Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جامعہ میں CAA اور NRC کے خلاف احتجاج کا76واں دن–تحریر–از   محمد وسیم

    جامعہ میں CAA اور NRC کے خلاف احتجاج کا76واں دن–تحریر–از محمد وسیم

    بھارتی جنتا پارٹی جس کے یہاں مسلمانوں، دلتوں اور غریبوں سے تعصّب اور نفرت ہے اُس کے ذریعے بنایا گیا کالا قانون CAA کے خلاف گزشتہ 76 دنوں سے جامعہ کے طلباء دنوں رات احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں، طلباء کا ساتھ دینے کے لئے جامعہ کے آس پاس کے علاقے کی عوام ہر روز بڑی تعداد میں شریک ہوتی ہے، CAA کے خلاف گزشتہ 76 دنوں سے پُرامن احتجاج جاری ہے،

    کالا قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے کو حکومتی مظالم کے ذریعے ختم کرنے کی کئی بار کوشش کی گئی لیکن حکومت ناکام رہی، بِہار کی حکومت نے وِدھان سبھا میں بیان جاری کیا ہے کہ NPR پُرانے طریقے سے ہوگا اور NRC کا نفاذ ممکن نہیں ہے، تلنگانہ میں بھی NPR پر پابندی لگانے کی سفارش کی گئی ہے، اگر عام آدمی پارٹی عوام کی خیرخواہ ہے تو دہلی حکومت بھی اعلان کرے کہ دہلی میں NPR اور NRC نہیں ہوگا

    دہلی میں CAA کے خلاف احتجاجی مظاہرے پُرامن طریقے سے جاری تھے اُس سے حکومت بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کا شکار تھی، دہلی کے جعفرآباد، موج پور میں بھی احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے، دہلی میں بی جے پی کے کپل مشرا نے میڈیا میں بیان دیا کہ اگر جعفرآباد اور موج پور میں احتجاجی مظاہرے ختم نہیں کئے گئے تو تین دنوں کے اندر ہمیں جو کرنا ہوگا وہ ہم کریں گے،

    اُس کے دوسرے دن ہی دہشت گردی شروع ہوگئی، موج پور، کراول نگر، گوکُل پوری میں ہندو دہشت گرد گزشتہ دو دنوں سے گھروں اور دوکانوں کو جلا رہے ہیں، لوگوں سے اُن کی شناخت معلوم کر کے مارا جا رہا ہے، لیکن افسوس ہے کہ دہلی حکومت اور بی جے پی کی حکومت کوئی بھی ٹھوس قدم اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے، دہلی کو جلایا جا رہا ہے اور نشانہ صرف مسلمان ہیں،

    اِس وقت دہلی میں مسلمانوں کی جو حالت ہے اُس سے دِل بہت بے چین ہے، لیکن ہمّت اور جذبہ میں کمی نہیں آئی، ضرورت ہے کہ ہم کالا قانون کے خلاف احتجاج مظاہرے جاری رکھیں لیکن ہم متّحد اور منظّم ہو کر اپنی حفاظت کے لئے لائحۂ عمل بھی تیار کریں..

    محمد وسیم ابن محمد امین، ریسرچ اسکالر
    شعبہء اردو، جامعہ ملّیہ اسلامیہ، نئی دہلی

  • ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستانی ویمن ٹیم کا فاتحانہ انداز میں آغاز

    ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستانی ویمن ٹیم کا فاتحانہ انداز میں آغاز

    ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستانی ویمن ٹیم کا فاتحانہ انداز میں آغاز

    باغی ٹی وی : پاکستان نے ویمن ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ میں فاتحانہ آغاز کرتے ہوئے اپنے پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کو 8 وکٹوں کو شکست دے دی۔

    ویسٹ انڈیز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 124 رنز بنائے۔جواب میں پاکستان ویمن نے بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور مطلوبہ ہدف 19 ویں اوور کی دوسری گیند پر صرف 2 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔پاکستانی اوپنر جویریہ خان نے 28 گیندوں پر 32 جب کہ منیبہ علی نے 26 گیندوں پر 25 رنز بنائے۔کپتان بسمہ معروف نے 38 جب کہ ندا ڈار 18 رنز پر ناٹ آؤٹ رہیں جب کہ ویسٹ انڈیز کی ایفی فلیچر اور اسٹیفنی ٹیلر نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
    پاکستان کی جانب سے ندا ڈار، ڈیانا بیگ اور ایمن انور نے عمدہ باؤلنگ کرتے ہوئے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

    ہدف کے تعاقب میں اپکستانی اوپنرز جویریہ خان اور منیبہ علی نے 58رنز کی شراکت قائم کر کے فتح کی بنیاد رکھی، جویریہ 28 گیندوں پر 6 چوکوں کی مدد سے 35رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد پویلین لوٹیں۔

    منیبہ علی 25رنز بنا کر آؤٹ ہوئیں تو پاکستانی ٹیم 77رنز پر دونوں اوپنرز سے محروم ہو چکی تھی لیکن اس کے بعد کپتان بسمہ معروف اور ندا ڈار نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو بغیر کسی نقصان کے ہدف تک رسائی دلا دی۔پاکستان نے 8وکٹوں کی فتح کے ساتھ ہی ٹی20 ورلڈ کپ کا شاندار انداز میں آغاز کیا۔

    جویریہ خان کو جارحانہ اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔پاکستانی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ میں اپنا دوسرا میچ 28فروری کو انگلینڈ کے خلاف کھیلے گی۔

  • FATF اور اس کا طریقہ کار کیا ہے، پاکستان ہی FATF کے چنگل میں کیوں؟؟

    FATF اور اس کا طریقہ کار کیا ہے، پاکستان ہی FATF کے چنگل میں کیوں؟؟

    پاکستان کے الیکٹرانک، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر پچھلے کچھ عرصہ سے FATF کی خبروں، تبصروں، تجزیوں اور پیشین گوئیوں سے بھرا پڑا ہے اس کی وجہ بھی آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ پاکستان جون 2018 سے FATF کی گرے لسٹ میں اور FATF کے دیئے گئے ایکشن پلان پر عمل درآمد کرتا چلا آرہا ہے لیکن FATF کسی طور مطئمن ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہم اس پر بات کریں گے کہ آخر اس کی وجوہات کیا ہیں کہ FATF آخر پاکستان سے خوش کیوں نہیں ہورہا حالانکہ 16 فروری سے اکیس فروری تک جاری رہنے والے اجلاس سے قبل ہمارے دوست ممالک نے بھی بڑی یقین دہانیاں کروائی تھیں اور عزت مآب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی بڑے دعوے کیے تھے کہ فلاں بھی ہمارے ساتھ ہے اور فلاں بھی ہمارے ساتھ لیکن اجلاس کے بعد وہی FATF کے محبوبہ کی خواہشات کی طرح بڑھتے ہوئے "ڈو مور” کے مطالبات ہیں.
    ہمارے بہت سارے احباب تو FATF کو ہی نہیں جانتے کہ یہ کیا بلا ہے اور کیونکر ہمارے سروں پر مسلط ہوئی ہے.FATF کا قیام جولائی 1989 میں جی سیون (G-7) ممالک کے فرانس منعقدہ اجلاس میں کیا گیا تھا. بعدازاں اس کی تعداد بڑھتی رہی اور ابھی دو علاقائی تنظیموں سمیت 39 ممالک اس FATF کا حصہ ہیں. بنیادی طور پر یہ بین الحکومتی ٹاسک فورس ہے جو منی لانڈرنگ جیسے جرائم کے خلاف ملکوں کے مشترکہ اقدامات کے لیے قائم کی گئی مگر نائن الیون کے بعد جب دنیا میں دہشت گردی اور War Against Terror کی صدائیں متواتر سنائی دی جانے لگیں تو FATF کے بنیادی مقاصد میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ ٹیرر فنانسنگ کو مانیٹر کرنے اور اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کا اضافہ کیا گیا. FATF منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے لیے ٹیکنیکل طریقہ کار کو اختیار کرتی ہے اور ممبر ممالک میں ایسے قوانین وضع کرواتی ہے جن کی زد میں آکر ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم کی روک تھام ہوسکے اور ان میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لاکر سزائیں وغیرہ دی جاسکیں.
    اس FATF کے طریقہ کار اور اسٹینڈرڈ سب ممالک کے لیے ایک جیسے ہوتے ہیں. جو ممالک ان اسٹینڈرڈز پر پورا نہ اتریں اور وہاں سے افراد یا تنظیمیں منی لانڈرنگ یا ٹیرر فنانسنگ میں ملوث ہوں تو ان پر نظر رکھنے اور وہاں سے ان جرائم کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے کے لیے ان کو گرے لسٹ میں ڈالا جاتا ہے. جو ممالک FATF کے دیئے گئے ایکشن پلان پر عمل کرکے ان جرائم پر قابو پالیں تو ان کو دوبارہ سے وائٹ کردیا جاتا ہے اس کے لیے سال میں تین دفعہ جائزہ سیشنز ہوتے ہیں جن میں ممبر مماک کے نمائندے شامل ہوتے ہیں یہ جائزہ سیشنز فروری، جون اور اکتوبر میں ہوتے ہیں. لیکن اگر ان سبھی جائزہ سیشنز کے بعد بھی کوئی ملک FATF کے دیئے گئے ایکشن پلان پر عمل نہ کرسکے تو اس کو بلیک لسٹ کردیا جاتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس ملک کے ساتھ لین دین اور برآمدات و درآمدات متاثر ہوجاتی ہیں ، آئی ایم اور ورلڈ بینک جیسی تنظیمات بھی اس ملک سے ہاتھ کھینچ لیتی ہیں وغیرہ وغیرہ.
    یہ تو تھیں پڑھی لکھی باتیں جو قوائد و ضوابط کا حصہ ہوتی ہیں یا ہیں لیکن آپ کو یہ بات جان کر بڑا تعجب ہوگا کہ اس وقت FATF کی گرے لسٹ میں پاکستان کے علاوہ جو ممالک شامل ہیں 90 فیصد دنیا ان کے نام تک بھی نہیں جانتی ہے اور FATF کی حالیہ بلیک لسٹ میں صرف دو ملک شمالی کوریا اور ایران شامل ہیں. یعنی بجز ان تین سرکردہ ممالک کے باقی ساری دنیا بہت شریف ہے. امریکہ جس نے وار آن ٹیرر کے نام پر ملکوں کے ملک اجاڑ دیئے، لاکھوں انسانوں کو قتل کیا، امریکن خفیہ ایجنسیاں جو دنیا بھر میں اپنے پنجے گاڑی بیٹھی ہیں وہ FATF کی نظر میں بالکل شریف ہیں. بھارت کہ جس کی مسلسل لابنگ اور کوششوں سے پاکستان FATF کا منظور نظر ٹھہرا ہے اس کی اپنی کیفیت دیکھیں تو ایک کلبوشن یادیو اور اس کی ٹیرر فنانسنگ کا سب سے بڑا ثبوت ہے جو اپنے مکمل نیٹ ورک کے ساتھ پکڑا گیا تھا اس کے علاوہ بھارت کی اپنی سبھی ہمسائیہ ریاستوں میں ٹیرر پھیلانے کے لیے کی گئی فنانسنگ بڑی پاک صاف ہے جو FATF کی پکڑ میں نہیں آتی.کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور کشمیریوں کی نسل کشی FATF کے کسی قانون یا معیار کے نزدیک جرم نہیں ٹھہرتا جو اسے کلین چٹ دی ہوئی ہے.

    اور پاکستان جو امریکہ کی war on terror میں شامل ہونے کی غلطی کربیٹھا تھا اور تاحال اپنے ہی گلی محلوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے ہزاروں جانیں اس دہشت گردی کی نظر ہوچکی ہیں، پاکستان کی اکانومی کا بھٹہ اس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بیٹھ چکا ہے اور دنیا بجائے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کرکے پاکستان کو اس اکنامک کرائسز سے نکلنے میں مدد دینے کے پکڑ کر FATF کے کٹہرے میں بٹھا کر ڈو مور کی ایک لمبی فہرست تھما دی کہ جاؤ یہ یہ کام کرکے آؤ، فلاں فلاں بندے کو جکڑ کر سزاء دے کر آؤ کہ وہ اسلامی معاشی نظام کے تحت صدقے اور زکوٰة جیسی معمولی رقومات سے دنیا کا بہترین ریلیف کا نیٹورک چلا کر ہمارے سودی اور سامراجی نظاموں کے خلاف ایک صاف شفاف اسلامی نظام کیوں کھڑا کر رہے ہیں.
    پاکستان نے FATF کی ایما پر پاکستان میں جن افراد کو پکڑ کر سزاؤں سے نوازا ہے اور ان کے سبھی ادارے حتیٰ کے ایمبولینسز، ڈسپنسریز اور اسکولز تک اپنی تحویل میں لے لیے ہیں ان کو ماضی میں پاکستان کی عدالتیں بالکل کلیئر کرچکی ہیں اور دنیا بلکہ حتیٰ کہ اقوام متحدہ تک یہ مانتی اور جانتی ہے کہ ان افراد کا دہشت گردی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور اب اس شخص کو جس کیس میں گیارہ سال قید بمع جرمانے کے سزاء سنائی گئی وہ کیس بھی بڑا دلچسپ ہے کہ ان پر کوئی دہشت گردی اور ٹیرر فنانسنگ وغیرہ کا جرم تو ثابت نہیں ہوسکا البتہ انہوں مساجد اور مراکز بنائے ہیں جو شاید دہشت گردی کے لیے استعمال ہوسکیں.
    لیکن FATF ہے کہ وہ ماننے کو تیار نہیں ہے اور اس نے پاکستان میں ڈو مور کی مزید لسٹ تھما کر جون تک وقت دے دیا ہے. تو صاف سمجھ آرہی ہے کہ FATF اور اس کے اسٹینڈرڈ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے اسٹیک ہولڈرز اور ان کے مفادات اصل ایشو ہیں. کیونکہ پاکستان نے اپنے بے گناہ لوگوں کو فقط اس لیے جیلوں میں بھیجا ہے اور کوئی جرم ثابت نہ ہونے پر بھی سزائیں سنائی ہیں لیکن دنیا اس کو ماننے کو تیار نہیں ہے. حالانکہ حافظ سعید وہ شخص ہیں جو کبھی امریکہ کے خلاف نہیں لڑے البتہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد ناٹو سپلائی پر ملک گیر کمپین کی تھی اور دوسری طرف جو لوگ براہ راست امریکہ سے لڑتے رہے امریکہ ان کو پھولوں کے ہار پہنا رہا ہے، گلبدین حکمت یار کا ریڈ کارپٹ استقبال ہوتا ہے، جس حقانی نیٹورک کے نام پر ساری دنیا پاکستان کو مطعون کرتی رہی اسی سراج الدین حقانی کا کالم نیویارک ٹائمز میں پبلش ہورہا ہے. افغانستان سے امریکہ کے نکلنے تک پاکستان کا FATF کی گرے لسٹ سے نکلنا مشکل معلوم ہوتا ہے اسی طرح پاکستان CPEC ایک ایسا جرم ہے پاکستان کو جو سامراجی طاقتوں کو ہضم نہیں ہورہا کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کو CPEC کی سزا بھی FATF کے چنگل میں جکڑ کر دی جارہی ہے.یہ دو بڑی اہم وجوہات سمجھ آتی ہیں جن پر عالمی طاقتیں پاکستان پر FATF کی گرے لسٹ اور بلیک ہونے کے خوف کی صورت پریشر برقرار رکھ کر کچھ لو اور کچھ دو کی مزید پالیسی چاہتی ہیں.
    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • پاکستان کی قومی زبان  سے ایسا سلوک کیوں ،تحریر: محبوب چشتی

    پاکستان کی قومی زبان سے ایسا سلوک کیوں ،تحریر: محبوب چشتی

    پاکستان کی قومی زبان سے ایسا سلوک کیوں ،تحریر: محبوب چشتی

    پاکستان کی قومی زبان اُردو ہے جسے ہر سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے 25 فروری 1948ء کو اردو قومی زبان کا درجہ حاصل کر گئی ،مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں اردو قومی زبان ہونے کے باوجود لسانی زبانوں کے سامنے بے یارو مددگار ہے۔ دیگر زبانوں کے حوالے سے پاکستان میں مختلف دن منائے جاتے ہیں مگر اردو کے قومی زبان کا دن منانے سے پرہیز کیا جاتا ہے ۔

    اس طرز عمل کی وجہ سے پاکستان کے بچوں میں اُردو کے بارے میں کوئی خاص معلومات نہیں ہوتی ہے اور بچے اور نوجوان اردو کے بارے میں محض اتنا جانتے ہیں کہ یہ پاکستان کی قومی زبان ہے ،اس کی ابتداء اس کی اہمیت اردو ادب، اردو ادب کیلئے رات دن ایک کرنے والے مفاکر، نثرنگار، شعراء، دانشور و دیگر کے حوالے سے انہیں بہت کم معلومات ہوتی ہیں جبکہ سرکاری سطح پر اردو نصاب بھی دن بہ دن سکڑتا جا رہا ہے جس سے یہ تشویش ہو چلی ہے کہ کہیں کسی روز اردو کو نصاب سے باہر ہی نہ کر دیا جائے۔

    اردو کے قومی زبان ہونے کے بارے میں تو سب جانتے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ اردو کے قومی زبان ہونے کے باوجود اور آئین پاکستان کا حصہ بننے کے باوجود اب تک اس کا سرکاری سطح پر نفاذ کیوں نہیں ہوسکا جبکہ اب اس بات کو کئی سال گزر چکے ہیں۔

    آئین پاکستان کی شق(251 )کی ذیلی شق 1 میں واضح طور پر تحریر ہے کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور آئین کی رو سے 15 برس کے اندر اندر اس کا سرکاری و دیگر اغراض کیلئے استعمال کے انتظامات کرنا حکومتوں کی ذمہ داری تھی جبکہ اسی شق کی ذیلی شق 2 میں یہ بھی درج ہے کہ انگریزی زبان اس وقت تک سرکاری اغراض کے لیے استعمال کی جائے گی جب تک اس کو اردو سے تبدیل کرنے کے انتظامات نہیں ہو جاتے اسی طرح مذکورہ شق کی ذیلی شق 3 میں یہ درج کیا گیا ہے کہ اردو کی حیثیت کو متاثر کئے بغیر کوئی صوبائی اسمبلی قانون کے ذریعے قومی زبان کے علاوہ کسی صوبائی زبان کی تعلیم، ترقی اور اس کے استعمال کے لیے اقدامات تجویز کرسکے گی۔

    آئین پاکستان کے تحت اسے 1988ء تک پاکستان میں دفتری زبان کے طور پر اردو کو نافذ ہو جانا چاہیئے تھا مگر 31 سال کا زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود اس جانب کوشش نہیں کی گئی ماسوائے سابق وزیر اعظم نے سپریم کورٹ کے احکامات کو سامنے رکھتے ہوئے 2015ء میں سرکاری حکم نامے کے تحت وفاقی اداروں کو اُردو کے دفتری زبان کی حیثیت سے نافذ کرنے کا کہا گیا جو ہوائی قلعے سے زیادہ نہ ثابت ہوسکا اور نہ ہی اس حکم نامے کے اطلاق کیلئے یادداشتی حکمنامےجاری نہیں کئے گئے اور نہ ہی آخری حکم نامے کے طور پر سرکاری اداروں کو وارننگ دی گئی کہ اگر انہوں نے وزیراعظم پاکستان کے حکم نامے پر عمل درآمد نہیں کیا تو ان کے خلاف سخت ترین ایکشن لیا جائیگا، ورنہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اردو سرکاری زبان کے طور پر نافذ نہ ہو پاتی۔

    اسی طرح سندھ اسمبلی میں 2016ء میں ایک قرار داد کے ذریعے سندھ میں سندھی زبان کے نفاذ کا ”غیر قانونی“ اعلان کیا ،دلچسپ امر ہے پیپلز پارٹی کی حکومت میں سندھ اسمبلی نے اسے منظور بھی کیا جبکہ اسی پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور کا آئین چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ اردو زبان کی حیثیت متاثر کئے بغیر کسی صوبائی زبان کا نفاذ نہیں کیا جا سکتا۔

    المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے عوام اردو زبان بولتے ضرور ہیں مگر اس کو قومی زبان تسلیم کرنے اور نافذ کرنے میں لسانی رنگ نمایاں ہو جاتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہیئے ۔بین الاقوامی زبان کے طور پر بھی اردو بولی اور تسلیم کی جاتی ہے دنیا کی 25 سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں اردو بھی شامل ہے۔ اب وقت ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان، اردو کو آئینی لحاظ سےسرکاری طور پر نافذ فرمانے کے ساتھ 25 فروری کو نفاذ اردو کا دن منانے کا حکم بھی دیں جبکہ اردو ادب کی ترویج کیلئے اقدامات ہونے چاہیئں تاکہ ہماری آنے والی نسل کو اردو کی اہمیت کے بارے میں بتانے کیلئے ہمارے پاس مواد موجود ہو ۔

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ اردو کے نفاذ اور ترویج کیلئے پاکستان بھر میں یہ تاثر عام کرنا ہوگا کہ یہ کسی مخصوص لسانی اکائی کی نشاندہی نہیں کرتی بلکہ اس کی پہچان بین الاقوامی طور پر کی جاتی ہے اس لئے یہ پاکستان کی قومی زبان ہے اور جہاں اربابِ اختیار سے ہمیں یہ شکایتیں ہیں ، وہیں اردو کو اپنی زبان کہنے والوں سے بھی یہ گلہ اپنی جگہ موجودہےکہ اس زبان کواپنی زبان کہنےوالےبھی نفاذ اردوکےلیےکوئی خاص کام نہیں کررہےہیں

  • گیمز آف ایگزسٹنس, ایکسیپٹنس اینڈ پرزسٹنس !!!! بلال شوکت آزاد

    گیمز آف ایگزسٹنس, ایکسیپٹنس اینڈ پرزسٹنس !!!! بلال شوکت آزاد

    دنیا اس وقت بہت تیزی سے بدل رہی ہے اور جتنی تیزی سے دنیا بدل رہی ہے اتنی ہی رفتار سے انسان تبدیلیوں کو قبول کرنے کے عمل سے گزر رہا ہے۔

    آپ ہوسکتا ہے رائٹ یا لیفٹ ونگ سے تعلق رکھتے ہوں یا پھر ایک نئی اور مضحکہ خیز جہت سینٹرک سے آپ خود کو جوڑتے ہوں پر آپ احباب کی نذر یہ بات پورے وثوق سے کرتا چلوں کہ تمام مذاہب بلخصوص اسلام کی رو سے جس زمانے کو پر فتن اور پر شر قرار دیکر پیش گوئیاں کی گئیں اور آگاہ کیا گیا کہ اس دور میں کیسے جینا اور کس طرح مرنا ہے وہ تمام نشانیوں اور اشارات کی رو سے یہی دور ہے جس میں آپ اور ہم جی رہے ہیں, مطلب اس وقت دنیا میں کہیں بھی کسی بھی جگہ اعلانیہ اور پرشدید حق و باطل کا معرکہ بپا نہیں بلکہ آپ اور ہم جو کچھ بھی دیکھتے, سنتے, پڑھتے اور سمجھتے ہیں وہ سب دراصل اور درحقیقت گیمز آف ایگزسٹنس, ایکسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) کا ادنی سا نمونہ ہے۔

    یہ وہ نادیدہ اور پراسرار جنگی کھیل ہے جو دنیا کے ہر ملک, مذہب, مسلک, معاشرے اور شعبہ زندگی میں اس وقت پوری شدومد سے جاری ہے جس پر کثیر جہتی محاذ کھلے ہوئے ہیں۔

    اس جنگی کھیل میں کوئی اخلاقی اور آفاقی اصول اور پیمانہ رائج نہیں بلکہ بلا مبالغہ یہ سروائیول آف فٹسٹ کی دوڑ ہے۔

    گیمز آف ایگزسٹنس, ایسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) سے مراد ہے کہ فریقین موجودگی یا وجود کو برقرار رکھنے, تسلیم کروانے اور مستقل بنیادوں پر اولین دونوں مقاصد کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کریں تاکہ سروائیول آف فٹسٹ کی دوڑ جیت کر طاقتور, بدستور موجود اور تسلیم شدہ فریق دنیا کی باگ دوڑ سنبھال کر نیو ورلڈ آرڈر رائج کرسکے۔

    آپ حیران اور پریشان ہورہے ہونگے اب یہ کیا نئی تھیوری مارکیٹ میں لانچ کی جارہی ہے جبکہ اس سے قبل ہی ہم ففتھ جنریشن وار فیئر اور ہائبرڈ وار جیسی اصطلاحات سن سن کر پک چکے ہیں؟

    تو میں آپ کی حیرانی اور پریشانی دور کردوں کہ دراصل ففتھ جنریشن وار فیئر اور ہائبرڈ وار فیئر جس کتاب کے ضخیم باب ہیں وہ درحقیقت گیمز آف ایگزسٹنس, ایسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) ہے جس میں کیا سپر پاورز, کیا سیکرٹ سوسائٹیز, کیا بزنس ٹائیکونز, کیا شوبز آئیکونز, کیا مافیا ورلڈ اور کیا تھرڈ ورلڈ سبھی کے سبھی شامل اور متحرک ہیں۔
    آپ کو نہایت سادہ مثال سے سمجھاتا ہوں۔
    آپ کو کبھی کبھی یہ خیال تو ستاتا ہوگا کہ کیا وجہ ہے کہ پاک بھارت جنگوں کا نتیجہ کبھی بھی کسی ایک کی ہار یا جیت پر منتج نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ دونوں ملکوں کی عوام کے پاس اپنی جیت اور دوسرے کی ہار کے مضبوط ثبوت اور دلائل کے انبار ہوتے ہے لیکن چونکہ آپس میں مدلل مکالمے کی فضاء قائم نہیں تو دونوں ملکوں کی عوام اپنی اپنی ڈومین میں اپنی جیت اور دوسرے کی ہار کا جشن منا کر خوش ہولیتی ہے؟
    یا
    کبھی آپ کو یہ خیال ستایا ہو کہ روس اور امریکہ کو آخر کیا چیز افغانستان میں کھینچ لاتی ہے؟ کیا تیل یا گرم پانیوں تک رسائی موجودہ دور میں ایسا چمکتا ہوا ہدف ہے کہ جس کی خاطر ملکی معشیت اور عوام کی جان و مال کو داؤ پر لگایا جائے جبکہ دنیا خود کو گلوبل ویلیج کہتی ہو اور ملٹائی نیشن اقتصادی انجمنوں کی بھرمار ہو؟
    یا
    اکھنڈ بھارت, تکمیل پاکستان, گریٹر اسرائیل, یونائیٹڈ سٹیٹس آف مسلم امہ, یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ, یورپی یونین اور یونائیٹڈ سٹیٹس آف رشیا وغیرہ ایسی تھیوریز اور پریکٹیکلز ہیں جن کو ہم حق اور باطل کی جنگ یا مقابلہ کہہ کر کسی کے فریق بن سکیں؟ کیا یہ یونیٹی یا گریٹنس صرف اور صرف اپنی موجودگی یا وجود کی بقاء, تسلیمات اور دائمیت کی جنگ کا شاخسانہ تو نہیں؟

    غرض آپ زندگی کے جس بھی شعبے اور جہت کو کنگھال لیں آپ کو ہر بندہ اور گروہ یہی کہتا ہوا ملے گا کہ وہی ٹھیک اور حق پر ہے لہذا اس کو جگہ دی جائے, تسلیم کیا جائے اور اس کے وجود کو مستقلاً برداشت کیا جائے وہ بھی راضی خوشی۔

    کہیں ہمارے اردگرد قائم مقابلے کی فضاء کا مطلب یہی تو نہیں کہ کون دی بیسٹ ہے, کون نمبرون ہے, کون ناقابل تسخیر ہے اور کون مستقل ہے۔

    تاکہ جو ان پیرامیٹرز سے میچ نہیں کرتا اس کو وننگ پارٹی قصہ پارینہ بنا دے اور پھر ریس وہیں سے کسی اور فریق کے ساتھ شروع کردے جہاں تک وہ جیت چکا اور سابقہ فریق کو ہڑپ کرچکا؟

    ملکوں کی اندرون و بیرون سیاست و سفارت سے لیکر عسکری و اقتصادی اداروں تک یہ گیمز آف ایگزسٹنس, ایسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) جاری ہے تاکہ سروائیول آف فٹسٹ کا معرکہ جیت کر آخری بڑی جنگ کی تیاری ہوسکے جو واقعی معرکہ حق و باطل ہوگا اور جس میں ایک اور تین کا مقابلہ ہوگا وہ بھی آمنے سامنے پورے حق سے کہ ایک کو پتہ چل جائے گا تین حق پر ہیں اور وہ ایک باطل ہے۔

    قصہ مختصر یہ کہ یہ گیمز آف ایگزسٹنس, ایسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) اس وقت پاکستان میں بھی ہر گراؤنڈ پر جاری ہے خواہ وہ کارپوریٹ سیکٹر ہو, شوبز کی دنیا ہو, ایجوکیشن ورلڈ ہو, پولیٹکس ہو, ڈیفنس ہو, کامرس ہو, ذراعت ہو, میڈیا ہو یا سوشل میڈیا ہو غرض ہر بندہ دی بیسٹ اور نمبرون بننے کی چاہ لیے وجود کی بقاء, تسلیمات اور دائمیت کی جنگ لڑرہا ہے۔

    اس جنگی کھیل کا گورکھ دھندہ اسقدر پیچیدہ ہے کہ صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ ہر انسان اس پرفتن دور میں شدید ترین اور ہلاکت خیز فتنوں میں جکڑا اور پھنسا ہوا ہے۔

  • جو دلی کا حال ہے وہی دل کا حال ہے!—عزیراحمد

    جو دلی کا حال ہے وہی دل کا حال ہے!—عزیراحمد

    میں نے زندگی میں کبھی خود کو اتنا بے بس نہیں محسوس کیا تھا، جتنا اب کر رہا ہوں، تصویریں، ویڈیوز جو سامنے آ رہی ہیں دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ میں ہندوستان ہار رہا ہوں، وہ ہندوستان جس کا خواب ہمارے پرکھوں نے دیکھے تھے، اس کی تعبیر بہت بھیانک مل رہی ہے،

    1947 میں بھی ہندو-مسلمان تھا، 2020 میں بھی ہندو-مسلمان ہے، کچھ بھی نہیں بدلا، بس ہندسے بدل گئے ہیں، وہی نفرت، وہی دشمنی جس نے کبھی دلی کو سڑکوں سے خون نہلدیا ، وہی پھر دیکھ رہا ہوں میں، چاروں طرف خون بہتے ہوئے، سڑکوں پر لاشوں کی طرح پڑے لوگ، اور ان کے ساتھ وردی میں ملبوس غنڈوں کی غنڈہ گردی، مزار کو پھونکتے ہوئے، مسجدوں کے گنبدوں کو توڑتے ہوئے، بیک گراؤنڈ میں عورتوں کی چیختی ہوئی آوازیں،

    یہ تصویریں اور ویڈیوز مجھے زندگی بھر ڈراتی رہیں گی، میں کبھی انہیں بھول نہیں پاؤں گا، کیونکہ میں اس میں ہارتے ہوئے "آئیڈیا آف انڈیا” دیکھ رہا ہوں، میں اس میں "دلت مسلم یونیٹی” کا خواب چکنا چور ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، مجھے سنگھی غنڈوں کی صف میں وہی لوگ آگے نظر آ رہے ہیں، جو پچھڑی ذات کے ہیں، ان کے کپڑے، ان کے پہناوے اور ان کا لائیو ویڈیو بتا رہا ہے کہ یہ پڑھے لکھے لوگ نہیں، یہ اونچی ذات کے لوگ نہیں ہیں، یہ مہرہ ہیں، وہ مہرہ جنہیں ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

    میں نے گجرات فساد کے بارے میں صرف پڑھا تھا، اسے کبھی محسوس نہیں کیا تھا، مگر میں نے دہلی میں ہو رہے فساد کے ذریعہ اسے جی لیا ہے، جو کچھ گجرات میں ہوا تھا، ہو بہو وہی دہلی میں ہوا ہے، احسان جعفری پولیس اور گورنمنٹ کو فون کرتے رہ گئے تھے، اور انہیں جلا دیا گیا تھا، کل رات بھی لوگ اپیلیں کرتے رہ گئے، دہلی پولیس سے، لیفٹننٹ گورنر سے، ہوم منسٹر سے، پرائم منسٹر سے، کوئی سننے کے لئے تیار نہیں تھا، سب نے آنکھیں موند لی تھیں، نہ کسی کو کچھ دکھائی دے رہا تھا، نہ مظلوموں کا چیخ و پکار سنائی دے رہا تھا، ایسے لگ رہا تھا کہ اجازت دے دی گئی ہو کہ تم بربریت کا جتنا ننگا ناچ ناچ سکتے ہو، ناچ لو، پولیس تمہارے ساتھ ہے ہی، اور ہماری مہان پولیس نہ صرف دنگائیوں کا ساتھ دے رہی تھی بلکہ انہیں ٹریننگ بھی دے رہی تھی کہ کیسے پتھر پھینکا جائے۔

    رات میں جس طرح سے ٹائر مارکیٹ جلایا گیا، اس کی اٹھتی ہوئی لپٹیں سیریا کی یاد دلا رہی تھیں کہ جیسے بم مار دیا گیا ہو، لوگ رحم کی بھیانک مانگ رہے تھے، عورتیں بچے چلا رہے تھے، مگر رام راجیہ کے سپاہیوں کے چہرے پر خوشی دیدنی تھی، جانوروں سے بھی بدتر لوگ، نفرت ہونے لگی ہے ان کی شکلوں سے، بے اتھاہ غصہ اندر بھر رہا ہے، کوئی ایک فساد ذہنوں سے محو نہیں ہوتا ہے کہ دوسرا شروع ہوجاتا ہے، کیا ہندوستان میں ہندو مسلم فساد کا لا متناہی سلسلہ ہمیشہ چلتا رہے گا، ہندوؤں کا پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا طبقہ تو معاملات سمجھ رہا ہے، لیکن عام ذہن نفرت سے کرپٹ ہو چکا ہے، اس کو ان سب چیزوں سے خوشی مل رہی ہے، اس کے دل کی تسلی کے لئے یہی کافی ہے کہ مسلمان مودی ایرا میں ستائے جارہے ہیں، مارے جا رہے ہیں، ذلیل کئے جا رہے ہیں، ورنہ کیا وجہ کہ یہ سب تصویریں اور ویڈیوز دیکھنے کے بعد بھی ان کے دل و دماغ میں ہلچل نہیں ہوتی ہے، وہ کھل کر مسلمانوں کے سپورٹ میں نہیں آتے ہیں کہ ہم دنگائیوں کے ساتھ نہیں ہیں، چند مخصوص افراد کی بات الگ ہے، لیکن اکثریت ہے کہاں؟

    دلی پولیس کا کردار ہمیشہ مسلمانوں اور اسٹوڈنٹس کے تئیں گھناؤنا رہا ہے، یہی دہلی پولیس ہے جس نے مسلم نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کیں ہے، کئی بے گناہ نوجوانوں کو انکاؤنٹر میں مار دیا ہے، اور کئیوں کو گمنامی کے کنوئیں میں پھینک دیا ہے، 1984 میں اس نے کانگریسی حکومت کے چھترچھایہ میں سکھوں کا نرسنہار کرنے میں پورا سپورٹ کیا تھا، 2020 میں کمل کا پھول تھامے لوٹ مار مچا رہی ہے، اس سے زیادہ ذلیل پولیس میں نے کبھی نہیں دیکھی، پتہ نہیں اس کے افراد رات میں جب گھر جاتے ہوں گے تو اتنا ظلم کرنے کے بعد چین کی نیند کیسے لے پاتے ہوں گے، دنگائیوں کو روکنے کے بجائے انہیں کے ساتھ مل کر پتھر بازی کرنا، لوٹ مار کرنا اور اقلیتی طبقے کو کسی اور ملک چلے جانے کے لئے کہنا دنیا کی کون سی پولیس کرتی ہے؟

    تڑی پار ایک فسادی تھا، فسادی ہے، اور فسادی رہے گا، خون اس کے منہ کو لگ چکا ہے، جب تک اسے خون پینے کو نہ ملے اسے سکون نہیں ملتا، 2002 میں گجرات جلایا تھا، ابھی پورا ملک جلا رہا ہے، اپنے زعم اور اپنے انا میں پورے ملک کو تباہ کرنے کے درپے ہے، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کا اکثریتی طبقہ مایوس کر رہا ہے, وہ آئیڈیا آف انڈیا کو فیل ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے مگر وہ کچھ بول نہیں رہا ہے، شاید وہ سوچ رہا ہے کہ ہمیں اس سے کیا لینا دینا، مگر وہ بھول رہا ہے کہ جب آگ لگتی ہے تو اس کے لپٹ کی زد میں ارد گرد کے سارے گھر بھی آ جاتے ہیں۔

    اپوزیشن کی حالت یہ ہے کہ اس کے ممبران ٹیوٹر پر بس سانتونائیں دے رہے ہیں، اگر اپوزیشن غلط کے خلاف کھڑی نہیں ہوسکتی تو ایسے اپوزیشن کا مر جانا بہتر ہے، اتنا وقت گزر جانے کے باوجود بھی دہلی کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں پر حملہ، پتھراؤ اور فائرنگ جاری ہے، کچھ جگہوں پر حالات دوبارہ خراب ہونے کی سنبھاؤنا ہے، چاروں طرف سے شرپسند عناصر نے گھیر رکھا ہے، گھروں میں موجود لوگ کس سیچویشن سے گزر رہے ہوں گے اس کو بس وہی اندازہ لگا سکتا ہے جو کبھی ان حالات سے گزر چکا ہو، بھگوا دہشت گرد کتوں کی طرح گلیوں میں چلا رہے ہوں گے، دکانوں مکانوں پر حملہ کر رہے ہوں گے، اپوزیشن چاہتی تو فورا ایک آل آرگنائزیشن میٹنگ بلا کر گورنمنٹ پر پریشر ڈال سکتی تھی، مگر وہ کچھ بھی نہیں کر رہی ہے

    ہماری عدلیہ کو بھی فسادات سے مطلب نہیں، لوگ مر رہے ہیں، اس سے مطلب نہیں، پولیس ظلم کی حدوں کو پار کر رہی ہے، اس سے مطلب نہیں، بیجا NSA/PSA اور Sedition کے چارجز کا استعمال کیا جا رہا ہے، اس سے مطلب نہیں، اسے مطلب ہے تو بس ٹریفک سے، پروٹسٹ ختم کروانے سے، اور مودی جی کو ایک جینس آدمی قرار دینے سے، بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا پار ہو چکی ہے۔

    ابھی فی الحال حالت یہ ہے کہ دماغ کے دروازے بند ہوچکے ہیں، بس چاروں طرف مارو پکڑو کی آوازیں ہیں جو سنائی دے رہی ہیں، مجھے وہ چیختی ہوئی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، مگر بے بسی اتنی ہے کہ کچھ کر نہیں سکتے، لیکن بے حسی بھی طاری نہیں ہورہی ہے کہ کندھے اچکا کر آگے بڑھ جائیں، میں بہت حساس طبیعت کا مالک ہوں اور یہ حساسیت ہی ہے جو مجھے ایک پل کے لئے بھی جو کچھ ہو رہا ہے اس سے غافل نہیں ہونے دیتی، اسلام نے ایک امت اور جسد واحد کا جو کانسپٹ دل و دماغ میں اتارا ہے اس کی وجہ سے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے میرا گھر جل رہا ہے, جیسے میرے گھر میں گھس کر میرے اہل خانہ کو مارا جارہا ہے,

    یہی وجہ ہے کہ یہ سب لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو بھی ہیں اور میری سوچ میں الجھن بھی، میں یہ نہیں سمجھ پا رہا ہوں کہ میں ان سب کا ذمہ دار بھگوا ٹیرر کے ساتھ ساتھ اور کسے ٹھہراؤں، حکومت کو، یا مظاہرین کہ جن کو Provoke نہیں ہونا تھا وہ ہوگئے، جن کو ان کے خلاف لگائے گئے نعروں پر ری ایکٹ نہیں کرنا تھا، وہ کر بیٹھے، جب لڑائی لمبی تھی، تو اس میں Patience بھی بڑا چاہئے تھا، یا پھر اکثریتی طبقہ کو جن کی خاموشی رضامندی معلوم ہورہی ہے، کہ جن کو جب سڑکوں پر نکل کے لئے آنا تھا، وہ اپنے کمروں میں گھر مورے پردیسیا کے گیت گا رہے ہیں، ذمہ دار کوئی بھی ہو ہندوستان ہار رہا ہے، اور اسے ہارتے ہوئے ہم بس دیکھ رہے ہیں، اور کچھ بھی کر پانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

    جو دلی کا حال ہے وہی دل کا حال ہے!

    تحریر از…….عزیراحمد

  • کتاب "ملزم جناح حاضر ہو!” پر تبصرہ ،  تحریر ذیشان وارث

    کتاب "ملزم جناح حاضر ہو!” پر تبصرہ ، تحریر ذیشان وارث

    عماد بزدار کا "اوفینسو ڈیفنس” "ملزم جناح حاضر ہو!” پر تبصرہ
    تحریر :ذیشان وارث

    کتاب ابھی ختم کی ہے. سوچا کتاب بارے کچھ خیالات شئیر کر لیے جائیں. یہ بھی ایک آئرنی ہے کہ جب یہ کتاب پڑھی ہے تو دلی سے دل دھلا دینے والی خبریں بھی ساتھ ہی آرہی ہیں. کشمیر کے انسانیت سوز کرفیو کو بھی دو سو روز گزر گئے ہیں.

    کشمیری تو خیر جیالے لوگ ہیں. یہ ہندوستان کے مسلمان ہی تھے جو سادہ لوحی اور آزاد کے شخصی سحر میں آکر ہمیشہ سے جناح کو برا بھلا کہتے رہے. خیر اب انکی غلط فہمیاں بھی رفع ہو گئی ہو نگی. اللہ انکے لیے آسانیاں پیدا کرے.

    جناح کی شخصیت اور سیاست پر بہت سارے اعتراضات کیے جاتے رہے ہیں. کچھ اعتراضات مگر ایسے ہیں کہ اگر انہیں مان لیا جائے تو پاکستان کا وجود ہی بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے. مثلاً یہ کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہونا چاہئے تھا جہاں سب ملکر رہتے. جناح نے تقسیم کرواکے پتہ نہیں کتنا بڑا ظلم کیا. اس پہلو پہ عماد بزدار نے پورا باب باندھا ہے کہ کس طرح جناح کی تربیت اور سیاست ہی اتحاد اور سیکولرازم کی سیاست تھی. ہندوستان کا آخری شخص جو مزہبی سیاست کے خلاف تھا وہ جناح ہی تھا. مگر پتہ نہیں کیوں ہمارے ہاں لوگ تحریک خلافت میں سادہ لوح لوگوں کے مزہبی جذبات کو بھڑکانے والے اور 37 کی جیت کے نشے میں ہندو فاشزم لانچ کرنے والے گاندھی اور آزاد کو کلین چٹ دے دیتے ہیں.

    ایک اور الزام جناح پہ لگایا جاتا ہے کہ وہ انگریز کے ایجنٹ تھے. جناح کی زندگی کا سرسری مطالعہ کرنے والا بھی اس بے سروپا الزام پر یقین نہیں کر سکتا. مگر ہندوستان اور پاکستان کے مزہبی لوگوں میں تعصب، عقیدت اور تقلید یوں کوٹ کوٹ کے بھری ہے کہ جو کچھ منبر سے بیان ہو جائے اسے وحی سمجھ لیتے ہیں. انکا دوسرا مسئلہ سازشی تھیوریوں سے عشق ہے. ایسے لوگ ایجنٹ والے جھانسے میں فوراً آجاتے ہیں. قوم پرست بھی اس مرض میں انکے ساتھ ہی مبتلا ہیں.

    سب سے دلچسپ کیس تو ان ارسطو ؤں کا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ گاندھی مسلمانوں کے ساتھ بہت مخلص تھا. حقیقت تو یہ ہے کہ گاندھی صاحب کے ساتھ اگر بھرپور حسن ظن کا مظاہرہ بھی کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ہندوؤں کے لیڈر تھے اور انہوں نے اپنی قوم کیلئے محنت کی. یہ زیادتی ہے کہ انہیں مسلمانوں کا خیر خواہ قراردیا جائے. چلیں لبرلز کی تو گاندھی سے عقیدت سمجھ آتی ہے. مگر یہ جو خلافتی مولوی ہیں ان کا کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ ان کے گاندھی سے رومانس کی وجہ کیا ہے. کیا انہوں نے گاندھی سے مل کے دجال کے خلاف جہاد کرنا ہے؟

    بہرحال گاندھی اینڈ کمپنی کے نظریے کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت آج ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت زار ہے. ان کے پاس بہترین موقع تھا جناح کو شکست دینے کا کہ مسلمانوں کو ایسا ماحول انڈیا میں دیتے کہ پاکستان کا جواز ختم ہو جاتا. مگر یہ انکی بد دیانتی اور ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لینے کی جلدی تھی جس نے آج جناح کو سرخرو کیا ہے. جناح کی ذات آج جس قدر سرخرو ہے آج سے پہلے کبھی نا تھی.

    اگرچہ کتاب میں مولانا آزاد اور ولی خان بارے بھی لکھا گیا ہے. مگر میں تبصرے میں ان پر الفاظ ضائع نہیں کرنا چاہتا. اس وضاحت کے ساتھ کہ میں مولانا آزاد کی نثر کا دل وجان سے قائل ہوں. ہندوستان کی سیاست میں وہ محض گاندھی کے آلہ کار تھے اور اب اپنی پیش گوئیوں سمیت غیر متعلق ہق چکے ہیں. تاریخ نے انکے ساتھ وہی کیا جس کے وہ مستحق تھے.

    آخر میں یہ کہ کتاب میں پروف ریڈنگ کی بہت غلطیاں ہیں. اس کے علاوہ انگلش سے اردو میں جو تراجم کیے گئے ان میں سے کچھ بے ربط معلوم ہوتے ہیں. پھر یہ کہ کتاب کا نداز تحقیقی ہونے کے باوجود لگتا ہے کہ بعض جگہوں پر مصنف جزباتی ہو گئے. گاندھی اور آزاد بارے تحقیر آمیز زبان بھی استعمال ہوئی. یہ کم از کم تحریر میں نہیں ہونا چاہئے. اس کے علاوہ ابواب کے اندر مواد کی ترتیب میں بھی بہتری کی واضح گنجائش موجود ہے جو کہ غالباً ایڈیٹر کی کمی کا پتہ دیتی ہے. امید ہے آئندہ ایڈیشن میں ممکنہ حد تک ان چیزوں میں بہتری کر لی جائے گی.

    اس کے علاوہ یہ کہ اگرچہ عماد نے قائد اعظم کو کوئی مزہبی مسیحا ثابت نہیں کیا جو کہ اچھی بات ہے مگر قائدِاعظم کی شراب نوشی وغیرہ کو ڈیفنڈ کرنے کو کوشش کی گئی ہے. میرے خیال سے جو حقائق ہیں انہیں تسلیم کر لینا چاہئے. اللہ انکی لغزشوں کو معاف کرے کہ شراب نوشی وغیرہ بہرحال دھوکہ دھی، نفرت پرستی اور خدا فروشی جیسے گناہوں کے مقابلے میں چھوٹے گناہ ہیں.

    سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے مؤثر انداز میں جناح اور پاکستان کا مقدمہ لڑنے اور پہلا ایڈیشن اتنی سرعت سے نکلنے پر عماد بھائی کو مبارکباد.

  • 27 فروری سرپرائز ڈے  تحریر: غنی محمود قصوری

    27 فروری سرپرائز ڈے تحریر: غنی محمود قصوری

    یوں تو شروع دن سے ہی مار کھانا ہندوستان کا مقدر ہے جیسا کہ محمد بن قاسم ،شہاب الدین غوری،محمود غزنوی،ٹیپو سلطان و دیگر مسلمان جرنیلوں سے ہندوستان کی خوب درگت بنتی رہی مگر پچھلی صدی میں شاہ اسماعیل شہید،علامہ محمد اقبال و محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں نے جذبہ جہاد بلند کیا اور دو قومی نظریہ پیش کرکے اور پاکستان بنا کر ہندو کیساتھ انگریز کو بھی سرپرائز دیا
    مگر اپنی درگت بنوانے کا عادی ہندو سکون سے نا بیٹھ سکا اور مقبوضہ وادی کشمیر کو آزاد کرنے سے انکاری ہو گیا جس پر پاکستان کے غیور قبائلیوں،افواج پاکستان اور وادی کشمیر کے شیروں نے مل کر ہندو کی خوب درگت بنائی اور وادی کشمیر کے کل 84474 مربع میل میں سے 32093 مربع میل آزاد کروا کر اسے ایک زبردست ترین سرپرائز دیا جس پر ہندو وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو بھاگم بھاگ اپنے آقا انگریز کے پاس سلامتی کونسل پہنچا اور جنگ بندی کیلئے منت سماجت کی ورنہ یہ سرپرائز بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہی مکمل ہونا تھا
    6 ستمبر 1965 کو ایک مرتبہ پھر ہندو کو اپنی درگت بنوا کر سرپرائز لینے کی سوجھی اور اس نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کر دیا جس پر امت محمدیہ کی پاک فوج نے ایسا سرپرائز دیا کہ 17 روزہ جنگ میں ہندو تو پریشان ہونا ہی تھا پورا عالم کفر اس سرپرائز پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور یوں ایک مرتبہ پھر ہندو اپنے آقا انگریز کے پاس سلامتی کونسل میں پہنچا اور جنگ بندی کروائی
    دو مرتبہ سرپرائز لینے کے بعد ہندو نے اپنا طریقہ بدلا وہ جان چکا تھا مغربی پاکستان میں اسے دو مرتبہ سرپرائز بہت مہنگا پڑا ہے لہذہ اس مرتبہ اس نے مشرقی پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرکے کچھ غداران ملک و ملت کو اپنے ساتھ ملایا اور مکتی باہنی کے نام پر ایک مسلح لڑاکا تنظیم بنائی جس نے پاک فوج پر حملے شروع کر دیئے اور بنگلہ دیش کو الگ ملک بنانے کی تحریک شروع کر دی اس مرتبہ ہندو کا وار کچھ کارگر ہوا مکتی باہنی و انڈین فوج نے بنگلہ دیش کی عوام میں پاکستان کے خلاف خوب زہر بھرا اور یوں مکتی باہنی کی پاک فوج سے باقاعدہ جھڑپیں شروع ہو گئیں جس کی کمان اینڈ کنٹرول انڈین فوج کے ہاتھ تھی آخر مکمل جنگ چھڑ گئی مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان تک گولہ بارود کی رسد ختم ہو کر رہ گئی مگر پھر بھی پاک فوج کے شیروں نے وسائل کی کمی اور اپنوں کی غداری کا غم سہہ کر بھی مردانہ وار مقابلہ کیا مگر فوجی افسران و جوان ہتھیار پھینکنے کو تیار نا تھے جس پر مکتی باہنی اور انڈین فوج نے بنگلہ دیش کے پاکستانی حامی لوگوں و مغربی پاکستان سے آئے سول اداروں کے اہلکاروں کے خاندان کے لوگوں کو شہید کرنا شروع کر دیا جو کہ انتہائی تشویشناک بات تھی اس کے بعد بھارت نے ایک اور چال چلی اور جنگ بندی کا اعلان کردیا اور اپنی فوجیں ڈھاکہ میں لا کر ایسٹرن کمان کے امیر عبداللہ خان نیازی سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر دیا جس پر جوانوں و افسروں میں تشویش کی لہر ڈور گئی اور انہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا جس پر مکتی باہنی اور انڈین فوج نے دوبارہ عام شہریوں کو شہید کرنا شروع کردیا اس پر مجبور ہوتے ہوئے اور نا چاہتے ہوئے بھی ہماری فوج کو اپنوں کی غداری کی بدولت 6 دسمبر 1971 کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور یوں 45000 فوجی اور 40000 سے کم سول محکموں کے اہلکار انڈین فوج کے ہاتھوں جنگی قیدی بن گئے مگر پاکستان کو فتح کرنے کا انڈین خواب پھر بھی شرمندہ تعبیر نا ہوسکا کیونکہ 1971 میں راجھستان کے محاذ لونگے والا میں انڈین فوج کو سخت جانی مالی نقصان اٹھانا پڑا اور انڈین فوج اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر پیچھے بھاگی جس کا اعتراف خود انڈین جرنیل بھی کرتے ہیں اسی طرح سلیمانکی کے محاذ پر میجر شبیر شریف شہید نے دشمن کو بہت پیچھے تک دھکیل دیا اور ان کی کئی پوسٹوں پر قبضہ کرلیا جبکہ قصور کے محاذ پر ایسی کاری ضرب لگائی گئی کہ کھیم کرن کا محاذ چھوڑ کر انڈین فوج پیچھے کو بھاگ نکلی اور اس طرح تاریخی شکست انڈیا کو 1971 میں قصور کے محاذ پر ہوئی زندہ دلان قصور نے اپنی پاک فوج کیساتھ مل کر کھیم کرن شہر پر قبضہ کرکے پاکستانی پرچم لہرایا جس کی تصویریں آج بھی انڈین فوج اور عوام کے ذہنوں پر سوار ہیں غیور قصوریوں نے کھیم کرن سے خوب مال غنیمت حاصل کیا جس کے ثبوت کے طور پر آج بھی اہلیان قصور کے گھروں میں لگے انڈین شہر کھیم کرن سے لائے گئے دروازے ،کھڑکیاں،برتن و دیگر سامان ضرورت لوگوں کے پاس موجود ہے حتی کہ رائیونڈ قصور روڈ جو کہ کچہ راستہ تھا اسی کھیم کرن سے لائی گئی مال غنیمت کی اینٹوں سے بنا
    28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان نے ایک بار پھر انڈیا کو بہت بڑا سرپرائز دیا مگر شاید مار کھائے بغیر سرپرائز کو قبول کرنا انڈیا کی عادت نہیں سو اس نے 1999 میں کارگل کے مقام پر پاکستانی فوج اور مجاھدین کشمیر سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی جس کے نتیجے میں 3 مئی 1999 کو باقاعدہ ایک جنگ کا آغاز ہوا جس میں انڈیا کے 30000 اور پاکستان کے 5000 فوجی آمنے سامنے ہوئے پہلے ہی ہلے میں انڈیا کے 1000 سے زائد سپاہی مارے گئے جبکہ 2000 کے قریب فوجی زخمی ہونے کیساتھ انڈین ائیر فورس کے 3 طیارے تباہ ہوگئے جس سے بھارتی فوج سخت گھبراہٹ کا شکار ہو گئی اور دونوں ملکوں پر ایٹمی قوت ہونے کی بدولت عالمی دباؤ بڑھ گیا اور یوں دونوں ملکوں کو بغیر کسی نتیجے کے جنگ بندی کرنی پڑی مگر نقصان کے لحاظ سے ایک بار پھر شکست انڈیا کی ہوئی
    14 فروری 2019 کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں انڈین فوج پر کشمیری مجاھدین کی مسلح آزادی پسند تحریک جیش محمد کی طرف سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 200 سے زائد انڈین فوجی مارے گئے جبکہ سرکاری طور پر انڈیا نے صرف 44 فوجیوں کی موت تسلیم کی پلوامہ حملے کے بعد اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کیلئے انڈیا نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی شروع کردی جس پر پاک فوج کی طرف سے بھرپور جواب دیا گیا جھڑپیں بڑھتی گئیں اور 26 فروری 2019 کو انڈیا نے ایک بار پھر رات کی تاریکی میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے طیارے پاکستانی حدود میں داخل کئے مگر ہمارے شاہینوں کی بروقت اڑان سے انڈین پائلٹ گھبرا گئے اور گھبراہٹ میں اپنے جنگی جہاز کا پے لوڈ لائن آف کنٹرول کے نزدیک بالا کوٹ کے مقام پر گرا کر بھاگ گئے اور دعوی کردیا کہ ہم نے پاکستانی علاقے میں جاکر جیش محمد کے ٹریننگ کیمپوں پر فضائی کاروائی کرتے ہوئے 350 سے زائد جیش محمد کے کارکنان شہید کر دیئے ہیں جس کے چند گھنٹوں بعد پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے انڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اس جھوٹ کو جلد بے نقاب کرینگے اور ایک سرپرائز بھی دینگے جنرل صاحب کے بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی پاکستانی ائیر فورس کے دو شاہینوں اسکورڈن لیڈر حسن صدیقی اور ونگ کمانڈر نعمان علی خان نے انڈین علاقے میں گھس کر اس کے دو طیارے مار گرائے جن میں سے ایک طیارہ مقبوضہ وادی کشمیر جبکہ دوسرا آزاد کشمیر کے علاقے میں گرا جس کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو کشمیری عوام نے گھیر لیا اور اس کی تاریخی دھلائی کرکے ایک بہت بڑا سرپرائز دیا اس کے بعد پاکستان نے انٹرنیشنل میڈیا کو بالاکوٹ کا دورہ بھی کروایا جس پر انٹرنیشنل میڈیا نے انڈین ائیرفورس کی ناکامی کا پول کھول کر اسے ایک اور ناکامی کا سرپرائز دیا
    ابھی نندن کی رہائی کیلئے انڈیا نے اقوام عالم کیساتھ پاکستان کی بھی منت سماجت شروع کر دی جس پر ونگ کمانڈر ابھی نندن کو اچھی چائے اور کھانا کھلانے کے سرپرائز کے بعد واہگہ کے راستے انڈیا بھجوا دیا گیا
    معرکہ 27 فروری پر میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کیا تھا کہ انڈین اس سرپرائز کو کبھی بھی نہیں بھلا سکیں گے اور ان شاءاللہ ایسا ہی ہے پچھلے سرپرائزوں کی طرح انڈیا اس سرپرائز ڈے 27 فروری کو کبھی بھول نہیں سکے گا

  • بپی ایس ایل فائیوکے دلچسپ مقابلوں میں  کون سا کھلاڑی اور ٹیم کتنا آگے

    بپی ایس ایل فائیوکے دلچسپ مقابلوں میں کون سا کھلاڑی اور ٹیم کتنا آگے

    بپی ایس ایل فائیوکے دلچسپ مقابلوں میں کون سا کھلاڑی اور ٹیم کتنا آگے

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق : پاکستان سپر لیگ کے پہلے مرحلے کا اختتام ہو گیا جس میں پوائنٹس ٹیبل پر اسلام آباد یونائیٹڈ سرفہرست ہیں، وفاقی دارالحکومت کی ٹیم نے اب تک تین میچ کھیلے جن میں سے دو جیتے جبکہ ایک میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    شاندار مقابلوں میں اس وقت کوئٹہ اور اسلام آباد یونایئٹڈ کے برابر ہیں تاہم شاداب الیون بہترین رن ریٹ (0.295) کی وجہ سے سرفہرست ہے۔دوسرے نمبر پر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ہے جس نے اپنے تین میچز کے دوران دو میں فتح حاصل کی جبکہ ایک میچ ہارا۔ سرفراز الیون کا رن ریٹ (0.124) ہے.

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پانچویں ایونٹ کے دوران بلے بازوں میں لیگ کی پہلی سنچری داغنے والے کامران اکمل انفرادی ٹوٹل کے ساتھ ٹاپ پر ہیں، ان کے دو میچز میں 144 رنز ہیں۔ہائی سکور کیٹیگری میں بھی پشاور زلمی کے وکٹ کیپر بیٹسمین 101 رنز کی انفرادی بڑی اننگز کے ساتھ نمبر ون ہیں۔
    دوسرے نمبر پر لاہور قلندرز کے سینئر بیٹسمین محمد حفیظ ہیں جنہوں نے گزشتہ رات اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف 98 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیلی تھی۔
    بولنگ کی بات کریں تو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے نوجوان بولر محمد حسنین نے 7 شکار کیے اور وہ سب پر چھائے ہوئے ہیں، ان کی بہترین باؤلنگ 25 رنز کے عوض چار وکٹیں ہیں۔

    ٹیموں کے بڑے ٹوٹل میں کراچی کنگز سب سے آگے ہے، کنگز نے لیگ کے دوسرے میچ میں پشاور زلمی کے خلاف 4 وکٹ کے نقصان پر 201 رنز کا پہاڑ کھڑا کیا تھا

  • ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینے کی اہمیت اور پاکستان کا تعلیمی نظام–از–فاطمہ قمر

    ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینے کی اہمیت اور پاکستان کا تعلیمی نظام–از–فاطمہ قمر

    معزز وزیراعظم!
    آپ کی تعلیمی پالیسی وہی ہے جو سابق حکومت کی تھی. سابق حکومت نے سرکاری تعلیمی اداروں میں پرائمری کی سطح پر اردو ذریعہ تعلیم رکھ کر انگریزی کو لازمی حیثیت دی. پرائمری سطح پر انگریزی کو لازمی مضمون کی حیثیت دینا سابق حکومت کا وہ تعلیمی جرم ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی. انگریزی کے لازمی جبر کی وجہ سے لاکھوں نو نہال ابتدائی سطح پر ہی تعلیم کو خیرباد کہہ گئے. اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بارہ سال سے پہلے بچے کوغیر ملکی زبان میں تعلیم دینا بچے کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ افسوس پاکستان میں بنیادی حقوق کی یہ توہین سرکاری سرپرستی میں وقوع پذیر ہوئی/ہو رہی ہے.

    آپ نے بھی اپنی نئی تعلیمی پالیسی میں اسی اصول کو قائم رکھا پھر اپ نے نئی پالیسی میں کیا تبدیلی دی؟ اپ نے تو یکساں نصاب تعلیم اور قومی زبان میں تعلیم کا نعرہ لگایا. آپ کے حزب اختلاف کے دن اپ کے اس موقف کے گواہ ہیں.آپ کو چاہئے کہ آپ فوری طور پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق تعلیم کے ہر شعبے میں ہر سطح پر اردو ذریعہ تعلیم میں دینے کا اعلان کریں. مقابلے کے امتحانات ائین پاکستان کی روشنی میں اردو میں لینے کا حکم صادر فرمائیں. تعلیم کی جو بھی پالیسی قومی زبان کو ذریعہ تعلیم میں دینے کی اپنائی جائے اس کا اطلاق فی الفور اور بعینہ نجی تعلیمی اداروں پر بھی کیا جائے. تاکہ پوری قوم یکساں نصاب ‘ یکساں زریعہ تعلیم قومی زبان کی وجہ سے قومی دھارے میں آ سکے.

    انگریزی میڈیم نجی تعلیمی اداروں نے جس طرح اساس پاکستان پر حملہ کیا ہے
    پاکستان کی تہذیبی ثقافت کو ملیامیٹ کیا ہے
    اس کے جو ہولناک نتائج سامنے آ رہے ہیں اس کے لئے اب ضروری ہوبگیا ہے کہ نئے اور تبدیل شدہ پاکستان میں ان کو ایک اعلی تعلیمی ضابطہ اخلاق کا پابند کیا جائے
    جس کی اساس قران اور نظریہ پاکستان پر استوار ہو.

    معزز وزیراعظم!
    یاد رہے آپ کو لوگوں نے ووٹ تبدیلی کے نام پر دئیے ہیں یہاں تبدیلی اس وقت ہی آئے گی جب دنیا کی دیگر ترقی یافتہ اقوام کی طرح پاکستانیوں کو ہر طرح کی تعلیم ان کی قومی زبان میں دی جائے آپ بحیثیت ایک عام پاکستانی کے انگریزی غلامی سے بیزاری کا اظہار اپنی خود نوشت میں کر چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ پاکستان میں انگریزی ترقی یا تعلیم کے لئے نہیں بلکہ ایک خاص طبقے کی ایک عام طبقے کو غلام بنانے کے لئے مسلط کی گئی ہے. اب اللہ نے اپ کو اختیار دیا ہے کہ اپ اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنا دیجئے.

    آپ اور آپ کی کابینہ کے اراکین کی اکثریت بیرون ملک تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہے۔ ذرا دنیا بھر کے نظام ہائے تعلیم کا جائزہ لے کر بتائیے کہ کتنے ممالک کا کاروبار مملکت اور نظام تعلیم غلامی کی زبان میں چل رہا ھے؟ تخلیق پاکستان کی بہت سی وجوہات میں سے سب سے بنیادی وجہ اردو کا بحثیت قومی زبان نفاذ تھا. قومی زبان کے نفاذ کےبغیر تحریک پاکستان نامکمل ھے.آپ نئے پاکستان کی تعمیر میں تحریک پاکستان کے اس بنیادی لازمی عنصر کی تکمیل کردیجئے..یہ بانئ پاکستان کا فرمان بھی ھے:
    ” اردو کا دشمن پاکستان کا دشمن ھے”

    سب سے بڑی بات جس کا آپ کی جماعت نعرہ لگا کر برسراقتدار آٰئی ہے کہ تعلیم سب کے لئے یکساں۔ نفاذ قومی زبان کے لئے جو جو بھی آپ حکمت عملی اپنائیں اس کا اظلاق نجی تعلیمی اداروں پر بھی کریں تو تبھی اپ کی تعلیمی حکمت عملی کامیاب ھوگی اور ملک سے تعلیمی نظام میں یہ رنگا رنگی ختم ھو کر ہم آہنگی آئے گی.

    سب سے بڑی بات یہ ہے کہ 2019 سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق مقابلے کے امتحانات اردو میں لینے کے احکمات صادر فرمائیں..یہ آپ کا وہ تاریخی کارنامہ ہوگا جو آپ کو محسن پاکستان چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی طرح تاریخ میں دوام بخشے گا.
    کرسی رہے نا رہے مگر آپ عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے!

    آپ کی یاد دہانی کے لئے کہ دوسری عالمی جنگ سے تباہ اور خستہ حال جاپان کے بادشاہ نے جب کہ اس کے دوشہر ایٹمی حملے میں جل کر خاکستر ہو چکے تھے اس بے بسی اور بے چارگی کے عالم میں بھی امریکہ سے دست بستہ عرض کی کہ ” آپ ہم پر جتنی چاہے پابندیاں لگا دیں مگر ہماری زبان اور تعلیمی نظام کونہ چھیڑنا”

    یہی وجہ ھے کہ وہ بم زدہ قوم اپنی قومی زبان کے ذریعہ تعلیم ہونے کی وجہ سے چندسالوں میں ہی دنیا کی مضبوط معاشی طاقت بن گئی. ہم اپنی قومی زبان میں تعلیم سے دوری کے باعث ایک جوہری قوت ہونے کےباوجود ایک ہجوم زدہ گونگی’ بہری رٹےباز’ بدعنوان’ بوٹی مافیا’ تخلیقیت سے عاری’ نقال ‘ جعلساز دھوکے باز قوم کے طور پر اقوام عالم میں شہرت پا چکے ہیں. ہماری آپ سے وہی توقعات ہیں جو برصغیر میں انگریز کا راج ختم کرنے والے سے اس اس کی قوم نے وابستہ کی تھیں.

    انگریزی کے تسلط کی وجہ سے اس ملک و قوم پر چھائی جہالت، بد عنوانی اور ذلت کی تاریکی کو دور کرنے کاواحد ذریعہ صرف اور صرف قومی زبان کے احیاء اور اس کے اس ملک پر نفاذ سے وابستہ ھے. ہم اس بارے میں آپ سے بہت زیادہ توقعات ہیں

    ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینے کی اہمیت اور پاکستان کا تعلیمی نظام

    فاطمہ قمر
    پاکستان قومی زبان تحریک