Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عدم توازن کا شکار معاشرتی رویے اور سماجی تحریکوں کا کردار  بقلم: محمد نعیم شہزاد

    عدم توازن کا شکار معاشرتی رویے اور سماجی تحریکوں کا کردار بقلم: محمد نعیم شہزاد

    عدم توازن کا شکار معاشرتی رویے اور سماجی تحریکوں کا کردار
    محمد نعیم شہزاد

    انسان معاشرتی زندگی کی اکائی اور بنیاد ہے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے معاشرے کی تشکیل کرتا ہے۔ فردِ واحد کے لیے ازخود زندگی کی ہر سہولت پیدا کرنا خارج از امکان ہے لہذا انسان کو دوسرے انسانوں کے ساتھ مل کر رہنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور یوں معاشرہ تشکیل پاتا ہے ۔ ستم کی بات ہے کہ وہ معاشرہ جسے انسان اپنی ضروریات کے لئے بناتا ہے اسی انسان کی زندگی اجیرن بنا دیتا ہے۔ معاشرے میں اپنا سٹیٹس بناتا انسان ہر وقت اسی فکر میں رہتا ہے کہ

    لوگ کہا کہیں گے؟

    ایسا تو دستور زمانہ نہیں؟

    میں کیسے معاشرتی روایات سے کٹ سکتا ہوں؟

    یہی سوال انسان کے لیے حرز جاں بن کر رہ جاتے ہیں اور زندگی معاشرتی اقدار کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہے۔ مگر کیا ہم معاشرے کو خوش کر پاتے ہیں؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہی ہے اور سب بخوبی واقف ہیں کہ کبھی مثبت نہیں ہو سکتا تو پھر اتنی تگ و دو کیوں؟ اس سعی لاحاصل کو چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔ معاشرے کو اپنی ذات کے لیے استعمال کیجیے، اپنی ذات کو معاشرے پر قربان نہ کیجیے۔

    معاشرے میں افراد کے اسی عمومی رویے سے عدم توازن پیدا ہوتا ہے اور لوگ انتہا کو پہنچ جاتے ہیں۔ انتہا کی بنا مثبت پہلو پر ہو یا منفی پہلو پر، انتہا بہرحال انتہا ہے اور زندگی کے حسن کو گہنا کر رکھ دیتی ہے۔ ایسے میں حقوق انسانی کا پر فریب نعرہ لے کر کئی نجی تنظیمیں NGOs کھڑی ہو جاتی ہیں جو انسانی حقوق کی چیمپئن ہونے کی دعویدار بن جاتی ہیں اور انسانیت کے دفاع کے نام پر اپنے اپنے ایجنڈے پر کام کرتی ہیں۔ ان تنظیموں کا منشور اور نصب العین اتنا پرکیف اور متاثر کن معلوم ہوتا ہے کہ لوگ ان کے دام فریب میں با آسانی آ جاتے ہیں اور ان کا مقصد بغیر انسانی حقوق کے حصول کے حاصل ہو جاتا ہے۔ جس سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کا اصل کام انسانی فلاح و بہبود تھا ہی نہیں بلکہ محض انسانی حقوق کی ملمع کاری تھی جس کے لیے یہ تنظیمیں کوئی سنجیدہ کام کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔

    معاشرے کے غلط رویوں کا علاج اسے چھوڑنے میں ہے۔یہ خود ساختہ پابندی ہے جو ہم نے اپنے اوپر مسلط کر رکھی ہے، ورنہ ہم کیا کرتے ہیں، کیسے رہتے ہیں، کسی کو ان کاموں سے دلچسپی نہیں ہے بلکہ دلچسپی ہے تو فقط اعتراض کرنے میں اور وہ یہ لوگ کرتے ہی رہیں گے خواہ آپ اس کوشش میں جان دے دیں۔

    ان سب باتوں کو پڑھنے کے بعد اپنے دل سے پوچھیے، ایک تدبیر اور پلان آپ کا ہے اور آپ اس کے حصول میں سرگرداں ہیں، اور اس کے حوالے سے لوگوں کی رضا و ناراضگی کو بھی خاطر میں لاتے ہیں مگر انجام پھر لوگوں کی ناراضگی ۔ دوسری طرف ہمارا خالق اور مالک ہے، اس کی اپنی تدبیر ہے اور کتنی اعلی تدبیر ہے اور ہو گا وہی جو وہ چاہتا ہے تو کیوں نہ ہم اپنی اسی واحدہ لاشریک کی خوشنودی کی فکر کریں، جو راضی بھی ہو گا اور ہمیں بھی راضی کرے گا۔ اور آسودگی کے ساتھ اطمینان قلب بھی حاصل ہو گا۔

  • لفظِ دُعا تلاشیں…!!! بقلم:جویریہ بتول

    لفظِ دُعا تلاشیں…!!! بقلم:جویریہ بتول

    لفظِ دُعا تلاشیں…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    امراض بہت بڑھ گئے ہیں…
    چلے آؤ کہ اب شفا تلاشیں…
    عہد تو کیئے ہیں عمر بھر…
    بڑھو کہ کوئی رہِ وفا تلاشیں…
    جھوٹ و برائی کے جال میں پھنسے…
    سوچو تو کوئی اندازِ صدق و صفا تلاشیں…
    ظاہر میں ہیں ڈھکے،باطن میں ہیں عریاں…
    ہم نشینو !!! آؤ کہ کوئی باطن کی دوا تلاشیں…
    اندر اور باہر کی لہروں کو کریں ہم رنگ…
    زندگی کے مقصد میں کوئی خوف و رجا تلاشیں…!!!
    رستہ کٹھن ہے،اور منزل بہت دُور…
    جو داعی ہو منزل کا،کہیں وہ صدا تلاشیں…
    ہجوم کی بھیڑ میں کہیں کھو نہ جائیں…
    چلو کہ اپنا مرتبہ،مقام اور اَدا تلاشیں…!!!
    جو چھین لے گیا ہے ہم سے پہچان ہماری…
    وہ وحدت کا دشمن دستِ جفا تلاشیں…!!!
    اپنے آفتاب سے کریں منور یہ جہاں…
    کسی کی آگ کی روشنی کا نہ دِیا تلاشیں…!!!!!
    جو بدل دے آج ہمارے یہ بگڑے احوال…
    عمیقِ دل سے،پُر اثر لہجے کا کوئی لفظِ دُعا تلاشیں…!!!
    =============================

  • روزہ کی اہمیت اور اس کے تقاضے… تحریر: جویریہ بتول

    روزہ کی اہمیت اور اس کے تقاضے… تحریر: جویریہ بتول

    روزہ کی اہمیت اور اس کے تقاضے…
    (تحریر: جویریہ بتول)۔
    صَیَامٌ: صَامَ،یصوم،صوما صیاما…
    رک جانا،کسی بھی چیز یا عمل سے بالقصد رک جانا،صبر کرنا…
    تربیت اور ضبطِ نفس کے لیئے روزہ کا کردار بہت اہم ہے
    ایاما معدودات…
    صرف گنتی کے چند دن کہ اللّٰہ تعالٰی نے حصولِ تقویٰ کے لیئے کوئی مستقل آزمائش یا مشقت نہیں ڈالی بلکہ صرف ایک مہینہ میں اپنی ذات کو تربیت کے کٹہرے سے گزار کر سال کے بقیہ ایام میں اسی رنگ و جذبے کو خود پر لاگو کرنے کا حکم ہے۔
    رمضان کا پیام صرف تعلیم نہیں بلکہ شب و روز کی تربیت ہے اور تقویٰ نام ہی اس احساس کا ہے کہ ہر لمحہ خالق کے سامنے جوابدہی کا احساس زندہ رہے۔
    اہلِ ایمان کے لیئے یہ چند ایام ایسے ہیں جیسے خزاں زدہ آنگن میں صبح بہار اُتر آئے…
    لق و دق تپتے صحرا میں سبزۂ نورستہ ہو جائے اور ظاہر و باطن کو رنگِ تقویٰ سے رنگنے کا چانس ہاتھ لگ جائے…!!!
    رمضان کا مقصد صرف سحری اور افطاری کے پر تکلف اہتمام تک کھانے پینے سے رکے رہنے کا نام نہیں بلکہ اپنے خالق سے کمزور تعلق کو مضبوط کرنے اور نافرمانی کی راہوں کو چھوڑ کر رضائے الٰہی کی طرف ہجرتوں کا نام ہے…
    ان گھڑیوں کے کُچھ تقاضے بھی ہیں۔
    1)۔ثواب و احتساب کی نیت سے روزہ رکھنا۔

    2)۔شھر القرآن میں قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کرنا،علوم کے مآخذ و منبع کو سینے لگا لینا
    قیاس پر مبنی علوم پر اس اتھینٹک علم کو ترجیح دینا…
    دلوں کی بہار اور سینے کا نور بنانے کی کوشش کرنا…
    3)۔نماز کی پابندی کا اہتمام اور تربیت۔
    ہم اپنی غفلت کی چادر اتار کر توبہ و انابت سے اللّٰہ کے حضور سجدہ ریز ہوں،رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اول وقت پر نماز ادا کرنے کو افضل ترین عمل قرار دیا۔

    4)۔دکھاوے سے پرہیز:
    روزہ ایسی عبادت ہے کہ جب تک اس کا اظہار نہ کیا جائے،ریا ممکن نہیں تبھی اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
    الصوم لی و انا اجزی بہ…
    بھوک،پیاس،گرمی،کمزوری کا شکوہ زباں پر کبھی نہ لائیں۔

    5)۔فواحشات سے اجتناب:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "روزہ ڈھال ہے،پس روزہ دار کو چاہیئے کہ فحش بات نہ کہے،جہالت کی باتیں نہ کرے اور کوئی جھگڑا کرے تو کہہ دے میں روزہ دار ہوں۔(متفق علیہ)۔
    صوم کا تو معنی ہی رک جانا ہے حلال اور جائز لذتوں سے بھی تو پھر حرام اور معصیت کا ارتکاب کیسے جائز ہے؟
    روزے کو ڈھال سمجھو…
    تو زباں کو باز رکھو…
    آنکھوں کو منکرات سے بچنا بھی ہے ضروری…
    کانوں کی ممنوعہ آوازوں سے رہے دُوری…
    کہیں کھو نہ جائے تم سے…
    صالح اعمال کا خزینہ…!!!
    آج سوشل میڈیا نے مَت مار دی ہے،فحش وڈیوز کی بھر مار ہمارے ایمان پہ ڈاکہ ڈالنے کے لیئے ہمہ وقت تیار ہے…
    محرم،نا محرم کی حدوں سے بہت آگے بڑھتے تعلقات اور رابطے تقویٰ کے حصول کے قریب کرتے ہیں یا دور؟
    یہ سوال ہم نے خود سے خود کرنا ہے…!!!

    6)۔صدقہ و خیرات:
    صحیح بخاری میں ہے کہ جب رمضان آتا تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنے میں بہت سخی،چلتی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے۔
    صدقات مال کی بڑھوتری کا باعث ہیں سو ان بابرکت لمحات میں اپنے اموال میں سے ارد گرد کے لوگوں کا بھی ضرور خیال رکھیئے۔
    کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرانے کا اجر بھی روزہ دار جتنا ہے(ترمذی)۔
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    آگ سے بچو چاہے کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کر کے(صحیح بخاری)۔
    مال تھوڑا دیں یا بہت،نیت خالص ہو،مقصد رضائے الٰہی کا حصول ہو۔
    اللّٰہ تعالٰی فرماتے ہیں:
    "اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں…ان کے لیئے اللّٰہ نے بڑی بخشش اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔(الاحزاب:35)۔
    لیکن اس صدقے کے پیچھے کوئی اذیت نہ ہو ورنہ اس سے بھلی تو اچھی بات کہہ دینا ہے۔
    آیئےنیتوں کا معاملہ درست کر لیں کہ اعمال کی جزا نیت کی بنیاد پر ہی ملنی ہے۔

    7)۔صبر:
    روزہ سے حاصل ہونے والے اسباق میں سے ایک صبر بھی ہے۔
    اس سبق کو باقی دنوں میں بھی اپلائی کریں تنگدستی آ گئی تو صبر،
    بیماری آ گئی تو صبر…
    خوشی آئی یا غم ہر حال میں صبر و شکر…

    8)۔دعا:
    رمضان میں دعاؤں کا بھی خصوصی اہتمام کریں اپنے لیئے،
    والدین کے لیئے،اولاد کے لیئے،
    رشتہ داروں کے لیئے…
    فوت شدگان کے لیئے، ضرورت مند مسلمان بہن بھائیوں کے لیئے دعائیں…
    حالیہ چھائی مشکلات سے نجات کے لیئے دعائیں…!!!

    9)۔لیلۃ القدر کی تلاش:
    رمضان کے آخری عشرہ میں ایک رات ایسی ہے جسے لیلۃ القدر کہا گیا ہے جس میں کی جانے والی عبادت کو ہزار مہینوں سے بہتر کہا گیا ہے۔
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ آخری عشرہ میں خود کو مستعد و فعال کر لیجیئے اور بے شمار اجر کو سمیٹنے میں سستی اور کوتاہی کے مرتکب نہ ہویئے…!!!

    10)۔اجر:
    روزہ کے مقاصد اور تقویٰ کے تقاضے پورے کرتے ہوئے تزکیہ نفس،اصلاحِ احوال اور اخلاقِ سیئہ سے بچتے ہوئے ہم اپنا رمضان گزار لیتے ہیں تو اس کا اجر بھی بے حساب ہے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں،اس میں سے سوائے روزہ داروں کے کوئی داخل نہیں ہو گا…(صحیح بخاری)۔
    "روزہ دار کے لیئے دو خوشیاں ہیں:
    ایک خوشی افطار کے وقت اور ایک اپنے رب سے ملاقات کے وقت اجر لیتے ہوئے ہو گی…”
    (صحیح بخاری )۔
    اللھم اجعلنا منھم آمین ثم آمین
    ==============================

  • چاہت بدلیے، راحت پائیے  بقلم :حافظہ قندیل تبسم

    چاہت بدلیے، راحت پائیے بقلم :حافظہ قندیل تبسم

    چاہت بدلیے، راحت پائیے

    حافظہ قندیل تبسم
    ‘‘جب کوئی چارہ کار نہیں تو گزارا کرو ،،
    کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ دنیا کے سارے معاملات ہماری مرضی کے مطابق ہوں ایسی صورتِ حال کا سامنا ہمیں اکثر کرنا پڑتا ہے
    آپ اپنی من پسند ملازمت کے لیے انٹر ویو دینے گئے- وہاں آپ کو قبول نہیں کیا گیا- آپ نے دوسری جگہ رجوع کیا ، وہاں آپ کو رکھ لیا گیا،
    اس پرابلم کا حل کیا ہے ؟
    یہی کہ ‘‘ جب کوئی چارۂ کار نہیں تو گزارا کرو ،،
    آپ نے کسی لڑکی کو شادی کا پیغام بھیجا -لڑکی نے انکار کر دیا اور کسی اور کا پیغام قبول کر لیا –
    اب کیا ہو سکتا ہے ؟
    یہی نہ کہ ‘‘جب کوئی چارۂ کار نہیں تو گزارا کرو ،،
    بہتر ہے کہ اس کا خیال دل سے نکال کر کسی اور لڑکی سے شادی کر لیں – دنیا میں لڑکیوں کی کمی ہے کیا ؟
    بہت سے لوگوں کو ان مسائل کا یہ دو ٹوک حل پسند نہیں آتا -وہ ان مسائل کا حل دائمی افسردگی ،ہمیشہ کے افسوس اور ہر ایرے غیرے سے شکوہ شکایت کی صورت میں نکالتے ہیں- لیکن یہ انداز نہ تو انہیں کھوئی ہوئی اشیاء دلاتا ہے اور نہ قسمت کے لکھے کو تبدیل کرتا ہے –
    میرے نزدیک زندگی کے ان مسائل کا سوائے اس کے اور کوئی حل نہیں کہ آپ جو چاہتے ہیں وہ نہیں ہوتا تو وہ چاہنے لگ جائیں جو ہو سکتا ہے – عقل مند انسان وہی بے جو اپنا مزاج حالات کے سانچے میں ڈال لیتا ہے یہاں تک کے وہ صورت حال کی تبدیلی پر قادر ہو جائے –

    جی ہاں! زندگی گزاریے ۔ پریشان ہونے کا وقت نہیں۔ ضروریاتِ زندگی میں سے جو کچھ مل گیا ہے، اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اُسے استعمال میں لائیے اور جو نہیں ملا، اس پر کڑھنا چھوڑیے۔ یوں سمجھیے جیسے وہ ہے ہی نہیں، اسی میں اطمینان قلب اور ذہنی سکون کا راز مضمر ہے۔
    نوٹ
    "ہر وہ چیز جس کی انسان تمنا کرے ، ضروری نہیں کہ اُسے مل جائے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہوائیں کشتیوں کی مخالف سمت چلتی ہیں”
    (متنبیّ)

  • دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟  بقلم؛ حافظہ قندیل تبسم

    دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟ بقلم؛ حافظہ قندیل تبسم

    دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟
    حافظہ قندیل تبسم

    دعا ایک عبادت اور مومن کا ہتھیار ہےجو اسے شیطان لعین کے حملوں اور کے حملوں اور پریشانیوں سے حفاظت میں رکھتی ہے۔ اور انتہائی لطف و کرم کی بات کہ خود مالک کائنات نے فرمایا کہ مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔ (سورہ غافر: آیت 60)
    لیکن بعض اوقات ہم میں سے کچھ لوگ شکوہ کناں نظر آتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں نہیں سنتا۔ ایک مسلمان کی یہ شان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات و فرامین پر کامل یقین رکھتا ہے اور اللہ کے فرمان کے مطابق سمجھتا ہے کہ دعا کی قبولیت میں رکاوٹ اس کی اپنی بد عملی کی وجہ سے ہو گی۔ اس مضمون میں ہم ان اسباب کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے جو ہماری دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

    امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "دعائیں، اور تعوّذات (ایسی دعائیں جن کے ذریعے اللہ کی پناہ حاصل کی جائے) کی حیثیت اسلحہ کی طرح ہے، اور اسلحے کی کارکردگی اسلحہ چلانے والے پر منحصر ہوتی ہے، صرف اسلحے کی تیزی کارگر ثابت نہیں ہوتی، چنانچہ اسلحہ مکمل اور ہر قسم کے عیب سے پاک ہو، اور اسلحہ چلانے والے بازو میں قوت ہو، اور درمیان میں کوئی رکاوٹ بھی نہ ہو تو دشمن پر ضرب کاری لگتی ہے، اور ان تینوں اشیاء میں سے کوئی ایک ناپید ہو تو نشانہ متأثر ہوتا ہے۔”
    ("الداء والدواء ” از ابن القیم، صفحہ: 35)

    امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول اس حوالے سے خصوصیت کے ساتھ اہم ہے۔ اس سے ہم جسن سکتے ہیں کہ دعا کی قبولیت میں رکاوٹیں کہاں کہاں آ سکتی ہیں۔ بعض حالات، آداب اور احکام ہیں جن کا دعائیہ الفاظ اور دعا مانگنے والے میں ہونا ضروری ہے، اور کچھ رکاوٹیں، اور موانع ہیں جنکی وجہ سے دعا قبول نہیں ہوتی، چنانچہ ان اشیاء کا دعا مانگنے والے، اور دعائیہ الفاظ سے دور ہونا ضروری ہے۔ جب ان سب معاملات درست ہوں گے تو کوئی سبب نہیں کہ ہماری دعائیں قبول نہ ہوں۔

    قبولیتِ دعا کیلئے معاون اسباب میں چند اسباب یہ ہیں:

    1- دعا میں اخلاص:
    دعا کیلئے اہم اور عظیم ترین ادب اخلاص ہے، اللہ تعالی نے بھی دعا میں اخلاص پر زور دیتے ہوئے فرمایا: (وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ) ترجمہ: اور عبادت اللہ تعالی کیلئے خالص کرتے ہوئے (دعا میں) اسی کو پکارو۔ (الاعراف: آیت 29)
    دعا میں اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ دعا کرنے والا یہ نظریہ رکھے کہ صرف اللہ عز وجل کو ہی پکارا جاسکتا ہے، اور وہی اکیلا تمام ضروریات کو پورا کر سکتا ہے، اور دعا کرتے ہوئے ریا کاری سے گریز کیا جائے۔

    2- توبہ ، اور انابت الی اللہ:
    گناہ اور معصیت دعاؤں کی عدمِ قبولیت کیلئے بنیادی اسباب ہیں، اس لئے دعا مانگنے والے کیلئے ضروری ہے کہ دعا مانگنے سے پہلے گناہوں سے توبہ و استغفار کرے، جیسے کہ اللہ عزو جل نے نوح علیہ السلام کی زبانی فرمایا:
    فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا (10) يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا (11) وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا (12)

    ترجمہ: نوح علیہ السلام کہتے ہیں اور میں نے ان سے کہا کہ اپنے پروردگار سے معافی مانگ لو، بلاشبہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے (10) اللہ تعالی تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا (11) اور تمہاری مال اور اولاد سے مدد کرے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور نہریں جاری کرے گا ۔ (نوح:آیات 10-12)

    3- عاجزی، انکساری، خشوع و خضوع
    قبولیت کی امید اور دعا مسترد ہونے کا خوف، حقیقت میں دعا کی روح، دعا کا مقصود ، اور دعا کا مغز ہے: فرمانِ باری تعالی ہے:( اُدْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ)

    ترجمہ: اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ (الاعراف: آیت 55)

    4- دعا الحاح کیساتھ بار بار کی جائی : دو تین بار دعا کرنے سے الحاح ہوجاتا ہے، تین پر اکتفاء کرنا سنت کے مطابق ہوگا، جیسے کہ امام ابو داؤد اور امام نسائی روایت لائے ہیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین، تین بار دعا اور استغفار پسند تھی۔

    5- خوشحالی کے وقت دعا کرنا، اور آسودگی میں کثرت سے دعائیں مانگنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوشحالی میں اللہ کو تم یاد رکھو، زبوں حالی میں وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ (رواحہ احمد)

    6- دعا کی ابتداء اور انتہا میں اللہ تعالی کے اسمائے حسنی، اور صفاتِ باری تعالی کا واسطہ دیا جائے، فرمان باری تعالی ہے:

    وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا
    ترجمہ: اور اللہ تعالی کے اچھے اچھے نام ہیں، تم انہی کا واسطہ دے کر اُسے پکارو۔ (الاعراف: آیت 180)

    7- جوامع الکلم، واضح، اور اچھی دعائیں اختیار کی جائیں، چنانچہ سب سے بہترین دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ دعائیں ہیں، ویسے انسان کی ضرورت کے مطابق دیگر دعائیہ الفاظ سے بھی دعا مانگی جاسکتی ہے۔

    اسی طرح دعا کے مستحب آداب میں یہ بھی شامل ہے کہ با وضو، قبلہ رُخ ہوکر دعا کریں، ابتدائے دعا میں اللہ تعالی کی حمد وثناء خوانی کریں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھیں، اور دعا کرتے ہوئے ہاتھ اٹھانا بھی جائز ہے۔

    قبولیتِ دعا کے امکان زیادہ قوی کرنے کیلئے قبولیت کے اوقات، اور مقامات تلاش کریں۔

    دعا کیلئے افضل اوقات میں فجر سے پہلے سحری کا وقت، رات کی آخری تہائی کا وقت، جمعہ کے دن کے آخری لمحات، بارش ہونے کا وقت، اذان اور اقامت کے درمیان والا وقت اور سفر کے دوران کا وقت شامل ہیں۔

    اور افضل جگہوں میں تمام مساجد شامل ہیں اور مسجد الحرام کو خصوصی درجہ حاصل ہے۔

    اور ایسے حالات جن میں دعاؤں کی قبولیت کے امکانات زیادہ روشن ہوتے ہیں وہ یہ ہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، روزہ دار کی دعا، مجبور اور مشکل میں پھنسے ہوئے شخص کی دعا، اور ایک مسلمان کی اپنے بھائی کے حق میں اس کی عدم موجودگی میں دعا کرنا شامل ہے۔

    دعا کی قبولیت کے راستے میں بننے والی رکاوٹوں میں درج ذیل امور شامل ہیں:

    1- دعا کرنے کا انداز ہی نامناسب ہو:
    مثال کے طور پر دعا میں زیادتی ہو، یا اللہ عزوجل کیساتھ بے ادبی کی جائے، دعا میں زیادتی سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی سے ایسی دعا مانگی جائے جو مانگنا جائز نہیں ہے، جیسے کہ اپنے لیے دائمی دنیاوی زندگی مانگے، یا گناہ اور حرام اشیاء کا سوال کرے، یا کسی کو موت کی بد دعا دے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: بندے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے، جب تک وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔ (صحیح مسلم)

    2- دعا کرنے والے شخص میں کمزوری ہو، کہ اسکا دل اللہ تعالی کی طرف متوجہ نہ ہو، یا پھر اللہ کیساتھ بے ادبی کا انداز اپنائے، مثال کے طور پر دعا اونچی اونچی آواز سے کرے، یا اللہ سے ایسے مانگے کہ جیسے اُسے اللہ تعالی سے دعا کی قبولیت کیلئے کوئی چاہت ہی نہیں ہے، یا پھر تکلّف کیساتھ الفاظ استعمال کرے، اور معنی مفہوم سے توجہ بالکل ہٹ جائے، یا بناوٹی آہ و بکا اور چیخ و پکار میں مبالغہ کیلئے تکلّف سے کام لے۔

    3- دعا کی قبولیت کیلئے کوئی رکاوٹ موجود ہو مثلا اللہ کے حرام کردہ کاموں کا ارتکاب کیا جائے، جیسے کہ کھانے ، پینے، پہننے، جائے اقامت اور سواری میں حرام مال استعمال ہو، ذریعہ آمدنی حرام کاموں پر مشتمل ہو، دلوں پر گناہوں کا زنگ چڑھا ہوا ہو، دین میں بدعات کا غلبہ ہو، اور قلب پر غفلت کا قبضہ ہو۔

    4- حرام کمائی کھانا،قبولیتِ دعا کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    لوگو! بیشک اللہ تعالی پاک ہے، اور پاکیزہ اشیاء ہی قبول کرتا ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے متقی لوگوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو دیا ، فرمایا: (يَاأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ) ترجمہ: اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ، اور نیک عمل کرو، بیشک تم جو بھی کرتے ہو میں اسکو بخوبی جانتا ہوں۔ (المؤمنون: آیت51)

    اور مؤمنین کو فرمایا: (يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ) ترجمہ:اے ایمان والو! ہم نے جو تم کو پاکیزہ اشیاء عنائت کی ہیں ان میں سے کھاؤ۔ البقرہ: (آیت 172)
    پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا: جس کے لمبے سفر کی وجہ سے پراگندہ ، اور گرد و غبار سے اَٹے ہوئے بال ہیں، اپنے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی جانب اٹھا کر کہتا ہے
    یا رب! یا رب! اسکا کھانا بھی حرام کا، پینا بھی حرام کا، اسے غذا بھی حرام کی دی گئی، ان تمام اسباب کی وجہ سے اسکی دعا کیسے قبول ہو!!
    (صحیح مسلم)

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا ذکر کرتے ہوئے کچھ امور بھی بیان فرمائے، جن سے دعا کی قبولیت کے امکان زیادہ روشن ہوجاتے ہیں، مثلا کہ وہ مسافر ہے، اللہ کا ہی محتاج ہے، لیکن اس کے باوجود دعا اس لیے قبول نہیں ہوتی کہ اس نے حرام کھایا، اللہ تعالی ہمیں ان سے محفوظ رکھے، اور عافیت نصیب فرمائے۔

    5- دعا کی قبولیت کے لیے جلد بازی کرنا، اور مایوس ہوکر دعا ترک کر دینا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    تم میں سے کسی کی دعا اس وقت تک قبول کی جاتی ہے جب تک قبولیت دعا کیلئے جلد بازی نہ کرے، اور کہہ دے "میں نے دعائیں تو بہت کی ہیں، لیکن کوئی قبول ہی نہیں ہوتی”۔
    (صحیح بخاری و مسلم)

    6- مشیتِ الہی پر قبولیت دعا کو معلق کرنا:
    مثال کے طور پر یہ کہنا کہ "یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کردے” بلکہ دعا کرنے والے کو چاہیے کہ وہ پر عزم، کامل کوشش، اور الحاح کیساتھ دعا مانگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
    تم میں سے کوئی بھی دعا کرتے ہوئے ہرگز یہ مت کہے کہ "یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کردے”، "یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما” بلکہ پختہ عزم کیساتھ مانگے؛ کیونکہ اللہ تعالی کو کوئی بھی مجبور نہیں کرسکتا۔ (صحیح بخاری و مسلم)

    یہاں ہم نے ایسے امور ذکر کر دیے ہیں جو دعا کی قبولیت کا سبب بن سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کامل امید رکھتے ہوئے ان کو اختیار کیا جائے، ان میں سے چند اسباب کو اختیار کرنا بھی فائدے سے خالی نہیں ہے۔

    قبولیت دعا کے حوالے سے یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ قبولیتِ دعا کی کئی صورتیں ہیں

    • اللہ تعالی بندے کی دعا قبول کرتے ہوئے اسے وہی عنائت کردے جس کی وہ تمنا کرتا ہے۔

    • یا پھر اس دعا کے بدلے میں کسی شر کو رفع کردیتا ہے۔

    • یا بندے کے حق میں اس کی دعا سے بہتر چیز میسر فرما دیتا ہے۔

    • یا اسکی دعا کو قیامت کے دن کے لیے ذخیرہ کردیتا ہے، جہاں پر انسان کو اِسکی انتہائی ضرورت ہوگی۔
    اور انسان خواہش کرے گا کاش اس کی دنیا میں کوئی دعا قبول نہ ہوئی ہوتی۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایسے عمل کی توفیق عطا فرمائے جو اسے پسند ہے اور ہم سے راضی ہو جائے۔

  • Keraunoparalysis  ایک عارضی مفلوج پن کی بیماری ہے جو آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے لگتی ہے. بقلم سلطان سکندر!!!

    Keraunoparalysis ایک عارضی مفلوج پن کی بیماری ہے جو آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے لگتی ہے. بقلم سلطان سکندر!!!

    Keraunoparalysis
    ایک عارضی مفلوج پن کی بیماری ہے جو آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے لگتی ہے.

    Keraunoparalysis
    Kerauno- ("Lightning”) + paralysis

    ناؤن keraunoparalysis(دوائی) آسمانی بجلی گرنے کے بعد اعضاء میں ہونے والی عارضی کمزوری, سردی اور جِلد کے بدبودار ہونے پر استعمال کی جاتی ہے.

    یو ایس نیشنل لائبریری آف میڈیسن کہتا ہے کہ ایک 50 سالہ آدمی ہمارے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں لایا گیا جس پہ آسمانی بجلی گری جب وہ بجلی کے طوفان کے دوران درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا, وہ 15 منٹ تک بےحال پڑا رہا اور 15 منٹ بعد جب اسکی حالت ٹھیک ہونا شروع ہوئی تو وہ اپنے نچلے دونوں اعضاء(ٹانگیں پاؤں وغیرہ) ہلانے کے قابل نہ رہا تھا اور ساتھ ساتھ حساسیت (سینسیشن) اور یورینری ریٹنشن(پیشاب برقرار رکھنے کا سسٹم) کو بھی کھو چکا تھا.

    آسمانی بجلی لگنے سے عارضی طور پر مفلوج پن ہوتا ہے. یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے لیکن اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے سے یہ بات کتاب قرآن مجید میں موجود ہے کہ

    Quran 51:44-45
    فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّـهِـمْ فَاَخَذَتْهُـمُ الصَّاعِقَةُ وَهُـمْ يَنْظُرُوْنَ (44)

    پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی تو ان کو بجلی نے آ پکڑا اور وہ دیکھ رہے تھے۔

    فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِيَامٍ وَّمَا كَانُـوْا مُنْتَصِرِيْنَ (45)

    پھر نہ تو وہ اٹھ(نقل و حرکت) ہی سکے اور نہ وہ کوئی مدد ہی لے سکے۔”

    "پھر نہ وہ اٹھ سکے” آج ہم جانتے ہیں کہ وہ کیوں نہ اٹھ سکے, یہ keraunoparalysis ہے, جو آسمانی بجلی لگنے سے عارضی طور پر مفلوج پن کا سبب بنتا ہے.

    سوال یہ ہے کہ 1400 سال پہلے آنے والا غیر معمولی شخص kerunoparalysis کے بارے میں کیسے جان سکتا ہے؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • بیٹی…!!!  بقلم:جویریہ بتول

    بیٹی…!!! بقلم:جویریہ بتول

    بیٹی…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    بیٹی تو رونقِ چمن ہے…
    بیٹی سے مہکتاگھر کا آنگن ہے…
    بیٹی مسکراتی ہوئی کلی ہے…
    جو کھِلے تو لگتی کتنی بھلی ہے…
    بیٹی کا وجود باعثِ رحمت ہے…
    بیٹی کی بہت ارفع حرمت ہے…
    بیٹی گھر کی زینت بنائے…
    بیٹی ہر فن تا زیست دکھائے…!!!
    بیٹی ماں باپ کی ہمدرد و ہمراز ہے…
    بیٹی کے لہجے میں سوز و گداز ہے…
    بیٹی کا وجود صدائے وفا ہے…
    شرم و حیا رہی بیٹی کی اَدا ہے…
    بیٹی کا دل نرمی کا مسکن ہے…
    تُرشی وبغاوت جہاں بہت کم ممکن ہے…
    بیٹی شبِ دیجور میں ڈھارس کا دِیا ہے…
    بیٹی نے ہر دور میں ہر زخم سِیا ہے…
    بیٹی سدا سے مصالحت پر کاربند ہے…
    بیٹی تخلیقِ سکون میں کارآمد ہے…
    بیٹی کی فطرت سدا مسکراتی ہے…
    اس کی مسکراہٹ کئی خوشیاں لاتی ہے…
    گر اس کی آنکھوں میں نین چمکتے ہیں…
    تو درد پھر کئی غیب سے اُٹھتے ہیں…!!
    اس بیٹی کی کمزوری کی لاج رکھنا…!!!
    اس بیٹی کا خیال کل اور آج رکھنا…
    یہ بیٹی چُپ کی گہری تصویر ہے…
    بیٹی کے بول میں گہری تاثیر ہے…
    بیٹی کے دل میں نہ کوئی ارماں رہے…
    بیٹی جب اپنے گھر سے اُڑاں بھرے…
    محبتوں اور چاہتوں کا سمندر لیئے…
    بیٹی سکوں سے جا اگلے آنگن میں اُترے…
    وہ لمحہ بھی ہوتا کتنا بھاری ہے…؟
    کہ آنگن پہ ہوتی اُداسی طاری ہے…
    تربیت کے اثرات مرتب ہوں اُس پر…
    ورنہ پھر انگلیاں اُٹھیں گی توکس پر؟؟
    اس بیٹی کی جو پرورش و تربیت ہے…
    وہ شاہراۂ جنت کی قربت ہے…!!!
    =============================
    (جویریات ادبیات)۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • مرحبا رمضان…!!!  بقلم:جویریہ بتول

    مرحبا رمضان…!!! بقلم:جویریہ بتول

    مرحبا رمضان…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    مرحبا رمضان،مرحبا رمضان…
    تیرا آنا مبارک،تو شھر القرآن…
    ہے روح و بدن کی روئیدگی تُجھ سے…
    ترے شب و روز اعمال کا پیمان…
    جھوٹ و برائی سے نفرت کا پیام…
    ترا اک ایک لمحۂ تازگئ ایمان…
    ہوتے سحر و افطار کےیہ منظم سلسلے…
    اک دائرہ میں گھومنے کا ہے سامان…
    رات اور دن کے بیشتر وقت میں…
    رب کی بارگاہ میں حاضر ہیں مسلمان…!!!
    رکوع و سجود میں عاجزی یہ کے منظر…
    روح کی زندگی کی کراتے ہیں پہچان…
    دلِ مردہ گَرد سے نکل کر ہوتا ہے زندہ دوبارہ…
    یہ زباں ہے ذکر کرتی اور تلاوتِ قرآن…
    ان روح پرور میسر لمحات میں آؤ…
    نامۂ عمل سے مٹا دیں کُچھ سیاہی کے نشان…
    اس نفس کے تزکیہ سے گزر کر ہم…
    اِسی سمت موڑ دیں اس زندگی کا رجحان…
    اس تربیت کے اثرات عمرِ رواں پہ ثبت…
    کرتے ہوئے بڑھیں فلاح کی طرف انسان…!!!!!
    ==============================
    جویریات ادبیات
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • دعا کی اہمیت اور فضائل و مسائل  از: حافظہ قندیل تبسم

    دعا کی اہمیت اور فضائل و مسائل از: حافظہ قندیل تبسم

    دعا کی اہمیت اور فضائل و مسائل
    حافظہ قندیل تبسم

    اللہ تعالی کو یہ بات بہت پسند ہے کہ انسان اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی حاجات اس سے مانگے اور اسی سے امید لگائے چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے:
    وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ
    ترجمہ: اور تمہارے رب نے کہہ دیا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کرونگا۔[سورہ غافر :آیت 60]
    دعا کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرما دیا:
    دعا ہی عبادت ہے۔
    ترمذی (3372) ، ابو داود (1479) ، ابن ماجہ (3828) البانی نے اسے "صحیح ترمذی” (2590) میں صحیح قرار دیا ہے۔

    دعا عبادت کی ایک اہم شکل ہے لہذا اس کا اہتمام بھی احسن انداز سے ہونا چاہیے۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ایسے امور ذکر کیے جائیں جو دعا کرنے کے لیے لازمی ملحوظ رکھنے چاہئیں۔

    1- دعا کرنے والا شخص توحید ربوبیت، توحید الوہیت، اور توحید اسماء و صفات میں وحدانیت الہی کا قائل ہو، اس کا دل عقیدہ توحید سے سرشار ہونا چاہیے؛ کیونکہ دعا کی قبولیت کیلئے شرط ہے کہ انسان اپنے رب کا مکمل فرمانبردار ہو اور نافرمانی سے دور ہو جیسا کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
    وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ
    ترجمہ: اور جس وقت میرے بندے آپ سے میرے متعلق سوال کریں تو میں قریب ہوں، ہر دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب بھی وہ دعا کرے، پس وہ میرے احکامات کی تعمیل کریں، اور مجھ پر اعتماد رکھیں، تا کہ وہ رہنمائی پائیں [البقرة : 186]

    2- دعا میں اخلاص ہونا ضروری ہے، صرف خدائے واحد کو پکارا جائے جیسا کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
    فَإِذَا رَكِبُوا۟ فِى ٱلْفُلْكِ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمْ إِلَى ٱلْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ ﴿65﴾
    ترجمہ: پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد سے الله ہی کو پکارتے ہیں پھر جب انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے فوراً ہی شرک کرنے لگتے ہیں (سورۃ العنکبوت،آیت 65)
    وَإِذَا غَشِيَهُم مَّوْجٌۭ كَٱلظُّلَلِ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمْ إِلَى ٱلْبَرِّ فَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌۭ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِايَٰتِنَآ إِلَّا كُلُّ خَتَّارٍۢ كَفُورٍۢ﴿32﴾
    ترجمہ: اور جب انہیں سائبانوں کی طرح موج ڈھانک لیتی ہے تو خالص اعتقاد سے الله ہی کو پکارتے ہیں پھر جب انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف لےآتا ہے تو بعض ان میں سے راہِ راست پر رہتے ہیں اور ہماری نشانیوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بد عہد نا شکر گزار ہیں (سورۃ لقمان،آیت 32)
    چنانچہ قبولیتِ دعا کیلئے اخلاص شرط ہے۔

    3- اللہ تعالی کے اسمائے حسنی کا واسطہ دے کر اللہ سے مانگا جائے، فرمانِ باری تعالی ہے:
    وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِاور اللہ تعالی کے اچھے اچھے نام ہیں، انہی کے واسطے سے اللہ کو پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اللہ کے ناموں سے متعلق الحاد کا شکار ہیں۔ [الأعراف : 180]

    4- دعا کرنے سے پہلے اللہ تعالی کی شایانِ شان حمد و ثنا کی جائے۔ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ بیٹھے ہوئے تھے، کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نماز پڑھی [پھر اسی دوران دعا کرتے ہوئے]کہا: "یا اللہ! مجھے معاف کر دے، اور مجھ پر رحم فرما” تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اے نمازی! تم نے جلد بازی سے کام لیا، جب تم نماز میں [تشہد کیلئے ]بیٹھو، تو پہلے اللہ کی شان کے مطابق حمد و ثنا بیان کرو، پھر مجھ پر درود پڑھو، اور پھر اللہ سے مانگو)۔
    (ترمذی: 3476)
    ترمذی کی ہی ایک اور روایت میں ہے کہ: (جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو [تشہد میں] سب سے پہلے اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے، اور اس کے بعد جو دل میں آئے مانگ لے) راوی کہتے ہیں: "اس کے بعد ایک اور شخص نے نماز پڑھی، تو اس نے اللہ کی حمد بیان کی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: (اے نمازی! اب دعا مانگ لو، تمہاری دعا قبول ہوگی)”
    ترمذی 3477 اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے "صحیح ترمذی” (2765 ، 2767) میں صحیح کہا ہے۔

    5- نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جائے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: (ہر دعا شرفِ قبولیت سے محروم رہتی ہے، جب تک اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھا جائے)
    طبرانی نے "الأوسط” (1/220) میں روایت کیا ہے، اور شیخ البانی نے اسے "صحیح الجامع” (4399) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

    6- قبلہ رخ ہو کر دعا کرنا
    چنانچہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب غزوہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی تعداد کو دیکھا کہ ان کی تعداد ایک ہزار ہے، اور آپ کے جانثار صحابہ کرام کی تعداد 319 ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ ہو کر دعا مانگنا شروع کی آپ نے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے اور اپنے رب سے گڑگڑا کر مانگنے لگے: (اَللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي ، اَللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي ، اَللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الإِسْلامِ لا تُعْبَدْ فِي الأَرْضِ)[یعنی: یا اللہ! مجھ سے کیا ہوا وعدہ پورا فرما، یا اللہ! مجھے دیا ہوا عہد و پیمان مکمل فرما، یا اللہ اگر تو نے تھوڑے سے مسلمانوں کا خاتمہ کر دیا تو زمین پر کوئی عبادت کرنے والا نہ ہوگا] آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ہاتھوں کو اٹھائے اپنے رب سے گڑگڑا کر دعائیں کرتے رہے، حتی کہ آپکی چادر کندھوں سے گر گئی۔۔۔ ( مسلم: 1763)

    نووی رحمہ اللہ شرح مسلم میں کہتے ہیں:
    "اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونا ، اور ہاتھوں کو اٹھانا مستحب ہے”

    7- ہاتھوں کو اٹھا کر دعا کرنا
    سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بیشک تمہارا پروردگار انتہائی باحیا اور سخی ہے، ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے والے اپنے بندے کے ہاتھوں کو خالی لوٹاتے ہوئے اسی حیا آتی ہے۔ (ابو داود: 1488)
    اس حدیث کو شیخ البانی نے "صحیح ابو داود”: (1320) میں صحیح کہا ہے۔

    دعا میں ہاتھ اٹھانے کیلئے ہتھیلی کی اندرونی جانب آسمان کی طرف ہوگی، جیسے کسی سے کچھ لینے کا منتظر فقیر اور لاچار شخص اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر رکھتا ہے
    مالک بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب تم اللہ تعالی سے مانگو تو اپنی ہتھیلی کے اندرونی حصے سے مانگو، ہتھیلی کی پشت سے مت مانگو)
    (ابو داود: 1486)
    اس حدیث کو شیخ البانی نے "صحیح ابو داود”: (1318) میں صحیح کہا ہے۔

    8- اللہ تعالی کے بارے میں قبولیت کا مکمل یقین ہو اور صدق دل سے دعا مانگے
    فرمان رسول ہے: (اللہ سے مانگو تو قبولیت کے یقین سے مانگو، یہ یاد رکھو! اللہ تعالی کسی غافل اور لا پرواہ دل کی دعا قبول نہیں فرماتا)
    (ترمذی: 3479) اس حدیث کو شیخ البانی نے "صحیح ترمذی”: (2766) میں حسن کہا ہے۔

    9- مایوس ہو کر دعا چھوڑنا درست نہیں،
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جب تک کوئی بندہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے، بشرطیکہ کہ جلد بازی نہ کرے) کہا گیا: "جلد بازی سے کیا مراد ہے؟” تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (انسان یہ کہے: دعائیں تو بہت کی ہیں، پر مجھے لگتا ہے کہ میری دعائیں قبول نہیں کی جائیں گی، اوراس پر مایوس ہو کر دعا کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے)
    بخاری(6340) مسلم (2735)

    10- دعا پختہ عزم سے ہو،
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (تم میں سے کوئی یہ نہ کہے : "یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما” بلکہ دعا مانگتے ہوئے پورے عزم کیساتھ مانگے، کیونکہ اللہ تعالی کو کوئی مجبور نہیں کر سکتا)
    بخاری(6339) مسلم (2679)

    11- عاجزی ، انکساری، اللہ کی رحمت کی امید اور اللہ سے ڈرتے ہوئے دعا مانگے، فرمانِ باری تعالی ہے:
    ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ترجمہ: اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے سے پکارو[الأعراف : 55]

    اسی طرح فرمایا:
    إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ
    ترجمہ: بیشک وہ نیکیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور ہمیں امید و خوف کیساتھ پکارتے تھے، اور وہ ہم سے ڈرتے بھی تھے۔[الأنبياء : 90]

    اسی طرح فرمایا:
    وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ
    ترجمہ: اور اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی اور خوف سے صبح و شام یاد کریں اور بلند آواز کے بغیر بھی اور غافلوں سے نہ ہو جائیں۔ [الأعراف : 205]

    12- تین ، تین بار دعا کرنا، بخاری (240) مسلم (1794) میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : ” رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز ادا کر رہے تھے، وہیں پر ابو جہل اپنے ساتھیوں کیساتھ بیٹھا تھا، [قریب ہی ]گزشتہ شام اونٹ بھی نحر کیے گئے تھے، تو ابو جہل نے کہا: "کون ہے جو فلاں قبیلے والوں کے اونٹوں کی اوجھڑی اٹھا کر جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جائے تو اس کی کمر پر رکھ دے” یہ سن کر ایک بد بخت اٹھا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو اوجھڑی کو دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا ، پھر سب اوباش ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگے، لیکن میں کھرا دیکھتا ہی رہ گیا، اگر میرے کنبے والے میرے ساتھ ہوتے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر مبارک سے اسے ہٹا دیتا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح سجدے کی حالت میں پڑے رہے، یہاں تک کہ ایک شخص نے جا کر فاطمہ کو بتلایا، تو وہ دوڑتی ہوئی آئیں، حالانکہ آپ بالکل چھوٹی عمر کی تھیں، پھر بھی آپ نے اوجھڑی کو ہٹایا، اور پھر اوباشوں کو برا بھلا کہنے لگیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی تو بلند آواز سے ان کے خلاف بد دعا فرمائی، -آپ جب مانگتے تو تین ، تین بار مانگتے، اور جب دعا کرتے تو تین ، تین بار کرتے- آپ نے تین بار فرمایا:
    (یا اللہ! قریش پر اپنی پکڑ نازل فرما )، جب اوباشوں نے آپکی آواز سنی تو انکی ہنسی بند ہوگئی، اور آپکی بد دعا سے سہم گئے ، پھر آپ نے فرمایا: (یا اللہ! ابو جہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عقبہ، امیہ بن خلف، اور عقبہ بن ابی معیط پر اپنی پکڑ نازل فرما-آپ نے ساتویں کا نام بھی لیا لیکن مجھے اب یاد نہیں ہے- قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، جن لوگوں کے نام آپ نے لیے تھے وہ سب کے سب بدر کے دن قتل ہوئے، اور پھر ان سب کو بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا)”

    13- حلال کھانے پینے کا اہتمام کرنا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    (لوگو! اللہ تعالی پاکیزہ ہے، اور پاکیزہ ہی قبول فرماتا ہے، اور اللہ تعالی نے مؤمنین کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو دیا، چنانچہ فرمایا: يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ اے رسولو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ، اور نیک عمل کرو، بیشک تم جو بھی عمل کرتے ہو میں اسے جانتا ہوں۔[المؤمنون : 51] اور مؤمنین کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْاے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں تمہیں دی ہیں ان میں سے کھاؤ [البقرة : 172] پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا تذکرہ فرمایا، جو لمبے سفر میں پراگندہ حالت کیساتھ دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے یا رب! یا رب! کی صدائیں بلند کرتا ہے، حالانکہ اس کا کھانا حرام کا، پینا حرام کا، لباس حرام کا، اسکی پرورش حرام پر ہوئی، تو اس کی دعائیں کیونکر قبول ہوں!؟)
    (مسلم 1015)
    ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "اس سے معلوم ہوا کہ حلال کھانا پینا، پہننا، اور حلال پر نشو و نما پانا قبولیتِ دعا کا موجب ہے”

    14- اپنی دعاؤں کو مخفی رکھنا، جہری طور پر دعا نہ کرنا، فرمانِ باری تعالی ہے: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ترجمہ: اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے سے پکارو[الأعراف : 55]، نیز اللہ تعالی نے اپنے بندے زکریا علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: إِذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا جب انہوں نے اپنے رب کو مخفی انداز میں پکارا ۔
    [مريم : 3]
    ان امور کا لحاظ کر کے دعا کی جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ بارگاہ خداوندی میں ضرور قبول ہو گی اور ثمر بار ہو گی۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔
    ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
    اللہ تعالیٰ کے کرم اور جود و سخا کی کو انتہا نہیں ہے، بس ہمیں مانگنا آنا چاہیے بیشک اللہ تعالیٰ عطا کے دریا بہا دیتا ہے۔

  • مکالمہ,,,,!  از:نساء بھٹی

    مکالمہ,,,,! از:نساء بھٹی

    نساء بھٹی
    مکالمہ,,,,!
    آدم تو ہے مٹی
    یہ ہے حقیر سمجھ لے
    ابلیس میرا نام ہے شعلوں سے بنا ہوں!
    میں اس سے ہوں بہتر کہ ہوں آگ کا پیکر
    یہ سر میرا اس کے کبھی آگے نہ جھکے گا
    ہوّں اس سے فروتر , تو میں افضل ہی رہوں گا.
    پھر رب نے کہا!
    "جا میری جنت سے نکل جا
    پھٹکار ہے تجھ پر
    یہاں تو اب نہ رہے گا”
    کہنے لگا تو رب ہے ذرا بات میری مان
    دے مجھ کو ذرا مہلت کے لے آدم مجھے پہچان.
    میں اس کی ذریت کو بہکا کہ رہوں گا,
    فی نار جہنم انہیں پہنچا کہ دم لوں گا.
    آسان ہدف میرا یہ تیرے بشر ہوں گے
    پھر ساتھ میرے حشر میں یک صف کھڑے ہوں گے
    یوں خوشنما کر دوں گا میں اپنا ہر ہرچنگل
    کہ کرتے رہیں گے یہ آپس ہی میں دنگل
    آئی یہ ندا!
    جا تجھے مہلت ہے حشر تک
    جو تیرا ارادہ ہے جا , پورا ذرا کر,
    مخلص میرے بندوں کو تو بہکا نہ سکے گا.جو تیرا ارادہ ہے کبھی کر نہ سکے گا.
    جو تیری سنے گا,وہ ہوگا میرا کافر
    جو کفر کرے گا وہی ہوگا تیرا ہم سر
    تم سب کے لئے ہوگا جہنم کا یہی گھر.
    روؤ گے وہاں چیخو گے فریاد کرو گے
    "پھر عمر رواں دے دے گناہ اب نہ کریں گے”
    شعلوں میں گھرو گے,پیو گے جام حمیم
    نہ پاؤ گے بلکل مجھے اس روز تم رحیم
    تو آج بھی لعین ہے اس روز بھی ہوگا
    مردود ہے مردود ہے مردود رہے گا…