Baaghi TV

Category: بلاگ

  • رمضان،قرآن اور عہد و پیمان…!!! تحریر: جویریہ بتول

    رمضان،قرآن اور عہد و پیمان…!!! تحریر: جویریہ بتول

    رمضان،قرآن اور عہد و پیمان…!!!
    (تحریر: جویریہ بتول)۔

    گردشِ لیل و نہار…مختلف رنگوں اور موسمی تغیرات سے ہوتی ہوئی آج پھر اُس دہلیز پہ کھڑی ہے جہاں ہلالِ رمضان اپنے گہرے سکون،فضیلت اور ایماں کی حلاوت کے ساتھ نظر آنے کو ہے…
    وہ با برکت اور پُر فضیلت و فلاح گھڑیاں ہماری زندگی میں ایک اور گولڈن چانس کی صورت داخل ہونے کو ہیں جن کی خصوصیت یہ ہے کہ جن میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے باب بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں…
    رحمت کی وہ گھڑیاں جن میں بجا لائی جانے والی عبادت کے بارے میں خالقِ کائنات نے فرمایا:
    روزہ خاص میرے لیئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا اور ایک نیکی کے بدل دس گنا جزا ملے گی…
    جس عمل کو بجا لانے والوں کے لیئے جنت میں ایک باب ہی ان سے منسوب کر دیا گیا کہ روزِ محشر صرف روزہ دار ہی اس میں سے بلائے جائیں گے۔
    جن گھڑیوں کی سعادت کا مقام یہ ہے کہ ایمان اور ثواب کی نیت سے کیا جانے والا عمل (روزہ) پچھلے گناہوں کو دھو ڈالنے اور بخشش و مغفرت کی نوید بن جائے…
    دن بھر اللّٰہ کی رضا کی خواہش لیئے بھوک اور پیاس کے لمحے گزارنے والے شخص کو دو خوشیوں کی بشارت دی گئی…
    ایک روحانی و جسمانی سکون جو وہ افطار کے وقت محسوس کرتا ہے اور دوسری خوشی جب وہ اپنے رب سے اس کی جزا وصول کرے گا…
    للصائم فرحتان یفرحھما اذا افطر فَرِحَ واذا لقی ربہ فَرِحَ بصومہ…(صحیح بخاری)
    یہ گھڑیاں ہماری سمت کو درست کرنے،ہمارے بگاڑ کو سنوارنے،اور کردار کو اُجالنے کا پیام بن کر اُفق پر نمودار ہوتی ہیں…
    تاکہ سال کے بقیہ ایام کے لیئے ہم یہ سبق بہترین انداز میں ازبر کر لیں کہ…
    لعلکم تتقون¤
    یہ چڑھا رنگِ تقویٰ گزرتے لمحات میں سیاہی و گرد سے اٹ نہ جائے…
    ٹیڑھی میڑھی راہوں پہ کھو کر یہ آئینہ دھندلا نہ جائے…
    اگر تم سمجھو تو یہ ایک مہینہ کی تربیت تمہارے سال کے بقیہ ایام کے لیئے بہترین زادِ راہ ہے۔
    جھوٹ،فسق،دھوکہ،فحاشی،
    غفلت اور روحانی و جسمانی امراض سے نجات کا بہترین فارمولہ ہے…
    لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو اللّٰہ نے بھی اپنا معیار بتا دیا…
    من لم یدع قول الزور والعمل بہ فلیس اللّٰہ حاجۃ فی اَن یَّدَعَ طعامہ و شرابہ…(صحیح بخاری)۔
    جھوٹ و دغا،برائی و بے حیائی،
    سے رکنا نہیں ہے تو بھوک،پیاس بھی بے فائدہ رہے گی…!!!
    یہ Training course تمام آلائشات کو دھو دینے،خود سے دور کر دینے اور بہا دینے کا نام ہے…!!!
    آگے بڑھیئے !!!
    رمضان وہ مہینہ ہے جسے شھر القرآن کہا جاتا ہے،
    یعنی وہ مہینہ جس میں قرآن نازل ہوا…
    جس کی عظمت کو اپنے،پرائے سبھی مانتے ہیں،میرے قلم کا اظہارِ عقیدت و محبت بھی کُچھ یوں کاغذ کے سینے پر اُترا ہے:
    مومنوں کے لیئے رحمت…
    انسانیت کے لیئے ہدایت…
    ہے علوم کا سمندر…
    اسرار کا جہاں ہے…
    دیکھو تو اس کے اندر
    ہے جو یہ کتابِ آخر…!!!
    رہ کی ہے روشن قندیل…
    اس میں ہر شئے کی تفصیل…
    مہ و انجم کے ہیں اسرار…
    برے،بھلے سے کرے خبردار…
    یہ روحِ انسان کا شباب…
    جمود فکر میں انقلاب…!!!
    یہ تو ضابطۂ حیات ہے…
    منزلِ مقصود کا راز ہے…
    یہ ہے وہ شفاف چشمہ…
    جو مثلِ آبِ حیات ہے…!!!
    عقبیٰ کی ہے روشنی…
    جنت کا حصول بھی…
    جہنم سے آڑ ہے یہ…
    رحمتوں کا نزول بھی…!!!
    جس کی لحن کی کشش…
    دل کے تاروں کو کھینچتی ہے…
    اندر کی سب پیاس بجھا کر…
    گہرائی تک سینچتی ہے…!!!
    اس کے بغیر ہے انساں ادھُورا…
    نہ سمجھ سکے کوئی مسئلہ…
    نہ سیکھ پائے علم کوئی پُورا…
    دردِ انسانیت سے کرے آشنا…
    ظاہر و باطن کرے ہم صدا…
    قرآن ہی ہے میری زندگی…
    میرے لیئے ہے یہ رہِ بندگی…!!!
    شب کی ظلمت میں بھٹکتے ہوئے…
    مرے لیئے ہے یہ پیامِ سحر …!!!
    مرے لیئے تو زندگی میں بس…
    ساتھ قرآن کا ہی ہے فخر…!!!
    اسی پہ عمل، ہے عملِ جلیل…
    بِن اس کے ہے یہ انساں ذلیل…!!!
    غلاف میں لپٹا،الماری کی بلندی پر پڑا قرآن رمضان کے مہینہ میں ہمارے ہاتھوں میں ضرور کھلتا ہے…
    سال بعد ہم تلاوت کے اس ٹوٹے تعلق کو جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں…
    روز کا ایک پارہ،دو پارے تلاوت کرتے ہیں…
    لیکن سوچنا یہ ہے کہ قرآن ہم سے کہتا کیا ہے؟
    کس راہ کی طرف بلاتا،کس سے روکتا ہے؟
    ہماری معاشرت،معیشت،سیاست ،دفاع،حقوق و فرائض، صدقہ و زکوٰۃ،اولاد و والدین، صبح و شام،دن،رات،
    رشتہ داروں،اخلاقیات، کامیابی و ناکامی کے بارے میں کیا رہنمائی کرتا ہے؟
    اس رمضان میں عہد کیجیئے کہ تلاوت کے ساتھ اس کے معانی و مفاہیم کو سمجھنے کی کوشش بھی کرنی ہے۔
    پھر جو سمجھنا ہے،اُسے اپنی زندگی میں عملی طور پر فالو کرنا بھی شروع کر دینا ہے اور اس تعلق کو صرف رمضان تک محدود رکھنے کی بجائے ان شآ ء اللّٰہ آئندہ رمضان کا چاند طلوع ہونے تک جوڑے رکھنے کی عملی مشق کا نقطۂ آغاز بنانا ہے…
    پھر یہ ہو گا کہ آپ کی زندگی کا اک ایک پل رہنمائی کے لیئے اس ہدایت و رحمت کی طرف دیکھنے لگے گا…
    اور رمضان کی ساعتوں کے اعمال حرزِ جاں بن جائیں گے…
    ایک دن بھی اس کے بغیر گزرنے کا تصور محال ہو جائے گا اور یہ میرا personal experience ہے…
    پھر آپ کا دل قائل رہے گا کہ چاہے دو تین آیات ہی سہی،اُنہیں روزانہ سمجھنا آپ کی زندگی کے لیئے آکسیجن کی طرح ضروری ہے اور اس کے بغیر دل افسردہ اور مردہ ہے…!!!
    ہم ہر بار یہ عہد و پیمان باندھتے ہیں مگر چاند رات ہی اس کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں…
    ہمارے انداز و اطوار،
    معمولات و معاملات سب بدلنے لگ جاتے ہیں…
    تو کیا ایسے اعمال اللّٰہ کے پسندیدہ ہیں؟
    کیا متقین کی صفات یہی ہوتی ہیں؟
    کیا رمضان ہمیں یہی سبق سکھانے آتا ہے؟؟
    نہیں بلکہ متقین زندگی کا ہر ہر پَل اپنے رب کے خوف اور اُس کی بخشش کی اُمید کے سائے و سہارے میں گزارتے ہیں…
    بڑائی اور فساد کا قلع قمع کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں…
    یہ گھڑیاں ہمیں پُکار رہی ہیں:
    "اور اپنے رب کی بخشش اور جنت کی طرف لپکو،جس کا عرض زمین و آسمان کے برابر ہے اور جو متقین کے لیئے تیار کی گئی ہے۔
    وہ لوگ جو خوشحالی اور تنگی میں خرچ کرتے ہیں،اور غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں اور اللّٰہ تعالٰی نیکی کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے…”(آل عمران)۔
    آیئے نیکیوں کی لوٹ سیل کے اس موقع پر اس عہد و پیمان کو وفا کرنے کی طرف قدم بڑھائیں…!!!
    زندگی کو اس عہدِ وفا سے مزین کر لیں…
    تو پھر دنیا و آخرت کی کامیابی اور سرفرازی ہمارا ہی خاصہ و مقدر ٹھہرے گی ان شآ ء اللّٰہ
    بقول اقبال
    وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
    تُم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر…
    یہ قرآن کھولنا،پڑھنا،اور سمجھنا صرف منبر و محراب پر بیٹھے ہوئے لوگوں کی ہی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ہم سب کے لیئے بھی اس کو سمجھنا اتنا ہی ضروری ہے…
    "Healing for that in your breasts,a guidance and a mercy for believers…
    امراض بہت بڑھ گئے ہیں…
    چلے آؤ کہ اب شفا تلاشیں…!!!
    عہد تو کیئے ہیں عمر بھر…
    بڑھو کہ کوئی رہِ وفا تلاشیں…!!!
    ==============================
    [جویریات ادبیات،28 شعبان،23اپریل 2020]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • زباں و ذائقہ…!!! تحریر:جویریہ بتول

    زباں و ذائقہ…!!! تحریر:جویریہ بتول

    زباں و ذائقہ…!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)۔
    زبان کا نرم لوتھڑا سب کو ایک جیسا عطا ہوا ہے،
    مگر ہم اس پر فصل اپنی مرضی سے کاشت کرتے ہیں…
    راہوں کو اُلجھاتی خود رو بوٹیوں کی…
    یا…
    اُمید کے پھول کھلاتی خوشبو کی…!!!
    لوہے سے بھی زیادہ شدت سے لگتے وار سے کسی کے لیئے باعثِ تکلیف بناتے ہیں…
    یا پھر نرمی کے بول سے کسی کے دل کے آنگن میں ہمیشہ کے لیئے اَمر ہو جاتے ہیں…
    یاد رکھیئے کہ زباں سے نکلتے فقط لفظ ہی ہیں…
    مگر وہ اپنے ذائقہ کے لحاظ سے بہت متصادم راہیں متعین کرتے ہیں…
    دل میں بہت گہرائی تک اُتر جانے والی…
    یا پھر دل کی نگری سے ہمیشہ کے لیئے نکل جانے والی…
    انہی لفظوں میں شہد جیسی مٹھاس کا بھی احساس ہوتا ہے…
    اور یہی لفظ زہر کی مانند بھی رگ و پے میں اُتر جاتے ہیں…!!!
    بسا اوقات ہمارے کہے گئے الفاظ ہمارے مرنے کے بعد بھی کسی کے لیئے اُمیدِ منزل ثابت ہوتے ہیں…
    اور بعض اوقات ہمارے الفاظ ہی ہماری موت کے بعد بھی کسی کی تلخی کو بڑھاوا دے رہے ہوتے ہیں…!!!
    ہاں زباں سب کو نرم ہی عطا ہوئی ہے…
    مگر ہم اس پر فصل اپنی مرضی سے کاشت کرتے ہیں…
    ذائقہ کی لذت اور شدت کا تعین ہم خود کرتے ہیں…
    کسی کا دل جیت لیتے ہیں…
    کسی کے دل کو مار دیتے ہیں…!!!
    کسی کی راہ میں خوشبو پھیلاتے…
    کسی کی راہ میں کانٹے بچھاتے ہیں…!!!
    کسی کے ہم میٹھے میٹھے…
    کسی کے لیئے ہم سدا کے روٹھے…
    جبکہ حکم کیا ملا تھا…؟
    و قولو للناسِ حسنا…
    سبھی سے بھلی بات کہو…
    اپنے سے،پرائے سے…
    دوستوں کے بارے،دشمنوں کےبارے…
    تمہاری جنگ دلیل،حکمت اور نرمی سے زیر کرنا ہو…
    ترشی،بد کلامی سے ذلیل کرنے کی کوشش نہیں…
    بات سب سے اچھی…
    ذائقہ سب کے لیئے بہتر…
    خوشبو سب کے لیئے یکساں…
    نرمی میں سب کا حصہ…!!!
    برائی کو بھی بھلائی سے دور کرنا…
    سخت لہجوں کے ردِ عمل میں نرم گوشہ پیدا کرنا…
    جہالت کے اندھیرے اور مظاہرے میں بھی عِلم کی شمع سے روشن رکھنا…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اجڈ اور گنوار بدتمیزی کی حد تک گزر جاتے…
    رد عمل کیا ہوتا تھا؟
    محسنِ انسانیت کے لبوں پہ گہری مسکراہٹ…
    اپنی ذات کے لیئے کبھی نہ بدلہ لینے والے…!!!
    اخلاق کے بلند ترین منصب پر فائز…!!!
    صالح اخلاق کی تکمیل کے لیئے بھیجے گئے…
    یہی کسی کردار کے اَمر ہونے کی نشانی…
    اور یہی انداز لاثانی ہے…!!!
    زباں کا ذائقہ شیریں رکھنا…
    لہجوں کی ترشی کو…
    سدا ہی زیریں رکھنا…
    پھر جب کڑواہٹ اور چاشنی کا موازنہ کیا جائے گا تو یقیناً فتح تمہارا مقدر ہو گی…!!!
    ==============================
    (جویریات ادبیات)۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • چند باتیں سماجی تنہائی اور ہماری گھریلو زندگی کے بارے میں از قلم : محمد عتیق ، فیصل آباد

    چند باتیں سماجی تنہائی اور ہماری گھریلو زندگی کے بارے میں از قلم : محمد عتیق ، فیصل آباد

    چند باتیں سماجی تنہائی اور ہماری گھریلو زندگی کے بارے میں
    از قلم : محمد عتیق ، فیصل آباد

    یہ تحریر صرف عامی افراد کے لیے ہے کہ خاص لوگ اس وقت کرونا جیسے مرض سے نبٹنے کے لیے گھروں میں محصور ہیں اور میرے جیسے عام لوگوں جن کو حکومت گھروں میں قید کرنے کے لیے سکیورٹی اداروں کی خدمات لے رہی ہے۔Isolation اختیار کرنا حیوان ناطق کے لیے اتنا آسان کام بھی نہیں ہے۔ میرے جیسے کم علم کو آج تک اس لفظ کی سمجھ ہی نہیں آرہی تھی آج جب پٹاری کھولی تو معلوم پڑا کہ یہ لفظ فرنچ زبان سے انگریزی میں آیا ہے اور فرنچ میں بھی اطالوی زبان سے آیا ہے۔انگریزی زبان میں تو پہلے یہ فرانسیسی لفظ Isole ہی مستعمل ہوا اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ Isolated ہوگیا۔جسے اردو میں تنہائی کہا جاتا ہے اور اس وقت ساری دنیا زور دے رہی ہے کہ خود ساختہ تنہائی اختیار کرلیجیے کہ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔جب کہ ادھر تو حالت یہ ہے کہ ہمارے لوگ تنہا ہوکر بھی تنہا نہیں رہ سکتے جس کا اظہار اک شاعر نے کچھ اس طرح سے کیا ہے۔فرحت احساس کا شعر ہے

    ؎کسی حالت میں بھی تنہا نہیں ہونے دیتی
    ہے یہی ایک خرابی مری تنہائی کی

    اب دیکھیے نہ کہ یہ لفظ کتنے مراحل سے نکل کر ہم تک پہنچا ہے اب حکومتوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ ہم پر ذرا "ہتھ ہولا” رکھیں کہ ہمیں بھی عرصہ لگے گا اس Isolation کو سمجھنے میں۔ خود ساختہ تنہائی سے امراء تو اتنے متاثر نہیں ہوے کہ ان کے کھاتے میں لاکھوں، کروڑوں بلکہ اربوں موجود ہیں۔اصل متاثرین تو سفید پوش طبقہ ہے جو موجودہ صورت حال میں نہ تو کما سکتا ہے اور نہ ہاتھ پھیلا سکتا ہے۔حکومتی امداد کے پہلے مرحلے میں تو ان کا ذکر تک نہیں ہے اور اگر آ بھی جائے تو شرم کے مارے لے گا نہیں کہ بھرم ٹو ٹ جاے گا۔ کاروبار حیات بند ہے اور لوگ دکانوں کے آدھے شٹر اٹھا کر کاروبار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ چائے خانے جو کہ اب کیفے ٹیریا اور ٹی ہاوس میں بدل چکے تھے وہ بھی ویران ہیں۔یارانے، دوستیاں اور حتی کہ دشمنیاں بھی سماجی فاصلے قائم رکھ کر قائم رکھنے کی کوشش کی جارہی ہیں۔
    مردحضرات جو کہ اس وقت گھروں میں موجود ہیں وہ اک تو نوکری سے تنگ ہیں کہ حالات ہرگزرتے دن کے ساتھ سخت ہورہے ہیں اور گھر میں وقت ہے کہ گزر ہی نہیں رہا کیوں کہ بقول کسے ”اپنی بیوی کے ساتھ صرف وقت گزرتا ہے جب کہ دوسرے کی بیوی کے ساتھ وقت بھاگتا ہے“۔ خیر یہ تو بات ازراہ مزاح آگئی۔ آج پاک بلاگرز فورم کے چیئرمین محمد نعیم شہزاد صاحب کی طرف سے فورم کے گروپ میں پیغام آیا کہ اس گروپ کی قلمی کاوش کی صلاحیت چھن چکی ہے اور خواتین کو ودیعت کردی گئی ہے وغیرہ۔۔اب چیئرمین صاحب کو کون سمجھائے کہ جی اس وقت خواتین کو ہی فراغت کے لمحات میسر ہیں۔ مردحضرات کو تو دفتری کاموں کے ساتھ امور خانہ داری بھی نبھانا پڑ رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ رات گئے سوشل میڈیا پر تصاویر چڑھا کر کہا جاتا ہے کہ جی رات گئے عیاشی ہورہی ہے۔اصل میں مرد حضرات اس وقت رات کے برتن دھوکر فارغ ہوتے ہیں اور یاردوستوں کا حال احوال پوچھنے کے چکروں میں اپنی امارت ظاہر کرتے نظر آتے ہیں۔ حالاں کہ اسے "عیش” نہیں "عیش تلخ کرنا” کہہ سکتے ہیں۔ بات ہورہی تھی فورم کی جس میں اکثریت اساتذہ و طالب علموں پر مشتمل ہے اور فراغت کے اچھے خاصے لمحات بھی میسر ہیں لیکن اس کے باوجود لکھنے سے انکاری ہیں تو چیئرمین صاحب نے ہی یہ عقدہ سلجھایا کہ شادی شدہ لوگوں کی بیگمات کو عرضی بھیجی جائے جس کی سرخی کچھ یوں ہو ”درخواست بنام بیگمات معززات برائے فراہمی وقتِ تحریر بشرطِ تکمیل امورخانہ داری“ جس پر کچھ لوگوں نے ہمت باندھ کر قلم پکڑنے کی ٹھانی ہے۔ امید ہے کہ خاتون خانہ اب لکھاری احباب کو استثنا دے دیں گی تاکہ وہ دل کی بھڑاس نکال سکیں۔ اب لفظ استثنا ہی کو دیکھ لیجیے کہ اکثریت اسے ”استثنیٰ“ لکھ دیتی ہے حالاں کہ اصل لفظ استثنا ہے جس کا مطلب کسی عام حکم سے علاحدہ قرار دینے کی صورت مراد ہے۔اب دیکھیے کب احباب کو فرصت ملے اور وہ باورچی خانہ سے باہر نکل کر قلم دوات رکھ کر کاغذ پر چند لفظ لکھ بھیجیں۔ ویسے باورچی خانہ میں بھی اب توجدیدیت کی بھرمار ہوچکی ہے لفظ باورچی خانہ ہی تبدیل ہو کر کچن بن چکا ہے۔ انگریزی کا لفظ Kitchen کسی دور میں جرمن والوں سے لیا گیا تھا جو کہ انھوں نے اطالویوں سے لیا تھا۔ باقی اس لفظ پر اتنی بحث موجود ہے جتنی اماں کے ہاتھوں کھائی گئی برتنوں سے مار ہے۔ باورچی خانے کے ساتھ ہی ہمارے کئی لفظ بھی متروک ہوچکے ہیں۔ قومی و علاقائی ایسے الفاظ ہیں جن کی حالت ایسی ہے جیسے کسی طاقت ور بندے نے کسی کم زور بندے کا قرضہ واپس کرنا ہو۔ہمیں رکابی پلیٹ کی شکل میں میسر ہے،کفگیر تو عرصہ سے متروک ہوچکا ہے۔ مٹی کی سکوریاں ہوتی تھیں جو کہ ہندوستان میں اب بھی استعمال ہوتی ہیں،کُلہڑ (مٹی کا آب خورہ) ہوتا تھا، آب خورہ بھی شاید معلوم ہو آپ کو، سلفچی، آفتابہ، بادیہ، رکابی، خاص دان، کٹوری، طشتری، چنگیر تو اب بھی دیہاتوں میں چل رہی ہے، لفظ بگونہ سے تو شاید ہی کوئی واقف ہو۔ گھڑونچی بھی باورچی خانے سے متعلق تھی، صراحی خود بھی غائب ہوچکی ہے اور اب صرف صراحی دار گردنیں دیکھنے کو مل رہی ہیں یا پھر شعراء کے اشعار میں اس کا ذکر ملتا ہے جیسے کہ استاد ذوق کہتے ہیں

    ؎تواضع کا طریقہ پوچھو صاحبو صراحی سے
    کہ جاری فیض بھی ہے اور جھکی جاتی ہے گردن بھی

    لفظ قندیل بھی دیکھیے کہ اپنی اصل شکل میں کہاں سے آیا اور کہاں سے ہوتا ہوا اب متروک ہوچلا ہے۔عربی سے اردو میں اپنے اصل معنی وساخت میں داخل ہوا۔ ہمارے ہاں اک لفظ لالٹین بھی مستعمل تھا جو کہ انگریزی سے آیا ہے لیکن انگریزی میں بھی اطالوی زبان سے آیا ہے۔دست پناہ تو شاید کسی بزرگ کو ہی معلوم ہوگا۔ جدید دور کے ساتھ ساتھ اردو بھی ترقی کے زینے چڑھ رہی ہے۔ اب دیکھیے کہ اگلی نسل کتنے الفاظ مستعار لیتی ہے اور کہاں کہاں سے لیتی ہے۔
    بہرحال بات ہورہی تھی اک تنظیمی بیٹھک کی جس میں سماجی فاصلے کو قائم رکھتے ہوے واٹس ایپ پر ہی بحث ہورہی تھی۔ اب یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کون کون قلم کو تیز کرتا ہے کیوں کہ زبانیں تو عورتوں کی تیز ہوتی ہیں۔ لکھاری تو قلم کو ہی تیز کرسکتے ہیں۔ غصہ نکالنے کے لیے اس وقت بہترین وقت موجود ہے۔فرصت کے لمحات میں قلم اٹھائیے اور قارئین پر برس پڑیں کہ قاری ہی آپ کے دکھ کو سمجھ سکتا ہے۔ ”وضاحت کردوں کہ مجھ پر مذکورہ باتیں صادق نہیں آئیں گی کیوں کہ میں اک غریب بندہ ہوں جو پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے ہرصبح اک شہر سے دوسرے شہر نکل پڑتا ہے اور ویسے بھی جس علاقے میں مقیم ہوں وہاں قانون پر عمل کرنا روایت شکنی کے زمرے میں آتاہے۔ اور رہی بات ان لفظوں کی جو ہمیں باورچی خانے سے ملے ہیں تو عرصہ ہوا اردو زبان کی شاگردی اختیار کیے ہوے اتنا تو بنتا ہی ہے اک شاگرد کا کہ وہ کچھ لفظ اٹھا کر قاری کے سامنے رکھ دے“۔

  • قرآن__!!! بقلم:جویریہ بتول

    قرآن__!!! بقلم:جویریہ بتول

    قرآن__!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    مومنوں کے لیئے رحمت…
    انسانیت کے لیئے ہدایت…
    ہے علوم کا سمندر…
    اسرار کا جہاں ہے…
    دیکھو تو اس کے اندر
    ہے جو یہ کتابِ آخر…!!!
    رہ کی ہے روشن قندیل…
    اس میں ہر شئے کی تفصیل…
    مہ و انجم کے ہیں اسرار…
    برے،بھلے سے کرے خبردار…
    یہ روحِ انسان کا شباب…
    جمود فکر میں انقلاب…!!!
    یہ تو ضابطۂ حیات ہے…
    منزلِ مقصود کا راز ہے…
    یہ ہے وہ شفاف چشمہ…
    جو مثلِ آبِ حیات ہے…!!!
    عقبیٰ کی ہے روشنی…
    جنت کا حصول بھی…
    جہنم سے آڑ ہے یہ…
    رحمتوں کا نزول بھی…!!!
    جس کی لحن کی کشش…
    دل کے تاروں کو کھینچتی ہے…
    اندر کی سب پیاس بجھا کر…
    گہرائی تک سینچتی ہے…!!!
    اس کے بغیر ہے انساں ادھُورا…
    نہ سمجھ سکے کوئی مسئلہ…
    نہ سیکھ پائے علم کوئی پُورا…
    دردِ انسانیت سے کرے آشنا…
    ظاہر و باطن کرے ہم صدا…
    قرآن ہی ہے میری زندگی…
    میرے لیئے ہے یہ رہِ بندگی…!!!
    شب کی ظلمت میں بھٹکتے ہوئے…
    مرے لیئے ہے یہ پیامِ سحر …!!!
    مرے لیئے تو زندگی میں بس…
    ساتھ قرآن کا ہی ہے فخر…!!!
    اسی پہ عمل، ہے عملِ جلیل…
    بِن اس کے ہے یہ انساں ذلیل…!!!
    ==============================
    (جویریات ادبیات)21 اپریل 2020
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • زکوٰۃ، فرضیت اور مختصر احکام :  از قلم:حافظہ قندیل تبسم

    زکوٰۃ، فرضیت اور مختصر احکام : از قلم:حافظہ قندیل تبسم

    زکوٰۃ، فرضیت اور مختصر احکام

    حافظہ قندیل تبسم

    اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جو اپنے پیروکاروں کو زندگی کے ہر شعبہ میں کامل رہنمائی فراہم کرتا ہے اور زندگی گزارنے کا مثالی اور معیاری نصب العین متعین کرتا ہے۔ انسانی زندگی ہمہ جہت پہلوؤں سے مزین ہے۔ انہیں پہلوؤں میں معاشیات ہمیشہ سے ایک اہم عمرانی پہلو رہا ہے اور انسان کی زندگی کا مرکز و محور بھی۔ مالی فائدہ اور کثرت شروع سے ہی انسان کا مطمع نظر رہا ہے۔
    لغت میں ’’زکوٰۃ‘‘ کا معنی پاکیزگی اور اضافہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے یہ دونوں فوائد بجا طور پر حاصل ہوتے ہیں۔ مال پاکیزہ بھی ہو جاتا ہے اور با برکت بھی۔

    قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں زکوٰۃ ادا کرنے والوں کے اجر کو بیان کیا ہے۔

    [اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِم وَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ ] (البقرۃ : 277)

    ترجمہ: بے شک جو لوگ ایمان کے ساتھ (سنت کے مطابق) نیک کام کرتے ہیں، نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب تعالیٰ کے پاس ہے، ان پر نہ تو کوئی خوف ہے، نہ اداسی اور غم۔

    زکوٰۃ ارکانِ اسلام کا اہم رکن اور دین متین کا جزو عظیم ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے دین اسلام کی بنیادی تعلیمات بیان کرتے ہوئے فرمایا:

    ” بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ "(صحیح بخاری: 8،صحیح مسلم: 111)

    اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔

    شریعت مطہرہ نے ملت اسلامیہ کے مالدار لوگوں کے مال میں مساکین کو بھی حقدار ٹھہرایا اور ان کی کفالت کا خوب خیال رکھا جو ایک متوازن معاشرے کی بنیاد فراہم کرنے میں معاون و مددگار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان فرمائے ہیں۔

    سورۃ التوبۃ آیت 60 میں اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مستحق افراد کا ذکر فرمایا ہے جس کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے:

    1۔ فقراء :
    فقیر وہ ہے جومحتاج اور ضرورت مند ہو،جس کے پاس درہم و دینار ،روپیہ و پیسہ ،گھر بار نہ ہو اور قلاش اور خستہ حال ہو۔

    2۔ مسکین:
    مسکین وہ ہے جس کے پاس ضروریات زندگی کے لیے مال اس قدر کم ہو کہ کفایت نہ کرے۔ اور اگرچہ ایسے شخص کا گھر بار اور کاروبار بھی ہومگر پھر بھی وہ باوقار زندگی کے لئے نا کافی وسائل رکھتا ہو۔

    3۔ عاملین زکوٰۃ:
    وہ حکام جو زکوٰۃ کی وصولی اور اس کے حساب کتاب کے ذمہ دار ہیں۔

    4۔تالیف قلب:
    ایسے غیر مسلم کوزکوٰۃ میں سے مال دیا جاسکتا ہے جو اسلام کے قریب آ سکتا ہو اور جس سے یہ توقع ہو کہ وہ مال لے کرمسلمان ہوجائے گا اور اہل ایمان کے دفاع میں تعاون کرےگا اس کے علاوہ نو مسلم کو بھی اسلام پرپختہ کرنے کےلیے زکوٰۃ میں سے مال دیا جا سکتا ہے۔

    5۔ گردنیں آزاد کرانا:
    غلاموں کی آزادی یا قیدیوں کی رہائی کے لیے جو رہائی کے اسباب نہیں رکھتے۔

    6۔ ادائے قرض:
    مقروض لوگوں کوقرض کے بوجھ سے نجات دلانا، مقروض غریب ہو، فقیر ہو یا بے روزگار ہو اور اپنا قرض ادا کرنے سے قاصر ہو مالِ زکوٰۃ سے اس کاقرض ادا کیا جا سکتا ہے۔

    7۔ فی سبیل اللہ:
    اس سے جہاد کی جملہ ضرورتوں کو پورا کیا جا سکتا ہے، اسلحہ خریدا جا سکتا ہے، زیر تربیت عسکری مجاہدین کی خوراک لباس، علاج، معالجہ وغیرہ پر زکوٰۃ کو خرچ کیاجاسکتا ہے۔

    8۔ مسافر:
    زکوٰۃ کی رقم کاحقدار صرف غریب مسافر ہی نہیں بلکہ غنی اور دولت مند شخص بھی اگردوران سفر زادِ راہ اور دیگر سفری ضروریات کا محتاج ہوجائے تو اس پر بھی زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے تاکہ وہ باوقار طور پر منزل تک پہنچ سکے۔

    اسی طرح بعض لوگوں کو مالِ زکوٰۃ نہیں دیا جا سکتا۔ ایسے افراد کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے۔

    1۔ نبی اکرم ﷺ کی آل کےلیے زکوٰۃ حلال نہیں۔
    2۔ غیرمسلموں کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔
    3۔ غنی اور صحت مند آدمی کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔
    4۔ والدین، اولاد اور بیوی کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔

    زکوٰۃ کی فرضیت کے لیے صاحب نصاب ہونا ضروری ہے۔ مختلف اموال میں نصاب کی تفصیل یوں ہے۔
    1۔ سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے۔ یعنی جس کے پاس سال بھر ساڑھے سات تولہ سونا کے زیورات رہے ہوں اس پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہے۔
    2۔ چاندی کانصاب ساڑھے باون تولہ ہے۔
    3۔سونے اور چاندی کے زیراستعمال زیورات کو بھی شامل نصاب کیا جائے گا۔
    4۔مال تجارت، اور اس کا نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابرہے۔

    زکوٰۃ کی شرح:

    بلحاظ وزن یابلحاظ قیمت مندرجہ بالاپراڑھائی فیصد یا چالیسواں حصہ (1/40) ہے اور یہ ایک سال گزر جانے پر ادا کی جائے گی۔

    انسان اگر سوچے کہ وہ اس دنیا میں خالی ہاتھ آیا تھا اور محتاج تھا۔ اس کا وجود اس مالک عظیم کی عطاء ہے اور اسی نے انسان کے لیے اس دنیا میں ہر طرح کی سہولت، نگہداشت کرنے والے شفیق والدین عطا کیے اور بنا مانگے اس کی تمام ضروریات بہم پہنچائیں اور اس کو مال و ثروت سے بھی نوازا۔ اسی دنیا میں اس جیسے ہی کتنے بندے ہیں جن کو وہ آسائش اور کشادگی دستیاب نہیں اور کتنے ہی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کا خیال کرنا اس پر لازم کر دیا ہے تو اسے چاہیے کہ ہوس مال و زر میں پڑ کر اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالے بلکہ اللہ کے دیے مال کو اللہ ہی کی راہ میں خرچ کر کے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی جستجو کرے۔ یہی معراج انسانیت بھی ہے اور تقاضائے وفا بھی۔

  • زکوٰۃ، فرضیت اور مختصر احکام: ازقلم :حافظہ قندیل تبسم

    زکوٰۃ، فرضیت اور مختصر احکام: ازقلم :حافظہ قندیل تبسم

    زکوٰۃ، فرضیت اور مختصر احکام

    حافظہ قندیل تبسم

    اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جو اپنے پیروکاروں کو زندگی کے ہر شعبہ میں کامل رہنمائی فراہم کرتا ہے اور زندگی گزارنے کا مثالی اور معیاری نصب العین متعین کرتا ہے۔ انسانی زندگی ہمہ جہت پہلوؤں سے مزین ہے۔ انہیں پہلوؤں میں معاشیات ہمیشہ سے ایک اہم عمرانی پہلو رہا ہے اور انسان کی زندگی کا مرکز و محور بھی۔ مالی فائدہ اور کثرت شروع سے ہی انسان کا مطمع نظر رہا ہے۔
    لغت میں ’’زکوٰۃ‘‘ کا معنی پاکیزگی اور اضافہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے یہ دونوں فوائد بجا طور پر حاصل ہوتے ہیں۔ مال پاکیزہ بھی ہو جاتا ہے اور با برکت بھی۔

    قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں زکوٰۃ ادا کرنے والوں کے اجر کو بیان کیا ہے۔

    [اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِم وَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ ] (البقرۃ : 277)

    ترجمہ: بے شک جو لوگ ایمان کے ساتھ (سنت کے مطابق) نیک کام کرتے ہیں، نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب تعالیٰ کے پاس ہے، ان پر نہ تو کوئی خوف ہے، نہ اداسی اور غم۔

    زکوٰۃ ارکانِ اسلام کا اہم رکن اور دین متین کا جزو عظیم ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے دین اسلام کی بنیادی تعلیمات بیان کرتے ہوئے فرمایا:

    ” بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ "(صحیح بخاری: 8،صحیح مسلم: 111)

    اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔

    شریعت مطہرہ نے ملت اسلامیہ کے مالدار لوگوں کے مال میں مساکین کو بھی حقدار ٹھہرایا اور ان کی کفالت کا خوب خیال رکھا جو ایک متوازن معاشرے کی بنیاد فراہم کرنے میں معاون و مددگار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان فرمائے ہیں۔

    سورۃ التوبۃ آیت 60 میں اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مستحق افراد کا ذکر فرمایا ہے جس کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے:

    1۔ فقراء :
    فقیر وہ ہے جومحتاج اور ضرورت مند ہو،جس کے پاس درہم و دینار ،روپیہ و پیسہ ،گھر بار نہ ہو اور قلاش اور خستہ حال ہو۔

    2۔ مسکین:
    مسکین وہ ہے جس کے پاس ضروریات زندگی کے لیے مال اس قدر کم ہو کہ کفایت نہ کرے۔ اور اگرچہ ایسے شخص کا گھر بار اور کاروبار بھی ہومگر پھر بھی وہ باوقار زندگی کے لئے نا کافی وسائل رکھتا ہو۔

    3۔ عاملین زکوٰۃ:
    وہ حکام جو زکوٰۃ کی وصولی اور اس کے حساب کتاب کے ذمہ دار ہیں۔

    4۔تالیف قلب:
    ایسے غیر مسلم کوزکوٰۃ میں سے مال دیا جاسکتا ہے جو اسلام کے قریب آ سکتا ہو اور جس سے یہ توقع ہو کہ وہ مال لے کرمسلمان ہوجائے گا اور اہل ایمان کے دفاع میں تعاون کرےگا اس کے علاوہ نو مسلم کو بھی اسلام پرپختہ کرنے کےلیے زکوٰۃ میں سے مال دیا جا سکتا ہے۔

    5۔ گردنیں آزاد کرانا:
    غلاموں کی آزادی یا قیدیوں کی رہائی کے لیے جو رہائی کے اسباب نہیں رکھتے۔

    6۔ ادائے قرض:
    مقروض لوگوں کوقرض کے بوجھ سے نجات دلانا، مقروض غریب ہو، فقیر ہو یا بے روزگار ہو اور اپنا قرض ادا کرنے سے قاصر ہو مالِ زکوٰۃ سے اس کاقرض ادا کیا جا سکتا ہے۔

    7۔ فی سبیل اللہ:
    اس سے جہاد کی جملہ ضرورتوں کو پورا کیا جا سکتا ہے، اسلحہ خریدا جا سکتا ہے، زیر تربیت عسکری مجاہدین کی خوراک لباس، علاج، معالجہ وغیرہ پر زکوٰۃ کو خرچ کیاجاسکتا ہے۔

    8۔ مسافر:
    زکوٰۃ کی رقم کاحقدار صرف غریب مسافر ہی نہیں بلکہ غنی اور دولت مند شخص بھی اگردوران سفر زادِ راہ اور دیگر سفری ضروریات کا محتاج ہوجائے تو اس پر بھی زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے تاکہ وہ باوقار طور پر منزل تک پہنچ سکے۔

    اسی طرح بعض لوگوں کو مالِ زکوٰۃ نہیں دیا جا سکتا۔ ایسے افراد کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے۔

    1۔ نبی اکرم ﷺ کی آل کےلیے زکوٰۃ حلال نہیں۔
    2۔ غیرمسلموں کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔
    3۔ غنی اور صحت مند آدمی کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔
    4۔ والدین، اولاد اور بیوی کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔

    زکوٰۃ کی فرضیت کے لیے صاحب نصاب ہونا ضروری ہے۔ مختلف اموال میں نصاب کی تفصیل یوں ہے۔
    1۔ سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے۔ یعنی جس کے پاس سال بھر ساڑھے سات تولہ سونا کے زیورات رہے ہوں اس پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہے۔
    2۔ چاندی کانصاب ساڑھے باون تولہ ہے۔
    3۔سونے اور چاندی کے زیراستعمال زیورات کو بھی شامل نصاب کیا جائے گا۔
    4۔مال تجارت، اور اس کا نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابرہے۔

    زکوٰۃ کی شرح:

    بلحاظ وزن یابلحاظ قیمت مندرجہ بالاپراڑھائی فیصد یا چالیسواں حصہ (1/40) ہے اور یہ ایک سال گزر جانے پر ادا کی جائے گی۔

    انسان اگر سوچے کہ وہ اس دنیا میں خالی ہاتھ آیا تھا اور محتاج تھا۔ اس کا وجود اس مالک عظیم کی عطاء ہے اور اسی نے انسان کے لیے اس دنیا میں ہر طرح کی سہولت، نگہداشت کرنے والے شفیق والدین عطا کیے اور بنا مانگے اس کی تمام ضروریات بہم پہنچائیں اور اس کو مال و ثروت سے بھی نوازا۔ اسی دنیا میں اس جیسے ہی کتنے بندے ہیں جن کو وہ آسائش اور کشادگی دستیاب نہیں اور کتنے ہی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کا خیال کرنا اس پر لازم کر دیا ہے تو اسے چاہیے کہ ہوس مال و زر میں پڑ کر اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالے بلکہ اللہ کے دیے مال کو اللہ ہی کی راہ میں خرچ کر کے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی جستجو کرے۔ یہی معراج انسانیت بھی ہے اور تقاضائے وفا بھی۔

  • بنت حوا :از قلم :بنت محمد اشرف

    بنت حوا :از قلم :بنت محمد اشرف

    *بنتِ حوا*

    *از قلم: بنتِ محمد اشرف*

    اے بنت حوا سنبھل ذرا تو
    یہ کس راہ پے جا رہی ہے؟
    تو کتنی معصوم تو کتنی سادہ
    مقام جو تجھ کو دیا خدا نے
    کیوں اس سے نیچے تو آ رہی ہے
    یہ میٹھی باتیں ہیں
    جو تجھ سے کرتے…
    نہیں ہیں یہ تجھ سے پیارکرتے !!
    کیوں خود کو ان کے لئے تو…
    تسکیں کا ذریعہ بنا رہی ہے
    حرام ایسی محبتیں ہیں
    نہیں ہے ان میں کوئی کمال رکھا
    اسی لئے تو میرے رب نے بھی
    نہیں ہے ان کو حلال رکھا
    کیوں حکم ربی بھلا رہی ہے
    یہ تو کس راہ پہ جا رہی ہے
    بناحجاب و نقاب کہ گر تو
    سرِبازارجارہی ہے
    ابن آدم کے دل کا مرض تو
    اسی طرح تو بڑھارہی ہے
    بے حیائی پھیلارہی ہے
    بنا کے خود کو نظارہ دعوت
    پھر بھی ابن آدم پہ بد نظری …
    الزام تو لگا رہی ہے
    تو اس کو برا بنا رہی ہے
    یاد رکھ یہ سب کر کے تو
    بابا کی عزت گنوا رہی ہے
    بھائی کے سر کو جھکا رہی ہے
    سکون اس میں ذرا نہیں ہے
    گھر اپنا جہنم میں تو
    اسی طرح تو بنا رہی ہے
    دیکھ اس کو ذرا جو بیٹی مسلماں کی
    سات پردوں میں خود کو چھپائے سرراہ گزرتی جا رہی ہے
    دیکھ کر جسے پکارے ہر اک
    ارے بیٹی مسلماں کی دیکھو…
    وہ شہزادی اسلام کی جا رہی ہے
    اے بنت حوا سنبھل ذرا …
    یہ کس راہ پے جا رہی ہے؟؟؟
    "””””””””””___”””””””””””””__

  • عزم قطرہ تھا میرا، بحر ہو گیا!!! تحریر: محمد طلحہ

    عزم قطرہ تھا میرا، بحر ہو گیا!!! تحریر: محمد طلحہ

    اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں سے کام لینے پر آتا ہے تو کچھ لوگوں کو چن لیا کرتا ہے، ان کے دلوں میں اپنی محبت کو ڈال دیا کرتا ہے اور پھر وہ لوگ دنیا جہاں سے بے خبر اپنے مقصد میں لگ جایا کرتے ہیں، اللہ رب العزت پھر انہیں وسائل بھی عطا کرتے ہیں، دنیا و آخرت کی کامیابیاں اور کامرانیاں ان کا مقدر ٹھہرتی ہیں اور بالآخر وہ رب کی جنتوں کے مستحق ٹھہر جایا کرتے ہیں

    ملک پاکستان سمیت دنیا بھر میں جب خالق کائنات نے کرونا وائرس کی صورت میں اپنے عذاب کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی اور دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا
    انسان نے اپنے تئیں حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کا آرڈر جاری کر دیا لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جب لاک ڈاؤن ہوا تو غربت و افلاس کے ہاتھوں پسی ہوئی عوام مزید متاثر ہوئی تو ایسے میں اللہ تعالیٰ نے کچھ عظیم لوگوں کو چُنا کہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کے ساتھ اپنے ان بھائیوں کی فلاح کا بیڑہ اٹھایا اور اپنے رب سے جنتوں کی امید لگائے ڈٹ گئے
    انہیں عظیم لوگوں میں ایک نام *کرونا فائٹرز تلہ گنگ* کا ہے
    گورنمنٹ کی طرف سے لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا تو اِن اللہ کے بندوں کو اپنے بھائیوں کا درد ستانے لگا اور یہ لوگ اپنے مسلمان بھائیوں کی ممکنہ مدد کرنے کا سوچنے لگے
    رات کے وقت ایک بھائی جو کہ گورنمنٹ ٹیچر ہیں واٹس ایپ سٹیٹس لگاتے ہیں کہ کل اس حوالے سے بھائی اکٹھے ہوں اور یوں کچھ اساتذہ کا ایک گروپ اکٹھا ہو جاتا ہے اور کرونا فائٹرز تلہ گنگ کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے
    کرونا فائٹرز تلہ گنگ کا قیام عمل میں لانے کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ ہم ابتدائی طور پر پچاس گھروں تک راشن پہنچائیں گے لیکن بات وسائل پر آکر اٹک جاتی ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے کام لینا ہوتا ہے تو اسباب وہ خود پیدا کر دیا کرتا ہے اور بالکل ایسے ہی اللہ رب العزت نے مخیر حضرات کے دل میں اس بات کو ڈالا اور انہوں نے اپنے بھائیوں کی مدد کیلئے اپنا روپیہ پیسہ پیش کر دیا اور یوں وہ ابتدائی طور پر پچاس گھروں کیلئے تیار ہونے والا پیکج 100 گھروں کے پیکج میں تبدیل ہوتا ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے یہ کام چھ سو گھروں تک راشن پہنچانے تک جا پہنچتا ہے ۔ بحمد اللہ
    اُس کے بعد رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ دستک دے رہا ہوتا ہے تو کرونا فائٹرز ایک دفعہ پھر اپنی کمر کستے ہوئے اپنے بھائیوں کی مدد کو تیار کھڑے ہوتے ہیں ان شاء اللہ
    اور یوں اس ایک واٹس ایپ سٹیٹس کی بدولت اللہ تعالیٰ اپنے چُنے ہوئے لوگوں سے ایک اتنا بڑا کام لے لیتے ہیں
    جب حوصلے بلند ہوں، اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت شامل حال ہو تو پھر ایک قطرے کو بحر ہونے میں کوئی دیر نہیں لگتی۔
    ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ کرونا فائٹرز تلہ گنگ اور ان مخیر حضرات کہ جنہوں نے دل کھول کر اپنے بھائیوں کے ساتھ تعاون کیا، دنیا و آخرت میں بہترین نعم البدل عطا فرمائے اور اپنی اعلی جنتوں سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین

  • آ نکھ کی پتلی کی شرارتیں تحریر بقلم محمد ارسلان!!!

    آ نکھ کی پتلی کی شرارتیں تحریر بقلم محمد ارسلان!!!

    آ نکھ کی پتلی کی شرارتیں

    Eye Pupil in Quran
    انسان جب جھوٹ بولتا ہے تو وہ اپنی آنکھ کی پُتلی(جسے پیوپلز کہتے ہیں) کے سائز کو کنٹرول نہیں کر سکتا، یہ ایک غیر اختیاری/ارادی عمل ہے:


    خودمختاری اعصابی نظام (اے این ایس) جسمانی افعال کو منظم کرتا ہے جو بغیر کسی کنٹرول (غیر ارادی عمل) کے وقوع پذیر ہوتا ہے.
    اس سسٹم کی دو برانچیں ہیں۔

    i: The sympathetic nervous system
    ii: Parasympathetic nervous system

    دونوں برانچوں کو مختصر سی سٹیٹمنٹس میں بیان کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ
    The sympathetic system
    اڑنے یا لڑنے والے حالات میں کام کرتا ہے جبکہ
    Parasympathetic nervous system
    آرام کرنے اور کھانا ہضم کرنے کے عمل میں کام کرتا ہے
    عام لفظوں میں
    The sympathetic nervous system
    آپکی حفاظت کیلئے اور خطرات سے بچنے کیلئے آپکے جسم کو ہدایت دیتا ہے جبکہ
    The Parasympathetic nervous system
    آپکی انرجی کو محفوظ کرنے اور آرام کرنے کی ہدایات آپکے جسم کو دیتا ہے جیسا کہ بہترین ہاضمہ اور بہترین اور پرسکون نیند سونا۔
    عام طور پر آپکی پریشانیوں اور کشیدگیوں میں کہیں نہ کہیں جھوٹ بھی شامل ہوتا ہے(یہاں تک کہ آپ بہترین جھوٹ بولنے والے انسان بن جاتے ہیں)، کیونکہ آپ ڈر رہے ہوتے ہیں کہ کہیں آپکے جھوٹ کا پول نہ کھل جائے۔
    اور یہی ڈر آپکے "sympathetic nervous system” کو چلاتا ہے جسکی وجہ سے آپکے جسم میں کچھ اثرات پیدا ہوتے ہیں
    Sympathetic nervous system
    کا آنکھ میں متحرک ہونے کی وجہ سے آئرس میں ایک مسل جسکا نام "پیوپلری ڈائلیٹر مسل” ھے وہ حرکت میں آتا ہے اور پیوپل کے سائز کو چوڑائی کی شکل میں بڑھا دیتا ہے جیسا کہ ہم حیرانگی کی صورت میں آنکھیں ضرورت سے زیادہ کھول لیتے ہیں,
    اسکے نتیجے میں ایک بیماری "Mydriasis” لاحق ہوجاتی ہے جسکا مطلب ہے آنکھ کی پُتلی کا غیر معمولی پھیلاؤ۔
    جبکہ دوسری صورت میں جب Parasympathetic system چالو ہوتا ہے تو اسکے نتیجے میں آنکھ کی پُتلی میں سکڑاو آجاتا ہے۔
    مختصراً جہاں پریشانی لاحق ہوتی ہے وہاں جھوٹ بھی شامل ہوتا ہے اور یہی پریشانی sympathetic system کو چلانے کی وجہ بنتی ہے،
    مختصراً جب انسان جھوٹ بولتا ہے تو پیوپل کمزور ہوجاتا ہے۔
    لہذا جھوٹ والے لوگ منہ سے تو جھوٹ بول لیتے ہیں لیکن وہ اپنے پیوپل(آنکھ کی پُتلی) کو کنٹرول نہیں کر سکتے( جیسا کہ اکثر ہم چہرے سے پہچان لیے جاتے ہیں کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں)
    جیسا کہ 1400 سال پہلے ہی قرآن میں بیان کر دیا گیا:

    يَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِى الصُّدُوْرُ (40:19 غافر)
    "وہ آنکھوں کے دھوکے اور دل کے بھید جانتا ہے”
    ۔
    اور ہم جانتے ہیں کہ پیوپل(آنکھ کی پُتلی) جھوٹوں کو دھوکا دیتی ہے کیونکہ جھوٹے لوگ جھوٹ بولتے وقت آنکھ کی پُتلی کی حرکت کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔
    لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ
    1400 سال قبل رہنے والے ایک غیر معمولی شخص(محمد) کس طرح جان سکتے ہیں کہ اپکے پیوپل آپکو دھوکہ دیتے ہیں جب آپ جھوٹ بولتے ہیں؟؟؟؟؟؟
    یہ رب العالمین کے ہونے کی ایک بڑی نشانی ہے

    بقلم محمد ارسلان!!!

  • حُسن سے حُسنِ بیاں تک…!!! بقلم:جویریہ چوہدری

    حُسن سے حُسنِ بیاں تک…!!! بقلم:جویریہ چوہدری

    حُسن سے حُسنِ بیاں تک…!!!
    (بقلم:جویریہ چوہدری)۔

    چرچا بہت ہوتا ہے جہاں میں کُچھ حسینوں کا…
    حُسن کے تصور سے دل کے مکینوں کا…
    گر ظاہریت پہ ہوتی فدا سب ادائیں ہیں…
    مگر باطن کے زور پر سفر ہوتا ہے سفینوں کا…
    صرف حُسن کے زعم میں پھرنا اچھا نہیں لگتا…
    کہ زندگی کٹنے میں، ہاتھ ہوتا ہے کُچھ قرینوں کا…
    حُسن کی شوخی سے اکڑی گردن ہی نہیں اچھی…
    مقام بڑا ہی ہوتا ہے،عجز سے جھُکی جبینوں کا…
    حُسن صورت کے خالق کا شکر بھی ہے لازم سدا…
    اندازِ تشکر لبوں پہ،اظہار پلکوں پہ چمکتے نینوں کا…!!!
    یہ دیکھنا ناگزیر ہے، کہ کون پیکرِ جمیل ہے؟
    حُسن و خوبروئی سےلے،نہاں جو خیال ہے سینوں کا…!!!
    حُسن سے حُسنِ بیاں تک سفر ذرا دھیرے سے کٹتا ہے…!
    بہت سوچ کے کہنا ہے،یہ قول باریک بینوں کا…!!!!!
    ==============================(20 اپریل 2020)۔
    [جویریات ادبیات]