Baaghi TV

Category: بلاگ

  • "انسان واپس لوٹ سکتا ہے؟ ” تحریر: عائشہ اسحاق

    "انسان واپس لوٹ سکتا ہے؟ ” تحریر: عائشہ اسحاق

    بسنت جیسے خونی تہوار کی اجازت اقتدار میں بیٹھی ہوئی عورت نے دے کر فضا میں موت کے پروانے آزاد کر دیے۔ چھتوں پر اڑتی پتنگیں ،،سڑکوں پر چلنے والوں کی موت کا سامان ھیں میڈیا پر بسنت کے جشن اور اس خونی تہوار کے نام پر کاروباری سطح پراربوں کے منافع اور دیگر تعریفوں کے پل باندھے جا رہے ہیں مگر تمام چینلز اور میڈیا پتنگ بازی کے باعث کئی زخمی اور مرنے والے بے زبان معصوم پرندوں ، چھت سے گر کر ، کرنٹ لگنے سے اور گلے پر ڈور پھرنے سے ہلاک اور زخمی ہونے والے انسانوں کے متعلق بات کرنے سے قاصر ہیں۔ کیا اربوں روپے کسی مرنے والے ایک بھی شخص کو واپس لا سکتے ہیں؟

    کیا پتنگ بازی کا شوق انسانی جان سے زیادہ اہم ہے؟ڈور کی صورت فضا میں موت کا رقص کوئی تہوار یا جشن کہلا سکتا ہے؟ انسانی جانیں گنوا کر پیسہ کمانا منافع کہلا سکتا ہے؟ اقتدار میں بیٹھا ٹولہ ان متاثرین کے درد کا مداوا کر سکتا ہے؟ افسوس ہے ایسی بے حسی پر اور ایسی غافل غلام عوام پر جو اپنے حقوق کے بارے میں سوال نہیں اٹھا سکتے وہ ایسے تماشوں پر تین روز تک ناچتے رہے۔ یاد رکھیں ڈور سے مرنے والوں کے قاتلوں میں اپ سبھی شامل ہیں۔

  • اردو، اقتدار کی زبان اور عوامی محرومی،تحریر:اخلاق حیدرآبادی

    اردو، اقتدار کی زبان اور عوامی محرومی،تحریر:اخلاق حیدرآبادی

    اخلاق حیدرآبادی ،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو ،رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی فیصل آباد کیمپس ،رکن مرکزی مجلس عاملہ۔ پاکستان رائٹرز گلڈ (ادارہ مصنفین پاکستان)

    اردو اس خطے کی تہذیبی روح اور عوامی اظہار کی سب سے توانا علامت رہی ہے مگر اقتدار کے ایوانوں میں اس کی حیثیت بتدریج کمزور ہوتی چلی گئی ہے۔ ریاستی نظام میں رائج لسانی ترجیحات نے عام شہری اور اقتدار کے مراکز کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر دی ہے۔ جب حکمرانی اور فیصلے عوام کی فہم سے باہر زبان میں کیے جائیں تو محرومی اور بیگانگی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ یہ لسانی ناانصافی صرف زبان کا مسئلہ نہیں بل کہ سماجی مساوات اور شہری حقوق سے جڑا ہوا ایک سنگین معاملہ ہے۔ زیر نظر تجزیہ اسی المیے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے تاکہ زبان اور اقتدار کے اس نابرابر رشتے کو سمجھا جا سکے۔

    آئینی حیثیت کے باوجود اردو کی نظراندازی: قومی زبان اور عملی تضاد
    (آئینِ پاکستان، عدالتی فیصلے اور سرکاری وعدے بمقابلہ عملی صورتِ حال)
    آئینِ پاکستان اردو کو قومی زبان کا درجہ دیتا ہے اور واضح طور پر یہ تقاضا کرتا ہے کہ ریاستی امور، سرکاری مراسلت اور عدالتی کارروائیاں اسی زبان میں انجام پائیں مگر عملی سطح پر یہ آئینی شق محض کاغذی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ سرکاری دفاتر میں فائلوں کی زبان، قوانین کے مسودے، احکامات اور نوٹیفکیشنز ایسی زبان میں مرتب کیے جاتے ہیں جو عام شہری کی فہم سے بالاتر ہے۔ اس صورتِ حال میں قومی زبان کا حق تسلیم کیے جانے کے باوجود اس سے مسلسل انحراف ایک واضح تضاد کو جنم دیتا ہے۔ عوام جنھوں نے ریاست کو وجود بخشا، وہی اپنے ہی ملک میں سرکاری زبان کے ذریعے اجنبی بنا دیے گئے ہیں۔ آئین کا مقصد یہ تھا کہ زبان کے ذریعے ریاست اور عوام کے درمیان قربت پیدا ہو مگر موجودہ طرزِ عمل نے اس رشتے کو کمزور کر دیا ہے۔ اردو کی نظراندازی صرف ایک لسانی مسئلہ نہیں بل کہ یہ شہری حقوق کی پامالی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ جب قانون، فیصلہ اور ہدایت عوام کی زبان میں نہ ہوں تو وہ ان کے لیے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ آئینی وعدے محض رسمی ہیں اور ان پر عمل درآمد ریاست کی ترجیح نہیں۔ قومی زبان کو نظر انداز کرنا دراصل قومی شناخت سے روگردانی کے مترادف ہے۔ یہ رویہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر آئین کی بنیادی شقوں پر ہی عمل نہ ہو تو عوام کا ریاستی نظام پر اعتماد کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔ اردو کے ساتھ یہ سوتیلا سلوک معاشرتی ناہمواری کو بڑھاتا ہے اور شہریوں کو فیصلہ سازی کے عمل سے دور کر دیتا ہے۔ اس تضاد کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب آئین کو محض ایک دستاویز نہیں بل کہ عملی رہنما سمجھا جائے اور قومی زبان کو واقعی اس کا جائز مقام دیا جائے۔

    انگریزی بطور طاقت کی زبان: طبقاتی تفریق اور عوامی بیگانگی
    (زبان کا استعمال بطور اقتدار، اشرافیہ اور عام شہری کے درمیان فاصلہ)
    یہ موضوع محض لسانی بحث نہیں بل کہ طاقت، اختیار اور سماجی درجہ بندی کا گہرا مسئلہ ہے۔ انگریزی بطور طاقت کی زبان دراصل ایک ایسے نظام کی علامت بن چکی ہے جس میں علم، مواقع اور اختیار چند مخصوص طبقات تک محدود ہو جاتے ہیں جب کہ عوام کی اکثریت خود کو اس دائرے سے باہر محسوس کرتی ہے۔ یہ زبان رفتہ رفتہ علمی برتری، ذہانت اور قابلیت کا پیمانہ قرار دے دی گئی ہے جس کے نتیجے میں مقامی زبانوں سے وابستہ افراد کمتر، غیر متعلق اور پس ماندہ سمجھے جانے لگتے ہیں۔ تعلیمی اداروں، دفتری نظام اور ریاستی بیانیے میں اسی زبان کی بالادستی طبقاتی تفریق کو مزید گہرا کرتی ہے کیوں کہ جسے اس زبان پر عبور حاصل نہیں وہ فیصلہ سازی، اظہارِ رائے اور سماجی ترقی کے عمل سے عملاً خارج ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں زبان محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہتی بل کہ ایک ایسا ہتھیار بن جاتی ہے جو عوام کو ان کی اپنی ثقافت، فکری روایت اور اجتماعی شعور سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ یوں معاشرہ دو واضح حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ایک وہ جو زبان کے ذریعے طاقت سے جڑا ہے اور دوسرا وہ جو اسی زبان کے باعث خود کو اجنبی، خاموش اور بے اختیار محسوس کرتا ہے۔ اگر زبان کو علم اور شعور کی ترسیل کے بجائے سماجی امتیاز کا ذریعہ بنا دیا جائے تو یہ عمل نہ صرف عوامی بیگانگی کو جنم دیتا ہے بل کہ فکری انصاف اور ثقافتی توازن کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔

    عدالتی زبان اور انصاف تک رسائی: فہم کی رکاوٹ یا انصاف کی نفی؟
    (انگریزی عدالتی اصطلاحات، عام سائل کی مجبوری اور انصاف میں تاخیر)
    عدالتی زبان اور انصاف تک رسائی کا مسئلہ دراصل عام شہری اور ریاستی نظام کے درمیان فاصلے کی علامت ہے، جہاں پیچیدہ، اجنبی اور غیر مانوس زبان فہم کی راہ میں ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ جب عدالتوں میں ایسی زبان رائج ہو جو عوام کی اکثریت کی روزمرہ بول چال اور فکری سطح سے ہم آہنگ نہ ہو تو انصاف محض ایک نظری تصور بن کر رہ جاتا ہے، کیونکہ جسے بات ہی سمجھ نہ آئے وہ اپنے حق کا مطالبہ کیسے کرے۔ عدالتی اصطلاحات، طویل جملے اور مبہم اسلوب عام فرد کو خوف، الجھن اور بے بسی میں مبتلا کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ وکیلوں، کاتبوں اور دلالوں پر غیر معمولی انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں انصاف کا عمل سادہ حق کے بجائے ایک مہنگی اور پیچیدہ رسم بن جاتا ہے جو صرف باخبر اور صاحبِ وسائل طبقے کے لیے قابلِ حصول رہتی ہے۔ یوں زبان انصاف کی وضاحت کا ذریعہ ہونے کے بجائے اس کی نفی کا سبب بننے لگتی ہے کیوں کہ فہم کے بغیر انصاف محض فیصلے کا اعلان ہے، شراکت اور اطمینان کا ذریعہ نہیں۔ اگر عدالتی زبان عوام کی ذہنی سطح اور لسانی روایت سے قریب نہ ہو تو یہ نظام خود اپنی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر دیتا ہے اور انصاف ایک زندہ حقیقت کے بجائے دور، سرد اور غیر متعلق تصور میں ڈھل جاتا ہے۔

    سرکاری دفاتر میں لسانی الجھن: فائل، فارم اور فرد کی بے بسی
    (درخواستیں، نوٹیفکیشنز، دفتری کارروائی اور عوامی مشکلات)
    سرکاری دفاتر میں لسانی الجھن عام شہری کی روزمرہ زندگی کو اذیت ناک تجربہ بنا دیتی ہے جہاں کاغذی کارروائی، درخواست نامے اور دفتری تحریریں ایک ایسی زبان میں ہوتی ہیں جو عوام کی فہم اور تجربے سے میل نہیں کھاتیں۔ جب ایک سادہ انسان کسی کام کے لیے دفتر کا رخ کرتا ہے تو وہ پہلے ہی خوف اور تذبذب کا شکار ہوتا ہے، مگر اجنبی اصطلاحات، پیچیدہ جملے اور غیر مانوس اسلوب اس کی بے بسی کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ دفتری تحریر کا مقصد رہنمائی اور سہولت ہونا چاہیے لیکن جب زبان رکاوٹ بن جائے تو شہری اپنی ہی درخواست کا مفہوم سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس صورتِ حال میں وہ اہلکاروں کی مرضی، ترجمانوں کے سہارے اور غیر ضروری سفارشات کا محتاج بن جاتا ہے، جس سے عزتِ نفس مجروح اور اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ یوں زبان خدمت کا ذریعہ بننے کے بجائے اقتدار کی علامت بن جاتی ہے جہاں عام فرد خود کو نظام کے سامنے بے زبان اور بے اختیار محسوس کرتا ہے۔ اگر سرکاری دفاتر میں زبان عوام کے مزاج اور فہم کے مطابق نہ ہو تو یہ لسانی الجھن شہری اور ریاست کے درمیان فاصلے کو بڑھا دیتی ہے، اور انتظامی عمل سہولت کے بجائے مستقل اذیت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

    اردو رسم الخط کی بگڑتی صورت اور تعلیمی و ثقافتی بحران
    (غلط املا، رومن اردو، نصابی کمزوری اور تہذیبی شناخت کا زوال)
    اردو رسم الخط کی بگڑتی ہوئی صورت دراصل ہمارے تعلیمی اور ثقافتی بحران کی گہری علامت ہے جہاں سہولت اور جلد بازی کے نام پر زبان کی اصل ہیئت کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں درست املا اور خوش خطی کی تربیت بتدریج نظر انداز ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں نئی نسل حروف کی ساخت، صوتی آہنگ اور لفظی تہذیب سے کٹتی چلی جا رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ اور روزمرہ تحریر میں بے احتیاطی نے رسم الخط کو ایک غیر واضح اور منتشر شکل دے دی ہے جس سے نہ صرف فہم میں دشواری پیدا ہوتی ہے بل کہ تہذیبی تسلسل بھی ٹوٹنے لگتا ہے۔ رسم الخط محض لکھنے کا وسیلہ نہیں بل کہ صدیوں کی فکری روایت، شعری ذوق اور علمی وراثت کا امین ہوتا ہے اور جب اسی کو بگاڑ دیا جائے تو ادب، تاریخ اور ثقافت سبھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس بگاڑ کے نتیجے میں طلبہ زبان سے رغبت کے بجائے اجنبیت محسوس کرتے ہیں اور یوں اردو آہستہ آہستہ تعلیمی دائرے سے سکڑ کر رسمی یا جذباتی اظہار تک محدود ہو جاتی ہے۔ اگر اس صورتِ حال کا سنجیدہ ادراک نہ کیا گیا تو اردو رسم الخط کے ساتھ جڑا ہوا پورا تہذیبی شعور کمزور پڑ. جائے گا اور ہم اپنی شناخت کے ایک بنیادی ستون سے محروم ہوتے چلے جائیں گے۔

  • پاکستان نے SMASH اور YALGHAR-200 کی رونمائی کر دی ، جدید اسٹرائیک سسٹمز اور علاقائی تزویراتی اثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    پاکستان نے SMASH اور YALGHAR-200 کی رونمائی کر دی ، جدید اسٹرائیک سسٹمز اور علاقائی تزویراتی اثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    تحریر: میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدت کاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    فروری 2026 میں پاکستان کی صفِ اول دفاعی برآمدی کمپنی گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز (GIDS) نے سعودی عرب کے شہر ریاض میں منعقدہ ورلڈ ڈیفنس شو 2026 کے موقع پر دو نئے مقامی طور پر تیار کردہ میزائل سسٹمز کی نمائش کی،
    SMASH ہائپرسانک میزائل اور YALGHAR-200 لوئٹرنگ میونیشن۔
    یہ ہتھیار نہ صرف پاکستان کے دفاعی برآمدی پورٹ فولیو کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ بھارت۔پاکستان سیکیورٹی تناظر میں اہم تزویراتی اہمیت بھی رکھتے ہیں۔
    SMASH — ہائپرسانک اینٹی شپ اور لینڈ اٹیک میزائل ،SMASH (Supersonic Missile Anti-Ship) پاکستان کا جدید ترین ہائپرسانک میزائل ہے جو بحری اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    نمایاں خصوصیات
    دوہرا کردار:
    یہ میزائل بحری جہازوں اور زمینی اہداف دونوں کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے آپریشنل لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔
    رفتار اور درستگی:
    ایچ ڈی-جی این ایس ایس معاون انرشیل نیویگیشن سسٹم اور ایکٹو ریڈار سیکر سے لیس، جو پیچیدہ اور متنازعہ ماحول میں بھی انتہائی درست حملے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
    رینج اور وارہیڈ:
    اینٹی شپ ورژن کی رینج 290 کلومیٹر ہے اور یہ 384 کلوگرام وارہیڈ لے جا سکتا ہے۔
    لینڈ اٹیک ورژن میں 444 کلوگرام تک وارہیڈ نصب کیا جا سکتا ہے۔
    برآمدی ورژن
    بین الاقوامی خریداروں کے لیے کم رینج والے ورژن تیار کیے گئے ہیں تاکہ MTCR رہنما اصولوں کی پاسداری کی جا سکے۔

    بھارت کے تناظر میں تزویراتی (Strategic) اہمیت
    بھارتی بحریہ تیزی سے اپنے سطحی بیڑے، آبدوزوں اور طیارہ بردار جہازوں کو جدید بنا رہی ہے۔SMASH پاکستان کو بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند میں بھارتی بحری اثاثوں کے خلاف ایک کم لاگت اور مقامی جوابی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔اس کی ہائپرسانک رفتار بھارتی بحری فضائی دفاعی نظام کے ردِعمل کے وقت کو کم کر دیتی ہے، جس سے حساس سمندری گزرگاہوں میں ڈیٹرنس کو تقویت ملتی ہے۔دوہری لینڈ اٹیک صلاحیت کے ساتھ SMASH پاکستان کے میزائل میٹرکس میں ایک قلیل فاصلے کی درست اسٹرائیک تہہ کا اضافہ کرتا ہے، جو نصر ٹیکٹیکل اور شاہین اسٹریٹجک سسٹمز کی تکمیل کرتے ہوئے بھارت کے خلاف روایتی ڈیٹرنس کو مضبوط بناتا ہے۔

    YALGHAR-200 — طویل دورانیے کی لوئٹرنگ میونیشن
    YALGHAR-200 ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والی لوئٹرنگ میونیشن ہے جو نگرانی اور حملہ دونوں صلاحیتوں کو یکجا کرتی ہے۔
    صلاحیتیں
    آپریشنل رینج:
    200 کلومیٹر — جو دشمن کی پچھلی صفوں میں گہرائی تک حملے ممکن بناتی ہے۔
    دورانیہ:
    90 سے 120 منٹ تک فضا میں موجود رہنے کی صلاحیت، جو حقیقی وقت میں ہدف کی نشاندہی کے لیے موزوں ہے۔
    وارہیڈ کی لچک:
    10 سے 20 کلوگرام وارہیڈ، جو بکتر بند گاڑیوں، مضبوط دفاعی مورچوں یا اہم تنصیبات کے خلاف مؤثر ہے۔
    لانچ کے اختیارات:
    زمینی بوسٹر کے ذریعے یا طیارے سے فضا میں چھوڑ کر استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے حربی لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔
    بھارت کے تناظر میں تزویراتی اہمیت
    YALGHAR-200 سرحدی اور ساحلی علاقوں میں بھارتی پیش قدمی کے خلاف پاکستان کی غیر متناسب جنگی صلاحیتوں کو مضبوط بناتا ہے۔یہ ایک مستقل نگرانی اور حملہ آور پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جو کم سے کم نمائش کے ساتھ متحرک اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔توپخانے، یو اے ویز اور کروز میزائل سسٹمز کے ساتھ مل کر YALGHAR تہہ دار درست اسٹرائیک صلاحیت پیدا کرتا ہے، جو جوہری حدوں کو عبور کیے بغیر روایتی ڈیٹرنس کو مضبوط بناتا ہے۔

    برآمدی امکانات اور علاقائی اثرات
    GIDS ان سسٹمز کو عالمی منڈیوں میں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ برآمدی ورژن عالمی ضوابط کے مطابق کم رینج کے حامل ہوں گے۔SMASH اور YALGHAR پاکستان کو اُن چند ممالک کی صف میں لا کھڑا کرتے ہیں جو مقامی طور پر تیار کردہ ہائپرسانک اور لوئٹرنگ سسٹمز مسابقتی قیمتوں پر پیش کر رہے ہیں۔تزویراتی طور پر ان سسٹمز کی نمائش بھارت اور دیگر علاقائی طاقتوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ پاکستان کی مقامی درست اسٹرائیک اور غیر متناسب صلاحیتیں مسلسل ترقی کر رہی ہیں۔

    خلاصہ
    SMASH اور YALGHAR-200 کی رونمائی پاکستان کی دفاعی صنعت کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے، جو تکنیکی مہارت اور تزویراتی بصیرت کی عکاسی کرتی ہے۔
    بھارت۔پاکستان تناظر میں یہ سسٹمز:بھارت کے خلاف بحری اور ساحلی ڈیٹرنس کو مضبوط بناتے ہیں۔روایتی بھارتی برتری کا مقابلہ کرنے کے لیے غیر متناسب ذرائع فراہم کرتے ہیں۔
    پاکستان کو مقامی دفاعی ٹیکنالوجی برآمد کرنے والے ملک کے طور پر مضبوط بناتے ہیں، جس سے معاشی اور تزویراتی اثرورسوخ میں اضافہ ہوتا ہے۔ان صلاحیتوں کے ذریعے پاکستان علاقائی سلامتی کے حوالے سے متوازن حکمتِ عملی کا مظاہرہ کر رہا ہے، جس میں ڈیٹرنس، درست اسٹرائیک اور برآمدی امکانات کو یکجا رکھتے ہوئے کشیدگی کی حدوں پر کنٹرول برقرار رکھا گیا ہے۔

  • امن، قانون کی حکمرانی اور معاشی استحکام، پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد،تحریر:شہزادقریشی

    امن، قانون کی حکمرانی اور معاشی استحکام، پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد،تحریر:شہزادقریشی

    پاکستان اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں داخلی سلامتی، علاقائی استحکام اور معاشی بحالی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے معاملات بن چکے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات، سرحدی چیلنجز اور غیر قانونی نقل و حرکت جیسے مسائل نہ صرف ریاستی رٹ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر ملک کے تشخص اور سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ قومی پالیسیوں پر سنجیدگی، تسلسل اور خلوص نیت کے ساتھ عمل کیا جائے۔

    سب سے پہلے، نیشنل ایکشن پلان کو محض ایک دستاویز نہیں بلکہ قومی سلامتی کا جامع فریم ورک سمجھا جانا چاہیے۔ یہ منصوبہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر تعاون کا تقاضا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں اس پر عمل درآمد کی رفتار یکساں نہیں رہی۔ اگر دہشت گردی کا مکمل خاتمہ مطلوب ہے تو تمام صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر مربوط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کی فعالیت، کالعدم تنظیموں کی نگرانی، نفرت انگیز مواد کی روک تھام اور مدارس و دیگر اداروں کی مؤثر رجسٹریشن جیسے اقدامات پر مکمل عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    دوسرا اہم مسئلہ غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کی موجودگی کا ہے۔ دنیا کے ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سرحدوں اور امیگریشن قوانین پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ اگر کوئی شخص قانونی دستاویزات کے بغیر مقیم ہے تو قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ تاہم یہ عمل بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور باوقار واپسی کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ اجتماعی سزا یا نسلی تعصب کے تاثر سے بچنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا قانون پر عمل درآمد۔

    تیسرا پہلو سرحدی نگرانی کا ہے۔ اگر یہ اطلاعات سامنے آتی ہیں کہ کچھ افراد واپسی کے بعد دوبارہ غیر قانونی طور پر داخل ہو جاتے ہیں، تو یہ سرحدی مینجمنٹ کے نظام میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاک-افغان سرحد ایک طویل اور حساس سرحد ہے جس پر مؤثر نگرانی، بائیومیٹرک نظام، جدید ٹیکنالوجی اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ محض وقتی آپریشنز کے بجائے ایک مستقل، ٹیکنالوجی پر مبنی بارڈر مینجمنٹ سسٹم ہی دیرپا حل فراہم کر سکتا ہے۔

    امن و امان کی صورتحال براہ راست معاشی استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔ عالمی سرمایہ کار کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری سے پہلے وہاں کی سکیورٹی، پالیسیوں کے تسلسل اور قانونی نظام کا جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان کو اگر عالمی معیشت میں مسابقتی کردار ادا کرنا ہے تو اسے داخلی استحکام کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔ چین، خلیجی ممالک، یورپ یا دیگر خطوں سے سرمایہ کاری اسی وقت آئے گی جب سرمایہ کار خود کو محفوظ اور پالیسی ماحول کو پیشگوئی کے قابل محسوس کریں گے۔

    یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دہشت گردی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی آپریشنز سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کے لیے سماجی ہم آہنگی، تعلیم، روزگار کے مواقع اور نوجوانوں کی مثبت سمت میں رہنمائی بھی ناگزیر ہے۔ ایک مضبوط، منصفانہ اور جوابدہ ریاستی ڈھانچہ ہی شدت پسندی کے بیانیے کو کمزور کر سکتا ہے۔

    آج پاکستان کو جذباتی نعروں کے بجائے سنجیدہ، مربوط اور قانون پر مبنی اقدامات کی ضرورت ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی، سرحدی نظم و نسق کی مضبوطی، قانون کی بلاامتیاز عمل داری اور انسانی حقوق کا احترام ، یہی وہ ستون ہیں جن پر ایک محفوظ اور خوشحال پاکستان کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔اگر ریاست اپنے فیصلوں میں تسلسل، شفافیت اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے تو نہ صرف دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ عالمی برادری میں پاکستان کا وقار بھی مستحکم ہو گا، اور یہی مضبوط امن و استحکام مستقبل کی معاشی ترقی کا ضامن بنے گا۔

  • علی ڈار کی تعیناتی اہلیت، رشتے داری اور اقربا پروری پر اٹھتے سوالات،تحریر :کامران اشرف

    علی ڈار کی تعیناتی اہلیت، رشتے داری اور اقربا پروری پر اٹھتے سوالات،تحریر :کامران اشرف

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے سینیٹر اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار کو پنجاب حکومت میں مشیر برائے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور خصوصی منصوبہ جات مقرر کیے جانے پر سیاسی و سماجی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس تعیناتی کو جہاں بعض حلقے ٹیکنالوجی اور جدید مہارتوں کے فروغ کی جانب قدم قرار دے رہے ہیں، وہیں سوشل میڈیا پر اقربا پروری کے الزامات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔

    علی ڈار کا تعلق ایک بااثر سیاسی خاندان سے ہے۔ وہ نائب وزیراعظم اور سینیٹر اسحاق ڈار کے بیٹے اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ یہی رشتے داری اس تقرری پر سب سے زیادہ تنقید کی وجہ بنی، اور ناقدین نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ تعیناتی میرٹ کی بنیاد پر ہوئی یا خاندانی قربت نے کردار ادا کیا۔تاہم اگر تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو علی ڈار کی تعلیمی قابلیت قابلِ توجہ سمجھی جا رہی ہے۔ انہوں نے ایچی سن کالج لاہور سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، بعد ازاں انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، جبکہ برطانیہ کے اداروں سے بھی وابستگی رہی ہے۔ وہ نجی شعبے میں کاروباری تجربہ رکھتے ہیں اور ٹیکنالوجی و ڈیجیٹل انوویشن سے متعلق منصوبوں میں کام کر چکے ہیں۔

    پنجاب حکومت کے مطابق علی ڈار کو دیا گیا پورٹ فولیو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ہے، جس میں ڈیجیٹل گورننس، مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور خصوصی ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ حکومتی مؤقف ہے کہ نوجوان اور ٹیکنالوجی سے واقف افراد کو آگے لانا وقت کی ضرورت ہے تاکہ سرکاری نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔

    دوسری جانب سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے اس تقرری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں بار بار ایک ہی خاندان کے افراد کو اہم عہدے دینا عوامی اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اہلیت اپنی جگہ، لیکن شفافیت کے لیے ایسے عہدوں پر تعیناتی کے معیار کو واضح کیا جانا چاہیے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اصل امتحان اب علی ڈار کی کارکردگی ہو گی۔ اگر وہ اپنے پورٹ فولیو کے تحت ٹھوس نتائج دینے میں کامیاب ہوتے ہیں، تو تنقید خود بخود دم توڑ سکتی ہے، بصورتِ دیگر اقربا پروری کا بیانیہ مزید مضبوط ہونے کا خدشہ ہے۔علی ڈار کی مشیر کے طور پر تعیناتی ایک ایسا فیصلہ ہے جس میں اہلیت اور رشتے داری دونوں پہلو موجود ہیں۔ عوام کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ تقرری پنجاب میں واقعی ٹیکنالوجی اور اصلاحات کا ذریعہ بنتی ہے یا محض سیاسی تنازع کا عنوان بن کر رہ جاتی ہے

  • اونٹوں کے پاسپورٹ، سعودی قومی شناخت، جدید دور اور تہذیب و ثقافت کا امتزاج

    اونٹوں کے پاسپورٹ، سعودی قومی شناخت، جدید دور اور تہذیب و ثقافت کا امتزاج

    سعودی عرب نے اپنے ثقافتی ورثے کو جدید ریاستی نظام سے جوڑنے کی سمت ایک ایسا منفرد قدم اٹھایا ہے جس نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ ملک بھر میں موجود لاکھوں اونٹوں کے لیے باقاعدہ پاسپورٹ کے اجرا کا فیصلہ بظاہر ایک انتظامی اقدام دکھائی دیتا ہے، مگر درحقیقت یہ فیصلہ سعودی قومی شناخت، ثقافتی شعور اور جدید دور کے تقاضوں کے درمیان ایک مضبوط ربط کی عکاسی کرتا ہے۔

    اونٹ صدیوں سے جزیرۂ عرب کی تہذیب، معیشت اور صحرائی زندگی کا مرکزی کردار رہے ہیں۔ یہ جانور صرف سواری یا ذریعۂ معاش نہیں بلکہ بدوی ثقافت، صبر، وقار اور بقا کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ سعودی عرب میں اونٹوں کی حیثیت محض مویشیوں تک محدود نہیں بلکہ انہیں ثقافتی ورثے کا درجہ حاصل ہے۔ ایسے میں ان کے لیے پاسپورٹ کا اجرا دراصل اسی ورثے کو جدید ریاستی ڈھانچے میں باقاعدہ شناخت دینے کے مترادف ہے۔

    سعودی وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت کے مطابق اونٹوں کے پاسپورٹس کے ذریعے جانوروں کی شناخت، نسل، ملکیت اور نقل و حرکت سے متعلق ایک جامع ڈیجیٹل نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔ یہ نظام نہ صرف مویشی پال حضرات کے لیے سہولت کا باعث بنے گا بلکہ قومی سطح پر ایک قابلِ اعتماد ڈیٹا بیس بھی فراہم کرے گا، جو بیماریوں کی روک تھام، تجارت کے فروغ اور نسلوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں دکھایا گیا سبز رنگ کا اونٹ پاسپورٹ، جس پر سعودی قومی نشان اور سنہری اونٹ کی تصویر موجود ہے، اس منصوبے کی علامتی حیثیت کو مزید واضح کرتا ہے۔ یہ پاسپورٹ ظاہری طور پر انسانی پاسپورٹ سے مشابہ ہے، گویا ریاست اس جانور کو بھی قومی سرمائے اور شناخت کے دائرے میں شامل کر رہی ہے۔ یہ پیغام واضح ہے کہ سعودی عرب میں روایت اور جدیدیت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق 2024ء میں سعودی عرب میں اونٹوں کی تعداد تقریباً 22 لاکھ تھی، جو سالانہ دو ارب سعودی ریال سے زائد کی معیشت کا حصہ ہیں۔ دودھ، گوشت، افزائشِ نسل، ریسنگ اور ثقافتی میلوں میں اونٹوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ ایسے میں ان کی منظم رجسٹریشن نہ صرف معاشی استحکام کو مضبوط کرے گی بلکہ عالمی معیار کے مطابق سعودی مویشی نظام کو بھی ہم آہنگ بنائے گی۔

    دنیا کے کئی ممالک میں جانوروں کے لیے شناختی چپس اور رجسٹریشن سسٹمز موجود ہیں، مگر سعودی عرب کا اونٹوں کے لیے پاسپورٹ جاری کرنا ایک منفرد مثال ہے۔ یہ اقدام اس حقیقت کی علامت ہے کہ سعودی ریاست جدید ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے بھی اپنی تہذیبی جڑوں سے جڑی رہنا چاہتی ہے۔

    یوں اونٹوں کے پاسپورٹ کا اجرا صرف جانوروں کی شناخت کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک فکری اعلان ہے:
    کہ سعودی عرب میں قومی شناخت صرف انسانوں تک محدود نہیں، بلکہ وہ تمام عناصر بھی اس شناخت کا حصہ ہیں جو اس سرزمین کی تاریخ، ثقافت اور روح سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ اقدام جدید دور کی ریاست اور صدیوں پرانی تہذیب کے درمیان ایک خوبصورت اور بامعنی مکالمہ ہے۔

  • بسنت خوشی کا تہوار یا فضول خرچی؟تحریر:آپا منزہ جاوید ،اسلام آباد

    بسنت خوشی کا تہوار یا فضول خرچی؟تحریر:آپا منزہ جاوید ،اسلام آباد

    بسنت کو ہم بہار کی خوشی، روایت اور تہوار کا نام دیتے ہیں، مگر جب اسی بسنت کے نام پر خرچ ہونے والی رقم، دکھاوا اور بے حسی سامنے آتی ہے تو دل سوال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ تہوار ہے یا کھلی فضول خرچی؟

    حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک تحریر گردش کرتی رہی جس میں طنز کے پیرائے میں اس مقروض قوم کے “بسنت پیکجز” پیش کیے گئے۔ نام تھا “شاہ بسنت مینجمنٹ (SBM)”اور پیکجز کے نرخ ایسے کہ آدمی مہنگائی، قرض اور غربت سب ایک ساتھ بھول جائے۔ کہیں ڈائمنڈ کلاس بسنت پیکج پچیس لاکھ روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جہاں کشادہ چھت، دن رات کی ضیافتیں، ڈھول، رقص، سینکڑوں پتنگیں اور ہزاروں میٹر ڈور شامل ہیں۔ کہیں گولڈ اور سلور کلاس کے نام پر لاکھوں روپے کی بسنت، اور کہیں نام نہاد ‘غریب نواز پیکج’ بھی تین لاکھ روپے سے کم نہیں۔

    طنز یہ ہے کہ جس قوم کے بچے تعلیم، علاج اور دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہوں، وہ قوم بسنت کے نام پر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں ہوا میں اڑا دیتی ہے۔ ایک طرف قرض، بجلی کے بل، مہنگائی اور بے روزگاری کا رونا ہے، اور دوسری طرف جرمن پیپر کی پتنگیں، برما کے بانس، پلاٹینئیم مانجھا اور سیاسی نعروں والی گڈیاں۔ یہ سب محض ایک مذاق یا تحریر نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی رویے کا آئینہ ہے۔ ہم خوشی منانے کے نام پر یہ بھول جاتے ہیں کہ انہی رنگوں کے پیچھے کتنی جانیں جاتی ہیں، کتنے گھر اجڑتے ہیں، کتنے باپ اپنے بیٹوں کے جنازے اٹھاتے ہیں، اور کتنی مائیں بسنت کے بعد خاموش ہو جاتی ہیں۔

    میں یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ بسنت کے نام پر بنائے گئے یہ تمام پیکجز حقیقت میں اسی طرح موجود ہیں یا واقعی اتنی بھاری رقوم خرچ کی جاتی ہیں، مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ اس میں کچھ نہ کچھ سچائی ضرور پوشیدہ ہے، کیونکہ یہ ہمارے معاشرتی رویوں سے بالکل مختلف نہیں۔روز بروز بڑھتی بے روزگاری، بھوکے خاندانوں میں اضافہ، اور فاقوں سے تنگ آ کر ہونے والی خودکشیاں،یہ سب خبریں اب سنائی نہیں دیتیں، دکھائی دیتی ہیں۔ کہیں بھوک سے عاجز آ کر کوئی اپنی جان لے لیتا ہے، کہیں ماں باپ بچوں کو زہر دے کر خود بھی موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔ کہیں غریب ہسپتال میں علاج کے اخراجات کے بوجھ تلے ہار مان لیتا ہے، اور کہیں بچے علاج کے انتظار میں دم توڑ دیتے ہیں۔

    ایسے میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ اسی ملک کے باسی بسنت کے نام پر لاکھوں روپے پتنگوں اور ڈور پر اڑا دیتے ہیں تو یہ محض فضول خرچی نہیں، بلکہ اجتماعی بے حسی کا کھلا اظہار بن جاتی ہے۔ وہی پیسہ کسی غریب کے گھر کا سال بھر کا راشن بن سکتا تھا، کسی کے بچوں کی پوری سال کی اسکول فیس ادا ہو سکتی تھی، کئی غریب بچیوں کی شادیاں ہو سکتی تھیں۔

    رمضان المبارک چند دن کی دوری پر ہے۔ یہی لوگ اگر چاہیں تو سفید پوش گھرانوں میں راشن پہنچا سکتے تھے تاکہ روزے آسانی سے گزر سکیں، مگر ترجیح پھر بھی تفریح، نمود و نمائش اور فضول خرچی ہی ٹھہرتی ہے۔یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ بسنت صرف ایک تہوار ہے یا ایک معاشرتی مظہر جس میں ہم اپنی ترجیحات، اخلاق اور انسانی ہمدردی کا امتحان لیتے ہیں؟ کیونکہ اگر واقعی ہم خوشی منانے کے لیے اتنی رقم خرچ کر سکتے ہیں، تو پھر ضرورت مندوں کے لیے اتنی محنت کیوں نہیں کی جاتی؟

    اگر واقعی اس ملک کے لوگ اتنے امیر ہیں کہ بسنت کے نام پر لاکھوں روپے صرف پتنگوں اور ڈور پر خرچ کر سکتے ہیں، تو پھر ہر چوک پر بے روزگار کیوں نظر آتے ہیں؟ ہر محلے میں بھیک مانگتے ہاتھ کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ زکوٰۃ کے راشن کی تقسیم کے وقت لمبی قطاریں کیوں لگتی ہیں؟ یا جب ہمارے نوجوان، روزگار کے لیے ہونڈی کے ذریعے دوسرے ملک جانے نکلیں تو بے رحم پانی میں کشتی الٹ جانے سے اپنی زندگی گنوا دیتے ہیں، تب بھی کسی کے دل پر یہ رقم خرچ کرنے کا سوال کیوں نہیں آتا؟

    یہ بھی سوچنے کا مقام ہے کہ جب کوئی ضرورت مند مدد کے لیے دستک دیتا ہے تو یہی فضول خرچی کرنے والے لوگ مدد کے وقت حساب کتاب میں پڑ جاتے ہیں۔ بڑی سوچ بچار کے بعد کوئی دو ہزار، کوئی پانچ یا دس ہزار دے کر ایسے دیکھتا ہے جیسے اس نے لاکھوں کی خیرات کر دی ہو—حالانکہ انہی ہاتھوں سے کچھ دن پہلے لاکھوں روپے پتنگوں کی نذر کر دیے گئے ہوتے ہیں۔

    یہاں بسنت کے نام پر ہونے والی یہ فضول خرچی ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ ہماری ترجیحات کہاں کھو گئی ہیں۔ ایک طرف قرض، بل اور روزگار کی جدوجہد ہے، اور دوسری طرف چند خوش قسمتوں کے لیے دن رات کی ضیافتیں، ہزاروں میٹر ڈور اور لاکھوں روپے کی پتنگیں۔ یہ تضاد ہمارے سماجی شعور پر ایک واضح سوال چھوڑ دیتا ہے: ہم واقعی کس کے لیے اور کس مقصد کے لیے خوشی مناتے ہیں؟
    اصل سوال یہی ہے کہ
    کیا مسئلہ وسائل کی کمی ہے،
    یا احساس کی کمی؟

    یہ مضمون ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ خوشی منانے کے نام پر خرچ ہونے والی رقم، اگر سنجیدگی اور ہمدردی کے ساتھ استعمال کی جائے، تو کتنا بڑا فرق ڈال سکتی ہے۔ کسی غریب بچے کی تعلیم مکمل ہو سکتی ہے، کسی بیمار کی زندگی بچائی جا سکتی ہے، اور کسی خاندان کے چہروں پر مسکراہٹ آ سکتی ہے۔ بسنت کے نام پر اڑائے جانے والے کروڑوں روپے، اگر معاشرتی بھلائی کے لیے خرچ ہوں، تو شاید یہی اصل خوشی ہو، جس کی ہمیں تلاش ہے۔
    شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں—
    بسنت خوشی کا تہوار ہے،
    یا ایک ایسی فضول خرچی
    جو ہر سال ہماری توجہ اور ہمدردی کی کمی کو سامنے لے آتی ہے۔
    اور اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ خوشی سب کے لیے خوشی بنے،
    تو بسنت کے رنگوں کے ساتھ اپنے اعمال اور ترجیحات بھی رنگیں ہونا ضروری ہیں

  • آج کے طلبہ و طالبات: باادب یا بےادب؟تحریر:کامران ہاشمی، کرک

    آج کے طلبہ و طالبات: باادب یا بےادب؟تحریر:کامران ہاشمی، کرک

    اکثر کہا جاتا ہے کہ آج کے طلبہ و طالبات بےادب ہو گئے ہیں
    مگر حقیقت یہ ہے کہ طالبِ علم نہیں بدلے، ہمارا رویہ اور طریقۂ تربیت بدل گیا ہے۔
    میں نے اپنے 16 سالہ تعلیمی سفر میں اور تین سالہ تجربے میں وہ وقت بھی دیکھا ہے
    جب طلبہ و طالبات اساتذہ کے سامنے ادب سے پیش آتے تھے
    اور استاد کو والدین، بڑی بہن، بڑے بھائی اور رہنما کا درجہ حاصل تھا۔وہ ادب خوف سے نہیں بلکہ استاد کے کردار، وقار اور انصاف کا نتیجہ تھا۔
    تعلیم میں یا تو صرف پیسہ کمایا جاتا ہے یا عزت اور جو استاد عزت کماتا ہے وقت اس کے لیے راستے خود بنا دیتا ہے۔
    طلبہ و طالبات کو صرف فیس یا رول نمبر نہ سمجھیں بلکہ اپنی ذمہ داری اور امانت جانیں۔ان کی بات سنیں نہیں سمجھیں۔ انہیں ڈرا کر نہیں، سمجھا کر سکھائیں۔نصاب کے ساتھ نصیحت بھی دیں،اور انہیں عزت دیں تاکہ وہ اعتماد سیکھیں۔

    یاد رکھیں، جو عزت پاتا ہے، وہی عزت کرنا سیکھتا ہے۔آج کے طلبہ و طالبات بگڑے ہوئے نہیں وہ ذہنی کشمکش میں مبتلا ہیں ناکامی کا خوف، غلط راستے کا ڈر، نفسیاتی دباؤ، مالی عدم تحفظ اور احساسِ کمتری۔
    ایک استاد کا اصل امتحان،ان خوفوں کو بڑھانا نہیں، کم کرنا ہے۔انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ اکیلے نہیں ادارہ اور استاد ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔طالبِ علم کو ڈانٹ کر نہیں،سمجھا کر سنوارا جاتا ہے۔حکم دے کر نہیں رہنمائی دے کر مضبوط بنایا جاتا ہے۔ایک استاد صرف مضمون نہیں پڑھاتا وہ کردار بناتا اور مستقبل سنوارتا ہے۔
    اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے طلبہ و طالبات باادب، بااعتماد اور باکردار ہوں ۔ تو ہمیں پہلےباوقار استاد اور ذمہ دار رہنما بننا ہوگا۔

  • اُردُو زبان کے فروغ میں عُلماء و مدارس کا کردار،تحریر : یوسف طاہر

    اُردُو زبان کے فروغ میں عُلماء و مدارس کا کردار،تحریر : یوسف طاہر

    ھماری قومی زبان اردو مختلف عالمی زبانوں جیسا کہ عربی، فارسی اور ترکی وغیرہ کا ایک شائستہ امتزاج ھے۔ اردو برصغیر کی تمام اقوام کے رابطے اور اظہار کی زبان ہے۔

    اس زبان کو ترتیب دینے کا سبب اگر مختلف اقوام کا میل جول بنا۔ اسکی ترقی میں مغلیہ درباروں، ادباء، شعراء اور تخلیق کاروں نے اپنا اپنا حصہ ڈالا تو اسکو پھیلانے میں سب سے مؤثر کردار علماء اور مدارس کا ہے۔ انکی بدولت ہی اردو زبان درباروں، ایوانوں اور کلیات سے نکل کر مجالس تک پہنچی، جہاں اسے تقویت ملی اور اسکے ارتقاء کا سفر جاری ہوا۔جو آج تک عمدگی سے جاری ہے۔
    اس وقت بدقسمتی سے ھمارے ملک میں تعلیمی زبان انگریزی بن چکی ہے جسکا اپنا مستقبل پائیدار نہیں۔ کیونکہ (جدید روابط کی زبان سے ایک نئی زبان گلوبش تشکیل پا رہی ہے) انگریزی زبان، ھر شخص کی نفسیات کو ٹھوس اور جامد طریقے سے منفی طور پر متأثر کر رہی ہے۔اس زبان کے سبب معاشرہ سماجی تفاوت کا شکار ہو رہا ہے۔
    اردو زبان کی ترویج میں انگریز نے سن 1803 میں فورٹ ویلیئم کالج کلکتہ کی بنیاد رکھی جہاں برطانوی افسران کو اردو زبان مخصوص اردو میں سکھائی جاتی مثلاً یہ ایک کتاب ہے۔ Yeh ek kitab hae. جیسا کہ اب ھم موبائیل پہ پیغام یا گفتگو کرتے ہیں۔
    چونکہ اس سے بہت پہلے اردو عوامی زبان کی حیثیت رکھتی تھی۔
    اردو زبان، مادری اور علاقائی زبانوں کے فروغ میں علماء اور مدارس کا کردار ھمیشہ مرکزی رہا ہے۔ نصاب، خطاب اور مکالمے کی زبان اردو ہی مقدم رہی۔ مدارس کا نصاب، تعلم اور دورے (کورسز)عربی، فارسی اور اردو زبان کا مرکب تھے بھی اور ھیں بھی جہاں سے فارغ التحصیل افراد نہ صرف طلباء بلکہ عوام کے درمیان رہ کر کتاب اور خطاب سے اردو اور علاقائی زبانوں میں مختلف علمی و سماجی موضوعات پر عوام کی رہنمائی کرتے ہیں۔ آج بھی ان علماء کی ابلاغ کی زبان نوے فیصد

    اردو جوکہ عربی اور فارسی کا پس منظر رکھتی ہے ھوتی ہے جس میں نو سے دس فیصد علاقائی بولی ھوتی ہے۔ پورے خطاب میں انگریزی کے چند الفاظ ماحول کی مناسبت سے محض بات سمجھانے کی خاطرھوسکتے ہیں۔
    علماء و مدارس کا اردو زبان کے ارتقاء میں تاریخی، سماجی اور دائمی کردار ھے۔ یہ کردار اور قابلِ قدر حصہ تہزیبی، مسالک اور نظریات کی تفریق سے بالاتر ھے۔قومی اور علاقائی زبانوں کا فروغ مزھب، ملک و قوم کی ایک عمدہ ترین خدمت ہے۔

  • تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام مقابلہ کے نتائج،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام مقابلہ کے نتائج،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    مقابلۂ مضمون نویسی (سیرتُ النبی ﷺ) کے نتائج کا اعلان
    عمارہ کنول چودھری
    (بانی و سرپرست: تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس)
    تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے مقابلۂ مضمون نویسی برائے سیرتُ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس مقابلے میں ملک کے مختلف علاقوں سے اہلِ قلم نے شرکت کی اور سیرتِ طیبہ ﷺ کے مختلف پہلوؤں کو ادبی اور فکری انداز میں اجاگر کیا۔اس مقابلے کی نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ مضمون نویسی میں مختلف ادبی و تعلیمی اداروں کی سربراہان اور معلمات نے بھی بھرپور شرکت کی۔

    نتائج کے مطابق درجہ اوّل محمد یوسف طاہر (بانی، عکسِ ادب، خوشاب) نے حاصل کیا، درجہ دوم بِسمعہ مجید (وہاڑی) کے حصے میں آیا، جبکہ درجہ سوم حمرہ اکرام (بونیر، خیبر پختونخوا) نے حاصل کیا۔

    مقابلۂ مضمون نویسی کے نتائج ایک غیر جانبدار اور معتبر شخصیت محترم فضل کریم ورک نے مرتب کیے۔
    تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کی جانب سے تمام فاتحین اور منصف کو سیرتِ طیبہ ﷺ سے متعلق کتب اور اعزازی اسناد سے نوازا جائے گا۔اس مقابلے کا مقصد سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات کو قومی زبان کے ذریعے عام کرنا اور نئی نسل میں فکری و ادبی شعور بیدار کرنا ہے۔ تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس آئندہ بھی اردو زبان، اسلامی اقدار اور تہذیبی شناخت کے فروغ کے لیے ایسی ادبی و فکری سرگرمیوں کا انعقاد جاری رکھے گی۔

    مقابلہ مضمون نویسی کے انعقاد سے لے کر نتائج تک مختلف ادبی شخصیات کا تعاون شاملِ حال رہا جن میں محترم مفیظ عباسی رکن شعبہ حضرات تحریک، محترمہ پارس کیانی صدر (مرکزی) شعبہ خواتین،محترم فضل کریم ورک( رکن انجمن ترویج زبان و ادب) اور اقصیٰ گل، عائشہ یسین شامل ہیں۔تحریک دفاع قومی زبان و لباس کی انتظامیہ ، مذکورہ ادبی شخصیات کے اخلاقی تعاون اور ادب دوست کردار پر ان کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔