Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آخر پاکستان میں لوگ فوری جنگ کے کیوں خواہاں ہیں؟—— تحریر: حافظ احتشام الحق

    آخر پاکستان میں لوگ فوری جنگ کے کیوں خواہاں ہیں؟—— تحریر: حافظ احتشام الحق

    مودی سرکار نے کشمیر میں آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرکے اپنے گلے میں جو گھنٹی باندھی ہے اس کا انجام اگر کسی کو بالخیر نظر آتا ہے تو اسکو تھوڑا سا انتظار کرنے کی ضرورت ہے۔

    پاکستان میں اکثر لوگوں کی یہ رائے ہے کہ پاکستان بھارت کو “فوری “ اور “منہ توڑ” جواب دے ۔

    حیرت انگیز طور پر اس مطالبے میں پیش پیش وہ لوگ ہیں جو امن کی بھاشا کا راگ الاپتے آئے ہیں اور پاکستانی فوج کا مذاق اڑانے اور پاکستانی پالیسیز کو غلط قرار دینے کے ساتھ ساتھ حکومت اور فوج کے خلاف کچھ نہ سننے والوں کو “مطالعۂ پاکستان” اور “بوٹ پالشیا” ہونے کا طعنہ دیتے آئے ہیں۔

    میرا ان سب سے ایک ہی سوال ہے۔ آخر آپ کو جنگ کی اتنی جلدی کیوں ہے؟

    مودی سرکار نے کشمیر پہ جو کٹا کھولا ہے وہ اگر ان کے لئے خود مسئلہ بننے والا ہے تو آخر ہم اس وقت کا انتظار کیوں نہیں کرسکتے جب تک کہ ایسا کرنا آخری اور کاری ضرب کے مترادف ہوگا؟

    مودی سرکار کے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر آج جس طرح عالمی میڈیا کا ردعمل آرہا ہے کم از کم میں نے پچھلے پچیس تیس سال میں ایسا نہیں دیکھا۔ جس طرح مغربی میڈیا ان مظالم کو پیش کر رہا ہے اس پر اگر کسی کو لگتا ہے کہ انڈین حکومت پر پریشر نہیں تو وہ غلطی پر ہے ۔

    انڈیا پہ عالمی دباؤ بتدریج بڑھ رہا ہے ۔ اور نہ صرف یہ بلکہ پوری دنیا میں موجود مسلمان، اور خصوصا پاکستانی اور کشمیری ملکر جس طرح سے سوشل میڈیا کے زریعے اس مسئلے کو ہائی لائیٹ کر رہے ہیں اس سے مودی سرکار کی پریشانی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ٹوئیٹر ہینڈلر سے سرکاری سطح پر انڈیا کے خلاف پروپیگنڈہ کے ٹوئیٹس کو ہینڈل کرنے کے لئے رابطہ کیا گیا ہے۔

    یہ تو تھی بیرونی صورتحال اندرونی طور پر اپوزیشن بھی اس سلسلے میں اپنا پریشر مودی سرکار پر بتدریج بڑھا رہی ہے۔ کئی اسٹیٹ نے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے “constitutional coup “ اور آئین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔

    اندرونی طور پر دوسرا پریشر سپریم کورٹ کا بھی ہوگا ۔ کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ کشمیر کی خطرناک صورتحال کے پیش نظر سپریم کورٹ میں آج اس کیس کو سننے کا آغاز ہوا۔ انڈین سپریم کورٹ سے اس ضمن میں بہت امید ہے کیونکہ اس آرٹیکل کا خاتمہ اور (سو کالڈ) الیکٹڈ گورنمنٹ کو اریسٹ کرکے منسٹری کے کنٹرول میں دینا براہ راست انڈین آئین کی کچھ شقوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ صورتحال خطرناک ہے اور حکومت کو کچھ وقت دیا جائے ۔ اور جسطرح دو ہزار سولا میں برہان وانی کی شہادت کے وقت کے صورتحال تھی اس سے بچنے کے لئے کرفیو نافذ کیا گیا ۔ اور کیمیونیکیشن پر بین ہے ۔ لیکن جلد اسمیں بہتری آئے گی۔ حکومتی درخواست پر سماعت دو ہفتے تک ملتوی کی گئی ہے لیکن پٹیشنر اگر اگلے چند دن میں صورتحال سے مطمعین نہ ہو تو عدالت سے رابطہ کرسکتا ہے ۔ جو یقیناً ہونے والا ہے کہ کشمیر کی صورتحال خراب تو ہوسکتی ہے بہتر نہیں ۔

    اندرونی طور پر تیسرا پریشر خود کشمیریوں کا ہے ۔ جسطرح سخت کرفیو اور سخت اقدامات کے باوجود کشمیری باہر نکلے اور دس اگست کو احتجاج کیا وہ پوری دنیا نے براہ راست دیکھا ۔ کشمیر کی جنگ آزادی “ناؤ اور نیور “ تک پہنچ گئی ہے۔ دنیا روز کرفیو اور بہت بڑی تعداد میں فوج کی موجودگی کے باوجود کشمیریوں کو احتجاج کرتےہوئے دیکھ کر مسئلے کی سنگینی کا اندازہ لگا رہی ہے۔

    دوسری طرف پاکستان کشمیر ایشو کو ہر سطح پر ہائی لائیٹ کر رہا ہے ۔ چاہے وہ سیکیورٹی کونسل ہو او آئی سی یا دیگر دوست ممالک کو اعتماد میں لینے کا معاملہ ۔ پاکستانی عوام مسلسل حالت احتجاج میں ہے چاہے سوشل میڈیا ہو، ریلیاں اور مکمل احتجاج کا معاملہ ہر شہر اور ہر سطح پر احتجاج کیا جارہا ہے۔ انڈیا کے یوم آزادی پر سرکاری سطح پر یوم سیاہ منانا ایک بہت اہم قدم ہے۔

    چائنا کا اس مسئلے پر تشویش کا اظہار اور پاکستان کے ساتھ مل کر سلامتی کونسل میں اٹھانے کا ارادہ ایک الگ اہمیت رکھتا ہے ۔ جو اس مسئلے کو دو ملکوں کے بجائے تین نیوکلئیر پاور ممالک کے درمیان ہونے والے عالمی ایشو بنا دے گا۔

    انڈین چینلز پر پاکستان کے ہر اقدام پر بڑھتا ہوا شور اس بات کا ثبوت ہے کہ انڈیا اس وقت مسئلہ کشمیر کو خود اس نہج پر لا چکا ہے کہ جلد اس کے ایک منطقی حل کے سوا بلاخر کوئی چارہ نہ رہے گا ۔

    اس قسم کی چومکھی مودی سرکار کتنا برداشت کرے گی اس کا اندازہ اگلے چند دنوں میں بخوبی ہونے والا ہے۔ مودی سرکار اس پریشر کو ریلیز کرنے کے لئے یقیناً پاکستان پر دباؤ ڈالنے اور
    انتخابات سے پہلے کی طرح کی کوئی کاروائی کرے یہ بعید از قیاس نہیں ۔ اور پاکستان اپنا آخری پتے اس وقت ہی شو کرے گا۔

    پاکستان پہل کرکے اس پریشر کو انڈیا سے اپنی طرف منتقل کرنے کی غلطی کے بجائے اسٹرٹیجیک موو لے رہا ہے ۔ کیونکہ یہ تو طے شدہ امر ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ طاقت سے ہی حل ہونا ہے ۔ لیکن ایک اچھا کھلاڑی نہ وقت سے پہلے اپنے ارادے کا اظہار کرتا ہے نہ اپنے اگلے قدم کا۔ اسلئے زرا دھیرج رکھئیے ۔ اور صحیح وقت پر صحیح فیصلے کا انتظار کیجئے.

  • کشمیر توجہ مانگتا ہے!—— تحریر: بلال شوکت آزاد

    کشمیر توجہ مانگتا ہے!—— تحریر: بلال شوکت آزاد

    ویسے تو کشمیریوں کا نوحہ بہتر سالوں سے جاری ہے کہ وہاں ہندوتوا کے جھنڈے تلے مسلمانوں کا قتل عام، ظلم اور زیادتی ایک عام سی بات بن کر رہ گئی ہے۔

    ہم بہتر سالوں سے روزانہ میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر ضرور سنتے رہتے تھے جس میں کسی کشمیری بزرگ کا بہیمانہ قتل، کسی کشمیری بہن کی لٹی عزت کی کہانی اور کسی نوجوان کے تباہ شدہ خوابوں کا فسانہ سننے کو مل جاتا تھا۔

    آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہ بار بار "تھا” کیوں کہہ رہا ہوں؟

    کیا آج وہاں ظلم اور زیادتی کا بازار بند ہو چکا ہے؟

    یا وہاں پر بزرگوں کا بہیمانہ قتل نہیں ہورہا؟

    یا وہاں پر ہماری کشمیری بہنوں کی عزتیں محفوظ ہوگئی ہیں؟

    اور یا پھر نوجوانوں کے خواب شرمندہ تعبیر ہو رہے ہیں؟

    کیا وجہ ہے کہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ ہمیں دس سالوں سے میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر بھولے بھٹکے ضرور مل جاتی تھی جس میں کشمیر میں جاری ظلم کا فسانہ ہمیں سننے پڑھنے کو مل جاتا تھا۔

    لیکن ابھی گزشتہ 16/17 دن سے جاری ظلم و زیادتی، قتل و غارت بلکہ سادہ لفظوں میں کہوں تو کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی ہمیں خبریں دائیں بائیں سے ضرور مل رہی ہیں لیکن ہمارے میڈیا پر وہی صورتحال غالب ہے جو اول دن سے تھی، عالمی میڈیا خبر تو دیتا ہے لیکن اپنی جانبداری کو چھپا نہیں پاتا۔

    کوئی بھی یہ نہیں بتا رہا کہ اس سال فروری سے لے کر آج کے دن تک ک سترہ ایسے مقامی کشمیری صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جو اپنی بساط کے مطابق کشمیر کے حق اور ظلم کی چکی میں پسنے والوں کی آواز دنیا بھر میں پھیلانے کا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔

    اس وقت سوشل میڈیا پر بے شمار خبریں پڑھنے سننے کو مل جاتی ہیں کشمیر کے متعلق، جن کی حقیقت یا تو کشمیری جانتے ہیں یا اللہ بہتر جانتا ہے۔

    لیکن جو بھی خبریں پڑھنے سننے کو مل رہی ہیں وہ کوئی اتنی حوصلہ افزا اور قابل برداشت نہیں۔

    سرکاری چھتری کے نیچےبھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور سرکاری ایجنسیز ہی کشمیر میں میں ظلم نہیں ڈھا رہیں بلکہ آر ایس ایس کے مہاسبائی غنڈے اور انتہا پسند ہندو کھل کر کشمیریوں کا استحصال کر رہے ہیں بلکہ یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ کہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے باضابطہ خاتمے سے پہلے صرف کشمیر سے ہندوؤں کو نکلنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ اضافی فوجی دستے بھی تعینات کیے اور انتہا پسند ہندو غنڈوں کو بھی لگاتار فلائٹس کے ذریعے کشمیر پہنچایا تاکہ وہ بڑے پیمانے پر کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی میں میں حکومت بھارت کی مدد کر سکیں۔

    اس وقت موجود خبروں کے تناظر میں بتاتا چلوں کہ کوئی چار ہزار کے قریب حریت پسند سنگباز کشمیری نوجوان زبردستی اٹھا کر جیلوں میں ڈالے گئے ہیں اور بعد میں انہیں نوجوانوں کے گھروں میں بھارتی فوجی دندناتے ہوئے گئے اور ان کی بہنوں بیٹیوں کو اغوا کر کے فوجی بیرکوں میں لے گئے ہیں۔

    خبریں تو اور بھی بہت سی ہیں جنہیں سن پڑھ کر کسی بھی غیرت مند مسلمان کو غصہ آ سکتا ہے اور اگر ضمیر زندہ ہو تو وہ انسان غصے سے پھٹ بھی سکتا ہے۔

    یہ اتنی ساری کہانی یا تمہید بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔

    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھائی ہم تو 72 سالوں سے مسئلہ کشمیر اور کشمیری مسلمانوں پر پر پڑھ، لکھ، سن اور بتا رہے ہیں تو اب کون سی ایسی توجہ ہے جو کشمیر مانگتا ہے اور ہمیں دینی ہوگی؟

    معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ ہم بہت سالوں سے بطور پاکستانی قوم کشمیر کو صرف یوم یکجہتی کشمیر، 14/15 اگست یا پھر کشمیر میں ہوئے کسی بڑے سانحے کے بعد یاد کرتے تھے اور دو دن خوب شور مچا کر خاموش ہو جاتے تھے۔

    میں یہاں کسی مخصوص گروہ، کسی مذہبی جماعت، کسی سیاسی جماعت اور کسی رائٹ لیفٹ یا سنٹر کی بات نہیں کر رہا بلکہ میرے مخاطب ساری پاکستانی قوم ہے۔

    ہم نے قائد اعظم کے انتقال کے بعد کشمیریوں کو سوائے ڈھکوسلوں، حکمت اور مصلحت کے لولی پاپس اور سیاسی بیان بازیوں کے کوئی ایسی گرانقدر خدمات پیش نہیں کیں جو کشمیریوں کا دکھ کم یا دور کر سکتیں یا مرہم بن کے ان کے دکھوں کا مداوا کر سکتیں۔ (جو انڈر دا ٹیبل کیا گیا اسے یہاں پر بیان کرنا کسی صورت بھی ممکن نہیں اور نہ ہی اسے بیان کرنا اس وقت اتنا اہمیت رکھتا ہے جب پاکستان اندرون اور بیرون معاشی مسائل کا شکار بھی ہو اور عالمی اداروں کی نظر میں یہ کسی اچھے تشخص کا حامل بھی نا ہو)۔

    ہمیں اب مسئلہ کشمیر کو باقاعدہ اپنی زندگیوں میں وہ اہمیت اور وہ جگہ دینی ہوگی جس کا وہ حقدار ہے۔

    کل لاہور میں کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا گیا جو اس رویے، اس روش اور اس ضرورت کو عوامی بنانے کی جانب پہلا قدم ہے۔

    کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام لاہور میں "کشمیر توجہ چاہتا ہے” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں نوجوانوں کی تنظیمات کے نمائندگان اور میڈیا کے شعبے سے تعلق رکھنے والے طلبہ شریک تھے۔

    سیمینار کی صدارت رانا عدیل ممتاز کررہے تھے جبکہ مقررین میں سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان، اینکراسامہ غازی، سینئر صحافی واستاد ڈاکٹر مجاہد منصوری، اسلامک سکالر اشتیاق گوندل، یوتھ ایکٹیوسٹس رضی طاہر، طہ منیب، عدیل احسن، مہک زہرا، عائشہ صدیقہ اور احقر بلال شوکت آزاد شامل تھے۔

    رانا عدیل ممتاز نے خطاب میں کہا کہ

    "پاکستانی نوجوان بھارت کو ہر محاذ ہر شکست دینے کیلئے آگے بڑھیں، پہلا قدم ٹیکنالوجی ہے، اس کے استعمال سے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کریں۔”

    مبشر لقمان صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم دنیا پر تنقید کی اور کہا کہ

    "کوئی اسلامی ملک حقیقی غیرت اسلامی کا مظاہرہ نہیں کررہا، مسلمان کشمیر میں مسلسل جانیں دے رہے ہیں اور ہمیں مالی مفادات عزیز ہیں جبکہ بھارت ایک جانب کشمیر میں خون کی ندیاں بہا رہا ہے اور دوسری جانب آبی جارحیت دکھا رہا ہے، کبھی بن بتائے پانی کھول دیتا ہے جو سیلاب کا سبب بنتے ہیں اور کبھی پانی روک کر خشک سالی کا سبب بنتا ہے، دنیا کو بتا دینا چاہتا ہوں پاکستان کا پانی روکیں گے تو 20 کروڑ خودکش بمبار تیار ہوجائیں گے۔”

    ڈاکٹرمجاہد منصوری نے کہا کہ

    "حیران ہوں کہ نئی دہلی میں بیٹھے 100سے زیادہ بین الاقوامی میڈیا کے نمائندگان کو کشمیرکی صورتحال دکھائی کیوں نہیں دیتی؟ میڈیا کے طلبہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے سوال کریں کہ یہ کیسی بے حسی ہے۔”

    اسلامک سکالر اشتیاق گوندل نے کہا کہ

    "ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، ہم مسلمان ہیں اور بحثیت مسلمان کسی خطے میں ظلم ہو ہم اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کا حصہ ہے، تاریخ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔”

    اینکر اسامہ غازی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ

    "اگلے دو سال بہت اہم ہیں، کشمیر میں تحریک آزادی میں نیا جذبہ پیدا ہوگا، مودی کو بہت جلد اپنی غلط پالیسیوں کا احساس ہوگا، کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے”۔

    سیمینار سے کشمیر یوتھ الائنس کے قائدین اور ایکٹیوسٹس رضی طاہر، رانا عدیل احسن، طہ منیب اور بلال شوکت آزاد نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے اہل کشمیر پر ہونے والے ظلم وستم کو روکنے کیلئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔

    اقوام متحدہ سے مخاطب ہوکر ان پر عزم نوجوان مقررین نے کہا کہ

    "اقوام متحدہ دراصل اقوام شرمندہ بن چکی ہے جبکہ او آئی سی بھی محض مذمتی بیانات تک محدود ہے۔”

    سیمینار کے آخر میں کشمیر کیلئے خصوصی دعا کی گئی اور یہ عہد کیا گیا کہ کشمیر یوتھ الائنس ہر وہ دروازہ کھٹکھٹائے گی جو کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے کا حوصلہ اور ارادہ رکھتا ہوگا اور یہ سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ کشمیریوں کی آزادی کے لئے "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے نام سے ملک گیر تحریک چلانے کے لیے پرعزم ہے۔

    کل ہوئے سیمینار میں نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی جو کہ ایک حوصلہ افزا بات ہے اس صورتحال میں کے کشمیر مکمل طور پر بند ہے یہاں تک کہ ایک چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی اور اگر یہ کہا جائے کہ کشمیر ایک جیل بن چکی ہے تو غلط نہ ہوگا۔

    ہمیں کشمیر کی وہ پر شور آواز بننا ہوگا جو اقوام عالم کے کانوں کے پردے پھاڑ دے کیونکہ اب یہ حکمت اور مصلحت کی کھیلیں کھیلنے کا وقت نہیں کہ یہاں ہر سیکنڈ پر ایک کشمیری مسلمان مرد اور عورت کٹ اور لٹ رہے ہیں۔

    اور جب تک یہ ہوتا رہے گا ان کا خون اور ان کی آہ و بکا صرف بھارتی درندوں کے ہاتھ ہی نہیں ہوگی بلکہ اس کا کچھ نہ کچھ کچھ کریڈٹ ہمارے سر بھی ہوگا۔

    میں نے کل سیمینار کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے بھی یہی بات کہی تھی اور یہاں پر بھی یہی کہوں گا کہ

    "ہمیں تمام طرح کی گروہ بندیوں، ذاتی مفادات اور تفرقہ بازی سے نکل کر ایک متحدہ قوم بننا ہوگا تاکہ ہم سب مل کر اپنے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کی آواز بن سکیں، اور ان کی آزادی کی تحریک پاکستان کے گلی کوچوں سے نکال کر اقوام عالم کے گلی کوچوں تک پہنچائیں۔
    یقین مانیے ہماری باتیں، ہمارے تجزیے اور خبریں تب تک بالکل بے معنی ہیں جب تک ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو وہ توجہ نہیں ملتی ہماری جانب سے اور اقوام عالم کی جانب سے جو ان کی آزادی کو یقینی بنا سکے۔
    ہم خواہ غریب ہوں یا امیر ہوں، ان پڑھ ہوں یا پڑھے لکھے ہوں خواہ کسی بھی حیثیت میں ہوں ہمیں اپنے حلقہ احباب میں "کشمیر توجہ مانگتا ہے” تحریک کو عام کرکے پوری پاکستانی قوم کو کشمیر کا دکھ سنانا اور کشمیریوں کی حق خودارادیت کے لئے لیے میدان بنانا ہو گا لہذا اب کمر کس لی جائے اور میدان میں نکلا جائے کہ باتیں بہت ہو گئیں ، اب عمل کا وقت ہے۔”

    قصہ مختصر میں اپنی بات سمیٹتا ہوں اسی جملے کے ساتھ کہ

    "بھائیو بہنو! آپ لوگ خدارا اب نظریاتی بالغ ہوجائیں اور اپنا پورا وقت مظلوم کشمیریوں کے لئے وقف کر دیں کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔”

  • کشمیر توجہ مانگتا ہے!!!!   بلال شوکت آزاد

    کشمیر توجہ مانگتا ہے!!!! بلال شوکت آزاد

    ویسے تو کشمیریوں کا نوحہ بہتر سالوں سے جاری ہے کہ وہاں ہندوتوا کے جھنڈے تلے مسلمانوں کا قتل عام، ظلم اور زیادتی ایک عام سی بات بن کر رہ گئی ہے۔

    ہم بہتر سالوں سے روزانہ میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر ضرور سنتے رہتے تھے جس میں کسی کشمیری بزرگ کا بہیمانہ قتل، کسی کشمیری بہن کی لٹی عزت کی کہانی اور کسی نوجوان کے تباہ شدہ خوابوں کا فسانہ سننے کو مل جاتا تھا۔

    آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہ بار بار "تھا” کیوں کہہ رہا ہوں؟

    کیا آج وہاں ظلم اور زیادتی کا بازار بند ہو چکا ہے؟

    یا وہاں پر بزرگوں کا بہیمانہ قتل نہیں ہورہا؟

    یا وہاں پر ہماری کشمیری بہنوں کی عزتیں محفوظ ہوگئی ہیں؟

    اور یا پھر نوجوانوں کے خواب شرمندہ تعبیر ہو رہے ہیں؟

    کیا وجہ ہے کہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ ہمیں دس سالوں سے میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر بھولے بھٹکے ضرور مل جاتی تھی جس میں کشمیر میں جاری ظلم کا فسانہ ہمیں سننے پڑھنے کو مل جاتا تھا۔

    لیکن ابھی گزشتہ 16/17 دن سے جاری ظلم و زیادتی، قتل و غارت بلکہ سادہ لفظوں میں کہوں تو کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی ہمیں خبریں دائیں بائیں سے ضرور مل رہی ہیں لیکن ہمارے میڈیا پر وہی صورتحال غالب ہے جو اول دن سے تھی، عالمی میڈیا خبر تو دیتا ہے لیکن اپنی جانبداری کو چھپا نہیں پاتا۔

    کوئی بھی یہ نہیں بتا رہا کہ اس سال فروری سے لے کر آج کے دن تک ک سترہ ایسے مقامی کشمیری صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جو اپنی بساط کے مطابق کشمیر کے حق اور ظلم کی چکی میں پسنے والوں کی آواز دنیا بھر میں پھیلانے کا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔

    اس وقت سوشل میڈیا پر بے شمار خبریں پڑھنے سننے کو مل جاتی ہیں کشمیر کے متعلق، جن کی حقیقت یا تو کشمیری جانتے ہیں یا اللہ بہتر جانتا ہے۔

    لیکن جو بھی خبریں پڑھنے سننے کو مل رہی ہیں وہ کوئی اتنی حوصلہ افزا اور قابل برداشت نہیں۔

    سرکاری چھتری کے نیچےبھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور سرکاری ایجنسیز ہی کشمیر میں میں ظلم نہیں ڈھا رہیں بلکہ آر ایس ایس کے مہاسبائی غنڈے اور انتہا پسند ہندو کھل کر کشمیریوں کا استحصال کر رہے ہیں بلکہ یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ کہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے باضابطہ خاتمے سے پہلے صرف کشمیر سے ہندوؤں کو نکلنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ اضافی فوجی دستے بھی تعینات کیے اور انتہا پسند ہندو غنڈوں کو بھی لگاتار فلائٹس کے ذریعے کشمیر پہنچایا تاکہ وہ بڑے پیمانے پر کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی میں میں حکومت بھارت کی مدد کر سکیں۔

    اس وقت موجود خبروں کے تناظر میں بتاتا چلوں کہ کوئی چار ہزار کے قریب حریت پسند سنگباز کشمیری نوجوان زبردستی اٹھا کر جیلوں میں ڈالے گئے ہیں اور بعد میں انہیں نوجوانوں کے گھروں میں بھارتی فوجی دندناتے ہوئے گئے اور ان کی بہنوں بیٹیوں کو اغوا کر کے فوجی بیرکوں میں لے گئے ہیں۔

    خبریں تو اور بھی بہت سی ہیں جنہیں سن پڑھ کر کسی بھی غیرت مند مسلمان کو غصہ آ سکتا ہے اور اگر ضمیر زندہ ہو تو وہ انسان غصے سے پھٹ بھی سکتا ہے۔

    یہ اتنی ساری کہانی یا تمہید بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔

    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھائی ہم تو 72 سالوں سے مسئلہ کشمیر اور کشمیری مسلمانوں پر پر پڑھ، لکھ، سن اور بتا رہے ہیں تو اب کون سی ایسی توجہ ہے جو کشمیر مانگتا ہے اور ہمیں دینی ہوگی؟

    معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ ہم بہت سالوں سے بطور پاکستانی قوم کشمیر کو صرف یوم یکجہتی کشمیر، 14/15 اگست یا پھر کشمیر میں ہوئے کسی بڑے سانحے کے بعد یاد کرتے تھے اور دو دن خوب شور مچا کر خاموش ہو جاتے تھے۔

    میں یہاں کسی مخصوص گروہ، کسی مذہبی جماعت، کسی سیاسی جماعت اور کسی رائٹ لیفٹ یا سنٹر کی بات نہیں کر رہا بلکہ میرے مخاطب ساری پاکستانی قوم ہے۔

    ہم نے قائد اعظم کے انتقال کے بعد کشمیریوں کو سوائے ڈھکوسلوں، حکمت اور مصلحت کے لولی پاپس اور سیاسی بیان بازیوں کے کوئی ایسی گرانقدر خدمات پیش نہیں کیں جو کشمیریوں کا دکھ کم یا دور کر سکتیں یا مرہم بن کے ان کے دکھوں کا مداوا کر سکتیں۔ (جو انڈر دا ٹیبل کیا گیا اسے یہاں پر بیان کرنا کسی صورت بھی ممکن نہیں اور نہ ہی اسے بیان کرنا اس وقت اتنا اہمیت رکھتا ہے جب پاکستان اندرون اور بیرون معاشی مسائل کا شکار بھی ہو اور عالمی اداروں کی نظر میں یہ کسی اچھے تشخص کا حامل بھی نا ہو)۔

    ہمیں اب مسئلہ کشمیر کو باقاعدہ اپنی زندگیوں میں وہ اہمیت اور وہ جگہ دینی ہوگی جس کا وہ حقدار ہے۔

    کل لاہور میں کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا گیا جو اس رویے، اس روش اور اس ضرورت کو عوامی بنانے کی جانب پہلا قدم ہے۔

    کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام لاہور میں "کشمیر توجہ چاہتا ہے” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں نوجوانوں کی تنظیمات کے نمائندگان اور میڈیا کے شعبے سے تعلق رکھنے والے طلبہ شریک تھے۔

    سیمینار کی صدارت رانا عدیل ممتاز کررہے تھے جبکہ مقررین میں سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان، اینکراسامہ غازی، سینئر صحافی واستاد ڈاکٹر مجاہد منصوری، اسلامک سکالر اشتیاق گوندل، یوتھ ایکٹیوسٹس رضی طاہر، طہ منیب، عدیل احسن، مہک زہرا، عائشہ صدیقہ اور احقر بلال شوکت آزاد شامل تھے۔

    رانا عدیل ممتاز نے خطاب میں کہا کہ

    "پاکستانی نوجوان بھارت کو ہر محاذ ہر شکست دینے کیلئے آگے بڑھیں، پہلا قدم ٹیکنالوجی ہے، اس کے استعمال سے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کریں۔”

    مبشر لقمان صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم دنیا پر تنقید کی اور کہا کہ

    "کوئی اسلامی ملک حقیقی غیرت اسلامی کا مظاہرہ نہیں کررہا، مسلمان کشمیر میں مسلسل جانیں دے رہے ہیں اور ہمیں مالی مفادات عزیز ہیں جبکہ بھارت ایک جانب کشمیر میں خون کی ندیاں بہا رہا ہے اور دوسری جانب آبی جارحیت دکھا رہا ہے، کبھی بن بتائے پانی کھول دیتا ہے جو سیلاب کا سبب بنتے ہیں اور کبھی پانی روک کر خشک سالی کا سبب بنتا ہے، دنیا کو بتا دینا چاہتا ہوں پاکستان کا پانی روکیں گے تو 20 کروڑ خودکش بمبار تیار ہوجائیں گے۔”

    ڈاکٹرمجاہد منصوری نے کہا کہ

    "حیران ہوں کہ نئی دہلی میں بیٹھے 100سے زیادہ بین الاقوامی میڈیا کے نمائندگان کو کشمیرکی صورتحال دکھائی کیوں نہیں دیتی؟ میڈیا کے طلبہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے سوال کریں کہ یہ کیسی بے حسی ہے۔”

    اسلامک سکالر اشتیاق گوندل نے کہا کہ

    "ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، ہم مسلمان ہیں اور بحثیت مسلمان کسی خطے میں ظلم ہو ہم اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کا حصہ ہے، تاریخ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔”

    اینکر اسامہ غازی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ

    "اگلے دو سال بہت اہم ہیں، کشمیر میں تحریک آزادی میں نیا جذبہ پیدا ہوگا، مودی کو بہت جلد اپنی غلط پالیسیوں کا احساس ہوگا، کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے”۔

    سیمینار سے کشمیر یوتھ الائنس کے قائدین اور ایکٹیوسٹس رضی طاہر، رانا عدیل احسن، طہ منیب اور بلال شوکت آزاد نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے اہل کشمیر پر ہونے والے ظلم وستم کو روکنے کیلئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔

    اقوام متحدہ سے مخاطب ہوکر ان پر عزم نوجوان مقررین نے کہا کہ

    "اقوام متحدہ دراصل اقوام شرمندہ بن چکی ہے جبکہ او آئی سی بھی محض مذمتی بیانات تک محدود ہے۔”

    سیمینار کے آخر میں کشمیر کیلئے خصوصی دعا کی گئی اور یہ عہد کیا گیا کہ کشمیر یوتھ الائنس ہر وہ دروازہ کھٹکھٹائے گی جو کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے کا حوصلہ اور ارادہ رکھتا ہوگا اور یہ سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ کشمیریوں کی آزادی کے لئے "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے نام سے ملک گیر تحریک چلانے کے لیے پرعزم ہے۔

    کل ہوئے سیمینار میں نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی جو کہ ایک حوصلہ افزا بات ہے اس صورتحال میں کے کشمیر مکمل طور پر بند ہے یہاں تک کہ ایک چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی اور اگر یہ کہا جائے کہ کشمیر ایک جیل بن چکی ہے تو غلط نہ ہوگا۔

    ہمیں کشمیر کی وہ پر شور آواز بننا ہوگا جو اقوام عالم کے کانوں کے پردے پھاڑ دے کیونکہ اب یہ حکمت اور مصلحت کی کھیلیں کھیلنے کا وقت نہیں کہ یہاں ہر سیکنڈ پر ایک کشمیری مسلمان مرد اور عورت کٹ اور لٹ رہے ہیں۔

    اور جب تک یہ ہوتا رہے گا ان کا خون اور ان کی آہ و بکا صرف بھارتی درندوں کے ہاتھ ہی نہیں ہوگی بلکہ اس کا کچھ نہ کچھ کچھ کریڈٹ ہمارے سر بھی ہوگا۔

    میں نے کل سیمینار کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے بھی یہی بات کہی تھی اور یہاں پر بھی یہی کہوں گا کہ

    "ہمیں تمام طرح کی گروہ بندیوں، ذاتی مفادات اور تفرقہ بازی سے نکل کر ایک متحدہ قوم بننا ہوگا تاکہ ہم سب مل کر اپنے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کی آواز بن سکیں، اور ان کی آزادی کی تحریک پاکستان کے گلی کوچوں سے نکال کر اقوام عالم کے گلی کوچوں تک پہنچائیں۔
    یقین مانیے ہماری باتیں، ہمارے تجزیے اور خبریں تب تک بالکل بے معنی ہیں جب تک ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو وہ توجہ نہیں ملتی ہماری جانب سے اور اقوام عالم کی جانب سے جو ان کی آزادی کو یقینی بنا سکے۔
    ہم خواہ غریب ہوں یا امیر ہوں، ان پڑھ ہوں یا پڑھے لکھے ہوں خواہ کسی بھی حیثیت میں ہوں ہمیں اپنے حلقہ احباب میں "کشمیر توجہ مانگتا ہے” تحریک کو عام کرکے پوری پاکستانی قوم کو کشمیر کا دکھ سنانا اور کشمیریوں کی حق خودارادیت کے لئے لیے میدان بنانا ہو گا لہذا اب کمر کس لی جائے اور میدان میں نکلا جائے کہ باتیں بہت ہو گئیں ، اب عمل کا وقت ہے۔”

    قصہ مختصر میں اپنی بات سمیٹتا ہوں اسی جملے کے ساتھ کہ

    "بھائیو بہنو! آپ لوگ خدارا اب نظریاتی بالغ ہوجائیں اور اپنا پورا وقت مظلوم کشمیریوں کے لئے وقف کر دیں کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔

  • انگریزی یا کوئی دوسری زبان بولنا کیسا ہے — عبداللہ قمر

    انگریزی یا کوئی دوسری زبان بولنا کیسا ہے — عبداللہ قمر

    زبانیں اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہیں، یہ بول چال کا ذریعہ ہیں اور بول چال ہی زندگی ہے. ذرا تخیل میں لائیے کہ اگر ہمارے آس پاس تمام لوگ مکمل طور پر خاموش ہوں، کوی کسی سے بات نہ کر سکتا ہو، اپنا پیغام کسی بھی طریقے سے نہ پہنچا سکتا ہو تو کیا تصویر بنے گی. ہم جذبات کسی دوسرے تک نہ پہنچا سکیں اور وہ ہمارے دل ہی میں رہ جائیں تو کیا گزرے گی. بولنے اور الفاظ کے معانی اور ان کی گہرائیوں اور مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کے باجود ہمارے دل میں رہ جانے والے ہمارا جینا محال کر دیتے ہیں تو سوچیے جب ہمارے پاس وہ جذبات شیئر کرنے آپشن ہی نہ ہو تو وہ کرب کیسا ہو گا. یقیناً ہمارے جذبات، خیالات، احساسات اور افکار کا بوجھ لے کر نا ممکن کی حد تک مشکل ہو جائے گا. جب خیالات اور نظریات کا تبادلہ نہیں ہو گا تو بہت سے راستے آہستہ آہستہ بند ہو جائیں گے. یہاں تک بات ہے صرف زبان کی یا یوں کہہ لیجیے یہ اس دور تک کی بات جب انسان جنگلوں میں جانوروں کی طرح رہا کرتا تھا.

    دنیا میں اس وقت سینکڑوں زبانیں بولی جا رہی ہیں. مگر انگریزی زبان کو زبانوں میں وہ حیثیت حاصل ہو گئی ہے جو موبائل فونز میں آئی فونز کو حاصل ہے، یعنی کہ status سمبل. انگریزی زبان قابلیت اور تربیت ماپنے کا معیار بن چکا ہے. اگر کوئی شخص انگریزی کے دو چار لفظ ذیادہ بول لیتا ہے خواہ اس نے وہ کیسے ہی سیکھے ہوں، اسے نسبتاً بہتر سمجھا جاتا ہے. اور کوئی قابل اور با صلاحیت انسان اگر انگریزی نا جانتا ہو تو اسے اس معاشرے میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے. میں اپنے بہت ہی چھوٹی سی زندگی میں لوگوں کو صرف اس احساس کمتری کی وجہ سے اگلی صفوں سے پچھلوں صفوں میں جاتے دیکھا ہے کہ ان کی انگریزی اچھی نہیں تھی اور صرف اس وجہ سے وہ اپنے آپ کو اگے کی صفوں پر سکون محسوس نہیں کرتے تھے. اگر انصاف کے ساتھ کہا جائے تو انگریزی زبان کی جان پہچان کی بنیاد پر لوگوں کی قابلیت کا فیصلہ کرنا ظلم ہو گا، جی ہاں ظلم.

    ابھی ہم اس بحث نہیں الجھتے کہ ہم من حیث القوم انگریزی زبان کی غلامی کا شکار کیوں ہیں. زبانیں سیکھنے میں کوئی قباحت نہیں اور وہ زبانیں جو رائج وہ تو ضرور سیکھ لینی چاہیے. اس وقت بدقسمتی سے انگریزی شبان سٹیٹس سمبل بن چکی ہے. لوگ لپک لپک کر انگریزی زبان سیکھ رہے ہیں، مختلف ادارے ملک بھر موجود ہیں جو انگریزی پڑھنے، بولنے، لکھنے اور سننے کا ہنر سیکھاتے ہیں. یونیورسٹیز میں چار کی باقاعدہ ڈگری کروائی جاتی ہے. میں انگریزی سیکھنے، بولنے اور لکھنے کا ناقد نہیں ہوں. میں انگریزی ادب اور تاریخ کا طالبعلم ہوں اور عموماً انگریزی زبان میں بلاگنگ کرتا ہوں. لیکن میری ذاتی رائے یہ ہے کہ انگریزی سیکھنے کے لیے ہمارا وژن اور مقصد ہمارے اذہان میں بالکل واضح ہونا چاہیے. ہمارا مقصد انگریزی بول کر کسی کو نیچا دکھانا یا کسی پر رعب ڈالنا نہیں ہونا. چلیں میں ان لوگوں کی بات بھی نہیں کرتا جنہیں انگریزی بول کر شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے. آپ مقصد کچھ بھی مثبت ہو سکتا ہے مگر انگریزی زبان سے مرعوبیت نہیں ہونی چاہیے. آپ کا مقصد کچھ نیا سیکھنا بھی سکتا ہے مگر آپ اس کی بنیاد پر اپنے کو افضل تصور نہیں کر سکتے. ذمہ دار اور نظریاتی ریاست کے فرض شناس شہری ہونے کی حیثیت سے آپ کا مقصد اقوام عالم کے سامنے اپنی قوم اور اپنی ریاست کے بیانیے کا دفاع بھی ہو سکتا ہے. لیکن وہ لوگ بھی لوگ بھی انصاف نہیں کرتے جو ان انگریزی لکھنے اور بولنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں. ہم اس بات کا انکار نہیں کر سکتے کہ انگریزی زبان وقت کی ضرورت ہے اور پاکستانی سوشل میڈیا اور بلاگنگ کی دنیا میں سمجھدار ہونے کے ساتھ ساتھ انگلش زبان میں لکھنے والے بھی ضرور ہونے چاہیے. میں کسی کو ترغیب نہیں دیتا کہ آپ انگلش میں کام کریں لیکن بلاگنگ کی دنیا میں انگلش زبان میں کام کرتے ہیں میں ان کی حوصلہ افزائی ضرور کروں گا. از راہِ تفنن غرض ہے کہ جب بندہ سارا دن انگریزی میں ہی پڑھتا ہے اور انگریزی میں ہی لکھتا ہے تو اس کا کچھ نا کچھ اثر تو انسان کی زندگی پر ضرور پڑتا ہے. زبان اس مین رچ بس سی جاتی ہے اور زبان سیکھنا بنیادی طور پر ہے ہی ایک پریکٹس، تو کچھ رعایت دے دیا کریں جو لوگ نارمل حالات میں بھی آپ کو انگریزی میں جواب دیتے ہیں. ہی

  • وزیر خارجہ کا ڈینش ہم منصب کو فون ، ،کشمیر کی صورت حال سے آگاہ کیا

    وزیر خارجہ کا ڈینش ہم منصب کو فون ، ،کشمیر کی صورت حال سے آگاہ کیا

    شاہ محمود قریشی نے اپنے ڈینش ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کرتےہوئے کشمیر کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا.

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ڈینش ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کرتےہوئے کشمیر کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا.انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی جاری ہے . کشمیری لوگ ادویات لینے سے قاصر ہے.. انہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے.وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی برادری کو بھارت کے ان اقدام کو نوٹس لینا چاہیئے اور کشمیرمیں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزی روکے. تاکہ کشمیرکے لوگ اپنی زندگی بہتر طریقے سے گزار سکیں.

  • ہم انگریزی کیوں بولتے ہیں — محمد عبداللہ

    ہم انگریزی کیوں بولتے ہیں — محمد عبداللہ

    گزشتہ شب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ایک دوست نے سوال کیا ہوا تھا کہ ہم انگلش کیوں بولتے ہیں. یہ ایشو صرف میرا اور آپ کا نہیں ہے بلکہ تقریباً سارے پاکستان کا ہی مسئلہ ہے کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ مختلف فورمز پر، مہمانوں اور اجنبی لوگوں کے سامنے، کالج و یونیورسٹی میں، میڈیا و سوشل میڈیا پر ہم انگریزی بول پائیں تاکہ سننے والوں پر رعب پڑ جائے کہ اس کو انگریزی آتی ہے. کچھ ہمارے جیسے انگریزی کے سفید پوش تو ایسے بھی ہوتے بلکہ اکثر ہی ایسے ہوتے کہ جن کو انگریزی تو بولنی نہیں آتی لیکن ہماری بھی کوشش بھی یہی ہوتی ہے کہ دوران گفتگو کوئی نہ کوئی لفظ انگریزی کا ضرور بولیں یہ اور بات ہے کہ لب و لہجہ مقامی ہوتا ہے اور سننے والے پر وہ تاثر نہیں پڑتا جو ہمیں مطلوب ہوتا ہے شرمندگی سی مقدر بنتی ہے.

    مزے کی بات یہ ہے کہ ہماری سوسائٹی کا رویہ بھی بڑا منافرت سموئے ہوئے ہوتا ہے کہ جب کوئی غیر ملکی اپنے لب و لہجے میں ہماری قومی زبان بولنے کی کوشش کرے اور اکثر الفاظ کی ادائیگی غلط ہی کرتا ہے تو ہم سبھی بڑے خوش ہوتے ہیں لیکن جب کوئی اپنا ہی دیسی بندہ مقامی لب و لہجے میں انگریزی بولنے کی کوشش کرے تو سبھی اس پر ہنسنا شروع ہوجاتے ہیں اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے. بہرحال ہم بات کرتے ہیں کہ ہم انگریزی کو اپنی قومی یا مقامی زبانوں پر ترجیح کیوں دیتے ہیں.

    ‏‎سب سے پہلی بات کیونکہ من حیث القوم ہم احساس کمتری کا شکار ہیں کہ شاید انگریزی ہی واحد معیار ہے اپنے آپ کو پڑھا لکھا اور مہذب دکھانے کا تو دہرے تہرے ہوکر بولنی انگریزی ہی ہے.

    دوسری بات موجودہ ایام میں چونکہ دنیا میں ڈنکا امریکہ اور یورپین ممالک کا بجتا ہے اور وہ سپر پاور سمجھے جاتے ہیں تو انہی کی کرنسی اور زبان اک معیار سمجھی جاتی ہے جب ان کی برتری ختم ہوجائے گی تو یہ کرنسی و زبان کا برتر ہونا بھی ‏‎ختم ہوجائے گا.

    یہ کوئی نئی بات نہیں ہے. کولڈ وار سے قبل اور کولڈ وار کے دوران، دوسرے لفظوں میں افغان جہاد سے قبل دنیا میں روسی کرنسی کا دور چلتا تھا بچے بچے کو پتا تھا کہ روس کی کرنسی کا نام روبل ہے. مگر جب افغان جہاد میں روس کو شکست ہوئی اور وہ ٹکڑوں میں بٹا تو آج دنیا کو روبل کا نام بھی یاد نہیں ہے. اسی طرح جب دنیا سے امریکہ و یورپ کی شکل میں سامراجیت کا خاتمہ ہوگا تو ان کی ثقافت، زبان، کرنسی وغیرہ کا بھی دنیا سے خاتمہ ہوجائے گا.

    کیونکہ سادہ سی بات ہے کہ جو دنیا میں برتر ہوتا ہے نظام بھی اسی کے چلتے ہیں وہ نظام چاہے معاشی ہوں، لسانی، عسکری یا علمی. ہم لاکھ نعرے ماریں امریکہ لیکن امریکہ ایک سپر پاور ہے تو ‏‎چونکہ ہم ذہنی طور پر اس کی برتری کو قبول کرچکے ہیں اگرچہ ہم ظاہری طور پر نعرہ تو لگاتے ہیں امریکہ و برطانیہ کی برتری ختم کرنے کالیکن ہمارے دل اس میں ہمارا ساتھ نہیں دیتے کیونکہ ہمیں اس بات کا یقین نہیں آتا کہ دنیا سے سامراجیت کا بھی خاتمہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی ہم اس کی کوئی واضح پلاننگ نہیں رکھتے ہیں نہ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں اور نہ عسکریت و معیشت کے میدان میں. نتیجہ اس کا یہی ہےکہ ہم ان کے نظاموں کو اپنانے میں مجبور ہیں اور آہستہ آہستہ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ ہم ان کے نظاموں اور ان کی ثقافتوں کو اپنانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ہیں.

  • کشمیری نوجوانوں بھارتی فوج کے سامنے دیوار بن گئے ، بھارتی فوجیوں کو گاوں داخل ہونے سے روک دیا

    کشمیری نوجوانوں بھارتی فوج کے سامنے دیوار بن گئے ، بھارتی فوجیوں کو گاوں داخل ہونے سے روک دیا

    سری نگر : بھارتی فوج کے ظلم کے خلاف مزاحمت جاری ، کشمیری نوجوان بھارتی فوج کے سامنے دیوار آہن بن گئے ، اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں سری نگر کے علاقے سورہ کو کشمیری نوجوانوں نے پہرے داری نظام بنا کر بھارتی فوج کیلئے نو گو ایریا بنادیا۔

    غیرملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق کشمیری نوجوان دن رات سری نگر کے علاقے سورہ کی پہرے داری کررہے ہیں جس کے باعث قابض بھارتی فوج 16 دن گزرنے کے بعد بھی اس علاقے میں داخل ہونے میں ناکام ہوگئی ہے۔ نوجوان کشمیریوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے بھارتی فوج کا داخلہ روک رکھا ہے جبکہ نوجوانوں نے پہرے داری کا نظام بنالیا، جہاں نوجوانوں کی ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا میں اس وقت ان کشمیری نوجوانوں کی ہمت کو سلام کیا جارہا ہے ، اپنی رپورٹ میں مغربی میڈیا کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر اینٹیں، درختوں کی شاخیں اور لوہے کی چادریں لگا کر سڑکیں بلاک کردی گئیں، بھارتی فوج گھسنے کی کوشش کرے تو مساجد کے لاؤڈ اسپیکر سے اعلانات کرکے نوجوانوں کو اکٹھا کیا جاتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق غیر ملکی خبر ایجنسی سے گفتگو میں کشمیری نوجوان کا کہنا ہے کہ ہماری کوئی آواز نہیں، ہم اپنے غصے کی آگ میں جل رہے ہیں، دنیا ہمیں نہیں سنے گی تو ہم کیا کریں گے؟ کیا بندوقیں اٹھالیں؟ سورہ کے دو درجن مکینوں سے گفتگو کی جس میں سب نے ہی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ظالم کہا۔

    ذرائع کے مطابق اس گاوں کے ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ ہمیں لگ رہا ہے جیسے ہم لائن آف کنٹرول کی پہرے داری کر رہے ہیں، ہر روز بھارتی سورہ میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر روز ہم انہیں بھگادیتے ہیں۔

    یاد رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی ہے جس کے بعد سے ہی وادی میں سخت کرفیو نافذ ہے۔مقبوضہ وادی میں مواصلات، ٹیلیفون، موبائل فون اور انٹرنیٹ معطل ہے جبکہ مسلسل 16 روز سے جاری کرفیوں کے باعث بچوں کے دودھ، ادویات اور اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

  • حملہ ہوا تو ٹیپوسلطان ورنہ بہادرشاہ ظفر ہی ٹھیک ہیں —- انشال راؤ

    ساری دنیا اس راز سے بخوبی واقف ہے کہ بھارت پاکستان کو تباہ کرنے پہ تُلا ہے اور ایک طویل و مسلسل غیر اعلانیہ جنگ جاری رکھے ہوے ہیں، اس ضمن میں سفارتی ہو یا علاقائی، معاشی ہو یا کلچرل، نظریاتی ہو یا اخلاقی یا پھر امن و امان کی صورتحال الغرض ہر میدان میں پاکستان کو بھارتی منظم و سوچی سمجھی جارحیت کا سامنا ہے، جب سے اکیسویں صدی کے ہٹلر نریندر مودی کی قیادت میں ہندوتواکریسی و سیفرون ازم Saffronism بھارتی اقتدار پہ براجمان ہوا ہے تو اس جنگ میں بھرپور شدت آگئی ہے، بھارت نے کشمیر میں ظلم و ستم کے ساتھ ہی پاکستان میں کراس بارڈر دہشتگردی کو بھی تیز کردیا ہے جس کے نتیجے میں بلوچستان و خیبرپختونخواہ میں متعدد دہشتگردانہ بم دھماکوں و ٹارگٹ کلنگ کا ایک بار پھر سے ہوگیا ہے
    دوسری طرف بھارتی آبی جارحیت معاہدوں کے باوجود جاری ہے، ایک طرف تو ہندوتوا ایکٹیوسٹ پاکستانی دریاوں کا پانی روک کر پاکستان کو بنجر بنانے پہ تیزی سے عمل پیرا ہے تو دوسری طرف وقتاً فوقتاً بلا اطلاعات ایک ساتھ بھاری مقدار میں پانی چھوڑ کر پاکستان کو شدید مشکلات میں مبتلا کرتے ہوے بھاری جانی و مالی نقصان پہنچاتا آرہا ہے

    ایسی ہی ایک سازشی کوشش کے تحت لداخ ڈیم کے پانچ میں سے تین سپل ویز کھول کر کی ہے اور ساتھ ہی بغیر شیڈول کے الچی ڈیم سے بھاری مقدار میں پانی چھوڑ دیا ہے اس کے علاوہ دریائے ستلج میں بھی پانی کا بہت بڑا ریلہ چھوڑ دیا ہے نتیجتاً پاکستان میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور ممکنہ طور پر شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، مکار ہندوتوا مائنڈسیٹ کے نزدیک کوئی اخلاقی معیار نہیں، بھارت تمام تر معاہدوں و عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوے اپنے مذموم منصوبوں پہ عمل پیرا ہے جبکہ جوابی کارروائی کرنے والوں کے عمل و حکمت عملی سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نیچے سے اوپر کی سطح تک سب کے سب بھارتی پاکٹ یونین ہیں یا ان کو قومی مفادات سے کوئی دلچسپی نہیں، اس ضمن میں محترم ضیا شاہد کو سرخ سلام ہے کہ جو کام متعلقہ افسران کا تھا جن کو عوام کے خون پسینے سے کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں انہوں نے کبھی نہیں کیا جبکہ ضیا شاہد صاحب نے تحقیقی کاوشوں سے بھارت کے ساتھ آبی معاہدوں کی اصل حقیقت کھول کر رکھدی ہے جس کا فائدہ اٹھانا حکومت کا کام ہے،

    المیہ یہ ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں پانی کو محفوظ کرنے کے لیے کوئی بڑے یا چھوٹے ڈیم نہیں، قدرت والے نے کالاباغ جیسے قدرتی ڈیم کی نعمت سے پاکستان کو نوازا ہے مگر جب بھی اس کے مکمل کرنے کی بات کی جاتی ہے تو چند سیاستدانوں کو شدید پیٹ میں مروڑ اٹھتا ہے جبکہ آج تک ان کو کشن گنگا ڈیم، بگلیہار ڈیم و دیگر بھارتی ناجائز منصوبوں پر کبھی تکلیف نہیں ہوئی، اس کے علاوہ دریائے کابل جس سے صوبہ خیبر پختونخواہ کے تین اضلاع پشاور، چارسدہ، نوشہرہ کی زراعت وابستہ ہے بھارتی سازش کے تحت اب اس کا پانی بھی افغانستان میں کنٹرول کیا جارہا ہے، اس ضمن میں امریکہ کی معاونت سے بہت سے منصوبے مکمل ہوچکے ہیں جبکہ اب بھارت صرف دریائے کابل پر ایک درجن سے زائد منصوبوں پر کام کررہا ہے جس کے بعد ممکنہ طور پر خیبرپختونخواہ میں صحرائی صورتحال پیدا ہوجائیگی،

    رونا کس کس بات کا رویا جائے یہاں تو ابتری ہی ابتری ہے جنگلات کی غیرقانونی کٹائی کا حال سب پہ عیاں ہے اور ستم ظریفی تو یہ ہے کہ سالہا سال سے پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا پوری ذمہ داری کے ساتھ رپورٹنگ کرتا آرہا ہے مگر یہ المیہ دیکھیں کہ کبھی کوئی دیانتدارانہ کاروائی نظر نہ آئی، بھارتی آبی جارحیت کا حل کسی معاہدے سے نہیں نکل سکتا، جب تک جموں و کشمیر پہ بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے تب تک اس کی سازشی تھیوری یوں ہی عملی طور پر چلتی رہے گی اب سے پہلے بھارتی جارحیت و کشمیر کے مسئلے پر سابقہ پاکستانی حکمرانوں نے ہمیشہ بہادر شاہ ظفر رہنے پہ ہی اکتفا کیے رکھا جو موجودہ حکومت میں تبدیل ہوکر چلیں اس حد تک تو آیا کہ "اگر حملہ ہوا تو ٹیپو سلطان ورنہ بہادرشاہ ظفر ہی ٹھیک ہیں”

    ایک لمحے کو سوچئے اگر پاکستان نیوکلیئر پاور نہ ہوتا تو ہندوتوا نے ہمارا کیا حال کرنا تھا، ماضی کی طرح وہ پہلے حملہ کرتے اور بعد میں بیان دیتے، یہ منظم و مضبوط دفاع و فوج ہی کا ثمر ہے کہ ہندوتوا مائنڈسیٹ بھی براہ راست حملے کی جرات نہیں کرپارہا، سب کچھ دیکھتے ہوے موجودہ حکومت کو اب سمجھ آجانی چاہئے کہ عالمی قوتوں کے نزدیک ہماری سفارتی کوششوں اور امن کی آشا کی کوئی قدر و قیمت نہیں، یہاں جو طاقتور ہے وہی سب کچھ ہے اس لیے اب آدھا بہادرشاہ ظفر آدھا ٹیپوسلطان بننے کی بجائے مکمل ٹیپوسلطان بنا جائے تو ہی بہتر ہے کیونکہ بھارت تو کب سے حملہ آور ہے سیاسی، معاشی، سفارتی، ثقافتی، نظریاتی ہر سطح پہ حملہ آور ہے لہٰذا دفاعی پوزیشن کیساتھ ساتھ جارحانہ پوزیشن بھی لی جائے یا کم از کم ہندوتوا کو ضرور اکسایا جائے جو وہ غلطی در غلطی کا مرتکب ہو، اس کے علاوہ سفارتی محاذ کے ساتھ ساتھ داخلی محاذ پہ بہت زیادہ اور عمرفاروقؓ کی سی سختی برتنے میں ہی آفیت ہے،

    حکومت کی جانب سے اس بات کا عندیہ دیا جارہا ہے کہ "کشمیر کی طرف سے مہاجرین کی آمد کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے” یعنی کہ بھارت کو تو فقط کشمیر چاہئے نہ کہ کشمیری مگر یہ ہجرت اس بار بھی انشاءاللہ باعث رحمت ثابت ہوگی، چودہ سو سال پہلے مکہ سے مدینہ ہجرت ہوئی تو نتیجے میں خالق کائنات نے ریاست مدینہ کی جھولی میں مکہ کو ڈال دیا، بھارت سے ہجرت سے ہوئی تو پاکستان کا انعام ملا، افغانستان سے ہجرت شروع ہوئی تو سوویت یونین ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور اب کشمیر سے ممکنہ ہجرت کشمیر کی آزادی کا سورج ثابت ہوگی۔

  • مسئلہ ہماری قومی سوچ کا ہے !! تحریر : ملک جہانگیر اقبال

    مسئلہ ہماری قومی سوچ کا ہے !! تحریر : ملک جہانگیر اقبال

    آپ سرجوڑ کر بیٹھتے ہیں کہ آخر پاکستان کی فلم انڈسٹری پہ زوال کیوں آیا ہوا ہے ؟ اور پھر نتیجہ نکالتے ہیں کہ چونکہ پاکستانی عوام ہندوستانی اور انگریزی فلموں کی دلدادہ ہے اسی لئے پاکستانی فلم انڈسٹری زبوں حالی کا شکار ہے . لہذا لے دے کر ملبہ پاکستانی عوام پہ گرادیا پر اپنے گریبان میں جھانکنے سے گریزاں رہے . کہ آیا کیا زبوں حالی کیوجہ سید نور جیسے اداکاروں کا اپنی بیوی بعد از محبوبہ صائمہ کو لیکر دے مار ساڑھے چار فلمیں بنانا اور شان شاہد , معمر رانا و ہمایوں سعید کا اب تک خود کو نوجوان سمجھ کر خود ہی پروڈیوسر بن کر خود کو خود ہی ہیرو سلیکٹ کرنا تو نہیں ؟ جب اس سب سے دل نہ بھرا تو ٹی وی ڈرامہ انڈسٹری سے قریبی یار دوستوں کی کھیپ اٹھا کر انہیں فلموں میں کاسٹ کرنا شروع کردیا . انہیں سینما انڈسٹری کی اتنی سائنس بھی نہیں معلوم کہ سینما فلم دیکھنے لوگ اسلئے جاتے ہیں کہ ان کے پسندیدہ ستارے عرصہ دراز بعد کسی کردار میں نظر آرہے ہوتے ہیں . اب اک اداکار/اداکارہ جو ہر دوسرے ٹی وی ڈرامے میں نظر آرہا ہو اسے الگ سے سینما دیکھنے کیوں جایا جائے ؟ جبکہ ڈرامہ ہو یا فلم کہانی تو آپکی لگ بھگ اک ہی طرح کی ہوتی ہے.

    ٹھیک یہی حشر کرکٹ کیساتھ کیا گیا . وسیم اکرم و وقار یونس جیسے عظیم کھلاڑی بھی وقت مقررہ سے تین چار سال بعد ریٹائر ہوئے ( یا جبراً ریٹائرمنٹ لی گئی) . یہ دونوں بالر اپنے جوبن کے ادوار میں 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرواتے تھے پر جب ریٹائر ہوئے اس وقت انکی رفتار 128 سے 135 تک گر چکی تھی . اگر یہ وقت مقررہ پہ ریٹائر ہوجاتے تو انکی جگہ اچھے بالر آجاتے اور یوں 2003 سے 2007 تک ہمیں ریلو کٹے بالرز کے سہارے نہ رہنا پڑتا . مصباح , یوسف , انضمام , شعیب ملک کہنے کو سب عظیم پر درحقیقت یہ سب آخری وقت میں زبردستی جگہ گھیرے بیٹھے رہے جس طرح بھارت میں مہندر سنگھ دھونی گھیرے ہوئے ہے .

    اگر سیاست میں آئیں تو شیرپاؤ گروپ کے آفتاب شیرپاؤ ہوں یا موجودہ مذہبی جماعت جے یو آئی ہو . سابقہ حکومتی پارٹی مسلم لیگ ن ہو یا پیپلزپارٹی ہو . یہ سب اک خاندان کے گرد ہی طواف کرنے والی جماعتیں رہیں . یہ تمام بڑی وفاقی جماعتیں عشروں سے سیاست کر رہی ہیں اور خیر سے خود کو عوام کا حقیقی نمائندہ و محبوب ترجمان سمجھتی ہیں پر کیا ایک شخص یا خاندان کے علاوہ کسی کو اس قابل نہیں سمجھا کہ اسے جماعت کی کنجیاں تھمائی جائیں ؟ حتیٰ کہ اگر کہیں ضرورت پڑی تو بچوں کے نام و نسل بدلوا دی گئی تاکہ پارٹی گھر کی کھیتی رہے .

    نتیجہ کیا نکلا ؟

    نتیجہ یہ نکلا کہ جب ان پہ برا وقت آتا ہے تو عوام بھی ان سے ویسی ہی نظریں پھیر لیتی ہے جیسے حکمرانی ملنے پہ یہ عوام سے نظریں پھیر کر اپنے کنبہ پہ نگاہیں مرکوز کرلیتے ہیں . اگر اس وقت عوام وفاقی حکومت سے ناراض ہیں تو وہ اس حکومت کی اپنی بری کارکردگی کیوجہ سے ہیں نا کہ زرداری و نواز شریف صاحب کے جیل جانے کیوجہ سے .

    اب حالیہ واقعہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا ہی دیکھ لیں . اک ایسا وقت جب ادارے پہ سیاسی ہونے کی آوازیں لگائی جارہی ہیں ایسے میں موجودہ آرمی چیف کا ملازمت میں توسیع لینا جہاں دیگر افسران کیساتھ زیادتی ہے وہیں اس پہ سیاسی ہونے کا الزام بھی حقیقت لگ رہا ہے . آخری بار 1998 میں نواز شریف نے آرمی چیف منتخب کیا تھا اس کے بعد 21 سال میں راحیل شریف اک واحد آرمی چیف تھے جنہوں نے ملازمت میں توسیع نہیں لی اسکی وجہ بھی محض سعودیہ کی بنائی فوج میں نوکری تھی وگرنہ یہ "معجزہ” اک بار دیکھنا بھی شاید نصیب نہ ہوتا .

    اس توسیع کا اک بہت کمزور بہانہ بنایا جارہا کہ "چونکہ ہم حالت جنگ میں ہیں اسلئے سپہ سالار کی تبدیلی بیوقوفی بھرا فیصلہ ہوگا لہذا اسی لئے مدت ملازمت میں توسیع کی گئی ”

    جناب کاش آپ نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہوتا تو معلوم ہوتا کہ دنیا میں جنگی مہارت میں سب سے عظیم سپہ سالار خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ گزرے ہیں . اس عظیم سپہ سالار نے جنگ احد سے لیکر شام کے محاذ تک 41 جنگیں لڑیں اور ناقابل شکست رہے . فارس اور روم کی عظیم سلطنتوں کو نیست و نابود کیا . انکی بہادری کیوجہ سے انہیں سیف اللہ (اللہ کی تلوار ) کا لقب دیا گیا . پر جب عوام کو یہ لگنے لگا کہ جنگوں میں فتح خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بدولت ہوتی ہے تو عہد کے عظیم حکمران حضرت عمر فاررق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں شام کے محاذ پہ ہی سپہ سالاری سے معزول کرکے واپس مدینہ بلا لیا تاکہ عوام کو یاد رہے کہ یہ تمام فتح و نصرت کسی عمر فاروق یا خالد بن ولید کیوجہ سے نہیں بلکہ اللہ پاک کی مدد و نصرت سے ہی ممکن ہوئی ہیں .

    لہذا اگر کسی کو یہ لگتا ہے کہ جنرل باجوہ صاحب کیوجہ سے ہی جنگی حالات سے نکلا جاسکتا تو وہ سخت دھوکے میں ہے . ہماری فوج اک پروفیشنل ادارہ ہے جہاں ہر آفیسر قابلیت کی بنیاد پہ ترقی پاتا ہوا جب جنرل کے عہدے تک پہنچتا ہے تو وہ ہر مشکل کا سامنا کرنے کو مکمل تیار ہوتا ہے لہذا کسی اک شخص پہ تکیہ کرنا یا اسے مجبوری بنانا یا باور کروانا سراسر حماقت ہے .
    ٹھیک اسی طرح جو لوگ نواز شریف زرداری یا عمران و فضل الرحمن کو ہی واحد حل و نسل در نسل لیڈر تسلیم کرتے ہیں وہ اپنی اولاد و عوام کیساتھ گھناؤنا مذاق کرتے ہیں . اسی وجہ سے کئی زرخیز دماغ جو پیدائشی لیڈر ہونے کے باوجود حکمرانی کے درجے تک نہیں پہنچ پاتے کہ انکی راہ میں فرزند فضل الرحمن , نواز شریف و بھٹو حائل ہوتے ہیں

    ٹھیک اسی طرح "قابض” زائد المعیاد کھلاڑیوں کیوجہ سے اصل حقدار کھلاڑی انتظار کی راہ میں بوڑھے ہو کر اپنا سنہری دور ملک کی خدمت میں گزارے بغیر ہی گمنام ہوجاتے ہیں

    اور ٹھیک اسی طرح ہمایوں سعید و شان شاہد و فیصل قریشی بمع معمر رانا کی "جوانی کبھی نہ جانی” والی سوچ کیوجہ سے ہماری فلم انڈسٹری زبوں حالی کا شکار ہے !!

    مسائل تب نہیں ہوتے جب قابل لوگ عہدہ چھوڑ دیں . مسائل تب پیدا ہونا شروع ہوتے ہیں جب قابل لوگوں کو یہ لگنے لگے کہ اب ان سے زیادہ قابل اور کوئی نہیں آنے والا !!

    شاید ایسے ہی کسی واقعہ کو دیکھ کر امجد اسلام امجد نے کہا تھا کہ

    زمانہ اس سے پہلے بھی کئی ہاتھوں سے گزرا ہے
    زمانے کو تمہارے ہاتھ سے آگے بھی جانا ہے

  • مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    مسئلہ کشمیر پر حقائق اور تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے یہ کہہ دینا کہ مسئلہ کشمیر فقط ایک زمین کے ٹکڑے کا مسئلہ ہے کوئی نظریہ یا اسلام کا مسئلہ نہیں ہے یہ تحریک آزادی کشمیر اور لاکھ سے زائد شہداء کے مقدس لہو کے ساتھ واضح ترین غداری ہے. یہ کوئی دو چار سالوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ قیام پاکستان سے قبل سے چلا آنے والا ایشو ہے جس کی بنیاد خالصتاً نظریہ اور مذہب پر کھڑی ہے. بھارت کی متشدد اور جنونی مذہبی حکومت کا کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت تبدیل کرنا بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ فقط زمین جائداد کا مسئلہ نہیں ہے، کشمیر کے سرخ سیبوں کی لڑائی نہیں ہے بلکہ مذہبی اور نظریاتی مسئلہ ہے یہی بات وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی پارلیمنٹ میں اپنے خطاب میں کہی کہ بھارتی حکومت وہ اپنے نظریے پر کھڑی ہے اور ان کا نظریہ اکھنڈ بھارت اور ہندو تواء کا نظریہ ہے وہ اشوکا کا بھارت چاہتے جس کی وجہ سے وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بھی خلاف قدم اٹھارہے ہیں اور اپنے آئین کے بھی سراسر خلاف جا رہے ہیں. ایسے میں یہ سراسر تحریک آزادی کشمیر سے ناآشنائی والی بات ہے کہ بندہ اس مسئلہ کو فقط جائداد کا مسئلہ بنا دے. کشمیر کے مسئلے کا تعلق دو قومی نظریہ اور اسلام سے ہونے کی واضح ترین دلیل یہ ہے کہ بارہا بھارتی گورنمنٹ نے کشمیری نوجوانوں کو پیکجز کی آفر کی اور تعلیم و نوکری کے سبز باغ دکھائے مگر کشمیری حریت پسندوں نے ان تمام بھارتی آفرز و پیکجز کو جوتے کی نوک پر رکھا اور علیٰ الاعلان یہ کہا کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے.کشمیریوں کے لیے یہ بڑا آسان ہے کہ اگر کشمیری پر امن ہوکر اپنے فروٹس اور دیگر چیزوں کو بھارت میں بیچنا شروع کردیں اور بھارتی بدلے میں کشمیر میں فلاحی پراجیکٹس کی تکمیل کرے لیکن وہ دو قومی نظریہ ہی ہے جو کشمیری نوجوانوں کو سنگینوں اور بکتر بند گاڑیوں کے مقابلے میں پتھر اٹھاکر سینہ سپر ہوجانے پر کھڑا کردیتا ہے. یہ اسلام اور نظریے کا ہی تعلق ہے کہ علی گیلانی، آسیہ اندرابی، ڈاکٹر قاسم فکتو، مسرت بھٹ، شبیر شاہ، میرواعظ عمر فاروق، یسین ملک سے لے کر ہر چھوٹا بڑا کشمیری حریت رہنما یہ صدا بلند کرتا ہے کہ اسلام کے تعلق سے ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے. یہ کوئی زمینی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا نظریہ ہے جو ہر شہید ہوکر گرنے والے ایک کشمیری کی جگہ پر سو نوجوانوں کو کھڑا کردیتا ہے اور اس نظریہ کی حقانیت تو اب بھارتی کٹھ پتلیوں فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی تسلیم کرچکے اور کھلے الفاظ میں کہہ چکے کہ جناح کا دو قومی نظریہ درست تھا.ہمارے دانشور اور علماء اس کو زمین کے ٹکڑے کا مسئلہ بتا کر اس سے منہ موڑے رکھیں لیکن اغیار بھی واضح طور پر یہ کہنا شروع ہوگئے کہ مسئلہ کشمیر اسلام و کفر کا معرکہ و مسئلہ ہے. گزشتہ روز واشنگٹن پوسٹ نے یہ آرٹیکل پوسٹ کیا کہ آرٹیکل 370 کا ختم ہونا ہندوازم کی اسلام پر فتح ہے. کتنی شرم کی بات اور مقام افسوس ہے کہ دشمن تو اس کو نظریہ اور اسلام و کفر کی جنگ سمجھ کر اس پر فتح کے شادیانے بجائیں اور ہم اس کو زمین کے ٹکڑے کی جنگ کہہ کر روگردانی اختیار کرجائیں.
    #تلاش_منزل

    Muhammad Abdullah