Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اپووا خواتین کانفرنس،یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اپووا خواتین کانفرنس،یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    علامہ اقبال نے کہا تھا
    وجود زن سے تصویر کائنات میں ہے رنگ
    یہ درست ہے اس کائنات میں خواتین کا رول بہت اہم ہے نسل انسانی کو پروان چڑھانے اور ان کی تربیت کی زمہ داری اللہ تعالیٰ نے خواتین کے کندھوں پر ڈالی اور تاریخ شاہد ہے جن خواتین نے یہ ذمہ داری بطریق احسن نبھائی ان کی اولاد نے اپنے اعلیٰ اوصاف سے ایسے رنگ بھرے کہ جو کبھی ماند نہیں ہوئے، فاطمہ جناح اپنے بھائی کے ہم قدم رہیں کبھی ان کو اکیلا نہیں چھوڑا ،رعنا لیاقت علی خان نے اپنے شوہر لیاقت علی خان کا ساتھ دیا مال و دولت جمع نہیں کیا اسی طرح تاریخ اسلام اور دنیا کی تاریخ خواتین کے کار ناموں سے بھری پڑی ہے لیکن بدقسمتی سے وہ حقوق جو اسلام نے اور قانون نے عورتوں کو دئیے ان پر عملدرآمد بہت کم دیکھنے میں آ یا اور معاشرے میں خواتین کو بہت سے مسائل کا سامنا رہا اور ایسے ماحول میں اگر خواتین کو عزت و تکریم دینے اور ان کی صلاحیتوں کو سراہنے کی کی بات ہو تو بہت خوش آئند ہے، اسی حوالے سے آ ل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن ( اپووا ) نے کل بارہ اپریل ہفتے کے دن پاک ھیرٹج ہوٹل میں ایک تقریب منعقد کی .


    اپووا کے بانی اور صدر ایم ایم علی ہیں جبکہ چئیرمین زبیر احمد انصاری ہیں ان کی طرف سے منعقد کردہ یہ تقریب شاندار تھی اپنی صلاحیتوں کے اعتراف میں ایوارڈ حاصل کرنے پر خواتین خوش نظر آ رہی تھیں تمام گیسٹ سپیکرز اپنے اپنے شعبوں میں ممتاز مقام رکھتی تھیں ان میں سامعہ خان ، عذرا آ فتاب ، عارفہ صبح خان ، دعا مرزا ، ثنا آ غا خان ، ڈاکٹر فضلیت بانو ، گل ارباب ، کومل جوئیہ ، لالہ رخ اور دیگر شامل تھیں اس تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ اس تقریب کو غزہ کے مظلوموں سے منسوب کیا گیا کالی پٹیاں باندھ کر اور فلسطین کے جھنڈے لہرا کر احتجاج کیا گیا اور فلسطین کی مظلوم عورتوں اور بچوں سے اظہار یک جہتی کیا گیا ،اس تقریب میں پشاور ، کراچی ، اور کئی دوسرے شہروں سے آ نے والی خواتین شامل تھیں یہ بھر پور اور باوقار تقریب تھی اس کے لیے اپووا کے بانی اور چئیرمین لائق تحسین ہیں ان کو بہت مبارکباد اور انتظامیہ میں شامل تمام خواتین جن میں سحرش خان ، ڈاکٹر ثمینہ طاہر اور دیگر بہت مستعد تھیں ان سب کا بھی شکریہ اور مبارکباد
    یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی

    اپووا خواتین کانفرنس،خواتین کی دشمن کون؟تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ

    اپووا خواتین کانفرنس میں باغی ٹی وی کی نور فاطمہ کو ملا اعزازی ایوارڈ

    اپووا کی سالانہ پانچویں خواتین کانفرنس،خواتین میں ایوارڈز تقسیم

    گورنر پنجاب سیکرٹریٹ میں بانی اپووا ایم ایم علی کی سالگرہ کی پروقار تقریب، اہم شخصیات کی شرکت

    اپووا وفد کی مبشر لقمان سے ملاقات،ایم ایم علی کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا

    اپووا کانفرنس سیالکوٹ کا احوال.تحریر:ایم ایم علی

    اپووا ادبی کانفرنس سیالکوٹ—ایک یادگار ادبی اجتماع.تحریر:مدیحہ کنول

    اپووا اور میرے احساسات .تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

  • اپووا خواتین کانفرنس،خواتین کی دشمن کون؟تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا خواتین کانفرنس،خواتین کی دشمن کون؟تحریر:قرۃالعین خالد

    الحمداللہ! 12 اپریل 2025 کو لاہور کے پاک ہیرٹج ہوٹل میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے پانچویں خواتین کانفرنس منعقد کی گئی۔ جس میں پاکستان کے تمام صوبوں سے خواتین نے شرکت کی۔ مختلف شعبہ جات میں کامیاب خواتین نے اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں نئی نسل کو آگے بڑھنے کا جذبہ دیا۔ بہت سے مسائل پر گفتگو کی گئی۔ کانفرنس کا مقصد بہت بڑا تھا۔

    آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے اللہ پاک نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے بس اپنی بندگی کا حکم دیا ہے۔ معاشرے میں بگاڑ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم قانون قدرت کی حدود کو پامال کرتے ہیں۔ حکمرانی، اقتدار، داتا، ملکیت، تکبر سب اللّٰہ ربّ العزت کی صفات ہیں جب بھی کسی انسان نے یا کسی قوم نے ان صفات کی حدود کو توڑنے کی کوشش کی تو وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ فرمان نبوی کے مطابق اگر آپ کوئی برائی دیکھو تو اسے ہاتھ سے روکو اگر اس کی طاقت نہیں رکھتے تو زبان سے منع کرو اور اگر ایسا بھی نہیں کر سکتے تو اسے دل سے برا جانو اگرچہ یہ ایمان کا سب سے کم درجہ ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا کہ "مسلمان تو ایک جسم کی مانند ہیں اگر اس کے کسی ایک حصے میں درد ہو گی تو دوسرا حصہ خود بخود تکلیف میں ہو گا۔” کانفرنس میں غزہ کے مسلمانوں کے حوالے سے بات چیت ہوئی اور ان کے ساتھ یکجتی کا اظہار کیا گیا مگر میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ ہم ایمان کے کون سے درجے پر ہیں۔ نہ ہم ہاتھ سے روکنے کی استطاعت رکھتے ہیں نہ ہماری زبان حق کے لیے بولتی ہے تو کیا ہم ایمان کے سب سے نچلے درجے سے بھی گر گئے جہاں ہم کفار کو برا بھلا ہی کہہ سکیں؟ ان کی بنائی مصنوعات کو چھوڑ سکیں؟ مسلمان جو ایک جسم کی مانند ہیں پھر ہمارا جسم ہمارا دل ہماری روح غزہ کے مسلمانوں کے لیے تکلیف میں کیوں نہیں؟ کیا ہم مسلمان ہی نہیں رہے؟ آج ضرورت اس امر کی ہے
    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے۔
    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر۔

    خواتین کانفرنس میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا میں تو سمجھتی ہوں جس کا جتنا برتن ہوتا ہے اس میں وہ اتنی اشیاء بھر لیتا ہے۔ ایک سپیکر خاتون نے تو جیسے میرے دل کی باتیں کہیں کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔ میں نے باہر معاشرے میں نکل کر دیکھا ہے جتنی ٹانگ خواتین اپنی ساتھی خواتین کی کھینچتی ہیں اس کے برعکس مردوں میں حسد جلن اور نفرت کے جذبات بہت کم ہوتے ہیں۔ اکثر خواتین اپنی ساتھی خواتین کی کامیابی برداشت نہیں کرتیں بلکہ ان کو سیدھے راستے کی بجائے غلط راستہ دکھاتی ہیں جو ان کے پاس ہوتا ہے وہ چاہتی ہیں کسی دوسری کے پاس نہ ہو۔

    تو واقعی خواتین کا عالمی دن منانے سے کچھ نہیں ہونے والا میری نظر میں خواتین کے حقوق کی جنگ مردوں سے نہیں اپنی ہی ہم جنس خواتین سے ہے۔ مقابلہ تو برابر والے سے ہوتا ہے جنگ کے اصولوں میں بھی برابری شامل ہے۔ ہم جو پلے کارڈ اٹھا کر مردوں کے سامنے آ گئی ہیں ان کے برابر کے حقوق مانگنے اگر عورت اپنی سوچ کو مثبت کر لے تقدیر پر راضی رہنا اور ہمیشہ دوسری عورت کی مدد کرنا اس کا ساتھ دینا سیکھ لے تو ہمیں کسی مرد سے اپنے حق مانگنے کی ضرورت نہیں۔ باقی میں متفق ہوں کہ کوئی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا کسی کام کو حقیر نہ سمجھیں بس اللہ نے آپ کو جتنی طاقت اور جتنی ہمت و سہولت دی ہے اس میں انسانیت کو فایدہ پہنچاتے رہیں۔ آگے بڑھ کر اپنی خواتین ساتھیوں کی مدد کریں ان کا ساتھ دیں کیونکہ جو کسی کا مقدر ہے وہ آپ چھین نہیں سکتیں اور جو آپ کا مقدر ہے وہ کوئی آپ سے لے نہیں سکتا تو پھر ڈر کس بات کا۔ یہ دنیا فانی ہے اس کی ہر شے کو فنا ہے یہ دولت یہ شہرت یہ عزت یہ مقام سب منوں مٹی تلے دب جانے ہیں باقی رہ جانی ہیں صرف اور صرف نیکیاں۔ عورت مرد کے شانہ بشانہ چلنے اور برابری کے چکر میں یہ بھول ہی گئی ہے اس کی عزت اس کا وقار اس کے سر کی چادر اور سر کے سائیں کے ساتھ ہے۔ اپنی چادر اور اپنے سائیں کی عزت کا خیال رکھیں کبھی معاشرہ آپ کے حقوق نہیں چھینے گا۔ دوپٹہ یا چادر اتار کر ہم نہ مرد بن سکتیں ہیں نہ ان کے برابر جس کو اللہ نے قوام بنایا ہم اس کے برابر کیسے ہو سکتی ہیں۔ آدم کے لیے حوا لازم تھی اور حوا کے لیے آدم۔ ہم بھی اپنے ساتھی اور ہمارا ساتھی ہمارے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ یہ سب باتیں لکھنا کہنا برتنا آسان نہیں ہیں۔ مجھے اٹھارہ سال لگے یہ سب لکھنے میں مگر دلیل کے ساتھ اپنی بات کہنی سیکھیں لڑائی جھگڑے اور پلے کارڈز اٹھا کر سڑکوں پر نکلنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جس کے ساتھ حقوق مانگنے کی جنگ ہے وہ کسی سڑک پر نہیں رہتا وہ ہمارے گھر پر ہمارے دل میں رہتا ہے اور یہ جنگ لڑائی جھگڑے سے نہیں بلکہ محبت اور دلیل کے ساتھ جیتنی ہے ان شاءاللہ!


    میری نظر میں ہر عورت خاص ہے چاہے وہ باہر کام کرنے والی خاتون ہے یا گھر سنبھالنے والی۔ عورت اللہ کی مخلوق ہے اس کے خاص ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ نے اس کو تخلیق کیا۔ حدود اللّٰہ میں رہتے ہوئے جو عورت بھی معاشرے کے لیے نفع مند رہے گی وہ کبھی ناکام نہیں رہے گی۔

    میں اپووا کی تمام ٹیم کو مبارکباد پیش کرتی ہوں اتنے کامیاب پروگرام کے لیے۔ علی بھائی، زاہد بھائی، ثمینہ آپا، مدیحہ، سحرش اللہ پاک آپ سے آپ کی تمام کوششوں کو قبول فرمائے اسی طرح سب کو ہمت دلاتے رہیں اللہ پاک آپ کی عزت میں اضافہ فرمائے آمین
    قرۃالعین خالد
    نائب صدر پنجاب (اپووا)
    سیالکوٹ

    اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ

    اپووا خواتین کانفرنس میں باغی ٹی وی کی نور فاطمہ کو ملا اعزازی ایوارڈ

    اپووا کی سالانہ پانچویں خواتین کانفرنس،خواتین میں ایوارڈز تقسیم

    گورنر پنجاب سیکرٹریٹ میں بانی اپووا ایم ایم علی کی سالگرہ کی پروقار تقریب، اہم شخصیات کی شرکت

    اپووا وفد کی مبشر لقمان سے ملاقات،ایم ایم علی کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا

    اپووا کانفرنس سیالکوٹ کا احوال.تحریر:ایم ایم علی

    اپووا ادبی کانفرنس سیالکوٹ—ایک یادگار ادبی اجتماع.تحریر:مدیحہ کنول

    اپووا اور میرے احساسات .تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

  • سندھ میں نہروں کا تنازعہ،ذوالفقار بھٹو جونیئر کی ماحولیاتی آواز اور سیاسی رسہ کشی

    سندھ میں نہروں کا تنازعہ،ذوالفقار بھٹو جونیئر کی ماحولیاتی آواز اور سیاسی رسہ کشی

    سندھ میں نہروں کا تنازعہ،ذوالفقار بھٹو جونیئر کی ماحولیاتی آواز اور سیاسی رسہ کشی
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی

    پاکستان کا زرعی مستقبل اور معاشی استحکام اس کے پانی کے وسائل سے جڑا ہے لیکن بدقسمتی سے یہ وسائل نہ صرف تیزی سے کم ہو رہے ہیں بلکہ سیاسی تنازعات کی نذر بھی ہو رہے ہیں۔ سندھ میں دریائے سندھ سے چھ نہروں کے مجوزہ منصوبے نے ایک ایسی بحث کو جنم دیا ہے جو پانی کی تقسیم، صوبائی خودمختاری اور سیاسی بیانیوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس تناظر میں ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کی ماحولیاتی سرگرمیاں اور پیپلز پارٹی کی متضاد پوزیشننگ نے اس بحران کو ایک نیا رنگ دیا ہے۔ اس کالم میں موجودہ پیچیدہ صورتحال کو ایک نئے زاویے سے روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے، جہاں ماحولیاتی تحفظ، سیاسی حکمت عملی اور عوامی مفادات کا ٹکراؤ واضح ہوتا ہے۔

    سندھ کی زمینوں کی زرخیزی کا دارومدار دریائے سندھ کے پانی کی مرہون منت ہےجو آج پانی کی قلت اور تقسیم کے مسائل سے دوچار ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے اس صوبے کے ماحولیاتی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ نہ صرف آلودگی اور جنگلات کی کٹائی جیسے موضوعات پر بات کرتے ہیں بلکہ اب پانی کی تقسیم اور نہروں کے منصوبے کو ماحولیاتی نقطہ نظر سے جوڑ کر ایک نیا بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ چھ نہروں کا منصوبہ سندھ کے پانی کے حصے کو کم کر کے زرعی معیشت اور ماحولیاتی توازن کو خطرے میں ڈالے گا۔ ان کی سرگرمیوں نے کسانوں، ماہی گیروں اور دیہی کمیونٹیز کے مسائل کو قومی سطح پر پیش کیا ہے جس سے نہروں کے خلاف بننے والا بیانیہ مضبوط ہوا۔

    دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی جو سندھ کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے اس تنازع میں اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ پارٹی نے ابتدا میں نہروں کے منصوبے کی موجودگی سے ہی انکار کیا لیکن جب عوامی دباؤ بڑھا تو اس نے موقف بدل کر نہروں کی مخالفت شروع کر دی۔ تاہم اس کوشش کو عوام نے شک کی نگاہ سے دیکھا کیونکہ پارٹی کی قیادت وفاقی اتحاد کا حصہ ہے۔ یہ تاثر عام ہے کہ پیپلز پارٹی نے سیاسی فوائد جیسا کہ بلاول بھٹو کی ممکنہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے سندھ کے پانی کے حقوق پر سمجھوتہ کیا۔ یہ الزامات پارٹی کی ساکھ کے لیے خطرناک ہیں خاص طور پر جب سندھ کے ووٹرز روایتی طور پر وڈیروں اور جاگیرداروں کی وفاداری پر ووٹ دیتے رہے ہیں نہ کہ پارٹی کے نظریے پر۔

    چھ نہروں کا تنازع محض پانی کی تقسیم کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ صوبوں کے درمیان اعتماد کی کمی اور سیاسی عزائم کا کھیل بنتا جارہاہے۔ وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ نہریں پسماندہ علاقوں میں زرعی ترقی لائیں گی لیکن سندھ کے لوگ اسے اپنے حصے کے پانی پر ڈاکہ قرار دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اس بیانیے کو وفاق اور پنجاب کے خلاف موڑنے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیابی نہیں ملی۔ عوام یہ سمجھتی ہے کہ پیپلزپارٹی وفاق میں سندھ کا کیس مؤثر طریقے سے پیش نہیں کر سکی۔ اس سے پارٹی کی ساکھ کو دھچکا لگا ہے اور خاص طور پر جب تحریک انصاف جیسی جماعتیں اس تنازع کو اپنے حق میں استعمال کر رہی ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں نہروں کے خلاف قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی نے اس کی کمزوری کو اجاگر کیا۔ اگر پارٹی تحریک انصاف کی پیش کردہ قرارداد کی حمایت سے گریز کرتی ہے تو اسے سندھ میں سیاسی طور پر بھاری قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ یہ صورتحال اس حقیقت کو عیاں کرتی ہے کہ پارٹی اب بلاول بھٹو تک پہنچتے پہنچتے اپنی تاریخی افادیت کھو چکی ہے۔ ماضی میں سندھ اور پنجاب میں اس کا بیانیہ یکساں تھا لیکن اب وہ اسے اپنے انداز میں ڈھالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔

    پانی کا بحران پاکستان کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے اور اس کا حل سیاسی تنازعات سے بالاتر ہو کر تلاش کرنا ہوگا۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کی ماحولیاتی سرگرمیاں اس بحران کو حل کرنے کے لیے ایک نئی سمت دکھاتی ہیں، جہاں پانی کی تقسیم کو ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی سے جوڑا جا سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ اپنی سیاسی حکمت عملی پر نظرثانی کرے اور سندھ کے عوام کے مفادات کو ترجیح دے۔ وفاقی حکومت کو تمام صوبوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے شفاف مذاکرات کرنے ہوں گے۔

    اس کے علاوہ پاکستان کو جدید آبپاشی نظام، ڈیموں کی تعمیر اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ بھاشا اور مہمند ڈیم جیسے منصوبوں کو سیاسی تنازعات سے بچا کر مکمل کیا جائے۔ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے ایک مضبوط نگرانی کا نظام بنایا جائے۔ سب سے بڑھ کر عوام کو اس عمل میں شامل کیا جائے تاکہ وہ اپنے وسائل کے تحفظ میں کردار ادا کر سکیں۔

    سندھ کا پانی صرف ایک صوبے کا مسئلہ نہیں ہےبلکہ پاکستان کی زرعی اور معاشی بقا کا سوال ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کی سرگرمیاں اس بحران کو ماحولیاتی تناظر میں پیش کر کے ایک نئی امید جگاتی ہیں لیکن پیپلز پارٹی کی سیاسی ناکامیاں اسے پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ اگر اس تنازع کو قومی اتفاقِ رائے سے حل نہ کیا گیا تو نہ صرف سندھ بلکہ پورا پاکستان پانی کی قلت کے سنگین نتائج بھگتے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ سیاسی عزائم کو پس پشت ڈال کر پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک متحدہ حکمت عملی بنائی جائے۔ پاکستان کا مستقبل اسی میں ہے کہ ہم اپنے وسائل کو سمجھداری سے استعمال کریں اور قومی مفاد کو سیاسی اختلافات پر مقدم رکھیں۔

  • پاک افغان مذاکرات میں مثبت پیش رفت

    پاک افغان مذاکرات میں مثبت پیش رفت

    پاک افغان مذاکرات میں مثبت پیش رفت
    تحریر:ضیاء الحق سرحدی پشاور

    افغانستان چونکہ ایک لینڈ لاک ملک ہے اور بیرونی دنیا سے تجارت کے لیے وہ اپنے دو پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران پر انحصار کرتا ہے اس لیے اسے اپنی تمام برآمدات اور خاص کر درآمدات کے لیے پاکستان کی بندرگاہوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ افغانستان کو اپنی اسی مجبوری کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ پہلے 1965 اور بعد ازاں 2010 میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کرنا پڑا تھا جن کے تحت پاکستان افغانستان کو زمینی راستوں سے نہ صرف اپنی بندرگاہوں تک رسائی دینے کا پابند ہے بلکہ ان معاہدوں کی رو سے اسے بین الاقوامی ضمانتوں کے تحت کئی مراعات بھی حاصل ہیں۔ یاد رہے کہ ان معاہدوں کے تحت افغانستان پاکستان کے ساتھ زیادہ تر تجارت تو طورخم اور چمن کے راستوں سے کرتا ہے لیکن کچھ عرصے سے پاک افغان باہمی تجارت میں کچھ رکاوٹیں حائل ہیں جس کی وجہ سے دونوں جانب کی تجارت زبوں حالی کی طرف گامزن ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور تناؤ کی صورت حال ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی تعلقات ہمیشہ سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں مگر حالیہ برسوں میں سفارتی کشیدگی، سیکیورٹی خدشات اور پالیسیوں میں عدم تسلسل نے انہیں بری طرح متاثر کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم جو کبھی ڈھائی ارب ڈالرز سے تجاوز کر چکا تھا، اب گھٹ کر ڈیڑھ ارب ڈالرز تک آ چکا ہے۔ خاص طور پر طورخم سرحد کی بندش، جو تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری رہی، نے تجارتی سرگرمیوں کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے اور تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور عام شہریوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ سرحد کی بندش کے باعث پاک افغان شاہراہ پر مال سے لدے سینکڑوں ٹرک مختلف مقامات پر کھڑے رہے، جن میں پڑی اشیاء خراب ہو گئیں۔

    گزشتہ دنوں افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق کے دورہ کابل کے حوالے سے نتیجہ خیز ملاقاتوں اور اہم پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ حکام سے حالیہ ملاقاتوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا معاملہ افغان حکام کے سامنے رکھا گیا ہے۔ جے سی سی اجلاس اپریل کے وسط میں کابل میں ہوگا۔ عید کے فوری بعد افغان وزیر تجارت اسلام آباد آئیں گے۔ مصدقہ ذرائع سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسلام آباد اور کابل کے رابطوں کا شیڈول تیار کر لیا گیا ہے جس کی تفصیلات کو حتمی شکل بھی دے دی گئی ہے، پہلی بار افغان طالبان میں ٹی ٹی پی پر کچھ لچک نظر آئی، پاک افغان مشترکہ کو آرڈی نیشن کمیٹی اجلاس 15 اپریل سے پہلے کابل میں ہوگا۔ نمائندہ خصوصی سول عسکری حکام کے ہمراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ تجارت و معاشی تعاون کے فروغ کا لائحہ عمل مرتب کر لیا گیا، پاک افغان وزرائے تجارت کی مشاورت پہلے ہوگی، عید کے بعد افغان وزیر تجارت نورالدین عزیزی پاکستان کا دورہ کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ افغان طالبان حکام کے ساتھ سفارتی رابطے کے لیے محمد صادق 3 روزہ دورے پر کابل پہنچے جہاں انہوں نے افغان وزیر خارجہ امیر متقی سے ملاقات کی اور پاک افغان تعلقات پر گفتگو کی، ملاقات میں تعلقات بہتر کرنے کے لیے ہائی لیول روابط پر اتفاق کیا گیا۔

    افغان طالبان نے کالعدم ٹی ٹی پی کے معاملے پر لچک دکھاتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت و معاشی تعاون کے فروغ کے حوالے سے لائحہ عمل مرتب کر لیا گیا، پاکستان اور افغانستان ترجیحی تجارت کے معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔ پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا معاملہ افغان حکام کے سامنے رکھا اور پہلی بار افغان طالبان میں ٹی ٹی پی پر کچھ لچک نظر آئی ہے جبکہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی بھی کرا دی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت افغان طالبان نے کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف تعاون کا عندیہ دیا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں معاون ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت ثابت ہو گی۔

    تاہم اس موقع پر ہمیں دشمن کی چالاکیوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات سبوتاژ کرنے اور پاکستان کے امن و ترقی کے سفر کو روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان کا ہمیشہ سے ہی موقف رہا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر، بالخصوص ٹی ٹی پی کے خلاف اقدامات کرے تا کہ پاکستان میں امن قائم ہو سکے۔ طالبان حکومت کے حالیہ بیانات میں یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کی تشویش کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور ٹی ٹی پی کے خلاف عملی اقدامات کے لیے تیار ہیں۔ اگر یہ وعدے حقیقت میں بدلتے ہیں تو یہ دونوں ممالک کے لیے ایک نئی شروعات ثابت ہو سکتی ہے۔

    پاکستان کو نہ صرف داخلی دہشت گردی بلکہ بیرونی خطرات اور ففتھ جنریشن وار کا بھی سامنا ہے۔ بھارت ایک طویل عرصے سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے خفیہ اور سفارتی سطح پر سازشیں کرتا آیا ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گرد گروہوں کو مالی و لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتی رہی ہے تا کہ پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغان طالبان کو بھی یہ بات سمجھنا ہو گا کہ بھارت کبھی ان کا دوست نہیں ہو سکتا۔ سوویت یونین سے لے کر امریکہ تک جس نے بھی افغانستان کے خلاف جارحیت کی بھارت ہمیشہ اس کا دست راست رہا۔ اب بھی اسے موقع ملنے کی دیر ہے وہ کابل کے حکمرانوں کو ڈسنے سے گریز نہیں کرے گا۔ پاکستان نے ہمیشہ افغان عوام سے تعاون کیا ہے ان کی مدد کی ہے۔ گزشتہ نصف صدی سے پاکستان 50 لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کر رہا ہے، اب بھی 24 لاکھ کے قریب افغان مہاجر پاکستان میں موجود ہیں۔

    پڑوسی ممالک کے حوالے سے پاکستان نے ہمیشہ سفارت کاری، امن اور ترقی پر زور دیا ہے اور حالیہ مذاکرات اس پالیسی کے عکاس ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ افغان طالبان کے ساتھ سفارتی روابط مزید مستحکم کرے تا کہ ٹی ٹی پی کے خلاف کیے جانے والے وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنی داخلی سیکیورٹی کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تا کہ کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت یا دہشت گردانہ کارروائیوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ پاک افغان مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت ایک خوش آئند قدم ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں استحکام لا سکتی ہے۔ تاہم ہمیں دشمن کی سازشوں سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنے اتحاد، قومی یکجہتی اور سیکیورٹی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تا کہ دشمن کے عزائم کو مکمل طور پر ناکام بنایا جا سکے۔ اگر ہم ان چیلنجز کا دانشمندی، حکمت عملی اور قومی یکجہتی سے سامنا کریں تو ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان ہمارا مقدر ہوگا۔ پاکستان افغانستان میں امن و ترقی کا خواہاں ہے لیکن اس کے برعکس افغانستان بھارت کی زبان بولتا ہے جو انتہائی افسوسناک امر ہے۔ پاکستان اور افغانستان کو چاہیے کہ وہ رہتے معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی عمل متاثر نہ ہو اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو مزید فروغ دینے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں جو دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں۔

  • اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ

    اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ


    آج کا دن میرے لیے ایک نیا سنگ میل ثابت ہوا، جسے میں زندگی بھر یاد رکھوں گی، آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی پانچویں سالانہ خواتین کانفرنس میں میری خواتین ایوارڈ کے لیے نامزدگی کا اعلان ہوا، جس کا میں طویل عرصے سے انتظار کر رہی تھی۔ یہ لمحہ میرے لیے بے حد اہمیت کا حامل تھا، کیونکہ یہ میرے لئے نہ صرف ایک اعزاز تھا بلکہ خواتین کی کامیابیوں کو سراہنے کا بھی ایک شاندار موقع تھا۔کانفرنس میں جانے سے پہلے، میرے ذہن میں کئی سوالات تھے۔ میں سوچ رہی تھی کہ میں وہاں کس طرح جاؤں گی، کیونکہ وہاں کوئی میری جان پہچان کا نہیں تھا،سب نئے لوگ تھے، لیکن جب میں کانفرنس میں پہنچی، تو آ پی ثمینہ طاہر بٹ نے جس اپنائیت کے ساتھ میرا استقبال کیا، اور تمام عہدیداران اور ممبران نے جتنی مہمان نوازی کی، وہ سب کچھ میرے لیے بے حد دل کو چھو لینے والا تھا۔ ان سب کا تہہ دل سے شکریہ جنہوں نے اس خوبصورت تقریب کے انعقاد میں حصہ لیا اور میری حوصلہ افزائی کی۔بانی صدر آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن، ایم ایم علی بھی کانفرنس میں متحرک نظر آئے،ایم ایم علی کا خصوصی شکریہ…کیونکہ میرے ایوارڈ کی نامزدگی کی منظوری انہوں نے دی تھی.

    اپووا کی خواتین کانفرنس میں ملک بھر سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی باوقار خواتین نے شرکت کی اور اپنی موجودگی سے تقریب کو مزید وقار بخشا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت حافظ محمد زاہد نے حاصل کی۔ اس کے بعد سیدہ مصور صلاح الدین نے عقیدت و احترام سے نعتیہ کلام پیش کیا۔سحرش خان نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا، نمرہ ملک کی خوبصورت اور پراثر پنجابی نظم نے محفل کو ایک خاص رنگ عطا کیا اور حاضرین سے خوب داد وصول کی۔کانفرنس میں کچھ اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں معروف لکھاریہ گل ارباب، پی آر او ٹو گورنر پنجاب محترمہ لالہ رخ ناز، ڈپٹی سیکرٹری ٹو گورنر پنجاب محترمہ ظل ہما، عالمی شہرت یافتہ اسٹرولوجر سامعہ خان، لیجنڈری اداکارہ عذرہ آفتاب، علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر عارفہ صبح، دبنگ جرنلسٹ دعا مرزا، اینکر پرسن ثناء آغا خان، ہیلتھ ایکسپرٹ ڈاکٹر انعم پری، علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر فضیلت بانو، معروف شاعرہ کومل جوئیہ، لیگل ایڈوائزر ایڈووکیٹ سعدیہ ہما شیخ، اور تحریک نفاذ اردو کی متحرک رکن فاطمہ قمر شامل تھیں۔

    میرے لیے یہ ایک شاندار موقع تھا کہ مجھے اس کامیاب کانفرنس کا حصہ بنایا گیا اور میری محنت اور جدوجہد کو تسلیم کیا گیا۔ میں خاص طور پر سینئر صحافی اور اینکر پرسن، سی ای او باغی ٹی وی، مبشر لقمان صاحب کی بے حد مشکور ہوں کہ ان کی وجہ سے مجھے یہ مقام حاصل ہوا۔ باغی ٹی وی کی بدولت ہی آج میں یہاں ہوں اور اس کامیاب کانفرنس کا حصہ بنی ہوں۔کانفرنس کے اختتام پر جب واپس جانے کا وقت آیا، تو دل میں بہت سی باتیں گئیں۔ میں سوچ رہی تھی کہ پتا نہیں وہاں دیگر خواتین کیسی ہوں گی، مگر جب وہاں پہنچ کر جو دل جیتنے والا استقبال ہوا، وہ ایک ایسا لمحہ تھا جسے میں زندگی بھر یاد رکھوں گی۔ اللہ تعالٰی اپووا کے تمام منتظمین کو ڈھیروں کامیابیاں عطا کرے۔

    آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی پانچویں سالانہ خواتین کانفرنس کے انعقاد پر تمام عہدے داران اور تمام خواتین کا تہہ دل سے شکریہ جنہوں نے اتنی محبت دی۔ اور جب ایوارڈ دینے کے لئے مجھے اسٹیج پر بلایا گیا اور کہا گیا کہ کہ میں مبشر لقمان کے چینل سے ہوں ، تو یہ میرے لیے فخر کا مقام تھا۔ میں ان سب خواتین،اپووا کے منتظمین کا دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے اس تقریب کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا قیمتی وقت دیا اور مجھے اتنی عزت دی۔یہ دن میری زندگی کا ایک یادگار دن بن چکا ہے، اور اس کانفرنس کی کامیابی کا کریڈٹ آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی ٹیم اور اس کے منتظمین کو جاتا ہے۔مبارکباد اور ڈھیروں دعائیں…..

  • کمالِ  فن ایوارڈ عارف افتخار کے نام.تحریر؛ شیخ فرید

    کمالِ فن ایوارڈ عارف افتخار کے نام.تحریر؛ شیخ فرید

    قومی ادبی ایوارڈز سے بلوچستان کے ادیبوں کو نوازا گیا
    کوئٹہ کےادبی منظر پر اداسی چھائی رہی
    وادیء شال کی بہار رْت اب کے آتے آتے گلوں کو اداس کر گئی ، بادام کے پیڑوں پر سفید کونپلوں اور سیب کی گلابی غنچوں نے بھی تاخیر کی ، اور ادبی منظر پر اداسی کے بادلوں نے اہلِ علم و ادب مضطراب رکھا ۔اتوار کو بزم صائم نے بہاریہ مشاعرے کرنا تھا جو نہ پایا ۔7اپریل کو بلوچستان رائٹرز گلڈ (برگ) نے ادبی کانفرنس اور آغاگل ایوارڈز کا اعلان کر رکھا تھا جو ملتوی کر دیا گیا ۔
    کوئٹہ کا زمینی رابطہ منقطعہ ہے ۔ کاروبار شیدید متاثر ہے ۔اور شہر کی فضا اداس ہے ۔ اسی اداسی میں اکادمی ادبیات پاکستان نے سال 2023ء کے کمالِ فن ادبی ایوارڈ کا اعلان کیا ۔تفصیلات کے مطابق اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ادباء وشعراء کے لیے پچاس لاکھ روپے سے زائد مالیت کے انعامات کا اعلان کیا گیا ۔
    اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ممتاز اہل قلم کی ادبی خدمات کے اعتراف میں کمال فن ایوارڈ2023 کے لیے معروف شاعر افتخار عارف کو منتخب کیا گیا ہے ۔اس کا اعلان ڈاکٹر نجیبہ عارف صدر نشین ، اکادمی ادبیات پاکستان نے ایوارڈ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کیا ۔
    ’’کمالِ فن ایوارڈ ‘‘ ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے ۔جس کی رقم دس لاکھ روپے ہے۔2023کے ’’کمال فن ایوارڈ ‘‘ کا فیصلہ پاکستان کے معتبر اور مستند اہل دانش پر مشتمل منصفین کے پینل نے کیا جس میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید ، جناب اصغر ندیم سید، پروین ملک، مدد علی سندھی ، انورسن رائے ، ڈاکٹر رؤف پاریکھ، ڈاکٹر اباسین یوسفزئی، نیلوفر اقبال، حسام حر، حفیظ خان ، ڈاکٹر محمد سفیراعوان ، ڈاکٹر واحد بخش بزدار، عبدالقیوم بیدار، ڈاکٹر ناصر عباس نیر ، اورڈاکٹر بصیرہ عنبرین شامل تھے۔اجلاس کی صدارت مدد علی سندھی نے کی ۔ ’’کمال فن ایوارڈ ‘‘ ہر سال کسی بھی ایک پاکستانی اہل قلم کوان کی زندگی بھر کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا جاتا ہے۔یہ ایوارڈ ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے ۔جس کا اجراء اکادمی ادبیات پاکستان نے 1997ء میں کیا تھا۔اب تک اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے احمد ندیم قاسمی ، انتظار حسین ،مشتاق احمد یوسفی، احمد فراز ،شوکت صدیقی، منیر نیازی ، ادا جعفری،سوبھو گیان چندانی ،ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، جمیل الدین عالی، محمد اجمل خان خٹک ، عبداللہ جان جمالدینی،محمدلطف اللہ خان ، بانو قدسیہ ، محمد ابراہیم جویو ، عبداللہ حسین ، افضل احسن رندھاوا ، فہمیدہ ریاض،کشور ناہید، امر جلیل ، ڈاکٹر جمیل جالبی، منیراحمد بادینی، اسد محمد خاں ، جناب ظفر اقبال اور جناب حسن منظر کو ’’کمال فن ایوارڈ ‘ دیے جا چکے ہیں ۔

    اس موقع پر’ ’قومی ادبی ایوارڈز‘‘ برائے سال2023ء کا بھی اعلان کیاگیا۔چیئرپرسن اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف نے پریس کانفرنس میں قومی ادبی ایوارڈز کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اردو نثر( تخلیقی ادب) کے لیے سعادت حسن منٹو ایوارڈ طاہر ہ اقبال کی کتاب ’’ ہڑپا ‘ (منصفین نیلوفراقبال ، ڈاکٹر معین نظامی اور ڈاکٹر ناصر عباس نیر ) ، اردو نثر (تحقیقی وتنقیدی ادب) کے لیے بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ ڈاکٹرامجد طفیل کی کتاب "ہمعصر اردو افسانہ ” اور فرخ یار کی کتاب ’’ عشق نامہ ‘‘(منصفین:ڈاکٹر رؤف پاریکھ، ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر اور ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی) ، اردو شاعری کے لیے ’’ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ‘‘ غلام حسین ساجد کی کتاب ’’تجاوز‘‘ (منصفین: نذیرقیصر ڈاکٹر وحید احمد اور ڈاکٹر سحر انصاری ) ، پنجابی شاعری کے لیے ’’سید وارث شاہ ایوارڈ‘‘ قابل جعفری کی کتاب ’’ اپار‘‘،پنجابی نثر کے لیے’’ افضل احسن رندھاوا ایوارڈ‘ ‘ نصیراحمد کی کتاب ’’ کیہ پاتر د ا جیونا ‘‘ (منصفین:پروین ملک ، (انجم سلیمی اورزبیراحمد ) ، سندھی شاعری کے لیے ’’شاہ عبدالطیف بھٹائی ایوارڈ ‘‘ابرار ابڑو کی کتاب ’’اکین کی پندھ کرنوآ‘‘، سندھی نثرکے لیے ’’مرزا قلیچ بیگ ایوارڈ‘‘ ڈاکٹر مشتاق باگانی کی کتاب ” ننگر ٹھٹے جو سماج ” (منصفین: مدد علی سندھی، شبنم گل اور ڈاکٹر شیرمہرانی) ، پشتو شاعری کے لیے ’’خوشحال خان خٹک ایوارڈ‘‘ م ۔ر شفق کی کتاب ” گل رنگ "،پشتو نثر کے لیے ’’ محمد اجمل خان خٹک ایوارڈ ‘‘ ڈاکٹر عبدالکریم بریالے کی کتاب ” درحمان بابا کلیاتو دمتن انتقادی ثیڑنہ ” (منصفین: ڈاکٹر اباسین یوسفزئی ، ڈاکٹر اسیر منگل اور نورالامین یوسفزئی) ، بلوچی شاعری کے لیے ” مست توکلی ایوارڈ” وہاب شوہاز کی کتاب ” چراگاں دم نہ برتگ” ، بلوچی نثر کے لیےسید ظہور شاہ ہاشمی ایوارڈ پروفیسر ڈاکٹر محمد یوسف کی کتاب ” بلوچی ءُ براہوئی زبانانی سیالی ” (منصفین:ڈاکٹر فضل خالق، ڈاکٹر زینت ثنا اورمحمد یوسف گچکی) ، سرائیکی شاعری کے لیے ’’خواجہ غلام فرید ایوارڈ‘‘عزیز شاہد کی کتا ب ’’چاک‘ ، سرائیکی نثر کے لیے”ڈاکٹر مہر عبدالحق ایوارڈ”رفعت عباس کی کتاب’’ نیلیاں سلہاں پچھوں ‘‘ (منصفین: رانا محبوب اختر، سلیم شہزاد، حبیب موہانہ) ، براہوئی شاعری کے لیے ’’تاج محمد تاجل ایوارڈ ‘‘بابل نور کی کتاب ’’ چنکس استار ” ، براہوئی نثر کے لیے ’’غلام نبی راہی ایوارڈ‘‘ عمران فریق کی کتاب ’’ ادبی تھیوری ؤ براہوئی ادب ‘‘ (منصفین: عبدالقیوم بیدار، افضل مراد، افضل مینگل ) ، ہندکو شاعری کے لیے ’’ سائیں احمد علی ایوارڈ ‘‘ڈاکٹر خاور چوہدری کی کتاب ’’ بجھنا ڈیوا ‘‘،ہندکو نثر کے لیےخاطر غزنوی ایوارڈ اختر نعیم کی کتاب ” قسطنطنیہ، انگورا ،سمرنا ” (منصفین:ناصر علی سید، محمد ضیاء الدین اور حسام حر ) ، انگریزی نثر کے لیے پطرس بخاری ایوارڈ ایم اطہر طاہر کی کتاب
    "Second Coming "، انگریزی شاعری کے لیے داؤد کمال ایوارڈ اعجاز رحیم کی کتاب “Beyond Dates and Pomegranates” منصفین: ڈاکٹرمحمد سفیراعوان، منیزہ شمسی اور حارث خلیق) اور ترجمے کے لیے ’’محمد حسن عسکری ایوارڈ‘‘شوکت نواز نیازی کی کتاب ’’ جلاوطنی اور سلطنت(آلبرٹ کامیو) ‘‘ کو دیا گیا(منصفین :ارشد وحید ، ڈاکٹر خالد اقبال یاسر اورڈاکٹر سید جعفر احمد) ۔قومی ادبی انعام حاصل کرنے والی ہر کتاب کے مصنف کو دودولاکھ روپے بطور انعامی رقم دیے جائیں گے۔
    اکادمی ادبیات پاکستان کا تقسیم ایوارڈ کی تقریب کا انعقاد کرنا یٰقیناً ایک مستحسن اور قابلِ ستائش اقدام ہے مگر کیا ہی اچھا ہو۔کہ قومی ادبی ایوارڈ کا دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے صوبائی سطح پر لایا جائے تاکہ ہر صوبہ اپنے طور پر مقامی اہلِ قلم کی نامزدگی ممکن ہو اور علاقائی علم و ادب کو فروغ ملے ۔
    بلوچستان رائٹرز گلڈ (برگ) نے اپنے ایک اعلامیہ میں چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف کو دلی طور پر مبارک باد پیش کی ہے ۔

  • ہندوتوا،آر ایس ایس کی دہشت گردی اور مودی کا کردار

    ہندوتوا،آر ایس ایس کی دہشت گردی اور مودی کا کردار

    ہندوتوا،آر ایس ایس کی دہشت گردی اور مودی کا کردار
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    بھارت میں نفرت کی آگ بھڑکانے والے واقعات اب کوئی نئی بات نہیں ہے، حال ہی میں یوگ گرو بابا رام دیو نے ایک بار پھر اپنی زہریلی زبان سے فرقہ واریت کو ہوا دی، جب انہوں نے مقبول شربت ‘روح افزا’ کا نام لیے بغیر اسے ‘شربت جہاد’ قرار دیا۔ ایک وائرل ویڈیو میں وہ یہ الزام لگاتے نظر آئے کہ ایک مشہور شربت کمپنی اپنا منافع مساجد اور مدارس کے لیے استعمال کرتی ہےاور لوگوں کو پتانجلی کا شربت خریدنے کی ترغیب دی جو مبینہ طور پر ‘حب الوطنی’ کے اداروں کو فائدہ دیتا ہے۔ پتانجلی کے فیس بک پیج پر اس ویڈیو کے ساتھ لگائی گئی کیپشن اور بھی شرمناک تھی، جس میں دیگر مشروبات کو ‘ٹوائلٹ کلینر’ اور ‘زہریلا’ کہہ کر لوگوں کو خوفزدہ کیا گیا۔ یہ صرف ایک شربت کی بات نہیں بلکہ ایک منظم مہم ہے جو مسلم شناخت سے جڑی ہر چیز کو شیطانی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف تمل ناڈو کےپرائیویٹ سکول کی ایک دلت طالبہ کو ماہواری کی وجہ سے امتحان ہال سے باہر زمین پر بٹھا کر پرچہ دینے پر مجبور کیا گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مقامی حکام نے تحقیقات کا آغاز تو کیالیکن یہ واقعہ بھارت میں ذات پات اور جنسی تعصب کی گہری جڑوں کو عیاں کرتا ہے۔ یہ دونوں واقعات ہندوتوا کے اس زہریلے ایجنڈے کی عکاسی کرتے ہیں جو نریندر مودی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی سرپرستی میں بھارت کے سماجی ڈھانچے کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

    جنوب مشرقی بھارت کی ریاستیں جن میں آسام، منی پور، ناگالینڈ، میزورم، میگھالیہ، تریپورہ اور اروناچل پردیش شامل ہیں جو اپنی قبائلی اور مذہبی تنوع کی وجہ سے منفرد ہیں اور ہندوتوا کے جارحانہ عزائم کا شکار ہیں۔ آسام میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) نے لاکھوں بنگالی نژاد مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو غیر ملکی قرار دے کر انہیں حراستی کیمپوں میں دھکیلا، جہاں غیر انسانی حالات ہیں۔ منی پور میں نسلی تشدد کو ہوا دی گئی، جہاں عیسائی قبائلیوں کے گاؤں نذر آتش کیے گئے اور انہیں بے گھر کیا گیا۔ مقامی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ہندوتوا کے گروہوں نے گرجا گھروں پر حملے کیے اور پادریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ تریپورہ میں بودھ اور عیسائی برادریوں کے مذہبی مقامات کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ بی جے پی کی ریاستی حکومتیں اس پر خاموش تماشائی بنی رہی ہیں۔ یہ سب ہندوتوا کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جو اقلیتوں کو کچل کر ایک ہندو راشٹر قائم کرنا چاہتی ہے۔

    مسلم ریاست جموں وکشمیر جو کئی دہائیوں سے بھارت کی بربریت کا شکار تو پہلے ہی ہے اور اب ہندوتوا کے تحت نئے مظالم سے دوچار ہے۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی نے وادی کو فوجی چھاؤنی میں بدل دیا۔ کشمیریوں سے بنیادی حقوق چھین لیے گئے، انٹرنیٹ بندشوں نے ان کی آواز دبا دی اور فوجی آپریشنز کے نام پر نوجوانوں کو گرفتار یا جھوٹے مقابلوں میں مارا جا رہا ہے۔ خواتین کے ساتھ بدسلوکی بڑھ رہی ہے اور آر ایس ایس کے کارکن زمینوں کی خریداری کے ذریعے آبادیاتی تبدیلی کی کوشش کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں کی واپسی کا بیانیہ فرقہ وارانہ تقسیم کو گہرا کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے جبکہ مقامی مسلمانوں کو مزید دبانا اصل ہدف ہے۔ یہ ایک ایسی دہشت گردی ہے جو کشمیری شناخت کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    سکھ مذہب کے پیروکار جو پنجاب کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ہندوتوا کے جبر کا شکار ہیں۔ 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے زخم ابھی تازہ ہیں لیکن بی جے پی نے کسان تحریک کے دوران سکھ کسانوں کو “خالصتانی” اور “دہشت گرد” قرار دے کر ان کے وقار کو مجروح کیا۔ دہلی کی سرحدوں پر احتجاجی کسانوں پر تشدد کیا گیا ان کے خیموں کو جلایا گیا اور انہیں سردی میں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا۔ آر ایس ایس سے وابستہ گروہوں نے گوردواروں کے آس پاس نفرت پھیلائی اور سکھ شناخت کو ہندو ثقافت میں ضم کرنے کی کوشش کی۔ سکھ کارکنوں کو سخت قوانین جیسے UAPA کے تحت جیلوں میں ڈالا جا رہا ہےجو ان کی سیاسی آواز کو کچلنے کی سازش ہے۔ یہ سب ہندوتوا کی اس دہشت گردی کا حصہ ہے جو سکھوں کی تاریخی جدوجہد کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔

    عیسائی برادری جو جنوبی اور شمال مشرقی ریاستوں میں نمایاں ہے وہ ہندوتوا کے تشدد سے بری طرح متاثر ہے۔ کرناٹک، کیرالہ، اور تمل ناڈو میں گرجا گھروں پر حملے بڑھ گئے ہیں۔ پادریوں کو مارا پیٹا جاتا ہےاور عیسائیوں کو “مذہبی تبدیلی” کے جھوٹے الزامات میں پھنسایا جاتا ہے۔ اڑیسہ میں 2008 کے عیسائی مخالف فسادات جن میں درجنوں گرجا گھر جلائے گئے اور ہزاروں بے گھر ہوئے، ہندوتوا کی دہشت گردی کی بدترین مثال ہیں۔ چھتیس گڑھ میں عیسائی قبائلیوں کے گاؤں تباہ کیے گئے اور بی جے پی کی ریاستی حکومتیں مذہبی تبدیلی کے سخت قوانین لا کر عیسائیوں کی آزادی سلب کر رہی ہیں۔ شمال مشرق میں جہاں عیسائی اکثریت میں ہیں وہاں ہندوتوا کے گماشتےمقامی ثقافت کو ہندو بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے نسلی تناؤ بڑھ رہا ہے۔ یہ سب ایک ایسی دہشت گردی ہے جو عیسائی شناخت کو مٹانے کے لیے جاری ہے۔

    دلت جو ہندو ذات پات کے نظام میں سب سے زیادہ محروم طبقہ ہیں جنہیں نیچ کہا جاتا ہے وہ ہندوتوا کے دوہرے جبر کا شکار ہیں۔ اتر پردیش، بہار، گجرات، اور مہاراشٹر میں دلتوں کو گئو رکشا کے نام پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ وہ مردہ جانوروں کی کھال اتارنے جیسے کام کرتے ہیں۔ گجرات کے اونا میں 2016 میں دلت نوجوانوں پر گئو رکشکوں کے حملوں نے قومی احتجاج کو جنم دیا، لیکن انصاف کسی کو نہ ملا۔ دلت خواتین جنسی تشدد کا شکار ہیں اور ان کے گھروں کو اعلیٰ ذات کے ہندوؤں نے جلایا۔ تمل ناڈو کا حالیہ واقعہ جہاں ایک دلت طالبہ کو ماہواری کی وجہ سے امتحان ہال سے باہر بٹھایا گیا اس بات کی گواہی ہے کہ ہندوتوا کی سرپرستی میں ذات پات کا تعصب کس قدر گہرا ہے۔ بی جے پی نے دلتوں کے لیے ریزرویشن اور فلاح و بہبود کے پروگراموں کو کمزور کیا جبکہ آر ایس ایس دلتوں کو ہندو راشٹر کے نام پر متحد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو ان کی تاریخی جدوجہد کے منافی ہے۔ دلت کارکنوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے، جیسے کہ بھیما کورے گاؤں کے واقعے میں جہاں ان کے پرامن اجتماع پر حملہ کیا گیا۔

    یہ سب ہندوتوا کی وہ دہشت گردی ہے جس کی سرپرستی مودی اور آر ایس ایس کر رہے ہیں۔ بابا رام دیو جیسے ہندوتوا کے پرچارک اس دہشت گردی کو ہوا دیتے ہیں، جو مسلم شناخت سے جڑی ہر چیز شہروں کے مسلم نام ہوں یاچاہے وہ شربت ہو یا کاروبار،اسے یہ شیطانی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مودی کی حکومت نے قانونی راستوں، جیسے CAA، وقف ترمیمی بل اور یکساں سول کوڈ کے ذریعے اقلیتوں کے حقوق کو کچلا۔ غیر قانونی طور پر بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد جیسے گروہوں کو کھلی چھوٹ دی گئی کہ وہ موب لنچنگ، تشدد اور نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے اکثریتی ثقافت مسلط کریں۔ مودی خود اپنی تقاریر میں اقلیتوں کے خلاف طنز و کنایوں کا سہارا لیتے ہیں جیسے کہ انتخابی جلسوں میں انہیں “گھس بیٹھیے” کہنا۔ آر ایس ایس جو ایک صدی سے ہندو راشٹر کے لیے کام کر رہی ہے اس دہشت گردی کی نظریاتی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس کے کارکن گلی محلے میں نفرت پھیلاتے ہیں جبکہ اس کی قیادت بی جے پی کو سیاسی طاقت دیتی ہے۔

    سوشل میڈیا اس دہشت گردی کا ایک بڑا ہتھیار بن چکا ہے۔کبھی لوجہاد،کبھی لینڈ جہادتو کبھی ریڑھی جہاد اور کورونا کے دوران مسلمانوں کو “کورونا جہاد” کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا جس سے ملک بھر میں تشدد بڑھا۔ سکھوں کو “خالصتانی” اور عیسائیوں کو “مذہبی تبدیلی کے ایجنٹ” کہہ کر ان کی جدوجہد کو بدنام کیا جاتا ہے۔ بی جے پی کی ریاستی حکومتیں ظلم کو فروغ دیتی ہیں جیسے کہ اتر پردیش میں مسلم گھروں کو بلڈوزر سے گرایا جانا یا دلتوں کے احتجاج کو کچلنا۔ مودی بظاہر اپنے آپ کو دنیا میں ایک اصلاح پسند اور روشن خیال رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ان کی پالیسیاں بھارت کو ایک ایسی ریاست بنا رہی ہیں جہاں جمہوریت اور انسانی حقوق محض خواب ہیں۔

    عالمی برادری کی خاموشی بھارت کی اس دہشت گردی کو مزید تقویت دے رہی ہے۔ بھارت کی معاشی طاقت اور چین کے مقابلے میں اس کی اسٹریٹجک اہمیت کے باعث مغرب دانستہ طور پر چشم پوشی کر رہا ہے۔ جبکہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ ہندوتوا کی یہ دہشت گردی نہ صرف اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے بلکہ خطے کے امن اور انسانیت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگر دنیا نے اب بھی توجہ نہ دی تو یہ مظالم ایک ایسی تباہی کو جنم دیں گے جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

  • زندگی، ایک مسلسل سیکھنے کا سفر،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی، ایک مسلسل سیکھنے کا سفر،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی ایک سفر ہے، اور اس سفر میں ہمیں کئی سوالات، کئی راستے، اور کئی چہرے ملتے ہیں۔ کچھ چہرے مسکراہٹوں کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں اور کچھ سوالات خاموشی کے پردوں میں دبے رہتے ہیں۔زندگی ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے۔ ہم میں سے ہر شخص زندگی میں ایک نہ ایک بار ایسے سوالات کے سامنے ضرور کھڑا ہوتا ہے جن کے جواب آسان نہیں ہوتے۔ اور جب ان کے جوابات ملتے ہیں، تو یا تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے یا ہم خود بدل چکے ہوتے ہیں۔

    کچھ سوالات سمجھنے میں بہت دیر لگی
    کون دشمن ہے، کسے دوست سمجھنا ہے یہاں
    ہم کو حالات سمجھنے میں بہت دیر لگی

    یہ اشعار سادہ الفاظ میں ایک پیچیدہ حقیقت کو بیان کرتے ہیں۔ شاعر کا یہ کرب صرف اس کا ذاتی دکھ نہیں بلکہ لاکھوں دلوں کی آواز ہے۔ ہر وہ شخص جو زندگی میں دھوکہ کھا چکا ہو، جو رشتوں کی پہچان میں غلطی کر چکا ہو، اس درد کو محسوس کر سکتا ہے۔یہ اشعار صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک پوری کہانی کا نچوڑ ہیں۔ ایک ایسی کہانی جس میں دھوکہ، بھروسہ، حقیقت اور فریب سب شامل ہیں۔زندگی ہمیں بچپن میں سیدھی لگتی ہے، لیکن جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے ہیں، سوالات پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں۔ ’’کیا یہ شخص میرا خیرخواہ ہے؟‘‘ ’’کیا جس پر بھروسہ کیا، وہی پیٹھ میں خنجر نہیں گھونپے گا؟‘‘انسانی فطرت بڑی پیچیدہ ہے۔ ہر شخص اپنی ذات کا ایک چہرہ دوسروں کو دکھاتا ہے، اور دوسرا چہرہ چھپائے رکھتا ہے۔ بسا اوقات دشمن وہ نہیں ہوتا جو سامنے آ کر مخالفت کرے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو ساتھ چلتا ہے، دعائیں دیتا ہے، مگر دل میں نفرت لیے ہوتا ہے۔ انسانی رشتے سب سے زیادہ دھوکہ دے سکتے ہیں۔ بسا اوقات جو مسکرا کر ملتا ہے، وہی اندر ہی اندر جلن ،حسد رکھتا ہے۔ اور جو سخت بولتا ہے، وہی اصل میں خیرخواہ ہوتا ہے۔

    انسان سیکھتا ہے، مگر سیکھنے کے لیے قیمت چکانی پڑتی ہے۔ کبھی عزت کی صورت میں، کبھی اعتماد کی، کبھی جذبات کی۔ حالات ہمیں گراتے ہیں، توڑتے ہیں، مگر پھر جوڑتے بھی ہیں۔ اور یہی زندگی ہے،جب ہم حالات سے سیکھتے ہیں، تو ہم صرف ہوشیار نہیں ہوتے، بلکہ حقیقت پسند بھی ہو جاتے ہیں۔ ہم جذباتی نہیں، عقلمند بن جاتے ہیں۔ اور اس سیکھنے کا لمحہ چاہے جتنا بھی تکلیف دہ ہو، ہماری شخصیت میں وہ پختگی لے آتا ہے جو برسوں کے مطالعے سے بھی نہیں آتی۔

    دوستی کی پہچان وقت کرتا ہے۔ وہ وقت جو کٹھن ہو، جو آزمائشوں سے بھرپور ہو۔ کیونکہ آسان وقت میں سب ساتھ ہوتے ہیں، مگر جب حالات خراب ہوں، تب ہی اصلی چہرے سامنے آتے ہیں۔کئی بار ہم خود کو صحیح سمجھتے ہیں، مگر حالات ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں، مگر اصل علم تب آتا ہے جب ہم آزمائش سے گزرتے ہیں۔یہ ایک احساس ہے، پچھتاوے کا، سبق کا، سچ کا۔ لیکن یہی دیر، ہمیں نیا انسان بناتی ہے۔ ہمیں اندر سے مضبوط کرتی ہے۔

    زندگی میں سیکھنا کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اور کبھی کبھی سیکھنے میں دیر ہو بھی جائے، تو کوئی بات نہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ ہم نے سیکھا۔ چاہے تکلیف کے ذریعے، چاہے دھوکہ کھا کر، چاہے تنہائی میں جا کر۔ مگر اس سب کے باوجود، سیکھنا، آگے بڑھنا اور خود کو بہتر بنانا ہی اصل کامیابی ہے۔

  • خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی بحالی ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کے نئے دور کا آغاز

    خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی بحالی ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کے نئے دور کا آغاز

    خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی بحالی ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کے نئے دور کا آغاز
    تحریر:سیدریاض جاذب
    ڈیرہ غازی خان: کووڈ 19 کی عالمی وبا اور بڑے سیلابوں کے باعث تقریباً تین سال سے معطل خوشحال خان خٹک ایکسپریس 25 اپریل کو دوبارہ اپنے سفر کا آغاز کرے گی، اس تناظر میں ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کی رونقیں بحال ہونے کی تیاریاں مکمل کی جارہی ہیں۔ تاہم ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کی انتظامیہ اور ملتان آفس کے بعض افسران ریلوے اسٹیشن کی بحالی اور تزئین و آرائش کے کام میں ڈنڈی مار رہے ہیں ۔ ان کے انتظامات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے دونوں ٹرینیں شاید مستقل نہیں عارضی آزمائشی سفر پر آرہی ہوں۔ ریلوے اسٹیشن کے معاملات پہلے ہی خراب ہیں ، کرپشن کی بازگشت ماضی میں بھی رہی اور اب بھی سنائی دے رہی ہے جس میں ریلوے کے اثاثوں میں گڑ بڑ اور دیگر فراڈ کی بھی کہانیاں زبان زدعام ہیں۔ بہرحال یہ ایک اور موضوع ہے اس پر بھی قلم اٹھائیں گے ابھی اس نئی ڈویلپمنٹ پر یہ تحریر نظر قارئین ہے
    خوشحال خان خٹک ٹرین پشاور سے کراچی تک کے طویل راستے میں واقع اس تاریخی اسٹیشن کو ملک کے بڑے معاشی مراکز سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    تاریخی اہمیت اور بحالی کے اقدامات
    1969 میں قائم ہونے والا ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن ماضی میں ملک کے چاروں صوبوں کو ملاتا تھا اور مسافروں کے ساتھ ساتھ مال بردار ٹرینوں کا مصروف جنکشن تھا۔ تاہم، گزشتہ برسوں میں ٹرین سروس کی مسلسل بندش نے اسے غیر فعال بنا دیا تھا۔ اب پاکستان ریلوے کے زیرِ اہتمام اسٹیشن کی بحالی کا کام شروع ہوچکا ہے، جس کے بعد یہ نہ صرف خوشحال خان خٹک ایکسپریس بلکہ لاہور سے آنے والی "موسیٰ پاک ڈیرہ غازی خان، ملتان شٹل ٹرین” (15 اپریل سے بحال) کا بھی مرکز بنے گا۔

    ماہرین کے مطابق ٹرین سروسز کی بحالی سے نہ صرف سفری سہولیات بہتر ہوں گی بلکہ خطے کی معیشت کو بھی جِلا ملے گی۔ خصوصاً کراچی کی بندرگاہ اور پشاور کے تجارتی مراکز سے رابطہ بڑھانے سے مقامی تجارت، روزگار اور کارگو کی نقل و حمل میں اضافے کی توقعات ہیں۔ ڈیرہ غازی خان کے تاجروں کا کہنا ہے کہ ریل کے ذریعے سامان کی ترسیل سستے اور محفوظ ہوگی، جس سے کاروباری لاگت کم ہوگی۔

    مستقبل کے منصوبے کا اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ "سنٹرل ڈویلپمنٹ زون” کی جانب حکومت کے "سٹرکچر پلان 2043” کے تحت ڈیرہ غازی خان کو "سنٹرل ڈویلپمنٹ زون” (CDC) قرار دیا جائے گا، جہاں ریلوے اسٹیشن نقل و حمل اور تجارتی سرگرمیوں کا اہم محور ہوگا۔ اس منصوبے کے ساتھ ہی چلتن ایکسپریس اور اباسین ایکسپریس جیسی سروس کی بحالی پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

    شہریوں نے ٹرین سروسز کی واپسی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف روزمرہ کے سفر کو آسان بنائے گا بلکہ تعلیم، صحت اور روزگار تک رسائی بھی بہتر ہوگی۔ ایک طالب علم زاہد علی نے کہا، لاہور اور کراچی جانے کے لیے اب ہمیں بس کے ساتھ ساتھ سفر ریلوے کی سہولت بھی میسر ہوگی۔

    15 اپریل موسیٰ پاک ٹرین کا آغاز اور 25 اپریل خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی بحالی تاریخی فیصلے ہیں۔

    ڈیرہ غازی تاریخی اسٹیشن ہے جس کا افتتاح 1969میں ہوا طویل غیر فعالیت کے بعد اس کی بحالی ایک بار پھر رابطے کا مرکز بنے گا ، تجارت، روزگار، اور کارگو میں اضافہ ہوگا۔ سب سے اہم بات یہ کہ مستقبل کے وژن کے طور پر یہ اور بھی زیادہ اہم ہے کہ ڈیرہ غازی خان کو ترقیاتی زون بنانے کی منصوبہ بندی کی جانب ایک قدم ہے ۔

    پاکستان ریلوے کے ترجمان کے مطابق "یہ اقدامات عوامی خدمت اور معاشی تعاون کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔” وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ یہ ٹرینوں کی بحالی خطے کی پرانی شان واپس لا پائے گی۔ خوشحال خان خٹک اور موسی پاک شٹل ملتان ٹو ڈیرہ غازی خان کی بحالی میں ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے ایم این اے وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور مقامی ایم پی اے محمد حنیف خان پتافی کی بھی بھرپور کوششیں شامل ہیں جوکہ ڈیرہ غازی خان کے ریلوے اسٹیشن کی بحالی کے لیے عوام کی آواز بنے ۔

  • تجاوزات کے خاتمے میں ناکامی کا ذمہ دار کون؟تحریر:ملک سلمان

    تجاوزات کے خاتمے میں ناکامی کا ذمہ دار کون؟تحریر:ملک سلمان

    ووٹ بینک خراب ہونے کے ڈر سے جتنی بھی حکومتیں آئیں کسی نے بھی تجاوزات کے خلاف ایکشن لینے کی زحمت نہیں کی جس کے نتیجے میں تجاوزات بلین ڈالرز کی اندسڑی بن گئی تھی اور یہی لگتا تھا کہ تجاوزات کا خاتمہ مشن امپاسبل ہوچکا، جتنے بھی حکمران آئے وہ تجاوزات کے اصل بینیفشریز پارلیمنٹیرین اور بیوروکریسی کے سامنے بے بس ہوکر ہار مان جاتے تھے۔ تجاوزات پورے پاکستان کا مسئلہ ہے لیکن سوائے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے کسی نے بھی تجاوزات کے خاتمے کیلئے کوشش نہیں کی تھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تجاوزات مافیا کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کا حکم دیا تو عارضی اور پختہ تجاوزات کو ہٹایا گیا، کئی ہزار ارب کے زمینیں واگزار ہوئیں۔ مختلف یونیورسٹیز میں ہونے والے سروے اور ریفرنڈم میں مریم نواز نوجوانوں کی مقبول ترین لیڈر بن کرسامنے آئی ہیں۔ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی تجاوزات اور لاقانونیت کے خلاف زیروٹالریشن اور نوجوانوں کے لیے تعلیمی وظائف ، خواتین کیلئے سکوٹی سمیت درجنوں منصوبوں کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور پڑھے لکھے طبقے کا اچھا خاصا ووٹ بینک ان کی طرف آیا ہے۔ تجاوزات کے خاتمے کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے سندھ اور بلوچستان کے وزراء اعلیٰ نے بھی تجاوزات کے خلاف کاروائی کا حکم دیا۔ تجاوزات کا خاتمہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جرات اور حب الوطنی کی پہچان بن چکا ہے۔سٹیٹ لینڈ کی حفاظت کا جو بیڑا مریم نواز نے اٹھایا ہے اس کیلئے پنجاب کا ہر فرد وزیراعلیٰ کے ساتھ ہے۔ انتظامی افسران نے خودساختہ فیصلے کے تحت رمضان اور ’’عید لگانے دو ‘‘ کے نام پر تجاوزات کے خلاف کاروائی روک دی جس کے نتیجے میں صورت حال ایک دفعہ پھر سے زیرو پر آچکی ہے۔ میڈم وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کو بلا تعطل جاری رہنا چاہئے اور ایسے افسران کا بھی احتساب ضروری ہے جو تجاوزات کے خاتمے میں تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے اس مافیا کا ساتھ دے رہے ہیں۔ تجاوزات قائم کرنے والوں کیلئے تو سزا ہے لیکن تجاوزات کو ہٹانے میں ناکام ہونے والے انتظامی افسران کیلئے بھی عہدوں سے معطلیاں اور نوکری سے برخاستگی کی کاروائی کیے بن یہ مشن ادھورا ہی رہ جائے گا۔ باعزت روزگار کیلئے حکومت پنجاب نے بہترین ریڑھی بازار قائم کیے ہیں۔ ان کے علاوہ تمام ریڑھیاں اور رکشے قبضے میں لے لینے چاہئیں۔ مریم نواز حکومت کو چاہئے کہ جدید پنجاب کو عملی شکل دینے کیلئے سختی اور آہنی ہاتھوں سے ہر طرح کی غیرقانونی پارکنگ اور تجاوزات کا خاتمہ کروائیں۔ چھوٹی بڑی شاہرائیں ریڑھی اور رکشہ شاپ بن چکی ہیں۔ تجاوزات کا سامان ہرگز واپس نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ ایسا ہوتا ہے کہ دن میں کریک ڈاؤن ہوتا ہے تو شام کو وہی تجاوزات واپس آجاتی ہیں۔ حکومت کو اپنی رٹ بحال کرنا ہوگی دکانداروں کو بتانا ہوگا کہ صرف دکان تمہاری ہے نہ کہ سامنے والا فٹ پاتھ اورسڑک۔ تجاوزات کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ صرف ایک دفعہ کے فوٹو سیشن تک محدود نہ رہا جائے بلکہ اس کا فالو اپ بھی لیں۔ فیصل آباد، ڈی جی خان، جہلم، مری، حافظ آباد، جھنگ اور ساہیوال کے اضلاع کے علاوہ کہیں بھی تجاوزات کے خلاف قابل ذکر کاروائی نہیں کی گئی۔ اس مشن کی کامیابی اور عوامی شکایات کیلئے وزیراعلیٰ پورٹل بنایا جائے جہاں تجاوزات کی نشان دہی کی ویڈیوز اور تصاویر بھیجی جاسکیں، وزیراعلیٰ آفس ہفتہ وار رپورٹ لے۔ ایڈیشل چیف سیکرٹری کی سپرویژن میں تجاوزات فری پنجاب کے نام سے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کا گروپ بنایا جائے تاکہ کام کرنے والوں کو شاباش اور نہ کرنے والوں کر شرم دلائی جاسکے۔ ہائی ویز اور جی ٹی روڈ پر ابھی تک تجاوزات کی بھرمار ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام اور حادثات معمول بن چکا ہے۔ سڑکوں اور سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے والی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف کاروائی بھی ناگزیر ہے ۔ سڑک سے تجاوزات ہٹانا صرف ڈی سی کا کام نہیں بلکہ ناجائز پارکنگ اور مختلف کاروباری بورڈ لگا کر سڑکوں اور گلیوں کو بند کرنے پر ٹریفک پولیس کو بھی کاروائی کرنی چاہئے۔ گھروں کے باہر سڑک کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی نرسریاں، ایکسٹرا ریمپ اور نوپارکنگ کے نام پر مین شاہراہ اور گلیوں بازاروں میں پتھر رکھ کر ڈیرے اور کاروباری بورڈ لگا کر سڑک پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کاروائی ہونی چاہئے۔ لاہور سمیت پنجاب میں سرکاری زمینوں پر بنائی گئی پختہ اور عارضی تجاوزات کا ماہانہ کرایہ لینے والے سنئیر افسران اور سیاستدان بہت ساری اہم جگہوں سے تجاوزات کے خاتمے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو چاہئے کہ ایک دفعہ پھر سے واضح احکامات جاری کیے جائیں کہ کسی بھی سیاسی اور انتظامی افسران کے پریشر کو خاطر میں لائے بن تجاوزات مافیا کا قلع قمع کیا جائے تاکہ تجاوزات مافیا کے زیر قبضہ چالیس ہزار ارب کی سرکاری زمینوں کو حکومت کی تحویل میں لیا جاسکے۔ لاہور کا ذکر کرنا اس لیے ضروری ہے کہ صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہئے لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے چیف ٹریفک آفیسر ، اسسٹنٹ کمشنرز، میونسپل کارپوریشن اور ایل ڈی اے نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔ تجاوزات کی کمائی کھانے کیلئے پنجاب کو لاقانونیت کی بدترین تصویر بنانے والے تجاوزات مافیا اور ان کو سپورٹ کرنے والے انتظامی افسران کو جیل بھیجا جائے تاکہ قانون کا ڈر اور سٹیٹ کی رٹ بحال ہو۔