Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سگریٹ پر ٹیکس، غریب کی پہنچ سے دوری.تحریر :طارق نویدسندھو

    سگریٹ پر ٹیکس، غریب کی پہنچ سے دوری.تحریر :طارق نویدسندھو

    سگریٹ پر ٹیکس، غریب کی پہنچ سے دوری
    تحریر: طارق نوید سندھو، ڈسٹرکٹ رپورٹر باغی ٹی وی قصور

    پاکستان میں تمباکو نوشی کا رجحان آئے روز بڑھتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل اس کے نشانے پر ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ اگر بروقت تمباکو نوشی کے تدارک کے لیے مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ہماری نوجوان نسل کو دنوں میں تباہی کی طرف دھکیل دے گی۔ تمباکو بنانے اور ٹیکس چوری کے پیش نظر تمباکو پر ٹیکس اور ضوابط میں فوری اور مؤثر اصلاحات کی ضرورت ہے۔

    حالات اس چیز کا تقاضا کرتے ہیں کہ نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے بڑھتے رجحان کو روکنے کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔ تمباکو پر عائد ٹیکس کا پیچیدہ نظام، صنعتکار نرخوں میں غیر متناسب رد و بدل، برانڈ کی تنوع سازی، قیمتوں کی مصنوعی بلندی اور صارفین کو کم قیمت مصنوعات جیسے مختلف حربوں سے تمباکو کے صنعت کار نہ صرف ٹیکس سے بچ نکلتے ہیں بلکہ نوجوانوں میں تمباکو کی لت کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

    ای سگریٹس اور نکوٹین پاؤچز جیسے نئے رجحانات پر قواعد و ضوابط کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ بچوں میں نکوٹین کے استعمال کا مسئلہ اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتا ہے جب وہ غیر منظم مصنوعات اور اشتہارات سے متاثر ہوتے ہیں۔ تمباکو کی صنعت نہ صرف اعداد و شمار میں ہیر پھیر کرتی ہے بلکہ بجٹ سے قبل ذرائع ابلاغ میں جھوٹے بیانیے پھیلانے کی مہم بھی چلاتی ہے۔ ہمیں اس کا مقابلہ ٹھوس اور سائنسی شواہد کے ساتھ کرنا ہو گا۔

    تمباکو نوشی نوجوانوں کو نشے جیسی لعنت کی طرف دھکیلنے میں معاون ہو رہی ہے لہٰذا جلد اس کی روک تھام ضروری ہے۔ لیکن اس کی روک تھام کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا نظر آتا ہے۔ حقائق کسی اور طرف اشارہ کرتے ہیں۔ آپ تمباکو نوشی کے تدارک کے لیے عملی قدم اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ آپ کے پیچھے ایسے ایسے مافیاز لگ جائیں گے کہ آپ جلد ہی اس سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ تمباکو اور منشیات سے پاک معاشرے ہمارا صرف خواب ہو سکتا ہے جس کی تکمیل ممکن نظر نہیں آتی۔

    تمباکو نوشی ٹی بی، معدے کے مسائل، ہارٹ اٹیک اور بے شمار اور بیماریوں کا باعث بن رہی ہے۔ میرے ایک پروفیسر دوست بتانے لگے کہ ان کے والد کے بائی پاس پر وہ ہسپتال میں ڈاکٹر سے پوچھنے لگے کہ مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ یہاں دل کے تمام مریض دبلے پتلے ہیں۔ کیا موٹے لوگوں میں یہ بیماری موجود نہیں ہے؟ ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ "انھیں یہاں پہنچنے کا موقع نہیں مل پاتا۔”

    اب ہم بھی حالات کے ایسے دھارے پر آن کھڑے ہوئے ہیں کہ اگر تمباکو نوشی اور منشیات جیسی لعنت پر فوری قابو نہ پایا جا سکا تو شاید ہمارے معاشرے کے نوجوانوں کو بھی ہسپتال پہنچنے کا موقع نہ مل سکے۔

  • جدید نشہ ،تحریر: عبدالصمد مظفر، لاہور

    جدید نشہ ،تحریر: عبدالصمد مظفر، لاہور

    جدید نشہ
    تحریر: عبدالصمد مظفر، لاہور

    دروازے پر دستک ہوتی ہے۔
    اماں نے آواز دی:
    "کون ہے بھئی؟”

    باہر سے آواز آتی ہے:
    "بابو جی گھر پر ہیں کیا۔۔۔ میں اسکول سے آیا ہوں۔”

    اماں نے دوپٹہ سر پر دوبارہ رکھا اور بولیں:
    "ارے میاں۔۔۔ اندر آ جاؤ۔۔۔ جتنی دیر میں میں دروازے پر آؤں گی، تم پوری بات بتا دو گے۔”

    جمال، جو کہ اسکول کا چوکی دار ہے، گھر میں داخل ہوتا ہے اور سلام دعا کے بعد اماں سے کہتا ہے:
    "ماں جی۔۔۔ بابو جی کہاں ہیں؟ اپنے چھوٹے باؤ جی کی شکایت لایا ہوں۔”

    اماں جی نے یہ بات سنی تو رونے لگ گئیں اور اپنے بیٹے کو کوسنے لگیں:
    "کم بخت نے اپنی اولاد کو سر پر چڑھا رکھا ہے، کوئی پوچھ گچھ نہیں۔ آخر یہ دن آنا ہی تھا۔ میں منع کروں تو سب برا مناتے ہیں۔ خیر، آپ بتاؤ کہ کیا شکایت لائے ہو؟”

    چوکی دار نے کہا:
    "پرنسپل نے آج کلاس میں چھوٹے باؤ جی کو دوستوں کے ساتھ نشہ کرتے دیکھا ہے۔۔۔”

    یہ بات سنی تو اماں جی نے شور مچانا شروع کر دیا۔

    چوکی دار نے کہا:
    "آپ شور نہ کریں اور باؤ جی کو اسکول بھیجیں۔۔۔”

    اماں جی نے چادر سر پر لی اور باؤ جی کو ڈھونڈنے چل پڑیں۔
    ایک دکان پر باؤ جی مل گئے تو اماں جی نے انہیں آواز دی اور پاس بلا کر ساری بات بتا دی۔

    باؤ جی نے اماں جی کو ساتھ لیا اور اسکول پہنچ گئے،
    جہاں چار بچوں کو پرنسپل نے دفتر میں بٹھا رکھا تھا۔

    باؤ جی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور چھوٹے باؤ جی کو گردن سے پکڑ کر دو تھپڑ لگا دیے۔

    پرنسپل نے انہیں منع کیا اور کہا:
    "والدین نے ساری ذمہ داری اسکول پر ڈال دی ہے، کچھ اپنی ذمہ داری کو بھی نبھائیں۔
    آپ کا بچہ کلاس میں ایک جدید طرز کا نشہ پی رہا تھا۔
    جو بظاہر خوشبو دار اور خوش ذائقہ محسوس ہوتا ہے،
    لیکن اس کا ایک کش کئی سگریٹ پینے کے برابر ہے۔
    شروع میں یہ کچھ نہیں کہتا لیکن اندر ہی اندر پھیپھڑوں کا ستیاناس کر دیتا ہے۔
    پورا جسم مفلوج ہونے کا سو فیصد یقین ہوتا ہے۔
    یہ نشہ اب فیشن بن چکا ہے اور عام ہو گیا ہے۔
    یہی نشہ بعد میں سگریٹ، چرس اور ہیروئن تک لے جاتا ہے۔
    یہ نشہ نوجوان نسل کے ساتھ ساتھ چھوٹے بچوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے،
    کیونکہ وہ یہ اچھوتی چیز دیکھ کر اس کی جانب توجہ کریں گے اور کہیں چھپ کر اس کو استعمال بھی کریں گے۔

    خدارا اپنے بچوں کو اس سے بچائیں۔ اس سے پہلے کہ پچھتاوا ہو۔۔۔ کیونکہ بعد میں صرف پچھتاوا ہی بچے گا۔”

    باؤ جی نے چھوٹے باؤ جی کی طرف دیکھا اور پوچھا:
    "یہ کہاں سے لائے ہو؟”

    اس نے بتایا:
    "آن لائن منگوایا تھا۔۔۔”

    پرنسپل نے کہا:
    "آپ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں، ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔
    یہ نشہ ذائقہ دار تو ہے لیکن اس کا نقصان بہت سنگین ہے۔
    ویسے بھی ہمارا مذہب ہر طرح کے نشے پر سختی سے منع کرتا ہے۔”

    اماں جی اس وقت خاموش تھیں،
    کیونکہ انہوں نے گھر جا کر جو خاطر تواضع کرنی تھی
    اس کا مکمل خاکہ وہ سوچ بیٹھی تھیں۔

  • سگریٹ پر ٹیکس: غریب کی پہنچ سے دوری اور معاشرتی ذمہ داری کی اصل روح،تحریر:مدیحہ کنول

    سگریٹ پر ٹیکس: غریب کی پہنچ سے دوری اور معاشرتی ذمہ داری کی اصل روح،تحریر:مدیحہ کنول

    سگریٹ پر ٹیکس: غریب کی پہنچ سے دوری اور معاشرتی ذمہ داری کی اصل روح
    تحریر:مدیحہ کنول
    سگریٹ پر ٹیکس کا اضافہ، بظاہر تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کا ایک مؤثر حربہ نظر آتا ہے، مگر کیا ہم نے کبھی اس کے دوسرے رخ اور گہرے سماجی اثرات، خاص طور پر غریب طبقے پر پڑنے والے مضمرات پر غور کیا ہے؟ جب سگریٹ مہنگا ہوگا تو یقیناً وہ غریب کی دسترس سے دور ہو جائے گا، مگر کیا یہ حقیقی معنوں میں تمباکو نوشی کے خاتمے کی ضمانت ہے یا صرف ایک نئی اور گمبھیر مشکل کا آغاز؟

    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ غریب طبقہ اکثر شدید ذہنی دباؤ، بے روزگاری، اور نامساعد معاشی حالات سے نبرد آزما رہتا ہے۔ ایسے میں سگریٹ، جو بعض اوقات ایک سستی "تفریح” یا "عارضی سکون” کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ اگر اس پر بے تحاشا ٹیکس لگا دیا جائے تو ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ دیر کے لیے اس سے دور ہوں، مگر اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ غیر معیاری، مضر صحت اور سستے متبادلات کی طرف راغب ہو جائیں گے۔

    یہ عمل نہ صرف ان کی صحت کے لیے مزید خطرناک ثابت ہوگا بلکہ اسمگلنگ اور کالا بازاری جیسے غیر قانونی دھندوں کو بھی فروغ دے سکتا ہے، جو معاشرے میں مزید بگاڑ کا سبب بنے گا۔

    حکومت اور معاشرے کی اصل ذمہ داری صرف سگریٹ کو مہنگا کرنا نہیں، بلکہ غریب طبقے کو تمباکو نوشی کی وجوہات سے نجات دلانا ہے۔ اس کے لیے انہیں بہتر صحت کی سہولیات، ذہنی صحت کے مشاورتی پروگرامز، متبادل روزگار کے مواقع، اور صحتمندانہ تفریح کی سستی و قابلِ رسائی سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔ ہمیں پہلے مسئلہ کی جڑ پر ضرب لگانا ہوگی۔

    سگریٹ مہنگا کرنے کی بجائے، اس کے نقصانات سے آگاہی کے جامع اور مؤثر پروگرام چلائے جائیں اور ترک کرنے کے لیے باقاعدہ بحالی مراکز قائم کیے جائیں جو غریبوں کی بآسانی رسائی میں ہوں۔ فرض کیجیے، ایک مزدور جو دن بھر کی مشقت کے بعد سگریٹ سے لمحاتی سکون حاصل کرتا ہے، اگر وہ اس سے محروم ہو جائے، تو اس کی نفسیاتی حالت مزید بگڑ سکتی ہے۔

    اصل بہتری سگریٹ کی قیمت بڑھانے سے نہیں، بلکہ شعور بیدار کرنے، صحت مند متبادل فراہم کرنے اور غریب کے بنیادی سماجی و معاشی مسائل حل کرنے سے آئے گی۔ صرف قیمتوں میں اضافہ کر کے ہم مسئلے کی جڑ کو نہیں کاٹ سکتے، بلکہ اسے ایک نئی شکل میں ابھرنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں، جو طویل مدت میں معاشرے کے لیے زیادہ نقصان دہ ہو گا۔ ہمیں رحمدلانہ مگر دور اندیشانہ حل کی جانب بڑھنا ہو گا۔

  • سگریٹ کا پیکٹ، غریب کی جیب میں زہر، قوم کی صحت پر حملہ.تحریر: لائبہ

    سگریٹ کا پیکٹ، غریب کی جیب میں زہر، قوم کی صحت پر حملہ.تحریر: لائبہ

    سگریٹ کا پیکٹ، غریب کی جیب میں زہر، قوم کی صحت پر حملہ
    تحریر: لائبہ
    آج کل جب ہم باہر نکلتے ہیں تو ہر دوسرے مرد، بچے یا بوڑھے کے ہاتھ میں سگریٹ دیکھتے ہیں۔ کچھ عادت سے مجبور ہو کر پیتے ہیں، کچھ غم کو بھلانے کے لیے، کچھ خوشی میں اور کچھ صرف لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے۔ عورتیں اور بچیاں بھی آہستہ آہستہ اس طرف آ رہی ہیں۔

    سگریٹ پینا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے، خاص طور پر اگر نوجوان نسل کو دیکھا جائے تو، اور کمانے والے غریب طبقے کے لیے تو یہ ایک زہر ہے … پودے خاندان کو تباہ کرنے والی چیز ہے سگریٹ …!!

    جن گھروں میں کمانے والا ایک ہے اور پورے گھر کا نظام اُس کی کمائی اور صحت پر انحصار کرتا ہے، اگر وہی شخص سگرٹ نوشی میں خود کو اور اپنے پیسوں کو برباد کرے گا تو ایک اچھا معاشرہ کیسے بن پائے گا؟ ایک خاندان کیسے چل پائے گا؟ معصوم بیٹیوں اور بیٹوں کی تربیت و تعلیم کیسے ہو پائے گی…؟؟؟؟

    اگر ……. اس مسئلے کا ایک حل سوچا جائے کہ:

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا۔!!!

    تو کیا واقعی ہمیں مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی؟

    حکومت سگریٹ پر ٹیکس لگا کر لوگوں کو سگریٹ سے دور رکھنے کی کوشش تو کرتی ہے، لیکن شاید اس پر عمل نہیں ہو پاتا یا زیادہ دیر اس کا اثر نہیں رہتا۔۔۔!!!

    اب یہاں کچھ سوال ہم سب کے ذہن میں آتے ہیں کہ:

    سگریٹ پر ٹیکس لگانے سے کیا واقعی غریبوں پر، ان کی صحت پر اور ان کے ذہن پر کوئی اثر پڑے گا؟

    کیا ان کے لئے سگرٹ سے دور رہنا بہت مشکل کام ہوگا؟

    کیا واقعی غریب لوگوں کو صحت مند اور خوشگوار زندگی گزارنے میں مدد ملے گی۔۔۔؟

    اگر ہم اس پر بات کریں تو حکومت کو چاہیے کہ سگریٹ خریدنے پر بھاری ٹیکس لگایا جائے، شہریوں پر فائن لگائے جائیں، ان کو سزائیں دی جائیں۔

    جس سے کافی مقدار میں ہمیں رقم موصول ہوگی، جس سے ہم بہت سے کام کر سکیں گے، بہت سے غریب شہریوں کی مدد ہو سکے گی، غریب بچوں کی تعلیم کا خرچہ اٹھایا جا سکتا ہے، بیوہ عورتوں کو ماہانہ خرچہ دیا جا سکتا ہے، اور وہ لوگ جن کے خاندان پہلے سے ہی سگریٹ نوشی کی وجہ سے مشکل میں ہیں یا جن کے کمانے والے اس سگرٹ نوشی کی وجہ سے ہی دنیا سے چل بسے ہیں، ان خاندانوں کی مدد بھی ہو سکتی ہے۔

    اگر ہم ٹیکس کی بات کریں تو اس کا مقصد صرف شہریوں کو سگریٹ کے نقصانات سے بچانا ہے۔ یوں جب ٹیکس لگے گا تو بہت سے غریب سگریٹ خریدنا کم کر دیں گے۔

    اس سے نہ صرف ان کے پیسے بچیں گے بلکہ ان کی صحت بھی بہتر ہو جائے گی اور وقت کے ساتھ ساتھ شاید یہ عادت بھی ختم ہو جائے۔

    جو عقلمند شہری ہیں وہ یہ ضرور سوچیں گے کہ اگر سگریٹ زندگی میں نہیں ہے تب بھی ان کی زندگی چل رہی ہے اور وہ اس عادت کو خود پر حاوی ہونے نہیں دیں گے بلکہ اس کو چھوڑ دیں گے۔

    ٹیکس لگانے کے ساتھ ساتھ ہمیں شہریوں کے دماغ میں یہ بات بھی ڈالنی پڑے گی کہ اس کے نقصان بہت زیادہ ہیں۔ شہریوں کو ٹی وی پر دکھائی جانے والے اشتہارات، دیواروں پر لگے اشتہارات کے ذریعے سمجھانا بھی ضروری ہوگا۔

    ان کو یہ بھی دکھانا ہوگا کہ سالانہ سگریٹ نوشی سے کتنی اموات ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے خاندانوں کو بھی ضرورت ہے کہ وہ بھی ان کے دماغوں میں یہ بات ڈالیں۔

    کچھ عرصے میں ہمیں نہ صرف ان کی صحت بلکہ معاشرتی اور معاشی حالات میں بھی تبدیلی نظر آئے گی۔ اور انہی لوگوں میں ایسے بہت سے لوگ ہوں گے جو واقعی اپنی غلطی کو تسلیم کریں گے۔ یہاں ہماری سوسائٹی کا کام ہے کہ ایسے لوگوں کی تعریف کی جائے، ان کو ایپریشیٹ کیا جائے تاکہ وہ خوشی محسوس کریں اپنے اس قدم پر۔ اور یقینا ایسے ہی لوگ باقی لوگوں کی بھی مدد کریں گے اس عادت کو چھوڑنے میں۔

    ایسے بہت سے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور ان کو خود پر یقین ہوگا کہ واقعی وہ کسی بری عادت کو چھوڑ بھی سکتے ہیں۔

    ٹیکس لگانا ایک بہت اچھا قدم ہوگا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ذہن میں تبدیلی لانا بھی ضروری ہے کیونکہ تبدیلی انسان کے اندر ہوتی ہے۔ جب تک ہم اسے باہر نہیں لاتے، کوئی بھی نہیں لا سکتا۔ ذہنی طور پر سب کو تیار کرنا بھی بہت ضروری ہے۔

    ایک اچھی سوچ اور قدم بہت سی تبدیلیاں لا سکتا ہے…

    ہم یہ سب ذمہ داریاں ایک ساتھ پوری کریں گے تبھی ایک صحت مند، اچھا اور خوشگوار معاشرہ بنا پائیں گے، اپنے خاندانوں کو اچھی زندگی دے پائیں گے، اور اپنے ملک کی مدد کر سکیں گے، ریونیو جنریٹ کر سکیں گے، قرض اتار سکیں گے۔

    پاکستان زندہ باد

  • سگریٹ پر ٹیکس ، بوجھ یا بچاؤ؟تحریر: سعد فاروق

    سگریٹ پر ٹیکس ، بوجھ یا بچاؤ؟تحریر: سعد فاروق

    سگریٹ پر ٹیکس ، بوجھ یا بچاؤ؟
    تحریر: سعد فاروق
    ہمارے ہاں ایک عجیب مزاج پروان چڑھ چکا ہے ، حکومت کوئی بھی اقدام کرے، اس کی نیت اور افادیت کو فوراً شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ خاص طور پر جب بات سگریٹ جیسے "عوامی نشے” پر ٹیکس کی ہو، تو ایک مخصوص حلقہ چیخ اٹھتا ہے: "غریب کے منہ سے آخری خوشی بھی چھین لی گئی!” لیکن سوال یہ ہے: کیا واقعی سگریٹ پر ٹیکس غریب پر ظلم ہے؟ یا یہ ایک ایسا تلخ مگر ناگزیر فیصلہ ہے جو لاکھوں زندگیاں بچا سکتا ہے؟

    تمباکو نوشی کو ایک "معمولی لت” سمجھنے والا طبقہ شاید اس کے اصل چہرے سے ناواقف ہے۔ یہ صرف ایک سگریٹ نہیں، بلکہ زہر میں بجھا ہوا تیر ہے جو ہر کش کے ساتھ جسم کے کسی نہ کسی عضو کو زخمی کرتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق، دنیا بھر میں ہر 6 سیکنڈ میں ایک انسان تمباکو سے جڑی بیماری کے سبب جان کی بازی ہار جاتا ہے۔ پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد اموات تمباکو نوشی سے وابستہ امراض جیسے پھیپھڑوں کے سرطان، دل کی بیماریوں، سانس کی تکالیف اور فالج کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

    یہ صرف تمباکو نوش بننے والے فرد ہی کا نقصان نہیں، بلکہ اس کے خاندان، دوست احباب، اور بالخصوص غیرتمباکو نوش افراد بھی اس زہریلے دھوئیں کے نتیجے میں "ثانوی تمباکو نوشی” (Passive Smoking) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال 40 ہزار سے زائد بچے اور خواتین اس ثانوی دھوئیں کے باعث مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

    اکثر کہا جاتا ہے کہ سگریٹ کی صنعت حکومت کو ریونیو دیتی ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی سے جڑے طبی اخراجات اور معاشی نقصان کا سالانہ تخمینہ تقریباً 615 ارب روپے ہے، جب کہ حکومت کو اس صنعت سے صرف 200 ارب روپے کے لگ بھگ ٹیکس حاصل ہوتا ہے۔ یعنی ہم تین گنا نقصان اٹھا کر ایک گنا آمدنی لے رہے ہیں۔

    بین الاقوامی سطح پر تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے جو سب سے مؤثر طریقہ تسلیم کیا گیا ہے، وہ سگریٹ کی قیمت میں اضافہ ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق سگریٹ کی قیمت میں 10 فیصد اضافے سے تمباکو نوشی کی شرح میں کم از کم 4 فیصد کمی آتی ہے — اور غریب طبقے میں یہ شرح اور بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلپائن، ترکی، تھائی لینڈ، اور برطانیہ جیسے ممالک نے سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگا کر کروڑوں زندگیاں بچائی ہیں۔

    پاکستان میں 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں سے کم از کم 20 فیصد تمباکو نوش ہیں۔ ان میں بڑی تعداد نوجوانوں اور کم آمدنی والے مزدوروں کی ہے۔ یہ افراد نہ صرف اپنی صحت، بلکہ اپنے خاندان کی کفالت اور بچوں کی تعلیم و خوراک کو بھی نظر انداز کرتے ہیں۔ ایک دیہاڑی دار اگر روزانہ ایک ڈبیا سگریٹ پی رہا ہے تو وہ مہینے میں 3,000 روپے صرف دھواں خریدنے پر لگا رہا ہے — اتنی رقم میں بچوں کی فیس، راشن، یا دوائی آ سکتی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ سگریٹ پر ٹیکس لگانا دراصل صحت پر سرمایہ کاری ہے۔ اس اقدام سے صرف صحت عامہ نہیں بچتی، بلکہ معاشی بوجھ بھی کم ہوتا ہے، اور غریب طبقے کو ایک صحت مند زندگی گزارنے کا موقع ملتا ہے۔

    یہ بھی سچ ہے کہ صرف ٹیکس لگا دینا کافی نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ:

    تمباکو نوشی کے خلاف وسیع تر آگاہی مہم شروع کرے، خاص طور پر تعلیمی اداروں، اسپتالوں، اور پبلک ٹرانسپورٹ پر۔

    نشہ چھڑانے کے مراکز قائم کرے جہاں مفت یا سبسڈی کے ساتھ علاج ممکن ہو۔

    بچوں اور خواتین کو ثانوی دھوئیں سے بچانے کے لیے سخت قوانین بنائے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنائے۔

    صحت کے شعبے میں ٹیکس آمدنی کو شفاف انداز میں استعمال کیا جائے تاکہ عوام کو یہ یقین ہو کہ ان کی قربانی کا فائدہ انہی کو واپس مل رہا ہے۔

    اسلامی تعلیمات بھی ہمیں اپنی جان کی حفاظت کا درس دیتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "لا ضرر و لا ضرار” (نہ خود نقصان پہنچاؤ، نہ کسی اور کو)۔ جب ایک سگریٹ پینے والا فرد خود بھی متاثر ہو اور دوسروں کو بھی نقصان پہنچائے، تو اس پر روک ٹوک نہ کرنا دراصل بے حسی ہے۔

    ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنی عوام کی صحت کی حفاظت کرے، چاہے اس کے لیے سخت فیصلے کیوں نہ کرنے پڑیں۔ سگریٹ پر ٹیکس محض مالی اقدام نہیں، یہ ایک اخلاقی، طبی اور معاشرتی ضرورت ہے — ایک ایسا قدم جس کا فائدہ نسلوں تک پہنچے گا۔

    اگر اس اقدام سے چند نوجوان سگریٹ پکڑنے سے رک جائیں، اگر چند مائیں اپنے شوہروں کو نشہ چھوڑتے دیکھیں، اگر چند بچے ثانوی دھوئیں سے محفوظ رہیں — تو یہ ٹیکس ان کے لیے ایک بوجھ نہیں بلکہ زندگی کا ایک نیا آغاز ہے۔

    سگریٹ کی قیمت اگر بڑھ بھی جائے، تو یہ بہت کم قیمت ہے اُس سانس کے مقابلے میں جو بچ سکتی ہے۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو گا،تحریر:عبداللطیف

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو گا،تحریر:عبداللطیف

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو گا
    تحریر:عبداللطیف
    ہر سال 31 مئی کو دنیا بھر میں تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں تمباکو کے نقصانات سے متعلق شعور بیدار کیا جا سکے۔ یہ دن ایک
    موقع ہے جب ہم اجتماعی طور پر یہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ تمباکو سے نجات صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بھلائی کا ذریعہ ہے۔

    اس سال ایک اہم سوال یہ ہےکہ "کیا سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگانا درست ہے؟ کیا یہ غریب عوام پر بوجھ بنے گا یا ان کی صحت کے تحفظ کا ذریعہ بنے گا؟”

    بظاہر یہ اعتراض درست معلوم ہوتا ہے کہ ٹیکس بڑھنے سے سگریٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا، جو غریب طبقے کی پہنچ سے اسے دور کر دے گا۔ لیکن یہی بات دراصل اس پالیسی کی کامیابی کی دلیل ہے۔ جب کوئی چیز مہنگی ہو جائے تو اس کا استعمال قدرتی طور پر کم ہو جاتا ہے، خاص طور پر نچلے طبقے میں، جو عموماً تمباکو نوشی سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

    تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے سے نہ صرف تمباکو نوش افراد کی تعداد میں کمی آتی ہے، بلکہ نوجوانوں میں اس کی شروعات روکنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ یہ ٹیکس صحت کو بہتر بنانے کا ایک مؤثر ہتھیار ہے، جو کہ طویل المدت میں غریب عوام کو بیماریوں، علاج کے اخراجات اور وقت سے پہلے موت سے بچاتا ہے۔

    یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ حکومت کو جو آمدنی تمباکو ٹیکس سے حاصل ہوتی ہے، اسے اگر صحت کے شعبے، تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہمات اور علاج کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ پوری قوم کے لیے ایک سرمایہ ثابت ہو سکتی ہے۔

    لہٰذا، "سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو گا” یہ اعتراض نہیں، بلکہ تمباکو نوشی کی روک تھام کی ایک کامیاب حکمتِ عملی ہے۔ اگر ہم واقعی غریبوں کی فکر کرتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی صحت کے محافظ بنیں، نہ کہ سگریٹ تک ان کی آسان رسائی کے وکیل۔

    آئیے! اس عالمی دن پر یہ عہد کریں کہ ہم صحت کو ترجیح دیں گے، اور ایسی پالیسیوں کی حمایت کریں گے جو آنے والی نسلوں کو تمباکو کے زہر سے بچا سکیں۔

  • پاکستان میں تمباکو نوشی کا سنجیدہ مسئلہ.تحریر:حنا سرور

    پاکستان میں تمباکو نوشی کا سنجیدہ مسئلہ.تحریر:حنا سرور

    ہر سال 31 مئی کو تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ عوام میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہی بڑھائی جائے اور اس عادت سے چھٹکارہ پانے کی تحریک دی جائے۔ اس دن کا مقصد صرف سگریٹ نوشی کی تباہ کاریوں کی نشاندہی نہیں بلکہ تمباکو کی صنعت کے حربوں کو بے نقاب کرنا بھی ہے جو اپنی منافع بخش مصنوعات کو فروغ دینے کے لیے مختلف چالاکیوں اور نفسیاتی حربوں کا سہارا لیتی ہے۔

    تمباکو صنعت نے سالوں سے اپنے نقصان دہ اثرات کو چھپانے کے لیے مختلف طریقے اپنائے ہیں۔ وہ صرف سگریٹ کی فروخت پر انحصار نہیں کرتے بلکہ نئے ذائقے، خوشبوئیں، اور دلکش پیکجنگ کے ذریعے نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ "فلیورڈ” سگریٹ، ای سگریٹ، اور دیگر تمباکو مصنوعات نوجوانوں اور نئی نسل کے لیے تمباکو نوشی کو مزید پرکشش بناتی ہیں۔ یہ ایک منظم حکمت عملی ہے جو نہ صرف صحت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی سنگین نتائج کا باعث بنتی ہے۔پاکستان میں ہر سال تقریباً 1,60,000 سے زائد اموات تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ یہ تعداد حیران کن اور دردناک ہے۔ سگریٹ نوشی نہ صرف جسمانی صحت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ذہنی اور معاشرتی زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ بہت سے لوگ اس عادت کی وجہ سے اپنی زندگی کے خوشگوار لمحات کھو دیتے ہیں اور اپنی فیملی کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ہم سب کو چاہیے کہ ہم اپنی اور اپنے اہل خانہ کی صحت کے لیے سگریٹ نوشی کی عادت کو چھوڑ دیں۔
    "تمباکو سے انکار، زندگی سے پیار” اور”سگریٹ سے جان چھڑائیں، صحت مند زندگی گزاریں” کا نعرہ ہر پاکستانی کے دل میں بسانا ہوگا۔پاکستان میں تمباکو نوشی کا مکمل خاتمہ ممکن ہے، اگر ہم سب مل کر اس کے خلاف آواز بلند کریں اور اس بیماری کی لپیٹ سے نکلنے کی کوشش کریں۔ پاکستان میں موجودہ قوانین کے تحت سگریٹ کی پیکنگ پر گرافیکل ہیلتھ وارننگ لازمی ہے تاکہ صارفین کو سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ 286 غیر ملکی سگریٹ برانڈز بغیر گرافیکل ہیلتھ وارننگ کے فروخت ہو رہے ہیں، جو قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اس کی وجہ سے حکومت کو سالانہ تقریباً 300 ارب روپے سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

    تمباکو نوشی صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی بوجھ ہے۔ جب کمپنیاں قوانین کو توڑ کر اربوں روپے بچاتی ہیں اور عوام بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف بے حسی ہے بلکہ ظلم کے مترادف ہے۔تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے ہر فرد، تنظیم، اور حکومت کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر آگے آنا ہوگا۔ ہمیں تمباکو صنعت کے چالاک حربوں کو سمجھ کر ان کا مقابلہ کرنا ہوگا، تاکہ ہماری اگلی نسل صحت مند، خوشحال اور تمباکو سے پاک زندگی گزار سکے۔آئیں، اس عالمی دن پر عہد کریں کہ ہم خود بھی تمباکو نوشی چھوڑیں گے اور دوسروں کو بھی اس کا شعور دیں گے تاکہ پاکستان ایک صحت مند ملک بن سکے۔

  • سگریٹ پر ٹیکس: غریب کی صحت کا تحفظ یا معاشی بوجھ؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی

    سگریٹ پر ٹیکس: غریب کی صحت کا تحفظ یا معاشی بوجھ؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی

    سگریٹ پر ٹیکس: غریب کی صحت کا تحفظ یا معاشی بوجھ؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    31 مئی کو تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن منایا جاتا ہے جو دنیا بھر میں تمباکو کے مضر اثرات سے آگاہی دینے اور اسکے استعمال کو کم کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ اس سال کرومیٹک ٹرسٹ اور باغی ٹی وی کی طرف سے منتخب کردہ عنوان "سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا” ایک ایسی بحث کو جنم دیتا ہے جو صحت عامہ، معاشی انصاف اور سماجی ذمہ داری کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ موضوع پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے تناظر میں خاص طور پر اہم ہے جہاں غربت، صحت کی ناکافی سہولیات اور تمباکو کی صنعت کا اثر و رسوخ ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کرتے ہیں۔ آئے اس اہم موضوع کا گہرائی سے جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں،

    تمباکو نوشی صحت کا ایک عالمی مسئلہ ہے ، جس سے ہر سال لاکھوں افراد کی زندگیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت WHOکے مطابق تمباکو سے منسلک بیماریوں کی وجہ سے ہر سال تقریباً 8 ملین افراد ہلاک ہوجاتے ہیں، جن میں سے 1.2 ملین غیر فعال تمباکو نوشی (second-hand smoking) کے شکار ہوتے ہیں پاکستان میں یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، جہاں ہر سال تقریباً 100,000 سے زائد افراد تمباکو سے متعلق بیماریوں جیسے پھیپھڑوں کے کینسر، دل کے امراض، سانس کی بیماریوں اور منہ کے کینسر کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ پاکستان میں تمباکو کی کھپت کی شرح بھی خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ملک کی تقریباً 32 فیصد بالغ مرد اور 8 فیصد بالغ خواتین سگریٹ نوشی کرتی ہیں جبکہ پان، چھالیہ، گٹکہ اور نسوار جیسے دیگر تمباکو مصنوعات کے استعمال کو شامل کیا جائے تو یہ شرح 54 فیصد تک جا پہنچتی ہے۔ خاص طور پر غریب طبقہ جو صحت کی سہولیات اور آگاہی سے محروم ہوتا ہے، اس لت کا زیادہ شکار ہے۔ سگریٹ کی کم قیمت اسے غریب طبقے کے لیے آسانی سے قابل رسائی بناتی ہے، جس سے ان کی صحت اور معاشی حالات دونوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    سگریٹ پر ٹیکس بڑھانا تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کی ایک ثابت شدہ حکمت عملی ہے۔ WHO کے مطابق سگریٹ کی قیمت میں 10 فیصد اضافے سے ترقی پذیر ممالک میں اس کے استعمال میں 4 سے 5 فیصد کمی ہوتی ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ کمی 3 سے 4 فیصد ہوتی ہے۔ اس کی وجہ معاشی اصول ہے کہ جب کسی چیز کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کی مانگ کم ہوتی ہے، خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے میں جو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے پہلے ہی جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سگریٹ کی قیمت عالمی معیار کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ جہاں سری لنکا میں ایک سگریٹ کا پیکٹ تقریباً 9 ڈالر کا ہے، وہیں پاکستان میں یہ ایک ڈالر سے بھی کم میں دستیاب ہے۔ اس کی بنیادی وجہ کم ایکسائز ٹیکس اور غیر قانونی سگریٹ کی اسمگلنگ ہے۔ اگر پاکستان سگریٹ پر بھاری ٹیکس عائد کرے تو نہ صرف تمباکو کا استعمال کم ہوگا بلکہ حکومت کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا،جو صحت عامہ کے منصوبوں اور غریب طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر مالی سال 2019-20 میں پاکستان نے سگریٹ پر ٹیکس بڑھایا تھا، جس کے نتیجے میں 147 ارب روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی جو کہ پچھلے سال کے 114 ارب روپے سے نمایاں اضافہ تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس بڑھانا نہ صرف تمباکو کے استعمال کو کم کرتا ہے بلکہ معاشی فوائد بھی دیتا ہے۔ تاہم موجودہ ٹیکس نظام میں خامیاں ہیں، جیسے کہ غیر قانونی سگریٹ کی فروخت اور تمباکو کمپنیوں کی جانب سے ٹیکس چوری جو اس پالیسی کی افادیت کو کم کرتی ہیں۔

    سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ غریب طبقے کو تمباکو کی لت سے بچا سکتا ہے۔ غریب خاندان اپنی محدود آمدنی کا ایک بڑا حصہ سگریٹ پر خرچ کرتے ہیں، جو ان کے بچوں کی تعلیم، خوراک اور صحت جیسی بنیادی ضروریات کو متاثر کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں غریب گھرانوں کے افراد اپنی آمدنی کا 10 سے 15 فیصد تمباکو پر خرچ کرتے ہیں۔ اگر سگریٹ مہنگا ہو جائے تو یہ پیسہ ان کی زندگی کی بہتری کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ مزید برآں تمباکو سے متعلق بیماریوں کا علاج صحت کے نظام پر بھاری بوجھ ڈالتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال تمباکو سے متعلق بیماریوں کے علاج پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، جو کہ غریب طبقے کے لیے اکثر ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے سے نہ صرف ان بیماریوں کی شرح کم ہو گی بلکہ صحت کے نظام پر بوجھ بھی کم ہو گا، جس سے غریب طبقے کو بہتر صحت کی سہولیات میسر ہو سکیں گی۔ تاہم اس پالیسی کے کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ سگریٹ کے عادی افرادخاص طور پر غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے قیمتوں میں اضافے کے باوجود اپنی لت کو برقرار رکھنے کے لیے دیگر ضروریات پر سمجھوتہ کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ خوراک یا تعلیم پر خرچ کم کر کے سگریٹ خریدنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس سے ان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ اس کے علاوہ غیر قانونی سگریٹ کی اسمگلنگ اور سستے متبادلات کی دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ کی مارکیٹ کا حجم تقریباً 40 فیصد ہے جو کہ ٹیکس بڑھانے کی پالیسی کی افادیت کو کم کرتی ہے۔

    تمباکو انڈسٹری کا پروپیگنڈا ایک اہم نکتہ ہے۔ تمباکو کمپنیاں جیسے کہ پاکستان ٹوبیکو کمپنی اور فلپ مورس مارکیٹ کے 98 فیصد حصے پر قابض ہیں اور "غریب کے لیے سستی سگریٹ” کا بیانیہ پھیلا کر اپنی فروخت کو برقرار رکھتی ہیں۔ یہ کمپنیاں ہر سال اربوں روپے کا منافع کماتی ہیں اور اشتہارات کے ذریعے نئی منڈیاں بناتی ہیں، خاص طور پر نوجوانوں کو نشانہ بناتے ہوئے۔ یہ بیانیہ کہ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانا غریب طبقے پر ظلم ہے، دراصل تمباکو انڈسٹری کی طرف سے ایک فریب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سستی سگریٹ غریب طبقے کو بیماری اور معاشی تباہی کی طرف دھکیلتی ہے۔ تمباکو کمپنیاں نہ صرف ٹیکس چوری کرتی ہیں بلکہ غیر قانونی سگریٹ کی فروخت کو بھی فروغ دیتی ہیں، جس سے حکومتی پالیسیوں کی افادیت کم ہوتی ہے۔ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانا ایک مشکل لیکن ضروری اقدام ہے۔ تاہم اس پالیسی کو کامیاب بنانے کے لیے کچھ اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے سگریٹ پر یکساں اور بھاری ایکسائز ٹیکس لگایا جائے جو تمام برانڈز پر یکساں طور پر نافذ ہو تاکہ غیر قانونی سگریٹ کی فروخت کو روکا جا سکے۔ غیر قانونی سگریٹ کی اسمگلنگ اور فروخت کو روکنے کے لیے سخت قوانین اور ان کا نفاذ ضروری ہے، جس کے لیے سرحدی نگرانی اور مارکیٹ چیکنگ کے نظام کو مضبوط کیا جائے۔ تمباکو کے مضر اثرات کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے میڈیا، سکولوں اور کمیونٹی سینٹرز کے ذریعے مہمات چلائی جائیں اور خاص طور پر نوجوانوں اور غریب طبقے کو ہدف بنایا جائے۔ سگریٹ کے عادی افراد کے لیے مفت یا کم لاگت کے بحالی پروگرامز متعارف کرائے جائیں، جو غریب طبقے کے لیے خاص طور پر مفید ہو سکتے ہیں، کیونکہ وہ علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ سگریٹ پر ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک بڑا حصہ صحت عامہ کے منصوبوں، غریب طبقے کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خرچ کیا جائے۔ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی لگائی جائے اور حقہ کیفوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس کے علاوہ سگریٹ کے اشتہارات پر مکمل پابندی اور پیکٹس پر واضح انتباہی پیغامات کو مزید نمایاں کیا جائے۔

    31 مئی کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ تمباکو نوشی نہ صرف ایک صحت کا سنگین مسئلہ ہے بلکہ ایک سماجی اور معاشی چیلنج بھی ہے۔ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانا اس بحران سے نمٹنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے جو خاص طور پر غریب طبقے کو تمباکو کی لت سے بچا سکتا ہے۔ اگرچہ اس پالیسی کے کچھ وقتی چیلنجز ہیں، جیسے کہ عادی افراد پر معاشی دباؤ اور غیر قانونی سگریٹ کی فروخت لیکن جامع منصوبہ بندی اور سخت نفاذ سے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ حکومت، سول سوسائٹی اور عوام کو مل کر اس سمت میں کام کرنا ہو گا کہ تمباکو کی صنعت کے فریب سے نکلا جائے اور ایک ایسی پالیسی اپنائی جائے جو غریب طبقے کی صحت اور معاشی استحکام کو ترجیح دے۔ سگریٹ کو غریب کی پہنچ سے دور کرنا ظلم نہیں بلکہ ان کی زندگیوں کو بچانے اور ان کے مستقبل کو روشن کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس سلسلے میں کرومیٹک ٹرسٹ اور باغی ٹی وی کی کوششیں قابل تحسین ہیں جو ہر سال تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ یہ دونوں ادارے نہ صرف تحریری مقابلوں کے ذریعے سگریٹ نوشی اور تمباکو سے بنی اشیاء کے کنٹرول کے لیے شعور اجاگر کرتے ہیں بلکہ کرومیٹک ٹرسٹ مختلف فورمز پر سیمینارز اور ورکشاپس کے ذریعے آگاہی پھیلانے کی انتھک کوشش کرتا ہے۔ یہ اقدامات نوجوان نسل کو اس ان دیکھے دشمن سے بچانے کی جدوجہد کا اہم حصہ ہیں۔ ان کی ان کوششوں کی بدولت معاشرے میں تمباکو کے مضر اثرات کے خلاف ایک مضبوط آواز بلند ہو رہی ہے اور وہ اس عظیم مقصد کے لیے خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ آئیے اس عالمی دن کے موقع پر عہد کریں کہ ہم ایک صحت مند، خوشحال اور تمباکو سے پاک پاکستان کی طرف قدم بڑھائیں۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا،تحریر:عبداللہ راؤ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا،تحریر:عبداللہ راؤ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا
    تحریر:عبداللہ راؤ
    ایک طرف ملک مہنگائی کے طوفان میں گھرا ہوا ہے، تو دوسری طرف تمباکو نوشی جیسے مہلک عادتیں غریب اور متوسط طبقے کو خاموشی سے نگل رہی ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ جو شخص دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے، وہ دن بھر کی مزدوری کے بعد ایک سگریٹ کا دھواں اپنے پھیپھڑوں میں اتار کر سکون ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے، مگر یہ سکون وقتی اور دھوکہ دہی پر مبنی ہے، کیونکہ یہی دھواں اسے آہستہ آہستہ موت کی طرف لے جا رہا ہے۔

    ہر سال لاکھوں افراد تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ دل، پھیپھڑوں، منہ اور حلق کے کینسر جیسے موذی امراض کا ایک بڑا سبب سگریٹ نوشی ہے، جو نہ صرف فرد کی صحت بلکہ اس کے خاندان کی معاشی حالت کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔ ایسے میں اگر سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگا دیا جائے، تو یہ ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔ جب سگریٹ مہنگی ہوگی تو کم آمدنی والے افراد کے لیے اسے خریدنا مشکل ہو جائے گا۔ نتیجتاً نوجوان اور غریب طبقہ اس زہر سے دور رہنے پر مجبور ہوگا۔ یاد رکھیں، یہ صرف ایک مالیاتی قدم نہیں، بلکہ ایک سماجی اصلاح ہے ، ایک خاموش مگر مؤثر انقلاب،

    نقاد کہیں گے کہ ٹیکس سے حکومتی آمدن بڑھے گی مگر غریب مزید پس جائے گا۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سگریٹ پر ٹیکس لگانا دراصل غریب کو بچانا ہے۔ اسے بیماری، بھاری میڈیکل بلز اور قبل از وقت موت سے محفوظ رکھنا ہے۔ ایک سگریٹ مہنگی ضرور ہو گی، مگر شاید اسی مہنگائی کے سبب کسی کا باپ، بھائی یا بیٹا موت کے منہ میں جانے سے بچ جائے۔ اس 31 مئی کو ہمیں صرف تقاریر نہیں کرنی بلکہ عملی اقدامات کی حمایت کرنی ہے۔

    تمباکو نوشی کے خلاف مؤثر قانون سازی، سگریٹ پر بھاری ٹیکس اور تمباکو مصنوعات کی تشہیر پر مکمل پابندی ہی وہ راستے ہیں جو ہمیں ایک صحت مند، خوشحال اور سگریٹ فری پاکستان کی طرف لے جا سکتے ہیں،کیونکہ جب سگریٹ پر ٹیکس لگے گا، تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا اور یہی دوری، زندگی کی نزدیکی ہے۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریرحبیب خان

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریرحبیب خان

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا، غریب کی پہنچ سے دور ہوگی
    تحریر: حبیب خان، نامہ نگار باغی ٹی وی اوچ شریف
    ہر سال 31 مئی کو پوری دنیا میں عالمی یومِ تمباکو نوشی منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تمباکو نوشی کوئی معمولی عادت نہیں، بلکہ ایک خاموش قاتل ہے جو لاکھوں زندگیاں برباد کر رہا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں تمباکو نوشی کے باعث ہر سال کروڑوں افراد اپنی جان گنواتے ہیں، اور ہمارے نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ تمباکو کمپنیاں بڑے دھوکے اور فریب کے ذریعے نوجوانوں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔ وہ انہیں آزادی، اسٹائل اور بغاوت کے نعرے دے کر موت کا زہر بیچتی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر پکڑا گیا سگریٹ، ہر چلایا گیا ویپ، ہر چبایا گیا گٹکا، ہمارے نوجوانوں کی صحت، ان کے خواب، اور ہمارے مستقبل کو برباد کر رہا ہے۔ دنیا میں ہر روز بے شمار لوگ آنکھیں بند کرتے ہیں لیکن کچھ اموات حادثہ نہیں ہوتیں ، وہ خود ساختہ ہوتی ہیں۔

    تمباکو نوشی انہی "سست زہروں” میں سے ایک ہے جو ہر سانس کے ساتھ انسان کو موت کے قریب لے جاتی ہے۔ یہ صرف ایک سگریٹ نہیں، یہ ایک چپ چاپ قتل ہے ، جو ہاتھوں میں سلگتی ہے، اور اندر ہی اندر جسم، ذہن اور روح کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ہر سال 80 لاکھ سے زائد افراد تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا "قابلِ گریز” المیہ ہے، جسے صرف بیداری، قانون سازی اور سنجیدہ اقدامات سے روکا جا سکتا ہے۔ پاکستان، جہاں صحت کے وسائل پہلے ہی محدود ہیں، ان مہلک اثرات کی لپیٹ میں تیزی سے آ رہا ہے۔

    چین، پاپوا نیو گنی اور نائجیریا کے بعد پاکستان کا چوتھے نمبر پر آ جانا ایک قومی سانحہ ہے۔ جس پر اگر اب بھی خاموشی رہی، تو انجام ناقابلِ تصور ہو گا۔ سلگتی سگریٹ سے آج کی نوجوان نسل کا زوال ہو گیا ہے۔ تمباکو کمپنیاں کامیاب، ہم ناکام؟ نوجوان وہ بنیاد ہوتے ہیں جن پر قوموں کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ مگر افسوس، انہی ہاتھوں میں سگریٹ، ویپ، حقہ، گٹکا اور نسوار تھما دی گئی ہے۔

    تمباکو کمپنیاں جانتی ہیں کہ نوجوان ان کا "منافع بخش ہدف” ہیں۔ وہ اشتہارات میں "آزادی”، "بغاوت” اور "شخصیت” کے نام پر زہر بیچتے ہیں. اور نوجوان؟ وہ سمجھتے ہیں کہ سگریٹ پکڑنا مردانگی ہے، ویپ کرنا اسٹائل ہے، اور گٹکا کھانا روایت ہے۔

    یہ فکری زہر ہے ، جو جسمانی زہر سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ کبھی تم نے جلتی ہوئی سگریٹ کو غور سے دیکھا ہے؟ وہ دھیرے دھیرے خود کو راکھ میں بدلتی ہے . بالکل ویسے ہی جیسے ایک انسان تمباکو نوشی کا عادی ہو کر خود کو ختم کرتا ہے۔ لیکن فرق صرف یہ ہے کہ سگریٹ کی راکھ زمین پر گرتی ہے، انسان کی راکھ کسی ماں کی گود، کسی بچے کی امید، یا کسی قوم کے مستقبل پر۔

    یہ کیسی عادت ہے جسے ہم "اپنی مرضی” کہتے ہیں، مگر درحقیقت یہ ایسی غلامی ہے جس کی زنجیر ہم نے خود پہنی ہے؟ تمباکو نہ فقط جسم کو بیمار کرتا ہے بلکہ سوچ کو مفلوج، ارادے کو کمزور اور انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا نشہ ہے جس کا نشہ صرف چند لمحے ہوتا ہے، اور نقصان عمر بھر۔

    آج جب تم کسی نوجوان کو ویپ یا سگریٹ پکڑے دیکھتے ہو تو یہ مت سمجھو کہ وہ صرف دھواں اڑا رہا ہے ، وہ اپنی سانسیں، اپنی صحت، اپنے خواب اور اپنے خاندان کی خوشیاں بھی جلا رہا ہے۔ تمباکو کمپنیاں یہ جانتی ہیں کہ نوجوان ان کے سب سے نفع بخش شکار ہیں، اسی لیے وہ اشتہارات میں خوشنما وعدے اور جھوٹے خواب بیچتی ہیں اور بدلے میں موت کا سودا کر لیتی ہیں۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس دھوکے کو پہچانتے ہیں؟ کیا ہمارا میڈیا، ہمارے ادارے، اور ہماری قیادت اس سازش کو بے نقاب کرتی ہے؟ اکثر نہیں ، لیکن باغی ٹی وی ان گنت چینلز میں وہ واحد صدا ہے جو نہ بکتی ہے، نہ جھکتی ہے۔

    باغی ٹی وی صرف خبروں کا ادارہ نہیں، یہ ضمیر کی آواز ہے، بیداری کی چنگاری ہے، جو تمباکو نوشی کے خلاف ایک ایسی بغاوت چھیڑ چکا ہے جس کا ہدف صرف "خبریں دینا” نہیں بلکہ زندگیاں بچانا ہے۔ کرومیٹک کے ساتھ ان کی مشترکہ جدوجہد صرف مہم نہیں، ایک تحریک ہے۔ ایک ایسا قافلہ جو دہلیز دہلیز جا کر کہہ رہا ہے:
    "اب مزید کوئی بچہ، کوئی نوجوان، تمباکو کی بھینٹ نہ چڑھے!”

    انہوں نے دکھایا کہ سستا سگریٹ دراصل مہنگی موت ہے اور شعور ہی واحد بچاؤ ہے۔ ہمیں اب خاموشی نہیں، آواز بننا ہے۔ تمباکو کے خلاف یہ جنگ صرف باغی ٹی وی کی نہیں، ہر اُس ماں کی ہے جس نے بیٹے کو کھانستے دیکھا، ہر اُس بیوی کی ہے جس نے شوہر کو ہسپتال کے بستر پر تڑپتے دیکھا اور ہر اُس قوم کی ہے جو زندہ رہنا چاہتی ہے۔

    آو قلم کو تلوار، زبان کو آواز، اور عمل کو ہتھیار بنائیں۔
    ہم تمباکو کی ہر شکل کو رد کریں گے۔
    ہم اس دھوئیں سے زندگی کو چھین کر واپس لائیں گے۔
    ہم نسلوں کو بچائیں گے، کیونکہ زندگی ابھی ختم نہیں ہوئی، مگر اگر ہم نے آنکھ نہ کھولی… تو شاید جلد ہو جائے گی۔

    آؤ، عہد کریں:
    ہم تمباکو نہیں، صحت کا انتخاب کریں گے۔
    ہم خاموش نہیں، بیدار ہوں گے۔
    ہم باغی ٹی وی کی آواز بن کر، تمباکو کی ہر شکل کو مسترد کریں گے۔
    کیونکہ سانس وہی قیمتی ہوتی ہے، جو دھوئیں کے بغیر لی جائے۔