Baaghi TV

گنگا چوٹی، قدرت کا شاہکار،تحریر:بینا علی

آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں واقع گنگا چوٹی ایک ایسی جگہ ہے جسے دیکھ کر انسان کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ پیر پنجال کے بلند پہاڑی سلسلے میں سر اٹھائے یہ چوٹی سطح سمندر سے تقریباً 3,045 میٹر یعنی 9,989 فٹ بلند ہے۔ یہاں پہنچ کر یوں لگتا ہے جیسے آپ بادلوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

گنگا چوٹی کا اصل حسن اس کے مقام میں ہے۔ یہ سدھن گلی کے قریب واقع ہے اور قدرتی طور پر دو اضلاع کو جوڑتی ہے۔ اس کے ایک طرف ضلع باغ کی وادیاں ہیں تو دوسری طرف ضلع جہلم ویلی کے پہاڑ نظر آتے ہیں۔ اسلام آباد سے یہاں کا سفر تقریباً 200 کلومیٹر کا ہے۔ ہزارہ موٹروے اور مری ایکسپریس وے سے ہوتے ہوئے باغ اور پھر سدھن گلی تک پکی اور بہترین سڑک موجود ہے۔ سدھن گلی سے گنگا چوٹی تک جیپ یا عام گاڑی آرام سے چلی جاتی ہے۔ پیدل چلنے کے شوقین لوگوں کے لیے بھی مختصر ٹریک موجود ہے جو ہرے بھرے جنگل سے گزرتا ہے۔

اس چوٹی پر کھڑے ہو کر چاروں طرف کا نظارہ دل موہ لیتا ہے۔ وسیع سبز چراگاہیں جن پر بھیڑ بکریاں چرتی ہیں۔ دور تک پھیلی ہوئی وادیاں، اور نیچے بادلوں کا سمندر سب کچھ کسی خواب جیسا لگتا ہے۔ گرمیوں میں یہاں کا موسم بہت ہی خوشگوار اور ٹھنڈا رہتا ہے۔ شہروں کی گرمی سے تنگ لوگ جب یہاں پہنچتے ہیں تو ٹھنڈی ہوائیں ساری تھکن اتار دیتی ہیں۔ سردیوں میں یہ پورا علاقہ سفید برف کی چادر اوڑھ لیتا ہے اور منظر مکمل بدل جاتا ہے۔ برفباری کے شوقین لوگ دسمبر سے فروری کے درمیان یہاں کا رخ کرتے ہیں۔گنگا چوٹی صرف ایک پہاڑ نہیں بلکہ سکون کی جگہ ہے۔ یہاں کیمپنگ کا اپنا ہی مزہ ہے۔ رات کو تاروں بھرا آسمان اور صبح منہ پر پڑتی دھوپ زندگی بھر یاد رہتی ہے۔ مقامی لوگ بہت مہمان نواز ہیں اور سیاحوں سے محبت سے پیش آتے ہیں۔اگر آپ نے ابھی تک کشمیر کی یہ جنت نہیں دیکھی تو سمجھیں کچھ نہیں دیکھا۔ ایک بار ضرور جائیں کیونکہ گنگا چوٹی کی خوبصورتی الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی، اسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔
ganga choti

More posts