Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تمباکو کے خلاف آواز اٹھائیں، اور اپنے کل کو بچائیں۔تحریر:نورفاطمہ

    تمباکو کے خلاف آواز اٹھائیں، اور اپنے کل کو بچائیں۔تحریر:نورفاطمہ

    تمباکو نوشی…. صرف ایک انفرادی عادت نہیں بلکہ ایک المیہ بن چکی ہے، جو نہ صرف انسانی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ ملکی معیشت، ماحول اور نوجوان نسل کے مستقبل کو بھی تاریک کر رہی ہے۔ اس تناظر میں غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تمباکو نوشی کے خلاف شروع کی جانے والی مہم قابل تحسین اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔تمباکو نوشی کے نقصانات پر اگر غور کیا جائے تو فہرست بہت طویل ہے۔ یہ عادت پھیپھڑوں کے سرطان، دل کی بیماریوں، اور سانس کی تکالیف کا باعث بنتی ہے۔بچوں، خواتین اور بزرگوں کو بھی بالواسطہ متاثر کرتی ہے۔معاشی بوجھ میں اضافے کا سبب بنتی ہے، کیونکہ علاج مہنگا اور دیر پا ہوتا ہے۔

    اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اگر تمباکو پر ٹیکس بڑھایا گیا تو غریب آدمی سگریٹ نہیں خرید سکے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی مقصد ہونا چاہیے، اگر سگریٹ اتنی مہنگی ہو جائے کہ غریب کی پہنچ سے دور ہو جائے تو وہ شخص شاید انہی پیسوں سے بچوں کے لیے پھل لے آئے، جو ان کی صحت کے لیے مفید ہوں گے۔ یہ نہ صرف مالی فائدہ ہوگا بلکہ ایک نسل کو تباہی سے بچانے کی کوشش بھی ہوگی۔آج کا نوجوان تمباکو نوشی کو "فیشن” اور "سٹائل” سمجھتا ہے، مگر حقیقت میں وہ ایک زہر کو اپنے جسم میں اتار رہا ہوتا ہے۔ اگر ہم نے ابھی قدم نہ اٹھایا تو آنے والے وقت میں نشے کی دوسری اقسام، جیسے چرس، آئس، اور ہیروئن تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی۔

    اگرچہ حکومت نے تمباکو نوشی پر مختلف پابندیاں لگا رکھی ہیں، مثلاً عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر جرمانہ، اشتہارات پر پابندی، اور سگریٹ پیک پر وارننگ، لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔کیا آپ نے کبھی دیکھا کہ کسی تعلیمی ادارے، مسجد یا ہسپتال کے باہر کھڑے افراد کو تمباکو نوشی سے روکا گیا ہو؟یہی وہ خلا ہے جسے پُر کرنے کے لیے معاشرے کو متحرک ہونا پڑے گا۔ہمیں اپنی مہم کا آغاز ان اداروں سے کرنا ہوگا جہاں سے اصلاح ممکن ہو،تعلیمی ادارے جہاں بچوں کو بچپن سے ہی تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہی دی جائے۔مساجد جہاں علما خطبوں میں اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔میڈیا، تمباکو مخالف اشتہارات اور کہانیاں عام کی جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ تمباکو مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کرے تاکہ ان کی دستیابی کم ہو،تمباکو سے حاصل ہونے والی آمدن کو صحت و تعلیم کے شعبوں میں استعمال کرے،ایک مؤثر مانیٹرنگ سسٹم بنائے تاکہ قوانین پر سختی سے عمل کروایا جا سکے۔

    صحت مند پاکستان صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک خواب ہے، جس کی تعبیر تب ہی ممکن ہے جب ہم اجتماعی سطح پر تمباکو نوشی کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں، بچوں، بزرگوں اور آنے والی نسلوں کو تمباکو کی لعنت سے بچانا ہوگا۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ایک بیمار، آلودہ اور نشہ زدہ قوم بننا چاہتے ہیں یا ایک باہمت، صحت مند اور روشن خیال قوم، جو آنے والے وقت میں دنیا کے سامنے ایک مثال بن سکے۔آئیں، تمباکو کے خلاف آواز اٹھائیں، اور اپنے کل کو بچائیں۔

  • مشاعرہ سے مکالمہ تک، ملی ادبی پنچائیت کا فکری و قومی کردار

    مشاعرہ سے مکالمہ تک، ملی ادبی پنچائیت کا فکری و قومی کردار

    ملی ادبی پنچائیت کے بانی چیئرمین محترم ریاض احمد احسان ان چمکتے ہوئے ستاروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے لاہور کی ادبی فضا کو نئی جہتیں دیں، اور فکر و فن کے متلاشیوں کے لیے ایک متحرک، فعال اور باوقار پلیٹ فارم فراہم کیا،ریاض احمد احسان صرف ایک شاعر یا ادیب نہیں، بلکہ ایک تحریکی روح ہیں، اُن کی شخصیت میں ایک ایسا جادو ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے، بکھرے ذہنوں کو سمیٹتا ہے اور ادب کو صرف کتابوں تک محدود نہیں رکھتا بلکہ سماج، ملت اور قوم کے حقیقی مسائل سے جوڑ کر پیش کرتا ہے،وہ ملی جذبے سے سرشار، فکری بیداری کے سفیر اور ادبی وحدت کے پیامبر ہیں۔ اُن کا اندازِ گفتگو، اندازِ میزبانی، اور ہر تقریب میں ان کی متحرک شرکت یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ ادب کو ایک مشن سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔ اُن کے ہاتھوں سجنے والی محافل میں نہ کوئی سیاسی تعصب ہوتا ہے، نہ ذاتی مفادات کی بو، بلکہ صرف اور صرف فکر، فن اور وطن کی خوشبو ہوتی ہے،

    محترم ریاض احمد احسان کی زیرِ قیادت قائم ہونے والی تنظیم ملی ادبی پنچائیت ایک ایسا ادبی قافلہ ہے جو صرف مشاعرے نہیں کراتا، بلکہ فکری مکالمے، قومی شعور، اور اجتماعی دانش کے فروغ کا ذریعہ بن چکا ہے، اس پلیٹ فارم کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں ہر مکتبِ فکر، ہر نسل اور ہر طبقے کے اہلِ قلم کو خوش آمدید کہا جاتا ہے،ملی ادبی پنچائیت نے ادب کو محض شاعری کے رنگین لفظوں سے نکال کر اسے وطن، امن، حب الوطنی اور فکری آزادی کے دائرے میں رکھا ہے، یہ ایک ایسی درسگاہ ہے جہاں شاعر صرف قافیہ نہیں دیکھتا بلکہ قوم کے کرب کو محسوس کرتا ہے، اور دانشور صرف تنقید نہیں کرتا بلکہ اصلاح کا راستہ دکھاتا ہے،یہ ادارہ نہ صرف ثقافتی ورثے کی حفاظت کر رہا ہے، بلکہ نئی نسل کو ادبی شعور سے ہمکنار کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ہر تقریب میں نظریاتی گہرائی، فکری وسعت اور قومی ذمہ داری کا عنصر نمایاں ہوتا ہے، جو اسے دیگر تنظیمات سے ممتاز بناتا ہے،ریاض احمد احسان ایک ایسے فکری اور روحانی اثاثے کا نام ہیں جس پر اہلِ لاہور ہی نہیں، پوری ادبی دنیا کو فخر ہونا چاہیے۔ وہ جہاں جاتے ہیں، ادب کے چراغ جلاتے ہیں، امن کے پیغام بانٹتے ہیں، اور اہلِ قلم کو وہ زبان دیتے ہیں جو صرف کتابی نہیں، عملی بھی ہو۔

    28 مئی 1998 کا دن پاکستانی قوم کے لیے ایک ناقابلِ فراموش لمحہ ہے، جب ایٹمی دھماکوں کے ذریعے پاکستان نے دنیا کو باور کروا دیا کہ یہ ملک دفاعی لحاظ سے ناقابلِ تسخیر ہو چکا ہے۔ اس تاریخی دن کی یاد میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) ہر سال تقریبات منعقد کرتی ہے، اور امسال بھی لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں یومِ تکبیر کی مناسبت سے کیک کاٹنے کی پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔اس یادگار تقریب میں لاہور سے تعلق رکھنے والے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں نے بھرپور شرکت کی۔ ملی ادبی پنچائیت کے بانی چیئرمین اور لاہور کی علمی ادبی فضا کے روحِ رواں، محترم ریاض احمد احسان بھی اس تقریب کی رونق بنے۔ اُن کی موجودگی نے تقریب کو نہ صرف وقار بخشا بلکہ حالاتِ حاضرہ پر اُن سے ہونے والی گفتگو نے تقریب کو فکری گہرائی بھی عطا کی۔

    ریاض احمد احسان نے 29 مئی کو کاسموم پولیٹن کلب، لارنس گارڈن لاہور میں منعقد ہونے والی "امن و جنگ” مشاعرہ و مکالمہ کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی، جو ملی ادبی پنچائیت کی جانب سے منعقد کی جا رہی تھی۔ اگرچہ طے شدہ وقت پر پہنچنا ممکن نہ ہو سکا، تاہم تقریب میں دیر سے پہنچنے کے باوجود شرکت کی،تقریب میں ادیبوں، شاعروں اور قومی فکر رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مشاعرہ کے ساتھ ساتھ فکری مکالمے نے محفل کو مزید معنویت عطا کی۔ جہاں ہر فرد امن کی خواہش رکھتا تھا، وہیں اگر جنگ یا جارحیت مسلط کی جائے تو اس کے خلاف جواب نہ دینا بھی کمزوری گردانا گیا۔ خواجہ جمشید امام کے بقول، "اس پر خاموشی نامردانگی ہے”۔

    اس تقریب کی صدارت ملی ادبی پنچائیت سپریم کونسل کے چیئرمین، جناب رضوان کاہلوں نے کی۔ اس موقع پر معروف شاعر، ادیب اور دانشور میجر (ر) شہزاد نیئر کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔ اُنہوں نے اپنے صدارتی خطبے میں افواجِ پاکستان کی حکمت عملی، کارگل جنگ کے چشم دید تجربات اور آپریشن بنیان مرصوص سے متعلق دلچسپ اور معلوماتی گفتگو کی۔میجر (ر) شہزاد نیئر نے نہ صرف روایتی جنگ بلکہ جدید دور کی سائبر وار کی پیچیدگیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ اُن کا خطاب جذبۂ حب الوطنی سے لبریز تھا، جس نے حاضرین کے دلوں کو گرما دیا۔ اس ادبی اور فکری محفل میں گائیکی کے رنگ بھی شامل کیے گئے۔ معروف گائیک سکندر خاقان، مرزا جاوید اقبال بیگ، شہباز حیدر اور میڈیم ہما عمران نے ملی نغموں سے سامعین کے جذبوں کو بلند کیا۔ اپووا کے بانی چیئرمین ایم ایم علی نے اپنی خوبصورت شاعری سے محفل کو نورانی کر دیا۔

    محترم ریاض احمد احسان نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیتے ہوئے تقریب کو عمدہ طریقے سے ترتیب دیا، اور اپنی موجودگی سے اسے جِلا بخشی۔ اُن کی متحرک شخصیت نے اہلِ لاہور کی علمی و ادبی پہچان کو مزید نمایاں کر دیا،تقریب کے اختتام پر پرتکلف عشائیہ اور چائے کا اہتمام تھا، جہاں اہلِ ذوق افراد نے باہم گفتگو کرتے ہوئے محفل کی خوبصورتی کو سراہا۔یومِ تکبیر کے موقع پر ہونے والی یہ تقریبات نہ صرف وطن سے محبت کے جذبے کو تازہ کرتی ہیں بلکہ اہلِ قلم کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ادبی ہم آہنگی اور فکری تبادلے کو فروغ دیتی ہیں۔ ریاض احمد احسان، رضوان کاہلوں، میجر شہزاد نیئر اور دیگر تمام احباب اس ادبی و قومی خدمت پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

  • پانی  کی کمی بڑا مسئلہ،مستقبل کیلئے سٹوریج کا انتظام کرنا ہوگا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پانی کی کمی بڑا مسئلہ،مستقبل کیلئے سٹوریج کا انتظام کرنا ہوگا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پانی کی کمی بڑا مسئلہ،مستقبل کیلئے سٹوریج کا انتظام کرنا ہوگا
    قحط کے سائے منڈالارہے ہیں ،کالاباغ ڈیم جیسے منصوبے ملک کی ضرورت
    معیشت بچانے کیلئے قرض لے لیا ،پانی کیلئے کس کے پاس جائیں گے،ذرا نہیں پورا سوچیں
    بھارت سفارتی سطح پر تنہا ہوچکا،اسحاق ڈار کی ڈپلومیسی نے پاکستان کو دنیا کا عظیم ملک بنادیا
    تجزیہ، شہزاد قریشی

    امریکی صدر کی روزانہ کی بنیاد پر پالیسیوں کی تبدیلیاں ایک سوالیہ نشان ہے ، اگر ٹرمپ یہ سوچتے ہیں کہ وہ امریکی اتحادیوں کے درمیان اعتماد کو کمزور کرتے ہوئے سامراجی خواہشات پر زور دیتے ہوئے یو ایس ایڈ کو تباہ کرتے ہوئے ، وائس آف امریکہ کو خاموش کراتے ہوئے امریکہ کے اندر قوانین کو چیلنج کرتے ہوئے اور اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے دستبردار ہو کر چین کا مقابلہ کر سکتے ہیں تو ان پالیسیوں سے ناکامی امریکہ کے مقدر میں ہے، امریکی مارکیٹیں ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اشارہ دے رہی ہیں، بھارتی وزیراعظم مودی شاید اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقاوامی معاہدہ ہے جس کی ثالثی عالمی بینک نے کی ہے اس معاہدے میں ایسی کوئی شق نہیں جس کے تحت بھارت اس معاہدہ پر عمل کرنے سے دستبردار ہوسکتا ہے ، مودی بھارت کو بین الاقوامی سطح پر تنہائی کے راستوں پر لے کر جا رہا ہے اگر بھارت ایس حرکت کرے گا تو دنیا بھارت پر دبائو ڈالے گی اس سلسلے میں وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار عالمی دنیا کو آگاہ کر رہے ہیں مودی خواب تو دیکھ سکتا ہے مگر خواب حقیقت میں تبدیل نہیں کر سکتا،تاہم صاحب اختیارات، ذمہ داران ریاست بیورو کریٹس، ملکی سیاسی گلیاروں میں جدید دور کے مسیحا، ہیروز سوچیں ارض وطن کی ملکیت خدا پاک کی ہے ،

    صاحب اختیارات سے التجاہی کی جا سکتی ہے کہ پاکستان پانی کی کمی کی طرف جا رہا ہے امریکہ سمیت دنیا کے ممالک میں پانی ذخیرہ کرنے کے انتظامات موجود ہیں پانی ایک سنگین مسئلہ ہے کالا ڈیم کی تعمیر اس سرزمین کی زندگی بچانے اور آنے والی نسلوں کے لئے ضروری ہے،تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں پاکستان کے لئے فیصلہ کریں پانی کی کمی سے قحط جیسے حالات کے خطرات منڈلاتے کیوں نہیں دکھاتی دیتے ذرا سوچئے آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لیا جا سکتا ہے مگر پانی کی قلت اور زراعت کو فروغ دینے کے لئے پانی کس سے ادھار لیا جائے گا؟ خدارا سیاسی لڑائیاں اقتدار اور اختیارات کے لئے تو لڑی جا رہی ہیں کبھی ریاست کے اس سنگین مسئلہ پانی پر بھی توجہ دیں کالا باغ ڈیم کے لئے بھی کبھی ایک کل جماعتی کانفرنس کا اہتمام کریں یہ پاکستان کے مستقبل کا معاملہ ہے خدارا ہوش کیجئے

  • شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ،تحریر:ملک سلمان

    شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ،تحریر:ملک سلمان

    پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ اور خاتون چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے ہوتے ہوئے پنجاب میں کسی عام خاتون کے ساتھ بھی ناروا سلوک کا ہونا ناقابل برداشت ہونا چاہئے لیکن ایک معلم کے ساتھ مجرموں والا رویہ ہونا ہم سب کیلئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ سیکرٹری سکول ایجوکیشن پنجاب کے آفیشل پیچ پر لگی تصاویر اور ویڈیو نے ناصرف اساتذہ اکرام کے منصب و مقام کی توہین کی بلکہ اساتذہ کے ساتھ ساتھ ہر باشعور اور غیرت مند فرد کو رلا کر رکھ دیا۔ سیکرٹری خود اور اپنے ہمنوا افسران کے ہمراہ کرسیوں پر براجمان ہو کر بادشاہانہ تمکنت کے ساتھ معزز خواتین اساتذہ کو کھڑے کرکے ہئیرنگ کر رہا ہے۔ مرد و خواتین اساتذہ کو مجرموں کی طرح کھڑے کرکے سننا استاد کی توہین اور جتنی مذمت کی جائے اتنی کم والا شرمناک رویہ ہے۔
    پورے پنجاب کے اساتذہ اور ہر شہری اس رویے پر شدید دکھی اور غم و غصے کی کیفیت میں ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر مکتبہ فکر کی طرف سے اس شرمناک رویے پر سیکرٹری سے معافی اور وزیراعلیٰ سے سیکرٹری کی برطرفی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
    میڈم وزیراعلیٰ جب آپ نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب حلف لیا تو دنیا بھر کی تعلیمی و سماجی تنظیموں کی طرف سے آپ کی وزارت اعلیٰ کو پنجاب میں خواتین کی بااختیاری اور تعلیمی و معاشرتی ترقی کے نئے دور کا آغاز کہا گیا تھا۔ بین الاقوامی تنظیموں نے مریم نواز کی وزارت اعلیٰ کا خیر مقدم کیا بلکہ اس امید کا اظہار کیا تھا کہ شعبہ تعلیم میں وزارت اور سیکرٹری کسی خاتون کو دے کر دنیا کو پنجاب اور پاکستان میں خواتین کی تعلیمی ترجیحات کا پیغام دیا جائے گا۔
    پولیس کے رویہ کے بارے عوام کو عمومی شکایت ہوتی ہے لیکن میں نے دیکھا ہے وہاں بھی اگر کسی کو معلوم ہوتا ہے کہ سامنے والا استاد ہے تو حیا کرتے ہیں۔ بیوروکریسی میں بہت سارے افسران جو اچھے خاندانی بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتے ہیں آج بھی اگر انکا استاد انکے دفتر آجائے تو وہ اپنی سیٹ پیش کرتے ہیں یا کم از کم ریوالونگ چئیر کی بجائے ان کے ساتھ کرسی یا صوفے پر بیٹھتے ہیں کہ وہ کبھی بھی اپنے استاد سے بڑے نہیں ہوسکتے۔ آرمی اور جوڈیشری میں قابل تعریف حد تک استاد کی عزت کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔
    اللہ کے نبی نے بیشتر دفعہ فرمایا کی مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اللہ کے آخری پیغمبر کا کام کرنے والوں کے ساتھ ایسا شرمناک رویہ؟
    ایک موقع پر اللہ کے نبی کا فرمان ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ۔ استاد کے مقام کیلئے رسول اللہ سے باب العلم کا لقب پانے والے اور جنت کے سردار حضرت علی کا یہ قول کافی ہے کہ جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا میں اس کا غلام ہوں۔ امام علی بن حسین زین العابدین کا کہنا ہے کہ استاد کا حق ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے اور اسکی موجودگی کا لحاظ کیا جائے۔
    خلیفہ ہارون الرشید کے دونوں بیٹے استاد کے جوتے پکڑنے میں پہلے کرنے کیلئے مقابلہ کرتے تھے۔
    سیکرٹری تعلیم نے معزز اساتذہ کو کھڑے کرکے نا صرف ان کے منصب و مقام کی توہین کی بلکہ ان کی پیشگی اجازات کی بغیر انکی ویڈیو بنا کر اور سوشل میڈیا پر اپلود کر کے پیکا ایکٹ کی خلاف ورزی کی، پیکا ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص کی ویڈیو یا تصویر بنانا اور بنا اجازت سوشل میڈیا پر شئیر کرنے کی سزا تین سال تک قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہے۔ پولیس سمیت تمام سرکاری ملازمین کو پابند کیا جائے کہ وہ کسی بھی معزز شہری کی ویڈیو نہ تو بنائیں اور نہ ہی سوشل میڈیا پر شائع کریں۔ کوئی بھی سرکاری ملازم کسی کا کام کرکے احسان نہیں کرتا جو زبردستی انکی ویڈیو اور تصاویر بنا کرسوشل میڈیا پر تشہیر کی جاتی ہے۔ عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والے وزیراعلی اور وزیراعظم کے علاوہ کسی بھی سرکاری ملازم کی تشہیر نہیں ہونی چاہئے۔ عوامی فلاح و بہبود کے تمام تر کاموں کا کریڈٹ اور تشہیر صرف اور صرف عوام کے منتخب نمائندوں کا حق ہے نہ کہ سرکاری ملازمین کا۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • پاکستان کی فیصلہ کن فتح اور عربوں کی خاموشی

    پاکستان کی فیصلہ کن فتح اور عربوں کی خاموشی

    پاکستان کی فیصلہ کن فتح اور عربوں کی خاموشی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفی بڈانی
    2025 کا پاک،بھارت تنازعہ جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر ابھرسامنے آیا ،کیا یہ صرف ایک عسکری تصادم تھا یا اس نے خطے کے طاقت کے توازن کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا؟ پہلگام میں ہونے والے مودی سرکار کے فالز فلیگ آپریشن یا دہشت کردی کی کارروائی سے شروع ہونے والی یہ کشیدگی، "آپریشن بنیان مرصوص” کی صورت میں پاکستان کی غیر متوقع، فیصلہ کن اور کامیاب جوابی کارروائی میں تبدیل ہوئی، جس نے نہ صرف بھارت کی جارحیت کو ناکام بنایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری صلاحیت اور سفارتی بصیرت کو نمایاں کر دیا۔ لیکن اس فتح کی کہانی صرف میدان جنگ تک محدود نہیں بلکہ اس میں عرب دنیا کی معنی خیز خاموشی جیسے اہم سوالات بھی پوشیدہ ہیں سوالات جو خطے کے جغرافیائی سیاسی منظرنامے، عالمی اتحادیوں کے کردار اور مستقبل کی سمت کے بارے میں گہرے غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں۔

    اس تنازع کے دوران پاکستان نے ترکیہ، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان سے فعال حمایت حاصل کی،سیزفائرکے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ان ممالک کے دورے کیے، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے چین سے مضبوط تعاون حاصل کیا۔ ترکیہ، ایران، اور آذربائیجان نے کھل کر پاکستان کی حمایت کی جبکہ چین نے سیاچن اور لداخ میں بھارت کے خلاف محاذ کھول کر اپنا کردار ادا کیا۔ الجزیرہ نے 10 مئی 2025 کو رپورٹ کیا کہ ایران نے پاک بھارت تنازع میں غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔ بیجنگ کے سہ فریقی اجلاس نے پاک-افغان تعلقات کی بحالی کی راہ ہموار کی۔ تاہم، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کی غیر جانبداری نے سوالات اٹھائے۔ تاریخی طور پر پاکستان نے 1965 اور 1971 کی جنگوں میں عرب ممالک سے سفارتی اور عسکری حمایت حاصل کی تھی۔ سعودی عرب نے اقوام متحدہ میں پاکستان کا ساتھ دیا، مالی امداد فراہم کی جبکہ ایران نے اسلحہ اور تیل دیا۔ بدلے میں پاکستان نے فلسطین کے لیے عرب ممالک کی حمایت کی اور سعودی عرب میں فوج تعینات کی۔ لیکن 2025 میں عرب ممالک کی غیر جانبداری ان کے بھارت کے ساتھ بڑھتے معاشی تعلقات کی وجہ سے تھی۔ ٹیلی گراف نے 11 مئی 2025 کو رپورٹ کیا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی بھارت کے ساتھ 50 ارب ڈالر سے زائد کی تجارت اور سرمایہ کاری نے ان کے فیصلوں کو متاثر کیا۔ ابراہم معاہدوں کے بعد متحدہ عرب امارات اور بحرین کا اسرائیل کے ساتھ تعاون بھی اس معاشی ترجیح کی عکاسی کرتا ہے۔

    عالمی سفارتی نقشہ دو واضح بلاکس میں تقسیم ہو تا ہوا واضح نظر آرہا ہے ایک طرف چین، روس، ترکیہ، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک پاکستان کے ساتھ ہیں اور دوسری طرف امریکہ، یورپ اور بھارت مغربی مفادات کے ساتھ ہیں۔ فوٹو نیوز نے 12 مئی 2025 کو رپورٹ کیا کہ امریکہ کی ثالثی اور غیر جانبداری پاکستان کی سفارتی کامیابی تھی۔ تاہم، عرب ممالک کی غیر جانبداری ایک چیلنج ہے۔

    اگر بھارت دوبارہ جارحیت کرتا ہے تو ترکیہ، ایران، آذربائیجان اور چین پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے، جیسا کہ آئی آر آئی اے نے 11 مئی 2025 کو رپورٹ کیا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے شہباز شریف سے ملاقات میں غیر مشروط حمایت کا وعدہ کیا۔ قطر محدود سفارتی حمایت دے سکتا ہے کیونکہ اس نے ماضی میں پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات رکھے ہیں۔ پاکستان کو عرب ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے لیے معاشی تعاون کو ترجیح دینی چاہیے، جیسے کہ سی پیک میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پاک-سعودی جوائنٹ انویسٹمنٹ فنڈ قائم کرنا۔ ویژن 2030 کے ساتھ توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں شراکت داری کی جانی چاہیے۔ اسلامی تعاون تنظیم میں فلسطین اور کشمیر کے مسائل کو مشترکہ ایجنڈے کے طور پر اٹھایا جائے۔ قطر کے ساتھ توانائی اور دفاعی معاہدوں کو وسعت دی جائے۔ سعودی عرب کے ساتھ عسکری تربیتی پروگراموں اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے معاہدوں کو مضبوط کیا جائے۔ پاک عرب ثقافتی میلے، تعلیمی وظائف اور میڈیا کے ذریعے عرب عوام کے ساتھ رابطے بڑھائے جائیں۔

    آپریشن بنیان مرصوص محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا فیصلہ کن لمحہ تھا جس نے نہ صرف دشمن کی جارحیت کو ناکام بنایا بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان اپنے دفاع، خودمختاری اور خطے کے امن کے لیے ہر سطح پر تیار ہے۔ اس کامیابی نے پاکستان کی عسکری برتری اور سفارتی بصیرت کو نمایاں کیا، مگر ساتھ ہی عرب دنیا کی خاموشی نے یہ اہم سوال بھی اٹھایا کہ آیا مذہبی اور ثقافتی قربتیں عملی حمایت میں کیوں نہیں بدل سکیں۔ یہ لمحہ اس امر کا متقاضی ہے کہ پاکستان اب محض عسکری طاقت پر نہیں بلکہ فعال، وسعت پذیر اور دور اندیش سفارت کاری پر بھی انحصار کرے۔ عرب ممالک کے ساتھ معاشی، ثقافتی اور سفارتی روابط کو ازسرنو ترتیب دینا ہو گا تاکہ محض عوامی ہمدردی نہیں، بلکہ حکومتی سطح پر عملی حمایت بھی حاصل ہو۔ اسی کے ساتھ ساتھ ترکیہ، ایران، چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ موجودہ اشتراکِ عمل کو مزید وسعت دینا ہوگی تاکہ پاکستان آئندہ کسی بھی بحران میں نہ صرف تنہا کھڑا ہو بلکہ پورے خطے کو اپنے ساتھ لے کر ایک مؤثر اور متوازن عالمی کردار ادا کر سکے۔ 2025 کی فتح کو ایک مستقل حکمت عملی کی بنیاد بنا کر ہی پاکستان خطے میں پائیدار امن اور قومی وقار کا علم بلند رکھ سکتا ہے۔

  • بجٹ ، بجٹنگ اور اس کی اقسام، ایک تحقیقاتی جائزہ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    بجٹ ، بجٹنگ اور اس کی اقسام، ایک تحقیقاتی جائزہ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    بجٹ تعارف و تعریف؛ (Concept of Budget)

    تاریخی طور پہ دیکھا جائے۔ تو بجٹ ایک لاطینی زبان کے لفظ "بلگا” اور فرانسیسی لفظ "بوجٹ(Bougette)” سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی چمڑے کے کسی تھیلے یا بیگ یا پرس کے ہیں۔

    اٹھارویں صدی میں برطانیہ کے وزیر خزانہ اور پہلے وزیراعظم مسٹر رابرٹ پول جب پارلیمنٹ میں مالی امور کی منظوری کے لئیے جاتے۔ تو ان کے پاس ایک چمڑے کا تھیلا ہوتا تھا۔ جس میں ملک کے مالی امور سے متعلقہ اہم دستاویزات ہوتیں۔ بعد میں یہ تھیلا "بجٹ” کے نام سے مشہور ہوا۔ یوں تاریخی اعتبار سے بجٹ کا آغاز 1745ء میں برطانیہ سے ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ اصطلاح آمدنی و اخراجات سے بڑھ کر مالیاتی منصوبہ بندی، مالی امور کے نظم و نسق اور ملکی وسائل کی تفویض کاری کے پورے عمل تک وسعت اختیار کر گئی۔

    علم معاشیات کی رو سے اگر ہم بجٹ کی اصطلاح کی تعریف کریں۔ تو ” بجٹ ایک مالیاتی یا زری منصوبہ نما دستاویز ہے۔ جس میں کسی حکومت کو اسے ایک مالی سال کے دوران حاصل ہونے والی وصولیوں جو وہ مختلف ذرائع سے حاصل کرتی ہے۔ اور ایک مالی سال کے دوران کئے جانے والے وہ اخراجات جو وہ مختلف مدوں پر کرتی ہے۔ کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس میں نئے مالی سال کے ریونیو و اخراجات کے لئیے تخمینہ سازی بھی کی جاتی ہے ۔ اور پچھلے مالی سال کے ریونیو و اخراجات کے اعدادوشمار بھی ظاہر کئیے جاتے ہیں ۔”

    حکومت کے معاشی فرائض ؛ (Economic Functions of Govt)

    کسی بھی ملک کی حکومت کو تین بنیادی مالی فرائض سر انجام دینے پڑتے ہیں۔

    1_ معاشی استحکام ؛ (Economic Stability)
    جس میں ملکی معیشت سے افراط ِ زر و تفریطِ زر کو کنٹرول کرنا نیز بیروزگاری کی سطح کو کم کرنا ہے۔

    2_ معاشی ترقی ؛ (Economic Growth)
    جس میں ملک کے بنیادی انفراسٹرکچر جن میں ذرائع نقل و حمل ، انفرمیشن ، ٹیکنالوجی کی ترقی اور توانائی کی بہتر و سستی فراہمی ہے۔ مزید مخصوص صنعتوں کو اعانوں کی فراہمی تاکہ ملکی معاشی افزائش یا معاشی گروتھ یعنی ملکی پیداوار خواہ وہ صنعتی ہو یا زرعی (GDP) میں اضافہ ممکن ہو سکے ۔

    3_ معاشی فلاح و بہبود ؛ (Economic Welfare)
    جس میں ملکی عوام کو صحت و تعلیم ، امن و دفاع، رہائش و نقل و حمل کی سہولیات کی بہتری و اضافہ کرنا شامل ہے۔
    کسی بھی حکومت کو اپنے سرکاری معاملات چلانے نیز یہ تمام فرائض ادا کرنے کے لئیے آمدنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاکہ وہ اپنے ان اخراجات کو بخوبی پورا کر سکے۔

    سرکاری بجٹ کا ڈھانچہ ؛ (Structure of Govt Budget)

    حکومت ٹیکسوں ، بیرونی سرمایہ کاری، قرضوں اور امداد وغیرہ سے یہ آمدنی حاصل کرتی ہے۔ اور ان اخراجات کی مدوں میں خرچ کرتی ہے ۔
    سرکاری بجٹ کی تین ممکنہ صورتحال ہو سکتی ہیں۔

    1_ متوازن بجٹ ؛ ( Balanced Budget)

    اگر تو حکومت کی آمدنی اور اس کے اخراجات آپس میں برابر ہوں۔ تو ایسے بجٹ کو متوازن بجٹ (Balanced Budget) کہا جاتا ہے۔ جہاں ،

    Govt Revenue = Govt Expenditures

    2_ فاضل بجٹ ؛ (Surplus Budget)
    اگر کسی بجٹ میں حکومت کا ریونیو ، اس کے اخراجات سے بڑھ جائے۔ تو اسے فاضل بجٹ (Surplus Budget) کہا جاتا ہے۔ جو کہ معاشیات دانوں کی نظر میں اچھا تصور نہیں کیا جاتا ۔ کہ اس کا مطلب یہ ہے۔ کہ حکومت عوام سے ٹیکس تو وافر وصول کر رہی ہے۔ مگر ان کی سہولیات اور معاشی ترقی پہ خرچ نہیں کر رہی۔ جس سے بجٹ فاضل بن رہا ہے۔ مگر آج کل کے حالات کے پیش نظر یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی ملک کا بجٹ فاضل بن پائے ۔ جیسے,

    Govt Revenue > Govt Expenditures

    3_ خسارے کا بجٹ ؛ (Deficit Budget)
    اسی طرح اگر کسی ملک کے اخراجات اس کے ریونیو سے بڑھ جائیں ۔ تو اسے خاسر بجٹ یا خسارے کا بجٹ(Deficit Budget) کہا جاتا ہے۔ جہاں

    Govt Revenue < Govt Expenditures ترقی پزیر ممالک کا زیادہ تر خاسر بجٹ ہی ہوتا ہے۔ بجٹ میں اس خسارے کے پورا کرنے کے لیئے حکومتوں کو سرکاری و بیرونی قرضہ جات اور امداد کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ بیرونی قرضوں کی فراہمی کے لئیے آئی ۔ ایم۔ ایف ، ورلڈ بنک اور ایسے کئی ادارے و ممالک وغیرہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ قرض لینے والے ممالک کو بھاری سود اور کئی پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ بجٹنگ یا بجٹ سازی؛

    بجٹ سازی کے عمل کو "بجٹنگ” کہا جاتا ہے ۔ کسی ملک کی وزارات خزانہ پچھلے مالی سال کے اعداد و شمار اور نئے مالی سال کے اہداف و تخمینوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگلی مالی مدت کے لئیے بجٹ سازی کا عمل سر انجام دیتی ہے۔ اس کے لئیے وزارتِ خزانہ ملک کے تمام اہم شعبوں سے ڈیٹا حاصل کرتی ہے ۔

    بجٹ سازی کی اقسام ؛

    معاشیات میں بجٹ سازی کے تناظر میں بجٹ کی 9 ممکنہ اقسام ہیں ۔ یا بجٹ 9 طرح کے ہو سکتے ہیں۔

    1_ جامد بجٹ(Static Budget)
    ایک بار بجٹ بننے کے بعد ایسے بجٹ میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ یعنی یہ پورے مالی سال میں جامد رہتا ہے۔

    2 لچکدار بجٹ (Flexible Budget)
    ایسے بجٹ کی ایک بار بجٹ سازی کے بعد مالی مدت کے دوران بوقت ضرورت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ یعنی شبعوں میں تفویض کردہ وسائل میں بوقت ء ضرورت تبدیلی ممکن ہے۔

    3_ فنکشنل بجٹ (Functional Budget)
    ملکی معیشت یا کسی آرگنائزیشن کے ہر شعبے کا اس کی ضرورت کے مطابق الگ الگ بجٹ بنانا فنکشنل بجٹ کے زمرے میں آتا ہے۔

    4_ ماسٹر بجٹ (Master Budget)
    فنکشنل بجٹ کا مجموعہ ماسٹر بجٹ ہوتا ہے۔ جس میں معشیت کے تمام شبعہ جات کے الگ الگ بجٹ کو یکجا کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً ،
    Master Budget =Production Budget + Marketing Budget +Development Budget + Administration Budget….etc.

    5_ زیرو بیسڈ بجٹ (Zero- Baised Budget)
    ماضی کے اعداد و شمار سے صرف نظر کرتے ہوئے حالیہ آمدنی و ضرورت کے مطابق جو نیاء بجٹ بنایا جاتا ہے ۔ جس میں پچھلی مالی مدت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ۔ اسے زیرو۔ بیسڈ بجٹنگ کہا جاتا ہے۔ سمجھ لیں کہ یہ پہلی بار حالیہ ضرورت کے مطابق ہوتا ہے۔

    6_ شراکتی بجٹنگ (Participative Budgeting)
    شراکتی بجٹ، بجٹ سازی کا ایک طریقہ ہے۔ جس میں بجٹ سازی کے عمل میں مختلف اسٹیک ہولڈرز، جیسے شہری، رہائشی، یا کسی تنظیم کے اراکین شامل ہوتے ہیں۔ اس نقطہء نظر کا مقصد بجٹ سازی کے فیصلوں میں شفافیت، جوابدہی، اور کمیونٹی کی شمولیت کو بڑھانا ہوتا ہے۔
    سادہ الفاظ میں بجٹ سازی کے اس طریقہ ء کار میں کسی معیشت یا آرگنائزیشن کی تمام اپر اور لوئر دونوں درجوں کی منجمنٹ تخمینہ سازی میں اپنی رائے دیتی ہے ۔

    7_نافذ کردہ بجٹنگ ( Imposed Budget)
    نافذ کردہ بجٹنگ میں بجٹ سازی میں کسی ملک یا آرگنائزیشن کی صرف اپر لیول منیجمنٹ ہی حصہ لیتی ہے۔ اور اسے نافذ کر دیا جاتا ہے ۔ نافذ کردہ بجٹنگ ، شراکتی بجٹنگ کے بلکل منافی بجٹ سازی کا طریقہ ء کار ہے۔

    8_ رولنگ بجٹ
    (Rolling Budget Or Budget Rollover)
    ماضی کے اعداد و شمار کو پیش ِ نظر رکھ کر مستقبل کے تخمینوں سے مطابقت رکھتا ہوا جو نئی مالی مدت کے لیئے نیا بجٹ بنایا جاتا ہے۔ اسے رولنگ بجٹ کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر ممالک یا آرگنائزیشنز میں رولنگ بجٹ سازی ہی کی جاتی ہے۔

    9_ سالانہ بجٹ (Annual Budget)
    ایک نئے مالی سال کے لئیے کوئی ملک یا آرگنائزیشن اپنے معاشی تخمینوں و اہداف اور اپنی آمدنی و اخراجات کو مد نظر رکھتے ہوئے جو بجٹ تیار کرتی ہے۔ اسے سالانہ بجٹ کہا جاتا ہے۔

    حاصل ء بحث ؛ ( Conclusion )
    بجٹ کسی بھی ملک یا آرگنائزیشن کے لیئے ایک دو طرفہ بک کیپنگ کی طرح ہے۔ جس میں ایک طرف اس کی آمدنی ہے۔ تو دوسری طرف اس کی حالیہ و مستقبل کے ترقیاتی اخراجات ہیں۔ جن کی مطابقت کا ایک مخصوص مالی مدت(ایک سال) کے لئیے پلان بجٹ ہے۔

  • پیٹس لورز کلب کی ضرورت،تحریر:ملک سلمان

    پیٹس لورز کلب کی ضرورت،تحریر:ملک سلمان

    گلی میں شدید دھوپ اور گرمی میں قربانی کے بکرے اور گائے بندھی ہوئی نظر آئیں۔ گرمی کی شدت سے بیچارے بکروں کی زبان حلق سے باہر آ رہی تھی۔ گاڑی روک کر پانی کی بوتل جو اپنے لیے رکھی تھی باہر بندھے بکرے کے برتن میں ڈال دی اس نے فور۱” سے پہلے ٹھنڈا پانی پیا اور مشکور نظروں سے آسمان کی طرف دیکھا جیسے اس وقتی ریلیف کیلئے اللہ کا شکر ادا کر رہا ہو۔ پاس بیٹھے چوکیدار سے کہا کہ ان کے مالکان کو سمجھاؤ اتنی گرمی ہے گھر میں کسی پنکھے کے نیچے ٹھنڈی جگہ پر رکھیں۔ چوکیدار نے بتایا کہ صاحب جی میری ڈیوٹی ان کا باہر خیال رکھنا ہے کہ کوئی چور ی نہ کر کے لے جائے، باقی ساری گلی والوں نے بکرے اور گائے اس لیے باہر باندھے ہوئے ہیں کہ ہر آتے جاتے کو دکھا سکیں کہ وہ قربانی کررہے ہیں۔ مجھے ہماری اجتماعی گھٹیا سوچ پر شدید دکھ ہوا کہ قربانی کا مقصد دکھاوا ہی رہ چکا ہے جبکہ قربانی فرض کرنے کا حقیقی سبق تو یہ تھا کہ آپ اپنی عزیز چیز اللہ کی راہ میں قربان کریں۔ جس بکرے کو ہم نے اللہ کی راہ میں قربان کرنا ہے اس کو شدید دھوپ اور گرمی میں اذیت دیکر ہماری قربانیاں کیسے قبول ہوسکتی ہیں۔؟

    خدارا نمود و نمائش میں پاگل ہوکر ان معصوم اور بے زبان جانوروں پر ظلم نہ کریں ورنہ اللہ کی قسم تمہاری قربانی قبول ہونا تو دور یہ جانور اللہ کے ہاں تمہاری شکایت کریں گے۔ اس اذیت کے بدلے تمہارا گریبان پکڑیں گے۔ بکرا منڈی کے انتظامی افسران سے بھی گزارش ہے جہاں اتنے اللے تللوں کے جعلی بل تیار کرتے ہیں وہیں ان بے زبان جانوروں کیلئے پنکھے، ائیر کولر اور سایہ فراہم کرکے دعائیں لیں۔

    اگر آپ کا بکرا بھی باہر گلی میں بندھا ہے یا کہیں گرم جگہ تو اسی فوری سایہ دار جگہ اور ٹھنڈی ہوا فراہم کریں۔
    ہمارے گھر میں عید سے چند دن پہلے بکرا آجاتا ہے اگر گرمی ہوتو مناست ٹھنڈی جگہ اور پنکھے کا انتظام کیا جاتا ہے جبکہ مجھے یاد ہے کہ جب سردیوں کی عید ہوتی تھی تو امی بکرے کو جرسیاں اور کمبل پہنا کر خیال رکھتی تھیں۔ بکرے کو چیف گیسٹ کا سٹیٹس دیا جا تھا، دالیں، پھل سبزیاں اور تازہ چارہ کھلایا جاتا تھا۔ امی نے سختی سے تلقین کرنی کہ یہ اللہ کا مہمان ہے اس کی خدمت کرو گے تو اللہ قربانی قبول کرے گا۔ ہمارے گھر میں بولنے والا راء طوطا ہے جسے گرمیوں میں اے سی کمرے میں اور سردیوں میں ہیٹر والے کمرے میں شفٹ کردیا جاتا ہے۔ گھر میں آنے والے ہر پھل پر پہلا حق طوطے کا ہوتا ہے۔ گھر کی چھت پر دو درجن سے زائد مٹی کے کونڈے ہیں جن میں باجرہ، گندم اور پانی رکھا جاتا ہے تاکہ پرندے کھانا کھا سکیں اور پانی پی سکیں۔

    لکھاری کا کام حکومت،افراد اور اداروں کی تعریف یا تنقید کرنا نہیں ہوتا۔ لکھاری کا اصل کام یہی ہے کہ معاشرتی برائیوں اور مسائل کا ذکر کیا جائے۔اس لیے میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ منافقانہ شرم و ہچکچاہٹ کی بجائے معاشرتی برائیوں کا تذکرہ کرتا رہوں۔

    آئے دن کسی نہ کسی معصوم جانور اور پرندوں پر ظلم و زیادتی کی خبریں دیکھ کر دل شدید رنجیدہ ہوتا ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ پیٹس لورز کلب (pets Lovers Club) بنایا جائے جہاں خاص طور پر معاشرتی ناانصافی اور انسانوں کے جانوروں کے ساتھ غیرانسانی رویوں اور ظلم و ستم کا شکار سٹریٹ ڈاگ، بلیوں سے لیکر ہر طرح کے جانوروں کیلئے کئیر سینٹر ہو۔ زخمی جانوروں اور پرندوں کیلئے ہسپتال اور ریہبلیٹیشن سینٹر ہو۔ جو احباب بھی Pets Lovers Club(پیٹس لورز کلب) کا حصہ بننا چاہتے ہوں ضرور انباکس کریں ہم اجتماعی کاوش سے انسانیت دوستی کی اچھی مثال قائم کرسکتے ہیں۔

    حکومت کو چاہئے کہ گھریلو جانوروں کیلئے انسپیکشن کا سسٹم ہو اگر کسی کو گھر میں PET رکھنے کا شوق ہو تو مناسب سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔ جانوروں اور پرندوں پر ظلم و زیادتی کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور سخت سزائیں دی جائیں۔

    میں نے عید الفطر پر بھی لکھا تھا کہ اگر عید کی حقیقی خوشی حاصل کرنی ہے تو ذاتی ملازمین کے ساتھ ساتھ گلی، محلے، بینکوں اور پبلک مقامات کی سکیورٹی اور دیگر ڈیوٹی پر مامور ایسے افراد کو عیدی ضرور دیں جو اپنی عید قربان کر کے بھی ہماری حفاظت کا فریضہ ادا کرتے ہیں اور عید جیسے اہم تہوار پر بھی حصول رزق حلال کیلئے کام کر رہے ہوتے ہیں۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • مودی کی گولی، سیندور اور سردار

    مودی کی گولی، سیندور اور سردار

    مودی کی گولی، سیندور اور سردار
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    26 مئی 2025 کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات کے شہر بھوج میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو کھلی دھمکی دی، جس نے پاک بھارت تعلقات میں ایک نیا تناؤ پیدا کر دیا۔ مودی کا یہ بیان کہ "پاکستان کے عوام سوچیں کہ انہوں نے کیا حاصل کیا؟ انڈیا آج دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے اور پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ پاکستان کے لوگوں کو آتنک سے نجات کے لیے خود آگے آنا ہوگا، ورنہ میری گولی تو ہے” جوعالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور علاقائی امن کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ پاکستان نے اسے اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی، جس نے نام نہاد "آپریشن سندور” کی ناکامی اور بھارت کی سفارتی کمزوری کو مزید بے نقاب کر دیا۔

    مودی کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب پاکستان نے بھارت کے تین رافیل سمیت سات طیاروں اور 26 دفاعی تنصیبات کو تباہ کر دیا تھا، جس سے بھارت کی جھنجھلاہٹ صاف ظاہر ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں 15 مئی 2025 کو ایک سکھ سردار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں انہوں نے آپریشن سندور کے نام اور اس کی تاریخی اہمیت پر طنزیہ تبصرہ کیا۔ سردار نے دعویٰ کیا کہ جب ہندوستان پر غیر ملکی حملہ آور جیسے ترک اور مغل وغیرہ حملہ کرتے تھے تو وہ نہ صرف مال و اسباب لوٹتے تھے بلکہ ہندوستانی خواتین کو بھی اغوا کرکے لے جاتے اور بیچ دیتے تھے۔ ان کے مطابق اُس وقت کے ہندوستانی مردوں نے، جنہیں وہ "بزدل” کہتے ہیں، حملہ آوروں سے منت کی کہ وہ ہماری کنواری لڑکیوں کو لے جائیں لیکن شادی شدہ خواتین کو چھوڑ دیں اور ان کی شناخت کے لیے شادی شدہ خواتین کی مانگ میں سندور لگانا شروع کیا۔ سردار نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ روایت ہندوؤں کی بزدلی کی علامت ہے کیونکہ انہوں نے اپنی خواتین کی حفاظت کے لیے کوئی عسکری اقدام کرنے کے بجائے ایک علامتی نشان اپنایا۔ انہوں نے مودی کی غیرت اور "گولی مارنے کی اوقات” کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور کی ناکامی اور مودی کی دھمکی اسی تاریخی کمزوری کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ سندور کی روایت ہندو مذہب میں صدیوں سے موجود ہے اور اس کا تعلق ویدک رسومات سے ہے، سردار کا یہ بیان مودی کی ناکامی کو ایک طنزیہ انداز میں پیش کرتا ہے۔

    پاکستان نے مودی کے بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے اشتعال انگیز، نفرت پھیلانے والا اور عالمی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے پریس ریلیز میں کہا کہ ایک جوہری طاقت کے وزیر اعظم کا اس انداز میں بیان دینا انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اپنا دفاع کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ مودی کا بیان خطے کے امن کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور اس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔ دفتر خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی اشتعال انگیز سیاست اور انتہا پسندانہ سوچ کا نوٹس لے۔

    آپریشن سندور سے قبل بھارت نے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا، حالانکہ بین الاقوامی قانون اسے یہ اختیار نہیں دیتا۔ بھارت نے تمام پاکستانی شہریوں کے ویزوں کو منسوخ کر دیا، حتیٰ کہ علاج کے لیے بھارت میں موجود پاکستانیوں کو بھی کوئی رعایت نہیں دی گئی۔ پاکستانی خواتین جو بھارت میں بیاہی گئی تھیں اور بھارتی خواتین جو پاکستان میں بیاہی گئی تھیں اور اپنے میکے ملنے بھارت گئی تھیں، انہیں بھی سفری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں۔

    7 مئی 2025 کو شروع ہونے والے آپریشن سندور میں بھارتی فضائیہ نے رافیل طیاروں کے ذریعے پاکستان اور آزاد کشمیر میں مبینہ دہشت گرد کیمپوں پر میزائل حملے کیے۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے جیش محمد، لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کے ٹھکانوں پر کیے گئے، تاہم پاکستان میں حملےشہری علاقوں میں کئے گئے، جس میں بہاولپور کی ایک مسجد سمیت دیگر مقامات کو نقصان پہنچا اور 40 شہری شہید ہوئے۔ پاکستان نے 10 مئی کو "آپریشن بنیان مرصوص” کے نام سے جوابی کارروائی کی، جس میں پاکستانی فضائیہ نے بھارتی فضائی دفاعی نظام، تین رافیل سمیت سات طیاروں اور 26 فوجی تنصیبات کو تباہ کیا۔ بھارتی فوج کی ترجمان کرنل صوفیہ قریشی نے پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ پاکستان نے 26 بھارتی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور بھارت مزید لڑائی نہیں چاہتا۔

    بھارتی میڈیا نے ابتدا میں آپریشن سندور کو کامیابی کے طور پر پیش کیا، لیکن پاکستانی جوابی کارروائی نے بھارت کی ناکامی کو عیاں کر دیا۔ جرمن میڈیا نے رپورٹ کیا کہ رافیل طیاروں کی تباہی نے آپریشن سندور کو ناکام بنا دیا، اور سابق بھارتی وزیر خارجہ یشونت سنہا نے کہا کہ مودی حکومت "گودی میڈیا” کے ذریعے اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے ناقابل تردید شواہد پیش کیے کہ بھارتی میڈیا نے جھوٹی خبریں پھیلائیں، جن میں لاہور بندرگاہ (جو حقیقت میں موجود نہیں) کی تباہی جیسے مضحکہ خیز دعوے شامل تھے۔ آپریشن سندور کے بعد پاکستان نے بھارتی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں اور تجارتی تعلقات معطل کر دیے۔ آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے بھارتی آپریشن کی مذمت کی اور دونوں فریقوں سے ضبط کی اپیل کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا جو مودی کی سفارتی ناکامی کا واضح ثبوت تھا۔

    آپریشن سندور کی ناکامی، مودی کی کھوکھلی دھمکیاں اور سکھ سردار کی طنزیہ ویڈیو اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت طاقت کے گھمنڈ اور جھوٹے فخر میں حقیقت سے منہ موڑ چکا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف میدان جنگ میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا بلکہ دنیا کو دکھا دیا کہ ہم امن چاہتے ہیں، لیکن دفاع سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ مودی جس "گولی” کی بات کرتا ہے، وہ اب ایک مذاق بن چکی ہے اور "سندور” جو بھارت اپنی غیرت کی علامت بتاتا ہے، وہ درحقیقت ان کی تاریخ کی کمزوریوں کی یاد دہانی ہے۔

    اب بھی وقت ہے کہ بھارتی عوام مودی کی انتہاپسند سوچ، نفرت انگیز پالیسیوں اور جنگی جنون کے آگے بند باندھیں۔ اسے صاف اور دو ٹوک انداز میں یہ پیغام دینا ہوگا کہ بس بہت ہو گیا، ہمیں جنگ نہیں، امن چاہیے۔ پاکستان نے کبھی بھی جنگ کی پہل نہیں کی، لیکن اگر مودی نے دوبارہ ایسی کسی مہم جوئی کی حماقت کی، تو اُسے ایک بار پھر اسی پاکستان سے سامنا کرنا پڑے گا جو نہ صرف ایک مضبوط، متحد اور باہمت قوم ہے بلکہ ایسی جرأت مند مسلح افواج رکھتا ہے جو دشمن کو اس کی سرزمین میں گھس کر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس بار جنگ صرف میدان میں نہیں ہوگی بلکہ بھارت کا پورا شیرازہ بکھر جائے گا اور تاریخ مودی کے غرور کو ایک سبق کے طور پر یاد رکھے گی۔

  • 28مئی کے بعد پاکستان کی ایک اور برتری،تحریر:قاضی کاشف نیاز

    28مئی کے بعد پاکستان کی ایک اور برتری،تحریر:قاضی کاشف نیاز

    اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ اس نے اہل پاکستان کو ،اسلامیان پاکستان کو پاکستان اور اسلام کے ازلی دشمن بھارت کے خلاف ایک بار پھر تاریخی فتح سے ہم کنار کیا۔۔۔28مئی کے ایٹمی دھماکوں کے بعد اللہ نے پاکستان کو ایک اور برتری عطا کی۔۔۔ یہ سب یقینا اللہ کی خصوصی مدد سے ہی ممکن ھوا ھے۔۔۔اس موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جو اسوہ منقول ھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی فخر کے اظہار کی بجائے اللہ کی بارگاہ میں عاجزی و خشیت سے جھک جاتے۔۔۔اور سجدہ شکر بجا لاتے۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے وقت مکہ میں داخل ھوئے تو اس وقت آپ کی عاجزی کی یہ انتہا تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک اونٹنی پر اتنا جھکا ھوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک لکڑی کے کجاوے سے لگ رہی تھی(المعجم الاوسط للطبرانی:۶/۸۵، رقم الحدیث: ۵۸۷۱)
    اللہ نے بھی ایسے موقع پر اپنے نبی کو یہی تلقین کی
    فسبح بحمد ربک واستغفرہ
    پس اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم،اس فتح عظیم کے موقع پر اپنے رب کا شکر ادا کرو اور اس سے استغفار کرو۔۔
    غرض جب فتح کے موقع پر اللہ اپنے نبی جیسی معصوم عن الخطاء ہستی سے بھی یہ توقع رکھتا ھے کہ وہ اسے اپنی کسی قابلیت،کسی بہادری و ذہانت یا اپنی کسی زبردست جنگی سٹریٹجی کا نتیجہ نہ سمجھیں یا اپنے جدید اسلحہ و تعداد کا کوئی کرشمہ بھی نہ سمجھیں بلکہ اس فتح اور کامیابی کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی خاص غیبی مدد ہی سمجھیں تاکہ اپنی صلاحیتوں کو ہی اصل سمجھ کر کسی غرور و گھمنڈ کا شکار نہ ھو جائیں۔۔ایک نبی کی ہستی سے ایسا گمان بھی معاذاللہ اگرچہ نہیں کیا جا سکتا لیکن اس طرح نبی کو مخاطب کر کے مسلمانوں کی مستقل تربیت کی گئی کہ وہ ایسے کسی بھی موقع پر کسی بھی قسم کی جاہلانہ نخوت کا شکار نہ ھوں۔۔۔
    ایک مسلمان کا یہی انداز ھوتا ھے۔۔جب وہ اپنی ہر کامیابی پر اللہ کے حضور اور زیادہ جھکتا،اسلام پر اور زیادہ کاربند ھوتا اور استغفار کرتا ھے تو اللہ بھی اسے پہلے سے زیادہ کامیابیوں اور کامرانیوں سے نوازتا ھے۔۔اس کی توبہ قبول کرتا ھے،اس کے گناھوں کو مٹاتا بلکہ ان گناھوں کو بھی نیکیوں میں بدل دیتا ھے اور اگر وہ یہ کام نہ کریں تو اللہ جیتی ھوئی جنگ شکست میں تبدیل کرتے بھی دیر نہیں لگاتے۔۔۔ایسی کئی جیتی ھوئی جنگوں کو شکست میں تبدیل ھونے کی کافی مثالیں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔۔سب سے بڑی مثال جنگ احد کی ھے جب صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین جنگ جیت چکے تھے۔۔۔جنگ کے آخر میں جب بعض صحابہ کرام سے صرف اتنی غلطی ھوئی اور وہ بھی ایک اجتہادی غلطی۔۔انہیں سالار جنگ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ہدایت تھی کہ ایک درہ کو تاحکم ثانی کسی صورت خالی نہیں کرنا۔۔۔جنگ کے اختتام پر جب لشکر کفار شکست کھا کر پسپا ھو گیا اور فتح پوری طرح واضح ھو گئی تو ان صحابہ کرام نے سمجھا کہ جب فتح ھو گئی اور جنگ بھی ختم ھو گئی،کفار سب پسپا ھو گئے تو اب یہاں کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔چنانچہ انہوں نے وہ جگہ چھوڑ دی۔۔اس معمولی اجتہادی غلطی اور اپنے سالار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نادانستہ نافرمانی کا بھی یہ نتیجہ نکلا کہ پسپا ھوتا شکست خوردہ لشکر کفار درہ خالی دیکھ کے وہیں سے اچانک واپس پلٹا اور مسلمانوں پر پھر سے دھاوا بول دیا جس سے مسلمانوں کا کافی جانی نقصان ھوا اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شدید زخمی ھوئے۔۔
    دور نہ جائیں تو پاکستان کی ابتدائی دو جنگوں کا حال ہی سامنے رکھ لیں ۔۔65ء کی جنگ میں پاکستان نے الحمدللہ اپنے سے پانچ گنا بڑے ملک بھارت کو شکست فاش دی ۔۔۔بھارت کے اندر گھس کر بھارت کے کئی علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا ۔۔اس وقت بھی پاک فضائیہ نے بھارتی طیارے گرانے کے عالمی ریکارڈ قائم کیے ۔۔۔حالانکہ اس وقت ہمارے پاس نہ ایٹمی صلاحیت تھی نہ کوئی جدید چینی ہتھیار،میزائل اور طیارے تھے۔۔بس صرف اور صرف خالص اللہ کی مدد کے سہارے یہ جنگ نہ صرف لڑی گئی بلکہ زبردست کامیابی بھی حاصل کی گئی۔۔۔۔۔ہمارے ہیرو ایم ایم عالم نے تین منٹ سے بھی کم وقت میں پانچ بھارتی طیارے گرائے۔۔۔ایک ایک دن میں بائیس بھارتی طیارے مار گرائے گئے۔۔ سیالکوٹ چونڈہ کے محاذ پر دوسری عالمی جنگ کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ پاکستان نے کامیابی سے لڑی اور دشمن کے بے شمار ٹینکوں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔۔۔اتنی بڑی کامیابی اور فتح کے صرف چھ سال بعد کیا ھوا۔۔۔ھم اپنے جشن اور مستیوں میں غرق ھوئے اور بھارت بدلے کے لیے ایک دن بھی آرام سے نہ ںیٹھا۔۔۔71ء میں اس نے واپس پلٹ کر حملہ کیا اور ہمارا آدھا ملک ھم سے الگ کر لیا۔۔۔یہ کامیابی مکار بنیے نے جنگ کے ذریعے کم اور پاکستانی مسلمانوں کو باھم ایک دوسرے سے لڑا کر زیادہ حاصل کی۔۔۔اس نے مغربی پاکستان،پنجاب اور پاک فوج کے خلاف جاہلانہ لسانی عصبیت کے نام پہ اس قدر شدید نفرت پھیلائی کہ مشرقی پاکستان کی عوام اپنی ہی فوج کے خون کی پیاسی ھو گئی۔۔۔جب عوام کو ہی فوج کے خلاف کر دیا جائے تو دنیا کی پھر طاقتور سے طاقتور فوج بھی ناکام ھو جاتی ھے۔۔اسی نکتے کو بھارت نے استعمال کیا اور اس نے اپنی چانکیائی سیاست کے ذریعے پاکستان کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کر لی۔۔۔
    آج بھی بھارت وہی کھیل دوبارہ بچے کھچے پاکستان میں کھیل رہا ھے۔۔۔پھر وہی اسی طرح کا ڈیزائن اور ماحول کہ فوج اور پنجاب کے خلاف نفرت پھیلا دو اور پھر دیکھو کہ پاکستان ٹوٹتا ھے یا نہیں۔۔۔تاھم اللہ کا شکر ھوا کہ پاکستان اس بار بھارت اور ہمارے کچھ نادان سیاستدانوں کی طرف سے ایسے تمام زرخیز ماحول پیدا کرنے کے باوجود جنگ میں بری طرح شکست سے دو چار ھوا ھے۔۔۔لیکن دشمن سے ھمیں ایک لمحہ بھی غافل نہیں رہنا چاہیے۔۔۔ہمارا دشمن انتہائی کمینہ دشمن ھے۔۔۔یہ صرف پاکستان کا دشمن نہیں،یہ اصلا اسلام اور مسلمانوں کا کھلا دشمن ھے۔۔اسی لیے تو آج غزہ کا قصائی اسرائیل ہی جنگ میں اس کا واحد سب سے بڑا دوست بن کے کھڑا تھا۔۔ایسا دشمن زخم کھا کے آرام سے بیٹھنے والا نہیں۔۔۔یہ بدلے کی آگ میں سانپ کی طرح مسلسل پھنکار رہا ھے۔۔مودی ہر الیکشن کے قریب کبھی بھارتی مسلمانوں کے خلاف
    محاذ کھول دیتا ھے تاکہ ہندؤوں کا ووٹ بینک پکا رکھا جا سکے اور کبھی وہ پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیتا ھے۔۔۔لیکن اس بار پاکستان کے خلاف اس کی مہم جوئی اسے بری طرح الٹ پڑ گئی۔۔اس نے بڑی منصوبہ بندی سے پہلگام میں کچھ سیاحوں کو خود قتل کرانے کا فالس فلیگ ڈرامہ کیا اور پھر اس کی آڑ میں 6ـ7مئی کی درمیانی شب رات کے اندھیرے میں پاکستان پہ حملہ آور ھو گیا۔۔۔ وہ اپنے تئیں بڑے طمطراق اور جدید ترین ہتھیاروں میزائلوں طیاروں کے ساتھ پورے کر و فر کے ساتھ پاکستان پہ حملہ آور ھوا اور اس یقین کے ساتھ کہ جیسے پاکستان بس چند منٹوں گھنٹوں کی مار ھے لیکن الحمدللہ پاک فوج نے اسے ایسا کرارا جواب دیا کہ وہ الٹا اپنے دو جدید ترین رافیل جہاز سمیت 6طیارے،48ڈرون اور اربوں ڈالر کا جدید ترین دفاعی اینٹی میزائل سسٹم SU 100 بھی تباہ کروا بیٹھا اور وہ پاکستان سے پانچ گنا بڑی طاقت ھونے کے باوجود صرف تین گھنٹے چالیس منٹ کی مار ثابت ھوا جس کی وجہ سے پورے عالم میں اس کی خوب جگ ہنسائی ہوئی۔۔۔جواب میں بھارت پاکستان کا ایک بھی طیارہ نہ گرا سکا نہ دکھا سکا۔۔۔ یوں مودی کا پاکستان کو نقصان پہنچا کر الیکشن جیتنے کا اس کا خواب چکنا چور ھو گیا۔۔ اس کی ہنڈیا بیچ چوراہے ہی پھوٹ گئی۔۔۔اس کے الیکشن جیتنے کے سارے تخریبی پلان دھرے رہ گئے چنانچہ الیکشن جیتنے اور اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے وہ اب کچھ بھی اڈونچر کر سکتا ھے۔۔اس کے مکروہ عزائم سے کون واقف نہیں۔۔لہذا اس وقت ضرورت اس امر کی ھے کہ ھم دشمن سے کسی بھی محاذ پہ غفلت کا شکار نہ ھوں۔۔۔ھم نے دشمن پہ فتح عظیم ضرور حاصل کی ھے لیکن یہ اتنی بڑی فتح نہیں کہ جس کے بعد دشمن ھم پہ دوبارہ حملہ کرنے کی ہمت اور طاقت بھی نہ رکھتا ھو۔۔اور ھم خواہ مخواہ کسی فخر و تکبر کا شکار ھو جائیں۔۔ھم نے دشمن کو پسپا ھونے پہ ضرور مجبور کیا ھے لیکن اس کو ھم نے مٹا نہیں دیا۔۔۔یا اس کی طاقت بالکل ختم نہیں کر ڈالی۔۔۔سانپ زخمی ضرور ھوا ھے لیکن اس کا سر ابھی پوری طرح کچلا نہیں گیا۔۔سانپ بھی ابھی موجود ھے اور وہ پھنکار بھی رہا ھے۔۔۔
    اس موقع پہ قوم میں باہمی یک جہتی سب سے زیادہ برقرار رکھنے کی ضرورت ھے۔عسکری محاذ پہ دشمن ہمیں بارہا آزما چکا ھے اور ہر جنگ میں اسے بری طرح منہ کی کھانا پڑی ھے۔۔اسے کامیابی ہمیشہ پاکستانی قوم اور اداروں کو باھم لڑانے سے ملی ھے۔۔۔ دشمن کی یہ سازش اگر ھم کامیاب نہ ھونے دیں اور قومی یکجہتی کو زیادہ سے زیادہ برقرار رکھیں،باہمی سیاسی اختلاف کو اس حد تک نہ بڑھائیں کہ ھم دشمن کے خواب کی تکمیل کا باعث بن جائیں۔۔اور آپس میں ہی لڑ کے تباہ ھو جائیں جبکہ دشمن بغیر جنگ کے ہی ھم پہ فتح حاصل کر لے۔۔۔
    اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں،سیاستدانوں اور پوری قوم کو یہ تدبر اور تفکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔اگر اس تدبر اور قومی یکجہتی کو برقرار رکھتے ھوئے ھم ایمان،اتحاد اور جہاد فی سبیل اللہ کے جذبے سے سرشار ھو کر آگے بڑھتے رھیں تو ان شاءاللہ دشمن اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ھو سکے گا۔۔
    بس اب صرف دو باتیں ہمیں پیش نظر رکھنی چایئیں۔۔۔پہلی بات یہ کہ صرف دفاع کافی نہیں۔۔ بھارت کی آئے دن کی جارحیت اور سندھ طاس
    عقیدہ معطل کرنے کی دھمکیوں کا علاج صرف دفاع کی بجائے جارحانہ حکمت عملی سے ممکن ھے۔۔اس لیے کہ
    offence is the best defence
    ہندو بنیے کا تو علاج ہی یہی ھے۔۔مسلمان فاتحین نے اسی اصول پر ہی انتہائی کم تعداد ھو کر بھی پورے برصغیر پر ایک ہزار سال تک حکومت کی۔۔اج بھی ہندو بنیے کا یہی علاج ھے
    دوسری بات یہ کہ بھارت اگر صرف دہشت گردی پہ مذکرات کرے تو پاکستان بھی سوائے مسئلہ کشمیر کے اور کسی آیشو پر بات کرنے سے انکار کر دے کیونکہ دنیا جانتی ھے کہ تمام مسائل کی وجہ صرف یہی مسئلہ ھے۔۔اب پاکستان کے ڈٹ کے کھڑے ھونے کا وقت ھے۔۔اب کسی قسم کی پرانی مصلحت آمیزانہ اور ضرورت سے زیادہ شریف بننے کی پالیسی ترک کی جائے ۔۔
    10مئی کے جواب کے بعد اب پاکستان دنیا میں الحمدللہ بھارت سے زیادہ طاقتور ملک بن کے ابھرا ھے ۔۔ اپنی اس حیثیت کا بھرپور فایدہ اٹھایا جائے تو ائندہ بھی کامیابیاں اور کامرانیاں ہمارا مقدر ھوں گی۔۔ان شاءاللہ
    پاکستان زندہ باد
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستانی عوام زندہ باد

  • درباریوں سے جان چھڑائے بغیر عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہونگے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    درباریوں سے جان چھڑائے بغیر عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہونگے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    درباریوں سے جان چھڑائے بغیر عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہونگے
    ہربااختیار کے گرد درباری جمع،عوام کی کون سنے،وزیر اعلیٰ پنجاب کی تقلید کرناہوگی
    مریم نوازشریف نے پنجاب کا نقشہ بدل دیا،نوجوانوں کی مقبول لیڈر،سب کے دل جیت لئے
    فیلڈ مارشل سید عاصم منیرمعرکہ حق میں کامیابی پر دنیا کی طاقتور شخصیات کی فہرست میں شامل
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر پاکستان میں نہیں عالمی دنیا میں بھارت کا مقابلہ کرنے کے بعد مضبوط شخسیت بن کر ابھرےہیں،پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کیساتھ تصادم جیت لیا، اس تصادم میں بری فضائی،بحری اور جملہ اداروں کا کردار قابل تحسین ہے،قوم کو پتہ چل گیا کہ ملکی سلامتی مضبوط ہاتھوں میں ہے،مسجد اقصیٰ کا مستقبل امریکہ نہ اسرائیل اور نہ ہی دیگر دنیا کے ہاتھ میں ہے، مسجد اقصیٰ کا مستقبل وہی ہے جو اللہ تعالی نے طے کر رکھا ہے،مسجد اقصیٰ کی وہ ہی حفاظت کرے گا جس پروردگار نے ابابیلوں کو بھیج کر ہاتھی والوں کو عبرت کا نشان بنا دیا تھا، آج کا انسان موجودہ قیامت خیز ماحول میں بھی عبرت حاصل نہیں کرتا تو اس پر بحث کرنے سے کیا حاصل،ملکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں،جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے دعویداروں سے اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ جمہور کے مسائل کی طرف توجہ دیں اگر ایک صوبے کی وزیر اعلیٰ میرٹ گڈ گورنس چٹ سسٹم کا خاتمہ کر سکتی ہے،تو باقی کیوں نہیں، ایک خاتون وزیر اعلیٰ نے پنجاب کا نقشہ بدل کر رکھ دیا،نوجوان بچوں اور بچیوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے غریب لوگوں کی مالی امداد سے لیکر دیگر بنیادی مسائل حل کر سکتی ہے تو دیگر صوبوں کی حکومتیں کس مرض میں مبتلا ہیں،پاکستان نے اگر دنیا کیساتھ ترقی کرنی ہے تو تباہ کن سیاسی انداز اور ذاتی مفادات کی پالیسی کو بدلنا ہو گا،بہت ہو چکا اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اختلافات کو پس پشت ڈال کر پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے کردار ادا کریں مشرق وسطیٰ امریکی بدلتی پالیسی اور دیگر ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلی کو مدنظر رکھیں اور پاکستان کی ترقی اور عوامی کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں، استحکام پاکستان کا خواب مکمل جب ہو گا جب رائٹ مین فار رائٹ جاب پر عمل ہو گا،نااہل کرپٹ بد دیانت ذاتی مفادات اقرباء پروری متکبر اور چاپلوس خوشامدی ٹولے سے جان چھڑانی ہو گی جب تک ملک کی سیاسی جماعتوں کی بلند دیواروں اور دروازوں پر درباریوں کا قبضہ رہے گا عوامی کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے