Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال  قسط:3  تحریر ؛جویریہ چوہدری

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال قسط:3 تحریر ؛جویریہ چوہدری

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال__!!!(قسط:3)۔
    (تحریر:جویریہ چوہدری)

    قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ جھوٹ کثرت سے بولا جائے گا”(مسند احمد)۔
    آج ہر طرف جھوٹ کا دور دورہ ہے،یوں سمجھیں کہ جھوٹ عیب ہی نہیں رہا اور سچ کی اہمیت کی پرواہ ہی نہیں رہی…!!!
    آج اولاد والدین کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں اور والدین اولاد کے سامنے…
    بازاروں میں چلے جائیں تو کاروباری حضرات جھوٹی قسموں اور دعوؤں سے سر چکرا دیتے ہیں اور اسی جھوٹ کے بل بوتے پر ناجائز اور بھاری منافع کما لیتے ہیں…
    حکمران عوام سے جھوٹے وعدے کرتے ہیں اور کمزور طبقہ اس جھوٹ سے متاثر ہو کر خوار ہوتا رہتا ہے حالانکہ جو بھی معاملہ ہو،جھوٹ کا سہارا لینا ہی غلط ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔۔۔ارشادِ ربانی ہے:
    "اے لوگو جو ایمان لائے ہو !
    اللّٰہ سے ڈرو،اور سیدھی بات کیا کرو۔”(الاحزاب)۔
    کبھی فرمایا:
    "اے لوگو جو ایمان لائے ہو !
    اللّٰہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ…”(التوبۃ)۔
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللّٰہ کے ہاں بہت جھوٹا لکھ لیا جاتا ہے”(صحیح بخاری)۔
    تو آج بھی جب ہر طرف جھوٹ کا دور دورہ ہے تو ان لمحات میں موقع ملے ہوئے ہے تو اپنا شمار ان لوگوں میں کروانے کی کوشش کرنی چاہیئے جو سچ کی ترویج کا باعث ہوں۔
    اور روزمرہ زندگی کے امور میں بھی جھوٹ سے نجات پانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔
    تبھی پیارے پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    "بے شک سچ اطمینان کا باعث ہے اور جھوٹ شک کا سبب ہے(رواہ الترمذی)۔

    مساجد کی تزئین و آرائش میں آگے نکلنا بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ لوگ مساجد کی تزئین و آرائش میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے …(ابو داؤد)
    اسی طرح بلند و بالا عمارات کی تعمیر بھی قیامت کی علاماتِ صغریٰ میں سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ لوگ لمبی،بلند و بالا عمارتیں میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے…(صحیح بخاری)۔
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آپ ننگے پاؤں،ننگے بدن والے بکریوں کے چرواہوں کو دیکھیں کہ وہ لمبی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مسابقت کرتے ہیں…!!!(بخاری و مسلم)

    قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ مسلمان یہود و نصاریٰ کی مشابہت کریں گے
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ میری امت پہلی امتوں کے برابر ہو جائے گی جیسے بالشت بالشت کے اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہوتا ہے…(صحیح بخاری)۔
    آج مسلمانوں کی زندگی کے بیشتر معاملات ان کی مشابہت میں ہی گزرتے ہیں،رہن سہن کے انداز،تہذیب و ثقافت کے انداز،تجارت و کاروبار کے انداز وائے افسوس آج ہم یہود و نصاریٰ سے سیکھ رہے ہیں…اور اسے ہی کامیابی تصور کیا جاتا ہے…!!!
    قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ ایسے سال آئیں گے جب :
    "ہر طرف دھوکہ ہی دھوکہ ہو گا،جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا،خائن کو امانتدار اور امانتدار کو خائن سمجھا جانے لگے گا…(ابنِ ماجہ_کتاب الفتن)۔

    (جاری ہے…)

  • آسٹریلیا کے سابق کپتان مائیکل کلارک نے  آئی پی ایل کا پول کھول دیا

    آسٹریلیا کے سابق کپتان مائیکل کلارک نے آئی پی ایل کا پول کھول دیا

    آسٹریلیا کے سابق کپتان مائیکل کلارک نے آئی پی ایل کا پول کھول دیا

    باغی ٹی وی : بھارتی لیگ کی اجارہ داری کا پول کھولتے ہوئے ہوئے آسٹریلیا کے سابق کپتان مائیکل کلارک نے بھارتی کرکٹ اور آئی پی ایل کیخلاف ایک اور پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ آسٹریلوی کھلاڑی آئی پی ایل کی وجہ سے ویرات کوہلی کو میدان میں کچھ کہنے سے ڈرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلوی کھلاڑیوں کو ڈر ہوتا ہے کہ ان سے آئی پی ایل کے مہنگے کنٹریکٹ واپس لے لیے جائیں گے۔ سب جانتے ہیں کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے پاس کتنا پیسہ ہے اور اس وہ کتنا طاقت ور ہے۔

    پاکستانی اسپورٹس تجزیہ کار مرزا اقبال بیگ نے ہم نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پیسے میں بہت طاقت ہے اور کھلاڑی لاکھوں ڈالر لینے کیلئے آئی پی ایل کھیلتے ہیں۔اقبال بیگ کا کہنا تھا پی ایس ایل کے پانچوں سیزن پاکستان میں نہیں ہوئے لیکن پھر بھی اس کو کافی کامیابی ملی ہے۔

    سابق کرکٹرعاقب جاوید نے کہا یہ حقیقت ہے کہ وقت تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ آئی پی ایل کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ بہت طاقت ور ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کرکٹرز کیلئے لیگز میں زیادہ پیسہ ہے۔ اگر پی ایس ایل کے پانچ ایڈیشن پاکستان میں ہوتے اور یہاں کے حالات بہتر ہوتے تو یہ بھی دوسری بڑی لیگ بن سکتی تھی

    واضح‌رہےکہ کورونا وائرس نے جہاں دنیا کے معاشی اور سماجی ایونٹ متاثر کیے وہاں بھارتی آئی پی ایل بھی متاثڑ ہوئی . آئی پی ایل سے زیر معاہدہ کرکٹرز معاوضوں سے محروم ہیں اور انڈین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے سربراہ اشوک ملہوترا کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے باعث نقصانات ہوئے تو ڈومیسٹک کرکٹرز بھی متاثر ہوں گے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی پی ایل کو 15 اپریل تک ملتوی کردیا گیا ہے تاہم بی سی سی آئی حکام رواں برس کوئی متبادل ونڈو تلاش نہیں کر سکے تو امکان ہے کہ ایونٹ کو منسوخ کر دیا جائیگا۔ قوانین کے مطابق آئی پی ایل کے آغاز سے ایک ہفتے قبل زیر معاہدہ کرکٹرز کو پندرہ فیصد معاوضوں کی ادائیگی کی جاتی ہے جبکہ ٹورنامنٹ کے دوران 65 فیصد رقم دی جاتی ہے جبکہ باقی رہ جانیوالا بیس فیصد معاوضہ پہلے سے طے شدہ وقت کے مطابق ایونٹ کے اختتام کے بعد ادا کیا جاتا ہے۔

  • شبِ فراق  ،تحریر :نعیم ہاشمی

    شبِ فراق ،تحریر :نعیم ہاشمی

    شبِ فراق
    نعیم ہاشمی

    مر گیا، مٹ گیا تیرے پیچھے صنم
    حد تو یہ ہے تمہیں خبر ہی نہیں

    اس قدر ناز نہ کر حسن پر اے ماہ جبیں
    تجھے پانے کی ہے چاہت جس سے مفر ہی

    دن رات تجھ کو سوچوں میں ہوں تیرا دیوانہ
    حد سے گزر گیا میں تجھے اثر ہی نہیں

    تجھے کتنا چاہتا ہوں، بس خود ہی سوچ لو تم
    تیرا گھر نہ ہو جس گلی میں واں میرا گزر ہی نہیں

    صد شکر اس خدا کا جس نے تجھے بنایا
    تو جو مل سکے مجھے تو پھر کوئی فکر ہی نہیں

    بس اک التجا ہے میری، میرے پاس ہی تم رہنا
    تیری چاہتیں ملیں جو مجھے کوئی ڈر ہی نہیں

  • دوسروں کو چور چور کہتے خود ڈاکو ہوگئے، تبدیلی کے سہولت کار نیازی سرکار سے ہاتھ کر گئے جو لمحہ فکریہ ہے تحریر؛ مخدوم جاویدہاشمی

    دوسروں کو چور چور کہتے خود ڈاکو ہوگئے، تبدیلی کے سہولت کار نیازی سرکار سے ہاتھ کر گئے جو لمحہ فکریہ ہے تحریر؛ مخدوم جاویدہاشمی

    عمران خان کورونا سے لڑنے کے بجائے اپوزیشن سے لڑنے میں مصروف ہیں,اپوزیشن عوام کی خاطر حکومت کی مدد کرنا چاہتی ہے لیکن حکومت انتشار پیدا کررہی ہے،
    عوام کو تبدیلی کے نام پر مسلسل دھوکا دیا جارہا ہے ملک کا ہر فرد پریشان اور بدحال ہیاس سے بڑی تبدیلی کیا ہوگی کہ عوام خود کشی کرنے پر مجبور ہیں
    ملک کے معروضی حالات میں پاکستان بھر کے علماء مشائخ اپناتاریخی روایتی کرداراداکریں،قیام پاکستان میں علماء ومشائخ کا اہم کرداررہاہے،پیرصاحبزادہ احمدعمران نقشبندی مرشدی سے ٹیلیفون پر گفتگو
    حکمران قوم کو متحد کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں، سینئر سیاستدان میدان عمل میں أکر سرجوڑکربیٹھیں اور اپنا قومی کردار ادا کریں۔،کورونا وائرس کا کوئی مذہب ہے نہ ہی کوئی مسلک، اس کا شکار انسانیت ہے
     علما کو بدنام کرنا اور فرقہ وارانہ تقسیم کی مہم قابل مذمت اور افسوسناک ہے، تبلیغی جماعت غیرسیاسی جماعت ہے جو کسی کی مخالف ہے
    عمران خان آٹا چینی بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف فوری کاروائی کریں، اور اس بحران میں ملوث حکومتی عہدے رکھنے والوں کو فوری فارح کریں، وزیراعظم نے مشکل ترین حالات میں بھی مایوسی پھیلائی،کوروناوائرس جیسے حساس مسئلے پر PTIسیاسی دکان لگانے سے باز  نہی أ ر ہی،یہ قومی مسئلہ ہے، ایک ہوکر اس وائرس کو شکست دینی ہے اور اس سے بچنا ہے، عمران خان کورونا سے لڑنے کے بجائے اپوزیشن سے لڑنے میں مصروف ہیں,اپوزیشن عوام کی خاطر حکومت کی مدد کرنا چاہتی ہے لیکن حکومت انتشار پیدا کررہی ہے، عمران نیازی اپنی مایوسیوں کی سزا قوم کو نہ دے،، تبدیلی سرکار کی ٹائیگر فورس PTIکے مایوس کارکنوں کو بغاوت سے روکنا ہے،

    خیالات کا اظہار بزرگ سیاستدان مخدوم جاویدہاشمی نے علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے چیئرمین سفیرامن پیرصاحبزادہ احمدعمران نقشبندی مرشدی سے ٹیلیفون پر گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ صاحبزادہ احمدعمران نقشبندی نے ٹیلی فونک گفتگو میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ سے پیداشدہ عالمی چیلنج، مساجد کو لاک ڈاون کرکے نماز جمعہ اور دیگر نمازوں کی باجماعت ادائیگی پر پابندی  کے باعث عوام میں پھیلی تشویش علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے دس اپریل کو کراچی میں منعقد ہونے والی  ٓا ل پارٹی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جو مخدوم جاوید ہاشمی نے دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ،عوام کو تبدیلی کے نام پر مسلسل دھوکا دیا جارہا ہے ملک کا ہر فرد پریشان اور بدحال ہیاس سے بڑی تبدیلی کیا ہوگی کہ عوام خود کشی کرنے پر مجبور ہیں،صرف عمران خان کو پتا نہیں ورنہ ہر شخص تبدیلی پر رو رہا ہے۔

    انہوں نے چوروں لٹیروں کو لٹکانے کے بجائے بیرون ملک بھیج دیا، ذخیرہ اندوزی کے باعث آٹا اور چینی مہنگی ہوئی،یہ وہ تبدیلی ہے جس سے عمران خان بھی پریشان ہے اور اپنی تنخواہ میں اپنے گزر اوقات اچھے طریقے سے بسر نہ کرنے کا رونا روتے ہیں، انہوں نے کہاہے کہ کوروناوائرس اور لاک ڈاؤن کے باعث پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کا مقابلہ سب کو مل کر کرنا ہے۔ حکومت، ریاست اور پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ پورے احساس اور ذمہ داری کے ساتھ ضرورت مندوں کی فکر کریں آج پوری انسانیت کورونا وائرس کی وجہ سے سخت پریشان ہے۔

    کاروبار زندگی مفلوج اور عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ کورونا وائرس سمیت تمام وبائی امراض سے نجات کا واحد حل رجوع الی اللہ ہے۔ مساجد و مدارس کو بند نہیں بلکہ ان کو بھرپور آباد کر کے اللہ کے حضور گڑگڑا کر معافی مانگی جائے،انہوں نے کہا کہنیازی حکومت نہ معشیت سنبھال سکی، نہ ہی سیاست، اور نہ ہی کرونا تبدیلی اور نئے پاکستان کے دعویداروں نے عوام سے انکی مسکراہٹ تک چھین لی ہے، موجودہ ناگہانی صورتحال قومی یکجہتی، اتحاد اور وحدت امت کی متقاضی ہے،ملک کے معروضی حالات میں پاکستان بھر کے علماء مشائخ اپناتاریخی روایتی کرداراداکریں

    قیام پاکستان میں علماء ومشائخ کا اہم کرداررہاہے،موجودہ حالات میں علماء ومشائخ میدان عمل میں نکل کر استحکام پاکستان میں اپناکرداراداکریں،حکمران قوم کو متحد کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں، سینئر سیاستدان میدان عمل میں أکر سرجوڑکربیٹھیں اور اپنا قومی کردار ادا کریں،کورونا وائرس کا کوئی مذہب ہے نہ ہی کوئی مسلک، اس کا شکار انسانیت ہے، ہمیں بھی ان چیزوں سے بالاتر ہوکر اس کورونا وبا پاکستان میں بڑھ رہی ہے۔ احتیاطی تدابیر کا زیادہ تر خیال رکھا جارہاہے لیکن اسپتالوں میں سہولتیں نہیں۔ کورونا وائرس کا لیبارٹری ٹیسٹ بہت ہی دشوار ہے۔ معمول کی بیماری کے علاج کے لیے بھی بڑی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک بھر میں منظم، ہمہ گیر، عوام دوست ہیلتھ ایمرجنسی نظام نہیں ہے عوام در بدر ہوگئے ہیں۔

    لیاقت بلوچ نے کہا کہ سندھ حکومت نے کورونا بچاوکے لیے بروقت انتظامات کیے اور اپنا کردار ادا کیا ہے دیگر صوبے تاخیر سے فعال ہوئے لیکن وفاقی حکومت اب بھی واضح دوٹوک فیصلوں کے راستے پر نہیں آسکی۔ لاک ڈاون، صوبوں سے کوآرڈی نیشن، پارلیمنٹ، سیاسی، جمہوری، دینی قیادت کے ساتھ مل کر متفقہ قومی لائحہ عمل بنانے میں حکومت ناکام ہے۔ اسلامی جمہوری پاکستان میں حکومت کی ترجیح صرف اور صرف عوام کو مساجد، خانقاہوں اور مزارات سے دوررکھنے کی ہی ترجیح نہیں بن جانی چاہیے۔

    انہوں نے کہاکہ علما، مشائخ، مفتیان کرام اور دینی قیادت نے مثبت اور تعمیری کردارادا کیاہے، ایسی نازک صورتحال میں علما کو بدنام کرنا اور فرقہ وارانہ تقسیم کی مہم قابل مذمت اور افسوسناک ہے، تبلیغی جماعت غیرسیاسی جماعت ہے جو کسی کی مخالف ہے نہ کسی کی حامی، تمام مکاتب فکر اور تمام سیاسی و سماجی جماعتوں کے لوگ اس کا حصہ ہیں اور یہ پوری دنیا میں بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ راست پر لانے کے لیے محنت کررہی ہے ایسی جماعت کے خلاف مہم سے ہر ذی شعور کو دکھ پہنچا۔ملک میں لاک ڈاون کے اعلان کے بعد مرکز کی جانب سے ملک بھر میں چلنے والی جماعتوں کو روک دیا گیا اور لوگوں کو گھروں میں جانے کا کہا گیا۔ جہاں مقامی انتظامیہ نے انہیں مساجد کے اندر رکنے کی ہدایت کی وہاں جماعتیں مساجد کے اندر قیام پذیر ہیں لیکن تبلیغی سرگرمیاں مکمل طور پر منقطع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے باوجود تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کی سازش ہورہی ہے جسے ملکی استحکام کی خاطر فوری بند ہونا چایئے-

  • میرا پیغام انسانیت کے نام : تحریر ؛ محمدعتیق فیصل آباد

    میرا پیغام انسانیت کے نام : تحریر ؛ محمدعتیق فیصل آباد

    دنیا جہاں کی ٹیکنالوجی اور ترقی کے آگے اس وقت ایک چھوٹے سے وائرس نے بند باندھا ہوا ہے ۔ پوری دنیا اس وقت کرفیواور لاک ڈاؤن کی زد میں ہے ۔ 200سے زائد ملکوں میں اس کے کیس سامنے آچکے ہیں اور اس مشکل ترین وقت میں امریکہ وبرطانیہ جیسے ملک بھی لاک ڈاءون لگاچکے ہیں اور اس کے آگے بے بس نظر آرہے ہیں ۔

    پاکستان میں بھی اس کے کیس سامنے آچکے ہیں اور پاکستان میں بتدریج لاک ڈاون کو بڑھا یاجارہا ہے ۔ پہلے 7 اپریل تک تھا اوراب 14 اپریل تک لاک ڈاون کو بڑھا دیا گیا ہے ۔ پاکستانی قیادت اس حوالے سے بہترین فیصلے کررہی ہے کہ اک طرف سے لاک ڈاون کی کیفیت پیدا کردی گئی ہے جسے کرفیو کی طرف بڑھایا جارہا ہے اور یہ بڑھانا اس آہستگی کے ساتھ کیا جارہا ہے کہ عوام میں خوف وہراس نہ پھیلے ۔ پاکستانی عوام گھروں میں محصور ہوکر بھی اک طرح سے آزادہے ۔

    اگر موجودہ صورت حال سے کرونا جیسی وبا سنبھل گئی تو اسے بتدریج کم بھی کیا جاسکتا ہے اور بالفرض محال بڑھی تو ان سختیوں کو مزید سختی کی طرف بھی بڑھایا جاسکتا ہے ۔ اس وقت پاکستانی عوام میں اگرچہ کرونا بارے مختلف مفروضات جنم پاچکے ہیں اور مختلف توجیہات بھی پیش کی جارہی ہیں لیکن ذہنی طور پر تیار ہیں کہ حکومت کرفیو بھی لگاسکتی ہے ۔ موجودہ صورت حال بارے اک عربی تحریر پڑھی تھی جس کا خلاصہ آپ احباب کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ لکھنے والے نے کمال محنت ومحبت سے ’’کرونا‘‘کا پیغام لوگوں کے لیے دیا تھا ۔ اس کا ترجمہ مدینہ منورہ میں مقیم ہمارے اک دوست نے کیا ہے ۔

    ’’یہ بات ٹھیک ہے کہ تم مجھے دیکھ نہیں سکتے اور نہ ہی کبھی دیکھ سکوگے ۔ لیکن میراخیال ہے کہ آپ سب مجھے جانتے ہیں اور میرے بارے میں کافی کچھ سن رکھا ہے ۔ لیکن اب جو میں اپنے بارے میں بتانے لگاہوں وہ بہت اہم ہے کیوں کہ میں اپنی زبان سے بیان کررہا ہوں ۔ میں کسی بھی حدبندی سے واقف نہیں ہوں ، میں لوگوں کے درمیان فرق بھی نہیں کرتا ،کسی چھوٹے بڑے کو نہیں دیکھتا اور نہ ہی کسی صحت مند و بیمارپر رحم کھاتاہوں ۔ میری حالت و حملے سے لگتا ہے کہ مجھ میں جذبات نہیں ہیں یا میں شقی القلب ہوں ۔ ایسی بات بالکل بھی نہیں ہے بلکہ میں تو اک غلام ہوں ۔ جس بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے میں تو وہی کررہا ہوں ۔

    دنیا جہاں کو بنانے والی ذات نے مجھے بھیجا ہے کہ میں اس کے لشکروں میں سے اک لشکر بنوں ، میں تو اس کے حکم کی پیروی کررہا ہوں ۔ میرے پھیلاو کا سبب بھی حکم الہٰی کے تحت ہی ہے ۔ میں ہی ہوں جس نے چین ، ہندوستان ، کشمیر،برما،یمن ،لیبیا اور شام میں مسلمانوں پر ظلم وستم کو فی الوقت روک دیا ہے ،اس بات سے مجھے خوشی نصیب ہوئی ہے ۔ میں نے اسرائیل کے غزہ پر ہونے والے حملوں کو روکا ہوا ہے جس کی وجہ سے اسرائیل محصورینِ غزہ کے پاک وصاف خون کو مزید بہانے سے اجتناب برت رہا ہے ۔ میں نے ہی لوگوں ،ملکوں ،معاشروں اور افراد کو باور کروایا ہے کہ تم اللہ کی قدرت کے سامنے کس قدر بے بس ہو ۔ میں نے ہی شراب خانوں ، قہوہ خانوں ، عیش خانوں اور فساد فی الارض والی جگہوں کو ویران کروایا ہے ۔

    اے اہل دنیا!اس بات سے میں دلی طور پر مطمئن ہوں ۔ میں نے ملحد کو مجبور کردیا ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے پر یقین کرے ۔ میں نے گناہ گار کو مجبور کیا ہے کہ وہ توبہ و استغفار کرکے اللہ کی طرف رجوع کرے ۔ جس بات کا مجھے غم ہے وہ مساجد کا میری وجہ سے بندہونا ہے ۔ مجھے ہرگز ملامت مت کروکیوں کہ میں تو نوکر ہوں ۔

    اے اہل ایمان!یاد رکھو کہ تمہارے لیے ہرمعاملہ ہی خیر والا ہوتا ہے ۔ جب تم مشکل میں ہوتے ہو تو صبر کرکے خیر لیتے ہو اور جب آسانی و فراوانی میں پہنچتے ہو تو شکر کرکے خیر کا سامان پیدا کرلیتے ہو ۔ ان اھل مساجد میں سے جو میری وجہ سے فوت ہوئے وہ شہید ہوں گے ۔ جو زندہ رہیں گے اور اللہ کی طرف سے آزمائش پر صبر کریں گے تو ان کے لیے اللہ کی طرف سے اجر ہوگا ۔ ان کے لیے عبرت و نصیحت کا مقام ہوگا کہ وہ شاید اپنا محاسبہ کریں اور اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کودور کریں ۔

    تو اھل مساجد کے لیے ان کی آزمائش آخرت میں ان کے لیے درجات کی بلندی کا سبب ہوتی ہے یا دنیا میں تکالیف ومصائب ان کے لیے گناہوں کی پاکیزگی اورخطاوں کی صفائی کا سبب بنتی ہے ۔ اے لوگو!حیران نہ ہوں کہ میں تمہارے درمیان کھڑا ہوکر تم سے کلام کررہا ہوں بلکہ توبہ کرواور اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کروقبل اس کے کہ ابلیس روزقیامت تمہارے درمیان کھڑا ہو اور منبر پر کھڑا ہوکر اہل النار کو مخاطب کرے جیسا کہ سورۃ ابراہیم میں ہے ’’جب (حساب کتاب کا) کام فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا ۔ اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا ۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی طرف) بلایا تو تم نے (جلدی سے اوربے دلیل) میرا کہا مان لیا ۔ تو (آج) مجھے ملامت نہ کرو ۔ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو ۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو ۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے ۔ بےشک جو ظالم ہیں ان کے لیے درد دینے والا عذاب ہے ‘‘

    اے لوگو! جو چیز تم تک پہنچی ہے وہ تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ ہی گمان میں آئے کہ میں بہت مضبوط مخلوق ہوں بلکہ میں تو کمزورہوں ۔ جوکچھ میری وجہ سے ہورہا ہے وہ انسان کی کمزوری ہے نہ کہ میری طاقت ہے ۔ اور پوری دنیا اس وقت مجھ کمزورسی مخلوق کی وجہ سے تعطل کا شکار ہے اور رکی پڑی ہے ۔ تو سوچو ذرا جب اللہ زمین کو حکم دے گا کہ تمہیں نگل لے یا آسمان کو حکم دے کہ وہ تم پر خوب برسے اور تم پر پتھر اور آگ برسائے یا وہ سمندروں کو حکم دے دے کہ وہ تمہیں غرق کردیں یا تم پر کھربوں کے حساب سے وائرس بھیج دے جو مجھ سے کہیں زیادہ تم پر تباہی وبربادی کا باعث ہوں ۔ یا وہ زمین کے زلزلے تم پر برپا کردے یا اس کے لاوے پھوٹ پڑیں ۔

    اے لوگو! کوئی ہے جو ندامت کرنے والا ہے ، شرمندگی کرنے والایا توبہ واستغفار کرنے والا ہے ۔ میں یہاں اسی لیے آیا ہوں کہ تمہارے گناہ بہت زیادہ تھے، تم نے اک دوسرے پر ظلم کیا، تم نے سود کھانا شروع کیا ، تم نے رشتہ دراریاں توڑیں ،والدین کی نافرمانیاں کیں ،جھوٹی گواہیاں دیں ، جھوٹ بولا، اللہ کی ذات کو گالیاں دیں ،برائی سے نہیں روکا،زنا پھیل گیا اوراپنا دین ضائع کردیا ۔ اب تم صرف اپنے آپ کو ملامت کرواور مجھے ملامت نہ کرو ۔

    اے اہل ایمان!رحمت والے مہینے رمضان کی راتوں کو لہوولعب کی راتیں بنایاجنہیں تم افطار کے فوری بعد شروع کردیتے تھے اور سحری کے ساتھ ختم کرتے تھے ۔ ہنسی مزاح کے پروگرام جاری رکھتے تھے جو تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل کردیتے تھے ۔ روزے اور قیام سے غافل رہتے تھے ۔ دن کے وقت بھی تم بیوی اور بچوں کے ساتھ ٹی وی کے سامنے بیٹھا کرتے تھے ۔ وقت کا ضیاع تم ہنسی مزاح ودیگر پروگراموں پر کیا کرتے تھے ۔ ڈرامے جن میں میاں بیوی کے فرضی قصے کہانیاں ،جوا ، زنا اور نشے کے متعلقہ چیزیں ہوتی تھیں تم میں خوب سرایت کرچکی تھیں ۔ تو یہ سب کچھ مثالیں جو اوپر دی گئی ہیں وہ تمہارے ہی معاشرے سے ہیں ۔ طلاق کی شرح تم میں بڑھی ہوئی تھی اور شادی کی شرح اسی طرح کم ہوچکی تھی اور جوانوں نے اپنا رستہ کھونا شروع کردیا تھا ۔ اس پرفتن دنیا کے گمراہ کن راستوں پر گامزن ہوچکے تھے ۔ مساجد تمہاری ویران ہوچکی تھیں ۔ مصحف (قرآن مجید)پر غبار کی تہیں جم چکی تھیں ۔ ۔ جب تم اپنے دروازے بند کرکے دنیا کے فتنوں میں مشغول ہوجاتے تھے یا تم اپنا مال جمع کرنے کے چکروں میں مصروف رہتے تھے الغرض آل اولاد کی فکر سے بے فکر ہوچکے تھے تمہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ تمہاری اولاد کیا کرتی ہے ۔

    کاش!میرے بس میں ہوتا تو دنیا کے طاغوتوں ،ہرظالم و متعصب آدمی پر ہی مسلط ہوتا لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ کی حکمت بڑی بلیغ ہے تو اس نے یہ فیصلہ کررکھا تھا کہ میں ہرطرف پھیل جاؤں ۔ کہ میں طاغوتوں کے لشکروں ، فیکٹریوں ،اسلحے ، سیاحت ،معیشت اور دیگر چیزوں کونقصان پہنچاؤں اور تباہ وبرباد کردوں ۔ ‘‘

    کرونا بلاشبہ اس وقت ایسے خوف ناک دشمن کی شکل اختیار کرچکا ہے جس نے دنیا بھر کے سائنس دانوں اور ذہین ترین ذہنوں کو زچ کرکے رکھ دیا ہے ۔ وہ بازار جو کبھی ویران ہونا گوارا نہیں کرتے تھے آج وہاں ہو کا عالم ہے ۔ چین نے اگرچہ کامیابی سے اس وائرس پر قابو پالیا ہے لیکن کوئی دوا فی الوقت سامنے نہیں لاسکا ۔ ہر ملک دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور اپنی جگہ پر تحقیقات بھی ہورہی ہیں ۔

    پاکستان میں جہاں اس وبا سے حکومت نمٹنے کی سعی کررہی ہے وہی پر انفرادی طور پر عوام بھی خدمت کے میدان میں سامنے آچکی ہے ۔ کچھ تو ایسے ہیں جو گم نام رہ کر خدمت خلق کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ بہرحال اس آفت سے نمٹناجہاں حکومتوں کی ذمہ داری ہے وہیں پر انفرادی ذمہ داری بھی ہے ۔ ہمیں جہاں علاج کی ضرورت ہے وہی پر احتیاط کی بھی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے اردگرد نظر رکھنے اور بھوکوں کو کھانا کھلانے کی بھی ذمہ داری بحثیت مسلم ہم پر عائد ہوتی ہے ۔

  • دوسروں کو اذیت دینا، انسان کا پسندیدہ مشغلہ : تحریر؛ محمد نعیم شہزاد

    دوسروں کو اذیت دینا، انسان کا پسندیدہ مشغلہ : تحریر؛ محمد نعیم شہزاد

    انسان کی تخلیق فطرت سلیم پر ہوئی ہے۔ اس کے والدین، دوست احباب اور ماحول اس کی طبع کو متاثر کیے بغیر نہیں چھوڑتا اور انسان زمانے کے ساتھ ساتھ بہت سی تبدیلیوں سے گزرتا ہوا کچھ مخصوص عادات اپنا لیتا ہے جس کو اس کی فطرت، نیچر یا طبیعت کا نام دیا جا سکتا ہے۔ خوب معلوم رہے کہ اس طبیعت کا انحصار تین بنیادی مراکز پر ہے جو اس کے والدین، قریبی لوگ اور ماحول ہیں۔ ماحول میں آنے والی قدرتی و مصنوعی تبدیلیاں اس کو اثر انداز کرتی ہیں، والدین اور اقرباء کا عمل، ان کی گفتگو اور الفاظ اس کو متاثر کرتے ہیں اور انسان ایک خاص سانچے میں ڈھلتا چلا جاتا ہے۔

    انسانی رویے انہیں تبدیلیوں کے زیر اثر وجود پاتے ہیں اور اسی سے متاثر ہو کر انسان صحیح اور غلط کے اپنے معیارات مقرر کرتا ہے۔ کن باتوں سے اسے راحت حاصل ہوتی ہے اور کون سی باتیں اس کے لیے رنجیدہ خاطر ہیں سب انہیں عوامل پر منحصر ہے۔

    ان تینوں طبعی عوامل کے ساتھ ایک چوتھا عامل ابلیس، اس کی ذریت اور تلبیسات ہے۔ یہ ایک مضبوط محرک ہے جو انسان کے ہر جذبے، سوچ اور عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ انسان اگر فطرت سلیم پر قائم رہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کو اپنے لیے حفاظتی حصار بنا لے تو یہ محرک اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتا مگر بتقاضائے بشریت انسان بہت سے مقامات پر اپنی حفاظت سے غافل ہو کر اس دامِ پرفریب میں آ جاتا ہے اور پھر جو ابلیس چاہتا ہے اس سے کرواتا ہے اور اس ساری تخریب کاری کا ذمہ دار تو بہرحال یہ انسان خود ہی قرار پاتا ہے۔

    انہی تخریبی جذبات میں حسد، بغض و عناد اور آپس کی رنجشیں ہیں جو انسان کے دین اور دنیا کو تباہ کر کے رکھ دیتے ہیں۔ ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی ہی صورتحال کا تذکرہ اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے ان الفاظ میں کیا:

    عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُ قَالَ: إِذَا فُتِحَتْ عَلَيْكُمْ (خَزَائِن) فَارِسُ وَالرُّومُ أَيُّ قَوْمٍ أَنْتُمْ؟ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: نَقُولُ كَمَا أَمَرَنَا اللهُ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ تَتَنَافَسُونَ ثُمَّ تَتَحَاسَدُونَ ثُمَّ تَتَدَابَرُونَ ثُمَّ تَتَبَاغَضُونَ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ ثُمَّ تَنْطَلِقُونَ فِي مَسَاكِينِ الْمُهَاجِرِينَ فَتَجْعَلُونَ بَعْضَهُمْ عَلَى رِقَابِ بَعْضٍ

    عبداللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب فارس اور روم کے(خزانے) تم پر کھول دیئے جائیں گے، تو اس وقت تم کس طرح کے بن جاؤ گے؟ عبدالرحمن بن عوف‌رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم وہی بات کہیں گے جو اللہ تعالیٰ ہمیں حکم دیا ہے۔ (یعنی شکر کریں گے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ بھی، تم ایک دوسرے سے رشک کرو گے، پھر حسد کرنے لگو گے، پھر ایک دوسرے سےپیٹھ پھیرو گے، پھر آپس میں بغض رکھو گے، یا اسی طرح کچھ کرو گے، پھر تم مہاجرین کے گھروں کی طرف جاؤ گے اور انہیں ایک دوسرے کی گردنوں پر رکھو گے(ایک دوسرے کا حکم بناؤ گے)۔
    (سلسلہ احادیث صحیحہ، حدیث :2035)

    حسد، بغض اور عناد ایسے زہریلے عناصر ہیں جو معاشرتی زندگی کو تہ و بالا کر کے رکھ دیتے ہیں اور انسان سکون قلب سے محروم ہو جاتا ہے مگر ابلیس اس کو یہ سارے حالات خوشنما کر کے دکھاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو عین حق پر جانتا ہے۔ انا پرستی کا بت انتہائی طاقتور ہو جاتا ہے اور انسانیت کا جذبہ معدوم ہو جاتا ہے۔ ایسے میں الہامی ہدایت ہی ہمارے لیے مینارہ نور کی حیثیت رکھتی ہے اور عناد کے بحر ظلمات سے بھائی چارہ اور باہمی انس و محبت کے روشن جہان میں لانے کا ذریعہ بنتی ہے۔

    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ .

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے کو پیٹھ نہ دکھاؤ ( یعنی ملاقات ترک نہ کرو ) اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو، اور کسی مسلمان کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ملنا جلنا چھوڑے رکھے ۔
    (سنن ابی داؤد، حدیث: 4910)

    مام ابن قیم رحمہ اللہ، ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے خاص تلامذہ میں سے ہیں۔ تصوف اور سلوک کی صحیح اسلامی شکل کو انھوں نے اپنی تصانیف کے ذریعے واضح کیا۔ مدارج السّالكين میں وہ لکھتے ہیں :

    ‏طبعٌ مذموم، نسأل اللَّه العافية

    قال الإمام ابن القيِّم – رحمه اللّٰه -:

    كثيرٌ من النّاس لا يهنأ له عيشٌ في يومٍ
    لا يؤذي فيه أحدًا من بني جنسه،

    ويجد في نفسه تأذيًا بِحمل تلك السمّية
    والشر الذي فيه، حتى يفرغهُ في غيره،

    فيبرد عند ذلك أنينهُ، وتسْكن نفسَه.

    مدارج السّالكين (٧٩/١)

    بد طینت طبع، ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرتے ہیں

    امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

    بہت سے لوگ اپنی زندگی کا ایک دن بھی اس حال میں نہیں گزارنا چاہتے
    کہ وہ اپنے ہم جنس (کسی دوسرے انسان) کو تکلیف نہ دیں

    وہ اپنے آپ کو تکلیف میں محسوس کرتے ہیں اس زہر سے جو ان کے اندر بھرا ہوا ہے
    اور اس کا ضرر اٹھائے رکھتے ہیں حتی کہ اسے کسی اور کے جسم میں داخل کر دیں

    پھر کہیں جا کر ان کا غضب ٹھنڈا ہوتا ہے اور ان کی روح کو تسکین ملتی ہے۔

    مدارج السّالكين (جلد 1/صفحہ 79 )

    کس احسن انداز میں انھوں نے انسان کے دو رویوں کو بیان کر دیا ہے۔ پہلا رویہ انسان کا دسرے انسانوں کے ساتھ اور دوسری طرف اس کی رب تعالیٰ سے لگائی گئی امیدیں۔ انسان کا اپنا تو یہ حال ہے کہ وہ خوامخواہ دوسروں کے لیے اپنے دل میں عناد بھرے رکھتا ہے اور ان کو اذیت دیے بغیر اطمینان نہیں پاتا۔ دوسروں کو ایذا دینے کو ہم اپنی تسکین کا ذریعہ بنا بیٹھے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے عافیت کے طلبگار ہیں۔ کیونکر ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے عیال کہا، ہم رنج پہنچائیں اور بدلے میں اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کریں۔ ہرگز نہیں بلکہ دنیا کے غموم و ھموم، وباؤں اور بیماریوں سے عافیت چاہتے ہیں تو اپنے قلب کی اصلاح کیجیے۔ دوسروں کو معاف کرنا سیکھیے اور اپنے دل کو وساوس سے پاک کر لیجیے۔ جب آپ کے دل میں دوسروں کے لیے عناد کی جگہ محبت ہو گی تو کائنات کا مالک بھی آپ کو عافیت عطا فرمائے گا۔

  • وبا   تحریر؛عائشہ طاہر

    وبا تحریر؛عائشہ طاہر

    وبا
    "ماں! بھوک لگی ہے،روٹی دے دو” نقاہت بھری ننھی سی آواز اس کے قریب ہی ابھری تھی۔
    "ماں! تم سنتی کیوں نہیں،مجھے بھوک لگ رہی ہے،روٹی دے دو نا” آواز پھر آئی تھی مگر وہ اب بھی چپ سادھے بیٹھی تھی۔
    "ماااااااں! مجھے بھوک لگ رہی ہے” اب کے آواز میں شدت ابھری تھی مگر وہ اب بھی بغیر اس آواز پر توجہ دیئے بے تاثر آنکھوں سے دروازے کو تک رہی تھی۔

    "ماں! بابا ہوتے تو مجھے روٹی لاکر ضرور دیتے،بابا بہت بہادر تھے وہ فوجیوں سے بھی نہیں ڈرتے تھے،تم بالکل بھی اچھی نہیں ہو،روٹی بھی نہیں دیتی بات بھی نہیں سنتی” منہ بسورے وہ ننھی کلی شکووں کی پٹاری کھولے بیٹھی اور ماں خشک بنجر آنکھیں لیے یوں بے حس و حرکت بیٹھی تھی جیسے بہری ہی ہوگئی ہو۔

    "میں جنت میں جاؤں گی نا تو اللہ کو بھی تمہاری شکایت لگاؤں گی اور بابا کو بھی بتاؤں گی تم مجھے روٹی نہیں دیتی تھی، ماں! چلو ابھی جنت چلتے ہیں بس، وہاں اللہ تعالی سے کھانا بھی لیں گے اور بابا بھی مل لیں گے۔ وہاں، چلو ماں۔۔۔اب اٹھو بھی۔ اب کی بار ننھے ننھے ہاتھوں نے اس کو جھنجھوڑا تھا اور وہ جو پتھر کی مورت بنی بے حس و حرکت بیٹھی تھی،ان جملوں نے گویا اس میں کرنٹ بھردیا تھا، خشک ویران آنکھوں میں چمک سی بھرگئی تھی ،تیر کی تیزی سے وہ اٹھی اور چادر سر پر جمائے، پانچ سالہ زاریہ کا ہاتھ تھامے دروازے کی طرف بڑھی اور کنڈی کھول کر سنسان گلی میں نکل گئی تھی۔

    "اے اے ! کہاں جا رہی ہے تو؟ رک ،ارے رک ۔۔۔!” اپنے پیچھے چلاتے ہندو فوجی کی للکار کو ان سنی کرتی وہ زاریہ کو گھسیٹتی تیز قدموں سے آگے بڑھ رہی تھی کہ ایک دم فضا میں تڑتڑاہٹ کی آواز گونجی تھی اور ساتھ ہی زاریہ کی معصوم چیخ بھی، وہ ٹھٹھک کر رکی تھی اور بے دم ہوکر گرتی زاریہ کو لپک کر سینے سے لگایا تھا۔
    "اللہ! ” آخری ہچکی کے ساتھ یہ لفظ زاریہ کے لبوں سے ادا ہوا تھا اور زاریہ کو سینے سے چمٹائے اس کی پشت سے بہتے لہو میں اپنے تر بتر ہاتھوں کو تکتی وادئ کشمیر کی اس بلکتی ماں نے ساتھ چھوڑتے حواس کے ساتھ تڑپ کر دور ساتویں آسمان پر متمکن ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرنے والی اس وحدہ لاشریک ذات کو شکوہ کناں نگاہوں سے تکا تھا اور عرش ہل گیا تھا۔۔۔

    آناً فاناً فیصلہ ہوا تھا۔۔۔زمین والوں پر وبا چھوڑ دی گئی تھی۔۔۔
    وہ آزاد تھے مگر "موت” کے نادیدہ خوف نے ان کو گھروں میں محصور کردیا تھا۔۔۔
    جگمگاتے شہر اور پر رونق گلیوں میں گویا ایسا سناٹا در آیا تھا جیسے کسی عفریت نے یہاں اپنے پنجے گاڑ دیے ہوں یا کسی آسیب کی افواہ نے لوگوں کو وہاں سے دور بھگادیا ہو۔۔۔
    ملاقات تو دور ایک دوسرے کی شکلیں تک دیکھنے کو ترس گئے تھے۔۔۔
    اور سزا صرف یہیں تک محدود نہیں تھی بلکہ۔۔۔۔خدا نے اپنے گھر کے دروازے بھی ان پر بند کرلیے تھے!

  • اور صبر و برداشت سے بڑی خیر وعطا کوئی نہیں…!!! تحریر:جویریہ چوہدری

    اور صبر و برداشت سے بڑی خیر وعطا کوئی نہیں…!!! تحریر:جویریہ چوہدری

    میں نے آٹے والی پیٹی میں سے گوندھنے کے لیئے آٹا نکالا،اور دیکھا کہ آٹا تو ختم ہونے کے قریب ہے…اور آج کل تو آٹے کی ضرورت بھی زیادہ ہے کیونکہ گھر کے سبھی افراد گھر پر ہیں اور پھر کوئی نہ کوئی مستحق بھی آ جاتا چنانچہ طبیعت کی ناسازی کے باوجود ارادہ کیا کہ چلو آج ایک بوری گندم ہی صاف کر دی جائے تاکہ چکی پر پیسنے کے لیئے بھیجی جا سکے…
    چارو نا چار گندم کی بالٹیاں بھر بھر کر صحن میں رکھنا شروع کر دیں،اور چھپی نگاہوں سے سب کو تلاشنا بھی شروع کیا کہ کوئی مدد کو آتا ہے کہ نہیں…
    لیکن ظاہر سی بات تھی سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے اور مجھ مسکین پر کسی نے نظرِ رحم نہ کی اور شاید سبھی میرے کام سے بے خبر تھے…
    مجھے دل ہی دل میں بلا کا غصہ آیا کہ بھئی کمال ہے گیمز کھیلنا بہت ضروری ہیں؟
    اندر ہی اندر قہقہے بلند ہو رہے ہیں؟؟
    ہاں فل آواز میں چولہے کی آواز آ رہی ہے ضرور کوئی ریسیپی تیار ہو رہی ہو گی محترمہ کی؟
    وہ تو بس کوکنگ سنبھال کر باہر سے بے فکر…
    یہ تو گارلک تکہ اور انڈوں کے حلوہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں…
    اور ابھی کوکنگ کے بعد تلاوت و تفسیر کا وقت ہو جائے گا اور میری دلجوئی…؟
    اُف میں نے آج اکیلے کیا مصیبت سر ڈال لی ہے وغیرہ؟
    غرض خیالات کا سلسلہ اندر ہی اندر بہہ رہا تھا جو لبوں تک ابھی نہیں آیا تھا اور وجہ گردے میں درد تھی…
    خیر چند ہی لمحوں بعد جب سب نے میری عدم موجودگی کا نوٹس لیا تو سبھی بھاگے آئے کہ آپ کو کیا فکر پڑی تھی کل کر لیتیں،کون سا مجبوری تھی؟؟
    اب مجھے سب کے اپنے ہونے کا احساس ہونے لگا تھا…
    امی جان نے انڈا ابال کر بھیجا تھا کہ یہ اُسے دے آؤ کھالے…
    سسٹر سٹرابری دھو کر لے آئیں…
    اور بھائی گندم کی بالٹیاں بھر بھر کر مجھ تک پہنچانے لگے،اور صاف کی ہوئی الگ بوری میں ڈالنے لگے…
    چند لمحات پہلے کے خیالات ہوا ہو چکے تھے اب ایک سکون سا گھیرے ہوئے تھا…اُس وقت جو چاہا کہ ذرا چیخ کر سب کو بلاؤں کہ کہاں گئے ہو؟
    ایسا نہ کرنے پر فرحت رگوں میں اُتر رہی تھی اور میں نے انہیں یہ محسوس بھی نہ ہونے دیا کہ میں غصہ میں تھی…
    سو کام آدھے گھنٹہ میں مکمل بھی ہو چکا تھا کہ نمازِ ظہر کے لیئے اذان کی آواز بلند ہوئی تب میں نے شکر کیا کہ چلو بروقت فراغت ہوئی…اور دل میں اب پھر اک سوال اُبھرا کہ اگر میں ناراضگی کا اظہار کر ہی دیتی تو سب کے دل میں کیا بات جاتی؟
    سب کی ہنسی افسردگی میں بدل جاتی اور وہ مدد کرتے ہوئے بھی بوجھل ہو رہے ہوتے…
    حالانکہ ہر کام اور ہر لمحہ ساتھ نبھاتے ہیں…!!!

    صبح ناشتے کا پراٹھا،انڈا اور چائے کا کپ اُٹھا کر اپنے کمرے میں پہنچی،والدہ محترمہ بہت زبردست پراٹھا بناتی ہیں اور سبھی خاندان والے امی کے پراٹھے یاد کرتے ہیں…لیکن تین دن سے مجھے تو بالکل بھی پسند نہیں آ رہا تھا درمیان سے موٹا اور سائیڈ سے پتلا پراٹھا بھلا یہ کیا اصول ہوا؟
    آج تو جا کر امی جان سے شکایت کرتی ہوں کہ جیسے بھی ہو میں ناشتے میں خامی نہیں برداشت کر سکتی…
    چنگیر اُٹھا کر کچن میں پہنچی،دل تھا کہ آج تو چنگیر زور سے پٹخ دوں اور ساتھ ہی ایک مرحوم پڑوسی بابا جی بھی یاد آئے جن کو بہو کھانا دے کر آتی تھیں تو وہ اچھی طرح کھانا کھا کر پلیٹ صاف کر کے خالی چنگیر اور پلیٹ دور سے ہی پھینک دیتے جو بعض اوقات کام میں مگن بہو کی پیٹھ پہ آ لگتی وہ بہو اب بھی کبھی ملیں تو یہ دلچسپ آپ بیتیاں سناتی ہیں…
    خیر اسی خیال کے آتے ہی چنگیر تو آرام سے شیڈ پر رکھ دی اور ناراضگی میں باہر جانے لگی تو امی جان جو پیڑھی پر بیٹھی تھیں سمجھ کر کہنے لگیں،بچے آج تمہاری روٹی موٹی ہو گئی تھی…پتہ نہیں آٹا ٹھنڈا تھا کہ کیا میں نے تو روٹی بہت دقت سے بنائی ہے…
    ہاں جی امی وہ میں فریج میں آٹا رکھ کر نکالنا ہی بھول گئی تھی تو بہت سخت ہوگیا ہوگا معذرت امی جی…
    نہیں ذرا دھیان سے نکال دیا کرو کیونکہ صبح تو سردی سے میرے ہاتھ ٹھنڈے برف بنے ہوتے ہیں…
    جی ضرور امی…
    غلطی تو میری تھی اور میں ہی غصہ سے چنگیر پہ بھی غصہ نکالنا چاہ رہی تھی؟
    ،نگاہیں ندامت سے جھکنے لگیں…
    قارئین !!!
    یہ تو محض دو واقعات تحریر کیئے ہیں لیکن یہ سچ ہے کہ اکثر غلطی ہماری اپنی ہوتی ہے…
    ہم بات سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہوتے…
    کسی کی بات کا مقصد نظر انداز کر دیتے ہیں…
    اور محض بدگمانی اور عدم برداشت کی وجہ سے پھٹ پڑتے ہیں…
    جس کا نقصان بھی ہمیں ہی برداشت کرنا پڑتا ہے…
    سو زندگی میں مثبت بھی سوچتے رہنا چاہیئے…کبھی کسی کی چھوٹی موٹی غلطی کو نظر انداز بھی کر دینا چاہیئے…
    ہاں جہاں واضح غلطی کی اصلاح کی ضرورت محسوس ہو رہی ہو وہاں خاموش رہنا بھی غلط ہے…
    لیکن کسی کو محض وہم و گمان سے نشانے کی زد پر نہیں رکھنا چاہیئے…
    تھوڑی سی برداشت،صبر تحمل،بردباری بسا اوقات بڑے نقصانات سے بچا لیتے ہیں اور کبھی انہی کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے شرمندگی و نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے…
    ہر بات کو جوش کے آئینہ میں ہی دیکھنے کی بجائے کبھی ہوش کا آئینہ بھی سامنے رکھنا چاہیئے…
    مجھے یاد آیا کہ پچھلے دنوں میں نے کسی گروپ میں ایک پوسٹ فارورڈ کر دی جس میں مردوں کی گھریلو مصروفیات کا مزاحیہ جائزہ تھا… جو کہ ہمارے مردوں کی اکثریت کا رویہ بھی ہے…نظر سے گزری تو دلچسپ لگی۔۔۔ جبکہ میرا اصول زیادہ تر صرف اپنی تحریر ہی فارورڈ کرنا ہے تو ایک گروپ ممبر نے(نامعلوم بہن ہیں کہ بھائی؟) نے کمنٹ کیا کہ آپ لوگوں کو صرف ایکٹروں کے انداز ہی گروپ میں بھیجنا پسند ہیں کچھ تو…… کرو وغیرہ۔
    اب اگر میں چاہتی تو اس بلینک کو پُر کر سکتی تھی کہ شرم کرو،حیا کرو یا خیال کرو وغیرہ
    یعنی ان کا مطلب کیا تھا؟
    تو بات طول پکڑ لیتی،بحث لمبی ہو جاتی…حالانکہ اُس تحریر میں نہ تو ایکٹرز کا تذکرہ تھا اور نہ ہی میرا مدعا…
    جبکہ بعض اوقات گروپ میں کچھ چیزیں بالخصوص وڈیوز وغیرہ ناگوار بھی گزرتی ہیں لیکن گروپ میں موجود سبھی قابلِ احترام ممبرز کی رائے اور فکر یا پیغام کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے…یہ بات تو سردست یاد آ گئی تو وضاحت کر دی ہے…
    بات ہم اپنے رویوّں میں تبدیلی کی کر رہے ہیں کہ جب تک ہم خود کو نہیں بدلتے…
    اَنا کو کم نہیں کرتے…
    کسی کی سوچ اور رائے کا احترام نہیں سیکھتے…
    اور محض بدگمانی اور تنقید کے تیروں کی برسات جاری رکھتے ہیں تو کسی بھی سفر کا مزہ ادھورہ رہ جاتا ہے…
    ہم اس کی لذت و چاشنی سے محروم رہ جاتے ہیں…
    محدود نظریات کے حامل بن جاتے ہیں
    چاہے وہ گھر ہو یا دفتر…
    فورمز ہوں یا ایوان…
    ہم تنہائی کا شکار ہونے لگتے ہیں کیونکہ ہم سب کو اپنی شخصیت اور سوچ کے آئینہ میں نہیں ڈھال سکتے ہمارے ذمہ بہترین نصیحت حکمت کے ساتھ پہنچا دینا ہے…!!!
    کبھی کچھ برداشت کر جانا…
    صبر کا گھونٹ پی جانا…
    بے پرواہ بن جانا بھی اس زندگی کے حُسن کو مذید چار چاند لگا دیتا ہے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جو کوئی صبر کی عادت ڈالے اللّٰہ تعالٰی اسے صبر دے دیتا ہے اور کوئی عطا صبر سے زیادہ بہتر اور کشادگی والی نہیں…”
    (صحیح مسلم)۔
    جب ہم صبر و برداشت کا دامن تھام لیتے ہیں تو لاریب ہمارا ذہن وسیع،ظرف بلند اور دل کشادہ ہو جاتے ہیں…!!!!!

  • مودی جی اگر ننگا ہونے کا بھی کہ دیں تو لوگ خوشی خوشی عمل کریں گے—از—عزیز احمد نئی دہلی

    مودی جی اگر ننگا ہونے کا بھی کہ دیں تو لوگ خوشی خوشی عمل کریں گے—از—عزیز احمد نئی دہلی

    شہر کا شہر پاگل نہیں ہوا ہے, بیوقوف ہم لوگ ہیں جو حالات کی سنگینی کو سمجھ نہیں پارہے ہیں, تالی, تھالی, اور پھر دِیا جلانے کا حکم, اور اس پر اکثریت کا نہ صرف خوشی خوشی عمل کرنا, بلکہ پٹاخوں کے ذریعہ "کرونا وائرس” کو دیوالی کا تیوہار بنا دینا,

    صرف سطر نہیں بین السطور بھی پڑھنے کی کوشش کریں, اس وقت مودی جی کی ہندوستان میں مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اگر وہ کپڑا اتار شہر میں لوگوں کو ننگا چلنے کا بھی ٹاسک دے دیں, تو لوگ خوشی خوشی عمل کردیں, بلا مبالغہ وہ اس وقت ہندوستان کے بغیر تاج کے راجا ہیں, جن کا ہر قول ان کے ماننے والوں کے لئے آسمانی حکم کا درجہ رکھتا ہے, اور اس کی تعمیل میں وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں,

    لوگوں کی یہی ذہنیت میرے یقین کو تقویت پہونچائے جارہی ہے کہ کل کو اگر سمودھان کو تبدیل کرنے کی بات کی جاتی ہے تو مخالف میں اٹھنے والی آوازیں بس مسلمانوں کی ہوں گی, یا پھر چند وہ آوازیں جنہیں انگلیوں پر گنا جا سکے گا, جاہلوں سے زیادہ اس وقت پڑھے لکھے, اور خود کو Elite سمجھنے والے اسلاموفوبیا کے شکار ہیں, بھکتی دل و دماغ ہر حاوی ہوچکی ہے,

    مسلمانوں سے نفرت نیو نارمل بن چکا ہے, اچھے خاصے پڑھے لکھے, اور تو اور ڈاکٹر انجینئر بن کر عرب ملکوں میں پیسہ کمانے والے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعہ ہندوستان میں مسلمانوں کی نسل کشی کی بات کرتے ہیں, مودی جی مستقبل میں ہاریں یا جیتیں, لیکن جو کھائی وہ کھود چکے ہیں, اسے بھرنے میں یقینیا سالوں لگ جائیں گے, بلکہ شاید بھرا بھی نہ جا سکے, اور سچویشن مستقبل میں مزید خراب ہوتا چلا جائے.

  • اللہ کی مرضی اور اللہ کے فیصلے اللہ سے بڑھ کر اور کوئی نہیں جانتا  تحریر :سفیر اقبال

    اللہ کی مرضی اور اللہ کے فیصلے اللہ سے بڑھ کر اور کوئی نہیں جانتا تحریر :سفیر اقبال

    #سفیہِ برگ گل

    انہوں نے کہا کہیں نظر نہ آنا
    جواب ملا "ٹھیک ہے نہیں نظر آئیں گے لیکن کیوں” ؟
    انہوں نے بتایا "تمہارا نام اور تمہارا ہر اچھا کام دنیا والوں کو چبھتا ہے”
    جواب ملا "نام نہیں نظر آئے گا البتہ کام نہ رکنے والا ہے اور نہ رکے گا.”

    پھر دنیا والوں نے دیکھا سب کچھ ختم کر دیا گیا . گھنے درختوں کی گھنی آور ٹھنڈی چھاؤں سے تمام مسافر اٹھا دئیے گئے اور اس سایہ چمن سے محروم کر دئیے گئے جو سالہا سال سے گرتے پڑتے تھکن سے چور مسافروں کو حوصلہ اور تسکین بخش رہا تھا.

    اللہ کی مرضی اور اللہ کے فیصلے اللہ سے بڑھ کر اور کوئی نہیں جانتا
    کرونا جنگ شروع ہوئی تو وہ گمنام مسافر اور بے نام راہی جو تپتے صحراؤں میں چلتے چلتے گھنی چھاوں والے درختوں سے محروم ہو کر ادھر ادھر بھٹک رہے تھے… منزل تک پہنچنے سے مایوس ہو رہے تھے نئے ولولوں کے ساتھ دوبارہ عازم سفر ہوئے. نیکی کبھی فنا نہیں کی جا سکتی. احسان کا بدلہ احسان سے بڑھ کر کچھ نہیں. وہ نیکی اور اچھائی کے درس جو امت کے نوجوانوں کے دل میں بٹھا دئیے گئے حالات کے اتار چڑھاؤ کے باعث اتنی جلدی مٹنے والے نہیں ہوتے. حکومتوں کے فیصلے بیشک بجا ہو گے لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے
    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ….!

    کرونا وائرس کی اس جنگ میں جس وقت حکومتی ایوانوں میں ٹائیگرز فورس کے ابھی صرف مشورے چل رہے تھے…. اس وقت "تلہ گنگ کرونا فائیٹرز” میدان میں اتر چکے تھے . جس وقت ٹائیگرز فورس کی شرٹیں پرنٹ ہو رہی تھیں کرونا فائیٹرز ایک تاریخ رقم کر رہے تھے. تلہ گنگ کا ایک نوجوان….. ایک سرکاری سکول ٹیچر اٹھا اور اپنے چند رفقاء کے ساتھ ملکر کرونا وائرس کی اس جنگ میں ہراول دستہ بن کر سامنے آیا. اور میڈیا پر ایک بار پھر یہ تاریخی الفاظ گونج گئے کہ” کسی بھی حادثے میں جہاں ابھی فوج اور سرکاری ادارے نہیں پہنچتے یہ لوگ وہاں پہلے پہنچ جاتے ہیں ”

    ایک سرکاری سکول ٹیچر کو کسی "اچھے کام” سے نہ تو روکا جا سکتا اور نہ ہی اس پر انگلیاں اٹھائی جا سکتی ہیں . کیوں کہ وہ سرکاری بندہ ہے. وہ "ہم” میں سے ہی ہے اس لیے جو اس کے ساتھ ہے وہ بھی” ہم” میں سے ہی ہے.

    سفیہِ برگِ گل بنا لے گا قافلہ مورِ ناتواں کا
    ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہو گا

    خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
    میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا

    (اللہ تعالیٰ عرفان صادق صاحب اور ان کے رفقاء کو ریاکاری اور ہر قسم کے فتہ و فساد سے محفوظ رکھے )

    #رنگِ_سفیر