Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پانی سے ہاتھ ہرگز نہ دھوئیں—–از—- حفیظ اللہ سعید

    پانی سے ہاتھ ہرگز نہ دھوئیں—–از—- حفیظ اللہ سعید

    آپ سوچ میں پڑ گئے ہوں گے کہ پوری دنیا کے ڈاکٹرز حکومتی کرتا دھرتا اور میڈیا والے شور مچا رہے ہیں ہاتھ دھوئیں بار بار دھوئیں بلکہ 20 سے 30 سکینڈ تک لگاتار دھوئیں.جبکہ میں آپ کو بول رہا ہوں پانی سے ہاتھ ہرگز مت دھوئیں

    تو صاحبو! معاملہ کچھ یوں ہے کہ ہم کرونا سے بچاؤ کے لیے دن میں کافی بار ہاتھ دھو رہے ہیں اچھی بات ہے لیکن وہ کیا کہتے ہیں کہ اس سے بھی اچھی بات یہ ہے کہ آپ پانی کا استعمال محفوظ طریقے سے کریں کیونکہ صاف پانی اللہ تعالی کی عطا کردہ ایک بیش قیمت نعمت ہے اس کا بے جا استعمال اس کی مقدار کم کرنے کی ایک بڑی وجہ ہے.جیسا کہ ہم جانتے ہیں ہمارے شہری علاقوں میں پانی کی سطح دن بہ دن کم ہوتی چلی جا رہی ہے تو اس کا حل ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے جن کو دھونے کے لیے ہم فضول خرچی کی حد سے بھی بڑھ کر پانی استعمال کر رہے ہیں

    کرنا آپ کو بس یہ ہوگا کہ جب بھی آپ ہاتھ دھوئیں تو ہاتھوں کو گیلا کرنے کے بعد صابن لگائیں اور صابن لگے ہاتھ کے ساتھ نل ( ٹوٹی ) کے ہیڈ یا ہینڈل کو اپنے ہاتھ سے بند کر دیں اس سے ہوگا یہ کہ 20 سے 30 سیکنڈ کا جو وقت ہاتھ دھونے میں ہم صرف کریں گے

    اس دورانیہ میں پانی کا ضیاع نہیں ہوگا. اور جب آپ نل کو دوبارہ کھولیں گے تو نل کے ہیڈ پہ دوبارہ صابن لگے ہاتھ لگیں گے تو ہیڈ کے جراثیم اپنی موت آپ مر چکے ہوں گے ان شاء اللہ. اب آپ پانی کے ساتھ ہاتھوں پہ لگا صابن صاف کریں اور نل کے ہیڈ پہ بھی چلو بھر کے پانی ڈال دیں اور لگے ہاتھوں نل کو بند کر دیں. اس ساری مشق کے دوران ہمیں دو فائدے حاصل ہوں گے ایک تو پانی ضائع نہیں ہوگا

    دوسرا نل بند کرتے ہوئے اس کے ہیڈ پہ لگے جراثیم آپ کے ہاتھوں پہ منتقل نہیں ہوں گےاب سمجھ آئی کہ میں کیوں بول رہا ہوں پانی سے ہرگز ہاتھ مت دھوئیں

    #سچیاں_گلاں
    پانی سے ہاتھ ہرگز نہ دھوئیں
    حفیظ اللہ سعید

  • کرونا وائرس ہنسی مذاق نہیں—– از—– اویس خان سواتی

    کرونا وائرس ہنسی مذاق نہیں—– از—– اویس خان سواتی

    ایک دوست نے کہا کہ جتنے لوگ کورونا وائرس سے آج تک دنیا میں مرے ہیں اس سے کہیں زیادہ لوگ ہر روز مختلف بیماریوں میں مرتے ہیں۔۔۔ مقصد دوست کا یہ تھا کہ دراصل کورونا کوئی خاص بیماری نہیں، میڈیا نے بلا وجہ ہائپ دے دی ہے اور لوگوں نے اسے خود پہ سوار کر لیا ہے۔

    عرض ہے کہ یہ بات درست ہے کہ دنیا میں ہر روز مختلف بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد اب تک کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے اور یہ بھی درست ہے کہ میڈیا نے اسے ہائپ دی اور یہ بھی درست ہے کہ عوام نے اسے خود پہ سوار کر لیا ہے۔۔۔ لیکن ایک اور ایسی حقیقت بھی ہے کہ جس کا انکار ممکن نہیں۔

    جیسا کہ میں نے کہا کہ ہر روز مختلف بیماریوں سے لوگ دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں مرتے ہیں جو کہ کورونا وائرس سے ہوئی اب تک کی ہلاکتوں سے کہیں زیادہ ہے۔۔۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں ہر روز ہونے والی غیر طبی اموات کی تعداد طبی اموات سے کہیں زیادہ ہے۔ ہر روز مختلف حوادث، خودکشیوں اور اچانک پڑنے والے دوروں (خواہ ان کی کوئی طبی منطق ہو یا نہ ہو) میں ہوئی اموات اور پراسرار اموات کے اعدادوشمار کو اکٹھا کیا جائے تو یہ مختلف بیماریوں سے ہوئی اموات سے کہیں زیادہ تعداد بنتی ہے۔

    لیکن۔۔۔۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بیماریاں اپنا وجود نہیں رکھتیں یا ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔ ٹھیک اسی طرح یہ سچ ہے کہ کورونا وائرس سے آج تک جتنے لوگ مرے ہیں اس سے کہیں زیادہ لوگ ہر روز مختلف بیماریوں سے مرتے ہیں۔۔۔ لیکن اس سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ کورونا وائرس کی کوئی اصل یا اہمیت ہی نہیں۔۔۔ اصل بات یہ ہے کہ کورونا وائرس کی شکل میں انسانی زندگی کو درپیش خطرات میں ایک اور خطرے کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    اب کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ خطرہ تو سڑک کراس کرنے میں بھی ہے، سو کورونا وائرس کے خطرے میں کیا چیز مختلف ہے؟ تو عرض کہ فرق خطرے کی نوعیت کا ہی ہے۔ سڑک کراس کرتے ہوئے آپ چلتی ہوئی گاڑیوں پہ دیہان رکھتے ہیں۔ کیونکہ سڑک کراس کرتے ہوئے سب سے بڑا خطرہ چلتی ہوئی گاڑی ہوا کرتی ہے۔۔۔ لیکن کورونا وائرس کی ایسی کوئی ظاہری علامت نہیں کہ جس سے آپ جان پائیں کہ آپ کو دراصل خطرہ ہے کس سے۔۔۔!

    یہی وہ اندھا خطرہ ہے کہ جس نے پوری دنیا کو مفلوج کر رکھا ہے۔۔۔ لہذا اسے ہنسی مذاق نہ سمجھیں، لوگ مر رہے ہیں اور یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اور اس کے پھیلاؤ کی وجوہات بھی کینسر، ایڈز، ہیبی ٹائٹس اور دوسری جان لیوا بیماریوں سے مختلف ہیں۔

    کرونا وائرس ہنسی مذاق نہیں—– از—– اویس خان سواتی

  • قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ ،امام مہدی،اور فتنۂ دجال_!!![قسط:1]—–از—جویریہ چوہدری

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ ،امام مہدی،اور فتنۂ دجال_!!![قسط:1]—–از—جویریہ چوہدری

    قیامت کا آنا ایک یقینی امر ہے اور ہم مسلمان اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ یہ کائنات اللّٰہ تعالٰی نے خاص مقصد کے لیئے بنائی ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا تاکہ وہ اچھے اعمال بجا لائے…
    یہ بعض سائنسی نظریات کے مطابق یونہی اور اتفاق سے وجود میں نہیں آ گئی۔

    پھر ان اچھے اعمال کی جزا کے لیئے یا برے اعمال کی سزا کے لیئے ایک یومِ حساب ہونا بھی لازم تھا۔
    کیا انسانوں کو اس دنیا میں بھیج دیا جاتا اور وہ نیک اعمال کرتے،اور جو دل کھول کر نافرمانی کرتے انہیں ان کی جزا و سزا سے محروم کر دیا جائے؟
    یقیناً نہیں اور اللّٰہ تعالٰی کی صفت عادل و مقسط کے خلاف بات ہے۔
    اور چونکہ یہ دنیا امتحان گاہ بنائی گئی اس میں یہ بھی ممکن نہیں کہ رزلٹ کا اعلان کمرۂ امتحان میں ہی کر دیا جائے…!!!

    چنانچہ اسی یومِ حساب کے وقوع کے لیئے قیامت قائم ہونا بھی ایک یقینی بات اور اللّٰہ تعالٰی کا امر و فیصلہ ہے جو اپنے وقت پر وقوع پزیر ہو گا۔۔۔
    قرآن حکیم میں جا بجا اللّٰہ تعالٰی نے قیامت کے مناظر کا ذکر فرمایا ہے اور قیامت کے دن کی ہولناکی اور زمین پر موجود ہر اک شئے کے ختم اور صاف چٹیل میدان ہو جانے کا ذکر کیا ہے…:
    "روئے زمین پر جو کچھ ہے،ہم نے اسے زمین کی رونق کا باعث بنایا ہے کہ ہم انہیں آزما لیں کہ ان میں سے کون نیک اعمال والا ہے؟

    اس پر جو کچھ ہے ہم اسے ایک ہموار صاف میدان کر ڈالنے والے ہیں۔”
    (الکہف 7,8)۔
    "جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گا۔”(الانشقاق)۔
    "جب سورج لپیٹ لیا جائے گا اور جب تارے بے نور ہو جائیں گے۔”(التکویر)۔
    "میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی__”(القیٰمہ)۔
    یہ تمام اور انہی جیسی بے شمار آیات بینات قیامت کے وقوع کے یقینی ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔

    ایسا نہیں ہے کہ انسان اس دنیا میں آیا ہے،بس من مانیاں کرے اور ختم…کوئی باز پرس نہ ہو …نہیں… بلکہ ایسی احمقانہ بات مشرکینِ مکہ بھی کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مٹی اور ہڈیاں ہو کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا کیئے جائیں گے؟
    اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا ہاں خواہ پتھر یا لکڑی یا تمہارے خیال میں اس سے بھی کوئی سخت چیز ہو جاؤ…(سورۂ بنی اسرائیل)۔

    قرآن کریم اور نبی محترم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمیں قیامت،اس کی علاماتِ صغریٰ و کبریٰ،اور دیگر فتنوں سے آگاہ کیا ہے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "میں اور قیامت ایسے بھیجے گئے،جتنا شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی ایک دوسرے کے قریب ہیں۔”(صحیح بخاری)
    یعنی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں،مسلمان آخری امت ہیں اور اس کے بعد قیامت کا وقت قریب ہی قریب ہے:
    "لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا ہے اور وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں_”(الانبیآء)۔

    "وہ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں…آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کہہ دیجیئے کہ اس کا علم اللّٰہ ہی کو ہے اور آپ کو کیا خبر ممکن ہے کہ وہ بہت ہی قریب ہو__!!!”(الاحزاب)
    لیکن قیامت سے پہلے ان نشانیوں اور علامات کے ظہور ہونے میں کچھ شک نہیں ہے جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی مبارک زبان سے ہمیں بتائی ہیں۔
    اور یہی وجہ ہے کہ ان علامات میں سے کئی علاماتِ صغریٰ ظاہر بھی ہو چکی ہیں۔

    فتنوں کا ظہور:
    قیامت کے قریب فتنوں کا ظہور ہو گا اور اس شدت سے فتنے نمودار ہوں گے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مدینہ کے محلوں میں سے ایک محل پر چڑھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ سے پوچھا جو میں دیکھتا ہوں وہ تم دیکھتے ہو؟
    انہوں نے کہا نہیں یا رسول اللّٰہ !
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میں فتنوں کو دیکھ رہا ہوں وہ بارش کے قطروں کی طرح ٹپک رہے ہیں۔”

    (صحیح بخاری_کتاب الفتن)۔
    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "ان فتنوں سے پہلے جلدی جلدی نیک کام کر لو جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے،آدمی صبح مومن ہو گا اور شام میں کافر یا شام مومن ہو گا اور صبح میں کافر اور انسان دنیاوی ساز و سامان کے بدلے میں اپنا دین فروخت کر دے گا۔”

    (صحیح مسلم_کتاب الایمان)۔
    یہ بات آج ظاہر ہے کہ لوگ دنیاوی مال و متاع کے پیچھے ہر بات لٹا دینے کو تیار ہیں۔
    اور ان کے ہر کام کا محور و مرکز دنیوی ساز و سامان ہی ہوتا ہے۔۔۔جس معاملے میں بھی دیکھ لیا جائے،اکثریت کا یہی حال ہے…

    رشتے و تعلق داریاں ہوں،مال و زر کے حصول کے لیئے اوپر سے اوپر اور آگے سے آگے ہی نظر جاتی ہے،رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "ہر امت کے لیئے ایک فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے”

    (رواہ الترمذی)۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "اگر ابنِ آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کا خواہش مند ہو گا……(صحیح بخاری)۔
    اسی طرح عالمی سطح پر بھی دیکھا جائے تو وہاں بھی مختلف قوموں اور ملکوں کے درمیان معاشی کشمکش ہی جاری رہتی ہے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور نقصان پہنچانے کی سازشیں کی جاتی ہیں…!!!

    (جاری ہے)
    =============================

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ ،امام مہدی،اور فتنۂ دجال_!!![قسط:1]
    (تحریر✍🏻:جویریہ چوہدری)۔

  • اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم—-ازقلم:حافظ عبدالستار

    اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم—-ازقلم:حافظ عبدالستار

    آج نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں ہر شخص کی زبان پر ایک ہی ترانہ ہے ”کرونا وائرس“ جو کہ ایک خطرناک مرض بن چکا ہے۔ پوری دنیا میں لاکھوں افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔

    ہر طرف خوف و ہراس کی فضاء پھیل چکی ہے۔ کیونکہ یہ وائرس ملنے جلنے سے پھیلتا ہے اس لیے تما م سکولز،کالجز،یونیورسٹیز،کمیونٹی سنٹرز،مدارس،دفاتر،ملز،فیکٹریز کو بند کر دیا گیا ہے،تاکہ اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات کم ہو جائیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں کرونا وائرس کے تقریباً786957کیسز سامنے آچکے ہیں جس میں مزید کیسز ابھی بھی سامنے آرہے ہیں،جن میں سے مرنے والوں کی تعداد 37843تک پہنچ چکی ہے۔

    مزید برآں روزانہ کے حساب سے پوری دنیا میں 3500سے زیادہ لوگ مر رہے ہیں،اور پاکستان میں ان کی تعداد تقریباً 1865ہو چکی ہے۔اگر ہم حالات کا جائزہ لیں تو کرونا وائرس دیکھنے میں ایک بیماری ہے لیکن اگر میں اس کو خدا کا عذاب کہوں تو غلط نہ ہوگا۔جو حالات اس وقت پوری دنیا کے ہیں،ہر طرف بے حیائی،فحاشی عروج پہ ہے۔ امت مسلمہ پر ظلم کیا جا رہا ہے (شام،فلسطین،کشمیر) اس میں شامل ہیں۔حلال اور حرام کے درمیان تمیز ختم ہو چکی ہے،ظلم اپنی انتہاء کو پہنچ چکا ہے۔ لیکن کوئی طاقت اس کو روک نہ سکی،وہ کہتے ہیں نہ کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے جب آتی ہے تو پوری دنیا کو ہلا ک کر کے ر کھ دیتی ہے۔

    دیکھئے!خدا کا عذاب ایک چھوٹے سے وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیااور یہ پکار پکار کے کہہ رہاہے ”Where are your Fighter Jets, Missiles and your Nuclear Weapons” اور سب کو بتا دیا تم تو اپنے آپ کو سپر پاور سمجھتے ہو،لیکن یہ تمہاری غلط فہمی ہے جس میں تم مبتلا ہو، سب سے طاقتور ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ دنیا پر ظلم اس قدر اپنی انتہاء کو پہنچ گیا کہ خدا کا عذاب آگیا۔ میرا وجدان کہتا ہے یہ صدا تھی کشمیر کی ان ماؤں اور بہنوں کی جنہوں نے اپنے بھائیوں اور بیٹوں کواپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتے دیکھا،یہ صدا تھی ان بہنوں اور بیٹیوں کی جن کی عزت کو سب کے سامنے تار تار کیا گیا۔اور خدا کے عذاب نے ”کرونا وائرس“ کی صورت میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،

    انہوں نے تو کشمیر کو بند کیا تھا اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کو بند کر دیا۔مجھے شام کے اس بچے کی صدابھی یاد ہے جس نے دم توڑتے ہوئے کہا تھا”سَاُخْبِرُ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْ“ میں سب کچھ اپنے رب کو بتاؤں گا۔مجھے عراق کی اس بیٹی کی صدا بھی یاد ہے جس نے بھاگتے ہوئے نیوز چینل کے صحافی سے کہا ”انکل! خدا کے واسطے میری عکاسی مت کرنا میں بے حجاب ہوں“۔ مجھے افغانستان کے اس بچے کی بات بھی یاد ہے جس کا بازو زخمی ہو گیا تھا اور ڈاکٹر نے کہا بیٹا!تمہارا بازو کاٹنا پڑے گا تو اس بچے نے کہا ”خدا کے واسطے میرا بازو کاٹ لیں مگر میری آستین مت کاٹنا کیونکہ زیب تن کرنے کیلئے میرے پاس یہی ایک جوڑا ہے“۔اس مرض سے بچنے کیلئے آج کی سائنس یہ کہتی ہے،کہ صفائی کا خاص خیال رکھو،

    جس علاقے میں یہ بیماری ہے اس سے دور رہو، ایک دوسرے کے درمیان فاصلہ رکھو، منہ پر Maskپہنو، ہاتھوں کو صاف کرو، یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن کوچودہ سوسال پہلے ہمارے آقا و مولا جناب حضرت محمد مصطفی ﷺ بیان کر چکے تھے۔صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ ہے جس کا مفہوم کچھ ہوں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف سفر کر رہے تھے کہ آپ کو ایک مقام پر اطلاع ملی کہ شام کی طاعون کی وباء پھیل چکی ہے تو اس وقت قافلے میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ بھی شامل تھے آپ کی عرض کی یا امیر المؤمنین!میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔”کہ جب تم کسی علاقہ کے متعلق سنو کہ وہاں وباء پھیل چکی ہے تو اس علاقہ کی طرف مت جاؤ اور اگر تم اس علاقہ میں ہو جہاں وباء پھیلی ہوئی ہے تو وہاں سے اپنی جان بچانے کیلئے مت بھاگو“۔

    اسلام نے بھی تو یہی تعلیمات دی تھیں۔ حرام سے دور رہو،پردہ کرو،صفائی کا خاص خیال رکھوبیشک صفائی نصف ایمان ہے۔ کیونکہ اسلام وہ نظریہ حیات ہے جس میں زندگی کے ہر پہلو پر راہنمائی اور سبق ملتا ہے۔انسانی زندگی کے ہر طبقے کیلئے براہ راست راہنمائی موجود ہے۔ مگر افسوس!ہم نے اسلام کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا،اور بات پھر بھی وہاں ہی آگئی ہے ساری دنیا میں لوگ ماسک کی صورت میں پردہ کر رہے ہیں، حرام چیزوں سے دور رہے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق بہت سے لوگ اسلام قبول کررہے ہیں کیونکہ آج پوری دنیا کو علم ہو چکا ہے کہ اسلام ہی امن و سلامتی کا راستہ ہے۔ مشہور رومن حکم راں (Justinan)کہتا ہے جو معمولات،دستور،باضابطہ طور پر اسلا م کے پاس موجود ہیں۔

    وہ دنیا کی کسی قوم کے پاس نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ مستقبل میں پیش آنے والے مسائل وہ چاہے کسی بھی نوعیت کے ہوں،اسلام نے باضابطہ ان کا احاطہ کیا ہے۔اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب وادیان جدید دور کے مسائل حل کرنے سے عاجز ہیں۔جس چیز کا حل ہمیں سائنس اور کتابوں سے نہیں ملتا ان تمام مسائل کا حل حضور ﷺ کی سنت نبوی کے اندر موجود ہے کیونکہ ارشاہ نبویﷺ ہے۔”ترکتم علی حجۃ بیضاء لیلھا کنھار رھا لایزیغ عنھا الا ھالک“ ترجمہ:میں نے تم کو روشن راستے پر چھوڑا ہے،اس کی راتیں بھی اس کے دنوں کی مانند روشن ہیں۔

    اب اسلام کی تعلیمات سے وہی شخص انحراف کرے گا جو خود کو ہلاکت کے گڑھے میں گرانا چاہتا ہے۔اگر ہم اس بیماری کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو اس کا علاج بہت ہی آسان ہے اور وہ ہے ”وضو“آج کی جدیدسائنس بھی کہتی ہے اگر کوئی دن میں بانچ بار وضو کرتا ہے تو وہ کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔وضو کے طریقے کو دیکھا جائے اور سائنسی بنیادوں پر اس کو پرکھا جائے تو حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں۔مثلاً سب سے پہلے منہ کو لے لیں۔وضو میں تین دفعہ کلی کرنے سے منہ کی غلاظت سے پاک ہو جاتا ہے۔

    جدید سائنس ثابت کر چکی ہے کہ کلی کرنے سے گلا خراب ہونے سے محفوظ رہتا ہے اور دانت اور مسوڑھے بھی خراب ہونے سے محفوظ رہتے ہیں کیونکہ کلی کرنے ان پر خوراک کے ذرات جو انفیکشن کا باعث بنتے ہیں دور ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد ناک میں پانی ڈالنا اس میں موجود مٹی اور دھول کے ذرات جو ناک میں موجود چھوٹے چھوٹے بال پکڑ لیتے ہیں اور انہیں سانس کی نالی میں جانے سے روکتے ہیں وضو کرنے سے یہ گندگی دور ہو جاتی ہے اور ناک صاف رکھنے سے تازہ ہوا کی آمد و رفت بہتر ہو جاتی ہے۔

    اسکے بعد چہرہ اور دونوں ہاتھ دھونے سے ان پر پسینے او رتیل کے غدود اور ہوا میں موجود مٹی اور جراثیم سے جو کیمیائی عمل ہوتا ہے اس سے یہ اعضاء محفوظ رہتے ہیں اور انفیکشن سے بچ جاتے ہیں۔اور ”کرونا وائرس“سے محفوظ رہنے کیلئے بھی تو ڈاکٹر یہی کہہ رہے ہیں بار بار ہاتھوں کو دھوئیں،منہ کو دھوئیں یہ تمام چیزیں بھی تو اسلام کی بیان کردہ ہیں ہم ان پر عمل کر کے اس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ مختار سالم اپنی کتاب
    (Prayer esport for body and soul)میں ہر پہلو سے وضو کے فوائد کے بارے میں لکھتا ہے۔

    ”جدید سائیٹیفک ریسرچ ثابت کرتی ہے کہ وضو ایک انتہائی اہم عمل ہے اور دن میں پانچ وقت وضو کرنے سے جسم انتہائی اہم اور مضر رساں بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے“۔آج وقت اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی جبیں کو جھ کا کر استغفار کرنے کا ہے۔آج وقت اپنے اعمال کے محاسبہ کرنے کاہے۔اپنے گھروں اور مساجد کو رب کی عبادت سے آباد کرنے کا ہے۔اور ”کروناوائرس“کے خلاف جو ہماری حکومت اقدامات کر رہی ہے ان پر عمل کرنے کا ہے کیونکہ اس بیماری کا خاتمہ صرف حکومت نہیں کر سکتی ان کو ہماری تعاون کی بھی اشد ضرورت ہے۔

    اپنے گھروں سے ضرورت کے بغیر بالکل باہر نہ نکلیں،اپنے پیاروں کی حفاظت کریں۔ اگر کی ضرورت کے پیش نظرباہر نکلنا پڑتا ہے تو ماسک کا استعمال ضرور کریں اور حکومت نے جو پورے ملک میں باہر نکلنے پر پابندی لگائی ہے اس کو اپنے لئے عذاب نہ سمجھیں بلکہ میں تو یوں کہوں گا۔”It’s not a CURFEW, It’s a CARE FOR YOU”آخر میں اتنا کہوں گا۔”سب کچھ ہر جگہ بند ہو رہا ہے،لیکن!توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے“

    اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم

    ازقلم:حافظ عبدالستار

  • اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم  ازقلم:حافظ عبدالستار

    اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم ازقلم:حافظ عبدالستار

    آج نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں ہر شخص کی زبان پر ایک ہی ترانہ ہے ”کرونا وائرس“ جو کہ ایک خطرناک مرض بن چکا ہے۔ پوری دنیا میں لاکھوں افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں

    ہر طرف خوف و ہراس کی فضاء پھیل چکی ہے۔ کیونکہ یہ وائرس ملنے جلنے سے پھیلتا ہے اس لیے تمام سکولز،کالجز،یونیورسٹیز،کمیونٹی سنٹرز،مدارس،دفاتر،ملز،فیکٹریز کو بند کر دیا گیا ہے،تاکہ اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات کم ہو جائیں۔

    ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں کرونا وائرس کے تقریباً786957کیسز سامنے آچکے ہیں جس میں مزید کیسز ابھی بھی سامنے آرہے ہیں،جن میں سے مرنے والوں کی تعداد 37843تک پہنچ چکی ہے۔ مزید برآں روزانہ کے حساب سے پوری دنیا میں 3500سے زیادہ لوگ مر رہے ہیں،اور پاکستان میں ان کی تعداد تقریباً 1865ہو چکی ہے۔

    اگر ہم حالات کا جائزہ لیں تو کرونا وائرس دیکھنے میں ایک بیماری ہے لیکن اگر میں اس کو خدا کا عذاب کہوں تو غلط نہ ہوگا۔جو حالات اس وقت پوری دنیا کے ہیں،ہر طرف بے حیائی،فحاشی عروج پہ ہے۔ امت مسلمہ پر ظلم کیا جا رہا ہے (شام،فلسطین،کشمیر) اس میں شامل ہیں۔حلال اور حرام کے درمیان تمیز ختم ہو چکی ہے،ظلم اپنی انتہاء کو پہنچ چکا ہے۔ لیکن کوئی طاقت اس کو روک نہ سکی،وہ کہتے ہیں نہ کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے جب آتی ہے تو پوری دنیا کو ہلا ک کر کے ر کھ دیتی ہے۔دیکھئے!خدا کا عذاب ایک چھوٹے سے وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیااور یہ پکار پکار کے کہہ رہاہے ”Where are your Fighter Jets, Missiles and your Nuclear Weapons” اور سب کو بتا دیا تم تو اپنے آپ کو سپر پاور سمجھتے ہو،لیکن یہ تمہاری غلط فہمی ہے جس میں تم مبتلا ہو، سب سے طاقتور ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔

    دنیا پر ظلم اس قدر اپنی انتہاء کو پہنچ گیا کہ خدا کا عذاب آگیا۔ میرا وجدان کہتا ہے یہ صدا تھی کشمیر کی ان ماؤں اور بہنوں کی جنہوں نے اپنے بھائیوں اور بیٹوں کواپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتے دیکھا،یہ صدا تھی ان بہنوں اور بیٹیوں کی جن کی عزت کو سب کے سامنے تار تار کیا گیا۔اور خدا کے عذاب نے ”کرونا وائرس“ کی صورت میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،انہوں نے تو کشمیر کو بند کیا تھا اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کو بند کر دیا۔مجھے شام کے اس بچے کی صدابھی یاد ہے جس نے دم توڑتے ہوئے کہا تھا”سَاُخْبِرُ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْ“ میں سب کچھ اپنے رب کو بتاؤں گا۔مجھے عراق کی اس بیٹی کی صدا بھی یاد ہے جس نے بھاگتے ہوئے نیوز چینل کے صحافی سے کہا ”انکل! خدا کے واسطے میری عکاسی مت کرنا میں بے حجاب ہوں“۔ مجھے افغانستان کے اس بچے کی بات بھی یاد ہے جس کا بازو زخمی ہو گیا تھا اور ڈاکٹر نے کہا بیٹا!تمہارا بازو کاٹنا پڑے گا تو اس بچے نے کہا ”خدا کے واسطے میرا بازو کاٹ لیں مگر میری آستین مت کاٹنا کیونکہ زیب تن کرنے کیلئے میرے پاس یہی ایک جوڑا ہے“۔

    اس مرض سے بچنے کیلئے آج کی سائنس یہ کہتی ہے،کہ صفائی کا خاص خیال رکھو،جس علاقے میں یہ بیماری ہے اس سے دور رہو، ایک دوسرے کے درمیان فاصلہ رکھو، منہ پر Maskپہنو، ہاتھوں کو صاف کرو، یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن کوچودہ سوسال پہلے ہمارے آقا و مولا جناب حضرت محمد مصطفی ﷺ بیان کر چکے تھے۔صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ ہے جس کا مفہوم کچھ ہوں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف سفر کر رہے تھے کہ آپ کو ایک مقام پر اطلاع ملی کہ شام کی طاعون کی وباء پھیل چکی ہے تو اس وقت قافلے میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ بھی شامل تھے آپ نے عرض کی یا امیر المؤمنین!میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔”کہ جب تم کسی علاقہ کے متعلق سنو کہ وہاں وباء پھیل چکی ہے تو اس علاقہ کی طرف مت جاؤ اور اگر تم اس علاقہ میں ہو جہاں وباء پھیلی ہوئی ہے تو وہاں سے اپنی جان بچانے کیلئے مت بھاگو“۔

    اسلام نے بھی تو یہی تعلیمات دی تھیں۔ حرام سے دور رہو،پردہ کرو،صفائی کا خاص خیال رکھوبیشک صفائی نصف ایمان ہے۔ کیونکہ اسلام وہ نظریہ حیات ہے جس میں زندگی کے ہر پہلو پر راہنمائی اور سبق ملتا ہے۔انسانی زندگی کے ہر طبقے کیلئے براہ راست راہنمائی موجود ہے۔ مگر افسوس!ہم نے اسلام کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا،اور بات پھر بھی وہاں ہی آگئی ہے ساری دنیا میں لوگ ماسک کی صورت میں پردہ کر رہے ہیں، حرام چیزوں سے دور رہے ہیں۔

    ایک رپورٹ کے مطابق بہت سے لوگ اسلام قبول کررہے ہیں کیونکہ آج پوری دنیا کو علم ہو چکا ہے کہ اسلام ہی امن و سلامتی کا راستہ ہے۔ مشہور رومن حکمراں (Justinan)کہتا ہے جو معمولات،دستور،باضابطہ طور پر اسلا م کے پاس موجود ہیں۔وہ دنیا کی کسی قوم کے پاس نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ مستقبل میں پیش آنے والے مسائل وہ چاہے کسی بھی نوعیت کے ہوں،اسلام نے باضابطہ ان کا احاطہ کیا ہے۔اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب وادیان جدید دور کے مسائل حل کرنے سے عاجز ہیں۔جس چیز کا حل ہمیں سائنس اور کتابوں سے نہیں ملتا ان تمام مسائل کا حل حضور ﷺ کی سنت نبوی کے اندر موجود ہے کیونکہ ارشاہ نبویﷺ ہے۔”ترکتم علی حجۃ بیضاء لیلھا کنھار رھا لایزیغ عنھا الا ھالک“ ترجمہ:میں نے تم کو روشن راستے پر چھوڑا ہے،اس کی راتیں بھی اس کے دنوں کی مانند روشن ہیں۔اب اسلام کی تعلیمات سے وہی شخص انحراف کرے گا جو خود کو ہلاکت کے گڑھے میں گرانا چاہتا ہے۔

    اگر ہم اس بیماری کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو اس کا علاج بہت ہی آسان ہے اور وہ ہے ”وضو“آج کی جدیدسائنس بھی کہتی ہے اگر کوئی دن میں بانچ بار وضو کرتا ہے تو وہ کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔وضو کے طریقے کو دیکھا جائے اور سائنسی بنیادوں پر اس کو پرکھا جائے تو حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں۔مثلاً سب سے پہلے منہ کو لے لیں۔وضو میں تین دفعہ کلی کرنے سے منہ کی غلاظت سے پاک ہو جاتا ہے۔جدید سائنس ثابت کر چکی ہے کہ کلی کرنے سے گلا خراب ہونے سے محفوظ رہتا ہے اور دانت اور مسوڑھے بھی خراب ہونے سے محفوظ رہتے ہیں کیونکہ کلی کرنے ان پر خوراک کے ذرات جو انفیکشن کا باعث بنتے ہیں دور ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد ناک میں پانی ڈالنا اس میں موجود مٹی اور دھول کے ذرات جو ناک میں موجود چھوٹے چھوٹے بال پکڑ لیتے ہیں اور انہیں سانس کی نالی میں جانے سے روکتے ہیں وضو کرنے سے یہ گندگی دور ہو جاتی ہے اور ناک صاف رکھنے سے تازہ ہوا کی آمد و رفت بہتر ہو جاتی ہے۔اسکے بعد چہرہ اور دونوں ہاتھ دھونے سے ان پر پسینے او رتیل کے غدود اور ہوا میں موجود مٹی اور جراثیم سے جو کیمیائی عمل ہوتا ہے اس سے یہ اعضاء محفوظ رہتے ہیں اور انفیکشن سے بچ جاتے ہیں۔اور ”کرونا وائرس“سے محفوظ رہنے کیلئے بھی تو ڈاکٹر یہی کہہ رہے ہیں بار بار ہاتھوں کو دھوئیں،منہ کو دھوئیں یہ تمام چیزیں بھی تو اسلام کی بیان کردہ ہیں ہم ان پر عمل کر کے اس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

    مختار سالم اپنی کتاب (Prayer esport for body and soul)میں ہر پہلو سے وضو کے فوائد کے بارے میں لکھتا ہے۔”جدید سائیٹیفک ریسرچ ثابت کرتی ہے کہ وضو ایک انتہائی اہم عمل ہے اور دن میں پانچ وقت وضو کرنے سے جسم انتہائی اہم اور مضر رساں بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے“۔آج وقت اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی جبیں کو جھکا کر استغفار کرنے کا ہے۔آج وقت اپنے اعمال کے محاسبہ کرنے کاہے۔اپنے گھروں اور مساجد کو رب کی عبادت سے آباد کرنے کا ہے۔اور ”کروناوائرس“کے خلاف جو ہماری حکومت اقدامات کر رہی ہے ان پر عمل کرنے کا ہے کیونکہ اس بیماری کا خاتمہ صرف حکومت نہیں کر سکتی ان کو ہماری تعاون کی بھی اشد ضرورت ہے۔

    اپنے گھروں سے ضرورت کے بغیر بالکل باہر نہ نکلیں،اپنے پیاروں کی حفاظت کریں۔ اگر کی ضرورت کے پیش نظرباہر نکلنا پڑتا ہے تو ماسک کا استعمال ضرور کریں اور حکومت نے جو پورے ملک میں باہر نکلنے پر پابندی لگائی ہے اس کو اپنے لئے عذاب نہ سمجھیں بلکہ میں تو یوں کہوں گا۔”It’s not a CURFEW, It’s a CARE FOR YOU”آخر میں اتنا کہوں گا۔”سب کچھ ہر جگہ بند ہو رہا ہے،لیکن!توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے“۔

  • ڈاکٹرماریہ نقاش کا خط بنام عزت مآب ، واجب الاحترام جناب صدرمملکت اوروزیراعظم

    ڈاکٹرماریہ نقاش کا خط بنام عزت مآب ، واجب الاحترام جناب صدرمملکت اوروزیراعظم

    صاحب صدر , گرامی قدر , قابل عزت, قابل احترام , صدر مملکت, ہمارے قومی ہیرو, جناب وزیر اعظم پاکستان …
    اسلام علیکم….!!!
    امہد کرتی ہوں آپ خیریت, ایمان اور صحت کی بہترین حالت میں ہونگے….
    میں مملکت پاکستان اور ریاست اسلام کی ایک ادنی سی بندی ایک چھوٹی سی عرض لے کر آپکی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں…..
    اس امید کے ساتھ کہ آپ نظر ثانی کے بعد توجہ طلب نتائج سامنے لائیں گے…اور عوام کیلئیے اپنے اصلاحی فلاحی اور مثبت اقدامات ایک اور اضافہ کریں گے…

    جناب عالی…!!!
    عرض یہ کرنا چاہتی ہوں کہ جس طرح احسن طریقے سے آپ نے کورونا وائرس کو لیتے ہوئے احتیاطی اقدامات نافذ کروائے ہیں…اور عمل درآمد کروایا ہے…اسی سے منسلک ایک چھوٹی سی سوچ میں آپکے گوش گزارنا چاہتی ہوں… جسے پروان چڑھا کر آپ تناور درخت کی ماند کھڑا کریں گے…جس کے سائے میں یہ مملکت پاکستان اس عذاب خداوندی کی کڑی دھوپ سے آرام پائے گی…

    جناب صدر ہر انسان کی فطرت میں یہ چیز پوشیدہ ہے کہ….اسکی ذہنی اور قلبی کیفیت کو جو شخصیت متاثر کرتہ ہو اسی کی بات اسکے ذہن و سوچ میں گھر کرتی ہے….اسی انسانی فطرت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مختلف سیلبریٹیز کو ہائر کر کے ان سے کورونا سے متعلق حفاظتی اقدامات کہلوائے گئے….تا کہ عوام دلچسپی سے سنے اور عمل کرے…. سیلیبریٹیز کی طرح آپ سے بھی قوم بہت متاثر ہے…آپکو اپنا ہیرو مانتی اور جانتی ہے…آپکو سنتی ہے…
    تو کیوں مہ اپنے سننے اور چاہنے والوں کی زندگیوں کی ضنمامت کے طور پر آپ کوتونا سے متعلق اقدامات میں ایک ایسی نئ اور متاثر کن حکمت عملی کا اضافہ کریں خو نہ صرف ان کی جان.کیلییے امان ثابت ہو بلکہ اس آفت کے مٹنے کے بعد بھی آئندہ اور بعد کی زندگی میں ان کیلئیے راحت کی موئجب بنی رہے…

    جیسے کہ ان اقدامات کے تحت عوام.میں فاصلے تو پیدا ہو گئے ہیں لیکن اس کے بر عکس ایک گھر ایک چھت ایک یونٹ کے اند رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے قریب آ گئے ہیں…
    ایک کفالت کرنے والا باپ جو منہ اندھیرے خوابیدہ بچوں کو چھوڑ کر کمانے کی فکر میں دنیا کی ےیز رفتاری میں دھکے کھا کر … سارا دن معاشرے اور حالات کی سختی کے بعد …کمائی کے چند پیسوں کے ساتھ ….دہلیز کے اس پار آرام.اور سکون کی دنیا گھر میں داخل ہوتا تو اپنے پیارون کو خواب غفلت میں ڈوبا پا کر مایوس چہرے کے ساتھ ….کھا پی کر….بستر پر آرام کیلئے…اگلے دن کی تکیلف دہ سوچوں اور فکروں کے ساتھ سو جاتا تھا…

    آج وہ باپ اپنی اولاد کو اپنے سامنے پاتا ہے انکو دیکھتا… ہے سنتا ہے…باتیں کرتا ہے…اور وعض و نصیحت کرتا ہے…ےو یہ اپکی اس حکمت عملی کے تحت ممکن ہوا ہے…
    اسی حکمت عملی کو مزید بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے…اگر باپ اس وقت کو اولاد کی تربیت اور اصلاح کیلئیے استعمال کرے…
    ایک وہ تربیت ہے جو وہ بچپن سے اب تک اپنہ اولاد کی کرتا آرہا ہے…ایک یہ تربیت ہے…جو وہ اب کرے گا…قرآن اور اسکے ترجمے کی روشنی میں…

    لوگوں سے دوری اگر انسانوں کو اللہ کے قریب کر دے تو کیا یہ زیادہ فائدہ مند نہیں ? اپنے رب کو راضی کر کے اس عذاب سے بچنے میں….?
    کیا ہو اگر ہر والد نماز کے بعد اپنی اولاد کو ہمراہ لئیے چند قرآنی آیات کا ترجمہ سمجھائے…؟؟؟ جو اس نوجوان نسل میں سے برائی کی جڑ کو آہستہ آہستہ ختم کر سکتی ہیں…
    کیا ہوا اگر ہینڈ سینیٹائز کے ساتھ ہر باپ اپنی اولاد کو 5 وقت وضو کے علاوہ باقی وقت بھی باوضو رہنے کی تاکید کرے….؟؟؟

    قرآن جسھ کتاب الشفاء کہا گیا ہے ہر گھر میں موجود ہونے کے باوجود …باہر سے شفاء بخش ادویات خرید کر خود کا بچائو ممکن بنایا جا رہا ہے تو کیوں نہ تو کیوں نہ اس کتاب الشفاء کے استعمال کو معمولات زندگی اس طرح روز شامل کیا جائے کہ….صرف کورونا سے ہی نہیں…ہر طرح کی بیماری سے شفا یاب ہو جائیں…

    حفاظتی تدابیر کے ساتھ والدین بچوں کو اس کتاب الشفاء کیاوہ آیات ورد کروائیں جو جو ان کو عمر بھر کیلئے ہر بیماری سے شفا یاب کر دیں..
    وہ کتاب جو کردار کو تعمیر کر کے گوہر نایاب بنا سکتی ہے اس کتاب کا مطالعہ ترجمہ کے ساتھ ضروری قرار دے دیا جائے…تو ممکن نہیں بلکہ طے ہے کہ…
    قوم کو…

    ملک پاکستان کو…
    فرامنبردار اور جانثار بیٹے ملیں گے جو …جو علم و ہنر میں اتنے وسیع و فصیح ہونگے….کہ قومی صنعت و معیشت نیز ملکی ترقی میں سرمایہ ثابت ہونگے….
    گھر میں بیٹھے بچوں کو کمیوٹر اور انٹرنیٹ کے منفی استعمال سے ہٹ کر …انہیں مثبت اور تعمیری استعمال سکھایا جائے تا کہ وہ ملک و قوم کیلییے کچھ کر سکیں….
    یہ وقت ہے ایک باپ کے عملی کردار میں اترنے کا…

    تو….محترم عمران خان صاحب…آپ پوری قوم کے باپ ہیں…. یہ لائحہ عمل سروع ہوتا ہے,,,,,
    آپ سے…..
    آپ کے خطاب سے…
    آپکی حکمت عملی سے….
    آپ کے عملی کردار سے……
    ہم پاکستانی آپکی نافذ کردہ اس مہم

    Stay at Home
    میں اپکے ساتھ ہیں…جس میں آپ اس نئے نقطے کا اضافہ کر کے ….. اسے قوم.کیلئے
    مزید پر اثر…
    فائدہ مند….
    اور نفع بخش بنا سکتے ہیں…
    براہ کرم میرے اس نقطہ نظر پر….

    اپنے وجدان, اور زمانہ شناسی کی بے پناہ صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے…
    اپنے بیش قیمتی امور میں سے وقت نکال کر….
    تھوڑی توجہ فرما کر…
    ایک خطاب کا وقت مقرر فرما کر…

    وقت مقررہ پر پیغام بالعوام الناس کو لیکچر کے ذرئعیے ڈلیور کر کے…..
    اس پیغام کو اپنے چاہنے اور سننے والوں کے ذرئعیے عام کیجئے …. اور اس پر عمل ممکن بنائیے…..
    مجھ سمیت تمام عوام کی نگاہیں اپکے اس فیصلے پر ٹکی ہوئی ہیں… اس نقطہ پر عمل کروا کے ہم پاکستانیوں کو قلع اسلام کے اس سلطان عظیم,, جناب عمران خان پر فخر کا موقع فراہم کیجئیے….
    شکریہ
    عمران خان…..!!!
    فخر پاکستان…!!!
    پاکستان زندہ باد!!!!

    ✍🏻قلم نگار
    ڈاکٹر ماریہ نقاش

  • مصباح الحق کی سیلف آئسولیشن میں‌ کیا مصروفیات، بتایا ویڈیو لنک پر

    مصباح الحق کی سیلف آئسولیشن میں‌ کیا مصروفیات، بتایا ویڈیو لنک پر

    مصباح الحق کی سیلف آئسو لیشن میں‌ کیا مصروفیات، بتایا ویڈیو لنک پر

    باغی ٹی وی :قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر و ہیڈ کوچ مصباح الحق کی ویڈیو لنک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت پوری دنیا مشکل صورت حال کا شکارہے۔موجودہ صورت حال میں خود کو محفوظ رکھنا پوری انسانیت کو محفوظ رکھنے کے مترادف ہے ۔.اللہ کے حضور دعاگو ہیں کہ حالات جلد معمول پر آئیں.مشکل صورت حال ہے کھلاڑیوں کو پلان دے دیا ہے.موجودہ صورت حال میں ہماری ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں.اکستان کرکٹ اس وقت درست سمت میں گامزن ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ نسیم شاہ ، شاہ آفریدی، عابد علی، بابر اعظم اور شان مسعود سب اچھی فارم میں ہیں۔ میں خوش ہوں کہ ہمارے پلان کام کررہے ہیں ۔روٹین شیڈول میں بھی ہماری سیریز جولائی میں شیڈول ہے۔موجودہ صورت حال میں کھلاڑیوں کو پلان دے رکھا ہے ۔تمام کھلاڑی اور کوچنگ سٹاف رابطے میں ہے ۔صورت حال کوئی بھی ہوہم نے آگے بڑھنا ہے ۔حالات دیکھ کر فیصلے کرنا ہیں.

    مصباح الحق نے کہا کہ پی ایس ایل میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی کوچنگ کا تجربہ اچھا رہا ۔ پی ایس ایل میں سخت مقابلے ہو ئے ۔آخری میچ تک پانچ ٹیمیں لیگ کے اگلے مرحلے میں کوالیفائی کرنے کی پوزیشن میں تھیں ۔ آئسولیشن میں خود کو فٹ رکھنے کے لئے ٹریننگ کررہا ہوں ۔ مختلف میچز کی ریکارڈنگ دیکھ کر مستقبل کی حکمت عملی بنارہے ہیں ۔فیملی کے ساتھ ٹائم گزارنے کا موقع ملا ہے.

  • حقوق نسواں کے جعلی دعوے داروں اور اصل افراد کے کردار!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    حقوق نسواں کے جعلی دعوے داروں اور اصل افراد کے کردار!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    8 مارچ کو عالمی یوم خواتین سے پہلے ہی پوری دنیا کیساتھ پاکستان بھی کرونا کی لپٹ میں تھا چائیے تو یہ تھا کہ دنیا بھر کی طرح احتیاط کی جاتی اور لوگوں کو اس سے بچاؤ کے متعلق آگاہی دی جاتی مگر ہوس و شہرت کے پجاری اس وقت بھی باز نا آئے اور پورے ملک میں ان نام نہاد خود ساختہ حقوق نسواں کے دعوے داروں نے سینکڑوں مجبور و بے سہارا غریب عورتوں کو پیسے کا لالچ دے کر اکھٹا کیا جو کہ بعد میں میڈیا پر وائرل بھی ہو گیا گندے بے ہودہ نعروں پر مبنی پوسٹرز اور پلے کارڈز پر ان کی طرف سے ریاست پاکستان و اسلام کے خلاف نعرے درج تھے اور دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ معاذاللہ اسلام عورتوں کے حقوق کا غاصب ہے ویسے تو ان دین بے زاروں کے کئی نعرے ہیں مگر سب سے مشہور ان کا نعرہ میرا جسم میری مرضی ہے جس کے تحت یہ اللہ کی جاری کردہ حدوں کو پامال کرتے ہیں اور کر بھی رہے ہیں 8 مارچ یوم خواتین کو جب ملک کے ہر شہر سے خصوصاً کراچی کے فریئر ہال اور لاہور وہ اسلام آباد کے پریس کلبوں سے انہوں نے عورت مارچ کا آغاز کیا عین اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں تھی کشمیر و فلسطین،شام و افغانستان اور ہندوستان کے مسلمان کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی تھی جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی بھی ہے مگر افسوس کے ان لوگوں نے صرف اسلام و پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نا دیا حالانکہ اگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کے اصل پشتی بان ہوتے تو کرونا سے متاثرہ عورتوں کی تکلیف کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے کشمیر میں محصور عورتوں کیلئے چیختے چلاتے ان کیلئے صدائیں بلند کرتے مگر ان کو تو صرف عورت کی آزادانہ بوس و کنار کی فکر ہے ان کو تو عورتوں کے بوائے فرینڈز کے روٹھ جانے کی فکر ہے اور ان کو صرف آزاد بے لگام معاشرے کے قیام کا ٹاسک ملا ہوا ہے
    یہ لوگ نا صرف دین اسلام سے بیزار ہیں بلکہ یہ لوگ تو انسانیت سے بھی بیزار ہیں اس ساری نام نہاد حقوق نسواں کی ٹیم کے کارکنان جیسا کہ ماروی سرمد،اداکارہ ریشم،منصور علی خان، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور گستاخ احمد وقاص گورائیہ اور دیگر لوگ سب کے سب چیخ رہے تھے میرا جسم میری مرضی اور عورت پر ظلم بند کرو ان کو ان کے حقوق دو مگر اب کرونا سے متاثرہ عورتیں ان کی خاموشی پر حیران ہیں کہ تمہارے دعوے تو صرف بے شرمی اور بے حیائی پھیلانے تک ہی تھے اب ہم پوری دنیا و پاکستان کی کرونا سے متاثرہ عورتیں کسی سہارے کی منتظر ہیں کوئی ہمارا دکھ سمجھے کوئی ہمارے ساتھ بیٹھے ہمارے علاج کے حقوق کی صدائیں بلند کرے ہمارے لئے اعلی خوراک کا انتظام کرے تا کہ ہم اپنا جسمانی مدافعتی نظام طاقتور کرکے اس موذی مرض سے نجات حاصل کر سکیں مگر افسوس جعلی اور نام نہاد دعوے دار اب چپ کرکے مشکل کی اس گھڑی میں بیٹھ گئے ہیں اور ڈر رہے ہیں کہ ہمارے جسم کو ہماری مرضی کے خلاف کرونا وائرس نا چمٹ جائے ہمارا جسم ہماری مرضی کا دعوے دار ٹولہ جان چکا ہے کہ جسم بھی اللہ کا اور مرضی بھی اللہ کی مگر اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
    ایسے لوگوں کو میرے رب نے اپنے فرمان میں منافق اور بدکردار کہا ہے اور یہ لوگ فسادی ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے میں سے ہیں وہ برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں ،وہ بھول گئے اللہ تعالیٰ کو ،تو اس نے بھی بھلا دیا یقیناً منافق ہی نافرمان ہیں سورہ التوبہ آیت 67
    حالانکہ اب عورتوں کو ان کے پہلے حق صحت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ میرے رب کا فرمان ہے جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کو بچایا سورہ المائدہ آیت 32
    مگر ان کھوکھلے نعرے لگانے والوں کی کرتوت کھل کر سامنے آ گئی ہے یہ صرف عورتوں کو بوس کنار اور سیکس ایجوکیشن کی طرف لے جانا چاہتے ہیں مگر اس پاک دھرتی کے غم خوار بیٹے جو کہ اپنے نبی کریم اور اپنے رب کے فرامین کے مطابق عورتوں ،بچوں،بوڑھوں اور مریضوں کے حقوق سے واقف ہیں وہ غم خوار انسانیت کے مددگار بے سروسامانی کیساتھ بھی ان عورتوں بچوں اور مردوں کی صحت کے حقوق کیلئے ڈٹ گئے ہیں اور دن رات ایک کرکے اس موذی مرض سے متاثرہ مریض عورتوں کا علاج شروع کر دیا اور ثابت کر دیا کہ ہم اصل دعوے دار ہیں حقوق نسواں کے ہم مان ہیں ان ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں کا اور پھر پورا ملک ایک جان ہو گیا فوج و پولیس کے جوان ملک کی سلامتی و بقاء کی خاطر گلیوں چوراہوں میں آ گئے پیرا میڈیکل سٹاف ڈاکٹروں کے شانہ بشانہ جڑ گیا،صحافی لوگوں کو باخبر رکھنے کیلئے دن رات ایک کئے باہر آ گئے ریسکیو 1122 کے جوان بھی بغیر نیند کی پرواہ کئے جت گئے محکمہ ڈاک نے بزرگ پینشروں تنخواہ دار عورتوں کے حقوق کی خاطر اس لاک ڈاؤن میں ان کی رقوم ان تک پہنچانے ان کے گھروں کی دہلیز تک پہنچے محکمہ بجلی نے لوگوں کی پریشانی جانتے ہوئے دن رات ایک کرکے لاک ڈاؤن میں بیٹھی عورتوں اور بچوں کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈال کا بجلی کی ترسیل کا کام بغیر رکاوٹ جاری رکھا سول گورنمنٹ کے اہلکاران و افسران نے ساری آسائشیں چھوڑیں اور قرنطینہ سنٹرز و ہسپتالوں میں زیر علاج عورتوں اور مریضوں کی ضروریات کیلئے دن رات ایک کرکے ان تک ہر چیز پہنچائی نیز پاکستان کا ہر محکمہ ہر پاکستانی تعصب اور گروہ بندی سے ہٹ کر ان عورتوں،بچوں بوڑھوں ،جوانوں اور مریضوں کے حقوق کی خاطر اپنی جان کی پرواہ کئے بنا کام کر رہا ہے مگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کا جعلی ٹولہ کسی بل میں چوہے کی طرح چھپ کر بیٹھ گیا اور ڈر رہا ہے کہ ہمارے جسم کو ہماری مرضی کی سزا نا مل جائے مگر یہ لوگ جان جائیں اللہ کے ہاں دیر تو ہے مگر اندھیر نہیں تو اے ظالموں اپنے رب سے ڈر جاؤ اور لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف

  • لاک ڈاؤن میں ایک دوسرے کی مدد کیسے کریں، تحریر نعمان علی ہاشم

    لاک ڈاؤن میں ایک دوسرے کی مدد کیسے کریں، تحریر نعمان علی ہاشم

    ایک دوسرے کی مدد کیسے کریں، تحریر نعمان علی ہاشم
    بلدیاتی انتخابات میں ہماری وارڈ میں بیس سے پچیس چہرے ایسے تھے جو عمران خان کے نام پر دن رات ایک کیے ووٹ مانگتے رہے ہیں. آج بھی وارڈ میں خان کے نظریاتی کارکنان کی ایک معقول تعداد موجود ہے.. اگر ہر وارڈ میں ایسے دس افراد انسانیت کے لیے اپنی وارڈ کی زمہ داری لیں تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں سو دن کا کرفیو بھی سکون سے گزر جائے اور کوئی فرد بھوکا نہ سوئے گا.
    .
    ہر شہر کی تمام بڑی ملز اور سٹورز پر موجود سٹاک اگر سرکاری ریٹس پر خرید کر مستحق عوام کے لیے مختص کر دیا جائے تو یقیناً یہ سٹاک اگلے دو ماہ کے لیے کافی ہوگا.
    .
    ان حالات میں ہر فرد کی زمہ داری ہے کہ ہر مستحق کی مدد کرے. اگر پیسے سے نہیں تو مستحق افراد کی نشاندہی کریں.
    .
    سٹیزن پورٹل پر اپنی خدمات کو پیش کرنے کے لیے حکومت فارم فل کریں. (نوٹ: رجسٹریشن کل سے شروع ہوگی)
    .
    اگر حکومت نے لاک ڈاؤن کا کہا ہے تو گھروں میں ٹھہرے رہیں.
    .
    ڈیم فنڈ، صحت کارڈ فنڈ اور اس جیسے دیگر ریزرو فنڈز میں سے ایک مخصوص مقدار کو مجبور عوام کی خوراک اور صحت کے لیے استعمال کریں.
    .
    آپ بیماری سے نہیں لڑ سکتے. مگر اپنا دفاع ضرور کر سکتے ہیں. خدارا پاکستان کے لیے سوچیں. پاکستانی بن کر سوچیں.
    .
    #نعمانیات
    نعمان علی ہاشم

  • کہاں گئے ہیں مسافر محبتوں والے—از—سفیر اقبال

    کہاں گئے ہیں مسافر محبتوں والے—از—سفیر اقبال

    کہاں گئے ہیں مسافر محبتوں والے
    اندھیری رات میں پرنور راستوں والے

    جو کھو گئے پس زندان اب وہ شہزادے
    دوبارہ کب انہیں پائیں گے بستیوں والے

    چھپا کے دل میں جو امت کا غم… نکلتے تھے
    پہن کے تن پہ لبادے گداگروں والے

    کہ دن کو رہتے تھے انسانیت کی خدمت میں
    تھے ان کے شام و سحر بھی عبادتوں والے

    ہر اک کا درد سمجھتے تھے اس لیے ان کو
    دل و نگاہ میں رکھتے تھے قافلوں والے

    تھا قافلے کو بھی معلوم کہ وہ رہبر ہیں
    مزاج جن کے مگر تھے مسافروں والے

    "ہوا کے ہاتھ میں کاسے ہیں زرد پتوں کے
    کہاں گئے وہ سخی سبز چادروں والے ”

    لوٹا دے مولا انہیں پھر سے قافلے میں میرے
    وہ منزلوں کے نشاں… نیک صورتوں والے…!

    شاعری :سفیر اقبال

    #رنگِ_سفیر