Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عورت مارچ یا بے حیائی کو فروغ—از–ندا خان

    عورت مارچ یا بے حیائی کو فروغ—از–ندا خان

    لبرلزم کی دلدادہ اور مغربی نظام سے مغلوب خواتین 8 مارچ کو پاکستان میں عورت مارچ کرنے جا رہی ہے جس کا مقصد اپنے حق کی آزادی ہے جس کے لیے وہ سڑکوںپر نکل کر اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں گی اور مردوں کو زلیل کیا جائے گا کیونکہان خواتین کے مطابق مردوں نے ہی ان کے حق سلب کیے ہوئے ہیں یہ خواتین کبھی

    لال لال کے نام پر اور کبھی سڑکوں پر پلے کارڈ اٹھائے نکلتی ہیں جن پر ” میرا جسم میری مرضی” کے نعرے درج ہوتے ہیں ان خواتین کو اس بات کا علم نہیں کہ جن حقوق کے لیے وہ سڑکوں پر نکلنے کی تیاری کر رہی ہیں وہ حقوق تو اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال پہلے نبی آخری الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچا دیے ہیں اگر یہ عورتیں قرآن پاک کا مطالعہ کر لیتی تو ان کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر بنا چادر کے بھٹکنا نہ پڑتا قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے پوری ایک سورت عورتوں کے حقوق کے لیے نازل فرمائی "سورت النساء ” قرآن پاک کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد میرا نہیں خیال کہ کوئی مسلمان عورت اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے

    قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور زمانہ جاہلیت کی طرح اپنے بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرو اور نماز کی ادائیگی کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرو ” ( الاحزاب ٣٣)اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت کی عزت اور وقار گھروں میں ہی ہے ناکہ سر بازاربےحجاب ہوکر اپنے حقوق کی بات کریں اسلام سے قبل تو عورت کو وارثت میںحصہ دینے کا تصور بھی نہ تھا اسلام کے آنے کے بعد عورت کو وارثت میں سے حصے دینے کا حق بھی حاصل ہوا

    جب عورت کی عزت اور اس کی حفاظت چادر اور چاردیواری میں ہے تو عورت مارچ کرنے والی خواتین کونسی عزت اور تحفظ کے حق کے لیے گھروں سے باہر نکلنا چاہتی ہے ،آج یہود و ہندو مختلف ذرائع سے اسلامی شعائر کو مسلنے اور بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ایک طرف ڈش اور انٹرنیٹ جیسے آلات کے ذریعے فحاشی اور بےحیائی کے پروگرام نشر کرکے نوجوانوں کے علاوہ مسلمان ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے قلوب واذہان میں بےحجابی اور ذہنی آورگی پیوست کرکے اسلامی معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں

    دوسری طرف روشن خیال، پڑھے لکھے مغربی تہذیب و تمدن سے مرعوب و متاثرہوکر یہود وہنود کی ذبان بول کر مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے سکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں میں اسلامی تعلیمات کی بجائے جدید فیشن اور بےحیائی کا ماحول نظر آتا ہےبالخصوص عورت کے حقوق کے نام پر قائم یہودی تنظیمیں، انجمنیں، وغیرہ مسلم بیٹی کی حیا کو اتارنے میں سرفہرست ہیں

    اسلام سے قبل بھی عورت کو بری نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اگر کسی کے گھر لڑکی پیدا ہوجانی تو وہ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرتا تھا عورت کی ادنی درجے کی حیثیت تھی، اگر کسی کا خاوند فوت ہوجاتا تو اس عورت کو ایک سال تک گندے بدبو دار جھونپڑے،میں پڑا رہنے دیتے آج کے دور میں بھی ہندوستان میں عورت کی کوئی حیثیت نہیں،عورت کو پاؤں کی جوتی تصور کیا جاتا ہے اگر ہندو مذہب میں کوئی آدمی فوت ہوجاتا،تو اس کی بیوی کو بھی ستی کرکے جلا دیتے ہیں اسلام واحد مذہب ہے جس میں عورت کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے،ہم سب کو مل کر عورت مارچ کے نام پر بے حیائی کو روکنا ہوگا، علماء کرام اس کے خلاف آواز اٹھائے اور حکمران وقت اور قاضی وقت تک اپنی آواز پہنچائےکہ وہ عورت مارچ کو روکنے پر اپنا کردار ادا کریں

    پاکستان جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اسلامی مملکت خداداد پاکستان میں آئے روز لبرل خواتین اسلام کا مذاق اڑاتی نظر آتیں ہیں حکومتی عہدیدران پر جوں تک نہیں رینگتی جو حکومت مدینے کی ریاست جیسا نظام رائج کرنے کا نعرہ لگا کر آئی تھی وہ اب تک خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے؟ حکومتی عہدیدران خدارا اس بے حیائی کو روکے اور ملک کو بے حیائی سے بچائے اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو باحیا اور باپردہ بنائے آمین یا ارحم الراحمين

    عورت مارچ یا بے حیائی کو فروغ
    بقلم :: ندا خان

  • تعلیم کی اہمیت —-از—-وسیم احمد

    تعلیم کی اہمیت —-از—-وسیم احمد

    تعلیم کی اہمیت ازل سے ابد تک رہے گی خواہ وہ مذہبی نوعیت کی یا دنیاوی نوعیت کی,ہمیشہ معاشرے کی فلاح و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے.تعلیم کی بدولت ہی معاشرے سے جہالت کا خاتمہ ممکن ہے.تعلیم کو ہمیشہ سے اہم مقام حاصل ہے مگر اسلام نےتعلیم کی اہمیت پر خاص زور دیا ہے.حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیاوی تعلیم سے تو آراستہ نہ تھے مگر وہ اِس کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے.

    غزوۂ بدر کے موقع پر قیدیوں کیلئے رکھی گئی شرائط میں سی ایک شرط یہ تھی کہ ایک قیدی جو پڑھنا لکھنا جانتا ہو, وہ دس مسلمانوں کو پڑھنالکھنا سکھائے گا یا فدیہ ادا کرے گا جس سے اسلام میں تعلیم کی اہمیت بخوبی واضح ہوتی ہے.آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ کے مطابق” تعلیم حاصل کرو خواہ تمھیں چین ہی کیوں نہ جاناپڑے”.مسلم معاشرے کی ابتدائی ادوار میں تعلیم کی بدولت ہی جابر بن حیان,الخوارزمی, ابن الہیثم جیسےنامور سائنسدان پیدا ہوئے.عباسی خلیفہ بھی تعلیم کاقدردان تھا,اس نے یونانی ادب کا عربی زبان میں ترجمہ کروایا جو بعدازاں بغداد پر تاتاری حملے میں ضائع ہو گیا.

    اس درخشاں دور کے بعد جیسے جیسے مسلم معاشرہ علم و فنون سے دور ہوتا گیا, جہالت نے ڈیرے ڈالنا شروع کر دیے.دوسری طرف مغرب نے تعلیم کو اہمیت دینا شروع کی اور ترقی کی منازل طے کیں.اٹھارویں و انیسویں صدی میں اہم ایجادات مغربی سائنسدانوں نے کیں.

    مسلم معاشرہ اس قدر ابتری کا شکار ہوا کہ ہمارا موجودہ تعلیمی نظام بھی مغرب کا ہی مرہون منت ہے.اس مغربی نظام تعلیم کے باعث ہم اپنی تہذیب کوبھلا چکے ہیں.نہ صرف دنیاوی تعلیم بلکہ دینی تعلیم میں بھی ہم پیچھے رہ چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ ہم پر حکمرانی کیلئے مسلط کیے جاتے ہیں.رٹا سسٹم, نقل کا عام ہونا, ہمارے موجودہ نظام تعلیم کی ابتری کا باعث ہیں.بچوں کی بنیادی تعلیم و تربیت میں اہم کردار والدین ادا کرتے ہیں اور دوسرا
    اہم کردار اسکول و اساتذہ کا ہے.

    آج کل تعلیم کے نام پر بچوں کو کتابوں سے بھرےوزنی بیگ تھما دیے جاتے ہیں جس سے ایک طرف وہ جسمانی تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں تو دوسری طرف ذہنی تھکاوٹ کا بھی.سارا دن مسلسل پڑھائی سے وہ احساس کمتری کا
    شکار ہو جاتے ہیں اور کھیل کود نہ ہونے کی وجہ سے اعتماد کی کمی کا شکار بھی ہوتے ہیں.بچوں کے اس استحصال میں اسکول و والدین برابر کے ذمہ دار ہیں.

    بچوں کی تربیت پر غور کرنے کی بجائے صرف رٹے رٹائے جملوں کی تعلیم پر زور دیا جاتا ہے جس سے بعد میں معاشرے میں ایسا طالبعلم آ موجود ہوتا ہے جو اخلاقیات سے عاری ہوتا ہے, گالم گلوچ اس کے نزدیک برائی نہیں ہوتی, کسی کی حق تلفی کرنا وہ اپنا حق سمجھتا ہے, کسی پر آواز کسنا بھی اسے برا نہیں لگتا, کسی کے بیگ سے چیزیں چرانا اسے معیوب نہیں لگتا.یہ سب افسانوی باتیں نہیں بلکہ حقیقت ہے جس کا مشاہدہ روزانہ کیا جا سکتا ہے.اس کی بنیادی وجہ تربیت کی کمی ہے ورنہ تعلیم کیلئےہزاروں اسکول موجود ہیں.

    اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہمیں رٹا سسٹم سے نجات حاصل کرنی ہے اور ایسا تعلیمی نظام رائج کرنے کی کوشش کرنی ہے جو نہ صرف طلباء کو حقیقی تعلیم و تربیت سے روشناس کرے بلکہ انہیں موجودہ دور
    سے بھی ہم آہنگ کرنے میں مددگار ہو.موجودہ حکومت کا تمام نصاب کو یکساں کرنے کا قدم قابلِ تحسین ہے اور اگر بنیادی تعلیم کا ذریعہ بچوں کی مادری زبان کااپنایا جائے تو اس سے بھی تعلیم کے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں

    تعلیم کی اہمیت
    تحریر : وسیم احمد

  • آج کراچی کنگز اور پشاور زلمی آمنےسامنے ہوں گے

    آج کراچی کنگز اور پشاور زلمی آمنےسامنے ہوں گے

    آج کراچی کنگز اور پشاور زلمی آمنےسامنے ہوں گے

    باغی ٹی وی :پاکستان سپر لیگ کے سنسنی خیز مقابلے جاری ہیں اور ایونٹ کے 15ویں میچ میں آج کراچی کنگز اور پشاور زلمی آمنے سامنے ہوں گے۔

    کراچی کنگز اور پشاور زلمی کے درمیان میچ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں شام سات بجے کھیلا جائے گا۔ کراچی کنگز کے پاس بابراعظم، شرجیل خان، ڈیلپورٹ اور ایلیکس ہیلزجیسے بڑے نام ہیں۔ کراچی کنگز کے پاس محمد عامر اور کرسن جارڈن جیسے وکٹیں اڑانے والے باولرز ہیں۔پشاور زلمی کے پاس کامران اکمل، شعیب ملک، لیونگ اسٹون جیسے مایہ ناز بلے باز ہیں۔ باولنگ میں زلمی کے پاس وہاب ریاض اور حسن علی ہیں
    کل راولپنڈی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم نے ٹاس جیت کر اسلام آباد یونائیٹڈ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔اسلام آباد یونائیٹڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 183 رنز بنائے۔کراچی کنگز نے 184 کا ہدف 19 ویں اوور کی تیسری گیند پر 5 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔

  • ایشیا کپ کا پاکستان میں انعقاد، اے سی سی کا اہم اجلاس ملتوی

    ایشیا کپ کا پاکستان میں انعقاد، اے سی سی کا اہم اجلاس ملتوی

    ایشیا کپ کا پاکستان میں انعقاد، اے سی سی کا اہم اجلاس ملتوی

    باغی ٹی وی :پاکستان میں ایشیا کپ ہونے کے حوالے سے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کا تین مارچ کو دبئی میں ہونے والا اجلاس ملتوی کردیا گیا ہے۔ اجلاس ارکان کی اضافی سفری وجوہات کے باعث ملتوی کیا گیا ہے۔اجلاس اب رواں ماہ کے آخر میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) بورڈ میٹنگ کے بعد منعقد ہوگا۔

    اے سی سی اجلاس میں ایشیا کپ ٹوئنٹی ٹوئنی کی میزبانی کا حتمی فیصلہ ہونا تھا۔چیئرمین پی سی بی احسان مانی آئی سی سی کے ایف این سی اے اجلاس کے باعث دبئی میں ہی موجود ہیں۔

    دوسری جانب ایشین کرکٹ کونسل کے فیصلے سے پہلے ہی بی سی سی آئی کے صدر سارو گنگولی نے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔سارو گنگولی کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث پڑوسی ملک نہیں جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مارچ کو ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں وینو کے غیر جانبدار مقام پر میچ کھیلنے کی بات کی جائے گی۔

    بھارت کی جانب سے ایشیا کپ یو اے ای میں ہونے کے اعلان کے بعد پی سی بی کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ترجمان پی سی بی کے مطابق ایشین کرکٹ کونسل کے صدر سارو گنگولی نہیں نظم الحسن ہیں، ایشیاکپ کے میزبان کا فیصلہ اے سی سی کے اجلاس میں ہوگا۔واضح‌رہے کہ ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کی میزبانی کا حتمی فیصلہ کرنے کے لئے ایشین کرکٹ کونسل کا اجلاس مارچ میں طے تھا

    ایونٹ دبئی منتقل کرنے پر غور جاری۔ ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ پاکستان میں ہوگا یا پھر کسی دوسرے مقام پر فیصلہ تین مارچ کو ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں ہوگا ۔۔ اے سی سی کا اہم اجلاس تین مارچ سے دبئی میں ہوگا ۔۔ اجلاس میں ایشیا کپ کے انعقاد کے حوالے سے اہم فیصلے کئے جائیں گے ۔

  • سپر پاور کاسرنڈر ۔ طالبان کے نعرے اور امارات اسلامیہ کے جھنڈے—از—محمد عاصم حفیظ

    سپر پاور کاسرنڈر ۔ طالبان کے نعرے اور امارات اسلامیہ کے جھنڈے—از—محمد عاصم حفیظ

    امریکہ کے سرنڈر معاہدے پر دستخط کرتے ہی اللہ اکبر کے نعرے گونج اٹھے ۔ وہاں موجود درجنوں داڑھی پگڑی والے میڈیا کی چکاچوند سے دور رب کائنات کی بارگاہ میں سربسجود ہو گئے ۔ امارات اسلامیہ کے جھنڈے لہراتے ہوئے مارچ کرنے لگے ۔ سامنے وہی دشمن تھے جو دو دہائیاں قبل پورے لاؤ لشکر سمیت آئے تھے ۔ پتھر کے زمانے میں پہنچا دینے کا نعرہ لگایا تھا ۔

    اب بھی وہی سامنے تھے لیکن بےبس و مجبور ۔ یہ کوئی افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں کا محاذ نہیں تھا بلکہ قطر کا فائیو سٹار ہوٹل جہاں ایک سپر پاور کا غرور دفن ہو رہا تھا ۔ کون جیتا کون ہارا ۔ فیصلہ کرنا انتہائی آسان ہے ۔ خود پتہ کر لیں کہ پہاڑوں کی غاروں میں محاذوں پر ڈٹے طالبان تک مذاکرات کا پیغام کس نے پہنچایا ۔ کون ان کے ہوائی سفر اور دنیا بھر کے دوروں کا انتظام کرتا رہا ۔ معاہدہ ہونے کے بعد خوشی اور جذبات سے نعرے کس نے لگائے ۔

    عالمی میڈیا کا مرکز کون تھے ؟ کوئی امریکی وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس سننے نہ گیا ، البتہ ان درویشوں کے پیچھے پوری دنیا کا میڈیا تھا جو ان کا ایک ایک لفظ سننا چاہتا تھا ۔ ہر کوئی ان سے بات کرناچاہتا تھا ۔ ہر کیمرہ ان پر فوکس تھا اور انہیں ہی دیکھا رہا تھا ۔

    جی یہ اس صدی کی سب سے بڑی خبر ہے کہ ایک سپر پاور جو اپنے پچاس سے زائد اتحادی ممالک کی افواج لیکر حملہ آور ہوا ۔اسے ان طالبان نے شکست دی جن کی مدد تو دور کی بات کوئی ان کے ساتھ تعلق کا بھی اعتراف نہیں کرتا ۔ جنہیں امریکہ کے کہنے پر سب نے چھوڑ دیا بلکہ بعض تو امریکی حمایتی بن گئے ۔ لیکن وہ طالبان تنہا لڑے ۔ رب کے آسرے پر لڑے ۔ خاموشی سے امریکہ کو زخم لگاتے رہے ۔

    انیس سال کا صبر ۔ قربانیاں اور میدان جنگ کی سختیاں لیکن ان کے حوصلے نہ ٹوٹے اور وہ سپر پاور کے دعویدار کو روندتے رہے ۔ امریکہ ہزاروں ارب ڈالر ڈبو کر بھی انہیں نہ جھکا سکا ۔ حالت یہ ہو گئی کہ خود امریکی اپنی اشیائے خوردونوش پہنچانے کے لئے طالبان علاقوں سے گزرنے کا تاوان دیتے اور انہی ڈالرز سے اسلحہ و ساز وسامان خرید کر امریکہ پر حملے کئے جاتے ۔

    طالبان نے امریکی سے اسلحہ ا ور ساز وسامان چھین کر امریکہ سے لڑائی کی اور امریکہ کو شکست فاش دی ۔ امریکہ و اتحادی تو چند سال کے لئے آئے تھے کہ طالبان کو ماریں گے ۔ نئی حکومت بنوائیں گے ۔ کلچر معاشرے اور نظریات کو بدل دیں گے ایک مغرب زدہ اور ماڈرن افغانستان بنا کر واپس آ جائیں گے ۔ لیکن طالبان کی استقامت ۔ عزم اور صبر و استقلال نے تاریخ کا دھارا بدل ڈالا ۔ امریکہ رسوا ہو کے امن کی بھیک مانگتا رہا اور کئی سالوں کے اس مذاکراتی عمل کے بعد انخلاء کے معاہدے پر مجبور ہوا ۔ خود کئی طالبان لیڈر رہا کرکے افغانستان پہنچائے ۔ کئی ممالک سے رہائی دلوائی ۔

    آج جس ملا عبدالغنی برادر نے اس معاہدے پر دستخط کئے وہ بھی رہا کراکے وہاں پہنچائے گئے تھے ۔ ان کے ساتھ بیٹھے ملا عبدالاسلام ضعیف گوانتاناموبے جیل سے لائے گئے ۔ ہر ایک کی اپنی اپنی کہانی ہے ۔ اس محفل میں طالبان فاتح کی طرح بیٹھے ۔ تقریب سے پہلے کسی نے پوچھا معاہدے پر دستخط کون کرے گا تو جواب ملا ” امارات اسلامیہ ” ۔ یعنی یہ معاہدہ امریکہ اور انیس سال قبل کی طالبان حکومت کے درمیان ہوا ہے ۔ اسی لئے تو انہوں نے پرجوش نعرے لگائے اور امارات اسلامیہ کے پرچم لہرا کر مارچ کیا ۔

    طالبان نے سب کا شکریہ ادا کیا ۔ پاکستان کا بھی کہ جس کے اعلی ترین عسکری حلقوں نے ان مذاکرات کے حوالے سے مثبت کردار ادا کیا ۔یہ لبرل و سیکولر نظریات کی بھی شکست ہے کہ جو امریکہ و مغرب کی ظاہری طاقت ، اسلحہ اور شان و شوکت سے متاثر ہیں ۔ ان کے لئے خبر ہے کہ افغانستان کے ان مجاہدین نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے جن کے پاوں میں اب بھی چپلیں ہیں اور دنیا میں کوئی انہیں اسلحہ نہیں دیتا ۔ کوئی واضح حمایتی نہیں ہے ۔ٹیکنالوجی اور جدت کیساتھ ان کا دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ۔ ان کی ایمانی طاقت اور صبر و ہمت و استقلال نے آج ایک نام نہاد سپر پاور کو شکست دی ہے ۔

    یہ صرف امریکہ کی شکست نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء میں علاقائی تھانیداری کے خواب دیکھتے بھارت کی بھی ہار ہے کیونکہ بھارت نے افغانستان میں اپنا نیٹ ورک قائم کرنے ، اپنے حمایتی گروہ بنانے اور افغان کٹھ پتلی حکومتوں کے لئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جو کہ یکدم زمین بوس ہو چکی ہے ۔ خطے کی صورتحال یکدم بدل جائے گی ۔

    افغانستان میں طالبان کے اثر و رسوخ کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے ۔ انہوں نے سپر پاور کو ہرایا ہے تو ان کے اعتماد کا لیول کیا ہو گا۔ پاکستان کو اس موقعے سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے ۔ طالبان کے بڑے پاکستان کے ہمیشہ احسان مند رہے ۔ نائن الیون کے بعد چند ناخوشگوار واقعات ہوئے لیکن انہیں بھلا دینے اور طالبان کیساتھ ایک نئے آغاز کی ضرورت ہے ۔

    اس حوالے سے حکومت کو چاہیے کہ طالبان پاکستان میں جن دینی حلقوں کے قریب ہیں انہیں بھی اعتماد میں لیا جائے تاکہ طالبان کے ساتھ اعتماد سازی کا عمل تیز ہو سکے ۔ افغانستان میں امن پاکستان کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے ۔ افغان مہاجرین کی واپسی اور قبائلی علاقوں میں مکمل امن و سکون کے لئے افغانستان میں جنگ بندی اور پرامن ماحول ضروری ہے ۔ اس سے پاکستانی معیشت پر بے پناہ مثبت اثرات مرتب ہوں گے

    سپر پاور کاسرنڈر ۔ طالبان کے نعرے اور امارات اسلامیہ کے جھنڈے
    (ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ)

  • سفید پگڑیاں اور وائٹ ہاوس—از—محمد عبداللہ اکبر

    سفید پگڑیاں اور وائٹ ہاوس—از—محمد عبداللہ اکبر

    وہ شام کا وقت تھا ایک بوڑھی ماں دو کہساروں کا فاصلہ طے کر کے ایک چھپڑ سے بنی مسجد کے چبوترے پہ پہنچتی ہے دو باریش داڑھیوں والے سفید پگڑیاں پہنے ہوئے آدمی اس مسجد میں اس چھپڑ کے نیچے بچھے ٹاٹ پہ بیٹھے ہیں لوگ ان کے پاس بجھے چہرے لیے حاضر ہوتے ہیں اٹھتے وقت مسرت بھری ہشاشیت کے ساتھ واپسی کی راہ پکڑ رہے ہیں

    یہ بڑھیا جب اس چبوترے پہ چڑھتی ہے تو ان دو آدمیوں کی طرف سے اشارہ ہوتا ہے کہ اماں جی کو سہارا دے کے ہمارے پاس لایا جائے اماں کو قریب لایا جاتا ہے تو وہ بوڑھی اماں اپنے آنسو گرا کے اپنی روداد بیان کرتی ہے کہ میرے بیٹوں نے میری زمین پہ قبضہ جما لیا ہے اور اب وہ اس کو اپنی حق ملکیت گردانتے ہوئے مجھے نکل جانے کا کہتے ہیں

    اماں کی بات سن کے وہاں ان دو لوگوں کے پیچھے بیٹھا کاتب ایک رقعہ لکھ کے اس ماں جی کو دے دیتا ہے کے اماں یہ رقعہ اپنے بیٹوں کو تھما دینا اماں جب وہ رقعہ دیکھتی ہے تو وہاں اس اماں کے دونوں بیٹوں کو قاضیان کی طرف سے طلبی کا نوٹس لکھا ہوتا ہے کے فلاں تاریخ کو وہ مسجد حاضری دیں

    دن گزرے اور مقررہ تاریخ پہ وہ اماں دوبارا وہیں پہنچتی ہے جہاں کچھ دن پہلے اپنا درد لیے حاضر ہوئی تھی وہاں آج منظر یہ ہے کہ ماں جی کے دونوں بیٹے بھی وہیں اسی چبوترے پہ چھپڑ کے نیچے ٹاٹ پہ بیٹھے ہوئے قاضیان کے سامنے پیش ہیں

    قاضی دونوں طرف سے دلائل سننے کے بعد فیصلہ کرتے ہیں کہ ماں جی کا فلاں حصہ انکو لوٹایا جائے ورنہ سختی والا معاملہ پیش آئے گا۔

    جو حکم ہوا ویسے ہی ہوا اور انصاف کی ایک تاریخ رقم ہوئی یہ تو وہ واقعہ ہے جو ہمارے سامنے غیرملکی جریدے کی ایک رپورٹر نے پیش کیا ایسے ہزاروں واقعات ہمیں ان لوگوں کی تاریخ میں بھرے ہوئے ملیں گے.

    7 اکتوبر 2001 کو ایسے پرامن درویش لوگوں پر دور حاضر کا فرعون اپنے لاؤ لشکر لے کے طاقت کے نشے میں دس دن کی گیم سمجھ کے ان پہ چڑھ دوڑا کیونکہ وہاں کی فضاؤں اور ہواؤں میں خلافت اور اسلام کی ایک پرمسرت اور پراثر فضاء اپنی بہاروں کے ساتھ جگمگانا شروع ہو گئی تھی لوگ آہستہ آہستہ ان چیزوں میں فٹ بیٹھنا شروع ہو گئے تھے اور دنیا کو یہ چیز ناقابل برداشت تھی.

    جب دنیا کا کفر یکجا ہو کے ان نہتے درویشوں پہ چڑھا تو ان درویشوں نے انہی مسجدوں کے چبوتروں کو معسکرات میں تبدیل کر لیا جہاں سے وہ اپنا اور اپنے لوگوں کا دفاع کرنے لگے کفر اس پلاننگ سے آیا ہے دس دنوں کا کھیل ہے مگر اسے کیا خبر تھی کہ جس کو ھم کھیل سمجھ رہے ھیں، ھمارے سامنے والے اس میدان کے سکندر ہوں گے. ہم نے ایسے ایسے اللہ کی نصرت کی نشانیاں اور واقعات سنے کہ سنتے سنتے سبحان اللہ کا کلمہ زبان سے جاری ہو جاتا تھا.

    ان لوگوں نے اپنے سیاسی سماجی معاشی ہر قسم کے معاملات چلائے انہوں نے بھی اس دنیا میں رہنا سیکھا۔ وہ بھی ان دھمکیوں کا شکار ہوئے کہ ہماری بات کو تسلیم کرلو نہیں تو ہم تمہیں بلیک لسٹڈ کر دیں گے یا ہم تمہیں گرے لسٹ سے نکال دیں گے یہ سب دھمکیاں انہوں نے بھی سنیں مگر ان دھمکیوں کو سننے کے باوجود اپنی غیرت نہیں بیچی اپنے آپ کو ان کے چرنوں میں لٹا نہیں دیا.

    دیکھو اٹھاو ان کے بیانات۔۔۔
    ملا محمد عمر علیه رحمه الله کی وہ تقاریر۔۔۔
    ایک.غیرت ایک حمیّت
    ایک جذبہ نظر آتا ہے
    اے امریکیو! اے افغانی امریکیو! اپنے آپ کو دھوکے میں مت ڈالو! تمہارے اعمال کا نتیجہ بہت سخت ہوگا، یہاں قابض ہونے کے خواب دیکھنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔

    افغانیو! اگر تمہیں اسلامی قوانین کی پرواہ نہیں تو پھر اسلام بھی کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔ تم امریکیوں کا ساتھ دیتے ہوئے جان دو گے تو مردار کہلاؤ گے۔ اے امریکیو! تم آجاؤ، میں بھی دیکھتا ہوں تم کس طرح آتے ہو اور جب تم آ جاؤ گے تو اپنا انجام بھی دیکھو گے”. 
    بس یہ تھا کے وہ ثابت قدم ہونے کے وقت ثابت قدم ہوئے اللہ کے فرامین کو سمجھنے والے بنے کہ
    ”دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی سر بلند ہو گے اگر تم مومن ہو (آل عمران:139)
    اور آج اللہ ان لوگوں کو ان کے ڈٹ جانے کا صلہ دے رہا ہے.
    اللہ انکو تمغے دے رہا ہے

    جن درویشوں کی فتح سے سجی سفید پگڑیاں اربوں کی تعداد میں بسنے والی مسلم امہ کو ایک راہ دکھا رہی ہیں
    کہ زندگی شیروں کی طرح جیو گیدڑوں کی طرح جی کے بھی آخر مر ہی جاو گے جب مرنا ہی ہے تو یا فاتح بن جاو یا شھید ہو جاو.
    وہ لوگ تب ثابت قدم رہے
    آج چوڑے سینوں کے ساتھ
    سفید پگڑیاں سر پہ سجائے
    اور وائٹ ہاوس کو جھکائے

    وہ ایک امن معاہدوں پہ دستخط کروا کے
    تکبیر کے نعرے بلند کرتے ہوئے مسلمانوں کو حمیت کا درس دے رہے ہیں.
    آج جب امن معاہدوں پہ ہوتے دستخط دیکھ رہا تھا تو ایک دم یہ الفاظ نکلے مؤرخ جب تاریخ لکھے گا تو یہ اس موضوع کے ساتھ ایک باب کا آغاز کرے گا "جب سفید پگڑیوں کے سامنے وائٹ ہاوس جھکا”

    سفید پگڑیاں اور وائٹ ہاوس
    تحریر: محمد عبداللہ اکبر

  • کورونا وائرس ، جراثیمی جنگ کا کامیاب حملہ—-از— غلام زادہ نعمان

    کورونا وائرس ، جراثیمی جنگ کا کامیاب حملہ—-از— غلام زادہ نعمان

    کورونا وائرس کی تشخیص سب سے پہلے چین میں کی گئی جہاں انسانی ہلاکتوں کا شمار ممکن نہیں اس کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس نے دیکھتے ہی دیکھتے چین کی معیشت کو بھی جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جس کی وجہ سے مجبوراً چین کو کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کو موت کی گھاٹ اتارنا پڑا۔

    کورونا وائرس بلاشبہ دجالی طاقتوں کا پھیلایا ہوا جال ہے جو اپنے سوا کسی کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتیں۔انہوں نے سب سے پہلے چین میں اس وائرس کو پھیلایا تاکہ اس کی بڑھتی ہوئی معیشت کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا جائے،اس چال میں وہ کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اس کے لئے ہمیں کچھ انتظار کرنا پڑے گا مگر فی الحال چین کے ساتھ عالمی تجارت مکمل طور پر بند ہے۔

    چین نے اپنی معیشت کو تباہ ہونے سے بچانے کے لئے کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کو موت کی گھاٹ اتار دیا تاکہ چین کومزید نقصان سے بچایا جا سکے۔اب صورتحال یہ ہے کہ چین کے بعد کورونا وائرس ایران پہنچ گیا ہےاور وہاں سے ہوتا ہوا پاکستان میں داخل ہوگیاہے۔

    کورونا وائرس سےپاکستان میں دو شہری متاثر پائے گئے ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایران سے زیارتیں کر کے آئے تھے۔ پاکستان میں کورونا وائرس کی موجودگی کا سن کرپورے ملک میں تھرتھلی مچ گئی۔ عام مجالس سے لے کرسوشل میڈیا تک سبھی نے اس مرض سے بچنےکےلئے قرآنی وظائف اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ ٹونے ٹوٹکے بھی بتانا شروع کر دیئے اور حفاظتی انتظامات کے بارے میں مختلف تجاویز بھی دینا شروع کر دیں اورمفت مشوروں کی بھرمار بھی کر دی کہ ہجوم میں نہ جائیں ، باہر کا کھانا نہ کھائیں ، لوگوں سے ہاتھ نہ ملائیں ، ہر تھوڑی دیر کے بعد ہاتھ دھوئیں ،گلا خشک نہ ہونے دیں بار بار پانی پیتے رہیں وغیرہ وغیرہ۔

    https://login.baaghitv.com/wp-admin/post-new.php#

    یہاں آپ کی معلومات کے لئے ایک تحریرپیش کر رہا ہوں جسے سوشل میڈیا سے لیا گیاہے تاکہ آپ اندازہ لگا سکیں کہ دجالی قوتیں انسانوں کے ساتھ کیا کیا کھلواڑ کر رہی ہیں۔ پاکستان میں کورونا وائرس کی موجودگی نے انسانوں سے انسانیت ہی چھین لی اور لوگوں کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے کیا کچھ نہ کیا گیا۔

    "کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے شہریوں نے ماسک خریدنے کےلئے میڈیکل اسٹوروں کا رخ کیا تو وہاں ماسک ختم ہوگئے ، بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں 15 مارچ تک چھٹیاں جبکہ کراچی کے تعلیمی ادارے یکم مارچ تک بندکردیئے گئے۔ سعودی عر ب نے بھی فوری طور پر پاکستان سے آنے والے زائرین پر پابندی عائد کردی ۔پاکستانی قوم کےلئے یہ ڈوب مرجانے کا مقام ہے کہ کراچی میں کورونا وائرس کی خبر پھیلنے کے ساتھ ہی دکانداروں نے سرجیکل ماسک کی قیمت 80 روپے سے 400 روپے اور میڈیکیٹڈ ماسک کی قیمت 1200سے3000 روپے تک بڑھا دی ہے۔ایسے دکاندار اور کاروبار کرنے والوں پراللہ کی لعنت ہو۔حالانکہ قرآن میں صاف صاف لکھا ہے کہ وبا کے دوران ایسی چیزوں پر اپنا کاروبار چلانے والے منافع خور جہنم کی آگ میں جلیں گے۔

    بہر حال کورونا وائرس کے بارے میں مختصر طور پر عرض ہے کہ یہ وائرس انسان کے ہاتھوں لیبارٹری میں بنایا گیا جرثومہ ہے جسے خسرہ اور ممز کے دو جرثوموں سے ملا کر بنایا گیا ہے۔ اسے امریکا میں پیٹنٹ کیا گیا تھا جس کا پیٹنٹ نمبر 10,130,701 ہے۔ اس وائرس کا تعلق سارس اور انفلوئنزا کے خاندان سے ہے اور اس کی علامات اور تکلیفات بھی سارس اور فلو جیسی ہی ہیں۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ ایسی بہت سی بیماریاں موجود ہیں جو کورونا وائرس کے مقابلے میں زیادہ جاں لیوا ہیں۔

    اس سلسلے میں فلو ہی کی مثال لے لیجئے کہ صرف امریکا میں ہی فلو سے اب تک 14 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ علاج معالجے کےلئے ڈھائی لاکھ افراد کو اسپتالوں میں داخل کیا گیا2017 میں امریکا میں فلو سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 80 ہزار تھی۔ اسی طرح ہر سال دنیا بھر میں صرف ملیریا سے مرنے والے افراد کی تعداد کروڑوں سے تجاوز کرجاتی ہے مگر ان امراض کے بارے میں نہ تو کبھی ایسا ماحول بنایا گیا اور نہ ہی اس کے بچاؤ کے نام پر ملک کا محاصرہ کرنے جیسی کیفیت سامنے آئی جوکہ اب دیکھنے کو مل رہی ہے۔ حالانکہ اب تک کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں ہلاکت کی شرح دو تا تین فیصد ہے جو کہ قابل تشویش نہیں ہے۔

    قابل تشویش بات یہ ہے کہ کورونا وائرس ہر لحاظ سے منفرد ہتھیار ہے ایک تو یہ جراثیمی ہتھیار ہے جس کا ٹیسٹ کامیابی سے کیا گیا اس کا دوسرا پہلو زیادہ خوفناک ہے اور وہ یہ ہے کہ اس سے بچاؤکے نام پر پورے ملک کا مقاطعہ کردیا گیاہے۔یعنی چین کے اندر پانچ کروڑ سے زائد افرادکو کورونا وائرس کے نام پر قید کردیا گیاہے اور پوری دنیا میں چینی باشندوں کو کورونا وائرس کا نعم البدل سمجھ لیا گیاہے۔ امریکا اور یورپ میں مقیم چینی باشندوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات عام ہوگئے ہیں حالانکہ یہ چینی باشندے کئی برسوں سے چین گئے بھی نہیں تھے۔

    یوکرین میں وہاں کے باشندوں نے ایک ایسی بس پر پتھراؤ کردیا جس میں چین سے واپس آنے والے یوکرین کے باشندوں کو احتیاط کے طور پر قرنطینہ لے جایا جارہا تھا۔ کروز شپ پر موجود تین ہزار افراد کو کوئی ملک اپنی بندرگاہ پرکورونا وائرس کے خوف سے اترنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ کروز شپ پر موجود ہرفرد کے اترتے ہی کورونا وائرس تیزی سے پھیل جائے گا اور سارے مقامی باشندے اس کی لپیٹ میں آکر مرجائیں گے۔

    الغرض کورونا وائرس کے نام پربڑی عجیب وغریب تصاویر سامنے آتی ہیں۔ خصوصاً سفید لباس پہنے کئی افراد پراسرار انداز میں کہیں مصروف ہیں اس تصویر کے نیچے کیپشن لگا ہوتا ہے کہ کورونا کے خلاف حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے۔ کیا کوروناوائرس کوئی کتے بلی کی طرح کی مخلوق ہے جو اسے یوں ڈھونڈھاجا رہا ہے۔ کوروناوائرس کے نام کے ساتھ ہی ایک عجیب و غریب تصور یہ بھی پھیلا دیا گیا ہے کہ جیسے وہ ہر طرف فضا میں موجود ہے اور ہر شخص کے تعاقب میں ہے۔

    یاد رکھئے اس تاثر کو پھیلانے میں شعبہ طب سے وابستہ افراد اور ان کی ایسوسی ایشنیں پیش پیش ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی وائرس ہو وہ ہوا میں زندہ رہ ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ فوری طور پر مرجاتا ہے۔ ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے کےلئے جسمانی رابطہ ضروری ہے یا کم از کم کھانسی اور چھینکنے کے دوران رطوبت براہ راست دوسرے شخص کی سانس کے ذریعے اندر داخل ہونا ضروری ہے۔

    مگر یہاں ہر کچھ دن کے بعد کسی نہ کسی ملک میں کورونا دریافت کرلیا جاتا ہے اور بعدازاں یہ کھیل شروع کردیا جاتا ہے جوکہ اب پاکستان میں کھیلا جارہا ہے۔ جنوبی کوریا اور اٹلی چونکہ طاقتور ہیں اسلئے ان کا مقاطعہ نہیں کیا گیا مگر ایران کے ساتھ دوسری صورتحال ہے۔ اب یہی کچھ پاکستان کے ساتھ ہونے کے اندیشے ظاہر ہورہے ہیں۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا مریض ڈیکلیئر کرنے میں بڑی عجیب و غریب صورتحال سامنے آئی۔

    کراچی کا یحییٰ جعفری اپنے دو دوستوں کے ساتھ ایک گروپ میں بذریعہ ہوائی جہاز ایران کی زیارتوں کےلئے 6 فروری کو تہران پہنچا اور 20 فروری کو واپس کراچی آیا 25 فروری کو اسے نزلہ ، زکام اور بلغم والی کھانسی کی شکایات ہوئی اور 26 فروری کو آغا خان اسپتال میں اسے داخل کیاگیا 27 فروری کی شام کو ڈائریکٹریٹ جنرل ہیلتھ سروسز حکومت سندھ نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ یحییٰ جعفری میں کورونا وائرس تشخیص ہوا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ڈائریکٹریٹ جنرل ہیلتھ سروسز کی جاری کردہ رپورٹ میں لیبارٹری رپورٹ کے سامنے لکھا ہوا ہے کہ رپورٹ کا انتظار ہے۔اسی طرح اسلام آباد میں دوسرے مریض کا انکشاف ہوا مگر اس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

     بین الاقوامی معیار کے مطابق مشتبہ مریض کے کم ازکم دو نمونے تشخیص کےلئے لئے جانے چاہئیں۔ یہ نمونہ جات تنفس کی نالی کے بالائی اور زیریں حصے کی رطوبت کے اور بلغم کے ہونے چاہئیں مگر آغا خان اسپتال کراچی میں داخل مریض کا تنفس کی نالی کے بالائی حصے کی رطوبت کا صرف ایک ہی نمونہ لیبارٹری کو بھجوایا گیا جس کی رپورٹ بھی نہیں آئی تھی کہ مریض کا اعلان کردیا گیا۔ اسی طرح بین الاقوامی معیار کے مطابق اگر پہلا ٹیسٹ مثبت آئے تو ملتے جلتے گیارہ وائرسوں کی تشخیص کےلئے مزید ٹیسٹ کرنے چاہئیں کیونکہ فلو HN1اور دیگر بیماریوں کی علامات اور ٹیسٹ کی رپورٹ بھی ملتی جلتی ہوتی ہیں اس لئے اعلان کرنے سے قبل توقف کرنا چاہئے تھا مگر کراچی کے کیس میں انتہائی جلد بازی اور عجلت کا مظاہرہ کیا گیا۔

    دراصل پاکستان میں ایک مافیا ہے جو ہر طریقے سے اور ہر قیمت پر مال بنانے پر یقین رکھتی ہے پاکستان میں کورونا وائرس کے نام پر تواربوں روپے ادھر سے ادھر ہوسکتے ہیں۔ ماسک ، قرنطینہ ، سرکاری اداروں میں ٹیسٹ وغیرہ تو اس مافیا کےلئے سونے کی کان ثابت ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کورونا کا مریض ڈیکلیئر کرنے میں انتہائی جلد بازی کا مظاہرہ کیا گیاہے اس میں بیرونی ہاتھ بھی ہوسکتا ہے جو اپنے ایجنٹوں کے ذریعے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارت سے ہر برس پاکستان سے زیادہ زائرین ایران جاتے ہیں مگر وہاں پر ایسی کوئی ہڑبونگ ہے اور نہ ہی وہاں پرعمرہ زائرین پر پابندیاں لگنی شروع ہوئی ہیں۔لہٰذااس پر بحیثیت قوم ہمیں اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

    دنیاپر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کے سازشوں سے ہمیں باخبر ہونا چاہئے اور ان کے ان اوچھے ہتھکنڈوں سے خود بھی ہوشیار رہئے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھئے۔”
    اس ساری صورتحال کا اگر بغور مشاہدہ کیا جائے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ عالمی صیہونی طاقتیں خصوصی طور پر پاکستان کو گھیرنے میں لگی ہوئی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ جو ممالک پاکستان کے حمایتی ہیں ان کے بارے میں بھی ان کے نظریات مثبت نہیں۔

    اب چین ہی کو لے لیجئے جو پاکستان کے ساتھ مل کر سی پیک بنا رہا ہے اسے ان دجالی طاقتوں نے کیسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی کہ وہاں کرونا وائرس چھوڑ دیا اور اس کی عالمی منڈی میں تجارت بند کر دی تاکہ معاشی طور چین کو کمزور کیا جاسکے اور یہ پاکستان کی کسی بھی طرح مدد سے باز رہے لیکن شاید انہیں معلوم نہیں کہ یہ جتنا بھی مکروفریب سے کام لیں گے اتنا ہی اللہ کی تدبیر ان پر غالب رہے گی۔

    پاکستانی قوم کو کورونا وائرس سے گھبرانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں بس توبہ استغفار پڑھیں اور دشمن کی چالوں سے ہوشیار رہیں۔

    کورونا وائرس ایک دجالی فتنہ ہے،مسلمانوں کو اس سے گھبرانا نہیں بلکہ مردانہ وار مقابلہ کرنا چاہئے۔۔۔۔۔اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

    کورونا وائرس…….. غلام زادہ نعمان

  • 27 فروری : سرپرائز ڈے فارنیشن –از–غلام زادہ نعمان صابری

    27 فروری : سرپرائز ڈے فارنیشن –از–غلام زادہ نعمان صابری

    دوپہر کو مجھے فون آیااور پوچھاگیا کہ کہاں ہیں جناب
    ہم نے جواباً عرض کیا حضور گھر میں ہوں!
    فرمانے لگے آج سرپرائز ڈےہے کچھ وقت مل جائے گا،ہمارے حامی بھرنے پر کہا گیا کہ کچھ دوستوں کے ساتھ پاک ٹی ہاؤس میں چائے کا پروگرام بنایا ہے آپ سے شرکت کی استدعا ہے۔
    یہ تھے پاک بلاگرز فورم کے کوآرڈینیٹر محترم جناب عبدالحمیدصادق صاحب جنہوں نے سرپرائز ڈے پر دوستوں کو چائے کا سرپرائز دے ڈالا۔

    27فروری2019 کو بھارت نے روایتی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان پر فضائی حملہ کردیا اور یہ حملہ اس کی ناکام کوشش ثابت ہوا اور پاک فوج کے جوانمرد شاہینوں نے بھارت کے دونوں حملہ آور لڑاکا طیاروں کو مار گرایا۔

    ان میں ایک مگ 21 جنگی طیارہ بھی تھا جسے بھارتی پائلٹ ابھی نندن اڑا رہا تھا۔طیارہ گر کر تباہ ہوگیا اور ابھی نندن کو پاک فوج نے زندہ گرفتار کر لیا۔

    پاک فوج نے مسلمان ہونے کے ناطے اسلامی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے بھارتی پائلٹ کی خوب آؤ بھگت کی اس آؤ بھگت میں جو سب سے اہم بات تھی وہ چائے کی ایک پیالی تھی۔
    یہ چائے کی ایک پیالی بھارتی پائلٹ کو کروڑوں روپے کامگ 21تباہ کرنے کے بعد پینا نصیب ہوئی۔اس حوالے سے اگر اس چائے کی پیالی کو دنیا کی مہنگی ترین چائے کی پیالی کہاجائے تو بیجا نہ ہوگا اور اگر اسی طرح ابھی نندن کو دنیا کا مہنگا ترین چائے نوش کہا جائے تو میرے خیال میں اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔

    پاک فوج کے جوانوں کی جوانمردی کو داددینے کے لئے جنہوں نے اس دن کو پاکستان اور پاکستانی قوم کے لئے یادگار بنایا لہذا اس یادگار دن کو منانے کے لئے محترم جناب عبدالحمیدصادق صاحب نے دوستوں کو اچانک سرپرائز دیا اور پاک ٹی ہاؤس میں اکٹھا کر لیا۔ماہنامہ پھول کے ایڈیٹر محترم محمد شعیب مرزا صاحب نے بہت مشکل سے وقت نکال کر اس مختصر تقریب کو رونق بخشی کیونکہ اچانک اطلاع پر ان کا کسی پروگرام میں شرکت کرنا ناممکن کے ساتھ ساتھ مشکل بھی ہوتا ہے ان کی تشریف آوری کا بےحد شکریہ کہ وہ اپنی مصروفیات میں سے 15 منٹ نکال کر لائے تھے اور آدھاسے پون گھنٹہ دے کر تشریف لے گئے۔

    پاک بلاگرز فورم کے روح رواں جناب محمد نعیم شہزاد صاحب بھی تشریف لائے تھے ان سے پہلی بالمشافہ ملاقات تھی پاک بلاگرز فورم کے حوالے سے پہلے ان سے تعارف تھا مگر ملاقات نہیں تھی اس حوالے سے یہ تقریب ملاقات کا ایک بہانہ بھی بن گئی۔

    صدر شعبہ خواتین پاکستان قومی زبان تحریک محترمہ فاطمہ قمر صاحبہ بھی تشریف لائی تھیں جنہوں نے قومی زبان کے نفاذ بارے سیر حاصل گفتگو فرمائی۔
    ماہنامہ پھول کے ایڈیٹر محترم جناب محمد شعیب مرزا صاحب نے پاک فوج کی لازوال قربانیوں کے تذکرے سے لے کر نفاذ اردوتک خوبصورت الفاظ میں روشنی ڈالی
    پاک بلاگرز فورم کے سر پرست جناب محترم محمد نعیم شہزاد صاحب نے بھی اظہار خیال کیا۔

    محترم عبدالحمیدصادق صاحب نے سرپرائز ڈے پرچائے کے حوالے سے خوبصورت کلام سنانے کے ساتھ ساتھ کچھ تجاویز بھی پیش کیں
    چائے کے ساتھ بسکٹ بھی تھے جنہوں نے چائے کے مزے کو دوبالا کیا

    اس مختصر مگر مؤثر تقریب کے انعقاد پرجناب عبدالحمیدصادق صاحب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں آئندہ بھی ایسی مختصر تقریبات کا انعقاد ہوتے رہنا چاہئے جن سے علم وعمل میں اضافہ ہو اور کچھ حاصل کرنے کو ملے۔
    آخر اسی حوالے سے ایک قطعہ عرض ہے کہ
    بڑے گھمنڈ، بڑی شوخیوں سے
    آیا تھا دینے ہمیں سرپرائز
    رہے گا اسے تاقیامت یہ یاد
    دیا ہے جو ہم نے اسے سرپرائز

    غلام زادہ نعمان صابری

  • آرزوئے سحر: بی جے پی کا انجینئرڈ گجرات ماڈل دہلی فسادات 2020–از–انشال راٶ

    آرزوئے سحر: بی جے پی کا انجینئرڈ گجرات ماڈل دہلی فسادات 2020–از–انشال راٶ

    آر ایس ایس ونگ بی جے پی کی تاریخ فساد فی الارض اور انسانی خون سے بھری پڑی ہے، شروع سے ہی بی جے پی نے نفرت کی بنیاد پر سیاست کا آغاز کیا جس کے لیے اک ماتا یجنا اور رتھ یاترا جیسی نفرت انگیز و اشتعال انگیز تحریکوں کا آغاز کیا جسکے بعد سے بھارتی سماج دو حصوں میں بٹ کر رہ گیا ہے، بی جے پی نے اقتدار میں آتے ہی گائے ماتا کی تحریک شروع کی جس کے نتیجے میں سینکڑوں بے گناہ مسلمانوں کو شہید کردیا گیا جن کا نہ کوئی مقدمہ بنا نہ کسی نے دادرسی کی بلکہ الٹا دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی میں بی جے پی رہنما بیانات دیتے رہے،

    اس کے ساتھ ہی بی جے پی نے بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کے ایجنڈے کے مسلم نسل کشی اور مسلمانوں کو زبردستی مذہب تبدیل کروانے یا ملک بدر کرنے یا پھر نسل کشی کے منصوبے بنائے جن پر عمل پیرا ہوکر پہلے پہل تو جے شری رام بولو کے نام پر بہت سے مسلمانوں کو شہید کیا گیا اور بعد میں مسلمانوں کو مجبور کرنے کے لیے NRC اور CAA جیسے کالے قانون منظور کیے جس کی نہ صرف بھارت سمیت پوری دنیا میں مذمت کی گئی بلکہ ان قوانین کو انسانیت دشمن قوانین قرار دیا،

    بھارتی مسلمان و سیکیولر طبقات نے ان کالے قوانین کے خلاف مزاحمت اور احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جسے بی جے پی کی طرف سے بزور طاقت دبانے کی کوشش کی گئی تو دنیا بھر میں بھارت پر تنقید کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کے مطالبات زور پکڑنے لگے مگر ڈھیٹ انسانیت دشمن ہندوتوا دہشتگردوں کو عزت بےعزتی اور انسانیت کی کیا پرواہ، جواباً ہندوتوا دہشتگردوں کی جانب سے پرامن مظاہرین بالخصوص مسلمانوں کو دبانے کے لیے گجرات ماڈل دہرانے کی دھمکیاں دی جانے لگیں۔

    بی جے پی رہنماوں کی متواتر کے ساتھ گجرات ماڈل یعنی مسلم نسل کشی کے واقعات دہرانے کی دھمکیوں اور گجرات فسادات کو بطور فخر و ہندوتوا فخر کی علامت کے طور پر پیش کرنا گجرات فسادات میں بی جے پی کی سرپرستی کا اعلانیہ اعتراف ہے اور اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ آر ایس ایس ونگ بی جے پی ایک دہشتگرد جماعت ہے، بی جے پی رہنما کپل مشرا کی پولیس ڈی سی پی کی موجودگی میں اشتعال انگیزی اور پُرامن مظاہرین کو الٹیمیٹم دیئے جانے کے بعد سے ہی دہلی میں فسادات پھوٹنے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا

    لیکن افسوس ہے کہ بھارتی حکومت و پولیس نے اس ضمن میں آنکھیں بند کیے رکھیں اور منظم طریقے سے پتھروں سے بھرے ٹرک احتجاجی کیمپ کے پاس لائے گئے جہاں پولیس کی موجودگی میں ہندوتوا دہشتگرد جمع ہونا شروع ہوے جنہوں نے مسلمان مظاہرین پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں دو طرفہ تصادم کا خطرہ پیدا ہو، پولیس بجائے حالات کنٹرول کرنے کے متعدد ویڈیوز میں ہندوتوا دہشتگردوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر پتھراو کرتی نظر آئی، بہت سی ایسی ویڈیوز وائرل ہیں جن میں دہلی پولیس ہندوتوا دہشتگردوں کی سرپرستی کرتے ہوے مسلمانوں پر حملہ کرنے کا کہتی نظر آرہی ہے، اس کے بعد تصادم فسادات کی صورت میں تبدیل ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دہلی کے متعدد علاقے ہندوتوا مسلم فسادات کی لپیٹ میں آگئے،

    جیسا کہ بی جے پی رہنما ایک عرصے سے گجرات ماڈل دہرانے کے بیانات دیتے نظر آرہے ہیں دہلی فسادات بالکل ایک انجینئرڈ اور منظم مسلم کُش فسادات ہیں، کچھ عرصہ پہلے بی جے پی رہنما سی ٹی راوی نے مسلمانوں کو حق مانگنے کے جرم میں گجرات ماڈل دہرانے کی دھمکی دی۔ یوگی ادیتیاناتھ، رگھو راج سنگھ، دلیپ گھوش کی اشتعال انگیزی ریکارڈ پر موجود ہیں، سوماشیکھر ریڈی نے تو اکثریت کے ضعم میں مسلمانوں کو کچلنے کی دھمکی دی، صرف دو روز پہلے ہی بی جے پی ترجمان گرش ویاس Grish Vyas نے گجرات ماڈل دہرانے کی دھمکی دی تھی جس کے بعد کپل مشرا نے الٹی میٹم دیا اور اگلے روز منظم طریقے سے دہلی میں مسلم کُش فسادات شروع ہوگئے جس میں پولیس مکمل طور پر ہندوتوا دہشتگردوں کی سرپرستی کرتی نظر آرہی ہے۔

    دہلی شہر فسادات و نفرت کی آگ میں جل رہا ہے اور ممکن ہے کہ یہ فسادات پھیل کر دہلی سے باہر اور پھر پورے بھارت میں منتقل ہوجائیں، یہ اس قدر منظم و انجینئرڈ دہشتگردی ہے کہ فسادات شروع ہونے سے پہلے ہندو املاک و گلی محلوں پر ہندوتوا جھنڈے لگائے گئے جس کا مطلب یہ تھا کہ ان املاک کو نقصان نہ پہنچایا جائے، ایک مارکیٹ میں ذولفقار ملک نامی مسلمان کی دکان کو تباہ کردیا گیا جبکہ اسی دونوں اطراف کی دکانیں شیوا آٹوز اور تیاگی صابن کو چھوڑ دیا گیا، اولڈ ٹائر مارکیٹ کو پولیس سرپرستی میں آگ لگادی گئی جبکہ اسی کے ساتھ ہندو حضرات کی دکانوں کو ہاتھ تک نہ لگایا گیا،

    بھارتی پولیس کی دہشتگردی کا کھلا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ بجائے دہشتگردوں کو پکڑنے کے دہلی پولیس مسلمانوں پر غیرانسانی تشدد اور جبراً وندے ماترم پڑھنے پر مجبور کرتی دیکھی گئی جبکہ سینکڑوں ایسی ویڈیوز وائرل ہیں جن میں بھارتی پولیس اہلکار ہندوتوا دہشتگردوں کو مکمل سپورٹ فراہم کررہی ہے، قریشی ٹاور میں مقیم مسلمانوں نے ایک ویڈیو میسج میں S.O.S کال دی جس میں واضح طور پر بتایا گیا کہ دہلی پولیس بجرنگ دل اور آر ایس ایس کے دہشتگردوں کے ساتھ مل کر قریشی ٹاور پر فائرنگ کررہی ہے جس سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ بی جے پی حکومت کا منظم منصوبہ ہے جس مقصد مسلمانوں کو کچلنا ہے۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ دہلی فسادات کو بی جے پی کی سرپرستی حاصل ہے جوکہ بھارت کو آگ میں جھونکنے کے مترادف ہے بی جے پی سمجھتی ہے کہ اتنی آسانی سے وہ مسلمانوں کو ٹیررسٹ کا نام دیکر ختم کردیگی جیسا کہ ہندوتوا نواز بھارتی میڈیا کی طرف سے مسلمانوں کو ہی دہشتگرد دکھائے جانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن سوشل میڈیا نے ان کا اصل چہرہ دنیا کو دکھا دیا ہے، بی جے پی کی مسلم مخالف پالیسی سے بھارت کو بھارت کے اندر بہت سے محاذ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے بہت سے مسلح گروہ اٹھ کھڑے ہوسکتے ہیں جن کا الزام اب بھارت پاکستان پر نہیں لگا سکتا اور تیزی سے پھیلتی معاشی طاقت بھارت پسماندہ ترین ملک بن سکتا ہے۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راٶ
    بی جے پی کا انجینئرڈ گجرات ماڈل دہلی فسادات 2020

  • وفا کام آئی نہ جفاکام آئی ،ہندوستانی مسلمانوں کے 72 سال –از..ملک جہانگیر اقبال

    وفا کام آئی نہ جفاکام آئی ،ہندوستانی مسلمانوں کے 72 سال –از..ملک جہانگیر اقبال

    اِس وقت "سیکولر” بھارت میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے ، باقاعدہ ریاستی سرپرستی میں انتہاپسند ہندو ٹولیاں بنا کر مسلمانوں کی جان اور املاک پہ حملہ آور ہورہے ہیں جبکہ ریاستی ادارے بشمول پولیس ، فوج یہاں تک کہ الیکٹرونک میڈیا تک انتہاپسندی کا ثبوت دیتے ہوئے مسلم دشمنی پہ اُتر آیا ہے .

    میرا ہندوستانی مسلمانوں سے لگ بھگ دس سالہ پرانا تعلق ہے . کشمیر میں مسلمان مریں یا پاکستان میں ہندوستان شرارت کرے ، ہر جگہ ہندوستانی مسلمانوں نے بے حسی کا ثبوت دیا اور بعض اوقات ہندوؤں سے زیادہ بے حسی دکھائی کہ شاید اس طرح انتہا پسند ہندو اُنہیں اپنا سگا وفادار مان لیں پر "کسی” عظیم لیڈر نے تقسیم ہندوستان کے وقت کانگریس پرست مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کیا خوب کہا تھا کہ

    ” انکی آنے والی نسلیں اپنی ساری زندگی ہندوستان سے وفاداری ثابت کرنے میں گزار دیں گی ”

    اور پھر آپ نے دیکھا کہ نا صرف عام مسلمان بلکہ بڑے بڑے فلم سٹار بھی ہندو بیویاں لانے اور گھروں میں مندر تک بنوا لینے کے باوجود اب تک اچھوت ہی ہیں ، غلطی سے بھی اگر خود پہ یا اپنی قوم کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے بابت بات کرلیں تو انکی فلموں کا چلنا مشکل ہوجاتا ہے .

    قائد اعظم اس انتہا پسند ہندو ذہنیت سے بخوبی واقف تھے اسلئے جلد ہی کانگریس سے راستے جدا کرلیے ، جبکہ دوسری جانب گاندھی جی بیچارے خود اس انتہا پسند ہندو ذہنیت کا شکار بن گئے .

    اور اب یہاں پاکستان میں تقسیم ہندوستان کے مخالف اپنے لیڈران کی ناکامی اور قائد اعظم سے بغض دکھاتے ہوئے اپنی خجالت یہ کہ کر مٹاتے ہیں کہ اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوا ہوتا تو مسلمان تعداد میں زیادہ ہوتے اور زیادہ مضبوط ہوتے .

    کاش اگر بغضِ قائد اعظم نہ ہوتا تو کبھی کچھ حساب کتاب کیا ہوتا اور تاریخ پڑھتے تو معلوم ہوتا کہ تقسیم نہ ہوتی تو بھی کل ملا کر 65 کروڑ مسلمان ہوتے جن میں شیعہ سنی اور پھر ان میں وہابی بریلوی وغیرہ کی تقسیم بھی اتنی ہی شدید ہوتی ؟

    اسکے باوجود بنگلادیش پاکستان اور ہندوستان کے ہندو ملا کر ایک ارب پانچ کروڑ کے لگ بھگ ہندوؤں کی آبادی بنتی؟

    انتہا پسند ہندو پھر بھی حکومت میں ہوتے؟

    اب اگر یہاں یہ منطق استعمال کریں کہ جی ہندوستان میں پہلے بھی ہندو مسلم ساتھ رہے ہیں تو جناب ایسا تب ممکن ہوا کہ مسلمان حکومت میں تھے ، مسلمان حکمرانوں نے ہندوستان کو اپنا ملک اور ہندوؤں کو اپنی رعایا سمجھا ، ان میں اسلام اور خدا کا خوف موجود تھا لہٰذا انہوں نے ہندوؤں کی نسل کشی نہیں کی ، اسی لیے ہندو مسلم ایک ساتھ رہ سکے ۔

    پر اقتدار میں موجود انتہا پسند ہندوؤں کا تو نظریہ ہی اکھنڈ بھارت ہے ، یہ پورے برصغیر میں اپنا راج بنانا حق سمجھتے ہیں ، نہ صرف مسلمان بلکہ عیسائی اور دیگر اقلیتیں بھی سرکاری ہندو حکومت کے شر سے محفوظ نہیں ہیں ۔

    لہٰذا قائد اعظم کے بغض میں مبتلا حضرات بچوں والی لولی لنگڑی منطق استعمال کرنا چھوڑ دیں جسے برصغیر کے مسلمانو کی اکثریت ستر سال قبل ہی کچرا دان میں پھینک چکی ہے . اب اگر آپ یہ بہانہ بنا کے خجالت مٹائیں گے کہ دیکھو پاکستان بھی تو دو ٹکڑے ہوگیا ..

    تو نالائقو پاکستان ٹوٹنے کے باوجود بھی دوسرا اسلامی ملک بنگلہ دیش ہی بنا نا کہ بھارت میں ضم ہوا ، یعنی قائد اعظم کا نظریہ تو پھر بھی قائم رہا ، قائد کا نظریہ مسلمانو کا اپنا ملک تھا جو ہندوؤں سے الگ ہو ، یہ وہ نظریہ ہے جو رہتی قیامت تک زندہ اور تازہ رہے گا .

    شکر کا کلمہ پڑھتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح کا احسان مانو کہہ ایک آزاد ملک کے باشندے ہو جسے اپنی مذہبی آزادی حاصل ہے ۔ وگرنہ تمہارے بغضِ قائد میں مبتلا لیڈران کی بات برصغیر کے مسلمان مان لیتے تو آج ماسوائے قسمت کو رونے کے اور کوئی چارہ نہ ہوتا .

    سلام ہے اُن تمام مسلمانو پہ جنہوں نے قائد اعظم کو رہبر بناتے ہوئے بھارت سے ہجرت کی اور نئے وطن کے مطالبے کو طاقت بخشی ، سلام ہے قائد اعظم محمد علی جناح کی دوراندیشی کو جو انہوں نے ہندوستان میں رہنے والے ایک تہائی مسلمانو کو جداگانہ ، آزادانہ شناخت بخشی ۔

    باقی احسان فراموش ، چھوٹی ذہنیت والے لوگ ہر معاشرے میں پائے جاتے ہیں جن کے چھوٹے دماغ اتنی حیثیت نہیں رکھتے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا احسان تسلیم کرسکیں .

    آخر میں بحیثیت مسلمان یہی دعا ہے کہ اللہ پاک بھارت اور کشمیر کے مسلمانو پہ رحم فرمائے اور انہیں ہندو انتہاپسند ذہنیت سے آزادی نصیب کرے۔ آمین

    وفا کام آئی نہ جفاکام آئی ،ہندوستانی مسلمانوں کے 72 سال

    تحریر:ملک جہانگیر اقبال