Baaghi TV

Category: بلاگ

  • 23 مارچ اور اتحاد از عاشق علی بخاری

    اگر بغور جائزہ لیں تو اس کے پیچھے ایک طویل اور تھکادینے والی جدوجہد اور بے شمار قربانیاں آپ کو نظر آئیں گی. وطن عزیز حاصل کرنا بچوں کا کھیل نہیں تھا بلکہ دو ایسی طاقتوں سے مقابلہ تھا، جن میں سے ایک برسرِ اقتدار انگریز اور دوسرے انہی کے مہرے تھے.

    سیدھے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ آپ بے سر و سامان تھے اور اور مقابل پورے توپ تفنگ سے آراستہ تھا، سمجھیں یہ وہی منظر تھا کہ ایک طرف 313 تو دوسری طرف 1000 کا لشکر تلواروں، نیزوں اور بہترین گھوڑوں پر سوار.
    یہاں بھی جب فضائے بدر پیدا ہوئی تو آسمانی مدد پورے جلال کے ساتھ مسلمانوں کے شانہ بشانہ موجود تھی. جب ہم نے آزادی حاصل کی تو ہمارے اثاثے تک روک لیے گئے، ہم پر جنگیں مسلط کی گئیں، یہاں تک کہ دشمنوں کی سازشوں کا شکار ہو ہم دو ٹکڑے ہوگئے، لیکن ہم اس وقت سے اب تک سروائو کرتے چلے آئے ہیں.

    پوری انسانی تاریخ اٹھا کر دیکھ جب بھی، اور کہیں بھی پختہ عزم اور کامل یقین کے ساتھ جس نے بھی جدوجہد کی وہ یقیناً کامیاب ہوا ہے.
    منگول سلطنت ہو یا سلطنت عثمانیہ یا پھر امیر تیمور ہو یا مغلیہ سلطنت اس کے علاوہ بھی بے شمار حکمران اور افراد گزرے ہیں، جنہوں نے عزم کیا تو بالآخر اپنی منزل پر پہنچ ہی گئے.
    یہ دن بھی ہمارے لیے تاریخ کا بہترین سبق رکھتاہے.
    ہم لاالہ الااللہ کی بنیاد پر جمع ہوئے تھے، اسی پر ہم نے جمع رہنا ہے،
    اپنی منزل سے ہٹ کر چھوٹے چھوٹے رستوں پر چل نکلے تو پھر منزل سے ضرور بھٹک جائیں گے، ہمیشہ اپنے مرکز لاالہ الا اللہ کے قریب رہنا ہے اسی میں ہماری بقا کا راز چھپا ہوا ہے.

    چاہے کیسے بھی جھکڑ، طوفان چلیں، کیسی ہی ہوائیں مخالف کیوں نہ ہوجائیں، ہم نے اتحاد کے سبق کو نہیں بھولنا یہ گویا موت و حیات کے بیچ لٹکی ہوئی رسی ہے، اگر ذرا بھی ہاتھ ڈھیلا ہوا تو لکڑبگھوں اور اژدھوں کا نوالہ بن جائیں گے.
    ملک پاکستان ابتداء سے لیکر اب تک مختلف بحرانوں اور مسلسل مشکلات کا شکار ہے، اور حالیہ وبائی سلسلے میں بھی مشکلات میں گھرا ہوا ہے، ان تمام حالات میں ہم نے ایک قوم ہونے کا ثبوت دینا ہے، حکومتی اقدامات چاہے کچھ بھی نہ ہوں لیکن ہم نے وہ تمام ضروری کام کرنے ہیں جو ہمارے لیے ضروری ہیں، آپ اپنا بالکل نہ سوچیں بلکہ اگر آپ بیٹے ہو تو والدین بہن بھائیوں کا سوچو، اگر شوہر ہو تو بیوی، بچوں کا سوچیں، آپ آپ نہیں ہیں بلکہ بہت سارے لوگوں کی امید ہیں آپ. بہت سارے لوگوں کے چہروں پر آپ مسکراہٹ کا سبب ہیں، اس نے کہا تھا نہ
    احتیاط ضروری اے.

    ہمارا ملک کسی بھی لسانی، صوبائی، فرقہ وارانہ کاموں کا متحمل نہیں ہوسکتا، لہذا وہ تمام کام جو مسلمانوں کے اتحاد کے لیے نقصان دہ ہوں ان سے خود بچنا یے اور دوسروں کو بچانا ہے.
    یہ ملک کلمے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہے، تو اس کے منافی کام کرکے اپنے آباء و اجداد کی قربانیوں پر پانی نہیں پھیرنا، اس ملک میں نہ لبرل ازم کی کوئی جگہ ہے اور نہ ہی سیکولرازم کی.
    سندھی، پنجابی، بلوچ سب نے مل کر اس کی بنیاد رکھی تو اب بھی ہر ایک اس کا نگران او نگہبان ہے، کوئی کسی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا.
    پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ
    پاکستان زندہ باد

  • بنیاد پاکستان میں قرارداد پاکستان کا کردار  تحریر: غنی محمود قصوری

    بنیاد پاکستان میں قرارداد پاکستان کا کردار تحریر: غنی محمود قصوری

    ہر سال 23 مارچ کو سرکاری چھٹی ہوتی ہے سرکاری طور پر فوج کی جانب سے پریڈ کی جاتی ہے اور اس دن ہم یوم پاکستان مناتے ہیں مگر اس سال عالمی وبائی مرض کرونا کے باعث پریڈ منسوخ کر دی گئی ہے یہ سارا کچھ کیوں ہے اس کیلئے ہمیں ماضی میں جانا ہو گا
    یوں تو دو قومی نظرئیے اور قیام پاکستان کی بنیاد اسی دن ہی پڑ گئی تھی جب محمد بن قاسم نے سندھ پر راجہ داہر کے ظلم کے خلاف حملہ کیا تھا اور پھر اس کے بعد ہر آنے والے مسلمان جرنیل نے ہندو کی ٹھکائی کرکے دو قومی نظرئیے کو تقویت دی
    قیام پاکستان کا منصوبہ 14 اگست 1947 کو پایہ تکمیل کو پہنچا مگر اس پہلے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہمارے بزرگوں نے اسے کامیاب بنانے کیلئے کیا حکمت عملی اپنائی اور کون کونسی قربانیاں دیں
    انگریز و ہندو سے تنگ مسلمان نے مسلم لیگ اور اپنے مسلمان قائدین کے زیر سایہ ایک الگ اسلامی ملک کیلئے کوششیں شروع کیں جس کا خواب ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا
    علامہ علیہ رحمہ نے 1937 کو قائد اعظم محمد علی جناح کے نام لکھے گئے اپنے خط میں انہیں مخاطب کرکے لکھا کہ اگر ہندوستان کے مسلمانوں کا مقصد سیاسی جد وجہد سے محض آزادی اور اقتصادی بہبود ہے اور حفاظت اسلام اس جدوجہد کا مقصد نہیں تو مسلمان اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے
    اس پیغام کو جناب محمد علی جناح نے نہایت سنجیدگی سے سمجھا اور قیام پاکستان کے لئے کوششیں انتہائی تیز کر دیں اور ان کوششوں اور قربانیوں کے نتیجے میں 22 دسمبر 1939 کو یوم نجات منایا اور اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھایا کہ منزل بہت قریب ہے کیونکہ قائد اعظم جان چکے تھے کہ ہندو کے ساتھ گزرا ممکن نہیں اور ہندو کیساتھ رہتے ہوئے مسلمان اپنا اسلامی تشخص برقرار نہیں رکھ سکیں گے اس لئے قیام پاکستان کیلئے تمام تر کوششیں تیز کر دی گئیں
    مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس 21،22،اور 23 مارچ 1940 کو طے تھا جسے رکوانے کیلئے انگریز انتظامیہ نے دفعہ 144 کا نفاذ کر رکھا تھا تاکہ مسلمان اس جلسے کو نا کر سکیں اور جذبہ آزادی سے دستبردار ہو جائیں جو کہ مسلمانوں کے لئے ناممکن تھا سو 19 مارچ کو جزبہ آزادی سے سرشار مسلمانوں نے کرفیو کو توڑا جس پر پولیس نے گولی چلائی جس کے نتیجے میں 82 مسلمان شہید اور درجنوں زخمی ہوئے جلسے کی تاریخ بھی نزدیک تھی اور لاہور کی فضاء بھی انتہائی سوگوار تھی مگر مسلمانوں کے حوصلے انتہائی بلند تھے اور وہ ہر حال میں اس جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے پر عزم تھے 21 مارچ کو قائد اعظم محمد علی جناح فرنٹئیر میل کے ذریعے لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچے جہاں لاکھوں لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا قائد اعطم ریلوے اسٹیشن سے سیدھا زخمیوں کی عیادت کرنے ہسپتال پہنچے اور ان کی عیادت کرنے کیساتھ ان کے جذبے کی بھی داد دی جس پر کارکنان مسلم لیگ و مسلمانان ہند کے حوصلے مزید بلند ہو گئے اور آخر کار 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں طے شدہ وقت پر کارکنان مسلم لیگ و مسلمانان ہند جلسہ گاہ میں پہنچے اور قائد اعظم کے پہنچنے پر کانفرنس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا جلسہ گاہ میں تل دھرنے کو جگہ نا تھی قائد اعظم نے تقریباً 100 منٹ تقریر کی چونکہ اس جلسے کا مقصد دو قومی نظرئیے کو اجاگر کرنا تھا اس لئے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے اور قرار داد پاکستان پیش کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں جن کے مذہب الگ ہیں جن کی غمی خوشی،رسم و رواج اور رہن سہن الگ ہے لہذہ یہ دو قومیں ہیں اور ہم اپنے رہنے کے لئے الگ ملک پاکستان بنائینگے جہاں تمام مذاہبِ کے لوگ مکمل آزادی کیساتھ زندگی بسر کر سکیں گے قائد اعظم کے علاوہ اس جلسے میں مولوی فضل الحق بنگالی،چویدری خلیق الزماں،مولانا ظفر علی خان،سردار اورنگزیب،اور عبداللہ ہارون نے بھی تقریر کرتے ہوئے دو قومی نظرئیے اور قیام پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا
    اس جلسے میں تقریباً سوا لاکھ مسلمانوں، جن میں سے بیشتر خواتین تھیں ،نے شرکت کی اس سے قبل ہندوستان میں مسلمانوں کا اتنا بڑا اجتماع کبھی نا ہوا تھا مسلمانوں نے قائد اعظم زندہ باد،سینے پہ گولی کھائیں گے پاکستان بنائینگے اور بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے لگائے اور اپنے قائد حضرت محمد علی جناح کی قیادت میں انگریز و ہندو کے سامنے سینہ سپر ہو گے اور اپنی جان و مال کی قربانیاں دے کر 14 اگست 1947 کو پاکستان بنانے میں کامیاب ہو گئے
    آج ہمیں بھی پاکستان کی بقاء و سلامتی کیلئے علامہ محمد اقبال،قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے کارکنان جیسا عزم چاہئیے تاکہ دو قومی نظرئیے اور پاکستان کے قیام کا مقصد دنیا پر واضح ہو سکے اور اقبال کا خواب شرمندہ تعبیر ہو

  • یوم پاکستان اور کرونا وائرس،  قیام پاکستان کے وقت کے جذبوں کی ضرورت ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    یوم پاکستان اور کرونا وائرس، قیام پاکستان کے وقت کے جذبوں کی ضرورت ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    آج تئیس مارچ ہے وہ دن جو تحریک پاکستان کا سب سے خاص دن ہے. یوں تو برصغیر کے مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی اور ہندو کی چالبازی سے نکالنے لیے کوششیں اور کاوشیں بڑی دیر سے جاری تھیں، جنگ آزادی آٹھارہ سو ستاون سے علی گڑھ تحریک تک ،اور تحریک خلافت سے مسلم لیگ کے قیام تک برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی اس بیچ منجھدار میں ڈولتی ناؤ کو سنبھالا دینے اور پرسکون ساحل کی سمت لانے کے لیے سینکڑوں قائدین نے اپنی خدمات سرانجام دیں.

    مسلم لیگ کے قیام کے بعد کچھ سمتیں متعین ہونا شروع ہوئیں پھر قائد و اقبال کی زیرک قیادت نے مسلمانوں کے تحفظ کا بیڑہ اٹھایا اور بالآخر تئیس مارچ انیس سو چالیس کو اسلام کے لاکھوں پروانے لاہور میں منٹو پارک میں جمع ہوئے جس کو آج گریٹر اقبال پارک کے نام سے جانا جاتا ہے ان لاکھوں فرزندان توحید نے محمد علی جناح کی قیادت میں پختہ عہد کیا کہ ہمیں کوئی وزارتیں اور پیکجز نہیں چاہیں بس لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر ایک آزاد وطن چاہیے جہاں اسلام آزاد ہو اسلام پر کاربند ہونا آزاد ہو.

    اس دن شیر بنگال کی طرف سے پیش کی جانے والی قرارداد نے برصغیر کے مسلمانوں کو ان کی منزل دکھا دی اور پھر سات سال کے مختصر عرصے میں قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی اس منزل کو پاکستان کی صورت پالیا. یہ منزل کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھی بلکہ آگ و خون کے دریا تھے جن کو عبور کرنا پڑا تھا ، قربانیوں کی داستان اسماعیل و ابراہیم تھی.
    پچاس لاکھ مسلمانوں نے فقط لاالہ الا اللہ کی آزاد سرزمین پر ایک سجدے کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ دیا تھا اور چل نکلے تھے مگر ہجرتوں کے یہ سفر بھی آسان نہ تھے. سولہ لاکھ مسلمانوں کو اس وطن عزیز کے لیے قربان ہونا پڑا تھا ، پاکباز ماؤں اور بیٹیوں کی عصمتیں تار تار ہوئیں تھیں اور پھر لٹے پٹے قافلے پاکستان کی سرحد پر پہنچتے تو سبز ہلالی کے سائے تلے سجدہ ریز ہوجاتے.
    آج کا دن کوئی معمولی دن نہیں ہے بلکہ اس دن کو یوم پاکستان کہا جاتا ہے یہ دن ہے ان یادوں کا، ان عہد و پیمان کا، ان قربانیوں اور ان کاوشوں کا دن ہے کہ جو اسلام کی ایک آزاد اور مضبوط ریاست کے قیام کا باعث بنیں. لیکن آج صورتحال بہت ہی نازک ہے، دنیا بھر میں پھیلنے والی وباء کرونا وائرس سے وطن عزیز پاکستان بھی محفوظ نہیں رہ پایا فقط چند دنوں کے اندر نقشہ بدل چکا ہے اس دن کے تحت ہونے والی سبھی تقریبات حتیٰ کہ افواج پاکستان کی پریڈ تک منسوخ ہوچکی ہے اور ریاست کے سربراہان مجبور ہوکر ملک بھر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن لگانے کی سوچ بچار کر رہے ہیں.

    وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسا ملک جہاں پچیس فیصد لوگ یومیہ اجرت پر مزدوری کرتے ہوں وہ مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا مگر ہم اٹلی اور ایران بھی نہیں بننا چاہتے کہ کرونا کی وجہ سے لاشیں ہر طرف بکھری پڑی ہوں اور کوئی اٹھانے والا بھی نہ اس لیے پاکستان کہ ہر شہری کو قوم کا کردار ادا کرنا پڑے گا ان جذبوں کا زندہ کرنا پڑے گا کہ جو قیام پاکستان کے وقت تھے. اس وقت گھر سے نکلنے کا حکم تھا تو آج گھروں میں رہنے کا حکم ہے. اس وقت اس حکم پر عمل کیا تھا اور سر دھڑ کی بازی لگائی تھی تو پاکستان ملا تھا آج اگر گھر میں رہنے کے حکم پر عمل کرتے ہیں تو پاکستان کو بچا پائیں گے.
    اپنے گھر میں رہیے، ریاست کو مجبور مت کیجیئے کہ ان کو ملک مکمل طور پر بند کرنا پڑ جائے کہ صورتحال انتہائی حد تک خطرناک ہوتی جا رہی ہے اور یہ مکمل طور پر عوام الناس اور انتظامیہ کی لاپرواہی کے نتائج ہیں آج یوم پاکستان کا پیغام یہی ہے کہ ایک قوم بنیے نہ کہ ایک ہجوم.

    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں۔

    محمد عبداللہ

  • کرونا وائرس،خدشہ اور ہماری ذمہ داری—از—جویرہ چوہدری

    کرونا وائرس،خدشہ اور ہماری ذمہ داری—از—جویرہ چوہدری

    تاریخِ انسانی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ انسانوں کا مختلف ادوار میں مختلف وباؤں،اور ارضی و سماوی آفات سے واسطہ پڑتا رہا ہے…
    قدرت کے ان مظاہر کے سامنے انسان بے بس بھی نظر آیا اور ہزاروں،لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد ان بیماریوں اور وباؤں کا شکار ہو گئے…

    آج کی جدید اور سائنس کی صدی میں بھی ان وباؤں اور آفات کے سامنے انسان اتنا ہی بے بس نظر آتا ہے جتنا پہلے تھا…
    ،حالیہ کرونا وائرس کی مثال ہی لیجیئے کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور ہر طرف ایک ہی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور وہ ہے کرونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات…
    انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے اور اس کا کردار بھی سب سے ممتاز ہے۔

    سابقہ اقوام کے حالات کا ہی جائزہ لیا جائے تو وہ بھی انسان تھے مگر جب انسانیت سے تہی دست ہو گئے اور اللّٰہ تعالٰی اور اس کے بھیجے گئے انبیاء و رسل علیھم السلام کی تعلیمات سے یکسر انکار کر دیا تو ان کے حالات سے آگہی ہمیں قرآن اس انداز میں دیتا ہے کہ ہم نے انہیں کس انداز میں بے بس کر دیا کہ کسی پر تو چنگھاڑ بھیجی،کسی کو غرق کر دیا،کسی پر پتھر برسائے تو کسی کو گھن جیسے کیڑے کے آگے بے بس کر دیا
    ان کے کھانے پینے،اوڑھنے،بچھونے پر مینڈک ڈال دیئے،ٹڈیوں اور لہو کے عذاب سے دوچار اور بے چین و بے قرار ہو گئے…
    کسی پر آسمانی بجلی کی کڑک گری تو کئی زلزلوں سے ہلا دیئے گئے…

    غرض تاریخِ انسانی کی یہ ہلکی سی جھلک قرآن کریم کے آئینے میں ہمیں دکھائی دیتی ہے…
    پھر مختلف وبائی امراض میں انسانوں کی تنبیہہ اور آزمائش جاری رہی جو آج تک جاری ہے…

    تو جب ایسی صورتحال میں ہم اسلامی تعلیمات پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون جیسی بیماری کو اللّٰہ کا عذاب کہا ہے اور پھر ایسے حالات میں جو نیکو کار اس سے متاثر ہو جاتے ہیں اور صبر کرتے ہیں تو ان کے لیئے شہید کا لفظ استعمال فرمایا…(صحیح بخاری ،کتاب الطب)۔

    وبائیں جب پھوٹ پڑتی ہیں تو ان کا شکار کوئی بھی ہو سکتا ہے چنانچہ حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    جہاں طاعون پھیل جائے وہاں سے نکلو نہیں اور جہاں پھیلا ہوا ہو وہاں جاؤ نہیں…(صحیح بخاری)۔

    تو ایسے حالات میں متاثرہ لوگوں کا علاج اور آئسولیشن کے اقدامات باقی افراد کی حفاظت کی خاطر کیئے جائیں تو اس پہ تنقید برائے تنقید کی ضرورت نہیں رہتی اور پھر اگر حکومت وقت اس سے بچاؤ کے اقدامات اٹھاتی ہے تو ہمیں بھی چاہیئے کہ ان قوانین پر عمل درآمد کریں…

    اگر ہماری دعوتیں،پارٹیاں اور خوشی کے مواقع پر لمبی چوڑی رسومات کچھ وقت کے لیئے معطل ہو جاتی ہیں تو قومی مفاد و سلامتی کے لیئے یہ کوئی مہنگا سودا نہیں ہے…
    اسی طرح تعلیمی اداروں کی بندش اگر پندرہ دن، ایک ماہ کے لیئے کر دی گئی ہے تو یہ بھی کوئی سنگین صورتحال نہیں ہے…!!!

    اور وہ لوگ جو کام کے بغیر بھی تنخواہ لے لیں گے ان کے لیئے تو سونے پر سہاگہ والی بات ہے…
    آرام بھی اور دام بھی…

    ہاں ایسی صورتحال میں وہ طبقہ ضرور پستا ہے جو دیہاڑی دار ہے تو بحیثیت مسلمان قوم کے اہل خیر ایسے لوگوں کے ساتھ بھر پور تعاون کرتے ہوئے ان کے نفسیاتی دباؤ میں کمی لا سکتے ہیں۔
    حفاظتی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ایسے ہی ہے جیسے ہم شوگر،کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کے لیئے احتیاط کرتے ہیں۔

    اگر ہم اس چیز پر عمل نہیں کرتے تو اس کی مشکلات کو بھی خود ہی فیس کرتے ہیں…
    ڈاکٹرز کے مشوروں پر عمل ہی دوا کا اثر دکھاتا ہے۔

    آپ سب جانتے ہیں کہ دوا تب ہی اثر انداز ہوتی ہے جب ڈاکٹر کے مشورے سے لی جائے اور پھر ان چیزوں سے پرہیز اور اجتناب بھی کیا جائے جو دوا کے اثرات میں رکاوٹ بنتی ہیں…
    اسی طرح مختلف میڈیا پلیٹ فارم بھی آگہی کے نام پر قوم میں نفسیاتی دباؤ،خوف اور ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کی بجائے اُمید افزا انداز میں رائے عامہ ہموار کرتے رہیں۔

    ان تمام ظاہری تدابیر کے ساتھ ساتھ ہمیں توکل اور یقین کو بھی مستحکم کرنے کے ساتھ باطنی اصلاح پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے…
    بدیانتی،ظلم و زیادتی،نا انصافی،دھوکہ دہی،فحاشی و بے حیائی،ملاوٹ،جھوٹ،ناپ تول میں کمی،گراں فروشی،ذخیرہ اندوزی اور دیگر اخلاقی برائیوں کا سدباب کرنے اور اپنے معاملات درست کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے…
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "جب کسی قوم میں بے حیائی پھیل جاتی ہے اور اعلانیہ اس کا ارتکاب کیا جانے لگتا ہے تو وہ طاعون اور ایسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہے جو ان کے آباؤ اجداد میں نہ تھیں…”
    (ابن ماجہ)۔

    آج دنیا نت نئی بیماریوں کا شکار کیوں ہو رہی ہے؟
    کہ اس نے خالق کائنات کے احکامات اور حدود سے تجاوز شروع کر دیا ہے…!!!
    حلال اور حرام کے رستوں کی پہچان مٹا دی ہے

    تو ایسے اعمال کی وجہ سے یہ انسان پھر بے بس کر دینے والی بلاؤں اور وباؤں کے حصار میں جکڑ لیا جاتا ہے…
    انفرادی اور اجتماعی طور پر کثرت استغفار اور نیکی کی طرف پلٹنے کا جذبہ ایمان پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہم پر سے یہ مشکل گھڑیاں ٹل اور کٹ جائیں۔۔۔
    صبح و شام نبوی دعاؤں کا التزام کریں…!!!

    ہمارا رب ہمارے گناہوں سے درگزر فرما کر اپنی رحمت واسعہ سے ان وباؤں سے نجات دے دے کیونکہ قدرت افراد کی کوتاہیوں سے درگزر کر دیتی ہے مگر جب قومیں غلط راہوں کا انتخاب کرتی ہیں تو صفحۂ ہستی سے بھی مٹ جایا کرتی ہیں…!!!

    وباؤں کی لپیٹ میں آ جاتی ہیں…
    بلاؤں کی زد میں گھِر جاتی اور آفات کے سامنے بے بس ہو جایا کرتی ہیں…

    اللّٰہ ہمیں اپنے عذاب سے وہ جس صورت میں بھی ہو اپنی مہربان پناہوں میں لے لے، اور ہم سے راضی ہو جائے ایسی رضا جس کے بعد ناراضگی نہ ہو اور ہم سے ایسے اعمال حسنہ سرزد ہوں جن کے بعد برائیوں کے سمندر نہ اُبلنے پائیں…آمین__!!!
    کہ قدرت کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف…

    ہمیں اجتماعی اصلاح کی طرف قدم بڑھانے کی ضرورت ہے…
    کہ جس نے یہ جسم و جاں عطا کیئے ہیں اسی کی مرضی کے تابع ہو کر ہم جسمانی و روحانی طور پر برکت،عافیت اور رحمت کے مستحق بن سکتے ہیں

    یہی اس کا وعدہ ہے جس میں کچھ شک نہیں__!!!
    اَللّٰھُمَّ احفظنا مِمَّا نخاف وَ نحذر__!!!آمین یا ارحم الراحمین…!!!

    کرونا وائرس،خدشہ اور ہماری ذمہ داری_!!!
    تحریر✍🏻:(جویریہ چوہدری)۔

  • نظریہ پاکستان —از— سفیراقبال

    نظریہ پاکستان —از— سفیراقبال

    نظریہ پاکستان… حقیقت میں صرف نظریہ ہی نہیں ایک نصب العین ہے… ایک وعدہ ہے اور ایک یقین ہے. یہی نظریہ تھا جس کی بنیاد پر لاکھوں مسلمانوں نے قیام پاکستان کے وقت ہجرت کی… اپنا گھر اپنی مٹی اپنا مال اپنی جائداد آور اپنے پیاروں کو چھوڑا…اپنے دین کی سلامتی کے لئے…. اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے… اپنی اولاد کے پر یقین مستقبل کے لئے… تپتے صحراؤں میں ایک پرسکون سجدے کے لیے… اور جنت الفردوس کے میٹھے چشموں کے لیے.

    انہیں یقین تھا کہ اگر مسلمان رہنا ہے… مسلمان جینا ہے اور مسلمان مرنا ہے تو یہ نظریہ اپنانا پڑے گا ورنہ اس نظریے کو چھوڑ کر نہ سعادت کی زندگی ملے گی اور نہ شہادت کی موت…! نہ دنیا ملے گی اور نہ ہی آخرت. نہ دین اسلام ملے گا نہ ایمان…! وہ لوگ اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آ گئے اور اس نظریہ کے محافظ بن گئے. آور اس نظریہ کی ہی بدولت آج وہ اسلامی دنیا کی قیادت کر رہے ہیں…!

    اس نظریہ پر بار بار حملے ہوئے…. بار بار اسے دفن کرنے…. اسے ڈبونے کی کوشش کی گئی لیکن جتنی کوشش کی گئی اتنا ہی یہ ابھر کر سامنے آتا رہا. اس نظریہ کا ہر دشمن فنا ہوتا رہا اور یہ نظریہ کبھی نہ فنا ہوا. دہلی کی یونیورسٹیوں میں تکبیر کے نعروں سے لیکر افغانستان میں روسی اور امریکی شکست تک… کشمیر کے لالہ زاروں سے لیکر بنگلہ دیش کے مرغزاروں تک…. یہ نظریہ پوری امت مسلمہ کے لیے راہ نجات بھی ہے، فتح کی امید بھی اور سلامتی کا ضامن بھی.

    اسی نظریہ کی بدولت کل بھی امت مسلمہ کو ایک ملک انعام ملا اور آج بھی یہی نظریہ اتحاد اور سلامتی کی امید ہے. اس نظریہ نے پہلے افغانستان میں روس کو… اور پھر امریکہ کو توڑا اور اب بھارت بھی اسی نظریہ کی بیداری سے خائف اور پریشان ہے.

    تاریخ شاہد ہے کہ جس جس نے بھی یہ نظریہ جانا اور مانا… دنیا میں فتح وہ کامیابی نے اس کے قدم چومے آور جس نے بھی اس سے انکار کیا صرف وہی نہیں بلکہ اس کی نسلیں بھی ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئیں.

    اگر آج ہم دنیا اور آخرت میں عظمتیں اور بلندیاں چاہتے ہیں تو اس نظریہ کو اپنائے بغیر کچھر ممکن نہیں. اس لیے ضرورت ہے کہ آج بھی اسی طرح متحد ہو کر اسی نظریہ پاکستان پر عمل کر کے قیام پاکستان کی طرح ہم سب تکمیل پاکستان کے لیے کوشش کریں. اور حقیقی معنوں میں پاکستان کو اسلام کا قلعہ ثابت کریں.

    نظریہ پاکستان
    سفیر اقبال

  • تعلیمی ادارے، پارک اور گراؤنڈز بند، بچے سارا دن گھر پر، والدین کی اک بڑی مشکل کا حل کہ بچوں کو کیسے مصروف کیا جائے

    تعلیمی ادارے، پارک اور گراؤنڈز بند، بچے سارا دن گھر پر، والدین کی اک بڑی مشکل کا حل کہ بچوں کو کیسے مصروف کیا جائے

    کرونا وائرس اس وقت اپنی شدت کے ساتھ حملہ آور ہوچکا ہے. اس وقت دنیا کے 188 ممالک میں کرونا وائرس کے تین لاکھ آٹھ ہزار چار سو تریسٹھ کیسز ہیں اور یہ تعداد لمحہ با لمحہ بڑھتی چلی جارہی ہے. اس خطرناک وائرس سے اب تک تیرہ ہزار انہتر لوگ وفات پاچکے ہیں صرف اٹلی میں ایک دن میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ ہے اٹلی میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوچکی ہے اب تک چار ہزار آٹھ سو پچیس لوگ کرونا وائرس کی وجہ سے موت کے منہ میں جاچکے ہیں. جبکہ چین میں مرنے والوں کی تعداد تین ہزار دو سو اکسٹھ تھی.
    وطن عزیز پاکستان میں بھی صورتحال لمحہ با لمحہ بگڑتی چلی جا رہی ہے لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے یہ موذی وائرس بڑی تعداد میں پھیلتا چلا جا رہا ہے کہاں پانچ چھ دن قبل پاکستان میں پچیس تیس کیسز تھے اور اب تعداد ساڑھے سات سو سے اوپر ہوچکی ہے. سماجی تنہائی کے لیے بنائے سینٹرز کی حالت نہایت تباہ کن ہے اور وہ بجائے کرونا وائرس کو روکنے کے کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں نرسریز کا کردار ادا کررہے ہیں دوسری طرف پاکستان میں بعض علماء کا کردار بھی نہایت ہی منفی ہے علماء کا یہ طبقہ بجائے لوگوں کو احتیاط اور سماجی تنہائی پر قائل کرنے کے ان کو گھل مل کر رہنے اوف اجتماعات وغیرہ منعقد کرنے پر اکسا رہا ہے ان علماء کے نزدیک یہ وائرس فقط میڈیا کی پیدا کردہ ہائپ ہے.
    اسی طرح کرونا وائرس کے مریض بھی خاص احتیاط نہیں برت رہے کوئی اسلام آباد پمز سے چھپ چھپا کر بھاگ رہا ہے تو کوئی ائرپورٹ پر رشوت دے کر چھپ کر نکل کر بیسیوں اپنے ہی رشتہ داروں میں کرونا وائرس کو پھیلا رہا ہے. سکھر سے بڑی تعداد میں لوگ جن میں کرونا وائرس کے کنفرم مریض بھی تھے وہ نکل کر بھاگ گئے ہیں. انتظامیہ بھی ان معاملات کو سنجیدہ نہیں لے رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے اور صورتحال خطرناک حد تک سنجیدہ ہورہی ہے. لوگوں کے ان رویوں کو لے کر پاکستان بھر میں جزوی طور پر لاک ڈاؤن ہوچکا ہے تعلیمی ادارے ، مارکیٹس، پبلک ٹرانسپورٹ، ریلوے وغیرہ بند کو بند کرنے کا اعلان ہوچکا ہے.
    تعلیمی اداروں میں چھٹیوں اور ٹیویشن سینٹرز کے بند ہونے کی وجہ سے بچے سارا دن فارغ ہیں. پہلے گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی تھیں تو بچے پارکس، گراؤنڈز ،رشتہ داروں کے ہاں اور مختلف علاقوں کی سیر و تفریح کو جاتے تھے مگر موجودہ صورتحال میں سبھی آپشنز ختم ہوچکے ہیں بچے سارا دن گھر ہیں اور مائیں اپنے بچوں سے سخت عاجز آچکی ہیں اور بچے بھی سارا دن والدین اور بالخصوص ماؤں کی ڈانٹ ڈپٹ سے چڑچڑے اور ضدی ہورہے ہیں جو کہ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہے یہ کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں ہے جس کو حل نہ کیا جاسکے ہم آپ کو کچھ ٹپس دیتے ہیں جن کے مطابق آپ بچوں کی جسمانی اور ذہنی تربیت کرسکتے ہیں اور ان کی تعلیمی ضروریات کو بھی ان چھٹیوں میں باآسانی پورا کرسکتے ہیں.

    آپ کو کرنا یہ ہے کہ بچوں کا چوبیس گھنٹے کا ٹائم ٹیبل بنائیں. کس ٹائم اٹھیں گے کس ٹائم سوئیں گے کیا کھائیں گے کیا پیئیں گے مطلب ہر چیز آپ کے چارٹ میں لکھی ہونی چاہیے. یہ زندگی کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے کہ آپ اپنی ہر چیز کو کیلکولیٹ کریں لیکن موجودہ دنوں میں اس پر عمل درآمد کرنا بہت آسان ہے اور یہ آپ کی اور آپکے بچوں کی ساری زندگی کے لیے بہت کارآمد اور منافع بخش ثابت ہوسکتا ہے. جن والدین اپنے بچوں کی بری صحبت اور بری عادات کی شکایت رہتی ہے وہ ان دنوں میں وہ سب عادات اور بری صحبتیں چھڑوا کر اپنے بچوں کی بہترین روحانی اور جسمانی تربیت کرسکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ہمارے معاشرے میں بچوں اور والدین کے درمیان بہت بڑا ذہنی فرق ہوتا ہے اس کو ان دنوں میں دور کرکے آپ اپنے بچوں کو اپنا دوست بنا سکتے ہیں.
    آپ نے ان کا چوبیس گھنٹے کا شیڈول اور ٹائم ٹیبل بنا لیا ہے، ان کی ڈائٹ کا چارٹ بھی تشکیل دے دیا ہے تو اب آپ ایکٹیویٹز ، گیمز، لرننگ اور ایکسرسائز وغیرہ پر آجائیں.
    ایکسرسائز
    سب سے پہلے تو آپ اپنے بچوں کو ایکسرسائز کی عادت ڈالیں اس کے لیے کسی پارک جم یا کلب کو جوائن کرنا ضروری نہیں ہے ان دنوں میں ویسے بھی کہیں بھی جانے یا بچوں کو بھیجنے سے احتیاط برتیں کہ گھر رہنے میں ہی آپ کی بقاء ہے. اس کے لیے یوٹیوب پر بےشمار چینلز ہیں جو آپ کو بچوں اور بڑوں کی انڈور ایکسرسائز کروا سکتے ہیں آپ ان ویڈیوز کو دیکھ کر خود بھی اور بچوں کو بھی ایکسرسائز کروائیے. اسی طرح آپ اپنے بچوں کو حفاظت کی غرض سے سیلف ڈیفینس تیکنیکس لازمی سکھائیے.
    ایکٹیویٹیز
    آپ گھر میں چھوٹے بچے ہیں تو آپ گھر کے کسی کمرے یا کونے کو پارٹیشن کرکے بچوں کا ایکٹیویٹی روم بناسکتے ہیں اس میں بچوں کی دلچسپی کے لیے وال پیپرز، غبارے، لائٹس وغیرہ کا اہتمام کیا جاسکتا ہے اور اس ایکٹیویٹی روم میں آپ بچوں کو ڈرائنگ، ایلفابیٹک گیمز، پینٹنگ وغیرہ کی صورت بہترین ایکٹیویٹز میں مصروف کرسکتے ہیں بچوں کو رنگوں سے کھیلنا سکھائیے.
    گیمز
    آپ گھر کی چھت یا صحن میں بچوں کے ساتھ فٹ بال، کرکٹ، بیڈمنٹن کھیل سکتے ہیں. لیکن ایک بات یاد رکھیے کہ اس کے لیے محلے بھر کے بچوں کو ہرگز جمع نہ کیا جائے بلکہ ہر گھر والے اپنے اپنے بچوں کے ساتھ یہ گیمز کریں.
    تیراکی یا نہانا
    مارکیٹ سے بچوں کے لیے انڈور پولز باآسانی میسر ہوتے ہیں ویسے بھی موسم کی حدت میں اضافہ ہورہا ہے اور گرم موسم میں بچہ پانی کے ساتھ کھیلنے کو ترجیح دیتا ہے تو آپ گھر کے صحن میں یا کسی کونے میں اس پول میں پانی ڈال کر اپنے بچے کو گھنٹوں تک مصروف کرسکتے ہیں پانی میں جراثیم کش ڈیٹول کو بھی ملایا جاسکتا ہے لیکن اس بات کا خیال آپ نے رکھنا ہے کہ بچہ نہانے کے دوران پول سے پانی نہ پیئے.
    دینی تربیت
    گھر میں آپ بچوں کو خود سے قران سکھا سکتے ہیں اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے واقعات سنا کر ان کی دینی تربیت بہترین انداز سے کرسکتے ہیں. الرحیق المختوم سے روزانہ ایک دو پیجز بچوں کو پڑھ کر سنائے جاسکتے ہیں اگر آپ نہیں بھی پڑھ سکتے تو انٹرنیٹ پر آڈیو بکس میسر ہیں یہ اسٹوریز کی صورت بچوں کو اسلامی واقعات سناتے ہیں جن میں بچے خاصی دلچسپی لیتے ہیں.
    ڈاکیومینٹریز
    بچوں کی ذہنی بلوغت اور جنرل نالج میں اضافے کے لیے مختلف موضوعات پر ڈاکیومینٹریز انٹرنیٹ سے دکھا سکتے ہیں جن میں اسلامی ڈاکیومینٹریز، قیام پاکستان، نظریہ پاکستان، انسانی تاریخ وغیرہ
    کارٹونز
    شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں بچے کارٹونز نہ دیکھتے ہوں اور بچے پھر ہر طرح کے کارٹونز دیکھتے ہیں جن کی وجہ سے ان کے عقائد اور اخلاقیات متاثر ہوتے ہیں آپ اپنے بچوں کے لیے کارٹونز کی سلیکشن خود کریں بے شمار صحیح العقیدہ اور اسلامی اور اخلاقی تربیت کرنے والے کارٹونز بھی ہیں مثال کے طور پر عمر اینڈ ہنہ کی سیریز ہے عبدالباری کی سیریز ہے اسی طرح کچھ ایسی کارٹونز کی سیریز ہیں جو بچوں کو قران سکھاتے ہیں تو آپ بچوں کو خود سے کارٹونز سلیکٹ کرکے دیں.
    لرننگ اور تعلیمی ضروریات
    اسکولز اور ٹیویشن سینٹرز بند ہوجانے کی وجہ سے بچوں کا تعلیمی سلسلہ مکمل رک گیا ہے لیکن اس معاملے میں بھی پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے بے شمار تعلیمی ویب سائٹس ہیں جن پر بچوں کا سارا تعلیمی نصاب میسر ہے اور آپ اپنے بچوں کے تعلیمی سلسلے کو ان ویب سائٹس کی مدد سے جاری رکھ سکتے ہیں مثال کے طور پر
    سبق ڈاٹ پی کے
    ای لرن پنجاب
    خان اکیڈمی
    بی بی سی لرننگ
    فیوچر لرن
    وغیرہ وغیرہ
    ہم امید کرتے ہیں ان ٹپس پر عمل کرکے آپ بچوں کو بہترین انداز میں مصروف بھی کرسکتے ہیں اور ان کی بہتر تعلیمی، روحانی اور جسمانی تربیت بھی کرسکتے ہیں.

    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پرھیے

  • وبائی امرض میں احتیاط سنت نبوی کیساتھ!!!  تحریر :غنی محمود قصوری

    وبائی امرض میں احتیاط سنت نبوی کیساتھ!!! تحریر :غنی محمود قصوری

    آجکل ایک وبائی مرض کرونا وائرس کا بہت زور اور شور ہے یہ مرض چین کے شہر ووہان سے شروع ہوئی اور پھیلتے پھیلتے ابتک دنیا کے 188 ممالک تک جا پہنچی ہے جس میں ابتک 308463 افراد متاثر ہوئے ہیں اور ابتک 13069 افراد اس بیماری کی بدولت مر چکے ہیں اور بہت سے متاثرہ مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں
    پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 645 ہے جن میں سے 3 افراد جانبحق اور 13 صحت یاب ہو چکے ہیں
    سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں چین ,ایران اور اٹلی ہیں اور سںب سے زیادہ اموات بھی اٹلی میں ہوئی ہیں جس کی وجہ اٹلی کی عوام کا اپنی گورنمنٹ کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پر عمل نا کرنا اور اس وباء کا بہت تیزی کیساتھ پھیلنا ہے جس کی بدولت اٹلی میں اب تک 4825 اموات اس وبائی مرض کی بدولت ہو چکی ہیں
    اس وقت پوری دنیا میں اس وبائی مرض کرونا کی بدولت خوف و ہراس کا سما ہے
    دنیا بھر کی طرح پاکستان گورنمنٹ نے بھی احتیاطا دفعہ 144 کا نفاذ کر رکھا ہے مزارات و پبلک مقامات کو لوگوں کیلئے بند کر رکھا ہے اور لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ بغیر انتہائی ضرورت کے گھر سے نا نکلیں زیادہ ہجوم والی جگہوں پر جانے سے پرہیز کریں ہاتھ صابن سے بار بار دھوئیں ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کریں ہاتھ ملانے سے گریز کریں اور مسجد میں زیادہ تعداد میں اکھٹے نا ہو وغیرہ
    یہ سب احتیاطی تدابیر کروانے کا مقصد اس بیماری کو پھیلنے سے روکنا ہے جو کہ ہمارے اپنے حق میں ہی بہتر ہے مگر کچھ کم عقل لوگ نا تو خود احتیاط کر رہے بلکہ دوسروں کو بھی احتیاط نا کرنے کا کہہ رہے ہیں اور بطور مثال یہ بات کہہ رہے ہیں کہ موت کا وقت مقرر ہے جو کہ آ کر ہی رہنی ہے مگر ایسے لوگ یہ نہیں سوچتے کہ اگر بجلی کی ننگی تاروں کو بغیر احتیاطی تدابیر کے چھوا جائے تو یقینا کرنٹ لگتا ہے اور کرنٹ لگنے سے بعض مرتبہ موت بھی واقع ہو جاتی ہے مگر اسی ننگی تاروں کو جب احتیاط کرتے ہوئے بچاؤ کے دستانے پہن کر اور احتیاطی اوزاروں سے چھوا جائے تو کرنٹ نہیں لگتا مطلوبہ کام بھی ہو جاتا ہے اور جان بھی بچ جاتی ہے
    ہم مسلمان ہیں اور ہماری زندگی اسلام کی محتاج ہے اگر ہم نے دنیا و آخرت میں کامیاب ہونا ہے تو ہمیں اسلام و اپنے نبی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے گئے طریقوں پر عمل پیرا ہونا پڑے گا کیونکہ نبی کریم نے فرمایا کہ کامیاب وہ ہے جو میرے اور میرے صحابہ کے بتائے ہوئے رستے پر چلے گا لہذہ اب چونکہ کرونا کی شکل میں ایک وبائی مرض پوری دنیا کو اپنی لپٹ میں لے چکی ہے تو ہمیں اس کیلئے نبی کریم کے فرامین کو دیکھنا پڑے گا تاکہ ہماری دنیاوی و اخروی کامیابی ہو اس لئے اس حدیث کو دیکھتے ہیں کہ کس طرح ایک جزام کے مریض سے میرے نبی نے احتیاط کرتے ہوئے ہاتھ نہیں ملایا تھا اور بیعت بھی لے لی تھی
    وبائی (وائرس) بیماری کے شکار انسان سے پرہیز کرنا سنت ہے
    سنن ابن ماجه
    كتاب الطب
    ٤٣. بَابُ : الْجُذَامِ
    شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وفد ثقیف میں ایک جذامی شخص تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہلا بھیجا: ”تم لوٹ جاؤ ہم نے تمہاری بیعت لے لی“۔
    حالانکہ دوسرے صحابہ کرام جن کو جزام کا مرض لاحق نا تھا ان کے ہاتھ پر نبی کریم نے بیعت لی
    حکم: تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/السلام 36 (2231)، سنن النسائی/البیعة 19 (4187)، (تحفة الأشراف: 4837)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/389، 390) (صحیح)» ‏‏‏‏
    درج بالا حدیث سے ثابت ہوا کہ وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہم بھی صرف زبانی السلام و علیکم و رحمتہ اللہ کہیں کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ کون شحض اس وقت اس وبائی مرض کرونا میں مبتلا ہے اور رہی بات ایک ہی جگہ یعنی اپنے گھروں میں رہنا جیسا کہ دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے اور مزارات و پبلک مقامات کو بند رکھا گیا ہے تو اس کے لئے اس حدیث کو دیکھتے ہیں
    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بسند صحیح روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کے بارے میں فرمایا:
    (( جو آدمی طاعون کے حالات میں صبر کے ساتھ اور اجر و ثواب کی نیت سے اپنے گھر میں ٹھہرا رہے یہ جانتے ہوئے کہ اسے جو کچھ بھی ہو گا صرف وہی ہوگا جو اللہ نے اس کے مقدر میں لکھا ہے تو ایسے شخص کیلئے شہید کے اجر کے برابر ثواب ہے )
    حكم الحديث: إسناده صحيح على شرط البخاري.
    شیخ سلیمان الرحیلی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اللہ تعالی پر توکل کے ساتھ ساتھ حسبی اسباب کو بروئے کار لانے کے بارے میں بنیادی قاعدے کا درجہ رکھتی ہے ۔
    اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وباء سے بچنے کے لیے گھر میں ٹھہرے رہنے کے بارے میں یہ حدیث بنیادی اصول ہے اور رہی بات بار بار ہاتھ کی تو نبی کریم کی مشہور حدیث الطہارت نصف الایمان یعنی صفائی نصف ایمان ہے پر عمل کیجئے تاکہ ہم اس وبائی مرض سے محفوظ رہ سکیں اور ہمارا ملک پاکستان اس سے بچ سکے تو حکومت پاکستان کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کرکے اس وبائی مرض کو پھیلنے سے روکئیے

  • کورونا وائرس اور ہمارے رویے—از–نعمان علی ہاشم

    کورونا وائرس اور ہمارے رویے—از–نعمان علی ہاشم

    .اگر آپ بھوک سے مرنے والے ہیں اور حلال اشیاء میں سے کچھ بھی دستیاب نہیں. تو آپ اتنی مقدار اور اتنے ٹائم تک کوئی بھی دستیاب حرام کھا سکتے ہیں جس سے آپ کی جان بچ سکے.
    یہ شریعت کا حکم ہے. اور اس پر عمل نہ کرنا خود پر ظلم کے مترادف ہے. ایسی صورتحال میں آپ پر حرام کی پکڑ بالکل نہیں ہے. سو اتنا حرام کھا لیں جتنا آپکی ضرورت ہے.
    .

    آپ کسی ایسی بستی کے باسی ہیں جہاں جابر حکمران ہے. اور وہ آپ سے کفر کے ارتکاب کا مطالبہ کرتا ہے. اور آپ یہ سمجھیں کہ اگر میں حق پر ڈٹا رہا تو مارا جاؤں گا. اور میرے مارے جانے کے بعد شاید یہاں دین کا نام لینے والا کوئی نہ رہے. تو جان کو بچانے کے لیے کفر بکا جا سکتا ہے. اس پر اللہ نے پکڑ نہیں رکھی.
    .

    اگر آپ کسی مرض میں مبتلا ہو گئے ہیں. اور کسی حرام چیز سے ہی اس کا علاج ممکن ہے. اس کے علاوہ کوئی حلال وسیلہ نظر میں نہیں. یا ایفورڈ ایبل نہیں تو آپ علاج کی غرض سے کوئی بھی حرام چیز لے سکتے ہیں. تب تک جب تک آپ مرض سے شفاء نہیں پاتے. یا کوئی حلال دوائی میسر نہیں آ جاتی. اس پر اللہ نے کوئی پکڑ نہیں رکھی.
    .

    مذکورہ بالا تمام باتوں پر امت کے تمام گروہ مسالک اور آئمہ میں اتفاق ہے. یعنی کہ یہ ہر لحاظ سے انڈرسٹوڈ مسئلہ ہے.
    .

    اللہ انسان کی مجبوریوں سے سب سے زیادہ واقف ہے…. اسے اپنے بندے کو سختی میں ڈالنے کا شوق نہیں ہے.. اللہ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے.
    .

    قرآن کا فرمان ہے. ایک انسان کی جان بچانا انسانیت کو بچانا ہے.

    حدیث میں آتا ہے کہ ایک مسلمان کی حرمت بیت اللہ سے زیادہ ہے.
    .
    اوپر والی تمام باتوں کو زہن و دل میں نقش کریں اور یہ عہد کریں کہ اپنے حکام کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے
    بیماری کا پھیلنا اللہ کی تقدیر سے ہے. اور اس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کرنا بھی اللہ کی تقدیر ہے.

    اگر کسی ایک انسان کی جان بچانے کے لیے آپکے حکام اجتماع پر پابندی لگا رہے ہیں تو اس سے ہر ممکن پرہیز کریں. اول تو یہی بات احسن ہے. اگر آپ پھر بھی مطمئن نہیں تو اطمینان رکھیں اس سب کا آپکو گناہ نہیں ہوگا. اگر یہ سب غلط بھی ہوا تو اس کا گناہ حکام کے سر ہوگا یا ان کی کھلے عام حمایت کرنے والوں کے سر.

    اگر کچھ دن تک لاک ڈاؤن ہوتا ہے تو براہ کرم گھروں میں ٹھہرے رہیں.
    نماز گھر کے اندر ادا کریں. گھر کے کسی ایک فرد کو امام مقرر کرکے جماعت کر لیں.

    یاد رکھیں شدید بارش اور سردی میں رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے گھروں میں نماز ادا کرنے کی رخصت دی ہے. اور موزن کو اضافی الفاظ بھی سکھائے ہیں. "” صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ””
    دیکھ رہا ہوں کل سے کچھ لوگ بیت اللہ میں طواف کی بندش اور گھروں میں نماز ادا کرنے اعلان کو صریحاً کفر کہہ رہے ہیں.

    اگر مجبوراً گھروں میں نماز پڑھنا جائز نہیں تو یہ لوگ رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم پر بھی معاذاللہ فتوٰی لگائیں گے؟ . کیونکہ مجبوری میں گھر پر نماز پڑھنے کی دلیل رسول اللہ خود دے کر گئے ہیں.؟
    مزید یہ ہے کہ:

    زخیرہ اندوزی نہ کریں.
    میل ملاقات اور دیگر سرگرمیاں بھی معطل کر دیں.

    اگر بیت اللہ کا طواف رک سکتا ہے. گھر میں نماز ادا ہو سکتی ہے تو باقی تمام معاملات کی حیثیت ثانوی ہو جاتی ہے.
    جسم و لباس کی صفائی کا خیال رکھیں.

    گھر میں جراثیم کش سپرے کریں.
    ضروری نقل و حمل بھی اپنے آپ کو ڈھانپ کر کریں.
    اللہ سے استغفار کریں.

    صبح و شام کے اذکار کو لازم پکڑیں.
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو.

    والسلام
    نعمان علی ہاشم
    #نعمانیات

  • کرونا وائرس،علماء اور حکمرانوں کے پھڈے. تحریر: انجینئر ذیشان وارث

    کرونا وائرس،علماء اور حکمرانوں کے پھڈے. تحریر: انجینئر ذیشان وارث

    علماء اور حکمرانوں کے پھڈے

    دنیا بھر میں کرونا نے خوف و ہراس پھیلایا ہوا ہے۔ طبی ماہرین نے اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے جو طریقے بتائے ہیں، ان میں سب سے موثر آئسولیشن یعنی افراد کا ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہنا بتایا گیا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ اگر کسی ایک بندے کو بیماری ہے وہ یا تو اپنا علاج کروالے گا یا شہادت سے سرفراز ہو جائے گا۔ کسی دوسرے میں بیماری منتقل نہیں کرے گا۔

    اب اس بات پر حکمرانوں نے کہا کہ عوام میل ملاپ کم کر دیں۔ میل ملاپ کی جگہوں میں مساجد بھی آتی ہیں۔ اب علما کو لگا کہ اگر دو چار ہفتے کیلئے مساجد بند ہو گئیں تو شاید اسلام کا وجود مٹ جائے گا۔ لہٰزا کچھ علما نے اس فیصلے کا بائیکاٹ فرمادیا۔ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پہ وائرل ہوئی ہے جس میں مولوی صاحب فرمارہے آیسولیشن اور سوشل ڈسٹینسنگ دی پین سی سری۔ اور یہ کہ "دوری نا رہے کوئی آج اتنے قریب آؤ”۔ کندھے سے کندھا اور گٹے سے گٹا ملاؤ۔

    علماء اور حکمرانوں کے یہ پھڈے آج کے نہیں ہیں شروع سے چلے آرہے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ علماء کا کام صرف فتوٰی لگانا ہوتا ہے۔ زمینی حقائق یا فتوے کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال سے حکمرانوں کو ہی نمٹنا پڑتا ہے۔ تاریخ اسلام میں بہت مرتبہ ایسا ہوا کہ علماء اور حکمرانوں میں ٹھن گئی۔ حجاج بن یوسف کی سختی مشہور ہوئی۔ اس کے پیچھے وجہ یہ تھی ہ وہ ہر بات کا جواب تلوار سے دیتا تھا۔ اس کے زیرِنظر واحد مقصد سلطنت کا استحکام تھا۔

    یہی وجہ ہے کہ اس وقت محمد بن قاسم نے جب ہندوستان کے کچھ علاقے فتح کیے تو اس نے کچھ ایسے انتظامی فیصلے کیے جو کہ اگر علماء کی نظر سے دیکھے جائیں تو کالعدم ہوجائیں۔ مثلا کچھ جگہوں پہ جزیہ معاف کرنا یا غیرمسلموں کو عہدے دینا۔ دلی سلطنت کی بنیاد رکھی گئی تو علماء کو خصوصی مقام دیا گیا۔ لیکن کچھ ہی عرصے میں وہاں علماء نے حکمرانوں کے فیصلوں پر انگلی اٹھانا شروع کردی۔ شمس الدین التتمش کے دور میں حالات اتنے کشیدہ ہوئے کہ اس کے وزیراعظم نے علماء کو اکٹھا کرکے سمجھایا کہ حکومت کو بھی اسلام کا درد ہے لہٰزا آپ ہر کام میں مداخلت نا فرمائیں۔

    تاریخی طور پر یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ جہاں بھی مسلمانوں کی کامیاب سلطنتیں قائم ہوئیں وہاں حکمرانوں نے علماء کو انتظامی معاملات سے علیحدہ رکھا۔ جہاں جہاں علماء کو انتظامی معاملات میں مداخلت کا موقع ملا، اکثروبیشتر خرابی ہی ہوئی۔ مشہور مؤرخ ایس ایم اکرام نے ہندوستانی تاریخ پہ لکھی گئی اپنی کتاب میں بیان کیا ہے اورنگ زیب جب بادشاہ بنا تو اس نے علماء کے کہنے پہ اسی (80) کے قریب ٹیکس معاف کردیے اور جزیہ و زکات باقی رکھے۔ انتظامی لحاظ سے یہ فیصلہ دو دھاری تلوار ثابت ہوا کیونکہ اس سے ریاستی فنڈز بھی کم ہوئے اور ہندو رعایا میں بہت زیادہ بے چینی اور بغاوت پھیلی۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ یہ تنقید کرنے والے ایس ایم اکرام اورنگ زیب کے ممدوحین میں سے ہیں اور کچھ مؤرخین نے تو ان پر اورنگ زیب کا اپالوجسٹ ہونے کے الزامات بھی لگائے ہیں۔

    اس کے علاوہ پاکستان میں بھٹو نے علماء کے بہت سارے مطالبات کوتسلیم کیا۔ ختم نبوت ترمیم، شراب اور جوئے پر پابندی، جمعے کی چھٹی اور اسلامی کانفرنس کا انعقاد۔ مگر علما کے مطالبات ھل من مزید کے تحت بڑھتے گئے یہاں تک کے بھٹو پھانسی پہ جھول گیا۔ اس کے بعد ضاء نے اسلامائزیشن کا عمل شروع کیا تو قسما قسم کے جہادی برانڈز متعارف کروائے گئے۔ جنہوں آگے بڑھ کر حقیقت میں پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی، قتل و غارت گری کی وہ مثالیں قائم کیں کہ چنگیز خان کی روح خوش ہو گئی ہوگی۔ اس کے علاوہ خارجہ محاذ پہ پاکستان کو جو نقصان ہوا اسکا ازالہ آج تک پاکستان کررہا ہے۔

    سب سے بڑا ہاتھ سعودی عرب کے ساتھ ہوا۔ پوری دنیا میں جن لوگوں کو اس نے پیٹرول سے کمائے گئے پیسے کھلائے وہی اس کی گردن کو آگئے۔ جہیمین سے لیکر القاعدہ اور اخوان المسلموں سب سعودیہ کہ یہود سے بڑے کافر سمجھتے ہیں جبکہ ان سب کی پرورش سعودی ریالوں سے ہوتی رہی۔

    یہ کہانی بہت لمبی ہے شاید پوری کتاب کا موضوع ہے۔ مختصرا تجزیہ کیا جائے تو دو وجوہات سمجھ میں آتی ہیں کہ علماء ایس کیوں کرتے ہیں۔ ایک خبطِ عظمت، دوسری زعمِ تقوٰی۔ لب لباب یہ ہے مولوی صاحب جتنی مرضی جزباتی تقریریں فرمالیں، اگر گٹے سے گٹا ملاتے وقت آپ کو کرونا لگ گیا تو یہ آیسولیشن وارڈ میں آپ کے پاس بھی شاید نہ آئیں۔ اس وقت حکومت کو گالیاں نکالنے سے اچھا ہے کہ ابھی ان کی بات مان لیں۔

    آخر میں سوچنےوالی بات یہ ہے کہ آخر عوام علماء حضرات کے پیچھے چل کے حکومتوں کو کیوں یہودی ایجنٹ سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ وہ بدگمانی ہے جو حکمرانوں کے متعلق پید کی جاتی ہے کہ یہ لوگ شاید اسلام سے ویسی محبت نہیں رکھتے جیسی علماء رکھتے ہیں۔ مشرف اور حجاج بن یوسف جیسے حکمراں اس سوچ کو جواز بخشتے ہیں۔ یہ جھگڑے تو چلتے ہی رہیں گے۔ اس وقت لازمی چیز یہ ہے کہ اپنی حفاظت کی جائے۔ جس دن اسلام اتنا کمزور ہوگیا کہ اسے ہماری حفاظت کی ضرورت پڑجائے، اس سے پہلے قیامت آچکی ہوگی۔

    ذیشان وارث

  • کورونا وائرس، اصل خطرہ کیا ہے؟

    کورونا وائرس، اصل خطرہ کیا ہے؟

    کورونا وائرس، اصل خطرہ کیا ہے؟
    باغی ٹی وی فوجی گاڑیوں کی یہ قطار کسی ملک میں فوجی انقلاب کی نوید نہیں ہے بلکہ یہ ترقی یافتہ یورپ کا مڈل کلاس ملک اٹلی ہے، جہاں کورونا اپنے پنجے گاڑ چکا ہے۔ آج دفتر سے نکلتے وقت اٹلی میں اموات کی تعداد چین سے زیادہ ہوچکی تھی ۔۔ اب وہاں یہ حال ہے کہ میتیں اٹھانے کے لیے گاڑیاں نہیں ہیں سو فوجی ٹرکوں میں میتیں بھر کر بغیر کسی غسل وکفن اور آخری رسومات کے دفن کی جارہی ہیں، ایران میں ہر دس منٹ میں کورونا سے ایک موت ہورہی ہے۔ وہ دوائیں خریدنے کے لیے ساری دنیا سے بھیک مانگ رہا ہے کہ بس پابندیاں ہٹالو۔۔

    اب آتے ہیں پاکستان میں جہاں پوری قوم کو یہ سب کھیل تماشا لگ رہا ہے، کچھ چیخ رہے ہیں کہ یہ سب بند کیوں کیا گیا ہے تو کچھ شہر بند ہونے کی خوشی میں دعوتیں کررہے ہیں۔۔

    میں آپ کو بتاؤں اصل خطرہ کیا ہے؟ اصل خطرہ یہ ہے مرض جب بگڑتا ہے تو سوائے وینٹی لیٹر کے کوئی چارہ باقی نہیں رہتا اور وینٹی لیٹر نہ ملنے کا مطلب موت ہے۔۔

    دستیاب اعداد وشمار کے مطابق پورے ملک میں کل ملا کر جو وینٹی لیٹر ہیں وہ ڈھائی ہزار سے زیادہ نہیں ہیں۔۔
    آپ نے یقیناً یہ تعداد پہلی بار سنی ہوگی سو اب تھوڑا گبھرا لیں۔۔

    پنجاب میں سرکاری اور غیرسرکاری ملا کر کل 1700 سو وینٹی لیٹر ہیں، بلوچستان میں کل 49 ، کے پی میں 150.. سندھ کے صحیح اعداد مجھے نہیں مل سکے لیکن اندازہ ہے کہ یہاں یہ تعداد کل چھ سو سے آٹھ سو کے لگ بھگ ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں ہزاروں پرائیویٹ اسپتال ہیں، ان اسپتالوں کے پاس وینٹی لیٹرز کی کل تعداد 175 ہے باقی تمام اسپتال محض نزلے کھانسی اور بخار کے علاج کے لیے ہیں۔۔

    اب اگر یہ وبا پھیلتی ہے، جو کہ پھیل رہی ہے، رات گئے تک مریضوں کی تعداد پانچ سو کے قریب ہوچکی تھی ۔۔ تو ان میں سے ایک خاطر خواہ تعداد کو وینٹی لیٹر درکار ہوں گے۔ یہ ڈھائی تین ہزار وینٹی لیٹر تو اس ملک کی اشرافیہ کی ضرورت کے لیے بھی ناکافی ہیں کجا یہ کہ عام آدمی کو مل جائیں۔۔

    اس لیے اسکول بند کیے، کالج یونیورسٹی بند اور مارکیٹیں بھی بند کردیں۔۔ اب بھی اگر عوام نے سنجیدگی اختیار نہیں کی تو حکومت کرفیو لگانے کا سوچ رہی ہے۔۔

    جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو دباؤ دے کر کاروبارِ زندگی بحال کر لیں گے وہ ذرا ہوش کریں۔۔

    ایک لاکھ پچھتر ہزار وینٹی لیٹر ہیں امریکا کے پاس اور وہ خوف سے لرز رہا ہے۔۔ بھارت جو ہم سے بہت آگے ہے، وہ اتوار سے کرفیو نافذ کررہا ہے۔۔ آسٹریلیا نے اپنے ملک میں داخلہ آج سے بند کردیا ہے۔ چین جیسے ٹیکنالوجی کے سپر پاور نے اس جنگ میں فتح محض لاک ڈاؤن پر عمل کرکے ہی حاصل کی ہے۔ جنوبی کوریا وغیرہ نے لاک ڈاؤن کرکے ہی خود کو بچایا ہے۔

    مجھے معلوم ہے کہ معاشی نقصان بے حد شدید ہوگا یہاں آجر سفاک ہے، دوکاندار اپنے ملازم کو بغیر کام کے تنخواہ نہیں دے گا، روز دہاڑی والے مزدور کا چولہا دو دن سے بند پڑا ہے۔۔

    لیکن اگر یہ نہیں کریں گے، تو تصویر کا دوسرا رخ بھیانک ہے، یاد کریں ذرا ہیٹ اسٹروک کو، وہ صرف ایک شہر کراچی کی روداد تھی، چار دن میں حشر یہ تھا کہ نہ کفن تھا نہ دفن کرنے والے تھے، مردہ خانے بھر چکے تھے، نمائش چورنگی پر جے ڈی سی ٹینٹ لگا کر میتیں رکھے بیٹھا تھا۔۔

    مزدور اور دہاڑی دار طبقے کے لیے مڈل کلاس اٹھے، اور اپنے ساتھ کم از کم ایک خاندان کو ایک وقت کا راشن دلوادے۔۔ لیکن یہ جو ہدایات ہیں کہ ہاتھ نہ ملائیں، اجتماعات نہ کریں، گھروں میں رہیں۔ بلا سبب گھر سے باہر نہ آئیں، ان پر خدارا عمل کریں۔۔

    یہ سب مذاق نہیں ہے، یہ ساری دنیا پاگل نہیں ہے جو اپنے کاروبار سمیٹ کر بیٹھ گئی ہے، آپ اللہ توکل کریں لیکن اپنے انتظامات کرنے کے بعد۔۔ یہ وقت فیس بک پر میمز بنانے اور ٹویٹر پر عثمان بزدار کو رگڑنے کا نہیں ایک قوم بن کر اس بحران سے نبٹنے کا ہے ۔۔ یہ وبا ہے، یہ تیسری عالمی جنگ کے درجے کی ایمرجنسی ہے، اسے سمجھیں اور اپنا کھلنڈرا پن ایک طرف رکھ کر پوری قوم سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔۔

    اگر آپ خود گھر میں نہیں بیٹھیں گے تو فوج آپ کو ڈنڈے مار کر گھروں میں رکھے گی ۔۔ اگر آپ وبا کے معاملے میں اللہ پرہی بھروسا کرنا چاہتے ہیں تو پھر رزق کے معاملے میں بھی کریں۔۔

    تنگی تو یقیناً ہوگی، غذائی قلت اس وقت سب سے بڑا خطرہ بن کر سامنے کھڑی ہے۔۔ ایسے حالات میں ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہمیں خوراک کے معاملے میں محتاط ہونا ہے، فضول ضیاع کو روکیں۔۔ فالتو کی دعوتیں بند کردیں، باہر نہیں جاسکتے تو یہ مطلب نہیں کہ ڈیلیوری بوائے سے کھانا منگوا کر کھایا جائے۔۔ فوڈ کا بحران اس وقت دوسرا بڑا چیلنج ہے وینٹی لیٹر کے بعد ۔۔ یاد رکھیں حکومت تنہا اس معاملے سے نہیں نبٹ پائے گی ۔۔ آپ کو، مجھے ہم سب کو مل کر ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔۔۔

    باقی آپ سب کی مرضی ۔۔ وما علینا الاالبلاغ