یہ تقریباً سن 2015 کی بات ہے. رمضان کا مہینہ ختم ہونے والا تھا .سب لوگ عید کی تیاریوں میں مگن تھے. ہم نے تو اپنی تیاری مکمل کر لی تھی لیکن جو مشکل کام تھا وہ رہتا تھا اور وہ کام تھا یہ فیصلہ کرنا کہ عید میں گھومنے کہاں جائینگے.
میں اور میرے دوست فرمان جنہیں ہم پیار سے "مانے” بلاتے ہیں اور عابد جس کا لقب "گل” ہے ,ہر وقت بیٹھے مشورے کرتے.
عید گزری لیکن ہم فیصلہ نہ کرپائے کہ کہا جانا ہے, آخرکار میں معمول کے مطابق گھر سے نکلا, اپنی موٹرسائیکل نکالی اور اپنے دوستوں کو لینے ان کے گھر پہنچا.
گیٹ کے سامنے ہارن بجائی تو صاحبان خوابِ غفلت سے بیدار ہوئے نشیلی آنکھوں کے ساتھ باہر آئے.
خیر جو بھی ہوا, یم نے اپنے سفر کا آغاز کیا لیکن ہمیں معلوم نہ تھا کہ ہم کہاں جارہے ہیں. ہم نے نوشہرہ کی طرف رُخ کیا , جب نوشہرہ پہنچے تو لوگوں سے پوچھا کہ یہاں پر کوئی سیر کرنے کی جگہ بتائے. ایک بندے نے "بہادر بابا” کے مزار کا نام لیا. یہ نوشہرہ سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے. ہمارا کیا تھا, جوان تھے, خون میں مستی تھی اور کھلے پرندوں کی طرح ہوا جس طرف لے جاتی, ہم چلے جاتے. ایک موٹرسائیکل پر تین بندوں نے "بہادر بابا” کے مزار کی طرف اپنے سفر کا آغاز کیا.
گرمی کی جھلسا دینے والی لہریں جب ہمارے گالوں سے ٹکراتی تو دل سے پتہ بتانے والے کے لیے بد دعائیں نکلتی اور ان بد دعاؤں میں اضافہ تب ہوتا جب ان پہاڑی رستوں سے گزرتے گزرتے موٹرسائیکل کسی کھڈے میں گر جاتا. ہم نے راستے میں اپنا خوب مزاق اڑایا لیکن ساتھ ساتھ ہمارے منہ سے کچھ ایسے نازیبہ الفاظ بھی نکلے تھے جس کا تذکرہ میں کرنے والا ہوں.
کوئی کہتا کہ "بہادر بابا کو اتنی دور آنے کی کیا ضرورت تھی” تو کوئی کہتا کہ "وہ بیل پر سوار ہو کر آئے تھے” (استغفراللہ) اللہ معاف کرے .
جب ہم وہاں پہنچے تو ١۲ بج چکے تھے.میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ میں موٹرسائیکل ایک جگہ پر کھڑی کر کے آتا ہوں. میں ٣ منٹ کے لیے گیا اور جب واپس آیا تو میرے دوست غائب تھے. میں نے یہاں وہاں ہر جگہ دیکھا لیکن ان کا کوئی نام و نشان نہ تھا. ہم نیچھے تھے اور مزار پہاڑی کے اوپر تھا. میں نے اس شدید گرمی میں تقریباً ۷ سے ۸ چکر کاٹے , اوپر گیا مزار پر , پھر نیچھے آیا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا کیونکہ ہجوم اتنا تھا کہ اسے ڈھونڈنا محال تھا.
جس طرح میں ان کو ڈھونڈ رہا تھا , اسی طرح وہ بھی میں تلاش میں جگہ جگہ بٹک رہے تھے.
چونکہ ہم کم عمر تھے اور ایک دوسرے کو ایسی جگہ کھونا جو کہ ہمارے گھر سے کافی دور تھا , کافی پریشان کن تھا. جی کر رہا تھا کہ یہاں چیخ چیخ کر رو لوں.
آخر کار جب ٣ بج گئے تو میں نیچھے ایک پہاڑی کے سائے میں ٹیک لگا کر بیٹھ گیا . میرے سامنے ہماری وہ ساری باتیں آنے لگی جو ہم نے راستے میں "بہادر بابا” کے بارے میں کی تھی.
میں نے اسی وقت جلدی سے توبہ کیا کہ ہو سکتا ہے ہمیں ان باتوں کی سزا مل رہی ہو جو ہم نے "بہادر بابا” کے بارے میں کی تھی, یہ تو اللہ کے ولی ہے, اللہ کے خاص بندے .
میں انہی سوچو میں گم تھا کہ میری کانوں میں فرمان کی آواز پڑی جو کہی دور سے مجھے پکار رہا تھا.
اس آواز نے مجھے انتہائی گہرے سوچ سے بیدار کیا, جب میں نے "مانے” اور "گل” کو دیکھا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی, میں اپنے جزبات پر قابو پائے بغیر ان کی طرف بھاگا اور جٹ سے دونوں کو گلے لگا کر خوب رویا.
اس کے بعد دوستوں کے ملنے پر اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنے ساتھ یہ عہد کیا کہ آج کے بعد کبھی بھی کسی اللہ کے ولی کے بارے میں کچھ غلط نہیں کہیں گے.
پھر موٹرسائیکل پر سوار ہو کر واپس پہنچے تو رات کے ۸ بج چکے تھے. رات کا کھانا ساتھ میں کھایا, اس کے بعد اپنا خوب مزاق اڑایا اور اپنے اپنے گھر کو چلے گئے.
Category: تفریح و سیاحت
-

سفر نامہ تحریر: اسامہ اسلام
-

پنجاب سے سوات تک .تحریر ارم رائے
حصہ اول
پاکستان کو الله نے خوبصورت رنگوں سے مزین کیا ہے چاروں موسم پاکستان کے پاس تو پہاڑ ریگستان اور میدان اسکے پاس۔ ہر علاقے کی اپنی خوبصورتی اور اہمیت۔ پاکستان کا جتنا حسن میدانوں اور ریگستانوں میں ہے۔ اس سے کہیں زیادہ سرسبز پہاڑوں میں ہے۔ ملکہ کوہسار مری چلے جائیں گلیات چلے جائیں ناران کاغان چلے جائیں یا سوات ہر جگہ خوبصورتی ہی خوبصورتی بکھری ہوئی ہے۔ کہیں درختوں کے جھنڈ ہیں تو کہیں بہتی آبشاریں ان آبشاروں کا ٹھنڈا پانی جسطرح سکون دیتا ہے اسکا کوئی ثانی نہیں ہے۔ جب بظاہر سخت پہاڑوں کے بیچ سے جو آبشار پھوٹ رہی ہوتی ہے بے ساختہ زبان پر الله کی بڑائی آ جاتی ہے۔ بیشک کس خوبصورتی سے سجایا ہے ان پہاڑوں کو۔ بہت سے علاقے زمین پر جنت کا نظارہ پیش کرتے ہیں۔ اس جنت نظیر وادیوں تک پہنچانے کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں قابل زکر ہیں ان علاقوں میں آرام دہ سڑکیں بنانا روڈ بنانا کوئی مذاق یا کھیل نہیں ہے۔ ان علاقوں میں ویسے تو برفباری کے موسم میں بھی سیاح جاتے ہیں اور اس موسم سے لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن گرمیوں میں گرمی سے بچنے کے لیے بہت بڑی تعداد نا صرف بیرونی ممالک سے بلکہ پاکستان کے اندر سے جاتی ہے۔ ان پہاڑوں آبشاروں اور ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہوتی ہے اچھی یادیں جمع کرتی ہے اور لوٹ آتی ہے۔ گوکہ ان علاقوں کے مقامی لوگوں کی زندگی کافی مشکل ہے لیکن آنے والوں کی زندگی آسان بنا دیتے ہیں اور یہ بہت بڑی خوبی ہے جو وہاں کے لوگوں میں دیکھی ہے۔ مری گلیات جانے کے بعد اس دفعہ ہم لوگوں نے بھی ناران کاغان یا سوات جانے کاپروگرام بنایا۔ ادھی فیملی ناران کاغان کے لیے جانا چاہتی تھی اور آدھی میرے سمیت سوات۔ سوات جانے سے گھبرانے والوں کا خیال تھا کہ حالات بظاہر ٹھیک ہیں لیکن فیملیز کے لیے ابھی بھی محفوظ نہیں ہیں جبکہ ہم جو پرو پی ٹی آئی تھے یہ کہتے تھے کہ اب حالات ٹھیک ہیں اور ہم سوات ہی جائیں گے۔یوں قرعہ فال سوات کے لیے یعنی ہماری خواہش کے لیے نکلا ہم تقریباً 25 افراد جن میں 10 بچے بھی شامل تھے 15 جولائی 2021 کو سوات کے لیے نکلے۔ کچھ دیر بھیرہ انٹر چینج پر ریسٹ کے بعد تقریباً 12بجے سوات کے لیے روانہ ہوگئے راستے میں کہیں بھی نا رکتے ہوئے ہم بذریعہ موٹر ویے سوات پہنچے۔ سچ پوچھیں تو ڈر بھی لگ رہا تھا کہ ضد کی تو ہے اگر خدانخواستہ کچھ مسلہ ہوا تو بہت برا ہوگا۔ لیکن سوات سے گزرتے ہوئے خوشگوار حیرت ہوئی جب تعلیمی ادارے دیکھے۔ لڑکیوں کے سکول دیکھے کالجز یونیورسٹی کا کیمپس دیکھا۔ میڈیکل کالج دیکھا۔ نارمل زندگی دیکھی سکون اترا دل و دماغ میں صبح 6 بجے تک ہم مینگورہ پہنچ گئے تھے۔ اپنے ہوٹل گئے جہاں کی بکنک کروائی ہوئی تھی تھوڑی دیر ارام کیا پھر ناشتے کے لیے نکلے۔ قریب ہی سے ناشتہ کیا اور حیرانکی کے ساتھ بل ادا کیا کیونکہ انتہائی مناسب ریٹ پر ناشتہ کیا تھا۔ مری والی مہنگائی نہیں تھی۔ مینگورہ میں گرمی بہت تھی ویسے جیسے سرگودھا اور باقی شہروں میں ہوتی ہے۔ لیکن وہ دن ہم نے مینگورہ میں ہی گزارہ پارک گٰے ٹکٹس لیے اور داخل ہوگئے ویسے وہ فیملی پارک تھا لیکن ماحول اتنا مناسب نہیں لگا۔ لوگوں کا گھور کے دیکھنا تھوڑا عجیب لگا لیکن شاید اسکی وجہ یہ بھی تھی کہ مقامی خواتین اور لڑکیاں مکمل پردہ میں تھیں اور ہم لوگ ایسے نہیں تھے۔
بچوں نے جھولے لیے بہت انجوائے کیا اور ہم لوگوں نے بھی۔ بس ماحول کی وجہ سے تھوڑی کنفیوژن رہی اگر وہ بھی بہتر بنایا جائے تو زیادہ بہتر ہوسکتا ہے۔ وہاں سے نکل کر جھیل پر گئے تو گرمی کی شدت کا احساس کم ہوا وہاں بچوں بڑوں سب نے خوب انجوائے کیا۔ کچھ کھانے پینے والی چیزیں پاس تھیں بوتلیں لیں اور وہاں کافی وقت گزارہ۔ کسی قسم کا کوئی خوف محسوس نہیں ہوا۔ سب کچھ بہترین تھا۔ کافی وقت گزرنے پر پھر بھوک محسوس ہوئی اور تھکن بھی تو واپس ہوٹل آئے۔ راستے میں سب سے مزے کا واقعہ ہوا ہم لوگ تھوڑا تھک گئے تھے تو سوچا کوئی شارٹ کٹ مل جائے واپسی کے لیے۔ ہمارے ڈرائیور نے کہا کہ کسی عام ادمی سے نہیں پوچھتے بلکہ پولیس والے سے پوچجتے ہیں وہاں ایک بہت خوبصورت لمبا چوڑا پولیس والا کھڑا تھا اسکو بلایا اور پوچھا اب خیال یہ تھا کہ شاید پانچ سو ہزار لے کر ہمیں کسی پتلی گلی کا بتا دےگا جو سیدھی ہوٹل تک جاتی ہوگی لیکن اس نے کہا ” زیادہ تیز بننے کی کوشش نا کرو تہذیب کے ساتھ باہرو باہر نکل کر ہوٹل جاؤ بڑی گاڑی شہر کے اندر سے نہیں جا سکتی ” یوں پھر ہم باہر و باہر سے ہی ہوٹل تک پہنچے۔تھوڑا فریش ہوئے اور پھر کھانے کے لیے چلے گئے۔ وہاں کھانا کھایا اور واپس ہوٹل آگئے مینگورہ میں سب سے متاثر کن چیز ریٹس تھے اور مقدار۔ مطلب مقدار اور معیار پر تو سمجھوتہ نہیں تھا لیکن ریٹ بھی بہت مناسب تھا اور لوگ بہت مہمان نواز تھے۔ کھانے کے بعد واپس ہوٹل اگئے تاکہ اگلے دن نئے سفر کالام کے لیے تازہ دم ہوکر سفر کے قابل ہوسکیں۔۔
جاری
@irumrae -

آزاد کشمیر کا سیاحتی مقام گنگا چوٹی تحریر: محمد خواص خان
خوبصورت علاقے قدرت کی تخلیق کا ایک بہترین شہکار ہیں ۔ جن کو دیکھنے سے بنی نوع آدم سکون اور راحت محسوس کرتی ہے وطن عزیز بھی خوبصورت مقامات کی دولت سے مالا مال ہے بلند وبالا چوٹیاں، گہرے اور ٹھنڈے بہتے چشمے سفید اور سبز چادر اوڑھے دلکش پہاڑ دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں ۔ پاکستان بھر سے لاکھوں اور دنیا بھر سے سینکڑوں سیاح ان مقامات کا رخ کرتے ہیں ۔ جتنی ہمارے ہاں خوبصورت ترین علاقے ہیں بدقسمتی سے اتنے ہی یہ علاقے پسماندہ اور سہولیات سے محروم ہیں ماضی قریب تک تو کسی گورنمنٹ بے بالکل بھی اس طرف توجہ نہیں دی جبکہ موجودہ حکومت آٹے میں نمک کے برابر کچھ کررہی ہے ۔ حالانکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سیاحتی مقامات سے اچھی خاصی آمدن لے رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ان چیزوں کو پس پشت ڈال جارہا ہے ۔
کشمیر جنت نہیں ہے لیکن جنت نما ضرور ہے ۔ کشمیر کا تقریبا ہر علاقہ گرین اور انتہائی خوبصورت ہے کشمیر میں بہت زیادچشمے اورخوبصورت چوٹیاں ہیں لیکن ان تک پہنچنے کے لیے راستے انتہائی دشوار ہیں ۔ اسی لیے زیادہ تر سیاح وہاں کا رخ نہیں کرسکتے ۔ انہی بلند و بالا چوٹیوں میں سے ضلع باغ میں واقع گنگا چوٹی ہے ۔ جو انتہائی خوبصورت چوٹی ہے
اسلام آباد سے 200 کلو میٹر شمال مشرق میں آزاد کشمیر کے دو اضلاع باغ اور مظفر آباد کے سنگھم پر واقع ایک خوبصورت سیاحتی مقام جسے گنگا چوٹی کہاجاتا ہے ۔اسے گنگاکیوں کہا جاتا ہے یہ ایک حل طلب سوال ہے ظاہراً یہ نام ہندو مذہب سے منسوب ہے تاریخ دان اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ شہنشاہ ساگر دَوم کے زمانے میں قحط کی صورتحال ہو گئی۔ انسان اور جانور نڈھال ہو کر مرنے لگے. ساگر دَوم بہت پریشان ہو گیااس نے شیوا کو براہمان کے پاس بھیجا پھر وہاں سے آکاش گنگاکا وجود ہوا ہے جو ہندوں کی کتب میں درج ہے ۔بعض کتب میں یہ چوٹی دیوی گنگا کے نام سے منسلک ہے ۔ گنگا چوٹی کی بلندی تقریبا دس ہزار فیٹ ہے ۔یہاں پہنچنے کے لیے باغ سے براستہ سُدھن گلی سے پہنچا جاسکتا ہے ۔سُدھن گلی میں طعام وقیام کا اعلی بندوبست ہے ۔خصوصاً دیسی ہوٹل اپنی نفاست اور لذیذ دار کھانوں سے مشہور ہے اگر آپ کا یہاں جانا ہو تو ایک دفع ضرور ٹیسٹ کریں سپیشلی کڑی پکوڑہ اعلیٰ ومعیاری ہے۔ سُدھن گلی سے آگے آدھا راستہ پکا اور زیادہ کچا ہے تاہم اس پر کام جاری تھا یہاں گرمیوں میں موسم کافی معتدل اور سیاحوں کو اپنی طرف کھینچنے کے بے تاب رہتا ہے ۔یوں تو سارا کشمیر ہی خوبصورت ہے لیکن گنگا چوٹی اس خوبصورتی کا ایک خاص درجہ رکھتی ہے۔سرسبز میدان ،ٹھنڈی ہوائیں اور دھند کے ساتھ ساتھ ہم نے بھی گنگا چوٹی کی طرف سفر کا آغاز کیا گوکہ راستہ طویل تھا لیکن ہر حسین منظر نے آنکھوں کو تازگی اور دل کو سکون میسر کیا راستے میں ایک دو کیمپ(جن میں چاٸےاوربسکٹ کاساماں موجودتھا) اور کافی سارے مویشی نظر آئے ہم جوں ہی آدھے راستے پہنچے بادلوں کو بھی پتہ چل گیا کہ مہمان پہنچ چکے ہیں ۔گنگا چوٹی کے چاروں اطراف جنگلات ہیں ۔گنگا چوٹی جنگلی حیات اور نباتات کا مسکن ہے جہاں موسم بہار میں ہر طرف خوبصورت پھول کھلتے ہیں. چوٹی جولائی میں اکثر سفید چادر اوڑھے رکھتی ہے جس سے آپ مکمل نظارہ نہیں کر سکتے۔سیروسیاحت پر پہلی تحریر ہے آئندہ لکھنے کا مصم ارادہ ہے ۔آپ لوگوں سے بھی گزارش ہے سیاحتی مقامات کا پروموٹ کریں ۔
Twitter I’d link
@iamkhawaskhan -

ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات تحریر: عمران اے راجہ پارٹ ۴
۳: کروکوڈائل برِج گیٹ Crocodile Bridge Gate
(گزشتہ سے پیوستہ)
تیسرے حصے کے اختتام پر میں نے ذکر کیا کروکوڈائل برج گیٹ سے داخلے پر “بِگ فائیو” دیکھنے کے وسیع مواقع ہیں۔ کافی لوگوں نے سوالات کیے “بِگ فائیو” کیا ہے تو ایک مختصر وضاحت کیے دیتا ہوں۔ بِگ فائیو میں پانچ ایسے جانور آتے ہیں جن کا پیدل شکار افریقہ میں سب سے زیادہ مشکل ہے۔ ان میں آتے ہیں “شیر، چیتا، گینڈا، ہاتھی اور افریقی بھینسا (کیپ بفلو)”۔۔ ۱۹۹۰ کے بعد جاری ہونے والی ساؤتھ افریقن کرنسی پر بھی بِگ فائیو کی تصاویر ہیں۔ یہ پانچوں جانور (جنہیں میں ہرگز حیوان کا نام نہیں دوں گا) اپنی نسلوں میں ایک وجاہت، خوبصورتی، وقار اور حجم کے لحاظ سے ضحیم ہیں۔ براعظم افریقہ کے ممالک جہاں بیک وقت بگ فائیو دیکھنے کے مواقع میسر ہیں ان میں انگولا، بوٹسوانا، زیمبیا، یوگنڈا، نمیبیا، ساؤتھ افریقہ، کینیا، تنزانیہ، زمبابوے، کونگو، روانڈا اور ملاوی ہیں۔
امید ہے وضاحت بہتر انداز میں ہو گئی ہوگی۔
اب آتے ہیں تھوڑی مزید تفصیلات کروکوڈائل برج گیٹ کی جانب۔ کروکوڈائل ریور روڈ S25 جب مغربی جانب چلتی ہے تو یہاں گہری گھنی جھاڑیاں اور وسیع ترین چراگاہیں ملتی ہیں۔ یہاں سے آپ پارک کے اندرونی حصے سے ہوتے ہوئے جنوبی جانب بھی سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہاں ایک سڑک بیُومے روڈ S26 آپ کو بِیاماتی لُوپ S23 میں مرج کرے گی جبکہ یہیں سے آپ مالےلان ٹاؤن کی ڈائریکشن بھی لے سکتے ہیں۔ S25 آپ کو چند تاریخی مقامات سے بھی محظوظ کروائے گی۔ بالکل آخر میں جا کر اگر آپ داہنے مڑیے جہاں S25 کا اختتام ہو اور S114 کا آغاز ہو تو یہ آپ کو Jock of the bushveld plaque کے تاریخی مقام پر لے جائیگی جس کی اپنی ایک الگ ہسٹری ہے۔۔
گیٹ سے داخلے کی تقریباً 8 کلومیٹر کے بعد آپ کو S27 کا اختتام اور پہلا باہر جانے کا راستہ ملے گا۔ کروکوڈائل ریور روڈ پر آپ کو دریائی گھوڑے، مگر مچھ اور دوسرے پانی پیتے جانور دیکھنے کے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔ یہ سڑک اپنے بہترین نظاروں اور مارشل ایگل کی وجہ سے مشہور ہے۔ چونکہ یہاں جانوروں کی بہتات اور گیم واچنگ کے مواقع زیادہ بہترین ہیں اس لیے یہاں رش بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ٹریفک کے بڑھنے سے پہلے ہی آپ اپنا سفر صبح سویرے شروع کیجیے اور دوپہر میں واپسی کے لیے کسی متبادل راستے کا انتخاب کیجیے ورنہ ٹریفک میں پھنسنے کے لیے تیار رہیے۔ ویسے بھی جانور دیکھنے کا آئیڈیل وقت صبح سویرے یا دوپہر اور شام کے بیچ کا وقت ہوتا ہے۔
مالےلان ٹاؤن سے نکلتے وقت کروکوڈائل ریور S114 سے اگر آپ داہنے مڑ جائیے تو آپ کو ایک بڑا Birds Hide ملے گا جو گارڈینا کہلاتا ہے اور ملامبانے لوپ S118 پر آتا ہے۔
اس سڑک پر کروکوڈائل ریور کا پرانا کراسنگ پوائنٹ بھی ہے اور وہ تاریخی مقام جہاں Alf Roberts نامی شخص نے اٹھارہویں صدی کے اختتام میں پہلا تجارتی سٹور بنایا تھا۔ یہاں وہ مقام بھی موجود ہے جہاں بیسویں صدی کے آغاز میں “بُور/اینگلو جنگ” کے دوران جنرل بین ولیون نے اپنی آرٹلری ڈپلائے کی تھی۔
اس سڑک کی مختصر جھلکی بتاتا ہوں کہ گھنے جنگلات، بہت سے ایکو سسٹمز جو مالےلان پہاڑی سلسلے سے شروعات کرتے ہوئے سابی کروکوڈائل کی گھنی جھاڑیوں اور بالآخر ڈیلاگئوا کی جھاڑیوں میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ کروکوڈائل ریور روڈ “لواکاہلے” نامی جگہ کی جنوبی سرحد ہے اور پارک کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔
“کروکوڈائل برج گیٹ کی مشہوری اور خوبصورتی کی وجہ سے اسے زیادہ تفصیل سے لکھا۔ آئیڈیل جگہ اور زندگی میں کم سے کم ایک بار دیکھنے لائک۔ دوسرے گیٹس کی اب اگلے حصے میں تفصیلات ایڈ کروں گا کیونکہ ہر گیٹ کی اپنی خصوصیات ہیں اور وہاں پائے جانے والے جانور بھی ایک الگ وضاحت کے متقاضی۔ زندگی رہی تو باقی اگلے حصے میں ان شاء اللّٰہ”۔۔
(جاری ہے)
Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1 -

ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات تحریر عمران اے راجہ
پارٹ ۳:
۳: کروکوڈائل برِج گیٹ Crocodile Bridge Gate
اس راستے سے پارک کی کون سی خاص جگہات پر جا سکتے ہیں اس کا خلاصہ کچھ ایسے ہے
٭ مین روڈ جو کہ پکی سڑک ہے جنوب کی جانب لوئر سابی کی طرف جاتی ہے جس کا نام H4-2 ہے۔
٭ مشرق کی طرف لیبومبو ایریہ کی طرف جاتی ہے جس کا نام S28 ہے۔
٭ مغرب کی جانب جانے والی کوروکو ڈائل ریور سڑک بیاماتی ایریہ کی طرف جاتی ہے S25 ۔
٭ شمال کی طرف رُوٹ رینڈسپریٹ روڈ H5 کے راستے سکوکوزا کی جانب جاتا ہے جس کا نام ہے H4-1۔
اب آتے ہیں تفصیلات کی جانب۔ کروکوڈائل برج گیٹ بالکل مشرقی جانب سے کروگر میں داخلے کا راستہ ہے جو ہائی وے N4 سے آتا ہے۔ N4 ہائی وے مین ٹاؤن نیلسپریٹ اور مالےلان سے ہوتی ہوئی کوماٹی پورٹ کی جانب آتی ہے جو موزمبیق کے بارڈر سے پہلے ساؤتھ افریقہ کا آخری چھوٹا سا ٹاؤن ہے۔ اس کا شمار گرم ترین علاقوں میں ہوتا ہے اور موسم گرما میں درجہ حرارت 40 ڈگری تک بھی جاتا ہے۔
کروکوڈائل برج گیٹ کا نام کروکوڈائل ریور کی نسبت سے رکھا گیا۔ جو لوگ پارک کے جنوب مشرقی حصے کی طرف جانا چاہیں ان کے لیے یہ گیٹ سب سے ڈائریکٹ اور آسان راستہ ہے۔ کروکوڈائل برج پر آپ کو جھاڑیوں اور گھنے جنگل پر بہت کڑی نظر رکھنی ہے کہ یہاں بہترین مواقع ہیں نایاب جانوروں کو درختوں یا جھاڑیوں میں دیکھنے کے۔
گیٹ سے داخلے کے کچھ ہی فاصلے بعد آپ کو کروکوڈائل برج کیمپ ملے گا جہاں پٹرول پمپ اور کھانے پینے کے علاوہ دوسری اشیاء ضروریہ میسر ہیں۔ یاد رہے بارش کے موسم میں یہاں سیلابی کیفیت ہوتی ہے لہذا بارش کی صورت میں زیادہ دیر رکنے سے گریز کریں۔
کروکوڈائل برج سفید گینڈوں کا مسکن ہے اور یہ اکثر آپ کو درختوں تلے ملیں گے جبکہ شرمیلا کالا گینڈا آپ کو گھنی جھاڑیوں میں ملتا ہے۔
یہاں کے دوسرے خاص جانور شیر، چیتا، ہائنا، جنگلی کتے، امپالہ اور دریائی گھوڑے ہیں۔
انیسویں صدی کی شروعات سے Nhlowa Road S28 کروکوڈائل برج گیٹ کی طرف سابی گیم ریزرو کی جانب جانے والا مین راستہ تھی۔ یہ سڑک جنوب مشرقی جانب مڑتی ہے جہاں سے پارک کا داخلہ ہے اور اس کا رُخ لیبومبو رینج کی طرف ہے جو موزمبیق اور جنوبی افریقہ کا بارڈر ہے۔
یہ خطہ نوب تھورن جھاڑیوں اور مارُولا کے درختوں سے گھِرا ہے۔ یہ عام جنوبی حصے کی نسبت زیادہ میدانی اور ہموار ہے اور گیم واچنگ کے لیے بہترین کیونکہ یہاں اچھی چراگاہیں ہیں۔
جیسے جیسے آپ لیبومبو پہاڑی سلسلے کی طرف بڑھتے جائیں گے سبزہ کم سے کم ہوتا چلا جائے گا۔ جیسا کہ جنوبی حصے کی خاصیت سفید گینڈا ہے یہاں آپ کو بلیک بریسٹ سنیک ایگل بھی دِکھے گا۔
یہیں پر آپ کو ایم پانا مانا ڈیم بھی ملے گا جس کا اختتام کروکوڈائل ریور میں ہوتا ہے۔ یہ سڑک S28 آپ کو مزید جنوبی طرف لے جائیگی جہاں براستہ H4-2 آپ لوئر سابی ریسٹ کیمپ کی طرف جاتے ہیں۔
کروکوڈائل برج اور لوئر سابی کی درمیان شمالی ایریا H10 آپ کو جنگلی حیات کے چند بہترین نظارے فراہم کرتا ہے۔ بہترین مناظر چیتا دیکھنے کے ہیں۔ یہ ایریا ہموار، سرسبز، بہترین گھاس اور چراگاہوں سے مزین ہے جو چیتوں کی پسندیدہ ترین جگہیں ہیں۔ چیتا ہمیشہ ہموار جگہ کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ وہاں اس کی رفتار تیز ترین اور شکار آسان ہے۔
لوئر سابی کا گومونڈوانے روڈ ورھامی ریور کے ساتھ چلتا ہے۔ یہاں پر دو پانی کے ذخیرے ہیں گیزاٹومبی اور گومونڈوانے۔ پانی کے ذخیرے بہترین جگہ ہیں گیم واچ کے لیے کیونکہ تمام جانوروں کو پانی کے لیے وہیں جانا پڑتا ہے۔
جیسے ہی آپ لوئر سابی کیمپ پہنچیں گے آپ کو مشرق کی جانب لیبومبو ماؤنٹین رینج نظر آئیگی اور منتشے ماؤنٹین بالکل آپ کے سامنے جہاں بہت سے زیبرہ اور وائلڈ بِیسٹ بھی ملیں گے۔یہ سڑک داہنے مڑتے ہی آپ کو بہترین دریائی ماحول والی کیمپ سائٹ کی سیر کروائے گی۔
کروگر پارک کا جنوبی حصہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے جو صدیوں پیچھے جاتی ہے۔ یہاں پر دوسری دلچسپیوں کی علاوہ یہاں آپ کو مشہور زمانہ “بُش مین” کی پینٹنگز بھی ملیں گی جو San لوگوں نے بنائی ہیں۔ یہ لوگ کسی زمانے میں یہیں رہتے اور شکار کرتے تھے۔
یہ خطہ ناصرف شکار اور جنگلی حیات کے مشاہدے کے لیے بہترین ہے بلکہ یہاں ایک کثیر تعداد ہائناز کی بھی ہے۔ یہاں کا گیم ایریہ “جنوبی سرکل” کہلاتا ہے۔ یہاں شیروں کے جھنڈ پائے جاتے ہیں جو نِت نئے طریقوں سے شکار کے لیے مشہور ہیں اور بہترین دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ کروکوڈائل برج اور لوئر سابی کے درمیان کا علاقہ کروگر کے بہترین حصوں میں سے ہے اور یہاں سب سے زیادہ چانس ہے کہ آپ “بِگ فائیو” کو دیکھ سکیں۔
“کروکوڈائل برج گیٹ بہت مشہور اور آئیڈیل جگہ ہے لہذا اس کی طوالت زیادہ ہے۔ دوسرے گیٹس کے ساتھ اس کی مزید تفصیلات ایڈ کروں گا”۔۔
(جاری ہے)
Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1 -

قومی ہیروز کو جیتے جی یاد کریں . تحریر: محمد عثمان
کچھ روز قبل صبح جیسے ہی میری آنکھ کھلی تو میں نے اپنا موبائل آن کیا اورٹویٹرچلایا ٹاپ ٹرینڈ پاکستان چیک کیا تو وہاں (AliSadpara#) ٹاپ ٹرینڈ چل رہا تھا میرے ذہن میں آیا کہ یہ نام سنا ہوا لگتا ہے اسی لمحے اچانک مجھے پتہ چلا کہ ہاں چھ ماہ پہلے ایک قومی ہیرو علی سدپارہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سیر کرنے گئے تو وہاں لاپتہ ہوگئے تھے ۔میں نے گہری سانس لی اور کہا اللہ خیر کریں۔۔۔۔پھر میں نے (AliSadpara#) ٹاپ ٹرینڈ چیک کیا تو پتہ چلا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ‘ بلند چوٹیوں سے بلند حوصلہ رکھنے والا پاکستان کا قومی ہیرو کوہ پیما علی سدپارہ کی لاش مل گئیں، قومی ہیرو کی لاش بوٹل نیک کے ٹو سے صرف تین سو میٹر نیچے تھی اور تقریبا چھ ماہ بعد قومی ہیرو علی سدپارہ کی لاش ملی ۔واٹس اپ آن کیا تو وہاں بھی لوگوں نے علی سدپارہ کے اسٹیٹس لگائے ہوئے تھے ۔ فیس بک ان کی تو وہاں بھی لوگوں نے قومی ہیرو علی سدپارہ کی اسٹوری لگائی ہوئی تھی موبائل بند کیا اور ٹی وی آن کیا تو وہاں بھی قومی ہیرو علی سدپارہ کی خبر چل رہی تھی اور حکمران ، اداکار و سماجی شخصیات علی سدپارہ کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے، یہ سب دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں اچانک ایک سوچ آئ کہ ہماری پاکستانی قوم کا یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہم اپنے قومی ہیروز کو جیتے جی یاد نہیں کرتےبلکہ جب وہ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تب ہم ان کی قدر ، حوصلہ افزائی اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور صرف دو دن تک اسے واٹس ایپ اسٹیٹس فیس بک اسٹوری اور ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ تک محدود رکھتے ہیں جس طرح ہمارے قومی ہیرو علی سدپارہ آج اس دنیا میں نہیں رہے پوری پاکستانی قوم علی سدپارہ کو خراج تحسین پیش کر رہی ہے اور جب علی سدپارہ اس دنیا میں تھے تو یقینن میں اور باقی میری طرح کروڑوں پاکستانی بھی نہیں جانتے تھے کے علی سدپارہ کون ہے ؟ یہ ہماری قوم کا المیہ ہے کہ ہم اپنے قومی ہیروز کو جیتے جی یاد کرتے ہیں نہ حکومت کی طرف سے سپورٹ ہوتی ہے جس طرح حال ہی کے ایک اور قومی ہیرو ویٹ لفٹر طلحہ طالب جنہوں نے ٹوکیو اولمپکس 2020 میں پانچویں پوزیشن لے کر برونز میڈل پاکستان کے نام کیا ۔ طلحہ طالب کا بھی یہی کہنا تھا کہ اگر حکومت پاکستان یا کسی ادارے کی طرف سے مجھے تھوڑی سپورٹ ہوتی تو آج میں گولڈ میڈلسٹ ہوتا اور پورے پاکستان میں جشن ہوتا۔ ہاں بالکل!
حکومت پاکستان کو چاہیے جیسے دیگر ممالک کے کھلاڑی گولڈمیڈلسٹ ہیں انہیں جس طرح کے پلیٹ فارم و سہولیات ملتی ہے وہ دی جائیں تاکہ ہمارے قومی ہیروز بھی دیگر ممالک کی طرح گولڈمیڈلسٹ بنے اور دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں ۔ تو یاد رکھیں! جس سچے پاکستانی نے قسم کھائی ہے کہ اس ملک پاکستان کے لیے کچھ کرنا ہے تو پھر انہے کسی کی سپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ان کیلئے ان کا جذبہ ہمت اور ملک سے محبت ہی کافی ہوتی ہے ۔ جس طرح علی سدپارہ کے بقول
۔ چل کسی شوق کی تکمیل میں مارے جائیں،
ہمت کے آسمان کے اے تارہ آئے
اٹھ کر کسی چٹان سے سدپارہ آئے
برحق ہے موت پر عجب یہ معاملہ
سب چاہتے ہیں کہ آپ دوبارہ آئیں
آخری بات خدارا اس ملک کے قومی ہیروز کی جیتے جی مدد و سپورٹ اور حوصلہ افزائی کریں ۔ یہ قومی ہیروز فخر پاکستان ہے یہ جو کچھ کرتے ہیں پاکستان کیلئے کرتے ہیں۔@UsmanKbol
-

لاہور، اس کی ثقافت، سیاحت اور کھانے تحریر : مریم صدیقہ
لاہور، اس کی ثقافت، سیاحت اور کھانے
لاہور دنیا کے مشہور شہروں میں سے ایک ہے جو سیاحوں کے مطابق کوئی شہر نہیں بلکہ عادت یا نشہ ہے۔ یہ ،مشہور قول تو سنا ہی ہوگا کہ جن نے لاہور نہیں ویکھیا او جمیا ہی نہیں۔ کراچی کے بعد ملک کا دوسرا بڑا شہر لاہور جو کہ صوبہ پنجاب کا دارالحکومت بھی ہے ۔ یہ پاکستان کے امیر ترین شہروں میں سے ایک ہےجو کہ پاکستان کے سب سے زیادہ سماجی طور پر لبرل ، ترقی پسند اور کسمپولیٹن شہروں میں گنا جاتا ہے ، اسی طرح پنجاب کے بڑے صوبے میں یہ تاریخی ثقافتی مرکز ہے۔
پاکستان اور ہندوستان کی آزادی کی کوششوں میں لاہور کا بہت اہم قلیدی کردار رہا ہے کیوں کہ یہ شہر ہندوستان کے اعلان آزادی کے مقام کے طور پر جانا جاتا ہے اور یہاں ہی قیام پاکستان کی قرارداد منظور ہوئی تھی۔ دہائیوں تک لاہور نے پاکستان کی آزادی کے لیے کئی فسادات دیکھے۔ 1947 میں تحریک پاکستان کی فتح ہوئی اور اس کی بلآخر آزادی کے بعد لاہور کو صوبہ پنجاب کا دارالحکومت قرار دیا گیا۔
پاکستان بھر میں لاہور کی ثقافتی اہمیت ہے۔ یہ پاکستان میں اشاعت کا ایک اہم مرکز اور ادبی زندگی میں اس کا بہت قلیدی کردار ہے۔ شہر کے اندر متعدد مشہور تعلیمی اداروں کی موجودگی اسے پاکستان میں تعلیم کا ایک اہم مرکز بناتے ہیں۔ اس شہر میں سیاحوں کے لیے بہت سے پرکشش مقامات ہیں جیسے والڈ سٹی ، بادشاہی مسجداور وزیر خان جیسی مشہور مساجد اور مختلف صوفی کے مزارات بھی موجود ہیں، لاہور قلعہ اور شالیمار گارڈن بھیی یہاں واقع ہے جو سیاحت کو مزید فروغ دینے میں مدد کرتے ہیں۔
جدید شہر لاہور کا بہترین نظارہ اس کے شمالی حصےوالڈ سٹی میں واقع ہے جہاں دنیا کی معتدد اشیاء اور قومی اثاثے موجود ہیں۔لاہور کی شہری منصوبہ بندی نہ صرف ہندسی ڈیزائن پر بنی تھی ، بلکہ قریبی عمارتوں کے تناظر میں بنی ہوئی ایک بکھرے ڈھانچے پر بھی مبنی تھی ، جس میں چھوٹی چھوٹی کل-ڈی-ساکس اور سڑکیں تھیں۔ اگرچہ کچھ علاقوں کا نام مخصوص مذہبی یا نسلی گروہوں کے نام پر رکھا گیا تھا ، لیکن یہ علاقے خوداس سے اکثر مختلف ہوتے تھے اس لیے ناموں سے ان پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔
قدیم والڈ سٹی تیرہ دروازوں سے گھرا ہوا ہے۔ روشنایی ، مستی ، یکی ، کشمیری اور کزری ، شاہ برج ، اکبری اور لاہوری ان میں سے چند دروازے ہیں جو اب بھی قائم ہیں۔ عظیم برطانوی دور کا لاہور،والڈسٹی کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ والڈ لاہور دنیا کے قدیم شہروں میں سے ایک ہے اور اس میں بہت ساری کشش ہے۔ فورٹ لاہور مغلوں اور بعد میں سکھوں نے اپنے شاہی طریقوں کے ذریعہ سے ایک وسیع عمارت کی صورت میں تعمیر کیا۔ بادشاہی مسجد ، جو ایک عرصے تک کرہ ارض کی سب سے بڑی مسجد تھی ، مغل بادشاہ اورنگ زیب نے بنائی تھی۔
لاہورکا پاکستان کےسیاحوں کی سب سے بڑی توجہ کا مرکز بدستور قائم ہے۔ 2014 میں تجدید شدہ یہ شہر، لاہور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ سائٹس کے لئے مشہور ہے۔ والڈ سٹی کے قریب لاہور کے کچھ مشہور قلعے ہیں جن میں شیش محل ، عالمگری گیٹ ، نولہ پویلین اور موتی مسجد شامل ہیں۔ 1981 کے بعد سے ، یہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی سائٹ پر درج کیا گیا ، جیسا کہ قلعہ اور اس کے پڑوسی شالیمار باغات ہیں۔ اندرون شہر ،مندروں اور محلوں سے بھر پور ہے ، ان میں سب سے قابل ذکر آصف جاہ حویلی (حال ہی میں تجدید شدہ) ہے ۔یہاں پر کئی پرانے یادگاریں موجود ہیں ، جن میں مشہور ہندو مندر ، کرشنا مندر اور والمیکی مندر شامل ہیں۔ سمدھی رنجیت سنگھ بھی اس کے آس پاس ہی ہے جہاں سکھ بادشاہ مہاراجہ رنجیت سنگھ دفن ہیں۔1673 میں تعمیر ہونے والی بادشاہی مسجد دنیا کی مشہور عمارت ہے اور اس وقت یہ دنیا کی سب بڑی مسجد کے طور پہ بنائی گئی تھی۔ 1635 میں بنائی جانے والی وزیر خان مسجد اپنی بڑی بڑی ٹائلوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ مینار پاکستان، قلعے اور بادشاہی مسجد کے بالکل بالمقابل واقع ہے۔ یہ ایک خاص مسلم ریاست (پاکستان) کے قیام کی 1940 میں منظوری کے مقام پر بنایا گیا تھا۔
اب لاہوری کھانوں کی طرف چلتے ہیں اور اس بات سے انکار کرناممکن ہی نہیں کہ لاہور اور اس میں رہنے والے اپنے کھانے کی وجہ سے پاکستان کی ثقافت میں ایک اہم مقام رکھتےہیں۔ لاہور ایک ایسا شہر ہے جس میں ایک معتبر گیسٹرنومی روایت ہے۔ یہاں گیسٹرونک کے بہت سے مواقع فراہم کیے جاتےہیں۔ حال ہی میں ، اس طرح کا کھانا آسانی سے ہضم اور ہلکے ذائقہ کی وجہ سے دوسرے ممالک میں ، خاص طور پر پاکستانی ڈا ئسپورہ میں خاصے مشہور ہوچکے ہیں۔ لاہور کی کافی ڈشز میں مقامی پنجابی اور مغلائی ڈشز کا عنصر دیکھنے کو ملتا ہے۔ چینی ، مغربی اور بین الاقوامی کھانوں کے علاوہ روایتی مقامی کھانے شہر بھر میں مشہور ہے اور علاقائی ترکیبوں کے ساتھ مل کر ایسے بہترین ذائقوں کو تیار کیا جاتا ہے جس کو پاکستانی چینی کھانے بھی کہا جاتا ہے۔@MS_14_1
-

کوہ پیمائی کی دنیا میں منفرد ریکارڈ .تحریر : ارشد محمود
متروک شدہ کوہ پیمائی کا لباس پہن کر اپنا شوق پورا کرنے والا علی سدپارہ کا نام 2016ء میں عالمی میڈیا میں گونجا کہ انھوں نے سردیوں کے موسم میں قاتل پہاڑ (نانگا پربت) کو منفی 52 کے درجہ حرارت اور تیز برفیلی آندھی کے باجود سر کرلیا ہے ۔ یہ ایک ایسا ریکارڈ تھا جس کی جتنی تعریف کی جاے اتنی کم ہے ۔ سردی کے موسم میں بغیر آکسیجن نانگا پربت کو سر کرلینا ایک منفرد ریکارڈ تھا جس کی شاید ہی کسی میں ہمت ہو ۔ علی سدپارہ نے نانگا پربت پر سبز ہلالی پرچم لہرا کر پاکستان کا سر فخر سے بلند کردیا ۔ یہی وجہ تھی کہ جب علی سدپارہ کی گم شدگی کی اطلاع ملی تو ہر آنکھ نہ صرف اشک بار ہوئی بلکہ ہاتھ بھی دعا کے لیے اٹھے کہ علی سدپارہ مل جاے ۔علی سدپارہ کا پورٹر سے کوہ نوردی کا سفر جہاں اپنے اندر جہاں سموے ہوے ہے وہی پر اسباق در اسباق بھی ہیں جو نئے کوہ پیماؤں کو سیکھنے چاہیے ۔ علی سدپارہ کوہ پیمائی تشہیر کے لیے نہیں بلکہ اپنی تسکین کے لیے کرتے تھے گویا کہ انھیں برف پوش اور فلک بوس پہاڑوں سے عشق تھا ۔
علی سد پارہ پہلا پاکستانی کوہ پیما تھاجس نے 8 ہزار میٹر بلند دنیا کی سات چوٹیوں کو سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ پاکستان کی 5 بلند ترین چوٹیوں کو بھی سر کر چکا تھا جس میں 8611 میٹرز بلند K 2 بھی شامل ہے لیکن اب کی بار موسم علی سد پارہ کے حق میں نہ تھا ورنہ قاتل پہاڑ نانگا پربت کو سر کرنے کے بعد پہلے سے مفتوح ہو چکی کے ٹو چوٹی کی کیا حیثیت تھی؟ امسال فروری میں علی سدپارہ مع ساجد سدپارہ ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو کے ساتھ کےٹو کو سر کرنے کی مہم کو نکلے ۔ ساجد سدپارہ کو 8 ہزار میٹر کی بلندی پر ریگولیٹر خراب ہونے کی وجہ سے ساتھ چھوڑنا پڑا ۔ یہ آخری ملاقات تھی جو باپ کی اپنے بیٹے سے تھی ۔ بیٹا تو واپس آگیا جبکہ باقی تین افراد نے اپنی مہم جاری رکھی ۔ چند دنوں کے بھر پور ریسکیو آپریشن کے بعد بھی لاپتہ کوہ پیما نہ ملے تو انہیں مردہ قرار دیتے ہوئے ریسکیو آپریشن بند کردیا گیا لیکن ان کے بیٹے نے ازخود ریسکیو آپریشن جاری ر کھنے کا اعلان کیا ۔ٹویٹر پر علی سدپارہ نے 24 جولائی کو ٹویٹ کرتے ہوے بتایا کہ وہ علی سد پارہ کی تلاش کے لیے بوٹل نک اور اس سے آگے کے علاقوں میں چھان بین کریں گے ۔ اور پھر بیٹے کی محنت رنگ لائی اور انھیں اپنے والد علی سدپارہ اور دیگر دو کوہ پیماؤں کے لاشے مل گئے ہیں۔
کوہ پیمائی جہاں مہنگا ترین کام ہے وہی پر خطرناک حد خطرناک کام ہے ۔ علی سدپارہ کی زندگی جہاں مہم جوئی سے عبارت ہے وہی پر ان کی زندگی ثابت کرتی ہے کہ وسائل کے نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کچھ کر نہیں سکتا ۔ شروع میں ان کی مدد و حمایت کرنے والے نہ ہونے کے برابر تھے اور سرکاری سرپرستی تو پاکستان میں نصیب والوں کو ملتی ہے ۔خبروں کےمطابق چند ایک لالچی قسم کے افراد نے بعد ازاں سستی شہرت حاصل کرنے کی خاطر ان سے اپنی مرضی کے بیانات دلوانے کی کوشش بھی کی لیکن وہ مردقلندر اپنی بات پر اڑا رہا ۔ ایسے منفرد لوگ قوموں کو کبھی کبھی میسر آتے ہیں اور زندہ قومیں ان کی زندگی میں ہی ان کی اہمیت سے واقف ہوتی ہیں ۔ بعدازمرگ اعزازات و انعام واکرام کا مطلب اپنی شہرت کے سوا کیا ہوتا ہے ؟ معذرت کے میں آج تھوڑا تلخ ہوگیا ہوں ۔ ہم اپنے سیاست دانوں کو سونے کے برتنوں میں کھانا کھلا کر ان کی ہوس مزید بڑھاتے ہیں لیکن ان اصلی نمایندگان قوم و ملت کو سرکاری سرپرستی تک دینے سے انکاری ہو جاتے ہیں ۔ہمیں بطور قوم اپنے اجتماعی خیالات کو بدلنا ہوگا ہمیں تعین کرنا ہوگا کہ ہم کس راہ پر چل کر ترقی یافتہ ممالک میں کھڑے ہوسکتے ہیں ۔ یہ صرف سیاست سے ممکن نہ ہوگا بلکہ ہمیں اس طرح کے معاملات میں بھی درد دل رکھ کر فضا ہموار کرنا ہوگی تاکہ علی سدپارہ جیسے لوگ پاکستان کا نام روشن کرسکیں اور حالیہ اولمپکس جیسا حال بنواکر مزید جگ ہنسائی کا باعث نہ بنیں ۔
-

لہور لہور اے . تحریر : عمران اے راجہ
کسی نے سچ کہا ہے "لہور لہور ہے، جن نے لہور نی تکیا او جمیا نئ ” ( لاہور لاہور ہے، جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا)۔ یہ بات وہی جان سکتا ہے جس نے لاہور کو دیکھا ہو۔ لاہور کے اتنے رنگ اور چہرے ہیں کہ ان کو بیان کرنے کے لیے ایک ضخیم کتاب لکھنی پڑ جائے ۔ یہاں کے رنگ، ثقافت، تاریخ، قدیم روایات، جدید ترقی کی چکا چوند، باغوں کی ہریالی اور پھولوں کی خوشبو، درختوں سے ڈھکی دو رویہ سڑکیں، پاکستانی ثقافت کی لذت لیے روایتی کھانے، ماضی کی داستان بیان کرتے اور نشان عبرت بنے مقبرے، چمکتے فرش والے مزارات، عظیم درسگاہیں اور زندہ دلان لاہور کی مہمان نوازی یہ سب چیزیں سیاحوں کو بار بار کھینچ کر یہاں کا رخ کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ لاہور ایک شہر ہی نہیں ایک دیرپا احساس اور ایک ناقابل فراموش تجربہ بھی ہے۔ پاکستان کی ثقافت کو حقیقی معنوں میں سمجھنے کے لیے لاہور کو دیکھنا ضروری ہے۔
شاہی قلعہ
سیاح جب لاہور میں قدم رکھتے ہیں تو سب سے پہلے بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کا رخ کرتے ہیں۔ شاہی قلعہ مغلیہ فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ یہ جزوی طور پر اکبر نے تعمیر کیا تھا (1556-1605) اور اگلے تین شہنشاہوں نے اس میں توسیع کی۔ شاہی قلعہ میں دیوان عام، دیوان خاص، شیش محل قابل دید ہیں۔ شاہی قلعہ کا داخلی دروازہ بادشاہی مسجد کے سامنے ہے اور اسے "عالمگری گیٹ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 1981 میں یونیسکو نے لاہور قلعہ کو عالمی ثقافتی ورثہ کی حیثیت سے شامل کیا۔بادشاہی مسجد
شاہی قلعہ لاہور کے مغرب میں بادشاہی مسجد واقع ہے۔ اسے لاہور کے مشہور مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ بادشاہی مسجد مغل شہنشاہ اورنگ زیب نے 1671 اور 1673 کے درمیان تعمیر کروائی۔ یہ مسجد مغلیہ فن تعمیر کا شاہکار ہے ، یہ مغل عہد کی سب سے بڑی اور پاکستان کی دوسری بڑی مسجد ہے۔ یہاں بیک وقت ایک لاکھ نمازی نماز ادا کرسکتے ہیں۔ مسجد اور قلعے دونوں کو سنگ سرخ سے سجایا گیا ہے۔مینار پاکستان
شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد کے قریب ہی مینار پاکستان واقع ہے. مینار پاکستان ، لاہور کی ایک تاریخی یادگار ہے۔ اسے پاکستان کا سب سے بڑا ٹاور سمجھا جاتا ہے۔ یہ ٹاور اس جگہ پر 1960 اور 1968 کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا جہاں آل انڈیا مسلم لیگ نے 23 مارچ 1940 کو علیحدہ وطن کے حصول کے لیے قرارداد منظور کی تھی۔مسجد وزیر خان
وزیر خان مسجد کی تعمیر مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دور میں شروع کی گئی تھی۔ اس کی تعمیر کا آغاز 1634 میں ہوا اور یہ 1641 میں مکمل ہوا۔ یہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی عارضی فہرست میں شامل ہے۔ مغلیہ فن تعمیر اور کاشی کاری کے کام کی وجہ سے سیاح اس میں خصوصی دلچسپی لیتے ہیں۔شالامار باغ
لاہور مغلوں کا شہر ہے ، اور شالامار باغ مغلوں کی ایک اور حسین یادگار ہے۔ فواروں، چشموں ، سنگ مرمر کے تالاب ، درختوں اور گھاس کے میدانوں سے سجا یہ باغ پاکستان کے مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ باغات کی تعمیر 1641 میں شہنشاہ شاہ جہاں کے دور میں شروع ہوئی ، اور یہ 1642 میں مکمل ہوئی۔ 1981 میں شالیمار گارڈن کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر تحریر کیا گیا تھا.والڈ سٹی
اندرون لاہور جسے اولڈ سٹی بھی کہا جاتا ہے ، لاہور کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ شہر 1000 عیسوی کے قریب قائم کیا گیا تھا ۔ یہ درجنوں حکمرانوں اور کئی ادوار سے گزرا ہے۔ اندرون لاہور مغلیہ دور میں دارالحکومت کے طور پر منتخب ہونے کے بعد شہرت پذیر ہوا ، جس کے نتیجے میں لاہور قلعہ تعمیر ہوا۔ والڈ سٹی کو مغل عہد کے دوران شاہانہ طور پر سجایا گیا وزیر خان مسجد ، شاہی مسجد اور شاہی حمام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ سکھ حکمرانی کے دور میں ، اس شہر کو دوبارہ دارالحکومت کے طور پر منتخب کیا گیا ، اور یہ ایک بار پھر والڈ سٹی میں تعمیر کردہ متعدد مذہبی عمارتوں کے ساتھ نمایاں ہوا جس میں رنجیت سنگھ کی سمادھی ، اور گوردوارہ جنم آستھن گرو رام داس بھی شامل تھے۔ ابتداء میں اس کے 13 دروازے تھے جن میں سے اب صرف 6 باقی ہیں۔ ان چھ میں سے ہر ایک دیکھنے کے قابل ہے۔مقبرہ جہانگیر
اگر آپ فن تعمیر میں دلچسپی رکھتے ہیں تو مقبرہ جہانگیر یقینی طور پر لاہور میں دیکھنے کے لئے بہترین مقامات میں سے ایک ہے۔ مقبرہُ جہانگیر17 ویں صدی کا ایک مقبرہ ہے جو مغل بادشاہ جہانگیر کے لئے تعمیر کیا گیا تھا۔ مقبرہ 1637 سے قائم ہے ، اور دریائے راوی کے کنارے شاہدرہ باغ میں واقع ہے۔ اس کو سنگ مرمر سے سجایا گیا ہے اور دیواروں کو رنگین پتھروں کے ٹکڑوں سے مزین کیا گیا ہے۔کامران کی بارہ دری
کامران کی بارہ دری کو 1540میں پہلے مغل بادشاہ بابر کے بیٹے اور دوسرے مغل بادشاہ ہمایوں کے بھائی کامران مرزا نے تعمیر کیا۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شہر کا قدیم ترین مغل ڈھانچہ ہے جو اب بھی قائم ہے۔ یہ محل لاہور کے مضافات میں دریائے راوی کے پار ایک چھوٹے سے جزیرے پر واقع ہے۔ اس تک پہنچنے کے لئے کشتی کی مدد لی جاتی ہے۔اس کی دو منزلیں اور بارہ دروازے ہیں جنھیں ہوا کے گزر کےلئے تعمیر کیا گیا تھا۔ لاہور کے دیگر تاریخی مقامات کے برعکس ، اس کی حفاظت نہیں کی جارہی ہے -اور یہ زبوں حالی کا شکار ہے۔داتا دربار
آپ لاہور جائیں اور جنوبی ایشیاء کے سب سے بڑے بزرگ سید علی ہجویری داتا گنج بخش کے مزار پر نہ جائیں یہ ممکن ہی نہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ یہاں 11 ویں صدی میں رہتے تھے۔ یہ لاہور کا مقدس ترین مقام ہے اور اس کے سالانہ عرس میلے میں ملک بھر سے 10 لاکھ زائرین آتے ہیں۔مادھو لعل حسین کا مزار
لاہور ہی میں مادھو لال حسین کا مزار بھی بہت مشہور ہے۔ مادھو لعل حسین سولہویں صدی کے صوفی شاعر تھے۔ ان کے عرس کے موقع پر یہاں ہر سال میلہ چراغاں ہوتا ہے جو لاہور کا ایک مقبول تہوار ہے۔ یہ میلہ شالیمار گارڈن میں بھی ہوتا تھا ، یہاں تک کہ صدر ایوب خان نے سن 1958 میں اس کے خلاف حکم دیا تھا۔انارکلی بازار
انارکلی بازار ، لاہور میں دیکھنے کے لئے ایک بہترین مقام ہےچاہے وہ خریداری ، کھانے ، یا محض تفریح کرنی ہو۔ اس کے رومانوی نام کا اثر ہے یا کچھ اور لیکن لاہور آنے والوں کی تفریح اور شاپنگ انارکلی جائے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ یہ لاہور کے قدیم بازاروں میں سے ایک ہے۔باغ جناح
لاہور کے مال روڈ پر واقع ایک وسیع و عریض پارک ، باغ جناح صرف ایک تفریح گاہ نہیں، یہاں ایک نباتاتی باغ ، ایک مسجد اور قائد اعظم لائبریری بھی ہے جو 19 ویں صدی کی وکٹورین طرز کی عمارت میں واقع ہے۔اس باغ کی تعمیر 1860 میں شروع ہوئی۔یہاں پر اس دور کے قدیم درخت آج بھی موجود ہیں۔ پارک کے اندر تفریحی اور کھیلوں کی سہولیات بھی ہیں۔ ایک اوپن تھیٹر ، ایک ریستوراں ، ٹینس کورٹ اور جم خانہ کرکٹ گراؤنڈ۔فوڈ سٹریٹ
جب لاہور کے روایتی کھانوں کی بات ہو تو شاہی قلعہ سے متصل فوڈ سٹریٹ سے بہترین کوئی جگہ نہیں۔اندرون شہر لاہور میں واقع فوڈ اسٹریٹ صرف کھانے پینے کے لیے ہی نہیں بلکہ قدیم حویلیوں میں بنے یہ ریستوران اور اندرون لاہور کی ثقافت کو اجاگر کرتی عمارتیں سیاحوں کو یہاں کھینچ کر لانے پر مجبور کرتی ہیں۔ "حویلیاں ریستوران” اور "کوکوز ڈین” کی چھت پر بیٹھ کر نہ صرف کھانے کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے بلکہ آپ بادشاہی مسجد اور لاہور کے حسین نظاروں سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔یہ تو قدیم لاہور کی ثقافت کی ایک جھلک ہے۔لیکن اگر جدید لاہور کو دیکھنا ہو تو لبرٹی، ڈیفنس، امپوریم مال، پیکجز مال اور فورٹریس سٹیڈیم میں رنگ و نور کی برسات نظر آتی ہے۔ یہاں آپ کو زندگی بھاگتی دوڑتی اور رقص کرتی نظر آئے گی۔
جدید دور کا ساتھ دینے کے لیے نئے پلازے اور نئی تفریح گاہیں بنانا ملکی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔ لیکن تاریخی عمارات اور مقامی ثقافت کسی بھی ملک کی پہچان ہوتی ہے۔ ان کی حفاظت کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اسی ثقافت اور تہذیب کو دیکھنے سیاح کھنچے چلے آتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں حکومت اور عوام دونوں کا رویہ تاریخی عمارات اور ملکی املاک کی حفاظت کے بارے میں غیر سنجیدہ ہے۔ حکومت ان کی حفاظت اور تزئین و آرائش پر کوئی توجہ نہیں دیتی اور عوام ان مقامات پر گندگی پھیلانے اور نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ ہمیں چاہیے کہ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ان کی حفاظت کریں اور حکومت ان کی حفاظت اور تزئین و آرائش کے لیے خصوصی فنڈ مختص کرے۔ کیونکہ یہی وہ قیمتی سرمایہ ہے جسے دیکھنے دنیا بھر سے سیاح یہاں آتے ہیں۔ اور اسی سے ملکی ترقی اور بہت سے لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔
@ImranARaja1
-

سنگلاخ چٹان پہ کندہ بدھا کا دوسرا بڑا مجسمہ ،تحریر : آصف شہزاد
وادی سوات قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ قدیم تہذیبوں کے حوالے سے بھی نمایاں شہرت رکھتا ہے۔یہ علاقہ گندھارا تہذیب کا ایک بہت بڑا مرکز رہا ہے۔جہاں ہزاروں سال قدیم آثار اور کھنڈرات سے مختلف تہذیبوں کا سراغ ملتا ہے۔ ان آثار قدیمہ میں بین الاقوامی شہرت کا حامل مہاتمہ بدھ کا مجسمہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔
سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے نو کلو میٹر کے فاصلہ پر شمال کی طرف واقع منگلور نامی گاؤں ہے جہاں بدھ مت دور کے آثار بکھرے پڑے ہیں۔ ان آثار میں سب سے اہم “شخوڑئی مجسمہ” ہے جوکہ جہان آباد کے مقام پر واقع ہے، اس مجسمے کو حیران کن طور پر ہزاروں برس قبل ایک بڑی اور سخت چٹان پر کندہ کیا گیا ہے جس کی لمبائی تیرہ فٹ جبکہ چوڑائی سات فٹ تک ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھا کا یہ مجسمہ افغانستان کے صوبہ بامیان میں واقع مجسمہ کے بعد ایشیاء کا دوسرا بڑا مجسمہ ہے تاہم سنگلاخ چٹان پر کندہ ہونے کی وجہ سے منگلور کا شخوڑئی مجسمہ کافی اہمیت اور مقبولیت کی حامل ہے۔ اس مجسمے کا ذکر قدیم چینی سیاحوں کے سفرناموں میں بھی باقاعدہ طور پر موجود ہے۔
دو ہزار سات میں عسکریت پسندوں نے اس مجسمےکو تین بار تباہ کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں اس تاریخی مجسمے کو جزوی نقصان پہنچا تاہم اطالوی حکومت کے ارکیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے سوات کے قدیم آثار اور تاریخی مقامات کو مرمت کرکے اپنی اصل حالت میں واپس لانے کا عندیہ دے دیا ہے اور اس سلسلہ میں کئی ایک جگہ پر مرمت کا کام بھی کیا گیا ہے جوکہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کےلئے ایک دفعہ پھر توجہ کے مراکز بنے ہوئے ہیں۔ مرمت کردہ آثار قدیمہ میں جہان آباد کے مقام پر واقع دنیا کا دوسرا بڑا بدھا کا مشہور مجسمہ شخوڑئی بھی شامل ہے۔
شخوڑئی مجسمہ کو عسکریت پسندوں کی جانب سے رات کی تاریکی میں بارود سے اُڑانے کی کئی بار کوشش کی گئی تاہم شائد زیادہ اونچائی کی وجہ وہ اس کو مکمل طور پر تباہ نہ کرسکے یہاں تک کہ مجسمہ کے چہرے میں ڈرلنگ کے بعد بارود بھر دیا گیا اور دھماکے سے اڑادیا گیا تاہم بدھا کے چہرے کے بالائی حصے کے علاوہ باقی مجسمہ محفوظ رہا۔ جس کے بعد ڈاکٹر لوکا کی قیادت اور اطالوی حکومت کی کوششوں سے مجسمہ کی مرمت اور بحالی ممکن ہوئی اور مجسمہ اپنی اصلی حالت میں ایستادہ ہوا
منگلور میں واقع شخوڑئی بدھا کے بارے میں آثارِ قدیمہ کے ماہرین کہتے ہیں یہ مجسمہ ریاضی اور آرٹ کی اصولوں پر بنایا گیا ہے۔اونچائی ، چھوڑائی سمیت ابھرائی اور ناپ کا خاص خیال رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے اس مجسمہ کو جن زاویوں اور فاصلوں سے دیکھا جاسکتا ہے ان زاویوں اور فاصلوں کی کیلکولیشن کی گئی ہے اور کسی بھی زاویے سے اس کی شکل میں بگاڑ محسوس نہیں ہوتا۔
وادئی سوات میں اس قسم کے آثار جگہ جگہ بکھرے پڑے ہیں دریائے سوات کی وادی کئی ہزار سال سے حملہ آوروں کی آماجگاہ رہی ہے یہاں چکدرہ برج سے لے کر سیدوشریف تک گندھارا کے آثار، بدھ خانقاہیں اور شاہی عمارتیوں کے آثار پائے جاتے ہیں۔زیادہ تر قدیم تاریخی جگہیں بریکوٹ سیدو شریف اور اوڈیگرام کے آس پاس ہیں جن کی زیارت کیلئے سنہ دو ہزار سے قبل زائرین کا تانتا بندھا رہتا تھا تاہم جب عسکریت پسندی کا دور شروع ہوا اور حالات خراب ہوئے تو بین الاقوامی زائرین کا آنا بند ہوگیا تاہم بحالی کے بعد اب باہر دنیا سے ان آثار کو دیکھنے اور ان کی زیارت کرنے کیلئے لوگ آنا شروع ہوگئے ہیں اور حالیہ دنوں میں بھی سری لنکا سے زائرین نے سوات کا دورہ کیا تھا اور اپنے مذہبی مقامات کی زیارت کی تھی، اس حوالے سے محکمہ آثار قدیمہ اور محکمہ سیاحت کا مشترکہ موقف ہے کہ حکومت مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کیلئے سنجیدہ ہیں اور اس سلسلہ میں بدھسٹ ٹریل کے نام سے ایک منصوبہ بھی زیر تکمیل ہے جسے مکمل کرنے کیلئے حکومت پر عظم ہیں یہ ٹریل سوات اور صوابی سے ہوتے ہوئے صوبہ پنجاب کے علاقہ ٹیکسلا تک ہوگی اور اس ٹریل پر جگہ جگہ بدھ مت سے وابستہ آثار اور مقامات تک زائرین کی رسائی اور رہنمائی میں کافی آسانی پیدا ہوگی۔
آثار قدیمہ پر تحقیق کرنے والے سوات کے معروف محقق محمد پرویش شاھین جن کا تعلق بھی اسی گاؤں سے جہاں یہ مجسمہ واقع ہے کے مطابق دنیا میں واحد شخوڑئی وہ جگہ ہے جہاں اس مجسمہ کچھ ہی فاصلے پر بدھا کے اقوال پر مشتمل کتبے کندہ ہیں۔ماہرین کے مطابق سوات میں تقریباً ایک بزار سال قبل اسلام کی آمد ہوئی تاہم یہاں پر بسنے والے مسلمانوں نے مجموعی طور پر ان آثار کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس کے برعکس ان آثار کو محفوظ رکھا۔








