Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حوصلہ نہ ہاریں…!!! تحریر: جویریہ بتول

    حوصلہ نہ ہاریں…!!! تحریر: جویریہ بتول

    حوصلہ نہ ہاریں…!!!
    (تحریر: جویریہ بتول)۔
    آپ اس دنیا میں کتنے ہی بھلے کام کیوں نہ کر لیں،دنیا پھر بھی راضی نہیں ہوتی…
    حاسدین اور ناقدین اپنی توپوں اور تیروں کا رُخ بہر حال آپ کی جانب کیئے رکھتے ہیں…
    وہ آپ کے مثبت کام کے منفی پہلو تلاشتے اور ان کی ترویج و اشاعت کا فریضہ سنبھال لیتے ہیں…
    آپ جب بھی کوئی اہم کام یا مسائل حل کرنا چاہتے ہیں تو کئی لوگ برا بھلا بھی کہیں گے…
    آپ کی ذرا سی لغزش نوٹ کریں گے…
    کیونکہ وہ آپ کو کوئی قدم اُٹھاتے ہی فرشتہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ غلطی کا صدور شاید اب آپ سے ممکن نہیں ہے…
    اور ذرا سی غلطی پر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں…
    اگر ایسا ہے تو یقین جانیں لوگ آپ میں کچھ صلاحیتوں کے قائل ہیں اور آپ کی کامیابی کو وہ اپنے لیئے توہین تصور کرتے ہیں…
    لیکن ان کی تنقید برائے تنقید آپ کے حوصلہ کو پست کرنے کی بجائے اسے وزن دینے کا باعث ہو…
    آپ خیر کے کاموں میں آگے بڑھتے رہنے کی کوشش جاری رکھیں…
    عزم بالجزم کے ساتھ آگے بڑھنے والے آندھی و طوفانوں…میں سکون کی مانند اور شبِ دیجور میں چراغ کی مانند جلتے رہتے ہیں…
    دستِ ہمت کا دامن نہیں چھوڑتے…
    اور اپنی راہوں کو صاف کرتے رہنے کی ادائیگی میں مصروف رہتے ہیں…
    ان کی نظر اپنے ہدف تک پہنچنے پر ہوتی ہے،دنیاوی اغراض و مقاصد کے لیئے جینے والے لوگ ان کو چیلنج بھی سمجھتے ہیں،
    ان کا بلڈ پریشر تو انسانیت کی آڑ میں بھی اپنے مالی مفادات کے استحکام کے یا گراوٹ سے بڑھتا اور کم ہوتا ہے…
    مگر اپنی صلاحیتوں کو دوسروں کی راہ میں روشنی کرنے کی غرض سے استعمال کرتے جذبوں کو اس کیٹیگری میں نہیں دیکھا جا سکتا اور حقیقت میں دنیا میں رکاوٹیں بھی ایسے ہی لوگوں کی راہ میں ہوتی ہیں…
    لیکن اپنے حصے کا دیا جلائے رکھنے کی رسم زندہ کیئے لوگوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے معاملات اللّٰہ سے ٹھیک رکھیں…
    دلبرداشتہ ہو کر حوصلہ ہارنے کی بجائے جو ہو سکے وہ کرتے رہیں…
    خود سے دوسروں کو فائدہ پہنچائیں اور اپنے ضرر سے بچائیں…!!!
    پر امن انداز میں سکونِ ذہن و قلب کے ساتھ سفر جاری رکھیں…
    اور اپنی سوچ،انداز اور اداؤں سے انسانیت کی بھلائی چاہتے رہیں…
    یہی انسانیت کی معراج ہے اور دنیا میں رہتے ہوئے ہم دنیا کو اپنی صفائیاں تو کبھی تسلی بخش انداز میں دے ہی نہیں سکتے…
    لوگ پھر بھی شک کی چنگاری کو سلگائیں گے…
    بقول شاعر:
    "میری خوبیاں اور محاسن ہی ان کے نزدیک میرے گناہ ہیں تو بتاؤ کہ میں کیا معذرت کروں…؟؟؟”
    اپنے حصے کا کام کرنا ہے اور آگے گزر جانا ہے…تنقید و تحسین سے بے پرواہ ہو کر تبھی آپ اپنا کوئی بھی مثبت کام یکسوئی سے سر انجام دے سکتے ہیں…
    کیونکہ جہاں تنقید حوصلہ پست کرتی ہے،وہیں حد سے بڑھی تحسین بھی دماغ کو مغرور کرتی اور سوچوں کو اسی دائرہ میں دھکیل دیتی ہے کہ جو کام ہو،اس کی تعریف بھی لازم ہے…جبکہ کبھی کام تعریف کے بغیر بھی کرنا پڑتا ہے…!!!!!
    ہمارا یقیں ہو کہ اجر اللّٰہ تعالٰی سے لینا ہے
    شاعر نے کتنے خوب صورت انداز میں کہا ہے:
    "کاش کہ تو راضی رہے،تری رضا کے ساتھ اگر تمام لوگ بھی ناراض ہوں تو کوئی پرواہ نہیں،میری منتہائے اُمید یہی ہے۔”
    ==============================

  • ڈھال…!!!  بقلم:جویریہ بتول

    ڈھال…!!! بقلم:جویریہ بتول

    ڈھال…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    روزہ ہے ڈھال گناہوں سے…
    اسے بنانا بھی ہے ڈھال لازم…
    زباں کی بھی کرنی ہے حفاظت…
    غیبت،چغلی کا سمیٹنا ہےجال لازم…
    کانوں کی ممنوعہ آوازوں سے…
    رکھنی ہے دوری بہر حال لازم…
    دل کی گہرائیوں میں اُتار کر…
    چلنی ہے تقویٰ کی چال لازم…
    صدقہ و خیرات بھی ہاتھ سے ہےکرنا…
    کُچھ غریب کے واسطے بھی حصۂ مال لازم…
    رات کے پچھلے پہر کے اوقات میں…
    کُچھ کرنے ہیں رب سے سوال لازم…
    ملی رحمت کی ان ساعتوں میں اب…
    کرنی ہے اب تبدیلئ احوال لازم…
    گناہوں کی پونجی جو ہیں ہم اٹھائے…
    توبہ کے آنسوؤں سے تر ہوں یہ گال لازم…
    ہر آفت و بلا ہو دور پھر ہم سے…
    اور ہر مشکل کو رب دے ٹال لازم…!!!
    پھر روزہ کا مفہوم ہو یوں پورا…
    کہ ہو ہر دم دل میں اچھائی کا خیال لازم…!!!
    ہر برائی سے نفرت ہو،ہر نیکی کی چاہت…
    اونچی اُڑان کے لیئے نکلیں کُچھ نئےپَر و بال لازم…!!!
    تندرست ہو کر محوِ سفر ہو یہ بیمار نفس…
    ہر زاویے سے درست ہوں اب سارے خدوخال لازم…!!!
    ==============================

  • رمضان المبارک اور ہمارا سلوک  بقلم:  ساجدہ بٹ

    رمضان المبارک اور ہمارا سلوک بقلم: ساجدہ بٹ

    رمضان المبارک اور ہمارا سلوک

    ساجدہ بٹ
    رمضان المبارک کے با برکت مہینے میں آئیں عہد کریں کہ صرف بھوک اور پیاس کا روزہ نہیں رکھنا بلکہ ہمیں ہر چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچنے کا بھی روزہ رکھنا ہے
    ہمیں چغلی ،غیبت ،جھوٹ،حسد،لالچ ،اور نا انصافی سے بھی بچنا ہے۔۔۔۔۔
    اگر ہم نے صرف کھانے پینے کا پرہیز رکھا اور باقی گناہوں سے توبہ نہ کی تو شاید ہمارے سارا دن بھوک پیاس کی کوئی قبولیت نہ ہو۔
    سگے بہن بھائیوں میں اختلاف ہو اور رشتے داروں سے دوری ہو تو بتاؤ پھر روزہ کے اجر کے حقدار ہو؟؟

    منافقت دل میں پالنے والے کا روزہ کیا قبول ہو گا؟
    سوچئے ۔۔۔۔
    ہم نے کس قدر گناہوں سے توبہ کی اور آج نیت کی کہ ان شاء اللہ رب کے مہمان،
    ماہ رمضان کی خوب مہمان نوازی کریں گے اور خاص کر ان سب گناہوں سے بچنے کی بھر پور کوشش کریں گے۔۔۔
    ہم نے تو شاید یہ اہتمام ہی کیا کہ افطاری اور سّهری میں مزے مزے کے پکوان بنے گیں
    دسترخوان سجیں گے لیکن اپنی ان نعمتوں کے ساتھ ساتھ اُن کا بھی خیال رکھیں گے جن کے پاس یہ چیزیں میسر نہیں ہیں اپنے کھانوں کو ضائع مت ہونے دیں ۔۔۔۔۔۔
    اپنے کھانوں میں کچھ کمی کرکے دوسروں کو بھی دیں اور نیکیاں سمیٹنے کا حسین موقع حاصل کریں پھر ساتھ ساتھ جھوٹ بولنے سے بچیں جھوٹ کے بلبوتے پر کاروبار مت کریں دوسروں کی چغلی غیبت سے بچیں اپنے سگے بہن بھائیوں میں اگر ناراضگی ہے تو اسے ضرور ختم کریں گھر کو خوشیوں کا گہوارہ بنائیں اسی میں ہماری بھلائی اور اسی میں سکون و اطمینان اور اسی میں میرے رب کریم کی رضا ہے حقوق العباد کا سوال پہلے پوچھا جائے گا اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اس رمضان المبارک کے صدقے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ادا کرنے کی توفیق عطا فرما آمین ثم آمین ثم آمین یا رب العالمین

  • مزدور…!!! بقلم:جویریہ بتول

    مزدور…!!! بقلم:جویریہ بتول

    مزدور…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    اینٹیں بھی ڈھوتا ہے…
    جو گارا بھی اُٹھاتا ہے…
    ناتواں سے وجود کو اپنے…
    جو دھوپ میں جلاتا ہے…
    میلے پلو سے پونچھ کر پسینہ…
    جو سر اٹھا کر مسکراتا ہے…!!!
    سخت ہاتھوں میں چھالے دیکھتے
    جو پیڑ تلے سستاتا ہے…!!!
    نیند کی گہری وادی میں جا کر…
    سکون کی کہانی جو سناتا ہے…
    جس کے ماتھے پر چمکتی ہیں…
    پسینے کی جو دلکش کرنیں…!!!
    ان کرنوں کی روشنی میں…
    وہ حق کمانا سکھاتا ہے…!!!
    اس مزدوری کی برکت سے…
    جو ذہنی سکون وہ پاتا ہے…
    حرام کی ڈھیروں کمائی پر…
    جو کوئی نظر نہ پھراتا ہے…
    جاگنا اور کہیں جانا ہے…
    بچوں کے لیئے کُچھ لانا ہے…
    دن بھر تھک ہار کر پھر…
    سرِ شام لوٹ آنا ہے…!!!
    کھیتوں،کھلیانوں میں…
    اور ملوں،مکانوں میں…
    روانی کا جس نے پہیہ چلانا ہے…!!!
    ============================
    مزدور کا محافظ ہے اسلام…
    جو کہے نہ کھائے کوئی نا حق…
    مزدور کی مزدوری کا اک دام…
    حد سے زیادہ اسے کام نہ دو…
    اور نہ ڈالو اس پہ بوجھ تمام…
    جو کھاتے ہو خود اسے کھلاؤ…
    پہنتے ہو جیسا،ویسا پہناؤ…
    جو کھانا لائے تو ساتھ بٹھاؤ…
    تھکن سے چُور کو تم ہنساؤ…
    رب اس پہ سخت ناراض ہے…
    جو اجیر کی محنت مار گیا…
    کام تو لیا جس نے پورا…
    اجرت دینے سے ہاتھ جھاڑ گیا…!!
    اس مزدور کو کُچھ اضافی بھی ہو…
    جو بال بچوں کے لیئے کافی بھی ہو…
    فاقوں کے ڈر سے جیئے نہ مزدور…
    غم کی ردا میں پیوند سیئے نہ مزدور…
    مزدور کے دم قدم سے جواں ہے…
    ترقی کا یہ پہیہ جو رواں ہے…!!!
    مزدور سے بھی حُسنِ سلوک لازم ہے…
    کہ یہ مزدور بھی تو ابنِ آدم ہے…
    خاکی بدن کی ہر ضرورت و تاب بھی وہی ہے…
    اُس کی آنکھوں میں چمکتا خواب بھی وہی ہے…!!!
    ==============================

  • کیا چیز ہے محبت  تحریر: مصباح ہاشمی

    کیا چیز ہے محبت تحریر: مصباح ہاشمی

    کیا چیز ہے محبت
    مصباح ہاشمی

    جب سوچ پہ کوئی حاوی ہو
    کوئی ذہن پہ ہر دم طاری ہو

    کوئی دل میں جب رچ بس جائے
    اور سانس کی صورت جاری ہو

    جو خون کی صورت دوڑتا ہو
    اور نس نس میں وہ جاری ہو

    جو خون سے گہرا لگے مگر
    نہ رشتہ کوئی خونی ہو

    جب سمجھو اب تو بس نہ چلے
    تم جان لو عشق کے قیدی ہو

  • کورونا سے لڑتا فلسطین اور اسرائیل عرب دوستی ڈرامہ سیریل ،تحریر: صابر ابو مریم

    کورونا سے لڑتا فلسطین اور اسرائیل عرب دوستی ڈرامہ سیریل ،تحریر: صابر ابو مریم

    کورونا سے لڑتا فلسطین اور اسرائیل عرب دوستی ڈرامہ سیریل
    تحریر: صابر ابو مریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی
    دنیا بھر کی طرح فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں بسنے والے مظلوم فلسطینی بھی آج کل کورونا وباء کے شکنجہ میں ہیں۔ ایک طرف غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم کا سامنا ہے تو دوسری جانب کورونا کے خطر ناک وار کا بھی مظلوم فلسطینی ملت تن تنہا بغیر کسی وسائل کے مقابلہ کر رہی ہے۔ یعنی ایک اسرائیلی مصیبت کا سامنا ہے تو دوسری مصیبت کورونا ہے۔فلسطین میں تجزیہ نگاروں نے کورونا اور اسرائیل کو ایک جیسی مصیبت ہی قرار دیا ہے بس فرق صرف اتنا ہی ہے کہ ایک کورونا وائرس سنہ1948ء میں فلسطین پر حملہ آور ہوا اور آج دوسرا کورونا وائرس فلسطین پر سنہ2019کے نام سے سامنے آیا ہے۔بہر حال فلسطین کے بہادر اور شجاع فرزندان مزاحمت ہر دو طرح کی مصیبتوں کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کر رہے ہیں اور مزاحمتی ہتھیار سے غاصب صہیونی اسرائیلی کورونا اور حالیہ کورونا سے نبرد آزما ہیں۔
    کورنائے اسرائیل اور کورونا وباء سے لڑتے ہوئے اس فلسطین پر ستم ظریفی صرف اسرائیل کی ہی نہیں بلکہ اپنے ہی ہم زبان و مذہب عرب مسلمانوں حکومتوں کی بھی جاری ہے جو کہ تیسرے کورونا کے مشابہ ہے۔حال ہی میں سعودی عرب میں ایک ایسے ڈرامہ سیریل کو متعارف کروایا گیا ہے کہ جس کا عنوان اسرائیل عرب دوستی رکھا گیا ہے اس ڈرامہ سیریل کا نام ’ام ھارون‘ رکھا گیا ہے جس میں کوشش کی گئی ہے کہ اسرائیل اور عرب دوستی کو پیش کیا جائے جبکہ ساتھ ساتھ فلسطین کی ریاست اور فلسطین کے تاریخی وجود سے انکار کی جھوٹی اور من گھڑت تاریخ کا پرچار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ سب کچھ ایسے حالات میں سامنے آرہا ہے کہ جب ایک طرف امریکہ اور اس کے حواریوں نے صدی کی ڈیل نامی منصوبہ کی ناکامی کا زخم اٹھایا ہے لیکن اسی منصوبہ کی آڑ میں عرب حکومتوں کو استعمال کر کے عالمی استعمار اب اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس ڈرامے جس کا نام ‘ام ھارون’ رکھا گیا ہے میں خلیجی ملکوں اور عرب ممالک میں یہودیوں کو مظلومیت کی مثال کے طورپر پیش کیا گیا ہے۔ کویت اور دوسرے خلیجی عرب ملکوں میں یہودیوں کے تاریخی وجود کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اس میں صہیونی ریاست کے مکروہ چہر کوخوشما بناکر پیش کیا گیا ہے۔ یہ ڈارمہ سعودی ٹی وی پر’پروڈکشن 7′ سے نشر کیا جا رہا ہے۔ ٹی وی کا پورا مواد صہیونی ریاست سے دوستی کی ترویج پرمشتمل ہے۔
    انبیاء علیہم السلام کی سرزمین ارض مقدس فلسطین کی حیثیت اور شناخت کو مسخ کرنے کے لئے بنایا جانے والا اسرائیل عرب دوستی کا ڈرامہ سیریل حال ہی میں سعودی عرب کے ایک ٹی وی چینل ایم بی سی نیٹ ورک پر نشر کیا گیا ہے اور یہ عین ماہ رمضان المبارک کے آغاز پر نشر کیا گیا ہے جس پر نہ صرف سعودی عرب میں شدید تنقید ہو رہی ہے بلکہ دنیا بھر میں اس ڈرامہ سیریل کے مکالمہ اور متن پر شدید اعتراض کے ساتھ اس کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا گیا ہے۔عرب ممالک کی عوام نے اس ڈرامہ سیریل کو پہل اقساط کے نشر ہونے کے ساتھ ہی مسترد کر دیا ہے البتہ اس ڈرامہ سیریل کے بنائے جانے اور نشر کئے جانے سے دنیا بھر میں امریکہ اور اسرائیل سمیت عرب اتحاد کی قلعی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے اور دنیا پر واضح ہو چکا ہے کہ عرب حکمران فلسطین کا سودا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
    فلسطین کی سب سے بڑی سیاسی و عسکری جماعت حما س نے سعودی عرب کے ایم بی سی نیٹ ورک پر نشر ہونے والے اسرائیل عرب دوستی ڈرامہ سیریل کے بارے میں واضح موقف اپناتے ہوئے اس ڈرامہ سیریل کو شیطانی چال قرار دے دیا ہے۔حماس کے ترجمان سامی ابو زھری کے بیان کے مطابق اسرائیل کی جعلی ریاست جو ہدف فلسطینیوں کے خلاف توپ اور ٹینک سمیت بھاری اسلحہ استعمال کر کے حاصل نہیں کر سکی ہے وہ ہدف اب سعودی عرب کے حکمرانوں کی اس طرح کی گھناؤنی سازشوں سے حاصل کرنا چاہتی ہے۔
    اسی طرح سمندر پار فلسطینی عوام نے بھی سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کے ٹی وی چینلز پر نشر کئے جانے والے اسرائیل عرب دوستی ڈرامہ سیریل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو مقدس مہینہ رمضان المبارک کی توہین قرار دیا ہے۔
    اسرائیل عرب دوستی سے متعلق ڈرامہ سیریل ام ھارون اور دیگر نشریات کا مقصد فلسطین کی اصل اور بنیادی تاریخ کو مسخ کرنا ہے اور فلسطین پر سنہ1948ء میں قائم ہونے والی صہیونیوں کی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کے قیام کو قانونی جواز فراہم کرنے کی گھناؤنی کوشش ہے۔یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ گذشتہ چند برس میں ترکی سمیت سعودی عرب اور دیگر خلیجی عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ پس پردہ اور اعلانیہ طور پرمراسم قائم کر رہے ہیں۔
    روزنامہ قدس نیوز ایجنسی پاکستان کی ویب سائٹ پر نشر ہونے والی ایک خبر میں اسرائیل عرب دوستی کے عنوان سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی عرب ممالک کے ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے ڈرامہ سیریل کے مکالمہ کو پیش کیا گیا ہے۔ڈرامہ سیریز میں دو اداکاروں ناصر القصبی اور راشد الشمرانی کو فلسطینیوں کے بارے میں بات کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ مکالمے میں ناصر القصبی اسرائیلیوں کے ساتھ تعلقات کے قیام پر حیرت کا اظہار کرتا ہے جب کہ الشمرانی کہتا ہے کہ دشمن وہ ہوتا ہے جو آپ کے تعاون اور مشکل میں آپ کا اس کے ساتھ کھڑا ہونے کی قدرنہیں کرتا۔ دشمن وہ ہوتا ہے جو دن رات آپ کو اسرائیلیوں سے زیادہ گالیاں دیتا ہے۔
    الشمرانی نے مزید کہا کہ ہم نے آج تک فلسطینیوں کے لیے قربانیاں دیں، فلسطین کے لیے ہم نے جنگیں لڑیں اور فلسطین کے لیے ہم نے اپنا تیل روکا۔جب فلسطینیوں کی حکومت بنی تو ہم نے اس کے اخراجات پورے کیے، اس کے ملازموں کو تنخواہیں دیں۔ ہم اپنے مال کا حق رکھتے ہیں۔ یہ کیسے دوست ہیں جو سعودی عرب پر تنقید کرنے اور اسے برا بھلا کہنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
    اس مکالمے کے جواب میں قصبی کہتا ہے کہ ‘ہاتھوں کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ فلسطینی بھی تو آخر سنہ 1948ء میں اپنے ملک سے جبرا نکالے گئے۔ انہیں اجتماعی قتل عام کا نشانہ بنایا گیا۔ مگر یہ فلسطینی ہی ہیں جو تحریک انتفاضہ کے دوران نہتے ہونے کے باوجود اسرائیلی ٹینکوں سے لڑ جاتے تھے۔ کچھ فلسطینیوں نے دیوار فاصل کے لیے فنڈ فراہم کیے۔ وہ بھی دوسروں کی طرح انسان ہی ہیں۔ ان میں اچھے بھی ہیں اور برے بھی مگر یہ اسرائیل ہے جو فلسطینیوں اور عربوں کے درمیان نفرت اور عداوت کے بیج بو رہا ہے۔
    اس پر الشمرانی نے کہا کہ ‘یعنی آپ فلسطینیوں کیساتھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔ یہ وہ فلسطینی ہیں جنہوں نے ہمارے اشراف پرلعن طعن کی’ اس پر القصبی نے کہا کہ ہم حق، اصول اور ضمیر کے ساتھ کھڑے ہیں۔
    یہ مکالمہ مزید بھی جاری رہے گا کیونکہ آنے والے دنوں میں اس سازشی ڈرامہ سیریز کے مزید قسطیں بھی نشر کی جائیں گی مگر سوشل میڈیا پر الشمرانی کی گفتگو کو جھوٹ، اسرائیل سے دوستی کی دعوت اورفلسطینی قوم اور اس کے حقوق کو دانستہ طور نظرانداز کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ الشمرانی جیسے لوگ سائبر مکھیاں ہیں جو صہیونی ریاست کا دفاع اور فلسطینیوں کے حقوق کو دانستہ نظرانداز کرتی ہیں۔
    خلاصہ یہ ہے کہ فلسطینی مظلوم ملت صرف کورنائے اسرائیل کاہی مقابلہ نہیں کر رہی بلکہ حالیہ دنوں کورونا وباء سمیت کورونائے عرب حکمرانوں کا مقابلہ بھی کر رہی ہے کہ جن کی طرف سے امریکہ اور اسرائیل سے زیادہ شدت کے ساتھ فلسطین کی شناخت کو ختم کرنے کے لئے پے در پے حملہ کئے جا رہے ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ عرب مسلمان حکمرانوں نے دین و دنیا دونوں کا ہی سودا کر ڈالا ہے۔ایک ایسے شیطان کی دوستی کی خاطر دنیا بھر میں ظلم و ستم کی حمایت کر رہے ہیں کہ جس کے نتیجہ میں ان عرب حکمرانوں کے ہاتھ نہ تو دنیا حاصل ہو گی اور نہ ہی آخرت حاصل ہونی ہے۔حکومت پاکستان سمیت دیگر غیور حکومتوں کو چاہئیے کہ عرب ممالک سے مطالبہ کریں کہ اس شیطانی ڈرامہ سیریل کو فی الفور بند کر دیا جائے اور اس پرپابندی عائد کی جائے۔حقیقت یہی ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے اور غاصب صہیونی سنہ1948کا ایک ایسا کورونا وائرس ہیں کہ جس نے ستر سال سے فلسطین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

  • گریڈ20 کے افسر کو محبت میں ماتحت لیڈی آفیسر کے جوتے اتارنا مہنگاپڑگیا،رنگ رلیوں کی تصاویر وائرل

    گریڈ20 کے افسر کو محبت میں ماتحت لیڈی آفیسر کے جوتے اتارنا مہنگاپڑگیا،رنگ رلیوں کی تصاویر وائرل

    پُرانی بات ہے الیکشن میں لغاری صاحبان کو اپنے مخالف لغاری کی ایک ویڈیو مل گئی جس میں لغاری صاحب ایک 15/16 سال کی لڑکی کے ساتھ انتہائی بے دردی سے سیکس کر رہے تھے لغاری صاحبان نے اس ویڈیو کو اپنے مخالف لغاری اُمیدوار کے خلاف استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اُن دنوں VCR ہوا کرتے تھے وہ ویڈیو حلقہ کے تمام ہوٹلوں پر چلوئی گئی امید یہ تھی کہ ایسی غیر اخلاقی حرکت پر مخالف امید وار جس کی یہ ویڈیو تھی وہ ہار جائے گا مگر اُس وقت لغاری صاحبان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہ لغاری مخالف اُمیدوار بھاری اکثریت سے الیکشن جیت گیا لوگوں نے اُسے اس لیے ووٹ دیا کہ "ہمارا سردار جوان مرد ہے اور اوپر ہے ”

    کل سے ایک گریڈ 20 کے DIG پی ایس پی پولیس آفسر کی گریڈ 18 کی DMG افسر کے ساتھ سر سے پاوں تک چومنے والی تصاویر سوشل میڈیا کے گروپس میں وائرل ہیں DMG گروپ کی یہ خاتون گریڈ 18 کے ایف آئی اے آفسر کی بیوی ہیں ابھی چیرمین نیب اور جج ارشد ملک کی ویڈیوز اور اسکینڈل کی دھول نہی چھٹی تھی کہ یہ تصاویر سامنے آگئیں

    ایک تصویر میں psp آفسر DMG. آفسر کا مُنہ چوم رہے ہیں جبکہ دوسری تصویر میں DMG آفسر psp گریڈ 20 سے اپنا جوتا اُتروا رہی ہیں اور گریڈ 20 کے آفسر کے چہرے پر عجیب سے عشقیہ تاثرات ہیں اور وہ خاتون کے پاوں کو پکڑ کر واری واری جارہے ہیں

    دوران ملازمت اور اُس کے بعد بھی میں نے دیکھا کہ اگر کسی ماتحت پولیس ملازم سے کوئی غیر اخلاقی حرکت سرزد ہو جائے تو قانون یا عوام بعد میں فیصلہ کرتے ہیں پہلے افسران ملازم کو عبرت کا نشان بنا دیتے ہیں

    مُلتان میں ایک رینکر SP لیڈی وارڈن کو دل دے بیٹھے اور ٹیلی فون پر اظہار محبت فرمایا جس کی انہیں فوری سزا ملی اور CPO کلوز کردیا گیا اسی طرح فیصل آباد کا سونیا کیس جس میں ایک رینکر Sp ملازمت چھوڑنے پر مجبور ہوگیا کبیر والا کے ایک انسپکٹر کو بھی ایک لڑکی سے ٹیلیفون پر عشقیہ باتیں کرنے ہر مقدمات کا سامنا ہے

    پولیس ڈیپارٹمنٹ میں PSP افسران کو عام معافی ہے اگر ایک افسر سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو باقی سب افسران ان کو بچانے کے کیے میدان میں آجاتے ہیں ان میں سے بُہت سے افسران کی عشق کی داستانیں مشہور ہیں جو ماتحت ملازمین نے اپنے سینے میں چھپائی ہوتی ہیں ان کے گن مین ڈرائیور اور ذاتی سٹاف ان کے کرتوتوں سے واقف ہوتا ہے مگر مجبور ہوتے ہیں کسی کو اس لیے نہیں بتا پاتے کہ ان کے قلم کی ایک جُنبش سے ان بے چاروں کی روٹی روزی ختم ہو جاتی ہے

    اب بھی یہی ہوا ہے ڈی آئی جی صاحب اپنے حمایتی افسران کی مدد سے کُچھ تصاویرمیڈیا پر لے کر آئے ہیں جن میں اب وہ خاتون افسر کسی اور شخص کے ساتھ بلکُل اُسی انداز میں موجود ہیں ان تصاویر میں صاف لگ رہا ہے کہ فوٹو شاپ پر بنائی گئی ہیں شاید فوٹو شاپ پر بنائی گئی ہو سکتا ہے کہ ان تصاویر سے DIG صاحب کی جان بچ جائے اب تک اُن خاتون افسر یا اُن کے شوہر کی طرف سے کوئی تردید موصول نہیں ہوئی نہ ہی انہوں نے فوٹو شاپ پر اپنے چہرہ پر کسی اور لڑکی کا چہرہ لگوایا ہے

    ڈی آئی جی صاحب تو لازمی بچ ہی جائیں گے کیونکہ آئی جی صاحب کے لاڈلے ہیں اور ویسے بھی اس طرح کی حرکت کونسا بڑا جُرم ہے مرد تو ایسا کرتے رہتے ہیں مگر دُکھ تو اُس خاتون کا ہے جس سے عہدوپیماں کیے گئے ہوں گے مرنے جینے کی قسمیں کھائی گئی ہوں گی اب اس خاتون کے ساتھ کسی اور کی تصویر فوٹو شاپ پر بنوا کر DIG نے مردانگی کا ثبوت نہیں دیا گیا

    اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ DIG صاحب کی تصاویر نہیں ہیں مگر اپنی تصاویر میں وہ کس کو پیار کر رہے ہیں ؟DIG پوری رینج کا کمانڈر ہوتا ہے اس تمام تصاویر اور وقوعہ کی انکوائیری ہونی چاہیے اور قصور وار سامنے آنا چاہیے ورنہ ایسے غیر ذمدار اور غیر اخلاقی حرکتیں کرنے والے آفسر کو پولس کے ملازمین کی کمانڈ کا کوئی حق نہیں آئی جی صاحب اگر یہ نہیں کر سکتے تو آج تک جتنے پولیس ملازمین اور عوام والناس کو غیر اخلاقی حرکات پر اگر سزائیں دی گئی ہیں تو فوری معاف کردی جائے

    ان تمام تصاویر کو دیکھ کر میں تو اس نتیجہ پو پُنہچا ہوں کہ یہ صرف عشق ومحبت کی داستان نہیں بلکہ دو اداروں پولیس گروپ اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن گروپ کے درمیان اختلافات کا شاخسانہ بھی ہو سکتا ہے اگر DMG کی افسر نے پولیس گروپ کے افسر کو اپنے پاوں میں بیٹھایا ہوا ہے تو پولیس گروپ کے افسر نے بھی اُسے چومتے ہوہے فاتحانہ مسکراہٹ سے اپنی فتح کا اعلان کیا ہے اب فتح کس گروپ کی ہوئی ہے یا ہونی ہے اور کس کا بابا اوپر ہونا ہے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا

    گریڈ 22 کے افسر کی محبت کا برا انجام —-از—عزیز خان ایڈوکیٹ ہائیکورٹ لاہور

  • کرونا وائرس کے مسئلے میں الجھی دنیا کے نام رمضان کا پیغام!!! از قلم: غنی محمود قصوری

    کرونا وائرس کے مسئلے میں الجھی دنیا کے نام رمضان کا پیغام!!! از قلم: غنی محمود قصوری

    اسلامی سال کا نواں مہینہ رمضان کا ہے اس مقدس مہینے میں قرآن مجید کا نزول ہوا
    اللہ تعالی فرماتے ہیں
    یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا ۔ سورہ القدر 1
    اس لئے اس مہینے کی حرمت باقی مہینوں سے زیادہ ہے اس مہینے میں مسلمان اپنے رب کو راضی کرنے کیلئے روزہ رکھتے ہیں سحری سے لے کر نماز مغرب تک مسلمان اپنے رب کے حکم سے کھانے پینے سے رک جاتے ہیں اس مہینے کی فرضیت بارے اللہ تعالی فرماتے ہیں
    اے ایمان والوں تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی اختیار کر سکو! سورہ البقرہ 183
    اس آیت میں اللہ تعالی نے وضع کر دیا کہ پہلی امتوں پر بھی روزے فرض تھے جیسے ہم پر فرض ہیں اور روزہ رکھنے سے بندہ متقی پرہیز گار بنتا ہے سو پرہیز گاری کو قائم رکھنے کیلئے اور اسلام پر ڈٹ جانے کیلئے روزے فرض کر دئیے گئے ہیں اللہ رب العزت کا مقصد روزے فرض کرکے ہمیں متقی اور پرہیز گار بنانا ہے جب بندہ متقی اور پرہیز گار بنتا ہے تب وہ جھوٹ ،غیبت،زنا ،چوری،ڈاکا غرضیکہ ہر برائی سے بچتا ہے اور نیکی کی طرف راغب ہوتا ہے
    انسان پورا سال غلطیاں گناہ کرتا رہتا ہے مگر وہ اس سے بے خبر رہتا ہے اور متقی بننے کی کوشش نہیں کرتا مگر آمد رمضان کیساتھ ہی مساجد نمازیوں سے بھر جاتی ہیں صدقہ و خیرات کی بہتات ہو جاتی ہے اور ہر بندہ تزکیہ نفس کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ متقی بن جائے اور اللہ کی طرف سے متقیوں کے لئے طے کردہ انعام جنت الفردوس کا حق دار ٹھہرے
    یہ مہینہ بہت برکتوں رحمتوں والا ہے اس مہینے اگر مسلمانوں کی عبادات بڑھ جاتی ہے تو اللہ رب العزت بھی اپنے بندوں کیلئے نیکیوں کا خزانہ کھول دیتے ہیں ایک کی گئی نیکی کے اجر کو بڑھا کر ستر گناہ یا اس سے بھی زیادہ اجر کر دیا جاتا ہے
    اس مہینے میں جہاں حقوق اللہ پر زور دیا گیا ہے وہاں حقوق العباد پر بھی خوب زور دیا گیا ہے اور شرک سے بچنے کے بعد اللہ تعالٰی نے سب سے زیادہ زور حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق پر دیا ہے
    اللہ تعالی فرماتے ہیں
    ساری اچھائی مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتًا اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالٰی پر قیامت کے دن پر فرشتوں پر کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں یتیموں مسکینوں مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دے غلاموں کو آزاد کرے نماز کی پابندی اور زکٰوۃ کی ادائیگی کرے جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے تنگدستی دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے یہی سچّے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں ۔ سورہ البقرہ 177
    اس مہینے میں ہماری عبادات کا دائرہ کار تو وسیع ہونا ہی ہے مگر اس کیساتھ لوگوں کے حقوق بھی ہم پر بڑھ جاتے ہیں اپنے اردگرد قرب و جوار خاندان برادری گلی محلے کے لوگوں کی مدد ہم پر نفلی و فرضی عبادت کی طرح بڑھ جاتی ہے سو ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنے سے کم اور غریب لوگوں کا زیادہ سے زیادہ مالی و ہر طرح کا خیال رکھیں تاکہ وہ بھی ماہ مقدس کے روزے رکھ کر سکون حاصل کر سکیں کیونکہ فرمان مصطفی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں اس وقت تک لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے یہاں بھائی سے مراد تمام مسلمان ہیں
    چونکہ اس وقت پوری دنیا کووڈ 19 یعنی کرونا وائرس کی لپٹ میں ہے جس سے لوگوں کے کاروبار ختم ہو چکے ہیں لوگ کھانے پینے سے محروم ہیں اس صورت میں جہاں فرضی و نفلی عبادت ہم پر فرض ہے ویسے ہی اپنے بھائیوں کی مالی مدد اور اپنی عبادات کے دوران ان کے لئے دعا بھی ہم پر فرض ہے تاکہ اللہ رب العزت راضی ہو کر ہماری مدد میں لگے رہیں اور ہم اپنے بھائیوں کی مدد کی بدولت رحمت الہی سے فیض یاب ہوتے رہیں سو رمضان گزر رہا ہے اپنے بھائیوں کی مدد میں لگ جائیں ان کے کھانے پینے ان کی رہائش و آسائش کا اہتمام جلد سے جلد کیجئے تاکہ ایک نیکی کے بدلے ہم ستر گناہ اجر پا سکیں اور فرض روزے رکھنے میں ان کے معاون بن سکیں اللہ ہم سب سے راضی ہو جائے اور ہماری نفلی فرضی عبادات کیساتھ اپنے بھائیوں کی مدد کرنا بھی قبول فرمائے آمین

  • عقیدہ ختم نبوت کے آئینی و قانونی پہلو  تحریر:پیر فاروق بہاؤالحق شاہ

    عقیدہ ختم نبوت کے آئینی و قانونی پہلو تحریر:پیر فاروق بہاؤالحق شاہ

    عقیدہ ختم نبوت کے آئینی و قانونی پہلو
    تحریر:پیر فاروق بہاؤالحق شاہ
    عقیدہ ختم نبوت اسلام کی اساس ہے۔یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر قصر اسلام کی پوری عمارت کھڑی ہے۔اس عقیدہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سرکار دوعالمﷺ کے وصال ظاہری کے بعد مملکت اسلامیہ کی دگر گوں حالت کے باوجود خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبرؓ نے منکرین ختم نبوت کے خلاف بھر پور جہاد کیا۔صحابہ کرام کی بھاری تعداد ان جنگوں میں شہید ہوئی۔لیکن حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے ان سے تعرض نہ فرمایا۔بلکہ ان کے خلاف جہاد مکمل کیا۔ختم نبوت اتنا اہم مسئلہ ہے کہ قرآن کریم میں واضح الفاظ اس امر کا اعلان کیا کہ سرکاردوعالمﷺ خاتم النبین ہیں۔بلکہ مختلف پیرائے میں بھی اس امر کی وضاحت کی جاتی رہی۔یہاں تک کہ پوری امت اس بات پر یکسو ہو گئی۔مسیلمہ کزاب،طلیحہ بن خویلد،اسود عنسی یامرزا قادیانی ان سب کے خلاف امت مسلمہ یکسو رہی۔انکے نظریات۔ کا رد کیااور۔۔ انکے خلاف جہاد کیا۔اور اسلام کی بنیادی اساس کی حفاظت کی۔قدیم زمانہ اسلام سے لے آج تک مختلف علماء۔ مفصرین،محققین نے نے ختم نبوت کے حوالے سے گراں ا قدر خدمات سر انجام دیں۔مرزا قادیانی کے جھوٹے دعوی نبوت کے بعد پیر سید مھر علی شاہ گولڑوی سید ابوالحسنات شاہ قادری،مولانا سید محمد یوسف بنوری، ،آغا شورش کاشمیری،سید عطا اللہ شاہ بخاری مولانا مفتی محمود،مولانا عبدالستارخان نیازی،ضیاء الامت حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری سیمت متعدد قابل قدر بزرگوں نے ہر میدان میں انکا تعاقب کیا۔حالیہ ایام میں جس انداز میں عقیدہ ختم نبوت پر گفتگو کی گئی۔دشام طرازی کا بازار گرم ہوا اس سے ہر ذی شعور شخص نہ صرف اس رویے پر پریشان ہے بلکہ مغموم بھی ہے۔پاکستان ایک دستوری ریاست ہے۔اسکا ایک تحریری آئین ہے۔جس میں تمام باتیں واضح طور پر درج ہیں۔قانون کا طالب علم ہونے کے ناطے میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں عقیدہ ختم نبوت کی اتنی مظبوط قانونی و دستوری وجوھات موجود ہیں جسکے ہوتے ہوئے ہمیں کسی کمزور بحث کی ضرورت نہیں۔قرارداد مقاصد جو کہ دستور پاکستان کا دیباچہ ہے اس میں واضح طور پر تحریر ہے کہ حاکمیت صرف اللہ تعالی کی ہو گی۔دستور کے آرٹیکل (۱) کے مطابق یہ ایک اسلامی مملکت ہو گی جبکہ آرٹیکل(۲) میں درج ہے کہ یہاں کا کوئی قانون قرآن وسنت سے متصادم نہیں ہو گا۔اس طرح دستور کی شق (1)227کے تحت پارلیمنٹ کواختیار نہیں کہ وہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی کر سکے۔بلکہ وہ قوانین جو قرآن وسنت کے خلاف ہیں انکی فوری اصلاح کی ہدایت کی گئی ہے۔چناچہ ابتدائی طور پر ملک پاکستان اپنے دستور کے تحت اس بات کا پابند تھا کہ یہاں پر قادیانیوں کے خلاف قانون سازی کر کے ایک آئینی ضرورت کو پورا کیا جاتا۔لیکن قیام پاکستان کے بعد جب حکمرانوں نے اس دستوری ضرورت سے انحراف کیا تو 1953میں مسلمانوں کو سڑکوں پر آنا پڑا۔خون ریزی،فسادات،گرفتاریاں،سزاوں، اور سب سے بڑھ کر ایک آئین کی خلاف ورزی کر کے شدید بحران پیدا کر دیا گیا۔تاہم فوج کی مدد سے ان فسادات پر قابو پایا گیا۔مقدمات چلے۔مولانا عبدالستار خان نیازی اور مولانا موددی کو سزائے موت سنائی گئی۔جسکو بعد میں اعلی عدالتوں نے کاالعدم قرار دے دیا۔ 29 مئی 1974کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر پیش آنے والے واقع نے ملک بھی اضطراب پیدا کر دیا ۔ پورے ملک میں تحریک ختم نبوت کا آغاز ہو گیا جسکی قیادت اپنے اپنے علاقوں میں مختلف نوجوان رہنماوں نے کی جن میں حاجی محمد حنیف طیب سندھ میں، پیر امین الحسنات شاہ، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا اللہ وسیا،مولاناخواجہ خان محمد کندیاں والے اور پیر ابراہیم شاہ پنجاب میں،مولانا فضل الرحمن خیبر پختونخواہ میں نمایاں رہے۔ضلع سرگودھا میں تحریک ختم نبوت کا مزکز بھیرہ شریف بنا۔قادیانی تحریک کے کئی اکابرین کا تعلق بھیرہ سے تھا۔اس لئے یہاں کے لوگوں میں اس کے خلاف رد عمل بھی شدید تھا۔حضرت پیر محمد امین الحسنات شاہ نے پنجاب بھر کے مختلف اضلاع۔شہروں اور دیہاتوں کے طوفانی دورے کیے اور اپنی ولولہ انگیز تقریروں سے عوام میں شعور کی ایک لہر پیدا کر دی۔بھیرہ کے تمام مکاتب فکر کے بزرگ جن میں مولانا جلال الدین،مولانا عبدالرشید اور صاحبزادہ ابرار احمد بگوی،حکیم برکات احمد بگوی نمایاں طور پر پیر محمد امین الحسنات شاہ کے ساتھ تھے۔حضور ضیاء الامت کے ایک فرزند پیر محمد ابراہیم شاہ جو کہ فوج میں بطور افیسر منتخب ہو چکے تھے انہوں نے بھی فوج میں اپنی حاضری کو ملتوی کرتے ہوئے ختم نبوت کی اس تحریک میں دلیرانہ کردار ادا کیا۔خاندان ضیاء الامت کے ایک اور فردپیر زاداہ احمد جنید شاہ نے ایک مجاہدانہ کردار ادا کرتے ہوئے پیر محمد امین الحسنات شاہ کے دست بازو رہے اور اپنی دلیری سے دشمنان اسلام کو مرعوب کیے رکھا۔الحاج پیر حفیظ البرکات شاہ نے اس تحریک کی کامیابی کے لیے بے مثال مالی ایثار کا مظاہرہ کیا۔تحریک ختم نبوت کا سب سے نازک مرحلہ تب پیش آیا جب حضرت پیر محمد امین الحسنات شاہ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔آپ رات گئے ایک جلسہ سے واپس آرہے تھے کہ لنگر شریف کے بالکل نزدیک چھپے ہوئے قادیانیوں نے آپ پر سیدھے فائر کیے لیکن اللہ کریم نے آپ کو سلامت رکھا۔دیواروں اور دروازوں پر گولیوں کے واضح نشانات آج بھی قادیانیوں کی بزدلانہ حرکت کی گواہی دے رہے ہیں۔قریب تھا کہ حالات مزید کشیدہ ہو جاتے لیکن قائد تحریک ختم نبوت حضرت پیر محمد امین الحسنات شاہ نے شہریوں کو پر امن رہنے کی تلقین کی۔ پھراس مسئلہ کو مولانا شاہ احمد نوارنی نے پارلیمنٹ میں لے جانے کا اعلان کیا۔اور ایک مرتبہ پھر قانونی رستہ اختیار کیا۔ 30جون 1974کو انہوں نے پارلیمنٹ قرارداد پیش کی جس میں قادیانیوں کے عقائد کے پیش نظر انکو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔اس تحریک پر بحث کے دوران اس بات کی اجازت دی گئی کہ ارکان پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ایک آزاد ریاست کے آزاد شہری ہونے کے ناطے قادیانیوں کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہو کر اپنا موقف بیان کرنے کا مکمل مو قع فراہم کیا گیا۔13دن تک سوال وجواب،بحث و مباحثہ جرح وتنقید کا سلسلہ جاری رہا۔پاکستان کے اٹارنی جنرل یحیح بختیار نے قادیانیوں کے سربراہ مرزا ناصر پر جرح کی اور سوال وجواب پر مشتمل کی گئی گفتگو ں پر مشتمل طویل سیشن ہوئے۔22اگست1974کو اس بحث کو قانونی شکل دینے کے لیے ایک کمیٹی بنی جس کے معزز ارکان میں مولانا شاہ احمد نورانی،مفتی محمود،پروفیسر غفور احمد،چوہدری ظہور الہی،مسٹر غلام فاروق اور سردار مولا بخش سومرو اور وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ اس کمیٹی کے رکن تھے۔7ستمبر1974کو پارلیمنٹ نے قانون سازی کے ذریعے متفقہ طور پر انکو غیر مسلم قرار دیتے ہوئے دستور کی دفعہ260اور دفعہ160میں ترمیم منظور کی۔26اپریل1984 اس وقت کی وفاقی حکومت نے امتناع قادیانیت ارڈی نینس جاری کیا۔جس میں انہیں اسلامی شعائر کا استعمال نہ کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی ایک نئی دفعہ298کا تعزیرات پاکستان میں اضافہ کیا گیا جس کی رو سے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے اور۔اپنی تبلیغ کے ذریعے مسلمانوں کی توہین کرنے کو قابل تعزید جرم قرار دیا گیا۔قادیانیوں نے اس ارڈی نینس کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا۔15جولائی 1984 سے 12اگست1984تک اس کی سماعت بلا تعطل جاری رہی۔قادیانیوں کی۔پیٹیشن نے اس آرڈینینس کو انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا گیا تھا۔12اکتوبر1984کو وفاقی شرعی عدالت نے اس پٹیشن کو خارج کر دیا۔چیف جسٹس جسٹس فخر عالم نے فیصلہ تحریر کیا۔جبکہ جسٹس چوہدری محمد صدیق،جسٹس مولانا ملک غلام علی جسٹس مولاناعبدالقدوس قاسمی نے تائیدی دستخط کیے۔اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بینچ میں اپیل کی گئی۔جسکو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے لکھا کہ قادیانیوں کو مروجہ جمہوری اور قانونی طریقہ کار کے مطابق اقلیت قرار دیا گیا ہے۔نیز یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ چکی ہے کہ قادیانی ملک میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔لہذا یہ قانو ن انسانی حقوق کے خلاف کے نہیں بلکہ آئین پاکستان کے عین مطابق ہے۔یہ فیصلہ جسٹس محمد افضل ضلحہ نے تحریر کیا۔جبکہ ڈاکٹرنسیم حسن شاہ،جسٹس شفیع الرحمن،جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری اور جسٹس تقی عثمانی نے تائید کی۔جبکہ جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری اور جسٹس مولانا تقی عثمانی نے الگ سے بھی فیصلہ تحریر کیا(SC-167…PLD1988)لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس رفیق تارڑ نے 1987میں، بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس امیر المک مینگل نے 1988 میں، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خلیل الرحمن نے 1992میں، جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے ہی جسٹس میاں نزیر اختر نے 1992میں قادیانیوں کے خلاف کیے جانے والے دستوری اقدامات کو قانون کے عین مطابق قرار دیا۔بعد ازاں سپریم کورٹ کے ایک فل بینچ نے 1993میں الگ مفصل فیصلہ تحریر کیا جو کہ اس ضمن میں حرف آخر کی حیثیت رکھتا ہے۔اس بینچ میں جسٹس عبدالقدیر چوہدری جسٹس ولی محمد خان،جسٹس محمد افضل لون،اور جسٹس سلیم اختر شامل تھے۔(1993-S.C.M.R1718) اسمیں فل بینچ نے قرار دیا کہ ایک اقلیت کی جانب سے مسلمانوں کے شعائر کا استعمال فتنہ و فساد کا موجب بن سکتا ہے،ملک میں امن و امان کامسئلہ پیدا ہو سکتا ہے اور لوگوں کی جان و مال خطرے میں پڑ سکتی ہے۔اس لیے انسانی حقوق کے تحفظ اور دستور پاکستان کے بنیادی نکات عمل کرنے کی خاطر قادیانیوں کو اس طرح کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔1988 میں قادیانیوں نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشن کی طرف رجوع کیا اور درخواست کی کہ پاکستان میں انکے انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں لہذا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے جرم میں پاکستان کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں حکومت پاکستان نے جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری کو جینوا میں اس کمشن کے اجلاس میں پاکستانی موقف بیان کرنے کے لیے بھیجا۔انہوں نے قانون،آئین اور بین الاقوامی قوانیں کی روشنی میں قادیانیوں کے الزامات کا جواب دیا۔ اس قانونی جنگ کا نتیجہ 30اگست1988کو سامنے آیا جب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشن نے بھی قادیانیوں کی درخواست کومسترد کر دیا اور حکومت پاکستان کے موقف کو درست تسلیم کیا۔لیکن آج کی پاکستانی حکومت کا کرادر اس حوالے سے معذرت خوانہ کیوں ہے۔ایسے مسائل جن پر قرآن و سنت کا حکم واضح اور امت کا اجماع اور ملک کی منتخب پارلیمنٹ کا اتفاق اور اعلی عدالتوں کے فیصلے اس امر کی تصدیق کر رہے ہیں تو حکومت پاکستان کا موجودہ رویہ ہم سب کے لیے پریشان کن ہے۔اس معاملے پر ایک مضبوط موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔
    ختم نبوت کا مسئلہ محض دینی،قانونی یا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ یہ 22کروڑمسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔انہوں نے صدر ٹرمپ کے پاس جا کر پاکستان کی بدخواہی کر کے اپنے منہ پر کالک ملی ہے اور خود ہی اس مسئلے کو بین الاقوامی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔یہ تو ممکن نہیں کہ آپ پاکستان کا کھائیں،پاکستان میں سہولیات سے لطف اندوز ہوں لیکن اپنے گندے کپڑے ٹرمپ کے سامنے جا کر دھوئیں کیا یہ بات قرینے انصاف ہے کہ 2لاکھ کی آبادی 22کڑوڑ لوگوں کو یرغمال بنا لے۔ان کے عقائد کا مذاق اڑائے اور پھر اپنی مظلومیت کا رونا بھی روئے۔حقیقت یہ ہے کہ قادیانی اس ملک کی اقلیت ہیں انکو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو دیگر اقیلیتوں کو حاصل ہیں۔یہ لوگ ملک میں کسی بھی جگہ ملازمت کر سکتے ہیں،جایئدادکی خریدو فروخت کر سکتے ہیں۔پاکستان کے کئی بڑے ادارے انکی ملکیت ہیں۔ان کو نا صرف قانونی تحفظ حاصل ہے بلکہ یہ حساس اداروں میں اعلی منصاب تک پہنچ سکتے ہیں۔اگر یہ لوگ پاکستان کے قانون کا تحفظ حاصل کر رہے ہیں تومنطقی طور پر انکو ان فرائض کا بھی خیال رکھنا ہو گا جو آئین کے تحت پاکستانی قوم ان سے توقع کرتی ہے۔ہمارے تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ اس موضوع کو نصاب میں شامل کریں اور کچھ سکہ کتب مسئلأئ ختم نبوت ازشورش کاشمیری، حسام الحرمین از مام احمد رضا بریلوی، اور پیر مھر علی شاہ کی کتاب شمس الہدایت کا مطالعہ کریں تا کہ بعد میں کف افسوس نہ ملنا پڑے۔

  • خوشی اور خوشگوار زندگی…!!! تحریر:جویریہ بتول

    خوشی اور خوشگوار زندگی…!!! تحریر:جویریہ بتول

    خوشی اور خوشگوار زندگی…!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)
    یہ بات طے اور مسلمہ ہے کہ خوشی کا تعلق مکان و اموال سے نہیں ہے بلکہ خوشی کا راز دل کی کیفیت میں پوشیدہ ہے…
    جتنا آپ کا دل مطمئن ہوتا ہے،خوشی کے آثار آپ کے چہرے،انداز اور زندگی کے ہر پہلو سے جھلکتے دکھائی دیتے ہیں…
    خوشی پھول نہیں کہ تم سونگھ لو…
    اگر دل اداس ہے تو پھول کو چھُو کر بھی راحت نہیں ملتی…
    عموماً ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس جتنے زیادہ مکانات ہوں گے،بینک بیلنس ہو گا،سہولیات،مرغوبات اور ہر پسندیدہ چیز ہو گی ہم تب خوش رہ سکتے ہیں؟
    ایسا بھی نہیں ہے،بلکہ انہی چیزوں کی زیادتی ہمارے فکر و اندوہ میں اضافے کا باعث ہے…
    ہماری ذہنی تناؤ کو بڑھاوا دیتی ہے…
    یہ چیزیں نعمتیں ضرور ہیں،مگر ان میں نعمتیں عطا کرنے والے کی رضا کو تلاش کر ہی ہم اپنے لیئے باعثِ سکون بنا سکتے ہیں…
    حقیقت میں وہ دل خوش رہ سکتا ہے جو ایمان کی قوت سے بھر پور ہو…
    راضی بقضا رہے…
    ملی نعمتوں پر شکر گزاری کے جذبہ سے لبریز…
    اور عدم موجود پر صبر کے ساتھ پُر اُمید ہو…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
    "اور نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھیئے،دنیاوی زندگی کی شان و شوکت کو جو ہم نے اُن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے،وہ تو ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیئے دی ہے اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے…”
    (طٰہ:131)۔
    خوشی کا معیار اور زندگی میں خوشگواری کا حصول،بڑائی،ظاہری ٹیپ ٹاپ اور دنیاوی مال و متاع کی زیادتی میں نہیں ہے…
    آپ اکثر مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ بڑے بڑے بنگلوں اور مال والے کسی نہ کسی ذہنی کوفت میں مبتلا ہوں گے اور دو وقت کی روٹی بمشکل حاصل کرنے والوں کے انداز،گفتگو اور اطمینان سے خوشی چھلک چھلک کر دکھائی دیتی ہو گی…!!!

    خوشی آپ تب پا سکتے ہیں جب آپ کے دل میں کسی کے معاملات کا رنج نہ ہو…
    کوئی کیا کر رہا ہے،کیوں کر رہا ہے؟
    کسی کے رزق پر آپ حسد اور بغض کا شکار نہیں ہوں گے بلکہ یہ بات ذہن میں لے آئیں کہ وہ آپ کے کسی کام کا نہیں ہے،نہ آپ کو وہ ملنے والا ہے…
    بس آپ کے پاس جو روکھا سوکھا ہے وہ پرفیکٹ ہے…
    یہ دنیا ہے…نشیب و جس کا مقدر ہیں…
    نفس میں عاجزی سے خوشی نصیب ہوتی ہے،
    اسے گمنام رکھنے سے روحانی بالیدگی ملتی ہے…
    بناوٹ اور تکبر سے اکڑے درختوں کو ہی تند و تیز ہوائیں جلد اُکھاڑ دیتی ہیں…
    یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ تقدیر ہمیشہ ہماری خواہشات کے عین مطابق نہیں ہو سکتی…
    یہ ہمارا قصور ہو گا کہ ہم اُسے نہ مان کر خود کو ہمیشہ کے لیئے افسردہ کر لیں،ساری زندگی بددلی اور شکوؤں کی نذر کر ڈالیں…
    دل تب بھی خوشی کے سمندر میں موجیں مارتا ہے جب ہم اپنی خوشی کے ساتھ لوگوں کی بھی بھلائی اور خوشی چاہیں…
    شاعر کہتا ہے:
    "میرے اور میری زمین پر وہ بادل نہ برسیں،جو سارے ملک کو سیراب نہ کرتے ہوں…”
    ہر وقت صرف اپنے ہی غم میں گھلتے چلے جانا اور اس بات کا حسد رکھنا کہ میرے جیسی نعمت،سہولیات اور صلاحیتیں کسی اور کو نہ ملنے پائیں تو یہ چیز بھی خوشی کو ہمیشہ کے لیئے ہمارے آنگن سے رخصت کر دیتی ہے…!!!
    برائی کا بدلہ اچھائی سے دینے،ترشی کے مقابل نرمی اپنانے اور غرور کے مقابل تواضع بھی خوشی لاتی ہے…
    لوگوں کے رویوّں پر کڑھنے کی بجائے وہ جس حال میں ہیں،انہیں قبول کرنے سے بھی خوشی کا حصول ممکن ہے…
    مثالیت میں پڑنے کی بجائے حقیقت کے ساتھ جینے میں بھی خوشی کا گہرا راز ہے…!!!
    عارضی خوشی کے پیچھے دائمی خوشی ضائع نہ ہونے دیں…
    دائمی اور کامل خوشی کیا ہے ؟
    یہ کوئی برائی اس کے حسین چہرے پر چھینٹے نہ پڑنے دے…
    آپ سلاخوں کے پیچھے باہر کی دنیا کو دیکھ کر مسکرائیں…
    آپ شر میں بھی خیر ڈھونڈنے والے ہوں…
    آپ راضی بالقضا ہوں…
    آپ میسر پر مشکور ہوں…
    آپ پانے کے لیئے پر اُمید ہوں…
    آپ پتھر دیکھ کر دلبرداشتہ ہو کر سفر ہی ترک کر دینے کی بجائے اُسے تراش کر رستہ بنائیں…
    آپ تنقید کے پتھروں پر برہم ہو جانے کی بجائے انہیں سے آگے نکل جانے کا برج تعمیر کریں…
    زندگی کے سفر میں رب کی رضا کو نصب العین بنا لیں…
    تو آپ کا ہر لمحہ خوشی و رضا اور اطمینان و برکت سے بھر پور گزرے گا…!!!
    اپنے ٹارگٹ پر نظر کریں اور اس کی تکمیل اور خوشی میں دوسروں کو بھی شامل کریں…
    کسی کی راہ میں روڑے ڈالنے اور کسی کی خوشی پر رنجیدہ ہونا چھوڑ دیں…
    خوشی کے حصول کے یہی آسان سے فارمولے ہیں…
    کیونکہ لاریب خوشی کا تعلق ظاہر و باہر سے نہیں بلکہ اندر کی کیفیات سے ہوتا ہے،اور پھر ہم باہر کی دنیا کو بھی اُسی آئینہ میں دیکھنے لگ جاتے ہیں…!!!!!!
    ===============================
    (جویریات ادبیات)۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤