Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا،   تحریر: ساجدہ بٹ

    تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا، تحریر: ساجدہ بٹ

    میں تیرے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا

    تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا

    تحریر: ساجدہ بٹ

    اے زندگی گِلہ کس سے کریں؟ہر طرف اُٹھتا ہوا ظلم کا دھواں معصوم لوگوں کی آہیں ہمیں چین نہیں لینے دیتیں ۔ ہر طرف بڑھتے ہوئے دشمنوں کے ہاتھ ہمیں لمحہ بہ لمحہ توڑتے چلے جا رہے ہیں۔نت نئے دشمنوں کے مسلمانوں کو گرانے کے ارادے روز با روز سامنے آ رہے ہیں۔
    کبھی کشمیر کے مسلمانوں کو اُن کے وطن سے نکالنے کے نت نئے پلان ہوئے کبھی شام فلسطین کے مسلمانوں کا خون بہایا۔پھر عورت مارچ کا شور مچا اور افسوس کے عورت خود اپنی ذات کی دشمن بننے لگی۔۔۔۔
    اور دشمنوں کی ایک اور سازش مسلم قوم میں۔۔
    میرا جِسم میری مرضی
    کے نام سے اٹھنے لگی
    اور عورت ہر قسم کی آزادی کے باوجود ایک اور آزادی کا گناہ اپنے نام کرنے لگی۔۔
    اے میرے پروردگار ہم سے کہاں بھول ہو گئی اتنے گناہوں کے بوجھ تلے دبتے تلے جا رہے ہیں اٹھنے کی طاقت نہیں رہی۔۔
    میرے رحمن و رحیم مولا ہمیں مشکلوں سے نجات دے۔
    یقینا جو قومیں اپنی تاریخ کو بھلا دیا کرتی ہیں اُن کا انجام ایسا ہی ہوا کرتا ہے ۔
    افسوس صد افسوس کہ ہم نے تاریخ ہی کیا دین اسلام کو بھی بھی بھلا دیا۔۔۔۔
    ہم نے جیسے ہی اپنے دین سے دوری اختیار کی تو کافروں نے ہمیں اپنے گھیرے میں لے لیا اور آہستہ آہستہ یہ گھیرا ھم پے تنگ کرنے لگے اور ہم ایسے گُناہوں میں مست ہیں کہ کان میں جوں تک نہیں رینگتی۔۔
    اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تعلیمات سے بے بہرہ ہوتے چلے جا رہے ہیں اور کُچھ جانتے ہوئے بھی انجانے بنتے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمیں زندگی گزارنے کے لیے مکمل ضابطہ حیات ہمارے ہاتھوں میں تھما دیا گیا کہ لیکن ہم پھر وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔
    سیرت کی بہترین کتاب قرآن مجید ہے اور قرآن مجید کی سب سے عمدہ تفسیر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔
    جو قرآن نے کہا آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کر دکھایا۔جس نے قرآن کی صحیح ترین تفسیر پڑھنا ہو قرآن کو جیتا جاگتا دیکھنا ہو اس کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پڑھے۔
    جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاہئے وہ قرآن پڑھے آپ کی سب سے سچی اور خوبصورت تصویر جو لفظوں میں کھینچی گئی وہ اللہ کی کتاب میں ملے گی۔

    خراج عقیدت ادا کرنے والو خراج عقیدت سے کیا کام ہو گا

    یہی ہے زبانی محبت کا عالم تو دین ھدی اور بدنام ہو گا

    ہم زبانی کلامی اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جھوٹے محبت کے دعوے کرتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ انسان جس سے محبت کرتا ہے اُس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اُس کا ہر حکم ماننے کی کوشش کرتا ہے اُس کی چاہت کرتا ہے اسی کو سننے کی اُسی بندے کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اُسی کی جستجو اُسی کی تلاش کرتا ہے اُسی کے قریب رہنے کی تمنا کرتا ہے۔۔۔۔
    پھر ہمارا اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا کیسا رشتہ ہے کیسی عقیدت ہے کہ اُس کے ہر حکم کو بھول بیٹھے ہیں سنت رسول کو یاد کرنے سے بھی قاصر ہیں اس سے دوری ہماری موت ہے اس نام کو دل میں زندہ رکھنے کی ضرورت ہے یہ نام زندہ رہے گا تو دل زندہ رہے گا۔اس نام کی کرشمہ سازیاں کسی صاحب دل کو دیوانہ بنا لینے کے لئے کافی ہیں۔۔۔۔۔۔
    شرط اول یہ ہے کہ یہ محبت و عقیدت سچی ہو اطاعت سچی ہو پھر ہماری یہ محبت ہمیں کافروں کے ہاتھوں ذلیل و خوار نہیں ہونے دے گی ہمیں کمزور نہیں ہونے دے گی ۔۔۔۔
    نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا راستہ ہمیں اللہ تبارک وتعالیٰ تک پہنچنے کے راستہ بتائے گی۔۔
    یہ سب عمل سے ہو گا اور عمل صرف و صرف دین اسلام کا ہو گا تو یقیناً فتح ہماری ہو گی اور دشمن غروب ہو جائے گا۔۔۔
    پھر کشمیر بھی آزاد ہو گا
    فلسطین میں بھی بہار آئے گی شام کا سورج بھی چمکے گا اسلام کا پرچم لہرائے گا۔۔۔ان شاء اللہ

    فقط خوش بیانی کے جوہر دکھا کر کوئی قوم دنیا میں اُبھری نہیں ہے

    عمل چھوڑ کر صرف باتیں بنا کر کوئی قوم دنیا میں اُبھری نہیں ہے

    یہ سوچو کہ کیا چیز تھی جس کے بل پر خدا کے اکیلے پیمبر نے اٹھ کر

    اُلٹ دی تھی ایران و ورما کی مسند،پلٹ دی تھی صحرا نشینوں کی کایا
    (جہد مسلسل)

  • پی ایس ایل کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا، غیرملکی کرکٹرز بھی  پی ایس ایل کے  سحر میں مبتلاہوگئے

    پی ایس ایل کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا، غیرملکی کرکٹرز بھی پی ایس ایل کے سحر میں مبتلاہوگئے

    پی ایس ایل کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا، غیرملکی کرکٹرز بھی پی ایس ایل کے سحر میں مبتلاہوگئے

    باغی ٹی وی رپورٹ : بیس فروری سے شروع ہونے والاایچ بی ایل پی ایس ایل 2020کامیلہ بھرپور دھوم دھام سے پاکستان میں جاری ہے۔ مقامی اور قومی کھلاڑیوں کے بعد اب غیرملکی کرکٹرز بھی لیگ کے سحر میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

    پاکستان کے چار مختلف شہروں میں کرکٹ کھیلنے کے بعد غیرملکی کھلاڑی لیگ کے دوران ماحول، تماشائیوں کی شرکت اور گراؤنڈ اسٹاف کی بھرپور تعریف کررہے ہیں۔پاکستان کی بھرپور مہمان نوازی کے معترف غیرملکی کھلاڑیوں نے ایونٹ میں کھیل کے معیار کو بھی سراہا ہے۔

    دفاعی چیمپئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، دو مرتبہ کی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈاور 2017 کی چیمپئن پشاور زلمی کے علاوہ کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کی ٹیموں کے درمیان پلے آف مرحلے میں رسائی کی جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

    اب تک صرف ملتان سلطانز کی ٹیم 11 پوائنٹس کےساتھ ایونٹ کے اگلے مرحلے میں رسائی حاصل کرسکی ہے۔

    معین علی، ملتان سلطانز:

    معین علی کا کہنا ہے کہ ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے تینوں میچوں میں شائقینِ کرکٹ کا جوش دیدنی تھا۔ انہوں نے کہاکہ اسکواڈ میں شامل ہر رکن ملتان کے لوگوں کی میزبانی، پیار اور کھیل سے محبت کے جذبےکا معترف ہے۔

    معین علی نے کہاکہ سہولیات کے اعتبار سے ملتان اسٹیڈیم کا شمار محدود طرز کی کرکٹ کے چند بہترین اسٹیڈیمز میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی پچ بیٹسمین اور باؤلر دونوں کے لیے سازگار ہے۔وہ پرامید ہیں کہ ملتان سلطانز آئندہ ایڈیشنز میں اپنے تمام میچز ملتان اسٹیڈیم میں کھیلے گی۔

    پشاور زلمی کی ٹیم تاحال پوائنٹس ٹیبل پر دوسری پوزیشن پر براجمان ہے۔

    لیام لیونگ اسٹون، پشاور زلمی:

    پشاور زلمی کے بلے باز لیام لیونگ اسٹون کاکہنا ہے کہ گذشتہ 2 ہفتے پشاور زلمی کے لیے بہت اہم تھے تاہم اب ٹیم کی گاڑی جیت کی پٹری پر چڑھ چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی ٹیم کے لیے ٹورنامنٹ کے آغاز کی بجائے بہترین وقت پرمومنٹم پکڑنا اہم ہوتا ہے اور انہیں خوشی ہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے دوران پشاور زلمی کی گاڑی درست سمت پر گامزن ہے۔

    لیام لیونگ اسٹون نے کہا کہ وہاب ریاض ایک پرسکون کپتان ہے جنہیں اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور زلمی نے لیگ کے پانچویں ایڈیشن کے دوران جہاں بھی میچز کھیلے ہیں، تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد پیلے رنگ میں ڈھلی نظر آئی ہے۔ انہوں نے خصوصاََ راولپنڈی کے کراؤڈ کی تعریف کرتے ہوئے امید ظاہرکی ہے کہ لیگ کے آئندہ میچز میں بھی دیگر مقامات پر اتنا جوشیلہ اور بھرپور کراؤڈ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

    دوسری جانب فی الحال پوائنٹس ٹیبل پر تیسری پوزیشن پر موجود اسلام آباد یونائیٹڈ کے پوائنٹس کی تعداد 7 ہے۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کو اگلے مرحلے میں رسائی کے لیے دیگر ٹیموں کے درمیان میچوں کے نتائج پر انحصار کرنا ہوگا۔

    ڈیل اسٹین، اسلام آباد یونائیٹڈ:

    اسلام آباد یونائیٹڈ کے فاسٹ باؤلر ڈیل اسٹین کاکہنا ہے کہ وہ پاکستان واپسی پر بہت خوش ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگ غیرملکی کھلاڑیوں کی لیگ میں شرکت پر بہت پرجوش ہیں۔

    ڈیل اسٹین نے پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کے گراؤنڈ اسٹاف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے عملے کی انتھک محنت کے سبب بارش کے باوجود مداحوں کو بہترین اور معیاری کرکٹ دیکھنے کو ملی۔ انہوں نے کہاکہ وہ کراچی میں اپنا آخری گروپ میچ جیتنے کے ساتھ ساتھ فائنل میں رسائی حاصل کرکےاسلام آباد یونائیٹڈ کے فینز کو تحفہ دینے کی کوشش کی۔

    کراچی کنگز کی ٹیم فی الحال پوائنٹس ٹیبل پر چوتھی پوزیشن پر موجود ہے۔

    ایلکس ہیلز، کراچی کنگز:

    برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کراچی کنگز کے بلے باز ایلکس ہیلز کا کہنا ہے کہ بابراعظم اور شرجیل خان کی ٹاپ آرڈر میں موجودگی ہماری ٹیم کی طاقت ہے۔ انہوں نے کہاکہ رائٹ اینڈ لیفٹ ہینڈ کمبی نیشن پر مشتمل کراچی کنگز کی اوپننگ جوڑی میں شامل دونوں کھلاڑی ایک دوسرے سے مختلف انداز میں بیٹنگ کرتے ہیں تاہم دونوں کھلاڑیوں کی جارحانہ حکمت عملی کے سبب حریف باؤلرز کے لیے اچھی باؤلنگ کرنا ایک مشکل ہدف بن جاتا ہے۔

    ایلکس ہیلز نے کہاکہ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئےمیچز کے دوران شائقینِ کرکٹ کی جانب سے بھرپور حوصلہ افزائی کے بعد وہ ایک بار پھرکراچی جانے کے لیے بے تاب ہیں۔انہوں نے کہا کہ تماشائیوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر بہتر کھیل کا مظاہرہ کرکے کراچی کنگز اگلے مرحلے میں رسائی حاصل کرسکتی ہے۔

    لاہور قلندرز کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر پانچویں پوزیشن پر موجود ہے۔

    بین ڈنک، لاہور قلندرز:

    لاہور قلندرز کے جارحانہ مزاج بلےباز بین ڈنک کا کہنا ہے کہ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں اب تک کھیلے گئے تمام میچوں میں کراؤڈ شاندار رہا۔ انہوں نے کہا کہ جوں جوں کھیل آگے بڑھتا جاتا ہے توں توں تماشائیوں کی جانب سے کھلاڑیوں کو حوصلہ افزائی کرنے کا جذبہ بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔

    بین ڈنک نے کہا کہ تماشائیوں کا شور دیکھ کر انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ کم از کم قذافی اسٹیڈیم لاہور میں لاہور قلندرز کے علاوہ کسی اور ٹیم کی نمائندگی کرنے کے خواہشمند نہیں ہیں۔

    دفاعی چیمپئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر چھٹی پوزیشن پر موجود ہے۔

    شین واٹسن، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز:

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے آلراؤنڈر شین واٹسن کاکہنا ہے کہ انہیں ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے دوران پاکستان کے چاروں شہروں، کراچی، لاہور، ملتان اور راولپنڈی، میں کرکٹ کھیل کر مزہ آرہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ شائقینِ کرکٹ سے بھرے اسٹیڈیمز میں جاری ایچ بی ایل پی ایس ایل کا اصل مقصد آئند نسل کو کرکٹ کے کھیل سے متاثرکرنا ہے۔

    شین واٹسن نے کہاکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز آخری دو گروپ میچ جیت کر پلے آف مرحلے میں رسائی حاصل کرنے کے لیے پرامید ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹیم اب بھی ٹائٹل کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

  • عالمی یوم خواتین اور مسلم خواتین کے حقوق        ، تحریر:شعیب بھٹی

    عالمی یوم خواتین اور مسلم خواتین کے حقوق ، تحریر:شعیب بھٹی

    عالمی یوم خواتین اور مسلم خواتین کے حقوق تحریر:شعیب بھٹی
    ہر سال 8مارچ کو خواتین کے حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن خواتین کی آزادی،تعیلم و تربیت، جنسی و جسمانی تشدد سے آگاہی اور ان کے خلاف قانون سازی پہ زور دیا جاتا ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز اس دن سیمینارز کا انعقاد کرتی ہیں۔خواتین کی آزادی اور ان کے حقوق کی بات کی جاتی ہے۔ لیکن اس حوالے سے کام کرنے والی این جی اوز در حقیقت عورت کی آزادی کے نام پر اس کا استحصال کررہی ہیں اور انہیں معاشرے میں چلتا پھرتا اشتہار بناکر مغربی ایجنڈے کی تکمیل کرتی ہیں۔ لیکن افسوس عالمی امن کے دعویدار، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنےوالی عالمی تنظیمیں اور این جی اوز مسلم خواتین کے حقوق پر بات کرنے سے قاصر ہیں۔ ان این جی اوز نے کھبی بھی کشمیر،برما،فلسطین،شام،عراق،افغانستان میں مسلم خواتین پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند نہیں کی۔ یورپ کے اکثر ممالک میں بھی مسلم خواتین کی مذہبی آزادی پر پابندیاں عاٸد ہیں۔ آج کے نام نہاد خواتین مارچ کرنے والے عورت کو فحاشی،عریانی،مادہ پرستی اور خدا بیزاری کا لباس پہنانا چاہتے ہیں۔
    عالمی امن کے ٹھیکدار UNO امریکی اور اسرائيلی لونڈی بن کر خاموش ہیں۔
    سیکولر کھلانے کی دعویدار ریاست بھارت میں مسلم خواتین پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی مظالم سے کشمیر میں 1989 سے اب تک 905,22 خواتین بیوہ ہوٸیں۔ ایک ہزار سے زاٸد خواتین سمیت 1لاکھ افراد کو شہید کیا گیا۔ انڈین آرمی کشمیری خواتین کے خلاف ریپ کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ کشمیری خواتین دنیا بد ترین بے حرمتی کا شکار ہوٸیں۔ ایک اندازے کے مطابق %9فیصد خواتین کا جنسی استحصال کیا گیا۔ اب تک 140,11 خواتین کی عصمت دری کی گٸی۔ ان میں 1991 میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی کنن پوش پورہ کی 100 خواتین بھی شامل ہیں۔ ہیومین راٸٹس واچ کے مطابق خواتین کی تعداد اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔
    کشمیر میں گمنام قبریں بھی دریافت ہوٸی ہیں جن میں اغواہ کے بعد زیادتی اور تشدد کا شکار ہونے والی خواتین اور مرد شامل ہیں۔ پچھلے 6 ماہ سے تمام کشمیری محصور ہیں انکے گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عاٸد ہے۔ نوجوانوں کو گرفتاری کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے رات کے اندھیرے میں گھروں میں تلاشی کے نام پر عورتوں کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔
    لیکن خواتین کے حقوق کی علمبردار این جی اوز کے منہ پہ تالے لگے ہوۓ ہیں۔
    برما میں برمی فوج کی طرف سے مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور 94,000 خواتین کی عصمت دری کے بعد ان کو زندہ جلایا گیا ۔
    مہاجرین کے اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم کے ڈاٸریکٹر جنرل ولیم لیسی سوینگ نے دعوی کیا ہے کہ برمی مسلم خواتین اور لڑکیوں کی عصمت دری میں میانمار کی فوج قصوروار ہے۔
    فرانس،ہالینڈ،بیلجٸیم،سوٸٹزر لینڈ،آسڑیا،جرمنی،ڈنمارک،ناورے،اسپین اور روس میں مسلم خواتین کے برقعہ اوڑھنے پر پابندی عاٸد کرکے مسلم عورتوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ ان ممالک میں اب تک جس تہذیب و تمدن کو مادہ پرستی اور دین بیزاری کے لباس میں پیش کیا جاتا رہا ہے آج وہ تہذیب دیمک زدہ لکڑی کی تصویر پیش کررہی ہے۔
    اسلام کی حقانیت اور مقبولت سے پریشان یہ ممالک اب مسلم خواتین کو بے پردہ کرکے اور ان کے حقوق چھین کر ان صابر و شاکر عورتوں کو خوف زدہ کرنا چاہتے ہیں۔
    ڈنمارک میں 28 سالہ خاتون کو برقعہ اوڑھنے پر 1ہزار کروز جرمانہ کیا گیا۔
    فرانس میں 2010 میں پردہ کرنے پہ پابندی عاٸد کی گٸی اور 1000 ڈالر جرمانہ رکھا گیا۔ فرانس میں صرف 1900 خواتین برقعہ اوڑھتی ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ممالک کس حد تک اسلام فوبیا کا شکار ہیں۔
    2013 میں پیرس میں ٹراپس کے علاقے میں سندرا بیلن کو برقعہ اڑوھنے پہ 200 ڈالر جرمانہ اور پولیس سے ہاتھا پاٸی پر ایک ماہ قید کی سزا دی گٸی۔ سندرا بیلن نے پولیس سے ہاتھا پاٸی اس وقت کی جب پولیس نے زبردستی اس کو بے پردہ کیا۔
    ہالینڈ میں کل آبادی سترہ ملین ہے اور وہاں مقیم مسلمانوں کی تعداد 1 ملین ہے۔ ہالینڈ میں بھی اتنی بڑی مسلم تعداد کے حقوق کو چھینا گیا۔ برقعہ اوڑھنے پہ پابندی لگاٸی گٸی 150 یورو جرمانے کا قانون بنایا گیا اور اگر کوٸی عالم دین پردہ کی تبلیغ کرے گا تو اسے 30,000 یورو جرمانہ کیا جاۓ گا۔
    ان سب ممالک میں مسلم خواتین سختیاں،تکلیفیں،نظر بندیاں اور جرمانے ادا کرکے بھی پردہ کو اپنا شعار بناۓ ہوۓ ہیں۔
    اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے خواتین کو حقیقی آزادی دی۔ خواتین کو تکریم اور عزت سے نوازا۔ پردہ جوکہ عورت کے لیے عزت وقار اور تکریم کی علامت ہے اس کو ان ممالک نے جبر قرار دیا۔ حالانکہ پردہ گندی نظروں،حرس و ہوس زدہ نگاہوں کے حصار سے محفوظ رکھتا ہے۔
    ایک عیساٸی بلاگ راٸٹر ناومی والف اپنے ایک آرٹیکل جس کا عنوان "خواتین،پردہ،جنس” تھا۔
    میں پردے کےحوالے سے لکھتی ہیں کہ یہ "پبلک بمقابلہ پراٸیوٹ” کا معاملہ ہے۔
    یہ سب تعصب پسند ممالک اسلاموفوبیا کا شکار ہیں اور اسلام کی مقبولیت سے پریشان ہیں ایک سروے کے مطابق امریکہ میں سالانہ 20,000 افراد داٸرہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔
    عورت کے حقوق کی علمبردار تنظیموں،این جی اوز کی تعصب بازی ان سب باتوں سے عیاں ہے۔ یہ تنظیمیں اور این جی اوز غیرملکی فنڈنگ پر اُن کے مقاصد کی تکمیل کے لیے کام کررہی ہیں۔
    مساوی طریقے سے عورتوں کے حقوق کی نماٸندگی کی جاتی تو آج مسلم عورتوں پر مذہبی پابندیاں ہر گز عاٸد نا کی جاتیں۔غیر ملکی ایجنڈوں کو پھیلانا اور عورتوں کو معاشرے کی اقدار سے باغی کرنا،مادہ پرستی، خدا بیزاری کو پروموٹ کرنا ان تنظیموں اور این جی اوز کے بنیادی مقاصد ہیں۔
    جب تک باشعور لوگ موجود ہیں ان ایجنڈوں کی تکیمل میں روکاٹ بننتے رہیں گے۔
    اپنی نظریات،تہذیب و تمدن کو نشانہ بننے سے بچاتے رہیں گے اور عورتوں کے حقیقی مساٸل کو اجاگر کریں گے خواہ وہ کسی مذہب،معاشرے یا طبقے سے تعلق رکھتی ہو۔

  • بھارت کو شکست، ٹی 20 ویمن کرکٹ ورلڈ کپ فائنل آسٹریلیا کے نام

    بھارت کو شکست، ٹی 20 ویمن کرکٹ ورلڈ کپ فائنل آسٹریلیا کے نام

    آسٹریلوی ٹیم نے ٹی 20 ویمن کرکٹ ورلڈ کپ فائنل میں بھارت کو شکست دے دی

    خواتین کی ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ کی چیمپئنز کا سہرا آسٹریلوی ٹیم کے سر سج گیا .دفاعی چیمپئن آسٹریلیا نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ورلڈ ویمنز ٹی ٹوینٹی میں بھارت کو 85 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے دی ہے۔

    ویمنز ڈے کے موقع پر میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے میچ میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بھارت کے خلاف چار وکٹوں کے نقصان پر 184 رنز بنائے۔آسٹریلوی اوپنرز نے اپنی ٹیم کو شاندار آغاز فراہم کرتے ہوئے 115 رنز کی برق رفتار شراکت قائم کی۔

    میزبان ٹیم کی جانب سے الیسا ہیلی نے 75 رنز بنائے جبکہ بیتھ مونی 78 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہیں۔ان کے علاوہ کپتان میگ لیننگ 16 رنز کے ساتھ نمایاں رہیں۔ بھارت کی جانب سے دپتی شرما نے دو کھلاڑیوں کو پویلین لوٹایا۔جواب میں بھارت کی پوری ٹیم 99 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ بھارتی ویمن ٹیم کی 8 کھلاڑیاں ڈبل فگر میں بھی داخل نہ ہوسکیں۔ہدف کے تعاقب میں بھارت کا ٹاپ آرڈر مکمل طور پر ناکام ہوگیا اور یک کے بعد دیگرے وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری رہا۔بھارت کی پوری ٹیم 99رنز پر ڈھیر ہو گئی اور آسٹریلیا نے 85رنز سے فتح حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اعزاز کا کامیابی سے دفاع کرتے ہوئے پانچویں مرتبہ ویمن ٹی20 ورلڈ کپ کا چیمپیئن حاصل کر لیا۔

    آسٹریلیا کی جانب سے میگن شٹ نے 4 اور جیس جوناسین نے تین وکٹیں حاصل کیں۔شاندار جارحانہ اننگز کھیلنے پر ایلیسا ہیلی کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
    بھارت کی جانب سے دپتی شرما 33، ویدا کرشنامرتی 19 اور رچا گھوش 18 رنز کے ساتھ نمایاں رہیں۔آسٹریلیا کی جانب سے میگن شٹ اور جیس جوناسن نے تباہ کب بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالترتیب چار اور تین وکٹیں حاصل کیں۔اس کے علاوہ نیکولہ کیری، دسلیلا کمنس اور صوفیہ میلی نوکس نے ایک، ایک کھلاڑی کو پویلین لوٹایا۔آسٹریلیا نے ریکارڈ پانچویں مرتبہ یہ اعزاز اپنے نام کیا ہے۔ اس سے قبل 2010، 2012، 2014 اور 2018 میں بھی کنگروز نے ہی ورلڈ کپ جیتا تھا.واضح رہے کہ پاکستان ک قومی کرکٹ ٹیم کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکا رہی اور ایونٹ کے پہلے مرحلے ہی میں‌آوٹ ہوگئی،

  • یوم ارض فلسطین اور فلسطینیوں کی واپسی—از—صابرابومریم

    یوم ارض فلسطین اور فلسطینیوں کی واپسی—از—صابرابومریم

    انبیاء علیہم السلام کی سرزمین مقدس فلسطین کی تاریخ میں پندرہ مئی یوم نکبہ یعنی فلسطینی سرزمین کے صہیونیوں کے ناپاک ہاتھوں میں غصب ہونے کا دن ہے اسی طرح تیس مارچ کو فلسطینی عرب سرزمین مقدس فلسطین کا دن مناتے ہیں یعنی ’’یوم ارض فلسطین‘‘ منایا جاتا ہے ۔ جہان پندرہ مئی کو یون نکبہ یعنی تباہی و بربادی کا بد ترین دن کے عنوان سے دنیا بھر میں فلسطینی و غیر فلسطینی قو میں مناتی ہیں وہاں فلسطینی مظلوم ملت سے یکجہتی کے لئے تیس مارچ کو یوم ارض فلسطین نہ صرف مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں منایا جاتا ہے بلکہ فلسطین سے باہر پوری دنیا میں اس دن کو فلسطینی ارض مقدس کے دن کے عنوان سے یاد رکھا جاتا ہے ۔

    یوں تو فلسطینی عوام پر برطانوی سامراج کی سرپرستی میں ڈھائے جانے والے صہیونیوں کے مظالم کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ان مظالم کی تاریخ ایک سو سال سے زیادہ پر محیط ہے البتہ فلسطین کی سرزمین مقدس پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست اسرائیل کے قیام کو اب سنہ2020ء میں 72وال سال مکمل ہو جائے گا اور ان بہتر سالوں میں گزرنے والا ایک ایک دن فلسطین کی مظلوم ملت پر قیامت سے کم نہیں گزرا ہے ۔ چاہے صہیونیوں کی جانب سے فلسطین پر قبضہ کے ایام ہوں یا پھر قبضہ کے بعد کے ایام ہوں ۔ تاریخ کے اوراق صہیونی ظالموں کے ظلم سے بھرے پڑے ہیں ۔

    جہاں ایک طرف صہیونیوں نے فلسطین پر اپنے ناجائز قبضہ کو مکمل کرنے کے لئے کسی قسم کے ظلم اور زیادتی سے گریز نہیں کیا ہے وہاں فلسطینی ملت مظلوم کی شجاعت اور استقامت میں بھی ان مظالم کے سامنے کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوئی ہے ۔ فلسطینی عربوں کی جد وجہد کی تاریخ بھی صہیونیوں کے مقابلے میں اسی وقت سے جاری ہے کہ جب سے عالمی استعماری قوتوں کی ایماء پر فلسطین پر قبضہ کی ناپاک منصوبہ بندی کی گئی تھی اور فلسطینیوں کی یہ جد وجہد آ ج بھی اسی طرح جاری و ساری ہے ۔

    پندرہ مئی سنہ 1948ء میں فلسطین پر صہیونیوں کی جعلی ریاست کے قیام کے وقت سے صہیونیوں نے فلسطینی عربوں کو ان کے وطن یعنی فلسطین سے نکال باہر کرنا شروع کر دیا تھا اور یہ سلسلہ کئی سالوں تک جاری رہا اور نتیجہ میں دسیوں ہزار فلسطینی اور ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو فلسطین سے نکال باہر کیا گیا جو پڑوسی ممالک میں زمینی سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے مہاجرین کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوئی اور آج فلسطینیوں کی تیسری نسل شام، لبنان، اردن اور مصر میں مہاجرین یعنی فلسطینی پناہ گزین کے نام سے پہچانی جاتی ہے ۔

    فلسطین کے اندر باقی رہ جانے والے فلسطینیوں نے امید کا دامن ہاتھ سے کبھی جانے نہیں دیا ہے ۔ فلسطین کے عرب باشندوں نے ہمیشہ سے فلسطین پر صہیونی ریاست کے تصور کو جعلی قرار دیا ہے اور اس کے خلاف سینہ سپر رہے ہیں ۔ یعنی خلاصہ کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ فلسطینیوں نے جد وجہد آزاد ی جاری رکھی ہے اور اس آزادی کا بنیادی ہدف جہاں فلسطین کی صہیونیوں کے شکنجہ سے آزادی ہے وہاں غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی نابودی ہے ۔ جد وجہد آزادی فلسطین کے لئے فلسطین کے عرب باشندوں نے باقاعدہ صہیونیوں کا مقابلہ کیا ہے اور اس کی مثال فلسطین میں موجود اسلامی مزاحمت کی تحریکیں حماس، جہاد اسلامی، پاپولر فرنٹ اور دیگر شامل ہیں جو مسلسل اسرائیل کے ناپاک وجود کے خلاف سینہ سپر ہیں ۔

    دوسری طرف فلسطین سے جبری طور پر جلا وطن کئے جانے والے فلسطینی عربوں نے بھی اپنا جہاد فلسطین واپسی کے نعرے کے ساتھ شروع کر رکھا ہے اور یہ سب کے سب فلسطینی چاہتے ہیں کہ فلسطین اپنے وطن فلسطین واپس جائیں تا کہ فلسطین میں آباد ہو ں نہ کہ ان کو دیگر ممالک میں در در کی ٹھوکریں کھانی پڑیں ۔ فلسطینیوں کے حق واپسی کا نعرہ یا اعلان ایک ایسا مضبوط نعرہ ہے کہ جسے عالمی استعماری نظام بالخصوص امریکہ اور اس کے حواری کسی طرح بھی دبانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں ۔ فلسطینی عوام کا حق واپسی ایک ایسا بنیادی انسانی حق ہے کہ جسے نہ تو دنیا کے عالمی ادارے مسترد کر سکتے ہیں اور نہ ہی دنیا کی کوئی حکومت ا سکے خلاف جا سکتی ہے ۔

    امریکہ نے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کو دبانے کی خاطر نام نہاد امن فارمولہ جسے صدی کی ڈیل کہا جا رہا ہے کو متعارف کرایا ہے لیکن یہ صدی کی ڈیل سامنے آنے سے پہلے ہی فلسطینیوں کے واپسی کے حق کے نعرے کے سامنے ماند پڑ چکی ہے اور عنقریب نابود ہونے والی ہے ۔ یہ بات انتہائی قابل ذکر ہے کہ فلسطینیوں کے حق واپسی کا نعرہ سنہ 2011ء کے بعد سے شد ومد کے ساتھ بلند ہو اہے جس کی ماہرین کی نگاہ میں ایک بنیادی وجہ سنہ2011ء میں ایران کے دارلحکومت تہران میں ہونے والی بین الاقوامی حمایت فلسطین و انتفاضہ کانفرنس بعنوان ’’فلسطین ، فلسطینیوں کا وطن‘‘ ہے ۔

    فلسطین کے سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سنہ2011ء میں اس کانفرنس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے مسئلہ فلسطین کا ایک ایسا منصفانہ حل پیش کیاہے کہ جس کے بعد نہ صرف فلسطینی تحریکوں میں بلکہ فلسطینیوں کے حق واپسی کی ایک نئی تحریک نے جنم لیا ہے جو امریکہ سمیت صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے لئے مصیبت سے کم نہیں ہے ۔ اس منصفانہ حل کے مطابق فلسطین فلسطینی عربوں کا وطن ہے کہ جو سنہ1948ء سے قبل اور اس وقت تک فلسطین کے باسی تھے اور ان فلسطینیوں میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی فلسطینی اور ایسے یہودی فلسطینی شامل ہیں کہ جو فلسطین کی شناخت کے ساتھ اس سرزمین مقدس پر زندگی بسر کر رہے تھے

    صہیونیوں نے نہ صرفر فلسطین کے مسلمانوں کو جبری ہجرت پر بھیجا بلکہ مسیحی اور فلسطینی یہودیوں کو بھی فلسطین سے بے دخل کیا ۔ تاہم فلسطینی عربوں کا حق ہے کہ وہ فلسطین واپس آئیں اور فلسطینی عوام ایک ریفرنڈم کے ذریعہ اپنے نظام حکومت کا فیصلہ کرے ۔ یعنی فلسطینی فلسطین واپس آئیں اور جو یہودی اور صہیونی دنیا کے دیگر ممالک سے لا لا کر فلسطین میں آباد کئے گئے تھے وہ اپنے اپنے وطن میں واپس جائیں یا یہ کہ اگر فلسطین کی حکومت یعنی فلسطینی کی شناخت کے ساتھ فلسطین میں زندگی بسر کرنا چاہیں تو یہ فیصلہ بھی فلسطینی عوام کو کرنا ہے اور ان کی اجازت سے ہونا ہے ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ فلسطینیوں کے حق واپسی کی تحریک نے سنہ2011ء سے تیزی کے ساتھ سفر طے کرنا شروع کیا جس کے نتیجہ میں سنہ2012ء میں دنیا بھر کے تمام بر اعظموں سے تعلق رکھنے والی قوموں نے تیس مارچ یوم ارض فلسطین کے موقع پر فلسطین کی چاروں زمینی سرحدوں پر مارچ کیا اور سب کا نعرہ ایک ہی تھا کہ ’’واپسی فلسطین ‘‘یعنی ;82;eturn to ;80;alestien ۔ گذشتہ دو برس سے فلسطینیوں نے حق واپسی مارچ کا نئے انداز سے آغاز کیا ہے اور فلسطینیوں کا ایک ہی نعرہ اور مقصد ہے کہ فلسطینیوں کی فلسطین واپسی ۔

    اب یوم ارض فلسطین کے موقع پر اس تحریک کو مکمل دو سال ہو نے کو ہیں لیکن امریکہ اور اسرائیل سمیت استعماری قوتیں فلسطینیوں کے عزم اور ارادوں کو کمزور کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں اور اس کی سب سے بڑی دلیل امریکی صدر کے فلسطین سے متعلق یکطرفہ فیصلوں اور اعلانات کی ناکامی ہے ۔ بہر حال اقوام عالم اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکی ہیں کہ فلسطینیوں کی تقدیر کا منصفانہ حل یہی ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کا وطن قرار پائی اور صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے قائم کرنے والے صہیونی اپنے اپنے وطن اور زمینوں پر لوٹ جائیں ۔ فلسطینیوں کی واپسی حق ہے اور اس امر سے دنیا کی کوئی طاقت بھی نظر چرانے کی طاقت نہیں رکھتی ۔

    یوم ارض فلسطین اور فلسطینیوں کی واپسی

    تحریر: صابر ابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان

    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

  • عجب محبت کی غضب کہانی–از—نسیم شاہد

    عجب محبت کی غضب کہانی–از—نسیم شاہد

    اس کی آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی تھی ،اچانک وہ غیر متوقع طور پر میری طرف بڑھی ،اس نے سب کے سامنے مجھے جپھی ڈالی اور میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئے

    آج پرانی تصویروں میں سے ایک تصویر کیا ملی ،غضب ڈھا گئی دل کے تار ہلا گئی ۔ایمنڈا سیلی کی یاد تازہ ہو گئی اور میری بزدلی کی بھی کہ میں عشق کی خاطر اپنی زمین چھوڑنے سے ڈر گیا ۔1987 کی بات ہے میری ابھی شادی نہیں ہوئی تھی ۔

    بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں ایشیا فاونڈیشن نے انگلش لینگوئج سنٹر قائم کیا ۔جس کا انچارج ایک امیریکن ڈگلس بروکس کو بنایا گیا ۔ایک دن وہ مجھے صدر بازار کینٹ میں ملا اور پھر ہم دوست بن گئے ۔اس نے گلگشت میں گھر لے لیا ،اچھے زمانے تھے وہ موٹر سائیکل پر گھومتا ،میرے پاس بھی آجاتا ۔اسے ملنے کیلئے اس کے دوست اور سہیلیاں امریکہ اور یورپ سے آتیں ۔وہ خوب پیتے پلاتے اور میں سائیڈ پر بیٹھا پھوکے مزے لیتا ۔

    انہی دنوں امینڈا سیلی لندن سے آئی ،وہ ایک بھارتی نثراد عیسائی خاندان سے تعلق رکھتی تھی جو لندن میں مقیم تھا ۔ڈگلس نے اسے کہا یہ نسیم ہے ملتان کا انسائیکلو پیڈیا ،تمہیں پورا شہر دکھا دے گا ۔وہ روزانہ یونیورسٹی چلا جاتا اور ہم موٹر سائیکل پر ملتان کی سیر کرتے ۔ایک ہفتہ گزرا کہ مجھے لگا ایمنڈا کو عشق کا دورہ پڑنے لگا ہے ۔

    ایک دن اس نے مجھ سے پوچھا تم نے شادی کیوں نہیں کی ؟ میں نے جھٹ کہا کوئی ملے گی تو کر لوں گا ،اس پر اس نے بے ساختہ پوچھا ،،کیا اب بھی ؟ ،، .میں جماندرو بھولا اس کی بات نہ سمجھا،بات آئی گئی ہو گئی ۔سچی بات ہے اتنے عرصے میں میں بھی اس کی باتوں ،اداوں اور مسکراہٹوں کا عادی ہوتا جا رہا تھا ،

    پھر وہ دن آیا جب اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے پوچھا ،، نسیم کیا تم مجھ سے شادی کرو گے ؟،، ہائے ہائے کیا بم تھاجو اس نے مجھ پر گرایا ۔میں نے کہا مگر کیسے ،تم عیسائی ہو میں مسلمان تم لندن رہتی ہو میں ملتان ،، اس نے کہا ،، نو پرابلم میں کنورٹ ہو جاونگی ،، ۔میں نے کہا مگر تم ملتان میں نہیں رہو گی اور میں لندن نہیں جاسکتا ۔

    اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا ،، کیا میری خاطر بھی نہیں ؟،،.بڑا جانکاہ لمحہ تھا ۔میں نے کہا سوچ کربتاوں گا ۔اس نے کہا میرے پاس وقت نہیں میں نے دو دن بعد چلے جانا ہے ،میں نے کہا اچھا ایک دن تو سوچنے دو ۔گھر گیا تو ساری رات کروٹیں لیتے گزری ،سوچیں ہی سوچیں ،کیا ایک اجنبی لڑکی کیلئے اپنی ماں چھوڑ دوں جو میرے تن کے روئیں روئیں سے واقف ہے ۔کیا بہن بھائیوں کو خیر باد کہہ دوں ،کیا اپنی مٹی اور شہر کی بوباس سے کنارہ کشی اختیار کر لوں ،ناں بھئی ناں مجھ سے یہ نہیں ہو سکے گا ۔

    صبح ہوئی تو میں ایمنڈا سیلی سے ملنے گیا ،باتوں باتوں میں اسے کہا میں تم سے شادی نہیں کر سکتا ،اس کی آنکھوں میں مایوسی عود کر آئی ،، مگر کیوں ؟،، میں نے کہا میری ماں نہیں مانے گی ۔اس نے جھنجھلا کے کہا ،کیا مطلب زندگی تمہاری ہے تم نے گزارنی ہے ۔میں نے کہا ایمنڈا تم نہیں سمجھو گی ،

    جب میری ماں جوان تھی تو اس نے میرے لئے زندگی واقف کی اب میں جوان ہوں تو مجھے اس کیلئے زندگی وقف کرنی ہے ،میری اس بات پر اس کی آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگی ،اس نے بے ساختہ مجھے گلے لگایا اور کہا ،،نسیم آئی لو یو ،You Really Posses a wonderful Soul ،، .اگلے دن اس نے جانے کا پروگرم بنا لیا ۔

    میں ،ڈگلس اور مشترکہ دوست عارف قریشی اسے چھوڑنے ملتان ائرپورٹ گئے ۔اس کی آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی تھی ،اچانک وہ غیر متوقع طور پر میری طرف بڑھی ،اس نے سب کے سامنے مجھے جپھی ڈالی اور میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئے ،بس اس کے بعد اس وقت میرے پاس کہنے کو کچھ تھا نہ آج ہے ۔

    عجب محبت کی غضب کہانی–از—نسیم شاہد

  • ماروی سرمد، عورت مارچ اور عالمی اداروں کا وار–از–شعیب بھٹی

    ماروی سرمد، عورت مارچ اور عالمی اداروں کا وار–از–شعیب بھٹی

    شازیہ انور المعروف ماروی سرمد سیکولر ازم اور لبرلز کا پرچار کرنے والی این جی اوز کی سربراہ ہے۔ ہندوانہ لباس اور ماتھے پہ ہندوانہ نشان بندیا سجاۓ ماروی اسلام اور پاکستان کی اساس دو قومی نظریہ کی مخالف ہے۔
    ماروی سرمد بلوچستان اور فاٹا میں غیر ملکی ایجنسيوں کی فنڈنگ پہ این جی اوز چلاتی ہیں اور علیحدگی پسند عناصر کی حوصلہ افزاٸی کرتی ہے۔

    ماروی پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کا نعرہ لگاتی ہے۔ماروی اسلام، پاکستان، افواج پاکستان کی سخت ترین مخالف ہے۔مذہبی اقتدار سے عاری ماروی سرمد ہم جنس پرستی اور اسقاط حمل کی حامی اور اس کو قانونی حثیت دلوانے کے لیے کام کررہی ہے۔

    ماروی سرمد افغان ایجنسی NDS اور انڈین ایجنسی RAW کی فنڈنگ پہ فاٹا میں این جی اوز چلاتی تھی اور فاٹا آپریشن کے دوران ایف سی اور افواج پاکستان کی کردار کشی میں پیش پیش تھی۔
    اس بات کا اظہار فاٹا کے سابق سیکرٹری برگیڈٸیر (ر) محمود شاہ بھی کٸی بار کرچکے ہیں۔

    ماروی سرمد خواتین کی حقوق کے نام پہ کام کرنے والی عالمی تنظیم ساٶتھ فورم(South Asian Against Terrorism& for Human Rights ) کی رکن ہے جس کی تشکیل انڈین ایجنسی کے افراد نے کی ہے اور وہی اس کے ارکان ہیں۔

    اس تنظیم کا بنیادی مقصد اسلامی ممالک میں سیکولرازم اور لبرل ازم کو پروان چڑھانا ہے اس کے لیے یہ عالمی سطح پہ فنڈنگ کرتے ہیں۔ماروی سرمد کے ساتھ اس تنظیم کے رکن ارکان میں اسماعیل گلالٸی،صبا اسماعیل، گل بخاری انڈین ایجنسی کے لیے کام کرنے والی روبینہ شیخ،ڈاکٹر اپرانا پانڈے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مرد ارکان میں غدار حسین حقانی، ایمل خٹنک،عاصم یوسفزٸی،مبشر زیدی شامل ہیں۔

    یہ سب افراد لبرل ازم،سیکولر ازم کو بیرونی فنڈنگ پہ پاکستان میں لانچ کرتے ہیں اور یہ جانے پہچانے نام بیرونی آقاٶں کے اشاروں میں اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشیں تشکیل دیتے ہیں۔پشتون تحفظ موومنٹ PTM کے نام سے پشتونوں کے خلاف سازش رچانے اور پاکستان میں نفرت کی آگ کو ہوا دینے والے یہ سارے لوگ غیر ملکی فنڈنگ پہ پلتے ہیں اور انکی ہی سازشوں کا حصہ بن کر اپنے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    ممیو گیٹ سکینڈل میں ملوث غدار وطن حسین حقانی ہو یا خدا کے وجود کا انکاری مبشر زیدی ان سب کا کام غیر ملکی ایجنڈوں کو پرموٹ کرنا ہے۔

    چاہے وہ ایجنڈا پشتون اور پنجابی کے نام پہ لسانیت کا ہو یا فرقہ واریت اور لبرل ازم کا یہ ایک ساتھ نظر آٸیں گے۔ انکا مقصد قطعی طور پہ عورت یا مرد کے حقوق نہیں ہیں بلکہ مغربی تہذیب کو پاکستان میں پرموٹ کرنا انکی ثقافت کو انکی ہی فنڈنگ سے پھیلانا ہے۔ان کے تازہ اور ٹاپ ایجنڈوں میں اسقاط حمل اور ہم جنس پرستی کو فروغ دینا اور انکو قانونی حثیت دلوانا شامل ہے۔اس کے ساتھ اسلامی ممالک سے سزاۓ موت کے قانون کو ختم کروانا شامل ہے۔
    اس کام کے لیے ان کو مغربی ممالک ہر طریقہ سے مدد فراہم کررہے ہیں۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے عالمی ادارے کے وژن 2020 میں اسقاط حمل،ہم جنس پرستی شامل ہے۔یہ عالمی اداروں پہ مغربی چھاپ اور راج کو ظاہر کرتا ہے۔ ان وژن کو پورا کرنے کے لیے این جی اوز اور اداروں کو ٹارگٹ دیے جاتے ہیں اور ان ٹارگٹس کو پورا کرنے کے لیے مغربی ممالک فنانسرز کا کردار ادا کرتے ہیں یہ فنانسرز مختلف این جی اوز کے ذریعے اپنے مقاصد پورے کرتے ہیں۔

    ماروری سرمد پاکستان میں ان این جی اوز کی سربراہ ہے۔عالمی سطح پہ اس مہم کو LGBT کے پلیٹ فارم سے شروع کیا گیا ہے۔ LGBT کا مخفف یہ ہے۔L=Lasbian G=Gay B=Bisexual T=Transgender

    ان ٹارگٹس کو پورا کرنے کے لیے انکی پروموشن و تحفظ اور مالی و قانونی مدد کے لیے عالمی مہم شروع کی گٸی ہے۔ جس کے لیے ہر ملک میں سیمیناز منعقد کیے جارہے ہیں۔ پاکستان میں مغربی سفارتخانوں کے تعاون اور سرپرستی میں کٸی سال سے ہم جنس پرستی کے سیمینارز منعقد ہورہے ہیں۔

    پاکستان میں موجود ہم جنس پرست افراد مغربی ممالک میں رہاٸش اختیار کرچکے ہیں اور برطانیہ نے باقاعدہ انکو اپنے ملک کی شہرت دی ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ میرا جسم میری مرضی کوٸی خواتین کے حقوق کی آواز اٹھانے والا فورم نہیں بلکہ عالمی اداروں کے وژن کو پورا کرنے کا کام کررہا ہے۔ انکا مقصد اسقاط حمل، ہم جنس پرستی،سزاۓ موت قانون کو ختم کرنا،توہین مذہب اور توہین رسالت قانون کو ختم کروانا ہے۔

    اسلام بیزار اور اقتدار سے عاری ماروی سرمد عالمی اداروں کی ایجنٹ کے طور پہ پاکستان میں کام کررہی ہے اور پاکستان کے مقصد قیام سے بغض رکھنے والی ماروی سرمد اپنے پیچھے مغربی ممالک اور دشمن ملک کی فنڈنگ کی ایما پر پاکستان کو سیکولر ملک بنانے کا نعرہ لگاتی ہے انکی طاقت کو اپنی پشت پہ سوار کرنے والی اس بد مست ہتھنی ماروی سرمد کو اپنی آقاٶں کی خوشی کے لیے کچھ بھی کرنا پڑا تو کرے گی۔

    پاکستان قوم کو ایک ہوکر اپنی اسلامی اقتدار ، دو قومی نظریہ ، اپنی تہذیب و تمدن اور ثقافت کو عالمی سازشوں سے بچانا ہوگا۔اور غیر ملکی فنڈنگ پہ کام کرنے والے ان سانپوں کو کچلنا ہوگا۔

    ماروی سرمد، عورت مارچ اور عالمی اداروں کا وار

    تحریر:شعیب بھٹی

  • پی ایس ایل کے انعقاد میں کیا کیا مشکلات درپیش تھیں، چیئرمین کرکٹ بورڈ نے بتایا

    پی ایس ایل کے انعقاد میں کیا کیا مشکلات درپیش تھیں، چیئرمین کرکٹ بورڈ نے بتایا

    پی ایس ایل کے انعقاد میں کیا کیا مشکلات درپیش تھیں، چیئرمین کرکٹ بورڈ نے بتایا
    باغی ٹی وی :پاکستان میں کھیل کی واپسی اور پی ایس ایل کے بارے احسان مانی چیئرمین کرکٹ بورڈ نے بتایا کہ اس کا انعقاد کس طرح سے ہوا. پاکستان کرکٹ کے چیئرمین احسان مانی نے کہا ہے کہ پی ایس ایل کا انعقاد پاکستان میں کرانا ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔

    انہوں نے کہا کہ پی سی بی نے چھوٹے چھوٹے قدموں سے پی ایس ایل کا پوری طرح انعقاد پاکستان میں کرایا ہے۔اس ضمن میں ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ہمارے لیے چیلنج تھا کیونکہ پاکستان میں دس سال سے انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہو رہی تھی۔

    احسان مانی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پاکستان سپر لیگ کو پوری طرح پاکستان میں لایا گیا، ہماری کوشش ہے کہ اگلے سال پشاور میں بھی پی ایس ایل کے میچز کھیلے جائیں۔احسان مانی کا کہنا تھا کہ صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ پاکستان میں دیگراسپورٹس کے لیے بھی کام کرنا ہوگا۔

    ایشیاء کپ ٹورنامنٹ کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایشیا کپ بھارت یا پاکستان کا نہیں بلکہ تمام ایشین کرکٹ کونسل کے ممبران کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایشیاکپ کی میٹنگ کورونا وائرس کی وجہ سے ایک مہینے کے لیے تاخیر کا شکار ہوگئی ہے، اگر بھارت کے ساتھ دو طرفہ سیریز ہوتی تو میں ضرور زور دیتا کہ بھارت پاکستان میں آ کر کھیلے.
    چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ سری لنکا ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کی آمد سے دنیا کو ایک واضح پیغام پہنچا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی کرکٹ مقابلوں کے انعقاد کے لیے ایک پرامن اور محفوظ ملک ہے۔

    چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو مزید مؤثر ادارہ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پی سی بی میں شفافیت اور احتساب کے عمل کو فروغ دینے کے لیے ہرممکن اقدامات اٹھایں گے۔ احسان مانی نے کہا کہ ہمیں بہترین نتائج دینے کے لیے کارکردگی میں تسلسل لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ نوجوان قومی کرکٹرز بہت باصلاحیت ہیں اور یہی ہمارے مستقبل کا روشن اثاثہ ہیں۔

  • کیا واقعی پاکستان میں ہر عورت پر ظلم ہوتا ہے اور وہ خواتین کہ جن کے حق کے لیے آواز اٹھانا لازم ہے!!! تحریر:  محمد عبداللہ

    کیا واقعی پاکستان میں ہر عورت پر ظلم ہوتا ہے اور وہ خواتین کہ جن کے حق کے لیے آواز اٹھانا لازم ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    گزشتہ روز ہم نے میرا جسم میری مرضی کے حوالے سے اور عورت مارچ کے حوالے نکتے پر بات کی تھی کہ یہ تحریکیں کیسے پروان چڑھتی ہیں اور کیسے ہم ان کی تشہیر اور مخالفت کرکے ان کو بین الاقوامی لیول کا ہیرو بنا دیتے ہیں اور پھر عالمی سطح پر ان کو شہ ملنا شروع ہوجاتی ہے جس کی واضح مثال راتوں رات عورچ مارچ کے نام سے تین ٹویٹر اکاؤنٹس کا ویریفائڈ ہوجانا اور بڑے تحرک میں آجانا اس کا کھلم کھلا ثبوت ہے.

    ہماری بات کا ہرگز بھی مقصد یہ نہیں ہے کہ ان بے ہودہ نعروں اور پوسٹرز کی ہمارے معاشرے میں اجازت ہونی چاہیے. خواتین سمیت جتنے بھی طبقات کا استحصال ہورہا ہے ان کے جائز حقوق سے ان کو محروم رکھا جارہا ہے وہ استحصال ختم ہونا چاہیے اور ان کے جائز حقوق ان کو ملنے چاہیں اور یہ صرف حکومت اور اداروں کے کرنے کے کام نہیں ہیں یہ میرا اور آپ کا کام بھی ہے کہ ہمارے گھروں میں بہنیں، بیٹیاں اور بیویاں موجود ہیں ہم ان کو ان کے جائز حق دیں، وراثت میں موجود ان کا حصہ ان کو ملنا چاہیے، ان کی پسند اور ناپسند کا خیال رکھا جانا چاہیے، ان کی تعلیم و تربیت کا مکمل انتظام و انصرام ہونا چاہیے. خواتین کو ونی کیے جانے اور تیزاب پھینکنے، ہراساں کیے جانے جیسے معاملات مردوں کی طرف سے ہی ہوتے ہیں ان پر توجہ دینی چاہیے اور ایسے واقعات کی سختی سے حوصلہ شکنی اور سخت سزاؤں کا سلسلہ ہونا چاہیے. زیادتی اور قتل کے واقعات پر سرے عام پھانسی کی سزاؤں کا اطلاق ہونا چاہیے.
    خواتین اگر آگے بڑھنا چاہتی ہیں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کوئی کردار ادا کرنا چاہتی ہیں تو سو بسم اللہ ان کو آگے بڑھنے دیں صحابیات اور حتیٰ ام المومنات رضی اللہ عنھم جنگوں تک میں مردوں کے ساتھ موجود ہوتی تھیں. ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا باقاعدہ درس حدیث دیتی تھیں حتیٰ کہ بہت سارے صحابہ کرام بھی ان سے احادیث اور مسائل معاملات دریافت کرنے آتے تھے.
    آپ بھی تعلیم حاصل کیجیئے درس و تدریس کام کیجیئے نسل نو کی تربیت کیجیے، ڈاکٹرز اور نرسز بن کر قوم کی خدمت کیجیے کہ ہماری قوم کو لاکھوں کی تعداد میں فی میل ڈاکٹرز کی اشد ضرورت ہے۔ اور اس طرح بیشمار کام ہیں آپ کیوں مرد کی برابری ہی پر زور دیتی ہیں حالانکہ عورت کے ہاتھ میں نسل نو کی تربیت کا ذمہ دے کر اس کی قابلیت کی ستائش کی گئی ہے۔
    ہمارا مذہب قطعاً بھی عورت کا استحصال نہیں کرتا اور نہ اس کی اجازت دیتا ہے، بیٹیوں کے ساتھ شفقت اور پرورش کرنے والا بندہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنت میں ہوگا. بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والے کو معاشرے کا بہترین فرد قرار دیا. ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی. بیٹیوں کو اللہ کی رحمت قرار دے دیا ، وراثت میں ان کا حصہ مقرر کردیا.

    لہذا اگر عورت پر ظلم ہورہا ہے تو اس کا قصوروار ہمارا سسٹم ہے ہم خود ہیں اور کسی حد تک خود عورت بھی ہے مذہب اسلام ہرگز بھی بھی نہیں ہے اور بڑی مزے کی بات ہے کہ اگر ہمارے اس معاشرے اور سسٹم میں اگر کچھ خواتین پر ظلم روا رکھا جاتا ہے اور ان کے حقوق سے ان کو محروم رکھا جاتا ہے تو اسی سسٹم میں آپ کو لیڈیز فرسٹ کا قانون بھی ملے گا.
    بلکہ آپ شہر کے کسی بھی سب سے مصروف پیٹرول پمپ پر چلے جائیں لمبی قطار ہوگی بائیکس کی پیٹرول ڈلوانے کے لیے اور اگر ایک بندہ پیچھے سے آکر قطار میں گھسنا چاہے گا تو سبھی اس سے لڑیں گے مگر اسی دوران ایک بندہ بائیک پر اپنے ساتھ کسی خاتون کو بٹھائے نمودار ہوتا ہے اور سب کو کراس کرکے بالکل مشین کے سامنے آن کھڑا ہوتا ہے تو کوئی اس پر اعتراض نہیں کرے گا اور پیٹرول ڈالنے والا ملازم بھی سب کو چھوڑ کر عورت کے ساتھ آنے والے مرد کو ترجیحاً پیٹرول ڈال کردے گا.
    اگر آپ خواتین کو ہمارے معاشرے میں ملنے والے پروٹوکول کو ملاحظہ فرمانا چاہتے ہیں تو کسی بھی پاپا کی پری کے نام سے سوشل میڈیا پر فی میل اکاؤنٹ بنائیے اور وہاں تھوڑی سی کھانسی کردیجیئے کتنے ہی ماہر ڈاکٹرز اور حکیم آپ کو آئن لائن مفت طبی مشوروں سے نوازیں گے اور کتنے ہی آپ کے انباکس میں تشریف لاکر آپ کی صحت کی بابت پریشان ہونگے.
    میں نے بہن بیٹی بیوی اور ماں جیسے مقدس رشتوں کے حوالے سے ملنے والی عزت، وقار، مان اور پروٹوکول کی بات نہیں کی بلکہ روز مرہ زندگی کے امور میں آپ کو سینکڑوں مثالیں ملیں گی کہ کس حد عورت کو توجہ اور احترام ملتا ہے.
    آپ نے خواتین کے حق میں آواز اٹھانی ہے تو شوق سے اٹھائیے سبھی احباب آپ کے ہمقدم بنیں گے عورت کو اس کے حقوق دلوائیے، کشمیر کی عورت کی آزادی کی بات کیجیئے کہ جو پچھلے چھ ماہ سے لاک ڈاؤن میں ہے، کسی شوہر غائب ہے تو کسی کا بیٹا شہید ہے، کسی کا بھائی انڈین آرمی کی قید میں ہے تو کسی کا باپ گمشدہ ہے، آسیہ اندرابی کی بات کیجیئے کہ جس کا شوہر پچیس سال سے قید میں ہے اور وہ خود پچھلے دس سالوں سے کبھی نظر بند کبھی قید کبھی کسی ظلم و ستم میں ہوتی ہیں.
    لیکن آپ ان سب سے صرف نظر کرکے فقط اپنے بےہودہ نعروں اور غلیظ پوسٹرز کی تشہیر کرکے عورت کا مزید استحصال کرنا ہے اور اس کو ان رشتوں سے باغی کرنا ہے تو یاد رکھیے کہ عورت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں ہی عورت ہے ان رشتوں کے بغیر وہ فقط گوشت ہے اور گوشت کے خریدار اور اس کو نوچنے والے گدھ ہرجگہ بکثرت پائے جاتے ہیں.
    اب یہاں پر کردار قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستان کی عدلیہ کا بنتا ہے ان بیہودہ نعروں اور پوسٹرز پر مبنی مارچ کو روکیں کیونکہ یہ بیہودہ نعرے اور پوسٹرز نہ صرف اسلام اقدار کے خلاف ہیں بلکہ آئین پاکستان کی رو سے بھی ان فحش نعروں اور پوسٹرز کی گنجائش نہیں ملتی، لیکن اگر عدلیہ اور دیگر ادارے ان مارچ اور نعروں کو ٹھیک سمجھتے ہیں تو وہ اپنی بیٹیوں،بہنوں سمیت ان پروگراموں میں شامل ہوں تاکہ قوم کو بھی کوئی جواز مل سکے.

  • پی ایس ایل کی کون سی ٹیم سوشل میڈیا پر کتنی مقبول ؟

    پی ایس ایل کی کون سی ٹیم سوشل میڈیا پر کتنی مقبول ؟

    پی ایس ایل کی کون سی ٹیم سوشل میڈیا پر کتنی مقبول ؟
    باغی ٹی وی :میدانوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے میدان میں کون سی ٹیم آگے ہے اور کسی پوزیشن پر ہے یہ بھی ایک اہم خبر ہے . پاکستان سپر لیگ ہر گزرتے سال کامیابی کی نئی منزلیں طے کر رہی ہے جس کا سہرا شائقین کرکٹ کو جاتا ہے جو کہ اسٹیڈیم کی رونقیں بڑھاتے ہیں۔

    2016 میں دبئی کے اسٹیڈیم سے شروع ہونے والے پی ایس ایل کا سفر اس سال پاکستان پہنچ گیا ہے اور اب شائقین اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو کرکٹ کے میدانوں میں دیکھ سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں راولپنڈی اور ملتان میں اس سال گراؤنڈ تماشائیوں سے بھرے ہوئے نظر آئے جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ایس ایل اور اس میں شریک چھ ٹیمیں شائقین کے دلوں میں بستی ہیں۔

    جہاں پی ایس ایل کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں تمام ٹیموں کی کوشش بھی ہے کہ وہ میدانوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی مداحوں سے جڑی رہیں اور انہیں وقتاً فوقتاً انہیں اطلاعات پہنچاتی رہیں۔
    پشاور زلمی نے گزشتہ روز ایک ٹوئٹ کے ذریعے ایک ملین فالوورز پورے ہونے کا اعلان کیا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر سب سے کس فرنچائز کے کتنے فالوورز ہیں؟ چلیں اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
    ادھر پاکستان سپر لیگ 2017 کی فاتح پشاور زلمی نے پی ایس ایل کے پانچویں ایڈیشن کے درمیان ہی ڈیرن سیمی کو قیادت سے ہٹا کر فاسٹ باؤلر وہاب ریاض کو قیادت سونپ دی ہے۔ پشاور زلمی نے ڈیرن سیمی کو قیادت سے ہٹا کر آئندہ دو سال کے لیے ہیڈ کوچ کا منصب سونپ دیا ہے جبکہ محمد اکرم کو ٹیم ڈائریکٹر اور باؤلنگ کوچ مقرر کردیا گیا ہے۔
    1۔ پشاور زلمی
    ٹوئٹر: 10 لاکھ فالوورز

    فیس بک: 26 لاکھ

    انسٹاگرام: 3 لاکھ 98 ہزار

    2۔ کوئٹہ گلیدی ایٹرز
    ٹوئٹر: 9 لاکھ 92 ہزار

    فیس بک: 12 لاکھ

    انسٹاگرام: 3 لاکھ 21 ہزار

    3۔ اسلام آباد یونائٹڈز
    ٹوئٹر: 7 لاکھ 86 ہزار

    فیس بک: 32 لاکھ

    انسٹاگرام: 3 لاکھ 58 ہزار

    4۔ کراچی کنگز
    ٹوئٹر: 7 لاکھ 49 ہزار

    فیس بک: 15 لاکھ

    انسٹاگرام: 3 لاکھ 62 ہزار

    5۔ ملتان سلطانز
    ٹوئٹر: 2 لاکھ 84 ہزار

    فیس بک: 10 لاکھ

    انسٹاگرام: 1 لاکھ 87 ہزار

    6۔ لاہور قلندرز
    ٹوئٹر: 7 لاکھ 42 ہزار

    فیس بک: 13 لاکھ

    انسٹاگرام: 3 لاکھ 48 ہزار