Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہم روٹھے تھے انتظار میں کوئی منانے آئے گا ، تحریر: منہال زاہد سخی

    ہم روٹھے تھے انتظار میں کوئی منانے آئے گا ، تحریر: منہال زاہد سخی

    ⁦🖋️⁩ منہال زاہد سخی

    ہم روٹھے تھے انتظار میں کوئی منانے آئے گا
    میٹھی میٹھی باتیں کرنے کوئی سرہانے آئے گا

    عجب تنہائی ہے اپنے آنسو خود ہی پونچھنے پڑے
    میری بےبسی دیکھ کر کوئی ہاتھ بٹانے آئے گا

    کونسے خواب کونسی سوچ کونسے خیال کیا امید
    وہم ہے تیرا کوئی انگلی پکڑ کر منزل تک چلانے آئے گا

    اب کیا محسوس ہو مجھے بے حس ہوا پڑا ہوں
    کوئی خلوص سے مجھے سنبھالنے اس زمانے آئے گا

    اب تو آنکھیں خشک ہیں نہ سوچنے کی سکت باقی
    کوئی روح واپس کرنے کیا کوئی جان ڈالنے آئے گا

    اب یوں نہ گھسیٹ محبت کو سر بازار سخی
    منافق دل کے ساتھ بتا کیا کمانے آئے گا

    #قلم_سخی
    #SAKHI

  • حالات،خدشات،امکانات اور اقدامات_!!!  تحریر:جویریہ چوہدری

    حالات،خدشات،امکانات اور اقدامات_!!! تحریر:جویریہ چوہدری

    حالات،خدشات،امکانات اور اقدامات_!!!
    (تحریر:جویریہ چوہدری)۔
    اس وقت پوری دنیا میں جو آواز ہر طرف گونج رہی ہے وہ ہے کورونا وائرس سے بیماری اور اس سے ہونے والی اموات…
    اور یہ بات دکھائی بھی دے رہی ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں اس وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے…
    دنیا میں سپر پاور کہلانے والے امریکہ میں رپورٹ ہلاکتوں کی تعداد چھبیس ہزار بتائی جا رہی ہے اور تقریباً چھ لاکھ متاثرین ہیں…
    امریکی جنرل میلے کا کہنا ہے کہ شواہد بتاتے ہیں،وائرس لیب میں نہیں بنا قدرتی طور پر آیا ہے…
    بیماریاں اور وبائیں بنی نوع انسان کو تاریخ میں بھی یرغمال بنائے رہی ہیں،اور اُس وقت بھی جب جدید سائنس کا وجود نہیں تھا اور لاکھوں لوگ لقمۂ اجل بن جاتے تھے…
    لیکن اس کے بعد جو صورتحال انسانوں کو درپیش رہی،وہ نسلِ انسانی کی بقاء معاشی،معاشرتی مسائل رہے ہیں…
    اسی طرح جنگوں کی تاریخ کو پڑھا جائے تو اس کے بعد بھی یہی صورتحال سامنے آتی رہی ہے…
    جن خطوں میں جنگ کے شعلے بھڑکا کر خانہ جنگیوں اور ٹیکنالوجی کے زعم میں طاقتیں حملہ آور رہی ہیں وہاں بھی انسانی المیہ ہر دور میں جنم لیتا رہا ہے…
    بھوک،افلاس،خوراک اور پانی کے لیئے خانہ جنگی معمول کی صورت اختیار کر گئی…
    آج بھی ہم دنیا کے نقشہ پر دیکھیں تو ان جنگ زدہ علاقوں میں انسانیت کس کرب،درد اور بھوک سے گزر رہی ہے،انسانیت کے نام نہاد علمبرداروں کو اس کے نتائج کی ذرا فکر نہیں ہے؟
    لاکھوں،کروڑوں کے اعتبار سے مائیگریشن کیا انسانی المیے کو جنم نہیں دیتی؟
    تو اس صورتحال میں اس چیز کا جو فائدہ اٹھاتے ہیں یہ وہ ممالک ہیں جو اپنی صنعتوں،اسلحہ کی فروخت اور فنڈز کی فراہمی سے دنیا کو یرغمال بنا کر اپنی معیشت کا جال وسیع اور مضبوط کرتے ہیں اور پھر اسی کی آڑ میں دنیا کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں…
    بڑے بڑے قرض فراہم کرنے والے اداروں کے بھلا اور کیا عزائم ہیں؟
    اور پھر ایسی صورتحال میں بھی سرمایہ دار اپنے سرمایہ دارانہ نظام کی مضبوطی کا سوچتا ہے…
    اپنی تجارت کے خسارے سے ڈرتا ہے اور اس کے لیئے خوف کی فضا پیدا کر کے مختلف سازشی نظریات کو پروان چڑھایا جاتا ہے…
    جس سے غریب اور تیسری دنیا کے ممالک سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں…
    اب اس حالیہ وبائی مرض کو ہی لیا جائے تو تمام ترقی پزیر دنیا اپنی بند صنعتوں،بڑھتی بے روزگاری،اور ٹھپ برآمدات کی وجہ سے انہی عالمی اداروں کی طرف دیکھ رہی ہے…
    جنہوں نے قرض کی فراہمی کی آڑ میں اپنے ایجنڈے اسلامی دنیا پر مسلط کیئے ہیں…
    تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسی صورتحال جو جنگی اور ہنگامی اقدامات کی متقاضی ہو…اس میں ہمیں کس شعور کی ضرورت اور کن اقدامات کی طرف بڑھنا ضروری ہے…
    دنیا میں اس وقت تک مسائل حل نہیں ہو سکتے جب تک انسانیت کو مدنظر رکھ کر نہ سوچا جائے اور اپنے اپنے نظریات سے بالاتر ہو کر نہ سوچا جائے…
    پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کن مقاصد کے لیئے لڑی گئیں اور ان کے نتائج کیا نکلے؟
    لاکھوں لوگوں کی زندگیاں ختم ہونے کے بعد بڑے انسانی المیے نے بھی جنم لیا۔۔۔
    اب موجودہ صدی میں جس طرح انسانیت کی تذلیل ہوئی اور انسانی حقوق کی پامالی اور زیاں کی جو تاریخ رقم ہوئی یہ بھی ایک الگ اور المناک داستاں ہے…ملتِ اسلامیہ کو اس شدت سے پارہ پارہ کیا گیا ہے کہ کھلم کھلا احکامات کے باوجود اتنا بڑا بلاک متحد نظر نہیں آتا…
    اور اس کی واضح وجہ بھی تصورات،جذبات اور اندازِ فکر کا معیار جدا ہونا ہے…
    ایک عالمی اخوت میں منسلک ہو کر اپنی پس ماندگی اور غیر صحت مند اقتصادی حالت کی بحالی ناممکن نہیں ہے
    صرف(Quixotic)یعنی ہوائی قلعے بنانے یا خوابوں کی دنیا میں رہنے سے آگے بڑھ کر یہ وقت تعبیر کی طرف قدم بڑھانے کا ہے اور اُس شعور کو بیدار کرنےکا ہے کہ ہم بھی ایک مضبوط عالمی اقتصادی نظام سے دنیا کے مسائل کو کم کر سکتے ہیں اور انسانیت کی بقاء کے لیئے یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کر سکتے ہیں…
    اپنے وسائل سے اپنی دنیا آپ پیدا کر کے مشکلات کی گھڑیوں میں دنیا کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنی آسانیوں کی راہیں ہموار کر سکتے ہیں…!!!
    اور خود ساختہ انسانی نظام کی جگہ انسانیت کے خالق کے دیئے گئے نظام کو نافذ کر کے انسانوں کے استحصال کا خاتمہ اور مکمل ضابطۂ حیات ہونے کی حقیقت دنیا پر واضح کر سکتے ہیں…!!!
    وبائیں تو پھوٹتی رہتی ہیں…
    مگر یہ عقل والوں کے لیئے آزمائش کی گھڑی میں ثابت قدمی سے اپنا آپ منوانے اور سازشوں کے توڑ کا ایک موقع فراہم کرتی ہیں…
    یہ وقت بھی اتحاد سے اپنی راہیں صاف کرنے کا ہے…
    خالص انسانی بنیادوں پر لوگوں کی اعانت اور کسی فوٹو سیشن یا نام کے ٹھپے سے بے پرواہ ہو کر کام کرنے کا ہے…
    تاکہ کل کو قوم بھوک،افلاس،صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی،بے روزگاری اور ناقص غذائیں کھانے پر کسی گہری مایوسی میں نہ اُترنے پائے…!!!
    حالات کا رونا،کیا رونا حالات نے کس کا ساتھ دیا؟
    تم خود کو بدل کر دیکھو تو،حالات بدلتے جائیں گے…!!!
    قومیں تلاطم میں آ کر ہی سبق سیکھتی اور اپنا مقام پیدا کرتی ہیں…
    پروپیگنڈوں کا مقابلہ کرتی اور درست سمت کا تعین کرتی ہیں…!!!
    اللّٰہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے احوال پر رحم کر دے،بگاڑ کو سنوار دے اور تمام موذی بیماریوں سے نجات دے،جس کے قبضۂ قدرت میں کائنات کا ذرہ ذرہ ہے…!!!!!
    ==============================

  • عدم کے مسافر :  تحریر ؛ محمد نعیم شہزاد

    عدم کے مسافر : تحریر ؛ محمد نعیم شہزاد

    عدم کے مسافر

    محمد نعیم شہزاد

    کائنات اور اس کی ہر شے فانی اور عدیم المدت ہے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے مگر اس جو اس کائنات میں بعد میں بھیجا گیا اس کا اصل مستقر جنت عدن ہے اور اپنی کوتاہی اور عدو مبین شیطان مردود کے دام میں آ کر یہ اپنے اس گھر کو کھو بیٹھا اور عارضی طور پر اسے دنیا میں بھیج دیا گیا۔ یہاں انسان کو مستقر الی یوم معلوم (متعین کردہ مدت تک قیام) اور متاع الی حین (مقررہ وقت تک نفع و فائدہ) عطا کر دیے گئے۔ انسان کی فطرت میں اصل کی طرف لوٹنے کی جستجو ودیعت کر دی گئی ہےلہذا وہ اس دنیا میں ایسی آسائش پیدا کرنے کی جستجو میں رہتا ہے جیسی اسے جنت میں حاصل تھی۔ آپ غور کریں تو جتنی دور حاضر کی ایجادات ہیں وہ انسان کو راحت و آرام پہنچانے کا سامان کرتی ہیں۔ انسان نے گرمی، سردی سے بچنے کے وسائل ایجاد کر لیے، آٹومیشن اور روبوٹکس کے ذریعے انسان بیٹھے بٹھائے اپنی مرضی کے کام انجام دے سکتا ہے اور خلا کی تسخیر کرتا ہے۔ اس کی ترقی کا یہ حال ہے کہ شاعر یہ کہنے پر مجبور ہو گیا

    عروج آدم خاکی سے انجم سہمے بیٹھے ہیں
    کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہ کامل نہ بن جائے

    لیکن انسان سے ایک بڑی خطا جو سرزد ہوتی ہے وہ اس بات کو یکسر بھلا دینا ہے کہ اس کا یہ ٹھکانہ عارضی اور وقتی ہے۔ اس کی اس جہان کی آسائشیں اور جملہ سہولیات بھی اس دنیا تک ہی محدود رہنے والی ہیں مگر اس کی حقیقی زندگی تو اس کے بعد شروع ہونے والی ہے۔

    عدم کا یہ مسافر اس عدیم الوقت زندگی کو ہی حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے۔ ابن الوقتی دستور حیات اور عبد الدینار و دراہم بننا اس کا طرز زندگی بن کر رہ گیا۔ دنیا کی ظاہری چکا چوند میں کھو کر اپنے مقصد کو بھلا بیٹھا اور اتنا ضعیف الحافظہ واقع ہوا کہ آنکھوں کے سامنے اپنے ہی ہاتھوں سے اعزا و اقارب کو مدفن میں اتارتا ہے اور خود کو امر سمجھتا ہے۔ ان بھول بھلیوں میں ایسا الجھا کہ حقیقت کو سراب اور اس دنیا کے فسوں کو حقیقت سمجھ بیٹھا۔ انسان کی آنکھ اسی وقت کھلتی ہے جب یہ ہمیشہ کے لیے بند ہونے کے قریب ہوتی ہے۔ مگر سکرۃ الموت کے وقت نزع کے عالم میں تو اس کی وصیت کا اعتبار نہیں کیا جاتا تو توبہ کیونکر قبول ہو گی۔

    سنبھل جائیے۔ اس دنیا میں اپنے مقام کو پہچانیے۔ یہ جہان فانی ہے اس کے لیے اتنی کوشش کریں جتنا یہاں کا قیام ہے۔ اپنی توانائیاں پورے طور پر اس جہان کے لیے صرف کریں جو بقا کا جہان ہے جہاں کی زندگی ہمیشگی کی ہے اور نعمتوں کو زوال نہیں۔ گزشتہ دنوں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا جب رات کے قریب 12 بجے سونے کی تیاری میں تھا فون کی گھنٹی بجی اور بڑی بہن کی وفات کی دلسوز خبر سنائی گئی۔ اللہ کی قضا پر انسان خود کو کس قدر بے بس تصور کرتا ہے۔ کوئی اپنے آپ کو کتنا ہی بااثر نہ سمجھتا ہو اللہ کی قدرت کے آگے بے بس ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ مجھے حقیقت میں موت یاد آئی کہ یہ وقت مجھ پر بھی آئے گا۔ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کی درخواست کی اور اپنے گریبان میں جھانکا۔ اپنی بداعمالیوں پر ندامت کا اظہار اور نیکی پر مداومت کے ساتھ اک نیا عزم کیا۔ میت کے غسل، تکفین و تدفین کے معاملات میں کئی بار شامل ہوا یہ پہلا موقع تھا جب کسی قبر میں اترا اور محسوس کیا کہ اس میں کیا احساس ہوتا ہے۔ ان سب باتوں کے ذکر کا مقصد تذکیر بایام اللہ ہے۔ کیونکہ فرمان الہی کے مطابق نصیحت فائدہ دیتی ہے۔ اللہ سے اس دعا کے ساتھ کہ وہ ان نگارشات کو ہمارے لیے مفید بنائے ایک بار پھر گزارش کروں گا کہ اس فانی دنیا میں ہم ہمیشہ کی زندگی کی تیاری کے لیے آئے ہیں ۔ خاتمہ باالایمان ہو جائے تو عدم کے مسافر خلد میں فلاح پا جائیں گے۔
    و ما توفیقی الا باللہ

  • محبت پر ظلم کا پہرہ !!! از قلم نعمان علی ہاشم

    محبت پر ظلم کا پہرہ !!! از قلم نعمان علی ہاشم

    کوئی ایک ہفتہ پہلے دنیا کرکٹ کے تیز ترین باؤلر نے ایک ویڈیو میں پاکستان اور بھارت کی عوام کو مشورہ دیا کہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں پاکستان انڈیا کی کرکٹ سیریز رکھ لیں. ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا گھروں میں بور ہو رہی ہے. ٹی وی اور انٹرنیٹ کے علاوہ لوگوں کو کوئی کام نہیں ہے. لہٰذا براڈکاسٹنگ سے اچھا خاصا فنڈ اکٹھا کیا جا سکتا ہے. فنڈ پاکستان اور انڈیا آدھا آدھا کر لیں اور وہ پیسے کورونا کے مریضوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کر دیے جائیں. شعیب نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں اپنے آفیشلز کے ساتھ سکینگ کے بعد کسی ایک وینیو پر جمع کی جائیں. اور براڈکاسٹنگ کے لیے جس چینل کو ٹھیکہ دیا جائے اس کی انتظامیہ کے 40 افراد سکینگ کے بعد جمع کر لیے جائیں. اسی طرح آئی سی سی اپنے نمائندگان کو سکینگ کے بعد سیریز کنڈکٹ کرنے بھیج دے. بغیر کراؤڈ کے انڈیا پاکستان کے تین میچیز کروا دیے جائیں.
    اس وباء کے موسم میں اس سے بہتر تجویز شاید ہی کوئی تھی. ایک تو جو لوگ گھروں میں قید ہیں ان کی تفریح کا سامان ہو جاتا. دوسرا سپانسرز اور براڈکاسٹنگ کے ذریعے تین ارب ڈالر کما لیے جاتے. جو کورونا کے خلاف لڑنے میں دونوں ممالک کے انسانوں کے کام آتے.
    میں نے یوٹیوب پر ویڈیو دیکھی تو نیچے ہندوستانیوں نے طوفان بدتمیزی برپا کیا ہوا تھا. سینکڑوں میں سے چند کمنٹ ایسے تھے جنہوں نے شعیب کے مشورے کو سراہا تھا.
    اولاً تو میں نے سوچا کہ عام اور جاہل ہندوستانی کا رویہ ہے. کسی زمہ دار بھارتی کا موقف جانتے ہیں.
    اس کے لیے سرچ کیا تو پورا ہندوستانی میڈیا شعیب اختر اور پاکستان کا مذاق اڑا رہا تھا. میڈیا تو چلو فاشٹ حکومت کا پیڈ ہوا. دکھ ہوا جب کچھ بھارتی سابق کرکٹرز نے بھی شعیب کا مذاق بنایا.
    سب سے شرمناک بات سنیل گواسکر نے کی کہ
    "پاکستان کے لاہور میں برفباری تو ہو سکتی ہے مگر شعیب اختر کے مشورے پر عمل نہیں.”
    ایک طرف تو یہ بھارتی رویہ ہے اور دوسری طرف ہمارا بھائی شعیب ہے جو ہر وقت امن کی بات کرتا ہے. شعیب نے کش میر پر ٹویٹ کی تو بھارتی عوام نے خوب سنائیں. شعیب نے کسی معاملے میں عمران خان کی تعریف کی تو شعیب اختر کو بھارتی میڈیا نے منافق کہہ دیا.
    ہماری ہوش کی آنکھوں نے پاکستان کی طرف سےامن کی آشاء سے لے کر آج تک بھارت کے تعصبانہ رویے کا ہمیشہ مثبت انداز میں جواب دیا. پاکستان کے ایمبیسڈرز نے ہر موقع پر پاک بھارت کشیدگی کو کم کرنے کی بات کی. پاکستانی عوام کی اکثریت بھی پاک بھارت تعلقات کی برابری کی سطح پر چاہتی ہے. مگر بھارت کی اکثریت پاکستان کے ساتھ کھلی دشمنی کا اعلان کرتی رہتی ہے.
    اس وقت بھارتی حکومت، ایمبیسڈرز اور میڈیا دن رات پاکستان کی نفرت سیکھانے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہا.
    بھارت نے ہر چیز کو دشمنی پر تولہ ہے. تجارت، ثقافت، کھیل، ادب اور سیاست سب جگہ بھارت کا یہی تعصبانہ رویہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ بھارت اس خطے میں امن کو لے کر سنجیدہ نہیں. اور خدانخواستہ بھارت کا یہ رویہ کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے.
    والسلام
    نعمان علی ہاشم

  • میری مرضی کیا ہے؟  احمد علی ہاشمی

    میری مرضی کیا ہے؟ احمد علی ہاشمی

    میری مرضی کیا ہے؟
    احمد علی ہاشمی

    مظاہرِ مرضی

    تجھ کو رب سے مانگ کے لوں گا
    نہ چلے گی تیری مرضی
    تم بھی اس کے میں بھی اس کا
    اور اسی کی چلے گی مرضی

    تجھ بن جیون سُونا سُونا
    سُونے ہی دن رات میرے
    تجھ کو پا کر ہی دم لوں گا
    یہ ہی ہے اب میری مرضی
    ——————————-
    حقیقتِ مرضی

    عشق بیماری جیسا یارو
    جس کو لگتا ہے وہ جانے
    مرض ہی بن جاتا ہے مرضی
    ہو گا وہی جو اسکی مرضی

    حسن مجازی، روپ مجازی
    ہوتا ہے یہ عشق مجازی
    روح سے جب تم پیار کرو تو
    جان لو گے تم حق کی مرضی

    مرضی، مرضی نہ تم کرنا
    اس کی مرضی پر تم رہنا
    مرضی سے کچھ کر نہیں سکتے
    لیکن برا ہے مرض یہ مرضی

  • الکوحل ملا سینیٹائزر حلال یا حرام؟

    الکوحل ملا سینیٹائزر حلال یا حرام؟

    مفتی عبدالقوی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر اور وبا سے بچاو کی حفاظتی تدابیر کے لیے الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر حلال ہے

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں پھیلی کورونا وبا کے پیش نظر حفاظتی تدابیر کے طور پر ماہرین نے سینیٹائزر استعمال کرنے پر زور دیا ہے وبا سے بچاو کے لیے بازار میں دستیاب ان ہیینڈ سینیٹائزر کو فوقیت دی جا رہی ہے جس میں۔الکوحل کی ایک خاص مقدار شامل ہے لیکن بحثیت مسلمان یہ بات ہمیں شک میں مبتلا کر دیتی ہے کہ اگر ہم الکوحل ملے سینیٹائزر کو ہاتھوں پر استعمال کریں تو ان ہاتھوں سے ہم کو ئی چیز کھاتے ہیں تو وہ ذرات ہمارے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں کیا اس میں کوئی قباحت ہو سکتی ہے اس حوالے سے پروگرام سماء ود عفیفہ راو میں مفتی عبدالقوی جلوہ گر ہوئے انہوں نے انٹر ویو کے دوران الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر حلال ہے یا حرام اس پر روشنی ڈالی

    مفتی عبدالقوی نے بتایا کہ وبا سے بچنے کے لیے ہر قسم کی احتیاطی تدابیر تو ہر حال میں اختیار کرنی ہیں کیونکہ قرآن پاک یہ درس پوری دنیا کو دے رہا ہے کہ جس نے ایک انسانیت کی جان بچائی احترام کیا گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی احترام کیا انہوں نے کہا پوری دنیا کی۔کیفیت ہمارے سامنے ہے چین نے احتیاطی تدابیر اپنا کر اس وبا سے نجاے حاصل کی پاکستان میں بھی حکومت علماء ماہرین طب اور فن سب نے احتیاطی تدابیر اختیار کیں اور عوام۔کو بھی زور دیا

    مفتی قوی نے کہا کہ احتیاطی تدابیر میں گرم۔پانی کا استعمال۔اور صاف ستھرائی شامل ہے انہوں نے کہا جراثیم کش الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر استعمال کرنے کا فتوی کسی عالم دین کا نہیں بلکہ ماہرین طب اور ماہرین فن کا ہے

    مفتی عبدالقوی نے کہا کہ ہر چیز جو حرام ہے وہ پلید بھی ہے نہیں ہر حرام چیز پلید نہیں ہے انہوں نے کہا نجاست پلیدی اور حرمت یہ تینوں الگ چیزیں ہیں الکوحل اس لیے حرام ہے کیونکہ اس کا خمر ہے اور خمر کے معنی عقل کے اوپر خمار جب کوئی خمر استعمال کرےتو اسے اردگرد کا ہوش نہیں رہتا

    مفتی عبدالقوی نے کہا الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر کا ہلکا سا سپرے جب ہم ہاتھوں پر کرتے ہیں تو اس کا اثر دماغ پر نہیں چڑھتا اس کے اثرات ذہن پر اثر انداز نہیں ہوتے وہ ہاتھ کے اوپر موجود رہتا ہے خمار نہیں ہوا تو اس کا مطلب حرام نہیں ہے اور ہر حرام چیز پلید نہیں ہے اگر سینیٹائزر کو استعمال کرنے کے بعد کھانا کھائیں گےتو اس کہ ہلکی سی مقدار اثرات مرتب نہیں کرے گی کسی مرض میں خاص شرط خاص وقت احتیاطی تدابیر کے لیے پلید چیزیں بھی پاک ہو جاتی ہیں

    مفتی قوی نے کہا کہ اپنی تسلی کے لیے جراثیم کش ہینڈسینیٹائزر جو حرام اور پلید ہے استعمال کرنے کے بعد اس پلیدی سے بچنے کے لیے کھانا کھانے سے پہلے گرم۔پانی سے ہاتھ دھولیں کیونکہ گرم۔پانی کا استعمال بھی احتیاطی تدابیر میں ماہرین نے بتایا ہے

    جبکہ مفتی عبدالقوی نے کہا میں دین میں آسانی ڈھنڈنے کا قائل ہوں میری رائے یہ ہے کہ آپ سینیٹائزر استعمال کرنے کے بعد بغیر ہاتھ دھوئے بھی کھانا کھا سکتے ہیں وہ حرام بھی نہیں نجس بھی

    مفتی قوی نے مزید کہا کہ اگر ماہرین طب اور فن نے کہا ہے ک. الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر جراثیم کش ہے اس سے وبا سے بچے رہیں گے تو یہ حلال ہے اسی طرح اگر ماہرین طب وبا سے بچاو کے لیےاور حفاظتی تدابیر کے تحت الکوحل پینے کو کہیں گے تو میں برملا کہوں گا کہ تب بھی پینا حلا ل ہے اور پاک بھی

    گھر میں ہینڈ سینیٹائزر بنانے کا سستا اور آسان طریقہ

    گھر میں کورونا وائرس ختم کرنے کے طریقے

    این ڈی ایم اے کا کورونا سے بچاؤ کے حفاظتی سامان کی خریداری لوکل مارکیٹ سے کرنیکا فیصلہ

  • امید چراغ منہال : از؛ زاہد سخی

    امید چراغ منہال : از؛ زاہد سخی

    منہال زاہد سخی

    مایوس دل میں اب بھی کوئی امید چراغ ہے
    بجھے انگاروں سے کیا اب سلگتی کوئی آگ ہے

    کوئی خطا کوئی غلطی کوئی نادانی ہوجائے
    فسون عشق میں گناہگار دل بھی بے داغ ہے

    نیند سے کوسوں دور وسوسوں کی کروٹیں ہیں
    کیسے کٹے کی یادوں کی رات الجھا اب دماغ ہے

    اب سمجھ نہیں آرہی کیسے سمجھاؤں ہمسفر کو
    نہ کوئی راستہ نہ سوچ نہ خیالوں میں کوئی جاگ ہے

    پہلی ملاقات طے ہوجائے پھر زندگی سہل ہوجائے گی
    کس کی ہاں کس کی نہ دونوں کی دوڑ بھاگ ہے

    اب امید سے یقین کی جانب سفر ہے سخی
    نجانے کیا سوچ کر یہ دل باغ باغ ہے

    #قلم_سخی

  • یہ کیسا لاک ڈاؤن ہے؟؟؟ از قلم عبدالحفیظ

    یہ کیسا لاک ڈاؤن ہے؟؟؟ از قلم عبدالحفیظ

    کریانہ، گوشت، دودھ دہی، میڈیکل سٹور، پہلے کھلے تھے،
    اب درزی، حجام، الیکٹریشن، بک سٹیشنری، مکینک، کو بھی اجازت، کرونا مرض کیا ان پیشہ والوں سے جو سٹیل کے برتن، کراکری، لنڈے والے، کپڑے والے، جوتے والے پیٹی و ٹرنک اور موبائل ریپئرنگ والے ایزی لوڈ، ٹرانسپورٹ، وان والے، منیاری والے کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والے، سے پھیلتا ہے جن کو مشکل میں ڈال دیا گیا ہے۔pti ساری کملی ہوگئی اے کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں عجب تماشہ لگا دیا ہے۔
    یا تو لاک ڈاؤن مکمل ہو یا پھر سب کچھ کھول دو۔
    عقل سے پیدل لوگوں جب ان متعلقہ افراد کے کام بند ہونگے تو ان کو کیا پڑی ہے کہ روزی روٹی کے بندوبست کے علاوہ حجام سے حجامت بنوائیں یا الیکٹریشن کا کام کروائیں یا کتابیں کاپیاں خریدتے پھریں۔
    سب سے بڑھ کر ٹرانسپورٹ ہی نہیں چلے گی تو دیہات وغیرہ کے لوگ شہر کا رخ کیسے اور کیوں کرینگے؟
    جب کہ آدھے سے زیادہ ان افراد کے متعلقہ چیزوں کی دکانیں ہی بند ہو۔
    حکومت پاکستان یا تو سب کو کاروبار کی اجازت دے یا پھر یہ وباء واقعی خطرناک ہے تو انسانی زندگی بچانے کیلئے سخت فیصلہ کرتے ہوئے مکمل لاک ڈاؤن کرے کیونکہ اگر اس وباء سے کوئی بھی شہری متاثر ہوگیا تو وہ اپنے خاندان کو درد جدائی دینے کے ساتھ انکی صحت و زندگی کیلئے خطرہ بن سکتا ہے اور دیگر افراد بھی اس مرض کا شکار ہو جائیں گے۔

  • لاک ڈاؤن،ہم اور رمضان کی آمد…!!! تحریر:جویریہ چوہدری

    لاک ڈاؤن،ہم اور رمضان کی آمد…!!! تحریر:جویریہ چوہدری

    لاک ڈاؤن،ہم اور رمضان کی آمد…!!!
    (تحریر:جویریہ چوہدری)۔

    لاک ڈاؤن کیا ہوا،گھر سے ایک عجیب سی محبت ہو گئی ہے…
    جہاں کئی نقصانات سر پر منڈلا رہے ہیں وہیں کئی اخلاقی سنوار کا بھی احساس ہو رہا ہے…
    عجب سی خاموشی کا حصار اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے…
    غیبت،چغلی اور جھوٹ کے مواقع کم ہو گئے ہیں…
    ابھی صبح ہی والدہ صاحبہ سے ذکر کیا ہے کہ امی جان !!!
    یہ سچ ہے کہ بہت زیادہ شہرت،آنا جانا اور گپیں انسان کے بہت سے راز کھل جانے کا باعث ہے،کبھی ہم کسی کی برائی سنتے ہیں اور کبھی کسی کی برائی کرنے میں شامل ہو جاتے ہیں…
    غرض دونوں طرح سے گناہ سمیٹتے ہیں…
    ایک ماہ ہونے کو آیا ہے اس دوران کوئی بھی بندہ ایسا نہیں آیا جو ذاتی مخاصمت یا گھریلو جھگڑوں کا ہی تذکرہ لیئے بیٹھا ہو…
    یوں ذہن میں آسودگی اور دل بوجھ سے آزاد آزاد لگتا ہےکیونکہ غلط بات چاہے ذرا سی ہی کیوں نہ ہو،ذہنی و روحانی اذیت کا باعث ضرور بنتی ہے…
    نماز کی ادائیگی بروقت کرنے کے لیئے ہمارے پاس اوّل وقت موجود ہے…
    گھر کے سبھی افراد الحمدللہ اللّٰہ اکبر کی صدا پر متحرک نظر آتے ہیں،چنانچہ نماز چھوٹنے یا لیٹ ہو جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا…
    گھر کے کام کی روٹین بھی بہت بہتر انداز میں چلنے لگی ہے بلکہ اضافی کام جو کئی مہینوں سے ملتوی رکھے گئے تھے۔۔۔
    انہیں کرنے کا موقع ہاتھ آیا ہے…
    میں نے بھائی سے کہا کہ چلیں آپ چارپائی پر چڑھ جائیں،میں آپ کی مدد کرتی ہوں تو چھت کے تمام پنکھے صاف کر دیئے جائیں…
    صفائی کے بعد میل اترنے سے گویا وہ بھی چمکتے ہوئے مسکرا رہے ہوں…
    عموماً تو گھر میں چولہا ہی استعمال ہوتا ہے لیکن والدہ صاحبہ کوئی بھی اضافی کام مثلاً،حلوہ بنانا،مربہ بنانا،یا سحری کی تیاری کے لیئے ہمیشہ سے ہی آگ جلانا پسند کرتی ہیں…
    گھر کی لکڑی وافر ہونے کی وجہ سے کافی سارے لکڑی کے بھاری بلاک پڑے تھے،سو موقع غنیمت تھا…
    بھائی جان جو لاڈلے اور ایسے کاموں میں قدرے سست طبیعت کے مالک ہیں…
    ان کی ورزش اور جم جانے کا بہترین انتظام میں نے یہ کیا کہ کلہاڑا،ہتھوڑا،چھینی وغیرہ سب اوزار اس جگہ پہنچا کر ایندھن کا سامان بنانے پر آمادہ کیا…
    وہ قائل کرتے رہے کہ کوئی مزدور مل جائے گا تو کروا لیتے ہیں…
    مگر یہ ہاتھ اور ہمت کس لیئے ہیں؟
    میں نے استفسار کیا…
    اچھا چلو میں بناتا ہوں،اور آپ سمیٹے جانا…
    اٹس او کے…آئی ایم ریڈی۔۔۔
    اور یوں وہ چارو نا چار اس کام میں لگ گئے،
    تین دن میں لکڑیوں کا کافی بڑا ڈھیر جمع ہو گیا،جنہیں ترتیب سے جوڑنا میں نے تھا…
    سسٹر کی ڈیوٹی لگی کہ آپ سارے جالے برش سے صاف کر دیں تاکہ رمضان المبارک کے دوران بڑی صفائی کی ضرورت نہ پڑے اور کمرے صاف ستھرے ہوں…
    آسمانی بجلی کی چمک پڑنے سے حویلی کا ایک درخت جھلس چکا تھا…
    والد محترم کو ہم نے مشورہ دیا کہ وہ کاٹ دیا جائے کیونکہ اب کسی کام کا نہیں…
    آپ اوپر چڑھ کر آری چلائیں،
    ہم سب نیچے سے ساری صفائی کر دیں گے…
    اچھا آری نہیں مل رہی…؟
    پتہ نہیں کہاں رکھی ہے آپ نے،
    ایسی چیزیں آپ ہی تو سنبھال دیتی ہیں…
    مجھ سے سوال ہوا…؟
    مجھے لگا اب معاملہ پینڈنگ ہو گیا…
    شاید کوئی لے کر گیا ہو تو واپس نہ کی ہو ابھی…
    میں نے ذہن پر زور دیا…
    تب یاد آئی کہ وہ تو شیڈ پر سنبھالتے ہوئے پیٹی کے پیچھے گر گئی تھی…
    اللّٰہ اللّٰہ کرکے بمشکل آری نکالی اور پیش کی…
    درخت کٹ گیا اور ہم سب اُسے سنبھالتے جا رہے تھے…
    چھوٹے ٹکڑوں میں کر کے تہہ لگا دی گئی…
    اور اُدھر امی جان زبردست سا حلوہ بنا چکی تھیں کہ سب فیملی ممبرز ٹف کام میں جتے ہوئے تھے…
    بازار کے وقت،بے وقت کے چکر محدود ہو گئے ہیں…
    کھانا تو اب بھی تین وقت ہی کھایا جاتا ہے مگر قریبی کریانہ سٹور سے بھی تو سب مل ہی جاتا ہے…
    وہ پہلے کی لمبی لسٹ،بیس سے تیس ہزار کے بِل کو چھُوتا سودا سلف اب پانچ چھ ہزار میں بھی گزارا کرا رہا ہے…
    بس ہمیں سٹاک رکھنے،اور چیزیں دھڑا دھڑ خرید کر ایکسپائر کر دینے کا بھوت سوار ہے…
    ضرورت ہے یا نہیں گھر میں ہونا ضروری ہے بس…
    سوچا لاک ڈاؤن اگر بڑھ جاتا ہے تو گرمیوں کے کپڑے؟
    ضمیر نے کچوکہ لگایا…ابھی پچھلی گرمیوں کے تین سوٹ تو ایسے بھی پڑے ہیں جنہیں ہاتھ تک نہیں لگایا،صرف بنوائے تھے…؟؟؟
    دل میں اطمینان اُبھرا کہ چلو اس بار نہ بھی لیئے تو نہ سہی۔
    پہلے سے موجود بوسیدہ کر کے ہی حساب دینے کے بار کو کم کریں گے۔

    ایک کام ابھی تک ذہن میں گردش کر ہی رہا تھا کہ اگر پچھلے سال کی پڑی گندم کو صاف کر کے دھوپ لگوا دی جائے تو کیسا اچھا ہے…؟
    لیکن ساتھ کون دے؟
    لے دے کر بھائی نظر آئے،
    کیوں بھیا یہ کام رہ گیا ہے،کیا کر نہ دیا جائے؟
    میں نے دھیرے سے سوال کیا…
    بھئی لاک ڈاؤن تے قسمت نال آ گیا اے…
    میں گھر آ گیاں تے کم کروا کروا کے مرمت تو نے کر دتی اے…
    اچھا،چلیں آپ کی مرضی،موڈ نہیں تو رہنے دیں؟
    نہیں کل کریں گے ان شآ ء اللّٰہ…
    تین دن تک اس گندم کی صفائی کے دوران گرمی اور دھوپ سے جب آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تو مئی، جون کی تپتی دھوپ میں باہر اکھاڑے پر تپتے کسان یاد آئے کہ کیسے وہ محنت کر کے دانہ دانہ سنبھال کر قوم کے گھر تک پہنچانے کا سبب بنتے ہیں…!!!
    خیر اس ذمہ داری کو نبھا کر فرش دھوتے ہوئے جب پسینے کے بہتے قطرے فرش دھوتے پانی میں شامل ہوئے تو ہم آہ بھر کر بیٹھے کہ:
    ہمارا پسینہ بھی شامل ہے اے گھر تری تزئین میں…
    ہم جب نہیں ہوں گے،ہمیں بھی یاد کر لینا…!!!
    اب رمضان سے قبل میرا آخری ٹارگٹ اپنی مطالعہ کی بُکس کو ترتیب سے رکھنا اور الگ کرنا تھا…
    سو یہ کام کر کے ہم لاک ڈاؤن کے لمحات سے خوب مستفید ہوئے…
    موٹاپا تو پہلے ہی ہم سے دور بھاگتا ہے،اب غم میں ڈوبے کلائی کا ناپ لیا تو وہ پہلے سے اور کمزور لگ رہی تھی…
    لیکن اس جسم کا،اس صحت کا،قوت کا حق ادا کرتے رہنا چاہیئے…
    اس کے مثبت اور بہترین و تعمیری استعمال کے بے شمار فوائد ہیں
    اور اللّٰہ تعالٰی سے عافیت کا سوال بھی کرتے رہنا چاہیئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "ایمان کے بعد عافیت سے بہتر کوئی خیر نہیں__!!!”
    اس لاک ڈاؤن نے سکھا دیا کہ ہم یہ صناعی جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری سے پیدا کرتے ہیں…
    ہر کام انسان خود کر سکتا ہے صحت و عافیت کے باوجود کام کو ہاتھ تک نہ لگانا فیشن نہیں اپنے ساتھ زیادتی اور اپنے بدن کو بیماریوں کا گھر بنانے کی دعوت ہے…
    اللھم بلغنا رمضان…
    اے اللّٰہ !
    ہمیں رمضان کی رحمتوں کا حقدار بنانا…بخشش کا مستحق بنانا اور ہماری غلطیوں سے درگزر فرما کر ہمارے احوال پر رحم فرمانا…
    ہمیں متقین کی لسٹ میں شامل کرنا…اللّٰہ ہم سے حساب آسان لینا…
    اے اللّٰہ ہمیں اس زندگی کی نعمتوں سے ایمان کے ساتھ مستفید ہونے اور آخرت میں فردوس و عدن کے باغوں میں سکون عطا کرنا…
    کہ ابدی سکون تو نے جنت کا ہی خاصہ رکھا ہے…آمین۔
    وطنِ عزیز سمیت تمام دنیا پر چھائی آفت کے اثرات سمیٹ لے…
    اس لامتناہی بحث اور شر سے خیر کا پہلو نکال دے…
    سو ان لمحات کو ڈپریشن کی بجائے مثبت استعمال میں گزاریں اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اس حدیث کو ان ایام میں حرزِ جاں بنا لیں کہ جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی سے فرمایا:
    ولیسعک بیتک…”اور اپنے گھر میں رہو”
    جب انہوں نے سوال کیا تھا کہ نجات کیا ہے؟
    اگر باہر کی رنگ رنگیلی دنیا سے کچھ وقت کے لیئے کٹ گئے ہیں تو اندر کی دنیا کو رنگین کیجیئے…
    صبغۃ اللّٰہ سے…
    اور آسانیوں کا سوال کرتے رہیئے تاکہ میرے وطن کے غریب آدمی کی بھی پریشانیاں ختم ہو جائیں…
    لوگ اس غیر مرئی وائرس سے بچاؤ کرتے ہوئے دو وقت کی روٹی کے لیئے نہ لڑیں…
    اے گُلشن تو شاد رہے،آباد رہے
    ترا اک ایک لمحہ مصائب سے آزاد رہے…تیرے دامن میں بستے ہر انسان کی خیر ہو…
    جہاں بھر میں انسانیت کے احترام کی ریت جڑ پکڑے اور ہمارے ہاں کے لاک ڈاؤن سے بہت پہلے عشروں سے کئی خطوں کے لاک ڈاؤنوں سے نبرد آزما "انسانوں” کی بھی مشکلات کم ہوں…!!!!!(آمین)۔
    ==============================

  • آثارِ سحر…!!!  بقلم:جویریہ چوہدری

    آثارِ سحر…!!! بقلم:جویریہ چوہدری

    آثارِ سحر…!!!
    (بقلم:جویریہ چوہدری)۔
    ہم کیا تھے،کہاں ہیں،ٹُوٹ سے گئے اور بِکھر گئے…
    رستے ہمارے وہ کیا ہوئے،کہ سُراغِ منزل بچھڑ گئے؟

    ارفع روایات کے امین ہم، احساس کے مکین تھے…
    یہ کس ڈگر پہ چل بیٹھے کہ اُن باتوں سے بپھر گئے…؟

    حق،ناحق ہے چیز کیا،حلال و حرام سے بے پرواہ…
    یہ کس کے حق پہ ڈال کے ڈاکہ،ہم حق سے بھی مفر گئے…!!!

    راہوں میں اپنی بچھا کر کانٹے،بُجھا کر چراغِ شبِ آخر…
    اندھیروں میں ڈوب کر ہاں کیوں آثارِ سحر گئے…؟

    یقیں محکم،عملِ پیہم،یکجہتی و عَزم رہے…
    کہ یہی وہ اصول ہیں جن سے کاٹے ہر عَہد میں سَفر گئے…!!!!!
    =============================