و دولت سب کچھ قربان کر دیا، صرف اس لیے کہ وہ آزاد فضاؤں میں اپنے دین، اپنی تہذیب اور اپنی اقدار کے ساتھ زندہ رہ سکیں۔ یہ قربانیاں ہی ہیں جو پاکستان کو شان عطا کرتی ہیں۔ ہر سال 14 اگست کو جب ہم یومِ آزادی مناتے ہیں تو ہمیں ان شہیدوں، مہاجروں اور بزرگوں کو یاد کرنا چاہیے جن کی قربانیوں کے بغیر ہم آج آزاد نہیں ہوتے۔

    پاکستان کی شان کو بلند رکھنے میں افواجِ پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے۔ دشمن کی جارحیت ہو، دہشت گردی کا ناسور ہو یا قدرتی آفات، ہماری بہادر افواج ہر محاذ پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہوتی ہیں۔ کارگل، سیاچن، 1965 اور 1971 کی جنگیں ہوں یا اندرونی خطرات، افواجِ پاکستان نے ہمیشہ ملک کا دفاع کیا اور قومی سلامتی کو یقینی بنایا۔ یہ نہ صرف جنگی مہارت میں ماہر ہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں بھی ان کی خدمات دنیا بھر میں تسلیم کی جاتی ہیں، جو ہماری قومی عزت اور شان کا روشن پہلو ہے۔

    پاکستان کے سائنسدانوں، ماہرینِ تعلیم، محققین اور انجینئرز نے بھی ملک کی شان میں اضافہ کیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام، جو نوبل انعام یافتہ ہیں، اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، اس ملک کی علمی شان کے درخشندہ ستارے ہیں۔ پاکستان نے 1998 میں ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہم نہ صرف امن پسند قوم ہیں بلکہ اپنے دفاع سے غافل بھی نہیں۔

    یہ شان صرف دفاعی یا سائنسی طاقت سے نہیں بلکہ پاکستان کی تہذیب و ثقافت، ادب و شعر، موسیقی و مصوری اور دستکاری و روایت سے بھی جھلکتی ہے۔ علامہ اقبال، فیض احمد فیض، احمد فراز، بانو قدسیہ، اشفاق احمد، اور عمیرہ احمد جیسے ادیب اور شاعر قوم کی فکری و روحانی پہچان ہیں، جبکہ صوفیاء کرام کی تعلیمات نے پاکستان کی روحانی بنیادوں کو تقویت دی ہے۔ لوک موسیقی، قوالی، کلاسیکی رقص، ٹرک آرٹ، اور مختلف لسانی و علاقائی ثقافتیں دنیا بھر میں ہماری تہذیبی شناخت بن چکی ہیں۔

    پاکستان کی سرزمین اللّہ تعالیٰ کی بے پناہ نعمتوں سے مالا مال ہے۔ شمالی علاقے، وادی ہنزہ، سوات، گلگت بلتستان، کشمیر، چترال اور مری کو دیکھ کر انسان قدرت کی صناعی پر عش عش کر اٹھتا ہے۔ بحرِ عرب سے لے کر قراقرم تک پھیلا یہ ملک موسم، معدنیات، زراعت اور سیاحت کے وسائل سے مالا مال ہے۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو، جھیل سیف الملوک، وادی کاغان اور صحرائے چولستان جیسے مقامات نہ صرف پاکستان کی شان ہیں بلکہ سیاحتی دنیا کے خزانوں میں شمار ہوتے ہیں۔

    اس شان کو قائم رکھنے میں سب سے اہم کردار نوجوان نسل کا ہے۔ پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے جو قوم کی اصل طاقت ہیں۔ آج کے نوجوان تعلیم، ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل میڈیا، کاروبار اور فنونِ لطیفہ میں عالمی سطح پر اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ ارفع کریم، ملالہ یوسفزئی، علی معین نوازش، ہارون طارق اور دیگر کئی نوجوان عالمی سطح پر پاکستان کا پرچم بلند کر چکے ہیں۔

    پاکستانی قوم کا ایک اور روشن پہلو ان کی انسان دوستی، ہمدردی اور جذبۂ خدمت ہے۔ قدرتی آفات، سیلاب یا زلزلے ہوں یا کوئی اور بحران، پاکستانی قوم ہمیشہ ایک جسم کی طرح متحد ہو کر ایک دوسرے کی مدد کرتی ہے۔ ایدھی، چھیپا، سیلانی، الخدمت اور دیگر کئی ادارے دنیا کے سب سے بڑے فلاحی اداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ پاکستان وہ ملک ہے جس کی شان دراصل ہماری تاریخ، ہمارے نظریے، ہماری قربانیوں، ہماری افواج، ہمارے علما و دانشوروں، ہماری ثقافت، ہماری صلاحیتوں اور ہمارے جذبے کا مجموعہ ہے۔

    اگر ہمیں واقعی "پاکستانی” ہونے پر فخر ہے تو ہمیں ہر شعبۂ زندگی میں دیانت، اخلاص، محنت اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اپنے قائدین کے سنہرے اصولوں پر چل کر ہم پاکستان کو ایک باوقار، باعزت، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنا سکتے ہیں، کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں، اور پاکستان کی شان ہی ہماری پہچان ہے۔

  • شانِ پاکستان . صرف نعرہ نہیں، ایک ذمہ داری ہے.تحریر: فیضان شیخ

    شانِ پاکستان . صرف نعرہ نہیں، ایک ذمہ داری ہے.تحریر: فیضان شیخ

    شانِ پاکستان . صرف نعرہ نہیں، ایک ذمہ داری ہے
    تحریر: فیضان شیخ
    ملک صرف زمین کے ٹکڑے نہیں ہوتے۔ بعض اوقات وہ خواب ہوتے ہیں — خون سے سینچے گئے، قربانیوں سے بوئے گئے، اور امیدوں سے اگائے گئے۔ پاکستان بھی ایک ایسا ہی خواب ہے۔ ایک نظریے کا خواب، ایک وعدے کی تعبیر، ایک عقیدے کی زمین۔

    مگر سوال یہ ہے:
    کیا ہم اس خواب کے حقیقی وارث ہیں یا صرف اس کے نعرہ باز؟
    کیا "شانِ پاکستان” ایک احساس ہے، یا محض ایک نعرہ؟
    کیا ہم واقعی جانتے ہیں کہ اس دو لفظی نعرے میں کتنا گہرا مفہوم پوشیدہ ہے؟

    یہ تحریر کسی نعرے کا پرچار نہیں، بلکہ ایک سوال ہے۔ ایک صدا ہے۔ ایک آئینہ ہے — جو ہر پاکستانی کو اپنا چہرہ دکھانا چاہتا ہے۔ ایسا چہرہ جو کبھی جذبے سے روشن تھا، مگر آج مصلحتوں، مایوسیوں اور مفادات کی دھند میں گم ہو چکا ہے۔

    پاکستان کی "شان” صرف اس کے ترانے، پرچم یا تقریبات میں نہیں، بلکہ اس کی روحانی، فکری، اور اخلاقی بنیادوں میں ہے۔ ان خوابوں میں ہے جو ایک کسان نے اپنے کھیت میں کاٹے، ان دعاؤں میں ہے جو ایک ماں نے اپنے بیٹے کی شہادت کے بعد آنکھوں میں چھپا لیں، ان سسکیوں میں ہے جو شہداء کی بیواؤں نے رات کی تنہائی میں اپنے بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے روکی تھیں۔

    وہ ماں، جو بیٹے کے خون میں بھی صبر کے آنسو بہاتی ہے — شانِ پاکستان ہے۔
    وہ مزدور، جو پسینہ بہا کر دیانتداری سے نوالہ کماتا ہے — شانِ پاکستان ہے۔
    وہ معلم، جو تنخواہ کی پروا کیے بغیر نسلوں کو سنوارتا ہے — شانِ پاکستان ہے۔
    اور وہ نوجوان، جو بیرونِ ملک جا کر محض کامیاب ہی نہیں ہوتا، بلکہ پاکستان کا وقار بھی بلند کرتا ہے — یہی پاکستان کی اصل شان ہے۔

    لیکن افسوس، آج ہم نے اس "شان” کو صرف تصویروں، بینروں، اور میڈیا کے نعروں تک محدود کر دیا ہے۔ ہم نے عمل کو الفاظ کی جگہ دے دی، اور نظریے کو مفاد سے بدل دیا۔ ہم جشنِ آزادی مناتے ہیں، مگر آزادی کی روح کو بھلا بیٹھے ہیں۔

    اگر قانون صرف غریب پر لاگو ہو،
    اگر انصاف طاقت کے قدموں میں جھک جائے،
    اگر تعلیم کاروبار بن جائے،
    اور اگر سیاست ذاتی مفادات کی غلام ہو جائے —
    تو پھر قومیں صرف وجود رکھتی ہیں، وقار نہیں۔

    ہم نے اپنے قومی ہیروز کو نصاب کی کتابوں تک محدود کر دیا ہے۔ ان کے کردار کو اپنانے کے بجائے صرف ان کی تصویریں لگاتے ہیں۔ ہم قائداعظم کے اقوال پڑھتے ہیں مگر ان پر عمل نہیں کرتے۔ علامہ اقبال کے خوابوں کو اشعار کی صورت میں سنبھال رکھا ہے، مگر ان کی روح کو اپنے نظام سے نکال چکے ہیں۔

    شانِ پاکستان وہ وقت تھا جب ایک بے سروسامان قوم نے دنیا کی سب سے بڑی ہجرت برداشت کی۔ وہ وقت تھا جب لکڑی کی چارپائیوں پر لیڈر بیٹھتے تھے اور راتوں کو چراغوں کی روشنی میں فیصلے ہوتے تھے۔ آج وہی ملک کروڑوں کے فرنیچر، اربوں کی گاڑیوں، اور کھربوں کے وعدوں میں الجھ کر اپنی اصل کو بھول چکا ہے۔

    ہمیں ہر سطح پر یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہمارا کردار اس شان کے لائق ہے؟
    کیا ایک دکاندار ایمانداری سے تولتا ہے؟
    کیا ایک استاد اپنی ذمہ داری سمجھ کر پڑھاتا ہے؟
    کیا ایک عالم لوگوں میں اخلاق بانٹتا ہے، نفرت نہیں؟
    کیا ایک سیاستدان عوام کی خدمت کو ترجیح دیتا ہے، اقتدار کو نہیں؟

    تلہ گنگ کی پنجابی میں ایک پرانی کہاوت ہے:
    "اے داند کہڑا، جیڑا میلہ کراہ وچ نہ کھلووے؟”
    یعنی وہ بیل کیا بیل، جو اصل وقت میلہ کروائے بغیر صرف ڈیرے میں شوخی دکھاتا پھرے؟

    آج ہم سب وہی بیل ہیں — صرف ڈیرے میں شوخی دکھانے والے! ہم صرف تقاریب، بینرز، اور سوشل میڈیا پر چمک دکھاتے ہیں۔
    جب اصل میدانِ عمل آتا ہے — تو یا ہم خاموش ہو جاتے ہیں، یا پسپائی اختیار کرتے ہیں۔

    قوموں کی عظمت صرف ان کے ہتھیاروں سے نہیں، ان کے نظریات سے ہوتی ہے۔
    ہم ایٹمی طاقت ضرور ہیں، مگر کیا ہم اخلاقی قوت بھی ہیں؟
    کیا ہم سچ برداشت کر سکتے ہیں؟
    کیا ہم اپنی غلطی تسلیم کر سکتے ہیں؟
    کیا ہم اصلاح کے لیے قدم بڑھا سکتے ہیں؟

    پاکستان کی اصل شان اس کے ادارے ہیں —
    آزاد عدلیہ، باوقار پارلیمان، بااخلاق میڈیا، اور جواب دہ بیوروکریسی۔
    اگر یہ سب کمزور ہو جائیں، تو جھنڈے کا سایہ لمبا ضرور ہوتا ہے، مگر سایہ کبھی ستون نہیں بنتا۔

    "شانِ پاکستان” ہر اس فرد سے شروع ہوتی ہے جو ایمانداری، دیانت، سچائی اور محنت کو اپنا شعار بناتا ہے۔
    وہ شہری جو قطار میں کھڑا ہونا سیکھتا ہے،
    وہ طالبعلم جو نقل نہیں کرتا،
    وہ اہلکار جو رشوت کو حرام سمجھتا ہے،
    اور وہ رہنما جو اقتدار کو امانت مانتا ہے — یہی وہ لوگ ہیں جو شانِ پاکستان کو زندہ رکھتے ہیں۔

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان صرف ایک شناختی کارڈ پر لکھا ہوا نام نہیں، یہ ایک طرزِ زندگی ہے۔
    ایک نظریہ، جو ہر قدم، ہر فیصلے، اور ہر سانس میں جھلکنا چاہیے۔
    ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا:
    کیا ہم پاکستان کو صرف سوالوں کی زد میں رکھنا چاہتے ہیں؟
    یا ہم خود کو اس کا جواب بنانے پر تیار ہیں؟

    پاکستان کسی ایک قوم، زبان، یا علاقے کا نام نہیں — یہ ایک اجتماعی خواب ہے۔
    ایک ایسی تعبیر، جو ہر پاکستانی کے خلوص، قربانی، اور دیانت سے جُڑی ہے۔

    یاد رکھیں، یہ تحریر کوئی قصیدہ نہیں۔
    یہ تعریف کا ترانہ نہیں۔
    یہ تلخ سچ کی روشنی ہے، جو اندھیرے میں جلنے کی کوشش کر رہی ہے۔
    یہ ہم سب کے لیے دعوتِ فکر ہے —
    کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ "شانِ پاکستان” صرف ایک خواب بن جائے…
    اور ہم صرف خواب دیکھتے رہ جائیں۔