Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اس دور میں ہر فارغ شخص شعر کہتا ہے ، شعراء پر کی گئی شاعری   بقلم: منہال زاہد سخی

    اس دور میں ہر فارغ شخص شعر کہتا ہے ، شعراء پر کی گئی شاعری بقلم: منہال زاہد سخی

    منہال زاہد سخی

    سب کچھ بھول بھلا کر پھر وہ شعر کہتا ہے
    سب کو چپ لگا کر پھر وہ شعر کہتا ہے

    بیزار نظر آتے تھے جو شعر و شاعری سے
    اب اس گروہ کا ہر فرد شعر سنتا ہے شعر کہتا ہے

    پریشان نظر آتے ہیں گھر کے سبھی افراد کہ
    سب کو ستاتا ہے اسے الہام ہوتا ہے پھر یہ شعر کہتا ہے

    وہ منظر کی خوبصورتی بڑھانے میں کوشاں ہے
    وہ منظر کو چار چاند لگانے میں شعر کہتا ہے

    یہ شاعری ہے کیا سچ ہے کیا جھوٹ ہے اس میں
    گھما پھرا کر کہتا ہے پھر وہ شعر کہتا ہے

    سب متاثر نظر آتے ہیں اب شعراء سے سخی
    اس دور میں ہر فارغ شخص شعر کہتا ہے

    #قلم_سخی

  • "شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات ”  از قلم : ایمان کشمیری

    "شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات ” از قلم : ایمان کشمیری

    "شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات ”

    از قلم ایمان کشمیری

    صد شکر کہ رمضان المبارک کا بابرکت اور سعادتوں والا مہینہ ہم پر پھر سے سایہِ فگن ہے ، یہ مہینہ اتنا بابرکت ہے کہ اس میں ہر نیکی کا اجر بڑھا کر سات سو گنا تک کر دیا جاتا ہے ، اس مہینے میں رب کی رحمت ، برکت اور مغفرت بے بہا ہو جاتی ہے ۔۔ اسی مہینے کے بارے میں ہی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ناں کہ :

    ” اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو ،جس پر رمضان آئے اور وہ گزر جائے مگر اِس کے گناہ معاف نہ ہوں ”

    ناک خاک آلود ہونے سے مراد اللہ کی رحمت سے محرومی ہے، یعنی جس کے پاس رمضان کا مہینہ آیا مگر اُس نے اس مہینے میں رب کو راضی کر کے اپنے گناہ نہ بخشوائے تو وہ بہت بدقسمت ہے اور اللہ رب العزت کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے ۔۔۔
    آپ سب جانتے ہیں کہ رمضان المبارک کے آنے سے پہلے ہم کرونا وائرس جیسی آزمائش میں مبتلا تھے، اِس نظر نہ آنے والے وائرس کا خوف اِس قدر طاری ہو چکا تھا کہ سب گھروں میں بند ہو گئے تھے ، سکول ، کالج، یونیورسٹیاں ،مدارس ، بازار یہاں تک کہ مساجد کو بھی بند کر دیا گیا تھا مبادا کہ کسی متاثرہ بندے سے دوسرے کو وائرس ٹرانسفر نہ ہو جائے ۔۔۔ قصہ مختصر کہ پوری دُنیا اس چھوٹے سے اور نظر نہ آنے والے وائرس کی وجہ سے سُنسان اور ویران ہو چکی تھی ۔۔ ہم مسلمان جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کوئی مصیبت یا تکلیف نہ تو رب کی اجازت کے بغیر آ سکتی ہے اور نہ ہی جا سکتی ہے، چنانچہ ہم رمضان المبارک کا بڑی بے صبری کے ساتھ انتظار کر رہے تھے کہ جیسے ہی رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہو گا رب اپنی بے پناہ رحمتوں اور برکتوں کے سبب ہم سے اِس آزمائش کو ختم کر دے گا ، ہم روزے کی حالت میں زیادہ رب کے قریب ہوں گے ، زیادہ سے زیادہ عبادت کریں گے ، رو رو کے اپنی عرضیاں رب کے حضور پیش کریں گے مطلب جتنی بھی سستی اور کوتاہی ہم سے گزشتہ زندگی میں ہو چکی ہم اِس مہینے میں اُس کا ازالہ کر لیں گے ۔۔۔
    مگر افسوس ہوا کیا ،رمضان المبارک کا مہینہ تو شروع ہو گیا اور ہم جو رمضان المبارک کا بڑی بے صبری سے انتظار کر رہے تھے ترکی کے ایک سیریل ارطغرل میں مگن ہو گئے ، ہم بھول گئے کہ ہم کس مصیبت سے دو چار تھے اور ہمیں اِس مہینے کی کتنی ضرورت تھی ۔۔ آپ کے دل میں خیال آیا ہو گا کہ میں اِس سیریل کے دیکھنے پہ فتوٰی لگانے لگی ہوں ، ارے نہیں نہیں ۔۔۔ میں نہ تو کوئی عالمہ ہوں اور نہ ہی مفتیہ، میں اِس سیریل کو دیکھنے سے منع بھی نہیں کر رہی ،انڈین فلمیں اور ڈرامے دیکھنے سے تو بہتر ہے ایسے سیریل ہی دیکھ لیے جائیں ، مگر میں یہاں جس چیز کےلیے فکر مند ہو رہی ہوں وہ رمضان المبارک کا تیزی سے گزرتا ہوا مہینہ ہے ، ہاں وہی مہینہ جس کے روزوں کے بارے میں حدیثِ قدسی ہے کہ :

    ” روزہ میرے لیے ہے اور میں خود ہی اِس کا اجر دوں گا ”

    مطلب رب نے سب عبادات کا اجر بتا دیا مگر روزے کا اجر چھُپا لیا اور کہا یہ میرا اور میرے بندے کا معاملہ ہے میں جتنا بھی چاہوں گا اُسے بڑھا چڑھا کے اجر دوں گا ، ذرا سوچیے جس روزے کا اجر رب نے اس طرح دینا ہو اُس کے کچھ تقاضے بھی تو ہوں گے ناں ۔۔۔
    اب ہوا کیا ہم نے روزہ تو رکھ لیا مگر روزے کے تقاضوں کو یکسر بھول گئے ، ہم بھول گئے کہ ہمیں روزے کی حالت میں کن کن کاموں سے بچنا تھا ، ہم بھول گئے کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ تلاوتِ قرآن پاک اور اذکار کی پابندی کرنی تھی ، ہم بھول گئے کہ ہمیں اپنی مناجات سے رب کو راضی کرنا تھا تاکہ وہ ہم پر آئی ہوئی آزمائش کو ختم کر دے ۔۔۔۔ ہمیں یاد رہا تو بس یہی کہ ارطغرل سیریل دیکھنا ہے تاکہ جذبہِ جہاد پیدا ہو ۔۔۔۔۔ ارے یہ کیسا جذبہِ جہاد ہے جس نے رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں کو کھا لیا ، یہ کیسا جذبہِ جہاد ہے جو رمضان المبارک کے مہینے میں لڑے گئے غزوؤں سے تو پیدا نہ ہوا اور اِس سیریل سے پیدا ہونے لگا ، یہ کیسا جذبہِ جہاد ہے کہ ہمارے مجاہدین روز دو ،دو ، چار کر کے شہید ہونے لگے اور ہمیں اُن کےلیے دُعا کی بھی فرصت نہ مل سکی ۔۔۔ ہمارے جوانوں کے ذہنوں میں تو حلیمہ کی ادائیں اور شاہینہ کی وفائیں ہی ثبت ہو کے رہ گئیں ، ہمارے جوانوں کو یاد رہیں تو بس شہناز خاتون کی عیاریاں اور عالیہ خاتون کی مکاریاں ۔۔۔
    میں جانتی ہوں کہ میری بات بہت سے لوگوں کڑوی محسوس ہو گی مگر ساتھ یہ بھی دعوی سے کہتی ہوں کہ آپ کے ضمیر اِس بات کی گواہی دیں گے کہ سیریل کو دیکھتے ہوئے نوجوان کس چیز کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں ،ارے دیکھنا ہی تھا تو رمضان کے بعد دیکھ لیتے مگر افسوس وہ لوگ جن کو اِس سیریل کی الف ب کا بھی نہیں پتہ تھا اُنہوں نے بھی عبادت سمجھ کے اِسے رمضان میں دیکھنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ میں نے بغور مشاہدہ کیا کہ ہمارے نوجوان اِس سیریل کو دیکھنے کے بعد اِس میں موجود خواتین کا تذکرہ کرتے نظر آتے ہیں ، کچھ حضرات تو خواتین کی تصاویر اور ویڈیو کلپس اپنی ٹائم لائن پر لگا کر خود بھی لطف اندوز ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی کرتے ہیں ،،،،، میری بہنیں جنھوں نے کبھی اپنی تصویر فیس بک پر اپلوڈ نہیں کی تھی ،وہ بھی سیریل میں موجود خواتین کی تصاویر کو اپنی پروفائل پر لگا کر فخر محسوس کرتی ہیں ، عزیز بہنو!!! تھوڑا نہیں پورا سوچو کہ تمہاری پروفائل پہ لگی ایک غیر محرم عورت کی تصویر کو جب ہمارے جوان زوم کر کے دیکھیں گے اور اُن کے دِل میں بُرے خیالات پیدا ہوں گے تو کیا تمہیں ثواب ہو گا ؟؟؟
    درست کہتے ہیں ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ، اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ مثبت پہلو اپناتا ہے یا منفی ۔۔۔ جہاں تک میرا اندازہ اور مشاہدہ ہے تو ہمارا جھکاؤ اِس سیریل کے منفی پہلو کی طرف زیادہ ہے ، زیادہ دکھ اِس بات کا ہے کہ ہم نے اِس سیریل کو رمضانُ المبارک پر فوقیت دے دی ،،،، ارے سیریل تو رمضان کے بعد بھی دیکھا جاتا مگر کیا پتہ اگلا رمضان ہمیں نصیب ہو کہ نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دردِ دِل سے التجا کرتی ہوں ابھی بھی وقت ہے رمضانُ المبارک کی با برکت ساعتوں کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا لیں ، سیریل کو دیکھنا فی الحال ترک کر دیں ، رمضان کے بعد یہی کام ہوتے رہیں گے ، ابھی رب کو منانے کا وقت ہے ،ایسا نہ ہو کہ یہ قیمتی ساعتیں گزر جائیں اور ہم خالی ہاتھ ، نامراد رہ جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو آئیے رب کی بارگاہ میں سب ہاتھوں کو اُٹھاتے ہیں ، سر کو جھکاتے ہیں ، اُسے مناتے ہیں کہ وہ ہم سے وائرس جیسی آزمائش کو دور کر دے ،،،،، میدانِ کارزار گرم ہے ہمارے کشمیری بھائی روز اپنے رب کو شہادتوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں ، ہم اُن کےلیے کچھ اور نہیں کر سکتے تو کم از کم رب سے اُن کی فتح ، نصرت اور مدد کےلیے التجا تو کر سکتے ہیں ناں ،،، اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں سیدھے رستے پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔۔ آمین یا رب المجاہدین، یا ارحم الراحمین ، ارحم لنا

  • ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے) کا قرآن مجید میں ذکر  بقلم سلطان سکندر!!!

    ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے) کا قرآن مجید میں ذکر بقلم سلطان سکندر!!!

    ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے) کا قرآن مجید میں ذکر

    "شکار کرنے والے پرندے، ریپٹرز، پرندوں کی ان انواع (سپیشیز) میں شامل ہیں جو کشیرے (ریڑھ دار) جانوروں کا شکار کرتے اور ان کا گوشت کھاتے ہیں جو شکاری کی بہ نسبت بڑے ہوتے ہیں۔
    مزید براں، انکی نظر اتنی تیز ہوتی ہے جو انہیں اڑان کے دوران ہی یا کچھ فاصلے پر ہی اپنے شکاری کی طرف متوجہ(فوکس) کر دیتی ہے، انکے پاوں پنجوں کے ساتھ اتنے مضبوط ہوتے ہیں جو شکاری کو پکڑنے یا مارنے کیلئے کافی ہوتے ہیں، اور مڑی ہوئی چونچ جو شکاری کے جسم کو پھاڑنے کیلئے کافی ہوتی ہے۔”
    Reference:- Wikipedia, bird of prey, 2019.

    ریپٹرز اپنے پنجوں کے ذریعے شکار کو پکڑتے ہیں۔ جبکہ اکثر پرندے اپنی چونچ کے ذریعے اپنے شکار کو پکڑتے ہیں جیسا کہ ہاکنگ(Hawking)

    "ہاکنگ (Hawking) پرندوں میں شکار کو پکڑنے کی ایک ایسی حکمت عملی ہے، جس میں ہوا میں اڑنے والے کیڑوں کو پکڑنا شامل ہے، ہاکنگ کی اصطلاح اس طرز عمل سے مماثلت رکھتی ہے جس میں ہاک (Hawk) یعنی شکار کو ہوا میں پکڑنا شامل ہے، جہاں ریپٹرز اپنے پنجوں کے ذریعے شکار کو پکڑ سکتے ہیں اسی طرح ہاکنگ کا بھی اپنے شکار کو چونچ کے ذریعے پکڑنے کا ایک طرز عمل ہے۔
    Reference:- Wikipedia, Hawking, 2019

    دوسرے پرندوں سے مختلف، ریپٹرز اپنے شکار کو اپنے پاوں(پنجوں) کے ذریعے شکار کرتے ہیں۔

    تو ثابت ہوا کہ ریپٹرز اپنے شکار کو اپنے پنجوں کے ذریعے پکڑتے ہیں، چونچ کے ذریعے نہیں۔
    ایسی ہی بات 1400 سال پہلے قرآن میں لکھی ہوئی پائی گئی،

    Quran 22:31

    حُنَفَآءَ لِلّـٰهِ غَيْـرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْـرُ اَوْ تَهْوِىْ بِهِ الرِّيْحُ فِىْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ ( الحج 31#)

    خاص اللہ کے ہو کر رہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔

    "پرندے اچک لیتے ہیں” جیسا کہ یہ پرندے اس انسان پہ حملہ کرکے اسے اچک لیتے ہیں تو مطلب یہ ریپٹرز (گوشت کھانے والے) پرندے ہوتے ہیں۔

    جیسا کہ قرآن کہتا ہے کہ وہ لوگ اچک لیے جاتے ہیں، کھائے نہیں جاتے، اگر وہ پرندے انسانوں کو ہوا میں ہی اچک لے جاتے ہیں، کھائے نہیں جاتے تو اسکا مطلب وہ پرندے اپنے پاوں کا استعمال کرتے ہیں، آج ہم جانتے ہیں کہ ریپٹرز اپنے پاوں کے ذریعے شکار کو پکڑتے ہیں، چونچ کے ذریعے نہیں۔


    سوال یہ بنتا ہے کہ ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے ہی کیسے جان سکتا ہے کہ اکثر باقی پرندوں سے مختلف ریپٹرز اپنے پاوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • ا صل لٹیرا کون ؟ محمد بن قاسم یا راجہ داہر—-تحریر:—- اویس خان سواتی

    ا صل لٹیرا کون ؟ محمد بن قاسم یا راجہ داہر—-تحریر:—- اویس خان سواتی

    آپ جب بھی برصغیر کے مسلم فاتحین کا ذکر کریں گے تو ایک طبقہ ان فاتحین کو بیرونی غاصب اور لٹیرے وغیرہ اور ان کے مقابل مقامی ہندو راجاؤں کو اس دھرتی کا سپوت اور اصل وارث قرار دے گا۔۔۔ آپ محمد بن قاسم کا ذکر کریں تو یہ راجہ داہر کی مدح سرائی کرنے لگیں گے۔ آپ محمود غزنوی کا ذکر کریں تو یہ راجہ جے پال اور راجپوتوں کی مظلومیت کا رونا رونے لگیں گے۔ آپ ترک اور افغان سلاطین کا ذکر کریں تو یہ انہیں ڈاکو قرار دیں گے۔ آپ اورنگزیب عالمگیر کا نام لیں تو یہ مراٹھوں اور سکھوں کا رونا روئیں گے۔ آپ احمد شاہ درانی کا نام لیں تو یہ اسے ظالم درندہ قرار دیں گے۔۔۔۔ اور اگر آپ رنجیت سنگھ کی درندگی کی طرف انکی توجہ مبذول کروائیں تو یہ طبقہ اسے ہندوستان کا جری سپوت قرار دے گا۔

    مانا کہ عرب، ترک، افغان، مغل اور فارسی ہند کے مقامی باشندے نہیں۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا راجہ داہر سے لے کر رنجیت سنگھ تک تمام راجے مہاراجے ہند کے حقیقی وارث اور اصل باشندے تھے؟

    جواب ہے کہ نہیں! اسے سمجھنے کے لیے ہند میں موجود اقوام کی تاریخ کا مختصر تعارف کروانا ضروری ہے۔

    سو عرض ہے کہ ہندوستان میں اڑھائی ہزار قبلِ مسیح دراوڑ نسل آباد تھی۔ اور پھر وسطی ایشیاء سے یہاں آریا نسل وارد ہوئی کہ جن نے دراوڑوں کو جنوبی ہند کی طرف دھکیلنا شروع کیا۔۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ آرئین آگے بڑھتے ہوئے شمالی ہند میں گنگا کے دو آب تک پہنچے۔ تب ان کے سماجی نظام میں تبدیلیاں آئیں اور ان نے عوام کو پیشے کے مطابق مندرجہ ذیل تین فرقوں یا ذاتوں میں تقسیم کر دیا:

    آریائی نسل میں حکومت جن لوگوں کے ہاتھوں میں رہی وہ ”شَتّریے“ کہلائے، جنہیں کھشتری یا چھتری بھی کہا جاتا ہے۔ راجا مہاراجے اور فوجی انہی میں سے ہوتے تھے۔

    آریائی نسل کے مذہبی رہنما پُروہِت کہلائے کہ جو مذہبی امور کو ادا کرنے کے ساتھ ساتھ راجاؤں کو مذہبی اور سیاسی مشورے بھی دیتے تھے۔ براہمن دراصل پروہت ہی ہیں۔

    آریائی نسل میں کھیتی اور تجارت کا کام کرنے والے عام لوگ ’’وَیشیہ‘‘ کہلاتے تھے۔

    جبکہ ’’شُودْر‘‘ ان لوگوں کو کہا گیا کہ جن کی رگوں میں آریائی خون شامل نہیں تھا اور جو آریوں کے مذہب اور رنگ سے منفرد تھے۔۔۔ آریائی نسل کے لوگ انہیں گھٹیا اور کمی کمین مانتے تھے۔ اور آج بھی یہی حال ہے۔

    یعنی کل ملا کر کہانی کچھ یوں ہے کہ باہر سے ایک نسل حملہ آور ہوئی اور اس نے مقامی لوگوں کو مار کوٹ کر دیوار سے لگا دیا اور پھر خود کو دو حصوں یعنی شتریہ اور پروہت یا کھشتری و براہمن میں تقسیم کیا۔ اور مقامی لوگوں کو شودر قرار دیا۔ یعنی کمی کمین اور خادم۔۔۔
    لیکن یہاں کہانی میں تھوڑا ٹوسٹ ہے۔۔۔۔ اور وہ یہ کہ دراوڑ نسل کہ جو آریا کے آنے سے قبل ہند کے حاکم تھے، اور آج کل جنوبی ہند اور سری لنکا میں کروڑوں کی تعداد میں آباد ہیں، بھی یہاں کے قدیم ترین باشندے نہیں، باہر سے آئے ہوئے ہیں۔۔۔
    اکثر مورخین و ماہرین اس بات پہ متفق ہیں کہ ہند کے قدیم ترین باشندے "کولا” نسل کے لوگ ہیں۔ کہ جن کے ساتھ حملہ آور دراوڑوں نے وہی سلوک کیا کہ جو آریا نے انکے کے ساتھ کیا تھا۔ بلکہ شاید اس سے بھی برا۔۔۔ اسکا ثبوت یہ ہے کہ آج بھی ہندوستان میں آپ کو مختلف دراوڑی زبانیں اور دراوڑ نسل کے قوم قبیلے کروڑوں کی آبادی میں مل جائیں گے۔ لیکن کولا نسل کا کوئی خاص نشان آپ کو نہیں ملے گا سوائے دو قوموں یعنی بھیل و سنتھال کے۔ کہ جنہیں اچھوت قرار دیا گیا کہ جو شودر کے بعد کا درجہ ہے۔۔۔۔

    لیکن ماہرین کی ایک جماعت کا یہ بھی ماننا ہے کہ کولا نسل بھی ہند میں باہر سے آئی ہوئی ہے۔۔

    ___________

    یعنی ماشاءاللہ سے سب ہی اس حمام میں ننگے ہیں۔۔۔۔ راجہ داہر کشمیری براہمن تھا۔ یعنی آریائی، نہ کہ سندھی! راجہ جے پال و دیگر ہندو راجے مہاراجے، حتیٰ کہ مراٹھے اور راجپوت۔۔۔ سب کے سب یا تو براہمن تھے یا کھشتری۔۔۔۔ یعنی جن راجوں مہاراجوں پہ مسلمانوں نے غلبہ حاصل کیا، وہ سب غاصب آریاؤں کی اولاد تھے۔ اور آریائی نسل نے جس دراوڑ نسل پہ غلبہ حاصل کیا وہ بھی غاصب تھی۔۔۔۔ اور دراوڑوں نے جن "کولوں” کو مغلوب کیا تھا وہ بھی باہر سے ہی آئے تھے۔۔۔

    تو ایسے میں سوال ہے کہ بیرونی غاصب اور لٹیرے صرف مسلمان فاتحین ہی کیوں؟؟؟

    مسلمانوں نے تو ظالم غاصب آریائی نسل پہ فتح حاصل کی اور ان کے بنائے ذات پات اور اونچ نیچ کے ظالمانہ اور غیر انسانی طبقاتی نظام کا اپنے زیر انتظام علاقوں میں خاتمہ کیا۔۔۔

    تو پھر مسلم فاتحین سے نفرت کیوں؟

    جواب صاف اور واضح ہے۔۔۔ کہ محمد بن قاسم کی فتح کے بعد جب براہمن، کھشتری اور ویشیا ہندوؤں نے دیکھا کہ جنہیں ہم شودر، ملیچ اور اچھوت کہتے تھے۔ کہ جو ہمارے سامنے ننگے پاؤں چلنے، پگڑی نہ باندھنے اور جھکنے کے پابند تھے، انہیں مسلمانوں نے ہمارے برابری کے حقوق دے دیے ہیں تو ان میں اس وجہ سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا ہو گئی اور ان نے مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈہ شروع کر دیا، مسلمانوں کے مظالم کی کہانیاں گھڑیں۔ یہ قصے کہانیاں سینا بہ سینا نسل در نسل منتقل ہوتی گئیں۔۔۔ اور آج بھی اونچی ذات کے ہندوؤں میں زبان زدِ عام ہیں۔ اور اب تو اس میں مذھب کا تڑکا بھی لگ گیا ہے۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ آج کل کے مسلمانوں کا بھی ایک طبقہ مسلم فاتحین کی تحقیر کرتا نظر آتا ہے، ایسا کیوں؟ تو اس کا جواب ہے کہ ان مسلمانوں میں اکثریت ان جہلاء کی ہے کہ جو اونچی ذات کے ہندوؤں کے نسل درنسل پھیلائے گئے پراپیگنڈے سے متاثر ہیں۔ جبکہ کچھ ایسے ہیں کہ جو اونچی ذات کے ہندوؤں کی نسل میں سے ہیں کہ جن نے اسلام تو قبول کر لیا لیکن ان کے لاشعور میں تاحال طبقاتی عصبیت موجود ہے اور وہ آج تک اپنے آباء کے گھڑے گئے جھوٹ کے سحر سے باہر نہیں نکل پائے۔

    اور ایک جماعت ایسے لوگوں کی بھی ہے کہ جو برائے نام مسلمان ہیں کہ جنہیں ہم سیکولر کہتے ہیں۔۔ ان کا اصل مسئلہ اسلام ہے۔ انہیں اپنے مسلمان ہونے کا افسوس ہے، لیکن چونکہ یہ لوگ معاشرتی مجبوریوں کے باعث اسلام سے رشتہ نہیں توڑ سکتے۔۔۔ لہذا اپنی فرسٹریشن اسلام سے منسوب ہر اس شے پہ نکالتے ہیں کہ جو مسلمانوں کے نزدیک معتبر و محترم ہو۔۔۔ اور ایسا کر کے یہ خود کو روشن خیال اور اعتدال پسند باور کرواتے ہیں، حالانکہ ان سے بڑا جاہل اور ہٹ دھرم کوئی اور نہیں۔ کہ آریائی نسل کے ظالم راجے مہاراجے انکے نزدیک مظلوم ہیں لیکن مسلم فاتحین غاصب و لٹیرے کہ جن نے ان راجوں مہاراجوں کے ظالمانہ نظام کا خاتمہ کیا۔

    ا صل لٹیرا کون ؟ محمد بن قاسم یا راجہ داہر—-تحریر:—- اویس خان سواتی

  • مسلمانوں کی فتح جس نے دنیا بدل دی….از…علی عمران شاہین

    مسلمانوں کی فتح جس نے دنیا بدل دی….از…علی عمران شاہین

    مسلمانوں کی فتح جس نے دنیا بدل دی….از…علی عمران شاہین
    3مئی 1481وہ تاریخ ہے جب عالم اسلام کا ایک عظیم و درخشندہ ستارہ اس جہان فانی سے رخصت ہوا…… سلطان محمد الفاتح جنہوں نے قسطنطنیہ فتح کرنے والے کے لئے جنت کی سنائی گئی نبوی خوش خبری کو اپنے نام کرنے کا اعزاز پایا تھا،عمر تو محض 50سال پائی لیکن وہ عزت و اعزاز سمیٹا کہ قیامت تک کسی اور کو نہ مل سکے
    سلطان محمد الفاتح نے دنیا کے سب سے طاقتور اور صدیوں سے ناقابل تسخیر شہر فتح کیا تھا۔اس شہر کو فتح کرنے کے لئے مسلمانوں نے 700سال جدوجہد کی جس کی بنیاد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے رکھی تھی اور لاکھوں اس راہ میں قربان ہوچکے تھے۔اللہ کی شان دیکھے کہ یہ تمغہ اللہ تعالیٰ نے 21سال کی عمر رکھنے والے اس جوان کو عطا کیا جس کا نام بھی کائنات کی اعلیٰ ترین ہستی پاک محمد کے نام پر تھا۔
    29مئی 1461کے روزسلطان نے خود جنگ کی قیادت کرتے ہوئے اس شہر کو فتح کرنے کے لئے شہر کے دوسری طرف سے خشکی پرکشتیاں چلانے کا محیر العقول کارنامہ انجام دےڈالا تھا۔اس کے لئے کئی ماہ درخت کاٹے گئےاور لکڑی کے تختے بنابناکر پھر ان پر چربی مل کر انہیں چکنا کیاگیا۔پھر ان پر کشتیاں چلا کر اور اپنی فوج کو اتار کر ایسی رازداری سے سارا مشن انجام دیا گیاکہ تاریخ کے بڑے بڑے جرنیل اور عسکری ماہرین آج تک حیران و پریشان ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہوا جو سوچنا محال ہے۔

    سر پر بھاری پگڑی باندھے اور شاہی خلعت میں ملبوس سلطان نےمجاہدین کو یوں مخاطب کیا:
    ”میرے دوستواورجوانو!آگے بڑھو،خودکو ثابت کرنے کا لمحہ آ گیا ہے!”
    اس کے ساتھ ہی نقاروں،قرنوں اورتکبیر کے نعروں کےشور اور گونج نے رات کی خاموشی تارتار کر دی، لیکن کان پھاڑتے شور میں بھی عثمانی جہادی دستوں کے فلک شگاف نعرے صاف سنےجا سکتے تھے جنھوں نے فولادی فصیل پر تباہ کن ہلہ بول دیا تھا۔یہاں ایک طرف خشکی اور دوسری طرف سےبحری جہازوں پر نصب توپوں نے آگ برساناشروع کی۔
    بازنطینی سپاہی فصیلوں پر تیار کھڑے تھے،توبہت سے شہری بھی ان کی مدد کو آن پہنچے۔انہوں نےبھی تیروں کے ساتھ پتھر اٹھا اٹھا کر کے نیچے مجاہدین پر پھینکنا شروع کر دیے۔ دوسری طرف بہت سےاپنے اپنے قریبی چرچ کی طرف دوڑے اور گڑگڑا گڑگڑا کر مناجاتیں شروع کر دیں۔ پادریوں نے چرچوں کی گھنٹیاں پوری قوت سے بجانا شروع کیں جن کی ٹناٹن نے ان لوگوں کو بھی جگا دیا جو سو رہے تھے۔ہر فرقے کے عیسائی صدیوں پرانے اختلافات بھلا کر متحد ہو گئے اور ان کی بڑی تعداد شہر کے سب سے بڑےاور مقدس کلیسا آیا صوفیہ میں جمع ہو گئی۔
    بازنطینیی فوج نے آخری سانس تک عثمانی جہادی یلغار روکنے کی کوشش کی لیکن اطالوی طبیب نکولو باربیرو جو تب شہر میں موجود تھے، لکھتے ہیں کہ سفید پگڑیاں باندھے حملہ آور جہادی فدائی دستے زخمی شیروں کی طرح حملہ کرتے تھے اور ان کے نعرے اور طبلوں کی آوازیں ایسی تھیں کہ جیسے ان کا تعلق اس دنیا سے ہی نہ ہو۔
    پوہ پھوٹنےتک ترک مجاہد سپاہی فصیل کے اوپر پہنچ گئے۔ اس دوران اکثر بازنطینی فوجی مارے جا چکے تھے اور ان کا سپہ سالار جیووانی جسٹینیانی شدید زخمی ہو کر میدانِ جنگ سے فرار بھی ہو چکا تھا۔
    جب مشرق سے سورج کی پہلی کرن نمودار ہوئی تو اس نے دیکھا کہ ایک ترک سپاہی کرکوپورتا دروازے کے اوپر نصب بازنطینی پرچم اتار کر اس کی جگہ عثمانی اسلامی جھنڈا لہرا رہا ہے۔
    سلطان محمد فاتح سفید گھوڑے پر اپنے وزرا اور عمائدین کے ہمراہ آیا صوفیہ پہنچے۔ صدر دروازے کے قریب پہنچ کر وہ گھوڑے سے اترے اور گلی سے ایک مٹھی خاک لے کر بطور عاجزی اپنی پگڑی پر ڈال دی۔ ان کے ساتھیوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے اور سب رب کے حضور سجدہ ریز ہوگئے
    قسطنطنیہ کی فتح محض ایک شہر پر ایک بادشاہت کا خاتمہ اور دوسرے کے اقتدار کا آغاز نہیں تھا۔ اس واقعے کے ساتھ ہی دنیا کی تاریخ کا ایک باب ختم ہوا اور دوسرے کی ابتدا ہوئی۔
    ایک طرف 27 قبل از مسیح قائم ہونے والی رومن سلطنت جو1480 برس تک کسی نہ کسی شکل میں برقرار رہنے کے بعد اپنے انجام کو پہنچی، تو دوسری جانب اسلامی عثمانی خلافت نےنقطۂ عروج چھو لیا اور وہ اگلی چار صدیوں تک تین براعظموں، ایشیا، یورپ اور افریقہ کے حصوں پر بڑی شان سے حکومت کرتی رہی۔
    1453 ہی وہ سال ہے جسے قرونِ وسطیٰ (مڈل ایجز) کا اختتام اور جدید دور کا آغاز بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ فتحِ قسطنطنیہ کو فوجی تاریخ کا سنگِ میل بھی قرار دیا جاتا ہے۔یہ شکست پورے یورپ کے لئے اتنی دردناک اور ہیبت ناک تھی کہ وہ اسے آج بھی بھول نہیں سکے اور یونان میں قسطنطنیہ کی شکست والے دن جمعرات کو منحوس تصور کیاجاتا ہے۔
    سلطان نے اس تسخیر اکبر کے بعد یورپ کے وسط تک فتوحات کیں اور ایک عظیم اسلامی عثمانی خلافت کو دور دور تک وسعت دے کر 3مئی 1481کوداعی اجل کو لبیک کہہ گیے……
    یہ آج کے ترکی کا شہر استنبول ہی تھا جو اب بھی ایشیا اور یورپ کے آر پار واقع ہے اور باسفورس سمندر پر بنے پل کا نام بھی سلطان محمد الفاتح سے موسوم ہے۔
    تھےوہ تمہارےہی آبا مگرتم کیاہو
    ہاتھ پرہاتھ دھرے منتظر فردا ہو

  • راجہ داہر ہیرو نہیں بلکہ ایک ظالم انسان تھا  صدر جموں و آزاد کشمیر مسعود خان

    راجہ داہر ہیرو نہیں بلکہ ایک ظالم انسان تھا صدر جموں و آزاد کشمیر مسعود خان

    گذشتہ روز دس رمضان المبارک سے نامور سپہ سالار کے راجہ داہر پر حملے اور اس کی ہلاکت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر سندھی قوم پرست حلقوں ۔ این جی اوز اور ملک کے سیکولر و لبرل حلقوں کی جانب سے راجہ داہر کو سندھ کا بیٹا قرار دے کر قومی ہیرو بنانے کی مہم چلائی جا رہی ہے ۔ یہ پاکستانی سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہے

    باغی ٹی وی: ارض پاک میں ہر روز کسی نہ کسی نئے شگوفے کا سامنا ہے کہیں اسرائیل کے جھنڈے اسلام آباد میں نصب ہو رہے ہیں ۔ رنجیت سنگھ کا مجسمہ لاہور لگایا گیا اور اب سندھ میں راجہ داہر کو ہیرو بنانے کی مہم ہے راجہ داہر کو ایک منصف ، سندھ کا بیٹا اور کامیاب حکمران کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔ جسے ایک ” بیرونی عرب حملہ آور” محمد بن قاسم نے شکست دے کر ہلاک کر دیا تھا ۔
    دراصل یہ برصغیر میں اسلام کی آمد کے خلاف "دلی بغض” تکلیف اور دکھ کے اظہار کی ایک کوشش ہے ۔ اسلام کی آمد پر تنقید کی بجائے محمد بن قاسم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

    راجہ داہر کو ہیرو بنا کر دراصل ایک اسلامی ہیرو کو متنازعہ کرنے کی کوشش ہے ۔ یہ سب ایک خاص حلقے کی جانب سے کیا جا رہا ہے اس مہم کے تحت اپنی مرضی کے تاریخ دانوں کے حوالوں کے ذریعے ایسے تمام واقعات کو ہی جھوٹا قرار دیا گیا ہے جن میں راجہ داہر کے بارے منفی تاثر پیدا ہو اس دور میں لکھی گئی کتابوں جن میں راجہ داہر کی جانب سے عرب جانیوالے ایک قافلے کی لڑکیوں کو یرغمال بنانے ، اپنی بہن سے شادی رچانے اور عوام پر ظلم و ستم کے واقعات درج ہیں ان سب کو مسترد کرکے موجودہ دور کے ایسے من پسند تاریخ دانوں کے حوالے دئیے گئے ہیں جن میں جی ایم سید وغیرہ شامل ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ عالمی میڈیا اور کچھ این جی اوز اب یہ مطالبہ شروع کرانے کی کوشش میں ہیں کہ سندھ میں اسلام کے فروغ کا باعث بننے والے محمد بن قاسم کو ولن اور راجہ داہر کو ہیرو بنا کر پیش کیا جائے ۔


    یو جے سعدی نامی خاتون صارف نے ان لبرل لوگوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا کہ 10 رمضان ، یوم بل اسلام ، اس دن جب اسلام برصغیر میں ایک عظیم نوجوان ہیرو محمد بن قاسم کی آمد کے ساتھ آیا ، جو راجہ داہر کے ہاتھوں اغوا کیے گئے لوگوں کی مدد کرنے آیا تھا۔ وہ لڑکی ناہید کے لکھے ہوئے خط کے جواب میں آیا
    https://twitter.com/SaadiUj/status/1257251711548305408?s=20
    انہوں نے مزید لکھا کہ اور وہ لوگ جو 10 رمضان المبارک کے دن کو دہر کے لئے سب سے زیادہ مبارک دن منارہے ہیں ، انھیں شرم آنی چاہئے ، اگر محمد بن قاسم نہ آتے تو ، آپ لوگ بھی آج مسلمان نہ کہلاتے-


    یو جے سعدی کی ٹویٹ کے جواب میں آزاد جموں و کشمیر کے صدر مسعود خان نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے اپنا خیالات کا اظہار کیا اور لکھا کہ راجہ داہر ہیرو نہیں تھا۔ ایک ظالم انسان تھا ، اس نے ظلم کیا۔ نوجوان ہیرو محمد بن قاسم انسانیت کو بچانے کے لئے دنیا کے اس حصے میں آئے تھے۔

    دوسری جانب کچھ لبرل لوگ راجہ دہر کو ہیرو اور مسلم عظیم سپہ سالار محمد بن قاسم کو ولن قرار دے رہے ہیں

    https://twitter.com/OthoMujeeb/status/1257268969582596096?s=20
    ایک صارف مجیب اوٹھو نے لکھا کہ 10 رمضان المبارک.آج کے دن لٹیرے، قاتل، ڈاکو محمد بن قاسم نے سندھ دھرتی پے حملا کیا، لوٹ مار کی اور سندھ کی عصمت پائمال کی.اور اس رھزن سے لڑتے لڑتے راجہ داھر سندھ پے قربان ہوئے گئے.راجہ ڈاھر کی عظمت کو سلام!


    علی رضا نامی صارف نے لکھا کہ آپ سے گزارش ہے کہ حقیقی تاریخ کا مطالعہ کیجیئے۔ درسی کتب میں نسیم حجازی نامی بد بخت کے ناول پر مبنی جھوٹی تاریخ درج ہے۔ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ محمد بن قاسم کو حجاج بن یوسف ملعون نے سندھ بھیجا تھا آل رسول کا نام و نشان مٹانے۔ وہ کوئی ہیرو نہیں ظالم تھا۔


    اس صارف کی ٹویٹ کے جواب میں طلحہ شہباز نامی صارف نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ اور راجی داہر تو آل رسول کا محافظ تھا ہے ناں

    واضح رہے کہ گذشتہ روز دس رمضان المبارک سے سے نامور سپہ سالار کے راجہ داہر پر حملے اور اس کی ہلاکت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر سندھی قوم پرست حلقوں ۔ این جی اوز اور ملک کے سیکولر و لبرل حلقوں کی جانب سے راجہ داہر کو سندھ کا بیٹا قرار دے کر قومی ہیرو بنانے کی مہم چلائی جا رہی ہے اور یہ سب کچھ گذشتہ سال سے ایک خاص حلقے کی جانب سے کیا جا رہا ہے

    مسلمان اپنے رول ماڈل کے مطابق زندگی گزاریں تو انکی زندگی سنور جائے، رحمت ہی رحمت رمضان ٹرانسمیشن میں گفتگو

    حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی زندگی نہ صرف خواتین بلکہ مردوں کیلیے بھی مشعل راہ، رحمت ہی رحمت ٹرانسمیشن میں گفتگو

  • ارتغرل ترکی یا سعودی اورصوفی و سلفی کی لڑائی نہیں اگر طبع سلامت ہو تو بہت کچھ خیر بھی ہے اس میں ؛بقلم: فلک شیر چیمہ

    ارتغرل ترکی یا سعودی اورصوفی و سلفی کی لڑائی نہیں اگر طبع سلامت ہو تو بہت کچھ خیر بھی ہے اس میں ؛بقلم: فلک شیر چیمہ

    ارتغرل ترکی یا سعودی اورصوفی و سلفی کی لڑائی نہیں اگر طبع سلامت ہو تو بہت کچھ خیر بھی ہے اس میں
    بقلم: فلک شیر چیمہ

    "دیریلیش ارطغرل” بین الاقوامی برانڈ بن چکا ہے اور رمضان کے آغاز سے پی ٹی وی پہ اردو ڈبنگ کے ساتھ دکھایا جا رہا ہے ، سو میں نے چاہا کہ مکمل سیریز دیکھنے کے دوران چند نکات جو میں نے اخذ کیے ، وہ یہاں اس تھریڈ کی صورت پیش کر دوں

    ارطغرل سیریز میں پیش کردہ واقعات کی تاریخی حیثیت پہ میں کچھ نہیں کہوں گا، کیوں کہ یہ فکشن ہے ، البتہ اس کا مقصد یقیناً بھلا ہے۔ یہ ترکی کیمپ یا سعودی کیمپ کی چیز نہیں ہے ۔ یہ صوفی و سلفی کی لڑائی میں سے ایک کا ہتھیار بھی نہیں ہے ، اگر طبع سلامت ہو تو بہت کچھ خیر اس میں ہے

    یہ سیریز آئندہ کے لیے ایسے ایوینیوز کے رستہ کو بھی کشادہ کرتی ہے ۔ نکات کی یہ فہرست نامکمل ہے اور اس میں سے کئی نکات سے احباب اختلاف بھی کر سکتے ہیں ۔ لیکن سر دست یہ جہاں ہیں ، جیسے ہیں ، کی بنیاد پہ پیش کی جا رہی ہے ، بعد ازاں اس میں اضافہ و تدوین ممکن ہے

    1) میڈیا کے میدان میں تحرک ابھی بھی اسلامی دنیا نے اپنی ترجیحات میں کافی پیچھے اور نیچے رکھا ہوا ہے ، یہ فی زمانہ کم از کم بلنڈر کے درجہ کی چیز ہے

    2) نئی نسل کی فطرت کے قریب نشوونما کے لیے روایتی تعلیمی ڈھانچوں کو توڑ کر کچھ نیا اور انقلابی کرنے کی ضرورت ہے ، یہ دو چار دن کی بات نہیں ، اربوں کے پراجیکٹ نہیں ، آؤٹ آف باکس سوچ کر زندگیاں وقف کرنے والے چند سو رضاکاروں کاکام ہو سکتا ہے سرِ دست ۔

    3) خواتین جسدِ کائنات میں روحِ جمال پھونکنے پہ مامور ہیں اور مرد اُن کی لطافت اور پاکیزگی سے حالات کی سختی سے نمٹتا اور اخلاق کی پاکیزگی پاتا ہے۔ سچ ہے کہ ٹیڑھی پسلی سے عورت پیدا کی گئی ہے ، مگر یہ بھی سچ ہے کہ مرد کو سیدھا رکھنے میں اس کجی کا بھی ایک کردار ہے۔ اچھی مائیں اچھے گھر بناتی ہیں اور اچھے بیٹے معاشرے کو عطا کرتی ہیں ۔

    4) سکرین ہر فرد کی زندگی کا ناگزیر حصہ بن چکی ہے ، اسے نظرانداز کرنا 5) معلوم ہے کہ ظلم کی بنیاد پہ عظیم فتوحات محض دہائیوں صدیوں تک محدود رکھی جا سکتی ہیں اور عدالت و مرحمت ہی انسانی معاشروں میں قائم و دائم انقلابات اور حکومتی ڈھانچوں کو سہار سکتے ہیں ۔

    عدالت و مرحمت کا فریم ورک جس معاشرے اور ریاست سے غائب ہو گا، وہاں چاہے جو بھی نام بورڈ پہ لکھ لیجیے ، جو بھی بینر آویزاں کر لیجیے ، جو بھی قانون سازی کر لیجیے ، اسے زیادہ دیر بقا حاصل نہ رہے گی۔

    6) تحاریک اپنے کارکنان ، حکومتیں اپنے عمال و ارکان ، تعلیمی ادارے اپنے طلاب و طالبات اور ہر گھر کا سربراہ محبت اور حکمت سے اپنے اہل خانہ کو فطرت کے جس قدر قریب رکھ سکے ، یہ اس کی دنیوی و اخروی کامیابی کا پہلا اور اہم ترین زینہ ہو گا۔ یہ اشارہ ہے، خوراک سے لباس ، مشاغل سے تعلقات۔

    7) علمائے کرام، جو ایمانداری سے یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے مختلف گروہوں کے عقائد و عبادات میں فلاں فلاں خامیاں ہیں ، انہیں ان کی نشاندہی ضرور فرمانی چاہیے، لیکن پہلے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ کہیں وہ اہل اسلام کے گریٹر کاز کو تو نقصان تو نہیں پہنچا رہے کہیں وہ اخلاق حسنہ سے ہاتھ تو نہیں دھو بیٹھے ، کہیں وہ مسلمانوں کو ہر محلے اور ہر گلی کی بنیاد پہ ایک دوسرے سے اس قدر متنفر تو نہ کر دیں گے کہ وہ کفار سے تو ہاتھ ملانا پسند کریں اور اپنے کلمہ گو بھائی سے سلام لینا بھی گوارا نہ کریں

    8) ۔ علمائے کرام کو اپنے کردار کا خیمہ دعوت ، تزکیہ اور بصیرت افروزی کے ستونوں پہ کھڑا کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ وہاں اس غرض سے آنے والے سیاست، معیشت اور عدالت کے میدانوں میں وحی کے نمائندہ و پروردہ بن کر کھڑے ہو سکیں

    9) مسلمانوں کی سرزمینوں کی محافظت کو دینی فریضہ سمجھنا عین شرعی و اسلامی ہے ، اسے کسی "موعود عالمی تحریک” کی خاطر مؤخر نہیں کیا جا سکتا، اس کی اہمیت کم نہیں کی جا سکتی اور اس فریضے پہ فائز حکام کو ان کی دیگر کمزوریوں اور خرابیوں کی وجہ سے مکمل ملعون و مطعون کرنا مناسب نہیں۔ ان گروہوں اور افواج کی کمیوں کوتاہیوں کو درست کرنا اور ان کی اصلاح کی کوشش کرنا لازم ہے ، وہ آہستہ آہستہ ان بنیادوں پہ نہ ہونے لگے ، جس پہ دین بیزار، وطن بیزار ۔ ان کی اصلاح ایسے ہو، جیسے مریض کی، جسے اپنے مرض سے گویا پیار سا ہو چکا ہے ، جیسے وحشی کو وحشت اور نشہ باز کو نشہ سے

    10) ہر چیز بتانے کی اور نمائش کی نہیں ہوتی ۔ آپ کیا کھاتے ہی ، آپ کی ملکیت میں کون سی سواری ہے، بچے کیا پسند کرتے ہیں ، انہوں نے کب کیا تخلیق کیا ان کی صلاحیتیں کیا ہیں ، آپ کی صلاحیتیں اور حسرتیں کیا ہیں ، اس کی چوک چوراہے پہ ہمہ وقت تشہیر شخصیت کو ایک "کھلا راز” بنا دے گی ۔

    11) گاہے فرد ہی امت ہوتا ہے ، لیکن امت وہی ہوتی ہے ، جو مثل ایک فرد ہو۔

    12) حق پہ کھڑے تھوڑے لوگ ،منافقت اور خیانت پہ قائم کثیر سے ہمیشہ افضل ہوتے ہیں اور حقیقی کامیاب بھی ۔

    13) والدین کا اولاد سے دُوری ، جعلی رعب اور ڈنڈے کا تعلق اُسے کبھی بھی مفید، مثبت اور پراعتماد نہیں بنا سکتا۔

    14) شجاعت ، جسارت اور قیادت لازم و ملزوم ہیں ۔

    15) جنگ جیتنے کے لیے سو من عقل اور ایک من جذبہ درکار ہوتا ہے ۔

    16) محبت ، نے نوازی اور فداکاری امیر سے مامور اور حاکم سے محکوم کی طرف سفر کرتی ہے ، تبھی یہ جذبہ دوطرفہ بنتا ہے ۔

    17) دسترخوان اور اس کے آداب، معاشرہ بتاتے بھی ہیں اور بناتے بھی۔

    18) کسی بھی فرد کے تمام وظائٖف میں سے اہم ترین اس کا خاندان اور اولاد ہے ۔ اگر خاندان کا ادارہ کسی معاشرے میں مؤثر ہے، تو معاشرہ کے بارے میں بھی ایسی ہی امید رکھی جا سکتی ہے ۔ کوئی اور اصلاحی، تعلیمی اور اخلاقی نیٹ ورک "گھر” اور "خاندان” کی جگہ نہیں لے سکتا ۔

    19) اولاد کو اگر آپ وقت ، پیار نہیں دیں گے ، تو آپ انہیں کھو دیں گے ۔ محبت کا کوئی نعم البدل نہیں ، بالخصوص اولاد اور ماں باپ کے رشتے میں ۔ اس وقت اور پیار کا مطلب ہر جائز ناجائز خواہش پورا کرنا نہیں ، خود مثال بننے کے علاوہ والدین کے پاس کوئی چارہ نہیں ۔

    20) خاتون گھر میں مثل کمان کے ہوتی ہے، اپنے تیروں کو سمیٹتی ہے، سنبھالتی ہے ، طاقت دیتی ہے، باہر والوں کے لیے ایک وقار سے تنی رہتی ہے ۔ اس بیک وقت جلال و جمال سے مرد زندگی کے ہر ہر شعبے میں اپنے اہداف کو پاتے ہیں ، آگے بڑھتے ہیں اور معاشرہ کو ایک بڑا اور خوشحال گھر بناتے ہیں

    21) بہادری کمطلب ہمہ دم نئے نئے محاذ کھولنا ہی نہیں ، کبھی رکنا، رکے رہنا، موقع تلاش کرنا بھی اسی میں شامل ہے ۔ اور یہ تو معلوم ہی ہے کہ گاہے رک جانے والے والا بڑا بہادر ہوتا ہے بہ نسبت پھٹ پڑنے والے کے ۔

  • بلوچستان کی جیلیں کرونا وائرس کا گڑھ بن گئیں ، تحریر شفیق الرحمان

    بلوچستان کی جیلیں کرونا وائرس کا گڑھ بن گئیں ، تحریر شفیق الرحمان

    کورونا وائرس اور قیدی ، تحریر شفیق الرحمان

    کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے سبب دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومتوں کو اس خطرے کا ادراک کروانے کے لیے بھرپور زور ڈال رہی ہیں کہ جیل کے معمولات اس نوعیت کے ہوتے ہیں کہ جہاں ممکن ہی نہیں ہے کہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنا ممکن ہو تبھی ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ برطانیہ یورپ چین اور ایران سمیت اکثر ممالک میں جیل میں وائرس پھیلنے کی اطلاعات کنفرم ہوچکی ہیں اور حکومتیں مجبور ہوئیں کہ اس غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غیرمعمولی اقدامات اٹھائے جائیں۔ بڑی تعداد میں قیدیوں کی رہائی کے اعلانات سامنے آ ئے ہیں اس سارے منظرنامے کا اثر اگر ہم پاکستان میں دیکھیں تو بلوچستان صوبے کے علاؤہ باقی صوبوں میں کچھ سنجیدگی تو دکھائی دیتی ہے لیکن بلوچستان کا معاملہ حیران کن حد تک خطرناک دکھائی دیتا ہے۔ بہ ظاہر اسکا سبب ایک محکمے کے کرپٹ افسران ہیں جو کرپشن کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ، اس موقع پر بھی اس آگ سے کھیل رہے ہیں جو خود انہیں بھی جلا سکتی ہے۔ دنیا بھر میں غور و فکر ہورہی ہے قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے کی تاکہ قیدیوں کو حتی الامکان ریلیف مل سکے لیکن بلوچستان میں جیل محکمے کی جانب سے پچھلے چند ماہ میں لاتعداد ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جنکا مقصد اس ریلیف کو بھی ختم کرنا ہے جو پہلے سے حاصل تھے اسکی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے کبھی کبھار حکومت ایک روپے پٹرول کی قیمت بڑھا کر بعد میں پچیس پیسے کم کرنے کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے۔ بلوچستان میں قیدیوں کو امتحانات پاس کرنے پر معافیاں دی جاتی ہیں لیکن حال ہی میں آئی جی جیل خانہ جات کے نئے حکمنامے کے مطابق براہوی ادیب کا امتحان ختم کردیا گیا ، جو قیدی امتحانات دے چکے تھے انکی معافی منسوخ ہوگئی ۔ جبکہ اسکے علاوہ قیدیوں کے امتحانات کے رزلٹ کارڈ سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود آئی جی آفس میں پڑے ہیں اور آئی جی صرف انہی کے رزلٹ کارڈ پر سائن کررہا ہے معافی کے لیے جو رشوت دیں یا پھر جن کے پاس وزراء کی سفارش ہو۔ اس مسئلے کے سبب کویٹہ جیل میں قیدیوں نے احتجاج کیا جسکو میڈیا میں غلط تاثر دے کر انکے خلاف ظالمانہ آ پریشن کیا گیا ، انکا ضرورت کا سارا لوٹ لیا گیا ۔ کئی دہائیوں سے جیل میں یہ روٹین رہی تھی کہ قیدی اپنے خرچے پر اپنا کھانا تیار کرتے تھے جسکی وجہ جیل کی مضر صحت اور ناقص غذا تھی جو کسی طور بھی کھانے کے قابل نہ تھی۔ آپریشن میں قیدیوں کی کھانا پکانے کی سہولت ختم کردی گئی اور انہیں پابند کیا گیا کہ وہ وہی مضر صحت جیل کا ہی کھانا کھائیں۔ جبکہ جیل کے بااثر اور امیر قیدی پانچ سو اور ہزار روپے کے عوض گوشت وغیرہ منگوالیتے ہیں یہ رقم بطور لانے کی فیس ہوتی ہے علاؤہ گوشت کی قیمت کے۔ کیا اس طریقہ کار پر ایک عام آدمی جیل میں کھانے پینے کا خرچ اٹھا سکتا ہے؟ کرونا وائرس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان افراد کے اس وائرس میں مبتلا ہونے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں جو جسمانی طور ہر کمزور ہوں۔ اب جیل انتظامیہ قیدیوں کی خوراک کے معاملے میں ایسی غیر انسانی پابندی لگا کر کیا قیدیوں کو جسمانی طور پر کمزور اور بیمار بنانا چاہتی ہے تاکہ وائرس پھیل سکے ؟
    یہ بھی وضاحت کرتے چلیں کہ جیل محکمے کے پاس قیدیوں کی سزا میں ردوبدل کرنے کے چور راستے بہت سے ہیں ، جن قیدیوں کو جرمانہ بھی ادا کرنا ہوتا ہے انکو جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں جو سزا کاٹنی ہوتی ہے وہ بھی کٹوانے کے بعد قیدیوں کو بتاتے ہیں کہ اب آپکی سزا پوری ہوچکی ہے اب آپ جرمانہ جمع کرواؤ ۔ وہ جو جرمانہ جمع کرواتا ہے وہ جیل محکمہ کے کرپٹ افسران کی جیب میں جاتا ہے اور کاغذات میں ظاہر کیا جاتا ہے کہ قیدی نے جرمانہ جمع نہ کیا بلکہ مزید قید کاٹی۔ اس مد میں کئی دہائیوں سے حکومت پاکستان کو اربوں روپوں کا نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔کورونا وائرس کے حوالے سے بھی جیل محکمہ نے نہ صرف غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا بلکہ بعض معاملات میں تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ انکی بھرپور کوشش ہے کہ جیل میں وائرس پھیل جائے ۔
    بلوچستان کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد جیلوں کی capacity سے زیادہ نہیں ہے لیکن محکمہ کامجرمانہ کردار ہے کہ بیرکوں میں مصنوعی overcrowding کی گئی ہے۔
    سینٹرل جیل مچھ میں بھی اسوقت چار بارکیں جو قدرے صاف ستھری تھیں وہاں سے قیدیوں کو نکال کر پہلے سے فل دوسری بارکوں میں ٹھونس دیا گیا حالانکہ یہ بارکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جگہ تنگ ہے باتھ روم ٹوٹے اور گندے ہیں ۔ ان اقدامات سے بہ ظاہر یہی لگتا ہے کہ جیل حکام نے کورونا وائرس کو قطعاً سنجیدگی سے نہیں لیا۔ تاحال کوئی بھی اہلکار ماسک نہیں لگاتا ۔

    باوجود بارکیں خالی ہونے کے، قیدیوں کو چند بارکوں میں ٹھونس کر رکھنے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ جیل حکام قیدیوں کی زندگی اتنی مشکل بنانا چاہتے ہیں کہ وہ پھر چھوٹی چھوٹی سہولت کے لیے منہ مانگی رشوت دینے کو تیار ہوجائیں۔

    امتحانات کی معافیاں جو کئی دہائیوں سے لگ رہی تھی اسے روکنے اور اسکے علاوہ بھی ممکنہ حکومتی اقدامات کے سبب ملنے والے ریلیف کو عملی طور پر ختم کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیل حکام کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جیل میں قیدیوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہو، کیونکہ جتنے زیادہ قیدی ہونگے اتنا ہی انہیں فنڈ زیادہ ملے گا اور خوردبرد کے مواقع بھی زیادہ ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے نیب ، اور اعلی عدلیہ مذکورہ بالا معاملات کا نوٹس لے اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائے تاکہ جیلیں جنکا بنیادی مقصد قیدیوں کی اصلاح ہے عملی طور پر اصلاحی مراکز بن بھی سکیں ۔ ورنہ موجودہ حالات میں تو ایک قیدی یا تو ذہنی مریض بنے گا یا وہ منشیات کی لت میں مبتلا ہو جائے گا یا خدانخواستہ کوئی مجرم بن کر نکلے گا کیونکہ عمر قید کی سزا میں اسکا وقت ایسا گزرا ہوگا جس میں ایک ایک دن ذلت آمیز رویوں سے سامنا ہوا ہوگا ۔
    دوسری طرف سنٹرل جیل ژوب
    سے کچھ قیدیوں کو دور سنٹرل جیل مچھ بھیج دیا گیا جسمیں پشین۔ خانوزئی ۔ مسلم باغ ۔ قلعہ سیف اللہ ۔ لورالائی ۔سنجاوی ۔دوکی ۔ بارکھان ۔کولوں ۔رکنی اور ژوب کے قیدی شامل تھے قیدیوں کے اپنوں نے بتایا کہ سیکورٹی کی بنیاد پر ان قیدیوں کو 800 سو کلو میٹر دور سنٹرل جیل مچھ منتقل کیا گیا لیکن ایک آفیسر نے نام نا ظاہر کرنے پر بتایا کہ دراصل آئی جی جیلخانہ جات سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل ژوب سے ماہانہ 50000 روپے مانگ رہا تھا جبکہ سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ قیدی کم ہے اتنی رقم میں نہیں دے سکتا
    اسلئے قیدیوں کو مچھ شفٹ کیا گیا جبکہ اس وقت سنٹرل جیل ژوب کی تعداد 25/30 ہے اور جگہ 300 سو قیدیوں کی ہے
    کورونا یا دیگر بیماری کیوجہ سے جاگیردار ۔امیر ۔ منسٹر کیلئے میڈیا بات کرسکتی ہے لیکن غریب کیلئے نہیں یہود نصاریٰ میں بھی یہی تھا کہ کسی شہزادے کیلئے سزا میں ترمیم کرتے اور غریب کو سزا دیتے تو آج وہ یہودی اور ہم مسلمان کیسے ؟

  • راجہ داہر کو "سندھ کا بیٹا” اور قومی ہیرو بنانے کی مہم، تحریر : محمد عاصم حفیظ

    راجہ داہر کو "سندھ کا بیٹا” اور قومی ہیرو بنانے کی مہم، تحریر : محمد عاصم حفیظ

    راجہ داہر کو "سندھ کا بیٹا” اور قومی ہیرو بنانے کی مہم

    (ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ )
    آج دس رمضان المبارک کو نامور سپہ سالار کے راجہ داہر پر حملے اور اس کی ہلاکت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر سندھی قوم پرست حلقوں ۔ این جی اوز اور ملک کے سیکولر و لبرل حلقوں کی جانب سے راجہ داہر کو سندھ کا بیٹا قرار دے کر قومی ہیرو بنانے کی مہم چلائی جا رہی ہے ۔ یہ پاکستانی سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہے ۔ ارض پاک میں ہر روز کسی نہ کسی نئے شگوفے کا سامنا ہے کہیں اسرائیل کے جھنڈے اسلام آباد میں نصب ہو رہے ہیں ۔ رنجیت سنگھ کا مجسمہ لاہور لگایا گیا اور اب سندھ میں راجہ داہر کو ہیرو بنانے کی مہم ہے ۔
    راجہ داہر کو ایک منصف ، سندھ کا بیٹا اور کامیاب حکمران کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔ جسے ایک ” بیرونی عرب حملہ آور” محمد بن قاسم نے شکست دے کر ہلاک کر دیا تھا ۔ دراصل یہ برصغیر میں اسلام کی آمد کے خلاف "دلی بغض” تکلیف اور دکھ کے اظہار کی ایک کوشش ہے ۔ اسلام کی آمد پر تنقید کی بجائے محمد بن قاسم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ راجہ داہر کو ہیرو بنا کر دراصل ایک اسلامی ہیرو کو متنازعہ کرنے کی کوشش ہے ۔ یہ سب ایک خاص حلقے کی جانب سے کیا جا رہا ہے اس مہم کے تحت اپنی مرضی کے تاریخ دانوں کے حوالوں کے ذریعے ایسے تمام واقعات کو ہی جھوٹا قرار دیا گیا ہے جن میں راجہ داہر کے بارے منفی تاثر پیدا ہو ۔ اس دور میں لکھی گئی کتابوں جن میں راجہ داہر کی جانب سے عرب جانیوالے ایک قافلے کی لڑکیوں کو یرغمال بنانے ، اپنی بہن سے شادی رچانے اور عوام پر ظلم و ستم کے واقعات درج ہیں ان سب کو مسترد کرکے موجودہ دور کے ایسے من پسند تاریخ دانوں کے حوالے دئیے گئے ہیں جن میں جی ایم سید وغیرہ شامل ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ عالمی میڈیا اور کچھ این جی اوز اب یہ مطالبہ شروع کرانے کی کوشش میں ہیں کہ سندھ میں اسلام کے فروغ کا باعث بننے والے محمد بن قاسم کو ولن اور راجہ داہر کو ہیرو بنا کر پیش کیا جائے ۔ اس حوالے سے گزشتہ سال سے باقاعدہ تقریبات کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے ۔ کمال تو یہ بھی ہے کہ راجہ داہر کے تاثر کو مثبت ثابت کرنے اور اسے منصف و رحمدل ثابت کرنے کے لئے تاریخی حوالوں کا تو انکار کیا گیا ہے لیکن محمد بن قاسم اور اس وقت کےمسلمان حکمرانوں کو عیاش اور لالچی پیش کیا جا رہاہے ۔ سندھ پر حملوں کو بھی لالچ اور باہمی چپقلش قرار دیا گیا ہے
    سوال یہ ہے کہ اگر آٹھ نو سو سال پہلے کے راجہ داہر ، رنجیت سنگھ ہیرو بنائے جا رہے ہیں تو صدیوں اس علاقے پر حکمرانی کرتے مسلمان کیونکر ہیرو نہیں ہو سکتے ؟؟ کیا آٹھ نو سو سال سے یہاں مقیم مسلمان اتنے عرصے کے بعد بھی ” مقامی” نہیں بن سکے ۔ یا کبھی بھی نہیں بن سکیں گے ۔ ان نئے تاریخ دانوں کا مطالبہ ہے کہ ہزار سال پرانے غیر مسلم حکمرانوں کو ہیرو تسلیم کیا جائے جن کے بارے مصدقہ تاریخ تک موجود نہیں ۔ ان راجوں کے ظلم و ستم کی داستانوں کو مسترد کرکے بغیر حوالوں سے ہی نئی تاریخ بنانے پر تلے ہوئے ہیں لیکن ان کے بعد آنیوالے مسلم حکمران ہیرو کی پیمانے میں فٹ نہیں ہو سکتے۔ کتنی عجیب منطق ہے کہ راجہ داہر کو ہیرو مانا جائے ، لیکن اس کے بعد کے سینکڑوں سالوں کی تاریخ کو مسترد کر دیا جائے؟؟ اس نفساتی مرض کے بارے آپ کیا کہہ سکتے ہیں ؟
    اگر پرتھوی راج ، راجہ پورس ، رنجیت سنگھ ، راجہ داہر اتنے ہی منصف اور عوام دوست حکمران تھے تو کیونکر عوام تیزی سے مسلمان بھی ہوئی اور آئندہ صدیوں تک مسلمانوں کو نہ صرف حکمران تسلیم کیا، ان کے ساتھی بنے اور ان کیساتھ رشتہ داریاں کیں اور ان کی آنیوالی نسلیں مسلمان رہیں ، اس اجنبی دیس میں آج بھی کروڑوں لوگ مسلمان ہیں ۔ ظاہر ہے یہ سب عرب سے تو نہیں آئے ۔ ایک بار مسلمان ہونے کے بعد ان لوگوں نے کئی ادوار میں ہندو و سکھ ریاستوں کے باوجود ، انگریزوں کے ظلم و ستم ، مراعات کے لالچ اور بہت سے مواقع کہ جب مسلمانوں کی گرفت انتہائی کمزور بھی ہوئی ۔ لیکن ان لوگوں نے اپنا دین نہیں بدلا ۔ کبھی بھی تاریخ میں راجہ داہر اور رنجیت سنگھ کو ہیرو بنانے کی تحریک نہیں چلی ۔ لبرل و سیکولر لکھاریوں کی دلیل کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے کہ تاریخ میں عوام نے کبھی بھی مسلمان حکمرانوں کو غیر اور بیگانہ نہیں سمجھا بلکہ ان سے متاثر ہو کر مسلمانو ہوئے اور پھر صدیوں تک مسلمان ہی رہے ۔ اگر تو عرب ، افغان اور مغل و ایرانی حملہ آور صرف لوٹ مار کرنے آتے تھے تو پھر یقینا مقامی افراد میں ان کے خلاف شدید نفرت ہونی چاہیے تھی ۔ ؟؟ لوگوں نے کیونکر ان حملہ آوروں کا دین قبول کر لیا ۔ ان کے واپس جانے اور حکمرانی کی گرفت کمزور پڑنے کے باوجود دین نہیں بدلا ۔اگر کوئی یہ کہے کہ جبری مسلمان کیا گیا تو پھر کروڑوں لوگ ہندو ، سکھ یا بدھ مت کیسے رہ گئے ؟؟ یہ کیسے بچ گئے ؟؟ ہندوستانی فلموں تک میں تسلیم کیا گیا کہ مغلوں اور کئی دیگر ادوار میں متعدد ہندو ، سکھ ریاستیں بھی موجود تھیں ۔ لوگوں نے ان ریاستوں میں پناہ کیوں نہ لی ؟؟ بلکہ نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ اس پر سختی سے عمل پیرا بھی رہے ؟؟ انگریزوں کا دور مسلمانوں کے لئے مشکلات کا دور تھا ۔ اس میں بھی کبھی راجہ داہر اور رنجیت سنگھ کو ہیرو بنانے اور ان کے مجسمے لگانے کی مہم نہیں چلی ۔ اس وقت تو کوئی رکاوٹ بھی نہ تھی ۔ اس سے بڑھ کر منافقت اور کیا ہو گی کہ ہیرو ماننے کے معیار میں سب سے پہلی شرط ہی ” غیر مسلم ” ہونا ہے کیونکہ اگر یہ نہ ہوتی تو ایک ہزار سال پرانے راجہ داہر تک پہنچتے پہنچتے کوئی ایک دو مسلمان حکمران یا نامور شخصیات بھی مل ہی جاتیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا ؟ اور اگر واقعی سارے مسلمان حکمران ظالم ، لٹیرے اور عیاش تھے تو پھر کس طرح اتنی بڑی آبادی ان کے دین پر رہی ، نہ صرف مسلمان رہے بلکہ اچھے علماء کرام بنے ، عرب ممالک تک برصغیر کے علماء ، علوم قرآن و حدیث کے ماہرین کو تسلیم کیا جاتا تھا ۔
    حکومت کو ایسی مذموم حرکتوں کا نوٹس لینا چاہیے ۔ یہ سب کس ایجنڈے کے تحت ہو رہا ہے
    سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر رنجیت سنگھ ، راجہ داہر ہی ہیرو بنانے ہیں تو پھر برصغیر میں ایک الگ وطن کی ضرورت کیا تھی ؟؟ اگر زمین ، علاقہ اور زبان کی بنیاد پر ہی ہیرو بنانے ہیں ، دین کے تعلق کو تسلیم نہیں کرنا تو پھر پاکستان بنانے کی وجہ ہی ختم ہو جائے گی ۔ اہل دانش کو اس بارے غور کرنا چاہیے کہ اگر وہ سب بنیادیں ہی ختم کر دی جائیں جن پر اس ارض پاک کی بنیاد ہے تو پھر قومی وحدت ، اتفاق و اتحاد کا تصور ہی کہاں رہ جائے گا ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نوجوان نسل کو من گھڑت قصوں اور ایک نئی تاریخ کے ذریعے قومی اساس سے دور کیا جا رہا ہے ۔ اگر یہی روش چل نکلی تو پھر ریاست بہاولپور کا ہیرو کوئی اور ہو گا، بلوچ اپنے سرداروں کو ڈھونڈیں گے ؟ موہنجو داڑو والے ہزاروں سال پیچھے چلے جائیں گے ؟ دراصل یہ دین کے نام پر جڑی قومی وحدت میں دراڑ ڈالنے کی کاوش ہی ہیں ۔ قومی اداروں کو ان اقدامات کا نوٹس لینا چاہیے یہ نہ ہوکہ دیر ہوئے اور ارض پاک کسی نئی آزمائش سے گزرے ۔

  • ڈرامہ سیریل ارتغرل تنقیدکا نشانہ ، آخر کیوں ، تحریر: ابوتراب مغل

    ڈرامہ سیریل ارتغرل تنقیدکا نشانہ ، آخر کیوں ، تحریر: ابوتراب مغل

    ڈرامہ سیریل ارتغرل ہی تنقیدکا نشانہ ، آخر کیوں
    ابوتراب مغل
    باغی ٹی وی :ڈرامے میں موجود ارتغل کا کردار نبھانے والے یا اس مکمل ڈرامے سے مجھے کوئی سروکار نہیں۔ لیکن ایک بات تو عیاں ہورہی ہے کہ اس ڈرامے کی آڑ میں دراصل خلافت عثمانیہ سے بغض کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ڈرامے میں موجود جعلی ارتغل کو بنیاد بنا کر اس دور کے حقیقی ارتغل رحمہ اللہ کو بھی مورد تنقید بنایا جارہا ہے۔ دلائل بھی منضبط کیے جارہے ہیں۔ حقیقی ہدف تنقید تاریخ اسلام کی طویل ترین خلافت و سلطنت عثمانیہ ہے۔ جب یہ سیریل نہیں بنا تھا تب کونسا تم لوگ خلافت عثمانیہ کے گن گاتے تھے؟ ڈرامہ ڈرامہ ہی رہنے دیں۔ اس میں سچ اور جھوٹ دونوں کی آمیزیش ہے۔ مجھے بھی کئی باتوں پر اختلاف ہے۔ اگر آپ کو اس سیریل کو ہی تنقید کا نشانہ بنانا ہے تو بارہویں صدی کے حقیقی ارتغل کو تو معاف کردیں۔ وہ اپنے دور کا مجاہد فی سبیل اللہ تھا۔ عثمانیوں کو موضوع بنا کر تنقید کرنے کا مجاز میں بھی ہوں لیکن میں اس حقیقت سے دور نہیں بھاگتا کہ بالآخر ہمارے پاس نظام تو موجود تھا ناں۔۔۔ خواہ نام کا ہو کر رہ گیا تھا۔ لیکن پھر بھی عثمانیوں کی اکثریت نے مقدسات کا تحفظ کیا ہے۔ غدار تو ہر قوم میں ہوتا ہے۔ تم جن کی کاسہ لیسی کرتے ہو کیا وہ غداری سے پاک ہیں؟
    ڈرامے کو ڈرامہ رہنے دیں۔ اگر تنقید کا اتنا ہی شوق تھا تو ایرانی سیریل مختار ثقفی پر کرتے جس میں عبد اللہ بن عمر اور ابن زبیر رضی اللہ عنھم کے مبارک کرداروں کو داغدار کیا گیا تھا۔ تب تم خاموش تھے۔ یہ خاموشی مجرمانہ تھی۔ اب میں یہ نہیں کہتا کہ ارتغل سیریل دودھ کا دھلا ڈرامہ ہے لیکن حقیقی ارتغل کو سامنے لاو ناں۔ اس اصل ارتغل کا کیا قصور ہے؟