Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اتنی سی انا تو ہونی چاہئے.تحریر:نور فاطمہ

    اتنی سی انا تو ہونی چاہئے.تحریر:نور فاطمہ

    زندگی ایک سفر ہے، جس میں ہم بہت سے چہروں سے ملتے ہیں۔ کچھ چہرے ہمیں خوشی دیتے ہیں، کچھ ہمیں راستہ دکھاتے ہیں، اور کچھ وہ ہوتے ہیں جن کے بغیر ہم زندگی کا تصور بھی نہیں کر پاتے۔ لیکن کبھی کبھار وہی چہرے ہمیں سب سے زیادہ دکھ دے جاتے ہیں۔ ایسے میں دل چاہتا ہے کہ رو لیا جائے، کسی سے شکوہ کیا جائے، لیکن ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب دل خود کہتا ہے،”اتنی سی انا تو ہونی چاہئے”

    محبت کا مطلب زبردستی تھوڑی ہوتا ہے۔ اگر کوئی آپ کا ساتھ چھوڑنا چاہتا ہے، تو اُس کی خواہش کا احترام کرو۔ دل کا تعلق زبردستی سے نہیں جڑتا۔ ایسے تعلق کو نبھانے کا فائدہ کیا جس میں دوسرا فریق دل سے آپ کے ساتھ نہ ہو؟اکثر ہم اُسی شخص کی طرف لوٹ جاتے ہیں جو ہمیں توڑ چکا ہوتا ہے۔ لیکن یہ خود پر ظلم ہے۔ خودداری کا مطلب یہی تو ہے کہ جس نے ایک بار آپ کو گرا دیا، اُس کے ہاتھ پھر سے پکڑنے کی نوبت نہ آئے۔ سہارے تلاش کرنا کمزوری نہیں، لیکن غلط سہارے بار بار چننا خود پر ظلم ضرور ہے۔جب کسی کا لہجہ اجنبی سا لگنے لگے، اُس میں محبت کی بجائے طنز، سختی اور بیگانگی نظر آئے، تو سمجھ جاؤ کہ احساسات یک طرفہ ہو چکے ہیں۔ اپنے مخلص جذبات کو وہاں ضائع نہ کرو جہاں ان کی قدر نہیں۔ مخلصی کا جواب اگر خاموشی یا سختی ہو، تو وہ تعلق زہر بن جاتا ہے۔

    محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو عزت مانگتا ہے۔ اگر بار بار آپ کی قدر نہیں کی جا رہی، اگر آپ کے جذبات کو مذاق سمجھا جا رہا ہے، تو پھر خاموشی سے پیچھے ہٹ جانا ہی بہتر ہے۔ خود کو اتنا سستا نہ کرو کہ کوئی آپ کو استعمال کرے اور آپ خاموش رہو۔زندگی کا راستہ طویل ہے۔ کبھی کبھی ساتھی راستے میں چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سفر ختم ہو گیا۔ اپنے اندر اتنی ہمت پیدا کرو کہ اکیلے بھی چل سکو، خود سے جڑ سکو، اور خود کو مکمل محسوس کر سکو۔تعلق میں سب سے بڑی بے رُخی یہ ہے کہ جب آپ کسی کو پوری اہمیت دیتے ہو اور وہ آپ کو نظر انداز کرے۔ ایسے میں بار بار اُس کی توجہ کے لیے خود کو پیش کرنا خودداری کے خلاف ہے۔ بس نظریں ہٹا لو، خود کو مصروف رکھو، اور اُن لوگوں کے ساتھ جڑو جو تمہیں اہم سمجھیں۔

    "انا” اور "غرور” میں فرق ہوتا ہے۔انا وہ وقار ہے جو ہمیں خود سے پیار کرنا سکھاتا ہے، جو ہمیں دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتا۔ یہ خود کو عزت دینا ہے، اپنی ذات کو مقام دینا ہے۔تو بس…اتنی سی انا تو ہونی چاہئے کہ خود کو ہر بار قربان نہ کرنا پڑے، اور جب وقت آئے، تو خاموشی سے، وقار سے، رخصت ہو جاؤ۔

  • "گوگل میپس اور ہماری بھٹکی ہوئی منزلیں”.تحریر:شازیہ عالم شازی

    "گوگل میپس اور ہماری بھٹکی ہوئی منزلیں”.تحریر:شازیہ عالم شازی

    کبھی آپ نے گوگل میپس کی ہدایت پر چلتے ہوئے خود کو کسی کھیت میں پایا ہے؟ یا پھر ایسی سڑک پر جہاں صرف بکریاں اور خچر چل سکتے ہیں؟ اگر ہاں، تو یقیناً آپ بھی ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہیں گوگل نے "شارٹ کٹ” دکھا کر لمبا گھما دیا۔
    گوگل میپس، بظاہر ایک نہایت دانشمند ایپ ہے۔ اس کا انداز، اس کی آواز اور اس کا اعتماد دیکھ کر لگتا ہے جیسے ابھی اڑ کر منزل پر پہنچا دے گی۔ "Turn left in 100 meters”، وہ نرمی سے کہتا ہے، اور ہم بھی بلا چون و چرا اس کی ہدایت پر عمل کرتے ہیں جیسے بچپن میں ٹیچر کی بات مانتے تھے، حالانکہ دل کہہ رہا ہوتا ہے کہ "میڈم غلط بول رہی ہیں”
    ایک بار میرے ایک دوست نے گوگل میپس کے کہنے پر پہاڑ کے بیچوں بیچ ایک تنگ سی پگڈنڈی پکڑ لی گوگل فرما رہا تھا "یہ سب سے تیز راستہ ہے”، اور وہ بیچارہ اسی بھروسے پر چل پڑا۔ آدھے راستے میں نیٹ بند، بیٹری ختم، اور سامنے صرف ایک بھینس کھڑی تھی جو غالباً وہی سوچ رہی تھی جو میرا دوست سوچ رہا تھا یعنی: "یہ یہاں کیا لینے آ گیا ہے؟” گوگل میپس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ انتہائی اعتماد سے غلطی کرتا ہے۔ مثلاً وہ آپ کو ایسی گلی میں لے جائے گا جو دراصل ایک نالہ ہو، اور پھر بھی اگلے موڑ پر کہے گا:
    "In 200 meters, turn right”
    حالانکہ اگلے 200 میٹر میں صرف پانی، کچرا اور مچھروں کی بادشاہی ہے،شہری علاقوں میں تو چلیں کسی حد تک گوگل بچ بچا کر لے جاتا ہے، مگر جیسے ہی آپ کسی دیہی علاقے میں قدم رکھتے ہیں، گوگل بھی خود کو گمشدہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ ایسی سڑکیں دکھاتا ہے جو صرف نقشوں میں موجود ہوتی ہیں۔ گاؤں کے بزرگوں سے پوچھیں تو وہ حیرت سے پوچھتے ہیں:”یہ راستہ؟ ارے پتر وہ تو دس سال پہلے بند ہو گیا تھا!” اس ضمن میں گوگل ہمارے چاچا رحمت کا مقابلہ نہیں کرسکتا یعنی آپ اگر کسی علاقے کے چاچا رحمت سے راستہ پوچھیں تو وہ پانچ منٹ میں آپ کو نہ صرف منزل سمجھا دیں گے بلکہ راستے میں کون سا نلکا میٹھا پانی دیتا ہے، کون سے درخت کے نیچے سایہ اچھا ملتا ہے، سب بتا دیں گے۔ اس کے برعکس گوگل میپس تو بس یہی کہے گا:
    "ری روٹنگ…”اور آپ سوچتے رہیں گے کہ کیا زندگی بھی "ری روٹنگ” ہو سکتی ہے؟
    آج کے ڈیجیٹل دور میں گوگل میپس جیسی ایپس ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ چاہے کسی نئے شہر کی سیر ہو یا روزمرہ کے سفر کی منصوبہ بندی، ہم میں سے اکثر لوگ ان ایپس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ لیکن کیا کبھی آپ نے محسوس کیا ہے کہ گوگل میپس اکثر ایسا راستہ دکھاتا ہے جو یا تو زیادہ طویل ہوتا ہے، یا پھر ناقابلِ عبور، یا کبھی کبھار مکمل طور پر غلط بھی نکلتا ہے؟ ہم بہت بار اس کا شکار ہوئے ہیں رمضان میں ہی نیٹ ورک پرابلم سے ہماری افطاری راستے میں اور ہم منزل مقصود پر افطار پر نہ پہنچ سکے

    پسِ پردہ حقیقت میں گوگل میپس کا انحصار مختلف ذرائع پر ہوتا ہے جیسےGPS ڈیٹا،صارفین کی رپورٹنگ،
    ٹریفک سینسرز،اور سٹلائٹ تصاویر لیکن یہ سب ڈیٹا ہر وقت مکمل درست نہیں ہوتا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں نیٹ ورک کوریج کمزور ہو
    سڑکوں کی اپڈیٹڈ معلومات دستیاب نہ ہوں
    یا جہاں سڑکوں کی مقامی صورتحال بدلتی رہتی ہو (جیسے گاؤں یا پہاڑی علاقے) اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک مقامی فرد جس راستے سے 15 منٹ میں پہنچ جاتا ہے، گوگل میپس اس کے بجائے ایسا راستہ تجویز کرتا ہے جو 30 منٹ کا ہو، صرف اس لیے کہ وہ سڑک ایپ کے ڈیٹا بیس میں رجسٹرڈ نہیں یا اس پر اپڈیٹ کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں، نئی تعمیر شدہ سڑکوں یا وقتی تبدیلیوں (جیسے روڈ بلاک، مرمت وغیرہ) میں گوگل میپس کی رہنمائی ناقص ثابت ہوتی ہے۔
    گوگل میپس واقعی ایک کارآمد ٹول ہے، لیکن ہر سہولت کے ساتھ کچھ حدود بھی ہوتی ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنے مشاہدے اور مقامی علم کو بھی استعمال میں لائیں تاکہ سفر واقعی آسان اور پُر سکون بن سکے۔

  • ” کون ہے میرا؟ "تحریر:کنزہ محمد رفیق

    ” کون ہے میرا؟ "تحریر:کنزہ محمد رفیق

    ستاروں کی جھلملاتی روشنیوں، سمندر کے گہرے پانیوں اور انسانوں کے جذبات واحساسات نے ہماری التفات کو ایسے اپنی جانب مبذول کیا یے کہ ہم اپنی ذات سے پرے انہی لطافت میں کہیں کھو گئے ہیں۔ ہم انسانوں کی ایک دوسرے سے انیست اور محبت کی ضرورت کسی طور کم نہیں ہو سکتی۔ ازل یہ نظام محبت قائم ہے۔ جب یہ دنیا تخلیق کی گئی تو حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہ السلام دونوں کو ساتھ زمین پر اتارا گیا، تاکہ وہ ایک دوسرے کے لیے سکون و راحت کا سبب بنے۔

    بتدریج انبیاء کرام آتے رہے، اور لوگوں کو اللّٰہ کی راہ پر گامزن کرتے رہے۔ مگر رفتہ رفتہ یہ نظام کائنات بدلتا گیا، لوگ اللّٰہ تعالیٰ کے احکامات اور انبیاء کرام کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں۔ اور نتیجتاً اپنی اصل کو بھولتے گئے۔ جب ساتویں صدی عیسوی میں اسلام آیا، تو لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوتے رہے اور ایمان رگوں میں سرایت کرتا گیا۔ مگر اکیسویں صدی کے لوگ جدیدیت کی طرف رواں دواں ہیں۔ وہ تمام کام جن کو کرنے کی ممانعت کی گئی ہے، اب انہیں بصد شوق سر انجام دیا جاتا ہے اور پھر اسے ” ماڈرنزم” کا لقب دے جاتا ہے

    درحقیقت یہ ماڈرنزم انسان کی اصل کو تیرگی میں چھپا دیتی یے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں، ہمیں زندگی بخشنے والا کون ہے؟ اور ہم سے زندگی چھینے والا کون ہے؟ ہم یوں ہی تو دنیا میں نہیں آگئے ہیں؟
    ” لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
    اپنی خوشی آئے نہ اپنی خوشی چلے ”
    وقت بدلتا گیا، اور چیزوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کے جذبات واحساسات میں بھی ملاوٹ کی آمیزش ہوتی گئی۔ اور گزرے سمے کے ساتھ محبت بھی زائل ہوتی گئی۔ لوگ اپنے ہی جیسے لوگوں کی تلاش میں سرگراں رہے۔
    "اتم سے اتم ملے اور ملے نیچ سے نیچ، پانی سے پانی ملے اور ملے کیچ سے کیچ”
    جب اپنی ہی صفات و نوعیت کے لوگوں میں کیف و سرور نہ ملا تو، انسان اپنے ذہن میں بنتے حبس میں مبتلا ہوتا گیا، یوں محبت اور عقیدت کی آس میں ڈپریشن کا مریض بن گیا۔
    دماغ میں چلتی ہزار ہا فکروں اور پریشانیوں کے ملبے تلے یہ آواز آئی۔
    ” کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو”
    یکایک دل سے صدا آئی:
    ” کون ہے میرا؟ ”
    یہ سوال سن کر روح نے عہد الست کی یاد تازہ کی۔
    جب عالم ارواح میں اللّٰہ تعالیٰ نے تمام روحوں سے عہد و پیمان باندھا تھا۔
    "کیا میں تمہارا رب نہیں ؟”
    کیوں نہیں؟ ” تو ہی تو ہمارا رب ہے۔”

  • قناعت میں چھپی مسکراہٹ.تحریر:نور فاطمہ

    قناعت میں چھپی مسکراہٹ.تحریر:نور فاطمہ

    دنیا کی گہما گہمی، مقابلے کی دوڑ، اور مادی خواہشات کی بھرمار نے آج کے انسان کو بے چین کر رکھا ہے۔ ہر شخص بہتر زندگی کی تلاش میں ہے، لیکن کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ "بہتر زندگی” کا مطلب صرف زیادہ دولت، آسائشیں یا شہرت نہیں بلکہ دل کا سکون اور قناعت ہے۔ یہی قناعت خوش رہنے کا وہ راز ہے جس سے لوگ آج بھی غافل ہیں۔”خوش رہنے والوں کے پاس ہر چیز نہیں ہوتی، بلکہ وہ جو کچھ ہوتا ہے، اس پر مطمئن رہتے ہیں” یہ جملہ گویا ایک مکمل فلسفہ حیات ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ خوشی کا انحصار ہماری سوچ پر ہے، نہ کہ وسائل پر۔

    قناعت عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے "راضی رہنا”۔ جو لوگ قناعت کو زندگی کا اصول بنا لیتے ہیں، وہ ہمیشہ شکر گزار ہوتے ہیں۔ ان کے دل میں لالچ، حسد یا جلن کے لیے جگہ نہیں ہوتی۔ وہ جانتے ہیں کہ،”جو کچھ میرے پاس ہے، وہی میرے لیے کافی ہے۔”قناعت انسان کو سکون عطا کرتی ہے۔ یہ نہ صرف ہماری ذہنی صحت کے لیے مفید ہے بلکہ ہماری روحانی ترقی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ ایسے لوگ نہ صرف خود خوش رہتے ہیں بلکہ دوسروں میں بھی مثبت توانائی پھیلاتے ہیں۔اکثر لوگ خوشی کو باہر تلاش کرتے ہیں۔ نئے کپڑے، قیمتی موبائل، بڑی گاڑی یا بیرونِ ملک سفر ، یہ سب وقتی خوشی دے سکتے ہیں، مگر اصل اور دیرپا خوشی ہمیشہ اندر سے آتی ہے۔ خوش رہنے والے لوگ اپنی اندرونی دنیا کو صاف، روشن اور مثبت رکھتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اگر ان کے پاس کم وسائل ہوں تو بھی وہ ان میں سے اچھائی تلاش کرتے ہیں۔ اگر مشکلات آئیں، تو صبر سے کام لیتے ہیں۔ ان کی خوشی کسی شے سے منسلک نہیں بلکہ ان کی سوچ سے جُڑی ہوتی ہے۔

    آج کا انسان ہر وقت دوسروں سے خود کا موازنہ کرتا رہتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید بڑھا دیا ہے۔ جب ہم دوسروں کی چمکتی زندگی کو دیکھتے ہیں، تو اپنی زندگی کم تر لگنے لگتی ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان کی کہانی الگ ہے، ہر کسی کا سفر مختلف ہے۔خوش رہنے والے لوگ دوسروں کی کامیابیوں پر خوش ہوتے ہیں، لیکن خود کو ان سے کمتر نہیں سمجھتے۔ وہ اپنی زندگی میں موجود ہر نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں، چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔شکر گزاری وہ خوبی ہے جو خوش رہنے والے لوگوں میں لازمی پائی جاتی ہے۔ وہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی نعمتوں کو محسوس کرتے ہیں،ماں کی دعا، بچوں کی ہنسی، بارش کی خوشبو، پرندوں کی چہچہاہٹ ، یہ سب چیزیں ان کے دل کو خوشی سے بھر دیتی ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق، جو لوگ روزانہ شکر ادا کرتے ہیں وہ زیادہ خوش، صحت مند اور مثبت ہوتے ہیں۔ وہ پریشانیوں کو بھی زیادہ بہتر انداز میں جھیل سکتے ہیں۔

    خوشی ہمیشہ مہنگی چیزوں میں نہیں ہوتی۔ اکثر وہ لوگ جو سادہ زندگی گزارتے ہیں، زیادہ مطمئن اور خوش ہوتے ہیں۔ خوش رہنے والے لوگ دکھاوے سے دور ہوتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سادگی میں عظمت ہے۔ ان کے لیے خوشی کا مطلب کسی چیز کو پانا نہیں بلکہ کسی لمحے کو محسوس کرنا ہے۔یہی لوگ ہوتے ہیں جو دوستوں کے ساتھ چائے کے کپ، کسی کتاب کا مطالعہ، یا تنہا کسی باغ میں وقت گزارنے کو بھی خوشی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔خوش رہنے والے لوگ اندر سے پر سکون ہوتے ہیں۔ ان کا ذہن الجھنوں سے پاک، اور دل نفرتوں سے آزاد ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کو معاف کرنا جانتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ معاف کرنا دوسروں سے زیادہ خود کے لیے ضروری ہے۔آج کامیابی کو صرف مادی پیمانوں پر ناپا جاتا ہے، لیکن خوش رہنے والے لوگ کامیابی کی تعریف کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک کامیابی دل کا سکون ہے،والدین کی دعائیں ہیں،کسی کو ہنسانا ہے،روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں جینا ہے،یہی اصل کامیابی ہے، کیونکہ یہ انسان کو اندر سے خوش اور مطمئن رکھتی ہے۔خوشی ایک انتخاب ہے، حالت نہیں۔ اگر ہم یہ سیکھ لیں کہ جو ہمارے پاس ہے وہی کافی ہے، اور ہر حال میں شکر ادا کریں، تو زندگی خود بخود خوبصورت لگنے لگے گی۔

    لہٰذا، اگلی بار جب دل پریشان ہو، تو خود سے ایک سوال کریں،”کیا میں وہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں جو میرے پاس نہیں ہے؟ یا میں شکر گزار ہوں ان نعمتوں کے لیے جو مجھے حاصل ہیں؟” خوش رہنے کے لیے ضروری نہیں کہ ہمارے پاس سب کچھ ہو۔ بلکہ ضروری یہ ہے کہ جو کچھ ہے، اس پر دل سے راضی رہیں۔

  • شعور، خود احترامی، کسی بھی قیمت سے زیادہ قیمتی ہے،تحریر:  رضوانہ چغتائی

    شعور، خود احترامی، کسی بھی قیمت سے زیادہ قیمتی ہے،تحریر: رضوانہ چغتائی

    شروع سے سکھایا جاتا ہے کہ بیٹیاں وہی اچھی ہوتی ہیں جو ریڈ کارپٹ بن جائیں کہ ہر رشتے کے قدموں تلے بچھ جائیں ۔۔۔۔ ماں کے سامنے، باپ کے سامنے، بھائی، شوہر، سسرال، معاشرہ—سب کے سامنے۔۔۔۔۔
    لیکن پھر۔۔۔۔کہیں سے ایک لہر اُٹھتی ہے۔ پہلے سوال بنتی ہے۔۔۔۔۔۔پھر سوچ… پھر شعور… اور آخر میں ایک طوفان—فیمنزم کا طوفان۔
    ہاں، اس میں بہت کچھ بکھر جاتا ہے۔کچھ اقدار، کچھ رشتے، کچھ سلیقے۔۔۔۔لیکن جو باقی رہ جاتا ہے۔۔۔۔
    وہ صدیوں کی بند زنجیروں سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے— خودی، اختیار، اور "نہیں” کہنے کا ہنر۔۔۔۔۔ پھر بہت ہی عام سی گھرانوں کی بیٹیاں بھی سمجھنے لگتی ہیں کہ” نہیں ” کہنا اتنا مشکل نہیں ہے۔۔۔۔ باؤنڈریز بنانا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔۔۔۔

    بہت ذیادہ شعور نہیں تھا جب میری چھوٹی پھپھو کی ڈیتھ ہوئی لیکن اب سوچنے سے مطالعہ کرنے سے ان کی زندگی کے بارے میں جو باتیں شعور میں رہ گئیں تو یاد آتا ہے کہ وہ کمال کی فیمینسٹ خاتون تھیں۔۔۔ وہ پہلی خاتون جو اپنے حق کے لئے لڑتی تھیں ، یقیناً وہ ہمارے ٹیپیکل پرانی روایات والے خاندان کی پہلی بیٹی تھیں جنہوں نے ہمارے لاشعور میں فٹ کر دیا کہ عورت کو doormat نہیں ہونا۔۔۔۔ جو بھی ہو جائے ایک واضح سیدھی لکیر کھینچنا ضروری ہے۔۔۔۔
    میری زندگی کی وہ پہلی فیمینسٹ ہیں جن کو اپنی زندگی میں فیمینزم کا پرچار کرتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔ ان کا نام نسیم تھا۔۔۔۔ اور وہ اپنے ڈیٹا پر پورے کانفیڈنٹ سے نسیم چغتائی لکھتی اور بولتی تھیں۔۔۔۔ یہ وہ دور تھا جب خواتین کا شادی کے بعد آئی ڈی کارڈ پر ذیادہ تر بی بی یا شوہر کا نام ساتھ لگا دیا جاتا۔۔۔۔ خیر بات ہو رہی تھی ” نہیں” کہنے کی۔۔۔۔

    باؤنڈری بنانا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر ان لوگوں کے سامنے جنہیں آپ کی خاموشی، خدمت اور قربانیوں کی عادت پڑ چکی ہو۔۔۔۔۔ جو لوگ آپ سے صرف فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، وہ کبھی بھی آپ کی حقیقت، آپ کے جذبات، اور آپ کی قائم کردہ حد بندی کو اچھا نہیں جانیں گے،قرآن میں بھی بار بار ہمیں "عدل” اور "نفس کی حفاظت” کا سبق دیا گیا ہے۔ "وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَىٰ عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ” (سورہ الاسراء: 29) — "اور نہ ہی اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا رکھو (کہ کچھ دو ہی نہ)، اور نہ ہی اسے بالکل کھول دو (کہ سب کچھ خرچ کر ڈالو)”۔ یہ آیت ہمیں توازن سکھاتی ہے—اپنے آپ کو ضائع کیے بغیر دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک۔۔۔۔

    اگر آپ خوش قسمتی سے باؤنڈری بنا سکی ہیں، اور لوگ آپ سے دور ہو گئے ہیں—تو سمجھ لیجیے وہ کبھی آپ کے اپنے تھے ہی نہیں۔ جو رشتے باؤنڈریز کے احترام پر قائم ہوں، وہی دیرپا اور مخلص ہوتے ہیں۔ باقی سب محض استعمال کی خواہش ہوتی ہے، جس کا پردہ "محبت” اور "تعلق” کے الفاظ سے ڈھانپا گیا ہوتا ہے۔اس لیے اگر آپ کو باؤنڈریز بنانے کی قیمت چکانی پڑی ہے، تو یاد رکھیں آپ نے کچھ کھویا نہیں، بلکہ اپنے گرد موجود منافقت کا پردہ چاک کیا ہے۔ اور یہ پہچان، یہ شعور، یہ خود احترامی، کسی بھی قیمت سے زیادہ قیمتی ہے۔۔۔۔۔!!!

  • آخر کب۔۔؟ تحریر :عائشہ اسحاق

    آخر کب۔۔؟ تحریر :عائشہ اسحاق

    اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی وحشت ناک بمباری سے ہونے والی تباہی سے انسانیت کا جذبہ رکھنے والے غیر مسلم بھی سراپا احتجاج ہیں مگر خاموش ہیں تو صرف مسلم ممالک کے حکمران اور افواج جو انتہائی قابل ہیں،امت مسلمہ اور ایٹمی پاکستان کے حکمران عوام کو جوابدہ ہیں کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی فلسطینی مظلوم بہن بھائیوں کی مدد کیوں نہ کی گئی غزہ جل گیا رفحہ جل گیا مگر امت مسلمہ کے حکمرانوں کی جانب سے اسرائیل کی جا رحیت کے خلاف ایک دھمکی آمیز ٹویٹ تک بھی نہ آیا ،یہ وہی خاموشی ہے جس کے متعلق قران کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا” اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں عورتوں اور بچوں کی مدد کے لیے نہیں لڑتے جو فریاد کر رہے ہیں اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال دے جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنی طرف سے کوئی حمایتی عطا فرما اور ہمیں اپنی طرف سے مددگار عطا فرما ( سورۃ نساء 75) .اور آج بھی فلسطین کے مظلوم پکار رہے ہیں یہ بات ناقابل فراموش ہے کہ 57 ممالک کی خاموشی ایک طرف اور پاکستان ایک طرف ہے کیونکہ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت رکھتا ہے مگر نہایت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اہل غزہ کی مدد کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں اپنائی جا رہی ہے.

    یوں تو اسرائیلی جارحیت گزشتہ 80 برس سے جاری ہے مگر گزشتہ 18 ماہ سے تباہی دیکھنے میں جو آرہی ہے ان کا بیان کرنا مشکل ہے جن میں سے ایک ایسی ہی رات جس کی ہولناکی الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی، محض ایک رات میں 100 سے زائد بچے شہید کر دیے گئے ایسے بچے بھی دفنائے گئے جن کے سر دھڑ سے الگ تھے ،معصوم پھولوں کے لاشے بم کی شدت سے ہوا میں اڑے اور پھر زمین پر آ گرے، کل بچوں کی تعداد 18 ہزار بتائی جاتی ہے جو اسرائیلی اور امریکی مشترکہ بمباری کا لقمہ اجل بنے، جنگ کے بھی کچھ قوانین ہوا کرتے ہیں مگر اسرائیل تمام انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کھلے عام کر رہا ہے کیا اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے کہاں ہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں؟ کہاں ہیں اقوام متحدہ کے امن سفیر ؟کہاں ہیں وہ لبرل تنظیمیں جو حقوق برابری کا ڈھونگ رچائے پھرتی ہیں. اسرائیل نے عالمی قوانین کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے انسانی حقوق کی تنظیمیں، اقوام متحدہ سلامتی کونسل ،سارے امریکہ اور اسرائیل کی ذیلی تنظیمیں ہیں. اس لیے ان کی خاموشی پر ہمیں کوئی تعجب نہیں ،کوئی ملال نہیں ، یہ سب دیکھنے کے بعد خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے شہید مفتی منیر شاکر کی بات درست ثابت ہوتی ہے کہ” تم میں سے کوئی مسلمان نہیں” واقعی سب مسلمانوں کی اصلیت کھل کر سامنے آچکی ہے اور ثابت ہو گیا کہ آج کے مسلمان غیرت ایمانی سے خالی ہیں.

    ڈائریکٹر غزہ ڈاکٹر منیر البریش کا ٹویٹ” غزہ آخری سانسیں لے رہا ہے تمہارا بہت انتظار کیا اللہ حافظ” تمام نام نہاد مسلمانوں کے منہ پرطمانچہ ہے. کیا قدرت اس مجرمانہ خاموشی پر ہمیں معاف کر دے گی یا کسی دن ہمارا بھی یہی حال ہوگا اور باقی سب خاموش رہیں گے، ایسی خاموشی کے متعلق مشہور فلاسفر کا کہنا ہے "اگر کہیں پر ظلم ہو رہا ہو اور مجھے موقع ملے تھوکنے کا تو میں خاموش رہنے والوں کے منہ پر تھوکوں گا ظالموں کے منہ پر نہیں” (چی گویرا) ۔ اسلام بے شک امن کا درس دیتا ہے مگر ہم جہاد سے انکار نہیں کر سکتے. نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہہ وسلم نے مسلمانوں کو ایک جسم قرار دیا اور فرمایا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جس کا ایک حصہ کسی تکلیف میں مبتلا ہو تو دوسرا اس کو محسوس کرتا ہے یعنی جب جہاں کہیں بھی مسلمانوں‌پر ظلم حد سے تجاوز کر جائے تو جہاد فرض ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے جید مفتیان کرام کا جہاد کے لئے فتوی دینا خوش آئند ہے مگر ہماری تمام علماء کرام سے گزارش ہے کہ پاکستانی وزیراعظم اور سپہ سالار جو کہ جدید اسلحہ اور ایٹمی طاقت کے حامل ہیں ان سے اس حوالے سے مشترکہ بیانیہ جاری کرنے کا مطالبہ کریں. اس سب کے علاوہ یہ بات بھی قابل تشویش ہے کہ اکثر سوشل میڈیا کے صارفین جو اپنے اکاؤنٹس بلاک ہو جانے کے ڈر سے خاموش دکھائی دیتے تھے یکدم بیدار ہوئے ہیں اور متواتر مایوسی پھیلا رہے ہیں، یاد رکھیں اہل غزہ نے جس بہادری، صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا وہ باعث فخر ہے اور انہوں نے دشمنوں کے آگے سر جھکانے سے انکار کیا اس لیے سوشل میڈیا کے نادان غازی اہل غزہ کے متعلق مایوسی کی فضا قائم کرنے سے گریز کریں کیونکہ مایوسی گناہ ہے اور حالت جنگ میں مایوسی پھیلانا زہر قاتل ہے. فلسطینی صحافی خلیل ابو الیاس ڈاکٹر منیر اور ہماری دیگر فلسطینی بہنوں کے فیس بک اور ٹویٹر پر انے والے بھی ہونے کا مقصد یہ نہیں کہ وہ باطل کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو چکے ہیں بلکہ ان کے بیانات کا مقصد یہ ہے کہ شاید اسلامی ممالک کے حکمرانوں میں غیرت ایمانی جاگ اٹھے۔جیسا کہ ایک فلسطینی بہن نے لکھا "ہماری خبریں اب سے تمہیں پریشان نہیں کریں گی یہ صرف چند دنوں کی بات ہے اور پھر سب ختم ہو جائیں گے اللہ اس کو ہرگز معاف نہ کرے جو ہمارے ظلم پر خاموش رہا”. یہ بیان سوئے ہوئے مسلمانوں کی غیرت جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے اور اس سے بڑھ کر یہ سوچنا چاہیے کہ اس بہن نے کیا لکھا ہے کہ اللہ اس کو ہرگز معاف نہ کرے جو ہمارے ظلم پر خاموش رہا اب اس بات پر غور کرنی چاہیے کہ عام عوام کیا کر رہے ہیں محض دعاؤں پر استفادہ کرنے والے حضرات اور صرف یہ بات کہہ دینے والے لوگ کہ ہم تو عام لوگ ہیں،ہم کیا کر سکتے ہیں یہ تو حکمرانوں کا کام ہے ہم صرف دعا کر سکتے ہیں ایسے چند بہانے بنا کر خود کو بری الزمہ تصور کر لینا سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔درحقیقت ہم عام شہری بھی معاشی ضروریات کے پیچھے اس طرح سے لگے ہوئے ہیں کہ روٹی کپڑا اور اعلی آسائشیں ہی ہماری اولین ترجیح ہے آج کے مسلمان کو اپنے سٹیٹس کی فکر لگی رہتی ہے اسی وجہ سے ہم بھی بزدلی کے اعلی مقام تک پہنچ چکے ہیں۔جب کہ ہم عام شہری ہیں ہم کیا کر سکتے ہیں اس بات کا جواب یہ ہے کہ جو متحد ہو کر اپنے موجودہ حکومت سے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ آپ فلسطین کی مدد کے لیے کیوں نہیں جا رہے ہیں ان کی خاموشی پر ہماری خاموشی اور محض یہ کہہ دینا کہ ہم کیا کر سکتے ہیں ہمیں بھی مجرم بنا رہی ہے۔کرنا یہ ہے کہ ہم سب کو یکجا ہو کر آواز اٹھانی ہے اور وزیراعظم سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ تمام تر وسائل کے باوجود پاکستان فلسطین کی مدد کے لیے کیوں نہیں جا رہا ہے ، ہمیں ذاتی طور پر بھی اسرائیلی تمام مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے اور ہمیں حکومت پاکستان سے اس چیز کا بھی پرزور مطالبہ کرنا چاہیے کہ اسرائیلی تمام مصنوعات کی خرید و فروخت پر پاکستان میں مکمل طور پر پابندی عائد کی جائے آخر اسرائیلی مصنوعات جس کی اجازت سے پاکستان میں خریدی اور بیچی جا رہی ہیں اس اسرائیل کے ساتھ تمام کاروباری معاملات ختم کرنے چاہیے اس طرح ہم دشمن کی معیشت کو تباہ کر سکتے ہیں یہ وہ مطالبات ہیں جو ہم عام شہری ہم عام عوام کو متحد ہو کر اپنے موجودہ حکمرانوں سے کرنے چاہیے۔ہم شہری ہیں ہم طاقت نہیں رکھتے ہیں اس بات کی آڑ میں چھپے رہنا نہایت بزدلانا عمل ہے۔

    حضرت ثوہان رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "قریب ہے کہ قوم تم پر اس طرح ٹوٹ پڑے جیسے کھانے والے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا اس وقت مسلمان تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تم اس وقت بہت زیادہ ہو گے لیکن سمندر کی جھاگ کی مانند ہو گے، اللہ تعالی تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب اور دبدبہ نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا. پوچھا گیا یا رسول اللہ وہن کیا ہے؟ آپ نے فرمایا دنیا کی محبت اور موت کا ڈر (سنن ابی داؤد 4297 صحیح). اور یہی حال آج ہمارا ہے، ہمیں اس وقت باقی اسلامی ممالک کا چھوڑ کر خود اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے ہم تعداد میں بہت زیادہ ہیں پاکستانی 25 کروڑ عوام اپنے حکمران اور سپہ سالار کو کیوں مجبور نہیں کر سکتی، دعائیں کرنا اپنی جگہ ضروری ہے مگر اس معاملے میں عملی طور پر متحد ہونا زیادہ ضروری ہے . لہذا اس بہانے سے خود کو تسلی دینا بند کریں کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے، اس چیز کا اسلام میں کوئی تصور نہیں قران پاک میں ذکر ہے "نکل کھڑے ہو خواہ ہلکے ہو یا بھاری اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرو یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو (سورت توبہ 41). ہمیں فریضہ جہاد کی علمی، عملی، ذہنی ،بدنی انفرادی اور اجتماعی تربیت کی تیاری کرنی چاہیے، دنیا کی لذتوں میں مد ہوش مسلمان ہوش میں آئیں، یاد رکھیں،موسی کی قوم نے ظالموں سے لڑنے سے انکار کیا کہ وہ بہت طاقتور ہیں تم اور تمہارا خدا ہی جا کر لڑو پھر اللہ نے ان پر ذلت اور رسوائی مسلط کر دی ،غزہ نے عزت، حریت اور شہادت کو ترجیح دی اور ایمان پر ثابت قدم رہے ہم کیا کر رہے ہیں؟اہل غزہ کو ہمارے آنسوؤں کی ضرورت نہیں، ذرا سوچیں روز محشر جب فلسطین کے مظلوم اور شہیدوں کے متعلق باز پرسی ہوگی تو ہم کیا جواب دیں گے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کیسے کریں گے، ابھی بھی وقت ہے غفلت کی نیند سے بیدار ہو جائیں ورنہ یاد رکھیں "اللہ کی پکڑ بہت مضبوط ہے” (القران)، یاد رکھیں غزہ ختم نہیں ہوا غزہ ایک تاریخ لکھ چکا ہے جسے وقت کی گردش بھی مٹا نہیں سکتی مگر اس ڈھال کے سائے میں چین کے نیند سونے والوں کو اپنے انجام کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ جب دیوار گر جائے تو جھونپڑیاں زیادہ دیر قائم نہیں رہتی ہیں، مسلمان اور پاکستانی ہونے کے ناطے متحد ہو کر نکلیں اور پرزور مطالبہ کریں کہ فلسطین کی مدد کے لیے عملی طور پر جلد از جلد حکمت عملی کا اعلان کیا جائے۔ان مطالبات کے ذریعے ہم عام عوام حکومت پاکستان کو فلسطین کی حمایت میں متحرک کر سکتے ہیں تاکہ روز محشر ہم اپنے رب سے کہہ سکیں کہ اے اللہ ہم نے کوشش کی۔

    خاموش مجرم.تحریر:عائشہ اسحاق

  • گیم چینجر سیاسی جماعت اور سیاستدانوں کی ضرورت،تحریر:شہزاد قریشی

    گیم چینجر سیاسی جماعت اور سیاستدانوں کی ضرورت،تحریر:شہزاد قریشی

    دنیا کو کسی اور پھر بے اختیار ادارے کی ضرورت نہیں ،جو خالی بیانات جاری کرے۔ دنیا کو بین الاقوامی سطح پر ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو دنیا کا دفاع کر سکے ۔خلق خدا کو جنگوں سے محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ میری مراد اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، او آئی سی ،عرب لیگ وغیرہ وغیرہ ۔ اسی طرح دنیا کو کسی ایسی عدالت کی ضرورت نہیں جس کے حکم پر عمل نہ کیا جائے۔ وطن عزیز کی ہنگامہ خیز سیاست ، سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کو خلق خدا کے لئے اور پاکستان کے وقار سلامتی کے لئے ہنگامی سیاست سے باہر نکلنا ہوگا۔ پاکستان کو اس وقت گیم چینجر سیاسی جماعت اور سیاستدانوں کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک کی داخلی اورخارجہ پالیسیاں تبدیلیا ں ہو رہی ہیں۔ اس تبدیلی کے اثرات بلاشبہ پاکستان پر بھی پڑے گی ۔

    دنیا میں معاشی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے ۔ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان یعنی امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ پاکستان کی قومتی سلامتی کے اداروں نے بھارت اور افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کا ہماری دفاعی طاقتوں کا کردار قابل ستائش ہے ۔ ملک وقوم کی حفاظت پر مامور دفاعی ادارے جو انمردی سے ان موت کے سوداگروں کو شکست سے دوچار کررہے ہیں۔ ماضی میں دفاعی اداروں نے دہشت گردوں اور ملک سے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کیا ، ایک عالم گواہ ہے۔ وطن عزیز کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ بھارت کا ناپاک خواب ہمارے دفاعی ادارے کبھی پورے نہیں ہونے دیں گے۔ موجودہ عالمی تجارتی جنگ میں امریکہ سمیت عالمی دنیامیں تعینات سفیروں کواپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کویقین دلانا ہوگا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے ،اپنی بیگمات کی این جی اوز سے توجہ ہٹا کر وطن عزیز کی معیشت پر توجہ دینی ہوگی۔ دنیا بھر میں تعینات کمرشل قونصلر اپنے آپ کو کمرشل کرنے کی بجائے وطن عزیز کی معیشت اور تجارت پر توجہ دیں۔ سیاسی جماعتیں اور سیاستدان ہنگامی سیاست سے نکل کر وطن عزیز کی سلامتی اوروقار کو مد نظر رکھتے ہوئے سرجوڑ کر بیٹھیں ۔ ملکی مفاد کو اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دینا کون سی قومی خدمت ہے۔

  • عورت، ایک انمول کتاب،تحریر:نور فاطمہ

    عورت، ایک انمول کتاب،تحریر:نور فاطمہ

    عورت کو اگر کتاب سے تشبیہ دی جائے تو یہ مثال نہایت خوبصورت اور معنی خیز ہے۔کتابیں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ جذبات، خیالات، فہم و ادراک، اور وقت کا عکس ہوتی ہیں۔ عورت بھی کچھ ایسی ہی ہستی ہے،گہرائیوں سے بھری ہوئی، نرمی سے مزین، اور اسرار سے لبریز،مرد کی فطرت میں تجسس ہے۔ وہ عورت کو جاننا، سمجھنا اور اس کے دل کے رازوں تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔لیکن عورت محض ظاہر میں موجود خوبصورتی یا نرم لہجے کا نام نہیں، بلکہ اس کے اندر ایک پورا جہان آباد ہوتا ہے۔اس جہان تک رسائی حاصل کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

    کتاب کو پڑھنے کے لیے صرف آنکھیں کافی نہیں ہوتیں، دل، وقت، توجہ، اور احترام بھی درکار ہوتا ہے۔اسی طرح عورت کو سمجھنے کے لیے محض گفتگو یا ظاہری حرکات کافی نہیں ہوتیں، بلکہ احساس درکار ہوتا ہے،صبر درکار ہوتا ہے،سمجھ بوجھ،اور سب سے بڑھ کر احترام درکار ہوتا ہے،بہت سے مرد عورت کو اپنی ملکیت سمجھ بیٹھتے ہیں، جبکہ عورت ایک آزاد ہستی ہے، ایک مکمل وجود، جسے صرف محبت سے، سمجھ بوجھ سے اور عزت دے کر ہی پڑھا جا سکتا ہے۔

    چند خوش نصیب مردوہہوتے ہیں جو عورت کے لبوں سے نکلنے والے الفاظ سے زیادہ اس کی خاموشیوں کو سمجھتے ہیں۔
    جو اس کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپے درد کو محسوس کرتے ہیں۔جو عورت کو ایک شخصیت، ایک انسان سمجھتے ہیں، نہ کہ محض ایک کردار،ایسے مرد عورت کی کتاب کو نہ صرف پڑھتے ہیں بلکہ اسے سلیقے سے سنبھال کر رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ عورت کے ہر صفحے پر ایک الگ کہانی ہے،کبھی ماں کی محبت،کبھی بیوی کی وفاداری،کبھی بیٹی کی معصومیت،
    اور کبھی بہن کی شفقت،عورت کو سمجھنے کے لیے کتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں،بلکہ خود اس "کتاب” کو سمجھنے کی نیت، ہنر، اور سلیقہ ہونا چاہیے۔جو یہ سلیقہ سیکھ لیتے ہیں، وہ زندگی کی سب سے حسین اور گہری کتاب کو پا لیتے ہیں۔

  • جو چاہو کھو دو، مگر اس دل کو مت کھونا.تحریر:نبیلہ رحمان

    جو چاہو کھو دو، مگر اس دل کو مت کھونا.تحریر:نبیلہ رحمان

    زندگی میں ہر انسان کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ کوئی شہرت چاہتا ہے، کوئی دولت، کوئی کامیابی کے پیچھے دوڑتا ہے اور کوئی رشتوں کو اہمیت دیتا ہے۔ لیکن ان تمام ترجیحات میں ایک چیز اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے ، دل۔ہم اکثر ان لوگوں کی قدر تب کرتے ہیں جب وہ ہمارے ساتھ نہیں ہوتے۔ وہ لوگ جو دن رات ہمیں خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ہماری چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتے ہیں، ہمارے لیے اپنے جذبات کو قربان کر دیتے ہیں، ہم انہیں معمولی سمجھ لیتے ہیں۔ ان کے خلوص کو، ان کے پیار کو، ان کی توجہ کو ہم کبھی مکمل طور پر محسوس ہی نہیں کرتے۔لیکن وقت جب ہاتھ سے نکل جاتا ہے، تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ "کچھ دل کبھی دوبارہ نہیں ملتے”

    دل جو خاموشی سے محبت کرتا ہے،ایسے دل نہ تو واویلا کرتے ہیں، نہ ہی محبت کے لیے مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ دل صرف چاہتے ہیں کہ انہیں سمجھا جائے۔ ان کی بے آواز چیخوں کو سنا جائے، ان کی خاموش قربانیوں کو پہچانا جائے۔ مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم اُن دلوں کو کھو دیتے ہیں، جو ہمارے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔جب ایک طرف سے محبت ہو، اور دوسری طرف صرف بے نیازی، تو ایک وقت آتا ہے جب وہ مخلص دل بھی تھک کر خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ جو کبھی تمہیں خوش کرنے کے لیے ہر حد پار کرتا تھا، وہ ایک دن خاموش ہو کر دور ہو جاتا ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب دل ٹوٹتے ہیں ، نہ صرف ایک، بلکہ دونوں طرف کے۔

    اگر ہم وقت پر آنکھیں کھولیں، اگر ہم اُن لوگوں کی قدر کریں جو بے غرض محبت کرتے ہیں، تو ہم بہت کچھ بچا سکتے ہیں۔ ہم اُن دلوں کو سنبھال سکتے ہیں جو شاید وقت کے ساتھ تھکنے لگے ہیں۔محبت کرنے والے دل بہت نایاب ہوتے ہیں۔ جس دل نے آپ کے لیے بہت کچھ کیا ہے، جس نے ہر بار آپ کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھا ہے، اُسے کبھی نہ کھوئیں۔ کیونکہ جب وہ دل چلا جاتا ہے تو نہ وقت واپس آتا ہے، نہ وہ خلوص، نہ وہ جذبہ،جو چاہو کھو دو، مگر کبھی اس دل کو مت کھونا۔۔۔ کیونکہ کچھ دل واقعی کبھی دوبارہ نہیں ملتے۔

  • سب سے بڑی دلیری،تحریر:رائے نوشین بھٹی

    سب سے بڑی دلیری،تحریر:رائے نوشین بھٹی

    دنیا کی بھیڑ میں، جہاں ہر شخص کسی نہ کسی نقاب کے پیچھے چھپا بیٹھا ہے، وہاں سب سے بڑی دلیری یہی ہے کہ انسان خود کو وہی ظاہر کرے جو وہ حقیقت میں ہے۔ یہ ایک سادہ سا جملہ لگتا ہے، مگر اس کے اندر ایک بہت گہری دانائی چھپی ہوئی ہے۔آج کی دنیا میں لوگ اکثر دوسروں کی خوشنودی، سماجی دباؤ یا ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے خود کو چھپاتے ہیں۔ ہم اکثر وہ دکھاتے ہیں جو دوسرے دیکھنا چاہتے ہیں، وہ بولتے ہیں جو دوسرے سننا چاہتے ہیں، اور وہ بننے کی کوشش کرتے ہیں جو معاشرہ ہم سے چاہتا ہے۔ مگر اس سارے عمل میں ہم خود سے دور ہو جاتے ہیں۔ اپنے اصل کو کھو بیٹھتے ہیں۔

    اپنی اصل کو قبول کرنا کیوں مشکل ہے؟
    خود کو اپنی حقیقت کے ساتھ ظاہر کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں
    تنقید کا خوف: اگر میں نے اپنے خیالات اور جذبات سچ سچ بیان کیے تو لوگ کیا کہیں گے؟
    رد کیے جانے کا ڈر: کیا اگر میں اپنی اصل شکل دکھاؤں تو لوگ مجھے قبول کریں گے؟
    موازنہ: سوشل میڈیا اور دنیاوی کامیابیوں نے ہمیں دوسروں سے موازنہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہم وہ بننے کی کوشش کرتے ہیں جو "کامیاب” دکھائی دیتا ہے، چاہے وہ ہماری فطرت سے میل نہ کھاتا ہو۔

    حقیقی دلیری کیا ہے؟
    حقیقی دلیری تلوار چلانے یا اونچی آواز میں بولنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے اندر جھانک کر، اپنی خوبیوں اور خامیوں دونوں کو تسلیم کرنے کا نام ہے۔ خود کو ایسے قبول کرنا جیسا کہ ہم ہیں، اور بغیر کسی خوف یا دکھاوے کے ویسا ہی دنیا کے سامنے پیش آنا—یہی اصل بہادری ہے۔

    خود کو اپنی حقیقت میں ظاہر کرنے کے فوائد
    اندرونی سکون: جب آپ خود کو چھپانے کی کوشش نہیں کرتے، تو دل کو ایک سکون ملتا ہے۔
    خالص رشتے: آپ کے اردگرد وہی لوگ رہتے ہیں جو آپ کو حقیقت میں پسند کرتے ہیں، نہ کہ آپ کے نقاب کو۔
    ذاتی ترقی: جب آپ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرتے ہیں تو ہی آپ انہیں بہتر بنا سکتے ہیں۔
    اعتماد میں اضافہ: جب آپ خود پر اعتماد کرتے ہیں، تو دوسروں کا اعتماد بھی آپ پر بڑھتا ہے۔

    زندگی ایک سفر ہے، اور اس سفر میں سب سے خوبصورت ساتھی ہمارا "اصل خود” ہے۔ تو کیوں نہ ہم اس کے ساتھ سچائی سے جئیں؟ سب سے بڑی دلیری یہی ہے کہ ہم خود کو نہ بدلیں، نہ چھپائیں، بلکہ اپنی اصل کو فخر سے دنیا کے سامنے پیش کریں۔