Baaghi TV

Category: تفریح و سیاحت

  • پنجاب سے سوات تک ،حصہ چہارم، تحریر:ارم شہزادی

    پنجاب سے سوات تک ،حصہ چہارم، تحریر:ارم شہزادی

    صبح 19 جولائی کو ہم آخری پڑاؤ مالم جبہ کی طرف چلے۔ مالم جبہ جانے کی خواہش تو بہت پہلے سے تھی جب لگتا تھا کہ یہاں پہاڑ آسمان سے چند فٹ کے فاصلے پر ہیں۔ موڑ انتہائی خطرناک لیکن روڈ صاف اور خوبصورت تھے۔ وہاں تو ٹھنڈک کا احساس ہی نیا تھا۔ وہاں رہائش عام طور پر گھر جیسے بنے ہوٹلوں کی تھی۔ ہر جگہ نئے ہوٹل بننا اس بات کی غمازی تھی کہ ماحول اچھا اور فضا پرسکون ہے۔ جبکہ سیاحت کے لیے بہترین ہے۔ ہمارا مسلہ یہ تھا کہ جتنی تعداد میں گئے تھے عام طور ہمیں پورا پورشن لینا پڑتا تھا جس میں چار سے پانچ کمرے ہوتے تھے۔ یہاں پہنچ کے دکھ ہوا کہ پہلے کیوں نا آئے یا ایک دن اور مل جاتا جو یہاں مزید رہتے۔ مالم جبہ کالام کی نسبت زیادہ ڈیویلپ تھا۔ چیئر لفٹ سے لے کرپی سی تک موجود تھا۔ چیئر لفٹ اور کیبل کار بہت خوبصورت اور نئی تھی۔ ماحول بھی ٹھیک تھا مقامی پولیس کے علاوہ فوجی جوان بھی دیکھے۔ جو کہ کسی بھی ناگہانی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چاک و چوبند تھے۔ چیئر لفٹ سے فارغ ہونے کے بعد واپس آئے تو دوبارہ تیاری پکڑ لی پی سی جانے کی۔ پی سی یعنی پاک کانٹینینٹل جس میں جا کر حیران ہوئے کہ تمام تر سہولیات سے مزین تھے وہ تمام سہولیات جو میدانی علاقے میں پائے جانے والے پی سی اور بھوربن میں پایا جانے والا پی سی ہے۔ حیرت ہوئی کہ اتنی سہولیات دی گئیں لیکن مقامی ابادی کے پاس ہیلتھ اور سکول کی اتنی بہتر سہولیات نہیں تھیں۔ مقامی لوگوں کے پاس صحت کے مراکز اس طرح ڈیویلپ نہیں تھے جتنے وہاں ہوٹلز اور سیاحتی چیزیں تھیں۔ تھوڑا مقامی ابادی دیکھ کر دکھ ہوا۔ لیکن جگہ اور سیاحوں کے لیے انتظامات مزید بہتر کیے جارہے ہیں۔ ان انتظامات میں اگر مقامی ابادی کی بہتری کے لیے بھی کچھ تجاویز شامل کر لی جائیں تو بہترین ہو جائے گا۔ پی سی سےواپسی پے جب ہوٹل پہنچے تو ٹھنڈک بہت بڑھ چکی تھی۔ لگتا تھا شایدجنوری کا مہینہ ہو۔ وہاں صحیح معنوں ميں میں سکون سے سوئی۔ صبح کا منظر اس قدر خوبصورت اور دلنشین تھا کہ لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ جب صاف شفاف سبز پہاڑوں کی وسط سے بادل اڑ رہے تھے اس منظر کو صرف کیمرہ میں نہیں بلکہ دل کے کیمرہ مین محفوظ کیا۔ وہ بادل اڑتے اڑتے ہم تک آئے یہاں تک کہ دھند کی شکل میں ہمارے چاروں طرف پھیل گئے ہم سب بلکل بچوں کی طرح خوش ہورہے تھے۔ اور بچے تھے کہ واپس آنے سے ہی انکاری تھی۔ ہر بچے کی زبان پرایک ہی بات تھی کہ "ہم پنجاب نہیں جائیں گے” یہی حال بڑوں کا بھی تھا۔ اگر اگلے ہی دن بکرا عید نا ہوتی تو یقیناً ہم ایک رات اور رہتے وہاں اس ٹھنڈ کو بادلوں کو مزید انجوائے کرتے۔ مالم جبہ سے واپسی بہت برے دل سے ہوئی ایک تو وہ منظر چھوڑنے کو دل نہیں تھا دوسرا پنجاب کی گرمی یاد آرہی تھی۔ پر کیا کرتے واپس تو آنا ہی تھا ہم بھی آئے بہت خوبصورت یادیں سمیٹ کر بہت سارا پیار سمیٹ کر اور دوبارہ جانے کی خواہش کے ساتھ۔ ان شاء الله دوبارہ موقع ملا تو ضرور جائیں گے۔ آپ سب بھی سوات اور اس سے اگے جائیں کافی بہتر سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔ آپ لوگ جائیں گے تو وہاں کے لوگوں کا اعتماد بڑھےگا پھر اس سے بھی بہتر طریقے سے وہ کام کریں گے۔ کیونکہ انکا روزگار بھی تو سیاحوں کا مرہون منت ہے۔کچھ باتیں ہیں جن پر حکومت اگر نظرثانی کرے۔۔

    جس طرح ما شاء الله وہاں آمن آیا ہے لوگوں کی روزمرہ زندگی میں تبدیلی آئی ہے جو کہ افواج پاکستان اور مقامی لوگوں کے تعاون سے ہے۔ انکی قربانیوں کی وجہ سے ہے اگر مزید پرامن جگہ بنانا ہے تو فوجی چیک پوسٹس بنائی جائیں جو مستقل بنیادوں پر ہوں انکے ساتھ وہاں کے مقامی نوجوانوں کو شامل کیا جائے
    جسطرح سکول، کالج، یونیورسٹی سوات میں دیکھی میڈیکل کالج دیکھے انکا دائرہ کار کالام مالم جبہ تک بڑھایا جائے انکو مکمل سکیورٹی دی جائے
    ہیلتھ کارڈ کی جس طرح سہولت دی ہے اسی طرح ہیلتھ کیئر سینٹر جگہ جگہ بنائے جائیں تاکہ علاج کے لیے مشکل نا ہو۔

    پرائمری اسکول کا دائرہ بڑھایا جائے چونکہ پہاڑی علاقے ہیں بچوں کے لیے زیادہ سفر نقصان دہ بھی ہوسکتاہے۔ اور ان سب سے بڑھ کر وہاں گاڑیوں کی رجسٹریشن کروائی جائے۔ کیونکہ جو گاڑی پنجاب میں پچیس تیس لاکھ کی وہاں بامشکل دو سے چار لاکھ کی ہے۔ نمبر پلیٹس کے بغیر۔ وہاں سے گاڑی لی نہیں جاسکتی کیونکہ پنجاب میں داخل ہوتے ہی ضبط کر لی جانی ہے۔ تو وہاں بھی اسکوقانون کے دائرے میں لایا جائے۔ جسطرح مری سے لے کر ایبٹ آباد تک اور ناران کاغان تک ہوٹل اور معیاری جگہیں بنائی گئی ہیں یہاں نا صرف بنائی جائیں بلکہ انکی تشہیر بھی کی جائے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے وزراء یہاں آئیں اور اسے پروموٹ کریں تاکہ پاکستان کی خوبصورتی دنیا دیکھے۔ اور یہ جان سکے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے سیاحت کے حوالے سے اور دشمن کا پروپیگنڈہ بے بنیاد ہے۔ جزاک الله
    دعا گو ارم رائے

  • پنجاب سے سوات تک .حصہ سوم .تحریر: ارم شہزادی

    پنجاب سے سوات تک .حصہ سوم .تحریر: ارم شہزادی

    "کارگل جھیل” خوبصورت نام خوبصورت جگہ اور ٹھنڈا پانی جو روح تک کو تازگی بخشے۔ اگر ہم مری ایبٹ آباد میں جائیں کسی آبشار پر یا جھیل پر تو کولڈ ڈرنک تو دور کی بات سادا پانی اتنا مہنگا ہوتا کہ حیرانگی ہوتی ہے۔ یہاں مجھے پیاس لگی تو چھوٹے سے بنے کھوکھے پر گئی پانی کہا تو گلاس میں دینے لگے کولر سے، میں نے کہا منرل چاہیئے تو بوتل پکڑائی جو کہ میرے خیال میں 150 تک کی ہونی تھی لیکن اس نے 80 روپے لیے ساتھ ڈسپوزیبل گلاس لیے اور سو میں یہ ہوگیا جو کہ ایسی جگہ پر ناقابل یقین تھا۔ خیر واپسی ہوئی اسی بچے صابر نے ایک ویگن ٹائپ روک دی تاکہ بچوں کو اور چھوٹے بچوں والی ماؤں کو بیٹھا کے بھیجا جا سکے۔ اور ہم باقی لوگ پیدل ہی واپس آئے۔ جیسے ہی ہم لوگ مسجد کےپاس پہنچے تو مسجد بند تھی اسے استعمال نہیں کیا جاسکتا تھا۔ صابر نے کہا وہ سامنے ہمارا گھر ہے آپ ادھر اجائیں ہماری تقریباً دس بچیاں گئی انکے گھر جب کافی دیر ہوئی تو مجھے پریشانی لاحق ہوئی کہ ابھی تک واپس نہیں آئیں کہیں یہاں سے گئیں افغانستان کی کسی سرنگ سے ہی نا برامد ہوں میں گئی تو دیکھ کر حیران رہ گئی صابر کی ماں اور بہنیں باتیں کررہی تھیں اور ساتھ کھانا اور چائے کے لیے ضد کررہی تھیں یہ لوگ پھر معذرت کرتے واپس آئے کہ ان شاء الله دوبارہ آٰے تو ضرور ائیں گے۔ صابر کا چھوٹا سا لیکن بہت خوبصورت گھر تھا۔ وہاں چائلڈ لیبر نام کی کوئی چیز نہیں تھی وہاں سب محنت کرتے ہیں بچے بڑے بوڑھے اور گھر کی خواتین گھر کو بہت خوبصورت انداز سے سمبھالے ہوئے ہیں۔

    واپسی پر ایک چھوٹی سیدوکان کے بایر ہم بیٹھ گئے دوکاندار نے ہمیں کرسیاں لگا دیں اور ہم وہاں بیٹھ کر ٹھنڈے پانی اور جوس سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ صابر وہاں بھی ہمارے ساتھ تھا اور اسکا وہ آخری جملہ مجھے شرمندہ کرنے کے لیے بہت تھا۔ جب ہم نے اسے پیسے دینے چاہے تو اس نے لینے سے انکار کردیا حالانکہ اپنے نشانہ بازی کے پورے لیے تھے۔ لیکن یہ ہم نے ویسے ہی دیے تھے کہ اتنا وقت ہمارے ساتھ رہے اور کام کرتے رہے یہاں تک کہ گھر بھی لے گئے۔ کہتا ہے یہ گناہ ہوتا ہے ہم پیسہ نہیں لےگا یہ تو ہم ہر حرام ہے آپ ہمارا مہمان ہے اور مہمان نوازی کا پیسہ نہیں ہوتا ہے۔ ہم نے بہت کوشش کی مگر وہ باضد رہا پھر ہم نے اس سے وعدہ کیا کہ دوبارہ جب بھی آئے تمہارے گھر ائیں گے اور کھانا بھی کھائیں گے۔ اسکے ساتھ تصاویر پھر جا کر اس نے کہیں ہم سے پیسے لیے اور پھر جتنی دیر ہم وہاں رکے رہے وہ شرمندہ شرمندہ سا سر جھکائے کھڑا رہا۔ اتنا پیار ارہا تھا اس بچے پر۔ اسکی تربیت کرنے والی ماں پر۔ کتنا بڑا دل اورظرف ہے ان لوگوں کا۔ کیسے انکے بازو کھلے ہیں مہمانوں کے لیے۔ میں اپنے رویہ پر بہت شرمندی تھی کہ ہم کیا سمجھے اور وہ کیا نکلے۔ لیکن اسکے بعد میں نے یہ تہیہ کر لیا کہ اب شک نہیں کرنا ہے۔ بے لوث محبت کرنے والوں کی قدر کرنی ہے۔ واپس "اوشو” جنگل میں رکے رہے کافی دیر بچوں نے گھڑ سواری کی تصاویر بنائیں سلومو بنائے میوزک لگا کر ارتغرل کو یاد کیاگیا۔

    اونٹ والا اپنی بےوقوفی اور ضد کی وجہ سے کچھ نا کما سکا جبکہ گھوڑے والے نے اچھا خاصہ کمالیا۔ ڈولی جھولے لیے ۔گنے کی روہ پی اور واپسی ہوئی۔ کچھ دیر سستانے کے بعد کھانے کے لیے گئے "لاروش” کچھ اسی ٹائپ کا نام تھا کھانے کا ارڈر کیا تو بارش شروع ہوگئی کافی تیز بارش وہیں بیٹھے بیٹھے انجوائے کی جیسے بارش رکی ہر منظر بہت خوبصورت تھا اتنا شفاف دھلا ہوااور آسمان کی نیلاہٹ نے اسکی خوبصورتی میں مزیدچار چاند لگا دیے۔ گھاس نہا کر فریش ہوگئی تھی۔ کھانا حسب معمول بہت مزیدار تھا۔ ہر چیز کا زائقہ مختلف تھا۔ دال سے لے کر کڑاہی تک کابلی پلاؤ سےلے کر ہانڈی تک۔ یہاں بھی بل مناسب تھا۔ ادا کیا اور راستے سے ائس کریم کھاتے ہوئے لوٹ آئے۔ تھکن اور نیند سے برا حال تھا جبکہ ابھی ایک پڑاؤ مالم جبہ کاباقی تھا جس کے لیے صبح سویرے جانا تھا اس لیے ضروری سامان الگ کر کے اور باقی سامان بیگ کی صورت بنا کر ایک طرف رکھ کے سوگئے۔
    جاری

  • ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات   تحریر: عمران اے راجہ

    ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات تحریر: عمران اے راجہ

    پارٹ ۵:
    کروگر پارک کے تین گیٹس کا ٹور ہم کر چکے جس میں وہاں کی تاریخی اہمیت کے علاوہ کثرت سے پائے جانے والے جانور اور اندرونی و بیرونی راستوں کا احاطہ کیا۔
    آج ہم شروعات کریں گے Kruger Park کے خوبصورت ترین گیٹس میں سے ایک Numbi Gate سے جو ساؤتھ افریقہ کے صوبہ Limpopo میں ہے۔ لمپوپو کی خاص بات یہاں کے جنگلات اور سانپوں کی بہتات ہے۔ موسم گرما میں اگر آپ شام کے بعد ڈرائیو پر نکلیں تو Klaserie سے Numbi Gate کی طرف یا Hoedspruit کی طرف آپ کو سڑک کے بیچ یا کنارے کوئی نا کوئی سانپ ضرور دِکھے گا۔ یہ پورا علاقہ ساؤتھ افریقہ کے چند بہترین سفاری لاجز اور گیم ریزروز سے گھِرا ہوا ہے۔ عام سڑک پر ڈرائیو کے دوران بھی اکثر جانور چہل قدمی کرتے دِکھ جاتے ہیں کیونکہ سیکیورٹی باڑ پوچرز یا کسی بڑے جانور کی وجہ سے ٹوٹ جاتی ہے۔ اسی لیے آپ کو سڑک کے ساتھ ٹریفک سائنز کے علاوہ جانوروں کے سائن بھی نظر آئیں گے جو پاکستان میں شاید آپ نے کبھی نا دیکھے ہوں۔
    لمپوپو صوبہ کی ایک اور خاص بات اس کے بارڈر ہیں جو تین ممالک کو چھوتے ہیں موزمبیق، زمبابوے اور بوٹسوانا۔ موزمبیق بارڈر کا ایک بڑا حصہ کروگر پارک میں آتا ہے اور غیرقانونی بارڈر کراسنگ کے علاوہ اکثر پوچرز بھی شکار کے لیے یہی راستے اختیار کرتے ہیں جو بہت پُرخطر ہیں اور ان کی مکمل نگرانی تقریباً ناممکن ہے۔
    اس کے علاوہ لمپوپو صوبے اور کروگر پارک کی بہت بڑی خاصیت یہاں ایئرپورٹ کا ہونا ہے۔ Hoedspruit میں موجود یہ ایئرپورٹ بہت بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد و رفت میں سہولت کار ہے اور Nelspruit کے بعد دوسرا ایئرپورٹ ہے جو Kruger کے ساتھ منسلک ہے۔ موسم زیادہ گرم اور بارانی ہے۔
    ۴: نُومبی گیٹ Numbi Gate
    نُومبی گیٹ کی سب سے بڑی خاصیت یہاں کی زرخیز زمین اور نباتات کی بہتات ہے۔ یہی وجہ ہے یہاں سرسبز چرگاہیں اور پانی کی وجہ سے جانوروں کی کثیر تعداد بھی رہتی ہے اور ان کے شکار کے لیے شیر، چیتا اور دوسرے شکار کرنے والے جانور بھی۔ گیم واچنگ کے لیے اس سے آئیڈیل جگہ اور کیا ہو سکتی ہے۔
    یہاں سے داخلے کے بعد چار راستے ہیں۔
    ٭ فور ٹریکر روڈ
    ٭ سکوکوزا کی جانب ناپی روڈ H1-1
    ٭ پریٹوریس کوپ کی ڈرائیو S8 S14
    ٭ الباسینی روڈ سے پھابینی کی جانب ڈرائیو S3
    سنہ 1926 میں جب پہلی بار کروگر پارک ایک سال کے لیے عام عوام کے لیے کھولا گیا تو نُومبی گیٹ سے پہلی اینٹری ہوئی۔ 1927 میں صرف تین کاریں کروگر پارک میں داخل ہوئی جن کی فیس ایک پاؤنڈ تھی۔
    اس وقت پریٹوریس کوپ ریسٹ کیمپ میں ہی سیاحوں کے لیے رات گزارنے کی سہولت موجود تھی۔ دو سال کے بعد ایک اور سڑک کو یہاں لنک کیا گیا اور کچھ مزید ریسٹ کیمپس تعمیر کیے گئے۔ اس سے نا صرف سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور یہ 850 کاروں کی اینٹری تک پہنچ گئی بلکہ جنگل کے بہت اندر موجود اولی فینٹس ریور تک سیاحوں کی رسائی بھی ممکن ہو پائی۔
    اگر آج کے دور سے موازنہ کیا جائے تو کروگر پارک میں سالانہ دس لاکھ کے قریب سیاح آتے ہیں جس سے 850 کی تعداد بہت کم لگتی ہے پھر بھی اس دور کی کروگر پارک اتھارٹیز بہت حیران تھیں کہ جنگل کم وقت میں زیادہ مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ کروگر پارک کے پہلے وارڈن سٹیونسن ہیملٹن اپنی یادداشت میں بتاتے ہیں کہ اس وقت ہمارے پاس مہمانوں کی تعداد کے مقابل انہیں رہائش و دیگر سہولیات نا ہونے کے برابر میسر تھیں اور اکثر اوقات گیم رینجرز سیاحوں کو سونے کے لیے اپنے کوارٹرز دے دیا کرتے تھے اور خود باہر کھلے میں سوتے تھے۔
    نُومبی گیٹ بلاشبہ کروگر پارک کے خوبصورت ترین داخلی پوائنٹس میں سے ایک ہے اور اس کی میدانی وسعت و اونچائی کہ وجہ سے بہترین واکنگ ٹریلز اور لامحدود حدنگاہ جانوروں کو قریب سے دیکھنے کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ مالےلان گیٹ کی طرح چونکہ یہاں بھی بارشیں بہت زیادہ ہوتی ہیں اور زمین انتہائی زرخیز ہے لہذا ہر قسم کے پودے، بوٹیاں اور گھاس وافر میسر ہے اور چراگاہوں کی جنت۔ جانور یہاں رہنا پسند کرتے ہیں کہ انہیں خوراک کے لیے جد و جہد نہیں کرنی پڑتی۔
    بارش بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے کئی جگہوں پر جنگل بہت گھنا ہو جاتا ہے اور وہاں جانور دیکھنے کے لیے بہت غور سے دیکھنا پڑتا ہے۔ یہاں آپ کا مرکزی ہتھیار دوربین اور کیمرے کا زُوم آپشن ہے۔ کئی بار جسے آپ جھاڑی سمجھتے ہیں وہ کوئی جانور ہوتا ہے اور جسے جانور سمجھتے ہیں وہ عجیب الخلقت درخت نکل آتا ہے۔
    یاد رہے یہاں گاڑی سے اترنے کی سخت ممانعت ہے اور آپ کی زرا سی لاپرواہی نا صرف آپ کی بلکہ دوسرے ہمسفروں کی جان بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ ناصرف کار کا دروازہ نہیں کھولنا بلکہ گاڑی کی سکرین نیچے کرنے سے بھی گریز کرنا ہے کہ جانوروں کی اکثریت کیموفلاج ہوتی ہے اور عام نظر دھوکہ کھا جاتی ہے۔ یہ جانور مکمل طور پر حیوان ہیں اور اصلی جنگل کے باسی ہیں کیونکہ کروگر پارک کا صرف نام پارک ہے ورنہ یہ اصل جنگل ہی ہے جسے باڑھ لگا کر محفوظ کر دیا گیا ہے۔ کچھ حادثات میں ڈرائیور یا مسافر کی لاپرواہی ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی جن میں سب سے تازہ واقع دو سال قبل پیش آیا جب جیپ کی کھلی کھڑکی سے شیر نے حملہ کر دیا جس میں غیرملکی سیاح لڑکی شدید زخمی ہوئی جبکہ ڈرائیور زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے چل بسا۔
    کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں آپ نے رینجرز ہیلپ لائن پر کال کرنی ہے جو خود ماہر شکاریوں کی نگرانی میں آپ کی مدد کریں گے۔
    یہاں کے جانور ماہر شکاری ہیں اور سامنے نظر آنے والی گھاس جو بظاہر خالی نظر آتی ہے سے بجلی کی طرح لپکتے ہیں آناً فاناً سب ختم کر دیتے ہیں۔ اگر رینجرز نے آپ کو قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکڑ لیا تو آپ پر نا صرف بھاری جرمانہ عائد کیا جاتا ہے بلکہ آپ کے کروگر میں داخلے پر مستقل پابندی بھی لگ سکتی ہے۔ لہذا ہمیشہ کوشش کیجیے کہ آپ قانون کی خلاف ورزی نا کریں۔
    “نُومبی گیٹ بہت مشہور اور آئیڈیل جگہ ہے لہذا اس کی طوالت زیادہ ہے۔ دوسرے گیٹس کے ساتھ اس کی مزید تفصیلات ایڈ کروں گا”۔۔
    (جاری ہے)
    Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • دیامر اور سیاحت تحریر: روشن دین دیامری

    دیامر اور سیاحت تحریر: روشن دین دیامری

    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ گلگت بلتستان جنت نظیر علاقہ ہے ہر وادی ایک سے بڑھ کرایک خوبصورت ہے۔ہم ذرا گلگت بلتستان کے ضلعوں کے حوالے سے آپ کی رہنمائی کرتے ہیں کہ کس کس ضلع میں کون کون سے خوبصورت علاقے ہیں جہاں آپ سیاحت کے لیے جاسکتے ہیں۔چونکہ دیامر کو گلگت بلتستان کا گیٹ وے کہا جاتا ہے آپ چاہے ناران کاغان سے جائیں یا کوہستان سے دیامر سے گزر کے جانا ہوگا۔دیامر خوبصورتی میں لاثانی ہے اگر میں یہ کہوں کہ گلگت بلتستان کے خوبصورت ترین چند اضلاع میں دیامر بھی شامل ہے تو غلط نہ ہوگا ۔دیامر کی پسماندگی کی وجہ سے گو کہ سیاحتی شہرت اس قدر زیادہ نہیں لیکن باوجود دیامر کی خراب حالات کے بابوسر اور فیری میڈو میں لاکھوں سیاح گھومنے آتے ہیں ۔آج آپ کو دیامر کے خوبصورت علاقوں کے حوالے سے کچھ تفصیلات دیتا ہوں۔دیامر کے تین تحصیل ہیں چلاس داریل اور تانگیر ۔اس وقت سیاحت صرف تحصیل چلاس تک ہے باقی دو تحصیلوں میں سیاحت بلکل نہیں ہے۔اس کی وجوہات بے تحاشہ ہیں اس پہ لکھنا اس تحریر میں مقصود نہیں ۔اگر کوہستان کے طرف سے اپ دیامر میں داخل ہوجائیں تو سب سے پہلے تحصیل تانگیر کا علاقہ آتا تانگیر ایک تاریخی علاقہ ہے۔تانگیر کے کے ایچ کے ساتھ ایک پل کے ذریعے منسلک ہے۔روڈ سے آپکو یہ علاقہ بہت تنگ لگتا ہے جیسے ہی اپ تانگیر کے طرف داخل ہوتے ہو تانگیر کے وادی واسیع ہو جاتے ہے۔تانگیر کے شروع سے.پہلا گاؤں لورک، دیامر، شیخو ، رِم، جگلوٹ ، گلی، درکلی، کوٹ، فروڑی، پھپٹ، مُشکے ، کورونگہ، اور بھی کئی چھوٹے گاؤں ہیں، مشہور اور خوبصورت جگہیں لورک، جگلوٹ اور مُشکے ہیں، کورونگے سے آگے وادی ستیل ہے،یہ ایک انتہائی خوبصورت علاقہ ہے اس طرح اگر داریل ویلی کی بات کی جائے تو داریل بھی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے داریل ویلی کھنبری منین داریل منیکال نیلی گل داریل منیکال آٹ داریل بشال گیال کے علاقے سیاحت کے بہت خوبصورت ہے۔اس کے علاوہ داریل میں تاریخی پوگچھ یونیورسٹی بھی موجود ہے جہاں آج سے چار سو سال پہلے لوگ تعلیم حاصل کرتے تھے ۔اگر اپ چلاس کے بات کریں تو چلاس میں بابوسر نیاٹ بٹوگاہ گوہراباد تھور ہوڈور اور کھنر کی وادیاں انتہائی خوبصورت ہیں۔دیامر میں اگر سیاحت پہ توجہ دی جائی تو سالانہ کروڑوں روپے کا زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے لیکن پتہ نہیں کیوں جسے ہی دیامر میں امن ہوجاتا ہے تو کسی شرپسند عنصر کو میدان میں اتارا جاتاہے اس کے بہت سارے پس منظر ہیں جو اس وقت ہمارا موضوع نہیں ہے۔دیامر کے ترقی کے بغیر گلگت بلتستان کے کی ترقی میں ممکن نہیں ایک پرامن گلگت بلتستان کے لیے پرامن دیامر کا ہوناضروی ہے۔

  • پنجاب سے سوات تک ،حصہ دوم تحریر ارم شہزادی

    پنجاب سے سوات تک ،حصہ دوم تحریر ارم شہزادی

    پنجاب سے سوات تک ،حصہ دوم
    ہمارا خیال یہ تھا کہ ہم صبح سویرے ہی کالام کا سفر شروع کریں گے لیکن تھکاوٹ کے باعث یہ جلدی ممکن نا ہو سکا اور ہمیں منیگورہ سے کالام تک نکلنے نکلتے 1 بج گیا۔ کالام تک روڈز خوبصورت اور محفوظ تھا بس ایک دو جگہ پر ہمیں تھوڑی بہت مشکل پیش آئی باقی سفر اچھا رہا۔ ایک دو جگہ رکنے کی وجہ سے ہم کالام شام تک پہنچے۔ اب وہاں ہوٹل کی چوائس میں مشکل پیش آئی کیونکہ ہم میں سے اکثریت دریائے سوات کے قریب ٹھہرنا چاہتے تھے جبکہ بچہ پارٹی جھولے اور سلائڈز والے ہوٹل کا انتخاب کیے بیٹھے۔ خیر لیا ہم نے پھر دریائے سوات کے رخ والا۔ پہلی بار یوں دریا کے قریب ٹھہرنا اور سونے کا تجربہ ہوا۔ سامان سیٹ کمروں میں کیا اور کچھ سستانے لگے۔ پھر ایک چکر بازار کا لگایاوہاں عجیب سی خاموشی تھی مطلب عورتوں کا رش تو دور کی بات عورت نظر ہی نہیں ارہی تھی۔ کچھ دکانیں کھلی تھیں اور ڈرائی فروٹ مارکیٹ بہت بڑی تھی۔ وہیں سے گھومتے پھرتے میں اپنا پاؤں زخمی کروا بیٹھی۔ خیر پھر ہم "کمال” ہوٹل گئے وہ دریا کے کنارے تھا کھانا کھایا وہاں البتہ بہت بڑی تعداد لوگوں کی دیکھی جن میں خواتین، مرد، بوڑھے، بچے سب شامل تھے۔ کھانے کا زائقہ بہت زبردست تھا۔ سروس اچھی تھی۔ اور بل بھی مناسب تھا۔ یہاں بھی مجھے مقدار، زائقہ، معیار اور ریٹ نے کافی متاثر کیا۔ کھانے کے بعد ایک چکر پھر بازار کا لگایا تب زرا گہماگہمی تھی۔ لوگ گھوم رہے تھے کہیں کوئی خوف کا شائبہ تک نا تھا۔ لگتا نہیں تھا کہ چند سال پہلے تک یہ سارا علاقہ خوف کی علامت تھا۔ سکون اور خوشگوار ماحول میں مجھے وہ تمام لوگ یاد آئے جو قربان ہوئے اس آمن کو لانے کے لیے۔ مقامی آبادی سے لے کر افواج پاکستان کے جوانوں تک۔ کیونکہ انہیں کے خون سے ہوا ہے یہ چمن آباد۔ الله پاک اسے دشمن سے محفوظ رکھے۔ امین ثمہ آمین۔ واپسی پے سب باہر رک گئے جبکہ میں ہوٹل واپس اگئی ٹیرس پر چائے منگوائی اور دریا کے شور کو سنا محسوس کیا۔ اسکی لہریں ایسی بپھری ہوئی تھیں جیسے کسی چیز کا کسی بات کا شدید غصہ ہو۔ جیسے ابھی سب کو لے ڈوبیں گی۔ بہا کے کہیں دور لے جائیں گی۔ ان لہروں کو دیکھتے ہوئے اور ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرتے ہوئے آپ عجیب دنیا میں کھو جاتے ہیں۔ جہاں صرف آپکی زات ہوتی ہے ماضی کے دکھ حال کے چیلنجز اور مستقبل کی پلاننگ سبھی شامل ہوتے ہیں۔ مجھے ان لہروں کی نظر ہو جانے والے وہ نوجوان بھی یاد آئےجنہیں یہ لہریں بہا کے لے گئیں مجھے ناطق لکھنوی کا شعر یاد ایا وہاں بیٹھے لہروں کا شور سنتے

    "کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت

    جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے”

    سمندر کسطرح خاموشی سے بہتا ہے۔ پرسکون سا۔ اسکی لہریں اسکا شور اف الله۔ سب کی واپسی تقریباً ایک بجے ہوئی لیکن ہم سب پھر وہیں ٹیرس پر بیٹھے رہے تقریباً تین بجے تک پھر کمروں میں گئے وہاں نیند کا ایسے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جیسے ہم گھروں میں سوتے ہیں۔ کیونکہ پھر اگلے دن کی تیاری اور پروگرام کی ترتیب سونے کہاں دیتی ہے۔ اگلے دن ہم نے "اوشو” جنگل جانا تھا وہ بھی بہت خوبصورت جگہ ہے جب ہم پہنچے ناشتہ کرنے کے بعد تو کئی لوگوں کے کیمپ لگے ہوئے تھے۔ جھولے تھے گھڑ سواری اور اونٹ کی سواری بھی تھی۔ لیکن ہم اس سے پہلے اگے "کارگل” جھیل پرچلے گئے ہمارا سامنا دو بچوں سے ہوا ایک کا نام صابر تھا عمر یہی کوئی آٹھ دس تھی۔ نشانہ بازی کے لیے غبارے تھے اس کے پاس بچوں نے نشانے لیے اور تصاویر بنائیں لیکن وہ بچے ہمارے ساتھ رہے "اوشو” سے لے کر "جھیل” تک۔ اس بچے کی خدمت اور اپنے رویے پر میں بہت شرمندہ ہوں۔ واقعہ بتاتی ہوں ہوا کیا۔ صابر نے کہا کہ ہم آپکو جھیل تک لے جاتے ہیں ڈرائیور نے اسےگاڑی میں بیٹھا لیکن میں نے یہ کہہ کر اتار دیا کہ علاقہ محفوظ لگ تو رہا ہے لیکن پھر بھی اتنا اعتبار مناسب نہیں ہے اگر بچہ خود کہہ دے کہ یہ لوگ مجھے آغواہ کر کے لے جارہے ہیں تو ہم کیا کریں گے۔ اس لیے اگر انہوں نے انا ہوا تو خود اجائیں گے ہم ساتھ نہیں لے جائیں گے۔ اتار دیا انہیں اور خود چلے گئے کافی اگے جانے کے بعد پتہ چلا کہ گاڑی چونکہ بڑی ہے تو اس لیے نہیں جاسکتی سڑک تنگ ہے جانا ممکن نہیں پیدل جانا ہوگا بس ہم پھر مسجد کے قریب گاڑی کھڑی کی اور اگے پیدل نکل گئے۔ جب تک ہم لوگ پہنچے صابر اور اسکا دوست پہنچ چکے تھے وہاں چھوٹے کیری ڈبے ٹائپ اسانی سے چلتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر بھی بچے ہمارے چھوٹے چھوٹے کام کرتے رہے۔ پہنچ کے یاد آیا کہ آموں کی پیٹیاں تو ہم گاڑی میں ہی بھول آئے سگنل وہاں تھے نہیں کیا کرتے کچھ سمجھ نا آئی تو صابر نے کہا ہم جاتا ہے لے کر اتا ہے۔ کسی سے لفٹ لے کر گیا اورپندرہ منٹ میں آم ہمارے پاس تھے۔ کیا ٹھنڈا پانی تھا جھیل کا۔ بہت مزا آیا۔ دریا کی لہریں وہاں بھی یونہی شور کررہی تھیں۔ لکھا ہوا تھا کہ پتھروں پر بیٹھ کر تصاویر بنوانے سے گریز کریں۔ کیونکہ بہاؤ بہت تیز ہے۔
    جاری

  • حکومت سیاحت کے لئے کیا کر رہی ہے؟  تحریر: خالد عمران خان

    حکومت سیاحت کے لئے کیا کر رہی ہے؟ تحریر: خالد عمران خان

    سیاحت کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں بے حد مقبول ہے۔ ثقافت کے رنگ ،روایات،تاریخی مقامات ،دلکش وادیاں اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے قدرتی مناظر کی بدولت پاکستان سیاحوں کے لیے مرکز نگاہ بنا ہوا ہے۔گزشتہ برس ایک تفریحی میگزین نے پاکستان کو نہ صرف چھٹیاں گزارنے بلکہ مہم جوئی کے لئے بہترین جگہ قرار دیا۔سیاحت جہاں تفریح کا سامان میسر کرتی ہے وہیں کسی بھی ملک کی معیشت اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹریول اینڈ ٹورزم کونسل کے 2019کےاعداد و شمار کے مطابق سیاحت کی صنعت نے ملکی معیشت میں5.9فیصدتک کا حصہ ڈالاہے ۔اس کےعلاہ تقریباً39 لاکھ نوکریاں پیداہوئیں ۔ ایک اندازے کے مطابق سیاحت کی صنعت 2025 تک ملکی معیشت میں ایک کھرب روپے کا حصہ ڈالے گی۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے حکومت سیاحت کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔سیاحت کے حوالے سے حکومتی سطح پر کیے جانے والے چند اقدامات قابل غور ہیں ۔
    سڑکوں کی بہتری: ملک میں سیاحت کے رجحان کو بہتر بنانے اور سیاحوں کے لئے سہولیات کی فراہمی میں بہترین سڑکوں کی فراہمی ناگزیر ہے۔اعلیٰ حکام نے اس بات کی اہمیت کو جانتے ہوئے متعددمنصوبوں کا آغاز کیا۔مثلاً خیبر پختون خوا کے سیاحتی مقامات تک باآسان رسائی کے لئےسوات ایکسپریس وے کی تعمیر قابل ذکر ہے۔اس منصوبے سے نہ صرف مسافت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی بلکہ شہریوں میں سیاحت کا رجحان اجاگر ہوا۔

    آن لائن ویزہ کی فراہمی :ماضی میں قدرتی حسن سے مالا مال سرزمین تک رسائی کے لئےغیر ملکی سیاحوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ موجودہ حکومت نے اس مسئلے کو سنجیدہ لیتے ہوئےحال ہی میں آن لائن ویزہ سسٹم متعارف کروایا تاکہ ویزہ کے اجرا کو آسان بنایاجاسکے۔اس سے نہ صرف191 ممالک کے شہریوں کو آن لائن ویزہ کی سہولت میسر ہوگی بلکہ 50 سے زائد ممالک کے شہریوں کےلئے آن ارائیولول ویزہ کی فراہمی کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔

    این ۔او۔سی کی شرط کا خاتمہ : گزشتہ ادوار میں غیر ملکی سیاحوں کی ملک کے مختلف تفریحی مقامات تک رسائی کے لئے این او سی ایک بڑی رکاوٹ تھا۔سیاح ہزاروں ڈالرز خرچ کرکے آتے تو نہ صرف انہیں مایوس کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا بلکہ اعلیٰ حکام کے بارے میں سیاحت کے شعبہ میں دلچسپی نہ لینے سے منفی تاثر جاتا۔موجودہ حکومت نے2019 میں سیاحوں کے لئے این۔او۔سی جیسی رکاوٹ کو ختم کردیاجس سے سیاحت کے رجحان میں بہتری کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کے روزگار میں بہتری کے روشن امکانات ہیں ۔
    امن و امان کی یقینی فراہمی :9/11سانحہ کے رونماں ہونے کے بعد دہشت گردی کے خلاف شروع ہونے والی طویل جنگ سے سیاحت کی صنعت بے حد متاثر ہوئی ۔وہ وادیاں جو کبھی سیاحوں کی تفریح کامرکز تھیں دہشت گردوں کی آما جگاہ میں تبدیل ہوگئیں۔گزشتہ دہائیوں سے افواج پاکستان کی جانب سے کئے گئے آپریشنز سے امن و امان بحال ہوسکا۔اس کے علاوہ حکومتِ خیبر پختونخواہ نے شہریوں کے جان و مال کےتحفظ کے لئے متعدد سیاحتی مقامات پر پولیس فورس متعارف کروائی جو کہ ایک قابل تحسین عمل ہے۔

    تاریخی و مذہبی مقامات کی ازسرنو بحالی: شمالی علاقہ جات کے ساتھ ساتھ پاکستان تاریخی و مذہبی مقامات کی بدولت خاص کر غیر ملکی سیاحوں کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان میں ایسے کئی مقامات پائے جاتے ہیں جن سے تاریخی و ثقافت کے رنگ جھلکتے ہیں ۔مذہبی مقامات کی بدولت وطن عزیز سکھوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے لئے مرکز نگاہ ہے۔ہر سال بھارت اور دیگر ممالک سے سکھ یاتری ننکانہ صاحب آتے ہیں ۔حکومت وقت نے حال ہی میں جذبہ خیر سگالی کے طور پر مذہبی سیاحت کے رجحان کے لئے کرتار پور راہداری اور وسیع کملیکس کو پائہ تکمیل تک پہچایا۔
    والڈ سٹی اتھارٹی کا قیام:لاہورتاریخی عمارتوں کی بدولت بے دنیا کے تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے۔لاہور کے تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے کے لئے2012 میں حکومت پنجاب نے والڈ سٹی اتھارٹی قائم کی۔
    ورثہ و سیاحت اتھارٹی :حال ہی میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ورثہ و سیاحت اتھارٹی کا قیام عمل میں آیاجس کامقصد ورثے کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ پنجاب بھر میں نئے سیاحتی مقامات کی دریافت شامل
    ہے۔
    حکومتی سطح پر آگاہی مہم :پاکستان گزشتہ کئی برس دہشت گردی کی زد میں رہا ہے۔اس وجہ سے ایک عرصہ تک پاکستان کودنیا بھر میں غیر محفوظ سمجھا جاتا رہا۔ اگرچہ یہ منفی تاثر ایک حد تک زائل ہوتا نظر آتا ہے حکومتی سطح پر اسے ختم کرنے کے لئے مزید اقدامات جاری ہیں ۔پاکستان ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن نےیہ عندیہ دیا ہے کہ ستمبر 2021میں سیاحت کے فروغ کے لیے آگاہی مہم کا آغاز کیا جا رہاہے۔
    حکومت کے سیاحت کےلئے کیے جانے والے اقدامات قابل ستائش ہیں ۔جس سے ملک میں سیاحت کی صنعت کا مستقبل روشن دیکھائی دیتاہے۔

    Twitter ID: @KhalidImranK

  • سفر نامہ   تحریر: اسامہ اسلام

    سفر نامہ تحریر: اسامہ اسلام

    یہ تقریباً سن 2015 کی بات ہے. رمضان کا مہینہ ختم ہونے والا تھا .سب لوگ عید کی تیاریوں میں مگن تھے. ہم نے تو اپنی تیاری مکمل کر لی تھی لیکن جو مشکل کام تھا وہ رہتا تھا اور وہ کام تھا یہ فیصلہ کرنا کہ عید میں گھومنے کہاں جائینگے.
    میں اور میرے دوست فرمان جنہیں ہم پیار سے "مانے” بلاتے ہیں اور عابد جس کا لقب "گل” ہے ,ہر وقت بیٹھے مشورے کرتے.
    عید گزری لیکن ہم فیصلہ نہ کرپائے کہ کہا جانا ہے, آخرکار میں معمول کے مطابق گھر سے نکلا, اپنی موٹرسائیکل نکالی اور اپنے دوستوں کو لینے ان کے گھر پہنچا.
    گیٹ کے سامنے ہارن بجائی تو صاحبان خوابِ غفلت سے بیدار ہوئے نشیلی آنکھوں کے ساتھ باہر آئے.
    خیر جو بھی ہوا, یم نے اپنے سفر کا آغاز کیا لیکن ہمیں معلوم نہ تھا کہ ہم کہاں جارہے ہیں. ہم نے نوشہرہ کی طرف رُخ کیا , جب نوشہرہ پہنچے تو لوگوں سے پوچھا کہ یہاں پر کوئی سیر کرنے کی جگہ بتائے. ایک بندے نے "بہادر بابا” کے مزار کا نام لیا. یہ نوشہرہ سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے. ہمارا کیا تھا, جوان تھے, خون میں مستی تھی اور کھلے پرندوں کی طرح ہوا جس طرف لے جاتی, ہم چلے جاتے. ایک موٹرسائیکل پر تین بندوں نے "بہادر بابا” کے مزار کی طرف اپنے سفر کا آغاز کیا.
    گرمی کی جھلسا دینے والی لہریں جب ہمارے گالوں سے ٹکراتی تو دل سے پتہ بتانے والے کے لیے بد دعائیں نکلتی اور ان بد دعاؤں میں اضافہ تب ہوتا جب ان پہاڑی رستوں سے گزرتے گزرتے موٹرسائیکل کسی کھڈے میں گر جاتا. ہم نے راستے میں اپنا خوب مزاق اڑایا لیکن ساتھ ساتھ ہمارے منہ سے کچھ ایسے نازیبہ الفاظ بھی نکلے تھے جس کا تذکرہ میں کرنے والا ہوں.
    کوئی کہتا کہ "بہادر بابا کو اتنی دور آنے کی کیا ضرورت تھی” تو کوئی کہتا کہ "وہ بیل پر سوار ہو کر آئے تھے” (استغفراللہ) اللہ معاف کرے .
    جب ہم وہاں پہنچے تو ١۲ بج چکے تھے.میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ میں موٹرسائیکل ایک جگہ پر کھڑی کر کے آتا ہوں. میں ٣ منٹ کے لیے گیا اور جب واپس آیا تو میرے دوست غائب تھے. میں نے یہاں وہاں ہر جگہ دیکھا لیکن ان کا کوئی نام و نشان نہ تھا. ہم نیچھے تھے اور مزار پہاڑی کے اوپر تھا. میں نے اس شدید گرمی میں تقریباً ۷ سے ۸ چکر کاٹے , اوپر گیا مزار پر , پھر نیچھے آیا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا کیونکہ ہجوم اتنا تھا کہ اسے ڈھونڈنا محال تھا.
    جس طرح میں ان کو ڈھونڈ رہا تھا , اسی طرح وہ بھی میں تلاش میں جگہ جگہ بٹک رہے تھے.
    چونکہ ہم کم عمر تھے اور ایک دوسرے کو ایسی جگہ کھونا جو کہ ہمارے گھر سے کافی دور تھا , کافی پریشان کن تھا. جی کر رہا تھا کہ یہاں چیخ چیخ کر رو لوں.
    آخر کار جب ٣ بج گئے تو میں نیچھے ایک پہاڑی کے سائے میں ٹیک لگا کر بیٹھ گیا . میرے سامنے ہماری وہ ساری باتیں آنے لگی جو ہم نے راستے میں "بہادر بابا” کے بارے میں کی تھی.
    میں نے اسی وقت جلدی سے توبہ کیا کہ ہو سکتا ہے ہمیں ان باتوں کی سزا مل رہی ہو جو ہم نے "بہادر بابا” کے بارے میں کی تھی, یہ تو اللہ کے ولی ہے, اللہ کے خاص بندے .
    میں انہی سوچو میں گم تھا کہ میری کانوں میں فرمان کی آواز پڑی جو کہی دور سے مجھے پکار رہا تھا.
    اس آواز نے مجھے انتہائی گہرے سوچ سے بیدار کیا, جب میں نے "مانے” اور "گل” کو دیکھا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی, میں اپنے جزبات پر قابو پائے بغیر ان کی طرف بھاگا اور جٹ سے دونوں کو گلے لگا کر خوب رویا.
    اس کے بعد دوستوں کے ملنے پر اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنے ساتھ یہ عہد کیا کہ آج کے بعد کبھی بھی کسی اللہ کے ولی کے بارے میں کچھ غلط نہیں کہیں گے.
    پھر موٹرسائیکل پر سوار ہو کر واپس پہنچے تو رات کے ۸ بج چکے تھے. رات کا کھانا ساتھ میں کھایا, اس کے بعد اپنا خوب مزاق اڑایا اور اپنے اپنے گھر کو چلے گئے.

  • پنجاب سے سوات تک .تحریر ارم رائے

    پنجاب سے سوات تک .تحریر ارم رائے

    حصہ اول
    پاکستان کو الله نے خوبصورت رنگوں سے مزین کیا ہے چاروں موسم پاکستان کے پاس تو پہاڑ ریگستان اور میدان اسکے پاس۔ ہر علاقے کی اپنی خوبصورتی اور اہمیت۔ پاکستان کا جتنا حسن میدانوں اور ریگستانوں میں ہے۔ اس سے کہیں زیادہ سرسبز پہاڑوں میں ہے۔ ملکہ کوہسار مری چلے جائیں گلیات چلے جائیں ناران کاغان چلے جائیں یا سوات ہر جگہ خوبصورتی ہی خوبصورتی بکھری ہوئی ہے۔ کہیں درختوں کے جھنڈ ہیں تو کہیں بہتی آبشاریں ان آبشاروں کا ٹھنڈا پانی جسطرح سکون دیتا ہے اسکا کوئی ثانی نہیں ہے۔ جب بظاہر سخت پہاڑوں کے بیچ سے جو آبشار پھوٹ رہی ہوتی ہے بے ساختہ زبان پر الله کی بڑائی آ جاتی ہے۔ بیشک کس خوبصورتی سے سجایا ہے ان پہاڑوں کو۔ بہت سے علاقے زمین پر جنت کا نظارہ پیش کرتے ہیں۔ اس جنت نظیر وادیوں تک پہنچانے کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں قابل زکر ہیں ان علاقوں میں آرام دہ سڑکیں بنانا روڈ بنانا کوئی مذاق یا کھیل نہیں ہے۔ ان علاقوں میں ویسے تو برفباری کے موسم میں بھی سیاح جاتے ہیں اور اس موسم سے لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن گرمیوں میں گرمی سے بچنے کے لیے بہت بڑی تعداد نا صرف بیرونی ممالک سے بلکہ پاکستان کے اندر سے جاتی ہے۔ ان پہاڑوں آبشاروں اور ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہوتی ہے اچھی یادیں جمع کرتی ہے اور لوٹ آتی ہے۔ گوکہ ان علاقوں کے مقامی لوگوں کی زندگی کافی مشکل ہے لیکن آنے والوں کی زندگی آسان بنا دیتے ہیں اور یہ بہت بڑی خوبی ہے جو وہاں کے لوگوں میں دیکھی ہے۔ مری گلیات جانے کے بعد اس دفعہ ہم لوگوں نے بھی ناران کاغان یا سوات جانے کاپروگرام بنایا۔ ادھی فیملی ناران کاغان کے لیے جانا چاہتی تھی اور آدھی میرے سمیت سوات۔ سوات جانے سے گھبرانے والوں کا خیال تھا کہ حالات بظاہر ٹھیک ہیں لیکن فیملیز کے لیے ابھی بھی محفوظ نہیں ہیں جبکہ ہم جو پرو پی ٹی آئی تھے یہ کہتے تھے کہ اب حالات ٹھیک ہیں اور ہم سوات ہی جائیں گے۔

    یوں قرعہ فال سوات کے لیے یعنی ہماری خواہش کے لیے نکلا ہم تقریباً 25 افراد جن میں 10 بچے بھی شامل تھے 15 جولائی 2021 کو سوات کے لیے نکلے۔ کچھ دیر بھیرہ انٹر چینج پر ریسٹ کے بعد تقریباً 12بجے سوات کے لیے روانہ ہوگئے راستے میں کہیں بھی نا رکتے ہوئے ہم بذریعہ موٹر ویے سوات پہنچے۔ سچ پوچھیں تو ڈر بھی لگ رہا تھا کہ ضد کی تو ہے اگر خدانخواستہ کچھ مسلہ ہوا تو بہت برا ہوگا۔ لیکن سوات سے گزرتے ہوئے خوشگوار حیرت ہوئی جب تعلیمی ادارے دیکھے۔ لڑکیوں کے سکول دیکھے کالجز یونیورسٹی کا کیمپس دیکھا۔ میڈیکل کالج دیکھا۔ نارمل زندگی دیکھی سکون اترا دل و دماغ میں صبح 6 بجے تک ہم مینگورہ پہنچ گئے تھے۔ اپنے ہوٹل گئے جہاں کی بکنک کروائی ہوئی تھی تھوڑی دیر ارام کیا پھر ناشتے کے لیے نکلے۔ قریب ہی سے ناشتہ کیا اور حیرانکی کے ساتھ بل ادا کیا کیونکہ انتہائی مناسب ریٹ پر ناشتہ کیا تھا۔ مری والی مہنگائی نہیں تھی۔ مینگورہ میں گرمی بہت تھی ویسے جیسے سرگودھا اور باقی شہروں میں ہوتی ہے۔ لیکن وہ دن ہم نے مینگورہ میں ہی گزارہ پارک گٰے ٹکٹس لیے اور داخل ہوگئے ویسے وہ فیملی پارک تھا لیکن ماحول اتنا مناسب نہیں لگا۔ لوگوں کا گھور کے دیکھنا تھوڑا عجیب لگا لیکن شاید اسکی وجہ یہ بھی تھی کہ مقامی خواتین اور لڑکیاں مکمل پردہ میں تھیں اور ہم لوگ ایسے نہیں تھے۔

    بچوں نے جھولے لیے بہت انجوائے کیا اور ہم لوگوں نے بھی۔ بس ماحول کی وجہ سے تھوڑی کنفیوژن رہی اگر وہ بھی بہتر بنایا جائے تو زیادہ بہتر ہوسکتا ہے۔ وہاں سے نکل کر جھیل پر گئے تو گرمی کی شدت کا احساس کم ہوا وہاں بچوں بڑوں سب نے خوب انجوائے کیا۔ کچھ کھانے پینے والی چیزیں پاس تھیں بوتلیں لیں اور وہاں کافی وقت گزارہ۔ کسی قسم کا کوئی خوف محسوس نہیں ہوا۔ سب کچھ بہترین تھا۔ کافی وقت گزرنے پر پھر بھوک محسوس ہوئی اور تھکن بھی تو واپس ہوٹل آئے۔ راستے میں سب سے مزے کا واقعہ ہوا ہم لوگ تھوڑا تھک گئے تھے تو سوچا کوئی شارٹ کٹ مل جائے واپسی کے لیے۔ ہمارے ڈرائیور نے کہا کہ کسی عام ادمی سے نہیں پوچھتے بلکہ پولیس والے سے پوچجتے ہیں وہاں ایک بہت خوبصورت لمبا چوڑا پولیس والا کھڑا تھا اسکو بلایا اور پوچھا اب خیال یہ تھا کہ شاید پانچ سو ہزار لے کر ہمیں کسی پتلی گلی کا بتا دےگا جو سیدھی ہوٹل تک جاتی ہوگی لیکن اس نے کہا ” زیادہ تیز بننے کی کوشش نا کرو تہذیب کے ساتھ باہرو باہر نکل کر ہوٹل جاؤ بڑی گاڑی شہر کے اندر سے نہیں جا سکتی ” یوں پھر ہم باہر و باہر سے ہی ہوٹل تک پہنچے۔تھوڑا فریش ہوئے اور پھر کھانے کے لیے چلے گئے۔ وہاں کھانا کھایا اور واپس ہوٹل آگئے مینگورہ میں سب سے متاثر کن چیز ریٹس تھے اور مقدار۔ مطلب مقدار اور معیار پر تو سمجھوتہ نہیں تھا لیکن ریٹ بھی بہت مناسب تھا اور لوگ بہت مہمان نواز تھے۔ کھانے کے بعد واپس ہوٹل اگئے تاکہ اگلے دن نئے سفر کالام کے لیے تازہ دم ہوکر سفر کے قابل ہوسکیں۔۔
    جاری
    @irumrae

  • آزاد کشمیر کا سیاحتی مقام گنگا چوٹی  تحریر: محمد خواص خان

    آزاد کشمیر کا سیاحتی مقام گنگا چوٹی تحریر: محمد خواص خان

    خوبصورت علاقے قدرت کی تخلیق کا ایک بہترین شہکار ہیں ۔ جن کو دیکھنے سے بنی نوع آدم سکون اور راحت محسوس کرتی ہے وطن عزیز بھی خوبصورت مقامات کی دولت سے مالا مال ہے بلند وبالا چوٹیاں، گہرے اور ٹھنڈے بہتے چشمے سفید اور سبز چادر اوڑھے دلکش پہاڑ دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں ۔ پاکستان بھر سے لاکھوں اور دنیا بھر سے سینکڑوں سیاح ان مقامات کا رخ کرتے ہیں ۔ جتنی ہمارے ہاں خوبصورت ترین علاقے ہیں بدقسمتی سے اتنے ہی یہ علاقے پسماندہ اور سہولیات سے محروم ہیں ماضی قریب تک تو کسی گورنمنٹ بے بالکل بھی اس طرف توجہ نہیں دی جبکہ موجودہ حکومت آٹے میں نمک کے برابر کچھ کررہی ہے ۔ حالانکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سیاحتی مقامات سے اچھی خاصی آمدن لے رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ان چیزوں کو پس پشت ڈال جارہا ہے ۔

    کشمیر جنت نہیں ہے لیکن جنت نما ضرور ہے ۔ کشمیر کا تقریبا ہر علاقہ گرین اور انتہائی خوبصورت ہے کشمیر میں بہت زیادچشمے اورخوبصورت چوٹیاں ہیں لیکن ان تک پہنچنے کے لیے راستے انتہائی دشوار ہیں ۔ اسی لیے زیادہ تر سیاح وہاں کا رخ نہیں کرسکتے ۔ انہی بلند و بالا چوٹیوں میں سے ضلع باغ میں واقع گنگا چوٹی ہے ۔ جو انتہائی خوبصورت چوٹی ہے

    اسلام آباد سے 200 کلو میٹر شمال مشرق میں آزاد کشمیر کے دو اضلاع باغ اور مظفر آباد کے سنگھم پر واقع ایک خوبصورت سیاحتی مقام جسے گنگا چوٹی کہاجاتا ہے ۔اسے گنگاکیوں کہا جاتا ہے یہ ایک حل طلب سوال ہے ظاہراً یہ نام ہندو مذہب سے منسوب ہے تاریخ دان اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ شہنشاہ ساگر دَوم کے زمانے میں قحط کی صورتحال ہو گئی۔ انسان اور جانور نڈھال ہو کر مرنے لگے. ساگر دَوم بہت پریشان ہو گیااس نے شیوا کو براہمان کے پاس بھیجا پھر وہاں سے آکاش گنگاکا وجود ہوا ہے جو ہندوں کی کتب میں درج ہے ۔بعض کتب میں یہ چوٹی دیوی گنگا کے نام سے منسلک ہے ۔ گنگا چوٹی کی بلندی تقریبا دس ہزار فیٹ ہے ۔یہاں پہنچنے کے لیے باغ سے براستہ سُدھن گلی سے پہنچا جاسکتا ہے ۔سُدھن گلی میں طعام وقیام کا اعلی بندوبست ہے ۔خصوصاً دیسی ہوٹل اپنی نفاست اور لذیذ دار کھانوں سے مشہور ہے اگر آپ کا یہاں جانا ہو تو ایک دفع ضرور ٹیسٹ کریں سپیشلی کڑی پکوڑہ اعلیٰ ومعیاری ہے۔ سُدھن گلی سے آگے آدھا راستہ پکا اور زیادہ کچا ہے تاہم اس پر کام جاری تھا یہاں گرمیوں میں موسم کافی معتدل اور سیاحوں کو اپنی طرف کھینچنے کے بے تاب رہتا ہے ۔یوں تو سارا کشمیر ہی خوبصورت ہے لیکن گنگا چوٹی اس خوبصورتی کا ایک خاص درجہ رکھتی ہے۔سرسبز میدان ،ٹھنڈی ہوائیں اور دھند کے ساتھ ساتھ ہم نے بھی گنگا چوٹی کی طرف سفر کا آغاز کیا گوکہ راستہ طویل تھا لیکن ہر حسین منظر نے آنکھوں کو تازگی اور دل کو سکون میسر کیا راستے میں ایک دو کیمپ(جن میں چاٸےاوربسکٹ کاساماں موجودتھا) اور کافی سارے مویشی نظر آئے ہم جوں ہی آدھے راستے پہنچے بادلوں کو بھی پتہ چل گیا کہ مہمان پہنچ چکے ہیں ۔گنگا چوٹی کے چاروں اطراف جنگلات ہیں ۔گنگا چوٹی جنگلی حیات اور نباتات کا مسکن ہے جہاں موسم بہار میں ہر طرف خوبصورت پھول کھلتے ہیں. چوٹی جولائی میں اکثر سفید چادر اوڑھے رکھتی ہے جس سے آپ مکمل نظارہ نہیں کر سکتے۔سیروسیاحت پر پہلی تحریر ہے آئندہ لکھنے کا مصم ارادہ ہے ۔آپ لوگوں سے بھی گزارش ہے سیاحتی مقامات کا پروموٹ کریں ۔

    Twitter I’d link
    @iamkhawaskhan

  • ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات   تحریر: عمران اے راجہ پارٹ ۴

    ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات تحریر: عمران اے راجہ پارٹ ۴

    ۳: کروکوڈائل برِج گیٹ Crocodile Bridge Gate
    (گزشتہ سے پیوستہ)
    تیسرے حصے کے اختتام پر میں نے ذکر کیا کروکوڈائل برج گیٹ سے داخلے پر “بِگ فائیو” دیکھنے کے وسیع مواقع ہیں۔ کافی لوگوں نے سوالات کیے “بِگ فائیو” کیا ہے تو ایک مختصر وضاحت کیے دیتا ہوں۔ بِگ فائیو میں پانچ ایسے جانور آتے ہیں جن کا پیدل شکار افریقہ میں سب سے زیادہ مشکل ہے۔ ان میں آتے ہیں “شیر، چیتا، گینڈا، ہاتھی اور افریقی بھینسا (کیپ بفلو)”۔۔ ۱۹۹۰ کے بعد جاری ہونے والی ساؤتھ افریقن کرنسی پر بھی بِگ فائیو کی تصاویر ہیں۔ یہ پانچوں جانور (جنہیں میں ہرگز حیوان کا نام نہیں دوں گا) اپنی نسلوں میں ایک وجاہت، خوبصورتی، وقار اور حجم کے لحاظ سے ضحیم ہیں۔ براعظم افریقہ کے ممالک جہاں بیک وقت بگ فائیو دیکھنے کے مواقع میسر ہیں ان میں انگولا، بوٹسوانا، زیمبیا، یوگنڈا، نمیبیا، ساؤتھ افریقہ، کینیا، تنزانیہ، زمبابوے، کونگو، روانڈا اور ملاوی ہیں۔
    امید ہے وضاحت بہتر انداز میں ہو گئی ہوگی۔
    اب آتے ہیں تھوڑی مزید تفصیلات کروکوڈائل برج گیٹ کی جانب۔ کروکوڈائل ریور روڈ S25 جب مغربی جانب چلتی ہے تو یہاں گہری گھنی جھاڑیاں اور وسیع ترین چراگاہیں ملتی ہیں۔ یہاں سے آپ پارک کے اندرونی حصے سے ہوتے ہوئے جنوبی جانب بھی سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہاں ایک سڑک بیُومے روڈ S26 آپ کو بِیاماتی لُوپ S23 میں مرج کرے گی جبکہ یہیں سے آپ مالےلان ٹاؤن کی ڈائریکشن بھی لے سکتے ہیں۔ S25 آپ کو چند تاریخی مقامات سے بھی محظوظ کروائے گی۔ بالکل آخر میں جا کر اگر آپ داہنے مڑیے جہاں S25 کا اختتام ہو اور S114 کا آغاز ہو تو یہ آپ کو Jock of the bushveld plaque کے تاریخی مقام پر لے جائیگی جس کی اپنی ایک الگ ہسٹری ہے۔۔
    گیٹ سے داخلے کی تقریباً 8 کلومیٹر کے بعد آپ کو S27 کا اختتام اور پہلا باہر جانے کا راستہ ملے گا۔ کروکوڈائل ریور روڈ پر آپ کو دریائی گھوڑے، مگر مچھ اور دوسرے پانی پیتے جانور دیکھنے کے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔ یہ سڑک اپنے بہترین نظاروں اور مارشل ایگل کی وجہ سے مشہور ہے۔ چونکہ یہاں جانوروں کی بہتات اور گیم واچنگ کے مواقع زیادہ بہترین ہیں اس لیے یہاں رش بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ٹریفک کے بڑھنے سے پہلے ہی آپ اپنا سفر صبح سویرے شروع کیجیے اور دوپہر میں واپسی کے لیے کسی متبادل راستے کا انتخاب کیجیے ورنہ ٹریفک میں پھنسنے کے لیے تیار رہیے۔ ویسے بھی جانور دیکھنے کا آئیڈیل وقت صبح سویرے یا دوپہر اور شام کے بیچ کا وقت ہوتا ہے۔
    مالےلان ٹاؤن سے نکلتے وقت کروکوڈائل ریور S114 سے اگر آپ داہنے مڑ جائیے تو آپ کو ایک بڑا Birds Hide ملے گا جو گارڈینا کہلاتا ہے اور ملامبانے لوپ S118 پر آتا ہے۔
    اس سڑک پر کروکوڈائل ریور کا پرانا کراسنگ پوائنٹ بھی ہے اور وہ تاریخی مقام جہاں Alf Roberts نامی شخص نے اٹھارہویں صدی کے اختتام میں پہلا تجارتی سٹور بنایا تھا۔ یہاں وہ مقام بھی موجود ہے جہاں بیسویں صدی کے آغاز میں “بُور/اینگلو جنگ” کے دوران جنرل بین ولیون نے اپنی آرٹلری ڈپلائے کی تھی۔
    اس سڑک کی مختصر جھلکی بتاتا ہوں کہ گھنے جنگلات، بہت سے ایکو سسٹمز جو مالےلان پہاڑی سلسلے سے شروعات کرتے ہوئے سابی کروکوڈائل کی گھنی جھاڑیوں اور بالآخر ڈیلاگئوا کی جھاڑیوں میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ کروکوڈائل ریور روڈ “لواکاہلے” نامی جگہ کی جنوبی سرحد ہے اور پارک کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔
    “کروکوڈائل برج گیٹ کی مشہوری اور خوبصورتی کی وجہ سے اسے زیادہ تفصیل سے لکھا۔ آئیڈیل جگہ اور زندگی میں کم سے کم ایک بار دیکھنے لائک۔ دوسرے گیٹس کی اب اگلے حصے میں تفصیلات ایڈ کروں گا کیونکہ ہر گیٹ کی اپنی خصوصیات ہیں اور وہاں پائے جانے والے جانور بھی ایک الگ وضاحت کے متقاضی۔ زندگی رہی تو باقی اگلے حصے میں ان شاء اللّٰہ”۔۔
    (جاری ہے)
    Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1