Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بجٹ 26ـ2025، عوامی ریلیف یا مہنگائی کا بوجھ ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    بجٹ 26ـ2025، عوامی ریلیف یا مہنگائی کا بوجھ ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    ماہِ جون کے آغاز کیساتھ ہی عوام کی نظریں نئے مالی سال کے بجٹ پہر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ بجٹ دراصل ایک ایسا میزانیہ ہے۔ کہ جس میں نئے مالیاتی سال کے لئیے تمام تر اخراجات اور کلی آمدنی کے بارے میں تخمینہ سازی کی جاتی ہے۔ اور آمدنی کو مختلف ملکی شعبہ جات کے لئیے مختص کیا جاتا ہے۔
    امسال بھی پاکستان کا وفاقی بجٹ 2 جون کو پیش کرنے کی شنوائی تھی۔ جسے آئی۔ایم۔ایف سے کچھ اہم معاملات طے نہ ہونے کے سبب اجازت نہ مل سکی ۔ جس کی وجہ سے نیاء مالیاتی بجٹ تاخیر سے 10 جون 2025 کو اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرِ صدارت اجلاس میں قائدِ ایوان میاں محمد شہباز شریف کی موجودگی میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیش کیا۔ حسبِ معمول اپوزیشن کا ہنگامہ بھی جاری رہا ۔ اور وزیرِ خزانہ اپنا کام کر کے روانہ ہو گئے۔

    اس بجٹ میں عوام کو حقیقت میں ریلیف حاصل ہوا ہے۔ یا محض اعدادوشمار سے بہلا کر مطمئن کر دیا گیا ؟ جائزہ لیتے ہیں۔
    وزیرِ خزانہ نے پاکستان کا مالی سال 26ـ2025 کے لئیے 17573 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کیا۔ جس میں گروس فیڈرل آمدن کا ہدف 19298 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ نیٹ فیڈرل ریونیو کا تخمینہ 11072 ارب روپے اور اس طرح بجٹ خسارہ 6501 ارب روپے یعنی ٹوٹل GDP کا 5٪ ہے ۔ ایف ۔بی ۔آر ٹیکس وصولی کا ہدف 14130 ارب روپے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5167 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ قرضوں اور ان پہ سود کی ادائیگی کے لئیے قریبا آدھے سے زیادہ بجٹ کا حصہ یعنی 8207 ارب مختص کئے گئے ہیں۔

    تنخواہ در و پنشنر طبقہ جو اسوقت مہنگائی کے بوجھ تلے سب سے زیادہ دباؤ میں ہے۔ بجٹ سے خاصی توقعات وابستہ کئیے بیٹھا تھا۔ اس کو یہ ریلیف دیا گیا۔ کہ فیڈرل ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فی صد اضافہ کیا گیا پے۔ جبکہ پنشن میں اضافے کو کنزیومر پرائس انڈیکس یعنی افراط ء زر کی شرح سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ جبکہ بجٹ تخمینے میں افراطِ زر کی شرح 7.5 فی صد رکھی گئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ کیا واقعی مہنگائی کی شرح اس وقت 7.5 فی صد ہی ہے۔؟؟ گراؤنڈ رییئیلٹیز تو بہت آگے کی بات کر رہی ہیں۔ پیش کردہ اعداد و شمار زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ پنشنز میں 7 ٪ اضافہ انتہائی کم ہے۔ مزید نئی پنشن اصلاحات بھی متعارف کروائی گئیں ہیں۔ جن کے مطابق پنشنر کی وفات کے بعد فیملی پنشن 10 سال تک محدود کرنا اور قبل از وقت ریٹائرمنٹ ایک سخت فیصلہ ہے۔ جب کہ ایک سے زائد پنشنز کا خاتمہ اور ری ٹائرمنٹ کے بعد پنشن اور تنخواہ میں سے کسی ایک کا انتخاب ،ملکی خزانے کے لئیے بہتر تجویز ہے۔

    تخواہوں میں اضافے کی بات کی جائے تو 10 ٪ اضافہ بہت ہی کم ہے۔ اس مہنگائی میں کم سے کم اجرت میں بھی کوئی اضافہ نہ کرنا بھی تکلیف دہ ہے۔ اور وجہ صنعت کو ریلیف دینا بتایا گیا۔ مگر یہ کیسا ریلیف ہے۔ جو صنعتوں کو غریب مزدور و محنت کش سے دلوایا جا رہا ہے۔!!
    وہی ایوان کہ جہاں یہ بجٹ پیش کیا گیا اور جس کی سربراہی اسپیکر صاحب کر رہے ہیں۔ ابھی کچھ ہی دنوں پہلے ان کی اپنی اور چیرمین سینٹ کی تنخواہوں میں 600 گنا اضافہ کیا گیا ہے اور 2 لاکھ سے بڑھا کر 13 لاکھ کر دی گئیں ہیں۔ کیا مہنگائی صرف ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کے لئیے ہی پریشان کن ہے۔؟ یا تنخواہوں میں اس قدر اضافے کی ضرورت صرف انہی کو ہے۔؟؟؟ یا پھر ملازمین و پنشنرز کے صبر کا درجہ زیادہ ہے۔ یا پھر قربانی کی توقع صرف اسی طبقے سے ہی ہے۔ !!!

    وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے۔ "انفراسٹرکچرل ریفارمز کہنا آسان ہے۔ کرنا مشکل ۔” اور آئی۔ایم۔ایف کی ہدایت کے مطابق ترقیاتی بجٹ کا حجم کم کر کے 1 ہزار ارب روپے کر دیا گیا۔ مزید ایچ ۔ای ۔سی کے نئے ترقیاتی منصوبوں کے لئیے بھی 1 ارب روپے مختص کئیے گئے ہیں۔ جبکہ ارکانِ پارلیمان کی ترقیاتی اسکیموں کے لئیے 70 ارب روپے مختص کئیے گئے ہیں۔ انفراسٹرکچرل ریفارمز مشکل ضرور ہوتی ہیں۔ مگر کرنا لازم ہوتی ہیں۔ معاشی ترقی کی طرف آپ تبی جا سکتے ہیں۔ جب آپ کا انفراسٹرکچر بہتر ہو گا۔
    ارکانِ پارلیمان کے جو ہر سال فنڈز مختص کئیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ڈویلپمنٹ بھی نظر آنی چاہئیے۔ مگر فنڈز کہاں جاتے ہیں اور انفراسٹرکچر کیوں نہیں بہتر ہو رہا ، یہ نہیں معلوم!!

    ہیلتھ کی بات کی جائے تو اس کے لئیے 14.3 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جو کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت جاری مشترکہ منصوبوں کے لئیے ہیں۔ جبکہ کوئی بھی نیا منصوبہ یا پروگرام شروع نہیں کیا گیا۔
    تعلیم اور صحت کسی بھی ملک کے اہم شعبہ جات ہیں۔ ان کی ترقی و بہتری کے نئے منصوبے شروع کرنا اور جاری منصوبوں کو مکمل کرنا لازم و ملزوم ہے۔

    اگر ٹیکسوں کی بات کی جائے ۔ تو ٹیکسوں کا حجم بڑھا دیا گیا ہے۔ اور 600 ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جبکہ۔312 ارب روپے کے براہ راست نئے ٹیکس نافذ کئیے جائیں گے۔ سولر پہ 18 فی صد درآمدی ٹیکس ،فون پہ 25 فی صد ، فروزن اشیاء چپس ، آئس کریم ، کولڈ ڈرنکس پہ 5 فی صد ایکسائز ڈیوٹی ،ای کامرس پہ 18 فی صد ٹیکس جبکہ پیٹرول پر 2.50 فی لیٹر لیوی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ بجلی کے سرچارجز میں اضافہ کی کی بھی تجویز ہے۔ یعنی جنرل سیل ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جس کا بوجھ متوسط و نچلے طبقے پہ پڑے گا۔ ایک طرف صنعت میں گروتھ بڑھانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ تو دوسری طرف انرجی و پیٹرول پہ محصولات لگا کر
    قیمتیں بڑھائی جا رہیں ہیں۔ جب صنعت کے لئیے بجلی و پیٹرول ہی مہنگا دستیاب ہو گا۔ تو لازم عنصر ہے۔ کہ پیداوار بھی مہنگی ہو گی۔ جس سے افراطِ زر میں اضافہ ہو گا۔

    عام پروفٹ آن ڈیٹ (Profit on Debt)، یعنی بینک ڈپازٹ اور سیونگ سرٹیفیکیٹس سے حاصل ہونے والے منافع پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 15% سے بڑھا کر 20% کر دی گئی ہے ۔ مزید انکم ٹیکس اور سیل ٹیکس کے لئیے
    Artificial Intelligence Audit Selection System
    کو متعارف کروانے کی تجویز دی گئی ہے۔
    50 ہزار سے زائد رقم نکلوانے پہ ٹیکس کی شرح 0.6٪ سے بڑھا کر 1٪ کر دی گئی ہے۔ جس سے روزانہ کے لین دین کو مہنگا کر دیا گیا ہے۔

    مزید میزانیہ 26ـ2025 میں زراعت کا حجم 4.5 ٪ رکھا گیا ہے۔ مگر زرعی آلات ، بیج و فرٹیلائزرز پہ GGT کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے۔ زراعت کے لئیے نئی اصلاحات بھی نہیں جاری گئیں۔ جو اس وقت کی ضرورت ہیں۔ جیسے زرخیز زرعی زمین کی بے دریغ فروخت اور اس پہ رہائشی کالونیوں کی کنسٹریکشن کی روک تھام وغیرہ۔

    اس وقت پاکستان میں افراطِ زر کیساتھ تعلیمی یافتہ و سکلڈ بیروزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ اور برین ڈرین کی وجہ بن رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف سال 2024 میں قریباً 727,000 افراد جبکہ 2لاکھ ہنر مند و پڑھے لکھے افراد نے وطن کو خیر آباد کہہ دیا۔ مگر بجٹ میں نہ تو پڑھی لکھی افرادی قوت کو کھپانے کی کوئی تجویز زیر ء غور آئی ۔ نہ ہی برین ڈیرین کے خاتمے کے لئیے کوئی منصوبہ بتایا گیا۔
    پورے بجٹ کا جائزہ اور ادارہ شماریات کی رپورٹس بتا رہی ہیں۔ کہ قریباً تمام ضروریاتِ زندگی پہ ٹیکس لگا ہے۔ اور اشیاء عوام خاص طور پہ متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہوئی ہیں۔ درحقیقت جو افراطِ زر کے حالات ہیں اس کے مطابق عوام بلخصوص تنخواہ دار و پنشنر طبقے کو ریلیف نہیں مل سکا۔

  • اوچ شریف: ترنڈ بشارت میں خستہ حال بجلی کا کھمبا انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن گیا

    اوچ شریف: ترنڈ بشارت میں خستہ حال بجلی کا کھمبا انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن گیا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے ترنڈ بشارت میں واقع ضلع کونسل ہیلتھ ڈسپنسری کے قریب نصب بجلی کا خستہ حال کھمبا اہلِ علاقہ کے لیے ایک مستقل جان لیوا خطرہ بن چکا ہے۔ سیمنٹ اور بجری سے بنا یہ کھمبا بری طرح شکست و ریخت کا شکار ہے، جس کے اندر سے آہنی سریے ظاہر ہو چکے ہیں۔ یہ نہ صرف بجلی کی ترسیل میں رکاوٹ بن سکتا ہے بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔

    مقامی شہریوں کے مطابق کھمبا طویل عرصے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، مگر محکمہ واپڈا اور متعلقہ اداروں نے تاحال کوئی مرمتی کارروائی نہیں کی۔ درجنوں خواتین، بچے اور بزرگ روزانہ اس خطرناک کھمبے کے قریب سے گزرتے ہیں، اور کسی بھی لمحے بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔

    علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے اس خستہ حال کھمبے کو تبدیل کیا جائے یا مرمت کی جائے، تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی حادثہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری واپڈا اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہو گی۔

  • ایران.اسرائیل جنگ، بھارتی جاسوسی اور پاکستان کا کردار

    ایران.اسرائیل جنگ، بھارتی جاسوسی اور پاکستان کا کردار

    ایران.اسرائیل جنگ، بھارتی جاسوسی اور پاکستان کا کردار
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تنازعات اور جارحیت کے شعلوں کی لپیٹ میں ہے۔ ایران اور اسرائیل کے مابین حالیہ کشیدگی نے خطے کو عسکری، سفارتی اور جغرافیائی سیاسی لحاظ سے ایک نازک موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے ایران میں موجود بھارتی دہشت گرد نیٹ ورکس کے الزامات نے اس تنازع کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔

    ایران.اسرائیل تنازع کا آغاز اسرائیلی حملوں سے ہوا جن میں پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز اور ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق ان حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی، سابق سربراہ محمد باقری، ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ اور خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے سربراہ غلام علی رشید سمیت کئی اہم شخصیات شہید ہوئیں۔ ساتھ ہی ساتھ جوہری سائنسدانوں جیسے احمد رضا ذوالفقاری دریانی، فریدون عباسی، محمد مہدی تہرانچی، عبدالحمید مینوچھر اور امیر حسین فقہی کی ہلاکت نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو شدید دھچکا پہنچایا۔

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کا مقصد ایران کے جوہری عزائم کو روکنا تھا جو ان کے بقول حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا۔ اسرائیل کی یہ پوزیشن کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کر رہا ہے، عالمی سطح پر شدید تنازع کا باعث بنی کیونکہ ایران ہمیشہ اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا رہا ہے۔

    ان حملوں میں 86 افراد کی شہادت اور 341 کے زخمی ہونے کے بعد ایران نے پراکسی جنگ کے بجائے براہِ راست عسکری ردِعمل کا فیصلہ کیا۔ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے تل ابیب، حیفہ اور جنوبی اسرائیل کے حساس فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے اسرائیل کے فضائی دفاع کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے دعویٰ زمین بوس ہوگیا ۔ یہ حملے نہ صرف عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچانے میں کامیاب رہے بلکہ اسرائیلی عوام کو خوف میں مبتلا کردیا جو ایک واضح پیغام تھا کہ اسرائیل اب خطے میں خود کو غیر محفوظ تصور کرے۔

    اس تناظر میں پاکستان کا کردار نہایت اہم اور قابلِ ذکر ہے۔ پاکستان نے اسرائیلی حملوں کی واضح مذمت کی اور ایران کے "حقِ دفاع” کی کھل کر حمایت کی جو پاکستان کی اس دیرینہ خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے جو فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت، علاقائی خودمختاری اور غیر جانبداری پر مبنی ہے۔ شدید معاشی اور سیاسی دباؤ کے باوجود پاکستان نے عالمی سطح پر ایک اصولی اور مستقل موقف اختیار کیا جو مسلم دنیا کی بڑھتی ہوئی تقسیم کے پس منظر میں ایک جراتمندانہ مثال کے طور پر سامنے آیا۔

    پاکستان اور ایران کے تعلقات جغرافیائی قربت، تہذیبی رشتہ داری اور تاریخی رفاقت پر مبنی رہے ہیں اور افغانستان و بھارت جیسے دیگر ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں ایران سے پاکستان کے روابط نسبتاً مستحکم سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں بعض پیچیدہ عوامل ان تعلقات میں رکاوٹ بنے ہیں، خاص طور پر پاکستان کی جانب سے ایران کو بھارتی دہشت گردی کے ثبوت فراہم کرنے کے باوجود مؤثر کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان اور ایران کے درمیان تناؤ کی کیفیت بھی پیدا ہوئی۔

    پاکستان نے متعدد بار ایران کو بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کے تخریبی نیٹ ورکس کے ثبوت فراہم کیے، جن میں بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری سرفہرست ہے۔ کلبھوشن جو ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوا تھا، نے اپنے اعترافی بیان میں "را” کی پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں میں شمولیت کا اعتراف کیا۔ پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ ایران کی سرزمین کو بھارتی دہشت گردوں نے پاکستان کے خلاف استعمال کیا ،ایران میں پاکستانی مزدوروں کا قتل اور اس کے علاوہ ایران نے ان کے خلاف بروقت اقدام نہ کرکے بلوچستان اور دیگر سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں متعدد پاکستانی شہری شہید ہوئے۔

    پاکستان کا یہ بھی مؤقف ہے کہ اگر ایران نے وقت پر اقدامات کیے ہوتے تو نہ صرف یہ دہشت گرد نیٹ ورکس کمزور ہوتے بلکہ ایران خود بھی اسرائیلی جاسوسی و دہشت گردی سے محفوظ رہ سکتا تھا۔ برطانوی اخبار "گارڈین” کی ایک رپورٹ میں بھی بھارت کے ان نیٹ ورکس کی عالمی سرگرمیوں کا انکشاف کیا گیا، جس میں پاکستان، کینیڈا اور دیگر ممالک میں "را” کی ٹارگٹ کلنگ کی حکمت عملی سامنے لائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق بھارت نے 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد اپنے مخالفین کو بیرون ملک ختم کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی اور اس کے لیے "را” نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی "موساد” اور روسی "کے جی بی” سے تربیت حاصل کی۔

    ایران میں حالیہ گرفتاریوں نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے 73 بھارتیوں کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ علاوہ ازیں یزد شہر میں پانچ ایرانی شہریوں کو حساس تنصیبات کی تصاویر اسرائیل کو بھیجنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ ان واقعات نے پاکستان کے اس دعوے کو تقویت دی کہ بھارت نہ صرف پاکستان بلکہ ایران کے اندر بھی تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

    پاکستان کا یہ واضح موقف ہے کہ بھارت نے ایران کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی اور اسرائیل کے لیے جاسوسی کے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کیا۔ اگر ایران نے پاکستان کے پیش کردہ ثبوتوں پر بروقت توجہ دی ہوتی تو شاید اسرائیلی حملے اور ایرانی کمانڈرز کی شہادت جیسے سانحات روکے جا سکتے تھے۔

    مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے مسلم دنیا کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ خلیجی ریاستیں جو کبھی اسرائیل کے خلاف صف آراء تھیں، اب غیر جانبداری یا خاموشی کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ اس کی وجوہات میں اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی بحالی، امریکی دباؤ اور اقتصادی مفادات شامل ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان نے اصولی موقف اپناتے ہوئے ایران کی حمایت جاری رکھی اور عالمی فورمز پر اس کے حق میں آواز بلند کی، جس سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی استقامت کا اندازہ ہوتا ہے۔

    تاہم پاکستان کو عالمی دباؤ اور خطے میں بدلتے ہوئے سیاسی اتحادوں کا ادراک بھی رکھنا ہوگا۔ ایران.اسرائیل جنگ اور بھارتی دہشت گردیاور جاسوسی کے نیٹ ورکس نے مشرق وسطیٰ کی سیاست کو ایک نئے موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ ایران کی جانب سے کی گئی براہِ راست عسکری کارروائی نے اسرائیل کے ناقابلِ شکست ہونے کے تصور کو ملیامیٹ کردیاہے جبکہ پاکستان کے فراہم کردہ بھارتی دہشت گردی کے ثبوتوں نے عالمی برادری کو خطے کی حساس سیاسی صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

    پاکستان کے لیے یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے، جہاں اسے اپنی سفارتی حکمت عملی کو نہ صرف مزید مستحکم کرنا ہوگا بلکہ عالمی سطح پر بھارتی دہشت گردی اور اسرائیلی خفیہ نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر مہم بھی جاری رکھنا ہوگی۔ ایران کے ساتھ تعاون اور خطے کے استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

    مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی کا انجام کچھ بھی ہو، اس خطے کی سیاسی، عسکری اور سفارتی نوعیت اب ویسی نہیں رہے گی جیسی ماضی میں تھی۔ طاقت کا توازن، اتحادوں کی سمت اور قوموں کی ترجیحات ایک نئی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ اگر مسلم دنیا اب بھی متحد نہ ہو سکی تو آئندہ تصادم صرف ایران و اسرائیل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وہ ہر اس ملک کو اپنی لپیٹ میں لے گا جو آزادی، خودمختاری اور انصاف کی بات کرے گا۔

  • اسرائیلی جارحیت پر ایرانی وار: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

    اسرائیلی جارحیت پر ایرانی وار: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

    اسرائیلی جارحیت پر ایرانی وار: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
    تحریر:سید ریاض جاذب
    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شعلوں کی زد میں ہے۔ اسرائیل کے جارحانہ حملے اور ایران کی براہِ راست جوابی کارروائی نے خطے کو شدید کشیدگی میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ایران نے کھل کر اسرائیل کو نشانہ بنایا اور شاید یہ بھی پہلی بار ہے کہ جب مسلم دنیا اس قدر بٹی ہوئی ہے کہ مؤثر ردعمل سے قاصر نظر آئی ہے۔

    ایران کی یہ کارروائی محض ایک فوجی ردعمل نہیں بلکہ ایک واضح علامتی پیغام ہے کہ اسرائیل اب ہر جگہ غیرمحفوظ ہے۔ ایران نے پراکسی جنگ کے طویل دور سے نکل کر براہِ راست تصادم کا راستہ اختیار کیا ہے، جس نے اسرائیل اور اس کے بین الاقوامی پشت پناہوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

    درجنوں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے اسرائیلی فضائی دفاع کو چیلنج کرتے ہوئے تل ابیب، حیفہ اور جنوبی اسرائیل کو ہدف بنایا۔ برسوں سے ایران کو صرف نعرہ باز یا محدود عسکری طاقت سمجھنے والے اب ششدر ہیں۔ ایرانی حملوں نے اسرائیل کو پہلی مرتبہ یہ احساس دلایا ہے کہ جس آگ کو وہ دوسروں کے گھروں تک پہنچاتا رہا، وہ اس کے اپنے صحن تک بھی آ سکتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق، کئی میزائل اسرائیل کے حساس فوجی مراکز پر لگے، جن سے نہ صرف فوجی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا بلکہ عوامی سطح پر خوف، غیر یقینی اور ذہنی دباؤ میں بھی اضافہ ہوا۔ دنیا کو ایک بار پھر یہ سبق ملا کہ صرف اسلحہ، ٹیکنالوجی یا امریکی حمایت کسی ریاست کو ناقابلِ شکست نہیں بناتی۔

    پاکستان نے اس تمام صورتحال میں جو مؤقف اختیار کیا، وہ عالمی سطح پر محدود سہی، مگر اخلاقی اور اصولی لحاظ سے نہایت اہم ہے۔ اسرائیلی حملے کی کھلے الفاظ میں مذمت اور ایران کے "حقِ دفاع” کی حمایت، کوئی وقتی یا روایتی بیان بازی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی اصولی پالیسی کا تسلسل ہے۔ پاکستان ہمیشہ فلسطینی حقِ خودارادیت، علاقائی خودمختاری اور غیرجانب داری کی بنیاد پر اپنی خارجہ پالیسی کو ترتیب دیتا آیا ہے — اور اس موقع پر بھی یہی روش اختیار کی گئی۔

    ایران سے پاکستان کی ہمدردی صرف سیاسی نہیں بلکہ جغرافیائی، تہذیبی اور معاشرتی قربت پر بھی مبنی ہے۔ افغانستان اور بھارت کے بیچ ایران وہ واحد ہمسایہ ہے جس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نسبتاً مستحکم رہے ہیں، اور یہی رشتہ موجودہ عالمی تناؤ میں ایک متوازن سفارتی حکمت عملی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

    تاہم اہم سوال یہ ہے کہ مسلم دنیا کی اکثریت ایران کے ساتھ کھل کر کیوں نہیں کھڑی؟ خلیجی ممالک، جو کبھی اسرائیل پر سخت مؤقف رکھتے تھے، اب احتیاط، غیر جانبداری یا خاموشی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ اس کی وجوہات میں حالیہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی، خطے میں امریکی اثرورسوخ، اور ان ممالک کی اندرونی اقتصادی ترجیحات شامل ہیں۔

    ایسے میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ معاشی مشکلات کے باوجود اس نے بغیر کسی دباؤ کے واضح پالیسی اپنائی — اسرائیلی مظالم کی مذمت اور ایران کی عسکری کارروائی کو دفاع قرار دیا۔ آج جب بیشتر ریاستیں مفادات کے دباؤ میں خاموشی کو ترجیح دیتی ہیں، پاکستان کی اصولی سیاست ایک مثال بن کر ابھرتی ہے۔

    اسرائیل اور ایران کی موجودہ کشیدگی کا انجام کچھ بھی ہو، یہ طے ہے کہ مشرق وسطیٰ اب ویسا نہیں رہے گا۔ طاقت کے توازن، سیاسی اتحاد اور سفارتی صف بندیاں ایک نئی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ لمحہ فیصلہ کن ہے یہ ایک اصولی مؤقف ہے، دوسری جانب عالمی سفارتی دباؤ۔ یہی وقت ہے کہ پاکستان اپنی پالیسی میں توازن، حکمت اور استقامت کا مظاہرہ کرے۔

    فلسطین، لبنان، شام اور اب ایران سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کا مقصد محض ایک ملک پر حملہ نہیں بلکہ پورے خطے کو غیر مستحکم رکھنا ہے۔ اگر مسلم دنیا اب بھی متحد نہ ہوئی، تو آئندہ جنگ صرف اسرائیل اور ایران کے بیچ نہیں رہے گی بلکہ ہر وہ ملک لپیٹ میں آئے گا، جو انصاف، آزادی اور خودمختاری کی بات کرتا ہے۔

  • اندر کے غدار، باہر کے دشمن اور ہمارے ہاتھوں میں موبائل،تحریر :فیضان شیخ

    اندر کے غدار، باہر کے دشمن اور ہمارے ہاتھوں میں موبائل،تحریر :فیضان شیخ

    ایران میں اس بار سائنسدانوں کی شہادت

    دنیا میں کسی بھی ملک میں سب سے حساس شخصیت -ایرانی آرمی چیف کی شہادت، پھر دیگر کمانڈرز…
    کیا یہ سب اتفاق ہے؟
    نہیں! دشمن کو کہیں نہ کہیں سے اندر کی مدد مل رہی ہے
    اور جب دشمن کو اندر سے مدد ملے، وہ ناقابلِ شکست ہو جاتا ہے

    اسرائیل اور امریکہ کی نظریں صرف ایران پر نہیں…
    بلکہ پورے عالم اسلام پر ہیں!
    اور اس بار جنگ ہتھیاروں سے نہیں، ٹیکنالوجی سے ہو رہی ہے

    آپ کے ہاتھ میں جو فون ہے
    وہی دشمن کی سب سے بڑی آنکھ ہے
    GPS… لوکیشن… کال ڈیٹا… سب کچھ شیئر ہو رہا ہے
    گوگل، ایپل اور AI سسٹمز دشمن کے ہتھیار بن چکے ہیں

    آپ کا فون آپ کا دشمن بھی ہو سکتا ہے
    خاص طور پر جب آپ دشمنوں کے نشانے پر ہوں
    آپ کی حرکتیں، نشست و برخاست، حتیٰ کہ سانسوں کی گنتی تک محفوظ کی جا رہی ہے

    لیکن صرف خطرہ صرف موبائل نہیں…
    اصل خطرہ ارد گرد کے غدار بھی ہیں
    جو اپنوں کے روپ میں دشمنوں کے سہولت کار بنے بیٹھے ہیں ،یہی لوگ اتنے حساس لوگوں کی شہادتوں کے راستے کھولتے ہیں…

    وقت آ گیا ہے کہ ایران سمیت ہماری اسلامی حکومتوں کو بھی آنکھیں کھولنی ہوں گی!اپنے موبائلز پر بھی شک کرنا ہو گااور اپنے اردگرد کے "میٹھے دشمنوں” کو پہچاننا سب سے ضروری ہے

    اللّٰہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو غداروں، ٹیکنالوجی کے جال،اور دشمنوں کے منصوبوں سے محفوظ رکھے — آمین

  • قانون کے ساتھ ٹریفک پولیس کا کھلواڑ،تحریر:ملک سلمان

    قانون کے ساتھ ٹریفک پولیس کا کھلواڑ،تحریر:ملک سلمان

    میں نے فیصلہ کیا تھا کہ اب ٹریفک پولیس کی لاقانونیت اور فاشزم پر نہیں لکھنا کیونکہ انکو اثر تو ہونا نہیں اور اس ٹاپک پر بار بار لکھ کر میں خود بھی اکتا چکا ہوں۔
    جب قانون کے ساتھ کھلواڑ کر کے پنجاب ٹریفک پولیس100 ارب ماہانہ کے قریب کمائی کر رہی ہے تو قانون کی پاسداری کرکے وہ اپنی "ایزی منی” اور "پکی روزی” پر لات کیوں ماریں گے۔ چھوٹے سے چھوٹے ضلع کی ٹریفک پولیس بھی کروڑوں روپے ماہانہ ہاتھ مارتی ہے جبکہ بڑے اضلاع میں یہ رقم ماہانہ اربوں روپے میں ہوتی ہے.
    میرے کالم کی وساطت سے طلبہ و طالبات نے وزیراعلیٰ پنجاب سے ٹریفک پولیس کے رویوں کی شکایت کرتے ہوئے وارڈنز کو باڈی کیم لگانے کی تجویز دی تھی اور ساتھ یہ بھی گزارش کی تھی کہ ٹریفک وارڈن کو طلبہ کے خلاف ایف آئی آر کی اندراج سے روکا جائے۔ طلبہ کی اپیل پر فوری ایکشن لیتے ہوئے اگلے ہی دن وزیراعلیٰ پنجاب نے ٹریفک مینجمنٹ پر میٹنگ کال میں ٹریفک وارڈنز کے رویوں میں بہتری اور فوری طور پر باڈی کیم لگانے کا حکم دیا تھا۔
    سیالکوٹ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے دو دوست الیکٹریکل انجینئرحمزہ اور انٹرنیشنل ریلیشن میں ماسٹر کرنے والا شیراز سی ایس ایس کرنے کا خواب لیے امتحان کی تیاری کیلئے لاہور مقیم ہیں۔
    مڈل کلاس خاندان کے یہ بچے سستا ڈنر کرنے کیلئے مزنگ پراٹھے کا رخ کرتے ہیں اور مزید بچت کیلئے مزنگ پراٹھا کے ساتھ عابد مارکیٹ کارنر والے کھوکھے سے کولڈ ڈرنک لینے کیلئے گئے تو چند میٹر کا رانگ وے اختیار کرنے پر ٹریفک پولیس نے ایف آئی آر دے دی۔ رانگ وے پر چالان کی سہولت موجود ہے تو ایف آئی آر کا اندراج لازم کیوں؟ جب طالب علم درخواست کرتے رہے کہ ہم بوتل لینے آئے ہیں غلطی ہوگئی تو انہیں جرمانہ کرکے بھی سبق دیا جاسکتا تھا کہ نا کہ ایف آئی آر کرکے بچوں کا ریکارڈ کالا کرنا ضروری تھا۔ میڈم وزیراعلیٰ نے ٹریفک قوانین کے خلاف ورزی پر جرمانوں میں اضافہ کرکے اچھا فیصلہ کیا ہے تاکہ شہریوں میں قانون کا ڈر اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کا جذبہ پیدا ہو۔ لیکن گزارش ہے کہ قانون کا اطلاق صرف معزز شہریوں پر ہی کیوں؟ اسی عابد مارکیٹ کا جائزہ لے لیں، ناجائز پارکنگ، رکشوں اور لوڈر گاڑیوں کا رانگ وے استعمال کی وجہ سے ہر وقت ٹریفک جام رہنا معمول ہے لیکن انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں، یہی صورت حال باقی لاہور اور پورے پنجاب کی ہے۔

    ٹریفک پولیس کے اس اندھے پن کا علاج میری سمجھ سے باہر ہے جنہیں بغیر ہیلمٹ اور بنا بیلٹ والے عام شہری تو نظر آ جاتے ہیں لیکن بنا نمبر پلیٹ والے پبلک ٹرانسپورٹر اور سرکاری گاڑیاں نہیں۔
    اگر کسی کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہئے تو ان ٹریفک پولیس والوں کے خلاف ہونا چاہئے جو اس سرکاری وردی کو داغدار کرکے ناجائز پارکنگ مافیا اور بلانمبر پلیٹ ٹرانسپورٹرز کی سرپرستی کرتے ہیں۔
    آئی جی پنجاب کو چاہئے کہ وزیراعلیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے تمام ٹریفک اہلکاروں کو باڈی کیم لگائے جائیں اور انسپکٹر سے نچلے رینک تک دوران ڈیوٹی سمارٹ فون کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے بنا نمبر پلیٹ رکشوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے خلاف بھی بلا تفریق کاروائی کا حکم صادر کیا تھا۔ میڈم وزیراعلیٰ آپ کے حکم کے باوجود بلانمبر پلیٹ پبلک و پرئیویٹ نمبرز کے خلاف کاروائی نہیں کی جارہی وجہ وہی ہے کہ کاروائی نہ کرنے کے بدلے ہزار روپے فی رکشہ و دو ہزار روپے مزدہ بس ملتا ہے جبکہ کاروائی کرکے ریگولر کمائی کا خاتمہ۔ میڈم وزیراعلیٰ اور آئی جی پنجاب کو چاہئے کہ ایک سال سے زائد عرصہ سے آپ ٹریفک پولیس کی منتیں ترلے کرکے اپنا وقت ضائع کرتے رہے اور یہی بنا نمبر پلیٹ ٹرانسپورٹ چوری، ڈکیتی، اغوا، قتل و دہشت گردی کیلئے استعمال ہوتے آرہے ہیں۔ ہر طرح کی مبہم و بنا نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف کاروائی کا اختیار پولیس اور سی سی ڈی کو دیا جائے کیونکہ بغیر شناخت سڑک پر آنا بھی سنگین جرم اور دہشت گردی کے مترادف ہے۔

    گزشتہ آرٹیکل میں فوڈ اتھارٹی کے حوالے سے ذکر کیا تو سینکڑوں شہریوں نے کیمیکل ملے جعلی دودھ، مردہ جانوروں کے گوشت اور ایکسپائر اشیاء کی سر عام فروخت پر فوڈ اتھارٹی کی لاپرواہی، ملاوٹ اور گراں فروش مافیا کی سرپرستی کی شکایات کے دھیڑ لگا دیے۔
    وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کو مزید فعال اور وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ کمپلینٹ سیل کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ ہر محکمے کے خلاف شکایات کیلئے بیوروکریسی کی بجائے ریٹائرڈ آرمی افسران یا نئے سول افسر بھرتی کیے جائیں جو ایمانداری سے وزیراعلیٰ تک رپورٹ پہنچائیں نہیں تو وہی ہوگا جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ بیج میٹ اور سنئیر افسر کی وجہ سے شکایات ردی کی ٹوکری کی نظر ہوجائیں گی۔
    ملک سلمان

  • خواب، محنت اور عزت، شکریہ باغی ٹی وی

    خواب، محنت اور عزت، شکریہ باغی ٹی وی

    خواب، محنت اور عزت، شکریہ باغی ٹی وی
    تحریر: حبیب خان اوچ شریف
    ہر خواب کی تعبیر کے پیچھے برسوں کی محنت، خلوص، سچائی اور قربانیاں چھپی ہوتی ہیں۔ صحافت کے شعبے میں سچ بولنا، سچ دکھانا اور سچ کے ساتھ کھڑا رہنا ہمیشہ سے میرے پیشہ ورانہ عزم کا حصہ رہا ہے۔ یہی جذبہ لے کر میں نے باغی ٹی وی سے منسلک ہو کر اوچ شریف ضلع بہاولپور سے رپورٹنگ کا سفر شروع کیا۔

    گزشتہ سال 2024 میرے لیے ایک ناقابلِ فراموش سال ثابت ہوا۔ اس سال مجھے میری پیشہ ورانہ محنت، لگن، حق گوئی اور صحافتی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے پر ادارہ باغی ٹی وی کی جانب سے "رپورٹرز آف دی ایئر” جیسے باوقار اعزاز کے لیے نامزد کیا گیا۔ یہ میرے لیے ایک اعزاز ہی نہیں بلکہ میرے شہر، میرے قلم، میرے سچ اور میری محنت کی جیت ہے۔

    اس سے بڑھ کر خوشی کا لمحہ وہ تھا جب باغی ٹی وی کے انچارج نمائندگان ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی خود اوچ شریف تشریف لائے اور مجھے میرے شہر میں آ کر اعزازی سرٹیفکیٹ سے نوازا۔

    سرٹیفکیٹ کی باوقار تقریب میں مہمانِ خصوصی فوکل پرسن ہیلتھ و پرائس کنٹرول مجسٹریٹ عمران حیدر سیال نے میرے ہاتھ میں وہ سند دی، جو میرے لیے صرف کاغذ نہیں بلکہ میرے سفر کی ایک روشن مہر ہے۔

    اس موقع پر پریس کلب اوچ شریف کے صدر میاں محمد عامر صدیقی نے میرے مہمانوں کو پھولوں کے ہار پہنا کر جو پذیرائی دی، اس نے مجھے یہ احساس دلایا کہ صحافت صرف تنقید یا رپورٹنگ کا نام نہیں بلکہ تعلق، بھروسہ اور محبت کا پُل بھی ہے۔

    میں معروف سینئر اینکرپرسن، CEO باغی ٹی وی اور "کھرا سچ” پروگرام کے میزبان جناب مبشر لقمان صاحب کا دل کی گہرائی سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جن کی سرپرستی اور سچائی سے وابستگی ہم جیسے نوجوان صحافیوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔

    اسی طرح ایڈیٹر باغی ٹی وی جناب ممتاز حیدر اعوان صاحب کا بھی بے حد ممنون ہوں جنہوں نے ہم نمائندگان کو ہمیشہ اعتماد، رہنمائی اور حوصلہ دیا۔

    اور خصوصی شکریہ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی کا جنہوں نے شدید گرمی اور طویل سفر کی پرواہ کیے بغیر اوچ شریف آ کر مجھے عزت و وقار سے نوازا۔ ان کا خلوص، محبت اور قرب میرے دل میں ہمیشہ نقش رہے گا۔

    میں باغی ٹی وی کے اس پلیٹ فارم کو صرف ایک ادارہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے اپنی صحافتی شناخت اور نظریاتی وابستگی کا مقام سمجھتا ہوں۔ مجھے فخر ہے کہ میں سچ کے اس قافلے کا حصہ ہوں، جو بغیر کسی خوف یا لالچ کے حق اور انصاف کی آواز بن کر کام کر رہا ہے۔

    ان شاءاللّٰہ، یہ سفر جاری رہے گا باغی ٹی وی کے ساتھ، سچ کے ساتھ، خلوص کے ساتھ اور جذبے کے ساتھ۔

  • بنیان المرصوص اور ہم.تحریر ۔ جان محمد رمضان

    بنیان المرصوص اور ہم.تحریر ۔ جان محمد رمضان

    الحمدللہ بنیان المرصوص کے ہم فاتح ہوئے جس پر دنیا کے باشعور پڑھے لکھے ان پڑھ لوگوں نے ہماری افواج کے اس معرکہ حق کو سراہا بلکہ کہا اور دنیا کے بڑے بڑے میڈیا چینلز و اخبارات میں افواج پاکستان کے فاتح ہونے پر تعریفوں کے اداریئے و کالم لکھے گئے مگر اندرون ملک دشمن جو ابھی تک اس معرکہ حق کو ماننے کیلئے بالکل تیار نہیں ہیں اور اس جنگ کو فرضی جنگ قرار دیتے ہیں وہ لوگ اس جنگ کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ فیلڈ مارشل ایسے ہی بن گئے یہ سب فلمی تھا بغض اور ملک دشمنی کی انتہا ھے کہ یہ لوگ دوران جنگ بھی سوشل میڈیا پر افواج پاکستان پر بھونکتے رھے کیا ان لوگوں نے ڈرون تباہ ہوتے نہیں دیکھے کیا ان لوگوں نے فضائیہ کے شاہینوں کا جنگی جنون نہیں دیکھا کیا ان لوگوں نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائلوں کو چلتے نہیں دیکھا کیا ان لوگوں سے اپنے باپ مودی کو اور اس کے حواریوں کو روتے ہوئے نہیں دیکھا یہ سب دنیا نے دیکھا مگر ان ملک دشمنوں نے دیکھتے ہوئے بھی نہیں دیکھا جو بڑی بڑی باتیں کرتے تھے ان کو بارڈرز پر ڈیوٹی دینی چاہیئے ہم جنگ کے قابل نہیں ہمارے پاس تیل ختم ھے وہ سب پراپیگنڈا اللہ تعالیٰ نے ختم کردیا اور ان انتشاریوں کے باپ مودی نے جنگ میں پہل کی بعد ازاں پھر مرشدِ اعظم امت مسلمہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل حافظ سید عاصم منیر صاحب نے بنیان المرصوص کی طرح دشمن کو جواب دیا جس کے نتیجے میں دشمن کے ایئر بیس تباہ کردئیے ٹیکنالوجی کا سسٹم تباہ کردئیے دشمن کو بلین ٹریلین ڈالرز کا نقصان پہنچایا جس پر اس انتشاری ٹولے کے دادا ابو نے مرشدِ اعظم امت مسلمہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل حافظ سید عاصم منیر صاحب سے معافی مانگی اور جنگ روکنے کا مطالبہ کیا جس پر امن پسند ملک ہونے کے ناطے ہم نے جنگ روک دی اور اس جنگ کے ہم فاتح قرار پائے جس پر عوام نے اپنے فاتح بنیان المرصوص کے ہیرو جنرل حافظ سید عاصم منیر صاحب کو فیلڈ مارشل کیلئے منتخب کیا ہم نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا تھا کہ فیلڈ مارشل سے بھی بڑا کوئی اعزاز ھے تو وہ مرشدِ اعظم امت مسلمہ جنرل حافظ سید عاصم منیر صاحب کو ملنا چاہیئے اور الحمدللہ رب العالمین نے مرشدِ اعظم کو فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نوازا گیا اور ہم عوام اپنے مرشدِ اعظم امت مسلمہ فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر صاحب کو سلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں سوتے ہوئے جنگ کا فاتح بنایا اس ہائبرڈ وار میں انہوں نے بیرونی دشمنوں کیساتھ ساتھ اندرون ملک دشمنوں کو بھی ننگا کیا جو لوگ اس جنگ کو دشمن کی خوشنودی کے لئے فرضی جنگ کہہ کر رہے ہیں وہ اپنی ماں بہن بیٹی کا کی عصمت کی قسم کھا کر بتائیں کہ یہ جنگ فرضی تھی جس میں ہمارے قیمتی جوانوں نے شہادتوں کو ملک کی بقاء کیلئے اہم سمجھا اور قربان ہوئے

    اے دشمنان اسلام اب تجھے سبق ھم دیں گے
    دین ھے ہمارا اسلام اور ہم نگہبان ہیں اس کے

  • تبصرہ کتب : امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب : امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات

    مصنف : عبدالمالک مجاہد
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    صفحات : 343فور کلر آرٹ پیپر
    قیمت : 2700روپے
    برائے رابطہ : 042-37324034
    امت محمدیہ میں اللہ نے لاتعداد علما اور فقہا پیدا فرمائے لیکن ان میں امام ابن تیمیہ ایک ہی تھے ۔صدیاں گزر گئیں امام ابن تیمیہ جیسی کوئی دوسری علمی شخصیت پیدا نہیں ہوئی ۔ امام صاحب کا تعلق حران کے معروف علمی خاندان سے تھا جس کے بارے میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے ” ایں ہمہ خانہ آفتاب است “ ۔ امام ابن تیمیہ حدیث ، تفسیر ، فقہ ، اصول فقہ ، تاریخ ، اسماءالرجال ، فسلفہ ،منطق ، ادب کے امام تھے ۔ ان کے علاوہ بھی وہ تمام علوم جو اس وقت رائج تھے حاصل کئے ۔ کوئی بھی ایسا علم نہ تھا جو حاصل نہ کیا ہو۔ تاہم علم تفسیر آپ کا پسندیدہ موضوع تھا ۔ آپ کی تربیت بہت ہی پاکیزہ علمی گھرانے میں ہوئی تھی ۔ قوت حافظہ غضب کا تھا جس کتاب کو ایک دفعہ دیکھ لیتے وہ آپ کو مکمل طور پر یاد ہوجاتی ۔ قرون اولیٰ کے بعد جن چند اہم شخصیات نے اسلام کی نشرواشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا ان میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سرفہرست ہیں ۔ امام ابن تیمیہ مجدد تھے اور علم وہدیت کا ایک ایسا سرچشمہ تھے جن کی ضیا پاشیوں سے دنیائے اسلام جگمگا اٹھی تھی ۔اگر ہم موجودہ حالات کا موازنہ امام صاحب کے دور سے کریں تو ہمیں کافی حد تک مطابقت نظر آتی ہے ۔امام صاحب کی زندگی میں دنیائے اسلام فتنہ تاتار کی غارت گری کا شکار تھی دینی ، سیاسی ، سماجی اور اخلاقی اعتبار سے زبوں حالی کا شکار تھی ، خلافت اسلامیہ پارہ پارہ ہوچکی تھی ۔ حقانیت کا آفتاب ڈوب چکا تھا کہ اللہ نے امام صاحب کو علم وہدی کا آفتاب بنا پر دمشق کے آسمان پر طلوع کیا ۔ آج بھی اگر ہم دیکھیں تو دنیائے اسلام اسی طرح کے حالات سے دوچار ہے ۔ گو کہ آج ہم میں امام ابن تیمیہ جیسی کوئی ہستی اور شخصیت موجود نہیں تاہم امام صاحب کی کتب سے ہم رہنمائی لے سکتے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ” امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات “ اسی نقطہ نظر سے لکھی گئی ہے ۔ یہ کتاب اہل علم کےلئے بہتر ین تحفہ ہے، اس کتاب کی اشاعت سے دارالسلام نے ایک اہم علمی خدمت انجام دی ہے ۔اردو زبان میں ایسی شہرہ آفاق، جامع ، علمی اور تحقیقی کتاب کی ضرورت عرصہ دراز سے محسوس کی جارہی تھی ۔

    یہ اپنے موضوع پر شاندار ، بیمثال اور لاجواب کتاب ہے جو کہ دارالسلام انٹرنیشنل کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد کی تصنیف ہے ۔عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں ساتویں صدی ہجری میں پیدا ہونے والے امام ابن تیمیہ نے اس وقت کی ملت اسلامیہ پر چھائے جمود ، تاریکی اور بزدلی کو اپنے قلم ، کردار اور گفتار سے دور کیا۔وہ ملت اسلامیہ کی ان چند شخصیات میں سے تھے جنھوں نے علمی جہاد کے ساتھ ساتھ قلمی جہاد بھی کیا ۔اپنی زبان وبیان اور گفتار وکردار سے مجاہدین اسلام میں جہاد کی روح پھونک دی جبکہ اپنی تلوار سے فتنہ تاتار کا منہ موڑ دیا ۔ یہ کتاب امام ابن تیمیہ کی زندگی ، حالات ، حیات اور خدمات کے متعلق میرے سالہاسال کے مسلسل مطالعہ کا ماحاصل ہے ۔ یہ کتاب علما ، طلبہ ، اساتذہ ، سیاستدانوں اور حکمرانوں سمیت ہر ایک کےلئے مشعل راہ ہے ۔ اس کتاب کے مطالعہ سے آج بھی ملت اسلامیہ پر چھائے جمود اور بزدلی کو دور کیا جاسکتا ہے ۔ امام ابن تیمیہ اپنے وقت کے مجدد ، مصلح اور مجاہد تھے ۔یہی وجہ تھی کہ وہ پوری زندگی حکومتی ایوانوں اور راہداریوں سے دور رہے ۔ انھوں نے کوئی عہدہ قبول نہیں کیا ۔ ساری زندگی مسجد اموی سے متصل ایک چھوٹے سے حجرے میں دین کی آبیاری ، درس وتدریس ، تصنیف وتحقیق اور جہاد فی سبیل اللہ میں گزار دی ۔ وہ راست بازی ، حق گوئی وبے باکی ، زہد وبہادری کے اعلیٰ منصب پر فائز تھے ۔کتاب میں امام صاحب کی ولادت ، خاندان ، ابن تیمیہ کہنے کی وجہ ، ابتدائی حالات ، علوم شریعت کی تجدید ، حصول علم ، دیگر عصری علوم کا حصول ، باکمال مصنف ، محبت رسول کا والہانہ جذبہ ، مخالفین کے درمیان ہمہ گیر شخصیت ، ملکی معاملات میں اصلاحی کردار ، امام صاحب بیحثیت بت شکن ، جیل کی زندگی ، کبائر علما ءکے ہاں امام ابن تیمیہ کا مقام ومرتبہ ، امام ابن تیمیہ بطور ایک مجدد ، تاتاری جنگوں میں شرکت ، شاہ تاتار سے گفتگو ، امام صاحب بطور ایک کامیاب مناظر ، راہبوں ، صلیبیوں ، پادریوں، نجومیوں ، صوفیوں سے مناظرے ، امام صاحب کا دور ابتلاوآزمائش ، ابتلا وآزمائش میں ثابت قدمی ، امام صاحب کے شاگردان رشید ، تصانیف ، آپ کی مشہور تصانیف ، فضل وکمال ، وفات اور جنازہ ۔۔۔۔۔جیسے اہم موضوعات کو زیر بحث بنایا گیا ہے ۔ 4کلر آرٹ پیپر پر طبع شدہ کتاب ظاہری اعتبار سے جتنی خوبصورت ہے باطنی اعتبار سے اس سے بھی کہیں زیادہ دلکش اور جاذب نظر ہے ۔ ایسی علمی ، اصلاحی اور رہنما کتاب کا مطالعہ ہر ایک کےلئے بے حد ضروری ہے ۔

  • تعمیر پاکستان میں اہل قلم کا کردار،کانفرنس .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    تعمیر پاکستان میں اہل قلم کا کردار،کانفرنس .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    حسب سابق اہل قلم کانفرنس اس سال بھی شاندار رہی ملک بھر سے بچوں کے ادب سے تعلق رکھنے والے ادبیوں نے بھر پور شرکت کی ,اکادمی ادبیات اطفال اور ماہنامہ پھول کے تعاون سے ہونے والی اس کانفرنس کا موضوع تھا ،، تعمیر پاکستان میں اہل قلم کا کردار ،، اور بحوالہ 21 اپریل یوم اقبال ، 23 اپریل عالمی یوم کتاب ،یہ نویں کانفرنس تھی جو 3 مئی کو فاؤنٹین ہاوس میں منعقد کی گئی اور اس کا اہتمام اور سہرا ہر سال کی طرح شعیب مرزا صاحب کے سر ہےجو ماہنامہ پھول کے ایڈیٹر اور چیرمین اکادمی ادبیات اطفال ہیں ان کی ذاتی دلچسپی اور کوشش سے یہ کانفرنس ہر سال کامیاب ٹھہرتی ہے اور اس میں لکھاریوں کے علاوہ اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں گیسٹ سپیکرز شرکت کرتے ہیں جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ، کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور نعت کا نذرانہ عقیدت پیش کیا گیا ا س کے بعد شعیب مرزا صاحب نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا فاؤنٹین ہاوس میں کانفرنس منعقد کرنے کی غرض وغایت بیان کی اور کانفرنس کا باقاعدہ آغاز کیا مہمان مقررین نے بچوں کے ادب کے حوالے سے عمدہ گفتگو کی اصغر ندیم سید صاحب نے کہا کہ بچوں کے لیے لکھتے ہوے جو ہمارا تہذیبی ورثہ ہے اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے مافوق الفطرت کرداروں کی کہانیوں سے بھی بچے کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں اس لیے سائنس کے ساتھ ساتھ لوک کہانیوں کی طرز پر بھی کہانیاں ہونی چاھیں ، فاؤنٹین ہاوس کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عمران مرتضٰی نے بھی خطاب کیا انہوں نے اپنے والد کے نام سے سید مرتضٰی کیش ایوارڈ کا اجراء کیا ہے جو اس بار بھی دو لکھاریوں کو دیا گیا اخوت یونیورسٹی کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب نے اظہار خیال کیا اور اگلی کانفرنس اخوت یونیورسٹی میں کروانے کی پیش کش کی ان کو تسنیم جعفری صاحبہ نے ادیب نگر کی طرف سے لایف، ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا جبکہ ادیبوں کو ان کی کتب اور ادب اطفال کی خدمات پر تسنیم جعفری ایوارڈ ، مسلم ایوارڈ ، اور مسرت کلانچوی ایوارڈ دینے گئے ، کیش ایوارڈ ز حاصل کرنے والوں میں ڈاکٹر فوزیہ سعید ، تسنیم جعفری، شعیب مرزا ، نذیر انبالوی ،فہیم عالم شامل تھے,اور تسنیم جعفری کیش ایوارڈ اس بار پندرہ ادیبوں کو دیا گیا سب اس حوصلہ افزائی پر خوش تھے کانفرنس میں شرکت کرنے والی نمایاں شخصیات میں فارسی کی سکالر عظمی زریں نازیہ ، نیڈل آرٹسٹ ساجدہ حنیف، اسسٹنٹ کمشنر ثناور اقبال، شمیم عارف ، امان اللہ نیر شوکت ڈاکٹر طارق ریاض، اعجاز گیلانی اور ملک بھر سے آئے ادیبوں نے شرکت کی

    فاؤنٹین ہاوس کی عمارت ہمیشہ اداس کر دیتی ہے یہاں داخل مریضوں کے شب وروز اپنوں کے بغیر نہ جانے کیسے گزرتے ہیں لیکن فاؤنٹین ہاوس کا عملہ ویل ٹرینڈ اور مہربان نظر آتا ہے عمارت میں صفائی ستھرائی اور ڈسپلن کا معیار بھی عمدہ ہے آخر میں فاؤنٹین ہاوس کے عملے کو بھی باری باری بلا کر ان کی خدمات کے بارے میں بتایا گیااور ان کا تعارف کروایا گیا اور شیلڈز دی گئیں ، اہل قلم کو فاؤنٹین ہاوس کا وزٹ بھی کروایا گیا مریضوں کو ان کے ہنر کے مطابق آرٹ ورک بھی کروایا جاتا ہے اور صحت یاب ہونے والے مریضوں کو وہاں کام بھی مل جاتا ہے ، فاؤنٹین ہاوس کی انتظامیہ اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عمران مرتضٰی اور ڈاکٹر عائشہ عمران لائق تحسین ہیں کہ وہ اتنے بڑے ادارے کو بخیر وخوبی چلا رہے ہیں اور مریضوں کی سہولیات کے لیے دن رات کوشاں ہیں اللہ تعالٰی انہیں کامیاب کرے اور آسانیاں عطا فرمائے آمین

    کانفرنس کے شرکاء کو سرٹیفکیٹ ، شیلڈز اور ڈاکٹر امجد صاحب کی کتاب کا تحفہ دیا گیا ، سیشن میں وقفہ کے دوران پرتکلف چاے اور پھر لنچ سے تواضع کی گئی ، نارمل انسانوں کی دنیا الگ ہے ان کے مسائل الگ ہیں اور فاؤنٹین ہاوس میں داخل مریضوں کی دنیا بالکل الگ اور مسائل بھی بالکل الگ ہیں جہاں تک ہو سکے ان کی فلاح وبہبود کے کاموں میں تعاون کرنا چاہیے _