میں کیسے مناؤں سالگرہ مبارک؟
(جویریہ بتول)۔
(ایک بہن کی فرمائش پر جو اس نے اپنی سالگرہ کے موقع پر لکھنے کے لیئے کی تھی)۔
گزر گئیں دھیرے دھیرے گھڑیاں…
ہوا زندگی کا ہے اک اور سال کم…
دیوارِ حیات کی گری اک اور اینٹ…
یہ میرے لیئے موقع خوشی ہے کہ غم؟
گئے سال کے سب بیتے لمحوں میں…
مسرت کی گھڑی اور غموں میں…
کھو گیا سب،کہ کُچھ پا بھی سکی؟
نئے رنگ بھرے کہ ہےتصویر بے رنگ ابھی؟
میرے وقت کی قدر و اہداف آئے ہاتھ…
کہ ساری صلاحیتیں وقت بہا لے گیا ساتھ؟
میں غفلت کی ردا میں ہی سوئی رہی…
کہ غمِ دنیا میں ہی کھوئی رہی؟؟
اور وقت کا تو کام ہے ہی چلنا…
اس کی لغت میں نہ کہیں ہے رُکنا…!!!
کھو کر اک سال میں کیا خوشی مناؤں؟
میری زندگی ہوئی ہے کم،دنیا کو بتاؤں؟
کروں کیا میں سراسر تقلیدِ نصاریٰ؟
اور دامن میں بھروں سودائے خسارہ؟؟
جن کی آگ سے نہ روشنی لینے کا…
جن کی تہذیب سے سدا دُور رہنے کا…
فلاح کا رستہ محسنِ انسانیت دکھا گئے…
حق و کامل ہے کیا؟ یہ عمل سے ہمیں بتا گئے…
میرے ہاتھ میں ہے چراغ روشنئ کامل…
پھر میں رہوں کیوں نہ اس پر ہی عامل…!!!
یہی مری فلاح کا سامان ہے…
یہی میری زندگی،مرا ایمان ہے…!!!
میں جیئوں کہ مروں تو اس روشنی کے سنگ…
جس سے ہومحبّت،ہو گا انسان اس آدمی کے سنگ…!!!
یہی سوچ کر یہ سالگرہ میں مناتی نہیں…
ہے ڈھونڈا بہت مگر، وجود اس کا نہیں پاتی کہیں…!!!
==============================
Category: بلاگ
-

میں کیسے مناؤں سالگرہ مبارک؟ تحریر: جویریہ بتول
-

نظر ہو عقابی…!!! بقلم:جویریہ بتول
نظر ہو عقابی…!!!
[بقلم:جویریہ بتول]۔
گرفتح کی منزل تک پہنچنا ہو…
دشمن کو قدموں میں روندنا ہو…
وسائل پہ جرأتوں کو ہو فوقیت…
کثرت پہ نازاں نہ ہونے کی تربیت…
اپنے چمن کا حصار ہو مضبوط…
کہیں بھی کہیں بھی ہو خلا نہ موجود…
قلعے اور گھروندے سبھی رہیں مامون…
تو صفوں کے غداروں پہ نظر ہو عقابی…
جو موقع ملتے ہی نہ پلٹ سکیں جوابی…
شجر کی جڑوں کو یہی کرتے ہیں کھوکھلا…
جادہ و منزل میں یہی کرتے ہیں فاصلہ…
عزائم کی راہوں میں دیوار بن کر…
آستین میں پلتے سانپ پھن دار بن کر…
وفاؤں کے دشمن وفا دار بن کر…
جو رہتے ہیں ساتھ جی دار بن کر…
جو گھٹن کی سخت آزمائش گھڑی میں…
گھونپتے ہیں جو بس وہ ہوتا ہے خنجر…
جو پیٹھ پیچھے سے کر کے وار کرتے ہیں بنجر…!!!
عزم اور منزل کے رستے کے دشمن…
یہ ہوتے ہیں ننگِ ملت اور ننگ وطن…!!!
(4 مئی ٹیپو سلطان کے یومِ شہادت کی تاریخ کی مناسبت سے)۔ -

معزز مہمان جسکے جانے کا احساس صرف دو گھنٹے میں ہو جاتا ہے تحریر: فیصل ندیم
معزز مہمان جسکے جانے کا احساس صرف دو گھنٹے میں ہو جاتا ہے
تحریر: فیصل ندیم
میری طرح بیشمار لوگ اس سے محبت کا اظہار کرتے ہیں اس کی آمد سے پہلے اس کا انتظار کرتے ہیں ۔۔۔۔۔
ہر طرف اس کی باتیں اس کے ہی تزکرے ہوتے ہیں جیسے جیسے اس کی آمد قریب ہوتی ہے اس سے ملاقات کا اشتیاق بڑھتا چلا جاتا ہے ۔۔۔۔
وہ کبھی بھی خالی ہاتھ نہیں آتا ہمیشہ اس کے ساتھ بہت قیمتی تحائف ہوتے ہیں اتنے قیمتی کہ جن کی شائد دنیا میں دوسری مثال کوئی نہ ہو ۔۔۔۔
اس کی آمد کے بعد ہر شخص کا چہرہ خوشی سے دمک رہا ہوتا ہے ہر طرف اس کی آمد کی بات اور اس کے ساتھ آنے والے بیش قیمت تحائف کا ذکر ہوتا ہے ۔۔۔۔
بڑا عجیب ہے وہ اسے آتے ہی جانے کی جلدی ہوتی ہے اتنی محبت اتنا پیار اسے ہر طرف سے مل رہا ہوتا ہے لیکن وہ رکتا نہیں ہے چلا جاتا ہے ۔۔۔۔
وہ بڑا سخی ہے اپنے ساتھ لانے والے تمام قیمتی ترین تحائف ہمیشہ چھوڑ کر جاتا ہے کبھی بھی کچھ بھی ساتھ نہیں لے جاتا ۔۔۔۔
محبت کا دعوی اس سے سبھی کرتے ہیں لیکن اکثر لوگ اس کے تحائف کی ناقدری کرتے ہیں انہیں ضائع کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان بیش قیمت تحائف کی اصل قیمت سے واقف نہیں ہوتے ۔۔۔۔
چند لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں جو اس کے لائے گئے تحائف سنبھالتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ جو اس کے تحائف سنبھال لیتا ہے ان سے وہ کبھی بھی جدا نہیں ہوتا دوبارہ آنے تک ہر لمحہ اس کا ان لوگوں کے ساتھ گزرتا ہے ۔۔۔۔
جی ہاں یہ رمضان ماہ غفران ہے جو ہر سال آتا ہے اور بڑی جلدی چلا جاتا ہے ….
آتے ہوئے اس کا دامن رحمتوں ،مغفرتوں ، برکتوں جیسے قیمتی ترین تحائف سے بھرا ہوتا ہے جنہیں یہ ہر ایک کو تقسیم کرتا ہے بہت تھوڑے ہوتے ہیں جو ان تحائف کو سنبھال لیتے ہیں ۔۔۔۔
رمضان کی آمد کا مقصود تقوی اس کے جانے کے بعد بھی ان کا ہمسفر ہوتا ہے اور جس کا ہمسفر یہ تقوی ہو اس سے رمضان کبھی نہیں جاتا یہ شوال سے شعبان تک اس بندے کے ساتھ ہوتا ہے جس نے رمضان کے لائے گئے بیش قیمت ترین تحفہ تقوی کو سنبھالا ہوتا ہے ۔۔۔۔
اور وہ لوگ جو یہ بیش قیمت تحفہ سنبھالنے میں ناکام ہوں ان کا رمضان ان کے روزے ان کی نمازیں ان کی تلاوتیں ان کی تراویحیاں اور ان کے اذکار اپنے ساتھ لیکر صرف ڈیڑھ گھنٹہ میں رخصت ہوجاتا ہے ۔۔۔
یقین نہیں آتا تو رمضان کی آخری مغرب اور شوال کی پہلی عشاء دیکھ لیں مغرب میں مساجد کی رونق اور عشاء میں مساجد کی ویرانی چلا چلا کر اعلان کررہی ہوتی ہیں جو رمضان کے بعد بھی رب کے حضور حاضر ہیں ان کا رمضان باقی ہے اور جو اس لازمی حاضری سے غیر حاضر ہیں ان کا رمضان چلا گیا ہے ۔۔۔۔
واضح رہے رمضان کی آخری مغرب اور شوال کی پہلی عشاء کے بیچ زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ گھنٹہ کا وقت ہوتا ہے -

خدمت انسانیت سے رضائے الہی کا حصول تحریر: حافظہ قندیل تبسم
خدمت انسانیت سے رضائے الہی کا حصول
حافظہ قندیل تبسم
اللہ تعالی نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں فرمایا :
"واحسنوا ان اللہ یحب المحسنین”
اور اچھائی کرو بلاشبہ اللہ تعالی اچھائی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"اگر میں اپنے بھائی کے کسی کام آ جاؤں تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں اپنی اس مسجد میں ایک ماہ اعتکاف کروں۔
اور فرمایا :
"ومن کان فی حاجة اخيه ،كان الله فى حاجته”
” جو اپنے بھائی کے کام میں لگا رہتا ہے ہے اللہ اس کے کام میں لگا رہتا ہے۔”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں چل رہے ہوتے کوئی لونڈی آپ کو ٹھہرا لیتی اور کہتی :
مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے تو آپ کھڑے ہو کر اس کی بات سنتے۔ ایسا بھی ہوتا کہ آپ اس کے ساتھ اس کے آقا کے ہاں چلے جاتے اور اس کا مسئلہ حل کراتے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے میل جول رکھتے اور ان کے مصائب و آلام پر صبر کرتے تھے آپ کا لوگوں سے برتاؤ نہایت رحیمانہ تھا آپ انہیں اور اپنے آپ کو جسد واحد سمجھتے تھے غریب کی غربت، غمزدہ کے غم، مریض کے مرض اور محتاج کی محتاجی کا احساس رکھتے تھے۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے صحابۂ کرام سے باتوں میں مشغول تھے کہ دور سے چند لوگ آتے دکھائی دیے۔ وہ فقراء و مسکین تھے جو نجد کی جانب سے آئے تھے ان کا تعلق قبیلۂ مضر سے تھا۔ ناداری کی انتہا یہ تھی کہ انہیں کپڑے سلائی کرنے کو سوئی دھاگا بھی میسر نہیں تھا اور انہوں نے کپڑے درمیان سے چاک کر کے گردنوں میں لٹکا رکھے تھے اس ایک کپڑے کے علاوہ ان میں سے کسی کے پاس کوئی تہبند، عمامہ، شلوار یا چادر نہیں تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ عریانی، تنگ دستی اور بھوک دیکھی تو آپ کا رنگ فق ہو گیا فوراً کھڑے ہوئے گھر تشریف لے گئے لیکن کچھ نہ ملا آپ اس گھر سے نکلے اور دوسرے گھر میں داخل ہوئے ادھر بھی کچھ نہیں تھا پھر مسجد کی طرف چل پڑے۔ ظہر کی نماز پڑھائی اور منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ اللہ تعالی کی حمدوثنا بیان کی اور فرمایا :
"اما بعد، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں فرمایا :
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔ اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بچو بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے۔ (سورۃ النسآء 1)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ لے کہ کل (قیامت) کے لیے اس نے( اعمال کا )کیا (ذخیرہ) بھیجا ہے اور (ہر وقت) اللہ سے ڈرتے رہو۔ یقیناً اللہ تمہارے سب اعمال سے با خبر ہے۔ (الحشر 18)اسی طرح آپ آیات سنا سنا کے نصیحت کرتے رہے پھر فرمایا :
صدقہ کرو اس سے پہلے کہ تم صدقہ نہ کر سکو۔ صدقہ کرو اس سے پہلے کہ تمہیں صدقہ کرنے سے روک دیا جائے۔ ہر شخص اپنے درہم و دینار گندم اور جو کا صدقہ کرے اور کوئی صدقے کی کسی چیز کو حقیر نہ جانے۔
پھر آپ صدقے کی انوع گنواتے رہے۔ آخر میں فرمایا :
صدقہ کرو خواہ آدھی کھجور ہی کا ہو۔ اس پر انصار کا ایک آدمی اپنے ہاتھ میں ایک تھیلی لیے کھڑا ہوا اس نے وہ تھیلی منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا دی۔ آپ کے مبارک چہرے پر خوشی کے آثار دکھائی دیے۔ مجلس برخاست ہوئی ۔ لوگ اپنے اپنے گھروں کو گئے اور صدقات لے کر آئے کوئی ایک دینار لے کر آیا تو کوئی ایک درہم۔ کوئی ایک کھجور لایا اور کوئی کپڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو ڈھیر لگ گئے۔ ایک ڈھیر کھانے پینے کی اشیاء کا اور دوسرا کپڑوں کا۔ یہ منظر دیکھ کر آپ کا چہرہ دمکنے لگا گویا چاند کا ٹکڑا ہو۔ آپ نے یہ سارا سامان انہیں فقراء میں تقسیم کر دیا۔
جی ہاں!
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ضروریات پوری کر کے ان کے دل جیت لیتے تھے۔ آپ ان کے لیے اپنا مال، اپنا وقت اور اپنی کوشش صرف کرتے تھے۔
آپ بھی لوگوں کی ضروریات پوری کر کے اور ان کے کام آ کے اس راستے سے ان کے دلوں میں داخل ہو سکتے ہیں۔ بے لوث ہو کر کام آئیں وہ آپ سے محبت کریں گے۔ آپ کے لیے دعا گو رہیں گے اور جب کبھی آپ کو ضرورت پڑے گی آپ کی مدد کو آئیں گے۔کسی عرب شاعر نے کہا تھا :
احسن الی الناس تستعبد قلوبھم
فظالما استعبد الانسان احسان
لوگوں سے اچھائی کرو تم ان کے دلوں کو اپنا غلام بنا لو گے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ احسان انسان کو اپنا بنا لیتا ہے۔ایک عربی کہاوت بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔
(الانسان عبد الاحسان)
"انسان احسان کا بندہ ہے ۔”الغرض پریشان اور ضرورت مند لوگوں کی حاجت براری کر کے ہم ان کے دلوں میں گھر کر سکتے ہیں اور مالک الملک کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔
بقول اقبالخدا کے بندے تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جسے خدا کے بندوں سے پیار ہو گا -

اس دور میں ہر فارغ شخص شعر کہتا ہے ، شعراء پر کی گئی شاعری بقلم: منہال زاہد سخی
منہال زاہد سخی
سب کچھ بھول بھلا کر پھر وہ شعر کہتا ہے
سب کو چپ لگا کر پھر وہ شعر کہتا ہےبیزار نظر آتے تھے جو شعر و شاعری سے
اب اس گروہ کا ہر فرد شعر سنتا ہے شعر کہتا ہےپریشان نظر آتے ہیں گھر کے سبھی افراد کہ
سب کو ستاتا ہے اسے الہام ہوتا ہے پھر یہ شعر کہتا ہےوہ منظر کی خوبصورتی بڑھانے میں کوشاں ہے
وہ منظر کو چار چاند لگانے میں شعر کہتا ہےیہ شاعری ہے کیا سچ ہے کیا جھوٹ ہے اس میں
گھما پھرا کر کہتا ہے پھر وہ شعر کہتا ہےسب متاثر نظر آتے ہیں اب شعراء سے سخی
اس دور میں ہر فارغ شخص شعر کہتا ہے#قلم_سخی
-

"شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات ” از قلم : ایمان کشمیری
"شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات ”
از قلم ایمان کشمیری
صد شکر کہ رمضان المبارک کا بابرکت اور سعادتوں والا مہینہ ہم پر پھر سے سایہِ فگن ہے ، یہ مہینہ اتنا بابرکت ہے کہ اس میں ہر نیکی کا اجر بڑھا کر سات سو گنا تک کر دیا جاتا ہے ، اس مہینے میں رب کی رحمت ، برکت اور مغفرت بے بہا ہو جاتی ہے ۔۔ اسی مہینے کے بارے میں ہی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ناں کہ :
” اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو ،جس پر رمضان آئے اور وہ گزر جائے مگر اِس کے گناہ معاف نہ ہوں ”
ناک خاک آلود ہونے سے مراد اللہ کی رحمت سے محرومی ہے، یعنی جس کے پاس رمضان کا مہینہ آیا مگر اُس نے اس مہینے میں رب کو راضی کر کے اپنے گناہ نہ بخشوائے تو وہ بہت بدقسمت ہے اور اللہ رب العزت کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے ۔۔۔
آپ سب جانتے ہیں کہ رمضان المبارک کے آنے سے پہلے ہم کرونا وائرس جیسی آزمائش میں مبتلا تھے، اِس نظر نہ آنے والے وائرس کا خوف اِس قدر طاری ہو چکا تھا کہ سب گھروں میں بند ہو گئے تھے ، سکول ، کالج، یونیورسٹیاں ،مدارس ، بازار یہاں تک کہ مساجد کو بھی بند کر دیا گیا تھا مبادا کہ کسی متاثرہ بندے سے دوسرے کو وائرس ٹرانسفر نہ ہو جائے ۔۔۔ قصہ مختصر کہ پوری دُنیا اس چھوٹے سے اور نظر نہ آنے والے وائرس کی وجہ سے سُنسان اور ویران ہو چکی تھی ۔۔ ہم مسلمان جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کوئی مصیبت یا تکلیف نہ تو رب کی اجازت کے بغیر آ سکتی ہے اور نہ ہی جا سکتی ہے، چنانچہ ہم رمضان المبارک کا بڑی بے صبری کے ساتھ انتظار کر رہے تھے کہ جیسے ہی رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہو گا رب اپنی بے پناہ رحمتوں اور برکتوں کے سبب ہم سے اِس آزمائش کو ختم کر دے گا ، ہم روزے کی حالت میں زیادہ رب کے قریب ہوں گے ، زیادہ سے زیادہ عبادت کریں گے ، رو رو کے اپنی عرضیاں رب کے حضور پیش کریں گے مطلب جتنی بھی سستی اور کوتاہی ہم سے گزشتہ زندگی میں ہو چکی ہم اِس مہینے میں اُس کا ازالہ کر لیں گے ۔۔۔
مگر افسوس ہوا کیا ،رمضان المبارک کا مہینہ تو شروع ہو گیا اور ہم جو رمضان المبارک کا بڑی بے صبری سے انتظار کر رہے تھے ترکی کے ایک سیریل ارطغرل میں مگن ہو گئے ، ہم بھول گئے کہ ہم کس مصیبت سے دو چار تھے اور ہمیں اِس مہینے کی کتنی ضرورت تھی ۔۔ آپ کے دل میں خیال آیا ہو گا کہ میں اِس سیریل کے دیکھنے پہ فتوٰی لگانے لگی ہوں ، ارے نہیں نہیں ۔۔۔ میں نہ تو کوئی عالمہ ہوں اور نہ ہی مفتیہ، میں اِس سیریل کو دیکھنے سے منع بھی نہیں کر رہی ،انڈین فلمیں اور ڈرامے دیکھنے سے تو بہتر ہے ایسے سیریل ہی دیکھ لیے جائیں ، مگر میں یہاں جس چیز کےلیے فکر مند ہو رہی ہوں وہ رمضان المبارک کا تیزی سے گزرتا ہوا مہینہ ہے ، ہاں وہی مہینہ جس کے روزوں کے بارے میں حدیثِ قدسی ہے کہ :” روزہ میرے لیے ہے اور میں خود ہی اِس کا اجر دوں گا ”
مطلب رب نے سب عبادات کا اجر بتا دیا مگر روزے کا اجر چھُپا لیا اور کہا یہ میرا اور میرے بندے کا معاملہ ہے میں جتنا بھی چاہوں گا اُسے بڑھا چڑھا کے اجر دوں گا ، ذرا سوچیے جس روزے کا اجر رب نے اس طرح دینا ہو اُس کے کچھ تقاضے بھی تو ہوں گے ناں ۔۔۔
اب ہوا کیا ہم نے روزہ تو رکھ لیا مگر روزے کے تقاضوں کو یکسر بھول گئے ، ہم بھول گئے کہ ہمیں روزے کی حالت میں کن کن کاموں سے بچنا تھا ، ہم بھول گئے کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ تلاوتِ قرآن پاک اور اذکار کی پابندی کرنی تھی ، ہم بھول گئے کہ ہمیں اپنی مناجات سے رب کو راضی کرنا تھا تاکہ وہ ہم پر آئی ہوئی آزمائش کو ختم کر دے ۔۔۔۔ ہمیں یاد رہا تو بس یہی کہ ارطغرل سیریل دیکھنا ہے تاکہ جذبہِ جہاد پیدا ہو ۔۔۔۔۔ ارے یہ کیسا جذبہِ جہاد ہے جس نے رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں کو کھا لیا ، یہ کیسا جذبہِ جہاد ہے جو رمضان المبارک کے مہینے میں لڑے گئے غزوؤں سے تو پیدا نہ ہوا اور اِس سیریل سے پیدا ہونے لگا ، یہ کیسا جذبہِ جہاد ہے کہ ہمارے مجاہدین روز دو ،دو ، چار کر کے شہید ہونے لگے اور ہمیں اُن کےلیے دُعا کی بھی فرصت نہ مل سکی ۔۔۔ ہمارے جوانوں کے ذہنوں میں تو حلیمہ کی ادائیں اور شاہینہ کی وفائیں ہی ثبت ہو کے رہ گئیں ، ہمارے جوانوں کو یاد رہیں تو بس شہناز خاتون کی عیاریاں اور عالیہ خاتون کی مکاریاں ۔۔۔
میں جانتی ہوں کہ میری بات بہت سے لوگوں کڑوی محسوس ہو گی مگر ساتھ یہ بھی دعوی سے کہتی ہوں کہ آپ کے ضمیر اِس بات کی گواہی دیں گے کہ سیریل کو دیکھتے ہوئے نوجوان کس چیز کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں ،ارے دیکھنا ہی تھا تو رمضان کے بعد دیکھ لیتے مگر افسوس وہ لوگ جن کو اِس سیریل کی الف ب کا بھی نہیں پتہ تھا اُنہوں نے بھی عبادت سمجھ کے اِسے رمضان میں دیکھنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ میں نے بغور مشاہدہ کیا کہ ہمارے نوجوان اِس سیریل کو دیکھنے کے بعد اِس میں موجود خواتین کا تذکرہ کرتے نظر آتے ہیں ، کچھ حضرات تو خواتین کی تصاویر اور ویڈیو کلپس اپنی ٹائم لائن پر لگا کر خود بھی لطف اندوز ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی کرتے ہیں ،،،،، میری بہنیں جنھوں نے کبھی اپنی تصویر فیس بک پر اپلوڈ نہیں کی تھی ،وہ بھی سیریل میں موجود خواتین کی تصاویر کو اپنی پروفائل پر لگا کر فخر محسوس کرتی ہیں ، عزیز بہنو!!! تھوڑا نہیں پورا سوچو کہ تمہاری پروفائل پہ لگی ایک غیر محرم عورت کی تصویر کو جب ہمارے جوان زوم کر کے دیکھیں گے اور اُن کے دِل میں بُرے خیالات پیدا ہوں گے تو کیا تمہیں ثواب ہو گا ؟؟؟
درست کہتے ہیں ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ، اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ مثبت پہلو اپناتا ہے یا منفی ۔۔۔ جہاں تک میرا اندازہ اور مشاہدہ ہے تو ہمارا جھکاؤ اِس سیریل کے منفی پہلو کی طرف زیادہ ہے ، زیادہ دکھ اِس بات کا ہے کہ ہم نے اِس سیریل کو رمضانُ المبارک پر فوقیت دے دی ،،،، ارے سیریل تو رمضان کے بعد بھی دیکھا جاتا مگر کیا پتہ اگلا رمضان ہمیں نصیب ہو کہ نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دردِ دِل سے التجا کرتی ہوں ابھی بھی وقت ہے رمضانُ المبارک کی با برکت ساعتوں کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا لیں ، سیریل کو دیکھنا فی الحال ترک کر دیں ، رمضان کے بعد یہی کام ہوتے رہیں گے ، ابھی رب کو منانے کا وقت ہے ،ایسا نہ ہو کہ یہ قیمتی ساعتیں گزر جائیں اور ہم خالی ہاتھ ، نامراد رہ جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو آئیے رب کی بارگاہ میں سب ہاتھوں کو اُٹھاتے ہیں ، سر کو جھکاتے ہیں ، اُسے مناتے ہیں کہ وہ ہم سے وائرس جیسی آزمائش کو دور کر دے ،،،،، میدانِ کارزار گرم ہے ہمارے کشمیری بھائی روز اپنے رب کو شہادتوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں ، ہم اُن کےلیے کچھ اور نہیں کر سکتے تو کم از کم رب سے اُن کی فتح ، نصرت اور مدد کےلیے التجا تو کر سکتے ہیں ناں ،،، اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں سیدھے رستے پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔۔ آمین یا رب المجاہدین، یا ارحم الراحمین ، ارحم لنا -

ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے) کا قرآن مجید میں ذکر بقلم سلطان سکندر!!!
ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے) کا قرآن مجید میں ذکر
"شکار کرنے والے پرندے، ریپٹرز، پرندوں کی ان انواع (سپیشیز) میں شامل ہیں جو کشیرے (ریڑھ دار) جانوروں کا شکار کرتے اور ان کا گوشت کھاتے ہیں جو شکاری کی بہ نسبت بڑے ہوتے ہیں۔
مزید براں، انکی نظر اتنی تیز ہوتی ہے جو انہیں اڑان کے دوران ہی یا کچھ فاصلے پر ہی اپنے شکاری کی طرف متوجہ(فوکس) کر دیتی ہے، انکے پاوں پنجوں کے ساتھ اتنے مضبوط ہوتے ہیں جو شکاری کو پکڑنے یا مارنے کیلئے کافی ہوتے ہیں، اور مڑی ہوئی چونچ جو شکاری کے جسم کو پھاڑنے کیلئے کافی ہوتی ہے۔”
Reference:- Wikipedia, bird of prey, 2019.ریپٹرز اپنے پنجوں کے ذریعے شکار کو پکڑتے ہیں۔ جبکہ اکثر پرندے اپنی چونچ کے ذریعے اپنے شکار کو پکڑتے ہیں جیسا کہ ہاکنگ(Hawking)

"ہاکنگ (Hawking) پرندوں میں شکار کو پکڑنے کی ایک ایسی حکمت عملی ہے، جس میں ہوا میں اڑنے والے کیڑوں کو پکڑنا شامل ہے، ہاکنگ کی اصطلاح اس طرز عمل سے مماثلت رکھتی ہے جس میں ہاک (Hawk) یعنی شکار کو ہوا میں پکڑنا شامل ہے، جہاں ریپٹرز اپنے پنجوں کے ذریعے شکار کو پکڑ سکتے ہیں اسی طرح ہاکنگ کا بھی اپنے شکار کو چونچ کے ذریعے پکڑنے کا ایک طرز عمل ہے۔
Reference:- Wikipedia, Hawking, 2019دوسرے پرندوں سے مختلف، ریپٹرز اپنے شکار کو اپنے پاوں(پنجوں) کے ذریعے شکار کرتے ہیں۔

تو ثابت ہوا کہ ریپٹرز اپنے شکار کو اپنے پنجوں کے ذریعے پکڑتے ہیں، چونچ کے ذریعے نہیں۔
ایسی ہی بات 1400 سال پہلے قرآن میں لکھی ہوئی پائی گئی،Quran 22:31
حُنَفَآءَ لِلّـٰهِ غَيْـرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْـرُ اَوْ تَهْوِىْ بِهِ الرِّيْحُ فِىْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ ( الحج 31#)
خاص اللہ کے ہو کر رہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔
"پرندے اچک لیتے ہیں” جیسا کہ یہ پرندے اس انسان پہ حملہ کرکے اسے اچک لیتے ہیں تو مطلب یہ ریپٹرز (گوشت کھانے والے) پرندے ہوتے ہیں۔
جیسا کہ قرآن کہتا ہے کہ وہ لوگ اچک لیے جاتے ہیں، کھائے نہیں جاتے، اگر وہ پرندے انسانوں کو ہوا میں ہی اچک لے جاتے ہیں، کھائے نہیں جاتے تو اسکا مطلب وہ پرندے اپنے پاوں کا استعمال کرتے ہیں، آج ہم جانتے ہیں کہ ریپٹرز اپنے پاوں کے ذریعے شکار کو پکڑتے ہیں، چونچ کے ذریعے نہیں۔
سوال یہ بنتا ہے کہ ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے ہی کیسے جان سکتا ہے کہ اکثر باقی پرندوں سے مختلف ریپٹرز اپنے پاوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں؟؟؟؟بقلم سلطان سکندر!!!
-

ا صل لٹیرا کون ؟ محمد بن قاسم یا راجہ داہر—-تحریر:—- اویس خان سواتی
آپ جب بھی برصغیر کے مسلم فاتحین کا ذکر کریں گے تو ایک طبقہ ان فاتحین کو بیرونی غاصب اور لٹیرے وغیرہ اور ان کے مقابل مقامی ہندو راجاؤں کو اس دھرتی کا سپوت اور اصل وارث قرار دے گا۔۔۔ آپ محمد بن قاسم کا ذکر کریں تو یہ راجہ داہر کی مدح سرائی کرنے لگیں گے۔ آپ محمود غزنوی کا ذکر کریں تو یہ راجہ جے پال اور راجپوتوں کی مظلومیت کا رونا رونے لگیں گے۔ آپ ترک اور افغان سلاطین کا ذکر کریں تو یہ انہیں ڈاکو قرار دیں گے۔ آپ اورنگزیب عالمگیر کا نام لیں تو یہ مراٹھوں اور سکھوں کا رونا روئیں گے۔ آپ احمد شاہ درانی کا نام لیں تو یہ اسے ظالم درندہ قرار دیں گے۔۔۔۔ اور اگر آپ رنجیت سنگھ کی درندگی کی طرف انکی توجہ مبذول کروائیں تو یہ طبقہ اسے ہندوستان کا جری سپوت قرار دے گا۔
مانا کہ عرب، ترک، افغان، مغل اور فارسی ہند کے مقامی باشندے نہیں۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا راجہ داہر سے لے کر رنجیت سنگھ تک تمام راجے مہاراجے ہند کے حقیقی وارث اور اصل باشندے تھے؟
جواب ہے کہ نہیں! اسے سمجھنے کے لیے ہند میں موجود اقوام کی تاریخ کا مختصر تعارف کروانا ضروری ہے۔
سو عرض ہے کہ ہندوستان میں اڑھائی ہزار قبلِ مسیح دراوڑ نسل آباد تھی۔ اور پھر وسطی ایشیاء سے یہاں آریا نسل وارد ہوئی کہ جن نے دراوڑوں کو جنوبی ہند کی طرف دھکیلنا شروع کیا۔۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ آرئین آگے بڑھتے ہوئے شمالی ہند میں گنگا کے دو آب تک پہنچے۔ تب ان کے سماجی نظام میں تبدیلیاں آئیں اور ان نے عوام کو پیشے کے مطابق مندرجہ ذیل تین فرقوں یا ذاتوں میں تقسیم کر دیا:
آریائی نسل میں حکومت جن لوگوں کے ہاتھوں میں رہی وہ ”شَتّریے“ کہلائے، جنہیں کھشتری یا چھتری بھی کہا جاتا ہے۔ راجا مہاراجے اور فوجی انہی میں سے ہوتے تھے۔
آریائی نسل کے مذہبی رہنما پُروہِت کہلائے کہ جو مذہبی امور کو ادا کرنے کے ساتھ ساتھ راجاؤں کو مذہبی اور سیاسی مشورے بھی دیتے تھے۔ براہمن دراصل پروہت ہی ہیں۔
آریائی نسل میں کھیتی اور تجارت کا کام کرنے والے عام لوگ ’’وَیشیہ‘‘ کہلاتے تھے۔
جبکہ ’’شُودْر‘‘ ان لوگوں کو کہا گیا کہ جن کی رگوں میں آریائی خون شامل نہیں تھا اور جو آریوں کے مذہب اور رنگ سے منفرد تھے۔۔۔ آریائی نسل کے لوگ انہیں گھٹیا اور کمی کمین مانتے تھے۔ اور آج بھی یہی حال ہے۔
یعنی کل ملا کر کہانی کچھ یوں ہے کہ باہر سے ایک نسل حملہ آور ہوئی اور اس نے مقامی لوگوں کو مار کوٹ کر دیوار سے لگا دیا اور پھر خود کو دو حصوں یعنی شتریہ اور پروہت یا کھشتری و براہمن میں تقسیم کیا۔ اور مقامی لوگوں کو شودر قرار دیا۔ یعنی کمی کمین اور خادم۔۔۔
لیکن یہاں کہانی میں تھوڑا ٹوسٹ ہے۔۔۔۔ اور وہ یہ کہ دراوڑ نسل کہ جو آریا کے آنے سے قبل ہند کے حاکم تھے، اور آج کل جنوبی ہند اور سری لنکا میں کروڑوں کی تعداد میں آباد ہیں، بھی یہاں کے قدیم ترین باشندے نہیں، باہر سے آئے ہوئے ہیں۔۔۔
اکثر مورخین و ماہرین اس بات پہ متفق ہیں کہ ہند کے قدیم ترین باشندے "کولا” نسل کے لوگ ہیں۔ کہ جن کے ساتھ حملہ آور دراوڑوں نے وہی سلوک کیا کہ جو آریا نے انکے کے ساتھ کیا تھا۔ بلکہ شاید اس سے بھی برا۔۔۔ اسکا ثبوت یہ ہے کہ آج بھی ہندوستان میں آپ کو مختلف دراوڑی زبانیں اور دراوڑ نسل کے قوم قبیلے کروڑوں کی آبادی میں مل جائیں گے۔ لیکن کولا نسل کا کوئی خاص نشان آپ کو نہیں ملے گا سوائے دو قوموں یعنی بھیل و سنتھال کے۔ کہ جنہیں اچھوت قرار دیا گیا کہ جو شودر کے بعد کا درجہ ہے۔۔۔۔لیکن ماہرین کی ایک جماعت کا یہ بھی ماننا ہے کہ کولا نسل بھی ہند میں باہر سے آئی ہوئی ہے۔۔
___________
یعنی ماشاءاللہ سے سب ہی اس حمام میں ننگے ہیں۔۔۔۔ راجہ داہر کشمیری براہمن تھا۔ یعنی آریائی، نہ کہ سندھی! راجہ جے پال و دیگر ہندو راجے مہاراجے، حتیٰ کہ مراٹھے اور راجپوت۔۔۔ سب کے سب یا تو براہمن تھے یا کھشتری۔۔۔۔ یعنی جن راجوں مہاراجوں پہ مسلمانوں نے غلبہ حاصل کیا، وہ سب غاصب آریاؤں کی اولاد تھے۔ اور آریائی نسل نے جس دراوڑ نسل پہ غلبہ حاصل کیا وہ بھی غاصب تھی۔۔۔۔ اور دراوڑوں نے جن "کولوں” کو مغلوب کیا تھا وہ بھی باہر سے ہی آئے تھے۔۔۔
تو ایسے میں سوال ہے کہ بیرونی غاصب اور لٹیرے صرف مسلمان فاتحین ہی کیوں؟؟؟
مسلمانوں نے تو ظالم غاصب آریائی نسل پہ فتح حاصل کی اور ان کے بنائے ذات پات اور اونچ نیچ کے ظالمانہ اور غیر انسانی طبقاتی نظام کا اپنے زیر انتظام علاقوں میں خاتمہ کیا۔۔۔
تو پھر مسلم فاتحین سے نفرت کیوں؟
جواب صاف اور واضح ہے۔۔۔ کہ محمد بن قاسم کی فتح کے بعد جب براہمن، کھشتری اور ویشیا ہندوؤں نے دیکھا کہ جنہیں ہم شودر، ملیچ اور اچھوت کہتے تھے۔ کہ جو ہمارے سامنے ننگے پاؤں چلنے، پگڑی نہ باندھنے اور جھکنے کے پابند تھے، انہیں مسلمانوں نے ہمارے برابری کے حقوق دے دیے ہیں تو ان میں اس وجہ سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا ہو گئی اور ان نے مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈہ شروع کر دیا، مسلمانوں کے مظالم کی کہانیاں گھڑیں۔ یہ قصے کہانیاں سینا بہ سینا نسل در نسل منتقل ہوتی گئیں۔۔۔ اور آج بھی اونچی ذات کے ہندوؤں میں زبان زدِ عام ہیں۔ اور اب تو اس میں مذھب کا تڑکا بھی لگ گیا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آج کل کے مسلمانوں کا بھی ایک طبقہ مسلم فاتحین کی تحقیر کرتا نظر آتا ہے، ایسا کیوں؟ تو اس کا جواب ہے کہ ان مسلمانوں میں اکثریت ان جہلاء کی ہے کہ جو اونچی ذات کے ہندوؤں کے نسل درنسل پھیلائے گئے پراپیگنڈے سے متاثر ہیں۔ جبکہ کچھ ایسے ہیں کہ جو اونچی ذات کے ہندوؤں کی نسل میں سے ہیں کہ جن نے اسلام تو قبول کر لیا لیکن ان کے لاشعور میں تاحال طبقاتی عصبیت موجود ہے اور وہ آج تک اپنے آباء کے گھڑے گئے جھوٹ کے سحر سے باہر نہیں نکل پائے۔
اور ایک جماعت ایسے لوگوں کی بھی ہے کہ جو برائے نام مسلمان ہیں کہ جنہیں ہم سیکولر کہتے ہیں۔۔ ان کا اصل مسئلہ اسلام ہے۔ انہیں اپنے مسلمان ہونے کا افسوس ہے، لیکن چونکہ یہ لوگ معاشرتی مجبوریوں کے باعث اسلام سے رشتہ نہیں توڑ سکتے۔۔۔ لہذا اپنی فرسٹریشن اسلام سے منسوب ہر اس شے پہ نکالتے ہیں کہ جو مسلمانوں کے نزدیک معتبر و محترم ہو۔۔۔ اور ایسا کر کے یہ خود کو روشن خیال اور اعتدال پسند باور کرواتے ہیں، حالانکہ ان سے بڑا جاہل اور ہٹ دھرم کوئی اور نہیں۔ کہ آریائی نسل کے ظالم راجے مہاراجے انکے نزدیک مظلوم ہیں لیکن مسلم فاتحین غاصب و لٹیرے کہ جن نے ان راجوں مہاراجوں کے ظالمانہ نظام کا خاتمہ کیا۔
ا صل لٹیرا کون ؟ محمد بن قاسم یا راجہ داہر—-تحریر:—- اویس خان سواتی
-

مسلمانوں کی فتح جس نے دنیا بدل دی….از…علی عمران شاہین
مسلمانوں کی فتح جس نے دنیا بدل دی….از…علی عمران شاہین
3مئی 1481وہ تاریخ ہے جب عالم اسلام کا ایک عظیم و درخشندہ ستارہ اس جہان فانی سے رخصت ہوا…… سلطان محمد الفاتح جنہوں نے قسطنطنیہ فتح کرنے والے کے لئے جنت کی سنائی گئی نبوی خوش خبری کو اپنے نام کرنے کا اعزاز پایا تھا،عمر تو محض 50سال پائی لیکن وہ عزت و اعزاز سمیٹا کہ قیامت تک کسی اور کو نہ مل سکے
سلطان محمد الفاتح نے دنیا کے سب سے طاقتور اور صدیوں سے ناقابل تسخیر شہر فتح کیا تھا۔اس شہر کو فتح کرنے کے لئے مسلمانوں نے 700سال جدوجہد کی جس کی بنیاد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے رکھی تھی اور لاکھوں اس راہ میں قربان ہوچکے تھے۔اللہ کی شان دیکھے کہ یہ تمغہ اللہ تعالیٰ نے 21سال کی عمر رکھنے والے اس جوان کو عطا کیا جس کا نام بھی کائنات کی اعلیٰ ترین ہستی پاک محمد کے نام پر تھا۔
29مئی 1461کے روزسلطان نے خود جنگ کی قیادت کرتے ہوئے اس شہر کو فتح کرنے کے لئے شہر کے دوسری طرف سے خشکی پرکشتیاں چلانے کا محیر العقول کارنامہ انجام دےڈالا تھا۔اس کے لئے کئی ماہ درخت کاٹے گئےاور لکڑی کے تختے بنابناکر پھر ان پر چربی مل کر انہیں چکنا کیاگیا۔پھر ان پر کشتیاں چلا کر اور اپنی فوج کو اتار کر ایسی رازداری سے سارا مشن انجام دیا گیاکہ تاریخ کے بڑے بڑے جرنیل اور عسکری ماہرین آج تک حیران و پریشان ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہوا جو سوچنا محال ہے۔سر پر بھاری پگڑی باندھے اور شاہی خلعت میں ملبوس سلطان نےمجاہدین کو یوں مخاطب کیا:
”میرے دوستواورجوانو!آگے بڑھو،خودکو ثابت کرنے کا لمحہ آ گیا ہے!”
اس کے ساتھ ہی نقاروں،قرنوں اورتکبیر کے نعروں کےشور اور گونج نے رات کی خاموشی تارتار کر دی، لیکن کان پھاڑتے شور میں بھی عثمانی جہادی دستوں کے فلک شگاف نعرے صاف سنےجا سکتے تھے جنھوں نے فولادی فصیل پر تباہ کن ہلہ بول دیا تھا۔یہاں ایک طرف خشکی اور دوسری طرف سےبحری جہازوں پر نصب توپوں نے آگ برساناشروع کی۔
بازنطینی سپاہی فصیلوں پر تیار کھڑے تھے،توبہت سے شہری بھی ان کی مدد کو آن پہنچے۔انہوں نےبھی تیروں کے ساتھ پتھر اٹھا اٹھا کر کے نیچے مجاہدین پر پھینکنا شروع کر دیے۔ دوسری طرف بہت سےاپنے اپنے قریبی چرچ کی طرف دوڑے اور گڑگڑا گڑگڑا کر مناجاتیں شروع کر دیں۔ پادریوں نے چرچوں کی گھنٹیاں پوری قوت سے بجانا شروع کیں جن کی ٹناٹن نے ان لوگوں کو بھی جگا دیا جو سو رہے تھے۔ہر فرقے کے عیسائی صدیوں پرانے اختلافات بھلا کر متحد ہو گئے اور ان کی بڑی تعداد شہر کے سب سے بڑےاور مقدس کلیسا آیا صوفیہ میں جمع ہو گئی۔
بازنطینیی فوج نے آخری سانس تک عثمانی جہادی یلغار روکنے کی کوشش کی لیکن اطالوی طبیب نکولو باربیرو جو تب شہر میں موجود تھے، لکھتے ہیں کہ سفید پگڑیاں باندھے حملہ آور جہادی فدائی دستے زخمی شیروں کی طرح حملہ کرتے تھے اور ان کے نعرے اور طبلوں کی آوازیں ایسی تھیں کہ جیسے ان کا تعلق اس دنیا سے ہی نہ ہو۔
پوہ پھوٹنےتک ترک مجاہد سپاہی فصیل کے اوپر پہنچ گئے۔ اس دوران اکثر بازنطینی فوجی مارے جا چکے تھے اور ان کا سپہ سالار جیووانی جسٹینیانی شدید زخمی ہو کر میدانِ جنگ سے فرار بھی ہو چکا تھا۔
جب مشرق سے سورج کی پہلی کرن نمودار ہوئی تو اس نے دیکھا کہ ایک ترک سپاہی کرکوپورتا دروازے کے اوپر نصب بازنطینی پرچم اتار کر اس کی جگہ عثمانی اسلامی جھنڈا لہرا رہا ہے۔
سلطان محمد فاتح سفید گھوڑے پر اپنے وزرا اور عمائدین کے ہمراہ آیا صوفیہ پہنچے۔ صدر دروازے کے قریب پہنچ کر وہ گھوڑے سے اترے اور گلی سے ایک مٹھی خاک لے کر بطور عاجزی اپنی پگڑی پر ڈال دی۔ ان کے ساتھیوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے اور سب رب کے حضور سجدہ ریز ہوگئے
قسطنطنیہ کی فتح محض ایک شہر پر ایک بادشاہت کا خاتمہ اور دوسرے کے اقتدار کا آغاز نہیں تھا۔ اس واقعے کے ساتھ ہی دنیا کی تاریخ کا ایک باب ختم ہوا اور دوسرے کی ابتدا ہوئی۔
ایک طرف 27 قبل از مسیح قائم ہونے والی رومن سلطنت جو1480 برس تک کسی نہ کسی شکل میں برقرار رہنے کے بعد اپنے انجام کو پہنچی، تو دوسری جانب اسلامی عثمانی خلافت نےنقطۂ عروج چھو لیا اور وہ اگلی چار صدیوں تک تین براعظموں، ایشیا، یورپ اور افریقہ کے حصوں پر بڑی شان سے حکومت کرتی رہی۔
1453 ہی وہ سال ہے جسے قرونِ وسطیٰ (مڈل ایجز) کا اختتام اور جدید دور کا آغاز بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ فتحِ قسطنطنیہ کو فوجی تاریخ کا سنگِ میل بھی قرار دیا جاتا ہے۔یہ شکست پورے یورپ کے لئے اتنی دردناک اور ہیبت ناک تھی کہ وہ اسے آج بھی بھول نہیں سکے اور یونان میں قسطنطنیہ کی شکست والے دن جمعرات کو منحوس تصور کیاجاتا ہے۔
سلطان نے اس تسخیر اکبر کے بعد یورپ کے وسط تک فتوحات کیں اور ایک عظیم اسلامی عثمانی خلافت کو دور دور تک وسعت دے کر 3مئی 1481کوداعی اجل کو لبیک کہہ گیے……
یہ آج کے ترکی کا شہر استنبول ہی تھا جو اب بھی ایشیا اور یورپ کے آر پار واقع ہے اور باسفورس سمندر پر بنے پل کا نام بھی سلطان محمد الفاتح سے موسوم ہے۔
تھےوہ تمہارےہی آبا مگرتم کیاہو
ہاتھ پرہاتھ دھرے منتظر فردا ہو -

راجہ داہر ہیرو نہیں بلکہ ایک ظالم انسان تھا صدر جموں و آزاد کشمیر مسعود خان
گذشتہ روز دس رمضان المبارک سے نامور سپہ سالار کے راجہ داہر پر حملے اور اس کی ہلاکت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر سندھی قوم پرست حلقوں ۔ این جی اوز اور ملک کے سیکولر و لبرل حلقوں کی جانب سے راجہ داہر کو سندھ کا بیٹا قرار دے کر قومی ہیرو بنانے کی مہم چلائی جا رہی ہے ۔ یہ پاکستانی سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہے
باغی ٹی وی: ارض پاک میں ہر روز کسی نہ کسی نئے شگوفے کا سامنا ہے کہیں اسرائیل کے جھنڈے اسلام آباد میں نصب ہو رہے ہیں ۔ رنجیت سنگھ کا مجسمہ لاہور لگایا گیا اور اب سندھ میں راجہ داہر کو ہیرو بنانے کی مہم ہے راجہ داہر کو ایک منصف ، سندھ کا بیٹا اور کامیاب حکمران کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔ جسے ایک ” بیرونی عرب حملہ آور” محمد بن قاسم نے شکست دے کر ہلاک کر دیا تھا ۔
دراصل یہ برصغیر میں اسلام کی آمد کے خلاف "دلی بغض” تکلیف اور دکھ کے اظہار کی ایک کوشش ہے ۔ اسلام کی آمد پر تنقید کی بجائے محمد بن قاسم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔راجہ داہر کو ہیرو بنا کر دراصل ایک اسلامی ہیرو کو متنازعہ کرنے کی کوشش ہے ۔ یہ سب ایک خاص حلقے کی جانب سے کیا جا رہا ہے اس مہم کے تحت اپنی مرضی کے تاریخ دانوں کے حوالوں کے ذریعے ایسے تمام واقعات کو ہی جھوٹا قرار دیا گیا ہے جن میں راجہ داہر کے بارے منفی تاثر پیدا ہو اس دور میں لکھی گئی کتابوں جن میں راجہ داہر کی جانب سے عرب جانیوالے ایک قافلے کی لڑکیوں کو یرغمال بنانے ، اپنی بہن سے شادی رچانے اور عوام پر ظلم و ستم کے واقعات درج ہیں ان سب کو مسترد کرکے موجودہ دور کے ایسے من پسند تاریخ دانوں کے حوالے دئیے گئے ہیں جن میں جی ایم سید وغیرہ شامل ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ عالمی میڈیا اور کچھ این جی اوز اب یہ مطالبہ شروع کرانے کی کوشش میں ہیں کہ سندھ میں اسلام کے فروغ کا باعث بننے والے محمد بن قاسم کو ولن اور راجہ داہر کو ہیرو بنا کر پیش کیا جائے ۔
10th ramadan, YOME BABUL ISLAM , day when ISLAM came in subcontinent with the Arrival of Mohammad bin qasim ,great young muslims hero ,who came to help the peoples who are abducted by Raja dahir.he came in the reply of letter written by girl naheed blood.#RajaDahirIsNationalHero pic.twitter.com/ElI6Z6qfcF
— Ujala saadi💫 (@SaadiUj) May 4, 2020
یو جے سعدی نامی خاتون صارف نے ان لبرل لوگوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا کہ 10 رمضان ، یوم بل اسلام ، اس دن جب اسلام برصغیر میں ایک عظیم نوجوان ہیرو محمد بن قاسم کی آمد کے ساتھ آیا ، جو راجہ داہر کے ہاتھوں اغوا کیے گئے لوگوں کی مدد کرنے آیا تھا۔ وہ لڑکی ناہید کے لکھے ہوئے خط کے جواب میں آیا
https://twitter.com/SaadiUj/status/1257251711548305408?s=20
انہوں نے مزید لکھا کہ اور وہ لوگ جو 10 رمضان المبارک کے دن کو دہر کے لئے سب سے زیادہ مبارک دن منارہے ہیں ، انھیں شرم آنی چاہئے ، اگر محمد بن قاسم نہ آتے تو ، آپ لوگ بھی آج مسلمان نہ کہلاتے-#RajaDahir was no hero. A despot, he practiced tyranny. Mohammad Bin Qasim, the young hero, came to this part of the world to save humanity. https://t.co/V15Ub2TNge
— Masood Khan (@Masood__Khan) May 4, 2020
یو جے سعدی کی ٹویٹ کے جواب میں آزاد جموں و کشمیر کے صدر مسعود خان نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے اپنا خیالات کا اظہار کیا اور لکھا کہ راجہ داہر ہیرو نہیں تھا۔ ایک ظالم انسان تھا ، اس نے ظلم کیا۔ نوجوان ہیرو محمد بن قاسم انسانیت کو بچانے کے لئے دنیا کے اس حصے میں آئے تھے۔دوسری جانب کچھ لبرل لوگ راجہ دہر کو ہیرو اور مسلم عظیم سپہ سالار محمد بن قاسم کو ولن قرار دے رہے ہیں
https://twitter.com/OthoMujeeb/status/1257268969582596096?s=20
ایک صارف مجیب اوٹھو نے لکھا کہ 10 رمضان المبارک.آج کے دن لٹیرے، قاتل، ڈاکو محمد بن قاسم نے سندھ دھرتی پے حملا کیا، لوٹ مار کی اور سندھ کی عصمت پائمال کی.اور اس رھزن سے لڑتے لڑتے راجہ داھر سندھ پے قربان ہوئے گئے.راجہ ڈاھر کی عظمت کو سلام!آپ سے گزارش ہے کہ حقیقی تاریخ کا مطالعہ کیجیئے۔ درسی کتب میں نسیم حجازی نامی بد بخت کے ناول پر مبنی جھوٹی تاریخ درج ہے۔ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ محمد بن قاسم کو حجاج بن یوسف ملعون نے سندھ بھیجا تھا آل رسول کا نام و نشان مٹانے۔ وہ کوئی ہیرو نہیں ظالم تھا۔
— Ali Reza (@alirezasyed) May 4, 2020
علی رضا نامی صارف نے لکھا کہ آپ سے گزارش ہے کہ حقیقی تاریخ کا مطالعہ کیجیئے۔ درسی کتب میں نسیم حجازی نامی بد بخت کے ناول پر مبنی جھوٹی تاریخ درج ہے۔ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ محمد بن قاسم کو حجاج بن یوسف ملعون نے سندھ بھیجا تھا آل رسول کا نام و نشان مٹانے۔ وہ کوئی ہیرو نہیں ظالم تھا۔or raja dahir tou AAL-e-Rasool ka muhafiz tha, haina?!
— Talha Shahbaz 🇵🇰 🇵🇸 (@TalhaSaidSo) May 4, 2020
اس صارف کی ٹویٹ کے جواب میں طلحہ شہباز نامی صارف نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ اور راجی داہر تو آل رسول کا محافظ تھا ہے ناںواضح رہے کہ گذشتہ روز دس رمضان المبارک سے سے نامور سپہ سالار کے راجہ داہر پر حملے اور اس کی ہلاکت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر سندھی قوم پرست حلقوں ۔ این جی اوز اور ملک کے سیکولر و لبرل حلقوں کی جانب سے راجہ داہر کو سندھ کا بیٹا قرار دے کر قومی ہیرو بنانے کی مہم چلائی جا رہی ہے اور یہ سب کچھ گذشتہ سال سے ایک خاص حلقے کی جانب سے کیا جا رہا ہے