Baaghi TV

Category: بلاگ

  • لاک ڈاؤن بمقابلہ لاک ڈاؤن !!! تحریر: محمد طارق

    لاک ڈاؤن بمقابلہ لاک ڈاؤن !!! تحریر: محمد طارق

    ابھی سندھ، پنجاب ، آزاد کشمیر، کے پی اور گلگت بلتستان میں لاک ڈائون کو صرف 3 دن ہوئے ہیں پاکستان کے کسی بھی حصے میں لاک ڈائون کے دوران نہ تو کسی کو غدار قرار دے کر گولی مارنے کا حکم ہے اور نہ ہی ضروریات زندگی کی اشیاء کی تمام دوکانیں بند ہیں، نہ گلی گلی بندوق بردارکھڑے ہیں لیکن پھر بھی لوگوں کو فکر ہے کہ لاک ڈائون کے دوران کیا ہو گا عوام تو عوام اربوں کھربوں ڈالر اور بے پناہ طاقت کے وسائل رکھنے والی پاکستانی حکومت بھی پریشان ہے کہ 14 دن کے لاک ڈائون کے نتائج کیا ہوں گے؟ دوسری طرف 7 ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے لاک ڈائون کر رکھا ہے جس کو دل چاہا اور جس شہر یا چوک میں چاہا غدار قرار دے کر گولیوں سے چھلنی کر دیا، 7 ماہ سے 8 لاکھ ظالم فوج 80 لاکھ کشمیری مسلمانوں پر بندوق تانے کھڑی ہے گھر سے باہر جیسے ہی قدم رکھا جاتا ہے درجنوں گولیاں جسم کے آر پار کر دی جاتی ہے بچے بھوک سے تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں اور جوان مسلمان لڑکیوں کو گھروں سے اٹھا کر بے آبرو کر دیا جاتا ہے، درجنوں والدین کی روزانہ شہادت سے سینکڑوں بچے یتیم ہو رہے ہیں لیکن اس لاک ڈائون پر نہ کسی کی زبان ہلی، نہ کوئی آنکھ نم ہوئی۔ نہ کوئی محمد بن قاسم آیا اور نہ ہی دنیا میں امن کی ٹھیکیدار اقوام متحدہ کی نیٹو نے بھارتی فوج کا ہاتھ روکا۔ غرض یہ کہ دنیا میں کشمیری قوم تن تنہا بھارتی فوج کا ظلم برداشت کر رہی ہے۔ ہر مذہب (مسلمان، ہندو، عیسائی، بدھ مت اور غیر مذہب) نے ان کو تنہا چھوڑ دیا لیکن نہیں چھوڑا تو میرے پروردگار آللہ تعالیٰ کی ذاتِ نے ان کو تنہا نہیں چھوڑا،
    میرے دوستو مجھے اجازت دو تو میں آج کہہ دینا چاہتا ہوں کہ شائد کشمیری اللہ تعالیٰ کو اتنے پیارے لگے ہیں کہ ان پر ہونے والے مظالم کو دیکھ کر چپ رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اس لیے کرونا وائرس کا لاک ڈائون سب سے پہلے دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت چین سے ہوا۔ خودساختہ سپر پاور امریکہ بھی شکنجے میں جکڑا گیا۔ بھارت کا یار ایران بھی سخت عذاب کا مستحق ٹھرا ہے جانوروں کے حقوق پر جلوس نکالنے والا یورپ اور کشمیر میں لاکھوں شہادتوں پر چپ رہنے والے یورپ کا حال دیکھ کر بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اب مظلوم قوم کا ہمسائے ملک پاکستان کی بھی حالت تشویشناک اور قابل رحم ہوتی جا رہی ہے دنیا میں کرونا وائرس کے نام پر ہونے والے لاک ڈائون اور اس کے بعد والے حالات سے لاکھوں بلکہ کروڑوں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے
    میں یہاں پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر دنیا چاہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ کرونا وائرس کا لاک ڈائون ختم کرے اور دنیا وائرس سے محفوظ ہو جائے تو ہمیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا لاک ڈائون ختم کرنا ہو گا اور ساتھ ساتھ ظلم پر خاموشی اختیار کرنے والے گناہ پر توبہ کرنی ہو گی ہو سکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے لاک ڈائون کے بعد اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کرتے ہوئے دنیا میں کرونا وائرس کا لاک ڈائون ختم کر دے۔

  • کورونا وائرس کے باعث جونیئر ایشیا کپ ہاکی ٹور نامنٹ ملتوی

    کورونا وائرس کے باعث جونیئر ایشیا کپ ہاکی ٹور نامنٹ ملتوی

    کورونا وائرس کے باعث جونیئر ایشیا کپ ہاکی ٹور نامنٹ ملتوی

    باغی ٹی وی :کرونا کی وجہ سے ایک اور کھل کا ایونٹ متاثر ہوگیا .بنگلہ دیش نے کورونا وائرس کے باعث رواں سال4 سے14جون تک ڈھاکا میں ہونے والا جونیئر ایشیا کپ ہاکی ٹور نامنٹ ملتوی کر دیا ہے۔

    بنگلہ دیش ہاکی حکام کا کہنا ہے کہ ا س وقت جو صورت حال ہے اس میں اس ایونٹ کا انعقاد ممکن نہیں۔ غیر ملکی کھلاڑیوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہیں اس ٹورنامنٹ کو ملتوی کر رہے ہیں۔

    بنگلہ دیش ہاکی فیڈریشن کے سکریٹری مومن الحق کے مطابق ہماری تیاری مکمل ہےمگر موجودہ حالات میں فیڈریشن کی تمام سر گرمیاں معطل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد مہمان کھلاڑیوں کے ایکری ڈیشن اور ویزے کا عمل ہوگا۔ ایشین ہاکی فیڈریشن کا کہنا ہے کہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے ایونٹ کا نیا شیڈول جاری کیا جائے گا۔
    ادھر کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر کے میگا ایونٹ بھی متاثر ہو رہے ہیںِ. آئی سی سی حکام کا کہنا ہے کہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے انعقاد کا حتمی فیصلہ 29 مارچ کو کیا جائیگا تاہم کرکٹ آسٹریلیا کے چیف کیون رابرٹس کو بھرپور یقین ہے کہ تمام کھیل چند ہفتوں یا مہینوں میں معمول کیمطابق دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔
    واضح‌رہےکہ کورونا وائرس کے باعث جاپان میں ہونے والے ٹوکیو اولمپکس 2020 ایک سال کے لیے ملتوی کردیے گئے۔

    بین الاقوامی اولمپک کمیٹی ( آئی او سی) اور ٹوکیو اولمپک آرگنائزنگ کمیٹی کی جانب سے مشترکہ بیان میں اولمپکس 2020 ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا۔بیان کے مطابق آئی او سی کے سربراہ تھامس باخ اور جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے نے کانفرنس کال پر گفتگو کی جس میں دیگر جاپانی حکام اور اولمپک کمیٹی کے عہدیدار بھی شریک ہوئے۔

  • ٹی 20 ورلڈ کپ ہو گا یا نہیں‌ حتمی فیصلے کی تاریخ آگئی

    ٹی 20 ورلڈ کپ ہو گا یا نہیں‌ حتمی فیصلے کی تاریخ آگئی

    ٹی 20 ورلڈ کپ ہو گا یا نہیں‌ حتمی فیصلے کی تاریخ آگئی

    باغی ٹی وی :کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر کے میگا ایونٹ بھی متاثر ہو رہے ہیںِ. آئی سی سی حکام کا کہنا ہے کہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے انعقاد کا حتمی فیصلہ 29 مارچ کو کیا جائیگا تاہم کرکٹ آسٹریلیا کے چیف کیون رابرٹس کو بھرپور یقین ہے کہ تمام کھیل چند ہفتوں یا مہینوں میں معمول کیمطابق دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی سی سی نے رکن ممالک کے کرکٹ بورڈز کیساتھ ہونے والی ٹیلی کانفرنس کے بعد واضح کردیا ہے کہ آسٹریلیا میں 18 اکتوبر سے 15 نومبر تک شیڈول ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا انعقاد کرونا وائرس کے باعث غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے کیونکہ آسٹریلین حکومت نے اپنی سرحدیں بند کر کے صرف اپنے شہریوں کو وطن واپسی کی اجازت دے رکھی ہے تاہم چونکہ میگا ایونٹ کے آغاز میں سات ماہ کا عرصہ باقی ہے لہٰذا خیال ہے کہ ٹورنامنٹ اپنے وقت پر کھیلا جا سکے گا۔

    کرکٹ آسٹریلیا کے چیف کیون رابرٹس بھی پرامید ہیں کہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا شیڈول کے مطابق انعقاد کیا جا سکے گا کیونکہ انہیں پورا یقین ہے کہ آئندہ کچھ ہفتوں یا چند ماہ میں کھیلوں کی تمام سرگرمیاں ایک بار پھر شروع ہو جائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ موجودہ حالات میں خود کو ماہر نہیں سمجھتے لیکن انہیں توقع ہے کہ رواں برس اکتوبر اور نومبر تک حالات نارمل ہو جائیں گے
    واضح‌رہےکہ کورونا وائرس کے باعث جاپان میں ہونے والے ٹوکیو اولمپکس 2020 ایک سال کے لیے ملتوی کردیے گئے۔

    بین الاقوامی اولمپک کمیٹی ( آئی او سی) اور ٹوکیو اولمپک آرگنائزنگ کمیٹی کی جانب سے مشترکہ بیان میں اولمپکس 2020 ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا۔بیان کے مطابق آئی او سی کے سربراہ تھامس باخ اور جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے نے کانفرنس کال پر گفتگو کی جس میں دیگر جاپانی حکام اور اولمپک کمیٹی کے عہدیدار بھی شریک ہوئے۔

  • کرونا وائرس، احتیاط اور تزکیہ نفس—از— محمد نعیم شہزاد

    کرونا وائرس، احتیاط اور تزکیہ نفس—از— محمد نعیم شہزاد

    لانگ ویک اینڈ کے بعد آج پہلے دن گھر سے باہر نکلنا ہوا۔ گلیاں، بازار سنسان، شاہرائیں ٹریفک سے خالی، شہر میں ہو کا عالم، ایک اور نیا مظاہرہ جو دیکھنے کو ملا وہ چوکوں چوراہوں پر پولیس افسران اور سپاہی اور کہیں فوجی جوان، کسی سمت ٹریفک وارڈنز اور کہیں رینجرز کے جوان۔ ائیر پورٹ روڈ پر "Chippa” کی ایمبولینس اور مستعد ڈرائیور، شہر میں ایمرجنسی اور کرفیو کا سماں پیش کر رہا تھا ۔

    وہ سڑکیں جہاں رش کی وجہ سے میں جانا پسند نہیں کرتا تھا سنسان پڑی تھیں۔ دل مغموم تو ہوا مگر ساتھ ہی مطمئن بھی کہ قوم نے حالات کو سنجیدگی سے لیا ہے اور حفاظتی اقدامات پر طوحاً و قرحاً عمل شروع کر دیا ہے۔ وبا ہی ایسی پھیلی ہے کہ بچے بڑے سب اس سے محتاط ہو گئے ہیں ۔ ایک ریڑھی بان کو دیکھا جو بچوں سمیت سڑک پر جا رہا تھا اور اس نے ماسک لگا رکھا تھا۔

    اس کی بیوی اور معصوم بیٹی بھی دوپٹے سے اپنا منہ ڈھانپے ہوئے نظر آئیں۔ سٹوڈنٹس سے بات ہوئی تو ان کے والدین پہلے سے آمادہ تھے کہ بچوں کو آن لائن ٹیوشن دے دیں۔ الغرض ہر سمت ایسے مناظر دیکھنے کو ملے کہ یقین ہو گیا ہم ایک منظم قوم ہیں اور کرونا کو شکست دینے کے لیے پر عزم ہیں۔ اسی قومی جذبے کی ضرورت تھی جو بیدار ہو چکا ہے اور یقیناً یہ کرونا فری پاکستان کا آغاز ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان الانسان کان ظلوما جہولا
    خالق کائنات نے اپنے کلام قرآن مجید میں انسان کو ظالم اور بے علم قرار دیا۔ انسان کی کیفیت ایسی ہی ہے کہ وہ قریب کی چیز کا اثر فوراً قبول کرتا ہے اور دور کی چیز کو ایسے بھلا دیتا ہے گویا اس کو مانتا ہی نہیں ۔ آج دنیا بھر میں کرونا وائرس پھیل رہا ہے، اس کی وجہ سے کربناک اموات نظر آ رہی ہیں، تشویشناک صورتحال ہے اور ہر کوئی خبردار نظر آتا ہے ۔ بہت اچھی بات ہے اس سے کوئی انکار نہیں مگر انسان عقبیٰ کو بھول چکا، اپنے دنیا میں آنے کے مقصد کو بھلا چکا ہے۔

    یہ بھول چکا ہے کہ اسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا۔ اس کا حق تو یہ تھا کہ دنیا میں خدا کی نیابت اختیار کرتا اور اللہ کے احکامات کو نافذ کرتا مگر وہ سب بھول کر اپنی ہی دنیا میں مگن ہو گیا۔ جب تک ڈھیل ملی رہی انسان نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ صدیوں سے انسانی رویے میں تبدیلی نہ آ سکی۔ جدید سائنسی تحقیق اور علوم و فنون میں مہارت بھی انسان میں قبل از وقت توبہ کا شعور بیدار کرنے سے قاصر رہی اور آج بھی جب مصیبت گلے پڑ جاتی ہے تو رجوع الی اللہ کی فکر جاگتی ہے۔

    جب انسان اپنی فطرت پر قائم ہے تو قربان جاؤں اس مالک کائنات پر جو ہر بار خطا کاروں سے درگزر کا معاملہ فرماتا ہے۔ قریب ایک ماہ بعد رمضان کی آمد آمد ہے۔ سابقہ تاریخ گواہ ہے کہ رمضان تزکیہ قلوب اور اصلاح نفس کا موقع فراہم کرتا ہے مگر اس بار تو رمضان سے پہلے ہی لوگوں کے دلوں سے زنگ اتر جائے گا۔

    کرونا وائرس، احتیاط اور تزکیہ نفس
    محمد نعیم شہزاد

  • قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ، آئرلینڈ اور نیدر لینڈ خدشات کا شکار ہوگیا

    قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ، آئرلینڈ اور نیدر لینڈ خدشات کا شکار ہوگیا

    قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ، آئرلینڈ اور نیدر لینڈ خدشات کا شکار ہوگیا

    باغی ٹی وی :دنیا بھر پر کرونا وائرس کے سائے گہرے ہونے لگے. دنیا بھر میں کرونا وائرس سے کھیلوں کی سرگرمیاں متاثر ہونے لگیں.

    قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ، آئرلینڈ اور ندر لینڈ خدشات کا شکار ہوگیا .انگلش کرکٹ بورڈ پاکستان کے ساتھ سیریز اور اپنے کرکٹ سیزن کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کررہا ہے ۔پاک انگلینڈ سیریز کسی دوسرے ملک میں کروانے کی کوئی آپشن زیر غور نہیں ہے ۔ انگلش کرکٹ بورڈ نے اپنا ڈومیسٹک کرکٹ سیزن 28 مئی تک ملتوی کررکھا ہے

    پی سی بی نے سیریز کا فیصلہ انگلش کرکٹ بورڈ پر چھوڑ دیا ہے ۔آئرلینڈاور ندر لینڈ کرکٹ بورڈ بھی پاکستان کے سیریز کے معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں۔آئرش اور نیدر لینڈ کرکٹ بورڈ بھی سیریز کے حوالے سے خاموش ہیں ۔

    جون کے آخر میں قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ ، ندر لینڈ اور آئر لینڈ شیڈول ہے .موجودہ صورت حال میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے ۔انگلینڈ، آئرلینڈ اور ندر لینڈ سے سیریز کے معاملات پرنظر رکھے ہوئے ہیں وقت آنے پر فیصلہ کریں گے ۔

  • عالمی صہیونزم کی شکست اور اعتراف—–از—-صابرابو مریم

    عالمی صہیونزم کی شکست اور اعتراف—–از—-صابرابو مریم

    خطے کی موجودہ صورتحال اور بالخصوص شام و یمن اور عراق میں صہیونی محاذ کی شکست کے بعد ایک ایسی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے کہ جس میں غاصب صیہونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی قابض افواج سے تعلق رکھنے والے میجر جنرل تامیر ھایمن ایک فوجی بریفنگ میں ایسے انکشافات کر رہے ہیں جس سے مغربی ایشیائی ممالک میں جاری جنگ و جدل اور صہیونیوں کی ناپاک سازشوں کا پردہ چاک ہو گیا ہے ۔

    صہیونی قابض افواج کے میجر جنرل تامیر ھایمن اسرائیل کے ایک اعلی سطح کے فوجی اہلکاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اس وقت اسرائیل کی انٹیلی جنس کے چئیر مین کے عہدے پر کام کر رہے ہیں ۔

    اسرائیلی فوج کے ایک اعلی سطحی اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے تامیر ھایمن نے کہا ہے کہ اسرائیل کی تمام تر کوششوں کے باوجود اسرائیل کی شام اور عراق میں شکست کی سب سے بڑی وجہ ایران کی حکمت عملی اور اسرائیلی پالیسیوں کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کر نا ہے ۔ اپنی اسی بریفنگ میں فوجیوں کو یہ بتاتے ہیں کہ ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کی فکراسرائیل کے شام اور عراق سمیت خطے میں منصوبوں کی ناکامی کا باعث بن رہی ہے اور فکر سے منسلک لوگ خاص طور پر اسرائیل کو صفحہ ہستی سے نابود کرنا چاہتے ہیں ۔

    تامیر ھایمن اس ویڈیو فوٹیج میں اپنے ماتحت فوجی افسران کوشا م اور عرا ق کی صورتحال کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ عراق ہمارے اور امریکہ کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے ۔ عراق اب اسرائیل کے لئے آج سے بیس سالے پہلے والا عرا ق نہیں رہا ۔ عرا ق اور شام یہ دونوں ایران کے ساتھ مربوط ہو چکے ہیں اور ایران ان کی پشت پناہی کر رہا ہے جس کی وجہ سے اسرائیل کے منصوبوں پر عمل درآمد میں اکثر وبیشتر ناکامی کا سامنا ہے ۔

    یمن میں سعودی عرب کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ھایمن نے کہا ہے کہ ایران سمندری حدود میں یمن کے راستے باب مندب تک آ چکا ہے اور باب مندب بھی ہمارے منصوبوں کے تحت اسرائیل کے ہاتھ سے نکل چکی ہے حالانکہ اسرائیل یمن میں سعودی قیادت میں جاری جنگ میں مسلسل یمن کے خلاف سرگرم عمل ہے لیکن یہاں بھی ایران کی یمن کے ساتھ ہم آہنگی نے نہ صرف یمن کے حوثیوں کو کامیاب قرار دلوا یا ہے بلکہ ہمارے تمام منصوبے یہاں پر ناکام ہو رہے ہیں ۔

    اسی طرح ایک اور عنصر جو کہ اسرائیل کے پڑوس میں موجود ہے وہ لبنان میں حزب اللہ کا وجود ہے ۔ حزب اللہ کے بارے میں ھایمن نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ ہمارے پڑوس میں ایک ایس اگروہ موجو دہے کہ جو اسرائیل کے لئے انتہائی خطر ناک ثابت ہو اہے ۔ حزب اللہ اپنے قیام سے اب تک مسلسل طاقت میں اضافہ کر رہی ہے اور حزب اللہ میں موجود شیعہ عناصر جو براہ راست ایران کو اپنا مرکز و محور مانتے ہیں اسرائیل کے لئے خطر ناک ہیں کیونکہ اسرائیل کی دفاعی طاقت کو حزب اللہ کئی مرتبہ سوالیہ نشان پر لا چکی ہے ۔ ھایمن کے اعتراف کے مطابق حزب اللہ کے پاس جد ید اسلحہ اور ایسے اسلحہ موجود ہیں جو اسرائیل کے ٹینکوں اور توپوں کا آسانی سے مقابلہ کر سکتے ہیں ۔

    اسی بریفنگ میں ھایمن نے اعتراف کیا ہے کہ عراق، یمن اور شام سے ایسے میزائل داغے جا سکتے ہیں جو براہ راست تل ابیب پر گر سکتے ہیں اور بڑے نقصانات کا خدشہ موجو دہے ۔

    اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلی عہدیدار ھایمن نے اپنی اسی فوجی بریفنگ میں فلسطینیوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کے اند ر فلسطینیوں کا وجود دہشت گردی کے وجود کے مترداف ہے اور یہ فلسطینی بھی ایران کے ساتھ منسلک ہیں اور ایران سے اسلحہ اور ٹریننگ لیتے رہے ہیں اور اب اسرائیل کے خلاف برسر پیکار ہیں ۔ ھایمن نے اعتراف کیا کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے پاس اب ایسی ٹیءکنالوجی موجود ہے جو اسرائیل کے ڈرون طیاروں کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے اور فلسطینی مزاحمت کار اس عنوان سے کئی مرتبہ ا سکا عملی نمونہ دکھا چکے ہیں ، ھایمن نے یہاں تک ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے جونیئر فوجی افسران کو بتایا کہ فلسطینی مزاحمت کار ڈرون مار گرانے میں تو مہارت رکھتے ہی ہیں بلکہ ساتھ ساتھ دیسی ساختہ ڈرون طیار کر رہے ہیں اور اسرائیل کے حساس مقامات کی جاسوسی بھی کرتے ہیں ۔

    ھایمن نے گفتگو کے اختتام پر اپنے فوجی افسران کو بتاتے ہیں کہ فلسطین، یمن، عراق، شام اور لبنان میں حزب اللہ یہ پانچ عناصر ایسے عناصر ہیں جو اسرائیل کے سلامتی کے لئے خطرہ ہیں اور اسرائیل کو اپنا سب سے بڑا دشمن تصور کرتے ہوئے اسرائیل کی نابودی کے لئے سرگرم عمل ہیں ۔ ان تمام پانچ عناصر کی پشت پناہی میں ایران کی انقلابی سوچ اور تفکر کے ساتھ ساتھ انقلاب کے وہ قائدین ہیں یعنی ھایمن کا اشارہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی طرف ہے کہ جنہوں نے فلسطین کی آزادی کو حتمی قرار دیا ہے اور اسرائیل کی نابودی کو یقینی اور وعدہ الہی قرار دیا ہے ۔

    خلاصہ اب یہ ہے کہ اگر ان تمام پانچ کے پانچ عناصر کی جد وجہد کا مختصر جائزہ لیا جائے تو واضح طور پر ایک بات یہ ثابت ہوجاتی ہے کہ یمن کے عوام اپنی آزادی اور اپنے استقال و عزت کی جنگ لڑ رہے ہیں اور انہوں نے امریکہ و اسرائیل کے سامنے سرتسلم خم ہونے سے انکار کر دیا ہے یہاں پر یقینا ایران کا کوئی ایسا فائدہ موجود نہیں ہے کہ جس کے لئے ایران کو مورد الزام ٹہرایا جاتا رہے ۔ یمن کے حوثی اپنی آزاد حیثیت میں موجود ہیں اور اپنے مستقل اور حال کے فیصلے وہ خود کر رہے ہیں ۔ یہاں پر جنگ استقلال کی جنگ ہے ۔

    شام کی بات کریں تو یہاں بھی شامی حکومت اپنے وطن اور سرزمین کو ان دہشت گردوں سے نجات دلوانے کی جنگ لڑ رہی ہے جن دہشت گردوں کو امریکہ، اسرائیل اور عرب حواریوں نے شام کی حکومت کو گرانے کے لئے بھیجا تھا جس کا ذکر کود اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلیٰ عہدیدار تامیر ھایمن نے بھی اپنی گفتگو میں کیا ہے ۔ لہذا شام اپنی بقاء اور خود مختاری کی جنگ لڑ ررہا ہے ۔

    لبنان کی حزب اللہ بھی لبنان کے دفاع میں مصروف ہے ۔ اسرائیل کو نکال باہر کر چکی ہے اور حزب اللہ کی طاقت کا ذکر بھی ھایمن اپنی گفتگو میں کر چکے ہیں ۔ عرا ق کی صورتحال بھی اسی طرح کی ہے کہ جہاں داعش جیسی امریکی وا سرائیلی حمایت یافتہ دہشت گرد حکومت اور تنظیم کو ختم کرنے کے لئے عرا ق نے مزاحمت اور استقامت کے ساتھ کامیابی حاصل کر لی ہے ۔

    فلسطین کی جہاں تک بات ہے تو فلسطینیوں کی جنگ نہ تو ایران کی آزادی کی جنگ ہے اور نہ ہی ایران کے لئے ہے بلکہ فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے اور فلسطین کی آزادی فلسطینیوں کا حق ہے ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ جہاں تک ایران کی جانب سے ان پانچ عناصر کی مدد و تعاون کی بات ہے تو یقینا ایران نے عرا ق و شام کی درخواست پر ان دونوں ممالک کا ساتھ دیا تا کہ دونوں خود مختاری قائم رہے ۔ ایران نے لبنان میں حزب اللہ کا ساتھ اس لئے دیا کہ حزب اللہ لبنان کو اسرائیل کے قبضہ سے آزاد کروائے اور ایسا ہوا ۔ اسی طرح ایران یمن کے عوام کے حقوق کے دفاع کی حمایت کرتا ہے اوراسی طرح فلسطین کے لئے ایران نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد سے مسلسل مالی ومسلح مدد بھی کی ہے اور جد ید ٹیکنالوجی سے بھی فلسطینیوں کو آراستہ کیا ہے جس کا ذکر خود صہیونی دشمن کے انٹیلی جنس ٓفیسر تامیر ھایمن نے نشر ہونے والی ویڈیو میں کیا ہے ۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسرائیل کمزور ہو چکا ہے اور نابودی کی طرف گامزن ہے ۔ عنقریب وہ وقت آنے ہی والا ہے کہ مظلوم ملت فلسطین کو صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے چنگل سے نجات حاصل ہوگی اور دنیا بھر سے فلسطینی اپنے وطن واپس آ کر سرزمین مقدس فلسطین پر آباد ہوں گے اور یہ حتمی ہونا ہے اگرچہ ہم اس واقعہ کو دیکھ پائیں یہ نہ دیکھیں ۔

    عالمی صہیونزم کی شکست اور اعتراف

    تحریر: صابرابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان

    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

  • جہد مسلسل—–از—–ساجدہ بٹ

    جہد مسلسل—–از—–ساجدہ بٹ

    کُچھ جہد مسلسل سے تھکاوٹ نہیں لازم

    انسان کو تھکا دیتا ہے سوچوں کا سفر بھی

    پوری دنیا میں پھیلتی ہوئی موزی مرض کرونا وائرس نے ہر انسان کو خوف زدہ کر دیا ہے اور امیر و غریب میں فرق محسوس کیے بغیر ہر فرد آج بے بس نظر آرہا ہے۔۔۔
    کیوں کہ ابھی تک اس بیماری کا علاج دریافت نہیں ہوا جس کی وجہ سے پوری دنیا مایوس ہو رہی ہے کہ اگر بیماری لاحق ہو گئی تو ہمارا کیا ہو گا؟؟؟؟؟؟؟

    غیر مسلم تو چلو مانا کہ مایوس ہیں۔۔
    مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اے مسلمان تُو کیوں مایوس ہے؟؟؟

    ایک اللہ واحد لا شریک پے یقین رکھنے والا مایوس کیوں ہوا؟؟.
    کیا ہمیں معلوم نہیں کہ عزت دینے والا۔۔۔
    ذلت دینے والا۔۔۔
    صحت دینے والا۔۔۔
    بیماری دینے والا۔۔۔
    دولت دینے والا۔۔۔
    شہرت دینے والا۔۔۔
    شفاء دینے والا۔۔۔۔

    وہ پاک پروردگار ہے دونوں جہاں کا مالک و مختار ہے اللہ تعالیٰ کے لئے تو کچھ بھی نہ ممکن نہیں۔۔۔
    پھر یہ بیماری کیا میرے رب کریم سے زیادہ بڑی ہے ؟؟؟

    اگر نہیں تو اے مسلمان تُو مایوس نہ ہونا اپنے اللہ تعالیٰ پے کامل یقین رکھنا اپنا ایمان کمزور نا ہونے دینا۔۔۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔۔

    علاج کرو کیوں کہ جس ذات نے بیماری نازل کی ہے اُس کا علاج بھی اُتارا ہے

    ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو فرمایا وہ بلاشبہ حق اور سچ ہے اس لیے سب سے پہلے تو اس بات پر یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری نازل کی اُس کا علاج بھی اُتارا یہ الگ بات ہے کہ اس خوف اور مایوسی میں مبتلا انسان ابھی تک دریافت نہیں کر سکے۔۔۔۔

    لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا کیونکہ مایوسی ہمارے کمزور ایمان کی نشانی ہے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں بیشک یہ بیماری بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم پر عذاب ہے کہ شاید یہ انسان اب بھی سمبھل جائے۔۔۔۔
    اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتے رہیں دعائیں کریں وہی اس بیماری سے شفا عطا کر سکتے ہیں۔۔۔۔
    اور ساتھ ساتھ اپنی اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں۔۔۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔
    صفائی نصف ایمان ہے۔۔۔۔

    ہر لحاظ سے صفائی کا خیال رکھنے کا حکم ہم مسلمانوں کو آج سے چوداں سو سال پہلے آگاہ کر دیا گیا تھا اگر صحیح سے عمل کرتے تو شاید ہمارا یہ حال نا ہوتا جو آج ہوا ہے۔۔۔
    اس میں ہمیں جسمانی صفائی گھر کی صفائی ستھرائی غرض یہ کہ ہر قسم کی صفائی سے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی اور اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے جہد مسلسل سے کام لینا ہو گا فضول سوچوں سے مایوسیوں سے نکلنا ہو گا اور اللہ تعالی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلنا ہو گا بیشک اسی میں ہماری فلاح ہے۔۔۔۔

    پھر ان شاء اللہ ہم اس کرونا وائرس جیسی بیماری سے نجات حاصل کر لیں گے۔۔۔۔
    مگر اس کے لیے ایک ہی بات ۔۔۔۔۔
    اللہ تعالی پر بھروسہ۔۔۔
    مایوسی سے بچنا۔۔۔۔
    اور جہد مسلسل۔۔۔۔۔

    اٹھو مومنو! آج سے عہد کر لو حبیب خدا کی اطاعت کریں گے

    عقیدت پے پہلو بہ پہلو عمل سے حقیقت میں تعمیل سنت کریں گے

    ان شاء اللہ

    جہد مسلسل

    تحریر: ساجدہ بٹ

  • مصیبت کی گھڑی میں پکار کی اہمیت_!!!—از—-جویریہ چوہدری

    مصیبت کی گھڑی میں پکار کی اہمیت_!!!—از—-جویریہ چوہدری

    تصور کی لہروں پر سفر کرتے کرتے میری سوچوں کا دھارا مجھے دور کہیں بہت دُور کے دور میں لے گیا…
    کورونا وبا کے خدشات،صورت حال اور بدلتی دنیا کے پس منظر میں تدابیر،حفاظتی اقدامات اور بے بسی سبھی سوچوں کے سمندر میں مختلف زاویے بنا رہے تھے…
    قوم میں افواہیں،ہیجانی کیفیت،اور خوف کے سائے…وسائل کی کمی،مشکل صورت حال میں کیا ہو گا وغیرہ…

    یہ سچ ہے کہ جب مصیبت یا بلا و وبا سے سامنا ہوتا ہے تو بسا اوقات وسائل و اسباب بھی کارگر ثابت نہیں ہوتے…
    یہی وجہ ہے کہ ان اسباب اور وسائل کو اختیار کر کے ان کے مؤثر یا غیر مؤثر ہونے کا انجام اس ذات پر ہی چھوڑ دینا چاہیئے جو تمام وباؤں اور بلاؤں کو ٹالنے کی قدرت و اختیار رکھتی ہے…
    ان وائرس کے پھیلنے اور مرض کا محرک بننے کا اذن بھی اسی کی طرف سے ہوتا ہے

    بحثیت مسلمان قوم کے ہمارا یہی ایمان ہے اور ہونا چاہیئے…!!!
    مصیبت کی گھڑیوں میں اسے پکارنے کی بھی ایک اپنی ہی شان اور مزہ ہے…
    اور مذہب پر یقین رکھنے والے اس سے انکار نہیں کر سکتے…!

    قرآن مشرکین کی حالت زار کا نقشہ بھی یوں ہی کھینچتا ہے کہ جب تُند و تیز ہواؤں اور طوفانی لہروں کی زد میں ان کی کشتیاں پھنس جاتی ہیں…
    ملاح بے بس ہو جایا کرتا تھا
    ٹیکنالوجی ساتھ دینے سے انکار کر دیتی تھی…

    معبودانِ باطل کہیں نظر نہیں آتے تھے
    مدد کو نہیں پہنچتے تھے تو وہ اسی اکیلے اللّٰہ کو اخلاص کے ساتھ پکارتے…
    جب کشتی طوفانی لہروں کے بھنور سے نکل کر ساحل کی خشکی پر پہنچتی تو ان کے وہی رنگ ڈھنگ ہو جاتے…

    مشکل حالات گزر جانے کے بعد پرانی روش اختیار کر کے اللّٰہ کے شریک بنانے لگتے…
    تو اللّٰہ تعالٰی نے انسانیت کی رہنمائی کرتے ہوئے قرآن مجید میں اُن کی اس ادا و انداز کو سخت نا پسند فرمایا ہے…!!!

    پرت در پرت واقعات ذہن کے دریچوں پر جھلملانے لگ گئے__
    وہ نوح علیہ السلام کا بیٹا تھا ناں۔۔۔

    باپ کی شفقت پدری نے جوش مارا اور پکارا کہ اے بیٹے !!!!
    آ جاؤ ہمارے ساتھ اس کشتی پر سوار جاؤ…

    تب بیٹے نے بڑی لا پرواہی سے جواب دیا، نہیں میں موجوں کے مقابل پہاڑ پر پناہ لے لوں گا…
    نوح علیہ السلام نے کتنا دردِ دل سے کہا ہو گا_:

    لا عاصم الیوم الا من رحم ربی_
    اور اس کے اور پہاڑ کے درمیان منہ زور موج حائل ہو گئی تھی…!!!!!

    یادوں کی لہروں کا سفر جاری تھا…میرے ذہن میں یونس علیہ السلام کا واقعہ آیا…
    جب قوم کو اللّٰہ کے عذاب سے ڈرا کر کشتی میں سوار ہو گئے تھے

    کشتی ہچکولے کھانے لگ گئی تو کسی مسافر کی کمی کی تجویز پیش گئی…
    معاملہ قرعہ اندازی تک پہنچا تو حضرت یونس علیہ السلام ہی دریا کی لہروں کے سپرد کیئے جانے والے ٹھہرے__

    لہروں میں جاتے ہی مچھلی نے صحیح سالم نگل لیا…
    اُس مچھلی کے پیٹ کے اندر وقت کے پیغمبر نے کیا کہا تھا_؟

    لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین¤
    تب خالق کائنات نے اپنے پیغمبر کی اس ادا کی کتنی بھاری جزا رکھی تھی کہ:

    "پس اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو لوگوں کے دوبارہ اٹھائے جانے تک اس(مچھلی) کے پیٹ میں رہتے__!!!”
    اس دعا نے صدیوں تک متوقع سفر کو کس قدر جلدی سے طے کر دیا…؟
    ہاں یہ پکار کتنی اہمیت رکھتی ہے__!!!

    کہ ایمان والوں کو نصیحت کی گئی کہ جب تم حالتِ جنگ میں ہو تو ثابت قدم رہو اور اللّٰہ تعالٰی کا ذکر کثرت سے کرو تاکہ فلاح و کامرانی تمہارا مقدر ٹھہرے…
    اس پکار کے عمل سے ہی مدد آیا کرتی ہے…

    کائنات کا خالق و مالک ہماری پکار پر ہماری طرف متوجہ ہو کر ہماری فریاد سنتا ہے اور اس سے نکلنے کی راہیں ہموار کرتا ہے…!!!
    تبھی اپنا پیغام پہنچا دیا کہ

    کہہ دو اے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم_!!!
    اگر تمہاری دعائیں نہ ہوں تو میرا رب بھی متوجہ نہیں ہوتا__!!!(الفرقان)۔

    ابراہیم علیہ السلام نے کیا کہا تھا؟
    اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے…!!!

    رحمتِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دعا کو ہی عبادت کہا…
    پیارے پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہر موقع اور وقت کے لیئے کی گئی وسیع المعانی دعائیں ہمارا زادِ سفر ہیں…

    اے قوم__!!!
    انتظامیہ و قوانین نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے دی گئی ہدایات اوراحتیاطی تدابیر، اختیار کرنے کے بعد اپنے رب سے رابطہ بھی مضبوط کر لیجیئے…

    اپنے گھروں کے اندر رہتے ہوئے بھی انہیں مسجدوں کی صورت بنا لو__!!!
    توبہ کے سجدوں میں گڑگڑا کر اسے راضی کریں اور اپنے گناہوں کی مغفرت مانگتے ہوئے آئندہ ان کا اعادہ نہ کرنے کا عہد کریں…

    ہماری حفاظت کی خاطر تدبیر کے لیئے لاک ڈاؤن کی صورت میں اُس سے تعلق کو لاک نہ ہونے دیں اور کسی گھمبیر صورت حال سے بچنے کی دعائیں مانگیں…
    کہ یہ وبا ہم پر سے جلد از جلد چھٹ جائے کہ
    یمحو اللّٰہ ما یشآء و یثبت،و عندہ علم الکتٰب¤[الرعد]۔

    "اللّٰہ جسے چاہے مٹا دیتا ہے اور جسے چاہے ثابت رکھتا ہے،اور اسی کے پاس لوح محفوظ ہے…!!!”

    پس اس کی رحمت کا اتنا سوال کیجیئے کہ وہ ہمارے اوپر سے اس وبا کو مٹا دے…
    لغزشوں کو مغفرت اور بدبختیوں کو سعادتوں میں بدل دے…!!!

    معاشی اور اقتصادی بحران اس قوم کو نہ ڈسنے پائے اور افراتفری کی بجائے احتیاط کی جائے…!!!
    کہ ہم بے بس اور محدود وسائل والے اور لاریب اس کی رحمت و خزانے لا محدود ہیں…!!!

    یہ پکار مصیبت میں بہت بڑی دوا ہے، یہ تمام رکاوٹوں،موسمی تغیرات،فضاؤں اور خلاؤں کا سینہ چیرتی سیدھی عرش والے کے پاس پہنچتی ہے اور وہی تو اس کائنات کا پیدا کرنے والا اور اس میں بستی تمام مخلوقات کا رب ہے…!!!
    ہم حالتِ جنگ میں ہیں،کئی محاذوں پر جنگ اور جنگی حالات میں کثرت سے اللّٰہ کا ذکر کایا پلٹ دیا کرتا ہے…
    واذکرو اللّٰہ کثیر لَّعلَّکُم تفلحون¤

    اسباب اختیار کر کے ان کے انجام کو مسب الاسباب پر چھوڑ دینا توکل اور یقین کا ہی حصہ ہے،جس سے ہمارے دین نے ہمیں منع نہیں فرمایا ہے بلکہ اس کی تاکید کی ہے…!!!
    احتیاطی تدابیر اپنانے کے بعدبیماریوں سے بچاؤ اللّٰہ تعالٰی کے سپرد کر دینا، اور اپنے ایمان،توحید اور توکل کی مضبوطی کے ساتھ اعمال کی درستگی اور اخلاق و آداب کی اصلاح پر توجہ آج کی اہم ترین ضرورت ہے_!!!

    مومن اسباب اختیار کر کے ان پر تکیہ نہیں کر بیٹھتا بلکہ ان کے مؤثر ہونے کے لیئے ان اسباب کے مالک کی طرف رجوع کرتا ہے کہ اس کے رحم کا ساتھ جسم میں روح کی طرح ضروری ہوتا ہے…
    اے ہمارے رب !!!
    ہم پکارتے ہیں:
    ربنا ولا تحملنا ما لا طاقۃ لنا بہ واعف عنا واغفرلنا وارحمنا انت مَوْلٰنَا،اَنتَ مَوْلٰنَا،اَنتَ مَوْلٰنَا_واحفظنا مِمِّا نخافُ و نَحذر_!!!
    آمین ثم آمین…!!!

    ==========================🌻🌻🌻

    مصیبت کی گھڑی میں پکار کی اہمیت_!!!
    تحریر✍🏻:(جویریہ چوہدری)۔

  • دلوں کو مسخر کیسے کریں—-از—-حافظہ قندیل تبسم

    دلوں کو مسخر کیسے کریں—-از—-حافظہ قندیل تبسم

    "ہم نرمی ،افہام و تفہیم اور مناسب طرز عمل سے اپنا پسندیدہ ماحول پیدا کر سکتے اور اپنی بات منوا سکتے ہیں۔”

    لوگوں سے اچھے برتاؤ کی ترکیبیں استعمال کرنے کے حوالے سے آپ کی صلاحیت اس وقت دو چند ہو جائیں گی جب آپ کسی سے ایسا عمدہ معاملہ کریں گے کہ اسے احساس ہو وہ آپ کو سب سے زیادہ پیارا ہے۔ آپ کا دوسروں سے سلوک اس درجہ خوبصورت اور ہم آہنگ، انس و محبت اور تکریم سے بھر پور ہو کہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں آپ کا ایسا شاندار تعلق ان کے سوا کسی اور سے نہیں۔

    ایسا ہی رویہ اپنے والدین، بیوی بچوں اور اپنے ہم چشموں کے ساتھ رہن سہن میں بھی اختیار کریں۔ جن افراد سے کبھی کبھی واسطہ پڑتا ہے ان کے ساتھ بھی آپ کا طرز عمل مثالی ہونا چاہیے۔

    ان سب لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہونا ممکن ہے کہ آپ انہیں سب سے زیادہ محبوب ہیں لیکن ایسا صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب آپ انہیں یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں کہ آپ کو ان سے زیادہ پیار کسی اور سے نہیں۔

    ایسے طرز زندگی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۃ ہمارے سامنے ہے جو آدمی آپ کی سیرت کی ورق گردانی کرے گا اسے یہ تسلیم کر لینے میں تامل نہیں ہو گا کہ آپ اعلی اخلاقی روایات کے حامل تھے۔ آپ ہر ملنے والے کی عزت کرتے، اسے اہمیت دیتے، اسے ہم آہنگ ہوتے یا اسے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتے اور ہر ایک سے نہایت خندہ روئی اور بشاشت سے پیش آتے۔جس کسی سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوتی تو وہ یہی سمجھتا کہ آپ اسے سب سے بڑھ کر چاہتے ہیں۔ نتیجتاً وہ بھی آپ کو سب سے زیادہ چاہتا کیونکہ آپ اسے اپنی بے پناہ محبت کا احساس دلا دیتے تھے ۔

    "ہم بھی لوگوں کے ساتھ، وہ چاہے جیسے بھی ہوں اسی محبت سے پیش آئیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان کے دلوں کو مسخر نہ کر سکیں ۔”

    دلوں کو مسخر کیسے کریں
    حافظہ قندیل تبسم

  • 23 مارچ ، تجدید عہد وفا کا دن از محمد نعیم شہزاد

    قومی زندگی میں بعض لمحات بڑے قیمتی ہوتے ہیں اور زندہ قومیں ان لمحات کو ضائع نہیں ہونے دیتیں اور تاریخ رقم کر جاتی ہیں۔ پاکستان کی قومی تاریخ میں ایسا ہی ایک اہم دن 23 مارچ 1940 کا دن ہے جب
    لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے عليحدہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔

    اس کے پس منظر میں مسلم لیگ کو عام انتخابات میں ہونے والی شکست اور ہزیمت تھی جس نے مسلم قوم کی نمائندہ جماعت ہونے کے دعوے کو غلط ثابت کر دیا۔ برصغیر میں برطانوی راج کی طرف سے اقتدار عوام کو سونپنے کے عمل کے پہلے مرحلے میں 1936ء/1937ء میں پہلے عام انتخابات ہوئے اور ہندوستان کے 11 صوبوں میں سے ایک میں بھی مسلم لیگ اپنی حکومت قائم نہ کر سکی۔ اور مسلم لیگ برصغیر کی سیاست میں یکسر ناکام ہو کر رہ گئی تھی۔ اور مسلم لیگ پر واضح ہو گیا کہ اس کو مسلم نمائندہ جماعت ہونے کی بنا پر ہزیمت اٹھانا پڑی۔ اس بنا پر مسلم لیگ کی قیادت میں دو قومی نظریے کی اہمیت اجاگر ہوئی اور انھیں ایک روٹ میپ مل گیا کہ ہندو مسلم دو الگ قومیں ہیں جن میں اتحاد ممکن نہیں۔

    اسی اثنا میں دوسری جنگ عظیم کی حمایت کے عوض اقتدار کی بھر پور منتقلی کے مسئلہ پر تاج برطانیہ اور کانگریس کے درمیان ٹکراؤ ہوا اور کانگریس اقتدار سے الگ ہو گئی۔ اس طرح مسلم لیگ کے لیے کچھ دروازے کھلتے دکھائی دئے۔ اور اسی پس منظر میں لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ 3 روزہ اجلاس 22 مارچ کو شروع ہوا۔ 23 مارچ کو ایک قرارداد پاس کی گئی جس میں مسلم اکثریتی علاقوں پر الگ آزادانہ مسلم حکومت قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ یہ ایک اہم گھڑی تھی اور اس وقت درست لیے گئے فیصلے کی بدولت قریب ساڑھے سات برس کے عرصے میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن قائم کر لیا گیا۔

    قیام پاکستان کے 9 برس بعد اسی دن پاکستان کے پہلے آئین کو اپنایا گیا اور پاکستان پہلے اسلامی جمہوریہ کے طور پر سامنے آیا ۔ یوں پاکستان کی تاریخ میں 23 مارچ کے دن کی اہمیت دوچند ہو گئی۔

    آج الحمدللہ پاکستان اسی نظریے پر قائم ہے اور اُس وقت اِس نظریے کی مخالفت کرنے والے لوگ بھی آج اپنے فیصلے پر خود پچھتا رہے ہیں ۔ ہمسایہ ملک بھارت کے قانون میں ہونے والی حالیہ ترامیم کو ہی دیکھ لیجیے کہ کس طرح دین اسلام سے عداوت نبھاتے ہوئے متنازعہ شہریت بل پیش کیا گیا۔ اخبارات کی شہ سرخیاں اب نظریہ پاکستان کے مخالفین کو منہ چڑھا رہی ہیں اور وہ قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت کے قائل ہو گئے ہیں۔

    اس عظیم قومی دن کو بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ مگر اس سال کرونا وائرس جیسے وبائی مرض کے پھیلاؤ نے پوری قوم کو اپنے سحر میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اور ایک عجیب خوف کی کیفیت طاری ہو رہی ہے۔ چین کے ایک شہر سے شروع ہونے والی اس بیماری نے اس وقت قریباً پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ روز بروز حالات دگرگوں ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ کرونا وائرس کے مبینہ مریضوں کی بغیر مناسب سکیننگ ملک میں آمد ہی پاکستان میں کرونا کے پھیلنے کا سبب بنی۔ مگر اب جب سانپ گزر گیا تو لکیر کو پیٹنے سے کیا حاصل؟ لہذا ہمیں مستقبل پر نظر کرنی چاہیے اور حکومت کی طرف سے عائد کردہ حفاظتی اقدامات پر سختی سے کاربند ہونا جانا چاہیے۔

    آج پھر ایک قومی سوچ و فکر کی ضرورت ہے۔ آئیے تجدید عہد کے اس دن یہ عہد کریں کہ ہم اس وبائی بیماری کو شکست دیں گے اور اپنے قومی جذبات کی حرارت سے اس وبا کا خاتمہ کر دیں گے۔ اور ملک و قوم کو اس بیماری کے خلاف فتح سے ہمکنار کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ تاریخ کے تناظر میں یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ ہمیشہ بروقت لیے گئے درست فیصلے ہی کامیابی کی ضمانت قرار پاتے ہیں۔ لہذا بلا تاخیر سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں، بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلا جائے اور رش کے مقامات سے دور رہا جائے۔
    اس موقع پر دوسرا اہم پیغام حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ہے کہ عوامی شعور کو بیدار کرنا ان کی اولین ذمہ داری ہے۔ حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات تسلی بخش ہیں اور امید کی جا سکتی کہ پاکستانی قوم اس وبا کو ضرور شکست دے گی۔