Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پی ایس ایل میں آج  کراچی کنگز اور  ملتان سلطانز کا پڑے گا جوڑ

    پی ایس ایل میں آج کراچی کنگز اور ملتان سلطانز کا پڑے گا جوڑ

    پی ایس ایل میں‌ آج کراچی کنگز اور ملتان سلطانز کا پڑے گا جوڑ

    باغی ٹی وی :آج پی ایس ایل کاایک اہم میچ کھیلا جا رہا ہے. پاکستان سپر لیگ 5 کے سنسنی خیز میچز کا سلسلہ جاری ہے، آج لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پی ایس ایل کی سب سے مقبول ٹیم کراچی کنگز کا مقابلہ ملتان سلطانز سے ہوگا۔
    آج لاہور میں رات 8 بجے کراچی کنگز اور ملتان سلطانز دوسری بار ٹکرائیں گے، یہ پی ایس ایل فائیو کا 19 واں میچ ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان 28 فروری کو ملتان میں کھیلا جانے والا پہلا میچ ملتان ٹیم نے 52 رنز سے جیتا تھا۔ یہ پی ایس ایل کا دسواں میچ بھی تھا۔

    میچ کے امپائرز ہیں مائیکل گف، شوزیب رضا اور ناصر حسین۔ جب کہ میچ ریفری ہوں گے عزیز الرحمان اور ٹی وی امپائر ہوں گے آصف یعقوب۔

    پی ایس ایل سیزن فائیو میں ملکی اور غیر ملکی اسٹارز کی سوپرڈوپر پرفارمنس جاری ہے، عماد وسیم کی قیادت میں کنگز آج قذافی اسٹیڈیم فتح کرنے کو پر عزم دکھائی دے رہے ہیں، کراچی کنگز کی اوپننگ جوڑی سب پر بھاری نظر آ رہی ہے، بابر اعظم اور شرجیل خان بولرز کی خوب دھلائی کرتے ہیں۔ایلکس ہیلز اور کیمرون ڈیلپورٹ بھی میچ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جب کہ بولنگ میں محمد عامر، کرس جورڈن اور عمر خان سے امید ہے کہ اپنی ٹیم کو جتوانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ دوسری طرف سلطانز کے معین علی اور رائلی روسو کراچی کنگز کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، کے کے کو میچ جیتنے کے لیے ملتان ٹیم کے آل راؤنڈر سہیل تنویر اور بولر محمد الیاس کو سنبھل کے کھیلنا ہوگا۔

  • عورت آزادی مارچ کیا ہے؟ تحریر محمد عبداللہ گل

    عورت آزادی مارچ کیا ہے؟ تحریر محمد عبداللہ گل

    عورت آزادی مارچ کیا ہے؟
    محمد عبداللہ گل
    عورت کو اسلام نے ایک وہ مقام و مرتبہ دیا ہے جو کسی اور مذہب نے نہیں دیا۔اسلام نے اسے اپنی عزت اور مرتبے کی حفاظت کے لیے اک راستہ بتا دیا۔آج کل خواتین مارچ کر رہی ہیں کہ ان کے حقوق تلف کیے جا رہے ہیں۔عورت آزادی مارچ علماء اور باشعور لوگوں کے نزدیک ایک فریب ہے اس کے پیچھے مقاصد یہود اور ہندووں کے کارفرما ہیں۔
    فرمان باری تعالی ہے :-
    "یہ (یہود و نصاری)تمھارے دوست ہرگز نہیں ہو سکتے”
    اسلام نے عورت کو حقوق عطا کیے۔
    فرمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے ؛-
    اے لوگوں ! عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو”
    میرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنے خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر بھی خواتین کے حقوق پر زور دیا۔
    لیکن قارئین گرامی! اگر ہم آج کے لبرل طبقہ کا موقف دیکھے تو ان کا مقصد یہ ہے کہ عورتوں کو برہنہ رہنے کی اجازت دی جائے۔ان کے مقاصد میں ہے کہ ان خواتین کو فحاشی کے اڈے چلانے کی اجازت دی جائے۔ان آزادی مارچ والوں کا نعرہ ہے
    میرا جسم میری مرضی
    اس نعرہ کو جب ایک غیرت مند مسلمان بولتا ہے تو اس کے دل خون کے آنسو روتا ہے۔آج کیا ہوگیا ہم لوگوں نے اپنی بیٹیوں، بہنوں، کی تربیت بلکل بھی نہیں کی جس کا۔نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں۔امت مسلمہ کے غیرت مند والدین نے جب اپنی بیٹیوں کو
    بیکن ہاؤس(Beacon House) جیسے تعلیمی اداروں میں تعلیم کے لیے داخل کروایا جس کا نتیجہ یہ حاصل ہوا کہ ہماری بیٹیاں کہنے لگ گئی
    میرا جسم میری مرضی ان اداروں میں اسے تعلیم دی گئی کہ:-
    "تیرے ساتھ تیرا باپ نا انصافی کر رہا ہے تجھے باہر جانے کی۔آزادی نہی دے رہا تو تیرے ساتھ نا انصافی ہے”
    یہ تعلیمات دے کر عورت کو آزادی مارچ کرنے کے لیے بیرون عناصر نے فنڈنگ کرنا شروع کر دی اور اگر دیکھا جائے تو ان کا نعرہ ہے
    تیزاب گردی بند کرو
    اسلام نے تو عورت کو اتنا تحفظ دیا ہے کہ تو چار دیواری میں رہ اور اپنی عزت کی حفاظت کر لے۔لیکن جب عورت باہر نکلی اسلام کی تعلیمات کے ساتھ قتال کیا تو غیر محرم کی اس پر نظر پڑی اور پھر اس نے اس عورت پر تیزاب پھینکا شروع کیا۔قارئین! اگر یہ گھر میں رہتی تو اس کے ساتھ یہ معاملہ نہ ہوتا۔
    فرمان باری تعالی ہے:-
    "اے نبی! اپنی بیویوں کو ،اپنی بیٹیوں کو اور مومنوں کی بیویوں اور بیٹیوں کو کہ دو کہ گھروں میں رکی رہو”
    ان لبرل معافیاں کا ایک اور نعرہ ہے:-
    میں تمھارا کھانا کیوں گرم کروں
    افسوس صد افسوس! اے امت مسلمہ کی بیٹی تجھے کیا ہو گیا تونے اسلاف کی تعلیمات کوبھلا دیا اور مغربی کلچر کو اپنا لیا
    سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ
    جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام بطور مال غنیمت آئے۔تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو کہا کہ آپ سارا دن چکی میں گیہوں پیستی ہو،پانی کا مشکیزہ بھی اٹھا کر لاتی ہو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک غلام لے آو تاکہ آپ کی کچھ مدد ہو جائے گی۔جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سلطان عرب کے پاس جا کر اپنا مدعا بیان کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا
    "اے میری بیٹی فاطمہ! اپنا کام خود کیا کرو اور رات کو کام سے فراغت کے بعد تسبیح بتائی یہ کیا کرو”
    آج کی عورت کا کیا مقام سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ سے اونچا ہے(نعوذ باللہ) اگر خاتون جنت اپنا کام اور حضرت علی کا کام کر سکتی ہے تو آج کی مسلمان عورت کیوں نہیں۔
    اسکے بعد ایک اور مقصد ہے کہ
    ہم پردہ کیوں کرے
    اگر یہ خواتین مسلمان ہیں تو یہ نعرہ لگانا ان کے لیے بلکل درست نہیں۔عورت کا مطلب ہی چھپی چیز کا ہے۔
    جس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم سب امتی ہیں ان کی بیٹی خاتون جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ اپنےخاوند حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کیا وصیت کرتی ہے۔
    "اے علی! میرا جنازہ رات کو اٹھانا اور میری چارپائی پر کھجور کے پتے بھی ڈالنا تاکہ کسی کو علم بھی نہ ہو کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کا جنازہ جا رہا ہے”
    لیکن قارئین! ان جاہل قسم کی عورتوں نے تو بے غیرتی کی انتہا کر دی کہ کہنے لگی میں پردہ کیوں کرو۔یا تو اے بہن! مسلمان کہلوانا چھوڑ دے یا یہ نعرہ چھوڑ دے۔
    *ہمیں اس مارچ سےاختلاف کیوں؟
    جیسا کہ اوپر میں نے ان کے چند ایک نعروں کی تفصیل بتائی اور ان کا جواب بھی دیا۔اب کچھ قارئین کے ذہن میں آئے گا مجھے اختلاف کیوں ہے۔یہ سارے نعرے امت مسلمہ کی بیٹی کے نہی یہ مغرب کی ڈینا، ٹینو کے ہے۔
    ان کو امریکہ اور برطانیہ نے اس ملک پاکستان کی شریف اور متقی بیٹیوں کو تباہ کرنے کے لیے بھیجا ہے تاکہ شریف النفس امت کی بیٹیوں کو بھی تباہ کیا جائے۔اور امت مسلمہ کی مائیں محمد بن قاسم،سلطان محمود غزنوی جیسے شیر جننا چھوڑ دے۔
    ہمیں اس بے غیرتی مارچ کا ہر پلیٹ فارم پر رد کرنا چاہیے اور ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان صاحب جو کہ پاکستان کو ریاست مدینہ جیسا بنانا چاہتے ہیں ان کو ان موم بٹی مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔
    اسلام نے عورت کو کیا حقوق دئیے؟
    عورت کا جو حال عرب میں تھا وہی پوری دنیا میں تھا؛ عرب کے بعض قبائل لڑکیوں کودفن کردیتے تھے۔ قرآن مجید نے اس پر سخت تہدید کی او راسے زندہ رہنے کا حق دیا اور کہا کہ جو شخص اس کے حق سے روگردانی کرے گا، قیامت کے دن خدا کو اس کاجواب دینا ہوگا۔ فرمایا:
                    وإذا الموٴدةُ سُئِلَتْ․ بأیِ ذنبٍ قُتِلَتْ (التکویر: ۸۔۹)
                    اس وقت کو یاد کرو جب کہ اس لڑکی سے پوچھا جائے گا جسے زندہ دفن کیاگیا تھا کہ کس جرم میں اسے مارا گیا۔
                    ایک طرف ان معصوم کے ساتھ کی گئی ظلم وزیادتی پر جہنم کی وعید سنائی گئی تو دوسری طرف ان لوگوں کوجنت کی بشارت دی گئی۔ جن کادامن اس ظلم سے پاک ہو او رلڑکیوں کے ساتھ وہی برتاوٴ کریں جو لڑکوں کے ساتھ کرتے ہیں اور دونوں میں کوئی فرق نہ کریں۔ چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کی لڑکی ہو وہ نہ تو اسے زندہ درگور کرے اور نہ اس کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کرے اور نہ اس پر اپنے لڑکے کو ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا(۴)۔
    عورت بحیثیتِ انسان
                    اسلام نے عورت پر سب سے پہلا احسان یہ کیا کہ عورت کی شخصیت کے بارے میں مرد وعورت دونوں کی سوچ اور ذہنیت کو بدلا۔ انسان کے دل ودماغ میں عورت کا جو مقام ومرتبہ اور وقار ہے اس کو متعین کیا۔ اس کی سماجی، تمدنی، اور معاشی حقوق کا فرض ادا کیا۔ قرآن میں ارشاد ربانی ہے :
                    خلقکم من نفسٍ واحدةٍ وخَلَقَ منہا زوجَہا (النساء: ۱)
                    اللہ نے تمہیں ایک انسان (حضرت آدم) سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو بنایا۔
                    اس بنا پر انسان ہونے میں مرد وعورت سب برابر ہیں۔ یہاں پر مرد کے لیے اس کی مردانگی قابلِ فخر نہیں ہے اور نہ عورت کے لیے اس کی نسوانیت باعثِ عار۔ یہاں مرد اور عورت دونوں انسان پر منحصر ہیں اور انسان کی حیثیت سے اپنی خلقت اور صفات کے لحاظ سے فطرت کا عظیم شاہکار ہے۔ جو اپنی خوبیوں اور خصوصیات کے اعتبار سے ساری کائنات کی محترم بزرگ ترین ہستی ہے۔ قرآن میں ا شاد ہے کہ:
                    وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ آدَمَ وَحَمَلْنٰہُمْ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰہُم مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰہُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلاً(سورہ بنی اسرائیل: ۷۰)
                    ہم نے بنی آدم کو بزرگی وفضیلت بخشی اور انھیں خشکی اور تری کے لیے سواری دی۔ انھیں پاک چیزوں کا رزق بخشا اور اپنی مخلوقات میں سے بہت سی چیزوں پر انھیں فضیلت دی۔
                    اورسورہ التین میں فرمایا:
                    لَقَدْ خَلَقْنَا الاِنْسَانَ فِی اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ (التین: ۴)
                    ہم نے انسان کو بہترین شکل وصورت میں پیدا کیا۔
                    چنانچہ آدم کو جملہ مخلوقات پر فضیلت بخشی گئی اور انسان ہونے کی حیثیت سے جو سرفرازی عطا کی گئی اس میں عورت برابر کی حصے دارہے۔(۵)
    عورتوں کی تعلیم کا حق
                    انسان کی ترقی کا دارومدار علم پر ہے کوئی بھی شخص یاقوم بغیر علم کے زندگی کی تگ ودو میں پیچھے رہ جاتاہے۔ اور اپنی کُند ذہنی کی وجہ سے زندگی کے مراحل میں زیادہ آگے نہیں سوچ سکتا اور نہ ہی مادی ترقی کا کوئی امکان نظر آتاہے؛ لیکن اس کے باوجود تاریخ کا ایک طویل عرصہ ایسا گزرا ہے جس میں عورت کے لیے علم کی ضرورت واہمیت کو نظر انداز کیاگیا اور اس کی ضرورت صرف مردوں کے لیے سمجھی گئی اور ان میں بھی جو خاص طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں صرف وہی علم حاصل کرتے تھے اور عورت علم سے بہت دور جہالت کی زندگی بسر کرتی تھی۔
                    لیکن اسلام نے علم کو فرض قرار دیا اور مرد وعورت دونوں کے لیے اس کے دروازے کھولے اور جو بھی اس راہ میں رکاوٹ وپابندیاں تھیں، سب کو ختم کردیا۔اسلام نے لڑکیوں کی تعلیم وتربیت کی طرف خاص توجہ دلائی اور اس کی ترغیب دی، جیسا کہ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طلب علم فریضة اور دوسری جگہ ابوسعید خدی کی روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
                    مَنْ عَالَ ثلاثَ بناتٍ فأدَّبَہُنَّ وَزَوَّجَہُنَّ وأحسنَ الیہِنَّ فلہ الجنة(۶)
                    جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ان کو تعلیم تربیت دی، ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ (بعد میں بھی) حسنِ سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔
                    اسلام مرد وعورت دونوں کو مخاطب کرتا ہے اور اس نے ہر ایک کو عبادت اخلاق وشریعت کا پابند بنایا ہے جو کہ علم کے بغیر ممکن نہیں۔ علم کے بغیر عورت نہ تو اپنے حقوق کی حفاظت کرسکتی ہے اور نہ ہی اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرسکتی ہے جو کہ اسلام نے اس پر عائد کی ہے؛ اس لیے مرد کے ساتھ ساتھ عورتوں کی تعلیم بھی نہایت ضروری ہے۔
                    جیسا کہ گزشتہ دور میں جس طرح علم مردوں میں پھیلا، اسی طرح عورتوں میں بھی عام ہوا۔ صحابہ کے درمیان قرآن وحدیث میں علم رکھنے والی خواتین کافی مقدار میں ملتی ہیں، قرآن وحدیث کی روشنی میں مسائل کا استنباط اور فتویٰ دینا بڑا ہی مشکل اور نازک کام ہے؛ لیکن پھر بھی اس میدان میں عورتیں پیچھے نہیں تھیں؛ بلکہ صحابہٴ کرام کے مدِمقابل تھیں، جن میں کچھ کا ذکر کیا جاتاہے۔ مثلاً:
                    حضرت عائشہ، حضرت ام سلمہ، حضرت ام عطیہ، حضرت صفیہ، حضرت ام حبیبہ، اسماء بنت ابوبکر، ام شریک، فاطمہ بنت قیس، وغیرہ نمایاں تھیں۔(۷)
    معاشرتی میدان
                    جس طرح دیگر معاشروں نے عورت کو کانٹے کی طرح زندگی کی رہ گزر سے مٹانے کی کوشش کی تو اس کے برعکس اسلامی معاشرہ نے بعض حالتوں میں اسے مردوں سے زیادہ فوقیت اور عزت واحترام عطا کیا ہے۔ وہ ہستی جو عالمِ دنیا کے لیے رحمت بن کر تشریف لائی( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اس نے اس مظلوم طبقہ کو یہ مژدہ جانفزا سنایا:
                    حُبِّبَ الَیَّ مِنَ الدُّنْیَا النِّسَاءُ والطِّیُبُ وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَیْنِيْ فِی الصَّلوٰةِ(۸)
                    مجھے دنیا کی چیزوں میں سے عورت اور خوشبو پسند ہے اور میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے۔
                    اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت سے بیزاری اور نفرت کوئی زہد وتقویٰ کی دلیل نہیں ہے، انسان خدا کا محبوب اس وقت ہوسکتاہے جب وہ اللہ کی تمام نعمتوں کی قدر کرے جن سے اس نے اپنے بندوں کو نوازا ہے، اس کی نظامت اور جمال کا متمنی ہو اور عورتوں سے صحیح ومناسب طریقے سے پیش آنے والا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں کے لیے نکاح کو لازم قرار دیا گیا ہے، اس سلسلے میں آپ کا ارشاد ہے:
                    النکاحُ من سنتی فمن رغب عن سنتی فلیس منی(۹)
                    نکاح میری سنت ہے جس نے میری سنت سے روگردانی کی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔(۱۰)
                    چنانچہ ایک عورت بیوی کی حیثیت سے اپنے شوہر کے گھر کی ملکہ ہے اور اس کے بچوں کی معلم ومربی ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے :
                    ہن لباس لکم وانتم لباس لہن (البقرہ: ۱۸۷)
                    عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا ۔
                    یعنی کہ تم دونوں کی شخصیت ایک دوسرے سے ہی مکمل ہوتی ہے۔ تم ان کے لیے باعثِ حسن وآرائش ہو تو وہ تمہارے لیے زینت وزیبائش غرض دونوں کی زندگی میں بہت سے تشنہ پہلو ہوتے ہیں جو کہ ایک دوسرے کے بغیر پایہٴ تکمیل تک نہیں پہنچتے۔(۱۱)
    معاشی حقوق
                    معاشرہ میں عزت معاشی حیثیت کے لحاظ سے ہوتی ہے۔ جو جاہ وثروت کامالک ہے، لوگ اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور جس کے پاس نہیں ہے لوگ اس کے قریب سے گزرنا بھی گوارا نہیں کرتے، عزت کرنا تو دور کی بات ہے۔ اسے دنیا کے تمام سماجوں اور نظاموں نے عورت کو معاشی حیثیت سے بہت ہی کمزور رکھا، سوائے اسلام کے، پھر اس کی یہی معاشی کمزوری اس کی مظلومیت اور بیچارگی کا سبب بن گئی۔ مغربی تہذیب نے عورت کی اسی مظلومیت کا مداوا کرنا چاہا۔ اور عورت کو گھر سے باہر نکال کر انھیں فیکٹریوں اور دوسری جگہوں پر کام پر لگادیا۔ اس طرح سے عورت کا گھر سے باہر نکل کر کمانا بہت سی دیگر خرابیوں کا سبب بن گیا، ان حالات میں اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے راہِ اعتدال اختیار کیا۔
                    (۱) عورت کا نان ونفقہ ہر حالت میں مرد کے ذمہ ہے۔ اگر بیٹی ہے تو باپ کے ذمہ۔ بہن ہے تو بھائی کے ذمہ ، بیوی ہے تو شوہر پر اس کانان و نفقہ واجب کردیا گیا اور اگر ماں ہے تو اس کے اخراجات اس کے بیٹے کے ذمہ ہے، ارشاد باری تعالی ہے کہ:
                    عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہ(البقرہ: ۲۳۶)
                    خوشحال آدمی اپنی استطاعت کے مطابق اور غریب آدمی اپنی توفیق کے مطابق معروف طریقے سے نفقہ دے۔
                    (۲) مہر: عورت کا حقِ مہر ادا کرنا مرد پر لازم قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ:
                    وَآتُواْ النَّسَاءَ صَدُقَاتِہِنَّ نِحْلَةً فَإِن طِبْنَ لَکُمْ عَن شَیْْءٍ مِّنْہُ نَفْساً فَکُلُوہُ ہَنِیْئاً مَّرِیْئاً(النساء: ۴)
                    عورتوں کا ان کا حقِ مہر خوشی سے ادا کرو اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ حصہ تمھیں معاف کردیں تو اس کو خوشی اور مزے سے کھاوٴ۔
                    (۳) وراثت: بعض مذہبوں کے پیشِ نظر وراثت میں عورت کا کوئی حق نہیں ہوتا؛ لیکن ان مذہبوں اور معاشروں کے برعکس اسلام نے وراثت میں عورتوں کا باقاعدہ حصہ دلوایا۔ اس کے لیے قرآن میں لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأنْثَیَیْنِ ارشاد ہوا ہے یعنی مرد کو عورتوں کے دو برابر حصے ملیں گے۔ (النساء: ۱۱) یعنی عورت کاحصہ مرد سے آدھا ہے، اسی طرح وہ باپ سے ، شوہر سے، اولاد سے، اور دوسرے قریبی رشتہ داروں سے باقاعدہ وراثت کی حق دار ہے۔
                    (۴) مال وجائیداد کا حق: اس طرح عورت کو مہر سے اور وراثت سے جو کچھ مال ملے، وہ پوری طرح سے اس کی مالک ہے؛ کیوں کہ اس پر کسی بھی طرح کی معاشی ذمہ داری نہیں ہے؛ بلکہ وہ سب سے حاصل کرتی ہے؛ اس لیے یہ سب اس کے پاس محفوظ ہے۔ اگر مرد چاہے تو اس کا وراثت میں دوگنا حصہ ہے؛ مگر اسے ہر حال میں عورت پر خرچ کرنا ہوتا ہے، لہٰذا اس طرح سے عورت کی مالی حالت (اسلامی معاشرہ میں) اتنی مستحکم ہوجاتی ہے کہ کبھی کبھی مرد سے زیادہ بہتر حالت میں ہوتی ہے۔
                    (۵) پھر وہ اپنے مال کو جہاں چاہے خرچ کرے، اس پر کسی کا اختیار نہیں، چاہے تو اپنے شوہر کو دے یا اپنی اولاد کو یا پھر کسی کو ہبہ کرے یا خدا کی راہ میں دے یہ اس کی اپنی مرضی ہے اور اگر وہ از خود کماتی ہے تو اس کی مالک بھی وہی ہے؛ لیکن اس کا نفقہ اس کے شوہر پر واجب ہے، چاہے وہ کمائے یا نہ کمائے۔ اس طرح سے اسلام کا عطا کردہ معاشی حق عورت کو اتنا مضبوط بنادیتا ہے کہ عورت جتنا بھی شکر ادا کرے کم ہے؛ جب کہ عورت ان معاشی حقوق سے کلیتاً محروم ہے۔
    تمدنی حقوق
                     شوہر کاانتخاب : شوہر کے انتخاب کے سلسلے میں اسلام نے عورت پر بڑی حد تک آزادی دی ہے۔ نکاح کے سلسلے میں لڑکیوں کی مرضی اور ان کی اجازت ہر حالت میں ضروری قرار دی گئی ہے۔ ارشاد نبوی ہے:
                    لَایُنْکَحُ الْاَیْمُ حَتّٰی تُسْتَأمَرُ وَلاَ تُنْکَحُ الْبِکْرُ حتی تُسْتأذن(۱۲)
                    شوہر دیدہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے مشورہ نہ لیاجائے اور کنواری عورت کا نکاح بھی اس کی اجازت حاصل کیے بغیر نہ کیا جائے۔(۱۳)
                    اگر بچپن میں کسی کا نکاح ہوگیا ہو، بالغ ہونے پر لڑکی کی مرضی اس میں شامل نہ ہو تو اسے اختیار ہے کہ اس نکاح کو وہ رد کرسکتی ہے، ایسے میں اس پر کوئی جبر نہیں کرسکتا۔
                    ہاں اگر عورت ایسے شخص سے شادی کرنا چاہے جو فاسق ہو یا اس کے خاندان کے مقابل نہ ہو تو ایسی صورت میں اولیاء ضرور دخل انداز ی کریں گے۔
    خلع کا حق
                     اسلام نے عورت کو خلع کاحق دیا ہے کہ اگر ناپسندیدہ ظالم اور ناکارہ شوہر ہے تو بیوی نکاح کو فسخ کرسکتی ہے اور یہ حقوق عدالت کے ذریعے دلائے جاتے ہیں۔
    حسن معاشرت کا حق
                    قرآن میں حکم دیا گیا: وعاشروہن بالمعروف عورتوں سے حسن سلوک سے پیش آوٴ (النساء: ۱۹) چنانچہ شوہر کو بیوی سے حسن سلوک اور فیاضی سے برتاوٴ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خیرُکم خیرُکم لاہلہ۔ تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں اچھے ہیں اور اپنے اہل وعیال سے لطف ومہربانی کاسلوک کرنے والے ہیں۔(۱۴)
    بیویوں کے حقوق
                    اسلام کے آنے کے بعد لوگوں نے عورتوں کو بے قدری کی نگاہوں سے دیکھا، اس بے قدری کی ایک شکل یہ تھی کہ لوگ عبادت میں اتنے محو رہتے تھے کہ بیوی کی کوئی خبر نہیں۔ حضرت عمرو بن العاس اور حضرت ابودرداء کا واقعہ کابڑی تفصیل سے حدیث میں مذکور ہے کہ کثرتِ عبادت کی وجہ سے ان کی بیوی کو ان سے شکایت ہوئی، نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلا کر سمجھایا اور فرمایا کہ تم پر تمہاری بیویوں کا بھی حق ہے، لہٰذا تم عبادت کے ساتھ ساتھ اپنی بیویوں کا بھی خیال رکھو۔
                    بیویوں کے حقوق کے بارے میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم حجة الوداع کے موقع پر فرمایا:
                    ”لوگو! عورتوں کے بارے میں میری وصیت قبول کرو وہ تمہاری زیر نگین ہیں تم نے ان کو اللہ کے عہد پر اپنی رفاقت میں لیا ہے اور ان کے جسموں کو اللہ ہی کے قانون کے تحت اپنے تصرف میں لیا ہے تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ گھر میں کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس کا آنا تمھیں ناگوار ہے اگر ایسا کریں تو تم ان کو ہلکی مار مار سکتے ہو اور تم پر ان کو کھانا کھلانا اور پلانا فرض ہے۔(۱۵)
                    آپ نے ایک جگہ اور فرمایا:
                    خیرُکم خیرُکم لاہلہ وأنا خیرُکم لاہلي(۱۶)
                    تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیویوں کے لیے بہترین ثابت ہو اور خود میں اپنے اہل وعیال کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔
                    انَّ أکْمَلَ الموٴمنینَ ایماناً أحسنُہم خُلقاً وألطفُہم لأہلہ(۱۷)
                    کامل ترین مومن وہ ہے جو اخلاق میں اچھا ہو اور اپنے اہل وعیال کے لیے نرم خو ہو۔
                    نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مردوں کو بیویوں کے حق میں سراپا محبت وشفقت ہونا چاہیے اور ہر جائز امور میں ان کی حوصلہ افزائی اور دلجوئی کرنی چاہیے۔ کچھ لمحوں کے لیے دوسروں کے سامنے اچھا بن جانا کوئی مشکل کام نہیں حقیقتاً نیک اور اچھا وہ ہے جو اپنی بیوی سے رفاقت کے دوران صبروتحمل سے کام لینے والا ہو اور محبت وشفقت رکھنے والا ہو۔(۱۸)
    عورتوں کا معاشرتی مقام اسلام کی نظر میں
                    اسلام میں معاشرتی حیثیت سے عورتوں کو اتنا بلند مقام حاصل ہے کہ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ معاشرت کے باب میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر مرد کو مخاطب کرکے یہ حکم دیتا ہے کہ ان کے ساتھ معاشرت کے باب میں ”معروف“ کاخیال کیا جائے؛ تاکہ وہ معاشرت کے ہر پہلو اور ہر چیز میں حسن معاشرت برتیں۔ ارشاد ربانی ہے کہ:
                    وَعَاشِرُوہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن کَرِہْتُمُوہُنَّ فَعَسَی أَن تَکْرَہُواْ شَیْْئاً وَیَجْعَلَ اللّہُ فِیْہِ خَیْْراً کَثِیْراً(النساء: ۱۹)
                    اور ان عورتوں کے ساتھ حسنِ معاشرت کے ساتھ زندگی گزارو اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ممکن ہے کہ تم کوئی چیز ناپسند کرو اور اللہ اس میں خیر کثیر رکھ دے۔
                     معاشرت کے معنی ہیں، مل جل کر زندگی گزارنا، اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک تو مردوں کو عورتوں سے مل جل کر زندگی گزارنے کا حکم دیاہے۔ دوسرے یہ کہ ”معروف“ کے ساتھ اسے مقید کردیا ہے، لہٰذا امام ابوبکر جصاص رازی(المتوفی ۷۰ھ) معروف کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس میں عورتوں کا نفقہ، مہر، عدل کا شمار کرسکتے ہیں۔
                    اور معروف زندگی گزارنے سے مطلب یہ ہے کہ گفتگو میں نہایت شائستگی اور شیفتگی سے کام لیا جائے باتوں میں حلاوت ومحبت ہو حاکمانہ انداز نہ ہو اور ایک بات کو توجہ کے ساتھ سنیں اور بے رخی بے اعتنائی نہ برتیں اور نہ ہی کوئی بدمزاحی کی جھلک ظاہر ہو۔(۱۹ )
    ابھی خواتین جو کہ آزادی مارچ میں ہیں کہتی ہے کہ اسلام نے ہمیں حقوق نہیں دئیے۔
    افسوس صد افسوس!

  • پنجابی طنز و مزاح اور جگت کا ایک باب تمام ہوا ، تحریر نعمان علی ہاشم

    پنجابی طنز و مزاح اور جگت کا ایک باب تمام ہوا ، تحریر نعمان علی ہاشم

    پنجابی طنز و مزاح اور جگت کا ایک باب تمام.
    امان اللہ خان چل بسے. تحریر نعمان علی ہاشم
    ویسے تو میں شروع دن سے سنجیدہ مزاج تھا مگر کالج تک پہنچتے ہی زندگی مکمل تبدیل ہو گئی. مزاج سے لے کرگفتگو کے عنوان تک بدل گئے. اس سے پہلے تک جو موضوعات نہایت پسندیدہ تھے ان سے اچانک سے بے دلی ہونے لگی. گوجرانوالہ کے مزاج میں شاید وہ سنجیدگی اور خشکی بالکل ناپسندیدہ تھی. اور شاید میں خود اپنے آپ سے بھی اکتا چکا تھا. سو اپنا منہ طنز و مزاح کی طرف کر لیا. اردو میں تھوڑا سا یوسفی اور ابن انشاء پڑھا لیکن اپنے مزاج سے مطابقت نہ ہونے کے باعث چھوڑ دیا. پھر دھیان دنیا نیوز پر چلنے والے پروگرام حسب حال کی طرف گیا اور وہاں سہیل احمد عزیزی کو دیکھنے لگا. آفتاب اقبال نے جب دنیا نیوز چھوڑ کیا جیو جوائن کیا تو وہاں مجھے امان اللہ خان ملے. پہلے تو سہیل احمد کی حس مزاح کا گرویدہ تھا مگر بعد میں امان اللہ خان کا دیوانہ ہو گیا. امان اللہ خان اس لیے بھی شدید پسند تھے کہ وہ پڑھے لکھے اور ڈگری یافتہ نہ تھے. ان کا کل علم ان کا مشاہدہ تھا. سٹیج کی دنیا میں آنے والے بے حیائی کے طوفان سے اکتا کر سہیل احمد اور امان اللہ جیسے لوگ سٹیج سے دور ہو چکے تھے. آفتاب اقبال نے انہیں ایک نیا پلیٹ فارم دے کر پنجابی طنز و مزاح کے تباہ ہوتے ورثے کو بچا لیا. امان اللہ خان 1950 میں پاکستان کے شہر لاہور میں پیدا ہوئے. انتہائی غریب گھرانے میں آنکھ کھولی. ابتدائی زمانے میں لاہور کے مشہور زمانہ داتا دربار کے باہر تسبیحاں اور ٹوپیاں بیچا کرتے تھے. اور اکثر کہا کرتے تھے کہ میں وہاں زیادہ خوش تھا. کئیریر کا آغاز گانے سے کیا. مگر پھر سٹیج سے وابستہ ہو گئے. انہوں نے اپنی زندگی میں 860 لائیو تھیٹر پرفارمنس دی. جو کہ ایک ریکارڈ ہے. پنجاب کے مختلف لہجوں میں گفتگو کا قرینہ رکھنے والے امان اللہ نے اپنی زندگی میں دو فلمیں کی. ان کے مشہور سٹیج ڈراموں میں بیگم ڈش اینٹینا، ڈسکو دیوانے، کھڑکی کے پیچھے، محبت سی این جی، یو پی ایس، بڑا مزہ آئے گا، شرطیہ مٹھے، سوہنی چن ورگی اور کیچ اپ وغیرہ شامل ہیں. 2010. کے بعد آپ جیو نیوز، دنیا نیوز، نیو نیوز اور آپ نیوز سے وابستہ رہے. جہاں امان اللہ خان نے خبرناک، خبردار، خبرزار جیسے پروگرامز میں پرفام کیا. آپ کا آخری ٹی پروگرام خبرزار ود آفتاب اقبال تھا. اس کے بعد آپ علیل ہو گئے اور کسی ٹی شو میں نہیں آئے. امان اللہ خان نے پاکستان سے باہر بھی پنجابی اور اردو طنز و مزاح میں خوب نام کمایا. آپ نے یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کے بڑے براعظموں میں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں. بھارت کے مشہور کامیڈی شوز میں بھی اپنی صلاحیت اور قابلیت کے جوہر دکھائے. پنجاب اور لاہور سے وابستگی کی وجہ سے آپ پر فوک رنگ ہمیشہ غالب رہا. دنیا میں پنجابی طنز و مزاح اور جگت سے واقف شاید ہی کوئی ایسا شخض ہو جو امان اللہ کے نام سے واقف نہ ہو. آپ جگت اور کامیڈی کے میدان میں ایک یونیورسٹی کا درجہ رکھتے تھے. نئے آنے والے آرٹسٹوں کی ہمیشہ قدر کرتے تھے.
    آپکو پاکستان کے صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا.
    امان اللہ خان نے پنجابی زبان اور ثقافت کے لیے بے پناہ خدمات سرانجام دیں. وہ اکثر کہا کرتے تھے بہت زیادہ کام اور اونچا بولنے کی وجہ سے میرے پھیپھڑے خراب ہو گئے. میں اکثر سوچتا تھا کہ کام کم کروں مگر لوگوں کی محبت نے مجھے رکنے نہ دیا. آج چھے مارچ 2020 کی صبح رنجیدہ دلوں کو خوش کرتے کرتے امان اللہ خان اس دنیا سے رخصت ہو گئے. شاید ہی مستقبل میں پنجابی زبان کا اتنا بڑا کامیڈین پیدا ہو جس کی بات پر ہنستے ہنستے آنکھوں سے آنسو نکلنے لگیں.
    اللہ آپکی تمام بشری خطاؤں سے درگزر فرمائے. اور آپکو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے. آمین
    #نعمانیات
    نعمان علی ہاشم

  • ڈیرین سمی پشاور زلمی میں رہیں گے یا نہیں‌،  فخر عالم نے بتادیا

    ڈیرین سمی پشاور زلمی میں رہیں گے یا نہیں‌، فخر عالم نے بتادیا

    ڈیرین سمی پشاور زلمی میں رہیں گے یا نہیں‌، فخر عالم نے بتادیا

    باغی ٹی وی :پاکستان کے معروف اداکار فخر عالم نے کہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے تمام میچز پاکستان میں ہونے پر عوام بہت خوش ہے۔ پاکستانی زندہ دل قوم ہے اور یہ رکٹ گراؤنڈ میں روزانہ لاجواب طریقوں سے میلہ لوٹتے ہیں۔

    کوئٹہ گلیڈیئیٹرز اور پشاور زلمی کے درمیان کل ہونے والے میچ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کی ٹیم بہت اچھی ہے لیکن ان کا ٹپ آڈر ٹھیک طرح کام نہیں کر پا رہا۔

    انہوں نے کہا کہ گلیڈیئیٹرز کوئی بھی ٹارگٹ حاصل کر سکتے ہیں، ٹیم کافی تگڑی ہے لہذا چیزیں بدلنے کی امید ہے۔

    کپتان سرفراز احمد کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں بہت سارے ماہرین موجود ہیں اس لیے ہر کوئی اپنی رائے دے دیتا ہے۔ کپتان بہت سی چیزیں دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کپتان کا کوئی فیصلہ غلط ہے۔ڈیرن سمی کے حوالے سے فخر عالم کا کہنا تھا کہ ان کی جانب سے ایک بہت عجیب سا ٹویٹ کیا گیا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی اور جاوید آفریدی کی دوستی میں کسی قسم کی دراڑ پڑ گئی ہے، یہ تمام افوائیں ہیں۔ ڈیرن سمی اور جاوید آفریدی کی دوستی بہت گہری اور مضبوط ہے۔

    ڈیرن سمی کو کپتانی سے ہٹانے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سمی کی ان میچز میں کوئی خاص کارکردگی نہیں رہی لہذا اگر وہ ٹیم سے نکل جائیں اور زیادہ اچھا کھلاڑی آ جائے تو اس میں کوئی مقائضہ نہیں۔

    واضح‌رہے کہ چند روز قبل حکومتِ پاکستان کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ویسٹ انڈیز کے کرکٹر ڈیرن سیمی کو پاکستان کی اعزازی شہریت اور سب سے بڑے سول ایوارڈ ’نشانِ پاکستان‘ سے نوازا جائے گا۔یہ خبر دنیا بھر کے مختلف چینلز اور اخباروں میں بھی نشر کی گئی اور اسی طرح بھارتی میڈیا کی جانب سے بھی اس خبر کو شائع کیا گیا۔بھارتی میڈیا نے پاکستان کے اعلیٰ ترین سویلین ایوارڈ ’نشانِ پاکستان‘ کو ’نشانِ حیدر‘ ہی قرار دے دیا۔پاکستان کے کسی بھی ایونٹ اور کامیابی بھارت کو بھاتی نہیں ہے.

  • معاشرے سے حیا کے انخلاء کی سازشیں—از–  صالح عبداللہ جتوئی

    معاشرے سے حیا کے انخلاء کی سازشیں—از– صالح عبداللہ جتوئی

    آج کل ایک ایسا طبقہ سرگرم ہو چکا ہے جو کہ عورت کے حقوق کے نام پہ عورتوں کو بے حیائی کی طرف راغب کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اس کے لیے مختلف حربے اپناۓ جا رہے ہیں جن کا عورتوں کے حقوق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    آج وہی عورت جو میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگا رہی ہے اس کو زمانہ جاہلیت میں زندہ درگور کر دیا جاتا تھا اور لڑکی کی پیدائش کو نحوست سمجھا جاتا تھا لیکن جس اسلام کو یہ پس پشت ڈال کر اپنے آپ کو فحاشی کی دلدل میں دھنسا رہی ہیں اسی اسلام نے عورت کو معاشرے میں بہترین مقام عطا فرمایا اور ان کو عزت و وقار سے مزین فرمایا۔

    کچھ دن پہلے ایک پروگرام میں ماروی سرمد نامی لبرل عورت کو ایک مولانا صاحب اور مصنف خلیل الرحمٰن قمر کو عورت مارچ کے حوالے سے گفتگو کے لیے مدعو کیا اور وہاں پہ بحث و تکرار میں تلخ الفاظ کا تبادلہ بھی ہوا اور خلیل الرحمٰن قمر کا لہجہ قدرے سخت ہو گیا لیکن ان کا مؤقف بالکل ٹھیک تھا کہ عورتوں کے حقوق کے لیے ہم بھی سڑکوں پہ نکلنے کے لیے تیار ہیں لیکن ہم یہ نعرہ کبھی بھی نہیں لگنے دیں گے کہ میرا جسم میری مرضی۔

    یہ نعرہ تو شرک اور گمراہی کی طرف بڑھتا ایک قدم ہے کیونکہ یہ جسم اللہ کی امانت ہے اب ہم پہ منحصر ہے کہ ہم اسے اللہ کے احکامات پہ عمل پیرا ہونے کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر اپنی من مانی کرتے ہوۓ سرکشی کا رستہ اختیار کرتے ہیں اور فحاشی کو فروغ دیتے ہوۓ اللہ کو ناراض کرکے دونوں جہانوں کا سکون برباد کرتے ہیں۔

    دراصل اس مارچ کو تقویت دینے کے لیے ایسے ڈرامے رچاۓ جاتے ہیں اور یہ طبقہ ایک خاص ایجنڈے کے تحت کفار کے اشاروں پہ ناچ رہا ہے جس کا مقصد ملک پاکستان میں بے حیائی اور فحاشی کو عام کرنا ہے ایسی عورتوں کی نہ تو گھر میں کوئی عزت ہوتی ہے اور نہ ہی معاشرے میں انہیں کوئی اہمیت دیتا ہے۔

    خلیل الرحمٰن قمر صاحب نے کرخت لہجہ استعمال کرتے ہوۓ عورت مارچ کو ایجنڈے کو کاؤنٹر کرنے کی بجاۓ اسے مزید تقویت دے دی ہے اور وہی ہو رہا ہے جو اس طرح کی لبرل عورتیں چاہتی ہیں اور اب ان کی حمایت میں کئی نام نہاد نیم حکیم اینکر اور براۓ نام ملا حضرات کیڑوں مکوڑوں کی طرح بلوں سے نکل آۓ ہیں اور ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔

    یہ اسلامی ملک کو لبرل ملک کا درجہ دینے کے لئے اور اپنے مذموم ایجنڈوں کے فروغ کے لیے ایسے نعروں کی تشہیر جاری و ساری ہے اور ان کا مقصد معاشرے کو بے راہ روی کا شکار کرنا ہے اور حقوق کے نام پہ ناچ گانا اور بے پردگی کو فروغ دینا ہے۔

    اسلام تو عورتوں کو کئی حقوق سے نوازتا ہے کبھی ماں کی صورت میں کبھی بیٹی کی صورت میں تو کبھی بہن کی صورت میں لیکن یہ کیسی عورتیں ہیں جو مردوں سے نفرت کرتی ہیں اور ان کو غلط ثابت کرنے پہ ہی تلی ہوئی ہیں اور شادی کی بجاۓ اکیلے رہنے کا درس دیتی ہیں اور نہ انہیں باپ کی شفقت نصیب ہوتی نہ بھائیوں کی محبت اور نہ ہی شوہر کا پیار نصیب ہوتا ہے کیونکہ اسلام نے عورت کی حدود مقرر کی ہیں جس میں رہتے ہوۓ اسے زندگی گزارنی چاہئے اگر وہ ان حدود کی پامالی کرے گی تو معاشرہ بے حیائی کی طرف راغب ہو گا اور گمراہی اس کا مقدر بن جاۓ گی اور یہی اس نعرے میرا جسم میری مرضی کا مصداق بھی ہے۔

    میرا جسم میری مرضی کی بجاۓ ہمیں میرا جسم میرے اللہ کی مرضی کا نعرہ لگانا چاہئے کیونکہ ہمیں بالکل بھی حق نہیں ہے کہ ہم اپنے جسم کو اللہ کی نافرمانی میں ڈھال کر اس کی ناراضگی کو اپنا مقدر بنائیں اور اس جسم کو آگ میں جھونک دیں۔

    یہ جسم اس رب نے بنایا ہے اور اسی کی مرضی ہی چلے گی تو ہمیں چاہئے کہ ایسے ایجنڈوں کا بائیکاٹ کریں اور ان کے خلاف کرخت لہجہ اپنانے کی بجاۓ نرم طریقے سے اپنے مؤقف اور دلائل کو مضبوط کیا جاۓ اور معاشرے میں اسلامی قوانین و تعلیمات کو فروغ دیا جاۓ تاکہ معاشرے سے ایسے ناسوروں کا خاتمہ ہو سکے۔

    اللہ اس ملک پاکستان اور اسلام کا حامی و ناصر ہو آمین ثمہ آمین۔
    پاکستان زندہ باد
    اسلام پائندہ باد

    معاشرے سے حیا کے انخلاء کی سازشیں

    صالح عبداللہ جتوئی

  • عورتوں کا عالمی دن اور عورت مارچ کے حقائق  تحریر: غنی محمود قصوری

    عورتوں کا عالمی دن اور عورت مارچ کے حقائق تحریر: غنی محمود قصوری

    اسلام و پاکستان کو لبرل بے دین لوگ بدنام کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے مگر ہر بار ان کو منہ کی کھانی پڑتی ہے اس سال عالمی یوم خواتین 8 مارچ کو پاکستان میں چند حقوق نسواں کی نام نہاد جعلی علمبردار عورتوں نے عورت مارچ کا اعلان کیا ہے جو کہ اس سے قبل بھی ہو چکا ہے اس عورت مارچ کو پہلے پاکستان کی عدالت نے روکا تھا پھر اچانک غیر مشروط طور پر یہ کہتے ہوئے اجازت دے دی گئی کہ ہر کسی کو تنظیم سازی کا حق ہے لہذہ عورتیں مارچ کریں مگر اخلاقی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھیں حالانکہ اس سے قبل ہوئے عورت مارچ میں اہلیان پاکستان کیساتھ پوری دنیا نے بھی دیکھا کہ کسطرح عورت مارچ کے نام پر بد تہذیبی بد اخلاقی اور بے شرمی کی گئی ان 3 درجن سے زائد مطلقہ آزاد خیال اور دین سے بے زار عورتوں نے جن میں سے سرفہرست ماروی سرمد نامی تجزیہ کار ہے ،کے زیر سایہ عورت مارچ میں عورتوں نے ایسے گندے بے حیائی پر مبنی پوسٹرز پکڑ رکھے تھے جن پر عورتوں کے مخصوص ایام کی تشریح،عورتوں پر تشدد و تیزاب گردی کی روک تھام،اگر مجھے مارو گے تو مار کھاءو گے،میری شادی نہیں آزادی کی فکر کرو،میں ماں ،بہن ہوں گالی نہیں، ساڈا حق ایتھے رکھ اور میری نسبت میری والدہ سے ہونی چایئے جیسے نعرے درج تھے
    پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والا ملک ہے اور آئین پاکستان میں جہاں مردوں کو حقوق دیئے گئے ہیں وہاں عورتوں کو بھی حقوق فراہم کئے گئے ہیں جن کی واضع مثال ہر شعبہ زندگی میں عورتوں کی نمائندگی بکثرت دیکھی جا سکتی ہے یہی نہیں بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی 3 بار وزیراعظم رہ چکی ہیں اس کے علاوہ بیرون ملک سفارتکاری میں بھی عورتیں ہیں ایک عام گھریلوں خاتون سے لے کر وزیراعظم تک کے حقوق عورتوں کو دیئے گئے ہیں مگر پھر بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ان نام نہاد روشن خیال عورتوں کو کیا مسئلہ ہے جو آئے دن اپنے حقوق کا رونا روتی ہیں حالانکہ سب سے زیادہ عورتوں کے حقوق کا خیال اسلام نے رکھا ہے
    خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی ذیشان نے فرمایا
    اور اگر وہ فرمانبرداری کریں تو ان پر (کسی قسم کی) زیادتی کا تمہیں کوئی حق نہیں
    مذید میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں پر تشدد روکتے ہوئے فرمایا
    تم میں سے کوئی آدمی اپنی بیوی کو اس طرح کیوں مارتا ہے جیسے غلام کو مارا جاتا ہے پھر ممکن ہے کہ دن کے آخر میں یا رات کے آخر میں اس کو ہم بستری بھی کرنی ہو۔ مسند احمد 7119
    اس حدیث سے ثابت ہوا آقا کریم نے عورتوں پر بے جا تشدد کی ممانعت کی ہے اور ان کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھا ہے یہی نہیں عورت کو حق خلع دیتے ہوئے مذید اس کی شان کو بلند کیا گیا ہے اور جنت ماں کے قدموں تلے ہونے کی بشارت دی گئی ہے مگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کی جعلی علمبردار بھول گئیں کہ اسلام سے قبل لوگ اپنی بچیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے پھر میرے نبی رحمت تشریف لائے اور معصوم کلیوں کے محافظ بن گئے جس قدر اسلام نے عورت کے حقوق کا خیال رکھا دنیا میں اتنا خیال کسی مذہب نے نہیں رکھا اسلام نے عورت کو وراثت میں حق دلوایا اور میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران جنگ بچوں بوڑھوں کیساتھ عورتوں کو بھی قتل کرنے سے منع فرمایا ہے ایک طرف قبل از اسلام عورت کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دیا جاتا تھا تو دوسری طرف نبی ذیشان نے دوران جنگ بھی عورت کو قتل کرنے سے منع فرما دیا ہم اگر اسلام کا مطالعہ کریں تو مردوں سے بڑھ کر عورتوں کو حقوق دیئے گئے عورت پر مرد کو حاکم مقرر کیا گیا اور اسی حاکم کے ذمے اسی عورت کی کفالت کا حکم دیا حالانکہ عام دستور یہ ہے جو حاکم ہوتا ہے وہ آرام کرتا ہے اور محکوم محنت مزدوری جبکہ اسلام نے مرد کو حاکم ہوتے ہوئے محنت مزدوری کا حکم دیا جبکہ عورت کو محکوم ہوتے ہوئے بھی شہزادی و ملکہ کا رتبہ دیا آئین پاکستان میں عورت کسی مرد کی طرف سے آنکھ مارنے کی سزا ایک سال قید رکھی گئی ہے 1988 ker.
    دفعہ اے 498 کے تحت جو شحض کسی عورت کو اس کی وراثت سے محروم کرے گا اسے 5 سے 10 سال کی سزا اور 10 لاکھ روپیہ جرمانہ کی سزا مقرر ہے
    دفعہ بی 371 کے تحت کسی بھی عورت کو عصمت فروشی کی غرض سے خریدنا اور کرایے پر لینے کی سزا 25 سال مقرر ہے دفعہ 509 کے تحت کسی بھی عورت پر بہتاب بازی کی سزا ایک سال مقرر کی گئی ہے مگر پھر بھی یہ گندی عورتیں پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے خودساختہ حقوق کی بات کرتی ہیں دراصل ان کو تنگی آئین پاکستان و اسلام میں عورت کو دیئے گئے تحفظ سے ہیں یہ واہیات عورتیں چاہتی ہیں کہ ان قانین کو ختم کرکے ان کی مرضی کے مطابق ان کو بے لگام کر دیا جائے اور ایک بے لگام گھوڑی کی طرح جہاں دل کرے منہ مارتی پھریں
    پاکستان میں سرکاری سکولوں میں عورتوں کی نا صرف تعلیم مفت ہے بلکہ ان کیلئے مخصوص رقم بھی گورنمنٹ دیتی ہے تاکہ ان کی پرورش میں کسی قسم کی کمی نا آئے اس کے علاوہ پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز ایسی ہیں جو غریب اور بے سہارا عورتوں کیلئے رہائش و کھانے کے علاوہ ان کے نکاح تک کا خرچ برداشت کرتے ہیں
    ماروی سرمد جیسی لبرل بے دین عورت یہ بھول گئی کہ ہمارے پڑوس میں ایک ہندو قوم رہتی ہے کہ جس میں عورت کے خاوند کو مرنے کے بعد یا تو اس کے مرنے والے خاوند کیساتھ دفن کر دیا جاتا ہے یا پھر باقی زندگی ایک ہی مخصوص لباس میں رہتے ہوئے دوسرے لوگوں کی باندی بن کر زندگی گزارنی پڑتی ہے اور لوگ اس کے سائے سے بھی ڈرتے ہیں جبکہ اسلام میں بیوہ ہونے والی عورت کی کفالت اس کے بھائی،سسر،باپ،بیٹے کی ذمہ داری بن جاتی ہے مگر افسوس کہ اس گھٹیا عورت نے آج دن تک ہندوستان میں عورت پر ہوتے ظلم پر آواز بلند نہیں کی جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ مخصوص آزاد عورتیں درحقیقت عورت کے حقوق کی نہیں آزاد معاشرے کے گندے غلیظ حقوق کی پیروی کرتے ہوئے انہیں اجاگر کر رہی ہیں اور یہ عورتیں مملکت پاکستان میں بے حیائی بے شرمی کو دوام دینا چاہتی ہیں جنہیں روکنا حکومت وقت اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ معاملہ چند خواتین کا نہیں یہ معاملہ اسلام و پاکستان کی بقاء کا ہے اگر آج ان کو نا روکا گیا تو کل اس،گندے واہیات نعروں کے نتائج انتہائی غلط نکلیں گے

  • عورت مارچ ہو یا پشتون تحفظ موومنٹ ان سے نمٹنے کا آپ کا طریقہ غلط ہے صاحب!!! تحریر: محمد عبداللہ

    کسی بھی نعرے یا مطالبے کا واحد حل جو ہمارے ہاں رائج ہے وہ ہے اس کو بزور قوت یا بزور زبان ریجیکٹ کردو جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ نعرہ اور وہ مطالبہ شدت پکڑتا ہے، این جی اوز کی شہ ملتی ہے، بیرونی امداد ملتی ہے، انٹرنیشل میڈیا کوریج دے کر حوصلہ فراہم کرتا ہے اور پھر وہی نعرہ قومی سلامتی اور ملکی بقا سے ٹکراتا ہے یہ چیز بھی یاد رکھیں کہ ہر تحریک اور ہر نعرہ چند حقائق بھی رکھتا ہے جو ہمارے معاشرہ کے ظلم و جبر اور استحصالی نظام ان کو فراہم کرتا ہے یہ اور بات ہے کہ ان حقیقی اور جائز مطالبات کی آڑ میں لمبی چوڑی ناجائز مطالبات اور نعروں کی فہرست ہوتی ہے جو بالواسطہ یا بالاواسطہ ہمارے مذہب اور ہماری قومی سلامتی سے متصادم ہوتی ہے.
    اگر کسی بھی تحریک کے آغاز ہی میں اس کے جائز مطالبات اور تحفظات کو پورا کردیا جائے تو ان کے سینکڑوں ناجائز مطالبات اپنی موت آپ مرجاتے ہیں. پی ٹی ایم کی مثال ابھی بالکل تازہ اور ہمارے سب کے سامنے کی ہے. نقیب اللہ محسود کے قتل پر انصاف کا مطالبہ بالکل مبنی بر حق مطالبہ تھا جو پورا نہ کیا گیا جس کا نتیجہ تاحال بھگت رہے ہیں. اب یہ عورت مارچ کا ایشو بھی ایسا ہی ہے جتنا ٹرول کریں گے، تنقید کریں گے، سوشل میڈیا پر اس کے اینٹی ٹرینڈز چلائیں گے ان کو اور شہرت ، قوت اور بین الاقوامی توجہ ملتی جائے گی، آسیہ مسیح، ملالہ یوسفزئی اور مختاراں مائی جیسے کتنے ہی ایسے ایشوز اور کیسز ہوتے ہیں جن کو ہم اتنی ہائپ دیتے ہیں کو بین الاقوامی مسئلہ بن جاتا ہے اور پھر معاملہ ہمارے اختیار میں نہیں رہتا.
    عورت مارچ بالکل ویسا ہی مسئلہ ہے ہمارے معاشرے میں عورت کا استحصال جاری و ساری ہے اس میں کردار میڈیا، شوبز، معاشرہ سب ملوث ہیں جنہوں نے عورت کو انسان سے object اور پراڈکٹ بنادیا ہے کوئی بھی چیز بیچنی ہے تو اس کے لیے اس کے کمرشل میں عورت کا ہونا ضروری ہے حتیٰ کے ٹریکٹرز تک کی کمرشلز میں ہم عورت سے اپنے جسم کی نمائش کرواتے ہیں. کالج، یونیورسٹی، آفس، ٹرانسپورٹ ، بازار، پارک اور دیگر پبلک پلیسز پر نظر آنے والی عورت ہمارے نزدیک عورت نہیں ہماری نظروں کی تسکین کا ذریعہ ہوتی ہے.
    ہم تو چھوٹی بچیوں تک کو معاف نہیں کرتے زینب کا کیس سب کے سامنے ہے، ریپ کے کتنے کیسز ہوتے ہیں، کالجز اور یونیورسٹیز میں کس طرح سے عورتوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، تیزاب پھینکنے کے کتنے واقعات ہوتے ہیں.
    یہ سب مکروہ حقائق ہیں جو بنیاد بنتے ہیں اور اس کی بنیاد پر شرپسند عناصر اور این جی اوز اپنا کام کرتی ہیں اور بڑی معذرت کے ساتھ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز ان نعروں کے خلاف نہیں اپنے نظام کے خلاف چلائیے آواز اٹھانی ہے تو اپنے سسٹم کے خلاف اٹھائیے جو مختلف طبقات کا استحصال کرکے ان کی آڑ میں مختلف گمراہ کن تحریکوں کو پنپنے کا موقع دیتا ہے اور ان استحصال زدہ طبقات کی بجائے ان نعروں اور تحریکوں کو تحفظ اور قوت دے کر کھل کھیلنے کا موقع دیتا ہے مثالیں قدم قدم پر بکھری پڑی ہیں.

  • کولن منرو نے پاکستان کو محفوظ اور فاسٹ باؤلنگ کے لیے زرخیز خطہ قرار دے دیا

    کولن منرو نے پاکستان کو محفوظ اور فاسٹ باؤلنگ کے لیے زرخیز خطہ قرار دے دیا

    کولن منرو نے پاکستان کو محفوظ اور فاسٹ باؤلنگ کے لیے زرخیز خطہ قرار دے دیا

    باغی ٹی وی : پی ایس ایل نے پاکستان میں کرکٹ ٹیلنٹ کو عروج بخشا ہے .پاکستان سپر لیگ پی ایس ایل فائیو کے مقابلے اپنے عروج کی طرف بڑھ رہے ہیں، سنسنی خیز میچوں کا سلسلہ جاری ہے اور غیر ملکی کھلاڑی نہ صرف پاکستان کے چار وینیوز پر ہونے والے میچز میں عمدہ کارکردگی کے ساتھ اپنا حصہ ڈال رہے ہیں بلکہ پاکستان میں اپنے قیام سے خوش بھی ہیں۔

    پی ایس ایل فائیو کے لیے اسلام آباد یونائیٹڈ میں شامل کیوی کرکٹر کولن منرو پاکستان سپر لیگ کے نوجوان فاسٹ بولرز سے ہی متاثر نہیں ہیں بلکہ یہاں پی ایس ایل کھیل کر خود کو محفوظ بھی سمجھتے ہیں۔

    کولن منرو نے جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان میں بہت محفوظ ہوں، میری بھی زندگی ہے، اگر میری زندگی محفوظ نہ ہوتی تو میں یہاں نہ آتا، میرے علاوہ بھی دیگر کرکٹرز یہاں آکر کھیل رہے ہیں، وہ خوش ہیں تو ہی کھیل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انفرادی طور پر تو کھلاڑیوں نے فیصلہ کیا اور یہاں کھیل رہے ہیں، اب بورڈز نے فیصلہ کرنا ہے، اگر سب کچھ ایسا ہی رہتا ہے تو کچھ بورڈز بھی اس بارے میں فیصلہ کریں گے لیکن مستقبل میں کیا ہوتا ہے کچھ نہیں کہہ سکتے۔
    کولن منرو کہتے ہیں کہ میچز کے مصروف شیڈول کی وجہ سے وہ زیادہ گھوم نہیں سکے لیکن ٹیم کے ہمراہ کچھ کھانوں پر جانے کا موقع ملا، ہلکا پھلکا مقامی کھانوں کا مزہ بھی چکھا ہے، کچھ کھلاڑی ڈائٹری پلان پر عمل کر رہےہیں. واضح رہے کہ پی ایس ایل میں غیر ملکی کھلاڑی بہت مطمئن ہیں. .اس طرح اختلافات کی باتیں بھی بے بنیادہ ہیں. اپنے ٹوئٹر پیغام میں ڈیرن سیمی نے کہا انہیں یقین نہیں آرہا کہ میڈیا میں ان کے جاوید آفریدی کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے لائی گئیں۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ جاوید آفریدی اور وہ بھائیوں کی طرح ہیں اور اسی طرح زلمی ان کے بچے کی طرح ہیں اور میرے اورزلمی کے درمیان کوئی نہیں آسکتا۔
    راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں پشاور زلمی کے ہیڈکوچ. محمد اکرم نے ٹیم میں کسی بھی اختلاف کی تردید کی اور کہا پہلے دن کی طرح پشاور زلمی ایک فیملی کی طرح ہے۔ ڈیرن سیمی کو ریسٹ کرانا میرا فیصلہ تھا اور ڈیرن سیمی بھی اس کے حق میں یے۔ دو دن پریکٹس سیشنز میں ڈیرن سیمی اپنی فٹنس اور فارم پر محنت کریں گے۔ کھلاڑیوں کو ریسٹ کرانا کوئی نہیں بات نہیں . ہیڈ کوچ محمد اکرم نے کہا کہ ڈیرن سیمی کو ریسٹ کرانا میرا فیصلہ تھا، سیمی فارم اور فٹنس کے لیے نیٹس میں کام کررہے ہیں،

  • عورت مارچ اور ہمارا کردار تحریر:عبدالحفیظ چنیوٹی

    عورت مارچ اور ہمارا کردار تحریر:عبدالحفیظ چنیوٹی

    عورت مارچ کے حوالے سے اک پیج دیکھا فیس بک پر جس کو 21،152 لوگوں نے پسند کیا ہوا ہے، اور بھی پیج تھے اس حوالے سے، اب آتا ہوں اصل بات کی طرف، آخر کون لوگ ہیں اتنے بڑی تعداد میں ان پیجز کو پسند کرنے والے؟ ظاہر سی بات ہے ہم ہی وہ لوگ ہیں جو آگاہی رکھنے کیلئے ان پیجز کو پسند کرتے ہیں لیکن اصل میں ہم ان کے مددگار بن جاتے ہیں، جیسے کچھ عرصہ پہلے تک وقاص گورایہ کو کوئی نہیں جانتا تھا وہ اسلام و پاکستان اور اداروں کے خلاف ٹویٹ کرتا تو ہم سب جواب دینے کیلئے کود پڑتے اور اس کی حرکات پر نظر رکھنے کیلئے اس کو فالو کیا جن میں، میں بھی شامل رہا، آج دیکھ لیں کہ اس نے کتنے بندوں کو فالو کیا ہوا ہے اور اسے کتنے پاکستانیوں نے فالو کیا ہے، جس پر اس نے خود کو فاتح ففتھ جنریشن وار لکھا، اس کو فاتح بنانے میں ہمارا ہاتھ تھا۔
    اسی طرح چند لوگ اٹھے پی ٹی ایم کے نام پر جن کو کوئی بھی نہیں جانتا تھا ان کو بھی ہم نے ہی مشہور کیا، اب عورت مارچ والی اٹھی تو ان کو بھی ہم نے مشہور کردیا، اور عورت دشمن اور پاکستان دشمن پیپلزپارٹی کی رکن شیری رحمان نے ان چند آوارہ عورتوں کی حمایت میں اسمبلی میں بدتمیزی سے بات کی اور آخر بدمعاشی سے بات کی کہ یہ مارچ ہوگا۔
    پاکستان میں عورت ذات کی بہت عزت کی جاتی ہے، چند اکا دکا واقعات کو لے کر عورت پر تشدد اور انکے حقوق کا تماشہ کیا جاتا ہے، اور حقوق بھی وہ جو اک باعزت عورت کو قبول نا ہو اس پر شور مچایا جاتا ہے۔
    خود کی صلاحتیں ان پر ضائع نا کریں ہاں بوقت ضرورت ہلکی پھلکی کلاس لگا دیا کریں،
    ان کو مضبوط بنانے میں ہمارا ضرورت سے زیادہ بات کرنا تقویت دیتا ہے جو کہ ہمارے لئے، ہمارے معاشرے کیلئے نقصان بننے کا سبب بنتا ہے ہماری بے خبری اور حالات کی سنگینی کو سمجھے بناء۔

  • اب عورت ہو گی آزاد—از–ثنا صدیق

    اب عورت ہو گی آزاد—از–ثنا صدیق

    اس دنیا میں اللہ پاک نے انسان کی بقا اور تحفظ کے لیے مرد اور عورت کے نام سے دو جنسیں پیدا کیں اور ہر جنس کو دوسری جنس کی طلب کا تقاضا رکھا گیا حقیقت میں تو دونوں کی ذندگی ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہے اسی وجہ سے مرد کامل مرد ہوتے ہوئے بھی عورت سے بے نیاز نہیں ہے اور عورت بھی عورت کے لباس میں رہتے ہوئے مرد کے بغیر مطئمن ذندگی بسر نہیں کر سکتی مگر مغربی تہذیب نے جہاں اسلام کے ماننے والوں میں لا دینیت حرص اور مادہ پرستی پیدا کی ہیں وہی مغربی تہذیب نے مسلمان عورت کو اپنے جال میں ایسے پھسنایا کہ عورت کی آزادی کے نام پر اس کی عفت و عصمت بھی داو پر لگا دی

    تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ مغرب کی عورت کیوں آزادی مارچ کے لیے اٹھی اس کی کیا وجوہات تھیں پہلی دفعہ 1909 میں عورت کے آزادی مارچ کی ابتداء ہوئی 8 مارچ کو آزادی مارچ منانے کا فیصلہ 1913 کو ہوا1908 کو چند مخصوص عورتیں اپنے حق کے لیے آزادی مارچ کے لیے نکلی ان عورتوں پر کاوائی کرتے ہوئے ان کو گرفتار کیا گیا 1909 کو امریکن سوشلسٹ پارٹی نے آزادی مارچ کی قرار داد منظور کی 1910 کو پہلی بار عورت کی آزادی کا عالمی دن منایا گیا آزادی مارچ میں مغربی عورت اپنے معاشی معاشرتی اور سیاسی حقوق کے لیے اٹھی کیونکہ غیر مسلم عورت ہمشہ اپنے مرد کا شکار رہی ہے مرد نے اس صنف نازک کو جنگلی درندہ ہی سمجھا ہے گھر کے سامان اور جانوروں کے برابر عورتیں بیچی اور خریدی جانے لگی اسلام سے پہلے حالات میں عورت کو صرف نسل انسانی کی ترقی کا زریعہ سمجھا جاتا تھا اس کے علاوہ عورت ان کے لیے شرمندگی کا باعث تھی عرب کے علاوہ دوسرے مذاہب میں عورتوں کے ساتھ سلوک ڈاکٹر گستاولی بان کے زریعے پتہ چلتا ہے

    "یونانی عورتوں کو ہمشہ کم درجے کی مخلوق سمجھتے تھے اگر کسی عورت کا بچہ خلاف فطرت پیدا ہوتا تھا تو اسے مار ڈالتے تھے”
    "اسپارٹا میں اس بد نصیب عورت کو جس سے قومی سپاہی کے پیدا ہونے کی امید نہ ہوتی مارڈالتے تھے جس وقت کسی عورت کے بچہ پیدا ہوتا تو اسے فوائد کی غرض سے کسی دوسرے مرد کی نسل لینے کے لیے اس کے شوہر سے ادھار لے لیتے تھے”
    عہد قدیم میں واضح لکھا گیا کہ
    "جو کوئی خدا کا پیارا ہے وہ اپنے آپ کو عورت سے بچائے ہزار آدمیوں میں سے ایک پیارا پایا ہے لیکن تمام عالمی عورتوں میں ایک عورت بھی ایسی نہیں جو خدا کی پیاری ہو”

    روم میں
    مرد کی اپنی عورت پر جابرانہ حکومت تھی جس کا معاشرے میں کوئی حصہ نہیں تھا اور شوہر کو اس کی جان پر پورا حق حاصل تھا

    یہودیت میں عورت کامقام یہ ہے اگر دو بھائی ہوں ان میں سے ایک بے اولاد مر جائے تو اس کی بیوہ عورت کا نکاح کسی اور سے نہ کیا جائے اس کے شوہر کا بھائی اسے اپنی بیوی بنائے اسے بھاوج کا حق ادا کرے جب پہلوٹھا جو اس سے پیدا ہو تو اس کے بھائی کا نام شمار ہو گا تاکہ اس کا نام اسرائیل سے مٹ نہ جائے اگر وہ اس کا شوہر بننے سے انکار کر دے تو وہ عورت ججوں کے سامنے اپنے پاوں کی جوتی نکالے اور اس کے منہ پر تھوک دے اور کہے جو اپنے بھائی کا گھر نہیں بنائے گا یہی کیا جائے گا اور اسرائیل میں اس کا نام یہ رکھا جائے اس شخص کا گھر جس کا جوتا نکالا گیا

    ہندو کے نزدیک تقدیر طوفان موت جہنم زہر زہریلے سانپ کوئی ان میں سے اتنے خراب نہیں جتنی عورت ہے

    عیسائیوں کے نزدیک وہ شیطان کے آنے کا دروازہ ہے وہ شجر ممنوع کی طرف لے جانے والی خدا کے قانون کو توڑنے والی اور خدا کے تصور اور مرد کو غارت کرنے والی ہے

    کرائی سوسٹم کے نزدیک
    "ایک ناگزیر برائی ایک پیدائشی وسوسہ ایک مرغوب آفت ایک خانگی خطرہ ایک غارت گر دلربائی ایک آراستہ مصبیت ہے

    روسی مثل مشہور ہے
    "دس عورتوں میں ایک روح ہوتی ہے ”

    اسپینی مثل ہے
    "بری عورت سے بچنا چاہے اچھی عورت پر کبھی بھروسہ نہیں کرنا چاہے

    اطالیون کا قول ہے
    گھوڑا اچھا ہو یا برا اسے مار کی ضرورت ہوتی ہے عورت اچھی ہو یا بری اسے بھی مار کی ضرورت ہوتی ہے

    یہ تھے ھقوق عورت مغربی اور دوسرے مذاہب کے معاشروں میں مگر اسلام اسلام میں تو عورت کی شان و شوکت ہی بہت ہے اس کا ہر دن ہی آزادی کا دن ہے مسلمان عورت کی اہمت تو اس کے مذہب نے بہت پہلے بتا دی تھی
    ارشاد ربانی ہے
    یایھا الناس اتقو ربکم الذی خلقکم من نفس وحدة و خلق منھا زوجھا وبث منھما رجالا کثیرا ونساء
    اے لوگو اپنے رب سے ڑرو جس نے تم سب کو ایک جاندار سے پیدا کیا اور اس جاندار سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پیھلائیں

    اس کا مطلب مرد اور عورت ایک ہی سرچسمہ ہیں انسانیت کی حد تک دونوں میں کمی بیشی نہیں ہے عورت کوئی الگ کم تر یا کوئی اور مخلوق نہیں ہے بلکہ وہ بھی انسان ہی ہے جیسا کہ مرد انسان ہیں پھر مرد کو اللہ پاک نے کوئی حق نہیں دیا کہ وہ عورت کو زلیل اور کم تر سمجھے اسلام نے جب عورت کے حقوق اور اس کی قدو منزلت کا تعین کر دیا ہے کہ یہ صرف مرد کی خدمت گزار نہیں بلکہ دنیا میں عروج اور قدرو منزلت بھی رکھتی ہیں تو پھر مسلمان عورت کو چاہے کہ وہ اسلامی حدود کی پابندی کریں اپنی عفت کی حفاظت کریں آزادی مارچ میں اپنی عظمت کا جنازہ مت نکالے

    اب عورت ہو گی آزاد
    ثناء صدیق