کشمیر میں فوجی افسروں کی ہلاکت ، بھارت میں صف ماتم بچھ گئی
باغی ٹی وی : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کو حریت پسندوں کیجانب سے شدید نقصان پہنچا ہے میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ وادی کے ضلع کپواڑا میں مسلح افراد کے حملے کے نتیجے میں بھارتی فوج کے کرنل اور میجر سمیت 5 اہلکار ہلاک ہوگئے جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہنڈوارا میں بھارتی افواج کی جانب سے آپریشن جاری تھا کہ اسی دوران نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جب کہ واقعہ کے بعد بھارتی افواج کی فائرنگ سے 2 کشمیری بھی شہید ہوگئے۔
واقعہ کے بعد علاقے میں بھارتی فورسز کی بھاری نفری طلب کرلی گئی ہے اور علاقے کا محاصرہ کرکے حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیان میلہورہ زینہ پورہ گائوں میں منگل کو 7روز کے دوران دوسرے 17گھنٹے طویل معرکے میں جھڑپ میں 3عسکریت پسند غازی ابراہیم ، برہان کوکا اور ناصر بھٹ شہید ہو گئے تھے ۔جبکہ فوج اور پولیس کے 2اہلکار زخمی ہوئے تھے .
بھارتی فوج کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کے نیتجے میں ایک جواں سال خاتون شہنواز بانو زوجہ فاروق احمد کوک ابھی دونوں ٹانگوں میں گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئیں اور ایک نوجوان پیلٹ لگنے سے بھی زخمی ہوا۔
جھڑپ کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان پر تشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مذکورہ گاؤں میں 22اپریل کو اسی طرح کی ایک جھڑپ میں 4نوجوان شہید ہوئے تھے۔ منگل کی سہ پہرآپریشن شروع ہوتے ہی ضلع شوپیان اور پلوامہ میں انٹر نیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھی۔ میلہورا شوپیاں میں آپریشن میں شہید ہونے والے 2افراد کی لاشیں برآمدکرلی گئی ہیں جبکہ تیسرے کی تلاش کے لئے آپریشن صبح نو بجے تک جاری تھا۔
باغی ٹی وی :ان دنوں ویب کیم ڈھونڈنا مشکل ہے ، لہذا یہاں آپ زوم یا اسکائپ پر کال کرنے کے لئے آپ اپنے پاس پہلے سے موجود اپنے کیمرہ کو ویب کیم میں تبدیل کرسکتے ہیں
کوروناوائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ویب کیمز کی فراہمی بہت کم ہے ، لہذا آپ اپنے میک یا پی سی میں سے بہتر کوالٹی کیمرہ تلاش کر سکتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ، ان تمام زوم کالز اور اسکائپ سیشنوں کے لئے تصویر کے معیار کو بڑھانے کے لئے اپنے DSLR یا کیمکارڈر کو استعمال کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
آپ اپنے فون کو ویب کیم کی طرح دوگنا کرنے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں اور اپنے آپ کو اسٹینڈ کیمرہ کے ذریعے رابطے کی پریشانی سے بچ سکتے ہیں ، لیکن اس سے آپ کو تصویر کا بہترین معیار نہیں مل سکتا۔
اپنے DSLR کو ویب کیم میں تبدیل کرنے کے لئے کچھ مختلف طریقے ہیں۔ آپ جس کا انتخاب کرتے ہیں اس کا انحصار آپ کے کیمرا پر ہوگا ، چاہے اس میں USB ہو یا HDMI آؤٹ پٹ ، اور اگر آپ پی سی یا میک سے جڑ رہے ہیں۔
نیز ، آپ یقینی طور پر اپنے کالوں کے دوران کمفرٹ رہنے کے لئے اپنے کیمرہ کو تپائی پر رکھنا چاہتے ہیں اور اگر آپ اسے تھوڑی دیر کے لئے چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اسے بجلی سے جوڑ دیں۔ اگر آپ آواز کی کوالٹی بہترین چاہتے ہیں تو آپ کیمرہ مائک کے بجائے اپنے آڈیو کو الگ الگ مائیکروفون کے ذریعہ ریکارڈ کرسکتے ہیں
اپنے کینن DSLR یا کیمرہ کو ایک ویب کیم میں تبدیل کرنے کے لئے کینن سافٹ ویئر کا استعمال کریں
کینن کے پاس اپنے کیمرے کو اپنے کمپیوٹر سے کنیکٹ کرنے کا ایک طریقہ ہے (یہ میک کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا)۔ یہاں آپ کوایک USB کیبل کی ضرورت ہے ، جو آپ کے کیمرہ باکس میں موجود ہو گی۔ ایک بار جب آپ سافٹ ویئر کو اپ لوڈ کرتے ہیں اور اپنے کیمرہ میں پلگ ان کرتے ہیں تو ، کیمرہ کو مووی موڈ میں تبدیل کریں پھر EOS ویب کیم یوٹیلٹی بیٹا کو ان پٹ کے طور پر زوم ، اسکائپ ، مائیکرو سافٹ ٹیموں یا گوگل میٹ کو سیٹ کریں۔
یہ کینن ڈائریکٹ سے مفت ڈاؤن لوڈ ہوتی ہے لیکن پہلے آپ کو یہ فہرست دیکھنی پڑے گی کہ آیا آپ کا کینن کیمرہ مطابقت رکھتا ہے۔ نیز ، یہ بیٹا سوفٹ ویئر ہے لہذا آپ کا یہ تجربہ ناکام ہو سکتا ہے ، اور صرف امریکی کینن کیمرہ ماڈل ہی سہارا یہاں پر مفید رہتا ہے۔
اپنے DSLR کے لئے ایک ویب کیم ایپ آزمائیں جو USB سے زیادہ جڑتا ہے
دوسرا آپشن پی سی کے لئے اسپارکو کیم ہے۔ یہ ایک مفت ٹرائل کی آفر دیتا ہے ، لیکن یہ امیج پر آبی نشان لگادیتا ہے۔ غیر مقفل ورژن کے لئے اس کی لاگت 70 ڈالر ہے ، جو کئی کینن اور نیکن کیمروں کے ساتھ کام کرتا ہے۔
ایک بار جب آپ کیمرہ کو USB کے ذریعے اپنے کمپیوٹر سےجوڑ دیں گے تو ، آپ اسپارکو کیم سے نمائش کو تبدیل کرنے اور دیگر ترتیبات کو ایڈجسٹ کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ بدقسمتی سے ، آپ کیمرہ سے آڈیو کو براہ راست ریکارڈ نہیں کرسکیں گے ، لہذا آپ کو یا تو پی سی یا میک مائکروفون استعمال کرنے کی ضرورت ہوگی ، یا بیرونی مائکروفون لگانے کی ضرورت ہوگی تاکہ لوگ آپ کو سن سکیں۔ کیمرے پر انحصار کرتے ہوئے اسپارکو کیم استعمال کرتے وقت کچھ تصویری ہنگامہ آرائی کی ہے ، لہذا یہ آپ کے لئے سب سے قابل اعتماد حل نہیں ہوسکتا ۔ ایکام لائیو میک کے لئے ایک اور آپشن ہے جو نیکون صارفین کے لئے بہترین ہے ، حالانکہ اس کا خصوصی طور پر تجربہ نہیں کیا ہے۔
متبادل کے طور پر ، اگر آپ کے پاس کینن ڈی ایس ایل آر ہے اور آپ میک استعمال کررہے ہیں تو ، آپ سافٹ ویئر کے دو ٹکڑے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں: کیمرا لائیو اور کیمٹسٹ (دونوں ہی مفت ڈاؤن لوڈ ہو تے ہیں)۔ ایک بار جب دونوں انسٹال ہوجاتے ہیں اور آپ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کیمرہ لائیو کے ذریعے کیمرہ USB کے ذریعے جڑا ہوا ہے تو ، کیم ٹیوسٹ کو کھولیں اور سیفون کو ویڈیو ماخذ کے طور پر منتخب کریں۔ سیٹنگ کے ٹیب میں ، سیفن سرور کے بطور کیمرہ لائیو منتخب کریں۔ اب آپ زوم ، اسکائپ یا اپنی پسند کی ایپ پر جاسکتے ہیں اور کیمٹوسٹ کو اپنے ویڈیو ذرائع کے طور پر منتخب کرسکتے ہیں۔
اپنے DSLR کو بہترین معیار کے لئے HDMI کے ذریعے جوڑیں
یہ ان کیمروں کے لئے موزوں ہے جو صاف HDMI سگنل کو آؤٹ کرسکتے ہیں – اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی امیج کی تفصیلات یا فوکس ٹولز جیسے اوورلیز نہیں ہیں۔ یہ میک یا پی سی کے ساتھ بھی کام کرتا ہے۔
اس کے لئے پہلے ، آپ کو اپنے کیمرے سے براہ راست تصویر حاصل کرنے کے لئے HDMI کیبل کی ضرورت ہوگی۔ یہ آپ کے کیمرہ پر منحصر ہے ، یہ منی HDMI سے فل سائز HDMI سائز تک کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
اس کے بعد ، آپ کو ایک کیپچر ڈیوائس کی ضرورت ہوگی جیسے ایلگاٹو کیم لنک ($ 130)۔ ایک بار جب آپ اپنے مطابقت پذیر کیمرہ کو ڈونگل میں پلگ دیتے ہیں تو ، یہ HDMI سگنل کو USB سگنل میں بدل دیتا ہے تاکہ آپ اپنے کیمرہ کو ویب کیم کے طور پر استعمال کرسکیں۔ آپ کو اپنے ویڈیو کانفرنسنگ ٹول جیسے زوم یا مائیکروسافٹ ٹیموں میں کیمرا منتخب کرنا ہو گا۔
اگر آپ اپنا اسٹریمنگ گیم اسکائپ یا زوم سے آگے لے جانا چاہتے ہیں تو ، یہاں ایک عمدہ ٹیوٹوریل موجود ہے جو آپ کے کیمرے کے ہکنگ کے عمل سے گزارتا ہے ، پھر OBS نامی ایک مفت سافٹ ویئر ٹول کا استعمال کرتے ہوئے لائیو سٹریمنگ کی مزید سیٹنگ کو ایڈجسٹ کرسکتے ہیں۔
مدارس میں بائبل کا نہ پڑھایا جانا۔جبکہ مسیحی مدارس میں قرآن کا پڑھایا جانا۔ہمارے مولویوں کے منہ پر ہمیشہ کالک مل دیتا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ انڈو و پاک کے دینی مدارس میں قرآن و حدیث اور فقہ وغیرہ سب کی تعلیم عام ہے۔ مزید ہر فرقے کا ایک الگ مدرسہ ہے اور ہر مدرسہ دوسرے فرقے کے خلاف نصاب تعلیم بھی رکھتا ہے۔ ہر مدرسے میں مخالف فرقے کے خلاف تربیت عام ہے۔ لیکن انہی مدارس سے فارغ التحصیل طلباء کی اکثریت بائبل، اسکے عہد نامہ جدید و قدیم پڑھنے سمجھنے سے قاصر ہے۔ مطلب ایک دوسرے کے خلاف تو مناظرانہ و جارحانہ انداز پائے جاتے ہیں لیکن مسیحی دنیا کے دلائل کا مقابلہ کرنا ان کے بس کی بات ہی نہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور استبدار میں جب عیسائی مبلغین جو قرآن پڑھ پڑھ کر یہاں مناظرے کرنے آئے ان کے سامنے سینکڑوں مولوی شکست کھا گئے کیوں؟ اسی لیے کہ ان مولویوں نے کبھی بائبل یا دیگر الہامی کتب کے موجودہ صحیفوں کا کبھی مطالعہ ہی نہیں کیا۔ عیسائی قرآنی دلائل کو مسخ کرکے کامیاب ہورہے تھے اور مولویان ہندو و پاک بائبل کے عدم مطالعے کے باعث زچ ہورہے تھے اور آج بھی مدارس کے مولویوں کی اکثریت ایسی ہی ہے۔ یعنی باہمی نفرت انگیز فرقہ وارانہ مناظروں میں بڑے شیر ہوتے ہیں لیکن کافروں کے سامنے دلائل دینے سے بالکل عاری بلکہ اس میدان میں سفید چٹے کورے جہلا بن جاتے ہیں۔ مدارس کے نصاب کو یا تو ری شیڈول کرو یا دوران تعلیم طلباء کو ایسا فہم اور آگاہی دو کہ وہ تحریف شدہ کتب سابقہ کا مطالعہ کریں تاکہ علمی میدان میں مستشرقین کا مقابلہ کرنیکی اہلیت رکھتے ہوں۔ حفاظ قرآن، شیوخ الحدیث اور اصحاب فقہ سے وہ مسلمان عالم کئی درجے بہتر ہے جو کفار سے مناظرہ کرنیکی صلاحیت رکھتا ہے۔
حوصلہ نہ ہاریں…!!!
(تحریر: جویریہ بتول)۔
آپ اس دنیا میں کتنے ہی بھلے کام کیوں نہ کر لیں،دنیا پھر بھی راضی نہیں ہوتی…
حاسدین اور ناقدین اپنی توپوں اور تیروں کا رُخ بہر حال آپ کی جانب کیئے رکھتے ہیں…
وہ آپ کے مثبت کام کے منفی پہلو تلاشتے اور ان کی ترویج و اشاعت کا فریضہ سنبھال لیتے ہیں…
آپ جب بھی کوئی اہم کام یا مسائل حل کرنا چاہتے ہیں تو کئی لوگ برا بھلا بھی کہیں گے…
آپ کی ذرا سی لغزش نوٹ کریں گے…
کیونکہ وہ آپ کو کوئی قدم اُٹھاتے ہی فرشتہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ غلطی کا صدور شاید اب آپ سے ممکن نہیں ہے…
اور ذرا سی غلطی پر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں…
اگر ایسا ہے تو یقین جانیں لوگ آپ میں کچھ صلاحیتوں کے قائل ہیں اور آپ کی کامیابی کو وہ اپنے لیئے توہین تصور کرتے ہیں…
لیکن ان کی تنقید برائے تنقید آپ کے حوصلہ کو پست کرنے کی بجائے اسے وزن دینے کا باعث ہو…
آپ خیر کے کاموں میں آگے بڑھتے رہنے کی کوشش جاری رکھیں…
عزم بالجزم کے ساتھ آگے بڑھنے والے آندھی و طوفانوں…میں سکون کی مانند اور شبِ دیجور میں چراغ کی مانند جلتے رہتے ہیں…
دستِ ہمت کا دامن نہیں چھوڑتے…
اور اپنی راہوں کو صاف کرتے رہنے کی ادائیگی میں مصروف رہتے ہیں…
ان کی نظر اپنے ہدف تک پہنچنے پر ہوتی ہے،دنیاوی اغراض و مقاصد کے لیئے جینے والے لوگ ان کو چیلنج بھی سمجھتے ہیں،
ان کا بلڈ پریشر تو انسانیت کی آڑ میں بھی اپنے مالی مفادات کے استحکام کے یا گراوٹ سے بڑھتا اور کم ہوتا ہے…
مگر اپنی صلاحیتوں کو دوسروں کی راہ میں روشنی کرنے کی غرض سے استعمال کرتے جذبوں کو اس کیٹیگری میں نہیں دیکھا جا سکتا اور حقیقت میں دنیا میں رکاوٹیں بھی ایسے ہی لوگوں کی راہ میں ہوتی ہیں…
لیکن اپنے حصے کا دیا جلائے رکھنے کی رسم زندہ کیئے لوگوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے معاملات اللّٰہ سے ٹھیک رکھیں…
دلبرداشتہ ہو کر حوصلہ ہارنے کی بجائے جو ہو سکے وہ کرتے رہیں…
خود سے دوسروں کو فائدہ پہنچائیں اور اپنے ضرر سے بچائیں…!!!
پر امن انداز میں سکونِ ذہن و قلب کے ساتھ سفر جاری رکھیں…
اور اپنی سوچ،انداز اور اداؤں سے انسانیت کی بھلائی چاہتے رہیں…
یہی انسانیت کی معراج ہے اور دنیا میں رہتے ہوئے ہم دنیا کو اپنی صفائیاں تو کبھی تسلی بخش انداز میں دے ہی نہیں سکتے…
لوگ پھر بھی شک کی چنگاری کو سلگائیں گے…
بقول شاعر:
"میری خوبیاں اور محاسن ہی ان کے نزدیک میرے گناہ ہیں تو بتاؤ کہ میں کیا معذرت کروں…؟؟؟”
اپنے حصے کا کام کرنا ہے اور آگے گزر جانا ہے…تنقید و تحسین سے بے پرواہ ہو کر تبھی آپ اپنا کوئی بھی مثبت کام یکسوئی سے سر انجام دے سکتے ہیں…
کیونکہ جہاں تنقید حوصلہ پست کرتی ہے،وہیں حد سے بڑھی تحسین بھی دماغ کو مغرور کرتی اور سوچوں کو اسی دائرہ میں دھکیل دیتی ہے کہ جو کام ہو،اس کی تعریف بھی لازم ہے…جبکہ کبھی کام تعریف کے بغیر بھی کرنا پڑتا ہے…!!!!!
ہمارا یقیں ہو کہ اجر اللّٰہ تعالٰی سے لینا ہے
شاعر نے کتنے خوب صورت انداز میں کہا ہے:
"کاش کہ تو راضی رہے،تری رضا کے ساتھ اگر تمام لوگ بھی ناراض ہوں تو کوئی پرواہ نہیں،میری منتہائے اُمید یہی ہے۔”
==============================
ڈھال…!!!
(بقلم:جویریہ بتول)۔
روزہ ہے ڈھال گناہوں سے…
اسے بنانا بھی ہے ڈھال لازم…
زباں کی بھی کرنی ہے حفاظت…
غیبت،چغلی کا سمیٹنا ہےجال لازم…
کانوں کی ممنوعہ آوازوں سے…
رکھنی ہے دوری بہر حال لازم…
دل کی گہرائیوں میں اُتار کر…
چلنی ہے تقویٰ کی چال لازم…
صدقہ و خیرات بھی ہاتھ سے ہےکرنا…
کُچھ غریب کے واسطے بھی حصۂ مال لازم…
رات کے پچھلے پہر کے اوقات میں…
کُچھ کرنے ہیں رب سے سوال لازم…
ملی رحمت کی ان ساعتوں میں اب…
کرنی ہے اب تبدیلئ احوال لازم…
گناہوں کی پونجی جو ہیں ہم اٹھائے…
توبہ کے آنسوؤں سے تر ہوں یہ گال لازم…
ہر آفت و بلا ہو دور پھر ہم سے…
اور ہر مشکل کو رب دے ٹال لازم…!!!
پھر روزہ کا مفہوم ہو یوں پورا…
کہ ہو ہر دم دل میں اچھائی کا خیال لازم…!!!
ہر برائی سے نفرت ہو،ہر نیکی کی چاہت…
اونچی اُڑان کے لیئے نکلیں کُچھ نئےپَر و بال لازم…!!!
تندرست ہو کر محوِ سفر ہو یہ بیمار نفس…
ہر زاویے سے درست ہوں اب سارے خدوخال لازم…!!!
==============================
ساجدہ بٹ
رمضان المبارک کے با برکت مہینے میں آئیں عہد کریں کہ صرف بھوک اور پیاس کا روزہ نہیں رکھنا بلکہ ہمیں ہر چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچنے کا بھی روزہ رکھنا ہے
ہمیں چغلی ،غیبت ،جھوٹ،حسد،لالچ ،اور نا انصافی سے بھی بچنا ہے۔۔۔۔۔
اگر ہم نے صرف کھانے پینے کا پرہیز رکھا اور باقی گناہوں سے توبہ نہ کی تو شاید ہمارے سارا دن بھوک پیاس کی کوئی قبولیت نہ ہو۔
سگے بہن بھائیوں میں اختلاف ہو اور رشتے داروں سے دوری ہو تو بتاؤ پھر روزہ کے اجر کے حقدار ہو؟؟
منافقت دل میں پالنے والے کا روزہ کیا قبول ہو گا؟
سوچئے ۔۔۔۔
ہم نے کس قدر گناہوں سے توبہ کی اور آج نیت کی کہ ان شاء اللہ رب کے مہمان،
ماہ رمضان کی خوب مہمان نوازی کریں گے اور خاص کر ان سب گناہوں سے بچنے کی بھر پور کوشش کریں گے۔۔۔
ہم نے تو شاید یہ اہتمام ہی کیا کہ افطاری اور سّهری میں مزے مزے کے پکوان بنے گیں
دسترخوان سجیں گے لیکن اپنی ان نعمتوں کے ساتھ ساتھ اُن کا بھی خیال رکھیں گے جن کے پاس یہ چیزیں میسر نہیں ہیں اپنے کھانوں کو ضائع مت ہونے دیں ۔۔۔۔۔۔
اپنے کھانوں میں کچھ کمی کرکے دوسروں کو بھی دیں اور نیکیاں سمیٹنے کا حسین موقع حاصل کریں پھر ساتھ ساتھ جھوٹ بولنے سے بچیں جھوٹ کے بلبوتے پر کاروبار مت کریں دوسروں کی چغلی غیبت سے بچیں اپنے سگے بہن بھائیوں میں اگر ناراضگی ہے تو اسے ضرور ختم کریں گھر کو خوشیوں کا گہوارہ بنائیں اسی میں ہماری بھلائی اور اسی میں سکون و اطمینان اور اسی میں میرے رب کریم کی رضا ہے حقوق العباد کا سوال پہلے پوچھا جائے گا اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اس رمضان المبارک کے صدقے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ادا کرنے کی توفیق عطا فرما آمین ثم آمین ثم آمین یا رب العالمین
مزدور…!!!
(بقلم:جویریہ بتول)۔
اینٹیں بھی ڈھوتا ہے…
جو گارا بھی اُٹھاتا ہے…
ناتواں سے وجود کو اپنے…
جو دھوپ میں جلاتا ہے…
میلے پلو سے پونچھ کر پسینہ…
جو سر اٹھا کر مسکراتا ہے…!!!
سخت ہاتھوں میں چھالے دیکھتے
جو پیڑ تلے سستاتا ہے…!!!
نیند کی گہری وادی میں جا کر…
سکون کی کہانی جو سناتا ہے…
جس کے ماتھے پر چمکتی ہیں…
پسینے کی جو دلکش کرنیں…!!!
ان کرنوں کی روشنی میں…
وہ حق کمانا سکھاتا ہے…!!!
اس مزدوری کی برکت سے…
جو ذہنی سکون وہ پاتا ہے…
حرام کی ڈھیروں کمائی پر…
جو کوئی نظر نہ پھراتا ہے…
جاگنا اور کہیں جانا ہے…
بچوں کے لیئے کُچھ لانا ہے…
دن بھر تھک ہار کر پھر…
سرِ شام لوٹ آنا ہے…!!!
کھیتوں،کھلیانوں میں…
اور ملوں،مکانوں میں…
روانی کا جس نے پہیہ چلانا ہے…!!!
============================
مزدور کا محافظ ہے اسلام…
جو کہے نہ کھائے کوئی نا حق…
مزدور کی مزدوری کا اک دام…
حد سے زیادہ اسے کام نہ دو…
اور نہ ڈالو اس پہ بوجھ تمام…
جو کھاتے ہو خود اسے کھلاؤ…
پہنتے ہو جیسا،ویسا پہناؤ…
جو کھانا لائے تو ساتھ بٹھاؤ…
تھکن سے چُور کو تم ہنساؤ…
رب اس پہ سخت ناراض ہے…
جو اجیر کی محنت مار گیا…
کام تو لیا جس نے پورا…
اجرت دینے سے ہاتھ جھاڑ گیا…!!
اس مزدور کو کُچھ اضافی بھی ہو…
جو بال بچوں کے لیئے کافی بھی ہو…
فاقوں کے ڈر سے جیئے نہ مزدور…
غم کی ردا میں پیوند سیئے نہ مزدور…
مزدور کے دم قدم سے جواں ہے…
ترقی کا یہ پہیہ جو رواں ہے…!!!
مزدور سے بھی حُسنِ سلوک لازم ہے…
کہ یہ مزدور بھی تو ابنِ آدم ہے…
خاکی بدن کی ہر ضرورت و تاب بھی وہی ہے…
اُس کی آنکھوں میں چمکتا خواب بھی وہی ہے…!!!
==============================
کورونا سے لڑتا فلسطین اور اسرائیل عرب دوستی ڈرامہ سیریل
تحریر: صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی
دنیا بھر کی طرح فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں بسنے والے مظلوم فلسطینی بھی آج کل کورونا وباء کے شکنجہ میں ہیں۔ ایک طرف غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم کا سامنا ہے تو دوسری جانب کورونا کے خطر ناک وار کا بھی مظلوم فلسطینی ملت تن تنہا بغیر کسی وسائل کے مقابلہ کر رہی ہے۔ یعنی ایک اسرائیلی مصیبت کا سامنا ہے تو دوسری مصیبت کورونا ہے۔فلسطین میں تجزیہ نگاروں نے کورونا اور اسرائیل کو ایک جیسی مصیبت ہی قرار دیا ہے بس فرق صرف اتنا ہی ہے کہ ایک کورونا وائرس سنہ1948ء میں فلسطین پر حملہ آور ہوا اور آج دوسرا کورونا وائرس فلسطین پر سنہ2019کے نام سے سامنے آیا ہے۔بہر حال فلسطین کے بہادر اور شجاع فرزندان مزاحمت ہر دو طرح کی مصیبتوں کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کر رہے ہیں اور مزاحمتی ہتھیار سے غاصب صہیونی اسرائیلی کورونا اور حالیہ کورونا سے نبرد آزما ہیں۔
کورنائے اسرائیل اور کورونا وباء سے لڑتے ہوئے اس فلسطین پر ستم ظریفی صرف اسرائیل کی ہی نہیں بلکہ اپنے ہی ہم زبان و مذہب عرب مسلمانوں حکومتوں کی بھی جاری ہے جو کہ تیسرے کورونا کے مشابہ ہے۔حال ہی میں سعودی عرب میں ایک ایسے ڈرامہ سیریل کو متعارف کروایا گیا ہے کہ جس کا عنوان اسرائیل عرب دوستی رکھا گیا ہے اس ڈرامہ سیریل کا نام ’ام ھارون‘ رکھا گیا ہے جس میں کوشش کی گئی ہے کہ اسرائیل اور عرب دوستی کو پیش کیا جائے جبکہ ساتھ ساتھ فلسطین کی ریاست اور فلسطین کے تاریخی وجود سے انکار کی جھوٹی اور من گھڑت تاریخ کا پرچار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ سب کچھ ایسے حالات میں سامنے آرہا ہے کہ جب ایک طرف امریکہ اور اس کے حواریوں نے صدی کی ڈیل نامی منصوبہ کی ناکامی کا زخم اٹھایا ہے لیکن اسی منصوبہ کی آڑ میں عرب حکومتوں کو استعمال کر کے عالمی استعمار اب اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس ڈرامے جس کا نام ‘ام ھارون’ رکھا گیا ہے میں خلیجی ملکوں اور عرب ممالک میں یہودیوں کو مظلومیت کی مثال کے طورپر پیش کیا گیا ہے۔ کویت اور دوسرے خلیجی عرب ملکوں میں یہودیوں کے تاریخی وجود کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اس میں صہیونی ریاست کے مکروہ چہر کوخوشما بناکر پیش کیا گیا ہے۔ یہ ڈارمہ سعودی ٹی وی پر’پروڈکشن 7′ سے نشر کیا جا رہا ہے۔ ٹی وی کا پورا مواد صہیونی ریاست سے دوستی کی ترویج پرمشتمل ہے۔
انبیاء علیہم السلام کی سرزمین ارض مقدس فلسطین کی حیثیت اور شناخت کو مسخ کرنے کے لئے بنایا جانے والا اسرائیل عرب دوستی کا ڈرامہ سیریل حال ہی میں سعودی عرب کے ایک ٹی وی چینل ایم بی سی نیٹ ورک پر نشر کیا گیا ہے اور یہ عین ماہ رمضان المبارک کے آغاز پر نشر کیا گیا ہے جس پر نہ صرف سعودی عرب میں شدید تنقید ہو رہی ہے بلکہ دنیا بھر میں اس ڈرامہ سیریل کے مکالمہ اور متن پر شدید اعتراض کے ساتھ اس کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا گیا ہے۔عرب ممالک کی عوام نے اس ڈرامہ سیریل کو پہل اقساط کے نشر ہونے کے ساتھ ہی مسترد کر دیا ہے البتہ اس ڈرامہ سیریل کے بنائے جانے اور نشر کئے جانے سے دنیا بھر میں امریکہ اور اسرائیل سمیت عرب اتحاد کی قلعی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے اور دنیا پر واضح ہو چکا ہے کہ عرب حکمران فلسطین کا سودا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
فلسطین کی سب سے بڑی سیاسی و عسکری جماعت حما س نے سعودی عرب کے ایم بی سی نیٹ ورک پر نشر ہونے والے اسرائیل عرب دوستی ڈرامہ سیریل کے بارے میں واضح موقف اپناتے ہوئے اس ڈرامہ سیریل کو شیطانی چال قرار دے دیا ہے۔حماس کے ترجمان سامی ابو زھری کے بیان کے مطابق اسرائیل کی جعلی ریاست جو ہدف فلسطینیوں کے خلاف توپ اور ٹینک سمیت بھاری اسلحہ استعمال کر کے حاصل نہیں کر سکی ہے وہ ہدف اب سعودی عرب کے حکمرانوں کی اس طرح کی گھناؤنی سازشوں سے حاصل کرنا چاہتی ہے۔
اسی طرح سمندر پار فلسطینی عوام نے بھی سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کے ٹی وی چینلز پر نشر کئے جانے والے اسرائیل عرب دوستی ڈرامہ سیریل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو مقدس مہینہ رمضان المبارک کی توہین قرار دیا ہے۔
اسرائیل عرب دوستی سے متعلق ڈرامہ سیریل ام ھارون اور دیگر نشریات کا مقصد فلسطین کی اصل اور بنیادی تاریخ کو مسخ کرنا ہے اور فلسطین پر سنہ1948ء میں قائم ہونے والی صہیونیوں کی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کے قیام کو قانونی جواز فراہم کرنے کی گھناؤنی کوشش ہے۔یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ گذشتہ چند برس میں ترکی سمیت سعودی عرب اور دیگر خلیجی عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ پس پردہ اور اعلانیہ طور پرمراسم قائم کر رہے ہیں۔
روزنامہ قدس نیوز ایجنسی پاکستان کی ویب سائٹ پر نشر ہونے والی ایک خبر میں اسرائیل عرب دوستی کے عنوان سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی عرب ممالک کے ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے ڈرامہ سیریل کے مکالمہ کو پیش کیا گیا ہے۔ڈرامہ سیریز میں دو اداکاروں ناصر القصبی اور راشد الشمرانی کو فلسطینیوں کے بارے میں بات کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ مکالمے میں ناصر القصبی اسرائیلیوں کے ساتھ تعلقات کے قیام پر حیرت کا اظہار کرتا ہے جب کہ الشمرانی کہتا ہے کہ دشمن وہ ہوتا ہے جو آپ کے تعاون اور مشکل میں آپ کا اس کے ساتھ کھڑا ہونے کی قدرنہیں کرتا۔ دشمن وہ ہوتا ہے جو دن رات آپ کو اسرائیلیوں سے زیادہ گالیاں دیتا ہے۔
الشمرانی نے مزید کہا کہ ہم نے آج تک فلسطینیوں کے لیے قربانیاں دیں، فلسطین کے لیے ہم نے جنگیں لڑیں اور فلسطین کے لیے ہم نے اپنا تیل روکا۔جب فلسطینیوں کی حکومت بنی تو ہم نے اس کے اخراجات پورے کیے، اس کے ملازموں کو تنخواہیں دیں۔ ہم اپنے مال کا حق رکھتے ہیں۔ یہ کیسے دوست ہیں جو سعودی عرب پر تنقید کرنے اور اسے برا بھلا کہنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
اس مکالمے کے جواب میں قصبی کہتا ہے کہ ‘ہاتھوں کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ فلسطینی بھی تو آخر سنہ 1948ء میں اپنے ملک سے جبرا نکالے گئے۔ انہیں اجتماعی قتل عام کا نشانہ بنایا گیا۔ مگر یہ فلسطینی ہی ہیں جو تحریک انتفاضہ کے دوران نہتے ہونے کے باوجود اسرائیلی ٹینکوں سے لڑ جاتے تھے۔ کچھ فلسطینیوں نے دیوار فاصل کے لیے فنڈ فراہم کیے۔ وہ بھی دوسروں کی طرح انسان ہی ہیں۔ ان میں اچھے بھی ہیں اور برے بھی مگر یہ اسرائیل ہے جو فلسطینیوں اور عربوں کے درمیان نفرت اور عداوت کے بیج بو رہا ہے۔
اس پر الشمرانی نے کہا کہ ‘یعنی آپ فلسطینیوں کیساتھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔ یہ وہ فلسطینی ہیں جنہوں نے ہمارے اشراف پرلعن طعن کی’ اس پر القصبی نے کہا کہ ہم حق، اصول اور ضمیر کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ مکالمہ مزید بھی جاری رہے گا کیونکہ آنے والے دنوں میں اس سازشی ڈرامہ سیریز کے مزید قسطیں بھی نشر کی جائیں گی مگر سوشل میڈیا پر الشمرانی کی گفتگو کو جھوٹ، اسرائیل سے دوستی کی دعوت اورفلسطینی قوم اور اس کے حقوق کو دانستہ طور نظرانداز کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ الشمرانی جیسے لوگ سائبر مکھیاں ہیں جو صہیونی ریاست کا دفاع اور فلسطینیوں کے حقوق کو دانستہ نظرانداز کرتی ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ فلسطینی مظلوم ملت صرف کورنائے اسرائیل کاہی مقابلہ نہیں کر رہی بلکہ حالیہ دنوں کورونا وباء سمیت کورونائے عرب حکمرانوں کا مقابلہ بھی کر رہی ہے کہ جن کی طرف سے امریکہ اور اسرائیل سے زیادہ شدت کے ساتھ فلسطین کی شناخت کو ختم کرنے کے لئے پے در پے حملہ کئے جا رہے ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ عرب مسلمان حکمرانوں نے دین و دنیا دونوں کا ہی سودا کر ڈالا ہے۔ایک ایسے شیطان کی دوستی کی خاطر دنیا بھر میں ظلم و ستم کی حمایت کر رہے ہیں کہ جس کے نتیجہ میں ان عرب حکمرانوں کے ہاتھ نہ تو دنیا حاصل ہو گی اور نہ ہی آخرت حاصل ہونی ہے۔حکومت پاکستان سمیت دیگر غیور حکومتوں کو چاہئیے کہ عرب ممالک سے مطالبہ کریں کہ اس شیطانی ڈرامہ سیریل کو فی الفور بند کر دیا جائے اور اس پرپابندی عائد کی جائے۔حقیقت یہی ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے اور غاصب صہیونی سنہ1948کا ایک ایسا کورونا وائرس ہیں کہ جس نے ستر سال سے فلسطین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
پُرانی بات ہے الیکشن میں لغاری صاحبان کو اپنے مخالف لغاری کی ایک ویڈیو مل گئی جس میں لغاری صاحب ایک 15/16 سال کی لڑکی کے ساتھ انتہائی بے دردی سے سیکس کر رہے تھے لغاری صاحبان نے اس ویڈیو کو اپنے مخالف لغاری اُمیدوار کے خلاف استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اُن دنوں VCR ہوا کرتے تھے وہ ویڈیو حلقہ کے تمام ہوٹلوں پر چلوئی گئی امید یہ تھی کہ ایسی غیر اخلاقی حرکت پر مخالف امید وار جس کی یہ ویڈیو تھی وہ ہار جائے گا مگر اُس وقت لغاری صاحبان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہ لغاری مخالف اُمیدوار بھاری اکثریت سے الیکشن جیت گیا لوگوں نے اُسے اس لیے ووٹ دیا کہ "ہمارا سردار جوان مرد ہے اور اوپر ہے ”
کل سے ایک گریڈ 20 کے DIG پی ایس پی پولیس آفسر کی گریڈ 18 کی DMG افسر کے ساتھ سر سے پاوں تک چومنے والی تصاویر سوشل میڈیا کے گروپس میں وائرل ہیں DMG گروپ کی یہ خاتون گریڈ 18 کے ایف آئی اے آفسر کی بیوی ہیں ابھی چیرمین نیب اور جج ارشد ملک کی ویڈیوز اور اسکینڈل کی دھول نہی چھٹی تھی کہ یہ تصاویر سامنے آگئیں
ایک تصویر میں psp آفسر DMG. آفسر کا مُنہ چوم رہے ہیں جبکہ دوسری تصویر میں DMG آفسر psp گریڈ 20 سے اپنا جوتا اُتروا رہی ہیں اور گریڈ 20 کے آفسر کے چہرے پر عجیب سے عشقیہ تاثرات ہیں اور وہ خاتون کے پاوں کو پکڑ کر واری واری جارہے ہیں
دوران ملازمت اور اُس کے بعد بھی میں نے دیکھا کہ اگر کسی ماتحت پولیس ملازم سے کوئی غیر اخلاقی حرکت سرزد ہو جائے تو قانون یا عوام بعد میں فیصلہ کرتے ہیں پہلے افسران ملازم کو عبرت کا نشان بنا دیتے ہیں
مُلتان میں ایک رینکر SP لیڈی وارڈن کو دل دے بیٹھے اور ٹیلی فون پر اظہار محبت فرمایا جس کی انہیں فوری سزا ملی اور CPO کلوز کردیا گیا اسی طرح فیصل آباد کا سونیا کیس جس میں ایک رینکر Sp ملازمت چھوڑنے پر مجبور ہوگیا کبیر والا کے ایک انسپکٹر کو بھی ایک لڑکی سے ٹیلیفون پر عشقیہ باتیں کرنے ہر مقدمات کا سامنا ہے
پولیس ڈیپارٹمنٹ میں PSP افسران کو عام معافی ہے اگر ایک افسر سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو باقی سب افسران ان کو بچانے کے کیے میدان میں آجاتے ہیں ان میں سے بُہت سے افسران کی عشق کی داستانیں مشہور ہیں جو ماتحت ملازمین نے اپنے سینے میں چھپائی ہوتی ہیں ان کے گن مین ڈرائیور اور ذاتی سٹاف ان کے کرتوتوں سے واقف ہوتا ہے مگر مجبور ہوتے ہیں کسی کو اس لیے نہیں بتا پاتے کہ ان کے قلم کی ایک جُنبش سے ان بے چاروں کی روٹی روزی ختم ہو جاتی ہے
اب بھی یہی ہوا ہے ڈی آئی جی صاحب اپنے حمایتی افسران کی مدد سے کُچھ تصاویرمیڈیا پر لے کر آئے ہیں جن میں اب وہ خاتون افسر کسی اور شخص کے ساتھ بلکُل اُسی انداز میں موجود ہیں ان تصاویر میں صاف لگ رہا ہے کہ فوٹو شاپ پر بنائی گئی ہیں شاید فوٹو شاپ پر بنائی گئی ہو سکتا ہے کہ ان تصاویر سے DIG صاحب کی جان بچ جائے اب تک اُن خاتون افسر یا اُن کے شوہر کی طرف سے کوئی تردید موصول نہیں ہوئی نہ ہی انہوں نے فوٹو شاپ پر اپنے چہرہ پر کسی اور لڑکی کا چہرہ لگوایا ہے
ڈی آئی جی صاحب تو لازمی بچ ہی جائیں گے کیونکہ آئی جی صاحب کے لاڈلے ہیں اور ویسے بھی اس طرح کی حرکت کونسا بڑا جُرم ہے مرد تو ایسا کرتے رہتے ہیں مگر دُکھ تو اُس خاتون کا ہے جس سے عہدوپیماں کیے گئے ہوں گے مرنے جینے کی قسمیں کھائی گئی ہوں گی اب اس خاتون کے ساتھ کسی اور کی تصویر فوٹو شاپ پر بنوا کر DIG نے مردانگی کا ثبوت نہیں دیا گیا
اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ DIG صاحب کی تصاویر نہیں ہیں مگر اپنی تصاویر میں وہ کس کو پیار کر رہے ہیں ؟DIG پوری رینج کا کمانڈر ہوتا ہے اس تمام تصاویر اور وقوعہ کی انکوائیری ہونی چاہیے اور قصور وار سامنے آنا چاہیے ورنہ ایسے غیر ذمدار اور غیر اخلاقی حرکتیں کرنے والے آفسر کو پولس کے ملازمین کی کمانڈ کا کوئی حق نہیں آئی جی صاحب اگر یہ نہیں کر سکتے تو آج تک جتنے پولیس ملازمین اور عوام والناس کو غیر اخلاقی حرکات پر اگر سزائیں دی گئی ہیں تو فوری معاف کردی جائے
ان تمام تصاویر کو دیکھ کر میں تو اس نتیجہ پو پُنہچا ہوں کہ یہ صرف عشق ومحبت کی داستان نہیں بلکہ دو اداروں پولیس گروپ اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن گروپ کے درمیان اختلافات کا شاخسانہ بھی ہو سکتا ہے اگر DMG کی افسر نے پولیس گروپ کے افسر کو اپنے پاوں میں بیٹھایا ہوا ہے تو پولیس گروپ کے افسر نے بھی اُسے چومتے ہوہے فاتحانہ مسکراہٹ سے اپنی فتح کا اعلان کیا ہے اب فتح کس گروپ کی ہوئی ہے یا ہونی ہے اور کس کا بابا اوپر ہونا ہے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا
گریڈ 22 کے افسر کی محبت کا برا انجام —-از—عزیز خان ایڈوکیٹ ہائیکورٹ لاہور