Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اپنے کردار کا جائزہ لیں—از—مشی حیات

    اپنے کردار کا جائزہ لیں—از—مشی حیات

    ہماری روز مرہ کی زندگی میں ہر انسان خود کو اعلی و برتر سمجھتا ہے اور دوسرے کو اپنے سے کمتر۔۔۔۔۔!
    مگر آج جو نفسا نفسی کا وقت اس عالم پر آ ٹھہرا ہے ہمیں اب یہ جاننا ہے کہ ہم اعلی ہیں یا جسے ہم کمتر سمجھ رہے ہیں وہ۔۔۔۔۔!
    قرآن وہ سچی کتاب ہے جس میں ہر انسان کے کردار اور عملی زندگی کے بارے پیشگوئی ہوئی ہے مگر بات یہ ہے کہ ہم نے سمجھا نہیں۔۔۔!

    ہم قرآن پڑھنا شروع کرتے ہیں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں.
    صرف اس لیے کہ وہ مجھے دنیاوی چیزوں میں نہ بٹھکائے تاکہ ہم اس کتاب کو سمجھ سکیں۔۔۔!
    پھر تسمیہ پڑھتے ہیں کہ الرحمن الرحیم مہربان ذات اور بار بار رحم کرنے والی کے نام سے۔۔!

    قرآن کی ابتدائی آیات میں ہم اللہ کے شکر گزار ہوتے ہیں تمام تعریفیں اسکی کرتے ہیں اسی کو رب ماننے کا اقرار کرتے ہیں۔اسی کے بندے ہونے کا اقرار اور اسی سے مدد چاہتے ہیں
    مگر اہم بات یہ ہے
    اھدنا الصراط المسقیم

    بہت سی چیزیں مانگنے کی ہیں لیکن سب سے پہلے مانگنے کی ضرورت بہترین راستہ ہے
    وہ راستہ صرف اسلامہے۔۔!
    ہماری ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے ہمیں بہتری ہمسفر ملے جو ہمارا کبھی ساتھ نہ چھوڑے زندگی کے کسی مشکل سفر میں بھی مگر ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ بہترین ہمسفر بہترین رستہ ہم چھوڑ چکے ہیں وہ رستہ وہ ہمسفر اسلام ہے

    اور اسلام کا پتہ ہمیں صرف اللہ کی مقدس کتاب قرآن پاکسے مل سکتا ہے۔۔۔!
    دوسری بات ہم خود کو اعلی و برتر سمجھتے ہیں اللہ نے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی ہنر رکھا ہوتا ہے مگر اس کو وہی جانچ سکتا ہے جو متقی ہو گا اسلام کو سمجھنے والا ہو گا۔۔۔!
    اب غور کرنا ہے ہم متقی ہیں یا ہم میں بھی نفاق کی قسمیں پائی جاتی ہیں؟

    اوپر اعتقادی اور عملی منافقین کا اوپشن ہے۔۔۔۔۔
    منافقین کی دو اقسام یہی ہیں
    (1)۔ اعتقادی منافق
    پکے اعتقادی منافق وہ تھے جن کے میں دل کفر تھا
    جیسے۔۔۔۔

    مثلھم کمثل الذی استو قد نارا
    اس کی تفسیر عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھما)نے کچھ یوں بیان فرمایا کہتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم )مدینہ تشریف لائے کچھ لوگ مسلمان ہو گئے لیکن جلد منافق ہو گئے ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اندھیرے میں تھا اسلام سے پہلے مدینہ میں کفر کا اندھیرا تھا اس میں روشنی جلائی (کونسی روشنی؟اسلام کی )جس سے سارا ماحول روشن ہو گیا مفید اور نقصان دہ چیزیں ان پر ثابت ہو گئی اسلام کی روشنی میں نیک و بد اور حق و باطل کا پتہ چلنے لگا پھر روشنی بجھ گئی (کن کی جو مسلمان ہوئے تھے) وہ روشنی باہر کی نہیں ان کے اندر کی تھی اسلام اپنی جگہ موجود تھا مگر انکا اپنا دل بدل گیا۔۔۔!

    *اب ہم دیکھیں گے دل کے بدلنے کی وجوہات کیا ہیں؟

    انکا اپنا دل فکر میں پڑ گیا کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
    ذھب اللہ بنورھم

    اللہ ان کا نور لے گیا
    یہ حدیث عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھما کی ہے۔۔۔۔!
    پہلی مثال کس کی ہے؟

    پکے اعتقادی منافق ان کا حال یہ تھا وہ اسلام سے پہلے کفر کے اندھیرے میں تھے
    فلما اضاءت ماحول
    پھر جب ماحول روشن ہوا (اسلام سے) تو۔۔۔۔
    ذھب اللہ بنورھم

    اللہ نور لے گیا انکا اور انہیں
    وترکھم فی ظلمت
    اندھیروں میں چھوڑ دیا

    اور لا یبصرون نہی وہ دیکھتے
    کس کو؟نبی کریم کو
    اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا
    صم بکم عمی

    انکا حال یہ ہے بہرے بھی ہیں گونگے بھی اور اندھے بھی ہیں۔۔۔۔۔!
    ایک بات ذہن میں رکھیں اعتقادی منافق یہود میں سے تھے

    رسول اللہ جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں یہود تھے انصار تھے اور مہاجر مسلمان۔۔!
    یہ تھے اعتقادی منافق پکے منافق جو اسلام کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہ تھے

    (2 )۔ عملی منافق ۔۔
    جن کے دل میں ایسا کفر تو نہیں تھا مگر ڈھواں ڈھول تھے جیسے
    اس کصیب من السماء

    آسمان سے زوردار بارش ہوئی
    یہ بارش اسلام کی بارش جس میں
    ظلمت و رعدو برق

    اندھیرے تھے گرج تھی بجلی تھی مشکلات تھی اب یہ کیا کرتے جب اسلام کی دعوت دی جاتی تو
    یجعلون اصابعھم فی اذانہم
    اپنے کاموں میں انگلیاں ڈال لیتے

    عملی منافق تھے جب اسلام کو فائدہ ہوتا ساتھ چل دیتے جیسے فتح مکہ ،بدر اور جب مشکل وقت آتا کھڑے ہو جاتے یعنی خندک اور تبوک کےمیدان
    جہاد کے لیے نہیں آتے تھے
    اس لیے اللہ تعالی فرماتے ہیں

    ولو شآءاللہ
    اور اگر اللہ چاہتا ان کی سماعت اور بصارت کے جاتا مگر نہیں لے کر گیا کیونکہ ان کے اسلام کی طرف آنے سے چانسزتھے یہ واپس آ سکتے تھے اس لیے اللہ نے انہیں مہلت دی تھی۔۔!

    اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں اس جیسی کوئی برائی تو نہیں کیا ہم اعتقادی یا عملی منافق تو نہیں کہیں ہم بھی تو نہیں ایسے کرتے کہ جہاں قرآن کی دعوت مل رہی ہو جہاں اسلام دیا جارہا ہو اور ہم خاموش ہو جائے سنی ان سنی کر دیں۔!
    یاد رکھیں دین کے رستے میں مشکلات ہیں پریشانیاں ہیں مگر اس کا اجر عظیم بھی ہے اللہ فرماتے ہیں جو متقی بن گیا وہ گھبراتانہیں اور جو متقی بن گیا اسلام کے رستے چلتے رہے
    ھم المفلحون وہ کامیاب ہوگئے

    اگر مشکلات آئی ہیں تو کامیابی بھی ملے گی لیکن ثابت قدم رہنا ہوگا
    جائزہ لینا ہو گا ہمیں کہ کوئی ایسی بات ہم میں تو نہیں کہ اللہ ہمیں بھی کہہ دیں کہ
    و مایشعرون

    لا یشعرون
    اور
    وما کانو مھتدین
    اور نہیں یہ ہدایت پاسکتے
    ابھی وقت ہے مگر وقت بہت تھوڑا لوٹ آئیے واپس اللہ کے در پر کہیں دیر نہ ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

    اپنے کردار کا جائزہ لیں
    اعتقادی و عملی منافق
    ✍🏻از قلم۔
    مشی حیات

  • عورت—–از — حافظہ قندیل تبسم

    عورت—–از — حافظہ قندیل تبسم

    عورت کا وجود انسانیت کے ارتقاء کے وقت سے ہی خاص اہمیت کا حامل ہے۔ عورت ہی مرد کی پہلی ہمنشیں ٹھہری اور زمین پر آتے ہی انسان کو اس عورت کے فراق کا مزہ چکھنا پڑا۔ اسی عورت کے ذریعے نسل انسانی پروان چڑھی اور اسی عورت کی وجہ سے ہی پہلی معرکہ آرائی سامنے آئی جب ہابیل اور قابیل باہم متصادم ہوئے ۔ اس تصادم کا نتیجہ پہلا انسانی قتل، اس کے پیچھے کار فرما محرک بھی عورت ہی تھی۔

    کبھی گردش زمانہ میں ایسے ایام بھی آئے کہ بنی اسرائیل میں حکم سا دیا گیا کہ لڑکوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رکھا جائے تو کبھی ایسا بھی ہوا کہ انھی لڑکیوں کو بچپن میں ہی زندہ درگور کر دیا گیا۔ الغرض زمانے کے پیچ و تاب کے ساتھ عورت بھی مختلف حالات سے گزرتی رہی ہے۔

    فی زمانہ بھی عورت کئی روپ میں نظر آتی ہے۔ کہیں ننھی زینب کی شکل میں بے رحم معاشرہ اس کا جسم تار تار کرتا ہےتو کہیں قریبی رشتہ دار اسے اپنی ہوس کا نشانہ بناتا ہے۔ کہیں تو یہ عورت عزت پاتی ہے اور کہیں بے آبرو کر دی جاتی ہے۔ انہی متضاد کیفیات و حالات میں سے ایک حالت نیکی و پارسائی کی ہے جب یہ عورت اللہ تعالیٰ کے احکامات بجا لاتے ہوئے دین کے احکام کی پاسداری کرتی ہے اور ایک حالت وہ ہے جس میں یہ عورت پابندیوں سے آزادی مانگتی سر بازار نازیبا لباس میں نظر آتی ہے۔

    معاشرے میں عورت کے کئی رنگ ہیں۔ ہر رنگ کی اپنی ہی الگ داستان ہے۔ کوئی شادی کے لیے رشتے کی تلاش میں بوڑھی ہو رہی ہے تو کوئی شادی کے بغیر آزاد زندگی سے خوش نظر آتی ہے۔ کہیں عورت طلاق سے خوفزدہ ہے اور طلاق کے ڈر سے بہت کچھ برداشت کر جاتی ہے اور کہیں طلاق یافتہ ہونے پر اطمینان کا اظہار کرتی ہے۔ ایک عورت حقوقِ نسواں کی آواز اٹھاتی ہے تو دوسری اسی کے مقابل چادر اور چار دیواری کی بات کرتی ہے۔ ایک نے بیواؤں کا سہارا بننے کی بات کی تو ایک نے اس لیے شادی سے انکار کیا کہ وہ کسی کی سوتن بننے پر آمادہ نہیں۔ اپنی بیٹی کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی جب ساس کے روپ میں آتی ہے تو عورت کا معنی ہی بھول جاتی ہے۔

    شاعر نے کیا خوب کہا تھا
    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

    اسی ایک مصرعہ پر غور کر لیا جائے تو صنف نازک کے تمام مسائل حل ہو جائیں۔ ذرا غور کیجئے ایک مصور کمال مہارت سے کینوس پر ایک تصویر بناتا ہے اور پھر اس میں کئی طرح کے رنگ بھر دیتا ہے۔ رنگوں کا یہ امتزاج اس تصویر کی خوبصورتی کئی گنا بڑھا دیتا ہے مگر ذرا تصور کیجیے اگر ان رنگوں کے استعمال میں توازن و تناسب کا لحاظ نہ رکھا گیا ہو تو یہ تصویر دیکھنے والے کو کیسی لگے گی؟ کیا دیکھنے والا اس تصویر کے محاسن پر نظر کرے گا یا رنگوں کے عدم تناسب پر؟؟؟

    خوب جان لیجیے یہی راز زندگانی ہے۔ اضداد کسی مسئلہ کا حل ہے اور نہ ہر جگہ جچتا ہے۔ اس کے بر عکس امتزاج ہر ایک کو بھاتا ہے اور دیکھنے میں دلکش معلوم ہوتا ہے۔ تو زندگی میں رنگ بھریے مگر حسین امتزاج میں نہ کے غیر متناسب اضداد میں۔

    عورت
    حافظہ قندیل تبسم

  • وزیراعظم کی ٹائیگرفورس —از–طلحہ فیصل

    وزیراعظم کی ٹائیگرفورس —از–طلحہ فیصل

    #خان_صاحب
    ریلیف ٹائیگر فورس بنانے کی ضرورت نہیں
    بلکہ وہ پہلے سے موجود ہے

    زرا ٹہریے
    توڑا نہیں پورا سوچیے
    کیا کرونا سے پہلے قوم پر کبھی مشکل وقت نہیں آیا

    کیا اس بیماری سے پہلے کبھی ملک کسی آفت کی زد میں نہیں مبتلا ہوا
    یقیناً آپکو معلوم ہوگا

    لیکن میں پھر بھی آپ کو یاد دہانی کرواتا ہوں
    2005 میں خوفناک زلزلہ آیا وطن عزیز میں

    اسکے بعد خودکش حملوں کی آفت آئی میرے ملک میں
    پھر 2010 سے لیکر تقریباً 2017 تک ملک میں سیلاب آتے رہے

    بلوچستان کے علاقے میں قحط اور پانی کی قلت آئی
    اور ملک کے دیگر حصوں میں حادثات ہوتے رہے ہیں

    کیا اس عرصے کے دوران اتنی بڑی بڑی مشکلات اور آفات کے وقت
    زلزلوں میں ریلیف کھانہ اور خیمہ بستیاں

    سیلابوں میں بہتے لوگوں کو نکالنا
    قحط اور پانی کی قلت میں زندگی سے مایوس ہوتے لوگوں کا سہارا بننا

    اور دھماکوں میں گرتے ہوئے لوگوں کو ہسپتالوں تک پہچاننا
    اور ان مشکلات میں راشن بستر میڈیکل کیمپنگ کرنا
    یہ کون لوگ کرتے رہے

    اور وہ لوگ آج کہاں ہیں
    جن کی خدمات کا اعتراف عالمی میڈیا نے کیا

    اور جن کے بارے ملکی اور غیر ملکی این جی اوز نے یہ بات کہی کہ یہ لوگ وہاں تک خدمت خلق کا کام کرنے پہنچ گئے
    جہاں تک حکومتی مشینری بھی ناں پہنچ سکی
    تو وزیر اعظم صاحب میں آپکو آپ کا ہمدرد ہونے کے زریعے مشورہ دیتا ہوں

    کہ ٹائیگر فورس بنانے کے حوالے سے آپکا فیصلہ بہت قابل تعریف ہے
    مگر نئے سرے سے ایک فورس بنانے اور ان کی ٹرینگ کے سلسلے پر اخراجات کرنے کی بجائے
    ان لوگوں کو منظر عام پر لائیں ان پر پابندیاں ختم کر دیں

    کیونکہ کہ یہ لوگ اپنے ہم وطنوں کی خدمت کا صرف جذبہ ہی نہیں بلکے تجربہ بھی رکھتے ہیں
    اور تجربہ بھی ایسا کہ یہ ملک کو ایک لمبا عرصہ بغیر کسی حکومتی تعاون کے ریلیف دیتے رہیں ہیں

    انکے پاس ڈاکٹرز ہیں ایمبولنسیں ہیں رضا کار لوگ ہیں اور جذبہ حب الوطنی اور خدمت انسانیت کا ولولہ ہے
    ان کو فرنٹ لائن پر لانے سے ملکی معیشت کو بھی سہارا ملے گا
    اور اس کے ساتھ عوام کو بھی انکے ہمدرد مل جائیں گے

    جن کے چہرے دیکھنے کے لئے لوگ ترس گئے ہیں
    اور لوگوں نے سوشل میڈیا پر آپکی ٹائیگر فورس کی جگہ ان پر پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ بھی شروع کر دیا ہے

    خان صاحب آپکو بھی چاہیے کہ اس مشکل گھڑی میں ملک وقوم کے ہمدرد لوگوں کو اپنی ٹائیگر فورس بنا کر ان کے تجربات سے فائدہ حاصل کرو
    رہی بات دنیا کیا کہے گی دنیا تو انکو نان اسٹیٹ ایکٹر کہتی ہے

    تو آپ اس بات کی فکر ناں کریں کیونکہ دنیا ہمیشہ اپنا مفاد دیکھتی ہے
    اگر امریکہ اپنے مفاد کے لئے طالبان سے ساز باز کر سکتا ہے

    تو آپ بھی اس ملک وقوم کے مفاد کیلئے ان لوگوں کو آزاد کریں اور اپنی عوام کا سہارا بننے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی دعائیں بھی سمیٹیں
    اللہ آپکا حامی وناصر ہو آمین

    آپکا محب وطن شہری
    #طلحہ_فیصل

  • کرونا، لاک ڈاؤن اور تعلیمی ادارے۔۔!!! تحریر: خواجہ رضوان احمد کشمیری

    کرونا، لاک ڈاؤن اور تعلیمی ادارے۔۔!!! تحریر: خواجہ رضوان احمد کشمیری

    لاک ڈاؤن کی وجہ سے آزاد کشمیر کا وہ طبقہ جو دن بھر کی کمائی کے بعد رات کا راشن لے کر اپنے بیوی بچوں کے پاس جاتا تھا، جن میں دیہاڑی دار مزدور، مستری، ٹھیلے اور ریڑھی لگانے والے غریب، اور سب سے بڑی تعداد دکاندار حضرات کی ھے، اسکے علاوہ وہ لوگ جو دیار غیر سے یہاں چھٹی آئے اور یہاں پھنس کر رہ گئے جو کہ اپنی فیملیز کے اکیلے سورس آف انکم ھیں، جن میں راقم بھی شامل ھے۔

    جیسا کہ سب کو معلوم ھے کہ چند اقسام کی دکانوں کے علاوہ باقی تمام کاروبار اور کام مکمل طور پر بند کر دئیے گئے ھیں، جس سے کہ یہ تمام طبقوں کے سفید پوش لوگ شدید تر متاثر ھو رھے ھیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ معاملہ کافی سنگینی اختیار کرتا جائیگا۔

    اس تمام معاملہ سے قطع نظر یہ حقیقت ھیکہ آزاد کشمیر میں تعلیم کی شرح پاکستان سے بھی زیادہ ھے، سب جانتے ھیں کہ ایک معصوم غریب مزدور باپ بھی اپنی اولاد کو اچھی تعلیم دینا اپنا اولین فرض سمجھتا ھے چاھے وہ بیٹا ھو یا بیٹی، اور آجکل تعلیم، شائد روزگار یعنی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے بچھانے، سب سے مہنگا بوجھ بن چکا ھے، (اسکی وجوھات و اسباب یہاں لکھنا تحریر کے اصل مقصد سے دوری کا سبب بن جائیگا، اسلئیے فی الوقت اسکو موقوف کرنا بہتر ھے۔

    تعلیمی اداروں کو پہلے 5 اپریل تک بند کر دینے کا اعلان کیا گیا جسے کہ اب غالبا مئی کے اختتام تک بند کرنیکا حکم صادر کر دیا گیا ھے، یہ حکومت وقت کا بہت اچھا اور احسن عمل ھے کیونکہ باقی لوگوں کی نسبت بوڑھے عورتیں اور چھوٹے بچے بیماریوں کے گھیرے میں جلد آ جاتے ھیں، کیونکہ انکا ایمیون سسٹم، انکا جسمانی ڈیفینس میکینزم، یعنی کسی بھی بیماری کے خلاف لڑنے کی طاقت ان میں بقدر کم ھوتی ھے، اور اس پر یہ کہ چھوٹے معصوم بچوں کو اسکولوں میں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق سنبھال کر چلانا بھی ایک سعی لا حاصل ھے، جسکی بہت سی وجوھات ھیں، جن میں سہولیات اور وسائل کا فقدان قابل ذکر ھیں۔
    اسلئیے وقت کا تقاضا اور مصلحت اسی میں مضمر ھیکہ ھر ایک فرد انفرادی طور پر "کرونا وائرس” covid-19، نامی آفت سے بچاؤ بھی کرے، تمام احتیاطی تدابیر خود بھی اختیار کرے اور اہنے حلقہ احباب میں بھی اسکی آگاھی کو یقینی بنائے۔

    اپنی تحریر کے اصل مدعا کو پیش نظر رکھتا ھوں کہ، اسکولوں اور باقی تعلیمی اداروں کی بندش کے بعد جہاں جہاں ممکن تھا تعلیمی اداروں، یونیورسٹیز و کچھ دینی درسگاھوں میں بھی اپنے شاگردوں کو آن لائن یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے مستفید کیا گیا اور کیا جا رھا ھے، جو کہ بہت ھی اچھی بات ھے، اور یہ سلسلہ جاری بھی رھنا چاھئیے۔۔۔
    مگر آج ایک بھائی سے انفارمیشن ملی کہ کچھ پرائیویٹ سکولز بھی چھوٹے بچوں، یعنی پلے گروپ، نرسری، پریپ یا اس سے بڑی کلاسز کے بچوں کو آن لائن سبق دینے کا سلسلہ شروع کرنا چاھتے ھیں، ساتھ ھی ساتھ والدین کو اسکول کی ماھانہ فیسز کی ادائیگی اور لیٹ ھونیکی صورت میں لیٹ فیس جمع کروانے کے حکم نامے بھی جاری کئیے جا رھے ھیں۔۔۔!

    پہلی بات تو یہ کہ کشمیر میں نہ ھی انٹرنیٹ اس معیار کا ھیکہ ھر کوئی اسکے ذریعے ایسا کام جاری رکھ پائے اور نہ ھی عام عوام کے پاس ایسی سہولت موجود ھوتی ھے کہ وہ آن لائین چھوٹے بچوں کے لئیے ایسی سہولت کا انتطام کرپائیں۔ ایک عام دیہاڑی دار مزدور کے لئیے ایسی باتیں کوہ قاف کی کہانیوں سے زیادہ کچھ معنی نہیں رکھتیں، اور دوسری بات کہ اس لیول کے بچوں کو اگر کوئی پرائیویٹ اسکولز آن لائن کلاسز کے لئیے کہیں تو یہ منطق بھی فہم سے بالاتر ھے، اور اگر ایسا اسلئیے کرنا مقصود ھیکہ اس تمام لاک ڈاؤن کے عرصے میں بند اسکولوں کے باوجود اور بند کاروباروں کے باوجود غریب والدین سے ماھانہ بڑی بڑی فیسز لینے کے سلسلے کو جاری رکھا جائے تو ہھر یہ علم کی اشاعت نہیں محض کاروبار ھی کہلائیگا۔

    عوام الناس میں اسوقت ایک طرف تو موجودہ حالات کو لے کر خوف کا عنصر پایا جاتا ھے، جو کہ ایک فطری ردعمل ھے اور دوسری بڑی تلوار اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کی سوچ کی صورت میں انکے سروں پر لٹک رھی ھے، کہ اگر یہ بندش کچھ عرصہ تک مسلسل رھی تو ایک عام آدمی اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ کیسے پالے گا، اس سوچ کو شائد آپ میں سے ھر ایک قاری ھی باآسانی سمجھ لے گا کیونکہ ھر ایک کے قرب و جوار میں ایسے سفید پوش لوگ لازم موجود ھوتے ھیں، بلکہ یہ پریشانی تو مڈل کلاس طبقے کو بھی لاحق ھے، جو کہ ھمارے بشمول معاشرے کا 95% طبقہ ھے۔ اور ان تمام بنیادی کھانے پینے اوڑھنے کے اخراجات میں شامل بند اسکولوں کی فیسز کی ادائیگی بھی ان تمام غریب عوام کے لئیے سولی پر لٹکنے سے کم نہیں، یہ تمام باتیں میں کافی لوگوں سے اس موضوع پر مکالموں کے بعد تحریر کر رھا، جن میں کچھ لوگوں کا خیال تو یہ ھے کہ بند کام و کاروبار کے دوران ھم اتنے اخراجات کسی طور نہیں اٹھا سکتے اسلئیے اہنے بچوں کو ھی اسکولوں سے ھٹا دیں۔

    میں بہت سوچنے کے بعد اور بہت درد میں یہ تحریر لکھ رھا ھوں اپنے ان تمام غیور ھم وطنوں کی طرف سے جو خود جسم پر پھٹا کپڑا پہنتے ھیں لیکن اپنے بچوں بچیوں کو نئے اسکول بیگز اور یونیفارمز دلانے میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں کرتے، اللہ سب کے حالات پر رحم کا معاملہ فرمائیں اور سب پر اپنا خاص کرم فرمائیں۔

    میری ان تمام والدین کی طرف سے یہ استدعا اور اپیل ھیکہ جب تک یہ لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رھیگا اور جب تک لوگ اپنے معمول کے کام کاج اور روزگار پر دوبارہ سے رواں نہیں ھو جاتے، یہ بند اسکولوں کی فیسز کی ادائیگی کو روکا جائے، اور پرائیویٹ اداروں سے بھی گزارش ھیکہ جہاں سارا سال اور ھمیشہ یہی عوام اپنے بچوں کے درخشاں مستقبل کو لے کر آپکے ساتھ تعاون کرتے ھیں وھاں آپ بھی اس مشکل وقت میں اپنے لوگوں کے ساتھ تعاون کریں اور کم از کم جب تک یہ عارضی لاک ڈاؤن ختم ھو کر سب معمول پر نہیں آ جاتا، تب تک خدارا غریب والدین کی گردنوں ہر اسکول فیسز کے نام ہر چھریاں نہ ہھیری جائیں۔۔۔
    اسکول، کالجز، اساتذہ کسی بھی قوم کے بچوں اور حتی کے والدین کے لئیے بھی رول ماڈل ھوتے ھیں، لہذا تمام طرح کی مادیت پرست سوچوں سے نکل کر آگے بڑھ کر بھلائی اور اسلامی بھائی چارے کا مظاھرہ کریں اور غریب والدین کو کم از کم بند اداروں کے دوران کی فیسز کے جال سے آزاد کریں، ھماری حکومت وقت سے بھی گزارش ھیکہ وہ بھی اس پر عملدرامد کروائے، تاکہ لوگ ریاستی ھم آھنگی میں جڑ کر مل کر ناگہانی آفات کا مقابلہ کریں۔۔۔ !!!
    اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر ھو، سب کو رزق حلال عطا فرمائے اور سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

  • ماسک ضرور پہنیں مگرکب ، کون سا اورکیسے پہنیں —از—علامہ علی شیر حیدری

    ماسک ضرور پہنیں مگرکب ، کون سا اورکیسے پہنیں —از—علامہ علی شیر حیدری

    بسم اللہ الرحمن الرحیم ، بندگان الہٰی کے نام میرا پیغام

    ضروری ایام میں مستعمل ماسک سے اہم سبق !

    حالیہ بیماری سے بچاو کے لیے چند احتیاطی تدابیرمیں سے ماسک اوردستانوں کے کثرت استعمال پرمیرے ذہن میں‌ایک خیال ابھرا کہ اس مصنوعی ماسک سے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہمارے ذہنوں پرپیغام الہٰی بن کردستک دے رہا ہے ، کہ موجودہ حالات میں ایک طبیب کے مشورے پرملک بھر میں ہردوسرے شخص نے کہا ہے جسمانی بیماری سے بچنے کے لیے ماسک پہن رکھا ہے

    اللہ کرے اس مصنوعی ماسک کی جگہ ہر ابن آدم وہ تقویٰ وخشیت الہٰی سے لبریز روحانی ماسک پہن لے تو رب تعالیٰ اپنی زمین پربسنے والے تمام بندوں کی بیماریاں شفا میں بدل دے ، مشکلات آسانیوں میں ، سختیاں نرمیوں میں ،زحمتیں رحمتوں میں تبدیل فرمادے گا ، اورہمیشہ ہمیش کے لیے بندوں سے راضی ہوجائے گا ، اوربند کیئے جانے والے اپنے تمام دربندوں کے لیے کھول دے گا

    قارئین کرام !،اختصار کے ساتھ زمین پرآباد انسانوں کے تمام طبقات کے ذمہ داران کواس حقیقی روحانی ماسک پہننے کی طرف توجہ دلانے لگا ہوں ،

    اللہ کرے !ایک گھر کا مسئول باپ ، مساوات کا ماسک پہن لے تاکہ اولاد میں کسی سے زیادتی نہ کرپائے

    اللہ کرے ! ایک گاوں کا نمبردار ہمدردی کا ماسک پہن لے تاکہ پورے گاوں میں کسی فرد کو دکھ نہ آنے پائے

    اللہ کرے ! ایک تھانیدارہوش کا ماسک پہن لے تاکہ پورے علاقے میں کہیں بھی اندھیرنگری نہ ہونے پائے

    اللہ کرے ! ایک وکیل سجائی کا ماسک پہن لے تاکہ کسی جھوٹے شخص کے مقدمے کوسچا اورسچے کو جھوٹا نہ ثابت کرپائے

    اللہ کرے ! ایک جج منصف عدل کا ماسک پہن لے تاکہ مظلوم کو اس کا حق دلوانے میں دیدہ دلیری دکھائے

    اللہ کرے !ایک وزیراپنے منصب کا صیح ماسک پہن لے تاکہ اپنے اہداف کوحقیقیت میں پورا کرپائے

    اللہ کرے ! ایک وزیراعظم اپنی قوم کے جزبات کی ترجمانی کا ماسک پہن لے تاکہ قوم کے خیالات کو پایہ تکمیل تک پہنچائے

    اللہ کرے ایک صدرمملکت اپنی صدارت کا حقیقی ماسک پہن لے تاکہ وطن عزیز کی نگہبانی کا حق اداکرپائے

     حضرات گرامی قارئین کرام

    اب آئیے ایک دوسرے طبقے کے ذمہ داران کیطرف

    اللہ کرے ! ایک تاجرسچائی اورایمانداری کا ماسک پہن لے تاکہ خریدارکوملاوٹ سے پاک اشیامل سکیں
    اللہ کرے ! ایک ڈاکٹراحساس ،خلوص،اخلاق اورشفقت کا ماسک پہن لے تاکہ مریضوں کودوا کے ساتھ دعا بھی مل سکے اورشفا بھی
    اللہ کرے ! ایک افسر اپنی کرسی کے تقاضوں کا ماسک پہن لے تاکہ سائلین کی داد رسی ہوسکے
    اللہ کرے !ایک صحافی دیانتداری کا ماسک پہن لے تاکہ کسی دنیا کوباخبررکھنے کےلیے حقائق بیان کرسکے ، غریبوں اورامیروں کے بلاامتیازمسائل ،مصائب دنیا تک پہنچا سکے
    اللہ کرے !ایک ادیب ادب کا حقیقی ماسک پہن لے تاکہ اس کے قلم میں کہیں جنبش نہ آنےپائے
    اللہ کرے ! ایک مفسّرفلسفہ وحی کا ماسک پہن لے تاکہ کہیں بھی آیات الہٰی کی تفسیرمیں تحریف وتاویل نہ کرپائے
    اللہ کرے !ایک سنار(زرگر) خوف خدا کا ماسک پہن لے تاکہ کھرے اورکھوٹے کو یکجا کرکے فروخت نہ کرپائے
    اللہ کرے !ایک دوکاندار خشیت الہٰی کا ماسک پہن لے تاکہ ناپ تول میں کمی بیشی نہ کرنے پائے
    اللہ کرے !ایک استاد فرائض منصبی کا ماسک پہن لے تاکہ نفع مند علم سے اپنے شاگردوں کو بہرہ مند فرما سکے ، اورپڑھنے والے طلباء کی حق تلفی نہ کرنے پائے
    اللہ کرے !ایک ظالم رحمدلی کاماسک پہن لے تاکہ کسی مظلوم کا گلہ نہ گھونٹنے پائے
    اللہ کرے !ایک قاتل احیائے انسانیت کا ماسک پہن لے تاکہ ناحق کسی کے جینے کا حق نہ چھین پائے
    اللہ کرے !ایک چوکیداراپنے مالک سے وفاداری کا ماسک پہن لے تاکہ کوئی چور،ڈاکونقب نہ لگا سکے
    اللہ کرے !ایک سربراہ ادارہ محبت وشفقت کا ماسک پہن لے تاکہ اپنے ماتحت کام کرنے والوں میں جانب داری اوارزیادتی کا مرتکب نہ ہونےپائے
    اللہ کرے !ایک بنت آدم حقیقی حجاب کا ماسک پہن لے تاکہ کوئی بدقماش میرا جسم میری مرضی کہنے کی جسارت نہ کرپائے

    قصہ مختصر

    اللہ کرے !ایک بدعتی سنت رسول کا ماسک پہن لے تاکہ مسنون اعمال میں بدعت کی ملاوٹ نہ کرپائے
    اللہ کرے !ایک مشرک توحید الٰہی کا ماسک پہن لے تاکہ رب کی زمین پرکسی دوسرے کو اللہ کا شریک نہ کرپائے
    اللہ کرے !ایک بے دین دین اسلام کا حقیقی ماسک پہن لے تاکہ وہ دنیا کی محبت کوترک کرکے جنت کا ر اہی بن جائے
    اللہ کرے !ایک پاکستانی کلمہ طیبہ کا حقیقی ماسک اوڑھ لے تاکہ قیام پاکستان کی آزادی جس کا نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ اب آزادی کےتقاضے پورے کرپائے
    اللہ کرے !ایک مسلم حرم کی پاسبانی کا حقیقی ماسک پہن لے تاکہ تحفظ حرمین شریفین کا حق اداکرپائے
    آخر میں درخواست گزار ہوں‌وطن عزیز کی ذمہ دار انتظامیہ سے

    کہ سود،عریانی ، فحاشی ،شراب نوشی ، رشوت خوری سمیت تمام گناہ کے اڈے بند کردیں‌ تاکہ کرونا وائرس سمیت تمام آفات سے اللہ پاک ہمیں‌نجات نصیب فرمائے
    اگر ہم نے اللہ سے کئے گئے وعدے پورے کردیئے تواللہ اپنے وعدے ضرور پورے کرے گا اوراللہ کبھی بھی اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا،اللہ ہمیں معاف بھی فرمائیں گے ، ہماری مدد بھی فرمائیں گے اورمشکلات سے نکال کرآسانیاں پیدا فرمائیں گے ،

    ماسک ضرور پہنیں مگرکب ، کون سا اورکیسے پہنیں ؟

    تحریر : علامہ علی شیر حیدری

  • برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کے حوالے سے قائم ” کل جماعتی پارلیمانی گروپ” کی طرف سے کشمیر پر بحث کرونا کی نظر ہو گئی

    برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کے حوالے سے قائم ” کل جماعتی پارلیمانی گروپ” کی طرف سے کشمیر پر بحث کرونا کی نظر ہو گئی

    لندن:برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کے حوالے سے قائم ” کل جماعتی پارلیمانی گروپ” کی طرف سے کشمیر پر بحث کرونا کی نظر ہو گئی،اطلاعات کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کے حوالے سے قائم ” کل جماعتی پارلیمانی گروپ” کی طرف سے کشمیر پر بحث ملتوی کر دی گئی ہے۔

    پارلیمنٹ نے گروپ کی چیئرپرسن ڈیبی ابراہیم کی طرف سے پیش کی گئی تحریک منظور کرتے ہوئے اس پر بحث کیلئے 26مارچ کی تاریخ مقرر کی تھی ۔

    پارلیمنٹری کشمیر گروپ کی چیئرپرسن ایم پی ڈیبی ابراھم اور جموں و کشمیر بین الاقوامی تحریک حق خود ارادیت کے سربراہ راجہ نجابت حسین نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ برطانوی پارلیمنٹ کورونا وائرس کے باعث 21اپریل تک بند کر دی گئی ہے جس وجہ سے یہ بحث بھی ملتوی ہو گئی ہے۔

    برطانوی پارلیمنٹ میں اس سے قبل بھی تین مرتبہ کشمیر کے حوالے سے بحث ہو چکی ہے جن میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے پر زور دیا گیا ۔

  • محبت کا جنون اور اس کا علاج—از—عبیدالرحمن عابد

    محبت کا جنون اور اس کا علاج—از—عبیدالرحمن عابد

    اسلام عفت و پاکبازی، طہارت اور صفائی کا دین ہے۔ وہ ایسا معاشرہ تشکیل دینے کا خواہش مند ہے جس میں عفت و پاکبازی کی حکمرانی اور طہارت و نظافت کی فضا ہو۔ اسلام پاکیزہ معاشرہ تشکیل دے کر اخلاق کو جذبات وشہوات سے محفوظ رکھتا ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ جذبات کو کھلا چھوڑ دینے اور جنسی آزادی کا لازمی نتیجہ اخلاق کی تباہی اور امتوں کی ہلاکت و بربادی ہے۔

    اس لیے اسلام معاشرے میں صالح قوت اور بقا کے عناصر قائم رکھنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے ایسے قوانین وضع کرتا ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں تاکہ مسلمان بے راہ روی کی زندگی کا شکار نہ بن جائیں اور جسم و روح کے تقاضوں میں تناقض پیدا کر دے۔

    یقیناً اسلام نے انسانی طبیعت کے لیے ایسے ضابطے مقرر کئے ہیں جو اس کی فطرت کے عین مطابق ہیں۔ جن میں جسمانی اور روحانی ضروریات کا پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔ اس لیے اسلام کا طریقہ کار دیگر مذاہب و ادیان سے منفرد ہے۔

    اسلام سے زندگی بہترین انداز میں منظم ہوتی ہے۔اور انسانیت گمراہیوں کی تباہ کاریوں سے بھی محفوظ رہتی ہے۔ محبت انسان کی فطری عادات میں سے انتہائی قوی اور اثرانگریز عادت ہے جس کے اثرات انسانی زندگی میں بہت دور رس ہیں۔

    یہاں جس محبت کی بحث مقصود ہے اس کو جذباتی عشق یا چہرے کی محبت کہا جاتا ہے۔اسلام اس قسم کی محبت کا یکسر انکار نہیں کرتا کیونکہ بہرحال یہ ایک واقعاتی حقیقت ہے لیکن وہ اس کے لیےحدود وقیود مقرر کرتا ہے جسے عرف عام میں نکاح کہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جذباتی محبت کو حقیقی واقعہ کے طور پر لیا۔

    ایک لونڈی کا غلام شوہر اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا تھا لیکن لونڈی اسے پسند نہیں کرتی تھی،غلام اس لونڈی کو اپنے نکاح میں رکھنا چاہتا تھا اور اس کے پیچھے روتا پھر رہا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے اسے غمگین اور پریشان دیکھ کر اس بےچارے کی سفارش کی اس واقعہ کی تفصیل حضرت ابن عباس یوں بیان کرتے ہیں کہ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا کا خاوند غلام تھا اس کا نام مغیث رضی اللہ عنہ تھا وہ حضرت بریرہ کی آزادی کے بعد اس کے پیچھے مدینہ کی گلیوں میں گھومتا پھرتا تھا اسکے آنسو داڑھی پر بہہ رہے تھے حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا
     ‏يَا ‏‏عَبَّاسُ ‏، أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ ‏ ‏مُغِيثٍ ‏ ‏بَرِيرَةَ ‏، ‏وَمِنْ بُغْضِ ‏ ‏بَرِيرَةَ ‏ ‏مُغِيثًا ‏. ‏فَقَالَ النَّبِيُّ ‏ ‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏لبريرة:( ‏لَوْ رَاجَعْتِهِ ! قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ: إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ ، قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ ‏) .
    اے عباس کیا تم مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کے مغیث سے بغض پر تعجب نہیں کرتا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش کے تو اس سے رجوع کر لیتی اس نے کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے حکم دے رہے ہیں آپ نے فرمایا میں تو سفارش کر رہا ہوں تو اس نے کہا مجھے اس میں کوئی حاجت نہیں ہے۔ (بخآری: ٥٢٨٣)

    اہل علم نے نے اس سے استدلال کیا ہے کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جذبات محبت کو برا نہیں سمجھا بلکہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو مغیث کے عقد میں رہنے کا مشورہ دیا ۔
    انسان بےروح اور بے بدن نہیں ہے، اس کے ساتھ ساتھ عقل مصروفیت کی وجہ سے تمام مخلوقات سے ممتاز ہے، اس لئے انسان دیگر تمام مخلوقات سے زیادہ احترام کا مستحق ہے۔

    انسان کے بدن میں بہت سے فطری سے جذبات و احساسات ہوتے ہیں ،انکی بنیاد پر انسانی شخصیت بنتی ہے۔ان جذبات میں سب سے اہم فطری چیز محبت ہے جس کے بہت سے عوامل و اسباب ہیں۔زندگی میں جائز وحلال محبت کی زبردست اہمیت ہے اور اس کا اثر نہایت عظیم ہے جبکہ ناجائز وحرام محبت آدمی کی دنیا خراب کر کے آخرت کو بھی تباہ کر دیتی ہے کیونکہ وہ اس کو پروردگار عالم کی عبادت سے غافل اور اس کے دینی فرائض سے بہت دور لے جاتی ہے۔آدمی اللہ تعالی کی حقیقی محبت کے ذریعے چہرے کے عشق کی لعنت سے اپنے آپ کو بچاسکتا ہے۔

    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    انسان کسی محبوب چیز کو نہیں چھوڑ سکتا مگر اس سے زیادہ محبوب چیز کے ذریعے سے سے یا کسی شدید اذیت کے ڈر سے پس دل کو ناجائز محبت سے محفوظ رکھنے کے لئے صحیح محبت یا اللہ تعالی کی طرف سے شدید پکڑ کا ڈر اور خوف مدنظر رکھنا چاہیے۔( العبودية ابن تيمية:42,43)

    ناجائز محبت کے خاتمے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے آپ کو اطاعت الہی کا عادی بنائے، اپنا دل فاسد محبوب کی تمنائے وصال سے خالی کر دے۔ اس طرح غلطی اور گناہ سے بچ جائے گا اور تکلیف و نقصان سے بھی محفوظ رہے گا ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ محبوب چیزیں تکالیف برداشت کیے بغیر نہیں حاصل ہوسکتیں۔ چاہے محبت صحیح ہو یا غلط، مال ، سرداری اور خوبصورتی سے محبت کرنے والے اپنا نقصان کئے بغیر اپنا مطلوب حاصل نہیں کر سکتے۔

    ناجائز جذباتی حمیت(عشق) کے دینی و معاشرتی نتائج
    جذباتی محبت کا سب سے برا نتیجہ یہ ہے کہ کہ اس سے انسان کی توجہ اللہ تعالی کی ذات عالی سے ہٹ جاتی ہے اور مخلوقات ہی اس کا محور اور مرکز بن کر رہ جاتے ہیں۔

    امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: شکل و صورت کا عشق انہیں چہروں میں جاگزیں ہوتا ہے جو اللہ تعالی کی محبت سے خالی ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالی سے سے اعراض کرتے ہوئے اِدھر اُدھر منہ مارتے پھرتے ہیں۔ جب کوئی دل اللہ تعالی کی محبت اور اس کی ملاقات کے شوق سے بھر جاتا ہے تو اسے کسی صورت کے عشق کی بیماری نہیں لگتی جیساکہ اللہ تعالی نے حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
    كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ ۚ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ .(يوسف :٢٣)

    اسی طرح ہوا تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی کو ہٹا دیں۔بےشک وہ ہمارے خالص کیے ہوئے بندوں سے تھا۔
    اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عشق اور اس کے نتائج گناہ اور بے حیائی کو دور کرنے کا ذریعہ اخلاص ہے۔

    بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ عشق اس دل کی بیماری ہے جو اپنے اصلی محبّ کی یعنی اللہ تعالی کے جمال بے مثال سے خالی ہے۔(زادالمعاد 151/3)
    ناجائز محبت در حقیقت دل کی بیماری ہے جسے اللہ تعالی کی خالص محبت سے دور کیا جاسکتا ہے، اسی طرح اللہ تعالی کی عبادت اس کے احکام کی پابندی اور اس کی ہمہ وقت یاد اس بیماری کے خاتمے کا موثر ذریعہ ہے۔
    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس بیماری کا سب سے بڑا سبب دل کا اللہ تعالی سے غافل ہونا ہے کیونکہ دل جب اللہ تعالی کی عبادت کا مزہ چکھ لے تو اسے کوئی چیز اس سے بڑھ کر لذت بخش محسوس نہیں ہوتی۔(العبودیہ لابن تیمیہ صفحہ:42)

    پھر یہ عشق صرف ایک شخص ہی کے لیے بدبختی اور مصیبت کا باعث نہیں بنتا تھا بلکہ اس کا اثر پورے معاشرے میں پھیل جاتا ہے کیونکہ اس قسم کی محبت معاشرے میں بداخلاقی، بدکرداری اور حیوانیت کو جنم دیتی ہے۔ پس صحیح محبت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس مقصد سے ہم آہنگ ہو جو انسانی تخلیق کی بنیاد ہے۔ اگر جذبہ محبت صرف طبیعت اور شہوت کے زور پر پروان چڑھے گا تو انسان انسانیت کے درجہ سے گر کر حیوانات کی طبیعت کے قریب تر ہو جائے گا، جبکہ اللہ تعالی نے انسان کو انسان بنا کر عزت بخشی ہے۔

    عشق ( جذباتی محبت ) کا صحیح رخ :
    اگر محبت انسانی زندگی میں اس قدر وسیع اثرات رکھتی ہے تو ضروری ہے کہ اس کا علاج کرکے اسے صحیح رخ پر ڈال دیا جائے اور اس روحانی علاج کی بنیاد درحقیقت ان امور کی اصلاح ہے جن سے محبت کے جذبے پیدا ہوتے ہیں ان امور کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    1) محبوب کی شخصیت سے مرعوب ہونا جس کی وجہ سے محبوب کو کمال انسانی کا مجسمہ سمجھتا ہے۔
    2) دوستی برقرار رکھنے کی امید۔
    3) محبّ اور محبوب کے باہمی راز کا انکشاف۔
    4) محبّ یہ سمجھتا ہے کہ میری ساری خوش نصیبی محبوب سے تعلق قائم ہونے پر موقوف ہے۔
    پہلے امر کا مقابلہ اس طرح کیا جائے کہ محبت کرنے والے کے سامنے اس کے محبوب کے عیوب و نقائص اس طرح بیان کیا جائے کہ اس کے ذہن نشین ہو جائیں۔

    دوسرے امر کا مقابلہ اس طرح کیا جائے کہ اس کو جس چیز کی امید ہے اس سے مایوس کر دیا جائے کیونکہ شرعی لحاظ سے ایسے تعلقات قائم نہیں رکھے جا سکتے۔
    تیسرے عنصر سے مقابلے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کے باہمی راز دور کرکے لوگوں کے سامنے فاش کر دیے جائیں۔ آخری چیز کے تدارک کی تدبیر یہ ہے کہ ان نقصانات کو اجاگر نہ کیا جائے جو اس دوستی کے نتیجہ میں لامحالہ پیدا ہوں گے آگے والا بےچینی ،عقل کی ویرانی، ذہنی خلجان، دلی تکلیف، اور آرام و راحت سے محرومی وغیرہ۔باقی رہا عاشق کا یہ سمجھنا کہ میری ساری خوش نصیبی محبوب سے تعلقات استوار ہونے میں ہے تو اس کا موثر حل یہ ہے کہ اس کا فوری طور پر کسی نیک مسلمان عورت سے نکاح کر دیا جائے تو مناسب ہوگا کہ یہ عورت ایسی پرکشش خوبصورتی کی حامل ہو کہ پہلی عورت اس کی نظر میں ماند پڑ جائے۔

    امام ابن قیم رحمہ اللہ نے عشق کو قابل علاج مرض قرار دیا ہے، ان کے نزدیک اس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔
    1) اگر شرعی طور پر عشق وصالِ محبوب مہیا کیا جا سکتاتو اس کا مہیا ہو جانا ہی اس کا علاج ہے جیسا کہ بخاری میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا۔
    يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ؛ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ. ( بخاری :کتاب النکاح : 5065)
    اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو بھی نکاح کی استطاعت کی طاقت رکھیں تو لازمی ہے کہ وہ شادی کریں اور جو استطاعت نہیں رکھتا تو اس پر لازمی ہے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ یہ اس کی شہوت کو توڑنے والا ہے۔
    گویا رسول اللہ نے محبت والے کے لئے دو علاج تجویز فرمائے ہیں ایک اصل اور دوسرا متبادل۔

    آپ نے اصل علاج کا حکم دیا ہے جو اصل بیماری کی شفا ہے پس جب تک ممکن ہے اس وقت تک اس میں سستی نہ کی جائے۔
    2) محبوب کا وصال شرعاً ناممکن ہو لیکن محبت کرنے والا اسے حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اسے بتایا جائے جس چیز کی اللہ تعالی کی طرف سے اجازت نہ ہو اسے ناممکن ہی سمجھنا چاہیے۔ انسان کی کامیابی اور اس کی بیماری کا علاج اس چیز سے دور رہنے میں ہے جس سے حق تعالیٰ نے روک دیا ،مریض محبت اپنے دل کو سمجھائے اور یقین دلائے کے اللہ رب العزت کے منع کردہ امور کی حیثیت بھی ناممکنات میں سے ہے۔

    اگر اس کا نفس امارہ نہ مانے تو اسے اس زبردست اور ناقابل تلافی نقصانات کا احساس کرنا چاہیے کہ کہ ایک ہیچ اور فانی محبوب کے لمحاتی وصال کے مقابلے میں اور انتہائی رفیع الشان حیی و القیوم محبوب حقیقی کے جمال بے مثال کی دید سے محروم ہو جائے گا، دانا آدمی جب یہ دیکھیے گا کہ وہ ایک ادنیٰ محبوب کے وصال کی وجہ سے سے ایک لا متناہی حسن و جمال اور بے پایاں عظمت والے محبوب حقیقی کو کھو دے گا تو وہ یقینا سنبھلے گا اور تھوڑی دیر کی فنا پذیر لذت کی حقیقت خواب و خیال سے زیادہ نہیں۔

    بھلا اس فعل کی لذت ہی کیا جو ختم ہوجائے مگر اس کی تھکن باقی رہے پس ایسے مریض کا فرض ہے کہ وہ پاکبازی اور صبر کا دامن نہ چھوڑے یہاں تک کہ اللہ تعالی اس کی پریشانی کا خاتمہ فرما دے یا وہ خود اپنا گوہر مقصود حاصل کر لے۔
    ارشاد باری تعالی ہے۔
    وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ( النور:33)
    اور حرام سے بہت بچیں وہ لوگ جو نکاح کا کوئی سامان نہیں پاتے، یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے۔

    بیماری عشق سے نجات پانے کا طریقہ:
    سب سے پہلے یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لیں کے اس دنیا کی زندگی آخرت کی تیاری کے لیے دی گئی ہے، اس لئے اس زندگی کا ہر لمحہ اللہ رب العزت کی اطاعت میں بسر کرنا چاہیے، اس فنا ہوجانے والی زندگی میں نیکی کے کام سرانجام دے کر آخرت میں جنت جیسی بے مثال نعمت حاصل کی جاسکتی ہے ہے۔اسے فانی چیزوں پر فدا ہونے میں برباد کرنا دیوانگی ہے، یہ دیکھ کر دل دکھتا ہے کہ اکثر نوجوان اسی دیوانگی کا شکار ہو کر جگہ جگہ خوار ہو رہے ہیں اور اپنے مستقبل کو آگ لگا رہے ہیں اس مصیبت سے چھٹکارا پانے کا طریقہ صرف یہ ہے۔

    1) معصیت کی زندگی سے سے عزم مصمم کے ساتھ توبہ کریں اور کسی نیک گھرانے میں فوراً شادی کرلیں۔ یاد رکھیں! ہماری محبت کا مرکز و منتہی صرف رب جمیل کی ذات ہے، بھلا اللہ تعالی کے جمال بے مثال سے بڑھ کر اور کسی کی خوبصورتی ہوسکتی ہے جس پر انسان فریفتہ ہو۔ بے وفا چہروں کی چمک کو دمک پر شیدا ہوجانا شرف خودداری کی توہین ہے۔

    2) جس کی محبت میں آپ مبتلا ہیں اس سے ہر قسم کا تعلق آج اور ابھی ختم کر دیں، اسے مت دیکھیں، اس کے گھر کے قریب تک نہ پھٹکیں، اسکا کسی سے تذکرہ نہ کریں اور نہ اس کا خیال دل میں لائیں، اپنے باطن میں انقلاب پیدا کریں۔ یوں بدل جائیں جیسے موسم بدل جاتا ہے

    خاک ڈال، آگ لگا، نام نہ لے، یاد نہ کر
    کہا جاسکتا ہے کہ اور تو ساری تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں لیکن یہ کیوں کر ممکن ہے کہ دل میں اس کا خیال بھی نہ آئے یقین خیال ضرور آئے گا لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں خیال آتا ہے تو آنے دیں البتہ خود قصداً اس کا خیال دل میں نہ لائیں۔ہاں جب خیال آجائے تو اسے فورا ذہن سے جھٹک کر کسی اچھے اور مفید کام میں مصروف ہو جائے خوب جم کر اس تدبیر پر عمل کرتے رہیں اور اللہ رب العزت سے نیکی کی زندگی کی توفیق مانگتے رہیں۔آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل چند ہفتے بھی نہ گزر پائیں گے کہ اس متاع فاسد کا خیال آنا بند ہوجائے گا۔

    درحقیقت اس بیماری کا اصل علاج استقامت کے ساتھ فاسد محبوب سے کلی طور پر دور رہنا ہے جتنی دور ہوگی اتنی ہی جلدی شفا نصیب ہو گی۔ ان شاءاللہ
    کسی شاعر نے کیا خوب کہا:
    طبیعت تیری زور پہ ہے تو روک
    وگرنہ یہ حد سے گزر جائے گی

    محبت کا جنون اور اس کا علاج
    عبید الرحمن عابد

  • وبا کے دوران اذانیں دینے پر  بحوث —از—سعدیہ خورشید

    وبا کے دوران اذانیں دینے پر بحوث —از—سعدیہ خورشید

    ہر طرف وبا کے دوران اذانیں دینے پر بحث چل رہی ھے۔۔۔۔ہر فریق ایک دوسرے کے خلاف بے شمار دلائل پیش کررہا ھے۔۔۔۔

    ایک فریق تو مکمل طور پر کہہ رہا ہے کہ اس دوران اذانیں دینا لازم و جائز ھے اور انکے دئیے گئے دلائل ہر طرف گردش کررہے ھیں۔۔۔
    اور دوسرا اس کے رد میں دلائل پیش کررہا ہے جن میں تحاریر کی صورت میں پہلے فریق کے دلائل کی صورت میں پیش کی گئیں روایات کی اسناد پر بے شمار بحوث ہوئی ھیں اور علماء کے آڈیو ویڈیو بیان جاری ھوئے۔۔۔

    اب آتی ھوں اصل مدعے کی طرف۔۔۔۔
    بات انتہائی سادہ اور عام فہم ہے کہ جب حضرت رسول اللہﷺ اور آثارِ صحابہ سے یہ بات بسندٍ صحیح ٍ ثابت ہی نہیں ھے۔۔۔۔۔

    سیدنا عمر فاروق رضی الله عنہ کے دور میں طاعون کی وبا پھیلی جس کی وجہ سے کثیر تعداد میں صحابہ کرام شہید ھوئے جن میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شہادت ھوئی
    لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی وباء کے دوران اذانیں دینے والے یا ایسے کسی بھی فعل کا حکم نہیں دیا

    اسکا مطلب یہی ہے کہ جو قرونِ اولیٰ کے دور میں کام نہیں ھوا وہ ظاہر سی بات ھے کہ بدعت ہے۔۔۔ اور بدعت نئی چیزوں کی ایجاد کا نام ہی تو ھے۔۔۔
    اب بعض لوگ یہ بھی کہہ رہے کہ اگر ہہ بدعت ہے تو یہ اذانیں دینے والا فعل بدعتِ حسنہ میں شمار ھورہا ھے۔۔۔

    تو عرض یہ ہے کہ کوئی بدعت، بدعت ِ حسنہ نہیں ھے ۔۔۔
    جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ میں ارشاد فرمایا کرتے تھے۔۔۔۔

    کل بدعة ضلالة وہ کل ضلالة فی النار۔۔جب یہ بات طے ہوگئی کہ یہ کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا نتیجہ آگ ہے ،اس کے بعد ھمارے پاس کوئی جواز نہیں بچتا کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ ” دیکھیں یہ کام اچھا ھے، اللہ کا ذکر بلند ھو رہا ہے ہر طرف اللہ اکبر کی صدا گونج رہی ھے، اس سے کیا مسئلہ ہو سکتا ھے۔۔۔

    بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے بھی دیکھا ہے کہ اللہ کا ذکر بلند کرو تو بھی مسئلہ،،،، نہ کرو تو بھی مسئلہ ۔۔۔ ہمارا واسطہ پاکستان کے ان جہلاء سے پڑا ہوا ھے
    جب بھی کوئی کام ہوتا ہے یہ اپنی باتیں لے کر منظر عام پر آ جاتے ھیں آگے پیچھے ان کو یاد نہیں ھوتا۔”

    تو گزارش یہ ہے کہ ہر کام کی ایک حد شریعت نے مقرر کی ہوئی ھے جب ھم ان حدود سے تجاوز کرنے کی کوشش کریں گے تو ھمارا وہ فعل جتنا بھی اچھا ھوگا جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کام پر مہر نہیں لگی ہوئی وہ کام کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔

    مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ
    ’’جس شخص نے ہمارے دین کے معاملے میں کوئی نئی بات ایجاد کی ‘ جو اس دین میں پہلے نہیں ہے تو وہ بات ( یاعمل) مردود ہے.‘‘

    (متفق علیه)

    مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَـیْسَ عَلَیْہِ اَمْرُنَا فَھُوَ رَدٌّ ’’
    جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس کا ہمارے دین میں حکم نہیں تو وہ (عمل) مردود ہے.‘‘

    وبا کے دوران اذانیں دینے پر بحوث

    تحریر از سعدیہ خورشید
    _________

  • آئیں اپنی زندگی کا محاسبہ کریں—از قلم۔۔۔ مشی حیات

    آئیں اپنی زندگی کا محاسبہ کریں—از قلم۔۔۔ مشی حیات

    ہم دنیا میں آئے پانی کی طرح شفاف اور روئی کی طرح نرم مزاج دل تھے ہم نے اپنی زندگی کا سلسلہ طے کرنا شروع کیا جو زندگی میرے رب نے ہمیں عطا کی تھی وہ بلکل گناہوں سے پاک صاف تھی لیکن ہم نے دنیا کی راہوں پر چلتے ہوئے اپنی زندگی کو ایک نیا رنگ دیا رب کی بنائی گئی زندگی سے ناواقف ہو گئے ہم دنیا کی رنگینیوں میں کھو گئے رب تعالی کے فیصلوں کو چھوڑ کر ہم نے اپنی خواہشات کو ترجیح دی میرا رب ہمیں اپنی طرف بلاتا رہا
    حی علی الفلاح

    مگر ہم اپنے کاموں اپنے مال اور تجارت میں کھو بیٹھے اس بات کو بھول بیٹھے کہ ہمارا رب ہماری کامیابی کی بات کر رہا ہے میرے رب نے ہمیں مال۔پیسہ اور تجارت میں کامیابی کی ہی طرف بلایا ہے مگر ہمارا رب ہم سے محبت کرتا ہے ہماری زندگی کی ایک ایک سانس اس کی امانت ہے

    ہم جب اپنے رب کو بھول جائیں اپنے رب کے فرمان اور اسکے رسول کریم کے بتائے گئے اسوہ حسنہ کو بس عموما لینا شروع کر دیں تو رب پھر اپنی مخلوق کو جنجھوڑتا بھی ہے میرا رب کہتا ہے کہ میرے بندے قیامت کے عذاب کو عام سمجھنے لگتے ہیں تو ہم انہیں دنیا میں عذاب کا مزہ چکھاتے ہیں

    کرونا وائرس جیسی بیماری(عذاب ) نے ہمیں اپنی زندگی کی اہمیت یاد دلائی ہے ہمیں احساس دلایا ہے کہ ہم کیوں دنیا میں آئے؟ہمیں رب نے اپنی فرمانبرداری کے لیے پیدا کیا تھا ہم کفار کے دین کے پیروکار ہو گئے شراب۔جوا۔نشہ۔چوری اور زنا کو اپنی زندگی کا مشغلہ بنا لیا حقوق العباد کو بھول بیٹھے اپنی زندگی میں مگن ہو گئے خود اچھا کھا لیا ہمسائے کی فکر نہیں یتیم بھوکا سوتا رہااور ہم حلال کو حرام میں اڑاتے رہے

    پھر میرے رب نے پوری دنیا کو بند کر دیا اور ثابت کر دیا کہ حکمرانی کا ذات کی ہے مرضی کس ذات کی چل سکتی ہے
    15 تا 30 دن تک دکانیں بند کرنے والوں سے جب رمضان المبارک میں 10 دن کے اعتکاف کا بول دیا جائے تو انکے بچے بھوکے اور کاروبار بند ہونے لگتے ہیں مگر میرے رب نے آج دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے
    ابھی وقت ہے اپنی زندگی کا محاسبہ کرتے چلیں کہ ہم نے اپنی زندگی میں کیا بویا اور کیا کاٹا ہے

    اپنے گناہوں کی معافی مانگیں جس مقصد کے لیے دنیا میں آئیں ہیں اس مقصد کو نبھاتے چلیں دنیا کو ترک کر کے دین پر عمل پیرا ہو جائے حرام کو حرام سمجھیں تو اپنے رب کے عذاب سے محفوظ ہو جائیں
    بلاشبہ آپ کے رب کا عذاب بہت درد ناک ہے

    آئیں اپنی زندگی کا محاسبہ کریں
    🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
    ✍🏻از قلم۔۔۔
    مشی حیات

  • مظلوموں کی پکار،عذاب الہی کی یلغار،کرونا وائرس کی برمار—از–ڈاکٹرماریہ نقاش

    مظلوموں کی پکار،عذاب الہی کی یلغار،کرونا وائرس کی برمار—از–ڈاکٹرماریہ نقاش

    اگر ماضی کے دریچوں میں جھانک کر دیکھا جائے یا تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھے جائیں تو ماضی کے بھیانک چہرے سے کچھ خوفناک مناظر جھانکتے ہوئے آپکو نظر آئیں گے…جو آپکو خوفزدہ کر دینے کیلئیے کچھ کم نہیں ہیں..

    جی ہاں قارئین!
    میں بات کر رہی ہوں پچھلی قوموں پر آئے ہوئے مختلف عذاب اور انکے اسباب کی …تاریخ اپنا آپ دہرا رہی ہے…
    چشم فلک یہ مناظر پہلے بھی دیکھ چکی ہے…

    فضاء پہلے بھی موذی امراض سے آلودہ ہو چکی ہے…
    یہ کائنات پہلے بھی موت کی ہچکیوں سے گونج چکی ہے….

    یہ دھرتی پہلے بھی کئ ذی روح کو مہلک امراض کے ساتھ اپنے سینے میں دفن کر چکی ہے…
    اس زمین پر پہلے بھی موت کی تکلیف سے ایڑیاں رگڑی جا چکی ہیں…
    ہاں مگر اسباب اور وجوہات الگ الگ تھیں…

    کہیں نافرمان قوموں پر اللہ کا عذاب آگ کے گولوں کی صورت میں برس چکا ہے…
    اور کہیں آسمان سے برستے پتھروں کی صورت میں دیکھا گیا ہے….
    کہیں پانی میں ڈوب کر پوری قوم غرق ہوتی پائ گئ ہے…

    اور کہیں پہاڑوں میں دھنستے اور بندروں کی شکلیں اختیار کرتے لوگ سنے گئے ہیں…
    کہیں ابابیل کے لشکر سے ہاتھیوں سمیت انسانوں کو خاک ہوتے قرآن میں پڑھا گیا ہے…
    کبھی طاعون مرض سے ہلاک ہوتے لوگ دیکھے گئے ہیں….

    تو قارئین کرام..! کبھی بھی عذاب بے سبب یا بے وجہ نہیں آئے…اجکل پوری دنیا جس عذاب میں گھر چکی ہے وہ کرونا وائرس ہے….جس سے تقریبن تمام ممالک ہی متاثر ہو چکے ہیں… ہر طرف ہنگامی صورتحال برپا ہے….احتیاطی تدابیر کی جا رہی ہیں….مگر سب سے اہم تدبیر تو شاید ہم بھول رہے ہیں…

    قارئین یہ وقت ہے اپنے گناہوں کو پہچاننے کا …انکی روک تھام کا…اور توبہ کا..انفرادی و اجتماعی گناہوں کا ازالہ کرنے کا…یہ وقت ہے اپنے نفس پر غورو فکر کا….اور اپنے رب سے گڑگڑا کر معافی کا….جانے انجانے میں جو حق تلفیاں ہوئ ہیں ہم سے انہیں تسلیم کر کے….آئندہ نہ کرنے کا عہد باندھنے کا….

    قومیں تب تک عذاب کا شکار نہیں ہوتیں….جب تک رب کی حدود تجاوز نہیں کرتیں….رب تعالی کے قہر کو آواز نہیں دیتیں…گناہوں اور نا فرمانیوں کا عروج نہیں کر دیتیں…
    یہ بات صرف مذہب اسلام میں ہی نہیں ہر مذہب میں جانی اور مانی جاتی ہے…ہر مذہب کے لوگ اپنے God کو اپنے طریقے سے منا رہے ہیں…لکین معافی کس بات پر مانگی جا رہی ہے….آیا کہ یہ غلطی وہی ہے…جسکے باعث اللہ تعالی کا عذاب نازل ہوا..?

    آیا کہ ہم نے وہ غلطیاں ترک کیں جس کی وجہ سے رب ناراض ہوا…? یہ کیسے پتا چلے گا…یا ہم کیسے جان پائیں گے…?
    تو اسکا ایک آسان کلیہ میں قارئین کو بتاتی چلوں…انفرادی لحاظ سے ہمارے گناہ کونسے ہیں…وہ ہم سب خود کو بہتر جانتے اور پہچانتے ہیں…ان سے توبہ کرنے کے بعد اجتماعی گناہوں کو پہچاننا اور اس سے توبہ کرنا اور ان گناہون کو دوبارہ نہ دہرانا …ان سے باز رہنا…بہت ضروری ہے… اس کیلئے ہمیں غور کرنا ہے کہ کہیں یہ انسانیت پر برپا ہونے والا ظلم تو نہیں….? جو نہ صوف مسلمانون پر ہے بلکہ کہیں نا کہیں کسی نہ کسی طبقے میں کسی نہ کسی صورت میں کسی صاحب حیثیت اونچی ذات والے شخص کے ہاتھوں مظلوموں اور غریبوں پر ہوتا ہی چلا آ رہا ہے…?

    یہ تحریر صرف مسلمانوں کیلئے ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ہے…لہذا پہلے میں مخاطب ہوں ان لوگوں سے جو اینیملز رائٹس کی بات کرتے ہیں…جو خلا میں بلی کے بھیجے جانے پر چیخ اٹھتے ہیں….اگر انسانیت سے زیادہ قدریں جانوروں کو حاصل ہیں…تو چین میں ہونے والے جانوروں پر مظالم کے ویڈیو کلپس تو آپ نے بھی دیکھیں ہونگے…زندہ جانوروں کو پکنے کیلیئے آگ پر رکھ دینا گھی میں فرائی کر دینا…

    جانوروں کے سروں پر ڈنڈوں سے وار کر کے انہیں ہلاک کر کے کھانا کیا یہ ظلمیت کا منہ بولتا ثبوت نہیں…شاید یہی وجہ ہے زندہ چوہوں کو کھولتے پانی میں ابال کر جلد اتار کے ڈشوں میں پکا کر کھانے والے لوگوں پر چوہوں سے ہی پیدا ہونے والا اک وائرس حملہ آور ہو چکا ہے…جسکی شرح اموات بنسبت چوہوں کے 23% زیادہ ہے…چلیں جانوروں سے ہٹ کر اب ہم عالمی سطح پر ہونے والے انسانی ظلم کی بات کرتے ہیں…
    کہیں جنگلوں میں آدم خور قبیلے کا انسانوں کو ذبح کر کے کھانے جیسا ظلم دیکھنے اور سننے میں آیا ہے…

    اور کہیں زندہ انسانوں کے اعضاء نکال کر ہسپتالوں میں بیچنے کے کیسز سامنے آئے ہیں…
    اور اس سے بھی بڑی درندگی کی مثال کہاں ملے گی کہ انسانوں کا پیٹ چاک کر کے اس میں نشہ آور اشیاء اسمگل کی جا رہی ہیں…
    یہ تو چند مثالیں تھیں عالمی سطح پر قوم و مذہب کا امتیاز کئیے بغیر انسانیت پر برپا ہونے والے مظالم کا عکس…

    اب بحیثیت مسلم میں بات کروں گی انسانیت کے سب سے گھنائونے ناسوز اور دلگیر دہشت کے نشان… ظلم وستم کے اس پہلو کی کہ جس کے چند مناظر بڑے بڑے دل گردوں والوں کو بھی ایک بار مفلوج کر کے رکھ دیتے ہیں …
    لیکن وہ کیسے درندے ہیں کیسے حیوان صفت انسان ہیں جنہیں یہ ظلم ڈھاتے ہوئے سسکتے بلکتے انسانیت کے اس کمزور لاچار وجود پر رحم نہیں آتا جو نہ تو اپنے دفاع کی حالت میں ہیں اور نہ تو اس قابل کہ آگے سے صدائے رحم بلند کر سکیں….

    جب پتھر پر گردن رکھ کے اوپر سے پتھر مار مار کر مسلمان ہلاک کئیے جائیں گے تو کیا کرونا نہیں آئے گا?
    جب سوئے مار مار کر اعضاء جسم سے الگ اور چھلنی کئیے جائیں گے اور یہ عمل موت کے بعد بھی جاری رہے گا تو کیا عذاب الہی نہیں آئے گا…
    جب حاملہ خواتین کو پیٹ میں برچھے مار کر بچہ باہر گرا دیا جائے گا تو..کیا قہر الہی نہیں برسے گا?

    جب ماں کا (ہائے میرا بچہ) پکارنے پر بچے کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ماں کو کھلایا جائے تو خداوند تعالی ناراض نہیں ہونگے?
    خب بھارتی درندے کتوں کی طرح سونگھتے پھر رہے ہوں تو کشمیری مائیں بچوں کی آواز سے گھبرا کر خود اپنے ہی بچوں کا گلہ گھونٹ کر قتل کر کے انہیں آسان موت دے دیں تو کیا وائرس جیسی وباء نہیں آئے گی?

    جب کشمیری لڑکیون کے چہرہ انور اور پاکیزہ بدن کہ (جنکو چشم فلک نے بھی جی بھر کر نہ دیکھا ہو) سر بازار برہنہ کئیے جائیں تو کیا یہ مہلک امراض جنم نہیں لیں گے….?
    جب باپ کاکندھا کاٹ کر بیٹے کے ہاتھ میں پکڑایا جائے…اور بیٹے کی ٹانگ کاٹ کر باپ کے ہاتھ میں تھمائی جائے تو یہ کائنات کیا زلزلے سے لرزے گی نہیں?

    جب جلتی آگ میں انسان جلائے جائیں…اور زندہ انسانوں کی کھالیں اتاری جائیں…تو کیا دنیا بھر میں عذاب کے باعث ہلاکتیں نہیں ہونگی?
    آج جب ماں کرونا سے متاثر بچے کو اپنی ممتا سے دور آئسو لیشن میں دیکھتی ہو گی تو اسے کشمیری ماں یاد تو آتی ہو گی…

    آج جب اس وباء سے ایک باپ اپنے بیٹے کو مرتا ہوا موت کی ہچکیاں لیتے ہوئے دیکھتا ہے تو…اسے کشمیری باپ یاد تو آتے ہونگے…
    آج جب جوان بیٹا بوڑھے باپ کی لاش دیکھتا ہے اور وائرس سے متاثر ہونے پر اس لاش سے کئیے جانے والا برتائو اسکا دل چھلنی کرتا ہے تو اسے کشمیری جوانوں کی صدائیں تو سنائی دیتی ہونگی…

    آج اپنے پیاروں کو اس حال میں دیکھ کر انسانی جان کی قدر اگر تمہیں معلوم ہو گئ ہے تو…لازم ہے کہ ان جانوں کا تصور بھی روز آتا ہو گا جو کشمیر میں ایک ہی دن میں ایک ہی وقت میں ایک ہی گھر میں ضائع کی جاتی ہیں….
    اگر عالمی سطح پر انسانیت میں رحم اور کشمیریوں کا شعور اب بھی بیدار نہ ہوا تو پھر کرونا جیسے مرض سے بڑھ کر عذاب الہی برسے گا…

    جب انسانی بصارت دیکھنے اور انسانی سماعت سننے سے قاصر ہو جائے تو یاد رکھو اوپر عرشوں کا مالک آسمانوں کے اوپر سے سب دیکھ رہا ہے…وہ کائنات کے کسی بھی گوشے میں ہونے والی سرسراہٹ کو سن بھی رہا ہے….
    اور چیونٹی جیسی چھوٹی مخلوق کی ہر حرکت کو دیکھ بھی رہا ہے…اور پھر رب تعالی تو بہتر حکمت والا اوف بہتر سبب بنانے والا ہے…
    لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ 70 مائوں سے زیادہ پیار کرنے والا رب اس قدر ناراض ہے تو ہمارے گناہوں اور بے حسی کا کیا عالم ہو گا….

    80 لاکھ کشمیریوں پر دن رات ہونے والے مظالم اور اموات کو نظر انداز کر کے 165 ممالک میں 7987 ہلاکتوں پر اظہار فکر کریں گے تو…پھر جان لو کہ مظلوم کی آہ تو عرش سے ٹکراتی ہی ہے…
    80 لاکھ کشمیریوں کے بالمقابل 1 لاکھ 98 ہزار 4 سو بائیس کرونا سے متاثر افراد دریافت کر کے انہیں طبی نگہداشت دینا اور حکومت کی طرف سے ضرورت مندوں میں راشن پیکج تقسیم کییے جانا …اور اسکے برعکس کشمیریوں کی بھوک پیاس اور بیماری کو مسلسل نظر انداز کیا جائے گا تو عذاب الہی تو آئے گا نا…

    جب قرآن کہ رہا ہو کہ تم مسلمانوں کو ظلم کی چکی میں پستے دیکھو تو تم پر جہاد واجب اور فرض ہے…ایسے وقت میں جہادی تنظیمیں بند کر دی جائیں… مجاہدین کو قید کر دیا جائے…. اور جہاد روک دیا جائے…تو رب تعالی پھر اپنی مخلوق سے جنگ تو کریں گے نا…

    جب سپر پاور ممالک آسمانوں کے مالک کے کاموں میں….. اس کے طے کردہ امور میں دخل اندازی کریں گے تو پھر جہانوں کا مالک ناراض ہو کر اس سپر پاور کو ایک نہ نظر آنے والی چھوٹی مخلوق کے ہاتھوں بے بس کر کے تباہی کے دوہانے پر لا کھڑا کرے گا نہ….انکا غرور خاک تو کرے گا نہ…

    جب مظلوم کشمیریوں کی التجائیں عرش بریں سے جا ٹکرائیں گی تو رحمن اور رحیم کو رحم تو آئے گا نہ وہ بے رحم کائنات کو کرونا جیسے عذاب سے جھنجھوڑے گا تو سہی نہ?
    تو قارئین اس وقت میں آپ اور ہم سب اس نازک مراحل میں داخل ہو چکے ہیں کہ جسکا اگلا مرحلہ موت بھی ہو سکتی ہے… لہذا توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے…وقت اب بھی باقی ہے…دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں وہ کامیاب لوگ کون ہیں جو انفرادی اور اجتماعی استغفار کر کےآئندہ ان گناہوں کو نہ دہرانے کا عہد کر کے اپنے رب کی عطا کردہ مغفرت کے مستحق بن کر موت کو اپنے دروازے سے ناکام لوٹا سکتے ہیں…

    مظلوموں کی پکار
    عذاب الہی کی یلغار
    کرونا وائرس کی برمار

    ✍بقلم
    ڈاکٹر ماریہ نقاش