Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ‏ٹیپو کہا کرتا تھا کہ انگریز ایک مکار قوم ہے ، تحریر: حسن ملک

    ‏ٹیپو کہا کرتا تھا کہ انگریز ایک مکار قوم ہے ، تحریر: حسن ملک

    بہادروں کا ہیرو ❤

    ‏ٹیپو کہا کرتا تھا کہ انگریز ایک مکار قوم ہے ۔۔
    جو سازشوں کے جال بچھا کر ۔۔
    عیاری کے ہتھیار استعمال کرتی ہے۔۔
    فرنگی ایک ہی فن جانتا تھا ۔۔
    کہ بے ضمیروں کو خرید کر ان سے کام کیسے لینا ہے ۔۔

    ‏ٹیپوسلطان آزادی ہند کاوہ تنہا مجاہد ہے ۔۔
    جس سے مسلمانوں کی صدیوں کی تاریخ منسوب ہے ۔۔
    جس نے اسلامی سلطنت کے دفاع کیلئے ۔۔
    انگریزوں کے خلاف جہاد کا آغاز کیا۔۔
    ‏ٹیپو نے انگریزوں سے زبردست لڑائیاں لڑیں ۔۔
    مگر اپنوں کی غداری اور مرہٹوں کی امداد سے ۔۔
    انگریزوں نے ٹیپو سلطان کے خلاف کامیابی حاصل کرلی۔۔
    ٹیپو انگریز سے لڑائی میں شہید ہوا ۔۔
    جس کی شہادت کے بعد انگریزوں نےکہا تھا ۔۔
    اب ہندوستان ہمارا ہے ۔۔
    ٹیپو کی شہادت پر فتح کا جشن منایا گیا ۔۔
    اور رفتہ رفتہ ہندوستان پر انگریز حکمران بن گئے ۔۔
    چار مئی 1779 یوم شہادت ٹیپو سلطان شہادت دن
    بحثیت مسلمان میرا یہ یقین شہید زندہ ہے ۔۔
    لیکن ہمیں شعور نہیں ۔۔

  • احوال دل احمد علی ہاشمی

    احوال دل احمد علی ہاشمی

    احوال دل
    احمد علی ہاشمی

    اداس سا ہو جاؤں اکثر
    یاد تیری جب آتی ہے
    تیری باتیں یاد کروں میں
    جان میری جب جاتی ہے

    لب پہ ہنسی سی آ جاتی ہے
    تجھ سے جب میں بات کروں
    آنکھیں یہ نم ہو جاتی ہیں
    نظر نہ جب تو آتی ہے

    تیرے ملن کے سپنے دیکھوں
    رم جھم رت جب آتی ہے
    تیری ہی راہ تکتا ہوں میں
    گھنگھور گھٹا جب چھاتی ہے

    تیرا ہجر میں کب تک جھیلوں
    وصل کی خاطر کب تک بہلوں
    تم ہی کہو اے میرے ساجن
    کتنی مدت باقی ہے

    اداس سا ہو جاؤں اکثر
    یاد تیری جب آتی ہے

  • سلسلہ امہات المؤمنین: 1؛حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا۔ تحریر: جویریہ بتول

    سلسلہ امہات المؤمنین: 1؛حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا۔ تحریر: جویریہ بتول

    سلسلہ امہات المؤمنین:
    1)۔حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا۔
    تحریر:(جویریہ بتول)۔

    رسول اللّٰہ کی بیویاں امہات المؤمنین ہیں۔۔۔
    ان کی سیرت و کردار تمام مسلمانوں کے لیئے بالعموم اور خواتین کے لیئے بالخصوص مشعل راہ ہے۔۔۔
    ہماری حقیقی فلاح اسی بات میں پوشیدہ ہے کہ ہم اپنی ماؤں کی سیرت سے آگہی حاصل کریں اور ان کے عظیم ترین کردار کو اپنانے کی کوشش بھی کریں۔۔۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے اکثریت کو اپنی ماؤں کے نام تک بھی مکمل یاد نہیں ہوتے،جبکہ فلمی دنیا کے کرداروں کے لفظ بہ لفظ نام ہمارے حافظے میں موجود رہتے ہیں۔۔۔؟
    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عائلی زندگی ہماری اصلاح کا بہترین نمونہ ہے۔۔۔بہترین رفیقِ حیات کا نقشہ ہے۔۔۔
    اس سلسلہ میں ہم اپنی ماؤں۔۔۔۔امہات المؤمنین کے بارے میں کچھ جانیں گے۔۔۔ان شآ ء اللہ۔
    پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جب پہلی شادی کی تو آپ پچیس سال کے بھر پور جوان تھے،لیکن آپ نے نکاح کے لیئے جس خاتون کا انتخاب کیا،ان کی عمر چالیس سال تھی۔۔۔
    معروف ادیب اور عظیم نعمت خواں مرحوم نعیم صدیقی نے اس بات کو کتنے خوب صورت انداز میں لکھا ہے کہ:
    "یہ نوجوان رفیقۂ حیات کا انتخاب کرتا ہے تو مکہ کی نو عمر اور شوخ و شنگ لڑکیوں کو اک ذرا سا خراج نگاہ دیئے بغیر ایک ایسی عورت سے رشتۂ مناکحت استوار کرتا ہے کہ جس کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ خاندان اور ذاتی سیرت و کردار کے لحاظ سے نہایت اشرف خاتون ہے،اس کا یہ ذوق انتخاب اس کے ذہن،روح اور مزاج کی گہرائیوں کو پوری طرح نمایاں کر دیتا ہے۔۔۔”
    ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا مکہ معظمہ میں پیدا ہوئیں،جاہلیت میں آپ کا لقب طاہرہ تھا۔
    آپ قریش کے شریف و معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔۔۔
    آپ کا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا خاندان ایک ہی تھا۔۔۔یعنی قریش۔
    حضرت خدیجہ کا قبیلہ بنو اسد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ کا قبیلہ بنو ہاشم تھا۔
    یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قریش خاندان عرب میں ممتاز خاندان سمجھا جاتا تھا۔۔۔ام المؤمنین حضرت خدیجہ کے خاندان میں لڑکیوں کی پیدائش کو کئی دیگر قبائل کی طرح برا نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ ان کی پرورش محبت سے کی جاتی تھی۔۔۔
    آپ کا گھرانہ تجارت کے پیشہ سے وابستہ تھا۔
    آپ کے والد تجارت کرتے تھے اور اپنا مال بیرون ممالک لے جاتے اور وہاں سے سامان حجاز خرید کر لاتے۔
    حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا نے بھی تجارت کو اختیار کیا۔۔۔
    آپ محنتی اور امانت دار لوگوں کو اپنا مالِ تجارت دے کر فروخت کرنے بھیجا کرتی تھیں۔۔۔یعنی حضرت خدیجہ کے کردار کی روشنی میں مسلمان خواتین کاروبار کا طریقہ سمجھ سکتی ہیں کہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ کس طریقے سے تجارت کرتی تھیں۔۔۔؟
    آپ کی پہلے دو شادیاں ہوئی تھیں،اپنے دوسرے شوہر کی وفات کے بعد آپ نے قریش کے کئی سرداروں کے پیغامِ نکاح مسترد کر دیئے۔۔۔
    یہاں تک کہ وہ رحمت اللعالمین کے نکاح میں آئیں۔۔۔۔

    حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیئے ہر قربانی پیش کی،
    اپنا تن من دھن،مال و زر آپ کی خدمت اقدس میں حاضر کر دیا اور ایثار کا مثالی نمونہ پیش کیا۔
    اپنا مال آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر کے اس کے خرچ کا اختیار بھی آپ صلی اللہ علیہ کو دے دیا۔۔۔
    یہی وجہ ہے کہ
    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب بھی حضرت خدیجہ کا ذکر کرتے تو بہت زیادہ توصیف کرتے،
    حضرت عائشہ فرماتی ہیں،مجھے غیرت آئی تو میں نے فرمایا:
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اکثر ایک سرخ مسوڑھوں والی عورت کا ذکر کرتے رہتے ہیں،حالانکہ اللہ نے آپ کو اس سے بہتر بیوی عطا کی ہے یعنی(حضرت عائشہ)۔۔۔
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    اللّٰہ تعالی نے مجھے اس سے بہتر بیوی عطا نہیں کی،وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائیں،جب سب لوگوں نے میرا انکار کیا۔
    اس نے اس وقت میری تصدیق کی،جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا۔
    اس نے اپنے مال و دولت سے میری مدد کی جب دوسروں نے مجھے محروم کیا۔
    اور اللّٰہ تعالی نے مجھے اس سے اولاد کی نعمت عطا کی،جبکہ دوسری بیویوں سے اولاد نہیں ہوئی۔
    (رواہ احمد)۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا کی موجودگی میں،ان کی پچیس سالہ ازدواجی زندگی میں کوئی اور نکاح نہیں کیا۔۔اور یہ عرصہ انتہائی محبت و الفت سے بھر پور گزرا۔۔۔
    اسی تعاون بھری زندگی کا نتیجہ تھا کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عمر بھر ان کی نیکیاں بیان کرتے رہے۔۔۔
    کفار مکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے بدکنے لگے اور ان کا کچھ اثر نہ لیا،تو اس سخت اذیت کے ماحول میں حضرت خدیجہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ڈھارس بندھاتیں۔
    اس صاحبہ فراست خاتون نے ہر تکلیف کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی و تشفی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
    نزول وحی کے وقت گھبراہٹ کے موقع پر آپ رضی اللّٰہُ عنھا نے ان الفاظ میں رسول اللہ کو تسلی دی کہ:
    اللّٰہ تعالی آپ کو ہر گز رسوا نہیں کرے گا،آپ صلہ رحمی کرتے ہیں،یتیموں،ناداروں کا خیال رکھتے ہیں،مہمان نوازی کرتے ہیں،مصیبت زدگان کی مدد کرتے ہیں۔۔۔ !!!
    اپنے مال سے تکلیف زدہ مسلمانوں کاخیال رکھنے ،اسلام کی راہ میں عظیم قربانی اور کردار ادا کرنے والی ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا کے کردار کی اللہ رب العزت نے کتنی قدر دانی کی کہ
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا اے اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم !
    یہ خدیجہ ہیں جو کھانے کا برتن آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس لا رہی ہیں،
    جب وہ آپ کے پاس آئیں تو انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہیں اور میری طرف سے بھی۔
    اور انہیں جنت میں موتیوں کے محل کی خوشخبری دیجیئے،جس میں شوروغل ہے اور نہ کوئی تکلیف و تھکاوٹ۔۔۔”
    (صحیح بخاری)۔
    دنیا میں جنت کی بشارت پانے والی پہلی خاتون سے رسول اللہ کو بہت زیادہ محبت تھی۔۔۔
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ کے رشتہ داروں کی عزت کیا کرتے تھے،آپ کی سہیلیوں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے،آپ کی سہیلیوں کے گھروں میں کھانا بھجواتے۔
    حضرت خدیجہ سب سے پہلے ایمان لائیں،مسلمان بنیں اور سب سے پہلے پہلی وحی کو تسلیم کیا۔۔۔ان منفرد اعزازات کی حامل،اپنی غمگسار و ہمدرد بیوی کی وفات پر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بہت رنجیدہ ہوئے،
    اور اس صدمہ کی ہی مناسبت سے نبوت کا دسواں سال عام الحزن کہلایا۔۔۔ !!!
    آپ رضی اللّٰہُ عنھا نے 10 رمضان المبارک 10 نبوی میں وفات پائی۔۔۔
    اولاد میں بیٹے کم عمری میں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔۔۔
    اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا کی چاروں بیٹیاں،زینب،رقیہ،ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھن تھیں جن میں سے حضرت زینب ابو العاص،حضرت رقیہ و ام کلثوم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔
    (رضی اللہ عنھا)۔
    اللّٰہ تعالی ہم مسلمان مردوں،عورتوں کو اپنی زندگیاں اپنے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا کے عظیم کردار کی روشنی میں گزار کر ابدی فلاح سے ہمکنار ہونے کی توفیق بخشے۔
    دین اسلام کی ترویج و اشاعت کی خاطر ایسے ہی جذبۂ قربانی سے مالا مال فرمائے۔آمین۔
    لا ریب امت کے لیئے اسوۂ حسنہ میں بہترین ازدواجی تعلقات کی یہ انتہائی روشن مثال ہے۔
    اللّٰہ ہمارے احوال کی بھی اصلاح فرما دے اور ہر شوہر،بیوی سیرتِ طیبہ کی راہ نمائی میں اپنا اپنا کردار سمجھ سکیں۔۔۔۔ !!!!!

  • کامیاب لوگوں کی صبح کی عادات تحریر: عاشر مشتاق

    کامیاب لوگوں کی صبح کی عادات تحریر: عاشر مشتاق

    یہ بات سچ ہے کہ آپکو کامیاب ہونے کے لیے ہر روز اپنے لیے وقت نکالنا پڑھتا ہے نا کہ آپ خود کو بہتر بنا سکیں، اچھی اور کامیاب زندگی گزارنے کے لیے آپکا جسمانی اور زہنی طور پر تندرست ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے آپ صبج اٹھ کے کچھ اچھی چیزوں کو روز روز کر کے انکی عادت بنا سکتے ہیں۔کیونکہ جو صبح کو جیت لیتا ہے وہ اپنا سارا دن جیت لیتا ہے اور جو چھ عادات میں آپکو بتانے جا رہا ہوں یہ دنیا کے سب سے کامیاب لوگوں کی ھیں جنہیں آپ بھی اپنی زندگی میں اپنا کے کامیاب ہو سکتے ہیں۔
    خاموشی: خاموشی سے مراد ہے دعا کرنا یا میڈیٹیٹ کرنا۔ بہت سے لوگ صبح اٹھتے ہی دنیا بھر کی چیزوں کی فکر کرنے لگ جاتے ہیں اخبار پڑھ کر یا ٹی وی پر خبریں دیکھ کر وغیرہ وغیرہ۔ لیکن کامیاب لوگ یہ سب نہیں کرتے بلکہ وہ صبح اٹھنے کے بعد میڈیٹیشن، یوگا، یا دعا کرتے ہیں جو کہ انکے دماغ کو سکون میں رکھتا ہے اور انہیں دن بھر کام کرنے کےلیے تیار بھی کرتا ہے۔
    افرمیشن: یہ ایک پاورفل ٹیکنیک ہے جسے کئی کامیاب لوگ استعمال کرتے ہیں یہ اور کچھ نہیں بس ایک مثبت جملہ ہے جو ہم بار بار خود سے بولتے ہیں جس سے وہ بات ہمارے لاشعوری دماغ میں بیٹھ جاتی ہے اور ہمارا دماغ اسے سچ ماننے لگتا ہے مثال کہ طور پے اگر آپ بار بار اپنے آپ سے کہیں کہ میں ایک پراعتماد انسان ہوں تو پھر آپکا دماغ اسے سچ ماننے لگتا ہے اور آپ سچ میں ایک پراعتماد انسان بننے لگتے ہیں۔
    تصور: یہ بھی ایک پاورفل ٹیکنیک ہے جو تھوڑی بہت افرمیشن سے ملتی جلتی ہے اس سے آپ تصور کرتے ہیں ان چیزوں کا اور تصویر بناتے ہیں اپنے دماغ میں جو آپ سچ میں چاہتے ہیں۔
    ورزش:صبح کے وقت ورزش کرنے کے بہت سارے سائنسی فائدے ہیں کیونکہ آپکے دماغ میں زیادہ آکسیجن جاتی ہے اور آپکا دماغ زیادہ اینڈورفین نکالتا ہے جس سے آپکی سوچ مثبت اور صاف ہوتی ہے آپکو اچھا محسوس ہوتا ہے اور اپکا انرجی لیول بڑھتا ہے پورے دن کے لیے۔ اس سب کے لیے ضروری نہیں ہے کہ آپ جم ہی جائیں بلکہ یہ سب فائدے آپ بس کچھ منٹ کی ہلکی پھلکی ورزش کر کے بھی لے سکتے ہیں۔
    پڑھنا: پڑھنے سے مراد اخبار پڑھنا نہیں ہے بلکہ وہ کتابیں یا آرٹیکل پڑھنا ہے جو آپکو بہتر بننے میں مدد کریں، ایسی کتابیں جو آپکو علم دیں اور ہر طرح سے آپکی اینٹیلیجنس کو بڑھائیں۔
    لکھنا: لکھنے سے مراد آپکے دن بھر کے کام، مقاصد اور آپکے خواب وغیرہ لکھنا ہے۔ لکھنے میں بہت طاقت ہوتی ہے کیونکہ یہ آپکے خوابوں کو حقیقت بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس لیے آپ ہمیشہ اپنے پاس کوئی نوٹ بک رکھیں تا کہ جو بھی نئے آئیڈز آپکے دماغ میں آئیں اسکو فورن لکھ سکیں۔ یہ سادہ سی چیز آپکی بہت مدد کرے گی۔
    یہ سب باتیں میں نے آپکو ہال ایلروڈ کی کتاب میریکل مورننک سے بتائی ہیں جو مجھے بہت اچھی لگی تھیں اور میں نے سوچا آپ دوستوں سے بھی شئیر کروں۔ اگر پسند آئیں تو آگے ضرور شئیر کریں

  • پاکستان میں صحافت از قلم: طارق محمود

    پاکستان میں صحافت از قلم: طارق محمود

    پاکستانی صحافت اور ہماری ذمہ داریاں
    گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی صحافت کا عالمی دن منایاگیا. دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آزاد صحافت انتہائی مشکل ہے مذہبی، سیاسی، کاروباری، سماجی ، لبرل، اپوزیشن اور حکومتی حلقے صحافیوں کے منہ سے من پسند الفاظ ہی سننا چاہتے ہیں خواہش پوری نہ ہونے پر ذاتی طور پر ٹارگٹ کیا جاتا ہے اگر اسی طرح من پسند الفاظ اور رپورٹنگ کے لئے صحافیوں کو مجبور کیا جاتا رہا تو معاشرے کو ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کرنا پڑے گا کیونکہ معاشرے کی بیماریوں کو ٹھیک طرح سے جانے بغیر ان کا علاج ناممکن ہے اگر بیماری کا علاج ہی نہیں ہو گا تو وہ ناسور بن کر موشرہ ہی ختم کر دے گی اس لئے تمام معاشرتی طبقات اپنے اوپر ہونے والی جائز تنقید کو فراخدلی سے برداشت کریں دوسری طرف میں اس بات کا اعتراف بھی کرتا ہوں کہ صحافتی برادری میں بھی ایسی کالی بھیڑوں کا دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو اپنے ذاتی فوائد اور دیگر مقاصد کے حصول کے لیے انصاف کا گلا گھونٹ رہی ہیں اور غیر جانبداری سے کام نہیں لیا جا رہا۔ آئیں آج کے دن عہد کریں کہ ہم صحافی برادری کو ان کا کام آزادی سے کرنے دیں گے اور اس ضمن میں ہونے والی جائز تنقید کو برداشت کریں گے من پسند الفاظ اور رپورٹنگ کی بجائے ملکی مفادات کا تحفظ کیا جائے گا اور معافی بھی اپنے پیشے کا تقدس پامال نہیں ہونے دیں گے اور مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے جانبداری سے کام نہیں لیا جائے گا۔ تاکہ معاشرے کی اصل تصویر پیش کی جا سکے اور معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کا درست ادراک کرتے ہوئے ان کو ختم کیا جا سکے۔ جس سے پاکستان کا اسلامی اور فلاحی تشخص ابھر کر سامنے آئے۔

  • دلِ بے خبر کو یقیں ہو…!!! بقلم:جویریہ بتول

    دلِ بے خبر کو یقیں ہو…!!! بقلم:جویریہ بتول

    دلِ بے خبر کو یقیں ہو…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    کوئی مشکل کی جو آئے گھڑی…
    کبھی چھا جائے کوئی حالت کڑی…
    دلِ بے خبر جو مایوس ہو…
    تو دھیرے سے اُسے حوصلہ دو…
    یہ بدلتے رنگ سب ہیں عارضی…
    نہیں ان میں کہیں مستقل مزاجی…
    یہ نشیب و فراز ہیں یہاں کا دستور…
    رہا ان سے کوئی بھی نہ مفرور…
    یہ ہر اک زندگی کی ہے کہانی…
    کہیں غم کی گہرائی،کہیں خوشی کی جولانی…
    کہیں شر میں سے نکلتی ہیں خیر کی کرنیں…
    کہیں یاس کے سائے میں ملتی ہیں آس کی خبریں…
    یہ "لیبلوکم” کی ہے تفسیر…
    مقصد حیات ہے اس کا اسیر…
    فقط ہمارے کرنے کا ہے یہ کام…
    ساتھ نہ چھوٹے بندگی سے دوام…
    یہ اضطراب کے ہیں جو سائے…
    دل کی دنیا پہ شب نما سے چھائے…
    انہیں یقیں کے رنگ میں ہے ڈھالنا…
    دلِ بے خبر کو ہے سنبھالنا…
    تجھے کیا خبر کہ کیا غیب ہے؟
    ہر کام ہی لگتا کیوں عیب ہے…؟
    عرش تا فرش ہیں جو ہوتے…
    جو پاتے ہیں ہم اور جو کھوتے…
    وہی ہوتے فیصلے ہیں زریں…
    ہمارے لیئے سدا کے بہترین…!!!
    کبھی مایوسی کے اسیر ہو کر…
    ہر طرف بے یقینی کے بیج بو کر…
    خرید کر بس رنج و ملال…
    بدقسمتی کے ہی آتے خیال…!!!
    اس زندگی کو نہ کرنا ارزاں…
    کبھی رہ جائے جو دل میں ارماں…
    تو رکھنا تم بھی بس اتنا ایمان…
    اس زندگی کا مقصد ہے بہت گراں…!!!
    جو بس میں ہو وہ کرتے ہے چلنا…
    منزلوں کی رہ میں ہو، بس جینا ہے یا مرنا…
    تو پھر ابھی اک اور حیات ہے باقی…
    تجھےوہاں وہ وہ بھی ملے گا خاکی…؟
    کہ جو ہے نہ ترے زاویۂ خیال میں…
    نہ تری بزمِ حسن و جمال میں…
    یہ ابتلاء کے ہیں جو سارے سلسلے…
    واں لگیں گے یہ کُچھ بھی نہ مسئلے…!!!
    اس اضطراب کو صبر سے مات کر…
    ہر لمحہ شکر کی ادا سے بات کر…
    یہی رہِ بندگی کا ہے تقاضا …
    جس کا حُسن ہے ادائے شکر و تواضع…!!!
    =============================

  • کشمیر میں فوجی افسروں کی ہلاکت ، بھارت میں صف ماتم بچھ گئی

    کشمیر میں فوجی افسروں کی ہلاکت ، بھارت میں صف ماتم بچھ گئی

    باغی ٹی وی : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کو حریت پسندوں کیجانب سے شدید نقصان پہنچا ہے میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ وادی کے ضلع کپواڑا میں مسلح افراد کے حملے کے نتیجے میں بھارتی فوج کے کرنل اور میجر سمیت 5 اہلکار ہلاک ہوگئے جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہنڈوارا میں بھارتی افواج کی جانب سے آپریشن جاری تھا کہ اسی دوران نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جب کہ واقعہ کے بعد بھارتی افواج کی فائرنگ سے 2 کشمیری بھی شہید ہوگئے۔
    واقعہ کے بعد علاقے میں بھارتی فورسز کی بھاری نفری طلب کرلی گئی ہے اور علاقے کا محاصرہ کرکے حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
    اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیان میلہورہ زینہ پورہ گائوں میں منگل کو 7روز کے دوران دوسرے 17گھنٹے طویل معرکے میں جھڑپ میں 3عسکریت پسند غازی ابراہیم ، برہان کوکا اور ناصر بھٹ شہید ہو گئے تھے ۔جبکہ فوج اور پولیس کے 2اہلکار زخمی ہوئے تھے .

    بھارتی فوج کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کے نیتجے میں ایک جواں سال خاتون شہنواز بانو زوجہ فاروق احمد کوک ابھی دونوں ٹانگوں میں گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئیں اور ایک نوجوان پیلٹ لگنے سے بھی زخمی ہوا۔

    جھڑپ کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان پر تشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مذکورہ گاؤں میں 22اپریل کو اسی طرح کی ایک جھڑپ میں 4نوجوان شہید ہوئے تھے۔ منگل کی سہ پہرآپریشن شروع ہوتے ہی ضلع شوپیان اور پلوامہ میں انٹر نیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھی۔ میلہورا شوپیاں میں آپریشن میں شہید ہونے والے 2افراد کی لاشیں برآمدکرلی گئی ہیں جبکہ تیسرے کی تلاش کے لئے آپریشن صبح نو بجے تک جاری تھا۔

  • نہ ویب کیم اور نہ ہی کوئی اور پرابلم. اب اپنا ڈی ایس ایل آر استعمال کریں اسکائپ کالز کے لیے

    نہ ویب کیم اور نہ ہی کوئی اور پرابلم. اب اپنا ڈی ایس ایل آر استعمال کریں اسکائپ کالز کے لیے

    باغی ٹی وی :ان دنوں ویب کیم ڈھونڈنا مشکل ہے ، لہذا یہاں آپ زوم یا اسکائپ پر کال کرنے کے لئے آپ اپنے پاس پہلے سے موجود اپنے کیمرہ کو ویب کیم میں تبدیل کرسکتے ہیں

    کوروناوائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ویب کیمز کی فراہمی بہت کم ہے ، لہذا آپ اپنے میک یا پی سی میں سے بہتر کوالٹی کیمرہ تلاش کر سکتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ، ان تمام زوم کالز اور اسکائپ سیشنوں کے لئے تصویر کے معیار کو بڑھانے کے لئے اپنے DSLR یا کیمکارڈر کو استعمال کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

    آپ اپنے فون کو ویب کیم کی طرح دوگنا کرنے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں اور اپنے آپ کو اسٹینڈ کیمرہ کے ذریعے رابطے کی پریشانی سے بچ سکتے ہیں ، لیکن اس سے آپ کو تصویر کا بہترین معیار نہیں مل سکتا۔

    اپنے DSLR کو ویب کیم میں تبدیل کرنے کے لئے کچھ مختلف طریقے ہیں۔ آپ جس کا انتخاب کرتے ہیں اس کا انحصار آپ کے کیمرا پر ہوگا ، چاہے اس میں USB ہو یا HDMI آؤٹ پٹ ، اور اگر آپ پی سی یا میک سے جڑ رہے ہیں۔

    نیز ، آپ یقینی طور پر اپنے کالوں کے دوران کمفرٹ رہنے کے لئے اپنے کیمرہ کو تپائی پر رکھنا چاہتے ہیں اور اگر آپ اسے تھوڑی دیر کے لئے چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اسے بجلی سے جوڑ دیں۔ اگر آپ آواز کی کوالٹی بہترین چاہتے ہیں تو آپ کیمرہ مائک کے بجائے اپنے آڈیو کو الگ الگ مائیکروفون کے ذریعہ ریکارڈ کرسکتے ہیں

    اپنے کینن DSLR یا کیمرہ کو ایک ویب کیم میں تبدیل کرنے کے لئے کینن سافٹ ویئر کا استعمال کریں

    کینن کے پاس اپنے کیمرے کو اپنے کمپیوٹر سے کنیکٹ کرنے کا ایک طریقہ ہے (یہ میک کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا)۔ یہاں آپ کوایک USB کیبل کی ضرورت ہے ، جو آپ کے کیمرہ باکس میں موجود ہو گی۔ ایک بار جب آپ سافٹ ویئر کو اپ لوڈ کرتے ہیں اور اپنے کیمرہ میں پلگ ان کرتے ہیں تو ، کیمرہ کو مووی موڈ میں تبدیل کریں پھر EOS ویب کیم یوٹیلٹی بیٹا کو ان پٹ کے طور پر زوم ، اسکائپ ، مائیکرو سافٹ ٹیموں یا گوگل میٹ کو سیٹ کریں۔

    یہ کینن ڈائریکٹ سے مفت ڈاؤن لوڈ ہوتی ہے لیکن پہلے آپ کو یہ فہرست دیکھنی پڑے گی کہ آیا آپ کا کینن کیمرہ مطابقت رکھتا ہے۔ نیز ، یہ بیٹا سوفٹ ویئر ہے لہذا آپ کا یہ تجربہ ناکام ہو سکتا ہے ، اور صرف امریکی کینن کیمرہ ماڈل ہی سہارا یہاں پر مفید رہتا ہے۔

    اپنے DSLR کے لئے ایک ویب کیم ایپ آزمائیں جو USB سے زیادہ جڑتا ہے

    دوسرا آپشن پی سی کے لئے اسپارکو کیم ہے۔ یہ ایک مفت ٹرائل کی آفر دیتا ہے ، لیکن یہ امیج پر آبی نشان لگادیتا ہے۔ غیر مقفل ورژن کے لئے اس کی لاگت 70 ڈالر ہے ، جو کئی کینن اور نیکن کیمروں کے ساتھ کام کرتا ہے۔

    ایک بار جب آپ کیمرہ کو USB کے ذریعے اپنے کمپیوٹر سےجوڑ دیں گے تو ، آپ اسپارکو کیم سے نمائش کو تبدیل کرنے اور دیگر ترتیبات کو ایڈجسٹ کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ بدقسمتی سے ، آپ کیمرہ سے آڈیو کو براہ راست ریکارڈ نہیں کرسکیں گے ، لہذا آپ کو یا تو پی سی یا میک مائکروفون استعمال کرنے کی ضرورت ہوگی ، یا بیرونی مائکروفون لگانے کی ضرورت ہوگی تاکہ لوگ آپ کو سن سکیں۔ کیمرے پر انحصار کرتے ہوئے اسپارکو کیم استعمال کرتے وقت کچھ تصویری ہنگامہ آرائی کی ہے ، لہذا یہ آپ کے لئے سب سے قابل اعتماد حل نہیں ہوسکتا ۔ ایکام لائیو میک کے لئے ایک اور آپشن ہے جو نیکون صارفین کے لئے بہترین ہے ، حالانکہ اس کا خصوصی طور پر تجربہ نہیں کیا ہے۔

    متبادل کے طور پر ، اگر آپ کے پاس کینن ڈی ایس ایل آر ہے اور آپ میک استعمال کررہے ہیں تو ، آپ سافٹ ویئر کے دو ٹکڑے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں: کیمرا لائیو اور کیمٹسٹ (دونوں ہی مفت ڈاؤن لوڈ ہو تے ہیں)۔ ایک بار جب دونوں انسٹال ہوجاتے ہیں اور آپ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کیمرہ لائیو کے ذریعے کیمرہ USB کے ذریعے جڑا ہوا ہے تو ، کیم ٹیوسٹ کو کھولیں اور سیفون کو ویڈیو ماخذ کے طور پر منتخب کریں۔ سیٹنگ کے ٹیب میں ، سیفن سرور کے بطور کیمرہ لائیو منتخب کریں۔ اب آپ زوم ، اسکائپ یا اپنی پسند کی ایپ پر جاسکتے ہیں اور کیمٹوسٹ کو اپنے ویڈیو ذرائع کے طور پر منتخب کرسکتے ہیں۔

    اپنے DSLR کو بہترین معیار کے لئے HDMI کے ذریعے جوڑیں

    یہ ان کیمروں کے لئے موزوں ہے جو صاف HDMI سگنل کو آؤٹ کرسکتے ہیں – اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی امیج کی تفصیلات یا فوکس ٹولز جیسے اوورلیز نہیں ہیں۔ یہ میک یا پی سی کے ساتھ بھی کام کرتا ہے۔

    اس کے لئے پہلے ، آپ کو اپنے کیمرے سے براہ راست تصویر حاصل کرنے کے لئے HDMI کیبل کی ضرورت ہوگی۔ یہ آپ کے کیمرہ پر منحصر ہے ، یہ منی HDMI سے فل سائز HDMI سائز تک کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

    اس کے بعد ، آپ کو ایک کیپچر ڈیوائس کی ضرورت ہوگی جیسے ایلگاٹو کیم لنک ($ 130)۔ ایک بار جب آپ اپنے مطابقت پذیر کیمرہ کو ڈونگل میں پلگ دیتے ہیں تو ، یہ HDMI سگنل کو USB سگنل میں بدل دیتا ہے تاکہ آپ اپنے کیمرہ کو ویب کیم کے طور پر استعمال کرسکیں۔ آپ کو اپنے ویڈیو کانفرنسنگ ٹول جیسے زوم یا مائیکروسافٹ ٹیموں میں کیمرا منتخب کرنا ہو گا۔

    اگر آپ اپنا اسٹریمنگ گیم اسکائپ یا زوم سے آگے لے جانا چاہتے ہیں تو ، یہاں ایک عمدہ ٹیوٹوریل موجود ہے جو آپ کے کیمرے کے ہکنگ کے عمل سے گزارتا ہے ، پھر OBS نامی ایک مفت سافٹ ویئر ٹول کا استعمال کرتے ہوئے لائیو سٹریمنگ کی مزید سیٹنگ کو ایڈجسٹ کرسکتے ہیں۔

  • مدارس میں طباء کے لئے تمام الہامی کتابوں اور صحیفوں کی تعلیم انتہائی ضروری کیوں؟   بقلم: ابوتراب مغل

    مدارس میں طباء کے لئے تمام الہامی کتابوں اور صحیفوں کی تعلیم انتہائی ضروری کیوں؟ بقلم: ابوتراب مغل

    مدارس میں بائبل کا نہ پڑھایا جانا۔جبکہ مسیحی مدارس میں قرآن کا پڑھایا جانا۔ہمارے مولویوں کے منہ پر ہمیشہ کالک مل دیتا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ انڈو و پاک کے دینی مدارس میں قرآن و حدیث اور فقہ وغیرہ سب کی تعلیم عام ہے۔ مزید ہر فرقے کا ایک الگ مدرسہ ہے اور ہر مدرسہ دوسرے فرقے کے خلاف نصاب تعلیم بھی رکھتا ہے۔ ہر مدرسے میں مخالف فرقے کے خلاف تربیت عام ہے۔ لیکن انہی مدارس سے فارغ التحصیل طلباء کی اکثریت بائبل، اسکے عہد نامہ جدید و قدیم پڑھنے سمجھنے سے قاصر ہے۔ مطلب ایک دوسرے کے خلاف تو مناظرانہ و جارحانہ انداز پائے جاتے ہیں لیکن مسیحی دنیا کے دلائل کا مقابلہ کرنا ان کے بس کی بات ہی نہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور استبدار میں جب عیسائی مبلغین جو قرآن پڑھ پڑھ کر یہاں مناظرے کرنے آئے ان کے سامنے سینکڑوں مولوی شکست کھا گئے کیوں؟ اسی لیے کہ ان مولویوں نے کبھی بائبل یا دیگر الہامی کتب کے موجودہ صحیفوں کا کبھی مطالعہ ہی نہیں کیا۔ عیسائی قرآنی دلائل کو مسخ کرکے کامیاب ہورہے تھے اور مولویان ہندو و پاک بائبل کے عدم مطالعے کے باعث زچ ہورہے تھے اور آج بھی مدارس کے مولویوں کی اکثریت ایسی ہی ہے۔ یعنی باہمی نفرت انگیز فرقہ وارانہ مناظروں میں بڑے شیر ہوتے ہیں لیکن کافروں کے سامنے دلائل دینے سے بالکل عاری بلکہ اس میدان میں سفید چٹے کورے جہلا بن جاتے ہیں۔ مدارس کے نصاب کو یا تو ری شیڈول کرو یا دوران تعلیم طلباء کو ایسا فہم اور آگاہی دو کہ وہ تحریف شدہ کتب سابقہ کا مطالعہ کریں تاکہ علمی میدان میں مستشرقین کا مقابلہ کرنیکی اہلیت رکھتے ہوں۔ حفاظ قرآن، شیوخ الحدیث اور اصحاب فقہ سے وہ مسلمان عالم کئی درجے بہتر ہے جو کفار سے مناظرہ کرنیکی صلاحیت رکھتا ہے۔

    بقلم: ابوتراب مغل

  • حوصلہ نہ ہاریں…!!! تحریر: جویریہ بتول

    حوصلہ نہ ہاریں…!!! تحریر: جویریہ بتول

    حوصلہ نہ ہاریں…!!!
    (تحریر: جویریہ بتول)۔
    آپ اس دنیا میں کتنے ہی بھلے کام کیوں نہ کر لیں،دنیا پھر بھی راضی نہیں ہوتی…
    حاسدین اور ناقدین اپنی توپوں اور تیروں کا رُخ بہر حال آپ کی جانب کیئے رکھتے ہیں…
    وہ آپ کے مثبت کام کے منفی پہلو تلاشتے اور ان کی ترویج و اشاعت کا فریضہ سنبھال لیتے ہیں…
    آپ جب بھی کوئی اہم کام یا مسائل حل کرنا چاہتے ہیں تو کئی لوگ برا بھلا بھی کہیں گے…
    آپ کی ذرا سی لغزش نوٹ کریں گے…
    کیونکہ وہ آپ کو کوئی قدم اُٹھاتے ہی فرشتہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ غلطی کا صدور شاید اب آپ سے ممکن نہیں ہے…
    اور ذرا سی غلطی پر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں…
    اگر ایسا ہے تو یقین جانیں لوگ آپ میں کچھ صلاحیتوں کے قائل ہیں اور آپ کی کامیابی کو وہ اپنے لیئے توہین تصور کرتے ہیں…
    لیکن ان کی تنقید برائے تنقید آپ کے حوصلہ کو پست کرنے کی بجائے اسے وزن دینے کا باعث ہو…
    آپ خیر کے کاموں میں آگے بڑھتے رہنے کی کوشش جاری رکھیں…
    عزم بالجزم کے ساتھ آگے بڑھنے والے آندھی و طوفانوں…میں سکون کی مانند اور شبِ دیجور میں چراغ کی مانند جلتے رہتے ہیں…
    دستِ ہمت کا دامن نہیں چھوڑتے…
    اور اپنی راہوں کو صاف کرتے رہنے کی ادائیگی میں مصروف رہتے ہیں…
    ان کی نظر اپنے ہدف تک پہنچنے پر ہوتی ہے،دنیاوی اغراض و مقاصد کے لیئے جینے والے لوگ ان کو چیلنج بھی سمجھتے ہیں،
    ان کا بلڈ پریشر تو انسانیت کی آڑ میں بھی اپنے مالی مفادات کے استحکام کے یا گراوٹ سے بڑھتا اور کم ہوتا ہے…
    مگر اپنی صلاحیتوں کو دوسروں کی راہ میں روشنی کرنے کی غرض سے استعمال کرتے جذبوں کو اس کیٹیگری میں نہیں دیکھا جا سکتا اور حقیقت میں دنیا میں رکاوٹیں بھی ایسے ہی لوگوں کی راہ میں ہوتی ہیں…
    لیکن اپنے حصے کا دیا جلائے رکھنے کی رسم زندہ کیئے لوگوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے معاملات اللّٰہ سے ٹھیک رکھیں…
    دلبرداشتہ ہو کر حوصلہ ہارنے کی بجائے جو ہو سکے وہ کرتے رہیں…
    خود سے دوسروں کو فائدہ پہنچائیں اور اپنے ضرر سے بچائیں…!!!
    پر امن انداز میں سکونِ ذہن و قلب کے ساتھ سفر جاری رکھیں…
    اور اپنی سوچ،انداز اور اداؤں سے انسانیت کی بھلائی چاہتے رہیں…
    یہی انسانیت کی معراج ہے اور دنیا میں رہتے ہوئے ہم دنیا کو اپنی صفائیاں تو کبھی تسلی بخش انداز میں دے ہی نہیں سکتے…
    لوگ پھر بھی شک کی چنگاری کو سلگائیں گے…
    بقول شاعر:
    "میری خوبیاں اور محاسن ہی ان کے نزدیک میرے گناہ ہیں تو بتاؤ کہ میں کیا معذرت کروں…؟؟؟”
    اپنے حصے کا کام کرنا ہے اور آگے گزر جانا ہے…تنقید و تحسین سے بے پرواہ ہو کر تبھی آپ اپنا کوئی بھی مثبت کام یکسوئی سے سر انجام دے سکتے ہیں…
    کیونکہ جہاں تنقید حوصلہ پست کرتی ہے،وہیں حد سے بڑھی تحسین بھی دماغ کو مغرور کرتی اور سوچوں کو اسی دائرہ میں دھکیل دیتی ہے کہ جو کام ہو،اس کی تعریف بھی لازم ہے…جبکہ کبھی کام تعریف کے بغیر بھی کرنا پڑتا ہے…!!!!!
    ہمارا یقیں ہو کہ اجر اللّٰہ تعالٰی سے لینا ہے
    شاعر نے کتنے خوب صورت انداز میں کہا ہے:
    "کاش کہ تو راضی رہے،تری رضا کے ساتھ اگر تمام لوگ بھی ناراض ہوں تو کوئی پرواہ نہیں،میری منتہائے اُمید یہی ہے۔”
    ==============================