Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عظیم الشان فتح، تحریر :ثناء صدیق

    عظیم الشان فتح، تحریر :ثناء صدیق

    عظیم الشان فتح
    ثناء صدیق

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحیح سلامت مدینہ میں تشریف لانے سے کفار مکہ اپنے آپ کو شکست خوردہ سمجھنے لگے ان کی تمام تر کوشش جوش وجذبہ ترجحات خواہشات مسلمانوں سے انتقام لینے کے لیے صرف ہونے لگی نبی مکرم اور ان کے ساتھوں کو ختم کرنے کا اہتمام قریش مکہ کے نزدیک سب سے اہم اور مقدم تھا اس طرح وہ لوگ اپنی مخالفتیں اور رقابتیں بھلا کر اپنی تمام طاقتیں اس کام کے لیے صرف کرنے پر آمادہ ہو گئے مکہ اور مدینہ کے درمیان تین سو میل کا فاصلہ تھا مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے جنگی تیاریوں کے ساتھ ساتھ راستے کے قبائلوں کو بھی ساتھ ملانا تھا یا کم از کم ان کو اپنا ہمدرد بنانا لازمی تھا اس آنے والے طوفان سے رسول پاک ایک دور اندیش اور ذی شعور سپہ سالار ہونے کے ناطے محسوس کر چکے تھے اللہ تعالی کیی طرف سے حفاظت خوداختیاری کی اجازت مل چکی تھی دین اسلام میں داخل ہونے والوں کی راہ سے رکاوٹیں اٹھانا بھی ضروری تھا مسلمانوں کی جمعیت مدینہ منورہ میں چار سو سے زیادہ نہ تھی سامان اور طاقت کے اعتبار سے مسلمان کمزور و ضعیف تھے کفار کا ظلم اور سازشیں ان کو بار بار تنگ کرتے مسلمانوں کی عربی حمیت و شجاعت جوش میں آتی مگر وہ اس کام کے لیے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت ضروری چاہتے تھے اب جب کہ اسلام کی صداقت اور ایمانی طاقت ثابت ہو گی اور مسلمانوں کے ساتھ ظلم و مصائب نے یہ ثبوت دیا کہ اسلام کے ساتھ محبت کسی خوف یا لالچ سے تعلق نہیں رکھتی تو اللہ کی طرف سے شریروں کو سزا دینے اور اپنی حفاظت آپ کرنے کی اجازت آ گی واقعات کے تسلسل سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی مکرم جنگ کو صلح اور انتقام کو درگزری پر ےترجیح دی مکہ کا ایک سردار کرز بن جابر نے ایخ جماعت کے ساتھ مدینہ کے ساتھ چراگاہ پر چھاپہ مارا اور مسلمانوں کے بہت سے اونٹ لے کر چلتے بنے مسلمانوں نے اس صورت حال میں مقام سفوان تک تعاقب کیا لیکن دشمن کے نکلنے کی وجہ سے مجبورا واپس لوٹ آئے یہ مکہ کی طرف سے صاف اور کھلی دھمکی تھی ادھر دوسری تدبیروں سے بھی وہ غافل نہ تھے ایک طرف کفار مکہ کا گٹھ جوڑ عبداللہ بن ابی منافق سے تھا دوسری طرف یہودی قبائل کے ساتھ خط و کتابت جاری رکھی اور مسلمانوں کے خلاف مخالفت پے آمادہ کیا اسی سال شعبان میں تحویل قبلہ کا حکم نازل ہو گیا اور چند ہی روز بعد رمضان کے روزے فرض ہو گئے شروع رمضان میں یہ خبر مدینہ پہچہی کہ مکہ کا ایک قافلہ شام آ رہا ہے مدینہ کے اطراف سے گزرے گا نبی مکرم مکہ والوں پر رعب طاری کرنے کے لیے اور کرز کے حملہ کا جواب دینے کے لیے انصار و مہاجرین کی جماعت لے کر مکہ والوں کا قافلہ روکیں تا کہ ان کو پتہ چلے مدینہ والوں سے بگاڑ ان کی تجارت کے لیے مضر ہے یہ جمعیت جنگ کے ارداے سے نہیں گئی تھی بلکہ اس کا مدعا تخویف و تادیب تھا جس کا نتجہ یہ ہوا مکہ والوں کا قافلہ مسلمانوں کی جمعیت سے با خبر ہو گیا امیر قافلہ ابو سفیان اپنے قافلے کو لے کر بچ نکلا اس نے صمصم بن عمرو غفاری کو اجرت دے کر مکہ کی طرف روانہ کیا مسلمانوں کے حملے سے ہماری مدد کرو اور اپنے اموال بچاو اس خبر کے ساتھ ہی ابو جہل مکہ سے ایک ہزار کی جرار فوج لے کر نکلا جس میں سات سو اونٹ اور تین سو گھوڑے تھے یہ لشکر ہر طرح کیل کانٹ سے لیس تھا اس کے سب سپاہی زرہ پوش تھے گانے والے اور رجز پڑھنے والے بھی ہمراء تھے عباس بن عبدالمطلب عتبہ بن ربعیہ امیہ بن خلف نضر بن حارث ابوجہل کل تیرہ آدمی کھانا کھلانے والے تھے ابو سفیان مکہ پہنچ گیا مسلمانوں کی جمعیت واپس مدینہ آ گی
    اس غزوہ کو غزوہ بدر اولی بھی کہتے ہیں (سیرت ابن ہشام ص 288)
    ابو سفیان نے ابو جہل کو خبر بھیجی ہم واپس خیرو عافیت سے آ گئے ہیں اب تم بھی واپس ا جاو لیکن ابو جہل اپنے لشکر کے غرور میم مصر رہا ابوجہل صرف قافلہ بچانے نہیں نکلا تھا بلکہ ابن حضرمی قریش کا حلیف مسلمانوں کے ہاتھوں جن کو نبی مکرم نے رجب میں بطن نخلہ کی طرف حالات معلوم کرنے بھیجا تھا مارا گیا ابو جہل نے ابن حضرمی کے قتل کا بہانہ جنگ کی مکمل تیاری کر لی تھی اور مدینہ پر روانہ ہونے والا تھا ضمضم قافلہ والوں کی طرف سے ستمداد کے لیے پہنچا اور ابو جہل جو پہلے ہی تیار تھا وہ روانہ ہو گیا نبی مکرم کو معلوم ہوا اور ساتھہ یہ بھی پتہ چلا کہ ابوجہل عتبہ شبیہ ولید حنظلہ عبیدہ عاصی حرث طعیمہ زمعہ عقیل ابو الختجرہ مسعود منبہ نوفل سائب رفاعہ وغیرہ تمام بڑے سرادار اس لشکر میں موجود ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر سن کر ایک مجلس مشاورت کی اور اصحاب کی رائے پوچھی اول سیدنا ابوبکر عمر فاروق سیدنا مقداد رضی اللہ عنھم نے بہادری کے کلمات کہے اور کہا ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں ہیں جنہوں نے سیدنا موسی علیہ اسلام سے کہا تھا کہ (فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون مائدہ) تو اور تیرا رب لڑے ہم تو یہیں بیٹھے تماشا دیکھں گئے
    اس کے بعد آپ نے فرمایاکہ لوگوں! ان کفار سے لڑائی کے بارے میں تمہارا کیا مشورہ ہے اسے دوبارہ فرمانے سے اپ کی مرضی یہ تھی کہ انصار کی رائے معلوم کی جائے کونکہ مزکورہ اصحاب مہاجرین میں سے تھے اور انصار سے جس بات پر بیعت کی گی تھی وہ مدینہ پر حملہ آور کو روکنے کی تھی مدینہ سے باہر نکل کر لڑنے کی نہیں تھی انصار فورا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سمجھ گے اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ ہماری جانب ہے آپ نے فرمایا ہاں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم آپ پر ایمان لائے آپ کو اللہ کا رسول یقین کرتے ہے اور یہ کیسے ممکن ہے اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم مقابلہ کرے اور ہم بیٹھے رہے ہم کفار سے کیا ڈرے گے یہ ہماری جیسے آدمی ہیں ہم حکم دین ہم سمندر میں کود پرو ہم بلادریغ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تکمیل کریں گے آپ صلی اللہ نے اصحاب سے مطمئن ہو کر روانگی کا اردہ فرمایا جنگ میں لڑنے کے لیے کل تین سو دس یا بارہ یا تیرہ آدمی تھے شہر سے باہر آپ نے اسلامی لشکر کی خبر لی ان تین سو تیرہ میں بعض چھوٹی عمر کے لڑکے تھے جو جنگ کے قابل نہیں تھے آپ نے ان واپس جانے کا حکم دیا بعض نے منت کرتے ہوئے جنگ میں جانے کی اجازت حاصل کر لی اسلامی لشکر کے سازوسامان کی یہ حالت تھی صرف دو گھوڑے تھے جن سیدنا زبیر اور مقداد رضی اللہ عنھم سوار تھے سترہ اونٹ تھے ایک ایک اونٹ پر تین تین چار چار آدمی سوار تھے نبی پاک جس اونٹ پر سوار تھے اس پر تین شخص اور سوار تھے بعض لوگ پیدل ہی چل رہے تھے یہ اسلامی لشکر بدر پہنچا تو کفار خو بلند زمین پر خیمہ زن پایا مسلمانوں نشیبی اور ریتلی زمین پر خمیہ زن ہونا پڑا مگر بدر کے چشموں پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا نبی مکرم نے مسلمانوں کو پانی کفار کے لیے روکنے سے منع فرمایا اصحاب نے آپ کو ایک چھوٹی سی جھونپڑی تیار کر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں رہتے اور دعا مانگتے مسلمان کفار کے مقابلے میں عشرعشیر بھی نہ تھے جب مسلمان جا کر خمیہ زن ہو گئے کفار نے عمیر بن وہب جمحی کو راغ رساں بنا کر بھیجا اور اس نے اطلاع دی کہ مسلمانوں کی تعداد تین سو دس سے زیادہ نہیں اور ان میں صرف دو سوار ہیں کفار کے غرور کا اندازہ اس بات سے لگائے عتبہ بن ربیعہ نے جب یہ قلت سنی تو کہا ان تھوڑے سے آدمیوں سے لڑنے کی ضرورت نہیں ہے ہماری تعداد زیادہ ہمیں واپس جانا چاہے لیکن ابو جہل نے کہا سب کا خاتمہ ہی کر دینا چاہے
    باالااخر سترہ رمضاندو ہجری میدان جنگ گرم ہوا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جھونپڑی میں گئے دعا کی اور عرض کی
    اللھم ان تھلک ھذہ العصابتہ من اھل الایمان الیوم فلا تعبد فی الارض ابدا
    پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر یکایک تھوڑی دیر کے لیے غنودگی طاری ہو گی اس کے بعد آپ مسکراتے ہوئے باہر نکلے اور فرمایا کفار کی فوج کو شکست ہو گی اور وہ بھاگ جائیں گئے (سیھزم الجمع ویولون الدبر القمر)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا جنگ میں ابتدا نہ کرنا مسلمانوں اسی سے دوتین زیادہ مہاجر تھے باقی انصار تھے انصار میں 61 قبیلہ اوس سترہ خزرج کے لوگ تھے طرفین سے صفوف جنگ سے اراستہ ہوئیں رسول پاک ہاتھہ میں ایک تیر تھا اس کے اشارے سے تسویہ تصوف فرماتے تھے اس کے بعد کفر کے لشکر سے عتبہ شعیبہ ولید نکل کر میدان میں آ گئے اور جنگ کے لیے للکارا انصار میں سے عوف معوذ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنھم نکلے عتبہ نے کیا من انتم انہوں نے کیا رھط من انصار عتبہ نے نہایت متکبر سے کہا مالنا بکم حاجتہ پھر چلا کر کیا محمد اخرج الینا اکفاء نامن قومنا یہ سن کر عتبہ کے مقابلے میں سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ شبیہ کے مقابلے میں عبیدہ بن الحرث رضی اللہ عنہ اور عتبہ کے بیٹے ولید کے مقابلے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ صحابی مقابلے میں مقابلہ شروع ہوا باپ اور بیٹا ایک ہی وار میں قتل ہو گئے
    شبیہ نے سیدنا عبیدہ کو زخمی کر دیا ضرب کاری لگی یہ دیکھ کر سیدنا حمزہ اور علی نے شبیہ کو قتل کر دیا سیدنا عبیدہ کو اٹھا کر نبی مکرم کی خدمت میں لائے بعض کفار کی صفیں حملہ آور ہوئی مسلمان جوان مردی سے کڑے نتجہ یہ ہوا کفار اپنے ستر بہادر قتل اور ستر کو اسیر بنا کر بھاگ کھڑے ہوئے جنگ مطلوبہ شروع ہونے کے بعد نبی مکرم ایک سائیبان کے نیچے کھڑے جنگ کا نظارہ دیکھ رہے تھے مجاہدین کو ہدایات دے رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا بنو ہاشم جنگ مین اپنی خوشی سے نہیں ائے بلکہ مجورا لائے گئے ہیں ان کے ساتھ رعایت کرنی ہے اور عباس بن عبدالمطلب کو قتل نہیں کرنا چاہے اور اسی طرح ابو الختجری کے ساتھ درگزر کا حکم دیا مجزر بن زیاد رضی اللہ عنہ کا مقابلہ ابو الختجری کے ساتھ ہوا اپ نے کہا ہم کو حکم ہے تم سے نہ لڑے لہذا ہمارے راستے سے ہٹ جاو ابو الخجری اپنی ایک ساتھی کو بچانا چاہتے تھے جن کو مجذر قتل کرنا چاہتے تھے لیذا ابو الخجری مقتول ہوا امیہ بن خلف اور اس کا بیٹا علی بن امیہ دونوں اپنی جان بچانے کے لیے پھر رہے تھے امیہ اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان زمانہ جاہلیت کی دوستی تھی عبدالرحمن نے سن کو دیکھہ کر ہاتھ پکڑ کر چلے چلے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے دیکھس تو آواز لگائی اور چند انصار کو اپنی طرف متوجہ کیا حضرت عبدالرحمن نے ان کو بچانا چاہا مگر حضرت بلال نے ایک نہ سنی دونوں کو قتل کر دیا ایک صحابی عمیر بن الحمام رضی اللہ عنہ نبی مکرم کے پاس کجھورے کھاتے ہوئے آئے اور پوچھا میں کفار سے لڑتا مارا جاوں تو جنت میں چلا جاوں گا تو آپ نے فرمایا ہاں وہ اسی وقت بقیہ کجھورے پھنک کر تلوار لیتے ہوئے کفار کو جا پڑے اور لڑتے ہوئے شہید ہو گئے جب یہ لڑائی جاری تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر خاک لی اور دشمن پر پھنک دی اسی وقت لشکر کفر نے بھاگنا شروع کر دیا اتفاقا ایک انصاری نو عمر لڑکے سیدنا معاذ بن عمرو کا کا مقابلہ اتفاقا ابو جہل سے ہو گیا جو زرہ وغیرہ پہنے ہوئے تھا سیدنا معاذ نے موقع پا کر اس کے پاوں رزہ سے خالی دیکھ کر وار کیا اس کا پاوں کٹ کر الگ جا پڑا ابو جہل کے بیٹے عکرمہ نے یہ دیکھا تو سیدنا معاذ پو وار کیا سیدنا معاذ کا بایاں ہاتھ مونڈھے سے کٹ گیا اپ اسی طرح لڑتے رہے جب تنگ کرنا شروع کیا تو جھٹکا لگا الگ کر دیا اس کے بعد انصار کے دوسرے نو عمر معوذ بن عفراء ابو جہل کے قریب پہنچا اور تلوار کی ایسی ضرب لگائی نیم بسمل ہو گیا جن کفار نے میدان خالی چھوڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ابو جہل کی تحقیق کرو سیدنا عبداللہ بن مسعود نے نیم مردہ حالت میں پایا اور اس کے سینے پر چڑھ بیٹھے اور کہا اللہ نے دشمن اللہ نے کیسا ذلیل کیا ہے ابو جہل نے جنگ کا نتجہ پوچھا کہا فتح مسلمانوں کی ہے یہ کہ کر سیدنا عبداللہ بن مسعود اس کا سر کاٹنے لگے تو کہتا ہے میرا سر گردن اور مونڈے سے ملا کر کاٹنا تاکہ پتہ چلے سردار کا سر ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود نے ابوجہل کا سر نبی پاک کے قدم مبارک میں رکھا آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اس لڑائی میں چودہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم شہید ہوئے چھ مہاجرین اور آٹھ انصار تھے
    اللہ اللہ اس زوق وشوق جہاد کے کہا کہنے جب تک مسلمانوں میں ایسا جذبہ ایمان رہا وہ کفار پر غالب رہے اور جب ان کے ایمان میں کمزوری آئی تو پھر مسلمان مغلوب ہو گئے
    رسول پاک نے مال غنیمت ایک جگہ جمع کر کے عبداللہ بن کعب جو بنو نجار سے تھے ان کے سپرد کیا عبداللہ بن رواحہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنھم کو مدینہ کے بالائی بستیوں میں فتح کا سنانے بھیجا سیدنا اسامہ بن زید جو بنی پاک کے مدینہ میں نائب تھے فرماتے ہیں ہمیں فتح کی خوشخبری اس وقت پہنچی جب ہم سیدنا رقیہ رضی اللہ عنہ کو دفن کر رہے تھے یہ خبر مدیبہ میں 18 رمضان کو پہچی یہان کے بعد مقام عرق الظبیہ پہنچے یہاں عقبہ بن ابی معیط کی گردن مارنے کا حکم ہوا جو نبی مکرم کے سخت دشمن اور ابوجہل کا ہمسر تھا نضر بن حارث کو سیدنا علی اور عقبہ کو سیدنا عاصم بن ثابت انصاری نے قتل کیا اس کے بعد رسول اللہ صلی علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنھم خے ساتھ تیز رفتاری سے روانہ ہوئے اسیران اور ان کے محافظ دستے کو پیچھے چھوڑ کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اس کے ایک دن بعد قیدی بھی مدینہ پہنچ گئے
    ابو جہل کو جب معلوم ہوا مجھے دو نوجوانوں معاذ اور معوذ نے مارا ہے اس وقت وہ قریب الموت تھا اس نے افسوس کیا کہ کاش مجھے ایک کسان کے سوا کسی اور نے مارا ہوتا (صحیح بخار کتاب المغازی حدیث 4020)
    صحابہ اکرام کے کیا کہنے ان کے مثالی ایمان اور ان کی دینی غیرت اور بے بہا ایمان دیکھ کر قرآن نے یوں گواہی دی
    اشداء علی الکفار رحماء بینھم
    اور ڈاکڑاقبال نے کیا خوب کہا
    ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
    رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

  • فری فال کی تیز ترین رفتار کا قرآن میں بیان  تحریر: بقلم سلطان سکندر!!!

    فری فال کی تیز ترین رفتار کا قرآن میں بیان تحریر: بقلم سلطان سکندر!!!

    Terminal Velocity in Quran
    فری فال کی تیز ترین رفتار کا قرآن میں بیان

    فری فالنگ کے دوران، گرنے کے کچھ ہی سیکنڈز بعد ٹرمینل ویلاسٹی شروع ہوجاتی ہے۔

    "ٹرمینل ویلاسٹی ہوا کی مزاحمت پہ منحصر ہوتی ہے, مثال کے طور پر ایک سکائی ڈائیور جو پیٹ کے بل فری فالنگ کرتا ہے یعنی اسکا منہ زمین کی طرف ہوتا ہے، اسکی ٹرمینل سپیڈ 195 km/h ہوتی ہے۔ یہ رفتار آخری حد کے قریب ترین ہوتی ہے، جیسے جیسے ٹرمینل ویلاسٹی بڑھتی جاتی ہے جسم پہ کام کرنے والی قوتیں جسم کے توازن کو برقرار رکھتی ہیں۔
    مثال کے طور پر، فری فالنگ کے 3 سیکنڈر بعد ہی ٹرمینل ویلاسٹی 50 فیصد تک پہنچ جاتی ہے، 8 سیکنڈز بعد ٹرمینل ویلاسٹی 90 فیصد تک پہنچ جاتی ہے اور 15 سیکنڈز بعد یہ 99 فیصد تک پہنچ جاتی ہے اور اسی طرح بڑھتی جاتی ہے۔”
    Reference:- Wikipedia, Terminal Velocity, 2019.


    سکائی ڈائیور بہت ہی تیز ٹرمینل ویلاسٹی کے ساتھ فری فالنگ کرتا ہے جبکہ کچھ پرندے آسانی سے کسی بھی سکائی ڈائیور سے تیز ٹرمینل ویلاسٹی سے اڑتے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں سب سے تیز پرندہ "پیریگن فیلکن” ہے جسکی رفتار 390 km/h ہے جبکہ ایک سکائی ڈائیور کی زیادہ سے زیادہ رفتار 195 km/h ہوتی ہے۔
    دنیا کے تیز ترین پرندوں کے نام اور انکی رفتار مندرجہ ذیل(کمنٹ میں) بیان کی گئی ہے۔

    پیریگن فیلکن 390 km/h کی ٹرمینل ویلاسٹی سے پرواز کرتا ہے جبکہ دوسرا پرندہ جسکا نام گولڈن ایگل ہے وہ 240 سے 320 km/h کی ٹرمینل ویلاسٹی سے پرواز کرتا ہے۔ اسی طرح یہ دو پرندے آسانی سے کسی بھی سکائی ڈائیور کو فری فالنگ کے دوران جا پکڑ سکتے ہیں۔ اور تو اور یہ پرندے ریپٹرز بھی ہیں، (ریپٹرز ان پرندوں کو کہا جاتا ہے جو گوشت والی جنس کا شکار کرتے اور انکا گوشت کھاتے ہیں)۔ یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ 1400 سال پہلے قرآن میں اسے اس طرح بیان کیا گیا ہے،
    Quran 22:31
    حُنَفَآءَ لِلّـٰهِ غَيْـرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْـرُ اَوْ تَهْوِىْ بِهِ الرِّيْحُ فِىْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (الحج 31)

    "خاص اللہ کے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔”

    "پرندے اس انسان کو اچک(پکڑ) لیتے ہیں” یہ پرندے انسانوں پہ حملہ کر سکتے ہیں یعنی یہ گوشت کھانے والے ریپٹرز ہیں، لیکن انسان کو ہوا میں ہی پکڑنے کیلئے انہیں ایک سکائی ڈائیور سے تیز اڑان بھرنی پڑے گی اور آج ہم جانتے ہیں کہ ریپٹرز پرندے ایک سکائی ڈائیور سے تیز ہوا میں اڑان رکھتے ہیں۔

    لیکن 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ ریپٹرز (گوشت کھانے والے پرندے) ایک سکائی ڈائیور سے اتنی تیز اڑان رکھتے ہیں کہ وہ انسان کو ہوا میں ہی پکڑ کر شکار کر سکتے ہیں۔؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • سلسلہ امہات المؤمنین: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہُ عنھا۔ تحریر:جویریہ بتول

    سلسلہ امہات المؤمنین: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہُ عنھا۔ تحریر:جویریہ بتول

    سلسلہ امہات المؤمنین:
    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہُ عنھا۔
    (تحریر:جویریہ بتول)۔

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہُ عنھا کےلقب صدیقہ اور حمیرا تھے۔
    آپ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔۔۔
    اور حضرت عائشہ اس خوش نصیب گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں کہ جس گھر پر سب سے پہلے اسلام کی نورانی و ٹھنڈی کرنیں پڑی تھیں۔۔۔
    یوں حضرت عائشہ وہ ہیں جن کا شروع سے ہی کبھی کفر وشرک کے ماحول سے واسطہ نہیں رہا۔۔۔
    آپ کے والد گرامی کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے مثال محبت اوراسلام کے لیئے جذبۂ قربانی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔۔۔۔جنہوں نے ہر کڑے موقع پر رسول اللہ کا ساتھ دیا،
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے کسی کے مال سے اتنا فائدہ نہیں ہوا،جتنا ابو بکر کے مال سے ہوا(رضی اللہ عنہ)۔
    سب سے پہلے اسلام قبول کر کے اپنا سارا مال اللّٰہ کی راہ میں دے دینے والے صحابئ رسول پر اللہ تعالی کی بے شمار رحمتیں ہوں آمین۔
    حضرت عائشہ رسول اللہ کی وہ واحد بیوی ہیں جو کنواری تھیں۔
    آپ کو کئی ایک اعزازات حاصل ہیں جن کا آگے چل کر ذکر آئے گا ان شآ ء اللہ۔
    حضرت عائشہ کا نکاح بہت کم عمری میں رسول اللہ سے ہوا تھا،جبکہ ان کی عمر چھ،سات برس تھی۔۔۔
    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تیرہ نبوی میں اپنے یارِ غار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے لگے تو حضرت ابو بکر کے اہل خانہ مکہ میں کفار مکہ کے نرغے میں ہی تھے۔۔۔
    غرض جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق اللہ کے حکم سے ہجرت کرکے مدینہ آن پہنچے اور آہستہ آہستہ معاملات سنبھل گئے تو آپ نے ام رومان، عائشہ و اسماء رضی اللّٰہُ عنھن کو مدینہ بلا لیا۔۔۔
    مدینہ کی آب و ہوا سے بہت سے لوگ بیمار ہو گئے اور حضرت عائشہ بھی بیمار ہو گئیں۔۔۔
    نو سال کی عمر میں آپ کی رخصتی ہوئی اور یہ تقریب انتہائی سادہ و ایمان افروز تھی۔۔۔
    حضرت عائشہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھیں،آپ کی والدہ نے آپ کو اپنے پاس بلایا اور چہرہ دھویا۔۔۔
    انصاری عورتوں نے آپ کو تیار کیا اور ام رومان آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں چھوڑ آئیں۔۔۔
    جہانوں کے لیئے رحمت بن کر آنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی شادی کی محفل کتنی سادہ تھی کہ جس میں کوئی کھانا نہیں بنایا گیا تھا۔۔۔
    آج ہم مسلمان ہو کر بھی شادی بیاہ کی تقریبات پر اپنے مال کا بے دریغ ضیاع کرتے ہیں اور حدوں کو توڑ توڑ جاتے ہیں۔۔۔۔
    اللہ ہمارے احوال کی اصلاح فرما دے۔۔۔ !!!!
    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    "ایک بار جبریل سبز ریشم میں لپٹی ہوئی کوئی چیز لائے اور فرمایا کہ یہ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہیں،میں نے دیکھا تو وہ عائشہ تھی۔”
    (ترمذی)۔
    آپ رسول اللہ کی چہیتی زوجہ تھیں۔۔۔
    حضرت عائشہ کی سہیلیاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آ کر گڑیوں سے کھیلا کرتی تھیں،جب رسول اللہ تشریف لاتے تو چھپ جاتیں،
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تلاش کرکے حضرت عائشہ کے پاس بھیجا کرتے تاکہ وہ عائشہ کے ساتھ کھیل سکیں۔۔۔”(رواہ البخاری:کتاب الادب)۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے نکاح سے جاہلیت کی تین رسوم کا خاتمہ ہوا۔۔۔۔
    آپ کا نکاح و رخصتی شوال میں ہوا،
    جبکہ اسے ٹھیک نہیں سمجھا جاتا تھا۔

    منہ بولے بھائی کی بیٹی سے نکاح نہیں ہوسکتا ہے۔۔۔
    اس نکاح سے اس جاہلانہ رسم کا بھی خاتمہ ہوا۔

    دلہن کے آگے آگ جلانے کی رسم ختم ہوئیں۔۔۔۔
    حضرت عائشہ علم و فضیلت میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہیں۔۔۔
    آپ کا اہم ترین کردار علمی خدمات ہیں۔۔۔۔
    آپ محدثہ تھیں۔۔۔عورتوں میں سب سے زیادہ یعنی(2210) احادیث آپ نے روایت کی ہیں۔۔۔
    اور بہت زیادہ علم آپ کم عمری میں سیکھ چکی تھیں…!!!
    سلسلہ امہات المؤمنین:

    سلسلہ امہات المؤمنین:
    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا۔
    (تحریر:جویریہ بتول)۔

    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے بہت زیادہ محبت تھی۔۔۔
    حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ ایک غزوہ سے واپس آئے۔۔۔میرے گھر کے طاق پر پردہ پڑا ہوا تھا،
    ہوا سے پردے کا کونہ اڑا تو میری گڑیاں نظر آنے لگیں۔۔۔
    رسول اللہ نے پوچھا یہ کیا ہیں۔۔۔میں نے کہا میری گڑیاں ہیں۔۔۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ان گڑیوں میں ایک گھوڑا بھی ہے،جس کے اوپر دو پر تھے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہیں ؟
    میں نے کہا دو پر ہیں۔۔۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا گھوڑوں کے بھی پر ہوتے ہیں؟؟
    میں نے کہا:
    آپ نے سنا نہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پروں والے گھوڑے تھے؟
    یہ سن کر رسول اللہ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں دکھائی دینے لگیں۔۔۔
    (رواہ ابو داؤد۔۔۔کتاب الادب)۔
    کیوں کہ حضرت عائشہ بہت ذہین،حاضر دماغ اور فصیح اللسان تھیں۔۔۔
    تو فوراً یہ جواب دیا تھا۔۔۔
    ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ ایک سفر میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی
    میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ کا مقابلہ کیا اور آگے نکل گئی۔۔۔
    پھر جب میرا جسم بھاری ہو گیا تو ایک بار پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دوڑ کا مقابلہ کیا،
    اب کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مجھ سے آگے نکل گئے۔
    اس پر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    یہ اُس جیت کا بدلہ ہے۔۔۔ !!!
    (رواہ ابو داؤد_کتاب الجہاد)۔
    حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں پانی پیتی پھر یہی برتن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیتی،آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اسی جگہ منہ رکھ کر جہاں سے میں نے پانی پیا ہوتا تھا،پانی پیتے،
    میں اپنے دانتوں سے ہڈی سے گوشت الگ کرتی،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی،آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اسی جگہ سے کھاتے۔۔۔”
    (رواہ مسلم)۔

    حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا
    میں جان لیتا ہوں جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور جب مجھ سے ناراض ہوتی ہو۔۔۔
    میں نے پوچھا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیسے جان لیتے ہیں؟
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو۔۔۔نہیں محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے رب کی قسم
    اور جب مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو۔۔۔نہیں ابراھیم کے رب کی قسم۔۔۔
    حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا بے شک آپ سچ کہتے ہیں
    اللّٰہ کی قسم!
    اے اللہ کے رسول۔۔۔
    غصے میں صرف آپ کا نام زبان سے نہیں لیتی۔۔۔۔(رواہ البخاری)۔
    ان واقعات میں میاں بیوی کے لیئے بہت سے اسباق ہیں۔۔۔
    پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے بیویوں کے مقام اور ان سے حسنِ سلوک اور عزت افزائی کرنا سکھائی۔۔۔ہمارے معاشرے میں آج بھی کئی شوہر بیویوں کے حوالے سے عجیب وغریب سوچیں رکھتے ہیں جن کی اصلاح کی ضرورت ہے۔۔۔
    حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ بقیع سے لوٹے میرے سر میں درد تھا اور کہہ رہی تھی ہائے میرا سر۔۔۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔بلکہ میں۔۔۔اے عائشہ ہائے میرا سر۔۔۔!!!
    (رواہ ابن ماجہ)۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے بے حد محبت تھی۔۔۔۔آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں زیادہ دن حضرت عائشہ کے حجرے میں گزارے اور جب نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر حضرت عائشہ کی گود میں تھا۔۔۔۔ !!!
    اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے حجرے میں ہی دفن ہوئے(صلی اللّٰہ علیہ وسلم)۔
    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    مردوں میں سے تو بہت کامل گزرے ہیں مگر عورتوں میں مریم بنت عمران اور آسیہ (علیھما السلام)۔۔۔۔اور عائشہ کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسے ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر ہے۔۔۔ !!!”
    (صحیح بخاری)۔
    (رضی اللّٰہُ عنھا)۔
    اللّٰہ تعالی ہم سب کو ان تعلیمات سے خود کو منور کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین۔۔۔ !!!!
    حضرت عائشہ رضی اللّٰہُ عنھا فقیہہ،قرآن و احادیث، عرب تاریخ،علم النسب اور علمِ وراثت کی ماہرتھیں۔ آپ عرب شاعری پر بھی عبور رکھتی تھیں۔۔۔
    آپ رضی اللّٰہُ عنھا کا نام بے تکلف مجتہدین صحابہ کرام کے ساتھ آتا ہے۔
    اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ آپ سے مسائل کا حل پوچھتے اور آپ دورِ خلافت ابو بکر صدیق،عمر اور عثمان رضی اللہ عنھم میں فتویٰ بھی دیا کرتی تھیں۔۔۔۔رویت باری،علمِ غیب،واقعہ معراج،عصمت انبیاء کی وضاحت میں آپ کی دقتِ نظر کا پلہ بلاشبہ بھاری نظر آتا ہے۔۔۔ !!!
    غزوہ بنی مصطلق 5ھ میں پیش آیا،اماں عائشہ صدیقہ بھی اس سفر میں رسول اللہ کے ساتھ تھیں،
    راستے میں آپ کا ہار گم ہو گیا،
    جس کی وجہ سے قافلہ کو رکنا پڑا،
    نماز کا وقت آن پہنچا اور پانی بھی موجود نہیں تھا،
    صحابہ کرام پریشان ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تیمم کا حکم نازل ہو گیا۔۔۔
    صحابہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بے ساختہ پکار اٹھے:
    اے آل ابو بکر !
    تم سرمایۂ برکت ہو۔۔۔۔
    تم پر جب بھی کوئی مصیبت آئی ہے اس میں مسلمانوں کے لیئے آسانی و خوشی کا ہی سامان نکلا ہے۔۔۔ !!!!
    انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ احد میں حضرت عائشہ اور ام سلیم زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں،یہ غزوہ مسلمانوں پر کڑا وقت تھا۔۔۔
    کئی مسلمان شہید ہو چکے تھے اور کئی زخمی تھے۔۔۔
    اس وقت میں بھی حضرت عائشہ کا کردار ہمیں نظر آتا ہے۔۔۔
    سرخ و سفید رنگت رکھنے والی،حسن و جمال کی پیکر ام المؤمنین حضرت عائشہ عاجزی و قناعت میں بھی نمایاں تھیں۔۔۔
    آپ پر تین اوقات بہت گراں گزرے۔۔۔
    واقعۂ افک،
    واقعۂ تحریم،
    اور واقعۂ ایلاء۔۔۔
    واقعۂ افک میں منافقین کی گھڑی گئ سازش کو اللہ رب العزت نے آسمان سے اپنا قرآن اتار کر بے نقاب کر دیا اور آپ رضی اللّٰہُ عنھا کی صداقت کی گواہی دے کر منافقین و مومنوں کو واضح کر دیا۔۔۔
    اہل ایمان اپنی ماں کی شان میں اترے قرآن کی تلاوت تا قیامت کرتے رہیں گے اور ان کے ایمان کو جِلا ملتی رہے گی ان شآ ء اللہ۔
    حضرت عائشہ نے اٹھارہ سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزارے اور اڑتالیس سال بیوگی کے گزارے۔۔۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی تمام عمر قرآن و حدیث کی تعلیم عام کرتے گزری۔۔۔
    حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے آخر میں 17 رمضان المبارک میں 66سال کی عمر میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔۔

    سلسلہ امہات المؤمنین: 1؛حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا۔ تحریر: جویریہ بتول

  • معرکہ حق و باطل   تحریر: خنساء بنت طاہر

    معرکہ حق و باطل تحریر: خنساء بنت طاہر

    معرکہ حق و باطل
    خنساء بنت طاہر

    17 رمضان کا سورج طلوع ہوتا ہے مسلمانوں کی زند گیوں کا پہلا رمضان المبارک جس میں روزے رکھنے کا حکم ملا
    ہجرت کرکے آئے ہوئے چند بے حال لوگ اور کچھ ان کو سہارا دینے والے لیکن بے سرومانی کی حالت ,پورے لشکر میں فقط دو گھوڑے جنگ کی کوئی تیاری نہیں اور مد مقابل کون …؟

    وہ جنگجو اور بہادر کہلوائے جانے والے لوگ جن کی دھاک پورے مکہ میں تھی اور جن کا خوف دلوں میں بیٹھا ہوا تھا , جن کی غلامی میں کئی سال گزار کر آئے تھے اور کچھ تو خون کے رشتے تھے……

    واللہ کیا کیفیت اور کیا آزمائش تھی
    نبی پر ایمان لانے والے چند مختصر سے لوگ حق و باطل کا پہلا معرکہ ایسی جنگ ایسا معرکہ کہ جس میں یہ ثابت ہونا تھا کہ نبوت کا دعوی کرنے والے اس شخص کی کیا سچائی ہے یہ اپنے قول و فعل میں کتنا سچا ہے

    ایک طرف اتنا بڑا دشمن اور ایک طرف خدا کی اس پوری زمین پر اعلائے کلمتہ اللہ کی سربلندی کو تھامے ہوئے چند مٹھی بھر مخلص لوگ
    آسمان بھی انکی کیفیت پہ تھم سا گیا تھا زمین بھی سہمی ہوئی تھی شہنشاہ دوجہاں رو رو کر کیا دعا کرتے ہیں کہ مالک کائنات
    اگر یہ چند لوگ بھی آج ختم ہوگئے تو تیری اس زمین پر تیرا نام لینے والا کوئی نہ ہوگا

    رحمت کا دریا جوش میں آتا ہے اور پھر جو مدد و نصرت اتری وہ آج تک ایک زندہ مثال ہے کہ جنگیں کبھی بھی طاقت یا مال و دولت ک زور پر نہیں لڑی جاتی اور اگر جہاد کے بغیر دنیا پر امن ممکن ہوتا تو میرے نبی جیسے تحمل مزاج ، صبر کے پیکر اور زمیںن پر سکون کے خواہشمند عظیم انسان تلوار کبھی بلند نہ کرتے لیکن اللہ کے نیک بندوں نے یہ ثابت کردیا کہ دین کی سربلندی ,اللہ کی محبت اور اسلام دشمنی میں اگر خونی رشتے بھی مد مقابل ہو تو تلوار لرزنی نہیں چاہیے

    اور ایک بہت اہم سبق جو ہمیں حاصل کرنا چاہیے وہ یہ کہ اللہ کی مدد ایسے ہی نہیں اترتی اللہ نے مسلمانوں کو لاکر جنگ کے میدان میں کھڑا کر دیا مجاہدین نے اپنی جانیں اللہ کی امان میں دے دیں اپنے سے تین گنا بڑی طاقت کے سامنے ایمانی جزبوں سے کھڑے ہوگئے زندگی اور موت کی کشمکش، دشمن امنے سامنے ہوا تلواریں آپس میں ٹکرائی تو پھر میرے رب نے فرشتے نازل کیے یونہی گھروں میں بیٹھے بیٹھے ہی اللہ کی مدد نہں آگئی

    آج ہمیں بھی انھی ایمانی جذ بوں اور جرتوں کی ضرورت ہے۔

  • لاک ڈاؤن وچ ویلیاں رہنا تحریر: محمد نعیم شہزاد

    لاک ڈاؤن وچ ویلیاں رہنا تحریر: محمد نعیم شہزاد

    لاک ڈاؤن وچ ویلیاں رہنا
    محمد نعیم شہزاد

    یا ایھا الرجال
    کی ہویا اے تواڈا حال

    لاک ڈاؤن وچ ویلے، موجاں
    کوئی میسج نہ کوئی کال

    وقت دا پہیہ چلدا جاوے
    سانہواں دے نال گھَٹدا جاوے

    جے نہ کجھ وی فکر کیتی
    ٹینشن اس گل دی نہ لتی

    آخر ہے سب نوں زوال
    لبھ لو حالی کمال

    گیا وقت فیر ہتھ نہیں آندا
    بیہھ کے انسان رہے پچھتاندا

    آپنے آپ دی قدر نوں جانو
    وقت دی قیمت نوں پہچانو

    ایہو سبق سکھاندے سارے
    گزر دے ماہ و سال

    دل وچ آپنے عزم کریں توں
    آپنا ویلا سانبھ لویں توں

    دنیا تے کجھ ایسا کر جا
    بن جا ایک مثال

    یا ایھا الرجال
    کی ہویا اے تواڈا حال

  • فتح مکہ…!!! بقلم:جویریہ بتول

    فتح مکہ…!!! بقلم:جویریہ بتول

    فتح مکہ…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول].
    مری تاریخ کے ماتھے کا جھومر…
    سدا دنیا کو رہے گا جس پہ فخر…
    وہ جنہوں نے گھروں سے تھا نکالا…
    ہر دُکھ اور اذیت سے تھا گزارا…
    لُٹا کر تھے آئے یہ سب مال و زر…
    چلے یہ مسافر جب ہجرت کی راہوں پر…
    آنکھوں میں چمکتا تھا کوئی سہانا خواب…
    فتح مبین کی تعبیر کو تھے سب بے تاب…
    وہ صحابہ کے جلو میں مکہ کی جانب…
    چلی تھی جب سواری نبی محترم کی…
    وہ سورۂ فتح کی مبارک لبوں سے تلاوت…
    وہ کعبہ میں پڑے بتوں پہ جآء الحق کی آہٹ…
    وہ سب باطل و غرور جب خاک ہو گئے…
    وہ بغیر تلوار کے جب زیرِ دھاک ہو گئے…
    پوچھا نبی محترم نے کیا خیال ہے تمہارا؟
    اب کیا اُمید ہے، تمہارا کیا ہو گا اب چارہ؟
    ستانے والے بولے شفیق و کریم ہو تم…
    ہلے لب اور بولے لاتثریب علیکم…!!!
    نگاہیں نیچی تھیں سب کی نیچی ہی رہیں…
    تھے سوچتے سب کہ کہیں تو کیا کہیں؟
    یہ کیسا ہے فاتح عالم جو آج ہم پر…
    پا کر غلبہ بھی ہے،کیسا پیکرِ عفو و صبر…؟
    مکان لیا ہم سے،نہ کوئی مال و زر …
    نا انصافی کا بدلہ،نہ گنوایا کوئی ستم…
    واں بھی خیمہ بنایا اپنا مسکن، سلام اے فاتح عالم…!!!
    [صلی اللّٰہ علیہ وسلم]
    ==============================

  • ماں کی زندگی کا سفر…!!! بقلم:جویریہ بتول

    ماں کی زندگی کا سفر…!!! بقلم:جویریہ بتول

    ماں کی زندگی کا سفر…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    تری محبتوں کے بحر وبر…
    تری اداؤں کے سب ثمر…
    تری وفاؤں کا یہ سفر…
    کیسے ہو مجھے اس سے مفر…؟
    تیرا ضبط و ربط کمال ہے…
    ترا لہجہ حُسن و جمال ہے…
    افکار بلند،ارفع خیال ہے…
    ترے مقام کو نہ کوئی زوال ہے…!!!
    ترے گزرتے پَل زندگانی کے…
    اور مٹتے آثار جوانی کے…
    ترے لڑھکتے قدموں میں مگر…
    رنگ عزم کی جولانی کے…!!!
    ہر سانس کے سنگ تو…
    دے دعاؤں کی خوشبو…
    ترے کپکپاتے ہونٹوں پہ…
    لکھی ہے تحریرِ آرزو…!!!
    تو اولاد کے درد کی درماں…
    تو بلاؤں کی زد سے اماں…
    ترے لہجہ کا ہے انداز ہی اور…
    تو بدلے سے بے پرواہ "ماں”…
    اپنی حیات کو کھپا گئی…
    تو ہمیں توانائیاں تھماگئی…
    ترے بدن کا جو اب ضعف ہے…
    مری جوانی کا جو رعب ہے…؟
    کھڑے ہیں یہ آمنے سامنے…
    فرض کیا ہیں اب نبھانے؟
    یہ سوال ہی تو گراں ہے…؟
    ماں ہم اولاد اور تو ماں ہے…!!!
    ماں تری وفاؤں کا صلہ…
    کوئی کیسے بھلا چکائے؟
    تری سب محنتوں کا…
    بدلہ کوئی کیسے لوٹائے…؟
    ماں تری وفاؤں کا چاہیئے ساتھ…
    ماں کیسے کٹے سفر یہ خالی ہاتھ؟
    ترے مشوروں کی جاری رہی گر برسات…
    تو ماں یقیں ہے سدھر جائے گی ہر بات…!!!
    ترے دامن کو جو جھٹک کر چلیں…
    سچ ہے کہ ہر گام وہ ہاتھ ہی مَلیں…!!!
    ماں ترے نام ہو کیسے صرف اک دن؟
    ماں ترے بِن تو تڑپیں یہ روح وبدن…!!!
    ماں مری زندگی کا ہر لمحہ ہو ترے نام…
    ماں بس ترے ہی سنگ گزریں زندگی کے صبح و شام…
    ماں بس تری دعاؤں کی پونجی میری ہم سفر ہو…
    ماں یقیں ہے کہ پھر کسی بَلا کا نہ گزر ہو…!!!
    کٹ جائے پھر یہ سفر راحت و کلفت کا…
    اور ممکن ہو جائے داخلہ جنت کا…!!!!!(ان شآ ءَ اللّٰہ)
    ==============================

  • ”اُمید کا دیا“  تحریر :  سید عتیق الرحمن

    ”اُمید کا دیا“ تحریر : سید عتیق الرحمن

    ”اُمید کا دیا“
    تحریر : سید عتیق الرحمن
    موجودہ ایک عرصے سے پوری دنیا جس مشکل،پریشانی یا جس ناگہانی آفت کا سامنا کر رہی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔اٹلی،سپین،ایران، فرانس اور چین کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔اگر ان تمام حالات اور اس صورتحال کا جائزہ لیجیے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہمارا ملک پاکستان باقی تمام ممالک کی نسبت محفوظ ہیں یعنی ہم اس تباہی و بربادی سے دوچار نہیں ہوئے جسکا سامنا دیگر ممالک کو کرنا پڑا۔وجوہات پر اگر غور کی جائے تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ہم نے اللہ اور اسکے رسول پہ توکل کیا،ہم نے اپنے حالات کا واقعات کا اپنے اپنے نفس کا محاسبہ کیا۔ہم لوگوں نے اللہ اور اسکے رسول کے سامنے خود کو پیش کیا۔یعنی یہ مصیبت ہمارے لیے آزمائش بنی۔وجہ یہ ہے کہ اس نے ہمیں باغی نہیں بنایا بلکہ اپنے رب سے اور اپنے آپ سے ملنے کا ایک موقع فراہم کیا۔ہم نے سنت اور احادیث پر عمل پیرا ہوتے ہوئے احتیاطی تدابیر کو اپنایا۔اللہ کے ذکر کو فروغ دیا۔ایک ذمہ دار شہری ہونے کی حیثیت دے جو بھی معاشی یا سماجی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہیں ہم نے انہیں پورا کرنے اور اس حوالے سے بھر پور تعاون کرنے کی حتی الوسع کوشش کی۔میں نے ایک بار پہلے جس ایمان،اتحاد اور تنظیم کا ذکر کیا تھا۔ہم نے بھر پور کوشش کی کہ ان تین چیزوں کا احیا کیا جائے۔اب صورتحال یہ ہے کہ الحَمْدُ ِللہ حالات بہتری کیطرف جانے،معمولاتِ زندگی رواں دواں ہونے اور اللہ کے خاص کرم کی پوری اُمید ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ہمیں اللہ کی رحمت پر پورا یقین ہے، حکومت نے بھی آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ کچھ ایسی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں جو مایوسی کو ہوا دیتی ہیں، سنسنی خیز ماحول کو جنم دیتی ہیں۔تو یاد رکھیں ایک مومن ہونے کی حیثیت سے ہمارا یہ فریضہ ہے کہ ہم خیر کی خبر دیں۔اسلیے خدارا مایوسی مت پھیلائیے،خوشگوار گفتگو کیجیے، ماحول کو پر امن اور پر امید بنائیے۔ہماری زندگی میں بلکہ ایک ملک و ملت کی بہتری اور ترقی میں اہم کردار جس چیز کا ہوتا ہے وہ ہے ”امید کادیا“ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ وہ واحد دیا ہے جسے کبھی کبھار ایک مومن پوری قوم کے لیے روشن کرسکتا ہے اور یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ یہ کسی ”ایک“کہ ہاتھوں کی گُل ہوجائے۔یعنی کوئی ایک اپنی گفتگو اپنے دلائل اور اپنے لفظوں کے مرہم کے ذریعے پوری قوم کو پر امید کر سکتا ہے اور کوئی ایک سنسنی خیز گفتگو کا اہتمام کر کے سب کہ ہمت کو کمزور کر سکتا ہے۔کیاآپ جانتے ہیں کہ کچھ ممالک ایسے ہیں جہاں ہسپتال میں مریضوں کی سیر و تفریح کا مکمل انتظام ہوتا ہے۔میوزک سسٹمز نصب کیے گئے ہوتے ہیں۔تاکہ مریضوں کو زندگی اور دنیا کے رنگ دکھا کر آخری سانس تک ایک روشن امید کے سہارے زندہ رکھا جاسکے جس سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مریض اور ڈاکٹر دونوں کی Will power ہمیشہ مضبوط رہتی ہے اور انہیں ناموافق صورتحال میں بھی دفاع کرنا آسان ہوتا ہے۔حالانکہ اس چیز پر ہمارا ایمان سب سے کامل ہونا چاہیے کیونکہ ہماری کتاب میں ہم سے ہمارا مالکِ حقیقی یہ وعدہ کرتا ہے۔جیسا کہ وہ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ یعنی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔آج موجودہ صورتحال پریشان کن ہے مگر اتنی نہیں کہ ہمارے ایمان کو کمزور کر دے، ہمارے توکل کو مسمار کردے۔وہ و پتھر کے سینے میں موجود کیڑے کا رازق ہے وہ ان حالات میں ہمارے گھروں میں بھی رزق کا انتظام کر سکتا ہے۔وہ خالقِ کل ہر چیز پر قادر ہے۔دنیا میں کوئی بھی چیز انسان کو اتنی جلدی کمزور نہیں کرتی جتنی جلدی مایوسی کھوکھلا کر دیتی ہے۔سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ بلا تحقیق و تصدیق ایسی خبریں نہ پھیلائیں جو ڈر، مایوسی اور کمزوری کو جنم دیتی ہیں یاد کھیں مومن بھلائی کی خبر دیتا ہے خیر کی دعوت دیتا ہے۔ہمیں اللہ اور اسکے احکام پہ عمل پیرا ہوتے ہوئے ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جو نیکی، بھلائی اور خیر کو فروغ دے سکے۔اپنے اپنے گھروں کو پر سکون آمجگاہ بنانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس کارساز حقیقی پر توکل کرتے ہوئے مستقل مزاجی سے مصروفِ عمل رہیے۔

  • کرونا وائرس اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر تشدد میں اضافہ ؛ تحریر: پیر فاروق بہاولحق شاہ۔

    کرونا وائرس اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر تشدد میں اضافہ ؛ تحریر: پیر فاروق بہاولحق شاہ۔

    کرونا وائرس اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر تشدد میں اضافہ۔
    تحریر۔پیر فاروق بہاولحق شاہ۔
    اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس سے نمٹنے میں مصروف ہے۔دنیا کے تقریبا تمام ملک اس وبا کا شکار ہو چکے ہیں اور لاکھوں لوگ اس کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں۔اس وبا نے دنیا سے اس کی روشنیاں چھین لی ہیں اور زندگی گزارنے کے رنگ ڈھنگ ہی تبدیل کر دیے ہیں۔بدترین دشمن بھی ایک دوسرے کو مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔ایسے ممالک جن کی کبھی صلح  ممکن نہ تھی وہ بھی ایک دوسرے کی مدد کو دوڑے جا رہے ہیں۔چین اور امریکہ جیسے حریف بھی ایک دوسرے کی مدد کے لیے سرگرم عمل ہیں۔لیکن اس دنیا میں ایک خطہ ایسا بھی ہے کہ جہاں کے عوام کے شب و روز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔یہاں ایک طرف تو کرونا وائرس نے اس خطے میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں  دوسری طرف بھارتی افواج کے ظلم و ستم بھی اسی تسلسل سے جاری ہیں۔
    مقبوضہ کشمیر اس وقت دنیا کا وہ خطہ ہے جو اس وقت پوری دنیا میں فلیش پوائنٹ بن کر سامنے ہے۔ دنیا کا طویل ترین لاک ڈاؤن کا سامنا کیا جارہا ہے۔ کرونا وائرس سے قبل ہی یہاں کے لوگوں پر زندگی عذاب کر دی گئی تھی لیکن اس وائرس نے بھی آکر ان کے عذاب میں اضافہ کیا ہے۔ایک طرف تو کرونا وائرس نے موت کے ڈیرے ڈال دیے ہیں دوسری طرف بھارتی افواج کے مظالم میں بھی کسی قسم کی کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آرہی۔ان حالات میں بھی بھارتی افواج کے ہاتھوں مظالم قتل وغارتگری، خواتین کی بے حرمتی اور ان کے گھروں کی بے حرمتی مسلسل جاری ہے۔ان برے حالات میں جبکہ پوری دنیا کی توجہ صرف اس وبا سے نمٹنے پر مرکوز ہے مقبوضہ کشمیر یہ واحد خطہ ہے جہاں پر آج بھی ظلم و ستم کا سلسلہ کم ہونے میں نہیں آرہا۔جموں کشمیر فورم کے صدر آصف جرال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شمالی کشمیر کے علاقے سوپور میں بھارتی افواج نے کئی رہائشی گھروں کو آگ لگا دی وہاں پر داخل ہوکر مال و اسباب لوٹ لیا خواتین کی بے حرمتی کی نوجوانوں کو جیلوں میں ڈالا بوڑھوں کو گھروں میں تشدد کا نشانہ بنایا۔لیکن اس کے باوجود کشمیری لوگوں کے حوصلہ میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔وہ ظلم و ستم کے باوجود بھی مقبوضہ کشمیر کو بھارتی حصہ ماننے پر تیار نہیں۔
    دوسری طرف ایک اور بڑا انسانی المیہ جنم لینے کو تیار ہے مقبوضہ کشمیر میں سینکڑوں افراد کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں لیکن بھارتی حکومت نے انتہائی تعصب اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے طبی سامان کی فراہمی اور عملہ کی کمی کو بھی پورا کرنے کی طرف کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔انسانی حقوق کی چھ بین الاقوامی تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں۔انسانی حقوق کی ان تنظیموں کے مشترکہ بیان میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ اگست 2019 سے گرفتار شدہ مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو جیل میں نہ تو انسانی حقوق حاصل ہیں اور نہ ہی ان کی سہولت کا کوئی خیال رکھا جا رہا ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کرونا وائرس کا سیاسی فائدہ اٹھانا چاہ رہا ہے جبکہ پوری دنیا کی توجہ کرونا وائرس سے نمٹنے پر مرکوز ہے تو بھارت اسٹیشن پوشیدہ ہے کشمیر میں اپنے مظالم کا سلسلہ تیز کر دیا ہے اور ہے خاموشی کے ساتھ کی جا رہی ہے کہ جن کے ساتھ بیرونی آبادکاروں کو کشمیر کا شہری بنانے کی کوشش کی جائے۔اس عالمی صحت کے حوالے سے بحرانی صورتحال کے دنوں میں کسی بھی قسم کی قانون کی تبدیلی انسانی حقوق اور اخلاقی تقاضوں کے بھی منافی ہیں۔یاد رہے کہ بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیر میں 5 اگست 2019 کو تحریک آزادی دبانے کے لیے قانون میں تبدیلی کی کوششوں کا آغاز کیا تھا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔بھارت کی ماضی کی تمام جماعتوں کی حکومت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 35 اے اور 377 کے تحت کشمیر کے متنازع حیثیت کو چھیڑنے کی کبھی کوشش نہیں کی البتہ یہ اپنے طور پر ایک الگ حقیقت ہے کہ تمام بھارتی حکومتوں نے اپنی مسلح افواج کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو دبانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

    گزشتہ سال پانچ اگست کو اسی لاکھ سے زائد آبادی کا یہ متنازع خطہ اس کو تقسیم کر کے رکھ دیا گیا یہاں کے تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔جدید دنیا کی اس طویل ترین نظر بندی میں نہ صرف لوگوں کے انسانی حقوق متاثر ہورہے ہیں بلکہ ان کی جان و مال کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں غذائی اجناس کی صورتحال تشویشناک حد تک خطرناک ہے ہسپتالوں میں ڈاکٹر موجود نہیں ہیں مقامی طور پر علاج کرنے کی کوشش کی جائے تو بھارتی افواج کی طرف سے ایسے ڈاکٹرز اور طبی عملے کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا 5اگست 2019 سے لے کر آج تک مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا چراغ گل ہے اور بھارتی ظلم و استبداد کے اندھیرے نے پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔بھارتی آئین میں حیران کن تبدیلیوں کے بعد بھارتی حکومت نے دس ہزا رضافی فوج بھی وادی میں بھیج دی جبکہ پچیس ہزار سے زائد اضافی نفری کو کو متبادل کے طور پر تیار رہنے کا حکم دیا گیا۔وادی کے تمام اضلاع میں بلاتفریق مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کرکے ان کو گمنام عقوبت خانوں میں منتقل کردیا گیا اور آج کئی ماہ گزرنے کے باوجود بھی ان کا نام و نشان نہیں مل سکا۔کرونا وائرس کے خطرات کے باوجود آج بھی بھائیوں کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی ہیں جوان نے اپنے بھائیوں کی راہ دیکھ رہی ہیں اور سہاگنیں اپنے خاوندوں کے انتظار میں دہلیزوں پر جمی بیٹھی ہیں معصوم بچے مسکرانا بھول چکے ہیں۔بچوں کے قہقہوں سے یہ فضائیں نہ آشنا ہو چکی ہیں ایک جبر کی کیفیت ہے ایک سکوت طاری ہے اور تمام دنیا مہر بلب ہے۔میں تمام عالمی دنیا کے ضمیر پر یہ دستک دینا چاہتا ہوں کہ کرونا وائرس نے بے شک پوری دنیا کو ایک حد تک مفلوج کر دیا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر آج بھی آپ کی توجہ کا منتظر ہے۔آج کشمیر کے باسی کرونا کے ساتھ ساتھ بھارتی افواج سے بھی جنگ لڑ رہے ہیں دونوں طرف سے ان کی زندگیوں کو خطرہ ہے اگر گھر کے اندر رہتے ہیں تو کرونا ان کی جان لیتا ہے اور گھر سے باہر نکلتے ہیں تو بھارتی فوجوں کی سنگینیں انکی جانوں کے درپہ ہیں نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن والی مثال ان دنوں مقبوضہ کشمیر پر بخوبی صادق آتی ہے۔لیکن میں یہ بات یقین سے کہنا چاہتا ہوں کہ جبر کی یہ رات ختم ہونے والی ہے ظلم کی اندھیر نگری زیادہ دیر نہیں چل سکتی ظلم کا نظام ایک حد سے زیادہ آگے نہیں چل سکتا۔امی داسو ہونے والی ہے اور مقبوضہ کشمیر کے باسی کرونا سے بھی نبرد آزما ہو کر فتح یاب ہونگے اور بھارتی افواج کے سامنے بیچین اس پر رہ کر ان کو شکست فاش سے دوچار کریں گے۔انشاء اللہ

  • بھٹوزندہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کو خطرہ ہے  تحریر حلیم عادل شیخ   ایم پی اے

    بھٹوزندہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کو خطرہ ہے تحریر حلیم عادل شیخ ایم پی اے

    کالم : حلیم عادل شیخ ۔ ایم پی اے 
    بھٹوزندہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کو خطرہ ہے ۔

    پیپلزپارٹی ایک ایسی جماعت ہے جو ماضی کے بھٹوازم کا سہارالیکر حال اور مستقبل میں زندہ رہنا چاہتی ہے یہ سب کچھ جانتے ہوئے کہ ان کے پاس نہ تو کوئی نئی سوچ ہے اور نہ ہی عوام کے لیے قربانی اورخدمت کا کوئی جزبہ ہے ۔ اس لیے بھٹو زندہ ہے کا نعرہ لگاکر ایک جزباتی اپیل کے زریعے اپنے سیاسی کاروبار کو آگے بڑھائے ہوئے ہیں ،یہ ہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی اب اندرون سندھ میں چند ایک مقامات تک مخصوص ہوکر رہ گئی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے غریب آدمی کے لیے نہ تو کبھی کوئی کام کیا ہے اور نہ ہی مستقبل میں کوئی اس قسم کی غلطی کا کوئی ارادہ رکھتی ہے کیونکہ ان لوگوں کے انداز سیاست سے یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے کہ انسانی خدمت کویہ لوگ کسی گناہ سے کم نہیں سمجھتے،آجکل سندھ حکومت والے کروناوائرس کے معاملے کو ایک منافع بخش کاروبار بناکر نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ اپنا دھندہ چلارہے ہیں ، بلکہ اس کروناکی آڑ میں وہ اپنی نا اہلی کے درجنوں قصے بھی دبا کر بیٹھے ہیں یعنی کرنا کرانا کچھ نہیں بس میڈیا میں آئے اور عوام کوڈرایا دھمکایا خوف دلایا اورچلے گئے اور ان تمام باتوں میں کوئی ان سے پوچھے تو کہتے ہیں کہ گھروں میں ڈری سہمی عوام کو ہرایک چیز ان کی دہلیز پر پہنچائی جارہی ہے اور اصل حقیقت اس قدربھیانک ہے کہ جس کا چندلفظوں میں موازنہ کرنا ناممکن ہوگا یہ ہی وجہ ہے کہ بھٹو کے نام کو بیچنے والے اب عوام کی نظروں میں اس قدررسواہوچکے ہیں کہ جس کا اندازہ انہیں بہت جلد معلوم ہونے والا ہے ۔ اب یہ کہنا بھی مناسب ہوگاکہ پیپلزپارٹی اپنے سیاسی امور کو زیادہ دیرتک خاندانی وراثت کے طور پر یا بھٹو کے نام کے بل بوتے پر نہیں چلاسکتی اس کی تمام تر وجوہات عیاں ہوچکی ہے یعنی نہ تو پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت عوام کو گزشتہ پندرہ سالوں سے کچھ دے سکی ہے اور نہ ہی اس پارٹی کے نوجوان چیئرمین کے پاس کسی قسم کی کوئی سیاسی بصیرت موجود ہے جواپنے سیاسی مخالفین پر تنقید کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے اور جو اپنے منہ سے تعمیری اور مثبت باتیں کہنے سے بھی عاری دکھائی دیتے ہیں جن کو مشورہ دینے والے وہ ہی لوگ دکھائی دیتے ہیں جن کے مشوروں سے ان کی والدہ محترمہ کی حکومتیں وقت سے پہلے زوال کا شکار ہوتی رہی ہیں دوسری جانب بھٹو کے نام سے چلنے والی اس خاندانی وراثت کازور آنے والے کچھ دنوں میں مزید کم ہوجائے گا، میں اس کی مثال ہندوستان اور سری لنکا کی ایک مشہور خاندانی سیاست سے دینا چاہونگا،جس میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ خاندانی وراثتیں اس وقت تک ہی چل سکتی ہیں جب تک وارثین عوام کی خدمت کرتے رہے اور عوام کے دلوں میں اپنا مقام اور مرتبہ قائم رکھ سکے یہ ہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے نہرو اور گاندھی فیملی کے سیاستدان جبکہ سری لنکا میں بندارناءکے فیملی کا زور کم ہوگیاہے جس کی بنیادی وجہ عوام کے دلوں سے نکل جاناہے ،جس طرح ہندوستان میں نہرو نے اپنی بیٹی اندراگاندھی کے لیے وزرات عظمیٰ کی راہیں ہموار کی اور جس طرح سے سری لنکا میں بندار ناءکے کی بیوہ اپنے مرحوم شوہر کی وجہ سے وزیراعظم بنی کچھ اسی طرح کی ملتی جلتی کہانیاں پاکستان کی موروثی سیاست میں بھی واضح طورپر دیکھی جاسکتی ہیں مگر ان ممالک میں ہونے والی موروثی سیاست کا جوحال ہورہاہے وہ بھی اب تاریخ کا حصہ بنتاجارہاہے یعنی کہیں بن چکاتو کہیں یہ تاریخ رقم ہونے والی ہے کہ لوگ خاندانی سیاست کو نہیں بلکہ عوام خدمت والی سیاست کو ہی ترجیح دے رہے ہیں ۔ یہاں تک میاں نوازشریف نے بھی بھٹو صاحب اور سری لنکا سمیت ہندوستان کی اس موروثی سیاست کو دیکھتے ہوئے اپنے سلسلہ نصب کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہواہے جس کی گونج آج کل پارٹی پر اقتدار کے حوالے سے مسلم ن میں چاچا بھتیجی کا جھگڑاہے جسے میڈیا سے چھپایا جارہاہے اورآجکل مسلم لیگ ن دوحصوں میں بٹی دکھائی دیتی ہے ، آج اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہ میں اندازہ ہوجائیگا کہ پاکستان میں معاشی تباہی کے اصل ذمہ دار یہ دو گھرانے ہی ہیں یعنی مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی جنھوں نے ملکی اقتدار پر قبضہ کیے رکھا اور کبھی پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کا منہ تک نہ دیکھنے دیا جن کے ہردور میں ملک کرپشن اور لاقانونیت کی دلدلوں میں دھنستا رہا،یہ ہی وجہ ہے کہ اس بار پنجاب جو کہ مسلم لیگ ن کا قلعہ تھا آج اس میں تحریک انصاف یعنی ایک نئی سوچ کی حکمرانی ہے جبکہ سندھ میں اب بھٹو کا نعرہ اندرون سندھ کے کچھ جانے انجانے علاقوں تک محدودہوکر رہ گیاہے اور وہاں بھی وقت کے ساتھ ساتھ اس ناگہانی نعرے کے نقش مٹتے چلے جارہے ہیں کیونکہ سندھ کے لوگ اب مزید موٹر ساءکلوں پر لاشیں نہیں لے جاسکتے اپنے بچوں کو سیاسی بھیڑیوں کے بعد گلی محلوں میں پھرنے والے کتوں سے نہیں کٹواسکتے، آج پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین جو ہر وقت ایجی ٹیشن کے انداز میں بات کرتے ہیں جنھیں دیکھ کر لگتاہے کہ یہ نوجوان جان بوجھ کر حقیقت کی دنیا میں نہیں آنا چاہتاجس کی شخصیت دیکھ کر ایسا لگتاہے کہ ان موصوف میں کوئی نئی اور مثبت سوچ ہوہی نہیں سکتی جس کے پاس دوہزاربیس اور اکیس میں الجھی ہوئی قوم کو منجھدار سے نکالنے کے کسی سوال کا جواب ہی نہیں ہے جو صرف بھٹو کا نام بیچ کر اس ملک میں وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہاہے جس نے اپنے چندوزرا کوٹی وی پروگراموں میں بٹھاکر اسے عوامی خدمت قرار دیاہواہے جنھوں نے باتیں تو بہت کی مگر کبھی کسی نے انہیں عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا،آج اس موروثی سیاست کا سہارا لینے والوں نے اٹھارویں ترمیم کو بلاوجہ کا ایشو بنارکھاہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ اٹھارویں ترمیم پیپلزپارٹی کا کند ہتھیارہے جو کہ کسی بھی طرح سے ان کے زوال کو نہیں روک سکتا جب ان لوگوں کے پاس کسی سوال کاجواب نہیں نکل پاتاتووہ اٹھارویں ترمیم کے دفاع کی بات شروع کردیتے ہیں اور میں یہ سمجھتاہوں کہ اٹھارویں ترمیم کو اگر کوئی خطرہ ہے تو خود پیپلزپارٹی سے ہی ہے ان کی خراب کارکردگی سے ہے کوئی ان سے پوچھے کے اس اٹھارویں ترمیم کے تحت جو پاوران کے صوبے کو ملی اس سے عوام کو کیا فائدہ پہنچایا گیا پچھلے پندرہ سالوں میں ایک شعبہ صحت کا یہ حال ہے کہ معصوم بچے آئے روز کتے کے کاٹنے سے مرجاتے ہیں مگر کسی ایک سرکاری ہسپتال میں اس کی ویکسین نہیں ملتی پھر کہتے ہیں بھٹو زندہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کو خطرہ ہے کوئی ان سے پوچھے کہ صحت کے شعبے میں تین اداور میں ساڈھے پانچ کھرب کی بھاری رقم کہاں لگی تو یہ کہتے ہیں کہ بھٹو زندہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کو خطرہ ہے، کوئی ان سے پوچھے سندھ میں تعلیم کا اربوں روپے کا بجٹ کس سرکاری اسکول پر لگا تو کہتے ہیں بھٹو زندہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کو خطرہ ہے یہ ہی ایک نعرہ باقی بچا ہے ان لوگوں کے پاس یہاں تک ان سے یہ تک پوچھ کے دیکھ لے کے زرداری صاحب کے دور میں بہت اچھے کام ہوئے تو کہیں گے بہت شکریہ مگر کوئی ان سے پوچھے کہ بے نظیر کا قاتل کون ہے اور کہاں ہے;238; تو کہیں گے بھٹو زندہ ہے اور اٹھارویں ترمیم کو خطرہ ہے ۔ باقی آپ خود سمجھدار ہیں ۔ ختم شد 

    تحریر;حلیم عادل شیخ ۔ ممبر سندھ اسمبلی ۔ پارلیمانی لیڈر تحریک انصاف سندھ