وادی کیلاش کے لوگ اپنے قدرتی حسن، مخصوص ثقافت، نرالے دستور، رنگا رنگ تقریبات اور نہایت دلچسپ رسومات کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ کیلاش لوگ خوشی کے ساتھ ساتھ غمی پر بھی اپنی مخصوص رسومات ادا کرتے ہیں اور خصوصی طور پر اخروٹ والی روٹی بناکر فوتگی والے گھر بھجواتے ہیں اور اسی طرح خوشی و غمی میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹھاتے ہیں۔ تفصیل کیلئے چترال سے باغی ٹی وی کے نمائندے گل حماد فاروقی کی رپورٹ
Category: تفریح و سیاحت

سانحہ مری۔۔۔ہم کب بڑے ہونگے تحریر :سیدہ ذکیہ بتول
برف کی موٹی تہہ میں سسکتی زندگی کی کہانی جا بجا گردش کرتی تصویری جھلکیوں سے دیکھی جا سکتی ہے مگر اس شب زندگی جینے والوں پہ کیا بیتی یہ احساس ہر ذی روح کو چھلنی کیے جارہا ہے۔ مری ہمیشہ ہی سیاحوں کا خواب رہا چاندی کی طرح آسماں سے اترتی برف کوئی جادوئی سی داستان لگتی ہے۔۔اور اس جادو کو چھونے کی خواہش میں ہر سال لاکھوں لوگ ملکہ کوہسار کا رخ کرتے ہیں اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔۔بچوں کو سردیوں کی تعطیلات ہوئیں تو کئی خاندانوں نے سیر کے لیے مری کو گاڑی موڑ دی جسکو بریک ناگہانی موت نے لگائی۔۔
برفباری شروع ہوئی تو موجودہ حکومت کے وزیر اطلاعات نے خوشخبری سنائی "ملک میں سیاحت فروغ پارہی لاکھوں گاڑیاں مری گلیات نتھیا گلی پہنچی ہیں”جبکہ حقائق کا جائزہ لیا جائے تو مری میں صرف پارکنگ کے لیے پچاس ہزار گاڑیوں کی گنجائش ہے ٹول پلازے سے جب گاڑیاں گزرتی رہیں تو حکومتی گنتی ساتھ ساتھ ٹوئٹر پر چلتی رہی مگر برتری سے غفلت تک کے سفر نے صرف ایک رات لی اور ڈھیروں گاڑیوں کے ہجوم نے ٹریفک کو تعطل کا شکار کیا۔۔۔موسم نے بھی تیور دکھائے تو یخ ہواؤں نے برف برسانا شروع کر دی جسکی پیشگی اطلاع پہلے ہی سے محکمہ موسمیات دے چکا تھا۔۔مگر سیاحوں کو نہ روکا گیا نہ رہنمائی کی گئی سیاحتی ترقی کا ڈھول پیٹا جاتا رہا۔
مری کو جاتی سڑک پر گاڑیاں رکی تو زندگی بھی تھمنے لگی اپنی مدد آپ کے تحت کئی لوگوں نے موت سے فرار کی راہ پکڑی تو برف نے جانے نہ دیا واپس اپنی گاڑیوں میں بیٹھنا آخری حل جانا۔۔اور انتظامیہ کی راہ میں نظریں ونڈ سکرینوں پہ جمی رہیں مگر سخت سردی میں رات فیصلوں میں بیت گئی کہ کیا کیا جائے؟؟ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا ہمیشہ ہی مری کی سڑک پر ایسے موسموں میں ٹریفک جام ہوجاتا ہے مگر حل کیا ہوسکتا ہے یہ ہم سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی نہ سوچ سکے بلکہ ایک ایسی ریاست جہاں انسانوں کی زندگیاں انکا مال حکومتوں کی امانت ہوا کرتا ہے وہاں انہیں مرنے کے لیے بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا۔۔
صبح جب گاڑیوں میں بے بسی سے مر جانے والوں کی ویڈیوز سامنے آئیں تو انتظامیہ نے بھی جاگنا مناسب سمجھا پھر ایسی پھرتیاں دکھائیں جیسے اختیار میں سب تھا بس مرضی نہیں تھی۔پاک فوج کی پیدل پانچ پلاٹون کو طلب کر دیا گیا ریسکیو ٹیمیں بھیجی جانے لگیں۔۔وزیر مشیر سب بیانات داغنے لگے اور ٹوئٹر پر حادثے کے بعد کیے جانے اقدامات چمکنے دمکنے لگے وزیراعظم صاحب نے بھی اپنے ٹوئٹری پیغام میں کہیں نہ کہیں سیاحوں کو مودود الزام ٹھہرانا مناسب سمجھا تو جناب سیاحت کے لیے اب لوگ سوئٹزرلینڈ تو جانے سے رہے جائیں گے تو مری تک ہی جائیں گے ناں۔۔
جو ہونا تھا ہوگیا ایک ایک جان کا جانا حکومت کے سر۔۔مگر اب سوچنا یہ ہوگا کہ غفلت کہاں ہوئی تاکہ کہیں تو نظام کی درستگی کی طرف قدم بڑھایا جاسکے سب سے پہلے تو محکمہ موسمیات پیش گوئی کے ساتھ ساتھ ریڈالرٹ جاری کر سکتا تھا پھر انتظامیہ مقررہ تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی داخلہ بند کروا سکتی تھی ریسکیو آپریشن میں تاخیر بالکل نہیں برتنی چاہیے تھی این ڈی ایم اے کہاں رہی رات بھر؟ مری میں موجود آرمڈ فورسز بیسز سے امداد طلب کی جاسکتی تھی۔
اب وقت ہے کہ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلا جائے نوجوان لڑکوں لڑکیوں کوسول ڈیفنس کی لازمی تربیت دی جائے معلوم ہونا چاہیے کہ برف باری میں پھنسی گاڑی میں رات کیسے گزارنی چاہیے اور اگر ایسی مشکل صورتحال پیش آجائیں تو کون سے اقدامات سے جان بچائی جا سکتی ہے۔ صرف باتوں سے بات نہیں بڑھتی عملی اقدامات سے ہی ایسے حادثات کو روکا جاسکتا ہے۔
موجودہ حکومت ہمیشہ سے ہی سیاحت کو فروغ دینے کا نعرہ لگاتی ہے مگر سیاحت کو فروغ دینے کے لیے راستے آسان کیے جاتے ہیں لوگوں کے لیے سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے اپنے اداروں کو ایمانداری سے فرض شناسی پہ مامور کیا جاتا ہے انفرا اسٹرکچر بہترین بنانے کے لیے عملاً اقدامات کیے جاتے ہیں حالات کہیں نازک ہونے لگیں اور سیاحوں کی جان پہ بنی ہو تو فیصلوں میں تاخیر نہیں کی جاتی سیاحت کا فروغ محض دعووں سے ممکن نہیں۔۔پوری دنیا میں برف باری ہوتی ہے گاڑیاں بھی چلتی ہیں ٹرینیں بھی خوبصورت نظاروں کی دید کا شوق لیے سیاحوں کے لیے دواں دواں رہتی ہیں کہیں معمول زندگی رک نہیں جاتا علاقے بند کر دینے سے سیاحت اپنی موت آپ مر جاتی ہے تقاضا یہ ہے کہ حالات سازگار کیے جائیں ملک بھر سے لوگ برف باری دیکھنے ہی نکلتے ہیں۔ برف میں گاڑیاں پھنسنا، رات گاڑی میں گزارنا دنیا بھر میں معمول ہے مگر ایسے حالات میں بھاری بجٹ سمیٹتے ادارے کیوں سوئے رہتے ہیں؟ ہم نہ جانے کب سوچیں گے ایسے کئی حادثے ہوتے ہیں کچھ دن سرخیوں میں رہتے ہیں پھر ہم نہ سیکھنے کی رسم دہراتے ہوئے کسی نئے حادثے کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں اور پھر سے ہنستی مسکراتی زندگیوں کو موت کے حوالے کر بیٹھتے ہیں۔۔۔ہم بھی ناں۔۔ ناجانے کب بڑے ہونگے۔Zakia nayyar
@Nayyarzakia

آئیں بلوچستان کی بلند ترین چوٹی "لوئی سر نائیکن” کی سیر کریں۔ تحریر: حمیداللہ شاہین تحریر: حمیداللہ شاہین
کسی بھی علاقے کی خوبصورتی کا اندازہ ان میں واقع پہاڑوں کو دیکھ کر کیا جاتا ہے بلوچستان جوکہ خوبصورتی کی سرزمین ہے جو سانس لینے والی آبشاروں، شاندار گہری وادیوں اور سرسبز پھیلے ہوئے پھلوں کے درختوں سے بھی مشہور ہے۔
جنوبی بلوچستان میں واقع پہاڑی سلسلوں کا ایک وسیع علاقہ ہے، جس میں وسطی براہوی رینج ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ مشرقی ترین کیرتھر رینج کو مغرب میں پب رینج کی پشت پناہی حاصل ہے۔ جنوبی بلوچستان کی دیگر اہم حدیں سنٹرل مکران رینج اور مکران کوسٹ رینج ہیں، جن کا جنوب کی طرف کھڑا چہرہ ساحلی میدان کو باقی سطح مرتفع سے تقسیم کرتا ہے۔ مکران کوسٹل ٹریک زیادہ تر سطحی مٹی کے فلیٹوں پر مشتمل ہے جس کے چاروں طرف ریت کے پتھر ہیں۔ خشک میدان کی تنہائی کو گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبے نے توڑ دیا ہے جو روڈ ٹرانسپورٹ کے بہتر نظام کے ذریعے کراچی سے منسلک ہے۔
بلوچستان کا وسیع ٹیبل لینڈ مختلف قسم کی جسمانی خصوصیات پر مشتمل ہے۔ شمال مشرق میں ژوب اور لورالائی قصبوں پر مرکوز ایک بیسن ایک ٹریلیس پیٹرنڈ لوب بناتا ہے جو پہاڑی سلسلوں سے چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے۔ مشرق اور جنوب مشرق میں سلیمان رینج ہے جو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے قریب وسطی براہوی رینج میں شامل ہوتی ہے۔ بلوچستان کے شمال اور شمال مغرب میں توبہ کاکڑی رینج ہے۔ جو دور مغرب میں خواجہ امران رینج بن جاتی ہے
پہاڑی علاقہ راس کوہ رینج کی شکل میں جنوب مغرب کی طرف کم شدید ہو جاتا ہے۔ چھوٹا کوئٹہ بیسن چاروں طرف پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پورا علاقہ اونچی حدود کا نوڈ بنا ہوا ہے۔ راس کوہ رینج کے مغرب میں شمال مغربی بلوچستان کا عمومی لینڈفارم پہاڑوں سے منقسم نشیبی سطحوں کا ایک سلسلہ ہے۔ شمال میں چاغی پہاڑیوں کی سرحد حقیقی ریگستان کا علاقہ ہے جو اندرونی نکاسی پر مشتمل ہے۔
بلوچستان میں 2900 سے زیادہ چوٹیاں ہیں اور ان پہاڑوں میں کل 104 معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل موجود ہیں۔ لوئی سر نائیکان کوئٹہ کے مشرق میں زرغون پہاڑوں میں صوبے کی بلند ترین چوٹی ہے۔
لوئی سر نائیکان بلوچستان کی بلند ترین چوٹی ہے اور اس کی اونچائی 3578 میٹر ہے جو 11738 فٹ تک بنتی ہے۔ زرغون پہاڑ جہاں لوئے سر نائیکان واقع ہے ، تین ہزار یا چار ہزار پرانے جونیپر درختوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ پہاڑ پر چڑھنا بہت مشکل ہے شمسی تابکاری اور موسم کی خراب صورتحال چڑھائی کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔ کچھ قبریں ایسی ہیں جنہیں ٹریک پر دیکھا جاسکتا ہے لیکن لوگوں میں سے کوئی نہیں جانتا کہ ان میں کون دفن ہیں۔
تمام سمتوں میں جونیپر درختوں اور چوٹیوں کی ایک بڑی تعداد کی وجہ سے انسان الجھن میں پڑ جاتا ہے اور اپنے راستے سے ہٹ جاتا ہے۔ لوگ ہمیشہ اپنا راستہ بھول جاتے ہیں اور بعض اوقات ان چوٹیوں اور درختوں میں کھو جاتے ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے زرغون پہاڑ کے قریبی لوگوں نے لوئی سر نائیکن پر چڑھنے میں ایک شخص کی مدد کے لیے مختلف سمتوں میں کئی نشانات بنائے ہیں۔ اس چوٹی پر ایک بڑا پتھر ہے جو کسی شخص کے چہرے کی عکاسی کرتا ہے۔
لوئی سر نائیکن اپنی قدرتی خوبصورتی کے لیے مشہور ہے اور کوہ پیما اور سیاح ملک کے تمام حصوں سے اس کا دورہ کرتے ہیں۔ پنجاب کے فیصل آباد کے ایک مسافر احمد نے بتایا کہ یہ چوٹی بلوچستان کے لوگوں کے لیے قدرت کے خوبصورت تحفوں میں سے ایک ہے۔
اگر آپ بلوچستان کی خوبصورتی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو اس چوٹی پر آئیں اور آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ قدرت نے اس علاقے کو نہ صرف قدرتی وسائل سے نوازا ہے بلکہ اس نے صوبے میں اس طرح کے خوبصورت سیاحتی مقامات بنائے ہیں۔
ہم حکومت بلوچستان سے بھی تعاون کی اپیل کررہے ہیں کہ صوبہ میں سیاحتی مقامات کا خاص خیال رکھا جائے اور یہ اگاہی پھیلائی جائے کہ بلوچستان ہر ایک کے لئے محفوظ ہے، تاکہ زیادہ سے زیاد لوگ بلوچستان کا رخ کرے اور یہاں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوں۔
@iHUSB

سیر وسیاحت تحریر:سعد اکرم
دنیا بھر میں سیاحت کا شعبہ سیر وتفریح ہی نہیں بلکہ اب موجودہ دور میں معیشت کا ایک پہیہ بن چکا ہے اور دنیا بھر میں ہر سال 27 ستمبر کو یوم سیاحت منایا جاتا ہے سیاحت کی وجہ سے ایک ملک کے شہریوں کو دوسرے ملک دیکھنے کا شوق اور موقع ملتا ہے سیاحت کے شعبہ میں سب سے پہلے سوئٹزرلینڈ آسٹریا مریکہ کی کچھ ریاستیں جرمنی فرانس برطانیہ جہاں پر سیر وتفریح کے مقامات کے علاوہ سیر وتفریح کی سہولیات دی جاتی ہیں جس سے زرمبادلہ کا تبادلہ مختلف ملکوں کے درمیان جڑا رہتا ہے پاکستان میں 80 کی دہائی کے بعد پاکستان کے شمالی علاقہ جات خیبر پختون خواہ کے علاقے سوات مالم جبہ چترال شانگلہ کوہستان گلیات کاغان ناران شوگران اور گلگت بلتستان کے خوبصورت مقامات غیر ملکی سیاحوں کی دریافت ہیں پنجاب میں بھوربن مری کیھوڑہ بہاولپور ڈیرہ غازی خان کے مقامات بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں
سیاحت ایک شوق ہی نہیں بلکہ کل وقتی صنعت ہے اس سے وابستہ افراد ہوٹل ٹرانسپورٹ ٹریولنگ ایجنسی اور خوراک کی سہولیات دیتے ہیں لاکھوں افراد کو روزگار ملتا ہے دوسرے ممالک کی طرح اب پاکستان میں بھی سیاحت ایک ادارہ بن کر فروغ پا رہی ہے جس میں حکومتی اور سماجی شراکت دار نہ خود مستفید ہوتے ہیں بلکہ دوسرے لوگوں کے کاروبار میں معاون کا کردار بھی ادا کرتے ہیں سیاحت انڈسٹری کی شکل اختیار کرنے کے بعد جہاں پر لاکھوں لوگ نہ صرف روزگار حاصل کرتے ہیں وہاں پر کروڑوں افراد سیر وسیاحت کرتے ہیں خن کیلئے ان سیاحتی مقامات پر
سرکاری یہ غیر سرکاری طور پر رہائش کھانا یہ ٹرانسپورٹ کے نرخنامے مقرر نہیں کیے جاتے جس کی وجہ سے ان سیاحوں سے سیاحتی انڈسٹری کا درجہ رکھنے والے افراد دگنا ریٹ وصول کرتے ہیں جس میں سیاحت کو کمی کا خطرہ ہے اس طرح سیاحتی ایریا جہاں پر خوبصورت مقامات موجود ہیں وہاں پر پختہ سڑکیں نہیں بنی ہوئی جس کی وجہ سے سیاحوں کو وہاں پہنچنا دشوار ہوتا ہے ایک طرف سیاحوں کو وہ مقامات دیکھنے کا موقع نہیں ملتا دوسری طرف ان ہی مقامات پر کھانے پینے یہ دیگر سہولیات کی فراہمی کے انتظامات نہ ہونے سے مقامی افراد بے روزگاری کا شکار ہیں اگر سیاحت کا دعوٰی سچ ثابت کرنا ہے تو حکومتوں کو ان مقامات کیلئے سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کی طرف شعور اور آگاہی اجاگر کرنا اور ٹیکس کی شرائط ختم کرنا ہوں گی کاغان ویلی میں اب بھی پہاڑوں پہ کئ ایسی جھیلیں موجود ہیں جہاں پہ سیاح یہ مقامی افراد نہیں جا سکتے ہیں اس ویلی کی سب سے خوبصورت جھیل دودی پت سر پہ جانے کیلئے آپ کو دو دن پیدل ٹریک پر سفر کرنا پڑتا ہے بابو سر ٹاپ کے پاس دو خوبصورت جھیلیں موجود ہیں دھرم سر جھیل اور سمبک سر جھیل جن پر سیاح اپنی فیملیز کے ساتھ نہیں جا سکتے وہاں پر کئ بار سیاحوں کے ساتھ لوٹ مار کے واقعات رونما ہوئے ہیں یہ علاقہ سال میں صرف پانچ مہینے کھلا رہتا ہے باقی برفباری کی وجہ سے سارا سال بند رہتا ہے اور یہی شاہراہ گلگت تک جاتی ہے صوبائی حکومت کو چاہیئے اس راستے پر پولیس چوکیاں قائم کی جائیں تا کے سیاح اور مقامی افراد بھی بغیر کسی خوف خطرے دن رات سفر کر سکیں یہ مقامی لوگوں کیلئے بہت فائدے مند ثابت ہو گا کیونکہ مقامی آبادی ٹورازم سے وابستہ ہے اور اس سے مقامی لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے گزشتہ دنوں جب وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب ناران تشریف لائے تھے تو انھوں نے بھی ٹورازم کو پروموٹ کرنے کی بات کی تھی جو کچھ حد تک درست ثابت ہوئ جن میں کاغان ویلی سے اب جنگلات کا کٹاو ختم کر دیا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے بے دریغ جنگل سے لکڑی کاٹ کے سمگل کی جاتی تھی ٹراوٹ فش جو دریائے کنہار کی ایک نایاب سوغات ہے اور بلکل ختم ہونے کے قریب تھی اس کے شکار پر بھی پابندی لگائ گئ اور شکار کرنے والوں کو جرمانے اور سزائیں دی گی پاکستان میں دنیا کے خوبصورت ترین پہاڑ اور ان پہاڑوں پہ چار موسم اور خوبصورت جنگلات لہلہاتے کھیت اور درجنوں آبشار کھلے میدان اور پرانے قلعے سیاحت کے حب ہیں ضرورت اس امر کی ہے ان سیاحتی مقامات تک رسائی قمیتوں میں کمی اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے
@SaadAkram_9 twiter handle

ارفع کریم،نصرت فتح علی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ان سے منسوب مونومینٹس کو شہر کی مختلف شاہراؤں پر نصب کریں گئے۔ عاصمہ اعجاز چیمہ
فیصل آباد(عثمان صادق) فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے وفد نے ڈائریکٹر جنرل پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی عاصمہ اعجاز چیمہ سے پی ایچ اے کے مرکزی دفتر میں ملاقات کی اور شہر کی سر سبز و شادابی و خوبصورتی کے حوالے سے مختلف اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔چیمبر آف کامرس کے وفد کی طرف سے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے جاری کاموں کوسراہا اور مستقبل میں ادارے کی معاونت کی یقین دہانی کرائی گئی۔ڈی جی نے وفد کو شہر کی خوبصورتی کے حوالے سے بنائے گئے ماسٹر پلان کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ارفع کریم رندھاوا،نصرت فتح علی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ان سے منسوب مونومینٹس کو شہر کی مختلف شاہراؤں اور چوراہوں پر نصب کرانے کا پلان ہے۔انہوں نے بتایا کہ انڈسٹریل اور کاروباری شخصیات کی نمائندہ تنظیم ہونے کے ناطے چیمبر کو شہر کی تعمیر اور ترقی کے حوالے سیآئندہ بھی بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ شہر کو کلین اینڈ گرین بنایا جا سکے۔

خطہ پوٹھوہار تاریخی ورثہ تحریر عزیزالرحمن
پوٹھوہار قدیم تاریخی خطہ ہے یہ مشرق میں دریائے جہلم اور مغرب میں دریائے سندھ کا درمیانی علاقہ ہے جو جنوب کی طرف سالٹ رینج اور شمال میں مری کے پہاڑی سلسلے سے ملتا ہے ۔ پوٹھوہار کا علاقہ اپنے اردگرد کے علاقوں سے بلندی پر واقع ہے جہلم’ چکوال’ اٹک’ راولپنڈی اور اسلام آباد پر مشتمل ہے۔
پوٹھوہار کے تاریخی ورثوں میں پہلا تعارف روات قلعے سے ہے جس کی ایک قدیم تاریخ ہے۔ سولہویں صدی میں یہ قلعہ گکھڑ سردار سارنگ خاں کے قبضے میں تھا جس نے شیر شاہ سوری کے مقابلے میں مغلوں کا ساتھ دیا اور میدانِ جنگ میں شیر شاہ سوری کے بیٹے اسلام خان کے بڑے لشکر سے بے جگری سے لڑتا ہوا اپنے سولہ بیٹوں کے ہمراہ اپنی مٹی پر قربان ہوگیا۔ پوٹھوہار کے اس سپہ سالار کی قبر آج بھی قلعہ روات کے صحن میں واقع ہے۔ پوٹھوہار کے ایک اور تاریخی قلعے روہتاس جو جہلم کے قریب کچھ فاصلے پر واقع ہے۔ یہ قلعہ شیر شاہ سوری نے 1541ء میں تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ قلعہ تعمیر کرنیوالوں نے جگہ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ یہ ایک بلند مقام تھا جہاں سے پانی زیادہ دور نہ تھا اور قلعے کی فصیل سے کشمیر کے راستے پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔
پوٹھوہار کے ایک اور قلعے اٹک جو طرزِ تعمیر کا انوکھا شاہکار ہے جسے اکبر بادشاہ نے سولہویں صدی میں تعمیر کرایا تھا اور جس کی تعمیر کا بنیادی مقصد دریائے سندھ پر حملہ آوروں کی گزرگاہ پر نظر رکھنا تھا۔ دریائے سندھ کے کنارے یہ اہم قلعہ بعد میں بہت سے حکمرانوں کی آماجگاہ رہا۔ پوٹھوہار کے ایک پُراسرار شہر جسے دنیا ٹیکسلا کے نام سے جانتی ہے۔ ٹیکسلا کا شہر اور اس سے جڑی قدیم تاریخ کا تذکرہ اب عالمی سطح پر ہوتا ہے۔ ٹیکسلا کی تہذیب 700 قبل مسیح کی ہے۔ ٹیکسلا کی اسی سرزمین پر چندر گپت موریا نے ایک عظیم الشان سلطنت کی بنیاد رکھی تھی’ یہیں جولیاں کے مقام پر وہ قدیم ترین یونیورسٹی ہے جہاں دنیا کے مختلف ممالک سے لوگ علم حاصل کرنے آتے تھے۔ دنیا میں سنسکرت کا اولین گرامر نویس پانینی (Panini) بھی اسی درسگاہ میں پڑھاتا تھا۔ معروف دانشور چانکیہ کا تعلق بھی اسی یونیورسٹی سے تھا’ وہی چانکیہ جس کی کتاب ”ارتھ شاستر” کو لوگ اب بھی مملکت کے اسرارووموز سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔ 326 قبل مسیح میں یہیں سے سکندرِ اعظم ہندوستان کی حدود میں داخل ہوا اور پھر ایک مقامی راجہ پورس جس کی سلطنت میں پوٹھوہار کا علاقہ بھی شامل تھا نے سکندر کی پیش قدمی کو روک دیا۔ یہ تاریخ میں پنجاب کی پہلی مزاحمت تھی۔
پوٹھوہار کا خطہ صوفیاء کرام سے بھی زرخیز ہے گولڑہ کے پیر مہر علی شاہ اور حضرت بری امام سرکار نے اس خطے میں دین اسلام کی بہت خدمت کی ہے ۔ راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم پر گولڑہ میں پیر مہر علی شاہ کا مزار ہے۔دوسری طرف اسلام آباد میں بری امام کا مزار بھی عقیدت مندوں کا مرکز ہے۔ پوٹھوہار میں قدم قدم پر تاریخ کے خزانے ملتے ہیں۔ کئی تہذیبوں کے نشان ملتے ہیں۔ ایک طرف کٹاس راج کا قدیم ہندو مندر ہے’ پھر نندنہ کی وہ پہاڑی جہاں بیٹھ کر البیرونی نے زمین کے قطر کی پیمائش کی تھی۔ دوسری طرف مانکیالہ میں بدھوں کا ایک بہت بڑا سٹوپا ہے جسے توپ مانکیالہ کہتے ہیں۔ چکوال میں سکھوں کا قدیم خالصہ سکول اور حسن ابدال میں سکھوں کے روحانی پیشوا کی جنم بھومی پنجہ صاحب واقع ہے ۔
پاکستان کا پہلا نشانِ حیدر پوٹھوہار کے علاقے گوجر خان کے کیپٹن سرور شہید کو ملا۔ پوٹھوہار کا اعزاز ہے کہ دو نشانِ حیدر کا اعزاز پانے والوں کا تعلق اس علاقے سے ہے کیپٹن سرور شہید اور لانس نائیک محمد محفوظ شہید۔
پوٹھوہار قلعوں’ تاریخی عمارتوں’ صوفیوں اور بہادروں کا خطہ ہے جسے جاننے کا مرحلہ کبھی مکمل نہیں ہوتا۔
@The_Pindiwal

مری میں سیاحوں کو درپیش مسائل تحریر: سعادت حسین عباسی
سیاحت کسی بھی ملک یاشہرکا ایک بہترین سرمایہ ہوتا ہے جس سے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کا روزگار چلتا ہے اور سیاحت کو بہترین سرمایہ کاری کے طور پر مانا جاتا ہے آج میں مری کی سیاحت کے حوالے سے ذکر کروں گا۔ چند روز قبل فیملی کے ہمراہ میرا مری جانے کا اتفاق ہوا، بہت سی چیزیں میری توجہ کا مرکز بنی جن میں مری کی خوبصورتی اور وہاں کا فضائی ماحول ہے لیکن ان سب سے ہٹ کر کچھ ایسی بھی چیزیں تھی جو ہر سیاح کو اپنی طرف متوجہ کرواتی ہیں آج میں ان مسائل کو اس امید سے اپنے کالم میں ذکر کروں کہ تاکہ مری انتظامیہ وپولیس کی توجہ اس طرف مبذول ہو اور ان مسائل کو دور کیا جائے تاکہ مری کی سیاحت محفوظ اور پرامن ہو۔ صبح نو بجے کے قریب میں جھیکا گلی کے بازار میں پہنچا اور وہاں ناشتے کے لیے رکا گاڑی میں ہی ناشتے کا آرڈر کیا اور ناشتہ منگوایا اسی اثناء گاڑی کی دونوں اطراف کو بھکاری بچوں اور چند خواتین نے گھیر لیا اور زور زور سے گاڑی کے شیشے پر ہاتھ مارنے لگے، آخر تنگ آکر میں گاڑی سے اترا تو وہاں پاس میں موجود ٹریفک پولیس کے اہلکار سے ان کے بارے میں شکایت کی تو ان صاحب نے کہا کہ ہم اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتے ان کو یہاں سے ہٹانا ہمارا کام نہیں، وہاں پر موجود مقامی لوگوں سے بات کی تو پتہ چلا کہ متعلقہ تھانہ کے اہلکار ان سے پیسے لیتے ہیں اور ان کو کھلی اجازت دی ہوئی ہے یہاں پر طرح کی من مانی کرنے کی، یہ سینکڑوں کی تعداد میں افغانی خواتین اور بچے ہیں جو کئی مہینوں سے یہاں پر موجود ہیں اور ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کو یہاں سے ہٹایا جاتا ہے یہ سب جھیکاگلی مری مال روڈ اور اردگرد کے سیاحت کے پوائنٹس پر پھیلے ہوئے ہیں، واپس آکر گاڑی نکالی اور آگے بڑھا تو پیچھے سے کسی بچے نے ایک لکڑی اٹھا کر شیشے پر دے ماری، ان بھکاریوں کی آئے روز کی بدمعاشی اور من مانی کی وجہ سے بہت سارے سیاح اب مری کی طرف رخ نہیں کرتے اور اگر بدستور ایسا ہی رہا تو مری سے سیاحت ختم ہوتی جائے گی اس لیے مقامی انتظامیہ وپولیس کو ان کا سد باب کرنا چاہیے اور مری کے امن کو بحال رکھنا ہوگا۔ دوسرا بڑا ایشو ٹریفک کا ہے جب جھیکا گلی سے مال روڈ کی طرف جاتے ہیں تو کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں دو، تین کلو میٹر کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے، پارکنگ مافیا نے روڈ کی سائیڈ پر پارکنگ بنائی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک جام رہتی ہے اور اس کے علاوہ سب سے اہم ایشو جس کا یہاں ذکر کرنا نہایت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ مال روڈ پر بہت سارے اوباش نوجوان گھوم رہے ہوتے ہیں جو خواتین اور فیملیز کو ہراساں کرتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر بہت سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جن میں اوباش لوگوں کی طرف سے خواتین وفیملیز کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ اس لیے میری اسسٹنٹ کمشنر مری اور پولیس سے یہ التجا ہے کہ خدارا مری ایک پرامن سیاحتی مرکز ہے اس کے امن کو بحال رکھیں اور سیاحوں کو درپیش مسائل کو جلد سے جلد دور کریں اور مری کی قدیمی سیاحت کے باب کو برقرار رکھیں تاکہ سیاح فیملیز اور خواتین خود کو اس خوبصورت ہل اسٹیشن پر محفوظ سمجھیں اور اپنی چھٹیاں سکون کے ساتھ یہاں گزاریں اور مری کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوسکیں۔
ٹویٹر:
https://twitter.com/IamSaadatAbbasi?s=09

قدرتی و تعمیراتی فن کا حسین امتزاج- پاکستان تحریر: سید غازی علی زیدی
سرزمین پاکستان کو خالق کائنات نے بے انتہا خوبصورت نظاروں سے مزین کیا ہے۔ کہیں دیوسائی کا ٹھنڈا صحرا تو کہیں تھر کا ریگستان، کہیں کشمیر جنت نظیر تو کہیں حسن چترال کا اسیر، الحمدللہ دل کھول کر حسن عطا کیا گیا ہے اس ارض پاک کو۔
چوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخن
تو زمیں پر اور پنہائے فلک تیرا وطن
قدرتی صناعی سے بھرپور سبزہ زار چمن ہوں یا انسانی کاریگری کا شاہکار عظیم الشان تعمیراتی عمارتیں، پاکستان بلاشبہ دونوں میں بے مثال ہے۔ میلوں پھیلے صحرا، پراسرار وادیاں، خواب ناک جھیلیں، بل کھاتی ندیاں، فلک بوس پہاڑ، گھنے جنگلات، قدیم ترین چٹانیں، برف پوش چوٹیاں، نایاب چرند پرند، قیمتی جواہرات، رسیلے پھل، گنگناتی آبشاریں اور خطرناک ترین چشمے، تعمیراتی حسن کے نمونے، تاریخی کھنڈرات، نادر کاریگری کے شاہ پارے، مساجد و درگاہیں، ثقافت و اقدار کے امین فن تعمیر کے نادر نمونے، غرض پاکستان رنگ و نور اور حسن و جمال کا بہترین امتزاج ہے۔ تہذیب و ثقافت اپنی تمام تر رنگینیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہے۔
پاکستان قدیم ترین تہذیبوں کا گہوارہ – مہر گڑھ سے موہن جوداڑو تک، گندھارا سے ہڑپہ تک، مختلف ادوار تاریخی ورثہ کی صورت میں محفوظ ہیں۔ پاکستان کا تاریخی ورثہ ہماری صدیوں پرانی تہذیب کی نمائندگی کرتاہے۔
ہر خطہ ارض اپنی مخصوص و منفرد روایات، تہذیب وثقافت کا حامل ہوتا ہے اور یہی طرزِ معاشرت نہ صرف قوموں کی تاریخ مرتب کرتی بلکہ معاشرتی رہن سہن کی بھی عکاسی کرتی۔ تہذیب و ثقافت کا تحفظ کئے بغیر کوئی ملک دنیا میں اپنی شناخت قائم نہیں رکھ سکتا۔ پاکستان کی خوش قسمتی کہ ہمارا ملک قدیم ترین تہذیبوں کا وارث ہے۔ یہاں کے طرز ثقافت میں مختلف رنگوں اور تہذیبوں کی واضح چھاپ ہے۔ مکلی کا قبرستان ہو یا جہلم کا قلعہ، بدھا کے نایاب مجسمے ہوں یا مغلوں کے نارد زیورات، شاہی قلعہ لاہور ہو یا نور محل بہاولپور، لارنس گارڈن ہو یا شالیمار باغ، ہر تہذیب، ہر دور کے حسین اثار اپنی الگ چھب کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔
وہی قومیں تاریخ میں زندہ و جاوید رہتی ہیں جو اپنے تاریخی ورثے کی نہ صرف حفاظت کرتی ہیں بلکہ آئندہ نسلوں کیلئے اسے محفوظ بھی بناتی ہیں۔ تاریخ میں نہ صرف عجیب کشش ہوتی بلکہ بے شمار اسباق بھی پوشیدہ ہوتے۔ ایک علم کا گہرا سمندر ہوتا جسے تلاش کرنا ہوتا گہرائیوں کو ناپنا ہوتا تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی میں ان اسرار و رموز سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اپنی تہذیب و ثقافت کو فراموش کرنے والے نہ گھر کے رہتے ہیں نہ گھاٹ کے۔ ماضی کی روایات ، اقدار میں سبق بھی ہوتا اور عبرت بھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے ماضی سے دستبردار ہو جاتی ہیں ان کا مستقبل بھی ختم ہو جاتا۔ اس لئے ماضی کی اقدار کی حفاظت اور نسل نو کا ان سے تعارف مستقبل کو محفوظ و تابناک بنانے کیلئے از حد ضروری ہے۔ نہ صرف ہمارا قومی فریضہ ہے بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہے جس سے ہم صرف نظر نہیں کر سکتے۔
ہر روز نئے لوگ ، نئی رت ، نئے ساحل
یہ زندگی نایافت جزیروں کا سفر ہے
@once_saysسیاحت کے فروغ میں ڈیجیٹل میڈیا کاکردار تحریر: محمد عابد خان
ہمارا وطن پاکستان انتہائی دلکش اورخوبصورت سیاحتی مقامات سے بھرا ہوا ہے۔سیاحت کا فروغ ، نئے سیاحتی مقامات کی تلاش اور آثار قدیمہ کو محفوظ بنانا،سیاحوں کا تحفظ ، سیاحتی علاقوں کوسہولیات کی فراہمی اور متعلقہ امور کوفروغ دینا ہے۔سیاحت کا شعبہ پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتاہے، پاکستان میں سیاحتی شعبے میں ترقی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے.وطن عزیزپاکستان جغرافیائی اعتبار سے بھی دنیاکا ایک منفرد اور خوبصورت ترین ملک ہے۔یہاں وسیع و عریض سمندر ہیں ، لق و دق صحرا ہیں۔ بالخصوص ملک کے حسین ترین خطےخیبر پختو نخوا کے قبا ئلی اضلاع کو وطن عزیز پاکستان کے ماتھے کا جھومر کہاجائے تو بے جانہ ہو گا۔ جہاں خوبصورت پہاڑ اور سر سبز و شاداب وادیاں ہیں۔سیاحت کے فروغ کے لئے کسی ملک کےتاریخی وثقافتی ورثوں اور سیاحتی مقامات کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے،سیاحت کے فروغ کے لئے جہاں تاریخی و ثقافتی مقامات اور سیاحوں کے لئے سہولتوں کی فراہمی درکارہوتی ہے وہاں امن و امان کا قیام بھی بنیادی ضرورتوں میں سے ہے۔ بد قسمتی سے
پاکستان میں ایک عرصہ تک امن و امان کے مسئلے کی وجہ سے سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر رہا۔لیکن پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیاکےزریعے عالمی سطح پر پاکستان کو ایک پرامن ملک پیش کیا گیا جس کے بعد سیاحوں نے پاکستان کی طرف رخ کرنا شروع کردیا۔ان ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم میں ایک نام کانسپٹ ٹی وی کا بھی ہے جو بیک وقت تین زبانوں ،پشتو،اردو اور انگریزی زبان میں ادب، ثقافت،سیاحت،امن اورکھیل بارے مختلف آرٹیکل اور خبریں اپنےنیوز ویب سائٹ پر پبلش کرکے سوشل میڈیااکاونٹس سے جاری کرکے عالمی سطح پر پاکستان کا امیج گراف بڑھا دیا جس کی وجہ سے پاکستان کا پرامن اور پر سکون ماحول دنیا میں مثالی اور عالمی سیاحوں کے لئے کشش کا باعث بن گیا ۔ ان کے علاوہ باغی ٹی وی کا کردار لائق تحسین ہے جس نے بھی اپنی خبروں اور مضامین کے زریعے پاکستان، خاص طور پر خیبر پختو نخوا اور قبائلی علاقوں میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، یہی وجہ ہے کہ عید کے دوران خیبر پختونخوا میں لاکھوں سیاحوں کی آمد کااندازہ لگایا گیا ہے ۔
عید کی تعطیلات ختم ہو نے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے عید الاضحیٰ کے موقع پر صوبہ کے سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی آمد کی رپورٹ جاری کردی تھی جس کے مطابق 27 لاکھ ستر ہزار سیاحوں نے سیاحتی علاقوں کا دورہ کیا ، کثیر تعداد میں سیاحوں کی آمد سے 66 ارب سے زائد کا کاروبار ہوا جبکہ مقامی معیشت کو 27 ارب سے زائد کا فائدہ ہوا، سرکاری دستاویز کے مطابق عید کے دوران دس لاکھ 50 سے زائد سیاحوں نے سوات کا رخ کیا، گلیات دس لاکھ اور کمراٹ میں ایک لاکھ 20 ہزار سیاحوں نے سیر کی، وادی کاغان میں سات لاکھ سے زائد جبکہ چترال 50 ہزار سیاحوں کی آمد ہوئی ،عید کی چھیٹوں میں سات لاکھ 20 ہزار گاڑیاں سیاحتی علاقوں میں داخل ہوئیں، سیا حوں نے تین دن تک سیاحتی مقامات پر عید کی تعطیلات گزاریں، آیام عید کے دوران مقامی لوگوں کے روزگار و آمدن میں اضافہ ہوا، تازہ ترین رپورٹ کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں سیاح اب بھی صوبے کے سیاحتی مقامات میں سیر و تفریح کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخوا محمود خان نے صوبہ خیبر پختونخوا کے سیاحوں کی آمد بارے رپورٹ وزیر اعظم عمران خان سے ایک ملاقات میں پیش کی تھی جس کو وزیر اعظم عمران خان نے بے حد سراہا اور صوبائی حکومت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین کی۔ سیاحت دنیا بھرمیں اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اسےدنیا کے مختلف ممالک میں انڈسٹری کا درجہ دیا گیا ہے ۔تہذیبی و ثقافتی اقدار اور تاریخی آثار کو ملک و قوم کے روشن مستقبل کے لئے بروئے کار لانا دانشمندقوموں کا وطیرہ ہوتا ہے ۔ ہماری ثقافتی سرگرمیاں پائیدار قومی تعمیر و ترقی کی ضامن ہونی چاہئیں۔

قلعہ روہتاس کا تاریخی پس منظر تحریر:فاروا منیر
قلعہ روہتاس شمال مشرقی پاکستان میں جدید شہر جہلم کے قریب واقع ایک اسٹریٹجک چوکی ہے۔ اسے افغان بادشاہ شیر شاہ سوری نے معزول مغل شہنشاہ ہمایوں کو اپنی سابقہ بادشاہت میں واپس آنے سے روکنے کے ارادے سے نام نہاد "پرانے راستے” کے ساتھ بنایا جو شمال سے پنجاب کے میدانوں کی طرف جاتا ہے ۔
ہمایوں کو پہلے شیر شاہ سوری نے چوسا میں شکست دی تھی اور وہ ایران فرار ہو گیا تھا ، لیکن اسے خدشہ تھا کہ اگر ہمایوں پنجاب واپس آنے میں کامیاب ہو گیا تو ہمایوں کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے ۔ شیر شاہ سوری کی دوسری تشویش گکھڑ قبائل کو سزا دینا اور شکست دینا تھا جو وادی کا کنٹرول رکھتے تھے اور مغلوں کے روایتی حلیف تھے۔قلعہ کا نام شاہ آباد ضلع کے روٹاس گڑھ کے گڑھ سے لیا گیا ہے جسے شیر شاہ سوری نے 1539 میں ایک ہندو شہزادے سے قبضہ میں لیا تھا۔ قلعے پر کام اس کے وزیر محصولات توڑ مال کھتری کی نگرانی میں 1541 میں شروع ہوا۔ تاہم ، گکروں کی مقامی آبادی دیہاڑی دار کے طور پر کام کرنے کو تیار نہیں تھی، اور پھر تعمیر تیزی سے رک گئی۔ ٹوڈر مال کھتری نے شیر شاہ سوری کو ان مشکلات کے بارے میں لکھا اور بادشاہ نے جواب دیا کہ ان کی حکومت تعمیر کے اخراجات کے لیے کوئی بھی اخراجات برداشت کرے گی۔ اس حوصلہ افزائی کے ساتھ ، ٹوڈر مال کھتری اجرت بڑھانے میں کامیاب ہو گیا جس نے کئی گکروں کو رینک توڑنے اور تعمیراتی کوششوں میں شامل ہونے پر اکسایا۔ اگرچہ تعمیر کے دوران روزانہ کی تنخواہ کئی بار کم کی گئی تھی ، لیکن پھر بھی شیر شاہ سوری کے قلعے کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کافی تھا۔
قلعے کی ترتیب تقریباتکون سی ہے اور چار کلومیٹر کی دیواروں ، 68 گڑھوں اور تقریبا a ایک درجن بڑے دروازوں پر مشتمل ہے۔ قلعے کے شمال مغربی کونے کو باقی قلعے سے 530 میٹر لمبی دیوار سے تقسیم کیا گیا ہے جو ایک علیحدہ قلعہ کا علاقہ قائم کرتا ہے جو کہ بہت زیادہ قلعہ بند تھا۔ اس میں شاہی مسجد اور حویلی مان سنگھ (قلعہ کے اندر سب سے اونچی جگہ پر تعمیر) سمیت کئی بقیہ تعمیراتی آثار بھی شامل ہیں۔ یہ سٹیپ ویلز (باؤلی) سے بھی لیس ہے حالانکہ یہ قلعے کے زیادہ سے زیادہ علاقے میں جنوب مشرق میں بھی پائے جاتے ہیں۔
قلعے کی دیواریں موٹائی میں مختلف ہیں اور شمالی فریم پر موری گیٹ کے قریب زیادہ سے زیادہ 12.5 میٹر کی گہرائی تک پہنچتی ہیں جبکہ ان کی اونچائی 10 سے 18.3 میٹر تک ہے۔ بنیادی تعمیراتی مواد سینڈ اسٹون کورس ملبے کی چنائی تھی جس میں چونے کے ساتھ دانے دار اینٹوں کے پاؤڈر ملا ہوا تھا۔ دروازے بہت مضبوط ایشلر چنائی سے بنائے گئے ہیں۔ بہت سی جگہوں پر دیواروں میں والٹڈ چیمبرز ہوتے ہیں جو اسٹوریج اور دیگر سامان کے لیے استعمال کیے جاتے تھے جن کی ضرورت تقریبا 30،000 فوجیوں کو تھی جو وہاں تعینات کیے جا سکتے تھے۔
شیر شاہ سوری قلعہ مکمل طور پر مکمل ہونے سے پہلے ہی مر گیا اور جب ہمایوں پنجاب پر حکومت کرنے کے لیے واپس آئے تو قلعے کا بنیادی مقصد بے کار ہو گیا۔ ایک بڑی ستم ظریفی ، یہ قلعہ پھر گکروں کا دارالحکومت بن گیا-جن لوگوں کو شیر شاہ سوری نے زیر کرنا تھا۔ اگرچہ قلعہ اس وقت سے مغلوں کے کنٹرول میں تھا اس کے بعد یہ شہنشاہوں میں زیادہ مقبول نہیں تھا کیونکہ اس میں باغات اور دیگر عظیم الشان فن تعمیر کا فقدان تھا جس کے وہ عادی ہو چکے تھے۔ یہ اب ایک فوجی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ گکر مستحکم مغل اتحادی رہے۔ قلعے کی ریمائیلائزیشن صرف مغلوں کے ختم ہوتے سالوں میں شروع ہوئی جب سکھ شہنشاہ راجیت سنگھ نے پنجاب کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ایک حوصلہ افزا جنرل گورمک سنگھ لمبا نے 1825 میں گکھڑ کے سردار نور خان سے قلعہ پر قبضہ کر لیا ، اور یہ بعد میں سردار موہر سنگھ کے حوالے کر دیا گیا اور بعد میں دوسروں کو لیز پر دے دیا گیا۔ قلعہ کا آخری فوجی استعمال اس وقت ہوا جب راجہ فضل دین خان نے شیر سنگھ کو بغاوت میں شامل کیا ، حالانکہ قلعے پر کوئی کارروائی نظر نہیں آئی۔
Follow @Fatii_PTI








