Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان کے خدائی خدمت گارمجھے بہت یاد آتے ہیں —-از—- انیس الرحمن باغی

    پاکستان کے خدائی خدمت گارمجھے بہت یاد آتے ہیں —-از—- انیس الرحمن باغی

    پاکستان اپنی تاریخ کے شدید ترین بحران سے گزر رہا ہے۔

    وزیرِ اعظم پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر چکے ہیں لیکن تاحال اسکی تقسیم کا طریقہ کار وضع نہیں کر سکے ہیں۔

    ایسے میں ان خدائی خدمت گاروں کی بہت یاد ستاتی ہے کہ جنہیں جرمِ محبت کی سزا دی گئی ہے۔ جن کے قائدین پابندِ سلاسل ہیں اور انہیں کام سے روک دیا گیا ہے۔

    ہاں مجھے اقوامِ متحدہ کی طرف سے ان کو دی گئی زلزلہ میں امداد یاد آتی ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے ٹھیکیدار ایسے افراد نہیں رکھتے کہ وہ ان دور دراز علاقوں میں امدادی سامان پہنچا سکے۔

    ہاں مجھے اپنے کندہوں پر سامان اٹھا کر ناقابلِ رسائی علاقوں تک پہنچنے والے وہ افراد یاد آتے ہیں کہ جنہیں اس کام کے کرنے میں کوئی دنیاوی لالچ نہیں بلکہ رب کی رضاء کارفرماء تھی۔

    مجھے ان پر امید چہروں کی خوشی سے چمکنے والی وہ آنکھیں یاد آتی ہیں کہ جو کئی دنوں بعد ان کے فیلڈ ہسپتالوں میں پہنچ جانے کے بعد بے فکر ہو جاتے ہیں کہ پاکستان کے نامور ڈاکٹر عامر عزیز اب انکے بچ جانے والے اعضاء کو کٹنے سے بچا لے گا۔

    ہاں پھر منظر بدلتا ہے۔۔۔

    2010 کے سیلاب میں ان خدمت گاروں کی امداد کے نتیجہ میں اور ان کے حسنِ سلوک سے متاثر ہوکر درجنوں ہندو خاندانوں کے اسلام قبول کرتے وقت کے وہ منظر یاد آتے ہیں۔

    مشکل ترین وقت میں ان کی واٹر ریسکیو کرنے والی بے سرو سامان مگر بلند عزم و ہمت والے پہاڑوں جیسے بلند ارداے رکھنے والے دن رات ایک کرنے والی وہ ٹیمیں یاد آتی ہیں کہ جن کا مطمع نظر فقط اس ذاتِ باری تعالٰی کی بارگاہ میں سرخروئی ہے۔

    نہ ختم ہونے والی یادوں کا ایک سلسلہ ہے کہ میں لکھنا چاہوں تو شاید لکھ نہ پاؤں۔ ہاں مگر ان پر پابندیاں تو لگا دی ہیں لیکن ان کو ہمارے دلوں کی دیواروں پر کنندہ یادوں سے کون کھرچ سکے گا؟؟؟

    اب ایسے میں جب کہ حکومت امداد دینے اور پہنچانے میں بے بس نظر آرہی تو ان کی یاد شدید تر ہوتی جا رہی کہ وہ جن کے بے لوث کارکن ہر گلی محلہ میں موجود تھے اور اپنے ارد گرد کے غرباء اور سفید پوشوں سے واقفِ حال تھے کہ ایسے میں ان سے بہتر کوئی کام نہیں کر سکتا تھا۔

    مگر نہیں بھائی آپ ان کا نام نہیں لے سکتے ہیں ان کا نام لینے پر بھی پابندی ہے۔ لیکن ان کو یاد کرنے پر تو کوئی پابندی نہیں ہے نا کہ وہ تو ہمارے دلوں میں بستے ہیں نا۔

    ہاں اے خدائی خدمت گارو۔۔
    ہم مصیبت کے ہر لمحہ میں تمہیں یاد تو کریں گے۔۔۔

    لیکن ہم مجبور ہیں کہ سرِ عام تمہارا نام نہ لے پائیں گے۔۔۔

    #باغیات

  • پاکستان کی تاریخ کے شدید بحران سے گزر رہا ہے  ،تحریر انیس الرحمن باغی

    پاکستان کی تاریخ کے شدید بحران سے گزر رہا ہے ،تحریر انیس الرحمن باغی

    پاکستان اپنی تاریخ کے شدید ترین بحران سے گزر رہا ہے

    وزیرِ اعظم پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر چکے ہیں لیکن تاحال اسکی تقسیم کا طریقہ کار وضع نہیں کر سکے ہیں

    ایسے میں ان خدائی خدمت گاروں کی بہت یاد ستاتی ہے کہ جنہیں جرم محبت کی سزا دی گئی ہے جن کے قائدین پابند سلاسل ہیں اور انہیں کام سے روک دیا گیا ہے

    ہاں مجھے اقوام متحدہ کی طرف سے ان کو دی گئی زلزلہ میں امداد یاد آتی ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے ٹھیکیدار ایسے افراد نہیں رکھتے کہ وہ ان دور دراز علاقوں میں امدادی سامان پہنچا سکے

    ہاں مجھے اپنے کندھوں پر سامان اٹھا کر ناقابلِ رسائی علاقوں تک پہنچنے والے وہ افراد یاد آتے ہیں کہ جنہیں اس کام کے کرنے میں کوئی دنیاوی لالچ نہیں بلکہ رب کی رضاء کارفرماء تھی

    مجھے ان پر امید چہروں کی خوشی سے چمکنے والی وہ آنکھیں یاد آتی ہیں کہ جو کئی دنوں بعد ان کے فیلڈ ہسپتالوں میں پہنچ جانے کے بعد بے فکر ہو جاتے ہیں کہ پاکستان کے نامور ڈاکٹر عامر عزیز اب انکے بچ جانے والے اعضاء کو کٹنے سے بچا لے گا

    ہاں پھر منظر بدلتا ہے۔۔۔

    2010 کے سیلاب میں ان خدمت گاروں کی امداد کے نتیجہ میں اور ان کے حسن سلوک سے متاثر ہوکر درجنوں ہندو خاندانوں کے اسلام قبول کرتے وقت کے وہ منظر یاد آتے ہیں۔

    مشکل ترین وقت میں ان کی واٹر ریسکیو کرنے والی بے سرو سامان مگر بلند عزم و ہمت والے پہاڑوں جیسے بلند ارادے رکھنے والے دن رات ایک کرنے والی وہ ٹیمیں یاد آتی ہیں کہ جن کا مطمع نظر فقط اس ذاتِ باری تعالٰی کی بارگاہ میں سرخروئی ہے۔

    نہ ختم ہونے والی یادوں کا ایک سلسلہ ہے کہ میں لکھنا چاہوں تو شاید لکھ نہ پاؤں۔ ہاں مگر ان پر پابندیاں تو لگا دی ہیں لیکن ان کو ہمارے دلوں کی دیواروں پر کنندہ یادوں سے کون کھرچ سکے گا؟؟؟

    اب ایسے میں جب کہ حکومت امداد دینے اور پہنچانے میں بے بس نظر آرہی تو ان کی یاد شدید تر ہوتی جا رہی کہ وہ جن کے بے لوث کارکن ہر گلی محلہ میں موجود تھے اور اپنے ارد گرد کے غرباء اور سفید پوشوں سے واقفِ حال تھے کہ ایسے میں ان سے بہتر کوئی کام نہیں کر سکتا تھا۔

    مگر نہیں بھائی آپ ان کا نام بھی نہیں لے سکتے ہیں ان کا نام لینے پر بھی پابندی ہے۔ لیکن ان کو یاد کرنے پر تو کوئی پابندی نہیں ہے نا کہ وہ تو ہمارے دلوں میں بستے ہیں نا۔

    ہاں اے خدائی خدمت گارو۔۔
    ہم مصیبت کے ہر لمحہ میں تمہیں یاد تو کریں گے۔۔۔

    لیکن ہم مجبور ہیں کہ سرِ عام تمہارا نام نہ لے پائیں گے۔۔۔

    پہاڑوں جیسے بلند حوصلے رکھنے والے ان خدائی خدمت گاروں سے میری مراد فلاح انسانیت فاؤنڈیشن ہے

  • سفید ماسک والے راشن دے گئے از رضی طاہر

    سفید ماسک والے راشن دے گئے از رضی طاہر

    شام 7 بجے کے بعد جونہی اندھیرا چھایا، میرے گاوں کی گلیوں میں موٹرسائیکلوں کی آوازیں آنے لگیں، اہل علاقہ نے نوجوانوں کو جلی کٹی سنائیں کہ ملک میں لاک ڈاون ہے اور انہیں گھر آرام نہیں، مگر یہ نوجوان اپنی تفریح کیلئے ہرگز نہ نکلے تھے، ان کے ہاتھوں میں تھیلے تھے اور وہ گاوں کے اندر گشت کررہے تھے

    ان کے ہاتھ میں ایک فہرست تھی، وہ فہرست دیکھ کر دروازہ بجاتے اور اس سے قبل کہ اندر سے کوئی آتا، دروازہ کھول کر نیلے رنگ کا تھیلا اندر رکھتے اور آگے چل پڑتے، نہ تصویر، نہ پہچان، نہ دکھاوا نہ ہی احسان، یہ فاروقی سنت پر رمل پیرا نوجوان انتہائی رازداری سے آہستہ آہستہ 115 گھروں میں تھیلے پہنچا آئے۔

    گاؤں سے تھوڑا ایک سائیڈ پر ایک گھر کا انتخاب کیا گیا جہاں راشن کی پیکنگ کی گئی، کسی کو خبر نہ ہوئی۔ اسکے بعد اندھیرے کا انتظار کرکے تقسیم کردیا گیا تب بھی کسی کو خبر نہ ہوئی۔ جس کسی نے دیکھا اس نے بھی صبح یہی بتایا کہ سفید ماسک والے نوجوان راشن دے گئے۔

    ایک گاؤں میں اتنے ہی انتہائی ضرورت مند ہوتے ہیں جن کی ضرورت پوری ہوگئی۔ اس سے قبل ہمارے گاؤں میں ایک صاحب استطاعت نے 3 لاکھ روپے تقسیم کیے، مبلغ 2000 فی گھر دئیے گئے۔ یہ میرا گاؤں ہے جس میں گزشتہ پانچ سال سے زائد عرصہ سے ہر ماہ میں دوبار فری طبی کیمپ لگتے ہیں، یہاں بیماریاں کم ہیں، غربت کم ہے، پڑھے لکھے لوگ 90 فیصد سے زائد ہیں۔

    اب اس گاؤں کو نہ ٹائیگر فورس کی ضرورت ہے نہ حکومت کی امدادی فنڈز کی۔ اخوت کی یہ مثال دوسروں کیلئے مشعل، حکومت کا انتظار کیے بغیر اپنے حصے کے دیپ جلائیں تاکہ کوئی بھوکا نہ سوئے، کوئی غربت سے تنگ و مجبور نہ ہو اور سب سے بڑھ کر عزت نفس مجروع نہ ہو۔

  • "کرونا” شیعہ یا تبلیغی—–از—عاشق علی بخاری

    "کرونا” شیعہ یا تبلیغی—–از—عاشق علی بخاری

    کرونا اس وقت جدید دنیا کے لیے بہت بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، جس نے تمام بڑی طاقتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے، حقیقتاً یہ کیا ہے؟
    اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا، لیکن اس کے متعلق ہر دو قسم کی آراء موجود ہیں، جن کے اپنے اپنے دلائل ہیں. اس وقت دنیا کے دو سو ممالک اس وبا کا شکار ہیں، وہ یا تو مکمل یا پھر جزوی طور پر بند ہیں، حکومتیں اپنی جگہ اور عوام گھروں میں الگ پریشان ہیں. ٹی وی چینلز نے الگ اودھم مچا رکھی ہے، جنہیں دیکھ دیکھ کر عوام نفسیاتی مریض بن رہے ہیں.

    بہرحال یہ ایک الگ موضوع ہے، اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف پاکستان بھی ان ممالک میں سے ایک ہے، جہاں اس عالمی وبا نے اپنے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں. الحمدللہ پاکستان نے بہتر اور مؤثر انتظامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں زیادہ تر مریض صحت یاب ہوکر اپنے گھروں کو روانہ ہورہے ہیں،
    لیکن جو سب سے زیادہ پریشان کن اور مزید خوف کی فضا ہموار کرنے کا باعث بن رہا ہے، وہ کچھ اور ہے.

    دیکھیے چینی اس وبا کا شکار ہوئے، وہاں کرونا بدھ مت نہیں تھا، یورپین اس کا شکار ہوئے وہاں بھی یہ ایک وبا ہی تھی،یہ نہ عیسائی ہے اور نہ یہودی. حتی کہ یہ ان عیسائی فرقوں سے بھی تعلق نہیں رکھتا جو ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں. لیکن جب یہ پاکستان آیا تو سب سے پہلے یہ شیعہ بنا، کیونکہ یہ ایک پڑوسی ملک میں جانے والوں کے ذریعے آیا.

    یہاں ٹھہر کر ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ انہیں روکنا، چیک اپ کرنا اور اثر زدہ لوگوں کو آئسوليشن پہنچانا حکومتی ذمے داری تھی، جس میں حکومت ناکام ہوئی. اب دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ لوگ کیوں گئے، کس لیے گئے اور کن کن سرگرمیوں میں ملوث رہے یہ بھی حکومتی ذمے داری ہے کہ ان کا سراغ لگایا جائے.سوچیں جب دو نگرانوں والا گھر نہیں چل سکتا تو ملک کیسے چلے گا؟ ہمیں نگران نہیں عوام بننا ہے. اب آئیے تصویر کے دوسرے رخ کی طرف، حالیہ دنوں جناب کرونا اہلیان پاکستان کے ایک بہت بڑے طبقے کے ساتھ چمٹ گیا یا پھر چمٹایا گیا ہے، کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا، دوسرے لفظوں میں کرونا صاحب آج کل تبلیغی بنا ہوا ہے.

    کہا جاتا ہے کہ ہر ایکشن کا ری ایکشن ہوتا ہے، تو یہاں بھی وہی ہوا ہے. پریشان یا افسردہ ہونے کی ضرورت نہیں، اختلافات، نظریات کا الگ ہونا کیا انسانیت کے منافی ہے؟ لیکن اگر ہم نے ان آنے والوں کے بہتر علاج کی طرف توجہ دی ہوتی اور ایک قوم ہوکر فی الحال ان کے ساتھ کھڑے ہوتے تو امید ہے ہمیں آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے، ان کی صحت یابی کے بعد حکومت سے مطالبہ کیا جاتا کہ جو لوگ ملکی سالمیت کے خلاف کام کرتے رہے ہیں، ان کا ٹرائل کیا جائے، انہیں کٹہرے میں لایا جائے،

    پہلے ٹرینڈ چلائے گئے، ٹی وی چینلز نے ہاہا کار مچائی، معاملہ سپریم کورٹ پہنچا. اور پوری قوم جو اس وقت گھروں میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی ہے، انہیں مثبت سوچ دینے کے بجائے. اس کے برعکس مخالفانہ فضا بنائی گئی، جس کا دوسرا دکھ بھرا پہلو آج ہمارے سامنے ہے.
    آئیے ذرا ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی سنت بھی دیکھیں.

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلتا ہے کہ مدینہ میں ایک یہودی بچہ بیمار ہوگیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً اس کی عیادت کے لیے پہنچ جاتے،
    ایک بڑھیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچرا پھینکتی ہے، جب کچرا نہیں آیا تو اس کی عیادت کو چلے جاتے ہیں، یہودن کھانے کی دعوت کرتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی دعوت کو قبول کرتے ہیں.
    آپ کا اعتراض اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ یہ وبا وہا‍ سے آئی، حکومت نے انہیں روکا کیوں نہیں؟

    میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں، کیا ہم نے بھی عقلمندی کا ثبوت دیا تھا؟
    کیا بہت سارے لوگ پتہ چلتے ہی سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ فضا بنانا شروع نہیں ہوگئے تھے؟
    کیا ہم نے انہیں روکنے یا مثبت رویہ رکھنے کا کہا تھا؟

    اگر یورپ کا کرونا عیسائی، چین کا بدھ مت, اسرائیل میں یہودی اور انڈیا میں ہندو یا مسلمان نہیں ہےتو خدرا خوف و ہراس کی آگ میں مزید ایندھن نہ ڈالیں، وبا کا خوف، کاروبار کا خوف، اشیاء کی قلت کا خوف کیا کم ہے کہ فرقہ واریت کا کاروبار کیا جارہا ہے. وہ ایام جن میں پوری امت مسلمہ ہی نہیں بلکہ ساری دنیا پریشان، خوف زدہ ہے، کہ نجانے کیا ہوگا، اور کب تک ہوگا. ہم توبہ، رجوع الی اللہ کے بجائے کن چکروں میں پڑے ہوئے ہیں،
    تھوڑا نہیں پوراسوچیے.!!!

    عاشق علی بخاری
    قلمکار: عاشق علی بخاری

  • اقوام عالم کشمیریوں کے خلاف بھارت کی آئینی دہشت گردی کا نوٹس لے: الطاف حسین وانی

    اقوام عالم کشمیریوں کے خلاف بھارت کی آئینی دہشت گردی کا نوٹس لے: الطاف حسین وانی

    اقوام عالم کشمیریوں کے خلاف بھارت کی آئینی دہشت گردی کا نوٹس لے: الطاف حسین وانی

    ڈومیسائل رولز بارے ترامیم کشمیر کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی سازش ہے

    اسلام آباد: انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے کشمیریوں کے خلاف ہندوستان کی آئینی دہشت گردی کا موثر نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے معروف سیاسی و سماجی رہنما اور نیشنل فرنٹ کے سینیر وائس چیرمین الطاف حسین وانی نے ڈومیسائل رولز میں ترمیم سے متعلق ہندوستانی وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) کے حالیہ نوٹیفکیشن پر کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس سے کشمیری عوام کے خلاف ایک گہری سازش قرارد دیا ہے جس کا مقصد مسلم اکثریتی ریاست کی جداگانہ حیثیت اور شناخت کو کمزور کرنا ہے۔

    وانی نے بدھ کے روز یہاں جاری ایک بیان میں کہا، ‘کشمیر مخالف قانون دراصل بی جے پی حکومت کی اس گھناؤ نی سازش کی ایک کڑی ہے جس کے تحت مودی سرکار آر ایس ایس کے دیرینہ مطالبے پر عمل کرتے ہوئے مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرکے مقبوضہ خطے کی منفرد اور جداگانہ حیثیت کو ختم کرناہے

    یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ، ڈومیسائل رولزمیں حالیہ ترامیمی ایکٹ کے تحت، کوئی بھی شخص جو 15 سال تک جموں و کشمیر میں مقیم رہا ہے یا اس نے ریاست میں سات سال تعلیم حاصل کی ہے، اور کلاس 10 یا کلاس 12 کی امتحان میں حاضر ہوا ہے، وہ ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے اہل ہوگا۔. نوٹیفکیشن کے مطابق، نئے قانون کے تحت وہ گیزیٹیڈ اور نان گیزیٹیڈ پوسٹ لیول کی سرکاری ملازمتوں کے لئے درخواست دے سکے گے۔

    ایم ایچ اے کے آرڈر کو آرٹیکل 35 اے اور 370 کے خاتمے کا تسلسل قرار دیتے ہوئے وانی نے کہا کہ کشمیر کے ڈومیسائل قانون میں حالیہ ترمیم غیر کشمیری اور غیر ریاستی باشندوں کو کشمیر میں آباد کرنے کا ایک منظم منصوبہ ہے۔

    وانی نے آرٹیکل 35 اے کو منسوخ کرنے کے پیچھے ہندوستان کے محرکات کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ”جہاں تک ریاست میں غیر ریاستی باشندوں کو آباد کرنے کے ہندوستانی منصوبے کا تعلق ہے تو آرٹیکل 35-A واحد آئینی اور قانونی رکاوٹ تھا جس سے مودی سرکارکشمیر میں اپنے ایجنڈے کی تکمیل میں رکاوٹ سمجھتی تھی”۔ ”اس تازہ حکم کی بدولت، ہندوستان نے عملی طور پر بیرون ملک مقیم افراد کو ریاست میں مستقل طور پر آباد ہونے کے علاوہ جموں و کشمیر میں پہلے سے موجود ملازمتوں کے دعویدار بننے کے لئے بھی راہ ہموار کردی ہے، جہاں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ بن کر ابھری ہے۔ جے کے این ایف رہنماؤں نے مزید کہا کہ یہ ایکٹ ان مقامی نوجوانوں کے مفادات کے خلاف ہے جن کو متعدد مشکل چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں سے بے روزگاری وہ ایک بنیادی مسئلہ ہے جس کا وہ گذشتہ کئی برسوں سے سامنا کررہے ہیں۔

    انکا کہنا تھا کہ نئے قانون کے متنازعہ علاقے جموں و کشمیر میں ملازمت حاصل کرنے والے بیرونی افراد ریاست میں زمین خریدنے کے حق کا بھی دعوی کریں گے۔ انہوں نے اسے ریاست میں آبادیاتی تبدیلیوں کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر سول سروسز ایکٹ میں ترمیم سے ہزاروں کشمیری بے روزگار ہوجائیں گے۔ جموں و کشمیر املاک کے حقوق کو کچی آبادیوں کے ایکٹ 2012 میں ہونے والی ترامیم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ”جموں و کشمیر کے مستقل رہائشیوں ” کے الفاظ کو ایکٹ میں جان بوجھ کرحذف کر دیا گیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ جموں و کشمیر میں کچی آبادی کو مناسب مکانات مل سکتے ہیں۔

    وانی نے کہا حالیہ ترامیمی ایکٹ ایک سنگین معاملہ ہے جس کے ذریعے بھارت اسرائیلی طرز پر کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کے لئے الگ کالونیاں قائم کرنا چاہتا ہے۔انکا کہنا تھات کہ۔ ہندوستانی حکومت کشمیریوں کو زیر اورانہیں اپنے تابع لانے کے لئے ان سے سب کچھ چھیننے پر تلا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو کشمیریوں کے خلاف ہندوستان کی آئینی دہشت گردی کا موثر نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر مخالف قوانین نہ صرف انسانی حقوق کے عالمی اعلان کی خلاف ورزی ہے بلکہ اقوام متحدہ کی قرارداد کی بھی خلاف ورزی ہے۔ جو ہندوستان اور پاکستان دونوں کو متنازعہ علاقے کی حیثیت میں ردوبدل سے واضح طور پر منع کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک جابر ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے ابھر رہی ہے جس کا بین الاقوامی قوا نین اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرنا وطیر ہ بن چکا ہے
    For more information, please contact Altaf Wani (+41 77 9876048 / saleeemwani@hotmail.com)

  • اپنے کردار کا جائزہ لیں اعتقادی و عملی منافق ✍🏻از قلم۔ مشی حیات

    اپنے کردار کا جائزہ لیں اعتقادی و عملی منافق ✍🏻از قلم۔ مشی حیات

    ہماری روز مرہ کی زندگی میں ہر انسان خود کو اعلی و برتر سمجھتا ہے اور دوسرے کو اپنے سے کمتر۔۔۔۔۔!
    مگر آج جو نفسا نفسی کا وقت اس عالم پر آ ٹھہرا ہے ہمیں اب یہ جاننا ہے کہ ہم اعلی ہیں یا جسے ہم کمتر سمجھ رہے ہیں وہ۔۔۔۔۔!
    قرآن وہ سچی کتاب ہے جس میں ہر انسان کے کردار اور عملی زندگی کے بارے پیشگوئی ہوئی ہے مگر بات یہ ہے کہ ہم نے سمجھا نہیں۔۔

    ہم قرآن پڑھنا شروع کرتے ہیں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں.
    صرف اس لیے کہ وہ مجھے دنیاوی چیزوں میں نہ بٹھکائے تاکہ ہم اس کتاب کو سمجھ سکیں۔۔۔!

    پھر تسمیہ پڑھتے ہیں کہ الرحمن الرحیم مہربان ذات اور بار بار رحم کرنے والی کے نام سے۔۔!
    قرآن کی ابتدائی آیات میں ہم اللہ کے شکر گزار ہوتے ہیں تمام تعریفیں اسکی کرتے ہیں اسی کو رب ماننے کا اقرار کرتے ہیں۔اسی کے بندے ہونے کا اقرار اور اسی سے مدد چاہتے ہیں
    مگر اہم بات یہ ہے
    اھدنا الصراط المسقیم

    بہت سی چیزیں مانگنے کی ہیں لیکن سب سے پہلے مانگنے کی ضرورت بہترین راستہ ہے

    وہ راستہ صرف اسلامہے۔۔!
    ہماری ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے ہمیں بہتری ہمسفر ملے جو ہمارا کبھی ساتھ نہ چھوڑے زندگی کے کسی مشکل سفر میں بھی مگر ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ بہترین ہمسفر بہترین رستہ ہم چھوڑ چکے ہیں وہ رستہ وہ ہمسفر اسلام ہے
    اور اسلام کا پتہ ہمیں صرف اللہ کی مقدس کتاب قرآن پاکسے مل سکتا ہے۔۔۔!

    دوسری بات ہم خود کو اعلی و برتر سمجھتے ہیں اللہ نے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی ہنر رکھا ہوتا ہے مگر اس کو وہی جانچ سکتا ہے جو متقی ہو گا اسلام کو سمجھنے والا ہو گا۔۔۔!
    اب غور کرنا ہے ہم متقی ہیں یا ہم میں بھی نفاق کی قسمیں پائی جاتی ہیں؟
    اوپر اعتقادی اور عملی منافقین کا اوپشن ہے۔۔۔۔۔
    منافقین کی دو اقسام یہی ہیں

    (1)۔ اعتقادی منافق
    پکے اعتقادی منافق وہ تھے جن کے میں دل کفر تھا
    جیسے۔۔۔۔
    مثلھم کمثل الذی استو قد نارا

    اس کی تفسیر عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھما)نے کچھ یوں بیان فرمایا کہتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم )مدینہ تشریف لائے کچھ لوگ مسلمان ہو گئے لیکن جلد منافق ہو گئے ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اندھیرے میں تھا اسلام سے پہلے مدینہ میں کفر کا اندھیرا تھا اس میں روشنی جلائی (کونسی روشنی؟اسلام کی )جس سے سارا ماحول روشن ہو گیا مفید اور نقصان دہ چیزیں ان پر ثابت ہو گئی اسلام کی روشنی میں نیک و بد اور حق و باطل کا پتہ چلنے لگا پھر روشنی بجھ گئی (کن کی جو مسلمان ہوئے تھے) وہ روشنی باہر کی نہیں ان کے اندر کی تھی اسلام اپنی جگہ موجود تھا مگر انکا اپنا دل بدل گیا۔۔۔!

    *اب ہم دیکھیں گے دل کے بدلنے کی وجوہات کیا ہیں؟

    انکا اپنا دل فکر میں پڑ گیا کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
    ذھب اللہ بنورھم
    اللہ ان کا نور لے گیا

    یہ حدیث عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھما کی ہے۔۔۔۔!
    پہلی مثال کس کی ہے؟
    پکے اعتقادی منافق ان کا حال یہ تھا وہ اسلام سے پہلے کفر کے اندھیرے میں تھے
    فلما اضاءت ماحول
    پھر جب ماحول روشن ہوا (اسلام سے) تو۔۔۔۔

    ذھب اللہ بنورھم
    اللہ نور لے گیا انکا اور انہیں
    وترکھم فی ظلمت
    اندھیروں میں چھوڑ دیا
    اور لا یبصرون نہی وہ دیکھتے

    کس کو؟نبی کریم کو
    اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا
    صم بکم عمی
    انکا حال یہ ہے بہرے بھی ہیں گونگے بھی اور اندھے بھی ہیں۔۔۔۔۔!

    ایک بات ذہن میں رکھیں اعتقادی منافق یہود میں سے تھے
    رسول اللہ جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں یہود تھے انصار تھے اور مہاجر مسلمان۔۔!
    یہ تھے اعتقادی منافق پکے منافق جو اسلام کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہ تھے

    (2 )۔ عملی منافق ۔۔
    جن کے دل میں ایسا کفر تو نہیں تھا مگر ڈھواں ڈھول تھے جیسے
    اس کصیب من السماء

    آسمان سے زوردار بارش ہوئی
    یہ بارش اسلام کی بارش جس میں
    ظلمت و رعدو برق
    اندھیرے تھے گرج تھی بجلی تھی مشکلات تھی اب یہ کیا کرتے جب اسلام کی دعوت دی جاتی تو

    یجعلون اصابعھم فی اذانہم
    اپنے کاموں میں انگلیاں ڈال لیتے
    عملی منافق تھے جب اسلام کو فائدہ ہوتا ساتھ چل دیتے جیسے فتح مکہ ،بدر اور جب مشکل وقت آتا کھڑے ہو جاتے یعنی خندک اور تبوک کےمیدان
    جہاد کے لیے نہیں آتے تھے
    اس لیے اللہ تعالی فرماتے ہیں

    ولو شآءاللہ
    اور اگر اللہ چاہتا ان کی سماعت اور بصارت کے جاتا مگر نہیں لے کر گیا کیونکہ ان کے اسلام کی طرف آنے سے چانسزتھے یہ واپس آ سکتے تھے اس لیے اللہ نے انہیں مہلت دی تھی۔۔!

    اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں اس جیسی کوئی برائی تو نہیں کیا ہم اعتقادی یا عملی منافق تو نہیں کہیں ہم بھی تو نہیں ایسے کرتے کہ جہاں قرآن کی دعوت مل رہی ہو جہاں اسلام دیا جارہا ہو اور ہم خاموش ہو جائے سنی ان سنی کر دیں۔!
    یاد رکھیں دین کے رستے میں مشکلات ہیں پریشانیاں ہیں مگر اس کا اجر عظیم بھی ہے اللہ فرماتے ہیں جو متقی بن گیا وہ گھبراتانہیں اور جو متقی بن گیا اسلام کے رستے چلتے رہے
    ھم المفلحون وہ کامیاب ہوگئے
    اگر مشکلات آئی ہیں تو کامیابی بھی ملے گی لیکن ثابت قدم رہنا ہوگا
    جائزہ لینا ہو گا ہمیں کہ کوئی ایسی بات ہم میں تو نہیں کہ اللہ ہمیں بھی کہہ دیں کہ
    و مایشعرون

    لا یشعرون
    اور
    وما کانو مھتدین
    اور نہیں یہ ہدایت پاسکتے

    ابھی وقت ہے مگر وقت بہت تھوڑا لوٹ آئیے واپس اللہ کے در پر کہیں دیر نہ ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

    اپنے کردار کا جائزہ لیں
    اعتقادی و عملی منافق
    ✍🏻از قلم۔
    مشی حیات

  • رہے نام اللّٰہ کا جو قادر بھی ہے خالق بھی__!!! (تحریر✍🏻:جویریہ چوہدری)۔

    آجکل گھر کی کچن سے لے کر ڈرائنگ روم تک…
    میڈیا سے ایوانوں تک…
    ملکوں سے عالمی فورموں تک__

    صحت کے مراکز سے تحقیقی لیبارٹریوں تک ایک ہی بحث گردش کرتی دکھائی دیتی ہے اور وہ ہے کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنا…!!!
    COVID_19
    نے اس دنیا کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔

    زندگی کا پہیہ ایک دم سے ایسا جام ہو گیا ہے کہ
    پہلے جو کبھی ہر وقت سوٹ بوٹ کی تیاری
    صبح صبح جاب کی جگہ پر پہنچنے کی فکر،فنکشن میں فیشن کا لحاظ و خیال۔۔۔شادی بیاہ کی دھوم دھام پر تبادلۂ خیال…
    مرنے پر لمبی چوڑی رسومات کی ادائیگی کا غم
    کسی کے نہ آنے کی کلفت…

    دیکھ کر آنکھ چرا جانے کے شکوے…
    وقت نہ دینے کی ناراضگی…
    بازاروں کے ضرورت اور بلا ضرورت کے چکر…
    بہنوں،بھائیوں پر گلوں کے طومار…

    اب ایک طرف رکھ دیئے گئے ہیں اب عالم ہے اگر تو نفسا نفسی کا…
    کوئی پاس ہو کر بھی قریب نہ آئے،
    اتنے فٹ کا فاصلہ ضروری ہے…

    ہاتھ ملانے سے گریز…
    برتن کو اٹھاتے،ہاتھ لگاتے،دروازہ کھولتے،بند کرتے غرض ہر لمحہ اعصاب پر ایک ہی واہم سوار ہے کہ کہیں وائرس حملہ آور نہ ہو جائے…
    ابہام و غلط فہمیوں کا سلسلہ جاری ہے کہ کل دو آنٹیاں گلی میں نظر آئیں،ایک منہ لپیٹے اپنے گھر داخل ہو گئیں تو دوسری اندازِ شکوہ میں بولیں ہائے مجھے کونسا بیماری ہے کہ مجھ سے بولی بھی نہیں؟

    ایک طرف گھروں میں رہنے کی ہدایات ہیں تو دوسری طرف دیہاڑی دار طبقہ پریشانیوں کے سائے میں صبح کا آغاز کر رہا ہے،روز کا روز کمانے والا اسی اُمید پر زندگی کا پہیہ رواں دواں رکھتا ہے کہ جب تک سانس اور بدن میں قوت ہے، کما کر لے آئیں گے تو اب فاقوں کے ڈر سے مجبور و بے بس بیٹھے ہیں
    راشن کی دکانوں پر سوشل ڈسٹینسنگ (social distancing) سے لا پرواہ غریب چند کلو آٹے یا دال چینی کے لیئے ہلکان ہے…!!!

    میڈیا خبریں سجاتا ہے وائرس کی پرواہ نہیں راشن دے دو…
    غرض ایسے طبقہ کی پر زور اعانت اور انہیں گھر کی دہلیز پر کچھ وقت کے لیئے یہ چیزیں فراہم کرنا حکومت کے لیئے ایک امتحان ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات بھی اس نازک وقت میں دل کھول کر غرباء کی مدد کر سکتے ہیں…
    اگر چہ صورتحال یہ ہے کہ تمام کاروباری مراکز بند ہونے کی وجہ سے ہر بندہ ہی اپنا اپنا رونا رونے اور معاشی سٹرکچر کو دھچکا لگنے پر نالاں دکھائی دیتا ہے…!!!

    دنیا جب دیتی ہے تو ذلت کے دروازے یونہی کھلا کرتے ہیں لیکن یہ صرف خیر الرازقین کی شان ہے کہ ہر روز نئی شان سے مانگنے والوں کو عطا کرتا ہے اور بے حساب کرتا ہے،پر سکون کرنے والا دیتا ہے…
    ایک دم سے ڈگریاں،اسٹیٹس،اور کاروبارِ زندگی غیر یقینی کی صورتحال سے دو چار ہیں اور مستقبل کے معاشی مناظر ذہنوں میں جھلملا رہے ہیں۔
    دنیا بھر کی طاقتیں اور انہیں چلانے والے سبھی کونوں کھدروں میں چھپے بیٹھے ہیں…
    دنیا تا حال علاج و دوا تیار کرنے سے قاصر اور بے بسی کی اتھاہ گہرائیوں میں نظر آ رہی ہیں…

    گلوبل ویلیج کی اہمیت کے ثمرات گنواتے لوگوں پر ذمہ داریوں کا بار بھی اتنا ہی زیادہ ہے اور سب کو مل کر اس وبا کے عفریت سے سامنا کرنا ہے…
    وبائیں اور بیماریاں تاریخ میں بھی بنی نوع انسان کو شدید متاثر کرتی رہی ہیں مگر اتنی آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے اور پھیلاؤ کے امکانات کم تھے۔

    لیکن کئی سوالات کو اپنے پیچھے چھوڑتی یہ وبا حضرت انسان کے لیئے ایک بڑا امتحان بھی ہے…!!!
    ایک اور مفروضہ جو زیرِ بحث نظر آتا ہے کہ یہ حیاتیاتی ہتھیار ہے اور اسے خود لیبارٹریوں میں تیار کیا گیا ہے تو کیا یہ سوال بھی اہلِ عقل کی سوچ میں نہیں آتا ہے کہ اگر یہ کسی کی کسی کو نیچا دکھانے کی سازش ہی تھی تو وہ خود اس کا شکار کیوں ہو چکے ہیں؟
    خود اس کے علاج سے معذور کیوں اور متاثرین میں سب سے آگے کیوں ہیں؟؟؟

    تو تب بھی اللّٰہ کا قرآن ہی دل کو تسلی دیتا ہے کہ:
    "دنیا میں اپنے کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے اور ان کی بری تدبیروں کی وجہ سے، اور بری تدبیروں کا وبال ان تدبیر کرنے والوں پر ہی پڑتا ہے سو کیا یہ اسی دستور کے منتظر ہیں جو اگلوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے سو آپ اللّٰہ کے دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہیں پائیں گے…!!!”(فاطر:43)۔
    انسان جتنے مرضی ترقی کے مدارج طے کر لے مگر رب کے قبضۂ قدرت سے باہر نہیں جا سکتا…

    سو ان باتوں میں سمجھنے اور عبرت پکڑنے والوں کے لیئے بڑی نشانی ہے کہ بہر حال ہمیں اپنے تمام مسائل کے حل کے لیئے اسباب اختیار کرنے کے بعد رجوع اللّٰہ کی ذات کی طرف ہی کرنا ہوگا کہ وہ ہم سے اس وبا کو ٹال دے،نجات دے اور اس کے نقصانات سے محفوظ فرمائے…!!!
    تاکہ مشکلات میں گھری دنیا اور لوگوں میں سکوں کی سانس لوٹے…جو اوہام،ابہام اور اور غیر یقینی باتوں اور ماؤف اذھان کی جکڑ بندیوں میں جکڑی جا چکی ہے…!!!

    کہ اب ماہرینِ نفسیات اور مائنڈ چینجر لوگوں کو میڈیا کی افواہوں سے بھی دور رہنے کی تجاویز دے رہے ہیں یہ بات بھی سچ ہے کہ بے پر کی باتیں بھی بسا اوقات بنے کاموں کو بگاڑ دیتی ہیں…ایک واقعہ کسی نے سنایا تھا کہ ایک ہوٹل سے لوگ کھانا کھایا کرتے ہیں، ایک آدمی جو دودھ پینے کا شوقین تھا وہاں سے روانہ دودھ لے کر پیتا…

    ایک دن اتفاق سے دودھ ختم ہونے کے بعد ہوٹل والے نے ڈول میں دیکھا تو سانپ بیٹھا تھا،تو وہ ہل کر رہ گیا کہ پتہ نہیں وہ سب لوگ جو دودھ لے کر گئے ہیں بچیں گے کہ نہیں لیکن خیریت رہی لیکن وہ شخص جو دودھ پی کر گیا تھا پھر کبھی ہوٹل پر آیا تو اس شخص نے اسے یہ بات بتائی کہ اس دودھ میں جو تم نے پیا تھا،سانپ موجود تھا،یہ سنتے ہی وہ شخص پیچھے گِرا اور…

    بھلے یہ واقعہ سچ ہو یا نہیں لیکن اپنے اندر ایک سبق ضرور رکھتا ہے کہ واقعتاً وہم اور انجانا خوف انسان کی قوتِ مدافعت کمزور کر دیتے اور یوں بھی بزدل کر دیتے ہیں کہ وہ سالوں اور مہینوں بعد بھی اس سے نکل نہیں پاتا…
    اسلیئے احتیاط کیجیئے،تدابیر پر عمل رکھیئے لیکن یاد رکھیئے کہ تقدیر سے کوئی نہیں بھاگ سکتا اور وہ رب چاہے تو زہر کو بھی تریاق کر دیا کرتا ہے…

    پہلے لوگ اتنے آگاہ نہیں ہوتے تھے جتنا کہ آج ہیں…
    میڈیا سے کوئی خود کو کیسے دور رکھ پائے گا کہ پہلے تو کسی کو ٹی وی کا بٹن اُٹھ کر آن کرنا پڑتا تھا اخبار خرید کر لانا پڑتا تھا مگر اب میڈیا ہمارے ہاتھ اور بستروں میں ہے…
    نہ چاہتے ہوئے بھی آنکھیں پھسل کر اس کی خبروں سے جا لڑتی ہیں؟؟؟

    بہر حال مثبت سوچتے رہیں،کچھ وقت کے لیئے احتیاط لازم ہے تو پوری احتیاط کو لازمی اختیار کریں…
    اپنا اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کا خیال رکھیں…آسانیاں بانٹنے والے بنیں…مستحقین سے تعاون کر دیں…اور رب سے دعا و مناجات کا سلسلہ کبھی ہاں کبھی نہ ٹوٹنے دیں…یہی فلاح ہے__!!!

    اس عمرِ رواں پہ سو امتحاں
    کٹتے ہیں کئی لمحے گراں…
    مگر اس زندگی کی رو میں
    سانسوں کی آتی ضو میں__
    اُمیدِ کے چراغ سرِ رہ رکھنا
    ہواؤں کا رب رُخ بدل دے گا__!!!
    ==============================

    رہے نام اللّٰہ کا جو قادر بھی ہے خالق بھی__!!!
    (تحریر✍🏻:جویریہ چوہدری)۔

  • قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال__!!![قسط:2]—–از—جویریہ چوہدری

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال__!!![قسط:2]—–از—جویریہ چوہدری

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "کئی فتنے ایسے ہوں گے،جن میں بیٹھے رہنے والا،کھڑے رہنے والے سے اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا،جو شخص دور سے بھی ان کو جھانکے گا،وہ اس کو بھی سمیٹ لیں گے،اس وقت جس کسی کو کوئی پناہ کی جگہ یا بچاؤ کا مقام مل سکے وہ اس میں چلا جائے…!!!”
    (صحیح بخاری)۔

    قیامت سے پہلے جھوٹے نبیوں اور دجالوں کا ظہور ہو گا ہر ایک چھوٹا ہونے کے باوجود یہ دعویٰ کرے گا کہ وہی اللّٰہ کا نبی ہے۔(صحیح بخاری)۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "وہ وقت قریب ہے جب مسلمان کے لیئے بہتر مال یہ ہو گا کہ وہ چند بکریاں لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر چلا جائے،اپنا دین فتنوں سے بچانے کو بھاگتا پھرے…”(صحیح بخاری)۔

    زمانہ قریب ہو جائے گا(یعنی وقت بہت تیزی سے گزر جائے گا،سال مہینوں کی مانند اور مہینے ہفتہ کی طرح محسوس ہوں گے)۔(صحیح بخاری)۔

    علم گھٹ جائے گا ہر طرف جہالت پھیل جائے گی،حتیٰ کہ کوئی عالم باقی نہیں رہے گا اور لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے…
    ہرج بڑھ جائے گا صحابہ کرام رضوان اللہ نے عرض کی یا رسول اللّٰہ!
    ہرج کیا ہے ؟
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "خونریزی”…
    ہرج حبشی کا لفظ کا لفظ ہے جس کا مطلب خونریزی ہے۔

    (صحیح بخاری_کتاب العلم وکتاب الفتن)۔
    بدکاری و فحاشی کھلم کھلا ہو گی۔(صحیح بخاری)
    شراب اعلانیہ پی جائے گی(صحیح بخاری)۔

    لوگ اسے نام بدل کر پیئیں گے اور حلال سمجھیں گے(صحیح بخاری)۔
    آج مسلمان کتنے دھڑلے سے شراب پیتے ہیں گویا وہ حلال ہے،شادی و خوشی کے مواقع پر،ناچ گانے کے مواقع پر…
    ہوٹلوں،کلبوں میں…ڈیروں، پنچائتوں میں…

    وہ شراب جس کے بارے میں ہمارا رب ہمیں مخاطب کر کے کہہ رہا ہے:
    اے ایمان والو__!!!
    شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں،ان سے بالکل الگ رہو تاکہ فلاح یاب ہو”۔(المآئدۃ:90)۔
    ہمارا رب ہمیں فلاح کی راہ دکھا رہا ہے مگر ہم اس سے منہ موڑ کر کس چیز کا سودا کر رہے ہیں؟
    گمراہی و گھاٹے کا ناں ؟
    لاریب کہ رب کی بتائی ہوئی راہوں کے برعکس راہیں ہمیشہ سے گمراہی و ناکامی والی ہیں…!!!
    اعاذنا اللّٰہ منھا__!

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا،ریشم اور گانے بجانے کو درست کر لیں گے۔(صحیح بخاری)۔

    ایسے لوگوں کو اللّٰہ زمین م دھنسا دے گا اور کچھ کی صورتیں مسخ کر دے گا وہ قیامت تک اسی صورت میں رہیں گے…!!!
    (ابن ماجہ__کتاب الفتن)۔

    مسلم ممالک میں بھی آج میوزک کنسرٹ کے نام پر گانے بجانے کی جو مشقیں ہوتی ہیں وہ بھی اہلِ عقل سے ہر گز پوشیدہ نہیں ہیں…چاہے نفسانی خواہشات سے مغلوب انسان اسے ذہنی تفریح طبع کہے یا موسیقی کو روح کی غذا،
    لیکن اللّٰہ تعالٰی نے اور ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وسلم جنہیں اللّٰہ تعالٰی نے رحمتِ عالم بنا کر بھیجا وہ اس چیز سے منع فرما رہے ہیں یہ لہو و لعب ہے،یہ دل میں نفاق پیدا کرنے کا باعث ہے۔۔۔
    یہ دل کو اللّٰہ تعالٰی کی یاد سے غافل کرنے کی وجہ ہے جبکہ اللّٰہ تعالٰی دلوں کے سکون کا راز یہ بتا رہا ہے:
    اَلَا بذکراللہ تطمئن القلوب¤

    سن لو __
    دلوں کا اطمینان صرف اللّٰہ کی یاد و ذکر میں ہے(الرعد)۔
    مسلمان معاشرے میں امر المعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ بااحسن نبھایا جانا چاہیئے اور اس چیز کے روحانی و اخلاقی نقصانات سے آگاہ کیا جانا چاہیئے جو آج انٹر ٹینمنٹ کی آڑ میں کھلی فحاشی صورت میں ہماری زندگیوں میں سرایت کر گئے…اور ہم اسے محسوس کرنے سے بھی قاصر ہیں یا کرنا ہی نہیں چاہتے۔

    اسی چیز سے آگے بڑھ کر فحاشی و عریانی جنم لیتی ہے…بے پردگی کو رواج ملتا ہے اور جسم و لباس کی زیبائش و آرائش کا بھوت سوار ہو جاتا ہے
    عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی نظر آتی ہیں…
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    جو عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی وہ جنت کو دیکھ سکیں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پا سکیں گی،حالانکہ جنت کی خوشبو اتنے اور اتنے فاصلے سے محسوس کی جا سکے گی۔
    (صحیح مسلم)۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    دیکھو بہت سی عورتیں جو دنیا میں پہنے ہوئے مگر آخرت میں ننگی ہوں گی۔(صحیح بخاری__کتاب الفتن)۔
    (ایسی عورتیں جو لباس پہننے کے باوجود بھی ننگی نظر آتی ہیں)۔
    فحاشی و عریانی ہی پھر آگے بڑھ کر بدکاری کی راہیں ہموار کرتی ہیں…
    اور کوئی بھی معاشرہ ان کے مضر اثرات سے اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو جاتا ہے…!!!

    قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ ہر آنے والا وقت پہلے وقت سے بدتر ہو گا(صحیح بخاری)۔

    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی،جب تک ایک آدمی دوسرے آدمی کی قبر پر گزر کر یوں نہ کہے گا کاش میں اس کی جگہ میں(قبر میں) ہوتا__”
    (صحیح بخاری)۔

    (جاری ہے…)
    ==============================

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال__!!![قسط:2]
    تحریر:(جویریہ چوہدری)۔

  • لَا تَقنَطُو مِن رَّحمَۃِ اللّٰہ…!!!—از—-جویریہ چوہدری

    لَا تَقنَطُو مِن رَّحمَۃِ اللّٰہ…!!!—از—-جویریہ چوہدری

    لا تقنطومن رحمتہ اللہ
    رحیم نام ہے اُس کا__
    بخشنا کام ہے جِس کا__
    وہ اپنی نشانیاں دکھاتا ہے…
    بندوں کو قریب بُلاتا ہے__!!!
    پلٹ آؤ تم میرے در پر…
    تمہاری آس کے جگنو…
    جو چمکتے ہوئے چشمِ تر پر…
    ندامت کے آنسوؤں سے دُھلی
    ہوتی ہیں جو یہ ہتھیلیاں کُھلی__!!!
    دل کے دریدہ دامن سے__
    ہچکیوں کی لُو جو چلی__!!!
    کٹوروں سے برستے نینوں کی…
    گرمی جو سجدوں میں بہی__!!!
    سارے غبارسے چھٹ جاتے ہیں__
    ہوں درد جتنے کٹ جاتے ہیں__!!!
    دل کی دھڑکن میں ہے سکوں اُبھرتا…
    اور رگ رگ میں ٹھنڈ ہے بھرتا…!!!
    بلائیں سب دور جاتی ہیں__
    کہیں آزمائشیں جو آتی ہیں__
    تو شکر و رضا کے آئینے میں…
    کردار کا رُخ سنوارتی ہیں…!!!
    ساحل کی تلاش میں چلتے__
    سفینوں کو منزل پہ اُتار جاتی ہیں__!!!
    جو دل اُس در پہ قائم ہو__
    مایوسی سے رشتہ نہ دائم ہو…!!!
    تو زندگی میں ابد تک__!!!
    روشنیاں ساتھ نبھاتی ہیں__!!!
    کہیں خزاں کوئی آ بھی جائے__
    مگر اسی کی اوٹ سے پھر…
    بہاریں بھی مسکراتی ہیں…!!!!!
    ==============================

    لَا تَقنَطُو مِن رَّحمَۃِ اللّٰہ…!!!
    (بقلم✍🏻:(جویریہ چوہدری)۔

  • یکم اپریل یوم سیاہ ———از———–عشاء نعیم

    یکم اپریل یوم سیاہ ———از———–عشاء نعیم

    عادت ہی پڑ گئی ہے ہر نقل کرنی ہے
    اچھے سے واسطہ ہے نہ برے سے کوئی نفرت

    یکم اپریل
    غداروں کی غداروں ،لالچیوں کے لالچ اور ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی وجہ سے غرناطہ کی گلیاں مسلمانوں کے خون سے بھری پڑی تھیں۔صلیبی فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو خون گھوڑوں کے گھٹنوں تک آتا تھا لیکن ان بھیڑیوں کی ہوس نہیں ختم ہورہی تھی اور وہ چن چن کر مسلمانوں کو شہید کر رہے تھے ۔

    کتنوں کو پکڑ کر لے گئے اور ایسی ایسی روح فرسا سزا دی کہ یقین نہیں آتا کہ یہ صلیبی بھی مسلمان ہیں ۔
    کسی کو تختے پہ یوں لٹایا جاتا کہ سر نیچے جھکا ہوتا ٹانگیں اوپر کی طرف باندھ کر پانی کی بالٹی منہ پہ گرائی جاتی ۔پھر گردن اور تھوڑی کے درمیان لمبا سریا لگا دیا جاتا ،کسی کے گلے میں کس کر کڑا ڈال دیا جاتا ،جسم سے گوشت، ناخن نوچے جاتے ،آنکھیں نکال لی جاتیں ۔

    مسلمانوں کی اکثریت شہید کچھ وطن چھوڑ کر بھاگ گئے کچھ قید ہو کر درد ناک سزائیں جھیل رہے تھے کچھ مارے ڈر کے اپنے گلے میں صلیبیں ڈال کر نام بھی عیسائیوں والے رکھ کر اپنی شناخت کو چھپا بیٹھے تھے کہ مبادہ کہیں کسی کو پتہ چلے ہم مسلمان ہیں تو ہمیں بھی شکنجے میں جکڑ لیا جائے ۔
    مسلمان چھپ کر نماز پڑھتے تھے ۔قرآن مجید بھی چھپا لئے گئے تھے ۔

    گرجوں میں جانا شروع کردیا تھا ۔
    اسلام کا نام بھی گھروں کی کنڈیاں لگا کر آہستہ اور خوف زدہ آواز میں لیا جاتا تھا کہ کوئی سن لے۔

    کافر بڑا شاطر تھا اسے امید تھی کہ مسلمان اب بھی ہوں گے کہیں نہ کہیں ۔
    سو انھیں اندھیروں میں مسلمانوں کے کانوں میں ایک ایسی آواز پڑی کہ جس نے ان کے ڈوبتے دلوں کو سہارا دیا ،ان کے مرجھائے چہرے کھل اٹھے، انھیں بہت دنوں بعد سکون شا ملا ،خوف کم ہوا اور اس اذیت ناک زندگی سے چھٹکارا ملتا محسوس ہوا ۔

    اعلان تھا کہ غرناطہ سپین میں جتنے بھی مسلمان ہیں جہاں کہیں بھی وہ سب بندرگاہ پہ اکٹھے ہو جائیں وہاں جہاز آ ئے گا جو انھیں لے کر مسلمان ملک میں چھوڑ آئے گا ۔
    مسلمانوں نے اسے نوید سحر سمجھا ،دلوں کی بے قراری کو کچھ اطمینان ہوا ،گھر بار وطن کے بدلے میں جان کی امان ،خوف زدہ زندگی سے چھٹکارا اور مذہب کی آزادی کا سودا کچھ کم نہ لگا ۔
    سو گلے میں ڈالی صلیبیں اتار پھینکیں جو پہلے ہی سانپ کی مانند ڈستی تھیں ، خوشی خوشی سب بندرگاہ پہ اکٹھے ہونا شروع ہو گئے ۔

    جب سب اکٹھے ہو کر چلے ہوں گے تو دل کچھ اداس بھی ہوں گے مگر آنکھوں میں آزادی مذہب کے سہانے خواب سجائے وہ بحری جہاز میں بیٹھے سوچ رہے ہوں گے اب تو چھپ کر نماز نہیں پڑھنی ہوگی سرعام اونچی آواز میں تلاوت کیا کریں گے ۔
    لا الہ الا اللہ کی تسبیح کریں گے ۔لیکن یہ جہاز جب عین اندر کے بیچ میں گہرے پانی میں پہنچ گیا تو ظالم دہشت گرد صلیبیوں نے جہاز کو ڈبو دیا ۔
    بچے بوڑھے، جون عورتیں سب کی چیخیں دلوں کو چیرتی تھیں لیکن ظالموں کے دل میں رحم نہ آیا اور وہ پچاس ہزار مسلمان یکم اپریل کو ڈوب گئے ۔

    یعنی یکم اپریل کو اسپین سے مسلمانوں کا خاتمہ کردیا گیا ۔
    ان ظالموں کے دل تو کیا لرزتے اپنی دھوکہ دہی اور جھوٹ پہ اس قدر خوش ہوئے کہ باقاعدہ محل میں فول اپریل کے نام سے جشن منایا گیا ۔
    پھر یہ جشن ہر سال منایا جانے لگا جو بڑھتے بڑھتے پورے یورپ میں منایا جانے لگا ۔

    لیکن وہ تو کفار ہیں ان کے دل بھی شیطان کا گھر ہیں بات تو ہماری ہے ہم مسلمان ہیں ہمیں ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیوار کی مانند قرار دیا ۔ہمیں ایک جسم سے تشبیہ دی پھر ہم کیسے اپنے ہی بہن بھائیوں کے قاتلوں کے ساتھ مل کر ان کے قتل کا جشن منا سکتے ہیں؟
    ہم کیسے اپنے ہی شہید بہن بھائیوں کو فول (بےوقوف) کہہ سکتے ہیں؟

    ہم کیسے اس دیوار کی اینٹوں کے گرانے پہ خوش ہو سکتے ہیں جس دیوار کا حصہ ہم خود ہیں؟
    نہیں نہیں یہ نہیں ہو سکتا ۔ہمارے لئے تو یکم اپریل یوم سیاہ ہے ۔

    ہمارے دل کٹتے ہیں کہ اس دن ہمارے بہن بھائیوں کو دھوکہ دیا گیا جھوٹ بولا گیا اور انھیں سہانا خواب دکھا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔
    یکم اپریل کو جھوٹ بول کر منایا جاتا ہے ۔
    جبکہ میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن جھوٹا نہیں ہو سکتا ۔

    جھوٹے کے منہ میں قیامت کے روز آگ کی زبان ہوگی ۔پھر ہم کیوں جہنم کے دروازے کھولیں اپنے لئے ۔
    اور میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ ہوتا ہے لیکن ہم جھوٹ بول کر کسی کو کہہ کر تیرا فلاں مر گیا ،فلاں کا ایکسیڈنت ہوگیا ،کتنی اذیت ہوتی ہے ،ہم کیوں کسی کو اپنی زبان سے غیر کر کے اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کریں ؟

    بس بات تھوڑی سی عقل استعمال کرنے کی ہے تھوڑا غور کرنے کی ہے ۔ہر چیز میں ہم دنیا کے جاہلوں سے نہیں مل سکتے ۔
    تھوڑی دیر سوچیں کیا کفار بھی ہمارے ساتھ ہر دن مناتا ہے ؟

    ہم ڈیڑھ ارب مسلمان دنیا کی آبادی کا تیسرا حصہ ہیں لیکن دنیا کی گھٹیا ترین قوم ہندو بھی ہمارے ساتھ کوئی دن نہیں مناتی تو ہم تو پھر اس کائنات پہ سب سے اعلی قوم ہیں الحمداللہ ۔ہم کیوں نقل کریں ؟ بس ہمیں کفار کو کہنا چاہیئے
    ہمارے لئے ہمارا دین اور تمہارے لئے تمہارا دین

    یکم اپریل یوم سیاہ ———از———–عشاء نعیم