Baaghi TV

Category: تفریح و سیاحت

  • تھائی لینڈ کی سیر  حصہ دوم تحریر محمد آصف شفیق

    تھائی لینڈ کی سیر  حصہ دوم تحریر محمد آصف شفیق

     

    تھکے ہارے پیدل چلتے چلتے  گوگل میپ  کے سہارے ہوٹل تلاش کرنے میں کامیاب ہوگیا    ہوٹل کے کاونٹر پر موجود عملے نے مسکراتے چہروں سے استقبال کیا  اور ریزرویشن کی  تفاصیل  طلب کی ہم نے بھی سب کچھ موبائل میں ہی  رکھا ہوا تھا  آنے کا مقصد پوچھا  بتا یا بزنس ٹرپ  ہے تو  آو بھگت میں کچھ زیادہ اضافہ  محسوس کیا  ٹھنڈا پانی پیش کیا گیا اور ہال میں موجود  صوفے پر  بیٹھنے اور  کچھ  دیر انتظار کا کہا گیا 

    یہا ں  پہنچ کر پتا  چلا کہ چیک آوٹ کا وقت   دو بجے ہے اور  کمرہ تیار کرکے واپس ہمیں  چار بجے   تک ملے  گا  یعنی  پورے  چار گھنٹے  ہال میں  صوفہ پر  بیٹھ کا  چپ چاپ انتظار کرنا ہوگا کہ کب  چار بجیں  اور کب  ہمیں  اپنا کمرہ ملے    ، موسم وہاں کا کافی  گرم  تھا  اور ہوا میں  نمی کی وجہ سے  اے سی ہال  سے  باہر نکلتے  ہی پسینے  چھوٹنے  لگتے  میں نے بھی   صوفہ پر ہی دراز ہونامناسب سمجھا اور خاموشی سے   اپنی  باری کا انتظار شروع کردیا

    چار بجنے سے  پورے دس منٹ پہلے کمال  مہربانی کرتے ہوئے عملے نے   کارڈ تھما دیا اورہم نے  بھی لفٹ کی  راہ لی سارا ہی نظام ڈیجیٹل  تھا ہم  نے بھی پہلی بار کسی اچھے ہوٹل میں  رہائش  رکھی  تھی  لفٹ کھول لی مگر دو تین بار مختلف  بٹن  دبانے کے  بعد بھی جب  کچھ  نہ بنا تو چارو ناچار  باہر کھڑے  سیکیورٹی  گارڈ کو بتایا کہ بھائی  ساتویں  فلور پر کس طرح جائیں  اس نے  بھی کمال بے نیازی سے میرا کارڈ  لیا اور سینسر کے آگے کر کارڈ واپس کر کے  باہر نکل  گیا  تو ہمیں سمجھ آئی  کہ بھائی  آئندہ  یہ کرشماتی  کارڈ ہی کام  آئے گا ہر جگہ   ، ہوٹل کا محل وقوع بہت اچھا تھا   مین  بازار  صرف دس پندرہ منٹ میں  پیدل  جایا  جا سکتا تھا

      کراچی سے بینکاک مسلسل  پانچ گھنٹے کی نان سٹاپ فلائٹ اور موسم کی خرابی کی وجہ سے سارا راستہ بیلٹ باندھ  کر  گزارنے اور  ناہموار فلائٹ نے ٹھیک  ٹھاک  تھکا دیا تھا  اور اتر کر جیسے ہی  نیٹ کی سم لے لر موبائل اون کیا تو کراچی  اوبر پر سفر جو کہ تین  سو میں تھا اور اس ظالم نے تیرہ سو لے لئے  اس کی ای میل موصول ہونے سے تھکن  میں اضافہ ہو گیا  سب سے پہلے  گھر والوں کو خیریت سے پہنچنے  کی  خبر دی اور چینج کرکے  سونے کی تیاری  کی   ، ہر بندے میں اچھی  بری عادات  ہوتی ہیں  مجھ میں بھی ہیں  پینٹ شیلٹ کا استعمال صرف  دفتر اور سفر میں ہی کرتاہوں باقی اوقات میں  شلوار قمیض  پہننا ہی معمول وہاں پہنچ کر سب سے پہلے  قومی لباس پہنا اور  سو گئے  

    اچھا خاصا سونے کے بعد بھوک نے تنگ کیا تو چاروناچار  اٹھے نہا کر فریش ہوکر تیاری  کرنا چاہی کپڑے استری کرنے کیلئے ہیلپ لائن پر کال کی تو  فوراً ہی استری مہیا کردی گئی  کپڑے استری کئے  اور  اپنے پرانے تجربے کی روشنی میں ہوٹل  کی لوکیشن  ویٹس ایپ پر شئر کر لی  تاکہ  بوقت ضرورت کام آسکے پہلے   بھی ایک دفعہ سیر کو نکلے تھے تو ہوٹل کا راستہ بھول گئے تو کافی دوڑ دھوپ  کرنی پڑی تھی تب سے اب تک جہاں بھی جاتے ہیں  فوراً وہاں   کی لوکیشن  شئر کر لیتے ہیں  میں نے تو یہ معمول بنا لیا ہے جہاں جائیں   احتیاطاً ایسا کرلیں   نئی  جگہ نیا ملک  اور اکثر زبان  سے  نابلد ہونا ایک  بہت بڑا مسعلہ  ہوتا ہے  بندہ نہ سمجھا سکے نہ سمجھ سکے  تو مصیبت  بن جاتی 

    آجکل  سمارٹ فون نے نماز کے اوقات اور قبلہ  کے تعین میں  کافی آسانی کردی ہے ایسی کئی  ایپلیکیشنز موجود ہے جو  بہت مناسب ہیں ان حوالوں سے آپ دنیا میں جہاں کہیں بھی  جائیں آپکو نمازوں کے اقات  اور قبلہ کی   سمت کا سہی تعین   ہوجاتا ہے   ، نماز پڑھی اور کھانے کی تلاش میں  اندرون شہر پہنچے  مگرکافی تلاش  کے بعد فیصلہ کیا کہ  کے ایف سی سرچ کیا جائے اور مچھلی والا  برگر کھا کر گزارا کر لیا جائے تو اچھا  ہے   ، کچھ پیسے  میں   کراچی سے احتیاطاً تبدیل کروا کر تھائی کرنسی ساتھ لے گیا تھا مگر جس چیز نے وہاں سب  سے زیادہ  ساتھ دیا وہ  سعودیہ کا  کریڈٹ کارڈ  تھا جب چاہیں  جہاں  چاہیں استعمال کرلیں  جو بھائی  بہن  سیر کو جانا چاہیں میں انہیں  کہوں گا کہ سب کے پہلے کریڈٹ کارڈ  ضرور بنوائیں آجکل تو پاکستان میں بھی  کم و بیش سب  بینک یہ سہولت  دے  رہے  ہیں  مگر اس  حوالے سے فیصل بینک  بہت  اچھا ہے اس  کے ڈیبٹ کارڈ کو آ پ  کریڈٹ کارڈ کی طرح استعمال کر سکتے ہیں  جس کا تجرنہ میں نے بھی کیا  جب آخری ایام میں پیسے ختم ہوگئے تو میں نے  وہاں  سے  لوکل کرنسی  نکلوائی 

    پہلا دن تھا  کھانا کھا کر واپس ہوٹل آکر پھر سونے کو ہی ترجیح  دی  اگلے  دن صبح صبح اٹھ  کر شہر کا دورہ شروع کیا  تو پتا چلا کہ کراچی ہی نہیں  بلکہ  یہاں پر بھی دکانیں  دیر سے  کھلتی ہیں ناشتہ کیلئے  ایک شامی  ہوٹل والا مل گیا عربی  جاننے کی وجہ سے کافی آسانی ہو گئی وہ بھی خوش ہوگیا کہ چلو کوئی تو عربی بولنے سمجھنے والا آیا    اس طرح ہم نے اپنی سیر کا آغاز کیا  یہاں کی ساحلی پٹی دیکھنے کے قابل ہے  بہترین  لوکیشنز بہترین انتظامات   اور کم خرچ میں آپ  بھر پور سیر کر سکتے ہیں سیر و تفریح کیلئے آنے والوں میں بھارت اور سعودیہ کے افراد زیادہ نظر آئے  باقیوں  کی نسبت

    اب کچھ دن گزار کر ہم بھی راستوں سے مانوس ہوگئے تھے  اس لئے اپنی مرضی کاکھانا بھی مل رہا تھا اور مختلف مالز اور بڑی بڑی مارکیٹیں بھی گھوم  رہے تھے  بڑے بڑے  مالز اور مارکیٹوں کے لاسٹ فلور پر فوڑ سٹریٹ کا رواج یہاں  بھی ہے  کسی بھی بڑی مارکیٹ کے لاسٹ فلور پر جائیں تو فاسٹ فوڈ کے ساتھ ساتھ روائیتی  کھانا بھی آسانی سے مل  جاتا ہے  یہ سب  باتیں  کورونا کی  وبا سے  پہلے کی ہیں  اب کی صورتحال تو وہاں جانے والے ہی بتا پائیں  گے

    کپڑے  کے تھری پیس سوٹس سستے اور معیاری مل جاتے ہیں ان پر انڈین سرداروں کی اجارہ داری ہے ہر  دکان میں آپ کو انڈین سردار ہی ملیں  گے بڑے ہنس مکھ اور تعاون کرنے والے آپ  اپنی مرضی اور پسند کا کپڑہ  سلیکٹ کرلیں  درزی دکانوں میں ہی موجود  ہیں  اسی وقت سلائی کر دیتے  ہیں ،  اس کام کو فائدہ مند پایا اور بلیوں کی خوراک کے حوالے سے بھی آپ وہاں سے پاکستان لاکر فروخت کر سکتے ہیں

    بہر حال کچھ دن گزار کر واپسی کی راہ لی  سعودیہ سے صرف ایک ماہ کی چھٹی تھی اس دوران کئی اور کام بھی کرنے ہوتے  ہیں  واپسی ہوٹل والوں نے  صبح ہی آگاہ کر دیا کہ آپ جلد ہوٹل چھوڑ دیں  تو اچھاہے  ساتھ پوچھ بھی لیا کہ ٹیکسی منگوا دیں آپ کو   میں نے شکریہ ادا کیا کہ نہیں میں خود چلا جاوں  گا  ہوٹل سے میٹرو اسٹیشن  تک پیدل پہنچے میٹرو پینچ کر ائرپورٹ کا  ٹکٹ لیا اور اس طرح سستی میٹرو کا فائدہ اٹھاتے ہوئے     ائر پورٹ وقت سے پہلے پہنچ گئے  بورڈنگ کیلئے آٹو میٹک مشینیں  لگی ہیں ہم نے بھی اپنا بورڈنگ پاس اشو کیا اور  ویٹنگ لاونج  میں جانے سے  پہلے  پھر سے  امیگریشن والے آپ کے پاسپورٹ کو سٹیمپ بھی کرتے ہیں اور جو پیپر وہاں پہنچنے پر بھرا  تھا وہ بھی مانگتے ہیں  ہم نے وہ پیپر تعویز کی طرح سنبھال رکھا تھا چار پانچ تہیں کھول کر پیش کردیا  امیگریشن آفیسر نے مسکرا کر وصول کیا تو سمجھ گیا کہ میری طرح دوسرے پاکستانی بھی شاید ایسا ہی کرتے ہوں  ، جو بھی  بیرون ملک سیر کو کم خرچ میں جانا چاہے اس کیلئے  تھائی لینڈ اچھی جگہ ہے 

    @mmasief

     

  • تھائی لینڈ کی سیر  حصہ اول تحریر: محمد آصف شفیق

    تھائی لینڈ کی سیر  حصہ اول تحریر: محمد آصف شفیق

    الریاض سعودیہ میں تھائی لینڈ کی ایمبیسی  نے  سیاحوں کو سہولت دینے  کیلئے  ویزا پراسس میں  آسانی  کی تو میں  نے بھی سوچا کیوں نہ ہم بھی  تھائی لینڈ کا ویزہ لگوا لیں   اسی سلسلہ میں   معلومات کیلئے سب دوست احباب کو میسجز کر دئے  کہ جس  کے  پاس جو معلومات ہیں وہ شئر کریں   اور ڈاکومنٹس  کی تیاری  شروع کی 
    ایک عدد ایپلیکیشن فارم پر کرنا تھا اور  بیرون ملک مقیم ہونے کی وجہ سے ایگزٹ ری انٹری چاہئے  ہوتی ہے     اپنی  کمپنی سے تعارفی لیٹر اور تنخواہ کے لیٹر کی درخواست کی اور اس پر چیمبر اور کامرس سے تصدیق کروانی تھی  یہ سب مراحل الحمد للہ ایک ہفتہ میں مکمل ہوئے  ،  یہاں کا رہائشی  پرمٹ   گھر کا مستقل  پتہ اور  بینک کی تین ماہ کی   سٹیٹمنٹ بنیادی چیزیں  تھیں 
    تھائی لینڈ کے جس شہر میں سیر کیلئے جانا ہے وہاں پر کسی بھی ہوٹل کی بکنگ  اور  اتنے ہی دنوں کیلئے ہوائی جہاز کی ٹکٹ  کی بکنگ بھی چائیے  ہوتی ہے   ،  ویزہ پراسس کیلئے ان  سب  کیساتھ  ایمبیسی  کا وقت لینا پڑتا ہے  اور مطلوبہ وقت میں خود جاکر  اپلائی کرنا شرط ہے واپسی پر آپ  اپنی رسید کسی کے بھی ہاتھ  بھجوا کر  اپنا پاسپورٹ واپس لے  سکتے  ہیں
    میں نے بھی یہ سب کاغزات مکمل کئے  اور مطلوبہ  دن تھائی ایمبیسی  پہنچ  گیا  ، وہاں پہنچ کر پتا چلا جو فارم میں  اون لائن  پھر کر آیا ہوں وہ  اب کار آمد نہیں  رہا اس کے بدلے میں اب ہمیں  ہاتھ  سے  نیا فارم بھرنا ہوگا اور اس پر فریش تصویر بھی لگانی ہوگی اور  2 تصاویر انہیں اضافی بھی چاہئیں ہوں  گی 
    دوبارہ  سے وہیں بیٹھ کر سب معلومات کو جلدی جلدی  فارم  پر منتقل  کیا اور کچھ سوال و جواب کے بعد فیس کی ادائیگی  کے ساتھ ہی  ہماری  ویزہ کی درخواست قبول  کر لی گئی   ،    14 دن کا وقت دیا گیا کہ  آپکواطلاع دی جائے  گی اگر کوئی بھی مسعلہ ہوا تو،  بصورت  دیگر  رسید پر لکھی ہوئی  تاریخ  کو آپ آکر اپنا پاسپورٹ واپس لے  جانا
    ان ہی دنوں پاکستان چھٹی جانے کا ارادہ تھا تو سوچا اگر تھائی لینڈ کا ویزہ لگ گیا تو پاکستان  سے  ہی چکر لگا لیں  گے اسی بہانے  تھائی لینڈ بھی دیکھ لیں  گے اور کچھ بذنس یا جوب کے سلسلہ کا بھی پتا کرلیں  گے کہ وہاں جوب کی جاسکتی  یا اپنا بزنس اسٹارٹ کیا جاسکتا 
    خیر اللہ اللہ کر کے ہمارے دن مکمل ہوئے اور  دوبارہ اپنےپاسپورٹ  کی وصولی کیلئے  تھائی ایمبیسی  پہنچے  پاسپورٹ واپس لیا الحمد للہ ویزہ لگا ہوا تھا    تین ماہ کی سنگل انٹری سیاحتی ویزہ  جوکہ 17 اپریل  2018  سے   16 جولائی 2018 کے درمیان کبھی بھی استعمال کیا جاسکتا تھا
    9 جولائی کو کراچی سے تھائی لینڈ کے سفر کا فیصلہ کیا سب سے مناسب اور ڈائریکٹ فائٹ تھائی ائر لائین  کی تھی  ایک ہفتہ کیلئے ہوٹل بکنگ کروائی اور تھائی ائر کی ٹکٹ خریدی  اور  گھر سے اوبر منگوا کر سفر کا آغاز کیا  اوبر والا بھی کوئی شریف آدمی تھا اس  نے بھی بھانپ لیا کہ بندہ کراچی کا نہیں  لگتا اور مجھے بھی کوئی اندازہ  نہیں تھا بنے 330 اور اس ظالم  نے مجھ سے 1330 لے  لئے خیر  وہ تب پتا چلا جب اوبر کی طرف سے ای  میل موصول ہوئی اس وقت تک تو  میں جہاز میں سوار ہو چکا تھا   ، اللہ بھلا کرے اس انسان کا  ہزار روپے میں اس نے لاکھوں کا سبق  دے دیا
     بہر حال  جہاز میں نظر دوڑائی تو زیادہ تعداد اپنے پاکستانیوں کی تھی  اور کچھ لوگ   دوسرے ممالک کیلئے  ہونگ کانگ اور دوسرے ملک جانے کیلئے وہا ں تھوڑا قیام کر کے آگے جانے والے تھے اور کچھ  ہم  جیسے سیر و سیاحت کی غرض  سے   جانے  والے   ، فلائٹ اڑنے کے کچھ ہی  دیر بعد  اناونسمنٹ  ہوئی کے  باہر موسم شدید خراب ہے  اسلئے  اپنی اپنی  نشستوں پر بیٹھے  رہیں  اور  سیٹ بیلٹ باندھ کر رکھیں   ، تین بار ائر ہوسسٹس بیچاریاں  کھانا پیش کرنے کیلئے  اپنی ٹرالیاں لائیں  مگر ہر بار انہیں ناکامی ہوئی اور تقریباً 4 گھنٹے کا سفر  ایسے ہی گزرا کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے شدید  جھٹکے  لگتے رہے اور اسی  طرح  ہلتے جہاز میں ہی کچھ نہ کچھ  کھا لیا  
    فلائٹ الحمد للہ اون ٹائم لینڈ ہوئی  جب باہر کا نظارہ دیکھا تو بارش کیساتھ ساتھ دھند دیکھ کر خیال آیا کہ شائد پھنس  گئے جیکٹ تو لائے ہی نہیں اور باہر لگ رہا شاید شدید سردی ہو ، جن لوگوں نے آگے جانا تھا سب نے اپنی اپنی جیکٹیں پکڑی ہوئی تھیں  جنہیں  میں نے حسرت بھری نگاہوں سے  دیکھا ، مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق ڈھیٹ ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ، خیر پاکستان کی طرح انہوں نے بھی دور اتار دیا اور بس کے ذریعے  ائرپورٹ تک لائے ہمارے ساتھ ساتھ  کئی اور فلائٹس بھی آنے کی وجہ سے خوب رش ہوگیا چارو ناچار  ہم بھی لائن  میں لگ  گئے  ایک پیپر پھر دے دیا گیا اسے دو بار بھریں  ایک حصہ انہوں  نے  رکھ لیا ایک حصہ مجھے دے دیا اور ساتھ میں انگریزی میں کہا کہ یہ ضروری واپسی پر چاہئے ،  میں نے اسے تعویز کی طرح اپنے پرس میں سنبھال کر  رکھ لیا، امیگریشن کے فورا بعد وہاں  سے انٹر نیٹ اور فون کیلئے سم لی  ، گزشتہ سفروں نے تھوڑا بہت سکھا دیا ہے کہ جہاں بھی جاو اترتے ہی پہلا کام اپنے پاسپورٹ پر سم کارڈ لو تاکہ رابطے میں رہ سکو
    باہر نکل کر ٹیکسی والے سے سینٹر سٹی جانے کا پوچھا اس نے جو پیسے مانگے تو چکر سا آگیا جو دوست پہلے جا چکے تھے انہیں  میسج کیا کہ بھائی یہ حالات ہیں  انہیوں نے مشورہ دیا کہ ائر پورٹ کے نیچے میٹرو اسٹیشن  ہے وہاں سے ٹکٹ لو اور شہر پہنچ جاو ، بہترین  اور کم خرچ میٹرو ،جیسے جیسے اسٹیشن  آتے گئے رش میں اضافہ ہوتا رہا ایسا لگا جیسے  سب لوگ ہی میٹرو استعمال کرتے ہیں ، نوجوان بوڑھے سٹوڈنٹس سب لوگوں کو میٹرو ٹرین  استعمال کرتے دیکھا  انتہائی صاف ستھرا  ماحول  اور بہترین انتظام    ، خیر سینٹر سٹی پہنچ کر چیک کیا تو پتا چلا جو ہوٹل ہم نے بک کروایا ہے وہ آٹھ گھنٹے کی مسافت پر ہے  اور میٹرو سے نہیں جاسکتے آپکو  بس یا ٹیکسی پر جانا پڑے گا یہ سننتے ہیں  تھکن سے چور جسم نڈھال ہوگیا اور میں وہیں اسٹیشن پر ہی ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ، تھوڑے اوسان بحال ہوئے  تو بکنگ ڈاٹ کام پر ہوٹل سرچ کیا اس وقت دوپہر کا وقت تھا قریب ہی ہوٹل مل  گیا  مگر چیک ان ٹائم چار بجے کا تھا  کریڈٹ کارڈسے  ادائیگی کی اور ہوٹل کی لوکیشن لگا کر پیدل ہی چل دیا   ، لگ تو قریب ہی رہا تھا مگر جب لوکیشن اون کی تو پتا چلا وہ  ڈرائیو آپشن پر تھا اور ہم پیدل   اللہ کا نام لیکر چل دئے گرمی اور ہوا بھی نمی کا تناسب بھی کچھ ایسا تھا کہ کچھ ہی دیر میں  سارے کپڑے پسینے  سے شرابور  ہوگئے  ،ہم نے بھی حوصلہ نہیں  ہارہ  اور ہوٹل کی طرف پیدل ہی والک جاری رکھی   کہ غلطی اپنی ہی تھی ہوٹل بکنگ کرتے ہوئے صرف سستا دیکھا سینٹر سٹی سے اسکا فاصلہ دیکھنا یاد نہ رہا تھا  ,

    @mmasief

  • ۔ڈریم لینڈ خوبصورت اٹلی تحریر فرزانہ شریف

    ۔ڈریم لینڈ خوبصورت اٹلی تحریر فرزانہ شریف

    اٹلی یورپ کا ایک خوبصورت ترین ملک ہے جسے ہم ڈریم لینڈ بھی کہہ سکتے ہیں ۔اور پورے یورپ کے لیے ایسے ہی حثیت رکھتا ہے جیسے ہمارے لیے سعودی عرب ۔مطلب مقدس شہر ۔۔
    ۔یہاں اتنے تاریخی مقامات ہیں کہ آپ اگر گھومنا شروع کردیں ایک سال لگ جائے دیکھنے میں اور تاریخی مقامات ختم نہ ہوں یہاں کے لوگ بہت اچھے بہت بااخلاق ہر دم مدد کے لیے تیار رہنے والے ۔اور خوبصورتی میں دنیا کے پہلے نمبر پر ہیں وجہ یہاں لوگ اپنی فٹنس کا بہت خیال رکھتے ہیں اتنا خیال کہ آپ کو یہاں 90فیصد لوگ سلم سمارٹ نظر آئیں گے ۔90 سال کے لوگ آپ کو ایسے لگیں گے جیسے یہ 40 سال کے ہیں صرف وجہ حد سے ذیادہ فٹنس اور ہشاش بشاش ۔۔۔
    ۔یہاں کی قومی خوراک پیزا۔ہے پاستا اور پیزا یہاں ایسے کھایا جاتا ہے جسے ہم پاکستان میں دال سبزی کھاتے ہیں ۔۔۔۔اور مچھلی ۔یہاں کی مرغوب غذا جیسے پاکستان میں ہم بریانی پسند کرتے ہیں دنیا کی ہر قسم کی یہاں پنیر ۔چیز تیار کی جاتی ہے یہاں زیتوں کا تیل عام کھانوں میں یوز کیا جاتاہے صرف فرائی چیزوں میں مکئی یا پھر مونگ پھلی ۔سورج مکھی کا تیل یوز کیا جاتا ہے ۔چونکہ یہاں زیتون کثرت سے کاشت کیا جاتا ہے اس وجہ سے یہاں زیتون کھایا بھی بہت جاتا ہے اور تیل بھی نارمل قیمت سے ملتا ہے کہ ہر انسان کی پہنچ میں ہے ۔یہاں 99فیصد لوگ تعلیم یافتہ ہیں ۔یہاں کی گورنمنٹ ہر ترقی یافتہ ملک کی طرح سفید پوش عوام کا بہت خیال رکھتی ہے ان کی بجلی گیس کے بل معاف ہوتے ہیں ان لوگوں کےجن کے تین بچے18 سال کی عمر سے کم ہوتے ہیں۔۔ ہر بچے کا 100 یورو پر منتھ ملتا ہے ۔۔۔
    کھانے پینے کی مارکیٹس میں ہر ہفتے مختلف چیزوں کی پرائس کم کی ہوتی ہے تو متوسط طبقہ پورے ماہ کی شاپنگ کرلیتے ہیں جو چیزیں عارضی طور پر سستی کی ہوتی ہیں کیونکہ اگلے ہفتے وہ چیزیں اصل پرائس پر آجاتی ہیں ۔یہاں لوگ گورنمنٹ کو گالیاں نہیں دیتے بلکہ قانون کو فالو کرتے ہویے اپنے ٹیکس خوشی سے ادا کردیتے ہیں ۔ہر انسان خوشی سے کام کرنا پسند کرتا ہے اگر کوئی ذیادہ تعلیم حاصل کرلے اور اس کی تعلیم کے مطابق جاب نہ ملے تب تک وہ صفائی سے لیکر ریسٹورینٹ میں برتن دھونے تک ہر کام خوشی سے کرتا ہے ایسے کام کرنے میں اپنی توہین نہیں سمجھتا حتی کہ واش روم بھی صاف کرتے ہیں ۔۔جب لڑکی لڑکا 18 سال کے ہوجاتے ہیں تو اسے گورنمنٹ سے پیسے ملنے بند ہوجاتے ہیں تو وہ لڑکا لڑکی اپنی تعلیم کے ساتھ پارٹ ٹائم جاب بھی سٹارٹ کردیتے ہیں ۔اس طرح تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کو کام کرنے کا تجربہ بھی آتا جاتا ہے ساتھ ان کا دل ودماغ بھی مصروف رہتا ہے جس وجہ سے وہ غلط صحبت سے بچ جاتا ہے۔۔
    اگرچہ یہاں بہت آزادانہ ماحول ہے آپ کو ہر حرام حلال کام کرنے کی مکمل آزادی ہے 18 سال کے بعد لڑکیاں لڑکے مکمل آزاد ہوتے ہیں اپنی ذندگی کے فیصلے کرنے کا حق رکھتے ہیں ۔لیکن والدین کی اچھی تربیت بچوں کو اپنے والدین کے ساتھ جوڑے رکھنے کی وجہ سے 70 فیصد بچے اپنی روٹین کے مطابق ٹھیک سمت پر چلتے رہتے ہیں ۔۔
    18 سال سے کم عمر بچوں کو والدین مارپیٹ نہیں سکتے اگر ایسا وہ کریں تو ان پر کیس بن جاتا ہے اور بچہ یہاں کی کونسل لے جاتی ہے پھر بچے کی مرضی کے بغیر بچہ والدین کو واپس نہیں ملتا ۔۔
    یہ تاثر غلط پھیلایا جاتا ہے کہ یورپ میں ذیادہ والدین اولڈ ہاوس میں بچوں کی نافرمانی کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔اس میں 30 فیصد اولاد نافرمان ۔آذادی کی ذندگی گزارنے کی شوقین مجبورآ والدین کو اولڈ ہاوس جانا پڑ جاتا ہے ۔40فیصد والدین اپنی جائیداد گھر اپنے نام رکھتے ہیں مرتے دم تک تو وہ اولاد والدین کو نہیں چھوڑتی۔۔ 20فیصد بچے اپنے والدین سے محبت کرنے کی وجہ سے اپنے والدین کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور ان سے لاڈ پیار ایسے ہی کرتے ہیں جیسے ہم پاکستانی اپنے والدین سے کرتے ہیں۔۔
    یہاں والدین اپنے بچوں کو دنیا کی ہر اچھی چیز مہیا کرنے کے لیے دونوں میاں بیوی کام کرتے ہیں بہت کم ایسے گھرانے ہیں جہاں صرف شوہر کام پر جاتا ہو اور بیوی گھر سنبھالتی ہو ۔۔بچے صبح سکول نرسری میں چھوڑ کر خود کام پر ہوتے ہیں جس وجہ سے یہاں غربت کا تناسب 5 پرسنیٹ ہے۔۔!!
    ۔یہاں پاکستان کی طرح زمینداری کا بہت کام ہے مکئی وسیع پیمانے پر کاشت ہوتی ہے اور جدید ترین مشینری کے ذریعے اس کا سارا کام کیا جاتا ہے اور ملک کی ضرورت سے بہت ذیادہ کاشت ہونے کی وجہ سے باقی یورپین ممالک اور انگلینڈ کو فراہم کی جاتی ہے ۔یہاں سے باقی ممالک میں زیتون ۔پاستا ۔مچھلی ۔سبزیاں بھیجی جاتی ہیں ۔عام مزدور کی تنخواہ 5یورو فی گھنٹہ سے لیکر 10 یورو تک ہے فیکٹری ریسٹورینٹس میں کام کے حساب سے تنخواہ ملتی ہے۔۔
    یہاں کی ذندگی بہت پرسکون ہے ہر انسان اپنے کام سے کام رکھتا ہے آپ پھٹے پرانے کپڑے پہن کر بھی پبلک پلیس پر جاسکتے ہیں مارکیٹ میں جائیں کوئی اپ کی طرف حقارت کی نظر سے نہیں دیکھے گا لوگوں کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا یہ سب چیزیں نوٹ کرنے کا ۔۔۔
    یہاں رہنے کے لیے آپکو یہاں کی زبان آنی بہت ضروری ہے اٹالئین لینگویج کے بغیر نہ آپ کام کرسکتے ہو نہ آپ ڈاکٹرز کے پاس جاکر اپنی پرابلم بتاسکتے ہو یہاں انگلش لینگویج کو سخت ناپسند کیا جاتا ۔کسی کو آتی ہی نہیں سلیبس میں ایک مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہے جیسے ہمارے ہاں گورنمنٹ سکول میں انگلش کی ایک کتاب۔۔
    کھانے پینے کی چیزوں کے ہر مارکیٹ میں مختلف ریٹس ہوتے ہیں لیکن فکس پرائس ۔۔ عام عوام کے لیے یہاں سب سے مشہور اور انتہائی سستی گروسری کی مارکیٹس ایرو سپن۔اور MD۔ہیں کہ غریب سے غریب بندہ بھی اچھی کوالٹی کی چیزیں مناسب قیمت سے خرید سکتا ہے ۔
    یورپ کی ذندگی بہت آسان ہے اللہ تعالی کی پتہ نہیں کیا حکمت ہے اس میں کہ یہ ملک جتنے خوبصورت ہیں۔ اتنا ہی یہاں امن ہے بم دھماکے یا دہشت گردی کے بارے میں لوگوں کو پتہ ہی نہیں ۔ان کے خیال میں یہ دہشت گرد ملک پاکستان ہے ان کو لگتا ہے ہمارا ملک انتہا پسندوں کا ملک ہے انھیں لگتا ہے ہمارے مرد ظالم ہیں یہ اپنی بیویوں پر سختی کرتے ہیں اپنی بیویوں کو مارتے ہیں ۔۔۔۔!!
    ایک پاکستانی ہوتے دل کو کافی تکلیف ہوتی ہے پاکستان کے بارے میں ان کے خیالات جان کر پتہ نہیں اس کا ذمہ دار کون ہے میں جب سے سوشل میڈیا پر ہوں میری سمجھ میں تو وہی بیرونی طاقتیں ہیں جو ہمارے ملک کے ناسمجھ لوگوں کو اپنے ساتھ لگا کر پاکستان کا غلط چہرہ دوسرے ممالک میں پیش کررہے ہیں بہت سالوں سے لیکن اب ان کی ساری محنت سارا پراپوگنڈہ خاک میں مل چکا ہے پاکستانی عوام کو خان صاحب نے جگا دیا ہے اب ہمارے خلاف کسی کو منفی پراپوگنڈہ کرنے کی جرآت نہیں ہوسکے گی ہم خود لوگوں کو اپنے کردار اپنے رویے سے بتائیں گے کہ ہم دہشت گرد شدت پسند نہیں ہیں بلکہ جتنی ہوسکتی ہے ہر اوورسیز پاکستانیوں کا فرض ہے اپنے ملک کا اچھا چہرہ دوسرے ممالک میں پیش کریں انھیں بتائیں کہ ہم شدت پسند نہیں ۔انھیں بتائیں کہ ہمارے ہاں عورت کو جو مقام دیا جاتا ہے عزت محبت دی جاتی ہے ایسی کسی مذہب میں نہیں دی جاتی بیٹی ہے تو والدین کے جگر کا ٹکڑا بیوی ہے تو شوہر کے دل کا سکون ۔ بہین ہے تو بھائی کی عزت ۔۔
    جتنا پروپیگنڈہ پاکستان کے خلاف ہونا تھا ہوچکا اب ملک خلاف قوتوں کا چورن نہیں بکے گا ان شاءاللہ ہم فخر سے سر اٹھا کر چلیں گے کہ ہمارے ملک کا سربراہ جرات مند دلیر اور اپنے ملک کا سچا وفادار ہے کہ دشمن اس کی للکار سے دبک کر بیٹھ جاتے ہیں ۔اب وہ وقت دور نہیں پاکستان بھی یورپ ممالک کی طرح ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوجائے گا بلکہ ان شاءاللہ بہت جلد سپر پاور ممالک کی لائن میں کھڑا ہوجائے گا چین اور امریکہ کی طرح !!

    "

  • جب سوات کے باسیوں کیلئے سیاحت وبال بن جاتا ہے  تحریر : آصف شہزاد

    جب سوات کے باسیوں کیلئے سیاحت وبال بن جاتا ہے تحریر : آصف شہزاد

    وادئ سوات پاکستان کا وہ سیاحتی علاقہ جوکہ قدرت کے حسین نظاروں اور دلکش وادیوں کے ساتھ ساتھ قدیم تہذیبوں سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے بھی کافی اہمیت کا حامل ہے یہاں بدھ مت اور ہندو شاہی کے آثار جگہ جگہ بکھرے پڑے ہیں دریائے سوات کے دونوں اطراف مختلف ادوار کے باقیات اور آثار نمایاں طور پر سیاحوں کو اپنی اپنی طرف راغب کرتے ہیں

    مخدوش حالات اور فوجی اپریشن کے بعد جب سوات میں سیاحتی سرگرمیاں بحال ہوئی تو یہ علاقہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا کیونکہ بین الاقوامی اور ملکی میڈیا پر سوات کے حوالہ سے گاہے گاہے خبروں نے اس علاقہ کی مقبولیت میں اور بھی اضافہ کردیا جس سے ملک بھر کی عوام کا تجسس وادئ سوات اور یہاں سے جڑے سیاحتی مقامات کو دیکھنے کیلئے بڑھ گیا۔ساتھ ہی ساتھ جب فوجی اپریشن اختتام پزیر ہوا اور حالات بہتر ہوئے تو سوات کے لوگوں نے انتہائی مثبت کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاحت کی فروغ میں اپنا حصہ شامل کردیا، نئے سیاحتی مقامات کے دریافت سے لیکر بین الاقوامی معیار کی سہولیات تک سوات کی وادیاں سیاحوں کیلئے پر کشش بنادی گئیں جن سڑکوں کو خراب حالات اور سیلاب کی وجہ سے نقصانات پہنچے تھے چند سال گزرنے کی بعد ان پر تعمیری کام کا آغاز ہوا جس سے سوات کی سیاحت کو مزید ترقی مل گئی جبکہ کالام اور ملم جبہ کی سڑکیں بن جانے سے یہاں کی سیاحت کو چار چاند لگ گئے۔

    ملم جبہ چیئر لفٹس بحال ہوئے ،تباہ شدہ ہوٹل دوبارہ تعمیر ہوئے ، مزید بے شمار ہوٹل بن گئے جبکہ نو ہزار فٹ زیادہ کی بلندی پر واقع وادئ ملم جبہ میں طرح طرح کے بین الاقوامی معیار کے کھیلوں کی داغ بیل ڈال دی گئی جس سے ملم جبہ کی وادی میں ایسی کشش پیدا ہوئی کہ عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی بھی ان کھیلوں میں حصہ لینے پر مجبور ہوگئے، ملم جبہ میں سیمسنز کمپنی کے انتظامیہ نے اس ضمن قابل تحسین کردار ادا کیا۔اس کے ساتھ ساتھ سب سے اہم کردار موجودہ حکومت نے سوات ایکپریس وے کی تعمیر کی شکل میں ادا کیا جس سے سفر میں آسانی اور وقت کی بچت نے سیاحوں کو سوات کی جانب راغب کیا۔

    عزیزان من !
    پورے ملک کے سیاحوں کو تو وادئ سوات نے اپنے سینے پر جگہ دیدی جوکہ یہاں کے عوام کیلئے کافی خوش کن تاثر کا سبب ہے تاہم لانگ ویکینڈ اور عید کی چھٹیوں میں یہاں کے مقامی لوگوں کو سیاحت کا جو موقع میسر تھا اب وہ نہیں رہا !

    کیونکہ ان مخصوص دنوں میں سیاحوں کی جو جم غفیر وادئ سوات پہنچتی ہے اس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور چند کلومیٹر کے سفر میں بھی گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔ پورے ملک سے بالعموم جبکہ خیبر پختونخواہ سے بالخصوص سیاح سوات کی طرف امڈ آتے ہیں جبکہ ان مواقع پر سوات کی انتظامیہ اکثر اوقات غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہیں اور ان سیاحوں کیلئے کوئی پیشگی منصوبہ بندی مرتب نہیں دیتے اسلئے یہاں کی تنگ سڑکوں پر لمبی لمبی قطاریں لگ جاتیں ہیں اور شدید ٹریفک جام رہتا ہے۔

    حالیہ اعداد و شمار کے مطابق بڑی عید کی چھٹیوں میں اسی ہزار سے زائد گاڑیاں سوات میں داخل ہوئیں جن میں لاکھوں افراد سوار تھے اور متوسط اندازہ ہے کہ ان گاڑیوں میں تقریباً آٹھ لاکھ افراد سیاحت کی غرض سوات میں داخل ہوئے، جوکہ ظاہری طور پر ایک بڑی تعداد ہے اسی طرح یوم آزادی کی چھٹیوں میں بھی سیاحوں کی بڑی تعداد کی آمد ریکارڈ کی گئی جبکہ حالیہ محرم کی چھٹیوں میں کالام سمیت ضلع بھر کے سولہ سو ہوٹل سیاحوں کیلئے کم پڑگئے اور لوگ ٹینٹوں اور گاڑیوں میں رات گزارنے پر مجبور ہوگئے یعنی مشاہدہ کے مطابق سوات کی موجودہ سڑکیں ، ہوٹلز ، اور ریستوران اس تعداد کو سنبھالنے کا متحمل نہیں !

    اس کے علاوہ سڑکوں پر ٹریفک جام سے مقامی آبادی کو بھی شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے خاص طور پر جب کسی مریض کو ایمرجنسی صورتحال کا سامنا ہو اور ہسپتال پہنچانا ہوتا ہے تب مذکورہ ٹریفک جام میں پھنس کر خطرات کا شکار ہونا یہاں کے باسیوں کیلئے معمول بن گیا ہے، جن مقامی تاجروں کے گھر کالام روڈ پر واقع ہیں اور کاروبار مینگورہ شہر میں ہیں ان کیلئے مذکورہ دنوں میں چند کلو میٹر کا فاصلہ کوہِ گراں کو عبور کرنے کے مترادف ہوتا ہے شہر پہنچنے کیلئے گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہنا اور پھر واپسی پر اسی وبال کا سامنا کرنا ان کی زندگی کا معمول بن چکا ہے جس کا صبر کے علاوہ کوئی حل ان کے پاس موجود نہیں ہے
    دوسری جانب یہ بات قطعی طور پر نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ مقامی لوگوں کیلئے بھی ان مخصوص دنوں کی چھٹیاں کبھی تفریح کا موقع ہوا کرتی تھیں لیکن اب سیاحوں کے اس جم غفیر میں ان مقامی لوگوں کی چھٹیاں گھروں پر ہی گزرتی ہیں کیونکہ اگر مقامی لوگ بھی مذکورہ رش میں شامل ہوجائے تو ممکنہ طور پر سیاحوں کیلئے مزید پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں اسلئے اب سوات کے باسی پختون روایات کے مطابق سوات آئے ہوئے مہمانوں کی خاطر ان مخصوص دنوں میں اپنی تفریح کی قربانی دیتے ہیں اور سیاحوں کو مواقع فراہم کرتے ہیں اور اپنی چھٹیاں گھروں میں ہی گزارتے ہیں۔

    موجودہ حکومت کے ابتدائی آیام میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کی جانب سے اقدامات قابل ذکر ہیں جن میں ٹریفک وارڈن سسٹم اور ٹورسٹ پولیس سر فہرست ہیں لیکن وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ٹورسٹ پولیس غیر فعال ہوتے نظر آرہے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ بھی اس ضمن غیر سنجیدہ نظر آرہی ہے۔جس کے نقصانات یہ برآمد ہوئے کہ جگہ جگہ شدید ٹریفک جام کیساتھ ساتھ سوات کی تاریخ میں پہلی بار سیاحوں کو لوٹنے کا سلسلہ شروع ہوا اگرچہ مقامی پولیس کیمطابق سیاحوں کو لوٹنے والے گروہ تو گرفتار کرلئے گئے ہیں تاہم مقامی پولیس کی غیر فعالی اور مقامی انتظامیہ کی غیر سنجیدگی نے ایسے واقعات کو جنم دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر سوات ایکپریس وے کے فیز ٹو کیلئے فنڈز ریلیز کئے جائیں تاکہ سیاحوں کو دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ سفری آسانی یقینی بنائی جاسکے اور سوات میں معیشت کو تباہی سے بچایا جاسکے۔ وزیر اعلٰی خیبر پختونخواہ کو چاہئے کہ ٹورسٹ کیلئے مرتب دئے گئے پولیس دستہ کی فعالی اور بہتری میں کردار ادا کریں جبکہ ضلعی انتظامیہ کو ھدایات جاری کریں کہ مذکورہ بالا حالات پر قابو پانے کیلئے اقدامات کو یقینی بنائے ، ٹی ایم اے اور دیگر متعلقہ محکموں کو سیاحتی مقامات کی صفائی اور اس حوالہ سے منصوبہ بندی کی ذمہ داریاں دی جائیں تاکہ سیاحوں کی تعداد ان وادیوں کے قدرتی حسن پر اثر انداز نہ ہو ، دریائے سوات پر سیلاب کی وجہ سے بہہ جانے والے درجن بھر پُل تاحال تعمیر نہیں ہوسکے جس سے نئے سیاحتی مقامات تک رسائی ممکن نہیں ہے لہٰذا ان پُلوں کی تعمیر سے ملم جبہ اور کالام پر سیاحوں کا رش کم کیا جاسکتا ہے جس سے ٹریفک کے نظام پر پڑنے والے بوجھ میں بھی کافی کمی آسکتی ہے ، کالام سے کمراٹ تک باڈگوئی پاس پر سڑک کی تعمیر سے دیر اور سوات کی سیاحت کو مزید ترقی ملیگی جس سے دیر کے عوام کی محرومیوں کا آزالہ ممکن ہے۔

  • پنجاب سے سوات تک ،حصہ چہارم، تحریر:ارم شہزادی

    پنجاب سے سوات تک ،حصہ چہارم، تحریر:ارم شہزادی

    صبح 19 جولائی کو ہم آخری پڑاؤ مالم جبہ کی طرف چلے۔ مالم جبہ جانے کی خواہش تو بہت پہلے سے تھی جب لگتا تھا کہ یہاں پہاڑ آسمان سے چند فٹ کے فاصلے پر ہیں۔ موڑ انتہائی خطرناک لیکن روڈ صاف اور خوبصورت تھے۔ وہاں تو ٹھنڈک کا احساس ہی نیا تھا۔ وہاں رہائش عام طور پر گھر جیسے بنے ہوٹلوں کی تھی۔ ہر جگہ نئے ہوٹل بننا اس بات کی غمازی تھی کہ ماحول اچھا اور فضا پرسکون ہے۔ جبکہ سیاحت کے لیے بہترین ہے۔ ہمارا مسلہ یہ تھا کہ جتنی تعداد میں گئے تھے عام طور ہمیں پورا پورشن لینا پڑتا تھا جس میں چار سے پانچ کمرے ہوتے تھے۔ یہاں پہنچ کے دکھ ہوا کہ پہلے کیوں نا آئے یا ایک دن اور مل جاتا جو یہاں مزید رہتے۔ مالم جبہ کالام کی نسبت زیادہ ڈیویلپ تھا۔ چیئر لفٹ سے لے کرپی سی تک موجود تھا۔ چیئر لفٹ اور کیبل کار بہت خوبصورت اور نئی تھی۔ ماحول بھی ٹھیک تھا مقامی پولیس کے علاوہ فوجی جوان بھی دیکھے۔ جو کہ کسی بھی ناگہانی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چاک و چوبند تھے۔ چیئر لفٹ سے فارغ ہونے کے بعد واپس آئے تو دوبارہ تیاری پکڑ لی پی سی جانے کی۔ پی سی یعنی پاک کانٹینینٹل جس میں جا کر حیران ہوئے کہ تمام تر سہولیات سے مزین تھے وہ تمام سہولیات جو میدانی علاقے میں پائے جانے والے پی سی اور بھوربن میں پایا جانے والا پی سی ہے۔ حیرت ہوئی کہ اتنی سہولیات دی گئیں لیکن مقامی ابادی کے پاس ہیلتھ اور سکول کی اتنی بہتر سہولیات نہیں تھیں۔ مقامی لوگوں کے پاس صحت کے مراکز اس طرح ڈیویلپ نہیں تھے جتنے وہاں ہوٹلز اور سیاحتی چیزیں تھیں۔ تھوڑا مقامی ابادی دیکھ کر دکھ ہوا۔ لیکن جگہ اور سیاحوں کے لیے انتظامات مزید بہتر کیے جارہے ہیں۔ ان انتظامات میں اگر مقامی ابادی کی بہتری کے لیے بھی کچھ تجاویز شامل کر لی جائیں تو بہترین ہو جائے گا۔ پی سی سےواپسی پے جب ہوٹل پہنچے تو ٹھنڈک بہت بڑھ چکی تھی۔ لگتا تھا شایدجنوری کا مہینہ ہو۔ وہاں صحیح معنوں ميں میں سکون سے سوئی۔ صبح کا منظر اس قدر خوبصورت اور دلنشین تھا کہ لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ جب صاف شفاف سبز پہاڑوں کی وسط سے بادل اڑ رہے تھے اس منظر کو صرف کیمرہ میں نہیں بلکہ دل کے کیمرہ مین محفوظ کیا۔ وہ بادل اڑتے اڑتے ہم تک آئے یہاں تک کہ دھند کی شکل میں ہمارے چاروں طرف پھیل گئے ہم سب بلکل بچوں کی طرح خوش ہورہے تھے۔ اور بچے تھے کہ واپس آنے سے ہی انکاری تھی۔ ہر بچے کی زبان پرایک ہی بات تھی کہ "ہم پنجاب نہیں جائیں گے” یہی حال بڑوں کا بھی تھا۔ اگر اگلے ہی دن بکرا عید نا ہوتی تو یقیناً ہم ایک رات اور رہتے وہاں اس ٹھنڈ کو بادلوں کو مزید انجوائے کرتے۔ مالم جبہ سے واپسی بہت برے دل سے ہوئی ایک تو وہ منظر چھوڑنے کو دل نہیں تھا دوسرا پنجاب کی گرمی یاد آرہی تھی۔ پر کیا کرتے واپس تو آنا ہی تھا ہم بھی آئے بہت خوبصورت یادیں سمیٹ کر بہت سارا پیار سمیٹ کر اور دوبارہ جانے کی خواہش کے ساتھ۔ ان شاء الله دوبارہ موقع ملا تو ضرور جائیں گے۔ آپ سب بھی سوات اور اس سے اگے جائیں کافی بہتر سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔ آپ لوگ جائیں گے تو وہاں کے لوگوں کا اعتماد بڑھےگا پھر اس سے بھی بہتر طریقے سے وہ کام کریں گے۔ کیونکہ انکا روزگار بھی تو سیاحوں کا مرہون منت ہے۔کچھ باتیں ہیں جن پر حکومت اگر نظرثانی کرے۔۔

    جس طرح ما شاء الله وہاں آمن آیا ہے لوگوں کی روزمرہ زندگی میں تبدیلی آئی ہے جو کہ افواج پاکستان اور مقامی لوگوں کے تعاون سے ہے۔ انکی قربانیوں کی وجہ سے ہے اگر مزید پرامن جگہ بنانا ہے تو فوجی چیک پوسٹس بنائی جائیں جو مستقل بنیادوں پر ہوں انکے ساتھ وہاں کے مقامی نوجوانوں کو شامل کیا جائے
    جسطرح سکول، کالج، یونیورسٹی سوات میں دیکھی میڈیکل کالج دیکھے انکا دائرہ کار کالام مالم جبہ تک بڑھایا جائے انکو مکمل سکیورٹی دی جائے
    ہیلتھ کارڈ کی جس طرح سہولت دی ہے اسی طرح ہیلتھ کیئر سینٹر جگہ جگہ بنائے جائیں تاکہ علاج کے لیے مشکل نا ہو۔

    پرائمری اسکول کا دائرہ بڑھایا جائے چونکہ پہاڑی علاقے ہیں بچوں کے لیے زیادہ سفر نقصان دہ بھی ہوسکتاہے۔ اور ان سب سے بڑھ کر وہاں گاڑیوں کی رجسٹریشن کروائی جائے۔ کیونکہ جو گاڑی پنجاب میں پچیس تیس لاکھ کی وہاں بامشکل دو سے چار لاکھ کی ہے۔ نمبر پلیٹس کے بغیر۔ وہاں سے گاڑی لی نہیں جاسکتی کیونکہ پنجاب میں داخل ہوتے ہی ضبط کر لی جانی ہے۔ تو وہاں بھی اسکوقانون کے دائرے میں لایا جائے۔ جسطرح مری سے لے کر ایبٹ آباد تک اور ناران کاغان تک ہوٹل اور معیاری جگہیں بنائی گئی ہیں یہاں نا صرف بنائی جائیں بلکہ انکی تشہیر بھی کی جائے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے وزراء یہاں آئیں اور اسے پروموٹ کریں تاکہ پاکستان کی خوبصورتی دنیا دیکھے۔ اور یہ جان سکے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے سیاحت کے حوالے سے اور دشمن کا پروپیگنڈہ بے بنیاد ہے۔ جزاک الله
    دعا گو ارم رائے

  • پنجاب سے سوات تک .حصہ سوم .تحریر: ارم شہزادی

    پنجاب سے سوات تک .حصہ سوم .تحریر: ارم شہزادی

    "کارگل جھیل” خوبصورت نام خوبصورت جگہ اور ٹھنڈا پانی جو روح تک کو تازگی بخشے۔ اگر ہم مری ایبٹ آباد میں جائیں کسی آبشار پر یا جھیل پر تو کولڈ ڈرنک تو دور کی بات سادا پانی اتنا مہنگا ہوتا کہ حیرانگی ہوتی ہے۔ یہاں مجھے پیاس لگی تو چھوٹے سے بنے کھوکھے پر گئی پانی کہا تو گلاس میں دینے لگے کولر سے، میں نے کہا منرل چاہیئے تو بوتل پکڑائی جو کہ میرے خیال میں 150 تک کی ہونی تھی لیکن اس نے 80 روپے لیے ساتھ ڈسپوزیبل گلاس لیے اور سو میں یہ ہوگیا جو کہ ایسی جگہ پر ناقابل یقین تھا۔ خیر واپسی ہوئی اسی بچے صابر نے ایک ویگن ٹائپ روک دی تاکہ بچوں کو اور چھوٹے بچوں والی ماؤں کو بیٹھا کے بھیجا جا سکے۔ اور ہم باقی لوگ پیدل ہی واپس آئے۔ جیسے ہی ہم لوگ مسجد کےپاس پہنچے تو مسجد بند تھی اسے استعمال نہیں کیا جاسکتا تھا۔ صابر نے کہا وہ سامنے ہمارا گھر ہے آپ ادھر اجائیں ہماری تقریباً دس بچیاں گئی انکے گھر جب کافی دیر ہوئی تو مجھے پریشانی لاحق ہوئی کہ ابھی تک واپس نہیں آئیں کہیں یہاں سے گئیں افغانستان کی کسی سرنگ سے ہی نا برامد ہوں میں گئی تو دیکھ کر حیران رہ گئی صابر کی ماں اور بہنیں باتیں کررہی تھیں اور ساتھ کھانا اور چائے کے لیے ضد کررہی تھیں یہ لوگ پھر معذرت کرتے واپس آئے کہ ان شاء الله دوبارہ آٰے تو ضرور ائیں گے۔ صابر کا چھوٹا سا لیکن بہت خوبصورت گھر تھا۔ وہاں چائلڈ لیبر نام کی کوئی چیز نہیں تھی وہاں سب محنت کرتے ہیں بچے بڑے بوڑھے اور گھر کی خواتین گھر کو بہت خوبصورت انداز سے سمبھالے ہوئے ہیں۔

    واپسی پر ایک چھوٹی سیدوکان کے بایر ہم بیٹھ گئے دوکاندار نے ہمیں کرسیاں لگا دیں اور ہم وہاں بیٹھ کر ٹھنڈے پانی اور جوس سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ صابر وہاں بھی ہمارے ساتھ تھا اور اسکا وہ آخری جملہ مجھے شرمندہ کرنے کے لیے بہت تھا۔ جب ہم نے اسے پیسے دینے چاہے تو اس نے لینے سے انکار کردیا حالانکہ اپنے نشانہ بازی کے پورے لیے تھے۔ لیکن یہ ہم نے ویسے ہی دیے تھے کہ اتنا وقت ہمارے ساتھ رہے اور کام کرتے رہے یہاں تک کہ گھر بھی لے گئے۔ کہتا ہے یہ گناہ ہوتا ہے ہم پیسہ نہیں لےگا یہ تو ہم ہر حرام ہے آپ ہمارا مہمان ہے اور مہمان نوازی کا پیسہ نہیں ہوتا ہے۔ ہم نے بہت کوشش کی مگر وہ باضد رہا پھر ہم نے اس سے وعدہ کیا کہ دوبارہ جب بھی آئے تمہارے گھر ائیں گے اور کھانا بھی کھائیں گے۔ اسکے ساتھ تصاویر پھر جا کر اس نے کہیں ہم سے پیسے لیے اور پھر جتنی دیر ہم وہاں رکے رہے وہ شرمندہ شرمندہ سا سر جھکائے کھڑا رہا۔ اتنا پیار ارہا تھا اس بچے پر۔ اسکی تربیت کرنے والی ماں پر۔ کتنا بڑا دل اورظرف ہے ان لوگوں کا۔ کیسے انکے بازو کھلے ہیں مہمانوں کے لیے۔ میں اپنے رویہ پر بہت شرمندی تھی کہ ہم کیا سمجھے اور وہ کیا نکلے۔ لیکن اسکے بعد میں نے یہ تہیہ کر لیا کہ اب شک نہیں کرنا ہے۔ بے لوث محبت کرنے والوں کی قدر کرنی ہے۔ واپس "اوشو” جنگل میں رکے رہے کافی دیر بچوں نے گھڑ سواری کی تصاویر بنائیں سلومو بنائے میوزک لگا کر ارتغرل کو یاد کیاگیا۔

    اونٹ والا اپنی بےوقوفی اور ضد کی وجہ سے کچھ نا کما سکا جبکہ گھوڑے والے نے اچھا خاصہ کمالیا۔ ڈولی جھولے لیے ۔گنے کی روہ پی اور واپسی ہوئی۔ کچھ دیر سستانے کے بعد کھانے کے لیے گئے "لاروش” کچھ اسی ٹائپ کا نام تھا کھانے کا ارڈر کیا تو بارش شروع ہوگئی کافی تیز بارش وہیں بیٹھے بیٹھے انجوائے کی جیسے بارش رکی ہر منظر بہت خوبصورت تھا اتنا شفاف دھلا ہوااور آسمان کی نیلاہٹ نے اسکی خوبصورتی میں مزیدچار چاند لگا دیے۔ گھاس نہا کر فریش ہوگئی تھی۔ کھانا حسب معمول بہت مزیدار تھا۔ ہر چیز کا زائقہ مختلف تھا۔ دال سے لے کر کڑاہی تک کابلی پلاؤ سےلے کر ہانڈی تک۔ یہاں بھی بل مناسب تھا۔ ادا کیا اور راستے سے ائس کریم کھاتے ہوئے لوٹ آئے۔ تھکن اور نیند سے برا حال تھا جبکہ ابھی ایک پڑاؤ مالم جبہ کاباقی تھا جس کے لیے صبح سویرے جانا تھا اس لیے ضروری سامان الگ کر کے اور باقی سامان بیگ کی صورت بنا کر ایک طرف رکھ کے سوگئے۔
    جاری

  • ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات   تحریر: عمران اے راجہ

    ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات تحریر: عمران اے راجہ

    پارٹ ۵:
    کروگر پارک کے تین گیٹس کا ٹور ہم کر چکے جس میں وہاں کی تاریخی اہمیت کے علاوہ کثرت سے پائے جانے والے جانور اور اندرونی و بیرونی راستوں کا احاطہ کیا۔
    آج ہم شروعات کریں گے Kruger Park کے خوبصورت ترین گیٹس میں سے ایک Numbi Gate سے جو ساؤتھ افریقہ کے صوبہ Limpopo میں ہے۔ لمپوپو کی خاص بات یہاں کے جنگلات اور سانپوں کی بہتات ہے۔ موسم گرما میں اگر آپ شام کے بعد ڈرائیو پر نکلیں تو Klaserie سے Numbi Gate کی طرف یا Hoedspruit کی طرف آپ کو سڑک کے بیچ یا کنارے کوئی نا کوئی سانپ ضرور دِکھے گا۔ یہ پورا علاقہ ساؤتھ افریقہ کے چند بہترین سفاری لاجز اور گیم ریزروز سے گھِرا ہوا ہے۔ عام سڑک پر ڈرائیو کے دوران بھی اکثر جانور چہل قدمی کرتے دِکھ جاتے ہیں کیونکہ سیکیورٹی باڑ پوچرز یا کسی بڑے جانور کی وجہ سے ٹوٹ جاتی ہے۔ اسی لیے آپ کو سڑک کے ساتھ ٹریفک سائنز کے علاوہ جانوروں کے سائن بھی نظر آئیں گے جو پاکستان میں شاید آپ نے کبھی نا دیکھے ہوں۔
    لمپوپو صوبہ کی ایک اور خاص بات اس کے بارڈر ہیں جو تین ممالک کو چھوتے ہیں موزمبیق، زمبابوے اور بوٹسوانا۔ موزمبیق بارڈر کا ایک بڑا حصہ کروگر پارک میں آتا ہے اور غیرقانونی بارڈر کراسنگ کے علاوہ اکثر پوچرز بھی شکار کے لیے یہی راستے اختیار کرتے ہیں جو بہت پُرخطر ہیں اور ان کی مکمل نگرانی تقریباً ناممکن ہے۔
    اس کے علاوہ لمپوپو صوبے اور کروگر پارک کی بہت بڑی خاصیت یہاں ایئرپورٹ کا ہونا ہے۔ Hoedspruit میں موجود یہ ایئرپورٹ بہت بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد و رفت میں سہولت کار ہے اور Nelspruit کے بعد دوسرا ایئرپورٹ ہے جو Kruger کے ساتھ منسلک ہے۔ موسم زیادہ گرم اور بارانی ہے۔
    ۴: نُومبی گیٹ Numbi Gate
    نُومبی گیٹ کی سب سے بڑی خاصیت یہاں کی زرخیز زمین اور نباتات کی بہتات ہے۔ یہی وجہ ہے یہاں سرسبز چرگاہیں اور پانی کی وجہ سے جانوروں کی کثیر تعداد بھی رہتی ہے اور ان کے شکار کے لیے شیر، چیتا اور دوسرے شکار کرنے والے جانور بھی۔ گیم واچنگ کے لیے اس سے آئیڈیل جگہ اور کیا ہو سکتی ہے۔
    یہاں سے داخلے کے بعد چار راستے ہیں۔
    ٭ فور ٹریکر روڈ
    ٭ سکوکوزا کی جانب ناپی روڈ H1-1
    ٭ پریٹوریس کوپ کی ڈرائیو S8 S14
    ٭ الباسینی روڈ سے پھابینی کی جانب ڈرائیو S3
    سنہ 1926 میں جب پہلی بار کروگر پارک ایک سال کے لیے عام عوام کے لیے کھولا گیا تو نُومبی گیٹ سے پہلی اینٹری ہوئی۔ 1927 میں صرف تین کاریں کروگر پارک میں داخل ہوئی جن کی فیس ایک پاؤنڈ تھی۔
    اس وقت پریٹوریس کوپ ریسٹ کیمپ میں ہی سیاحوں کے لیے رات گزارنے کی سہولت موجود تھی۔ دو سال کے بعد ایک اور سڑک کو یہاں لنک کیا گیا اور کچھ مزید ریسٹ کیمپس تعمیر کیے گئے۔ اس سے نا صرف سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور یہ 850 کاروں کی اینٹری تک پہنچ گئی بلکہ جنگل کے بہت اندر موجود اولی فینٹس ریور تک سیاحوں کی رسائی بھی ممکن ہو پائی۔
    اگر آج کے دور سے موازنہ کیا جائے تو کروگر پارک میں سالانہ دس لاکھ کے قریب سیاح آتے ہیں جس سے 850 کی تعداد بہت کم لگتی ہے پھر بھی اس دور کی کروگر پارک اتھارٹیز بہت حیران تھیں کہ جنگل کم وقت میں زیادہ مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ کروگر پارک کے پہلے وارڈن سٹیونسن ہیملٹن اپنی یادداشت میں بتاتے ہیں کہ اس وقت ہمارے پاس مہمانوں کی تعداد کے مقابل انہیں رہائش و دیگر سہولیات نا ہونے کے برابر میسر تھیں اور اکثر اوقات گیم رینجرز سیاحوں کو سونے کے لیے اپنے کوارٹرز دے دیا کرتے تھے اور خود باہر کھلے میں سوتے تھے۔
    نُومبی گیٹ بلاشبہ کروگر پارک کے خوبصورت ترین داخلی پوائنٹس میں سے ایک ہے اور اس کی میدانی وسعت و اونچائی کہ وجہ سے بہترین واکنگ ٹریلز اور لامحدود حدنگاہ جانوروں کو قریب سے دیکھنے کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ مالےلان گیٹ کی طرح چونکہ یہاں بھی بارشیں بہت زیادہ ہوتی ہیں اور زمین انتہائی زرخیز ہے لہذا ہر قسم کے پودے، بوٹیاں اور گھاس وافر میسر ہے اور چراگاہوں کی جنت۔ جانور یہاں رہنا پسند کرتے ہیں کہ انہیں خوراک کے لیے جد و جہد نہیں کرنی پڑتی۔
    بارش بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے کئی جگہوں پر جنگل بہت گھنا ہو جاتا ہے اور وہاں جانور دیکھنے کے لیے بہت غور سے دیکھنا پڑتا ہے۔ یہاں آپ کا مرکزی ہتھیار دوربین اور کیمرے کا زُوم آپشن ہے۔ کئی بار جسے آپ جھاڑی سمجھتے ہیں وہ کوئی جانور ہوتا ہے اور جسے جانور سمجھتے ہیں وہ عجیب الخلقت درخت نکل آتا ہے۔
    یاد رہے یہاں گاڑی سے اترنے کی سخت ممانعت ہے اور آپ کی زرا سی لاپرواہی نا صرف آپ کی بلکہ دوسرے ہمسفروں کی جان بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ ناصرف کار کا دروازہ نہیں کھولنا بلکہ گاڑی کی سکرین نیچے کرنے سے بھی گریز کرنا ہے کہ جانوروں کی اکثریت کیموفلاج ہوتی ہے اور عام نظر دھوکہ کھا جاتی ہے۔ یہ جانور مکمل طور پر حیوان ہیں اور اصلی جنگل کے باسی ہیں کیونکہ کروگر پارک کا صرف نام پارک ہے ورنہ یہ اصل جنگل ہی ہے جسے باڑھ لگا کر محفوظ کر دیا گیا ہے۔ کچھ حادثات میں ڈرائیور یا مسافر کی لاپرواہی ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی جن میں سب سے تازہ واقع دو سال قبل پیش آیا جب جیپ کی کھلی کھڑکی سے شیر نے حملہ کر دیا جس میں غیرملکی سیاح لڑکی شدید زخمی ہوئی جبکہ ڈرائیور زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے چل بسا۔
    کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں آپ نے رینجرز ہیلپ لائن پر کال کرنی ہے جو خود ماہر شکاریوں کی نگرانی میں آپ کی مدد کریں گے۔
    یہاں کے جانور ماہر شکاری ہیں اور سامنے نظر آنے والی گھاس جو بظاہر خالی نظر آتی ہے سے بجلی کی طرح لپکتے ہیں آناً فاناً سب ختم کر دیتے ہیں۔ اگر رینجرز نے آپ کو قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکڑ لیا تو آپ پر نا صرف بھاری جرمانہ عائد کیا جاتا ہے بلکہ آپ کے کروگر میں داخلے پر مستقل پابندی بھی لگ سکتی ہے۔ لہذا ہمیشہ کوشش کیجیے کہ آپ قانون کی خلاف ورزی نا کریں۔
    “نُومبی گیٹ بہت مشہور اور آئیڈیل جگہ ہے لہذا اس کی طوالت زیادہ ہے۔ دوسرے گیٹس کے ساتھ اس کی مزید تفصیلات ایڈ کروں گا”۔۔
    (جاری ہے)
    Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • دیامر اور سیاحت تحریر: روشن دین دیامری

    دیامر اور سیاحت تحریر: روشن دین دیامری

    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ گلگت بلتستان جنت نظیر علاقہ ہے ہر وادی ایک سے بڑھ کرایک خوبصورت ہے۔ہم ذرا گلگت بلتستان کے ضلعوں کے حوالے سے آپ کی رہنمائی کرتے ہیں کہ کس کس ضلع میں کون کون سے خوبصورت علاقے ہیں جہاں آپ سیاحت کے لیے جاسکتے ہیں۔چونکہ دیامر کو گلگت بلتستان کا گیٹ وے کہا جاتا ہے آپ چاہے ناران کاغان سے جائیں یا کوہستان سے دیامر سے گزر کے جانا ہوگا۔دیامر خوبصورتی میں لاثانی ہے اگر میں یہ کہوں کہ گلگت بلتستان کے خوبصورت ترین چند اضلاع میں دیامر بھی شامل ہے تو غلط نہ ہوگا ۔دیامر کی پسماندگی کی وجہ سے گو کہ سیاحتی شہرت اس قدر زیادہ نہیں لیکن باوجود دیامر کی خراب حالات کے بابوسر اور فیری میڈو میں لاکھوں سیاح گھومنے آتے ہیں ۔آج آپ کو دیامر کے خوبصورت علاقوں کے حوالے سے کچھ تفصیلات دیتا ہوں۔دیامر کے تین تحصیل ہیں چلاس داریل اور تانگیر ۔اس وقت سیاحت صرف تحصیل چلاس تک ہے باقی دو تحصیلوں میں سیاحت بلکل نہیں ہے۔اس کی وجوہات بے تحاشہ ہیں اس پہ لکھنا اس تحریر میں مقصود نہیں ۔اگر کوہستان کے طرف سے اپ دیامر میں داخل ہوجائیں تو سب سے پہلے تحصیل تانگیر کا علاقہ آتا تانگیر ایک تاریخی علاقہ ہے۔تانگیر کے کے ایچ کے ساتھ ایک پل کے ذریعے منسلک ہے۔روڈ سے آپکو یہ علاقہ بہت تنگ لگتا ہے جیسے ہی اپ تانگیر کے طرف داخل ہوتے ہو تانگیر کے وادی واسیع ہو جاتے ہے۔تانگیر کے شروع سے.پہلا گاؤں لورک، دیامر، شیخو ، رِم، جگلوٹ ، گلی، درکلی، کوٹ، فروڑی، پھپٹ، مُشکے ، کورونگہ، اور بھی کئی چھوٹے گاؤں ہیں، مشہور اور خوبصورت جگہیں لورک، جگلوٹ اور مُشکے ہیں، کورونگے سے آگے وادی ستیل ہے،یہ ایک انتہائی خوبصورت علاقہ ہے اس طرح اگر داریل ویلی کی بات کی جائے تو داریل بھی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے داریل ویلی کھنبری منین داریل منیکال نیلی گل داریل منیکال آٹ داریل بشال گیال کے علاقے سیاحت کے بہت خوبصورت ہے۔اس کے علاوہ داریل میں تاریخی پوگچھ یونیورسٹی بھی موجود ہے جہاں آج سے چار سو سال پہلے لوگ تعلیم حاصل کرتے تھے ۔اگر اپ چلاس کے بات کریں تو چلاس میں بابوسر نیاٹ بٹوگاہ گوہراباد تھور ہوڈور اور کھنر کی وادیاں انتہائی خوبصورت ہیں۔دیامر میں اگر سیاحت پہ توجہ دی جائی تو سالانہ کروڑوں روپے کا زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے لیکن پتہ نہیں کیوں جسے ہی دیامر میں امن ہوجاتا ہے تو کسی شرپسند عنصر کو میدان میں اتارا جاتاہے اس کے بہت سارے پس منظر ہیں جو اس وقت ہمارا موضوع نہیں ہے۔دیامر کے ترقی کے بغیر گلگت بلتستان کے کی ترقی میں ممکن نہیں ایک پرامن گلگت بلتستان کے لیے پرامن دیامر کا ہوناضروی ہے۔

  • پنجاب سے سوات تک ،حصہ دوم تحریر ارم شہزادی

    پنجاب سے سوات تک ،حصہ دوم تحریر ارم شہزادی

    پنجاب سے سوات تک ،حصہ دوم
    ہمارا خیال یہ تھا کہ ہم صبح سویرے ہی کالام کا سفر شروع کریں گے لیکن تھکاوٹ کے باعث یہ جلدی ممکن نا ہو سکا اور ہمیں منیگورہ سے کالام تک نکلنے نکلتے 1 بج گیا۔ کالام تک روڈز خوبصورت اور محفوظ تھا بس ایک دو جگہ پر ہمیں تھوڑی بہت مشکل پیش آئی باقی سفر اچھا رہا۔ ایک دو جگہ رکنے کی وجہ سے ہم کالام شام تک پہنچے۔ اب وہاں ہوٹل کی چوائس میں مشکل پیش آئی کیونکہ ہم میں سے اکثریت دریائے سوات کے قریب ٹھہرنا چاہتے تھے جبکہ بچہ پارٹی جھولے اور سلائڈز والے ہوٹل کا انتخاب کیے بیٹھے۔ خیر لیا ہم نے پھر دریائے سوات کے رخ والا۔ پہلی بار یوں دریا کے قریب ٹھہرنا اور سونے کا تجربہ ہوا۔ سامان سیٹ کمروں میں کیا اور کچھ سستانے لگے۔ پھر ایک چکر بازار کا لگایاوہاں عجیب سی خاموشی تھی مطلب عورتوں کا رش تو دور کی بات عورت نظر ہی نہیں ارہی تھی۔ کچھ دکانیں کھلی تھیں اور ڈرائی فروٹ مارکیٹ بہت بڑی تھی۔ وہیں سے گھومتے پھرتے میں اپنا پاؤں زخمی کروا بیٹھی۔ خیر پھر ہم "کمال” ہوٹل گئے وہ دریا کے کنارے تھا کھانا کھایا وہاں البتہ بہت بڑی تعداد لوگوں کی دیکھی جن میں خواتین، مرد، بوڑھے، بچے سب شامل تھے۔ کھانے کا زائقہ بہت زبردست تھا۔ سروس اچھی تھی۔ اور بل بھی مناسب تھا۔ یہاں بھی مجھے مقدار، زائقہ، معیار اور ریٹ نے کافی متاثر کیا۔ کھانے کے بعد ایک چکر پھر بازار کا لگایا تب زرا گہماگہمی تھی۔ لوگ گھوم رہے تھے کہیں کوئی خوف کا شائبہ تک نا تھا۔ لگتا نہیں تھا کہ چند سال پہلے تک یہ سارا علاقہ خوف کی علامت تھا۔ سکون اور خوشگوار ماحول میں مجھے وہ تمام لوگ یاد آئے جو قربان ہوئے اس آمن کو لانے کے لیے۔ مقامی آبادی سے لے کر افواج پاکستان کے جوانوں تک۔ کیونکہ انہیں کے خون سے ہوا ہے یہ چمن آباد۔ الله پاک اسے دشمن سے محفوظ رکھے۔ امین ثمہ آمین۔ واپسی پے سب باہر رک گئے جبکہ میں ہوٹل واپس اگئی ٹیرس پر چائے منگوائی اور دریا کے شور کو سنا محسوس کیا۔ اسکی لہریں ایسی بپھری ہوئی تھیں جیسے کسی چیز کا کسی بات کا شدید غصہ ہو۔ جیسے ابھی سب کو لے ڈوبیں گی۔ بہا کے کہیں دور لے جائیں گی۔ ان لہروں کو دیکھتے ہوئے اور ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرتے ہوئے آپ عجیب دنیا میں کھو جاتے ہیں۔ جہاں صرف آپکی زات ہوتی ہے ماضی کے دکھ حال کے چیلنجز اور مستقبل کی پلاننگ سبھی شامل ہوتے ہیں۔ مجھے ان لہروں کی نظر ہو جانے والے وہ نوجوان بھی یاد آئےجنہیں یہ لہریں بہا کے لے گئیں مجھے ناطق لکھنوی کا شعر یاد ایا وہاں بیٹھے لہروں کا شور سنتے

    "کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت

    جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے”

    سمندر کسطرح خاموشی سے بہتا ہے۔ پرسکون سا۔ اسکی لہریں اسکا شور اف الله۔ سب کی واپسی تقریباً ایک بجے ہوئی لیکن ہم سب پھر وہیں ٹیرس پر بیٹھے رہے تقریباً تین بجے تک پھر کمروں میں گئے وہاں نیند کا ایسے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جیسے ہم گھروں میں سوتے ہیں۔ کیونکہ پھر اگلے دن کی تیاری اور پروگرام کی ترتیب سونے کہاں دیتی ہے۔ اگلے دن ہم نے "اوشو” جنگل جانا تھا وہ بھی بہت خوبصورت جگہ ہے جب ہم پہنچے ناشتہ کرنے کے بعد تو کئی لوگوں کے کیمپ لگے ہوئے تھے۔ جھولے تھے گھڑ سواری اور اونٹ کی سواری بھی تھی۔ لیکن ہم اس سے پہلے اگے "کارگل” جھیل پرچلے گئے ہمارا سامنا دو بچوں سے ہوا ایک کا نام صابر تھا عمر یہی کوئی آٹھ دس تھی۔ نشانہ بازی کے لیے غبارے تھے اس کے پاس بچوں نے نشانے لیے اور تصاویر بنائیں لیکن وہ بچے ہمارے ساتھ رہے "اوشو” سے لے کر "جھیل” تک۔ اس بچے کی خدمت اور اپنے رویے پر میں بہت شرمندہ ہوں۔ واقعہ بتاتی ہوں ہوا کیا۔ صابر نے کہا کہ ہم آپکو جھیل تک لے جاتے ہیں ڈرائیور نے اسےگاڑی میں بیٹھا لیکن میں نے یہ کہہ کر اتار دیا کہ علاقہ محفوظ لگ تو رہا ہے لیکن پھر بھی اتنا اعتبار مناسب نہیں ہے اگر بچہ خود کہہ دے کہ یہ لوگ مجھے آغواہ کر کے لے جارہے ہیں تو ہم کیا کریں گے۔ اس لیے اگر انہوں نے انا ہوا تو خود اجائیں گے ہم ساتھ نہیں لے جائیں گے۔ اتار دیا انہیں اور خود چلے گئے کافی اگے جانے کے بعد پتہ چلا کہ گاڑی چونکہ بڑی ہے تو اس لیے نہیں جاسکتی سڑک تنگ ہے جانا ممکن نہیں پیدل جانا ہوگا بس ہم پھر مسجد کے قریب گاڑی کھڑی کی اور اگے پیدل نکل گئے۔ جب تک ہم لوگ پہنچے صابر اور اسکا دوست پہنچ چکے تھے وہاں چھوٹے کیری ڈبے ٹائپ اسانی سے چلتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر بھی بچے ہمارے چھوٹے چھوٹے کام کرتے رہے۔ پہنچ کے یاد آیا کہ آموں کی پیٹیاں تو ہم گاڑی میں ہی بھول آئے سگنل وہاں تھے نہیں کیا کرتے کچھ سمجھ نا آئی تو صابر نے کہا ہم جاتا ہے لے کر اتا ہے۔ کسی سے لفٹ لے کر گیا اورپندرہ منٹ میں آم ہمارے پاس تھے۔ کیا ٹھنڈا پانی تھا جھیل کا۔ بہت مزا آیا۔ دریا کی لہریں وہاں بھی یونہی شور کررہی تھیں۔ لکھا ہوا تھا کہ پتھروں پر بیٹھ کر تصاویر بنوانے سے گریز کریں۔ کیونکہ بہاؤ بہت تیز ہے۔
    جاری

  • حکومت سیاحت کے لئے کیا کر رہی ہے؟  تحریر: خالد عمران خان

    حکومت سیاحت کے لئے کیا کر رہی ہے؟ تحریر: خالد عمران خان

    سیاحت کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں بے حد مقبول ہے۔ ثقافت کے رنگ ،روایات،تاریخی مقامات ،دلکش وادیاں اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے قدرتی مناظر کی بدولت پاکستان سیاحوں کے لیے مرکز نگاہ بنا ہوا ہے۔گزشتہ برس ایک تفریحی میگزین نے پاکستان کو نہ صرف چھٹیاں گزارنے بلکہ مہم جوئی کے لئے بہترین جگہ قرار دیا۔سیاحت جہاں تفریح کا سامان میسر کرتی ہے وہیں کسی بھی ملک کی معیشت اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹریول اینڈ ٹورزم کونسل کے 2019کےاعداد و شمار کے مطابق سیاحت کی صنعت نے ملکی معیشت میں5.9فیصدتک کا حصہ ڈالاہے ۔اس کےعلاہ تقریباً39 لاکھ نوکریاں پیداہوئیں ۔ ایک اندازے کے مطابق سیاحت کی صنعت 2025 تک ملکی معیشت میں ایک کھرب روپے کا حصہ ڈالے گی۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے حکومت سیاحت کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔سیاحت کے حوالے سے حکومتی سطح پر کیے جانے والے چند اقدامات قابل غور ہیں ۔
    سڑکوں کی بہتری: ملک میں سیاحت کے رجحان کو بہتر بنانے اور سیاحوں کے لئے سہولیات کی فراہمی میں بہترین سڑکوں کی فراہمی ناگزیر ہے۔اعلیٰ حکام نے اس بات کی اہمیت کو جانتے ہوئے متعددمنصوبوں کا آغاز کیا۔مثلاً خیبر پختون خوا کے سیاحتی مقامات تک باآسان رسائی کے لئےسوات ایکسپریس وے کی تعمیر قابل ذکر ہے۔اس منصوبے سے نہ صرف مسافت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی بلکہ شہریوں میں سیاحت کا رجحان اجاگر ہوا۔

    آن لائن ویزہ کی فراہمی :ماضی میں قدرتی حسن سے مالا مال سرزمین تک رسائی کے لئےغیر ملکی سیاحوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ موجودہ حکومت نے اس مسئلے کو سنجیدہ لیتے ہوئےحال ہی میں آن لائن ویزہ سسٹم متعارف کروایا تاکہ ویزہ کے اجرا کو آسان بنایاجاسکے۔اس سے نہ صرف191 ممالک کے شہریوں کو آن لائن ویزہ کی سہولت میسر ہوگی بلکہ 50 سے زائد ممالک کے شہریوں کےلئے آن ارائیولول ویزہ کی فراہمی کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔

    این ۔او۔سی کی شرط کا خاتمہ : گزشتہ ادوار میں غیر ملکی سیاحوں کی ملک کے مختلف تفریحی مقامات تک رسائی کے لئے این او سی ایک بڑی رکاوٹ تھا۔سیاح ہزاروں ڈالرز خرچ کرکے آتے تو نہ صرف انہیں مایوس کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا بلکہ اعلیٰ حکام کے بارے میں سیاحت کے شعبہ میں دلچسپی نہ لینے سے منفی تاثر جاتا۔موجودہ حکومت نے2019 میں سیاحوں کے لئے این۔او۔سی جیسی رکاوٹ کو ختم کردیاجس سے سیاحت کے رجحان میں بہتری کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کے روزگار میں بہتری کے روشن امکانات ہیں ۔
    امن و امان کی یقینی فراہمی :9/11سانحہ کے رونماں ہونے کے بعد دہشت گردی کے خلاف شروع ہونے والی طویل جنگ سے سیاحت کی صنعت بے حد متاثر ہوئی ۔وہ وادیاں جو کبھی سیاحوں کی تفریح کامرکز تھیں دہشت گردوں کی آما جگاہ میں تبدیل ہوگئیں۔گزشتہ دہائیوں سے افواج پاکستان کی جانب سے کئے گئے آپریشنز سے امن و امان بحال ہوسکا۔اس کے علاوہ حکومتِ خیبر پختونخواہ نے شہریوں کے جان و مال کےتحفظ کے لئے متعدد سیاحتی مقامات پر پولیس فورس متعارف کروائی جو کہ ایک قابل تحسین عمل ہے۔

    تاریخی و مذہبی مقامات کی ازسرنو بحالی: شمالی علاقہ جات کے ساتھ ساتھ پاکستان تاریخی و مذہبی مقامات کی بدولت خاص کر غیر ملکی سیاحوں کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان میں ایسے کئی مقامات پائے جاتے ہیں جن سے تاریخی و ثقافت کے رنگ جھلکتے ہیں ۔مذہبی مقامات کی بدولت وطن عزیز سکھوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے لئے مرکز نگاہ ہے۔ہر سال بھارت اور دیگر ممالک سے سکھ یاتری ننکانہ صاحب آتے ہیں ۔حکومت وقت نے حال ہی میں جذبہ خیر سگالی کے طور پر مذہبی سیاحت کے رجحان کے لئے کرتار پور راہداری اور وسیع کملیکس کو پائہ تکمیل تک پہچایا۔
    والڈ سٹی اتھارٹی کا قیام:لاہورتاریخی عمارتوں کی بدولت بے دنیا کے تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے۔لاہور کے تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے کے لئے2012 میں حکومت پنجاب نے والڈ سٹی اتھارٹی قائم کی۔
    ورثہ و سیاحت اتھارٹی :حال ہی میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ورثہ و سیاحت اتھارٹی کا قیام عمل میں آیاجس کامقصد ورثے کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ پنجاب بھر میں نئے سیاحتی مقامات کی دریافت شامل
    ہے۔
    حکومتی سطح پر آگاہی مہم :پاکستان گزشتہ کئی برس دہشت گردی کی زد میں رہا ہے۔اس وجہ سے ایک عرصہ تک پاکستان کودنیا بھر میں غیر محفوظ سمجھا جاتا رہا۔ اگرچہ یہ منفی تاثر ایک حد تک زائل ہوتا نظر آتا ہے حکومتی سطح پر اسے ختم کرنے کے لئے مزید اقدامات جاری ہیں ۔پاکستان ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن نےیہ عندیہ دیا ہے کہ ستمبر 2021میں سیاحت کے فروغ کے لیے آگاہی مہم کا آغاز کیا جا رہاہے۔
    حکومت کے سیاحت کےلئے کیے جانے والے اقدامات قابل ستائش ہیں ۔جس سے ملک میں سیاحت کی صنعت کا مستقبل روشن دیکھائی دیتاہے۔

    Twitter ID: @KhalidImranK