گزشتہ سال چائنہ سے شروع ہونے والا کرونا وائرس دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اپنے پنجے گاڑ چکا ہے اور آخری اطلاعات کے مطابق پاکستان میں 370 کے قریب شہری اس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سے چار کامیاب علاج کے بعد اپنے گھر جا چکے ہیں جبکہ دو افراد کے لیے یہ وائرس جان لیوا ثابت ہوا ہے پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں محدود ہو چکی ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورتحال میں عام شہری کی ذمہ داریاں کیا ہو سکتی ہیں؟ میں پاکستانی شہریوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ انتہائی عقلمندی اور ہوش سے کام لینا ہو گا ہمیں ایسا رویہ اختیار کرنا ہو گا کہ جس سے ہماری ذات کے ساتھ ساتھ کسی بھی شہری کو نقصان نہ ہو۔ اس کے لئے چند باتوں پر عمل درآمد بہت ضروری ہے سب سے پہلے یہ کہ کرونا وائرس سے متعلق کوئی بھی خبر شئیر کرنے سے پہلے اس بات کا اطمینان کر لیں کہ یہ خبر کس حد تک مصدقہ ہے اور اس کو جاری وہی ادارہ کر رہا ہے جس کا یہ کام ہے؟ مصدقہ خبریں ضرور شئیر کریں لیکن خدارا کوئی بھی ایسی خبر شئیر نہ کریں جو غیر مصدقہ ہو اور اس سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیل جائے۔کیونکہ کرونا وائرس کی پاکستان میں صورتحال ایسی نہیں ہے جیسی دنیا کے دیگر ممالک میں ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ دشمن کرونا وائرس پر بھی گھناؤنا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام کو مختلف طریقوں سے گمراہ کرنے کا پلان بنائے بیٹھے ہیں وہ ہم سے لاشعوری طور پر ایسے کام کروانا چاہتے ہیں جن سے پاکستان میں کرونا وائرس ذیادہ تباہی پھیلا سکے۔ اس چال کو ناکام بنانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ حکومت کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ہمیں جو ہدایات دے ہم ان پر پوری طرح سے عمل کریں۔ دوسرا کام یہ ہے کہ ہم اپنے آپ اور خاندان کو محفوظ رکھنے کے لیے چند باتوں پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کریں سب سے پہلے اپنی اور اپنے خاندان کی نقل و حمل کو انتہائی محدود کر دیں اور گھروں سے انتہائی مجبوری کی صورت میں باہر نکلیں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ خاص طور پر بچوں اور 50 سال سے زائد عمر کے لوگ کسی صورت گھر سے باہر نہ نکلیں۔ گھر کے تمام افراد روزانہ 20 بار ہاتھ دھوئیں اور ہر بار 20 سیکنڈ کا دورانیہ ہو۔ ہینڈ سینی ٹائزر کا استعمال بھی دن میں کئی بار کیا جائے۔ جب بھی انتہائی ضروری کام سے گھر سے باہر جائیں تو فیس ماسک پہن لیں۔ کسی بھی شخص سے مصافحہ نہ کریں۔ تمام قسم کی چھوٹی بڑی تقریبات میں شرکت نہ کریں ۔ گھر پہنچتے ہی ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں۔ یہ ایسی ہدایات ہیں جن پر عمل درآمد کر کے ہم اپنے آپ اور خاندان کو کرونا وائرس سے بچا سکتے ہیں اور اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے آپ کا یہ عمل آپ کے ذمہ دار ہونے اور پاکستان کو کرونا سے ختم کرنے کا سبب بنے گا۔ اس دوران اگر کوئی شخص جس میں اس وائرس کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہیلپ لائن نمبر پر اطلاع دی جائے۔ آخر میں امید کرتا ہوں کہ آپ میری باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد کریں گے اور کرونا وائرس کی روک تھام کے ساتھ ساتھ دشمنوں کی گھنائونی چال کو بھی ناکام بنا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان ذندہ باد
Category: بلاگ
-

بحث و تکرار—–از——حافظہ قندیل تبسم
ایک صاحب فنِ مکالمہ پر لیکچر دے رہے تھے اس سلسلے میں انہوں نے یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان کیا جب وہ قرآن کی اس آیت پر پہنچے
وَدَخَلَ مَعَہُ السْجْنَ فَتَیٰنِ
"اس کے ساتھ قید خانے میں دو نوجوان بھی داخل ہوئے۔”
تو انہوں نے حاضرین کو بغور دیکھا ،پھر ان سے دریافت کیا :
,,اس کے ساتھ قید خانے میں دو نوجوان بھی داخل ہوئے ؟ ان تینوں میں سے کون پہلے داخل ہوا ؟
یوسف یا دونوں نوجوان ؟
ایک پکارا:
"یوسف علیہ السلام”
دوسرے نے کہا :
"نہیں دونوں جوان”
تیسرا بولا :
"نہیں ،نہیں، یوسف، یوسف”
چوتھے نے ذرا ہوشیار بننے کی کوشش کی :
"وہ اکٹھے داخل ہوئے تھے”
پھر پانچواں بولا اور ایک شور بپا ہو گیا اصل بات کہیں غائب ہو گئی لیکچرار صاحب یہی چاہتے تھے انھوں نے حاضرین کے چہروں کو غور سے دیکھااور مسکرائے، پھر انہیں خاموش ہو جانے کا اشارہ کیا اور کہنے لگے :
"آخر مشکل کیا ہے؟ یوسف علیہ السلام پہلے داخل ہوئے ہوں یا دونوں نوجوان ، بات ایک ہی ہے کیا یہ مسئلہ اتنے اختلاف اور بحث و تکرار کا مستحق ہے ؟”
واقعی بسا اوقات ہم لوگ خواہ مخواہ دوسروں کی باتیں کاٹ کر اعتراض کرتے اور ساری بات کا مزہ کرکرا دیتے ہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم کسی چیز کی حقیقت سمجھے بغیر اس پر اعتراض جڑ دیتے ہیں اور صبر یا انتظار کرنے کا تکلف نہیں کرتے
اللہ تعالی نے سچ فرمایا :
(وَکَانَ الْاِنْسِانُ عَجُوْلاً )
"اور انسان جلد باز واقع ہوا ہے”بحث و تکرار
حافظہ قندیل تبسم -

کرونا وائرس اور اسلامی تعلیمات —از–عثمان علی
کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے آج عالمی میڈیا بھی اسلام کے دیئے ہوئے زیریں اصولوں کی تعریف کررہا ہے، اسلامی اصولوں کو ہی دنیا بھر میں جہاں جہاں کرونا وائرس پھیلا ہے، اپنایا گیا ہے، اسلام نے آج سے 14 سو سال پہلے ایسی وباء پھیلنے کے بارے میں بتایا کہ یہ کسی ایک آدمی سے دوسری آدمی میں منتقل ہوسکتی ہے پھیل سکتی ہے۔
صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ شام کی طرف سفر کر رہے تھے کہ ایک مقام پر آپ کو اطلاع ملی کہ شام میں طاعون کی وبا پھیل چکی ہے ۔تو اس وقت قافلے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے آپ نے عرض کی یا امیرالمومنین میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "کے جب تم کسی علاقہ کے متعلق سنو کے وقت وہاں وباءپھیل چکی ہے تو اس علاقہ کی طرف مت جاؤ اور اگر تم اس علاقہ میں ہوں جہاں وباء پھیلی ہوئی ہے تو وہاں سے اپنی جان بچانے کے لئے مت بھاگو”۔
ایک اور صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ ہے کہ کوڑسے متاثرہ شخص سے اس طرح بھاگو کہ جس طرح تم شیر سے بھاگتے ہو۔ اب آئیے دوسری جانب جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ وباء نہیں پھیلتی کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث مبارکہ کو سامنے رکھ کر کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا” لا عدویٰ ولا طیرة” اس لاعدوی کی حقیقت یہ ہے کہ جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان فرمایا اس وقت زمانہ جاہلیت میں لوگ بیماری کو بیماری کی ذات کی وجہ سے متعدد تصور کرتے تھے نہ کہ اللہ تعالی کی قدرت و منشا کی وجہ سے ۔
مثال کے طور پر ایک حدیث مبارکہ ہے کہ ایک اعرابی حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کو خارش پڑ گئی ہے ۔اور یہ ایک اونٹ ا سے دوسرے اونٹ میں پھیلی ہے ۔اور زمانہ جاہلیت میں ان کا تصور یہ تھا کہ یہ بیماری ایک اونٹ سے دوسرے اونٹ میں بذات خود منتقل ہوئی ہے یعنی اس نے اللہ تعالی کی مشیت و منشا نہیں ہے ۔تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ پہلے کو کس طرح بیماری لگی ہے ۔ یہ جولا عدوی والی حدیث مبارکہ ہے اس ساری حدیث مبارکہ کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ وہ مشیت باری تعالی اور اللہ کی قدرت کو تسلیم نہیں کرتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ بیماری ایک انسان سے دوسرے انسن کو لگتی ہے ۔
یہ بیماری بذات خود بدلتی ہے ۔اس میں اللہ تعالی کی کوئی قدرت نہیں ہے ۔ اور یہ اوپر والی تمام احادیث مبارکہ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اسلام بابا کے پھیلنے کو تسلیم کرتا ہے ۔ آج جو پوری دنیا میں یہ مسئلہ بنا ہوا ہے کرونا وائرس کے متعلق اس کے لئے بھی اختیاطی تدابیر وہی ہے جو میں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف والی روایت ذکر کی ہے ۔آج پوری دنیا میں احتیاطی تدابیر وہی استعمال کی جارہی ہیں۔ اہل پاکستان کو بھی چاہیے کہ اس بڑھتی ہوئی وبا کے بچاو کیلئے اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا ہوں۔ جذباتی باتوں کے بجائے حکومت کے دئیے گئے لائحہ عمل پر عمل کریں۔
کرونا وائرس اور اسلامی تعلیمات
تحریر : عثمان علی -

آزاد جموں و کشمیر حکومت نےسیاحوں پر پابندی لگادی
آزاد جموں و کشمیر حکومت نےسیاحوں پر پابندی لگادی
باغی ٹی وی :آزاد جموں و کشمیر حکومت نے کورونا وائرس کے پیش نظر ابتدائی طور پر سیاحوں کی آمدورفت پر تین ہفتے کی پابندی عائد کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق آج آزاد جموں و کشمیر کابینہ کے ارکان کا اجلاس ہوا جس میں کورونا سے نمٹنے کیلیے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
اس ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات مشتاق منہاس نے بتایا ہے کہ اسٹیٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں کورونا کا کوئی کیس نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے تمام اسپتالوں میں کورونا سے نمٹنے کیلیے وارڈز مختص ہیں اور ابتدائی طور پر پچاس لاکھ روپے جاری کر دئیے گئے ہیں۔ مشتاق منہاس کا کہنا تھا کہ محکمہ اطلاعات سمیت دیگر محکمے سوشل میڈیا کمپینز چلا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گیارہ انٹری پوانٹس پر سکریننگ کیلیے ٹیمیں موجود ہیں، وبائی امراض سے نمٹنے کے ایکٹ 1958 کے تحت اقدامات کئے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ صوبہ سندھ میں ایک دن میں کرونا وائرس کے مزید 52 کیسز سامنے آ گئے ہیں، جس کے بعد صوبے میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 87 جب کہ ملک بھر میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 105 ہو گئی ہے۔ کرونا نے 157 ممالک کو لپیٹ میں لے لیا ہے، وائرس کے خوف سے ہر سو سناٹا پھیل گیا، بازار ویران ہو گئے، دنیا بھر میں وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 6,521 ہو چکی ہے جب کہ متاثرہ افراد کی تعداد 169,925 تک پہنچ گئی ہے
ادھر کرونا وائرس کے پیش نظر محکمہ اوقاف نے مساجد بند کرانا شروع کر دیں. خان پور میں محکمہ اوقاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مسجد میں اذان کے بعد نمازی حضرات گھر میں نماز ادا کریں ، حکم جاری کیا گیا ہے کہ تا حکم ثانی مساجد بند رہیں گی ، مساجد کے دروازوں پر نوٹس آویزاں کر دیئے گئے.ادھر وزیر اعلی پنجاب سے علماء کئ وفد نے ملاقات کی اس میں کہا گیا کہ مساجد بند نہیں کریں گے. -

قرآن پاک حفظ کرنے اور دورہ حدیث مکمل کرنے پر جامعہ تعلیم القران اکیڈمی کے 30طلباء طالبات کی دستار بندی
راولپنڈی:قرآن پاک حفظ کرنے اور دورہ حدیث مکمل کرنے پر جامعہ تعلیم القران اکیڈمی کے 30طلباء طالبات کی دستار بندی وچادر پوشی کی گئی ۔جن میں 18 طالبات اور 12 طلباء شامل ہیں
۔ جامعہ تعلیم القران اکیڈمی کےبانی و مہتمم مفتی ناصر محمود عباسی کی زیر صدارت منعقدہ تقریب میں مہمان خصوصی مولانا عبدالکریم ندیم نے مرکز اہلسنت جامع مسجد سید المرسلین خانقاہ عباسیہ ڈھوک کشمیریاں راولپنڈی میں قر آن حفظ کرنے والے 12 طلباء کی دستار بندی کی ۔ تقریب ختم بخاری اوردستار بندی وچادر پوشی سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی پاکستان علماء کونسل العالمی کے سینئر نائب چیئرمین مولانا عبدالکریم ندیم کا کہنا تھا کہ علم نبوت حاصل کرنے والے ہی اصلی امت مسلمہ کا اساس اور بنیاد ہیں اور اسی پر ہی اہل اسلام اور دنیا کی بقاء ہے
یہی وہ چیز ہے جس کی ہر ایک انسان کو ضرورت ہے ۔الحمد اللہ اس ضرورت کو پورا کرنے کےلیے دنیا بھر میں دینی مدارس قائم ہیں ۔
مدرسہ جامعہ تعلیم القران اکیڈمی و جامع مسجد سید المرسلین علوم نبوت کو پھیلانے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے ۔ اس وقت بھی جامعہ میں 200 سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔ جبکہ18 سالوں میں ہزاروں علماء یہاں سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملک بھر میں دینی کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں
جس پر جامعہ تعلیم القران کےبانی و مہتمم مفتی ناصر محمود عباسی کو ان کی دینی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ مہمان خصوصی کا کہنا تھا کہ دینی مدارس پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے ضامن ہیں اور ان مدارس کے سبب کوئی بھی دشمن پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ہے ۔
تقریب میں پاکستان علماء کونسل کے نائب چیئرمین مولانا نعمان حاشر،قاری اسد جان، صاحبزادہ سعد ندیم ، مفتی عبداللہ بن عباس ،مفتی مجیب الرحمان ،مولانامحمد نعیم عباسی ،قاری عبدالرشید ،قاری امجد اقبال ،چیئرمین پختون ایکشن کمیٹی پاکستان جاوید خان بنگش اور نواب آف پسوال نوازش علی خان نے بھی شرکت کی ۔
-

اقبال کا مرد مومن۔۔۔ سید عتیق الرحمن تحریر: رضی طاہر
دور حاضر میں ایک مقولہ مشہور ہے کہ ملا کی دوڑ مسجد تک، اس کی مشہوری میں جہاں ہماری سوسائٹی کا منفی رویہ ہے وہیں ہمارے ملاؤں کا منفی کردار بھی شامل ہے، تاریخ دیکھیں تو مساجد کمیونٹی سنٹرز ہوا کرتیں تھیں جہاں صرف صوم وصلوۃ نہیں بلکہ قوموں کی تقدیر کے فیصلے ہوا کرتے تھے
مگر اب علماء نے دین متین کو اپنے اپنے دائرے میں بند کرکے اپنی دوڑ محدود کرلی ہے، ایسے وقت میں بھی کچھ علمائے کرام ایسے ہیں جن کا کردار مثالی ہے، میں عمومی طور پر بائیوگرافی لکھنے کا ماہر نہیں مگر گزشتہ دنوں ایک نوجوان سے ہونی والی ملاقات نے اس سے متعلق لکھنے پر مجبور کیا، میری مراد گجرات کے نواحی گاؤں بوکن موڑ کے ایک حافظ قرآن اور نوجوان سکالر سید عتیق الرحمن ہیں۔
انہوں نے گجرات کے نواحی گاؤں بوکن شریف میں 14مارچ 1988میں ایک روحانی گھرانے میں آنکھ کھولی، آپ کے والد محترم سید زاہد صدیق شاہ بخاری کا شمار دور حاضر کے عظیم مذہبی مدرسین میں ہوتا ہے، 40سال سے وہ اسی علاقے میں فیضان علم کے چشمے بہارہے ہیں۔ جبکہ آپ کے دادا جی حکیم سید محمد سعید بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے وقت کے ایک کامل ولی ہو گزرے ہیں،
روحانی گھرانے میں آنکھ کھولنے کے ساتھ ساتھ ان کا سلسلہ ایک اور عظیم روحانی در سے جڑتا ہے، ان کے والد محترم جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری کے ارادت مند ہیں، جبکہ سید عتیق الرحمن پیر کرم شاہ کے سجادہ نشین پیر امین الحسنات شاہ کے ہاتھ پر بیعت کرچکے ہیں،
یہی وجہ ہے کہ آپ کی دینی تعلیم کا آغاز گھر سے ہی ہوگیا، جبکہ اپنے ہی گاوں کے ایک سکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی، بعدازاں میٹرک اور ایف اے گوجرانوالہ بورڈ سے فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا، اور گجرات یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی۔
یونیورسٹی آف سرگودھا سے آپ نے پہلے اردو میں ماسٹرز کیا، پھر انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی، آپ کی تعلیمی پیاس ختم نہ ہوئی تو قانون کے میدان میں آکودے اور پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا، جبکہ ایل ایل ایم جاری ہے۔
دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ سید عتیق الرحمن کی دینی پیاس میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا رہا، اپنے بچپن میں ہی حفظ قرآن مجید کی دولت سے مالامال ہوئے، حفظ میں ان کے استاد قاری محمد لطیف رہے جن کا تذکرہ آج بھی وہ محبت سے کرتے ہیں جبکہ اپنے ہی والد محترم کے جامعہ محمدیہ غوثیہ بوکن شریف سے یہ سعادت حاصل کی، جامعہ محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف سے درس نظامی اور دورہ حدیث مکمل کیا۔
سید عتیق الرحمن کا یہ22سالہ تعلیمی کیرئیر اپنی مثال آپ ہے، پہلی جماعت سے لے کر ایل ایل ایم تک اور یسرنا قرآن کے پارے سے لے کر دورہ حدیث اور درس نظامی تک آپ دینی و دنیوی تعلیم کے حسین امتزاج میں پلے بڑھے، مستقبل میں پی ایچ ڈی کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔اپنے تعلیمی سفر کے دوران اللہ کریم نے انہیں فن خطابت میں بھی ملکہ عطا کررکھی ہے،
زمانہ طالب علمی میں دو دفعہ پنجاب بھر کے تقریری مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی، کھیلوں میں فٹ بال سے خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں۔ گو کہ تعلیمی سفر ابھی جاری ہے مگر عملی میدان میں بھی سید عتیق الرحمن نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنا شروع کردیئے ہیں، بحثیت ایجوکیشنسٹ انہیں اپنے والد محترم نے اپنے ادارے کے وائس پرنسپل کی ذمہ داری دے رکھی ہے، جبکہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے سکول سسٹم ڈائریکشن سکولز کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ ہیں،
اس ذمہ داری پر ابھی انہیں مختصر عرصہ ہی ہوا ہے مگر انہوں نے اس نیٹ ورک کی جڑیں پاکستان کے کونے کونے میں پھیلائی ہیں اور اسلام آباد اور گجرات کے گردو نواح میں اپنے ذاتی پرائیویٹ سکول بھی چلاتے ہیں،ساتھ ساتھ HATگروپس آف کمپنیز کے ایم ڈی ہیں اور کاروان حسنات و برکات پرائیویٹ لمیٹیڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، جس نے انتہائی کم عرصے میں اس میدان میں نہ صرف اپنی جگہ بنائی بلکہ اب اس کا شمار ٹاپ500میں ہوتا ہے۔
گجرات چیمبر آف کامرس نے سید عتیق الرحمن کو Emergingبزنس مین برائے سال2019کے ایوارڈ سے بھی نوازا۔ خطابت کے ساتھ اب کتابت کی طرف بھی رخت سفر باندھ چکے ہیں، ان کی پہلی کتاب منزل اور مقصد چھپنے کیلئے تیار ہے، سید عتیق الرحمن مستقبل قریب میں اسلام کی عالمگیر کی خدمت کا ارادہ رکھتے ہیں،اس کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کررکھا ہے،
بلاشبہ اللہ کریم نے ان پر خصوصی کرم کررکھا ہے جس کی بدولت محض31سال کی عمر میں انہیں تاریخ ساز کامیابیاں ملیں۔ یہاں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ تحریر محض ملاقات کی وجہ سے نہیں بلکہ ان تمام کامیابیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد تحریر کیا ہے، یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ سید عتیق الرحمن حقیقی طور پر اقبال کے مرد مومن کی تعریف پر پورا اترتے ہیں،
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان کا کام کیونکہ عام نہیں ہے، اسلئے ان کا نام بھی عام نہیں رہے گا، کیونکہ جو نوجوان ستاروں میں کمند ڈالنے کا فیصلہ کرلیں اور شکوہ ظلمت شب کے بجائے اندھیروں میں دیپ جلانے کی کوششیں شروع کردیں، وہ عام نہیں رہتے بلکہ خاص ہوجاتے ہیں۔
-

جنوبی پنجاب میں گیس کی فراہمی ، جنوبی پنجاب محاذ کے چیئرمین کے ہاتھوںافتتاح ، علاقے کی خوش قسمتی –از–محمد علی انجم ڈوگر
جنوبی پنجاب محاذ کے چیرمین سابق وزیراعظم سردار میر بلغ شیر مزاری نے سوئی گیس فراہمی کی افتتاحی تختی کی نقاب کشی کی تو میرا زہین ماضی کے جھرونکھوں میں کھو گیا جب روجھان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان مزاری اتحاد تھا اور اس اتحاد کے سربراہ سابق وزیراعظم سردار میر بلغ شیر مزاری تھے ان کے پوتے سردار میردوست محمد مزاری ایم این اے منتخب ہوئے تو انکا ایک ہی ماٹو تھا
روجھان کو سوئی گیس کی فراہمی اس سلسلہ میں انھوں نے اس وقت کے صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ہر ملاقات میں اپنا مطالبہ پیش کرتے رہے جس کا اقرار سابق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی مرحوم سردار شوکت حسین مزاری کی وفات پر اسوقت کے وزیراعظم یوسف رضا گہلانی نے سابق وزیراعظم سردار میر بلغ شیر مزاری اور دیگر لواحقین سے تعزیت کے موقع پر اظہار کیا جب راجن پور اور روجھان کے صحافیوں نے (جن میں مجھے اعزاز حاصل ہے کہ میں بھی موقع پر موجود تھا )
اسوقت کے وزیراعظم یوسف رضا گہلانی سے کہا کہ اگر آپ آگئے ہیں تو آج سوئی گیس کی فراہمی کا اعلان کرکے جائے تو اسوقت کے وزیراعظم یوسف رضا گہلانی کے تاریخی الفاظ آج بھی مجھے یاد ہیں انھوں نے کہا کہ کہاں ہیں ایم این اے دوست محمد مزاری سوئی گیس کی فائل لائے کتنا کا پراجیکٹ ہے دوست محمد مزاری اس وقت اپنے دادا سابق وزیراعظم سردار میر بلغ شیر مزاری کے احترام میں ان کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے کیونکہ تعزیتی ماحول تھا اور تعزیت سابق وزیراعظم یوسف رضا گہلانی نے سابق وزیراعظم سردار میر بلغ شیر مزاری سے کرنی تھی
اس لیے سردار دوست محمد مزاری اپنے بزرگ داد سردار میر بلغ شیر مزاری کے ہیچھے بیٹھے تھے تاہم یوسف رضا گہلانی کے کہنے پر سردار دوست محمد مزاری آگئے آئے اور روجھان راجن پور کو سوئی گیس کی فراہمی کے حوالے سے اسوقت کے وزیراعظم یوسف رضا گہلانی کو بریفنگ دی جس پر یوسف رضا گہلانی نے سوئی گیس کی فراہمی کے لیے اس وقت کے ایم این اے دوست محمد مزاری کی دلچسپی اور بار بار مطالبہ کا اظہار کرتے ہوئے روجھان راجن پور سوئی گیس کی فراہمی کے لیے ابتدائی گرانٹ چوبیس کروڑ روپے کا اعلان کیا
فوری جاری کرنے کی ہدایت بھی موقع پر کی اس ساری سٹرگل میں میں اس شخصیت کا زکر ضرور کرونگا جس نے اس تعزیتی ماحول میں روجھان کی عوام کو نہیں بھولے تھے جو صحافیوں کے عمدہ دوست تھے اور آج بھی ہیں جن کے باعث اتنے بڑے پراجیکٹ کی ابتدائی گرانٹ کے لیے ماحول بنا وہ تھے اس تعزیتی پروگرام کے آرگنائزر سابق ناظم سردار اطہر علی خان مزاری جنھنوں نے وزیراعظم یوسف رضا گہلانی اور سیکورٹی اداروں سے زبردستی یہ کہہ کر صحافیوں کے لیے ٹائم لیا کہ یہ ہمارے اپنے صحافی ہیں انکو ٹائم ضرور دیں جس پر صحافیوں کو الگ سے ٹائم دیا گیا جسمیں اسوقت وزیراعظم یوسف رضا گہلانی ،
سابق وزیراعظم سردار میر بلغ شیر مزاری ،سردار صفدر حسین مزاری ،سردار دوست میر محمد مزاری اور سابق ناظم سردار اطہر علی خان مزاری موقع پر موجود تھے اسوقت کے وزیراعظم یوسف رضا گہلانی کے اعلان کے بعد روجھان کو سوئی گیس کی فراہمی کے لیے پائپ روجھان کے علاقہ ڈیرہ موڑ پہنچے تو اسوقت کے ایم این اے دوست محمد مزاری اسلام آباد میں تھے انکو اطلاع دی گئ تو سوئی گیس فراہمی کو منصوبے کو بلاتاخیر شروع کرانے کے لیے باہمی طور پر فیصلہ کیا گیا کہ سوئی گیس پائپ لائن بچھانے کا سنگ بنیاد وزیراعلی انسپیکشن ٹیم کے سابق سربراہ سردار طارق محمود مزاری کرینگے لہذا ڈیرہ موڑ کے مقام پر سابق وزیراعلی انسپیکشن ٹیم کے سربراہ سردار طارق محمود مزاری نے سابق ناظم سردار اطہر علی مزاری کے ہمراہ سوئی گیس کی فراہمی کے میگا پراجیکٹ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا
اس موقع پر میں اور میرا دوست صحافی محمد علی عامر گورچانی اور ندیم حشمت خان مزاری موقع پر موجود تھے سابق سربراہ وزیراعلی انسپیکشن ٹیم سردار طارق محمود مزاری کے پائپ لائن بچھانے کے سنگ بنیاد کے بعد پائپ لائن بچھانے کا کام تیزی سے شروع ہوا جو کہ چوک روجھان تک پائپ لائن بچھائی گئ جبکہ دوسرا مرحلہ چوک روجھان سے روجھان شھر تک پائپ لائن بچھانے کا کام شروع ہوا اور سینکڑوں کی تعداد میں پائپ چوک روجھان پہنچے تو اسوقت کے ایم این اے دوست محمد مزاری سردار سہیل ارسلان کے ساتھ موقع پر موجود تھے اور اپنی نگرانی میں روجھان چوک سے روجھان شھر تک پائپ لائن بچھانے کاکام شروع کرایا روجھان شھر کی طرف پائپ لائن بچھائی جارہی تھی کہ پیلپز پارٹی کی حکومت کا میعاد ختم ہوگیا اس کے ساتھ ہی اس وقت کے ایم این اے دوست محمد مزاری کی ایم این اے شپ بھی ختم ہوگئ
دوہزار تیرا کے الیکشن میں دوست محمد مزاری بدقسمتی سے دوبارہ اقتدار میں نہ آسکے اور سوئی گیس جیسا عظیم عوامی منصوبے کٹائی میں پڑ گیا بدقسمتی سے جو شخص روجھان سے ایم این اے کا ووٹ لے کر گئے روجھان کی عوام انکی شکل دیکھنے کو ترس گئے اس وقت کے ایم ہی اے نے بھاگ دوڑ میں بہت نام کمایا کئ صوبائی منصوبے بھی شروع کیے مگر وفاق میں روجھان کی نمائندگی نہ ہونے کے باعث سوئی گیس فراہمی پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی ایک افتاحی تقریب ہوئی شھر کی کھدائی بھی کی گئ
مگر باقاعدہ طور پر سوئی گیس کی فراہمی پر عملی کام نہ ہوسکا جس سے منصوبہ تاخیر کا شکار ہوگیا دوہزار اٹھارہ میں الیکشن کیمپین چلی تو الیکشن کیمپین کے دوران ایم این اے کے امیدوار سردار ریاض محمود مزاری نے روجھان کی عوام سے سوئی گیس فراہمی کا وعدہ کیا دوہزار کا اٹھارہ کا الیکشن ہوا تو روجھان سے ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری اور سردار دوست محمد مزاری ایم پی اے بعد ازں ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے اقتدار سنبھالتے ہی ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری اور ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار میردوست محمد مزاری آرام سے بیٹھنے کی بجائے دبنگ انداز میں انٹری ماری اور روجھان کے مسائل حل کرنے میں لگ گئے
یہ آئندہ الیکشن کی تیاری ہے یا عوام دوست پالیسی مگر اجمتاعی مسائل پر ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری ،ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار میر دوست محمد مزاری ،سردار دوست علی مزاری ،سابق ناظم سردار اطہر علی مزاری اور انکی ٹیم شباب خان مزاری ،بابر خان ،عبدالجید مزاری اور دیگر افراد ایک ٹیم کی صورت میں کام کررہے ہیں الیکشن کے بعد عوامی مسائل حل کرنے کے لیے ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری ،ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار میردوست محمد مزاری ،سردار دوست علی مزاری ،سابق ناظم سردار اطہر علی مزاری ایک ٹیم کی صورت دبنگ اور عوامی لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں
انکی دن رات کی کاوش سے 70 سال بعد روجھان کو سوئی گیس کی فراہمی کا خواب پورا ہوا ہے آج اللہ کے فضل وکرم سے روجھان کے گھر گھر میں سوئی گیس کے زرایعے چولہے جلنے شروع ہوگئے ہیں ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار میردوست محمد مزاری اور سابق ناظم سردار اطہر علی مزاری کی کاوش سے روجھان کی عوام کی لکڑیوں کی ناصرف اذیت ناک زندگی سے جان چھوٹ گئ بلکہ چولہے کی آگ کے دھواں سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے چھٹکارہ مل گیا ہے ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری کی کاوش ہے کہ جن افراد کے سوئی گیس کے کنکشن رہے گئے انکو جلد از جلد کنکنش لگ جائے تاکہ روجھان کو ملنے والی سہولت سے ہر فرد مستعفید ہوسکے
ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری اور انکی ٹیم نے سوئی گیس کی فراہمی کا یہ سفر ابھی روکا نہیں نوجوان عوام دوست لیڈر سردار دوست علی مزاری نے سابق سردار اطہر علی خان مزاری اور اتحادی حمزہ کمال اور اظہر خان گوپانگ کے ہمراہ مٹھن کوٹ میں سوئی گیس کی فراہمی کا سروے کا افتتاح کردیا ہے جبکہ روجھان کی قریبی بستیوں کو سوئی گیس کی فراہمی کے لیے ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری کی زاتی گرانٹ سے تین کروڑ روپے سوئی نادرن گیس کو مل چکے ہیں تاکہ روجھان کی قریبی بستیوں میں پائپ لائن بچھا کر سوئی گیس فراہم کردی جائے اتنی عظیم سہولت دینے پر روجھان کی عوام عوامی دبنگ لیڈر ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری ،عوام دوست لیڈر ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار میردوست محمد مزاری ،سردار دوست علی مزاری سابق ناظم سردار اطہر علی مزاری اور انکی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں خدا ایسے لیڈروں کو ہر مشکل سے دور رکھے اور خوشحال زندگی انکے مقدر رہے اللہ تعالی کا فرمان ہے جو لوگ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں میں انکی مشکلیں دور کردیتا ہوں
جنوبی پنجاب میں گیس کی فراہمی ، جنوبی پنجاب محاذ کے چیئرمین کے ہاتھوںافتتاح ، علاقے کی خوش قسمتی –از–محمد علی انجم ڈوگر
-

کرونا وائرس، پاکستان سمیت دنیا بھر کی موجودہ صورتحال، اس سے بچنے کی احتیاطیں اور مسنون دعائیں
کرونا وائرس کا حملہ اس وقت بہت شدید ہوچکا ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک میں اس کے اب تک 1,34,113 کنفرم کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں. جن میں سے 4968 لوگوں کی اموات ہوچکی ہیں جبکہ 67,003 لوگ اس مرض سے صحتیاب بھی ہوچکے ہیں.
چین سے شروع ہونے والے اس وائرس کو شروع میں اتنا سنجیدہ نہیں لیا گیا جس کی وجہ سے یہ وائرس انسانوں سے دوسرے انسانوں میں منتقل ہوتا ہوتا اب مکمل گلوب پر پھیل چکا ہے. کینیڈا کے جسٹن ٹرڈو کی بیوی میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے. اسی طرح امریکی صدر ٹرمپ سے ملنے والے برازیلین شہری میں بھی کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آچکی ہے جبکہ امریکی صدر ٹرمپ ٹیسٹ سے تاحال انکاری ہیں.
کئی ایک ممالک میں اعلیٰ سطحی لوگ اس کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے موجودہ صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے سبھی ممالک لاک ڈاؤن کا فیصلہ کر رہے ہیں. اٹلی میں بڑی تعداد میں کرونا وائرس کے ہاتھوں اموات کے بعد اٹلی کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے. سعودیہ نے گزشتہ شام بہتر گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا جس میں سے کئی گھنٹے گزر چکے ہیں اس مدت کے دوران عارضی آمد و رفت کو مکمل کرکے سعودیہ کو لاک ڈاؤن کردیا جائے گا.
بھارت میں ایک بندے کی کرونا وائرس کی وجہ سے موت اور کئی دیگر کنفرم کیسز کے بعد بھارت نے ایران سے اپنے شہریوں کی واپسی کا پروگرام شروع کردیا ہے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے دہلی میں دفع 144نافذ کردی ہے. امریکہ میں بھی کئی کیسز کرونا وائرس کے رپورٹ ہوئے ہیں جس کی وجہ سے امریکہ نے یورپ کے ساتھ فضائی رابطے منقطع کردیے ہیں امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر بڑی تعداد میں اس وقت خیمہ زن لوگ موجود ہیں.
دنیا بھر میں کھیلوں کے بڑے مقابلے منسوخ کردیئے گئے ہیں، دہلی میں ہونے والے انڈین پریمیئر لیگ کے کرکٹ میچز کو بھی منسوخ کردیا ہے. پاکستان سپر لیگ کے بقیہ میچز کے حوالے سے بھی مشاورت جاری ہے جبکہ سندھ گورنمنٹ نے یہ اعلان کیا ہے کہ کراچی میں ہونے والے میچز میں شائقین نہیں آسکیں گے صرف ٹیمیں اور ان کے آفیشلز ہی شرکت کرسکیں گے. اسی طرح سندھ کے تعلیمی اداروں کو بھی تیس مئی تک بند کردیا گیا ہے اور اس دوران ہونے والے امتحانات کو ملتوی کردیا گیا ہے.
بدقسمتی سے شروع میں پاکستان نے کرونا وائرس کو سنجیدہ نہیں لیا حالانکہ پاکستان کے اطراف و کنار میں کرونا وائرس گھوم رہا ہے. چین سے شروع ہوا جبکہ ایران میں بڑی تعداد میں اس سے متاثرہ لوگ موجود ہیں اور انڈیا میں بھی کئی کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں. اگر شروع میں ہی اس پر سنجیدگی دکھائی جاتی تو پاکستان اس سے بچ سکتا تھا. پاکستان میں اب تک کرونا کے 21 کنفرم کیسز ہیں جبکہ 2 لوگ اس مرض سے پاکستان میں صحتیاب ہوچکے ہیں اور بحمدللہ پاکستان میں کرونا سے تاحال کوئی موت واقع نہیں ہوئی ہے.
لیکن ابھی بھی کرونا وائرس کو پاکستان میں اس طرح سے سنجیدہ نہیں لیا جارہا جس طرح سے دنیا بھر میں اس کو لے کر ایمرجنسی نافذ کی جا رہی ہے.پاکستان کی سرحدیں ایران کے ساتھ کچھ عرصے کے لیے بند ہوئی تھیں مگر پھر سے کھول دی گئی ہیں اور لمبی سرحدی پٹی پر اسکیننگ کے انتظامات بھی موجود نہیں جبکہ زائرین اور دیگر افراد کی آمد و رفت وسیع پیمانے پر جاری و ساری ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے لیے خطرات موجود ہیں.
پاکستان میں تعلیمی ادارے بھی کھلے ہوئے ہیں اور چھوٹے بڑے اجتماعات بھی منعقد ہورہے ہیں اگرچہ رائیونڈ میں ہونے والا تبلیغی اجتماع موسم کی خرابی اور پنڈال میں پانی بھر جانے کے باعث دعا کروا کر ختم کردیا گیا ہے لیکن چھوٹے بڑے اجتماعات اور سیاسی جلسے جاری ہیں. جن پر فالفور پابندی عائد ہونی چاہیے. تعلیمی اداروں اور ملک میں جاری کھیلوں کے مقابلوں پر بھی فالفور کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اجتماعی صحت ے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے.
اسی طرح عوام الناس کو بھی چاہیے کہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور دی گئی ہدایات پر عمل درآمد کریں. پبلک مقامات پر میل جول اور چیزوں کے استعمال سے گریز کریں. ماسکس ، ٹشوپیپرز اور گلوز کا استعمال کریں. عوامی اجتماعات میں شرکت سے بھی گریز کریں اور کسی بھی ناگہانی صورتحال میں اسپتال اور ڈاکٹرز سے رجوع کریں.
یہ آفتیں اور بیماریاں انسانی اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں جو اللہ کی طرف سے مسلط کی جاتی ہیں تو ان آفتوں اور بیماریوں پر بجائے ٹھٹھہ و مذاق کرنے اور لطائف بنانے کے اللہ سے توبہ کرنی چاہیے یقیناً وہی شفا دینے والا اور بیماریوں اور آفتوں کو کنٹرول کرنے والا ہے. صحیح بخاری کتاب الطب میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نازل نہیں فرمائی جس کا علاج یا دوا نہ نازل فرمائی ہو یقیناً اس کرونا وائرس کی شفا بھی کسی نہ کسی چیز میں موجود ہوگی. اس کا علاج دریافت ہونے تک ہمیں چاہیے کہ ہم حتیٰ الامکان احتیاطیں اختیار کریں اور یہ دعائیں کثرت سے پڑھتے رہیں.
أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
"بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ
اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
یہ آفات انسان کی آزمائش بھی ہوتی ہیں تو اپنا ایمان اور توکل اللہ پر مضبوط کرنا چاہیے اور اس کرونا وائرس سے بچنے کی جو احتیاطیں دنیا بھر میں بتائی جا رہی ہیں ان سے اسلامی شعار طہارت، وضو، غسل وغیرہ کی حقانیت واضح ہوتی ہے. -

بنگلادیش کرکٹ ٹیم دورہ پاکستان کرے گی یا نہیں، اعلان ہو گیا
بنگلادیش کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان ہوگا یا نہیں، اعلان ہو گیا
باغی ٹی وی : بنگلادیش میڈیا کے مطابق بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے کورونا وائرس کے پیش نظر ٹیم کو پاکستان نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے باعث تیسرے مرحلے کے تمام میچز منسوخ ہوگئے ہیں۔
اس کے بعد 2 تا 4 اپریل کو پھر ٹیم پریکٹس سیشن تھا اور 5 تا 9 اپریل آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل دوسرا میچ نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا جانا تھا
کرونا وائرس کے پیش نظر سپر لیگ کیلئے آنے والے غیرملکی کھلاڑیوں کو فری ہینڈ ملنے کے بعد انہوں نے واپسی کیلئے سیٹیں کنفرم کروا لیں، پشاور زلمی مینجمنٹ نے پی ایس ایل چھوڑنے کا فیصلہ غیر ملکی کھلاڑیوں پرچھوڑ دیا،پشاور زلمی منیجمنٹ کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کھلاڑی اپنے وطن واپس جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں،انگلش کھلاڑی ٹام بینٹن،لیام ڈاسن اور لیوس گریگری اور لیام لیونگسٹن پشاور زلمی کا حصہ ہیں.
کرونا وائرس، پی ایس ایل،غیر ملکی کھلاڑیوں نے واپس جانے کیلئے ٹکٹ بک کروا لیں
واضح رہے کہ حکومت نے کورونا وائرس کے باعث پاکستان سپر لیگ کے کراچی میں ہونے والے بقیہ تین میچز اور ایک پلے آف بھی بغیر شائقین کرانے کا اعلان کیا ہے۔کراچی سے دو فلائٹس میں غیرملکی کھلاڑیوں کی سیٹ بک کی گئی ہیں،ای کے 603اور ای کے609سے غیرملکی کھلاڑی پاکستان سے اپنے ملک واپس جائیں گے،واپس جانے والوں میں لیونگ اسٹن ، لیام ڈاؤسن ، بریتھ وائٹ ، الیکس ہیلز شامل ہیں.
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کسی کھلاڑی نے گھر واپسی کی خواہش ظاہر نہیں کی،فی الحال گلیڈی ایٹرز کے کیمپ میں ساری صورتحال نارمل ہے، جبکہ ملتان سلطان کے وینس ریلی روسو بھی وطن واپس چلے جائیں گے
-

عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا لازوال کردار……. تحریر: یاسمین میر
بھارت کو کشمیر میں خونی پنجے گاڑے ستر برس بیت گئے مگر سلام ہو ان بہادر ونڈر کشمیری مردوزن پر کہ نہتے ہو کر بھی دشمن کے دانت کٹھے کر رہے ہیں۔
1989 سے آج تک لاکھوں جانوں کا نذرانہ دینے کے باوجود وطن کی آزادی کے لیے کشمیر ی اب بھی کٹ مرنے کو تیار ہیں۔ کشمیر کی مائیں اپنے بیٹوں میںبے جگری سے جینے اور شوق شہادت کا یہ جذبہ نسل درنسل منتقل کرتی چلی آرہی ہیں۔
تحریک کے روز اول سے ہی کشمیری خواتین اپنے بیٹوں ‘ بھائیوں اور شوہروں کو وطن پر قربان کرنے کیلئے ہر لمحہ تیارر ہتی ہیں ۔ عملی طورپر دیکھیں تو عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا کردار نہیں ملتا لیکن کشمیر مومنٹ کے تیز ہونے کے بعد 1989 میں کشمیری خواتین نے تنظیم سازی کرنے لگیں تو ساتھ ہی حریت تحریکوں کے خواتین ونگ بھی بننا شروع ہو گئے۔
اس وقت سے آسیہ اندرابی ’ دختران ملت،زمردہ حبیب تحریک خواتین، یاسمین راجہ مسلم خواتین مرکز، فریدہ بہن جی ماس مومنٹ جموں وکشمیر اور پروینہ آہنگر اے پی ڈی چلا رہی ہیں۔
ان خواتین کے تنظیموں میں سینکڑوں خواتین ممبرز بھی موجود ہیں جو نہ صرف عام کشمیری کو آزادی کی اہمیت سے آگاہ کرتی ہیں۔ بلکہ 90 کے دہائی میں جب درندہ صفت بھارتی فوجیوں نے خواتین کی عزتیں پامال کرنا شروع کیں تو آسیہ اندرابی نے آگاہی مہم کے دوران خواتین کو اپنے پاس چاقو رکھنے اور دفاع کے طورپر اس کو استعمال کرنے کے طریقے بھی سیکھائے ۔
یہی نہیں تحریک کے آغاز سے اب تک کشمیری خواتین مجاہدین کو پناہ دینے ان تک کھانا پہنچانے اور انہیں سیکورٹی فورسز سے بچانے میں بھی پیش پیش رہی ہیں۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد تو ہم مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے بڑے احتجاجی مظاہرے دیکھ رہے ہیں ۔
لیکن پہلا آرگنائز احتجاجی مظاہرہ 1990 میں دختران ملت کی کال پر ہوا اور اس وقت خواتین نے مسجد میں جاکر نعرہ لگائے۔ اب وادی میں وہ دور لوٹ آیا ہے جب کشمیری خواتین کا اپنے رشتہ داروں کی تلاش اور کیسیز کی پیروی کے لیے دہلی کی عدالتوں اور تہاڑ جیل کے چکر لگانا معمول بن چکا ہے ۔
پاکستانی قوم بھی کشمیری بھائیوں اور بہنوں سے بے خبر نہیں، تحریک آزادی کے ستر سالوں کے اعصاب شکن مراحل سے گزر کرگزشتہ دو سو دنوں میں آزادی کی جد جہد میں عورتوں کی بھرپور شمولیت آنے والی صبح نو کے لیے امید کا پیغام دے رہی ہے۔ جہدوجد آزادی میں خواتین کے سرگرم کردار اور زمینی حقائق کے متعلق دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کہتی ہیں کہ میں کئی بار جیل گئی انڈر گر اؤنڈ رہی حتی کہ حال ہی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تین مہینے کے لیے جیل میں رکھا گیا اور اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ ہوں ۔
مگر آخری دم تک کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد میں خواتین کے سرگرم کردار اور زمینی حقائق کے متعلق دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کہتی ہیں کہ میں کئی بار جیل گئی انڈر گر اؤنڈ رہی حتی کہ حال ہی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تین مہینے کے لیے جیل میں رکھا گیا اور اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ ہوں ۔ مگر آخری دم تک کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھوں گی۔
چوبیس سال سے میرے شوہر جیل میں ہیں۔ لاکھوں کشمیری خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر کئی سالوں سے لاپتہ ہیں اور تاریخ میں پہلی بار کشمیری خواتین کے لیے (آدھی بیوہ )کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارت کچھ بھی کر لے ہمارے اٹل ایمان کو شکست نہیں دے سکتا۔
چیئرپرسن جموں کشمیر ماس موومنٹ فریدبہن جی کہتی ہیں کہ میرے بھائی بلال پر پاکستان سے وابستگی کا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا بعدازاں دہلی دھماکوں کے بعد بھارتی فوجیوں نے نہ صرف مجھے گرفتار کیا بلکہ پانچ سال کے لیے تہاڑ جیل بھیج دیا اور 2001ء میں جیل سے رہا ہوئی تو بھارت کی جیلوں میں قید کشمیری قیدیوں کی قانونی مددکا بیڑہ اٹھایا۔ زمردہ حبیب تحریک خواتین کشمیر کی چیئرپرسن ہیں ۔
وہ 1992ء سے آزادی کی تحریک میں متحرک ہیں اور اسی پاداش میں 5 سال کے لیے تہاڑ جیل بھی کاٹ چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کے قربانیاں گواہ ہیں کہ کشمیری عورت کو ڈرایا یا دھمکایا نہیں جاسکتا۔ مسلم خواتین مرکز کی چیئرپرسن یاسمین راجہ جو غلام نبی بٹ کی بیٹی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بچپن سے ہی پاکستان کی نغمے گاتی تھی۔
ایک مرتبہ پاکستانی قومی ترانہ پڑھنے پر مجھے سکول سے نکال دیا گیا۔ مگر میری پاکستان کے ساتھ لگن کم نہیں ہوئی۔ اس دوران کئی بار جیل گئی ہوں اور رہا ہوئی ہوں۔ تحریک آزادی کشمیر کی ان چند نمایاں خواتین کے علاوہ دیگرکشمیری خواتین کا بھی آزادی کی جدوجہد میں کلیدی کردار رہا ہے۔
اسلام اور آزادی کی اس شمع کو جلا رکھنے کے لیے برہان وانی کی شہادت کے بعد سے چلنے والی تیز ترین عوامی جدوجہدکو دبانے کے لیے بھارت کے ظلم وستم سے جہاں سو کشمیری شہید ہو ئے ان میںخواتین بھی شامل ہیں
گزشتہ چھ ماہ میں یاسمین رحمان‘ سعیدہ بیگم ‘ نیلوفر‘ یاں اور فوزیہ صدیق سمیت کئی خواتین نے جام شہادت نوش کیا۔ وہیں خواتین کے پرامن ریلیوں ‘ جلسوں ‘ اور حتی کہ گھروں میں گرنے والے آنسووں گیس کے گولوں ‘ پیلٹ گن کے چھروں سے انشاء مقبول ‘ عرفی جان‘ شیروزہ میر‘ افراء جان‘ شیروزہ شکور کو آنکھوں کی روشنی سے ہاتھ دھونا پڑا۔
یہی نہیں اس وقت ہزاروں کشمیری مائیں غربت کے باعث بچوں کی آنکھوں کا علاج نہیں کروا پا رہی ہیں ۔ جو پیلٹ گن کے چھرو ںسے متاثر ہوئے ہیں۔ ریاستی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 9 جولائی 2016ء سے 31 دسمبر 2016ء تک 1008 نوجوان پیلٹ گنوں کا نشانہ بنے اور زخمی ہوئے ۔ ان میں سے سو سے زائد کے والدین نے غربت کے باعث ان کی آنکھوں کا علاج ادھورا چھوڑ دیا ۔
اعدادو شمار کے آئینے میں دیکھیں تو کشمیر میڈیا سروسز کے مطابق 1989ء سے 31 دسمبر 2016 ء تک کشمیر میں بیوہ خواتین کی تعداد 22,835 ہے۔ جبکہ 10,825 خواتین کی اجتماعی عصمت دری کے واقعات پیش آچکے ہیں اور شہادتوں کے نتیجے میں 107,603بچے یتیم ہو چکے ہیں۔یہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تحریک آزادی میں سرگرم کشمیری خواتین مالی پریشانی کے باوجودفلسطینی بہنوں کی طرح ہمت و حوصلہ کی مثال قائم کئے ہوئے ہیں۔
کشمیر کی مظلوم عورتیں اسلام کے علمبردار خواب غفلت میں
تحریر: یاسمین میر
