Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مصنوعی ذہانت اور آج کی صحافت، آزادی صحافت کے لیے جدو جہد

    مصنوعی ذہانت اور آج کی صحافت، آزادی صحافت کے لیے جدو جہد

    مصنوعی ذہانت اور آج کی صحافت، آزادی صحافت کے لیے جدو جہد
    تحریر :سیدریاض جاذب

    ہر سال 3 مئی کو دنیا بھر میں "عالمی یوم صحافت” منایا جاتا ہے، جس کا مقصد آزادی صحافت کا دفاع، اظہارِ رائے کی آزادی کی حمایت، صحافیوں کے تحفظ کی جدوجہد، اور میڈیا پر دباؤ کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے عوام کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ایک آزاد میڈیا ہی ان کے حقوق کا محافظ ہے، اور اگر میڈیا پر قدغن لگے، تو عوام کی آواز بھی دب سکتی ہے۔

    سال 2025 کے عالمی یوم صحافت کا مرکزی موضوع ہے:
    "Reporting in the Brave New World: The Impact of Artificial Intelligence on Press Freedom and the Media”
    یعنی "نئی دنیا کی جرأت مند رپورٹنگ: صحافت اور آزادیِ صحافت پر مصنوعی ذہانت کا اثر”۔

    مصنوعی ذہانت (AI) نے جہاں زندگی کے دیگر شعبہ جات کو متاثر کیا ہے، وہیں صحافت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رہی۔ AI کی مدد سے خبر تک رسائی، تحقیق، تجزیہ اور رپورٹنگ کے عمل میں تیزی آئی ہے۔ خبروں کی تیاری، ترسیل اور اشاعت کے عمل میں جدت آئی ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ بہت سے خطرات اور چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔ جعلی خبریں (Fake News)، گمراہ کن مواد، اور خبروں میں انسانی حساسیت کی کمی جیسے مسائل نے صحافت کے معیار اور سچائی کو چیلنج کیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق صحافت میں AI کے استعمال کے دوران اخلاقی اصولوں، شفافیت، اور نگرانی کا برقرار رہنا ناگزیر ہے تاکہ خبر کی سچائی متاثر نہ ہو۔ مصنوعی ذہانت کو ایک معاون ٹول کے طور پر استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ صحافت کے بنیادی اصولوں کی جگہ لینے کے لیے۔

    اگر ہم پاکستان کے تناظر میں بات کریں تو سال 2024 صحافیوں کے لیے نہایت مشکل اور خطرناک رہا۔ فریڈم نیٹ ورک کی "امپونٹی رپورٹ 2024” کے مطابق، نومبر 2023 سے اگست 2024 کے درمیان صحافیوں کے خلاف 57 سنگین خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں، جن میں 11 قاتلانہ حملے بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ صحافیوں کو قانونی کارروائیوں، ہراسانی، دھمکیوں اور اغوا جیسے سنگین مسائل کا سامنا رہا۔

    خصوصاً خواتین صحافیوں کے لیے صورتحال اور بھی نازک رہی۔ انہیں جنسی ہراسانی اور آن لائن بدسلوکی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ صحافیوں کے خلاف "پیکا” (Prevention of Electronic Crimes Act) کے تحت بھی کارروائیاں جاری رہیں، جن کے نتیجے میں 150 سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے اور 20 سے زائد کو گرفتار بھی کیا گیا۔

    ان حالات میں جب صحافت پر کئی اطراف سے دباؤ ہے، آزادی صحافت کی جدوجہد مزید اہم ہو جاتی ہے۔ اگرچہ یہ جدوجہد کٹھن ہے اور فوری طور پر مثبت نتائج نظر نہیں آتے، تاہم صحافی برادری ہمت، جذبے اور عزم کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔

    عالمی یوم صحافت صرف ایک دن منانے کا نام نہیں، بلکہ یہ آزادی اظہار، سچائی، اور عوام کے حقِ معلومات کے تحفظ کی علامت ہے۔ صحافت پر مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باوجود، معاشرتی اقدار، اصولوں اور آزادیِ صحافت کا دفاع ضروری ہے۔ صحافیوں کے لیے سازگار اور محفوظ ماحول کی فراہمی، ریاستی اور سماجی سطح پر ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔

  • ’’میرا نام مزدور ہے…‘‘ تحریر: شاہد نسیم چوہدری

    ’’میرا نام مزدور ہے…‘‘ تحریر: شاہد نسیم چوہدری

    0300-6668477

    میرا نام مزدور ہے۔میں صبح کے دھندلکے میں گھر سے نکلتا ہوں، جب تمہاری۔آنکھیں ینند کی وادیوں میں کھوئی ہوئی ہوتی ہیں۔ میں وہ ہوں جو تمہارے لیے عمارتیں کھڑی کرتا ہے، تمہاری سڑکیں بناتا ہے، تمہاری فیکٹریاں چلاتا ہے، تمہارے بچوں کی کاپیاں بناتا ہے، اور کبھی کبھی تمہارے بچوں کو اپنی محنت کا خون پلا کر تعلیم سے محروم کر دیتا ہے۔
    میں وہ ہوں جو رکشہ چلاتا ہے، جو نالی صاف کرتا ہے، جو اینٹیں ڈھوتا ہے، جو ہوٹل پر برتن مانجھتا ہے۔ میرے ہاتھ کھردرے ہیں، میرے ناخنوں میں مٹی ہے، میرے جسم سے پسینہ بہتا ہے۔ مگر تمہیں شاید اس کی بو آتی ہے۔ تم مجھے سلام کرنے سے بھی کتراتے ہو۔
    سال میں ایک دن تم مجھے یاد کرتے ہو — یکم مئی کو۔
    مجھے عجیب لگتا ہے جب سفید پوش لوگ، اے سی ہالوں میں بیٹھ کر، میرا دن مناتے ہیں۔ میری غربت پر تقریریں کرتے ہیں، میری مزدوری پر اشعار پڑھتے ہیں، میرے بچوں کے لیے فلاحی اداروں کے وعدے کرتے ہیں۔ میں ان کے بیچ اپنی میلی قمیض اور پائوں میں ٹوٹی چپل لیے کھڑا ہوتا ہوں، جیسے کوئی مزار پر فقیر کھڑا ہو — ہاتھ پھیلائے، آنکھیں بند کیے، دعا کی امید میں۔
    مگر کیا تم جانتے ہو؟
    مجھے صرف ایک دن کی ہمدردی نہیں چاہیے۔
    مجھے انصاف چاہیے، عزت چاہیے، زندہ رہنے کا حق چاہیے۔
    میں خیرات نہیں مانگتا، حق مانگتا ہوں۔
    تم کہتے ہو غلامی ختم ہو چکی۔ میں کہتا ہوں، نہیں!
    میں آج بھی اُس فیکٹری میں غلام ہوں جہاں مجھے کم از کم تنخواہ سے بھی کم پیسے ملتے ہیں۔
    میں اُس کھیت میں غلام ہوں جہاں زمین کا مالک صرف مجھے ’’ہاری‘‘ کہہ کر بلاتا ہے، نام سے نہیں۔
    میں اُس گھر میں غلام ہوں جہاں میں بیوی بچوں سمیت چوبیس گھنٹے ملازم ہوں اور چھٹی کا تصور تک نہیں۔
    تم نے غلامی کا نام بدل دیا ہے — بس!
    اب یہ "ٹھیکیداری نظام” کہلاتا ہے، "کنٹریکٹ ورکر” کہلاتا ہے، "ڈیلی ویجز” کہلاتا ہے۔
    میری چھت نہیں ہے، میرے گھر میں چولہا اکثر نہیں جلتا۔
    اسی لیے میرا دس سالہ بچہ بھی مزدور ہے۔ تم نے اسے "چائلڈ لیبر” کہا، میں نے اسے "روزی” کہا۔
    تم نے اس پر قانون بنایا، میں نے اس پر آنسو بہائے۔
    کیا تمہیں کبھی سڑک کنارے شیشہ صاف کرنے والے، چائے کے ہوٹل میں کام کرنے والے، یا فٹ پاتھ پر جوتے پالش کرنے والے بچے نظر آئے؟ وہ سب میرے بچے ہیں۔
    ان کے کندھوں پر بستے نہیں، ذمہ داریاں ہیں۔ ان کی انگلیوں میں پین نہیں، چھالے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں خواب نہیں، تھکن ہے۔
    یکم مئی کو میرے نام پر بینرز مت لگاؤ، مجھے تقریروں میں مت یاد کرو، میری تصاویر کو سجاوٹ نہ بناؤ۔
    مجھے وہ قانون دو جو میری محنت کا تحفظ کرے۔
    مجھے وہ سہولت دو جو میرے بچوں کو تعلیم دے، میری بیوی کو دوا دے، اور میرے بڑھاپے کو تنہائی سے بچائے۔
    میری یونینیں مت خریدو، میرے نمائندے مت جھوٹے وعدوں میں جکڑو۔
    مجھے میرے حق کا ایک سچا، مختصر سا وعدہ دے دو — ’’میرے پسینے کا پورا معاوضہ۔‘ میں خواب دیکھتا تھا — چھوٹے سے مکان کا، بچوں کی تعلیم کا، اور بیماری سے نجات کا۔
    مگر تم نے ان خوابوں کو ’’مہنگائی‘‘ کے شکنجے میں دبا دیا۔
    ہر مہینے آٹے کی قیمت بڑھتی ہے، ہر ہفتے بجلی کا بل دوگنا ہوتا ہے، اور ہر دن میری اُجرت کم لگنے لگتی ہے۔
    مجھے بتایا جاتا ہے کہ ملک ترقی کر رہا ہے — مگر میرا چولہا آج بھی ٹھنڈا ہے۔
    میں اکیلا ہوں مگر کمزور نہیں۔
    میری محنت سے تمہارے شہر روشن ہیں، تمہاری فیکٹریاں آباد ہیں، تمہاری زندگی رواں ہے۔
    اگر میں ہڑتال کر دوں تو تمہاری سہولتیں رک جائیں۔ اگر میں سڑک پر آ جاؤں تو تمہیں اپنی گاڑی سے اترنا پڑے گا۔مگر میں فساد نہیں چاہتا۔ میں فقط عزت چاہتا ہوں۔
    اگر واقعی تم میرا دن منانا چاہتے ہو تو:
    میرے بچوں کو اسکول بھیجو۔
    میری تنخواہ بروقت اور پوری ادا کرو۔
    مجھے دو وقت کی عزت دار روٹی دے دو۔
    میری بیماری کا علاج کروا دو۔
    میرے بڑھاپے کو سڑک پر نہ چھوڑو۔
    میرا نام مزدور ہے — میں تمہاری بنیاد ہوں، تمہاری طاقت ہوں، تمہاری ترقی کا پہیہ ہوں۔
    اگر تم نے مجھے پہچان لیا تو کل کا پاکستان روشن ہوگا۔ اگر مجھے بھلا دیا تو صرف عالیشان عمارتیں بچیں گی — اندر سے خالی، باہر سے روشن۔
    تم آج یکم مئی مناتے ہو؟
    چلو مان لیا — مگر خدا کے لیے، کل مجھے پھر نہ بھول جانا…….!
    تپتی سڑکوں پر ننگے پاؤں سفر کرتے ہیں
    یہ وہ لوگ ہیں جو پتھر کو بھی تر کرتے ہیں
    دھوپ سہتے ہیں، پسینے میں نہاتے ہیں مگر
    یہ تو ہر حال میں ہمت کو بشر کرتے ہیں
    بھوک چپ چاپ لبوں پر جو سجا رکھی ہے
    دل کے زخموں کو ہنستے ہوئے پر کرتے ہیں
    کب کوئی پوچھتا ہے اِن کے دکھوں کا موسم
    وہ دعاؤں سے ہی قسمت پر صبر کرتے ہیں
    خون ، پسینہ، خواہشیں ، ان کی ہیں شاہد
    شہر کے خواب کو وہ ، تعبیر سفر کرتے ہیں

  • یکم مئی اور مزدور

    یکم مئی اور مزدور

    یکم مئی اور مزدور
    تحریر:ملک ظفر اقبال
    "مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو۔”
    (سنن ابن ماجہ)

    اسلام کا مزدور کے بارے میں تصور اور اس کے متعلق احکامات آج سے تقریباً 1450 سال قبل دیے گئے۔ مغربی دنیا آج ان اصولوں کی بات کر رہی ہے، مگر بدقسمتی سے ہم اسلامی اصولوں کو نہ صرف فراموش کر چکے ہیں بلکہ دوسروں کے اصول اپنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا مسلمان دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ آج ہم یکم مئی کی تاریخی حیثیت اور پاکستان کے مزدور پر بات کریں گے۔

    محنت انسانی تہذیب کا ستون ہے۔ ہر ترقی یافتہ معاشرہ اپنے محنت کشوں کے خون پسینے کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔
    یکم مئی کو دنیا بھر میں "یومِ مزدور” یا "لیبر ڈے” کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ محنت کش طبقے کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے اور ان کے حقوق کے تحفظ کا عہد دہرایا جا سکے۔

    یکم مئی کیوں منایا جاتا ہے؟
    یومِ مزدور کی تاریخ 1886ء سے جڑی ہوئی ہے۔ انیسویں صدی میں امریکہ کے شہر شکاگو میں مزدوروں نے کام کے اوقات کم کروانے کے لیے ایک تحریک کا آغاز کیا۔ اس وقت مزدوروں سے روزانہ 12 سے 16 گھنٹے کام لیا جاتا تھا اور اس کے بدلے میں اجرت نہایت کم دی جاتی تھی۔

    یکم مئی 1886ء کو ہزاروں مزدور سڑکوں پر نکلے اور "آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے آرام، آٹھ گھنٹے ذاتی وقت” کا نعرہ لگایا۔
    یہ پرامن مظاہرہ جلد ہی پرتشدد تصادم میں بدل گیا۔ پولیس کی فائرنگ سے کئی مزدور شہید اور متعدد گرفتار ہوئے۔ بعد ازاں کئی مزدور رہنماؤں کو سزائے موت سنائی گئی۔

    یہ قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔ 1889ء میں پیرس میں انٹرنیشنل سوشلسٹ کانگریس نے اعلان کیا کہ یکم مئی کو دنیا بھر میں یومِ مزدور کے طور پر منایا جائے گا۔

    محنت ایک ایسی خوشبو ہے جو انسان کی پیشانی سے پسینے کی صورت میں پھوٹتی ہے اور دنیا کو سنوارتی ہے۔
    یومِ مزدور، یکم مئی کا دن، اسی مقدس خوشبو کو سلام پیش کرنے کا دن ہے۔

    آج دنیا بھر میں، اور پاکستان میں بھی، یومِ مزدور منایا جاتا ہے۔ ریلیاں نکالی جاتی ہیں، تقاریر کی جاتی ہیں اور وعدے دہرائے جاتے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے: کیا ہم واقعی اپنے محنت کشوں کو ان کا جائز مقام دے رہے ہیں؟

    مزدور وہ ہے جو اینٹ سے اینٹ جوڑ کر شہر بساتا ہے مگر خود کچے جھونپڑوں میں رہتا ہے۔ وہ کارخانوں کا پہیہ چلاتا ہے، مگر اپنی زندگی کے پہیے کو بمشکل گھسیٹتا ہے۔

    یومِ مزدور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی کی عمارت محنت کشوں کے کندھوں پر کھڑی ہے۔ اگر ہم ان کے حقوق، تحفظ اور عزت کو یقینی نہیں بناتے تو ہم اپنے ہی مستقبل کو کمزور کر رہے ہیں۔

    پاکستان میں محنت کش طبقہ ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو دن رات محنت کرتا ہے، لیکن بدقسمتی سے اس کی محنت کا درست معاوضہ نہیں دیا جاتا۔
    مزدور کی زندگی میں چھائی غربت، محنت کے باوجود پستی، اور حکومتی اداروں کی خاموشی اس بات کی غمازی ہے کہ ریاست، جس کا فرض تھا کہ وہ اپنے مزدوروں کو تحفظ دے، خود ان کے استحصال کا حصہ بن چکی ہے۔

    مزدوروں کا استحصال ایک حقیقت بن چکا ہے جو روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ آج بھی پاکستانی فیکٹریوں، کھیتوں، تعمیراتی سائٹس اور دیگر صنعتوں میں مزدور انتہائی کم اجرت پر طویل گھنٹوں تک کام کرنے پر مجبور ہیں۔
    پاکستان میں کم از کم اجرت ہر سال حکومت کی جانب سے بڑھا دی جاتی ہے، لیکن زمینی سطح پر اس کا کوئی عملی اثر دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ سرکاری فائلوں میں سب اچھا ہونے کی رپورٹ شامل ہوتی ہے۔

    آج بھی بہت سی فیکٹریاں، کارخانے اور کاروبار بارہ گھنٹے کام کے بدلے صرف 20,000 سے 30,000 روپے ماہانہ تنخواہ دیتے ہیں، جو کہ ایک فرد کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ یہ تنخواہیں لیبر قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، مگر سرکاری اداروں کی رضا مندی سے سب کچھ جاری ہے، کیونکہ ہماری ترجیحات کچھ اور ہیں۔

    یہ مزدور اس معمولی رقم کو اپنی زندگی کے دباؤ کو کم کرنے میں صرف کرتا ہے، اور بدلے میں نہ صرف اضافی گھنٹے بلکہ سخت شرائط میں کام کرتا ہے، مگر اسے کوئی اضافی فائدہ نہیں ملتا۔

    پاکستان کے قوانین کے مطابق، مزدور کو روزانہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، مگر حقیقت یہ ہے کہ فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دفاتر میں مزدوروں سے 12، 14، حتیٰ کہ 16 گھنٹے تک کام لیا جا رہا ہے۔

    یہ قوانین صرف کتابوں کی حد تک محدود ہیں، جب کہ ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔

    کام کے دوران حفاظتی تدابیر نہ ہونے کی صورت میں مزدوروں کے جانی نقصان کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے، خاص طور پر تعمیراتی اور فیکٹری کے شعبوں میں، جہاں حفاظتی سامان کی شدید کمی دیکھی جاتی ہے۔اس طرح لاکھوں مزدور زخمی یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جن کا سرکاری سطح پر کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں۔

    پاکستان میں خواتین مزدوروں کا استحصال مزید سنگین ہے۔
    انہیں نہ صرف کم اجرت دی جاتی ہے بلکہ جنسی ہراسانی، غیر محفوظ ماحول اور مختلف قسم کی زیادتیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

    چائلڈ لیبر بھی ایک اہم مسئلہ ہے، جہاں اسکول جانے کی عمر کے بچے فیکٹریوں اور ورکشاپوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ غربت اور معاشی بدحالی ہے۔
    حقائق سے آگاہی کے باوجود حکومتی خاموشی ایک المیہ ہے۔

    پاکستان میں وہ ادارے جو مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے ہیں، خود مزدوروں کے استحصال میں برابر کے شریک ہیں۔
    لیبر ڈیپارٹمنٹ، ای او بی آئی، سوشل سیکیورٹی جیسے ادارے جو مزدوروں کی فلاح کے لیے بنائے گئے تھے، بدعنوانی، سیاسی مداخلت اور عدم دلچسپی کی وجہ سے اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو چکے ہیں۔

    لیبر انسپکٹرز، سوشل سیکیورٹی افسران اور دیگر سرکاری اہلکار اکثر رشوت لے کر قانون شکنی پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔
    اس کے نتیجے میں فیکٹری مالکان اور ٹھیکیدار قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اور جب مزدور آواز بلند کرتا ہے تو اس کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔

    پاکستان میں اگرچہ متعدد لیبر قوانین موجود ہیں، جیسے کہ کم از کم اجرت، کام کے اوقات اور کام کی جگہ پر تحفظ، مگر ان قوانین کا نفاذ نہایت سست اور غیر مؤثر ہے۔

    مزدوروں کی اکثریت ان قوانین سے ناواقف ہے، اور جب ان کا استحصال ہوتا ہے تو وہ خوف یا مایوسی کی وجہ سے شکایت درج کروانے سے گریز کرتے ہیں۔

    سیاسی مداخلت نے ریاستی اداروں کو کمزور اور بدعنوان بنا دیا ہے۔
    مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے اکثر کارکنوں کو سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کی شکایات کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔

    پاکستان میں مزدوروں کے حقوق کا تحفظ ایک سنگین قومی مسئلہ ہے جسے مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    مزدور کا حق ہے کہ اسے مناسب اجرت، محفوظ کام کا ماحول، اور سوشل سیکیورٹی کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔
    یہ وہ بنیادی حقوق ہیں جنہیں یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    مزدوروں کو اپنی یونینز بنانے کا مکمل حق دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اجتماعی طور پر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر سکیں۔
    لیبر قوانین کو مزید مؤثر بنایا جائے اور ان پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مزدوروں کا استحصال روکا جا سکے۔

    حکومتی اداروں میں سیاسی مداخلت ختم کی جائے تاکہ مزدوروں کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور ان کے حقوق محفوظ ہوں۔

    پاکستان کا مزدور طبقہ، اگرچہ ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، مگر اس کا استحصال اتنی شدت سے ہو رہا ہے کہ اس کے حقوق و فلاح کے لیے بنائے گئے قوانین صرف کاغذوں تک محدود رہ گئے ہیں۔

    حکومت کی خاموشی اور اداروں کی کرپشن نے مزدوروں کے لیے انصاف کے دروازے بند کر دیے ہیں۔
    مزدور کا استحصال تب تک جاری رہے گا جب تک حکومت اور ادارے اس مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کر کے مؤثر اقدامات نہیں کرتے۔

    اگر یومِ مزدور کے حوالے سے ایک مختصر جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں یومِ مئی کے دن "مزدور کام پر، اور افسر چھٹی پر” ہوتا ہے۔ یہ ایک کھلا تضاد ہے۔

    پاکستان کے اکثر کارخانوں اور فیکٹریوں میں آج بھی مزدور 12 گھنٹے ڈیوٹی کے بدلے صرف 25,000 روپے ماہانہ پر کام کرنے پر مجبور ہے، جب کہ سرکاری سطح پر 8 گھنٹے کے عوض 37,000 روپے تنخواہ مقرر کی گئی ہے۔

    زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو لیبر قوانین کا جنازہ خود لیبر ڈیپارٹمنٹ بڑی دھوم سے نکال رہا ہے اور مزدور کی آواز دبانے کے بدلے "لفافہ ازم” کو ترجیح دیتا ہے۔

    حکومتِ وقت کو اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا:
    کیا مزدور کی پنشن دس ہزار روپے کافی ہے؟
    کیا مزدور کو لیبر قوانین کے مطابق سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں؟
    کیا آئی ایل او (ILO) کے تحت مزدور اپنا حق حاصل کر رہا ہے؟
    کیا لیبر ڈیپارٹمنٹ بغیر رشوت مزدوروں کو حقوق فراہم کر رہا ہے؟
    کیا ای او بی آئی کے تمام حقوق واقعی سب کو مل رہے ہیں؟

    زمینی حقائق یہی ہیں کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ مزدوروں کا خون چوس رہا ہے، اور اس کی مثالیں اربوں روپے کی کرپشن سے جڑی کہانیوں کی صورت میں موجود ہیں۔

    آئیں، آج ہم یہ عہد کریں کہ ہم مزدور کو وہ بنیادی حقوق دیں گے جو پاکستانی آئین اور قوانین کے مطابق اس کا حق ہیں۔
    مگر یاد رکھیں، ہر حکومت اور اپوزیشن پارٹی لفظ "کریں گے” کے نام پر مزدور کو دہائیوں سے دھوکہ دیتی آئی ہے۔
    اور یہی ہے آج کا یومِ مئی۔

  • درخت لگائیں، پاکستان بچائیں

    درخت لگائیں، پاکستان بچائیں

    درخت لگائیں، پاکستان بچائیں
    تحریر : جلیل احمد رند
    موسمیاتی تبدیلی آج دنیا کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے اور پاکستان سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ممالک میں شامل ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، سیلاب اور خشک سالی پہلے ہی لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان خطرات سے لڑنے کے لیے ایک طاقتور حل ہماری زمین میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانا ہے۔

    درخت ماحولیات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں، تازہ آکسیجن فراہم کرتے ہیں، ہوا کو ٹھنڈا کرتے ہیں، اور مٹی کے کٹاؤ کو روکتے ہیں۔ جنگلات سیلابوں اور طوفانوں کے خلاف قدرتی رکاوٹوں کے طور پر بھی کام کرتے ہیں، جو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کثرت سے ہوتے جا رہے ہیں۔

    بدقسمتی سے، پاکستان خطے میں جنگلات کی سب سے کم شرحوں میں سے ایک رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کے کل رقبے کا صرف 5 فیصد حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے۔ یہ عالمی اوسط سے بہت کم ہے اور ملک کو موسمیاتی تبدیلی کے نقصان دہ اثرات سے زیادہ بے نقاب کرتا ہے۔

    اس پر قابو پانے کے لیے ہمیں پورے پاکستان میں درخت لگانے کی ایک قومی تحریک کی ضرورت ہے۔ بڑے شہروں سے لے کر دور دراز کے دیہات تک، سب کو اس میں حصہ لینا چاہیے۔ اسکولوں، برادریوں، کاروباروں اور سرکاری تنظیموں کو سبز جگہوں کو بڑھانے اور جنگلات کی بحالی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ "بلین ٹری سونامی” اور "دس بلین ٹری سونامی” پروگرام جیسے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر شجرکاری ممکن ہے، بشرطیکہ سیاسی عزم اور عوامی شرکت موجود ہو۔

    درخت لگانا صرف ماحولیاتی ذمہ داری نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل میں ایک سرمایہ کاری بھی ہے۔ ایک سرسبز پاکستان کا مطلب ہے آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند، محفوظ اور زیادہ خوشحال ملک۔

    آئیے، اپنے آنے والے کل کو بچانے کے لیے آج درخت لگائیں!

  • پاکستان ترکیہ تعلقات

    پاکستان ترکیہ تعلقات

    پاکستان ترکیہ تعلقات
    ضیاء الحق سرحدی، پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    گزشتہ دنوں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی صدارتی محل میں ترکیہ کے صدر طیب اردوان سے ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ نے توانائی، معدنیات اور آئی ٹی شعبہ میں تعاون پر اتفاق جبکہ انقرہ نے دفاعی شعبے میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے 13 فروری 2025ء کو اسلام آباد میں منعقدہ 7 ویں اعلیٰ سطح اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل کے فیصلوں کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا اور پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کثیر جہتی دو طرفہ تعاون کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور صدر اردوان نے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال اور قومی مفاد کے امور پر ایک دوسرے کی حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں انسانی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور متاثرہ آبادی کو انسانی امداد کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ صدر اردوان نے فلسطین کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت اور انسانی امداد کو سراہا۔ خطے میں امن، استحکام، ترقی اور خوش حالی کو فروغ دینے کے لیے پاکستان اور ترکیہ میں اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی صدر طیب اردوان سے ملاقات دو طرفہ تعلقات، پاکستان میں سرمایہ کاری کے عمل، دہشت گردی کے سدِ باب، دفاعی تعاون اور غزہ میں پیدا شدہ انسانی المیے کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

    پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی اور مثالی تعلقات مشترکہ مذہب، ثقافت، لسانی رابطے مضبوط بنیاد پر استوار اور دونوں ممالک میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں سے مبرا ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کا رشتہ صدیوں پرانا اور گہرا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف تاریخی تعلقات ہیں بلکہ سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی میدان میں بھی ایک مضبوط رشتہ قائم ہے۔ گزشتہ 75 سالوں کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا ہمیشہ ساتھ دیا ہے۔ ترکیہ اور پاکستان کے رہنماؤں کے درمیان تعلقات ہمیشہ ہی خوشگوار رہے ہیں، لیکن اردوان اور شہباز شریف کی ذاتی دوستی نے اس رشتے کو ایک نیا معنی دیا ہے۔ دونوں رہنما ایک دوسرے کی قیادت کی قدر کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ملک کے مفادات کے لیے ایک مضبوط حمایت کا نشان ہیں۔ اردوان اور شہباز شریف کے تعلقات میں جو خاص بات ہے وہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے تجربات اور کامیابیوں کا احترام کرتے ہیں۔ شہباز شریف نے کئی بار اردوان کی قیادت اور ترکیہ کی ترقی کی تعریف کی ہے اور ان کے ساتھ تعاون کے امکانات کو ہمیشہ اہمیت دی ہے۔ دوسری طرف اردوان نے بھی پاکستان کے معاشی چیلنجز میں اس کی مدد کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ہمیشہ اپنے ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔

    پاکستان اور ترکیہ جموں و کشمیر اور شمالی قبرص سمیت بنیادی قومی مفاد کے تمام معاملات پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان میں حکومت کسی کی بھی ہو، اس کے ترکی کے ساتھ تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں۔ تجارت سے لے کر فوجی تربیت اور فوجی معاہدوں تک دونوں ممالک ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ نے ہمیشہ ایک دوسرے کے علاقائی تنازعات میں بھی حمایت کی ہے۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو آرمینیا کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا ہے۔ پاکستان، ترک اتحادی آذربائیجان کی جانب سے ناگورنوکرباخ کے متنازعہ علاقے پر دعوے کی بھی حمایت کرتا ہے۔ جواب میں ترکی کھلم کھلا کشمیر کی اتنی حمایت کرتا ہے کہ وہ بھارت کو برہم کرتی ہے کیونکہ وہ کشمیر کو اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے اور اردوان کی حمایت کو کھلے عام مداخلت قرار دیتا ہے۔ دونوں ممالک کا فلسطین کے تنازعے پر بھی موقف یکساں ہے۔ پاکستان اور ترکیہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر بارہا یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ کسی ایسے سیاسی تصفیے کی حمایت نہیں کرتے جو فلسطینی عوام کی حمایت نہ کرتا ہو۔

    پاکستان، ترکیہ کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھا کر عالمی سطح پر کئی کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔ اسی طرح ترکیہ بھی پاکستان کے ساتھ تعاون کر کے کئی مسائل و مشکلات سے عہدہ برآ ہو سکتا ہے۔ ملک کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ سابق حکومتیں دوست ممالک، بالخصوص خلیجی ریاستوں، ترکیہ کے ساتھ انتہائی گہرے دوستانہ تعلقات میں پوشیدہ صلاحیتوں کو پوری طرح کھولنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں، لیکن وزیرِ اعظم شہباز شریف کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے باہمی فائدہ مند معاشی شعبے سے بھرپور مستفید ہونے کے لیے دفاعی اہداف کے ساتھ ساتھ معاشی اہداف کو بھی اپنی اولین ترجیح بنا رکھا ہے۔

    حکومت پڑوسیوں، علاقائی شراکت داروں اور دوست ممالک پر بھرپور توجہ مبذول کر کے معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان میں ترکیہ کے سرمایہ کاروں نے بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اسی طرح پاکستانی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد ترکیہ میں کاروبار کر رہی ہے اور وہاں کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے پاس ترقی کے لیے وسائل موجود ہیں۔ اگر وہ تعمیر و ترقی کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی کریں اور اس پر عمل درآمد کا شفاف نظام بنائیں تو دونوں ملک آنے والے چند برسوں میں ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے۔ پاکستان کی معیشت کو اس وقت سیاسی استحکام اور سرمائے کی اشد ضرورت ہے۔ ترکیہ اور عرب ممالک سرمائے کی کمی کو پورا کرنے میں بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    پاکستان اور ترکیہ کے سامنے اس وقت دو مرکزی چیلنج ہیں، ایک تجارت اور دوسرا اقتصادی سرمایہ کاری۔ ان گنت ایسی ترک کمپنیاں ہیں جو پاکستان میں کام کرنا چاہتی ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان متعدد شعبوں میں شریک کار ہیں، خصوصاً دفاعی حوالے سے۔ ان گہرے تعلقات سے ہم مزید فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور پاکستان کی زراعت کو جدید بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لیے ترکیہ کی زرعی ترقی و صنعت سازی سے مستفید ہوا جا سکتا ہے اور اسی طرح تعلیم و تحقیق کے شعبوں میں بھی تعاون کی وسیع تر گنجائش موجود ہے۔ ترکیہ اگلے دو تین سالوں میں پاکستان کے ساتھ باہمی تجارت کو فروغ دے کر کم از کم پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کا خواہاں ہے کیونکہ تجارت کا موجودہ حجم دونوں ممالک کی اصل صلاحیت سے بہت کم ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ نجی کاروباری طبقے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ترکیہ کے ساتھ تجارت کو بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ پاکستان کے پاس اس ضمن میں سیکھنے اور تعاون کے لیے بہت کچھ ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کی بڑی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے امید کی جا سکتی ہے کہ دونوں ممالک مل کر بہت سی چیزیں حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان ترکیہ سے جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً زراعت اور تعلیم کے شعبے میں بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ ہمارے پالیسی ساز اگر ایک دوسرے سے تیز رفتاری سے تعاون بڑھائیں تو پاکستان معاشی، اقتصادی اور صنعتی لحاظ سے ملک کو مضبوط بنانے کی اس منزل کو چند سالوں میں چھو سکتا ہے، جس کا خواب ہر پاکستانی دیکھتا ہے۔

  • پہلگام ڈرامہ،  ” کھرا سچ”مبشر لقمان کا واضح پیغام.تحریر:نور فاطمہ

    پہلگام ڈرامہ، ” کھرا سچ”مبشر لقمان کا واضح پیغام.تحریر:نور فاطمہ

    بھارت میں مودی سرکار اپنی ناکامیوں، ظلم و جبر، کرپشن اور انتہاپسندانہ پالیسیاں چھپانے کی کوشش کرتی ہے تو ایک نیا ڈرامہ رچایا جاتا ہے، کبھی پلوامہ، کبھی اوڑی، اور اب "پہلگام”لیکن اس بار بھارت کو منہ کی کھانا پڑی، کیونکہ پاکستان نے نہ صرف ہر الزام کا دنداں شکن جواب دیا بلکہ اتحاد، جرأت اور حب الوطنی کی ایک ایسی مثال قائم کی کہ دشمن کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو گیا۔ بھارت نے حسبِ عادت انگلی پاکستان کی طرف اٹھائی، تو پاکستانی قوم نے جواب دیا "اگر جنگ مسلط کی گئی تو تمہیں وہ سبق سکھائیں گے جو تمہاری آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی!”افواجِ پاکستان نے کمر کس لی، سیاستدانوں نے اختلافات بھلا کر ایک آواز میں بات کی، میڈیا نے دلیرانہ انداز اپنایا، اور عوام پاکستان نے سوشل میڈیا کو مورچہ بنا کر دشمن کے پراپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا۔

    اس جنگ میں سچائی کے سپاہیوں کی صفِ اول میں ایک نام نمایاں ہے،مبشر لقمان ، وہ اینکر، وہ صحافی، جسے نہ دبایا جا سکتا ہے، نہ خریدا جا سکتا ہے، نہ جھکایا جا سکتا ہے،پہلگام واقعے کے فوراً بعد مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل "مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل” پر مسلسل پروگرامز کر کے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا۔ مودی سرکار کے جھوٹ، بھارتی میڈیا کے جھانسے، آر ایس ایس کے ایجنڈے، اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔ ان کے پروگرام "کھرا سچ” نے وہ سچ دکھایا جو بھارتی عوام سے چھپایا جا رہا تھا۔بھارت، جسے خود کو سب سے بڑی جمہوریت کہنے کا زعم ہے، سچ برداشت نہیں کر سکا۔ مودی سرکار نے مبشر لقمان سمیت کئی پاکستانی صحافیوں کے یوٹیوب چینلز بھارت میں بند کر دیے۔یہ صرف ایک یوٹیوب چینل کی بندش نہیں، یہ آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹنے کی شرمناک کوشش ہے.ایک طرف بھارت دنیا کو آزادی کا سبق دیتا ہے، دوسری طرف سچ سننے کی سکت نہیں رکھتا۔ جو سوال کرتا ہے، جو آئینہ دکھاتا ہے، جو حق بولتا ہے ، اس کی آواز بند کر دی جاتی ہے۔لیکن یاد رکھو مودی،سچ کو دبایا جا سکتا ہے، ختم نہیں کیا جا سکتا

    کھرا سچ کبھی نہیں جھکتا،پاکستان کے دلیر صحافی، عوام اور افواج ایک پیج پر ہیں۔ ہمارا پیغام صاف ہے "اگر تم جنگ چاہتے ہو، تو ہم میدان میں آنے کو تیار ہیں! لیکن سچ سے مت بھاگو، سچ کو سنو”مبشر لقمان جیسے صحافی وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں روشنی کی علامت ہیں۔ اور جب تک ایسے چراغ روشن ہیں، پاکستان کا موقف دنیا تک پہنچتا رہے گا، چاہے تم کتنے ہی چینل بند کرو، کتنے ہی پراپیگنڈے کرو ..”کھرا سچ” ہمیشہ بولے گا، گونجے گا، اور تمہاری نیندیں حرام کرتا رہے گا

    مودی کا سچ پر وار،مبشر لقمان کا چینل بھارت میں بند،پاکستانی صحافیوں کا شدید ردعمل

    بھارت کو "کھرا سچ”ہضم نہ ہوا، مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل بند کر دیا

    پہلگام حملہ، اینکر پرسن مبشر لقمان نے انڈین میڈیا او رحکومت کا جھو ٹ بے نقاب کر دیا

    قصور میں باغی ٹی وی کے دفتر کا مبشر لقمان نے کیا افتتاح

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

  • نکاح کا اعلان میڈیا پر تشہیر کے ساتھ مشروط نہیں،تحریر: رضوانہ چغتائی

    نکاح کا اعلان میڈیا پر تشہیر کے ساتھ مشروط نہیں،تحریر: رضوانہ چغتائی

    اسلام میں نکاح کا اعلان کرنا ایک مؤکد سنت ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف نسب کی حفاظت ہے بلکہ معاشرتی فتنوں اور بدگمانیوں سے بچاؤ بھی ہے۔ نکاح کا اعلان کسی خاص انداز یا میڈیا پر تشہیر کے ساتھ مشروط نہیں۔۔۔۔
    اس کے ساتھ ہی مشہور شخصیات کے نکاح کے معاملے میں یہ اصول اور زیادہ مؤکد ہو جاتا ہے کہ نکاح عام عوام کے علم میں ہو۔۔۔۔
    ایسا شخص اگر اپنی ازدواجی زندگی کو میڈیا کی چمک دمک سے بچا کر رکھتا ہے،۔۔
    اپنی بیویوں اور بچوں کی تصویریں تفصیلات یا نجی معلومات عام نہیں کرتا،
    تو یہ بالکل جائز اور قابل احترام بات ہے۔ بلکہ قابل ستائش ہے۔۔۔۔
    اسلام بھی پردے، رازداری اور گھریلو وقار کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔۔
    لیکن شرط یہ ہے کہ
    نکاح کا وجود،
    عام لوگوں کے علم میں ہو۔۔۔۔ایسا نہ ہو کہ
    نکاح ہی چھپا لیا جائے، ازدواجی رشتہ ہی پوشیدہ رکھا جائے، یا عوام کو علم ہی نہ ہو کہ اس شخص کی شریعت کے مطابق کوئی اور بیوی موجود ہے۔۔۔۔
    سمجھنے کی بات یہ ہے کہ نجی زندگی کو حد میں رکھنا اورنکاح کے وجود کو چھپانا — یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔۔۔۔۔
    اپنی بیویوں اور بچوں کو میڈیا سے دور رکھنا نجی زندگی کے تحفظ کے دائرے میں آتا ہے، اور اسلام پردے، حیاء اور پرائیویسی کو اہمیت دیتا ہے۔ لیکن نکاح کے بارے میں اعلانیہ بتانے کا حکم دیتا ہے کہ کسی قسم کی غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں، اور ذاتی زندگی کو حد میں رکھتے ہوئے عزت و وقار کے ساتھ گزارا جائے۔۔۔۔۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نکاح کو علانیہ کرو، اور اسے مسجد میں انجام دو اور دف بجاؤ۔” (ترمذی، ابن ماجہ)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کا مقصد صرف دو افراد کا باہم رشتہ قائم کرنا نہیں، بلکہ معاشرت میں ایک پاکیزہ تعلق کو واضح اور اعلانیہ بنانا بھی ہے۔ اگر نکاح چھپایا جائے تو نہ صرف شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں بلکہ بعض اوقات بڑے فتنوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اسی لیے نکاح کا اعلان ایک اسلامی حکمت ہے تاکہ معاشرتی نظام سلامت رہے اور لوگوں کے درمیان اعتماد اور شفافیت قائم ہو اور بے جا قیاس آرائیاں نہ پھیلیں۔۔۔۔

    لیکن ساتھ ہی میں اس رویے کی مذمت کرتی ہوں کہ سلیبرٹیز کی ذاتی زندگی، ان کی فیملی اور بالخصوص ان کی اولاد کے بارے میں زبان درازی یا منفی گفتگو نہ کی جائے۔ میں دوبارہ اس رویے کی بھرپور مذمت کرتی ہوں کہ کسی کی اولاد کو اچھا یا برا کہہ کر جج کیا جائے یا ان کی تربیت پر طعن کیا جائے۔۔۔۔
    اولاد کسی بھی انسان کا سب سے نازک معاملہ ہوتی ہے اور ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی اولاد کو بہترین تربیت دے۔ ہم ظاہر کو دیکھ کر کسی کے معاملات کے اندرونی پہلوؤں کا مکمل احاطہ نہیں کر سکتے، اس لیے کسی کی اولاد کے کردار یا تربیت پر گفتگو کرنا بدگمانی اور غیر ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے، جس سے اسلام نے منع فرمایا ہے۔۔۔۔۔۔
    ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زبان اور قلم کی نوک کی تراش خراش نرمی سے کریں۔۔۔۔ اور دوسروں کے نجی معاملات میں تنقید سے پرہیز کریں۔ اصلاح اگر کرنی ہو تو اصولوں پر بات کی جائے، افراد کی ذاتیات میں اتر کر نہیں۔ یہی اسلامی اخلاق اور مہذب معاشرت کا تقاضا ہے۔۔۔۔!!!

  • دہشت گرد کون؟ مودی، آر ایس ایس یا مسلمان؟

    دہشت گرد کون؟ مودی، آر ایس ایس یا مسلمان؟

    دہشت گرد کون؟ مودی، آر ایس ایس یا مسلمان؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    25 اپریل 2025 کو بھارت کے معروف سابق بیوروکریٹ، سابق رکنِ راجیہ سبھا اور آل انڈیا ریڈیو و دوردرشن کے سابق سی ای او جوہر سرکار نے ایک ایسی ٹویٹ کی جو محض ایک بیان نہیں بلکہ بھارتی سماج کے بگڑتے ہوئے مزاج پر ایک گہرا سوال بن کر ابھری۔ یہ ٹویٹ وادیٔ کشمیر کے خوبصورت مقام پہلگام میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کے پس منظر میں کی گئی، جہاں کچھ غیر مسلم سیاح دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ حملے کے دوران جن لوگوں نے ان سیاحوں کو بچایا، حملے کے دوران سب سے پہلے جان دینے والا ایک مسلمان تھا،زخمیوں کو اپنی پیٹھ پر لاد کر محفوظ مقام تک پہنچایا، ابتدائی طبی امداد دی، ایمبولینسیں چلائیں، ہسپتالوں میں علاج کروایا اور پھر سری نگر تک ان کی بحفاظت روانگی کو یقینی بنایا، وہ سب مسلمان تھے۔ جوہر سرکار نے نہایت درد مندی سے لکھا کہ ان سیاحوں کو پہلگام لانے والے ڈرائیور مسلمان تھے، جن ہوٹلوں میں وہ رکے وہ مسلمان چلا رہے تھے، ان کے کھانے کا بندوبست مسلمانوں نے کیا، ان کی سیر کا اہتمام مسلمانوں نے کیا، اور جب خطرہ آیا تو وہی مسلمان آگے بڑھے اور اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر ان سیاحوں کو بچایا۔ اس تمام واقعے کے باوجود بھارت کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک ہی فقرہ گردش کرتا رہا کہ "تمام مسلمان دہشت گرد ہیں۔”

    یہ فقرہ صرف بھارتی مسلمانوں کی توہین نہیں بلکہ بھارت کے اس سیکولر اور جمہوری چہرے پر بدنما داغ ہے جسے دنیا کبھی گاندھی، نہرو اور امبیڈکر جیسے رہنماؤں کے نظریات کی روشنی میں دیکھتی تھی۔ مگر آج بھارت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں نفرت اور فرقہ واریت کو نظریاتی بنیاد فراہم کرنے والی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور اس کے سیاسی بازو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پورے سماج میں زہر گھول دیا ہے۔ آر ایس ایس جو بھارت کو ایک خالص ہندو ریاست بنانے کا خواب دیکھتی ہے، برسوں سے مسلمانوں کو ایک "اندرونی دشمن” کے طور پر پیش کرتی آئی ہے۔ ان کے نظریہ ساز ایم ایس گوالوالکر نے اپنی کتاب "Bunch of Thoughts” میں واضح طور پر کہا تھا کہ مسلمان، عیسائی اور کمیونسٹ بھارت کے لیے خطرہ ہیں اور یہی فکر اب بی جے پی کی حکومتی پالیسیوں میں جھلکتی ہے۔

    مودی سرکار کے قیام کے بعد اس بیانیے کو ادارہ جاتی تحفظ ملا۔ گائے کے گوشت کے نام پر ہجومی تشدد کے واقعات، "لو جہاد” کا جھوٹا پروپیگنڈا، تبلیغی جماعت کو کووڈ-19 کا ذمہ دار ٹھہرانا، شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور این آر سی جیسے اقدامات اور دہلی فسادات میں مسلمانوں کو نشانہ بنانا ، یہ سب اس بات کے ثبوت ہیں کہ بی جے پی حکومت نے آر ایس ایس کے نظریے کو ریاستی پالیسی کی صورت دے دی ہے۔ 2002 کے گجرات فسادات میں مودی کا کردار آج بھی عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنتا ہے مگر بھارت کے اندر انہیں ایک "فیصلہ کن رہنما” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، چاہے اس کی قیمت کروڑوں بھارتی مسلمانوں کے حقوق اور سلامتی سے کیوں نہ چکائی گئی ہو۔

    میڈیا جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں ریاست کا احتساب کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے، بھارت میں نفرت کا سب سے بڑا سہولت کار بن چکا ہے۔ معروف نیوز اینکرز حب الوطنی کے نام پر مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ 2020 میں تبلیغی جماعت کے خلاف جھوٹا بیانیہ تیار کر کے انہیں "وائرس بم” قرار دیا گیا اور ایک منظم مہم کے ذریعے پورے ملک میں مسلمانوں کو کورونا پھیلانے والا قرار دے دیا گیا۔ بعد ازاں عدالتوں نے ان الزامات کو جھوٹا قرار دیا مگر تب تک جو نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔ 2023 میں بین الاقوامی اداروں اور صحافتی تنظیموں نے بھارتی میڈیا پر الزام لگایا کہ وہ اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیزی کو فروغ دے رہا ہے اور کئی اداروں نے بھارتی نیوز چینلز کا بائیکاٹ کیا۔ یہ سب کچھ ایک ایسے ملک میں ہو رہا ہے جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔

    ایسے ماحول میں پہلگام کے مسلمانوں کا کردار اس اندھیرے میں امید کی ایک کرن ہے۔ اگر مسلمان واقعی دہشت گرد ہوتے تو وہ غیر مسلم سیاحوں کو بچانے کے بجائے انہیں نقصان پہنچاتے مگر انہوں نے یہ ثابت کیا کہ انسانیت، ہمدردی اور قربانی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ وہ اقدار ہیں جو کسی بھی باشعور فرد کے ضمیر سے پھوٹتی ہیں۔ ان لوگوں نے نہ صرف جانیں بچائیں بلکہ بھارت کو ایک پیغام دیا کہ سچائی کیا ہے اور کون اصل محب وطن ہے۔ ان کی قربانیاں صرف انسان دوستی کی نہیں بلکہ بھارت کی اجتماعی بیداری کی ایک کوشش تھیں۔

    مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارت کے اکثریتی معاشرے نے ان مسلمانوں کی قربانیوں کو سراہنے کے بجائے ایک مرتبہ پھر وہی پرانا راگ الاپنا شروع کیاکہ "تمام مسلمان دہشت گرد ہیں۔” یہ جملہ دراصل بھارت کے بکھرتے ہوئے ضمیر کی عکاسی ہے۔ سچ یہ ہے کہ مسلمانوں نے ہر بحران میں بھارت کا ساتھ دیا، چاہے وہ 2008 کے ممبئی حملے ہوں یا کووڈ-19 کی وبا، مگر پھر بھی انہیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ دہلی اقلیتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران مسلمانوں نے خوراک، طبی امداد اور بنیادی ضروریات کی ترسیل میں اہم کردار ادا کیا، باوجود اس کے کہ انہیں روکا گیا، دھمکایا گیا اور نشانہ بنایا گیا۔

    جوہر سرکار کی ٹویٹ صرف ایک سوال نہیں بلکہ بھارت کے ضمیر کے لیے ایک آئینہ ہے۔ یہ آئینہ ہم سے سوال کرتا ہے کہ کیا بھارت میں کوئی سچ کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے؟ کیا بھارتی یہ ماننے کو تیار ہیں کہ دہشت گردی کسی مذہب کی شناخت نہیں بلکہ ایک ذہنیت کا نام ہے؟

    یہ لمحہ بھارت کے لیے فیصلہ کن ہے۔ اگر اب بھی سچائی، انسانیت اور عدل کو نہ اپنایا گیا تو وہ دن دور نہیں جب بھارت کے زخم صرف اقلیتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا ملک ان کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ جوہر سرکار جیسے لوگوں کی آواز کو آگے بڑھانا ہوگاکیونکہ سچ بولنے کی ہمت وہی کرتے ہیں جن میں انسانیت اورانسانی اقدار زندہ ہوتی ہے اور عالمی اداروں کو بھارتی سرکار کی مکاریوں ،ظلم وبربریت کا نوٹس لینا ہوگا ورنہ آرایس ایس کے ہندوتواکے زیراثر مودی اینڈ کمپنی دنیا کا امن تباہ برباد کردےگی.

  • ‏مہنگائی نے عوام کو سولی پر لٹکا دیا.تحریر: زرلش کشمیری

    ‏مہنگائی نے عوام کو سولی پر لٹکا دیا.تحریر: زرلش کشمیری

    اسلامی جمہوریہ پاکستان، وہ عظیم ریاست جسے قربانیوں اور جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیا، آج مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کے عفریت کے شکنجے میں جکڑی جا چکی ہے،ایک ایسا ملک جہاں کبھی خوشحالی کے خواب دیکھے جاتے تھے، اب ہر طرف مایوسی کے سائے چھا چکے ہیں،گزشتہ چند برسوں میں مہنگائی کی شرح اس قدر تیزی سے بڑھی ہے کہ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے،پہلے کے ادوار میں اگرچہ مشکلات تھیں، مگر ہر طبقے کے افراد کسی نہ کسی طرح اپنا نظام زندگی چلا لیتے تھے،آج صورتحال یہ ہے کہ متوسط طبقے کے افراد، بلکہ خوشحال خاندان بھی بنیادی ضروریاتِ زندگی کے لیے تڑپتے نظر آتے ہیں،معیشت زوال پذیر ہے اور ہر گزرنے والا دن عوام پر مزید بوجھ ڈال رہا ہے

    بدقسمتی سے ہمارے حکمران، جو عوام کی بہتری کے وعدے لے کر اقتدار میں آتے ہیں، خود عوامی مسائل کے بوجھ میں اضافہ کر رہے ہیں،ان کے پاس اختیار بھی ہے اور وسائل بھی، مگر بدانتظامی اور خود غرضی کے سبب ان کا درست استعمال نہیں ہو رہا،اگر وہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کریں تو نہ صرف موجودہ بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ پاکستان بھی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکتا ہے

    آج ملک میں صرف انسان کی جان ہی ارزاں رہ گئی ہے،زندگی کی ہر ضرورت مہنگی ہو چکی ہے۔ وہی روٹی، جو کبھی پانچ روپے میں دستیاب تھی، اب پچیس روپے میں ملتی ہے،روزمرہ کی اشیائے خوردونوش عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں،غربت اور بے روزگاری کی شرح دن بدن بڑھتی جا رہی ہے،سوال یہ ہے کہ وہ محنت کش، جو اپنی عزت نفس کے ساتھ جینے کی کوشش کرتا ہے
    آخر اس کمر توڑ مہنگائی میں کس طرح اپنے بچوں کا پیٹ پالے؟
    یہی صورتحال ہمیں صلاح الدین ایوبی کے اس دردناک قول کی یاد دلاتی ہے:
    "جہاں روٹی مزدور کی تنخواہ سے مہنگی ہو جائے، وہاں دو چیزیں سستی ہو جاتی ہیں: عورت کی عزت اور مرد کی غیرت۔”
    یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت کی عکاسی ہے
    اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے اور اصلاح احوال کے لیے عملی اقدامات نہ کیے تو خدانخواستہ وہ وقت دور نہیں جب حالات مزید ابتری کی طرف چلے جائیں گے
    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران طبقہ اپنی ذمہ داریاں سمجھے سنجیدگی سے معیشت کو سنبھالنے کے لیے منصوبہ بندی کرے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے.
    کیونکہ جب عوام کا اعتماد اٹھ جاتا ہے تو پھر ریاستیں صرف جغرافیائی نقشوں پر باقی رہ جاتی ہیں دلوں میں نہیں

  • یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن

    یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن

    یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن
    ضیاء الحق سرحدی، پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    پاکستان میں مزدوروں کا عالمی دن یکم مئی کو منایا جاتا ہے۔ اس کا فیصلہ 1972ء کو کیا گیا تھا کہ اس دن کو منایا جائے اور عام تعطیل کی جائے۔ مختلف ممالک میں یہ دن دوسری تاریخوں میں بھی منایا جاتا ہے۔ مثلاً امریکہ اور کینیڈا میں ستمبر کے پہلے سوموار کو منایا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی اہمیت اس تحریک میں ہے جس میں آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے تفریح اور آٹھ گھنٹے آرام کی پالیسی اپنانے کی استدعا کی گئی تھی۔ پاکستان میں یکم مئی کو عام تعطیل ہوتی ہے۔ اس دن کی مناسبت سے کوئی خاص نشان نہیں ہے بلکہ پوسٹرز اور دیگر جگہوں پر ہتھوڑے اور درانتی کے نشان کو علامت سمجھا جاتا ہے۔

    پاکستان عالمی مزدوروں کی تنظیم آئی ایل او کا 1947ء سے ممبر ہے جو انصاف اور معاشرتی حقوق کے تحفظ کا پرچار کرتی ہے۔ اس وقت مزدوری کا تعین پندرہ سو روپے یومیہ تک ہے لیکن کام کروانے والے لوگ ہزار، بارہ سو سے اوپر نہیں دیتے۔ ان کی مجبوری اور اس بات کا احساس نہیں کیا جاتا کہ ان کا بھی خاندان ہے اور ضروریاتِ زندگی ہیں جن کو پورا کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ مغرب کی ترقی کا راز یہی ہے کہ انہوں نے ہنر اور کام کی قدر کی ہے۔ یہ نہیں دیکھا کہ کام کرنے والا کون ہے، کہاں رہتا ہے اور اس کی ذاتی حیثیت اور حالات کیسے ہیں۔ ایک مزدور کو بھی ہر وہ سہولت حاصل ہے جو دوسرے لوگوں کو ہے۔

    طبقے تو ہر ملک اور معاشرے میں ہوتے ہیں لیکن مواقع فراہم کرنا کہ محنت کرنے والا اور ہنر مند بھی کسی مقام پر پہنچے اور اپنے خاندان کو بنیادی سہولت فراہم کرے، ضروری ہے۔ مزدور کو پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دینے کا حکم ہے۔ اسی سے محنت اور مزدوری کی قدر و منزلت کا اندازہ ہوتا ہے۔

    پاکستان عالمی ادارہ آئی ایل او کا باقاعدہ ممبر ہے اور ILO کی قراردادوں پر دستخط کرنے کے بعد پابند ہے کہ ملک بھر میں مزدوروں کی فلاح و بہبود، یونین سازی کا حق سمیت مزدوروں کی بہتری کے لیے قانون بنائے جو ILO قوانین کے متصادم نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں وزارت محنت، سوشل سیکیورٹی، محکمہ لیبر کے تحت لیبر کورٹس، پیلنٹ لیبر ٹربیونلز، قومی صنعتی تعلقات کمیشن (NIRC) کے ادارے قائم ہیں۔

    افسوس یہ ہے کہ یہ ادارے بھاری بھر کم مراعات لے کر بھی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے ہیں۔ حالانکہ یکم مئی مزدور ڈے ہوتا ہے، ملک بھر کے سرکاری ادارے، عدلیہ، بیوروکریسی چھٹی مناتی ہے مگر مزدور طبقہ یا درجہ چہارم کے سرکاری ملازمین کو حقیر ترین مخلوق سمجھا جانے لگا ہے۔ ان کے لیے انصاف اور حقوق مشکل تو پہلے بھی تھے مگر اب ناممکن بنا دیے گئے ہیں۔

    اس وقت ملک بھر سے 1600 سے زائد صنعتی ادارے بغیر قانونی تقاضے پورے کیے بند کر دیے گئے ہیں، جس سے ملک بھر کے مزدور بے روزگار ہو کر بے یار و مددگار، کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جس کی بنا پر ان کے خاندان فاقوں کا شکار ہو گئے ہیں۔

    لیبر قوانین آئی آر اے 2010ء کے تحت اگر کوئی صنعتی ادارہ بند کرنے کی معقول وجہ ہو تو پہلے 50 فیصد مزدوروں کو انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ کے تحت حقوق دے کر فارغ کیا جاتا ہے اور کم از کم چھ ماہ کے اندر باقی 50 فیصد مزدوروں کو حقوق دیے جانے کے بعد صنعتی و سرکاری ادارہ بند کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔

    اس میں محکمہ محنت، پرائیڈنگ آفیسر اور ادارے کی CBA یونین شامل ہوتے ہیں۔ حیرانگی اور دکھ کی بات ہے کہ اس بارے میں اعلیٰ عدلیہ سمیت حکومتی اداروں نے کوئی اقدام کیا ہے، نہ ہی کوئی آواز سینیٹ، قومی یا صوبائی اسمبلیوں سے اٹھائی گئی ہے۔ جبکہ صدرِ مملکت نے حکومت کو انتخابات کے حوالے سے خط لکھا ہے اور عدالتِ عظمیٰ نے بھی انتخابات کے لیے حکم فرما دیا ہے اور کئی پٹیشنیں بھی دائر ہو چکی ہیں۔ ممکن ہے جب یہ تحریر شائع ہو، حالات یکسر بدل چکے ہوں۔

    جن صنعتی اداروں کو بند کیا گیا ہے، اس بارے میں محکمہ لیبر اور لیبر عدالتیں بھی خاموش ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ کو از خود نوٹس لینا چاہئے تھا۔ ملک بھر سے کسی ٹریڈ یونین یا کسی سیاسی جماعت کے لیبر ونگ نے بھی آواز نہیں اٹھائی۔ سب پر اسرار طور پر خاموش ہیں۔

    ٹریڈ یونینز کو ختم کیا جا رہا ہے، حالانکہ مزدوروں کی ویلفیئر اور ٹریڈ یونینز کو تحفظ دینے والے ادارے اور عدالتیں بدستور قائم و دائم ہیں۔ اس کے باوجود مزدوروں کو نہ حقوق ملتے ہیں، نہ ہی مزدوروں اور یونین کے عہدیداروں کی عزتِ نفس کا خیال رکھا جاتا ہے۔

    اس بارے میں صدرِ مملکت، وزیرِاعظم اور نہ ہی پی ٹی آئی کی قیادت کروڑوں بے روزگار ہونے والے مزدوروں سے ناانصافی پر آواز اٹھاتے ہیں کیونکہ مزدوروں کو حقوق سے محروم کرنے والوں کی اکثریت خود اسمبلیوں میں بیٹھی ہے۔

    اور تو اور، سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں بعض اعلیٰ افسران بھی صرف رجسٹرڈ ٹریڈ یونینز کے خلاف ہی سوچتے ہیں، جبکہ ایسوسی ایشنز جن کا ہڑتال، جلسے، جلوس، تالہ بندی کا حق ہی نہیں، وہ آئے روز ہڑتالیں، تالہ بندیاں، جلسے جلوس کرتے رہتے ہیں، انہیں پوچھا تک نہیں جاتا۔

    صنعتی و سرکاری اداروں میں درجہ چہارم کے ملازمین کے ساتھ ہونے والی انتقامی کارروائیوں، افسران اور مالکان کے ستائے مزدور و یونین کے عہدیدار جب مزدوروں کو تحفظ دینے کے لیے قائم اداروں کے پاس جاتے ہیں تو انہیں دھتکارا جاتا ہے اور مزدوروں کو حقیر سمجھتے ہوئے نفرت و حقارت کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی عزتِ نفس مجروح کی جاتی ہے۔

    جس کا ثبوت یہ ہے کہ مزدوروں کے حقوق کے لیے قائم اداروں کی ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو 30 دنوں میں 30 مزدوروں کو بھی حقوق نہیں دلائے گئے ہوں گے۔

    حکومت وقت، خصوصاً وزرائے قانون و انسانی حقوق سے پُرزور اپیل ہے کہ مزدوروں کی بہتری کے لیے قومی صنعتی تعلقات کمیشن (NIRC)، لیبر کورٹس، محکمہ لیبر کو جدید تقاضوں کے مطابق فعال کیا جائے۔

    اس وقت مزدوروں کے خلاف انتقامی کارروائی عروج پر ہے مگر ظالم و جابر کا ہاتھ روکنے والا کوئی مؤثر ادارہ نہیں ہے۔ سروسز ٹربیونلز کے ممبران کو بھی درجہ چہارم کے ملازمین کے خلاف انتقامی کارروائی پر حکمِ امتناعی اور آرڈر معطل کرنے کا اختیار دیا جائے اور ادارے سے اپیل کو ضروری نہ سمجھا جائے، کیونکہ ادارے کے سینئر آفیسر نے بھی وہی کرنا ہوتا ہے جو نچلے افسر نے کیا ہوتا ہے۔

    اس سے کئی ماہ ملازم انتظار کرنے پر مجبور رہتا ہے۔ انصاف میں تاخیر ہی ناانصافی ہے۔ وزارتِ انصاف، انسانی حقوق اس بار نوٹس لے۔ مزدوروں کو انصاف فراہم کرنے والے اداروں کی ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

    جبکہ یوم مئی جو کہ مزدوروں کا دن ہے، بہتر تو یہ ہوتا کہ اس دن پر ان مزدوروں کی بات کی جاتی جو کہ مزدور ہوتے ہوئے بھی مزدور نہیں۔

    حکومت پر دباؤ ڈالا جاتا کہ غیر رسمی مزدور طبقہ کو حکومتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے، کیونکہ مزدوروں کی اتنی بڑی تعداد کو حکومتی ریکارڈ میں لائے بغیر قانون سازی اور حقوق کی باتیں کرنا ہوا میں قلعے بنانے جیسا ہے۔

    اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ رسمی مزدور طبقہ کے معاملات پر بات نہ کی جائے، ضرور کی جائے مگر غیر رسمی مزدور طبقہ کے مسئلہ کو زیرِ بحث لائے بغیر مزدور حقوق کی بات کرنا ہے تو اس دن کا نام بھی "رسمی یومِ مزدور” رکھ لیا جائے۔

    مزدوروں کا عالمی دن منانے کا مقصد یہی ہے کہ ہر سطح پر مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے کا تجدیدِ عہد کیا جائے، انہیں ان کا جائز حق دیا جائے اور انہیں بھی دوسروں کی طرح مواقع فراہم کیے جائیں کہ وہ زندگی میں آگے بڑھیں اور ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی میں شامل ہوں۔