Baaghi TV

Category: تفریح و سیاحت

  • 27ستمبر یوم سیاحت تحریر چوہدری عطا محمد

    27ستمبر یوم سیاحت تحریر چوہدری عطا محمد

    سیاحت کے شعبے کو دنیا بھر کے ممالک میں ایک صنعت کی حیثیت حاصل ہے، سیاحت کا یہ شعبہ معیشت میں بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے اورملک کی مجموعی آمدنی میں اضافہ کرنے کا بہترین زریعہ بھی ہے
    اگر ہم بات کریں ارض پاک پاکستان کی تو دنیا بھر کی طرح ارض پاک پاکستان میں بھی آج کی دن یعنی 27ستمبر کو عالمی یوم سیاحت کے نام سے بھرپور طریقہ سے منایا جاتا ہے اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ٹورزم آرگنائیشن کے ماتحت تقریباً 1980 میں پہلا بار عالمی سطع پر سیاحت کا دن منایا گیا۔ اس دن کے اگر مقاصد کی بات کی جاۓ تو دنیا بھر میں سیاحت کے فروغ کے لئے یہ دن منایا جاتا ہے جس سے اقوام عالم میں تمام ممالک کے درمیان بھائی چارے یعنی دوستی کی فضا پیدا کرانا باہمی روابط رکھنا ہے

    دنیا بھر میں سیاح بہت سے ممالک کا دورہ کر کے اس ملک کی تہزیب و تمدن اور ثقافت کا بخوبھی جائزہ لیتے اور سمجھتے جس سے سیاحوں کو اس ملک کے لوگوں کے بارے ان کے رئین سہن کھانے پینے کے بارے میں معلومات ملتی اس دن کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہہ لوگوں میں اس بات کا زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر کیا جاۓ کہہ سیاحت اقوام عالم کے تمام ملکوں کے درمیان بہت سی اہمیت رکھتی ہے
    اگر ہم ارض پاک پاکستان کی سیاحت کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ارض پاک پاکستان کا شمار بھی اقوام عالم کے خوبصورت ملکوں میں شمار ہوتا ہے یہاں تاحد نگاہ قدرتی خوبصورتی آنکھوں کو ٹھنڈک اور راحت دینے کے لئے پھیلی ہوئی ہے

    دنیا بھر کے سیاحوں کو پاکستان کے قدرتی حسین مقامات اپنی طرف راغب کرتے ہیں ارض پاک میں خوبصورت پر پیچ خم کھاتی خوبصورت وادیاں پہاڑ اور بہتے ہوۓ دریا خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ پھر پاکستان کا ثقافتی ورثہ بھی اپنا ایک مقام رکھتا ہے
    اگر میں پاکستان میں چند خوبصورت جہگوں کے نام لوں تو مری کالام ما لم جبہ آزاد کشمیر بالاکوٹ سوات گلگت کاغان ناران اور بہت سے ایسے شہر جگہیں ہیں جو دیکھنے والے سیاحوں پر سحر طاری کر دیتے ہیں
    گزشتہ ادوار میں حکمرانوں کی عدم دلچسبی اور توجہ نہ دینے کیوجہ سے یہ شعبہ کافی سست رہا۔
    لیکن پاکستان میں تحریک انصاف کی پہلے گورنمنٹ ہی جس نے سیاحت پر بھر پور توجہ دی سابقہ کے پی کے کیں دور حکومت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین جناب عمران خان کی خصوصی دلچسبی کیوجہ سے کے پی کے میں کافی زیادہ اس شعبہ میں ترقی دیکھنے میں آئی اب چونکہ مرکز میں بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور وزیز اعظم جناب عمران خان صاحب پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے خصوصی توجہ بھی دے رہے ہیں جس کیوجہ سے ہر آنے والا سال پہلے سال سے زیادہ اس شعبہ سے آمدن اکٹھی کر رہا ہے
    پاکستانی قوم کی دنیا سے پیار کرنے والی اپنے مہمانوں کو عزت دینی والی ہے پاکستان پرامن اور خوبصورت ترین ملک ہے

    @ChAttaMuhNatt

  • شمالی علاقہ جات: جنت نظیر تحریر عمران افضل راجہ

    شمالی علاقہ جات: جنت نظیر تحریر عمران افضل راجہ

    پاکستان کا صوبہ خیبر پختونخواہ بڑی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کا حامل ہے۔
    خیبر پختونخوا پاکستان کے شمال مغربی حصے میں واقعہے۔ اس کی وسیع سرحد
    افغانستان سے منسلک ہے۔ خیبر پختونخوا اپنی قدرتی خوبصورتی کے لیے جانا جاتا
    ہے۔ سیاحوں کی دلچسپیاور مہم جوئی کے لیے بہت سی جگہیں ہیں۔ شمال میں کچھ
    خوبصورت اور جنت نظیر وادیاں اور پہاڑ ہیں جن میں کاغان اورسوات،کالام، مالم
    جبہ شامل ہیں۔ یہاں پر بہت سے دریا بھی بہتے ہیں جن میں کابل، سوات، چترال، ژوب
     شامل ہیں۔ ان دریاؤںاور جھیلوں کی وجہ سے یہ صوبہ زیادہ تر سرسبز و شاداب
    وادیوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ سال کے زیادہ تر وقت یہ وادیاں اور پہاڑ برفسے ڈھکے
    ہوتے ہیں۔ گرمیوں میں یہاں موسم ٹھنڈا اور خوشگوار ہوتا ہے اس لیے پاکستان سمیت
     دنیا بھر سے سیاحوں کی بڑیتعداد شمالی علاقوں کا رخ کرتی ہے۔

    ناران

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں کاغان وادی ایک مقبول سیاحتی
     مقام ہے۔ یہ مانسہرہ شہر سے 119 کلومیٹر (74 میل) 2،409 میٹر (7،904 فٹ) کی
    بلندی پر واقع ہے ۔یہ بابوسر ٹاپ سے تقریبا kilometres 65 کلومیٹر (40 میل) دور
     ہے۔  کاغاناپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر
    سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

    وادی کاغان

    ایک الپائن وادی ہے جو خیبر پختونخوا ، پاکستان کے ضلع مانسہرہ میں واقع ہے۔
     2005 کے تباہ کن کشمیر زلزلے سے پیدا ہونے والیلینڈ سلائیڈنگ نے وادی میں جانے
     والے کئی راستوں کو تباہ کردیا ، حالانکہ اس کے بعد سڑکیں بڑی حد تک دوبارہ
    تعمیر کی گئی ہیں۔کاغان ایک انتہائی مقبول سیاحتی مقام ہے۔

    ناران کاغان میں ہر سال خوشگوار موسم کی وجہ سے ہزاروں سیاح وادی کی سیر کو آتے
     ہیں۔ یہ بابوسر پاس سے گرمیوں میں گلگتہنزہ کا گیٹ وے بھی ہے۔

    جھیل سیف الملوک

    جھیل سیف الملوک ایک پہاڑی جھیل ہے جو وادی کاغان کے شمالی سرے پر واقع ہے ، یہ
     سیف الملوک نیشنل پارک میںناران قصبے کے قریب سطح سمندر سے 3،224 میٹر (10،
    578 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔ اور پاکستان کی بلند ترین جھیلوں میں سےایک ہے۔
    ماہرین کا خیال ہے کہ وادی کاغان تقریبا 300،000 سال قبل گلیشیر سے ڈھکی ہوئی
    تھی۔ اور یہ جھیل بھی گلیشیر کےپگھلنے سے وجود میں آئی۔ دی گارڈین کے مطابق
    جھیل سیف الملوک پاکستان کے پر کشش مقامات میں سے 5 ویں نمبر پر ہے۔گلیشیر کے
    درمیان سبزی مائل شفاف جھیل کسی خواب کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ اس کے اسی ملکوتی
    حسن کی بدولت اس کےبارے میں مختلف کہانیاں مشہور ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چاند
     کی چودھویں رات کو یہاں پریاں اترتی ہیں۔

    شوگران

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کو بے شمار خوبصورت مقامات سے نوازا گیا ہے اور
    وادی شوگران ان میں سے ایک ہے۔ شوگرانوادی کاغان کا ایک پہاڑی مقام ہے جو سطح
    سمندر سے 2،362 میٹر کی بلندی پر ہے۔ شوگران کے لوگ بہت شائستہ اور دوستانہہیں۔
     ہر سال سیاحوں ایک بڑی تعداد یہاں کا رخ کرتی ہے۔  سری پائے میں ، پائی جھیل
    کے نام سے ایک جھیل ہے جہاںسیاح گھڑ سواری سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ
    کہ سری پائے ایک زرخیز سرسبز گھاس کا میدان ہے۔ وادی شوگران میںمالکنڈی جنگل
    اور منی چڑیا گھر شوگران اہمیت کے حامل ہیں۔ مالکنڈی جنگل ایک گھنا اور گہرا
    جنگل ہے۔ مالکنڈی جنگل کی سیرکرتے وقت ، آپ کو چیتوں اور کالے ریچھوں کا سامنا
    کرنا پڑ سکتا ہے ، اس لیے اپنی حفاظت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ وادیشوگران میں
    منی چڑیا گھر بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ ایک چھوٹا چڑیا گھر ہے جس میں
    معروف سہولیات اور پرندوں کیخاص قسم ہے۔

    آنسو جھیل

    آنسو جھیل پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کی وادی کاغان میں
    واقع ہے۔ یہ سطح سمندر سے 4،245 میٹر (13،927 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے اور اسے
    ہمالیہ رینج کی بلند ترین جھیلوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ جھیل وادی کاغان
     کا سب سےاونچا پہاڑ ملیکا پربت کے قریب واقع ہے۔ جھیل کا نام اس کی آنسو کی
    شکل کی وجہ سے  ہے۔ اس کو  1993 میں پاک فضائیہ کےپائلٹوں نے دریافت کیا تھا جو
     اس علاقے میں نسبتا کم بلندی پر پرواز کر رہے تھے۔ مشکل اور دشوار گزار سفر کے
     باوجود اس کیخوبصورتی سیاحوں خاص طور پر مہم جوئی کے شوقین افراد کو یہاں
    کھینچ کر لے آتی ہے۔

    مالم جبہ

    مالم جبہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وادی سوات میں سیدو شریف سے تقریبا
     40 کلومیٹر دور ہندوکش پہاڑی سلسلے میں ایک ہلاسٹیشن اور سکی ریزورٹ ہے۔ یہ
    اسلام آباد سے 314 کلومیٹر اور سیدو شریف ہوائی اڈے سے 51 کلومیٹر کے فاصلے پر
    واقع ہے ۔ یہپاکستان کا واحد سکی ریزورٹ ہے۔  یہ صرف ایک تفریحی مقام نہیں بلکہ
     اس کے آس پاس  2 بدھسٹ سٹوپا اور 6 خانقاہیں بھیہیں۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ
    یہاں دو ہزار سال پہلے بھی آبادی تھی۔

    اگرچہ مالم جبہ زیادہ تر اسکیئنگ کے لیے مشہور ہے۔ لیکن اس کے علاوہ ایک
    خوبصورت اور پر فضا پہاڑی مقام ہونے کی وجہ سےبھی یہاں ہر سال سیاحوں کا رش
    رہتا ہے۔

    نتھیاگلی

    نتھیا گلی ایک خوبصورت اور پر فضا پہاڑی ریزورٹ ہے جو پاکستان کے صوبہ خیبر
    پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں واقع ہے۔ یہگلیات رینج کے مرکز میں واقع ہے ،
    جہاں کئی پہاڑی سٹیشن واقع ہیں۔ نتھیا گلی اپنی قدرتی خوبصورتی ، پیدل سفر کے
    ٹریک اورخوشگوار موسم کے لیے جانا جاتا ہے، جو کہ بلندی پر ہونے کی وجہ سے باقی
     گلیات رینج کے مقابلے میں بہت ٹھنڈا ہے۔ یہ مری اورایبٹ آباد دونوں سے تقریبا
     32 کلومیٹر (20 میل) دور ہے۔ جنگلی حیات اور فطرت سے محبت کرنے والے سیاحوں
    اور ہائیکنگکرنے والوں کے لیے یہ بے پناہ کشش لیے ہوئے ہے۔

    چونکہ نتھیا گلی 8،200 فٹ پر واقع ہے ، اس لیے میراں جانی ہائیکنگ  کے لیے
    بہترین تصور کیا جاتا ہے۔ یہ 6-7 گھنٹے کا سفر ہے۔اگر پیدل سفر طویل لگتا ہے تو
     سفر کے لیے گھوڑے بھی کرائے پر دستیاب ہیں۔

    ایک انتہائی تجویز کردہ جگہ ، گرین اسپاٹ پاکستان ایئر فورس بیس کالاباغ پر
    واقع ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز ، آرام دہ علاقہ ہے۔قریب ہی ایک چھوٹا سا کیفے ہے
    جو کافی ، چائے ، سافٹ ڈرنکس اور سنیکس پیش کرتا ہے۔

    گورنر ہاؤس نتھیا گلی کے مرکزی بازار سے سڑک کے اوپر واقع ہے۔ بہت پہلے برطانوی
     راج کے دوران تعمیر کیا گیا۔یہ سرسبز وشاداب لان سے گھرا ہوا ہے۔

    فن تعمیر کا ایک اور حیرت انگیز شاہکار نتھیا گلی کا چرچ ہے۔  برطانوی حکمرانوں
     کے دور میں تعمیر کیا گیا ، لکڑی سے بنا ہوا چرچ نتھیاگلی میں ایک اہم کشش ہے۔
     اس کے چاروں طرف سرسبز گھاس ہے جو اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے۔

    مشک پوری

    شمالی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں نتھیا گلی پہاڑیوں
    میں ایک 2،800 میٹر اونچا (9،200 فٹ) پہاڑ ہے۔ یہاسلام آباد سے 90 کلومیٹر (56
    میل) شمال میں ، ایوبیہ نیشنل پارک کے نتھیا گلی علاقے میں ڈنگا گلی کے بالکل
    اوپر ہے۔ یہ میرانجانیکے بعد گلیات ریجن کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے جو 2،992
    میٹر (9،816 فٹ) پر واقع ہے۔

    چوٹی پر پانی کا تالاب ہے جو آسمان اور درختوں کا شاندار نظارہ پیش کرتا ہے۔
    وادی کشمیر کا ایک خوبصورت نظارہ مشک پوری سےبھی دیکھا جا سکتا ہے۔ لہذا ،
    بنیادی طور پر ، نہ صرف یہ دلکش مقام آپ کو اپنی اندرونی خوبصورتی دکھاتا ہے
    بلکہ آس پاس کےمقامات کی جھلک بھی پیش کرتا ہے-

    ایوبیہ نیشنل پارک

    مری پہاڑیوں میں ایک چھوٹا قومی پارک ہے۔ ایوبیہ نیشنل پارک تقریبا 3128 ہیکٹر
    ایکڑ رقبے پر محیط ، یہ جگہ خاص طور پر کے پیکے میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں ان
    پرندوں اور جانوروں کا وجود ہے جو ناپید ہونے کے خطرے کا شکار ہیں۔ کالا ریچھ
    اور چیتےعام نظر میں آتے ہیں۔ کوکلاس فیزینٹ اور کالیج فیزینٹ ، یہاں پائے جاتے
     ہیں جو معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ 45 منٹ کا یہ سفر دریائے جہلم اور پائنس
     سے ڈھکی پہاڑیوں کی دلکش خوبصورتی سے بھرپور ہے۔ یہ پارک پاکستان میں نم
    ہمالیہ کےمعتدل جنگلات کی بہترین باقیات میں سے ایک ہے اور سات بڑے دیہات اور
    تین چھوٹے شہروں (نتھیاگلی ، ایوبیا اور خانس پور) سے گھرا ہوا ہے۔ ایوبیہ
    نیشنل پارک ایک بڑا تفریحی علاقہ ہے جس میں بڑی تعداد میں مقامی سیاح آتے ہیں
    جن میں زیادہ تر اسلامآباد اور ایبٹ آباد سے آتے ہیں۔ ہر سال تقریبا 100،000
    سیاح یہاں آتے ہیں۔

    وادی سوات

    وادی سوات ایک بلند و بالا سیاحتی مقام ہے جو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے
     شمال مغربی پہاڑوں میں واقع ہے۔ یہ جگہ آثارقدیمہ ، سیر و تفریح اور ہائیکنگ
    کے لیے مثالی ہے۔ اگرچہ سوات کی وادی اپنی شاندار قدرتی خوبصورتی کے لیے شہرت
    رکھتی ہے ،پھر بھی اس کے 5،337 کلومیٹر (2،061 مربع میل) کے رقبے میں سیاحوں کے
     لئے بہت سے پرکشش مقامات ہیں۔ سوات کوپاکستان کا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا ہے ،
    دریائے سوات کے ارد گرد ایک قدرتی جغرافیائی علاقہ ہے۔ وادی گندھارا کی قدیم
    بادشاہت کےتحت ابتدائی ہندو مت اور بدھ مت کا ایک بڑا مرکز تھا۔ وادی میں 10
    ویں صدی تک بدھ مت کا وجود تھا، جس کے بعد یہ علاقہزیادہ تر مسلم ہوگیا۔

    سیدو شریف سوات کا دارالحکومت ہے۔ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ، سیدو شریف میں
    مرکزی سرکاری دفاتر ، پیشہ ور تعلیمیادارے ، صحت کی سہولیات وغیرہ موجود ہیں ۔
    سیدو شریف وادی سوات میں 25 قبل مسیح اور پہلی صدی کے اختتام کےدرمیان بدھ مت
    کا ثبوت ہے۔ سیدو شریف میں سیاحوں کی ایک اور اہم توجہ سوات میوزیم ہے جو بدھ
    دور کی ہزاروں اشیاءکے ساتھ ساتھ بدھ سے پہلے کے تاریخی نمونے بھی دکھاتا ہے۔

    مینگورہ بازار سوات کا مرکزی کاروباری مرکز ہے۔ مینگورہ شہر میں ہزاروں دکانیں
    ہیں جو تمام دن کھلی رہتی ہیں۔ مینگورہ میں مختلفقسم کے ہوٹل ، ریستوران ، ٹیک
    اوے ، کیفے اور مغربی فوڈ آؤٹ لیٹس ہیں جو مقامی اور فاسٹ فوڈ دونوں پیش کرتے
    ہیں۔

    سوات ہندوکش پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع اپنے شاندار پہاڑوں کے لیے بھی مشہور
     ہے جہاں آپ پیدل سفر ، ٹریکنگ اورہائیکنگ کر سکتے ہیں۔ سطح سمندر سے 4500 سے
     6000 میٹر تک کئی پہاڑی چوٹیاں ہیں۔ دریائے سوات پر مشتمل سوات کا علاقہسرسبز
    وادیوں ، برف سے ڈھکے گلیشیئرز ، جنگلات ، گھاس کا میدان اور میدانی علاقوں سے
    ڈھکا ہوا ہے۔سوات کی جھیلیں اپنےساتھ ایک بھرپور تاریخ رکھتی ہیں۔ وادی سوات
    میں بے شمار تالاب اور میٹھے پانی کی بہت بڑی جھیلیں ہیں۔ اس وادی میں تقریبا
    35 مشہور جھیلیں ہیں ، ان میں سے ہر ایک اپنے دلکش اور چمکتے ہوئے مناظر سے
    منفرد ہے۔ یہ جھیلیں پودوں اور جنگلی حیات کیمتعدد اقسام کا گھر ہیں۔

    وادی کالاش

    شمالی پاکستان کے ضلع چترال کی وادیاں ہیں۔ یہ وادیاں ہندوکش پہاڑی سلسلے سے
    گھری ہوئی ہیں۔ وادی کے باشندے ایک منفردثقافت ، زبان رکھتے ہیں اور قدیم ہندو
    مت کی ایک شکل پر عمل پیرا ہیں۔ کالاش وادیاں پاکستانی اور بین الاقوامی سیاحوں
     کے لیےکشش کا باعث ہیں۔ کالاش لوگوں کی ثقافت منفرد ہے اور شمال مغربی پاکستان
     میں اپنے اردگرد موجود بہت سے عصری اسلامینسلی گروہوں سے مختلف طریقوں سے
    مختلف ہے۔ وہ مشرک ہیں اور فطرت ان کی روز مرہ کی زندگی میں انتہائی اہم اور
    روحانیکردار ادا کرتی ہے۔ ان کی مذہبی روایات اور تہوار ان کے مذہب کی نمائندگی
     کرتے ہیں۔ کالاش دو الگ الگ ثقافتی علاقوں پرمشتمل ہے ، رمبور اور بمبوریت کی
    وادیاں ایک بنتی ہیں اور دوسری وادی بیریر؛ وادی بیریر ان دونوں میں زیادہ
    روایتی ہے۔ کالاشافسانہ اور لوک داستانوں کا موازنہ قدیم یونان سے کیا گیا ہے ،
      لیکن وہ برصغیر پاک و ہند کے دیگر حصوں میں ہندو روایات کےبہت قریب ہیں۔
    کالاش نے ماہرین بشریات اور سیاحوں کو اپنی منفرد ثقافت کی وجہ سے اس علاقے کے
    باقی لوگوں کے مقابلےمیں متوجہ کیا ہے۔ اپنی شاندار ثقافت ، زبان ، تہواروں اور
     آرٹ کی عالمی مقبولیت کے معیار کے ساتھ سیاحوں کے لیے بھرپورکشش رکھتا ہے۔اگر
    آپ معاصر آرٹ اور کلچر کے شوقین ہیں تو کے پی کے میں کالاش ویلی کا رخ کریں۔

    ٹھنڈیانی

    ٹھنڈیانی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے گلیات علاقے میں ایک پہاڑی سٹیشن
    ہے۔ ٹھنڈیانی ضلع ایبٹ آباد کے شمال مشرقمیں واقع ہے اور ہمالیہ کے دامن میں
    ایبٹ آباد سے 37.5 کلومیٹر (23.3 میل) کے فاصلے پر ہے۔ دریائے کنہار سے آگے
    مشرق میںبرف سے ڈھکا ہوا پیر پنجال پہاڑی سلسلہ کشمیر ہے۔ کوہستان اور کاغان کے
     پہاڑ شمال اور شمال مشرق میں دکھائی دیتے ہیں۔شمال مغرب میں سوات اور چترال کے
     برفانی سلسلے ہیں۔ ٹھنڈیانی کے لفظی معنی ” بہت سرد ” کے ہیں۔ اس سے آپ یہاں
    کیآب و ہوا کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ٹھنڈیانی موسم گرما کے مہینوں میں بہترین
    موسم اور سرسبز و شاداب ، اور سردیوں میں برف سےڈھکی پہاڑیوں کی خصوصیت رکھتا
    ہے۔ خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان سے بہت سے سیاح یہاں آتے ہیں ، خاص طور پر
    گرمیوںکے موسم میں۔ اونچائی پر ہونے کی وجہ سے ، پرکشش مناظر اور جنگلوں اور
    دیگر قریبی مقامات تک ہائیکنگ کی خصوصیت کی وجہسے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

    پاکستان قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ہے۔ یوں تو پاکستان کے دوسرے صوبوں اور
    اضلاع میں بھی خوبصورت وادیاں ہیں۔ لیکنخیبر پختونخواہ میں پائی جانے والی یہ
    سرسبز، دلکش اور پرسکون وادیاں پاکستانی سیاحت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ
    وادیاں ہر ساللاکھوں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ کر لاتی ہیں۔ اگرچہ بہت سی
    وادیوں کو جانے والے راستے کافی اچھی حالت میں ہیں لیکن ابھیبھی زیادہ تر
    علاقوں تک پہنچنے کے لئے انتہائی دشوار گزار سفر طے کرنا پڑتا ہے۔  لیکن سیاحت
    اور مہم جوئی میں دلچسپی رکھنے اورپرفضا، پرسکون جگہ پر چھٹیاں گزارنے کے
    خواہشمند افراد کے راستے میں یہ مشکلات رکاوٹ نہیں بنتی۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • مصر کی تاریخ تحریر اصغر علی

    مصر کی تاریخ تحریر اصغر علی

    آج سے چار ہزار سال پہلے Egyptian لوگ جنہیں مصری بھی کہا جاتا ہے مصر پر راج کرتے تھے اور اپنے زمانے میں انہوں نے ایسی دریافتیں کی تھی جو آج ہم صرف سوچ ہی سکتے ہیں جیسا کہ پیرامڈ یا اہرام مصر کا آسمان کی طرف تین ستاروں کے بالکل نیچے ہونا اور اہرام مصر کے اندر کا درجہ حرارت 20 ڈگری ہی رہنا جس کا مطلب ہے کہ نہ یہاں سردی زیادہ پڑتی ہے اور نہ ہی گرمی ہمیشہ ایک جیسا ٹمپریچر رہتا ہے اور سب سے حیرت انگیز چیز جو یہاں انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے وہ ہے ایلین کیونکہ ایلین کے بارے میں آج ہم جو تصورات پیش کرتے ہیں وہ وہاں مصر میں آج سے چار ہزار سال پہلے  پیرامڈ یا اہرام مصر کے  پر ایلین  کے بارے میں ایسی ایسی پینٹنگز موجود ہیں جو آج کے سائنسدانوں کو وہاں کھوج کرنے پہ مجبور کر دیتی ہیں اور اہرام مصر کو دیکھتے ہوئے ایسا نہیں لگتا کہ یہ انسانوں نے بنائے ہوں گے بلکہ یہاں پر اور بھی مخلوق موجود تھی جس پر آج کے دور میں یقین کرنا ناممکن ہے سائنسدان اہرام مصر پر لمبے عرصے سے کام کر رہے ہیں مگر آج تک کوئی بھی یہ نہیں جان پایا کہ یہ تین پیرامڈ کس طرح بنائے گئے اور یہاں پر کس طرح کی کنکریٹ کا استعمال ہوا ہو گا کیونکہ صرف ایک پیرامڈ کے اندر 13 لاکھ پتھر استعمال ہوئے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ استعمال ہونے والے ہر ایک پتھر کا وزن 27 سو کلو سے لے کر 70 ہزار کلو تک ہے اس لیے ایک پتھر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت دینا بہت مشکل ہے اور اگر آج کی بات کریں تو آج کے دور کی جدید ترین کرین بیس ہزار کلو سے زیادہ وزن نہیں اٹھا سکتی تو آج سے چار ہزار سال پہلے اتنا وزن اٹھانا کس طرح ممکن ہوا ایک مقام سے دوسرے مقام پر کس طرح ان پتھروں کو پہنچایا گیا اس کا ایک ہی جواب ہے جس پر آج کل کے دور پہ یقین کرنا مشکل ہے اور وہ ہے ایلین کیونکہ ان پیرامیڈ کے بارے میں ایک مشہور تھیوری ہے جس کو Orion Constellation کی تھیوری کہہ سکتے ہیں کیونکہ اگر آپ رات کے وقت ان پیرامڈ کو دیکھیں تو ان کے بالکل اوپر تین ستارے پرفیکٹ ڈائریکشن میں نظر آئیں گے یہی تین ستارے Orion Constellation میں واقع ہے اور ان تین ستاروں کی پوزیشن ان پیرامڈ سے واضح ہوتی ہے اس لیے کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ بہت سال پہلے خلائی مخلوق یا ایلین  انہی تین ستاروں سے زمین پر آئے تھے اور اپنے ساتھ بہت ایڈوانس ٹیکنالوجی لے کر آئے تھے اور انہوں نے ہی ان کو تعمیر کروایا تھا اب یہ تو کوئی نہیں جانتا کہ اہرام مصر کو خلائی مخلوق نے بنایا یا انسانوں نے  لیکن ایک بات تو طے ہے اور وہ یہ کہ ان تین پیرامڈ سکا ان تین ستاروں سے کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہے اس کا ذکر ایک اور سائنسدان نے بھی اپنی کتاب میں کیا ہے اس نے جب پیرامڈ کے پتھر کے  پر تجربات کیے  تو پتہ لگا کہ جو پتھر پیرامڈ میں لگا ہوا ہے اس ساخت کا پتھر پوری دنیا میں کہیں نہیں ہے اہرام مصر ہر زاویے سے مختلف رازوں سے بھرے پڑے  ہیں یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ پیرامیڈ انسانوں نے بنائے تو اس وقت انسانوں کے پاس اتنی ٹیکنالوجی کہاں سے آئی اور دوسری بات ان کے اوپر ایلینز اور اڑن طشتری کی پینٹنگ موجود ہونا جو اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ یہ پیرامڈ انسانوں نے نہیں بنائے ہیں اور اگر انسانوں نے بنائے ہیں تو یہ پیرامڈ کس لیے بنائے  گئے پہلے لوگ یہ مانتے تھے کہ ان پیرامیڈ کے اندر س وقت کے بادشاہوں اور ملکہ کی حنوط شدہ لاشیں موجود ہیں ہے مگر جب پیرامڈ کے اندر ایک روبوٹ کو بھیجا گیا تو سب کچھ  واضح ہو گیا کہ پیرامڈ کے اندر کسی قسم کی کوئی حنوط شدہ لاش موجود نہیں تھی اہرام مصر آج بھی سائنسدانوں کے لیے ایک معمہ بنا ہوا ہے اور سائنسدان اس کے اوپر تجربات کر رہے ہیں دیکھتے ہیں اور کتنا وقت اور لگتا ہے اہرام مصر کی حقیقت جاننے میں

  • مطالعہ میرا دوست | تحریر:عدنان یوسفزئی 

    مطالعہ میرا دوست | تحریر:عدنان یوسفزئی 

    مطالعہ ایک کامیاب انسان اور بطور خاص کامیاب لکھاری کے لئے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ایک جاندار کو زندہ رہنے کے لئے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ آکسیجن کی عدم موجودگی میں وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔

        دراصل مطالعہ ایک نشہ ہے اور جو کوئی اس نشے کا عادی بن جاتا ہے پھر وہ مطالعہ کے بغیر نہیں رہ سکتا،یہ کوئی مبالغہ آمیز بات نہیں بلکہ ہماری اکابر واسلاف کی زندگیوں میں ہمیں اس کا واضح عکس ملتا ہے۔کہ وہ بعض اوقات مطالعے میں اس قدر منہمک ہوجاتے کہ پھران کو یہ بھی یاد نہ رہتا کہ کھانا کھایا ہے یا نہیں وہ مکمل مستعرق ہوجاتے۔اسی مطالعے کی استعراق میں امام مسلم رح نے ایک مرتبہ اتنے زیادہ کھجور کھائی کہ ان کی معدے نے اس کی گرمائش برداشت نہ کی، چنانچہ اسی سے وفات پائی۔

              لیکن بدقسمتی سے امت مسلمہ میں مطالعے اور کتب بینی کا یہ ذوق تیزی کیساتھ زوال پذیر ہیجس کی وجہ سے ہم اپنے عظمت رفتہ سے دور ہوتے جارہے ہیں بقول شاعر مشرق رح 

    گنوادی ہم نے جواسلاف سے میراث پائی تھی

    ثریا نے زمین پر اسمان سے ہم کو دے مارا

         کتب بینی کی عادت وشوق نے ہمیں علوم وفنون سے بہت دور کردیا۔مغرب نے کتب بینی کو فروغ دیتے ہوئے انتظارگاہوں تک میں لائبریریاں قائم کیں اس لیے وہاں روز بروز نت نئے تجربات مختلف میدانوں سے آرہے ہیں۔

    مطالعہ کرنا سب سے بڑھ کر کتاب ایک بہترین ساتھی ہے۔ ایک اچھے لکھاری بننے کے لیے کتابوں کا مطالعہ بہت ضروری ہوتا ہے۔ کتاب کے مطالعے کا شوق اور محبت جس کسی کو لگ جائے تو وہ تنہائی کو اپنے لئے ایک نعمت سمجھتا ہے۔

    کتاب بہت عجیب قسم کا دوست ہے. یہ انسان کو بھی ہنساتا ہے اور کبھی رلاتا ہے۔

    یہ کتاب ہی ہے جس کا مطالعہ اگر ایک طرف ہمیں اپنی روشن ماضی کی یاد دلاتا ہے، تو دوسری طرف مسلمانوں کے زوال کی داستان سناتا ہے۔ یہ کتاب ہی تو ہے جو ایک طرف  ہمیں غیروں کے مظالم کی گواہی دیتا ہے اور دوسری طرف یہ کتاب ہی ہے جو کہ اپنائیت کے ناطے امت مسلمہ سے شکوہ کنا نظر آتی ہے۔ 

    کتاب ہمیں نیک وبد کی تمیز سکھاتی ہے۔ ہم ایک اچھی کتاب کو ایک بہترین استاد کی زیر نگرانی پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے احکامات معلوم کرسکتے ہے۔اسی طرح ہم سرور کائنات خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ و سلم کے مبارک سنت سے باخبر ہو سکتے ہے۔

    دنیا میں کتاب سے دوستی کرنا ہے تو اس کی دوستی آپ کے دل کو ایسے روشنی عطا کردیتے ہے۔ جس سے زندگی بھر آپ اس روشنی سے لطف اندوز ہونگے۔ اس کی جتنا بھی مطالعہ آپ کریں۔ اتنا ہی آپ کی کتاب سے دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوجائیگی۔

                       انسان جب کتاب سے تعلق رکھتا ہے اور اسے اپنا دوست بناتا ہے تو کتاب کی دوستی انسان کو اپنی صحیح منزل دکھا کر راہ راست پر لاتا ہے۔ خواہ وہ دنیاوی ہو یا اخروی دونوں میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں۔

    مغربی دنیا میں آج کل بڑا ہو یا چھوٹا کتاب سے تعلق اور اس میں مطالعے کی رحجان پایا جاتا ہے۔ اس نے کتابوں سے دوستی کرکے اس سے اپنے لیے دنیاوی راستے کھول دیے ہیں۔ وہ پستیوں کی راہیں پیچھے چھوڑ کر آگے نکل گئے ہیں، صرف اور صرف وہ مطالعے کے گہرے سمندر میں ڈوب گئے ہیں۔

               بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کتابوں سے دوستی کرنے اور مطالعے کے شوقین افراد کی تعداد بہت کم پائی جاتی ہے۔ اگر ہم نے کتابوں کی سے دوستی قائم کرلی۔ پھر ہم کتاب کی مطالعہ کئے بغیر اپنے آپ کو نامکمل سمجھے گے۔ یہ ہمیں اپنا منزل بتاتے ہیں کہ کیسے آپ اس پستیوں کی تاریک ظلمتوں سے نکل کر اپنی بلند وبالا منزلوں کی طرف جانا ہے۔

                کتاب کی ہر ایک لفظ ہم کو نئے نئے سوچ دیکر علم کے خزانے ہمارے لئے کھول دیتا ہے۔ کتاب ہی ہمیں مشرق سے لیکر مغرب تک، شمال سے لیکر جنوب تک سارے حالات بیان کر کے ہمیں اندھیروں سے نکال کر، اچھائی اور برائی کی تمیز سکھاتا ہے. قلم وکتاب سے رشتہ قائم کرنا ہی ہمیں ہمارے اقدار و عظمت کے مینارے دکھاتا ہے۔ کتاب کے بغیر ہماری زندگی میں لطف نہیں ہوگی۔

    اگر مطالعے کے لیے  اچھی اور معیاری کتاب کا انتخاب نہیں کیا گیا تو یہی کتاب بعض اوقات آستین کا سانپ بھی بن سکتا ہے۔مثلاً مستشرقین کی کتابیں پڑھ کر ایک انسان دین اسلام کا بن سکتا ہے۔اس لئے ہمیں چاہیے کہ کتب کے انتخاب میں بہت ہی احتیاط سے کام لیا جائے۔

         مختصراً یہ کہ مطالعہ ہی ایک ادنیٰ انسان کو معراج تک لے جاتا ہے، کیونکہ مطالعہ کرنے والا شخص قوموں کی تاریخ وثقافت،رسوم ورواج اور تہذیب  کامیابی وکامرانی سے باخبر ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ مستقبل میں اسی انداز سے دیکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کتاب اچھے برے میں تمیز کراتے ہیں، اور مطالعہ کرنے والا بندہ تنہائیوں سینہیں گھبراتا بلکہ تنہائی کو یکسوئی سمجھ کر مطالعہ کرتا رہتا ہے۔

    Twitter | @AdnaniYousafza

  • سفر کاغان |تحریر اعجازالحق عثمانی

    سفر کاغان |تحریر اعجازالحق عثمانی

    کے۔پی۔کے ” کے ہزارہ ڈویژن میں واقع وادی کاغان اپنے حسین و دلکش مناظر،پرلطف آب وہوا،ہرے بھرے فلک بوس پہاڑوں اور اپنی جھیلوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔161کلومیٹر طویل وادی کاغان کا آغاز بالاکوٹ سے ہوتا ہے۔شہداء کی سرزمین بالاکوٹ مانسہرہ سے 30کلومیٹر اور سطح سمندر سے 3250 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔وادی کاغان کا دروازہ کہلایا جانے والا یہ شہر تعلیمی،ثقافتی اور ایک تجارتی مرکز بھی ہے۔اس شہر کی سیاحتی اہمیت کچھ زیادہ نہیں ۔سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل کا مدفن ہونے کی وجہ سے اسے تاریخی حیثیت حاصل ہے۔اور وادی کا اختتام سطح سمندر سے 13690فٹ بلند درہ بابوسر پر ھوتا ہے۔اس حسین وادی کے بارے میں کوثر نیازی لکھتے ہیں:
    باٹا کنڈی کی بھلدران کی، شگران کی یاد
    دل شاعر میں ہے خوابوں کے پرستان کی یاد
    یہ پگھلتی ہوئی چاندی سا چمکتا پانی!
    دل سے جائے گی نہ اب وادی کاغان کی یاد
    مصحف روئے دل آرا کی تلاوت جیسے
    کتنی رنگین ودل افراز ہے ناران کی یاد
    اس خواہش میں چلا آیا ہوں بابوسر پر
    اس کی چوٹی سے مجھے آئے گی فاران کی یاد
    کاش اس مست خنک چھاوں میں تم بھی ہوتے
    دل میں ابتک ہے اک حسرت وارمان کی یاد
    عشق جس رنگ میں ہو زندہ وپائندہ ہے
    دل ہر سنگ میں ہے سیف کے رومان کی یاد
    جبر کرکے مجھے لے آئے یہاں کوثر
    دل سی جائے گی نہ احباب کے احسان کی یاد

    یہ کوئی ستمبر کی آخری رات ہوگی۔جب ہم 9بجے کے قریب وادی کاغان کےلیے روانہ ہوئے۔گاڑی میں بیٹھتے ہی ہلاگلا شروع ہوگیا۔کبھی نعرے بازی سننے کو ملتی تو کبھی گانے۔۔۔۔۔
    مانسہرہ پہنچتے ہی سرد اور خنک ہوا نے ہمارا استقبال کیا۔ایک ہوٹل سے چائے پی اور پھر سفر شروع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاغان کا پہاڑی راستہ جتنا ہم نے خوفناک سنا تھا ۔اس سے کہیں زیادہ نکلا۔اس سمے ہمیں وہ وقت یاد آیا جب ہم ماں کے شیر ہوتے تھے مگر دن کے وقت بھی گاوں کے پہاڑوں سے بکریوں کو واپس لانے کےلیے جانے سے ڈرتے تھے۔ان پہاڑوں پر ہمیں “ماں”یاد آتی تھی۔اور ان پہاڑوں پر “خدا”یاد آیا۔
    تقریبا صبح سات بجے کے قریب ہم وادی کاغان میں داخل ہوچکے تھے۔ایک دوست ہمیں “silent”بھائی کہتا ھے۔مگر جتنی خاموش وادی کاغان ہے اتنے ہم بھی نہیں۔
    بقول مستنصر حسین تارڑ:
    “وادی کاغان کے لوگ کچی کوٹھروں سے بھیڑ بکریوں کو بےدخل کر کے اور ان میں سیاحوں کو داخل کر کے ایک شب میں ہزاروں روپے کماتے ہیں۔اس کے باوجود بہت سے لوگ رہائش نہ ملنے پر بالاکوٹ میں جاکر سر چھپاتے ہیں۔”
    مگر اب کاغان میں ہوٹلوں اور خچروں کی تعداد مساوی ہونے والی ہے۔دو گھنٹے آرام کے بعد ہم جھیل سیف الملوک کی طرف روانہ ہوئے۔”جھیل سیف الملوک “کے بارے میں ہمارا خیال تھا کہ یہ جھیل بھی “کلرکہار جھیل” کی طرح مختلف چیزوں مثلا بسکٹ، ٹافیوں اور چپس کے خالی رپیروں سے سجی ہوگی۔مگر افسوس!جھیل پر پہنچ کر ہمارا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ہماری پہلی نظر جن چیزوں پر پڑی وہ بدوضع کھوکھے،خیمے نما عارضی کمرےاور اپنی قمیض سے ناک صاف کرتا بچہ تھا۔اور دوسری نظر میں ہم نے ایک دل کش اور حیرت انگیز چیز سفید لباس میں دیکھی۔آپ کے خیال میں کوئی پری ہوگی مگر پری نہیں تھی۔ایک پہاڑ تھا۔جس نے برف کا سفید لباس اوڑھ رکھا تھا۔ہاں!ہمیں جھیل سیف الملوک پر “پریاں “بھی دیکھائی دی مگر وہ نورانی پریاں نہ تھیں۔
    چند گھنٹوں کے آرام کے بعد ہم ناران کا بازار دیکھنے دوڑ پڑے۔رات کے دس بجے بھی سڑک کی دونوں جانب انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہجوم تھا۔حلوائی کی دکان پر رنگ برنگی مٹھائیاں تھالوں میں سجی ہوئی تھیں۔حلوائی کی دکان کے بالکل سامنے تیکھے نقوش والا لڑکا “کافی”بیچ رہا تھا۔ رات کو بھی دن کا سماں تھا۔نوجوان جوڑے”من تو شدی ،تو من شدی” کی مجسم صورت بنے آ اور جا رہے تھے۔کچھ تو ایسے بھی تھےجو کبھی نوجوان جوڑوں کو دیکھتے تو کبھی ادھر ادھر کی دکانوں کو۔ہم بھی انھی میں شمار تھے۔یعنی۔۔۔۔۔۔۔ٹائم دیکھا تو 12بج چکے تھے۔مگر اس ماحول سے نکلنے کو جی ہی نہیں چارہا تھا۔سوچا جاکر سونے کا کیا فائدہ ناجانے پھر کب ملے گا یہ سماں۔حالی نے بھی شاید میرے لیے کہا تھا۔
    “کھیتوں کو دے لو پانی اب بہہ رہی ہے گنگا”
    تھوڑا آگے سیخوں پر کباب بنائے جا رہے تھے۔ایک ہوٹل میں رش اتنا تھا کہ جیسا مفت کھانا مل رہا ہو۔سو ہم بھی گھس گئے۔جب بل آیا تو مفت کھانے والوں کو یوں لگا کہ جیسے پڑوسیوں کا بل بھی ہم بھر رہے ہیں۔کچھ دیر بعد اچانک بازار کی رونق آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگی اور ہم بھی لوٹ آئے۔
    اگلے روز ناشتے کے بعد ہم”بابو سر ٹاپ”کی دید کو نکل پڑے۔ شاہراہ کو چوڑا کرنے کےلیے جگہ جگہ بل ڈوزر پہاڑوں سے ماتھا لگائے دیکھائی دیے۔ کھڑکی سے گردن باہر نکالی تو تیکھے نقوش والی لڑکی تیز تیز قدموں سے چلتی دیکھائی دی۔تھوڑا آگے میری ہی عمر کا ایک جوان بھیڑ بکریاں چراتے دیکھائی دیا۔راستے میں جھیل”لولوسر”کی دید بھی نصیب ہوئی۔جسے وادی کی شہہ رگ یعنی “دریائے کنہار” کا ماخذ بھی کہا جاتا ہے۔وادی کا حرف آخر کہلایا جانے والا درہ بابو سر ناران سے 81کلومیٹر اور سطح سمندر سے 13690فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ایک دفعہ گاوں میں ابا جان نے بتایا”بیٹا اونچی جگہ پر سگنلز اچھے آتے ہیں”مگر بابو سر کی( 13680فٹ )کی اونچائی پر ایسا نہیں تھا۔”سورج کے قریب تھے،پھر بھی سردی زیادہ”۔چائے پینے کےلیے لکڑی کے پرانے تختوں سے بنے اک اعلی ہوٹل میں گئے۔چھوٹے سے کپ میں پانچ گھونٹ چائے۔اور قیمت پچاس روپے ادا کرنا پڑی۔یعنی فی گھونٹ 10روپے۔بابوسر کی ٹاپ پر پہنچتے ہی ہمیں “اعزارائیل”کا خیال آیا اور ہم نیچے کی طرف بھاگے۔ناران واپس پہنچ کر ہم نے آرام کی خاطر اپنے کمرے میں جانے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔دوستوں کے اصرار پر ہمیں ناران کی گلیوں کی خاک چھاننے کےلیے جانا پڑا۔سوکھے پتوں کی مانند لوگ اپنے کام کاج میں مصروف تھے۔ زیادہ تر گھروں کے چار دیواریاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔چند گھروں میں تو مغرب سے پہلے بھی روٹی کھاتے افراد دیکھائی دیے۔انھیں دیکھ کر مجھے اپنا آبائی گاوں یاد آیا۔ وہاں ہم بھی کبھی مغرب سے پہلے تو کبھی نماز کے فورا بعد کھانا کھا لیتے تھے۔وہاں کے لوگ بھی ناران کی اس گلی کے لوگوں کی طرح سادہ ہیں۔ تھکاوٹ کے احساس کو قدرے زائل کرنے کےلیے ہم نے چائے پی۔ہوٹل واپس آکر کھانا کھایا۔اور پھر بازار چل دیے۔
    اگلے دن “لالہ زار”کی طرف روانگی ہوئی۔لالہ زار تو واقعی لالہ زار ہے۔ جو مزہ پیدل جانے میں ہے،وہ بھلا چیپ میں جانے والوں کو کہاں نصیب ہوتا ھے۔(خود )گرتے اور (پتھروں کو) گراتے ہوئے بڑی مشکل سے پہنچے۔ہمارا خیال تھا کہ لالہ زار پر پھول ہمارا استقبال کریں گے۔مگر ہمارا استقبال صنوبر کے درختوں اور آلو کے کھیتوں نے کیا۔لیکن تھوڑا آگے چل کے پھولوں نے بھی مسکراتے ہوئے ہمیں استقبالیہ نظروں سے دیکھا۔لوگ گھڑ سواری یا خچر سواری بڑے شوق سے کر رہے تھے۔ پرندوں کی چہچاہٹ۔۔۔صنوبر کے درخت۔۔۔لالہ وگل۔۔۔لالہ زار کی رونق ہیں۔
    کنہار کی ٹراوٹ مچھلی اپنے خوش ذائقے کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔لیکن اب یہ خوش ذائقہ مخلوق کم ہوتی جارہی ہے۔سنا ہے کہ دریائے کنہار کا پانی انکھوں کے امراض کےلیے انتہائی مفید ہے۔کہا جاتا ہے کہ سفر کے دوران ملکہ نور جہاں کی آنکھیں دکھ رہی تھیں ملکہ نے اس پانی سے آنکھیں دھوئی تو آرام مل گیا۔ ملکہ نے دریا کو “نین سکھ”کا نام دیا۔ہمیں بھی دریائے کنہار کی دید تو نصیب ہوئی مگر افسوس وقت کی کمی کی وجہ سے ہم کنہار کی الجھی موجوں سے گفتگو نہ کرسکے۔
    وادی میں تین دن رات مسلسل گھوڑے دوڑانے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ “آلو”یہاں کی اہم پیداوار اور “ہندکو”یہاں کی مقامی زبان ہے۔جو حضرات “حج کعبہ”کر چکے ہیں اور “فطرت یا قدرت کا حج”کرنا چاہتے ہیں تو وہ وادی کاغان جا کر یہ سعادت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

    @EjazulhaqUsmani

  • منگھو پیر کی کہانی  تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    منگھو پیر کی کہانی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    کراچی پاکستان کا صنعتی اور کاروباری شہر ہے اس شہر کو پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کا شرف بھی حاصل ہے صوبہ سندھ کو دارلخلافہ اور پاکستان کا معاشی حب بھی ہے۔۔یوں تو یہ شہر دور جدید سے ہم آہنگ بلند بالا عمارتوں بڑے بڑے شاپنگ سینٹروں اور یونیورسٹیوں اور کالجوں کا شہر ہے لیکن آج بھی اس شہر کے مضافات میں صدیوں پرانے آثار جا بجا نظر آتے ہیں۔ان میں سے ہی ایک "منگھو پیر کا مزار” ہے۔ جو شہر کے شمالی جانب سہراب گوٹھ سے تقریبا آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک پہاڑی مقام ہے جو کراچی اور بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کی پہاڑی سلسلے کیرتھر رینج کی شاخ پر واقع ہے۔
    جب اس پہاڑی کے اوپر پہنچتے ہیں تو آپ کو ایک درگاہ ملے گی جو حضرت خواجہ حسن سلطان عرف” منگھو پیر” کی ہے اور یہ علاقہ ان کے ہی نام سے موسوم ہے۔
    المعروف منگھو پیر دراصل افریقی النسل تھے جو عراق میں رہائش اختیار کئے ہوئے تھے اورتیرہویں صدی میں جب منگول عراق پر حملہ آور ہوئے تو منگھو پیر عراق چھوڑ کر براستہ جنوبی پنجاب اور سندھ اس مقام تک پہنچے جہاں اب ان کا مزار واقع ہے۔ یہاں عبادت کے لئے کھجور کے بیسیوں درختوں کے سائے والی ایک پہاڑی مقام منتخب کیا اور وہیں سکونت اختیار کر لی ۔آپ پاک پتن شریف کے بابا فرید گنج شکر کے پیروکاروں میں سے تھے۔اس علاقے کے اطراف مایی گیروں کی بستی تھی جن میں افریقی نسل کے سیاہ فام آباد تھے یہ دراصل ان افریقی غلاموں کی اولادیں ہیں جنہیں 10 ویں اور 17 ویں صدی کے دوران عرب، فارسی، ترک اور یورپی حملہ آور یہاں لائے تھے جنہیں "شیدی”یا "مکرانی” کہا جاتا ہے یہ بلوچی زبان بولتے ہیں۔ یہ قوم اب زیادہ تر کراچی کے علاقے لیاری اور بلوچستان کے علا قے مکران میں آباد ہیں ،پھر آہستہ آہستہ وہاں کے مقامی لوگوں نے منگھو پیر کی پیروی شروع کر دی اور وہ شیدیوں کے روحانی پیشوا بن گئے۔ جب منگھو پیر کا انتقال ہوا تو ان کے مریدین نے اسی مقام پر ان کا مزار بنا دیا جس جگہ وہ عبادت کیا کرتے تھے۔
    منگھو پیر کے مزار کے ساتھ ہی ایک تالاب بھی موجود تھا جس میں سینکڑوں مگر مچھ ہر وقت موجود رہتے ہیں اس کے علاوہ گندھک کے پانی کا گرم اور ٹھنڈا چشمہ بھی موجود ہے۔آج بھی زائرین کی بڑی تعداد اس سے فیضیاب ہو رہی ہے۔
    کراچی شہر میں صدیوں سال قدیم اس مزار سے منسوب کئ دیومالائ داستانیں منسوب ہیں۔عقیدت مندوں کا ماننا ہے کہ کوئ بھی جلدی امراض کامریض پہلے چشمہ کے گرم پانی سے پھر ٹھنڈے پانی سے غسل کر لے گا تو بابا جی کی دعا سے وہ مریض فوری شفایاب ہو جاتا ہے اور تالاب میں موجود مگر مچھ کو جو گوشت کھلاتا ہے تو اس کی مرادیں پوری ہو جاتی ہیں کہتے ہیں یہ مگرمچھ کئ ہزار سال سے یہاں موجود ہیں اور کوئ عقیدت مند تو یہاں تک کہتے ہے کہ یہ مگر مچھ دراصل بابا جی کی جوں تھیں جو ان کی کرامات سے مگر مچھ بن گئیں اور یہ بھی عجیب بات ہے کہ وہاں کے مگر مچھ مٹھائ بھی کھالیتے ہیں۔بحر حال کچھ بھی ہو لیکن یہ بات درست ہے کہ زائرین کی ایک بڑی تعداد اس مزار پر آتی ہے اور چشمہ میں ڈبکی بھی لگاتی ہے اور مگر مچھ کو گوشت بھی کھلاتی ہے۔۔منگھو پیر کا عرس ہر سال زالحج میں منعقد ہوتا ہے۔علاوہ ازیں ہر سال ساون کے مہینے میں شیدی قبیلہ یہاں اپنا میلہ بھی بھی سجاتے ہیں چار روزہ اس میلے کا آغاز سب سے بڑے مگر مچھ جس کو "مور” کہا جاتا ہے،کوماتھے پر سندورکا ٹیکہ لگا کر تیار کیا جاتا ہے اس پر پھولوں کی چادر پہنائ جاتی ہے پھر بکرا زبحہ کر کے اس کا خون اس بڑے مگر مچھ کے جسم پر مل دیا جاتا ہے پھر شیدیوں کے زیلی قبیلہ کا سردار اسے اس بکرے کی کھوپڑی کھلاتا ہے اور اگر اس مگر مچھ نے وہ کھوپڑی کھا لی تو فورا ایک ڈرم س ڈھول بجنا شروع ہو جاتا ہے اس ڈھول کو "مگرمان”کہتے ہیں یہ مگرمان شیدیوں کا روحانی ساز ہے جس کی تھاپ پرمرد سور خواتین محو رقص ہو جاتے ہیں دوران رقص ان پر ایک وجدانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اس رقص کے ساتھ ہی ایک مخصوص زبان میں شیدی عورتیں کورس کے انداز میں ورد کرنا شروع کر دیتی ہیں اور باقی کچھ مرد ایک مخصوص دھمال شروع کر دیتے ہیں ان پر ایک وجدانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور لوگ ان سے مستقبل کے متعلق سوال کرنے لگتے ہیں۔ اور اسی دوران بکرے کا باقی ماندہ گوشت بھی اس مگر مچھ اور دیگر کو کھلادیا جاتا ہے۔دراصل ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اگر مگرمچھ ان کا گوشت کھا لے تو وہ سال بہت اچھا گزرے گا اور اسی لئے اس کے گوشت کھانے پر بہت خوشی منائ جاتی ہے جبکہ اسکے برعکس اگر مگر مچھ گوشت نہ کھائے تو پھر مجمع میں اداسی چھا جاتی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آنے والا سال ان کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔۔اسی طرح دوسرا دن شیدیوں کے دوسرے قبیلے کا ہوتا ہے وہ بھی اسی انداز میں ایسا ہی کرتے ہیں جیسے پہلے بتایا گیا۔شیدیوں کے چار بڑے گروپ پاکستان میں آباد ہیں اور ہر روز ایک نئے گروپ کے سربراہ کو یہ موقع دیا جاتا ہے یوں یہ میلہ ہنستے مسکراتے ناچتے گاتے اختتام پزیر ہو جاتا ہے۔
    صدیوں سے جاری یہ رسم۔اور یہاں کی طلسماتی دنیا یقیننا دلچسپی سے خالی نہیں اگر اوقاف،آثار قدیمہ اور ٹورزم کے محکمے اس جگہ کو اور یہاں پر پائ جانے والی صدیوں پرانی روایات اور ثقافت کو جدید انداز میں اجاگر کریں اور اس مقام پر ملکی اور غیر ملکی ٹورسٹ کو سہولیات بہم پہنچائیں توقوی امید کی جاسکتی ہے کہ کثیر تعداد میں یہاں ٹورسٹ آنا شروع ہو جائیں اس طرح ملک کو زر مبادلہ بھی حاصل ہو اور مقامی لوگوں کو روزگار بھی۔

    ‎@Azizsiddiqui100

  • تھائی لینڈ کی سیر  حصہ دوم تحریر محمد آصف شفیق

    تھائی لینڈ کی سیر  حصہ دوم تحریر محمد آصف شفیق

     

    تھکے ہارے پیدل چلتے چلتے  گوگل میپ  کے سہارے ہوٹل تلاش کرنے میں کامیاب ہوگیا    ہوٹل کے کاونٹر پر موجود عملے نے مسکراتے چہروں سے استقبال کیا  اور ریزرویشن کی  تفاصیل  طلب کی ہم نے بھی سب کچھ موبائل میں ہی  رکھا ہوا تھا  آنے کا مقصد پوچھا  بتا یا بزنس ٹرپ  ہے تو  آو بھگت میں کچھ زیادہ اضافہ  محسوس کیا  ٹھنڈا پانی پیش کیا گیا اور ہال میں موجود  صوفے پر  بیٹھنے اور  کچھ  دیر انتظار کا کہا گیا 

    یہا ں  پہنچ کر پتا  چلا کہ چیک آوٹ کا وقت   دو بجے ہے اور  کمرہ تیار کرکے واپس ہمیں  چار بجے   تک ملے  گا  یعنی  پورے  چار گھنٹے  ہال میں  صوفہ پر  بیٹھ کا  چپ چاپ انتظار کرنا ہوگا کہ کب  چار بجیں  اور کب  ہمیں  اپنا کمرہ ملے    ، موسم وہاں کا کافی  گرم  تھا  اور ہوا میں  نمی کی وجہ سے  اے سی ہال  سے  باہر نکلتے  ہی پسینے  چھوٹنے  لگتے  میں نے بھی   صوفہ پر ہی دراز ہونامناسب سمجھا اور خاموشی سے   اپنی  باری کا انتظار شروع کردیا

    چار بجنے سے  پورے دس منٹ پہلے کمال  مہربانی کرتے ہوئے عملے نے   کارڈ تھما دیا اورہم نے  بھی لفٹ کی  راہ لی سارا ہی نظام ڈیجیٹل  تھا ہم  نے بھی پہلی بار کسی اچھے ہوٹل میں  رہائش  رکھی  تھی  لفٹ کھول لی مگر دو تین بار مختلف  بٹن  دبانے کے  بعد بھی جب  کچھ  نہ بنا تو چارو ناچار  باہر کھڑے  سیکیورٹی  گارڈ کو بتایا کہ بھائی  ساتویں  فلور پر کس طرح جائیں  اس نے  بھی کمال بے نیازی سے میرا کارڈ  لیا اور سینسر کے آگے کر کارڈ واپس کر کے  باہر نکل  گیا  تو ہمیں سمجھ آئی  کہ بھائی  آئندہ  یہ کرشماتی  کارڈ ہی کام  آئے گا ہر جگہ   ، ہوٹل کا محل وقوع بہت اچھا تھا   مین  بازار  صرف دس پندرہ منٹ میں  پیدل  جایا  جا سکتا تھا

      کراچی سے بینکاک مسلسل  پانچ گھنٹے کی نان سٹاپ فلائٹ اور موسم کی خرابی کی وجہ سے سارا راستہ بیلٹ باندھ  کر  گزارنے اور  ناہموار فلائٹ نے ٹھیک  ٹھاک  تھکا دیا تھا  اور اتر کر جیسے ہی  نیٹ کی سم لے لر موبائل اون کیا تو کراچی  اوبر پر سفر جو کہ تین  سو میں تھا اور اس ظالم نے تیرہ سو لے لئے  اس کی ای میل موصول ہونے سے تھکن  میں اضافہ ہو گیا  سب سے پہلے  گھر والوں کو خیریت سے پہنچنے  کی  خبر دی اور چینج کرکے  سونے کی تیاری  کی   ، ہر بندے میں اچھی  بری عادات  ہوتی ہیں  مجھ میں بھی ہیں  پینٹ شیلٹ کا استعمال صرف  دفتر اور سفر میں ہی کرتاہوں باقی اوقات میں  شلوار قمیض  پہننا ہی معمول وہاں پہنچ کر سب سے پہلے  قومی لباس پہنا اور  سو گئے  

    اچھا خاصا سونے کے بعد بھوک نے تنگ کیا تو چاروناچار  اٹھے نہا کر فریش ہوکر تیاری  کرنا چاہی کپڑے استری کرنے کیلئے ہیلپ لائن پر کال کی تو  فوراً ہی استری مہیا کردی گئی  کپڑے استری کئے  اور  اپنے پرانے تجربے کی روشنی میں ہوٹل  کی لوکیشن  ویٹس ایپ پر شئر کر لی  تاکہ  بوقت ضرورت کام آسکے پہلے   بھی ایک دفعہ سیر کو نکلے تھے تو ہوٹل کا راستہ بھول گئے تو کافی دوڑ دھوپ  کرنی پڑی تھی تب سے اب تک جہاں بھی جاتے ہیں  فوراً وہاں   کی لوکیشن  شئر کر لیتے ہیں  میں نے تو یہ معمول بنا لیا ہے جہاں جائیں   احتیاطاً ایسا کرلیں   نئی  جگہ نیا ملک  اور اکثر زبان  سے  نابلد ہونا ایک  بہت بڑا مسعلہ  ہوتا ہے  بندہ نہ سمجھا سکے نہ سمجھ سکے  تو مصیبت  بن جاتی 

    آجکل  سمارٹ فون نے نماز کے اوقات اور قبلہ  کے تعین میں  کافی آسانی کردی ہے ایسی کئی  ایپلیکیشنز موجود ہے جو  بہت مناسب ہیں ان حوالوں سے آپ دنیا میں جہاں کہیں بھی  جائیں آپکو نمازوں کے اقات  اور قبلہ کی   سمت کا سہی تعین   ہوجاتا ہے   ، نماز پڑھی اور کھانے کی تلاش میں  اندرون شہر پہنچے  مگرکافی تلاش  کے بعد فیصلہ کیا کہ  کے ایف سی سرچ کیا جائے اور مچھلی والا  برگر کھا کر گزارا کر لیا جائے تو اچھا  ہے   ، کچھ پیسے  میں   کراچی سے احتیاطاً تبدیل کروا کر تھائی کرنسی ساتھ لے گیا تھا مگر جس چیز نے وہاں سب  سے زیادہ  ساتھ دیا وہ  سعودیہ کا  کریڈٹ کارڈ  تھا جب چاہیں  جہاں  چاہیں استعمال کرلیں  جو بھائی  بہن  سیر کو جانا چاہیں میں انہیں  کہوں گا کہ سب کے پہلے کریڈٹ کارڈ  ضرور بنوائیں آجکل تو پاکستان میں بھی  کم و بیش سب  بینک یہ سہولت  دے  رہے  ہیں  مگر اس  حوالے سے فیصل بینک  بہت  اچھا ہے اس  کے ڈیبٹ کارڈ کو آ پ  کریڈٹ کارڈ کی طرح استعمال کر سکتے ہیں  جس کا تجرنہ میں نے بھی کیا  جب آخری ایام میں پیسے ختم ہوگئے تو میں نے  وہاں  سے  لوکل کرنسی  نکلوائی 

    پہلا دن تھا  کھانا کھا کر واپس ہوٹل آکر پھر سونے کو ہی ترجیح  دی  اگلے  دن صبح صبح اٹھ  کر شہر کا دورہ شروع کیا  تو پتا چلا کہ کراچی ہی نہیں  بلکہ  یہاں پر بھی دکانیں  دیر سے  کھلتی ہیں ناشتہ کیلئے  ایک شامی  ہوٹل والا مل گیا عربی  جاننے کی وجہ سے کافی آسانی ہو گئی وہ بھی خوش ہوگیا کہ چلو کوئی تو عربی بولنے سمجھنے والا آیا    اس طرح ہم نے اپنی سیر کا آغاز کیا  یہاں کی ساحلی پٹی دیکھنے کے قابل ہے  بہترین  لوکیشنز بہترین انتظامات   اور کم خرچ میں آپ  بھر پور سیر کر سکتے ہیں سیر و تفریح کیلئے آنے والوں میں بھارت اور سعودیہ کے افراد زیادہ نظر آئے  باقیوں  کی نسبت

    اب کچھ دن گزار کر ہم بھی راستوں سے مانوس ہوگئے تھے  اس لئے اپنی مرضی کاکھانا بھی مل رہا تھا اور مختلف مالز اور بڑی بڑی مارکیٹیں بھی گھوم  رہے تھے  بڑے بڑے  مالز اور مارکیٹوں کے لاسٹ فلور پر فوڑ سٹریٹ کا رواج یہاں  بھی ہے  کسی بھی بڑی مارکیٹ کے لاسٹ فلور پر جائیں تو فاسٹ فوڈ کے ساتھ ساتھ روائیتی  کھانا بھی آسانی سے مل  جاتا ہے  یہ سب  باتیں  کورونا کی  وبا سے  پہلے کی ہیں  اب کی صورتحال تو وہاں جانے والے ہی بتا پائیں  گے

    کپڑے  کے تھری پیس سوٹس سستے اور معیاری مل جاتے ہیں ان پر انڈین سرداروں کی اجارہ داری ہے ہر  دکان میں آپ کو انڈین سردار ہی ملیں  گے بڑے ہنس مکھ اور تعاون کرنے والے آپ  اپنی مرضی اور پسند کا کپڑہ  سلیکٹ کرلیں  درزی دکانوں میں ہی موجود  ہیں  اسی وقت سلائی کر دیتے  ہیں ،  اس کام کو فائدہ مند پایا اور بلیوں کی خوراک کے حوالے سے بھی آپ وہاں سے پاکستان لاکر فروخت کر سکتے ہیں

    بہر حال کچھ دن گزار کر واپسی کی راہ لی  سعودیہ سے صرف ایک ماہ کی چھٹی تھی اس دوران کئی اور کام بھی کرنے ہوتے  ہیں  واپسی ہوٹل والوں نے  صبح ہی آگاہ کر دیا کہ آپ جلد ہوٹل چھوڑ دیں  تو اچھاہے  ساتھ پوچھ بھی لیا کہ ٹیکسی منگوا دیں آپ کو   میں نے شکریہ ادا کیا کہ نہیں میں خود چلا جاوں  گا  ہوٹل سے میٹرو اسٹیشن  تک پیدل پہنچے میٹرو پینچ کر ائرپورٹ کا  ٹکٹ لیا اور اس طرح سستی میٹرو کا فائدہ اٹھاتے ہوئے     ائر پورٹ وقت سے پہلے پہنچ گئے  بورڈنگ کیلئے آٹو میٹک مشینیں  لگی ہیں ہم نے بھی اپنا بورڈنگ پاس اشو کیا اور  ویٹنگ لاونج  میں جانے سے  پہلے  پھر سے  امیگریشن والے آپ کے پاسپورٹ کو سٹیمپ بھی کرتے ہیں اور جو پیپر وہاں پہنچنے پر بھرا  تھا وہ بھی مانگتے ہیں  ہم نے وہ پیپر تعویز کی طرح سنبھال رکھا تھا چار پانچ تہیں کھول کر پیش کردیا  امیگریشن آفیسر نے مسکرا کر وصول کیا تو سمجھ گیا کہ میری طرح دوسرے پاکستانی بھی شاید ایسا ہی کرتے ہوں  ، جو بھی  بیرون ملک سیر کو کم خرچ میں جانا چاہے اس کیلئے  تھائی لینڈ اچھی جگہ ہے 

    @mmasief

     

  • تھائی لینڈ کی سیر  حصہ اول تحریر: محمد آصف شفیق

    تھائی لینڈ کی سیر  حصہ اول تحریر: محمد آصف شفیق

    الریاض سعودیہ میں تھائی لینڈ کی ایمبیسی  نے  سیاحوں کو سہولت دینے  کیلئے  ویزا پراسس میں  آسانی  کی تو میں  نے بھی سوچا کیوں نہ ہم بھی  تھائی لینڈ کا ویزہ لگوا لیں   اسی سلسلہ میں   معلومات کیلئے سب دوست احباب کو میسجز کر دئے  کہ جس  کے  پاس جو معلومات ہیں وہ شئر کریں   اور ڈاکومنٹس  کی تیاری  شروع کی 
    ایک عدد ایپلیکیشن فارم پر کرنا تھا اور  بیرون ملک مقیم ہونے کی وجہ سے ایگزٹ ری انٹری چاہئے  ہوتی ہے     اپنی  کمپنی سے تعارفی لیٹر اور تنخواہ کے لیٹر کی درخواست کی اور اس پر چیمبر اور کامرس سے تصدیق کروانی تھی  یہ سب مراحل الحمد للہ ایک ہفتہ میں مکمل ہوئے  ،  یہاں کا رہائشی  پرمٹ   گھر کا مستقل  پتہ اور  بینک کی تین ماہ کی   سٹیٹمنٹ بنیادی چیزیں  تھیں 
    تھائی لینڈ کے جس شہر میں سیر کیلئے جانا ہے وہاں پر کسی بھی ہوٹل کی بکنگ  اور  اتنے ہی دنوں کیلئے ہوائی جہاز کی ٹکٹ  کی بکنگ بھی چائیے  ہوتی ہے   ،  ویزہ پراسس کیلئے ان  سب  کیساتھ  ایمبیسی  کا وقت لینا پڑتا ہے  اور مطلوبہ وقت میں خود جاکر  اپلائی کرنا شرط ہے واپسی پر آپ  اپنی رسید کسی کے بھی ہاتھ  بھجوا کر  اپنا پاسپورٹ واپس لے  سکتے  ہیں
    میں نے بھی یہ سب کاغزات مکمل کئے  اور مطلوبہ  دن تھائی ایمبیسی  پہنچ  گیا  ، وہاں پہنچ کر پتا چلا جو فارم میں  اون لائن  پھر کر آیا ہوں وہ  اب کار آمد نہیں  رہا اس کے بدلے میں اب ہمیں  ہاتھ  سے  نیا فارم بھرنا ہوگا اور اس پر فریش تصویر بھی لگانی ہوگی اور  2 تصاویر انہیں اضافی بھی چاہئیں ہوں  گی 
    دوبارہ  سے وہیں بیٹھ کر سب معلومات کو جلدی جلدی  فارم  پر منتقل  کیا اور کچھ سوال و جواب کے بعد فیس کی ادائیگی  کے ساتھ ہی  ہماری  ویزہ کی درخواست قبول  کر لی گئی   ،    14 دن کا وقت دیا گیا کہ  آپکواطلاع دی جائے  گی اگر کوئی بھی مسعلہ ہوا تو،  بصورت  دیگر  رسید پر لکھی ہوئی  تاریخ  کو آپ آکر اپنا پاسپورٹ واپس لے  جانا
    ان ہی دنوں پاکستان چھٹی جانے کا ارادہ تھا تو سوچا اگر تھائی لینڈ کا ویزہ لگ گیا تو پاکستان  سے  ہی چکر لگا لیں  گے اسی بہانے  تھائی لینڈ بھی دیکھ لیں  گے اور کچھ بذنس یا جوب کے سلسلہ کا بھی پتا کرلیں  گے کہ وہاں جوب کی جاسکتی  یا اپنا بزنس اسٹارٹ کیا جاسکتا 
    خیر اللہ اللہ کر کے ہمارے دن مکمل ہوئے اور  دوبارہ اپنےپاسپورٹ  کی وصولی کیلئے  تھائی ایمبیسی  پہنچے  پاسپورٹ واپس لیا الحمد للہ ویزہ لگا ہوا تھا    تین ماہ کی سنگل انٹری سیاحتی ویزہ  جوکہ 17 اپریل  2018  سے   16 جولائی 2018 کے درمیان کبھی بھی استعمال کیا جاسکتا تھا
    9 جولائی کو کراچی سے تھائی لینڈ کے سفر کا فیصلہ کیا سب سے مناسب اور ڈائریکٹ فائٹ تھائی ائر لائین  کی تھی  ایک ہفتہ کیلئے ہوٹل بکنگ کروائی اور تھائی ائر کی ٹکٹ خریدی  اور  گھر سے اوبر منگوا کر سفر کا آغاز کیا  اوبر والا بھی کوئی شریف آدمی تھا اس  نے بھی بھانپ لیا کہ بندہ کراچی کا نہیں  لگتا اور مجھے بھی کوئی اندازہ  نہیں تھا بنے 330 اور اس ظالم  نے مجھ سے 1330 لے  لئے خیر  وہ تب پتا چلا جب اوبر کی طرف سے ای  میل موصول ہوئی اس وقت تک تو  میں جہاز میں سوار ہو چکا تھا   ، اللہ بھلا کرے اس انسان کا  ہزار روپے میں اس نے لاکھوں کا سبق  دے دیا
     بہر حال  جہاز میں نظر دوڑائی تو زیادہ تعداد اپنے پاکستانیوں کی تھی  اور کچھ لوگ   دوسرے ممالک کیلئے  ہونگ کانگ اور دوسرے ملک جانے کیلئے وہا ں تھوڑا قیام کر کے آگے جانے والے تھے اور کچھ  ہم  جیسے سیر و سیاحت کی غرض  سے   جانے  والے   ، فلائٹ اڑنے کے کچھ ہی  دیر بعد  اناونسمنٹ  ہوئی کے  باہر موسم شدید خراب ہے  اسلئے  اپنی اپنی  نشستوں پر بیٹھے  رہیں  اور  سیٹ بیلٹ باندھ کر رکھیں   ، تین بار ائر ہوسسٹس بیچاریاں  کھانا پیش کرنے کیلئے  اپنی ٹرالیاں لائیں  مگر ہر بار انہیں ناکامی ہوئی اور تقریباً 4 گھنٹے کا سفر  ایسے ہی گزرا کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے شدید  جھٹکے  لگتے رہے اور اسی  طرح  ہلتے جہاز میں ہی کچھ نہ کچھ  کھا لیا  
    فلائٹ الحمد للہ اون ٹائم لینڈ ہوئی  جب باہر کا نظارہ دیکھا تو بارش کیساتھ ساتھ دھند دیکھ کر خیال آیا کہ شائد پھنس  گئے جیکٹ تو لائے ہی نہیں اور باہر لگ رہا شاید شدید سردی ہو ، جن لوگوں نے آگے جانا تھا سب نے اپنی اپنی جیکٹیں پکڑی ہوئی تھیں  جنہیں  میں نے حسرت بھری نگاہوں سے  دیکھا ، مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق ڈھیٹ ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ، خیر پاکستان کی طرح انہوں نے بھی دور اتار دیا اور بس کے ذریعے  ائرپورٹ تک لائے ہمارے ساتھ ساتھ  کئی اور فلائٹس بھی آنے کی وجہ سے خوب رش ہوگیا چارو ناچار  ہم بھی لائن  میں لگ  گئے  ایک پیپر پھر دے دیا گیا اسے دو بار بھریں  ایک حصہ انہوں  نے  رکھ لیا ایک حصہ مجھے دے دیا اور ساتھ میں انگریزی میں کہا کہ یہ ضروری واپسی پر چاہئے ،  میں نے اسے تعویز کی طرح اپنے پرس میں سنبھال کر  رکھ لیا، امیگریشن کے فورا بعد وہاں  سے انٹر نیٹ اور فون کیلئے سم لی  ، گزشتہ سفروں نے تھوڑا بہت سکھا دیا ہے کہ جہاں بھی جاو اترتے ہی پہلا کام اپنے پاسپورٹ پر سم کارڈ لو تاکہ رابطے میں رہ سکو
    باہر نکل کر ٹیکسی والے سے سینٹر سٹی جانے کا پوچھا اس نے جو پیسے مانگے تو چکر سا آگیا جو دوست پہلے جا چکے تھے انہیں  میسج کیا کہ بھائی یہ حالات ہیں  انہیوں نے مشورہ دیا کہ ائر پورٹ کے نیچے میٹرو اسٹیشن  ہے وہاں سے ٹکٹ لو اور شہر پہنچ جاو ، بہترین  اور کم خرچ میٹرو ،جیسے جیسے اسٹیشن  آتے گئے رش میں اضافہ ہوتا رہا ایسا لگا جیسے  سب لوگ ہی میٹرو استعمال کرتے ہیں ، نوجوان بوڑھے سٹوڈنٹس سب لوگوں کو میٹرو ٹرین  استعمال کرتے دیکھا  انتہائی صاف ستھرا  ماحول  اور بہترین انتظام    ، خیر سینٹر سٹی پہنچ کر چیک کیا تو پتا چلا جو ہوٹل ہم نے بک کروایا ہے وہ آٹھ گھنٹے کی مسافت پر ہے  اور میٹرو سے نہیں جاسکتے آپکو  بس یا ٹیکسی پر جانا پڑے گا یہ سننتے ہیں  تھکن سے چور جسم نڈھال ہوگیا اور میں وہیں اسٹیشن پر ہی ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ، تھوڑے اوسان بحال ہوئے  تو بکنگ ڈاٹ کام پر ہوٹل سرچ کیا اس وقت دوپہر کا وقت تھا قریب ہی ہوٹل مل  گیا  مگر چیک ان ٹائم چار بجے کا تھا  کریڈٹ کارڈسے  ادائیگی کی اور ہوٹل کی لوکیشن لگا کر پیدل ہی چل دیا   ، لگ تو قریب ہی رہا تھا مگر جب لوکیشن اون کی تو پتا چلا وہ  ڈرائیو آپشن پر تھا اور ہم پیدل   اللہ کا نام لیکر چل دئے گرمی اور ہوا بھی نمی کا تناسب بھی کچھ ایسا تھا کہ کچھ ہی دیر میں  سارے کپڑے پسینے  سے شرابور  ہوگئے  ،ہم نے بھی حوصلہ نہیں  ہارہ  اور ہوٹل کی طرف پیدل ہی والک جاری رکھی   کہ غلطی اپنی ہی تھی ہوٹل بکنگ کرتے ہوئے صرف سستا دیکھا سینٹر سٹی سے اسکا فاصلہ دیکھنا یاد نہ رہا تھا  ,

    @mmasief

  • ۔ڈریم لینڈ خوبصورت اٹلی تحریر فرزانہ شریف

    ۔ڈریم لینڈ خوبصورت اٹلی تحریر فرزانہ شریف

    اٹلی یورپ کا ایک خوبصورت ترین ملک ہے جسے ہم ڈریم لینڈ بھی کہہ سکتے ہیں ۔اور پورے یورپ کے لیے ایسے ہی حثیت رکھتا ہے جیسے ہمارے لیے سعودی عرب ۔مطلب مقدس شہر ۔۔
    ۔یہاں اتنے تاریخی مقامات ہیں کہ آپ اگر گھومنا شروع کردیں ایک سال لگ جائے دیکھنے میں اور تاریخی مقامات ختم نہ ہوں یہاں کے لوگ بہت اچھے بہت بااخلاق ہر دم مدد کے لیے تیار رہنے والے ۔اور خوبصورتی میں دنیا کے پہلے نمبر پر ہیں وجہ یہاں لوگ اپنی فٹنس کا بہت خیال رکھتے ہیں اتنا خیال کہ آپ کو یہاں 90فیصد لوگ سلم سمارٹ نظر آئیں گے ۔90 سال کے لوگ آپ کو ایسے لگیں گے جیسے یہ 40 سال کے ہیں صرف وجہ حد سے ذیادہ فٹنس اور ہشاش بشاش ۔۔۔
    ۔یہاں کی قومی خوراک پیزا۔ہے پاستا اور پیزا یہاں ایسے کھایا جاتا ہے جسے ہم پاکستان میں دال سبزی کھاتے ہیں ۔۔۔۔اور مچھلی ۔یہاں کی مرغوب غذا جیسے پاکستان میں ہم بریانی پسند کرتے ہیں دنیا کی ہر قسم کی یہاں پنیر ۔چیز تیار کی جاتی ہے یہاں زیتوں کا تیل عام کھانوں میں یوز کیا جاتاہے صرف فرائی چیزوں میں مکئی یا پھر مونگ پھلی ۔سورج مکھی کا تیل یوز کیا جاتا ہے ۔چونکہ یہاں زیتون کثرت سے کاشت کیا جاتا ہے اس وجہ سے یہاں زیتون کھایا بھی بہت جاتا ہے اور تیل بھی نارمل قیمت سے ملتا ہے کہ ہر انسان کی پہنچ میں ہے ۔یہاں 99فیصد لوگ تعلیم یافتہ ہیں ۔یہاں کی گورنمنٹ ہر ترقی یافتہ ملک کی طرح سفید پوش عوام کا بہت خیال رکھتی ہے ان کی بجلی گیس کے بل معاف ہوتے ہیں ان لوگوں کےجن کے تین بچے18 سال کی عمر سے کم ہوتے ہیں۔۔ ہر بچے کا 100 یورو پر منتھ ملتا ہے ۔۔۔
    کھانے پینے کی مارکیٹس میں ہر ہفتے مختلف چیزوں کی پرائس کم کی ہوتی ہے تو متوسط طبقہ پورے ماہ کی شاپنگ کرلیتے ہیں جو چیزیں عارضی طور پر سستی کی ہوتی ہیں کیونکہ اگلے ہفتے وہ چیزیں اصل پرائس پر آجاتی ہیں ۔یہاں لوگ گورنمنٹ کو گالیاں نہیں دیتے بلکہ قانون کو فالو کرتے ہویے اپنے ٹیکس خوشی سے ادا کردیتے ہیں ۔ہر انسان خوشی سے کام کرنا پسند کرتا ہے اگر کوئی ذیادہ تعلیم حاصل کرلے اور اس کی تعلیم کے مطابق جاب نہ ملے تب تک وہ صفائی سے لیکر ریسٹورینٹ میں برتن دھونے تک ہر کام خوشی سے کرتا ہے ایسے کام کرنے میں اپنی توہین نہیں سمجھتا حتی کہ واش روم بھی صاف کرتے ہیں ۔۔جب لڑکی لڑکا 18 سال کے ہوجاتے ہیں تو اسے گورنمنٹ سے پیسے ملنے بند ہوجاتے ہیں تو وہ لڑکا لڑکی اپنی تعلیم کے ساتھ پارٹ ٹائم جاب بھی سٹارٹ کردیتے ہیں ۔اس طرح تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کو کام کرنے کا تجربہ بھی آتا جاتا ہے ساتھ ان کا دل ودماغ بھی مصروف رہتا ہے جس وجہ سے وہ غلط صحبت سے بچ جاتا ہے۔۔
    اگرچہ یہاں بہت آزادانہ ماحول ہے آپ کو ہر حرام حلال کام کرنے کی مکمل آزادی ہے 18 سال کے بعد لڑکیاں لڑکے مکمل آزاد ہوتے ہیں اپنی ذندگی کے فیصلے کرنے کا حق رکھتے ہیں ۔لیکن والدین کی اچھی تربیت بچوں کو اپنے والدین کے ساتھ جوڑے رکھنے کی وجہ سے 70 فیصد بچے اپنی روٹین کے مطابق ٹھیک سمت پر چلتے رہتے ہیں ۔۔
    18 سال سے کم عمر بچوں کو والدین مارپیٹ نہیں سکتے اگر ایسا وہ کریں تو ان پر کیس بن جاتا ہے اور بچہ یہاں کی کونسل لے جاتی ہے پھر بچے کی مرضی کے بغیر بچہ والدین کو واپس نہیں ملتا ۔۔
    یہ تاثر غلط پھیلایا جاتا ہے کہ یورپ میں ذیادہ والدین اولڈ ہاوس میں بچوں کی نافرمانی کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔اس میں 30 فیصد اولاد نافرمان ۔آذادی کی ذندگی گزارنے کی شوقین مجبورآ والدین کو اولڈ ہاوس جانا پڑ جاتا ہے ۔40فیصد والدین اپنی جائیداد گھر اپنے نام رکھتے ہیں مرتے دم تک تو وہ اولاد والدین کو نہیں چھوڑتی۔۔ 20فیصد بچے اپنے والدین سے محبت کرنے کی وجہ سے اپنے والدین کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور ان سے لاڈ پیار ایسے ہی کرتے ہیں جیسے ہم پاکستانی اپنے والدین سے کرتے ہیں۔۔
    یہاں والدین اپنے بچوں کو دنیا کی ہر اچھی چیز مہیا کرنے کے لیے دونوں میاں بیوی کام کرتے ہیں بہت کم ایسے گھرانے ہیں جہاں صرف شوہر کام پر جاتا ہو اور بیوی گھر سنبھالتی ہو ۔۔بچے صبح سکول نرسری میں چھوڑ کر خود کام پر ہوتے ہیں جس وجہ سے یہاں غربت کا تناسب 5 پرسنیٹ ہے۔۔!!
    ۔یہاں پاکستان کی طرح زمینداری کا بہت کام ہے مکئی وسیع پیمانے پر کاشت ہوتی ہے اور جدید ترین مشینری کے ذریعے اس کا سارا کام کیا جاتا ہے اور ملک کی ضرورت سے بہت ذیادہ کاشت ہونے کی وجہ سے باقی یورپین ممالک اور انگلینڈ کو فراہم کی جاتی ہے ۔یہاں سے باقی ممالک میں زیتون ۔پاستا ۔مچھلی ۔سبزیاں بھیجی جاتی ہیں ۔عام مزدور کی تنخواہ 5یورو فی گھنٹہ سے لیکر 10 یورو تک ہے فیکٹری ریسٹورینٹس میں کام کے حساب سے تنخواہ ملتی ہے۔۔
    یہاں کی ذندگی بہت پرسکون ہے ہر انسان اپنے کام سے کام رکھتا ہے آپ پھٹے پرانے کپڑے پہن کر بھی پبلک پلیس پر جاسکتے ہیں مارکیٹ میں جائیں کوئی اپ کی طرف حقارت کی نظر سے نہیں دیکھے گا لوگوں کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا یہ سب چیزیں نوٹ کرنے کا ۔۔۔
    یہاں رہنے کے لیے آپکو یہاں کی زبان آنی بہت ضروری ہے اٹالئین لینگویج کے بغیر نہ آپ کام کرسکتے ہو نہ آپ ڈاکٹرز کے پاس جاکر اپنی پرابلم بتاسکتے ہو یہاں انگلش لینگویج کو سخت ناپسند کیا جاتا ۔کسی کو آتی ہی نہیں سلیبس میں ایک مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہے جیسے ہمارے ہاں گورنمنٹ سکول میں انگلش کی ایک کتاب۔۔
    کھانے پینے کی چیزوں کے ہر مارکیٹ میں مختلف ریٹس ہوتے ہیں لیکن فکس پرائس ۔۔ عام عوام کے لیے یہاں سب سے مشہور اور انتہائی سستی گروسری کی مارکیٹس ایرو سپن۔اور MD۔ہیں کہ غریب سے غریب بندہ بھی اچھی کوالٹی کی چیزیں مناسب قیمت سے خرید سکتا ہے ۔
    یورپ کی ذندگی بہت آسان ہے اللہ تعالی کی پتہ نہیں کیا حکمت ہے اس میں کہ یہ ملک جتنے خوبصورت ہیں۔ اتنا ہی یہاں امن ہے بم دھماکے یا دہشت گردی کے بارے میں لوگوں کو پتہ ہی نہیں ۔ان کے خیال میں یہ دہشت گرد ملک پاکستان ہے ان کو لگتا ہے ہمارا ملک انتہا پسندوں کا ملک ہے انھیں لگتا ہے ہمارے مرد ظالم ہیں یہ اپنی بیویوں پر سختی کرتے ہیں اپنی بیویوں کو مارتے ہیں ۔۔۔۔!!
    ایک پاکستانی ہوتے دل کو کافی تکلیف ہوتی ہے پاکستان کے بارے میں ان کے خیالات جان کر پتہ نہیں اس کا ذمہ دار کون ہے میں جب سے سوشل میڈیا پر ہوں میری سمجھ میں تو وہی بیرونی طاقتیں ہیں جو ہمارے ملک کے ناسمجھ لوگوں کو اپنے ساتھ لگا کر پاکستان کا غلط چہرہ دوسرے ممالک میں پیش کررہے ہیں بہت سالوں سے لیکن اب ان کی ساری محنت سارا پراپوگنڈہ خاک میں مل چکا ہے پاکستانی عوام کو خان صاحب نے جگا دیا ہے اب ہمارے خلاف کسی کو منفی پراپوگنڈہ کرنے کی جرآت نہیں ہوسکے گی ہم خود لوگوں کو اپنے کردار اپنے رویے سے بتائیں گے کہ ہم دہشت گرد شدت پسند نہیں ہیں بلکہ جتنی ہوسکتی ہے ہر اوورسیز پاکستانیوں کا فرض ہے اپنے ملک کا اچھا چہرہ دوسرے ممالک میں پیش کریں انھیں بتائیں کہ ہم شدت پسند نہیں ۔انھیں بتائیں کہ ہمارے ہاں عورت کو جو مقام دیا جاتا ہے عزت محبت دی جاتی ہے ایسی کسی مذہب میں نہیں دی جاتی بیٹی ہے تو والدین کے جگر کا ٹکڑا بیوی ہے تو شوہر کے دل کا سکون ۔ بہین ہے تو بھائی کی عزت ۔۔
    جتنا پروپیگنڈہ پاکستان کے خلاف ہونا تھا ہوچکا اب ملک خلاف قوتوں کا چورن نہیں بکے گا ان شاءاللہ ہم فخر سے سر اٹھا کر چلیں گے کہ ہمارے ملک کا سربراہ جرات مند دلیر اور اپنے ملک کا سچا وفادار ہے کہ دشمن اس کی للکار سے دبک کر بیٹھ جاتے ہیں ۔اب وہ وقت دور نہیں پاکستان بھی یورپ ممالک کی طرح ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوجائے گا بلکہ ان شاءاللہ بہت جلد سپر پاور ممالک کی لائن میں کھڑا ہوجائے گا چین اور امریکہ کی طرح !!

    "

  • جب سوات کے باسیوں کیلئے سیاحت وبال بن جاتا ہے  تحریر : آصف شہزاد

    جب سوات کے باسیوں کیلئے سیاحت وبال بن جاتا ہے تحریر : آصف شہزاد

    وادئ سوات پاکستان کا وہ سیاحتی علاقہ جوکہ قدرت کے حسین نظاروں اور دلکش وادیوں کے ساتھ ساتھ قدیم تہذیبوں سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے بھی کافی اہمیت کا حامل ہے یہاں بدھ مت اور ہندو شاہی کے آثار جگہ جگہ بکھرے پڑے ہیں دریائے سوات کے دونوں اطراف مختلف ادوار کے باقیات اور آثار نمایاں طور پر سیاحوں کو اپنی اپنی طرف راغب کرتے ہیں

    مخدوش حالات اور فوجی اپریشن کے بعد جب سوات میں سیاحتی سرگرمیاں بحال ہوئی تو یہ علاقہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا کیونکہ بین الاقوامی اور ملکی میڈیا پر سوات کے حوالہ سے گاہے گاہے خبروں نے اس علاقہ کی مقبولیت میں اور بھی اضافہ کردیا جس سے ملک بھر کی عوام کا تجسس وادئ سوات اور یہاں سے جڑے سیاحتی مقامات کو دیکھنے کیلئے بڑھ گیا۔ساتھ ہی ساتھ جب فوجی اپریشن اختتام پزیر ہوا اور حالات بہتر ہوئے تو سوات کے لوگوں نے انتہائی مثبت کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاحت کی فروغ میں اپنا حصہ شامل کردیا، نئے سیاحتی مقامات کے دریافت سے لیکر بین الاقوامی معیار کی سہولیات تک سوات کی وادیاں سیاحوں کیلئے پر کشش بنادی گئیں جن سڑکوں کو خراب حالات اور سیلاب کی وجہ سے نقصانات پہنچے تھے چند سال گزرنے کی بعد ان پر تعمیری کام کا آغاز ہوا جس سے سوات کی سیاحت کو مزید ترقی مل گئی جبکہ کالام اور ملم جبہ کی سڑکیں بن جانے سے یہاں کی سیاحت کو چار چاند لگ گئے۔

    ملم جبہ چیئر لفٹس بحال ہوئے ،تباہ شدہ ہوٹل دوبارہ تعمیر ہوئے ، مزید بے شمار ہوٹل بن گئے جبکہ نو ہزار فٹ زیادہ کی بلندی پر واقع وادئ ملم جبہ میں طرح طرح کے بین الاقوامی معیار کے کھیلوں کی داغ بیل ڈال دی گئی جس سے ملم جبہ کی وادی میں ایسی کشش پیدا ہوئی کہ عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی بھی ان کھیلوں میں حصہ لینے پر مجبور ہوگئے، ملم جبہ میں سیمسنز کمپنی کے انتظامیہ نے اس ضمن قابل تحسین کردار ادا کیا۔اس کے ساتھ ساتھ سب سے اہم کردار موجودہ حکومت نے سوات ایکپریس وے کی تعمیر کی شکل میں ادا کیا جس سے سفر میں آسانی اور وقت کی بچت نے سیاحوں کو سوات کی جانب راغب کیا۔

    عزیزان من !
    پورے ملک کے سیاحوں کو تو وادئ سوات نے اپنے سینے پر جگہ دیدی جوکہ یہاں کے عوام کیلئے کافی خوش کن تاثر کا سبب ہے تاہم لانگ ویکینڈ اور عید کی چھٹیوں میں یہاں کے مقامی لوگوں کو سیاحت کا جو موقع میسر تھا اب وہ نہیں رہا !

    کیونکہ ان مخصوص دنوں میں سیاحوں کی جو جم غفیر وادئ سوات پہنچتی ہے اس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور چند کلومیٹر کے سفر میں بھی گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔ پورے ملک سے بالعموم جبکہ خیبر پختونخواہ سے بالخصوص سیاح سوات کی طرف امڈ آتے ہیں جبکہ ان مواقع پر سوات کی انتظامیہ اکثر اوقات غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہیں اور ان سیاحوں کیلئے کوئی پیشگی منصوبہ بندی مرتب نہیں دیتے اسلئے یہاں کی تنگ سڑکوں پر لمبی لمبی قطاریں لگ جاتیں ہیں اور شدید ٹریفک جام رہتا ہے۔

    حالیہ اعداد و شمار کے مطابق بڑی عید کی چھٹیوں میں اسی ہزار سے زائد گاڑیاں سوات میں داخل ہوئیں جن میں لاکھوں افراد سوار تھے اور متوسط اندازہ ہے کہ ان گاڑیوں میں تقریباً آٹھ لاکھ افراد سیاحت کی غرض سوات میں داخل ہوئے، جوکہ ظاہری طور پر ایک بڑی تعداد ہے اسی طرح یوم آزادی کی چھٹیوں میں بھی سیاحوں کی بڑی تعداد کی آمد ریکارڈ کی گئی جبکہ حالیہ محرم کی چھٹیوں میں کالام سمیت ضلع بھر کے سولہ سو ہوٹل سیاحوں کیلئے کم پڑگئے اور لوگ ٹینٹوں اور گاڑیوں میں رات گزارنے پر مجبور ہوگئے یعنی مشاہدہ کے مطابق سوات کی موجودہ سڑکیں ، ہوٹلز ، اور ریستوران اس تعداد کو سنبھالنے کا متحمل نہیں !

    اس کے علاوہ سڑکوں پر ٹریفک جام سے مقامی آبادی کو بھی شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے خاص طور پر جب کسی مریض کو ایمرجنسی صورتحال کا سامنا ہو اور ہسپتال پہنچانا ہوتا ہے تب مذکورہ ٹریفک جام میں پھنس کر خطرات کا شکار ہونا یہاں کے باسیوں کیلئے معمول بن گیا ہے، جن مقامی تاجروں کے گھر کالام روڈ پر واقع ہیں اور کاروبار مینگورہ شہر میں ہیں ان کیلئے مذکورہ دنوں میں چند کلو میٹر کا فاصلہ کوہِ گراں کو عبور کرنے کے مترادف ہوتا ہے شہر پہنچنے کیلئے گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہنا اور پھر واپسی پر اسی وبال کا سامنا کرنا ان کی زندگی کا معمول بن چکا ہے جس کا صبر کے علاوہ کوئی حل ان کے پاس موجود نہیں ہے
    دوسری جانب یہ بات قطعی طور پر نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ مقامی لوگوں کیلئے بھی ان مخصوص دنوں کی چھٹیاں کبھی تفریح کا موقع ہوا کرتی تھیں لیکن اب سیاحوں کے اس جم غفیر میں ان مقامی لوگوں کی چھٹیاں گھروں پر ہی گزرتی ہیں کیونکہ اگر مقامی لوگ بھی مذکورہ رش میں شامل ہوجائے تو ممکنہ طور پر سیاحوں کیلئے مزید پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں اسلئے اب سوات کے باسی پختون روایات کے مطابق سوات آئے ہوئے مہمانوں کی خاطر ان مخصوص دنوں میں اپنی تفریح کی قربانی دیتے ہیں اور سیاحوں کو مواقع فراہم کرتے ہیں اور اپنی چھٹیاں گھروں میں ہی گزارتے ہیں۔

    موجودہ حکومت کے ابتدائی آیام میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کی جانب سے اقدامات قابل ذکر ہیں جن میں ٹریفک وارڈن سسٹم اور ٹورسٹ پولیس سر فہرست ہیں لیکن وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ٹورسٹ پولیس غیر فعال ہوتے نظر آرہے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ بھی اس ضمن غیر سنجیدہ نظر آرہی ہے۔جس کے نقصانات یہ برآمد ہوئے کہ جگہ جگہ شدید ٹریفک جام کیساتھ ساتھ سوات کی تاریخ میں پہلی بار سیاحوں کو لوٹنے کا سلسلہ شروع ہوا اگرچہ مقامی پولیس کیمطابق سیاحوں کو لوٹنے والے گروہ تو گرفتار کرلئے گئے ہیں تاہم مقامی پولیس کی غیر فعالی اور مقامی انتظامیہ کی غیر سنجیدگی نے ایسے واقعات کو جنم دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر سوات ایکپریس وے کے فیز ٹو کیلئے فنڈز ریلیز کئے جائیں تاکہ سیاحوں کو دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ سفری آسانی یقینی بنائی جاسکے اور سوات میں معیشت کو تباہی سے بچایا جاسکے۔ وزیر اعلٰی خیبر پختونخواہ کو چاہئے کہ ٹورسٹ کیلئے مرتب دئے گئے پولیس دستہ کی فعالی اور بہتری میں کردار ادا کریں جبکہ ضلعی انتظامیہ کو ھدایات جاری کریں کہ مذکورہ بالا حالات پر قابو پانے کیلئے اقدامات کو یقینی بنائے ، ٹی ایم اے اور دیگر متعلقہ محکموں کو سیاحتی مقامات کی صفائی اور اس حوالہ سے منصوبہ بندی کی ذمہ داریاں دی جائیں تاکہ سیاحوں کی تعداد ان وادیوں کے قدرتی حسن پر اثر انداز نہ ہو ، دریائے سوات پر سیلاب کی وجہ سے بہہ جانے والے درجن بھر پُل تاحال تعمیر نہیں ہوسکے جس سے نئے سیاحتی مقامات تک رسائی ممکن نہیں ہے لہٰذا ان پُلوں کی تعمیر سے ملم جبہ اور کالام پر سیاحوں کا رش کم کیا جاسکتا ہے جس سے ٹریفک کے نظام پر پڑنے والے بوجھ میں بھی کافی کمی آسکتی ہے ، کالام سے کمراٹ تک باڈگوئی پاس پر سڑک کی تعمیر سے دیر اور سوات کی سیاحت کو مزید ترقی ملیگی جس سے دیر کے عوام کی محرومیوں کا آزالہ ممکن ہے۔