Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مرحبا رمضان…!!!  بقلم:جویریہ بتول

    مرحبا رمضان…!!! بقلم:جویریہ بتول

    مرحبا رمضان…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    مرحبا رمضان،مرحبا رمضان…
    تیرا آنا مبارک،تو شھر القرآن…
    ہے روح و بدن کی روئیدگی تُجھ سے…
    ترے شب و روز اعمال کا پیمان…
    جھوٹ و برائی سے نفرت کا پیام…
    ترا اک ایک لمحۂ تازگئ ایمان…
    ہوتے سحر و افطار کےیہ منظم سلسلے…
    اک دائرہ میں گھومنے کا ہے سامان…
    رات اور دن کے بیشتر وقت میں…
    رب کی بارگاہ میں حاضر ہیں مسلمان…!!!
    رکوع و سجود میں عاجزی یہ کے منظر…
    روح کی زندگی کی کراتے ہیں پہچان…
    دلِ مردہ گَرد سے نکل کر ہوتا ہے زندہ دوبارہ…
    یہ زباں ہے ذکر کرتی اور تلاوتِ قرآن…
    ان روح پرور میسر لمحات میں آؤ…
    نامۂ عمل سے مٹا دیں کُچھ سیاہی کے نشان…
    اس نفس کے تزکیہ سے گزر کر ہم…
    اِسی سمت موڑ دیں اس زندگی کا رجحان…
    اس تربیت کے اثرات عمرِ رواں پہ ثبت…
    کرتے ہوئے بڑھیں فلاح کی طرف انسان…!!!!!
    ==============================
    جویریات ادبیات
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • دعا کی اہمیت اور فضائل و مسائل  از: حافظہ قندیل تبسم

    دعا کی اہمیت اور فضائل و مسائل از: حافظہ قندیل تبسم

    دعا کی اہمیت اور فضائل و مسائل
    حافظہ قندیل تبسم

    اللہ تعالی کو یہ بات بہت پسند ہے کہ انسان اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی حاجات اس سے مانگے اور اسی سے امید لگائے چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے:
    وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ
    ترجمہ: اور تمہارے رب نے کہہ دیا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کرونگا۔[سورہ غافر :آیت 60]
    دعا کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرما دیا:
    دعا ہی عبادت ہے۔
    ترمذی (3372) ، ابو داود (1479) ، ابن ماجہ (3828) البانی نے اسے "صحیح ترمذی” (2590) میں صحیح قرار دیا ہے۔

    دعا عبادت کی ایک اہم شکل ہے لہذا اس کا اہتمام بھی احسن انداز سے ہونا چاہیے۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ایسے امور ذکر کیے جائیں جو دعا کرنے کے لیے لازمی ملحوظ رکھنے چاہئیں۔

    1- دعا کرنے والا شخص توحید ربوبیت، توحید الوہیت، اور توحید اسماء و صفات میں وحدانیت الہی کا قائل ہو، اس کا دل عقیدہ توحید سے سرشار ہونا چاہیے؛ کیونکہ دعا کی قبولیت کیلئے شرط ہے کہ انسان اپنے رب کا مکمل فرمانبردار ہو اور نافرمانی سے دور ہو جیسا کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
    وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ
    ترجمہ: اور جس وقت میرے بندے آپ سے میرے متعلق سوال کریں تو میں قریب ہوں، ہر دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب بھی وہ دعا کرے، پس وہ میرے احکامات کی تعمیل کریں، اور مجھ پر اعتماد رکھیں، تا کہ وہ رہنمائی پائیں [البقرة : 186]

    2- دعا میں اخلاص ہونا ضروری ہے، صرف خدائے واحد کو پکارا جائے جیسا کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
    فَإِذَا رَكِبُوا۟ فِى ٱلْفُلْكِ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمْ إِلَى ٱلْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ ﴿65﴾
    ترجمہ: پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد سے الله ہی کو پکارتے ہیں پھر جب انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے فوراً ہی شرک کرنے لگتے ہیں (سورۃ العنکبوت،آیت 65)
    وَإِذَا غَشِيَهُم مَّوْجٌۭ كَٱلظُّلَلِ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمْ إِلَى ٱلْبَرِّ فَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌۭ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِايَٰتِنَآ إِلَّا كُلُّ خَتَّارٍۢ كَفُورٍۢ﴿32﴾
    ترجمہ: اور جب انہیں سائبانوں کی طرح موج ڈھانک لیتی ہے تو خالص اعتقاد سے الله ہی کو پکارتے ہیں پھر جب انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف لےآتا ہے تو بعض ان میں سے راہِ راست پر رہتے ہیں اور ہماری نشانیوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بد عہد نا شکر گزار ہیں (سورۃ لقمان،آیت 32)
    چنانچہ قبولیتِ دعا کیلئے اخلاص شرط ہے۔

    3- اللہ تعالی کے اسمائے حسنی کا واسطہ دے کر اللہ سے مانگا جائے، فرمانِ باری تعالی ہے:
    وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِاور اللہ تعالی کے اچھے اچھے نام ہیں، انہی کے واسطے سے اللہ کو پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اللہ کے ناموں سے متعلق الحاد کا شکار ہیں۔ [الأعراف : 180]

    4- دعا کرنے سے پہلے اللہ تعالی کی شایانِ شان حمد و ثنا کی جائے۔ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ بیٹھے ہوئے تھے، کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نماز پڑھی [پھر اسی دوران دعا کرتے ہوئے]کہا: "یا اللہ! مجھے معاف کر دے، اور مجھ پر رحم فرما” تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اے نمازی! تم نے جلد بازی سے کام لیا، جب تم نماز میں [تشہد کیلئے ]بیٹھو، تو پہلے اللہ کی شان کے مطابق حمد و ثنا بیان کرو، پھر مجھ پر درود پڑھو، اور پھر اللہ سے مانگو)۔
    (ترمذی: 3476)
    ترمذی کی ہی ایک اور روایت میں ہے کہ: (جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو [تشہد میں] سب سے پہلے اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے، اور اس کے بعد جو دل میں آئے مانگ لے) راوی کہتے ہیں: "اس کے بعد ایک اور شخص نے نماز پڑھی، تو اس نے اللہ کی حمد بیان کی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: (اے نمازی! اب دعا مانگ لو، تمہاری دعا قبول ہوگی)”
    ترمذی 3477 اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے "صحیح ترمذی” (2765 ، 2767) میں صحیح کہا ہے۔

    5- نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جائے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: (ہر دعا شرفِ قبولیت سے محروم رہتی ہے، جب تک اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھا جائے)
    طبرانی نے "الأوسط” (1/220) میں روایت کیا ہے، اور شیخ البانی نے اسے "صحیح الجامع” (4399) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

    6- قبلہ رخ ہو کر دعا کرنا
    چنانچہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب غزوہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی تعداد کو دیکھا کہ ان کی تعداد ایک ہزار ہے، اور آپ کے جانثار صحابہ کرام کی تعداد 319 ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ ہو کر دعا مانگنا شروع کی آپ نے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے اور اپنے رب سے گڑگڑا کر مانگنے لگے: (اَللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي ، اَللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي ، اَللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الإِسْلامِ لا تُعْبَدْ فِي الأَرْضِ)[یعنی: یا اللہ! مجھ سے کیا ہوا وعدہ پورا فرما، یا اللہ! مجھے دیا ہوا عہد و پیمان مکمل فرما، یا اللہ اگر تو نے تھوڑے سے مسلمانوں کا خاتمہ کر دیا تو زمین پر کوئی عبادت کرنے والا نہ ہوگا] آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ہاتھوں کو اٹھائے اپنے رب سے گڑگڑا کر دعائیں کرتے رہے، حتی کہ آپکی چادر کندھوں سے گر گئی۔۔۔ ( مسلم: 1763)

    نووی رحمہ اللہ شرح مسلم میں کہتے ہیں:
    "اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونا ، اور ہاتھوں کو اٹھانا مستحب ہے”

    7- ہاتھوں کو اٹھا کر دعا کرنا
    سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بیشک تمہارا پروردگار انتہائی باحیا اور سخی ہے، ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے والے اپنے بندے کے ہاتھوں کو خالی لوٹاتے ہوئے اسی حیا آتی ہے۔ (ابو داود: 1488)
    اس حدیث کو شیخ البانی نے "صحیح ابو داود”: (1320) میں صحیح کہا ہے۔

    دعا میں ہاتھ اٹھانے کیلئے ہتھیلی کی اندرونی جانب آسمان کی طرف ہوگی، جیسے کسی سے کچھ لینے کا منتظر فقیر اور لاچار شخص اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر رکھتا ہے
    مالک بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب تم اللہ تعالی سے مانگو تو اپنی ہتھیلی کے اندرونی حصے سے مانگو، ہتھیلی کی پشت سے مت مانگو)
    (ابو داود: 1486)
    اس حدیث کو شیخ البانی نے "صحیح ابو داود”: (1318) میں صحیح کہا ہے۔

    8- اللہ تعالی کے بارے میں قبولیت کا مکمل یقین ہو اور صدق دل سے دعا مانگے
    فرمان رسول ہے: (اللہ سے مانگو تو قبولیت کے یقین سے مانگو، یہ یاد رکھو! اللہ تعالی کسی غافل اور لا پرواہ دل کی دعا قبول نہیں فرماتا)
    (ترمذی: 3479) اس حدیث کو شیخ البانی نے "صحیح ترمذی”: (2766) میں حسن کہا ہے۔

    9- مایوس ہو کر دعا چھوڑنا درست نہیں،
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جب تک کوئی بندہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے، بشرطیکہ کہ جلد بازی نہ کرے) کہا گیا: "جلد بازی سے کیا مراد ہے؟” تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (انسان یہ کہے: دعائیں تو بہت کی ہیں، پر مجھے لگتا ہے کہ میری دعائیں قبول نہیں کی جائیں گی، اوراس پر مایوس ہو کر دعا کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے)
    بخاری(6340) مسلم (2735)

    10- دعا پختہ عزم سے ہو،
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (تم میں سے کوئی یہ نہ کہے : "یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما” بلکہ دعا مانگتے ہوئے پورے عزم کیساتھ مانگے، کیونکہ اللہ تعالی کو کوئی مجبور نہیں کر سکتا)
    بخاری(6339) مسلم (2679)

    11- عاجزی ، انکساری، اللہ کی رحمت کی امید اور اللہ سے ڈرتے ہوئے دعا مانگے، فرمانِ باری تعالی ہے:
    ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ترجمہ: اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے سے پکارو[الأعراف : 55]

    اسی طرح فرمایا:
    إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ
    ترجمہ: بیشک وہ نیکیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور ہمیں امید و خوف کیساتھ پکارتے تھے، اور وہ ہم سے ڈرتے بھی تھے۔[الأنبياء : 90]

    اسی طرح فرمایا:
    وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ
    ترجمہ: اور اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی اور خوف سے صبح و شام یاد کریں اور بلند آواز کے بغیر بھی اور غافلوں سے نہ ہو جائیں۔ [الأعراف : 205]

    12- تین ، تین بار دعا کرنا، بخاری (240) مسلم (1794) میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : ” رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز ادا کر رہے تھے، وہیں پر ابو جہل اپنے ساتھیوں کیساتھ بیٹھا تھا، [قریب ہی ]گزشتہ شام اونٹ بھی نحر کیے گئے تھے، تو ابو جہل نے کہا: "کون ہے جو فلاں قبیلے والوں کے اونٹوں کی اوجھڑی اٹھا کر جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جائے تو اس کی کمر پر رکھ دے” یہ سن کر ایک بد بخت اٹھا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو اوجھڑی کو دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا ، پھر سب اوباش ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگے، لیکن میں کھرا دیکھتا ہی رہ گیا، اگر میرے کنبے والے میرے ساتھ ہوتے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر مبارک سے اسے ہٹا دیتا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح سجدے کی حالت میں پڑے رہے، یہاں تک کہ ایک شخص نے جا کر فاطمہ کو بتلایا، تو وہ دوڑتی ہوئی آئیں، حالانکہ آپ بالکل چھوٹی عمر کی تھیں، پھر بھی آپ نے اوجھڑی کو ہٹایا، اور پھر اوباشوں کو برا بھلا کہنے لگیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی تو بلند آواز سے ان کے خلاف بد دعا فرمائی، -آپ جب مانگتے تو تین ، تین بار مانگتے، اور جب دعا کرتے تو تین ، تین بار کرتے- آپ نے تین بار فرمایا:
    (یا اللہ! قریش پر اپنی پکڑ نازل فرما )، جب اوباشوں نے آپکی آواز سنی تو انکی ہنسی بند ہوگئی، اور آپکی بد دعا سے سہم گئے ، پھر آپ نے فرمایا: (یا اللہ! ابو جہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عقبہ، امیہ بن خلف، اور عقبہ بن ابی معیط پر اپنی پکڑ نازل فرما-آپ نے ساتویں کا نام بھی لیا لیکن مجھے اب یاد نہیں ہے- قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، جن لوگوں کے نام آپ نے لیے تھے وہ سب کے سب بدر کے دن قتل ہوئے، اور پھر ان سب کو بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا)”

    13- حلال کھانے پینے کا اہتمام کرنا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    (لوگو! اللہ تعالی پاکیزہ ہے، اور پاکیزہ ہی قبول فرماتا ہے، اور اللہ تعالی نے مؤمنین کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو دیا، چنانچہ فرمایا: يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ اے رسولو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ، اور نیک عمل کرو، بیشک تم جو بھی عمل کرتے ہو میں اسے جانتا ہوں۔[المؤمنون : 51] اور مؤمنین کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْاے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں تمہیں دی ہیں ان میں سے کھاؤ [البقرة : 172] پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا تذکرہ فرمایا، جو لمبے سفر میں پراگندہ حالت کیساتھ دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے یا رب! یا رب! کی صدائیں بلند کرتا ہے، حالانکہ اس کا کھانا حرام کا، پینا حرام کا، لباس حرام کا، اسکی پرورش حرام پر ہوئی، تو اس کی دعائیں کیونکر قبول ہوں!؟)
    (مسلم 1015)
    ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "اس سے معلوم ہوا کہ حلال کھانا پینا، پہننا، اور حلال پر نشو و نما پانا قبولیتِ دعا کا موجب ہے”

    14- اپنی دعاؤں کو مخفی رکھنا، جہری طور پر دعا نہ کرنا، فرمانِ باری تعالی ہے: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ترجمہ: اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے سے پکارو[الأعراف : 55]، نیز اللہ تعالی نے اپنے بندے زکریا علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: إِذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا جب انہوں نے اپنے رب کو مخفی انداز میں پکارا ۔
    [مريم : 3]
    ان امور کا لحاظ کر کے دعا کی جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ بارگاہ خداوندی میں ضرور قبول ہو گی اور ثمر بار ہو گی۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔
    ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
    اللہ تعالیٰ کے کرم اور جود و سخا کی کو انتہا نہیں ہے، بس ہمیں مانگنا آنا چاہیے بیشک اللہ تعالیٰ عطا کے دریا بہا دیتا ہے۔

  • مکالمہ,,,,!  از:نساء بھٹی

    مکالمہ,,,,! از:نساء بھٹی

    نساء بھٹی
    مکالمہ,,,,!
    آدم تو ہے مٹی
    یہ ہے حقیر سمجھ لے
    ابلیس میرا نام ہے شعلوں سے بنا ہوں!
    میں اس سے ہوں بہتر کہ ہوں آگ کا پیکر
    یہ سر میرا اس کے کبھی آگے نہ جھکے گا
    ہوّں اس سے فروتر , تو میں افضل ہی رہوں گا.
    پھر رب نے کہا!
    "جا میری جنت سے نکل جا
    پھٹکار ہے تجھ پر
    یہاں تو اب نہ رہے گا”
    کہنے لگا تو رب ہے ذرا بات میری مان
    دے مجھ کو ذرا مہلت کے لے آدم مجھے پہچان.
    میں اس کی ذریت کو بہکا کہ رہوں گا,
    فی نار جہنم انہیں پہنچا کہ دم لوں گا.
    آسان ہدف میرا یہ تیرے بشر ہوں گے
    پھر ساتھ میرے حشر میں یک صف کھڑے ہوں گے
    یوں خوشنما کر دوں گا میں اپنا ہر ہرچنگل
    کہ کرتے رہیں گے یہ آپس ہی میں دنگل
    آئی یہ ندا!
    جا تجھے مہلت ہے حشر تک
    جو تیرا ارادہ ہے جا , پورا ذرا کر,
    مخلص میرے بندوں کو تو بہکا نہ سکے گا.جو تیرا ارادہ ہے کبھی کر نہ سکے گا.
    جو تیری سنے گا,وہ ہوگا میرا کافر
    جو کفر کرے گا وہی ہوگا تیرا ہم سر
    تم سب کے لئے ہوگا جہنم کا یہی گھر.
    روؤ گے وہاں چیخو گے فریاد کرو گے
    "پھر عمر رواں دے دے گناہ اب نہ کریں گے”
    شعلوں میں گھرو گے,پیو گے جام حمیم
    نہ پاؤ گے بلکل مجھے اس روز تم رحیم
    تو آج بھی لعین ہے اس روز بھی ہوگا
    مردود ہے مردود ہے مردود رہے گا…

  • کورونا پابندیوں کی وجہ سے بھارتی فوج کشمیریوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہے مبشر لقمان نے پردہ فاش کر دیا

    کورونا پابندیوں کی وجہ سے بھارتی فوج کشمیریوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہے مبشر لقمان نے پردہ فاش کر دیا

    بھارتی فوج کے مظالم رمضان المبارک میں بھی نہ رک سکے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے

    باغی ٹی وی : بھارتی فوج کے مظالم رمضان المبارک میں بھی نہ رک سکے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے ایک طرف کورونا کا خوف تو دوسری طرف بھارتی فوج کا کشمیریوں پر ظلم و ستم جا ری ہے بھارتی فوج کا ظلمو ستم اس قدر بڑھ چکا ہے کہ کورونا پابندیوں کی وجہ سے بھارتی فوج نہتے اور مظلوم کشمیریوں کو ہلاک کر رہی ہے اور ہلاک ہونے والے کشمیریوں کی لاشیں ان کے ورثاء کے علم میں لائے بغیر دفن کر ہی ہے


    سئینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اس بھارتی فوج کی اس ظلم اور بربریت پر آواز اٹھاتے ہوئے لکھا کہ کورونا پابندیوں کی وجہ سے ، ہندوستانی فوج زیادہ سے زیادہ اضافی ہلاکتیں کر رہی ہے اور ہلاک ہونے والے لوگوں کوان کے اہل خانہ کو بتائے بغیر دفن کررہی ہے

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ برس ماہ اگست سے کرفیو نافذ ہے جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثت کا خاتمہ کیا تھا تاہم اب کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن مزید سخت کیا گیا ہے،بھارتی پولیس نے متعدد صحافیوں کو بھی حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی اور کام کرنے سے روک دیا ہے جبکہ چند روز قبل بھارتی فوج نے خاتون صحافی سمیت 3 صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرکے انہیں گرفتار کیا تھا

  • ہائیپوکسیاء بیماری کی قرآن مجید میں نشانیاں : بقلم سلطان سکندر!!!!

    ہائیپوکسیاء بیماری کی قرآن مجید میں نشانیاں : بقلم سلطان سکندر!!!!

    ہائیپوکسیاء بیماری کی قرآن مجید میں نشانیاں

    فضاء کی اونچائی پر آکسیجن کی موجودگی کم ہوتی ہے۔ جب آکسیجن کی سطح پھیپھڑوں میں خون کی نالیوں(بلڈ ویسلز) کو گراتی ہے تو:👇
    Hypoxic pulmonary vasoconstriction (HPV),
    جو
    Euler-Liljestrand mechanism
    کے طور پر بھی جانا جاتا ہے, ایک جسمانی رجحان ہے جس میں
    alveolar hypoxia (آکسیجن کی کمی)
    کی موجودگی کی وجہ سے پلمونری آرٹریز (پھیپھڑوں کی نَسّیں) سکڑ جاتی ہیں,

    یعنی جب آکسیجن کی سطح کم ہوتی ہے تو پھیپھڑوں میں موجود بلڈ ویسلز سکڑ جاتی ہیں.
    یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے ساڑھے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں اسکا انکشاف کر دیا گیا تھا.

    Quran: 6/125
    فَمَنْ يُّرِدِ اللّـٰهُ اَنْ يَّـهْدِيَهٝ يَشْرَحْ صَدْرَهٝ لِلْاِسْلَامِ ۖ وَمَنْ يُّرِدْ اَنْ يُّضِلَّـهٝ يَجْعَلْ صَدْرَهٝ ضَيِّـقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِى السَّمَآءِ ۚ كَذٰلِكَ يَجْعَلُ اللّـٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ (الانعام 125)

    "سو جسے اللہ چاہتا ہے کہ ہدایت دے تو اس کے سینہ کو اسلام کے قبول کرنے کے لیے کھول دیتا ہے، اور جس کے متعلق چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کے سینہ کو بے حد تنگ کر دیتا ہے گو کہ وہ آسمان پر چڑھتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر پھٹکار ڈالتا ہے۔”

    یہاں پر "اور جس کے متعلق چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کے سینہ کو بے حد تنگ کر دیتا ہے(سینہ سکڑ جاتا ہے) گو کہ وہ آسمان پر(کی طرف) چڑھتا ہے،”
    ‘آسمان پر چڑھتا ہے’ سے مراد آپ جیسے جیسے آسمان کی طرف جاتے جائیں گے یعنی اونچی سطح پر جاتے جائیں گے تو آکسیجن کی کمی ہوتی جائے گی.

    اور ہم جانتے ہیں کہ یہ سکڑاؤ کیوں ہوتا ہے؟, آکسیجن کی کمی کی وجہ سے, قرآن میں کوئی غلط بات نہیں لکھی ہوئی.

    آج سے ساڑھے 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ اونچائی پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کیا چیز سکڑ سکتی ہے؟(جیسا کہ پھیپھڑوں کی نسیں وغیرہ)
    آگے چلیں, اسے واضح کرتے ہیں,

    آکسیجن کی کمی کی ایک عام نشانی یہ ہے کہ آپکی جلد نیلی پڑ جاتی ہے.

    Cyanosis (سائنوسِس)
    جلد کی نیلی یا پرپل رنگ کی رنگت ہے یا میوکس ممبرینز ہیں,
    جب جلد کی سطح کے پاس والے ٹشوز میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے تو جلد یہ رنگ اختیار کر لیتی ہے,
    سائنوسِس کا لفظی معنی نیلی بیماری یا نیلی حالت ہے, یہ سیان رنگ سے اخذ کیا گیا ہے جو ایک یونانی لفظ سیانوس سے نکلا ہے.

    آکسیجن کی کمی آپکی جِلد کو نیلا کر دیتی ہے. یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں درج کر دیا گیا تھا کہ قیامت کے دن نافرمانوں کی جلد نیلی پڑ جائے گی.

    Quran: 20/102
    يَوْمَ يُنْفَخُ فِى الصُّوْرِ ۚ وَنَحْشُـرُ الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَئِذٍ زُرْقًا (طہٰ 102)
    "اور جس دن صُور پھونکا جائے گا, اور ہم اس دن مجرموں کو نیلا کر کے جمع کر دیں گے.”

    مجرموں کا رنگ نیلا پڑ جائے گا, آج ہم جانتے ہیں کہ یہ نیلا کیوں پڑتا ہے, آکسیجن کی کمی کی وجہ سے جو کہ ایک عام وجہ ہے.

    Hypoxia
    کی ایک اور کم معلوم وجہ موٹر (دماغ کے) فنکشنز(افعال) کے ساتھ مسئلہ ہونا ہے.

    Brain hypoxia (دماغی ہائپوکسیا)
    بھی ہائپوکسیا کی ایک قسم ہے یا دماغ پر اثر انداز آکسیجن کی کمی ہے. یہ تب ہوتا ہے جب دماغ خون کے بہاؤ کے باوجود آکسیجن کی مطلوبہ مقدار وصول نہیں کر رہا ہوتا اور جب آکسیجن کی سپلائی مکمل بند ہوجاتی ہے تو اس حالت کو دماغی ہائپوکسیا کہتے ہیں.
    دماغی ہائپوکسیا ایک طبی ہنگامی حالت ہے جسکا علاج بروقت ہنگامی حالت میں کیا جاتا ہے کیونکہ دماغ کو اپنے فنکشنز صحیح طریقے سے چلانے کیلئے آکسیجن کی مسلسل سپلائی اور نیوٹرینٹس کی ضرورت ہوتی ہے.
    دماغی ہائپوکسیا کی کئی وجوہات ہوتی ہیں.
    ان میں ڈوبنا ، دم گھٹنا ، دل کی دھڑکن رکنا اور اسٹروک(دماغی سیلز کا مرنا) شامل ہیں۔
    ہلکی علامات میں سے حافظہ کھو بیٹھنا اور دماغی فنکشنز کے ساتھ مسئلہ ہونا ہے جیسا کہ نقل و حرکت میں رکاوٹ آجانا.
    سنگین حالات میں دوریں پڑنا اور دماغ کی موت ہونا شامل ہے.

    موٹر(دماغی) فنکشنز کے ساتھ مسئلہ ہونا ہائپوکسیا کی ہلکی علامات میں سے ایک ہے,
    یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی یہ کتاب میں درج کر دیا گیا تھا کہ قیامت کے دن مجرموں کے دماغی افعال مسئلہ کرنا شروع کر دیں گے.

    Quran: 75/29
    وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ (القیامہ 29)
    "اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جائے گی”

    ٹانگ دوسری ٹانگ سے لپٹ جائے گی, آج ہم جانتے ہیں کہ یہ خرابی موٹر فنکشن کے صحیح کام نہ کرنے کی وجہ سے ہے, یہ ہائپوکسیا کی ایک علامت ہے.

    قرآن کی ایک اور آیت بتاتی ہے کہ مجرم لوگ اس دن چکرانے یا نشے کی حالت میں ہوں گے.

    Quran: 75/2
    يَوْمَ تَـرَوْنَـهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَـمْلٍ حَـمْلَـهَا وَتَـرَى النَّاسَ سُكَارٰى وَمَا هُـمْ بِسُكَارٰى وَلٰكِنَّ عَذَابَ اللّـٰهِ شَدِيْدٌ (الحج 2)
    "جس دن (تم) اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال(گرا) دے گی اور تجھے لوگ مدہوش(نشے میں) نظر آئیں گے اور وہ مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی اتنا سخت ہوگا۔”

    مدہوش ہونا نشے کی ایک علامت ہے لیکن یہ ہائپوکسیا کی بھی ایک علامت ہے. تو وہ ایسے نظر آئیں گے جیسے نشے میں ہیں جبکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے. آج ہم جانتے ہیں کہ کیوں, کیونکہ یہ آکسیجن کی کمی کی ایک علامت ہے.

    آکسیجن کی کمی عارضی طور پر اندھا پن کی بھی وجہ بنتی ہے.
    Cortical blindness(کارٹیکل بلائنڈنیس)
    ایک دماغی بیماری کا نام ہے.
    دماغ کا ایک حصہ جسے
    Brain’s occipital cortex
    کہتے ہیں, اس میں خرابی کی صورت میں ایک عام نظر آنے والی آنکھ کی تھوڑی سی بینائی یا ساری بینائی چلی جاتی ہے جسے کارٹیکل بلائنڈنیس کہتے ہیں.
    کارٹیکل بلائنڈنیس کی بیماری پیدائشی بھی ہوسکتی ہے اور بعد میں بھی اور بعض صورتوں میں یہ عارضی طور پر بھی ہوسکتی ہے
    کارٹیکل بلائنڈنیس کی ایک عام وجہ ischemia (آکسیجن کی کمی) ہے. جو کہ آکسیپیٹل لوبز میں دماغ کی بیرونی آرٹیریز میں بلاکیج کی وجہ سے ہوتی ہے.

    آکسیجن کی کمی عارضی طور پر اندھا پن کی بھی وجہ بنتی ہے, یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے یہ کتاب میں موجود تھا کہ

    Quran: 20/124
    وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِىْ فَاِنَّ لَـهٝ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُـرُهٝ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اَعْمٰى (124)

    اور جو میرے ذکر سے منہ پھیرے گا تو اس کی زندگی بھی تنگ ہوگی اور اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے۔

    قیات کے دن مجرم اندھے کر دیے جائیں گے, ہم جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے, یہ آکسیجن کی کمی کی ایک علامت ہے.

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے ہی ہائپوکسیا کی علامات کے بارے میں کیسے اتنا سب کچھ جان سکتا ہے؟؟؟؟

    قرآن میں آکسیجن کی کمی کی وجہ دم گھٹنا ہے.

    Quran: 14/16-17
    مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّـمُ وَيُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِيْدٍ (ابراہیم 16)
    اور اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔

    يَتَجَرَّعُهٝ وَلَا يَكَادُ يُسِيْغُهٝ وَيَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّمَا هُوَ بِمَيِّتٍ ۖ وَمِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ (ابراہیم 17)
    جسے گھونٹ گھونٹ کر پیے گا اور اسے گلے سے نہ اتار سکے گا اور اس پر ہر طرف سے موت آئے گی اور وہ نہیں مرے گا، اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا۔

    "گھونٹ گھونٹ کر پیے گا” مطلب اسکے گلے کے ساتھ یہ مسئلہ ہوگا. اسکا مطلب اس ہائپوکسیا کی وجہ دم گھٹنا ہے یا گلے کا گھٹنا ہے.

    گلے کی یہ بیماری کانٹوں کی وجہ سے ہوتی ہے.
    Quran: 88/6
    لَّيْسَ لَـهُـمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْـعٍ (6)

    "ان کے لیے کوئی کھانا سوائے کانٹے دار جھاڑی کے نہ ہوگا۔”

    وہ کانٹے دار جھاڑیوں کے ساتھ اپنا گلا گھونٹیں گے اور ہائیپوکسیا کی تمام علامات دکھائیں گے.

    سوال تو یہ بنتا ہے کہ
    ساڑھے 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص گلا گھٹنے کی علامات کیسے جان سکتا ہے؟؟؟

    یہ باتیں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن کسی انسان کا لکھا گیا نہیں بلکہ ایک ایسی طاقتور اور علم سے بھری ہوئی ذات کی طرف سے لکھا گیا ہے جو ہر چیز کی ہر باریکی سے مکمل طور پر واقف ہے.

    بقلم سلطان سکندر!!!!

  • رمضان کیسے گزاریں؟  از: سید عتیق الرحمن 

    رمضان کیسے گزاریں؟ از: سید عتیق الرحمن 

    رمضان کیسے گزاریں؟
    سید عتیق الرحمن 
    حضرتِ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ ”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے“(صحیح بخاری)  رمضان المبارک ایک ایسا مقدس مہینہ جو کہ رحمتوں، برکتوں اور انعامات سے بھرا ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے12 مہینے بنائے ایک کو دوسرے پر فضیلت بخشی، ہر مہینے کو عظیم سے عظیم انعامات دیکر بھیجا۔مگر رمضان المبارک کا ماہ مقدس ایسا ہے جس میں ربِّ ذولجلال نے کسی خاص انعام کا ذکر نہیں کیا بلکہ آسمان کے تمام دروازے کھول کر ثابت کردیا کہ یہ مہینہ برکتیں ہی برکتیں سمیٹے ہوئے ہے۔

    اب غور طلب بات یہ کہ کیا محض دروازہ کھل جانا ہی اس امر کی دلیل ہے کہ آپ داخل ہوگے۔بھلے ہی آپ حرکت نہ کریں دروازے کی جانب نہ لپکیں، آپ سمجھیں گے کہ داخل ہوگئے۔ایسا نہیں ہے۔دروازے کا کُھل جانا ایک موقع مل جانے کے مترادف ہے اب ہم پر ہے کہ ہم اس موقعے سے کس قدر فائدہ اٹھا کر اندر داخل ہوسکتے ہیں۔

    تو ہمیں کرنا کیا ہے؟  اللہ کی ذات نے فرمایا کہ”اے ایمان والو! روزے تم پر فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض ہوئے تاکہ تم پرہیز گار بن جاو“ سوال یہ ہے کہ کیا نماز پرہیز گار نہیں بناتی، حج پرہیز گار نہیں کرتا، زکوٰۃ پرہیز گار نہیں بناتی، دیگر عبادات پرہیز گاری کی ضامن نہیں ہیں؟؟  تو بات دراصل یہ ہے کہ روزہ درحقیقت ان تمام عبادات کا مجموعہ ہے اسلیے فرمایا گیا تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ، کیسے؟  ایسے کہ جب انسان حالتِ روزہ میں ہوتا ہے وہ کھانے، پینے سے رک جاتا ہے کیوں؟ اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے۔اور اللہ کے حکم کی تعمیل ہی دراصل تقویٰ ہے۔نماز ہم پڑھتے ہیں کہ فرض ہے۔زکوٰۃ دیتے ہیں کہ فرض ہے نہ ادا کی تو مال حرام ہو گا۔حج ادا کرتے ہیں کبھی بخشش طلب کرنے کے لیے کبھی زیارت کی غرض سے۔

    روزہ وہ واحدعبادت ہے جو محض اللہ کے حکم کی تعمیل ہے اور اس دوران جن امور سے اجتناب کرتے ہیں وہ فقط اللہ کے حکم کی تعمیل کے لیے کیا جاتا ہے۔تقویٰ سے مراد یہ کہ انسان ”منہیات“ سے تو پرہیز کرتا ہی ہے اسکے ساتھ ساتھ مشتبہات سے بھی بچنے کی کوشش کرتا ہے۔روزے کی حالت میں بھی بالکل اسی طرح روزہ دار ہر اس عمل سے اس چیز سے بچنے کی کوشش کرتا ہے جو اسکے روزہ کو خراب کرے۔تو ثابت ہوا کہ روزے اسلیے فرض کیے گئے تاکہ ہم پرہیز گار بن جائیں۔

    اب ہمارا نقطہ یہ تھا کہ جنت کے دروازے کھول دیے گ?ے تو ہمیں داخل کیسے ہونا ہے؟ہم نے قیام و سجود کو، سحر و افطار کو، صدقات و خیرات کو، حرکت کا وسیلہ بنا کر جھوٹ، غیبت، چغلی، چوری اور اس جیسی دیگر آلائشوں کے کانٹوں کو اپنی راہ سے چن کر رستے کو صاف کر کے اس دروازے کی جانب بڑھنا ہے۔اور پھر اللہ کے احکام بجا لاتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچنا ہے یوں ہم نے اس موقعے کا فائدہ اٹھا کر خوش نصیبی کو اپنا مقدر بنانا ہے۔

    اس ماہِ مقدس کا استقبال کیجیے۔خود کو عبادات کے لیے تیار کر کے، روزہ کے لیے عزمِ مصمم کر کے، ضرورتمندوں طعام کا حسبِ استطاعت انتظام کر کے، اپنے گھروں کو اس ماہِ مقدس کی آمد کی خوشی میں امن و سلامتی کا گہوارہ بنا کر۔اب سوال یہ کہ ہم روزہ کس حالت میں قضا کر سکتے ہیں اس فرض کی چھوٹ کن صورتوں میں ہے؟تو فرمایا(یہ) گنتی کے چند دن  (ہیں)،  پس اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں  (کے روزوں)  سے گنتی پوری کر لے،  اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو ان کے ذمے ایک مسکین کے کھانے کا بدلہ ہے،  پھر جو کوئی اپنی خوشی سے (زیادہ)  نیکی کرے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے،  اور تمہارا روزہ رکھ لینا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم سمجھ سکو۔(ترجمہ آیات) تو اس میں حکم دیا گیا کہ کن حالات میں تم اس فرض کی قضا کرسکتے ہو۔

    یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ دین اسلام آسان دین ہے اور اللہ اپنے بندوں پر بے جا ظلم نہیں کرتا۔ویسے تو روزے کے فضائل اور اسکی اہمیت بے شمار کے اسے احاطہ تحریر میں لانا ناممکن ہے کیونکہ اللہ کی ذات فرماتی ہے کہ ”روزہ میرے لیے ہے اسکا اجر بھی میں دونگا تو پھر سوچیے جس چیزکا اجر واضح الفاظ میں اللہ نے اپنے ذمہ لے لیا اسے بیان نہیں کیا اسے احاطہ تحریر میں لانا کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اسکی اہمیت وفضیلت کی ایک جھلک دیکھیے۔حضرتِ موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ سے کلام کرتے ہوئے پوچھا کہ”اے اللہ کوئی ایسا بھی ہے کوئی مجھ سے زیادہ تیرے قریب ہو؟“  تو اللہ کی ذات نے فرمایا کہ ”اے موسیٰ!ایک ایسی امت آئے گی ایک مہینہ ایسا ہوگا جسمیں انکے حلق خشک ہونگے، لب سوکھے ہونگے آنکھیں تھکی ہونگی جب وہ افطار کے لیے بیٹھیں گے اسوقت جب ہاتھ اٹھائیں گے تو میں انکے اتنا قریب ہونگا کہ کوئی پردہ حلال نہیں ہوگا۔آئیے ہم سب کوشش کرتے ہیں کہ رمضان المبارک کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔اللہ پاک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

  • رمضان کیسے گزاریں؟ —-از—سید عتیق الرحمن 

    رمضان کیسے گزاریں؟ —-از—سید عتیق الرحمن 

    حضرتِ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ ”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے“(صحیح بخاری)  رمضان المبارک ایک ایسا مقدس مہینہ جو کہ رحمتوں، برکتوں اور انعامات سے بھرا ہے۔اللہ تعالیٰ نے12 مہینے بنائے ایک کو دوسرے پر فضیلت بخشی، ہر مہینے کو عظیم سے عظیم انعامات دیکر بھیجا۔مگر رمضان المبارک کا ماہ مقدس ایسا ہے جس میں ربِّ ذولجلال نے کسی خاص انعام کا ذکر نہیں کیا بلکہ آسمان کے تمام دروازے کھول کر ثابت کردیا کہ یہ مہینہ برکتیں ہی برکتیں سمیٹے ہوئے ہے۔

    اب غور طلب بات یہ کہ کیا محض دروازہ کھل جانا ہی اس امر کی دلیل ہے کہ آپ داخل ہوگے۔بھلے ہی آپ حرکت نہ کریں دروازے کی جانب نہ لپکیں، آپ سمجھیں گے کہ داخل ہوگئے۔ایسا نہیں ہے۔دروازے کا کُھل جانا ایک موقع مل جانے کے مترادف ہے اب ہم پر ہے کہ ہم اس موقعے سے کس قدر فائدہ اٹھا کر اندر داخل ہوسکتے ہیں۔ تو ہمیں کرنا کیا ہے؟  اللہ کی ذات نے فرمایا کہ”اے ایمان والو! روزے تم پر فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض ہوئے تاکہ تم پرہیز گار بن جاو“ سوال یہ ہے کہ کیا نماز پرہیز گار نہیں بناتی،

    حج پرہیز گار نہیں کرتا، زکوٰۃ پرہیز گار نہیں بناتی، دیگر عبادات پرہیز گاری کی ضامن نہیں ہیں؟؟  تو بات دراصل یہ ہے کہ روزہ درحقیقت ان تمام عبادات کا مجموعہ ہے اسلیے فرمایا گیا تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ، کیسے؟  ایسے کہ جب انسان حالتِ روزہ میں ہوتا ہے وہ کھانے، پینے سے رک جاتا ہے کیوں؟ اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے۔اور اللہ کے حکم کی تعمیل ہی دراصل تقویٰ ہے۔نماز ہم پڑھتے ہیں کہ فرض ہے۔زکوٰۃ دیتے ہیں کہ فرض ہے نہ ادا کی تو مال حرام ہو گا۔حج ادا کرتے ہیں کبھی بخشش طلب کرنے کے لیے کبھی زیارت کی غرض سے۔روزہ وہ واحدعبادت ہے جو محض اللہ کے حکم کی تعمیل ہے اور اس دوران جن امور سے اجتناب کرتے ہیں وہ فقط اللہ کے حکم کی تعمیل کے لیے کیا جاتا ہے۔

    تقویٰ سے مراد یہ کہ انسان ”منہیات“ سے تو پرہیز کرتا ہی ہے اسکے ساتھ ساتھ مشتبہات سے بھی بچنے کی کوشش کرتا ہے۔روزے کی حالت میں بھی بالکل اسی طرح روزہ دار ہر اس عمل سے اس چیز سے بچنے کی کوشش کرتا ہے جو اسکے روزہ کو خراب کرے۔تو ثابت ہوا کہ روزے اسلیے فرض کیے گئے تاکہ ہم پرہیز گار بن جائیں۔اب ہمارا نقطہ یہ تھا کہ جنت کے دروازے کھول دیے گ?ے تو ہمیں داخل کیسے ہونا ہے؟ہم نے قیام و سجود کو، سحر و افطار کو، صدقات و خیرات کو، حرکت کا وسیلہ بنا کر جھوٹ، غیبت، چغلی، چوری اور اس جیسی دیگر آلائشوں کے کانٹوں کو اپنی راہ سے چن کر رستے کو صاف کر کے اس دروازے کی جانب بڑھنا ہے۔اور پھر اللہ کے احکام بجا لاتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچنا ہے یوں ہم نے اس موقعے کا فائدہ اٹھا کر خوش نصیبی کو اپنا مقدر بنانا ہے۔

    اس ماہِ مقدس کا استقبال کیجیے۔خود کو عبادات کے لیے تیار کر کے، روزہ کے لیے عزمِ مصمم کر کے، ضرورتمندوں طعام کا حسبِ استطاعت انتظام کر کے، اپنے گھروں کو اس ماہِ مقدس کی آمد کی خوشی میں امن و سلامتی کا گہوارہ بنا کر۔اب سوال یہ کہ ہم روزہ کس حالت میں قضا کر سکتے ہیں اس فرض کی چھوٹ کن صورتوں میں ہے؟تو فرمایا(یہ) گنتی کے چند دن  (ہیں)،  پس اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں  (کے روزوں)  سے گنتی پوری کر لے،  اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو ان کے ذمے ایک مسکین کے کھانے کا بدلہ ہے،  پھر جو کوئی اپنی خوشی سے (زیادہ)  نیکی کرے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے،  اور تمہارا روزہ رکھ لینا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم سمجھ سکو۔

    (ترجمہ آیات) تو اس میں حکم دیا گیا کہ کن حالات میں تم اس فرض کی قضا کرسکتے ہو۔یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ دین اسلام آسان دین ہے اور اللہ اپنے بندوں پر بے جا ظلم نہیں کرتا۔ویسے تو روزے کے فضائل اور اسکی اہمیت بے شمار کے اسے احاطہ تحریر میں لانا ناممکن ہے کیونکہ اللہ کی ذات فرماتی ہے کہ ”روزہ میرے لیے ہے اسکا اجر بھی میں دونگا تو پھر سوچیے جس چیزکا اجر واضح الفاظ میں اللہ نے اپنے ذمہ لے لیا اسے بیان نہیں کیا اسے احاطہ تحریر میں لانا کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اسکی اہمیت وفضیلت کی ایک جھلک دیکھیے۔

    حضرتِ موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ سے کلام کرتے ہوئے پوچھا کہ”اے اللہ کوئی ایسا بھی ہے کوئی مجھ سے زیادہ تیرے قریب ہو؟“  تو اللہ کی ذات نے فرمایا کہ ”اے موسیٰ!ایک ایسی امت آئے گی ایک مہینہ ایسا ہوگا جسمیں انکے حلق خشک ہونگے، لب سوکھے ہونگے آنکھیں تھکی ہونگی جب وہ افطار کے لیے بیٹھیں گے اسوقت جب ہاتھ اٹھائیں گے تو میں انکے اتنا قریب ہونگا کہ کوئی پردہ حلال نہیں ہوگا۔آئیے ہم سب کوشش کرتے ہیں کہ رمضان المبارک کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔اللہ پاک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

  • رمضان آگیا,آئیے خود کو بدلیں…تحریر :خنیس الرحمٰن

    رمضان آگیا,آئیے خود کو بدلیں…تحریر :خنیس الرحمٰن

    وہ موقع آن پہنچا ہے جس کا ہر مسلمان کو بے تابی سے انتظار تھا. آپ سمجھ تو گئے ہونگے. وہ برکتوں, سعادتوں اور رحمتوں والا مہینہ…..!
    سحری و افطاری کا اہتمام کرنا .. !
    دن بھر کا بھوکا رہنا….!
    ہر اس کام سے رک جانا جس کا اللہ اور نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا….!
    امر بالمعروف کے لیے اپنی کمر کو کس لینا….!
    قرآن کی کثرت سے تلاوت کرنا…!
    تراویح کا اہتمام کرنا…. !
    رب کے حضور اپنی التجائیں پیش کرنا….!
    صدقات وخیرات کا ادا کرنا….!
    اپنی انا کی قربانی دینا…. !
    تمام ان رشتوں کو پھر سے گلے لگا لینا جن سے گلے شکوے ہوا کرتے تھے….!
    توبہ و استغفار کے لیے اپنے رب کے آگے ہاتھ پھیلانا….!
    بھوکوں اور مستحقین کو روزہ افطار کروانا …!
    دوستوں اور رشتہ داروں کو افطار کرانا…..!
    رمضان المبارک کا محبتوں بھرا مہینہ اللہ پاک بھی پھر اپنے بندے سے خوش ہوجاتے ہیں کہ اللہ کا بندہ اللہ کے احکامات کو کس طرح سے بجالارہا ہے…. اللہ رب العزت اپنے بندے پر انعامات کی بارش برسا دیتا ہے….اللہ کہے گا اے میرے بندے تو نے دن بھر بھوک کے ساتھ میری خاطر گزارا جا میں تجھ سے جنت کا وعدہ کرتا ہوں… اے میرے بندے تو نے میری خاطر روزہ رکھا تیرے دل میں دنیا کا لالچ نہیں تا صرف میری رضا مقصود تھی میں تیرے سارے گذشتہ سال کے گناہ معاف کرتا ہوں…. اللہ اپنے بندے سے کہے گا تو نے میری خاطر روزہ رکھا, رات کا قیام کیا, نمازیں ادا کیں , زکوۃ ادا کی جا میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں روز قیامت تجھے صدیقین اور شہداء کے ساتھ کھڑا کروں گا….. اللہ اپنے بندے سے کہے گا تو نے میری خاطر روزہ رکھ کر نہ کسی کی غیبت کی ,نہ جھوٹ بولا, نہ کسی کو زبان سے تکلیف پہنچائی تیرے منہ کی بو میرے ہاں کستوری سے زیادہ پاکیزہ ہے….. اللہ اپنے بندے سے کہے گا تو جو مانگنا چاہتا ہے میں عطاء کروں گا تو مانگ کر تو دیکھ….. !
    آئیے اس سعادت سے محروم نہ رہ جائیں آگے بڑھ کر اپنے رب سے جنت کا سودا کریں….!
    اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کریں….!
    میں اللہ سے دعاگو ہوں کہ مالک سب سے پہلے مجھے اور اس کے بعد آپ سب کو عمل کرنے کی توفیق دے آمین….
    گنہگار ہیں سب…. اللہ ہمیں موقع دے رہا ہے ہم اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اس سے ضائع نہ ہونے دیں….

  • وقت اور  طاقت کے کھیل۔۔۔ نظام تعلیم اور ارتقاء۔۔۔۔۔۔تحریر :محمد راشد

    وقت اور طاقت کے کھیل۔۔۔ نظام تعلیم اور ارتقاء۔۔۔۔۔۔تحریر :محمد راشد

    وقت اور طاقت کے کھیل۔۔۔
    نظام تعلیم اور ارتقاء۔۔۔۔۔۔ تحریر :محمد راشد

    نظریاتی طور پر حاصل کیے گئے ملک میں، 75 سال تک وہ مقاصد نہ حاصل ہوئے، جس کی بنیاد پر ملک لیا گیا۔۔۔آخر کیوں؟؟؟
    دنیا میں رائج class system اور capital کی power سے حکومتیں کر کے "ڈنگ” ٹپانے والے لوگوں نے middle class کو ہمیشہ ذہنی غلام رکھا لیکن یہ بھول گئے کہ ہر چیز کو ارتقاء ہے، اور چیزیں بدلتی رہتی ہیں، انداز بدلتے رہتے ہیں اور satandards بدلتے رہتے ہیں لیکن Nature نہیں بدل سکتی اور نہ بدلی جا سکتی ہے۔۔Kodak کمپنی نے جان بوجھ کے، سٹرپ والے کیمروں کو باقی رکھا، حالانکہ کہ وہ جان گئے تھے کی مقناطیسی طاقت سے Built-in Memory والا کیمرہ بنایا جا سکتا ہے لیکن اپنی اجارہ داری قائم رکھتے ہوئے، جان بوجھ تک ایک سستی اور سہولت کی چیز Market میں نہ لے کے آئی۔ پھر Samsung نے کیمرے والا موبائل Market میں Launch کیا۔۔ Nokia, LG, سے اب OPPO تک، کے موبائل آگئے۔۔۔سوال یہ ہے کہ۔۔۔
    Where is Kodak now???
    اپنی مٹھی میں
    State Appratus (Media, Army, Police, Judiciary, Law & Order Agencies, System of Education)
    کو رکھ کر آخر کب تک، عوام سے کھیلا جائے گا۔۔۔
    ہمارے بچوں کو "حق ، قربانی اور ایثار” کے سبق پڑھائے اور کہا کہ ہم نے مرنا ہے اور حساب کتاب دینا ہے، جبکہ اپنے بچوں کو وہ syllabus پڑھایا کہ جس سے ان کا ذہن بنے کہ انھوں نے Power حاصل کرنی ہے اور states اور Ministries کو چلانا ہے۔۔۔ اور Law and Order بھی تمہاری رکھیل ہو گا۔۔۔
    طاقت کے نشے میں، تم نے اپنے ڈیروں پر اشتہاری، ڈکیت اور شرابی پالے اور جس نے بھی آپکی "حکم عدولی” کی، آپ نے اس کے گھر ڈاکے ڈلوائے اور پھر خود ہمدری اور موقع پرستی کے جزبات لے کر، اس شخص کو غلام بنایا۔۔۔
    "اسلام” کے نام پر ملک حاصل کر کے 1935ء کا انگریز کا بنایا ہو قانون، Little Amendments کے ساتھ لاگو رکھا۔۔ اور عوام کو برادریوں، مسلک، مذہب ، دولت اور class کے نام پر تقسیم کر کے، حکومتیں کیں۔۔۔ سوال یہ ہے کہ یہی "وہ لولی پاپ” تھا کہ انگریز کے کتے نہلانے والے لوگ، جن کے نام تو مسلمانوں والے تھے، انھوں نے حکومت نہ ملنے پر، الگ ملک کا مطالبہ کر دیا۔۔
    اور انگریز آزادی نہیں دے کر گیا بلکہ تقسیم کر کے گیا کیوں وہ کمزور ہو چکا تھا اور اس نے کشمیر کا بیج رکھ دیا کہ یہ ملک آپس میں لڑتے رہیں گے اور ہم ان کے انتقام سے بچ جائیں گے۔۔۔انگریز نے برصغیر میں investmentکر کے فیکٹریاں بنائیں اور روڈ بنا کے روزگار کے مواقع دیے،تب جا کے کامیاب ہوا اور سونے کی چڑیا "برصغیر” کو کوئی ایسے چھوڑ دیتا ہے ۔۔ یہ تو جاپانیوں نے ان کی ایسی تیسی پھیر کے رکھ دی۔۔۔تب وہ کمزور ہو کے گیا۔۔۔۔وہ تو اللہ کا شکر ہے اللہ پاک اس ملک سے اسلام کے حوالے کام لے رہے ہیں۔۔
    اور صد حیف تمہاری سوچ پر کہ تم نے ” اپنی حکومت کے لیے،ملک کے دو ٹکڑے کر دیے” اور اس حصے کو الگ کیا جہاں Pakistan کی founder جماعت مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔۔ڈھاکہ۔۔۔۔”””
    Just Shame on you..
    کہ تم نے تقسیم ہند کے شہداء کے ساتھ غداری کی۔۔۔
    اور پھر ملک میں Political Parties کو مزید فروغ دیا۔۔۔
    پیپلزپارٹی والوں نے MPL (N) اور PML(N) نے پیپلزپارٹی کو گالیاں دے کر ووٹ حاصل کیے۔۔ پھر انھی پارٹیز کے Fail شدہ لوگ، PTI میں تبدیلی کے نام پر پھر حکومتوں میں آئے۔۔۔سوال یہ ہے کہ کیا سوچ بدلی، ضمیر بدلے۔۔یا Power کے حصول کے لیے یہ کیا گیا اور اس میں عوام کو کیا فائدہ ہوا؟؟؟
    میں جانتا ہوں کہ عوام کا شعور کا level بہتر ہوا لیکن آج بھی
    نظام تو انگریز کا برصغیر کو دیا ہوا ہے۔۔۔
    تھانے کا SHO ایم این اے کی مرضی کا۔۔
    پٹواری، ہیلتھ آفیسر، ایجوکیشن آفیسر ، بھی اسی وڈیرے کی مرضی کا۔۔۔
    ۔
    پھر عوام کو مختلف thoughts میں جکڑ دیا۔۔ اب یہ بتائیں کہ
    1۔ ملک پر جو قرضہ ہے،و غریب آدمی کی دال، روٹی اور گھی کی وجہ سے ہے یا تمہاری بیرون ملک سے منگوائی گئی Branded گاڑیوں، چیزوں اور جائیدادوں کی وجہ سے ہے؟
    2۔ سمگلنگ کا مال، محمد عمر کے گھر سے نہیں بلکہ بارڈر سے آتا ہے، منشیات بارڈر سے آتی ہے، کیا Border پر محمد عمر(عام آدمی) کا حکم اور control ہے؟؟
    آخر کب تک تم، یہ سب کرتے رہو گے۔۔۔؟؟؟
    غریب آدمی کا خواب، ایک اچھی نوکری، اور 3 مرلے کے گھر تک ہوتا ہے۔۔اور ہمیں پتہ کہ تم لوگوں کا خواب MNA, سنیٹر اور Ministry سے کم نہیں ہوتا لیکن برائے مہربانی ہمیں مزید بے وقوف نہ بناؤ۔۔۔کہ جن حلقوں سے ووٹ لے کے، تم AC والے room میں بیٹھ جاتے ہو، تمہیں کیا پتہ کہ،محمد عمر کو local وڈیروں نے پھر سے غلام۔بنا لیا۔۔جب local الیکشن ہوئے۔۔۔
    کیا تم اس حلقے میں، ٹوٹی نالی اور سولنگ والی، گلی میں رہ سکتے ہو اور اس سکول میں اپنے بچوں کو پڑھا سکتے ہو، جو تمہارے حلقے میں ہے۔۔؟؟
    سادہ جواب ہے کہ بالکل بھی نہیں۔۔
    لیکن یہ تمہاری ڈرامہ بازیں کب تک رہیں گی؟؟؟ ارتقاء۔۔غیر محسوس طریقے سے آ رہا ہے۔۔۔
    اب ہم جانتے ہیں کہ
    طاقت اور دولت تمہارے پاس ہے، وہ اس لیے کو آپ کا Dream of Life ہے۔۔ اور کب تک تقسیم کے نام پر ووٹ لو گے۔۔
    کب تک نواز شریف اور بھٹو کو گالیاں دے کے، راہ فرار اور Protection بھی خود دو گے؟؟
    کب تک جج کی کرسی پر بیٹھ کر 6 لاکھ تک تنخواہ اور دیگر سہولیات لے کر، یہ کہو کے ہمارے پاس انصاف کرنے کے لیے وسائل نہیں ہیں؟؟
    کب تک یہ کہو گے کہ پچھلے لوٹ گئے اور ہم ٹھیک کر رہے ہیں (حالانکہ لوٹ تم بھی رہے ہوتے ہو اور بعد میں تمہارا کزن دوسری پارٹی سے ایلکٹ ہو کے آتا ہے، اور وہ منسٹری کے دوران تمہیں گالیاں دے کر حکومت کر جاتاہے،اور پھر تم اگلی باری اس کو گالیاں دے کر ووٹ لے جاتے ہو)
    ۔
    اپنے بچوں کوleadership qualities والا syllabus اور business management پڑھائی اور project based اور practical تعلیم دلوائی۔۔ لیکن ہمیں اخلاقیات اور قربانی کے بھاشن دلواتے رہے، علماء اور سکول سے۔۔یہ نہ کہا کہ زندگی میں اخلاقیات کے ساتھ کچھ achieve اور Groom کر کے جاؤ۔۔
    حالانکہ ان بھا شن کی آپ کو ہم سے زیادہ ضرورت تھی کیوں کہ تمہارے ہاتھ کرپشن، اقرباء پروری، ماڈل ٹاؤن اور بلدیہ فیکٹریوں کے مظلوموں کے خون کے واقعات سے رنگے ہیں اور قانون نے تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑا۔۔
    سب پارٹیز کے لوگ ایک دوسرے کے دوست اور رشتہ دار۔۔۔ آخر تم کب تک ہمیں بے وقوف بناؤ گے۔۔؟
    ہم یہ بھی جانتے ہیں کی تم میرے ایک ووٹ کے مقابلے میں، 10 ان پڑھ اور غریب لوگوں کے گھر موقع پر آٹا دے کر، پھر سے Power میں آ جاؤ گے۔۔لیکن ایک نہ ایک دن ان 10غریبوں کے بچے کسی نسل سے ضرور شعور لے کے سنور جائیں گے اور یہ تمہارے کھوکھلے نعروں، ٹائم پاس ملاقاتوں اور الٹی سیدھی terms کے خلاف ضرور Resist کریں گے۔۔۔
    ابھی بھی وقت ہے، اپنے مسلمان اور دینی بھائیوں کے لیے،اپنے حلقوں میں ماڈل سکول بنوا لو۔۔۔جہاں تمہارا اور مزدور کا بچہ اکٹھے بیٹھ کے پڑھے۔۔ورنہ یاد رکھو ہم مسلمان ہیں، قران و حدیث کے ماننے والے اور تمہارے یہ رکھیل مولوی کب تک قرآن و حدیث کے علم سے دور رکھیں گے، حالانکہ کہ ترجمہ کے ساتھ چیزیں موجود ہیں۔۔۔ کب تک وہ بھی صرف فرقے کی کتابیں پڑھاتے اور سناتے رہیں گے ؟
    ہم مسلمان ہیں نہ کہ ہندو کہ تمہیں برہمن اور خود کو اچھوت سمجھ کے تمہاری تابعداری کرتے رہیں گے اور نہ مولویوں کو پنڈت سمجھتے ہیں کہ ان کی ہر بات، آنکھیں بند کر کے مانتے رہیں گے۔۔۔
    ہم امام کائنات، امام اعظم محمد عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے غلام ہیں اور انکی تعلیمات دنیا کے طا غوتی اور class system کا انکار ہے۔۔
    تم 12000 ماہانہ میں میں اپنا گھر، مکان، بچوں کی تعلیم، نکاح اور موٹرسائیکل کا پٹرول manage کر کے دکھا ؤ؟؟
    اللہ کا دیا، انگریز کا دیا رقبہ اور دولت، کرپشن اور بطور MNA, MPA, یا Minister ۔۔ 6لاکھ سے 10 لاکھ تک ماہانہ تنخواہ لیتے ہو۔۔۔ یہ سب کچھ ہے، اگر عوام کی بھلائی کے لیے اپنی جیب سے خرچ کر دو گے تو کیا ہو جائے گا۔۔ آخر یہ سب مال بھی تو غریب لوگوں کے حقوق کے نام پر بناتے ہو۔۔۔
    ۔
    عوام کو چاہیئے کہ وہ یہ مطالبہ رکھیں۔۔کہ
    ہر UC میں ماڈل سکول بنائے جائیں اور یکساں،ٹیکنیکل، Project based study اور Leadership Qualities والا سلیبس ہو۔۔ اور یکساں نظام ہو۔۔ نہ کہ Colonized

  • انسان کے مرنے کے بعد جسم کے آخری مراحل—از—سلطان سکندر

    انسان کے مرنے کے بعد جسم کے آخری مراحل—از—سلطان سکندر

    انسان کے مرنے کے بعد انکے جسم کے آخری مرحلے یعنی ڈی کمپوزیشن کے عمل کو ختم کردینا،

    آثار قدیمہ کے ماہرین نے اٹلی میں ایک پرانے شہر کی باقیات کو دریافت کیا جو سن عیسوی 79 کے ایک آتش فشاں کی وجہ سے تباہ و برباد ہوگیا تھا. اس گرم آتش فشاں اور ملبے نے جلد ہی لوگوں کے جسموں کو سخت ترین کر دیا تھا, وہ منجمد ہوگئے تھے اور ان کے آخری عمل(ڈی کمپوزیشن) کو ختم کردیا.

     

     

     

    مگر 1400 سال پہلے ہی قرآن میں یہ درج تھا کہ اللہ جہنم میں کافروں کی حرکت بند کردے گا، وہ حرکت نہیں کر سکیں گے، گلے سڑیں گے نہیں، منجمد ہوجائیں گے

     

    Quran 36:67
    وَلَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنَاهُـمْ عَلٰى مَكَانَتِـهِـمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِيًّا وَّلَا يَرْجِعُوْنَ (67)

    اور اگر ہم چاہیں تو ان کی صورتیں ان جگہوں پر مسخ/منجمد کر دیں پس نہ وہ آگے چل سکیں اور نہ ہی واپس لوٹ سکیں۔

    خدا کافروں کو جہنم میں منجمد کر سکتا ہے، انکی حرکت کو ختم کر سکتا ہے. آج ہم جانتے ہیں کہ پومپئی کے لوگ آتش فشاں کی وجہ سے اپنے آخری عمل میں منجمد ہوگئے تھے(جیسا کے تصاویر میں دکھایا گیا ہے)

    یہ سارا عمل اسی طرح ہے جو قرآن میں جہنم میں ہونے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے.

     

    سوال تو یہ بنتا ہے کہ
    1400 سال پہلے رہنے والا ایک غیر معمولی شخص کس طرح جان سکتا ہے کہ لوگوں کو ان کے آخری عمل میں منجمد کیا جا سکتا ہے؟

     

     

    انسان کے مرنے کے بعد جسم کے آخری مراحل

    تحریر :

     

    سلطان سکندر!!!