Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر…!!!

    بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر…!!!

    کشمیراور کشمیریوں پر بھارتی جارحیت کے بعد بھارت نے کل رات بغیر بتائے بھارتی ڈیموں کے سپل ویز کھول دیے اور پاکستان کے خلاف آبی جارحیت شروع کر دی۔ جس سے گلگت بلتستا ن سے کے پی کے، پنجاب اور سندھ میں شدید سیلابوں کا خطرہ پیدا ہو گیاہے ۔ بھارت کی جانب سے دریائے سندھ اور ستلج میں دو بڑے آبی ریلے چھوڑ نے کے سبب پنجاب اور سندھ کی کھڑی فصلیں تباہ وبرباد ہو نے کے قریب ہیں ۔ پاکستان کے تمام دریاوں سندھ ، ستلج ، راوی ، چناب میں شدید ظغیانی ہے ۔ پاکستان کے تمام ڈیموں میں گنجائش سے زائد پانی پہلے سے ذخیرہ تھا ۔ جبکہ اب بھارت نے پاکستان سے ڈیٹا شیئر نگ بھی بند کر دی ہے ۔ جو سندھ طاس معاہدے اور باقی عالمی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ اس بھارتی اقدام سے پاکستان کے کئے دیہات اور علاقے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کے قریب ہیں ۔

    مزید پڑھئے: کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …

    گزشتہ رات سے ہی ایل او سی پربھارتی فوج کی جانب سے آزاد کشمیر پر شدید شیلنگ اور گولہ باری جاری ہے ۔ جس میں متعدد شہری اور فوجیوں کی شہادتوں کی خبریں مسلسل موصول ہو رہی ہیں جس کا پاک فوج منہ توڑ جواب دے رہی ہے ۔ مگر حکومتی سطح پر ہمارا احتجاج دفتر خارجہ میں بھارتی ڈپٹی کونسلرجنرل کو بلا کر جھاڑ پلانے تک ہی محدود ہے ۔ بھارت اپنی جارحیت میں اس حد تک آگے نکل چکا ہے کہ وہ پاکستانیوںاور صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاونٹس تک کو بلاک کروا رہا ہے ۔

    گزشتہ تین دن سے بلوچستان اور افغانستان پے در پے دہشتگردی کے واقعات ہور ہے ہیں اس سب کے تانے بانے بھی بھارت سے مل رہے ہیں ۔ مگر ہم سب سلامتی کونسل اجلاس کا جشن منا رہے ہیں ۔ ہم نے سب کو سفارتی فتح اور سوشل میڈیا پر مودی کو ہٹلر بنانے پر لگایا ہوا ہے ۔اگر پچاس پچپن برس بعد ڈیڑھ گھنٹے کا بنا کسی نئی قرار داد بند کمرے کا اجلاس ہی تاریخی کامیابی ہے تو پھر تو پاکستان جیت گیا۔ہم کو ہوش کب آئے گا ؟ بھارت سکون سے جو کشمیر میں کرنا چاہ رہاہے وہ کرتا جا رہا ہے ۔ کشمیری خواتین کے عصمت دری ہو یا کشمیریوں کا ناحق قتل بھارت بڑی بے دردی سے بلاخوف وخطر ہندتوا کا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے ۔

    مزید پڑھیئے: بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    ۔ میرا سوال تمام اہل اقتدار سے ہے ۔
    ۔ بھارت ہم پر چڑھ دوڑھا ہے ۔ کیا ان حالات میں جنگ ٹالی جا سکتی ہے ؟
    ۔ کیا حکومت کو کشمیر کاز پر عوام کے جذبات کا اداراک نہیں ؟
    ۔ کب تک ہم یہ کہتے رہیں گے ۔اب بھارت نے کچھ کیا تو چھوڑیں گے نہیں۔
    ۔ افغان ڈیل اور ایف اے ٹی ایف کی وجہ سے کب تک ہم بھارتی جارحیت برداشت کریں گے ؟
    ۔ ہم کیوں کبوتر کی طرح بلی کے سامنے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں ؟

    ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیشہ کے طرح اس بار پھر کشمیریوں نے اپنی بے مثال جدوجہد سے دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کا اور انڈیا کا اکٹھے گزارا نہیں۔ اس میں ہمارا کوئی کریڈیٹ نہیں ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    ۔ آزادی سے اب تک پاکستان کی تمام پالیسی کا پہلا نکتہ کشمیر ہے۔
    ۔ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ۔
    ۔ لیاقت علی خان نے کشمیر ہی کے مسئلے پر بھارت کو مکا دکھایا تھا۔
    ۔ ایوب خان کے زمانے میں بھی منصوبہ بندی ہوئی۔ آپریشن جبرالٹر کامیاب ہوا یا ناکام مگر کچھ کیا تو تھا۔
    ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کشمیر کاز کے لیے ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے۔
    ۔ جنرل مشرف نے کارگل کے ذریعے کشمیر کی آزادی کی کوشش کی تھی مگر کوشش تو کی تھی۔

    کیا یہ عیاں نہیں ہو چکا کہ کشمیر میں فلسطین طرز پر کام ہو رہا ہے ۔ وقت ہاتھ سے نکلتاجا رہا ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔ آخر ہم کب ہوش کے ناخن لیں گے ؟

    . پتہ نہیں ہم کس کی مدد کے انتظار میں ہیں ؟ ہم نے جارحانہ کے بجائے دفاعی حکمت عملی کیوں اپنائی ہوئی ہے ؟

    ۔ کیا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے "لالی پاپ ” ملنے کے فوراً بعد ہمیں ملٹری آپشن پرغور نہیں کرناچاہیے تھا؟

    ۔ کیا دفاعی جنگ پاکستان کے لیے زیادہ نقصان دہ نہیں ہو گی جب یہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے گلی کوچوں میں لڑی جا ئے گی ؟

    آخر ہم کیوں جنگ نہ لڑنے پر بضد ہیں جبکہ جنگ ہم پر مسلط کر دی گئی ہے ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • اپنے آپ سے بات لازمی کریں———مریم سلیم

    اپنے آپ سے بات لازمی کریں———مریم سلیم

    میں اکثر اپنے آپ سے بات کرتی۔ جب بھی محجھے لگتا ہے کہ محجھ میں کوئی برائی پیدا ہو رہی ہے۔ یا اردگرد کا ماحول محجھ میں تبدیلی لا رہا ہے تو میں اپنے آپ سے بہت سے سوال کرتی ہوں۔
    جانچنے کی کوشش کرتی ہوں کہ کیا یہ ٹھیک ہے یا نہیں؟
    کل رات بھی میں اپنے آپ سے بات کر رہی تھی۔اور محجھےپتا چلا کہ میرے اندر نفرت (نیگیٹیویٹی ،اکتاہٹ یا پھر اعتبار کا اٹھ جانا) پیدا ہو رہی ہے. وہ نفرت جو ہم صرف ایک دوسرے سے محظ اس بنا پر کرتے ہیں کیوں کہ وہ ہم سےمختلف سوچ یا رائے رکھتے ہیں(اور یہ ہماری انا کو گوارہ نہیں)یا ہمیں غلط سمحجھتے ہیں۔ ذات کی بیماری جاننے کہ بعد میں نے علاج چاہا۔ لیکن کیا علاج معالج کے بغیر ممکن ہے؟
    بلکل نہیں!
    اب پتا یہ کرنا تھا کہ معالج زندہ بھی ہے یا نہیں، اسی سلسلے میں میں نے اسے پکارا میں جا نتی تھی کہ اگر تو زندہ ہے تو وہ میرے پہلے سوال پر محجھےمل جائے گا نہیں تو پھر ۰۰۰(اناللّه و انا علیہ راجعون)
    میں نےسوال کیا۰۰۰
    کیا یہ (اختلاف کی بنیاد پر نفرت )سہی ہے؟
    کحچھ دیر کا وقفہ رہا۰۰۰
    پھر اندر سے جواب آیا
    نہیں!
    اور میں جان گئ معالج (ضمیر)ابھی زندہ ہے۔
    میرے اندر اطمینان کی لہر دوڑ گئی ۔
    کیوں کہ جب تک آپکا ضمیر زندہ رہتا ہے تب تک اصلاح کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔(معالج ہو تو علاج ممکن ہے) اور میں جان گئی کہ اپنے اچھے اخلاق سے نفرت کرنے والوں کو بہترین جواب دیا جا سکتا ہے۔ اپنے آپ سے بات کریں اپنی غلطیوں کو کمزوریوں کوتسلیم کریں۔ یہی چیز ہمیں انسان بنائے رکھتی ہے ۔ ورنہ ہم جانوروں سے بد ترہیں۔ یہی بات ہمیں ادنٰی اوراعلٰی بناتی ہے. خوش رہیں خوش رکھیں ۔لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں. اور اپنے ضمیر کو مرنے مت دیں۔

  • شور نہیں شعو، زین اللہ خٹک

    شور نہیں شعو، زین اللہ خٹک

    زندہ قومیں خوشیاں مناتی ہیں۔ لیکن خوشیاں منانے کی قید وبند بھی چاہیے۔ حدود وقیود لازم وملزم ہیں۔ کیونکہ خوشیاں تو صرف زندہ قومیں منا سکتی ہیں مردہ قوموں میں خوشیاں منانے کی سکت کہاں تو بات ہورہی تھی۔ خوشیاں منانے کی۔ 14 اگست یوم آزادی کے دن جس طرح قوم کے نوجوانوں نے خوشیاں منائی وہ کم ازکم باشعور قومیں نہیں مناتی۔ ایک طرف ملک خدادا معاشی مسائل کا شکار ہیں۔ ادارے تباہی کے کنارے پر ہیں۔ملک بیرونی قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔تو دوسری طرف ہمارے شاہین کفایت شعاری کے بجائے موٹر سائیکلوں، گاڑیوں پر لاکھوں روپے کے جھنڈے اور میوزک لگا کر، سلنسرز سے عجیب وغریب آوازیں نکال کر، دن بھر سڑکوں پر لاکھوں روپے کے سی این جی اور پٹرول و ڈیزل کے خرچےکر کے ایک اندازے کے مطابق ایک ارب تیس کروڑ روپے خرچ کرتے رہے دوسری طرف گاڑیوں کے شور اور منچلے نوجوانوں کی خرمستیوں نے ذہنی سکون برباد کردیا۔سڑکوں اور گلیوں میں بجانے والی آوازیں اور پٹاخوں سے بیمار اور بچے پریشان۔ سڑکوں پر منچلے نوجوانوں نے عورتوں پر جس طرح نعرے کسے۔ اخلاقیات کے دائرے سے نکل کر لڑکیوں کو چھیڑا گیا۔پارکوں میں گندگی پھیلا ئی گئی۔سرکاری املاک کو بھی معاف نہیں کیا گیا۔اسٹریٹ لائٹس اور سائین بورڈز اکھاڑے گے۔ کیا زندہ قوموں کو خوشیاں منانے کے لیے شعور کی ضرورت نہیں؟ کیا اس دفعہ کفایت شعاری سے یوم آزادی نہیں منایا جا سکتا تھا؟ ہمیں باشعور قوم بننا پڑے گا۔کیونکہ شعور سے ہی ہم دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام پا سکتے ہیں۔ آئیں مل کر عہد کریں کہ آئندہ ہم خوشیاں شور سے نہیں بلکہ شعور سے منائے گے.

  • بلاگ: پاکستان میں نفاذ اردو، اس کام کے لئے کتنی ذہانت کی ضرورت ہے؟ از پروفیسرسلیم ہاشمی

    بلاگ: پاکستان میں نفاذ اردو، اس کام کے لئے کتنی ذہانت کی ضرورت ہے؟ از پروفیسرسلیم ہاشمی

    بلاگ: پاکستان میں نفاذ اردو، اس کام کے لئے کتنی ذہانت کی ضرورت ہے؟
    پروفیسر محمد سلیم ہاشمی، فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    دنیا بھر میں جو جس ملک کی زبان ہے وہی اس کی قومی اور سرکاری زبان ہے۔ یہ کرنے کے لئے کسی ذہانت، سوچ بچار، تدبیر یا ترکیب لڑانے کی ضرورت نہیں۔ غلاموں یا غلام رہوں کی بات چھوڑ دیں، آپ ازاد، خود مختار، با وقار اور ترقی یافتہ ملکوں کے نام لیتے جائیں یہی حقیقت سامنے آئے گی۔ کچھ ملکوں کے نام میں لے دیتا ہوں باقی دنیا کے بارے میں آپ خود غور فرما لیں۔
    امریکہ، برطانیہ، روس چین، جاپان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، اسٹریا، فرانس، جرمنی، ہالینڈ، سپین، ترکی، ایران، بیلجیم، برازیل، ارجنٹائن وغیرہ وغیرہ۔
    میں نے کچھ دن پہلے ایک جگہ سوال کیا کہ یہاں موجود کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے ادب کے علاوہ اعلی’ تعلیم حاصل کرنے کے دوران میں اپنی کوئی ایک نصابی کتاب مکمل پڑھی یو، آج تک اس سوال کے جواب سے محروم ہوں۔
    پاکستانی حکمرانوں کی ذہانت کس معیار کی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ ان کو یہ معمولی ترین بات بھی سمجھ میں نہ آ سکی کہ جب یہ ملک پاکستانیوں کا ہے تو یہاں پاکستانی زبان نافذ کی جائے۔ بڑی معذرت کے ساتھ اس میں بہت بڑا ہاتھ ان لوگوں کا بھی تھا جو اردو کے نام پر قائم اداروں میں بڑی بڑی کرسیوں پر براجمان تھے اور جو نفاذ اردو کی ہر کوشش کو چند باتوں سے ناکام بناتے رہے۔
    یہ ملغوبہ زبان ہے
    اس میں اصطلاحات نہیں ہیں
    اس میں کتابیں نہیں ہیں
    اس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے بارے میں مواد نہیں ہے۔ اور پھر مشکل مشکل عربی اور فارسی میں لتھڑی ہوئی اصطلاحات پیش کر کے ثابت کر دیتے تھے کہ یہ بہت مشکل زبان ہے۔
    برباد ہوں یہ لوگ جو جامعہ عثمانیہ اور دیگر علمی اداروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے بجائے چیزوں کو از سر نو کرنے کی کوشش کرتے رہے اور اس طرح نفاذ اردو کا راستہ مسدود کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
    پاکستان کی بدقسمتی کہ یہاں پر عرصہ دراز تک حکومتوں پر ان لوگوں کا قبضہ رہا جو انگریزوں سے تربیت یافتہ اور ان کے محکوم رہے تھے اور ان کی ثقافت، تہذیب، بودوباش اور زبان سے اپنے جسم کے خلیوں تک میں مرعوب تھے۔

    کیا کیا جائے؟
    ہمیں اس طلسم کو توڑنا یوگا اور اس اثر سے باہر نکلنا ہوگا کہ ہم اردو میں کام نہیں چلا سکتے اور یہ کہ ہمارے لئے انگریزی بہت ضروری ہے۔
    کیا اس طرح کی سوچ، فرانس، جرمنی، جاپان، چین، روس یا ترکی کے افراد سوچ سکتے ہیں۔ اگر ہمارے لئے انگریزی کسی بھی حوالے سے ضروری ہے تو اتنی اتنی رکھ لیں جتنی ان ملکوں میں ہے، باقی جیسے ان ملکوں میں ان کی زبان نافذ ہے اردو نافذ کر دیں۔

    ہم انگریزی میں بہت زیادہ بھیگے ہوئے ہیں؟
    کوئی بات نہیں انگریزی کو باہر نکالیں ہماری روح اور جسم ہلکا پھلکا ہو جائے گا، ہم۔حیران ہو ہو کر ایک دوسرے سے پوچھتے رہیں گے کہ اتنے سال ہم یہ غلاظت اپنے اوپر مل کر کیوں پھرتے رہے۔
    افسوس ہے پچھلے حکمرانوں پر جن کے دور میں عدالت عظمیٰ نے نفاذ اردو کے لئے انتہائی واضح اور دو ٹوک حکم صادر فرمایا۔ ان کی ذہنی مفلسی کا یہ عالم کہ ان کو یہ ادراک تک نہ ہوا کہ ان کے ہاتھ میں الہ دین کا چراغ رکھ دیا گیا ہے۔ وہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے، آئین پاکستان اور پاکستان کے عوام کی توہین کرتے رہے اور قدرت نے ان سے اس توہین کا کھل کر بدلہ لیا۔
    یہ بڑی سیدھی سادی بات ہے، ایک جمع ایک دو جیسی، جو ملک جو اس کی زبان وہ اس کی قومی اور سرکاری زبان، یہ بات جاننے کے لئے کسی اعلیٰ ذہانت کی ضرورت نہیں ہے، اور اس پر عمل کرنے کے لئے کسی بہت بڑے تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو اپنے گھر میں رہنے بسنے زندگی گزارنے جیسی بات ہے۔ آدمی کب تک ہوٹلوں میں رہ سکتا ہے، وہاں کا کھانا کھا سکتا ہے ہر شخص کو اپنے گھر میں رہنے کی وہاں بسنے کی خواہش ہوتی ہے۔
    خیال رہے انگریزی کسی پاکستانی کی زبان نہیں ہے، پاکستان کی زبان نہیں ہے، اس سے جس قدر جلد چھٹکارا حاصل کر لیا جائے یہ پاکستان اور اس میں بسنے والے عوام کے لئے اتنا ہی ضروری ہے

  • حکومت نے کشمیر کا سودا کر دیا؟ ….آصف محمود

    حکومت نے کشمیر کا سودا کر دیا؟ ….آصف محمود

    حکومت نے کشمیر کا سودا کر دیا؟ ….آصف محمود
    بشکریہ روزنامہ 92

    تو کیا حکومت نے کشمیر کا سودا کر لیا ؟ کچھ ساکنان ِ کوچہِ دلدار اپنے روایتی اہتمام کے ساتھ اس کا جواب اثبات میں دے رہے ہیں اور کچھ اپنی دائمی سادہ لوحی میں اس پروپیگنڈے سے متاثر ہو رہے ہیں ۔ بہت سارے معاملات میں حکومت کا ناقد ہونے کے باوجود میرے نزدیک البتہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ ایسا ممکن ہی نہیں ۔

    دشمن باہر سے حملہ آور ہے اور کچھ لوگ اندر سے ۔ یہ جو اندر سے حملہ آور ہیں یہ دشمن سے کم خطرناک نہیں ۔ یہ منصوبہ بندی سے وار کرتے ہیں ، افواہیں پھیلاتے ہیں ، مایوسی کو فروغ دیتے ہیں ، ریاست اور ریاستی اداروں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور قوم کو اندر سے توڑنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ حالت امن ہو یا جنگ ، یہ ہمیشہ اپنے محاذ پر پائے جاتے ہیں ۔ ان کی اصلیت اور طریق واردات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

    ملیحہ لودھی ہی کو لے لیجیے۔ اچانک ان کے خلاف ایک مہم چل پڑی ۔ اتفاق دیکھیے کہ وہ حضرات جو عشروں سے اپنی روشن خیالی کا سارا زور لگا کر یہ کہتے پھرتے تھے کہ مذہبی معاملات سے ان کا کچھ لینا دینا نہیں کیونکہ ان کا مذہب تو انسانیت ہے وہ اچانک ہمیں باور کرانے لگ گئے کہ دیکھو دیکھو یہ ملیحہ لودھی تو ہندوئوں کی رشتہ دار نکلی ، یہ ملک کی خیر خواہ کیسے ہو سکتی ہے ، یہ تو کشمیر بیچ کر آئے گی ۔ سادہ لوح تو وطن عزیز میں تھوک کے حساب سے ملتے ہیں لیکن معلوم تو کیجیے یہ ملیحہ لودھی کی ہندو ئوں سے رشتہ داری کو مہم بنانے میں کون کون شامل ہے ۔ روشن خیالی کے یخ بستہ آنگن میں یہ اچانک مذہب دوستی کا الائو کیسے بھڑک اٹھا ؟ ذرا سوچیے تو ، ملیحہ لودھی کی یہ رشتہ داری انہیں اب ہی کیوں یاد آئی جب وہ پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے جا رہی تھیں ۔ کیا یہ ولیمہ کل ہوا ہے جو یہ اتنا بھائو کھائے بیٹھے ہیں؟

    حکومت بھی نا معتبر ، اس کے ادارے بھی تمسخر کے نشانے پر اور اس کے منجھے ہوئے سفارت کاروں کی بھی کردار کشی ، یہ لوگ آخر چاہتے کیا ہیں اور اصل واردات کیا ہے ؟ ایک سال پہلے یہی ملیحہ لودھی ہی تو تھیں جب اقوام متحدہ نے کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پر غیر معمولی رپورٹ پیش کی تھی اور روانڈا کی طرز پر ایک انکوائری کمیشن بنانے کی سفارش کی تھی ۔ ہمارے ہاں یہ رپورٹ زیر بحث نہ آ سکی یہ الگ بات ہے ورنہ بوڑھے اور تجربہ کار سفارتکاروں کا توکہنا ہے کہ یہ رپورٹ گذشتہ پچاس سالوں میں کشمیر پر ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے ۔ اب پاکستان کو ایک تجربہ کار سفارت کار سے محروم کرنے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی ؟

    حکومت کی غلطیاں بہت ہوں گی لیکن حکومت کشمیر کا سودا کیوں کرے گی ؟ اتنی بے اعتباری کیوں ؟ غالب امکان یہی ہے کہ ہماری کمزور معیشت اور عرب دنیا سے بھارت کے غیر معمولی معاشی روابط کو دیکھتے ہوئے مودی نے یہ ایڈونچر کر دیا ہے۔ اب حکومت نے اس سے نبٹنا ہے ۔ وہ اپنے انداز سے کوششیں کر رہی ہے۔ ان میں بہتری کی گنجائش ہو سکتی ہے لیکن حکومت پر کشمیر فروشی کا الزام عائد کر کے یہ لوگ کس کی خدمت کر رہے ہیں ؟ پاکستان کی یا دشمن کی؟ ہمیں یکسوئی اور وحدت فکر کی ضرورت ہے ۔ سازشی تھیوری ہی کی بنیاد پر فیصلے کرنے ہیں تو پھر ہر دوسرا بندہ غدار ہو گا ۔ اس بیمار سوچ کے ساتھ ہم نے دشمن کا مقابلہ تو کیا کرنا ہمیں شاید دشمن کی حاجت ہی نہ رہے۔

    سلامتی کونسل میں معاملہ گیا توکہا گیا یہ ہنگامی اجلاس نہیں مشاورتی اجلاس ہے ۔ سوال یہ ہے کہ پھر کیا ہو گیا ؟ سلامتی کونسل میں بات تو پہنچی ، کیا عجب ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا جائے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہمیں ناکامی ہو جائے اور ہمیں جنرل اسمبلی جانا پڑے ۔ ویٹو بھی ہو سکتا ہے ۔ مسعود اظہر کے لیے ویٹو ہوتا آیا ہے تو یہاں دنیا کے بھارت سے کھربوں کے مفادات بھی کسی ایک سے ویٹو کروا سکتے ہیں ۔ ہمیں اس کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ قوموں کی جدوجہد میں اتار چڑھائو آتے رہتے ہیں ۔ ہمت اور مضبوط اعصاب کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے ، بیمار ذہنیت کے لوگوں کے ساتھ مل کر قدم قدم پر سینہ کوبی اور اپنے ہی اداروں کو سینگوں پر لیے رکھنے سے کچھ نہیں ہو گا ۔ یہ ایک طویل جدوجہد ہے اور اس میں ہر قدم پر کامیابی نہیں ملے گی۔

    ایک اعتراض یہ ہوا کہ سلامتی کونسل کا یہ اجلاس ہمارے کہنے پر نہیں چین کے کہنے پر بلایا گیا ۔ چلیں چین کے کہنے پر بلایا گیا پھر کیا فرق پڑا ۔ دوست ہوتے ہی کس لیے ہیں ۔ دل چسپ بات ہے کہ یہ وہی معترضین تھے جو کل تک دہائی دے رہے تھے کہ چین تو پاکستان سے ناراض ہو چکااور عمران خان نے سی پیک کا سودا کر لیا ۔ آج وقت پڑا تو معلوم ہوا یہ چین ہی ہے جو ساتھ کھڑا ہے۔

    فوج کو طعنے دیے جا رہے ہیں ۔ وہ لبرلزجو کل تک امن کی آشا پر اچھلتے تھے اچانک نسیم حجازی کے گھوڑے کی طرح ہنہنا رہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ایک عام آدمی اس بے ہودگی کا حصہ کیوں بنے؟ کیا اس فوج نے کشمیر کے لیے اس سے قبل متعدد جنگیں نہیں لڑیں ؟ جنگ کل لڑی جا سکتی ہے تو اب بھی لڑ لی جائے گی۔اور میرا خیال ہے ایک جنگ لڑنا ہی پڑے گی ۔ لیکن جو یہ جنگیں لڑتے آئے ہیں اور جنہوں نے یہ جنگ لڑنی ہے اور جو اس وقت بھی لائن آف کنٹرول پر جانیں قربان کر رہے ہیں انہی کو سینگوں پر لیے رکھنا کہاں کی معقولیت ہے؟

    جنگ کی بات ہو تو انہیں تکلیف ہوتی ہے ، امن کے وقفے کو ترجیح بنایا جائے تو یہ ایک بار پھر تکلیف سے چیخنا شروع کر دیتے ہیں ، تلخی بڑھ رہی ہو تو یہ سفارت کاری کا لیکچر دیتے ہیں ، سفارت کاری پر کام شروع ہو جائے تو یہ سینہ کوبی شروع کر دیتے ہیں کہ کبھی جنگ کی بجائے کبھی سفارت کاری سے بھی کامیابی ملی ۔ ریاست اور ریاستی اداروں پر کیچڑ اچھالتے رہنا شاید ان کے فرائض منصبی کا حصہ ہے ۔ لیکن ایک عام آدمی کو یاد رکھنا چاہیے: اندر کا دشمن باہر کے دشمن سے کم خطرناک نہیں ہوتا ۔

  • پاکستان، افغان جنگ اور تحریک آزادی کشمیر — عبدالرحمن

    پاکستان، افغان جنگ اور تحریک آزادی کشمیر — عبدالرحمن

    گزشتہ چند دنوں سے کچھ تحریریں پڑھنے کو مل رہی جن افغان اور کشمیر گوریلا وار کا موازنہ کیا جارہا ہے ایک مؤقف یہ ہے کہ اگر افغانستان میں امریکی شکست کا ذمہ دار پاکستان ہے تو پھر کشمیر میں ہونے والے ستم کا ذمہ دار بھی پاکستان ہے کہ ایک طرف اس نے وقت کی سپر پاور کو ناکوں چنے چبوادیے تو دوسری طرف ہندوستان جیسے مکار سے کشمیر کو نہ بچا سکا
    کیا کشمیر یا افغانستان کی جنگ کی ہار جیت کا مکمل ذمہ دار صرف پاکستان ہے یا اس میں افغانیوں اور کشمیریوں کا بھی کردار ہے آئیے اس سے متعلق چند نقاط پر بات کرتے ہیں

    سب سے پہلے افغان قوم کی بات کرتے ہیں ذرا تاریخ دیکھیں تو یہ ہمیشہ سے جنگجو رہے ہیں غوری، غزنوی اور سوری سب انھی میں سے تھے اور ماضی قریب میں پچھلی ایک صدی سے یہ مسلسل جنگ کررہے ہیں پہلے برطانیہ پھر روس اور اب امریکہ گویا ان کی موجودہ نسل حالت جنگ میں ہی پیدا ہوئی اور پھر ان کو عسکری محاذ پر مختلف قوتوں کی علی الاعلان یا پھر بھرپور خفیہ حمایت ہی نہیں عملی مدد بھی شامل رہی روس کے خلاف امریکہ اور مکمل مسلم دنیا نے ان کی بھرپور مدد و حمایت کی اور امریکہ کے خلاف مسلم دنیا بالخصوص پاکستان نے ان کی مکمل مدد جاری رکھی

    اس کے برعکس کشمیری قوم قیام پاکستان سے پہلے راجا ہری سنگھ سے لے اب تک مسلسل غلامی میں رہی اور(ماضی میں ) ان کا جذبہ حریت افغانوں سے موازنہ کرنا سراسر بے ایمانی ہوگا 65 کی جنگ میں پاکستان نے بہت کوشش کی کہ
    منظم ہوئی عوام نے اس کی بھر پور حمایت تو کی اور مسلح جدوجہد میں تیزی آئی
    یہ منظم اور بھرپور عسکری جدوجہد کا پہلا دور تھا جب کشمیریوں نے ہتھیار اٹھانے شروع کیے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پاکستان کا اس میں کیا کردار تھا اور اس عسکری جدوجہد کو انجام تک پہچانے کے لیے شروع کی جانے والی کارگل جنگ اپنوں کی بے وفائیوں کی نظر ہوگئی اور پھر اس کے بعد امریکہ افغانستان میں آگیا اور پاکستان کے لیے مغربی محاذ بھی کھل گیا چونکہ امریکہ کا مقصد پاکستان اچھی طرح سمجھ چکا تھا
    اور پھر پاکستان کو کچھ کڑوے گھونٹ بھرنے پڑے جن میں ایل او سی پر باڑ بھی شامل تھی ان تمام عوامل کی بنیاد پر کشمیر کی عسکری جدوجہد سست روی کا شکار ہو گئی
    ادھر امریکہ افغانستان میں ایک سال
    بھی نہیں ہوا تھا تو جذبہ حریت سے سرشار فاتح افغان قوم نے اس کو دن میں تارے دکھانا شروع کردیئے اور بھرپور گوریلا وار شروع کر دی
    اگر آپ دیکھیں کہ تقریباً ایک لاکھ کشمیری شہید ہو چکے ہیں لیکن ان میں سے بندوق اٹھاکر لڑکر شہید ہونے والوں کی تعداد کتنی ہے تو یقیناً آپ مایوس ہوں گے
    2013 تک کشمیر کی حالت یہی رہی کہ لڑنے والوں کی اکثریت مقامی نہیں تھی اس دوران یقیناً سفارتی سطح پر پاکستان کے حکمرانوں نے سفارتی محاذ بالکل ٹھنڈا رکھا لیکن مودی کے مظالم اور پھر برہان مظفر وانی کی شہادت نے ایک بار پھر کشمیریوں کو بھارت کے خلاف عسکری طور پر کھڑا کردیا اور پاکستان کی کھلم کھلا عسکری حمایت کے لیے پاکستان موقع کی تلاش میں ہے مگر پاکستان پہل نہیں کرنا چاہتا ان شاء ﷲ تحریک آزادی کشمیر اس بار ضرور اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی

  • مسئلہ کشمیر اور ہم ––– حنظلہ عماد

    مسئلہ کشمیر اور ہم ––– حنظلہ عماد

    کشمیر بانی پاکستان کے الفاظ میں پاکستان کی شہ رگ، اور ہرگز کوئی جذباتی جملہ نہیں بلکہ زمینی حقائق اس کے ناقابل تردید شواھد فراہم کررہے ہیں۔ عرصہ ایک صدی سے بالترتیب ڈوگرہ اورہندو غاصبوں کے خلاف کشمیری نبرد آزما ہیں یعنی تقسیم ہندوسان اور پاکستان بننے سے بھی پہلے، 19 جون 1947 کو ہی ریاست جموں و کشمیر میں الحاق پاکستان کی قراداد پیش ہوکر منظور ہوچکی تھی، بعد ازاں دھوکے بازی سے بھارت سرکار اس پر قابض ہوئی اور پاکستان کے ساتھ تنازعہ بڑھنے پر معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جایا گیا جہاں ابھی تک حل طلب ہے۔ بھارت میں نریندرا مودی کی حکومت نے ریاست جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت قائم رکھنے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کردیا۔ یوں دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گویا اب مسئلہ کشمیر حل ہوگیا اور بھارت نے کشمیر کو مستقل اپنا حصہ بنالیا ہے۔ یہ سراسر بے وقوفی تھی جس کی بھارت ہی میں موجود بہت سے صاحب عقل افراد نے بھی مخالفت کی۔ کشمیر عالمی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور پاکستان اس کا باقاعدہ فریق ہے اس لیے بھارت تنہا اس کا کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا لیکن یہ بات پاکستان میں بہت سے لوگوں کو سمجھانی بہت مشکل ہے۔ یہ فیصلہ سامنے آنے پر پاکستان میں بھی بھانت بھانت کی بولیاں سامنے آنے لگیں۔ ان میں اکثریت اس ملک سے نہایت مخلص تھے۔ ماسوائے چند ایک کے جو صرف یہی راگ الاپتے رہے کہ کشمیر بیچ دیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے صاحب الرائے اور لکھنے والے احباب مضطرب تھے کہ بھارت نے اس قدر بڑاقدم اٹھا لیا ہے لیکن پاکستان کی طرف سے کوئی جوابی کاروائی نہیں کی جارہی ہے۔ جذبہ حب الوطنی اور کشمیریوں سے محبت ان کے خون کھولائےدیتی تھی اور وہ بار بار شکوہ کناں تھے۔ بظاہر ہماری طرف سےایک خاموشی اور رسمی مذمتوں کے سوا کچھ نا تھا۔ کردیں گے، ہوگا، کیا جائیگا، یعنی مسقبل کے صیغے کی گردان تھی جو حکومتی حلقوں کی طرف سے جاری تھی۔ لیکن ماضی میں کچھ تلخ یادوں کی بدولت ان دعووں پر یقین کرنے کو دل نہیں مانتا تھا۔ اس لیے بہت سے ہمارے احباب سوال اٹھانے پر حق بجانب تھے۔ اس پر انہیں الزامات کا بھی نشانہ بنیا گیا جو سراسر بے وقوفی تھی لیکن ایسا بھی نہیں کہ کشمیر پر پاکستان اس دفعہ روایتی مذمت ہی کررہا تھا تاہم یاد رہے کہ اگر اپنی سٹریٹجی فیس بک پر ہی عام کرنی ہے تو پھر دشمن سے تو لڑلیے ہم، البتہ اپنی افواج اور اداروں پر اعتماد ضرور ہے لیکن یہاں تو ابراھیم علیہ السلام جیسے پیغمبر بھی کہہ اٹھے تھے کہ اللہ ایمان تو ہے لیکن آنکھ سے دیکھنا چاہتا ہوں ۔ یہ حال ہمارا ہے کہ اپنے اداروں پر اعتماد ضرور ہے لیکن ہمیں کوئی ایسے آثار بھی تو نظر آئیں کہ کچھ ہورہا ہے۔ اب اگرچہ معمولی لیکن بھر بھی کچھ آثار نظر آنے لگے ہیں کہ پاکستان اس بار معاملے کو سنجیدگی سے لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ 50 سال بعد مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس ایک مثبت خبر ہے۔ اگرچہ اس اجلاس سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ نہیں ہیں تاہم یہ اس بات کی یقین دہانی ضرور ہے کہ پاکستان عالمی دنیا میں تنہا نہیں ہے۔ لیکن ایک تلخ حقیقت اور بھی کہ مسئلہ کشمیر اس بار بھی ہم دنیا میں نمایاں نہیں کرسکے ہیں بلکہ یہ بھارت ہے جس نے اس قدر بڑا قدم اٹھایا ہے کہ دنیا بولنے پر مجبور ہے۔ پاکستان نے ابھی معمولی سنجیدگی دکھائی ہے اور بھارت سرکارکے ہرکارے نیوکلیائی حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ حقیقت میں اس وقت مودی سرکار کی اپنے ہی پاؤں پر ماری گئی کلہاڑی کی بدولت بھارت سخت مشکل میں ہے۔ بھارت مخالف عالمی رائے عامہ کی وجہ سے اضطراب میں اضافہ ہورہا ہے لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا کہ یہ جدید ریاست کا دور ہے اور یہاں میکاؤلی کا فلسفہ ہی چلتا ہے۔ ایک ارب انسانوں کی منڈی سے محض انسانی حقوق کی خاطر کچھ سخت معاملہ کرنے آج کل کا دستور نہیں ہے۔ لہذا پاکستان کو نہایت سنجیدگی اور متانت سے اپنے کارڈ کھیلنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا شاید یہ آخری موقع ہے۔ لیکن ایک گزارش میری ہم وطن دوستوں سے جو سوشل میڈیا پر لکھتے بھی ہیں کہ ایک دوسرے پر فتوے مت بانٹو اور اختلاف کرنے کا ہنر سیکھ لو، پاکستان کے کردار سے اختلاف یا سوال اٹھائے جاسکتے ہیں اوراس کی وجہ صرف کردار میں کمی ہی نہیں آپ کی معلومات کی کمی بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے اصل فریق کشمیری پاکستان سے ہرگز ناراض نہیں ہے اور آج بھی سبزہلالی پرچم ہی تھام کر کھڑے ہیں۔اس لیے تکمیل پاکستان کی جنگ لڑنے والوں کے پشتیبان بنیں نا کہ آپس میں محاذ آراء ہوں ، اللہ ہمارا حامی ناصر ہو اور جلد کشمیریوں کو آزادی کی نعمت نصیب فرمائے۔ آمین

  • صابر ابو مریم کا بلاگ   "اسرائیل، مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور”

    صابر ابو مریم کا بلاگ "اسرائیل، مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور”

    اسرائیل، مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور تحریر:صابر ابو مریم سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی
    یہ سنہ2000ء کی بات ہے کہ جب اٹھارہ سال کی مسلسل جدوجہد اور مزاحمت کے نتیجہ میں اسرائیل لبنان کی سرزمین سے اپنا قبضہ ختم کر کے فرار اختیار کر رہا تھا۔یہ فرار کسی معاہدے یا عالمی طاقتوں کی ضمانت کے نتیجہ میں ہر گز نہیں تھا بلکہ یہ فلسطین ولبنان مشترکہ جد وجہد آزادی کی جنگ لڑنے والے گوریلا مجاہدین کی مزاحمت کا ثمر تھا جو نہ صرف لبنان میں اسرائیلی قابض افواج کے خلاف جدوجہد کرتے تھے بلکہ موقع ملتے ہی سرحد کے دوسری طرف مقبوضہ فلسطین میں جا کر بھی مزاحمت کے جوہر دکھاتے تھے۔اس مزاحمت کی بہترین بات یہ تھی کہ اس میں جہاں مسلمانوں کے شیعہ و سنہ فرقہ کے نوجوان موجود تھے وہاں لبنان و فلسطین کے عیسائی اور دروز سمیت دیگر مذاہب و مسالک بھی شریک تھے جن میں لیلیٰ خالد، جارج حبش،سمیر قنطار اور بہت سے دیگر افراد تھے جنہوں نے تحریک آزادی فلسطین او رلبنان پر صہیونی افواج کے تسلط کے خلاف جدوجہد میں قربانیاں دیں، اسیر ہوئے بعد ازاں رہا ہوئے او ر پھر شہادت کے درجہ پر فائز ہوئے۔سنہ2000ء میں جب اسرائیل لبنان سے اپنا تسلط ختم کر کے اس حال میں فرار ہوا کہ اپنا سارا فوجی ساز و سامان تک جنوبی لبنان کے علاقوں میں چھوڑ گیا۔اس عظیم الشا ن فتح کا جشن مناتے ہوئے اس وقت لبنان میں اسلامی مزاحمت کی تحریک حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کہا تھا کہ’’خدا کی قسم! اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے“۔یہ خود اسرائیل سمیت دنیا میں اسرائیل کی حامی حکومتوں کے لئے پہلا موقع تھاکہ جب دنیا کے سامنے غاصب اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم مٹھی بھر جوانوں کی مزاحمت نے خاک میں ملا کر رکھ دیا تھا اور دنیا کو بتا رہے تھے کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے۔
    اسی طرح کا ایک موقع تاریخ میں سنہ2006ء میں دہرایا گیا جب اسرائیل نے اپنے دو قید کئے گئے فوجیوں کی بازیابی کے نام پر لبنان پر جنگ مسلط کر دی اور یہ جنگ امریکہ و اسرائیل کے اعلانات کے مطابق فقط ایک سے دو روز میں امریکہ اور اسرائیل کے طے کردہ مقاصد کے حصول پر ختم ہونا تھی، ان مقاصد میں سرفہرست حزب اللہ کی قید سے دو صہیونی فوجیوں کی بازیابی کے ساتھ ساتھ لبنان میں حزب اللہ کو مکمل طور پر نیست ونابود کرنا تھا تا کہ آئندہ حزب اللہ کا کوئی وجود باقی نہ رہے۔یہ جنگ امریکی واسرائیلی طے کردہ اہداف اور وقت سے کہیں آگے نکل گئی اور 33روز تک جاری رہنے کے بعد بالآخر اسرائیل خود گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا اور پسپائی کا فیصلہ کیا گیا یقینا اس فیصلہ میں اسرائیل کی ہزیمت کے ساتھ ساتھ امریکہ اور ان تمامشیطانی مغربی قوتو ں کی شکست تھی جو اسرائیل کی پشت پناہی میں مصروف تھیں۔ یہ وہ دوسرا موقع تھا کہ جب سید حسن نصر اللہ کی اس بات کو کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے کو خود صہیونی غاصب ریاست کے ماہرین اور فوجی جرنیلوں نے ادراک کیا اور دنیا نے بھی اس صداقت کو جانچ لیا۔
    اسرائیل مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور کی متعدد مثالیں ان واقعا ت کے بعد غزہ اور مقبوضہ فلسطین میں بھی دیکھنے کو ملتی رہی ہیں کہ مختلف اوقات میں فلسطین پر مسلط کی جانے والی یک طرف صہیونی جنگوں میں حماس کے مجاہدین کی پائیدار استقامت و مزاحمت نے نہ صرف حسن نصر اللہ کے اس قول کو صادق کر دکھایابلکہ اسرائیل کابھرم خاک میں ملا کر رکھ دیا۔
    گذشتہ دنوں جنوبی لبنان کے علاقوں میں اسرائیل کے خلاف حاصل ہونے والی حزب اللہ کی فتح کے عنوان سے سالانہ تقریب کا انعقاد ہوا اور یہ وہ علاقہ تھا کہ جہاں سنہ2006ء میں گھمسان کی لڑائی ہوئی تھی اور یہاں پرمنعقدہ عالی شان تقریب سے اسلامی مزاحمت کی تحریک حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے خطاب کیا اور آغاز میں ہی دنیا کو باور کروادیا کہ آج اس علاقہ میں کہ جہاں اسرائیل قابض ہوا کرتا تھا لوگوں کے جم غفیر کا ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ لبنان سمیت فلسطین کے لوگ اب غاصب صہیونی ریاست اسرائیل سے ڈرتے نہیں ہیں اور اب اسرائیل کا ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم کبھی سر اٹھا نہیں پائے گا کیونکہ فلسطین ولبنان سے شام و عراق تک اسلامی مزاحمت اس قدر مضبوط اور مستحکم ہو چکی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی جنگ کو اپنی مرضی کے نتائج پر موڑ سکتی ہے۔یہ ایک نعمت الہی ہے اور ا س میں نہ تو علاقے کے کسی عرب ممالک کا کوئی کردار ہے اور نہ ہی سلامتی کونسل کی کسی قرار داد کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔یہ سب اسلامی مزاحمت کے فرزندوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے اس پرہمیں شکر ادا کرنا چاہئیے۔
    سید حسن نصر اللہ نے اپنی تقریر میں بہت سے پہلوؤں پر روشنی ڈالی لیکن دو پہلو بہت اہم ہیں،پہلا یہ کہ سنہ2006ء میں ہونے والی جنگ میں اسرائیل فقط ایک دن کا حملہ کرنا چاہتا تھا اور اپنے طے کردہ اہداف کو حاصل کرنا چاہتا تھالیکن امریکہ نے اس کو اکسایا کہ جنگ کو جاری رکھا جائے۔اس کے بعد 33روز تک جنگ جاری رہنے کے بعد امریکہ اور اسرائیل کو جب اپنی شکست کا مکمل یقین ہوگیا تو یہ بات جنگ بندی کا سبب بنی،اگر وہ مزید جنگ جاری رکھتے تو ان کو تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑتا اس لئے انہوں نے جنگ روک دی۔سید حسن نصر اللہ نے کسی عرب شخصیت کا نام لئے بغیر ایک واقعہ بیان کیا اور کہا کہ ایک عرب معروف شخصیت جنگ کے زمانے میں امریکہ گئی او ر جان بولٹن سے ملاقات کی، بولٹن نے کہا کیا کرنے آئے ہو؟اس نے کہا جنگ کو روکنا ہے تو بولٹن نے جواب دیا کہ یہ جنگ جاری رہے گی حزب اللہ کو ختم کرنا ہے۔لیکن آخری دنوں میں ایک اسرائیلی نمائندے نے عرب شخصیت کو آدھی رات کو کہا کہ جنگ روکنا ہے او پھر جان بولٹن نے بھی یہی کہا۔اس عرب شخصیت نے بولٹن سے پوچھا کہ کیا حزب اللہ کوختم کر دیا گیا ہے؟جان بولٹن نے کہا نہیں! اسرائیل میں دم نہیں ہے۔
    حسن نصر اللہ نے ایک مرتبہ پھر اپنی اسی بات کی طرف اشارہ کیا اور کہا جیسا کہ میں نے ماضی میں کہا تھا کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے تو یہ عقیدہ مزید پختہ ہو گیا ہے۔آج تیرہ سال گزرنے کے بعدبھی اسرائیل مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے اور یہ بات اسرائیل کے دل ودماغ میں بیٹھ چکی ہے۔آج پھر اسرائیل سے کہتا ہوں اگر کسی بھی طرح کی جنگ کرنے کی کوشش کی تو دنیا کے ٹی وی چینلز پر تمھاری تباہی کا تماشہ دکھایا جائے گا۔سید حسن نصر اللہ نے بتایا کہ غزہ ہمیشہ عزیز رہے گا اور ہم فلسطین کی حمایت اور اس کی آزادی کی جدوجہد سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے انہوں نے حالیہ دنوں غزہ میں ایک صہیونی فوجی کو گرفتار کرنے کی کوشش کو سراہا۔
    خلاصہ یہ ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ نے سنہ2000ء میں اور پھر گذشتہ دنوں ایک ٹی وی چینل کو دئیے گئے خصوصی انٹر ویو میں اور پھر اب فتح کے جشن کی تقریب میں مسلسل اسرائیل کے وجود کو مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور کہاہے اور اس بات پر خود اسرائیلی فوج کے جرنل اور ماہرین اور محقق تحقیق میں ہیں اور پریشان کن حالت میں ہیں اور صہیونی فوجی جرنیلوں کا اعتراف جس میں وہ کہتے ہیں کہ حزب اللہ کی قوت اور گائیڈڈ میزائلوں کے سامنے اسرائیلی فوج انتہائی کمزور ہے۔اسی طرح ایک اور اسرائیلی جنرل نے کہا تھا کہ سارا اسرائیل حزب اللہ کے میزائلوں کے نشانے پر ہے۔پس خود صہیونی ذرائع اس تحقیق میں مصروف ہیں کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے اور حقیقت یہی ہے کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے ضرور ت صرف اس امر کی ہے کہ عرب دنیا کے وہ مسلمان حکمران جو امریکی وصہیونی کاسہ لیسی میں مصروف ہیں اپنی حمیت و عز ت کے دفاع او ر مظلو م ملت فلسطین کے دفاع و قبلہ اول بیت المقدس کی بازیابی کے لئے متحد ہو جائیں اور دنیا کے نقشہ سے صہیونی جرثومہ کو اکھاڑ پھینکیں جو نہ صرف فلسطین و مغربی ایشیاء کے لئے مصیبت و خطرہ ہے بلکہ پاکستان سمیت دنیا کے امن و سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔

  • حج کی کار گزاری . پڑھیے حافظ احمد سعید جعفر کا بلاگ

    حج کی کار گزاری . پڑھیے حافظ احمد سعید جعفر کا بلاگ

    حج کی کار گزاری
    از حافظ احمد سعید جعفر

    "الحمدللہ حج 1440 ھ بمطابق 2019 ء کا حج ادا کرنے کی سعادت حاصل کرلی ہے.
    حج کے موقع پر انتظامات کے بارے میں ہر سال بہت سی خبریں گردش کرتی ہیں. اس سال چونکہ میں عینی شاہد ہوں تو سوچا دنیا کو حج کے انتظامات کے بارے میں تفصیل سے بتاؤں.
    ہماری فلائیٹ نےمدینہ شریف لینڈ کیا اور ہم نے 8 دن مدینہ منورہ گزارے. ایئرپورٹ سے ہوٹل لے جانے کا انتظام تسلی بخش تھا. آرام دہ بسوں میں حاجیوں کو انکے ہوٹلز تک پہنچایا گیا. لیکن ہوٹل پہنچتے ہو ئے2 عدد پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا. ایک کمرے کی دستیابی تھا. چونکہ ہوٹل میں 4 اور 5 افراد کے لئے کمرے موجود تھے اس لئے 4 سے کم یا 5 سے زیادہ افراد پر مشتمل فیملیز کو دوسرے لوگوں کے ساتھ adjust کرنا پڑتا تھا اور لوگوں کی طرف سے اس سلسلے میں تعاون نہیں کیا گیا. جس سے حجاج کرام اور ہوٹل انتظامیہ کے درمیان بحث کا ماحول پیدا ہوا. دوسراہم پاکستانیوں کی روایتی بد نظمی تھی. قطار توڑ کر آگے بڑھنے کی کوششوں کی وجہ سے کمرے ملنے کا مرحلہ تاخیر کا شکار ہوا اور شور شرابہ اور بد مذگی بھی دیکھنے کو ملی. دوسری مشکل یہ پیش آئی کہ تمام حجاج کا سامان ہوٹل کی لابی میں لا کر رکھ دیا گیا. تمام حجاج نے اپنا سامان چن چن کر اکٹھا کیا اور لفٹس میں منتقل کر کے اپنے اپنے فلور تک پہنچایا. ہوٹل میں 3 عدد لفٹس موجود تھیں اور لفٹس کے دروازوں والی جگہ کافی تنگ تھی ایسے میں سینکڑوں حجاجِ کرام کا سامان سمیت آنا جانا کس قدر تکلیف دہ ہوگا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں. ایسے وقت میں تگڑے اور ہوشیار لوگ داؤ لگا جاتے ہیں اور سیدھے سادھے, اور کمزور لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں. خیر چند گھنٹوں میں ان دونوں مراحل سے فراغت حاصل ہوئی اور ہوٹل کے معاملات معمول پر آئے.
    اب آپکو ہوٹل کے معاملات کے بارے میں تفصیل سے بتاتا ہوں. ہمارے ہوٹل کا نام مختارہ غربی ہوٹل تھا. یہ فندق مسجدِ نبوی شریف سے تقریباً 7 منٹ کی واک پر واقع تھا اس لئے مسجد آنے جانے میں سہولت رہتی تھی. ہوٹل خوبصورت اور ہائی فائی تھا. کمرے بہت اچھے تھے. واش روم, نکاسیِ آب وغیرہ کا نظام بھی پرفیکٹ تھا. کھانے کی فراہمی کسی کیٹرنگ سروس کے پاس تھی اور کھانے کا معیار عموماً اچھا ہی ہوتا تھا. تین ٹائم روٹی سالن کے علاوہ مندرجہ ذیل آئٹمز بھی مہیاء کیے جاتے تھے.
    صبح کے ناشتے میں چائے
    دوپہر کو ایک پھل (سیب یا مالٹا) اور لسی (جسے عربی میں لبن کہا جاتا ہے) کی بوتل.
    رات کے کھانے میں قبطان نام کا ایک جوس اور سویٹ ڈش.
    الحمدللہ مدینہ میں رہائش کے دوران کوئی تنگی کوئی پریشانی محسوس نہیں کی.
    8 دن قیام کے بعد ہم مکہ مکرمہ روانہ ہوئے. اس مقصد کے لئے بھی بسوں کا انتظام اطمینان بخش تھا. لہٰذہ اس معاملے میں بھی راوی ok کی رپورٹ دیتا ہے.
    مکہ مکرمہ میں عزیزیہ نامی علاقے میں بلڈنگز کے اندر حجاجِ کرام کو ٹھرایا گیا. ہم نے عزیزیہ کے بارے میں کافی منفی باتیں سن رکھی تھیں لیکن یقین کیجئے وہاں کا ماحول مدینہ کے ہوٹلز سے بھی زیادہ اچھا تھا اور بلڈنگ کا عملہ یعنی معاون حجاج الباکستان کا رویہ بہت خوش اخلاقی پر مبنی تھا. یہاں تک کہ مدینہ کے ہوٹل کے برعکس ہمارا سامان بسوں سے اتارنے سے لے کر, کمروں تک پہنچانے میں معاونین نےخوب تعاون کیا. اور بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ سارا سامان حجاجِ کرام کے مطلوبہ فلورز تک پہنچ گیا.
    عزیزیہ کی ہماری بلڈنگ نمبر 702 سے مسجدالحرام کا سفر تقریباً 20 منٹ کی ڈرائیو کا ہے. ٹرانسپورٹ کا انتظام یوں ہے کہ 24 گھنٹے, چند منٹ کے وقفے سے بسیں چلتی ہیں ایک بس سات بلڈنگز کو cover کرتی ہے یعنی 7 بلڈنگز کے حجاج کی اپنی ایک بس ہوتی ہے جس میں وہ بلڈنگ کے باہر سے سوار ہوتے ہیں اور وہ بس حجاجِ کرام کو ایک بس اڈے تک چھوڑتی ہے. وہاں بہت سی بسیں حرم شریف جانے کے لئے تیار کھڑی ہوتی ہیں. حجاج کرام بلڈنگ کی بس سے نکل کر حرم جانے والی بسوں میں بیٹھتے ہیں اور وہ بسیں حرم سے کچھ فاصلے پر اتارتی ہیں. جہاں سے پیدل سفر 4 سے 5 منٹ کا ہوتا ہے. حرم شریف جانے کا عمل عموماً خوب اسلوبی سے طے ہوجاتا ہے لیکن واپسی پر بسوں میں سوار ہوتے ہوئے بھگ دڑ اور دھکم پیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے.
    کھانے کا نظام عزیزیہ میں بھی مدینہ سے زیادہ مختلف نہیں تھا Menu دونوں جگہ ایک سا تھا. مدینہ میںcatering service دینے والی کمپنی کا نام میں نہیں دیکھ سکا. مکہ میں یہ خدمت مطبخ عرفات نامی کمپنی مہیا کرتی ہے. مکہ اور مدینہ میں کھانے کے ذائقے میں مجھے 19 ,20 کا فرق محسوس ہوا مدینہ میں کھانے کا ذائقہ نسبتاً بہتر تھا.
    اب کچھ مسجدِ نبوی شریف اور مسجد الحرام شریف کے انتظامات کی بات کر لی جائے. مسجدِ نبوی میں انتظامات اور سہولیات ہر لحاظ سے مسجد الحرام کی نسبت بہت بہتر لگے. صفائی, بیٹھنے جگہ کی فراہمی, واش رومز سب مسجد نبوی میں زیادہ بہتر ہیں. مسجد الحرام شریف میں بہت سے تعمیراتی کام جاری ہیں جنکی وجہ سے کچھ تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے. دوسرا یہ کہ یہاں شرطے بار بار بہت سے راستے بلاک کردیتے ہیں, کبھی کہیں سے لوگوں کو اٹھا دیتے ہیں کبھی یہاں سے وہاں منتقل کر دیتے ہیں. اس لئے مسجد الحرام میں دیر تک سکون سے ایک جگہ بیٹھ کر عبادت کرنا بہت مشکل کام ہے. راستے بند کرنے میں یقیناً کوئی انتظامی حکمت عملی ہوگی لیکن سچی بات یہ ہے کہ اسکی وجہ سے حجاج کو بہت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے. مجھے خود اس وجہ سے بہت مشکل ہوئی تھی.
    خیر, مجموعی طور پر مکہ اور مدینہ دونوں میں رہائش, کھانے اور ٹرانسپورٹ کے انتظامات بہت اچھے تھے.
    اب بات کرتے ہیں حج کے ایام کی.
    پہلے آپ یہ سمجھ لیجئے کہ حج کا ایام میں حاجیوں کے انتظامات بہت سی چھوٹی چھوٹی کمپنوں کو دیے ہوتےہیں جنہیں مکتب کہا جاتا ہے. حجاجِ کرام کو تقریباً 125 مکاتب میں تقسیم کیا گیا ہے. ہر مکتب کا ایک معلم ہوتا ہے جس کے زمے ایامِ حج کے دوران منیٰ, عرفات, مزدلفہ میں اپنے اپنے حاجیوں کا انتظام کرنا ہوتا ہے. ہمارا مکتب نمبر 100 تھا. جس کا انتظام عبدالرحمٰن…… عبداللہ وھبی نامی معلم کے ذمے تھا. اور ان موصوف نے اپنی ذمے داریاں بڑے کمال برے طریقے سے سرانجام دیں. منیٰ میں ہمیں گندے پانی میںchlorine ڈال کر پلایا جاتا رہا. کھانا بہت دیر سے ملتا تھا اور 2 دفعہ کے علاوہ ہمیشہ چنے کی پتلی دال کھلائی گئی جوکہ بہت سخت تھی. یعنی ہمارے مکتب میں کھانا نہایت ناقص تھا. ٹرانسپورٹ کو دیکھا جائے تو شائد سب سے کم بسیں مکتب نمبر 100 کے پاس تھیں جسکی وجہ سے بسوں میں چڑھتے ہوئے دھکم پیل اور بد نظمی انتہا کو ہوتی تھی. 4130 حجاج کے لئے 11 بسوں کا انتظام تھا جبکہ سننے میں آیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے موصوف سے 40 بسوں کا معاہدہ کر رکھا تھا. یوم, عرفہ کے دن ہمارے مکتب والے بہت تنگ ہوئے. غروبِ آفتاب کے بعد جب بسیں نکلیں تو سینکڑوں حجاج بسوں میں سوار نہ ہو سکے جن میں میں اور میرے گھر والے بھی شامل تھے. تقریباً ڈھائی 3 گھنٹے بعد بسیں واپس آئیں پھر بقیہ حجاجِ کرام بسوں میں سوار ہو پائے. معذور اور بیمار افراد کے لئے ایسی صورت میں بسوں میں چڑھنا ناممکن تھا اس وجہ سے میرا ایک روم میٹ جسکی والدہ ضعیف ہیں, انہیں ویل چیئر پر پیدل مزدلفہ جانا پڑا. یاد رہے عرفات سے مذدلفہ تک کا سفر 7 کلومیٹر سے زیادہ ہے. یہاں قصور ہماری عوام کا بھی ہے. پاکستانوں کی طرف سے بدنظمی اور خود غرضی کی انتہا دیکھنے کو ملی. ہر شخص دوسرے کی ٹانگ کھینچ کر خود آگے بڑھنے کو کوشش میں رہتا ہے. ہمیں کئی دفعہ دوسرے ممالک کے عہدیداروں سے طعنے سننے کو ملے کہ پاکستانیوں کا کوئی نظام نہیں, پاکستانیوں میں عقل سمجھ نہیں.
    قصہ مختصر, مکہ اور مدینہ دونوں مقدس شہروں میں حجاج کے لئے انتظامات کافی اچھے تھے جس پر میں پاکستان اور سعودی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں. البتہ حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ عبدالرحمٰن عبداللہ وھبی نامی معلم کو بلیک لسٹ کیا جائے اور مکتب 100 کی زمہ داری کسی آئندہ کسی ایماندار اور قابل معلم کے سپرد کی جائے.

  • ہرکشمیری کے گھر کے باہر بھارتی فوجی بندوق تان کے کھڑے ہیں ، اسے ہی تو  فاشزم کہتے ہیں : چیئرمین کشمیر کمیٹی

    ہرکشمیری کے گھر کے باہر بھارتی فوجی بندوق تان کے کھڑے ہیں ، اسے ہی تو فاشزم کہتے ہیں : چیئرمین کشمیر کمیٹی

    اسلام آباد: ہرکشمیری کے گھر کے باہرایک بھاری فوجی بندوق تان کے کھڑا ہے ، یہ فاشزم نہیں تو اور کسے کہتے ہیں. ان خیالات کااظہار چیئرمین کشمیر کمیٹی فخر امام نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا ، چیئر مین کشمیر کمیٹی فخرامام نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے کشمیریوں کو گھروں میں محصور کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق چیئرمین کشمیر کمیٹی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں خوراک، ادویات کی قلت ہو گئی ہے، بھارت ایک غیر ذمہ دار ملک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کا اجلاس بلانا پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے، کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس 50 سال بعد ہو رہا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔فخرامام نے کہا کہ اب وقت قریب ہے کشمیری بھی آزاد ہوجائیں گے ، پاکستان کشمیریوں کی آزادی کے لیے کوشاں ہے