پارٹ ۳:
۳: کروکوڈائل برِج گیٹ Crocodile Bridge Gate
اس راستے سے پارک کی کون سی خاص جگہات پر جا سکتے ہیں اس کا خلاصہ کچھ ایسے ہے
٭ مین روڈ جو کہ پکی سڑک ہے جنوب کی جانب لوئر سابی کی طرف جاتی ہے جس کا نام H4-2 ہے۔
٭ مشرق کی طرف لیبومبو ایریہ کی طرف جاتی ہے جس کا نام S28 ہے۔
٭ مغرب کی جانب جانے والی کوروکو ڈائل ریور سڑک بیاماتی ایریہ کی طرف جاتی ہے S25 ۔
٭ شمال کی طرف رُوٹ رینڈسپریٹ روڈ H5 کے راستے سکوکوزا کی جانب جاتا ہے جس کا نام ہے H4-1۔
اب آتے ہیں تفصیلات کی جانب۔ کروکوڈائل برج گیٹ بالکل مشرقی جانب سے کروگر میں داخلے کا راستہ ہے جو ہائی وے N4 سے آتا ہے۔ N4 ہائی وے مین ٹاؤن نیلسپریٹ اور مالےلان سے ہوتی ہوئی کوماٹی پورٹ کی جانب آتی ہے جو موزمبیق کے بارڈر سے پہلے ساؤتھ افریقہ کا آخری چھوٹا سا ٹاؤن ہے۔ اس کا شمار گرم ترین علاقوں میں ہوتا ہے اور موسم گرما میں درجہ حرارت 40 ڈگری تک بھی جاتا ہے۔
کروکوڈائل برج گیٹ کا نام کروکوڈائل ریور کی نسبت سے رکھا گیا۔ جو لوگ پارک کے جنوب مشرقی حصے کی طرف جانا چاہیں ان کے لیے یہ گیٹ سب سے ڈائریکٹ اور آسان راستہ ہے۔ کروکوڈائل برج پر آپ کو جھاڑیوں اور گھنے جنگل پر بہت کڑی نظر رکھنی ہے کہ یہاں بہترین مواقع ہیں نایاب جانوروں کو درختوں یا جھاڑیوں میں دیکھنے کے۔
گیٹ سے داخلے کے کچھ ہی فاصلے بعد آپ کو کروکوڈائل برج کیمپ ملے گا جہاں پٹرول پمپ اور کھانے پینے کے علاوہ دوسری اشیاء ضروریہ میسر ہیں۔ یاد رہے بارش کے موسم میں یہاں سیلابی کیفیت ہوتی ہے لہذا بارش کی صورت میں زیادہ دیر رکنے سے گریز کریں۔
کروکوڈائل برج سفید گینڈوں کا مسکن ہے اور یہ اکثر آپ کو درختوں تلے ملیں گے جبکہ شرمیلا کالا گینڈا آپ کو گھنی جھاڑیوں میں ملتا ہے۔
یہاں کے دوسرے خاص جانور شیر، چیتا، ہائنا، جنگلی کتے، امپالہ اور دریائی گھوڑے ہیں۔
انیسویں صدی کی شروعات سے Nhlowa Road S28 کروکوڈائل برج گیٹ کی طرف سابی گیم ریزرو کی جانب جانے والا مین راستہ تھی۔ یہ سڑک جنوب مشرقی جانب مڑتی ہے جہاں سے پارک کا داخلہ ہے اور اس کا رُخ لیبومبو رینج کی طرف ہے جو موزمبیق اور جنوبی افریقہ کا بارڈر ہے۔
یہ خطہ نوب تھورن جھاڑیوں اور مارُولا کے درختوں سے گھِرا ہے۔ یہ عام جنوبی حصے کی نسبت زیادہ میدانی اور ہموار ہے اور گیم واچنگ کے لیے بہترین کیونکہ یہاں اچھی چراگاہیں ہیں۔
جیسے جیسے آپ لیبومبو پہاڑی سلسلے کی طرف بڑھتے جائیں گے سبزہ کم سے کم ہوتا چلا جائے گا۔ جیسا کہ جنوبی حصے کی خاصیت سفید گینڈا ہے یہاں آپ کو بلیک بریسٹ سنیک ایگل بھی دِکھے گا۔
یہیں پر آپ کو ایم پانا مانا ڈیم بھی ملے گا جس کا اختتام کروکوڈائل ریور میں ہوتا ہے۔ یہ سڑک S28 آپ کو مزید جنوبی طرف لے جائیگی جہاں براستہ H4-2 آپ لوئر سابی ریسٹ کیمپ کی طرف جاتے ہیں۔
کروکوڈائل برج اور لوئر سابی کی درمیان شمالی ایریا H10 آپ کو جنگلی حیات کے چند بہترین نظارے فراہم کرتا ہے۔ بہترین مناظر چیتا دیکھنے کے ہیں۔ یہ ایریا ہموار، سرسبز، بہترین گھاس اور چراگاہوں سے مزین ہے جو چیتوں کی پسندیدہ ترین جگہیں ہیں۔ چیتا ہمیشہ ہموار جگہ کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ وہاں اس کی رفتار تیز ترین اور شکار آسان ہے۔
لوئر سابی کا گومونڈوانے روڈ ورھامی ریور کے ساتھ چلتا ہے۔ یہاں پر دو پانی کے ذخیرے ہیں گیزاٹومبی اور گومونڈوانے۔ پانی کے ذخیرے بہترین جگہ ہیں گیم واچ کے لیے کیونکہ تمام جانوروں کو پانی کے لیے وہیں جانا پڑتا ہے۔
جیسے ہی آپ لوئر سابی کیمپ پہنچیں گے آپ کو مشرق کی جانب لیبومبو ماؤنٹین رینج نظر آئیگی اور منتشے ماؤنٹین بالکل آپ کے سامنے جہاں بہت سے زیبرہ اور وائلڈ بِیسٹ بھی ملیں گے۔یہ سڑک داہنے مڑتے ہی آپ کو بہترین دریائی ماحول والی کیمپ سائٹ کی سیر کروائے گی۔
کروگر پارک کا جنوبی حصہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے جو صدیوں پیچھے جاتی ہے۔ یہاں پر دوسری دلچسپیوں کی علاوہ یہاں آپ کو مشہور زمانہ “بُش مین” کی پینٹنگز بھی ملیں گی جو San لوگوں نے بنائی ہیں۔ یہ لوگ کسی زمانے میں یہیں رہتے اور شکار کرتے تھے۔
یہ خطہ ناصرف شکار اور جنگلی حیات کے مشاہدے کے لیے بہترین ہے بلکہ یہاں ایک کثیر تعداد ہائناز کی بھی ہے۔ یہاں کا گیم ایریہ “جنوبی سرکل” کہلاتا ہے۔ یہاں شیروں کے جھنڈ پائے جاتے ہیں جو نِت نئے طریقوں سے شکار کے لیے مشہور ہیں اور بہترین دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ کروکوڈائل برج اور لوئر سابی کے درمیان کا علاقہ کروگر کے بہترین حصوں میں سے ہے اور یہاں سب سے زیادہ چانس ہے کہ آپ “بِگ فائیو” کو دیکھ سکیں۔
“کروکوڈائل برج گیٹ بہت مشہور اور آئیڈیل جگہ ہے لہذا اس کی طوالت زیادہ ہے۔ دوسرے گیٹس کے ساتھ اس کی مزید تفصیلات ایڈ کروں گا”۔۔
(جاری ہے)
Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1
Category: تفریح و سیاحت

ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات تحریر عمران اے راجہ

قومی ہیروز کو جیتے جی یاد کریں . تحریر: محمد عثمان
کچھ روز قبل صبح جیسے ہی میری آنکھ کھلی تو میں نے اپنا موبائل آن کیا اورٹویٹرچلایا ٹاپ ٹرینڈ پاکستان چیک کیا تو وہاں (AliSadpara#) ٹاپ ٹرینڈ چل رہا تھا میرے ذہن میں آیا کہ یہ نام سنا ہوا لگتا ہے اسی لمحے اچانک مجھے پتہ چلا کہ ہاں چھ ماہ پہلے ایک قومی ہیرو علی سدپارہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سیر کرنے گئے تو وہاں لاپتہ ہوگئے تھے ۔میں نے گہری سانس لی اور کہا اللہ خیر کریں۔۔۔۔پھر میں نے (AliSadpara#) ٹاپ ٹرینڈ چیک کیا تو پتہ چلا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ‘ بلند چوٹیوں سے بلند حوصلہ رکھنے والا پاکستان کا قومی ہیرو کوہ پیما علی سدپارہ کی لاش مل گئیں، قومی ہیرو کی لاش بوٹل نیک کے ٹو سے صرف تین سو میٹر نیچے تھی اور تقریبا چھ ماہ بعد قومی ہیرو علی سدپارہ کی لاش ملی ۔واٹس اپ آن کیا تو وہاں بھی لوگوں نے علی سدپارہ کے اسٹیٹس لگائے ہوئے تھے ۔ فیس بک ان کی تو وہاں بھی لوگوں نے قومی ہیرو علی سدپارہ کی اسٹوری لگائی ہوئی تھی موبائل بند کیا اور ٹی وی آن کیا تو وہاں بھی قومی ہیرو علی سدپارہ کی خبر چل رہی تھی اور حکمران ، اداکار و سماجی شخصیات علی سدپارہ کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے، یہ سب دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں اچانک ایک سوچ آئ کہ ہماری پاکستانی قوم کا یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہم اپنے قومی ہیروز کو جیتے جی یاد نہیں کرتےبلکہ جب وہ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تب ہم ان کی قدر ، حوصلہ افزائی اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور صرف دو دن تک اسے واٹس ایپ اسٹیٹس فیس بک اسٹوری اور ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ تک محدود رکھتے ہیں جس طرح ہمارے قومی ہیرو علی سدپارہ آج اس دنیا میں نہیں رہے پوری پاکستانی قوم علی سدپارہ کو خراج تحسین پیش کر رہی ہے اور جب علی سدپارہ اس دنیا میں تھے تو یقینن میں اور باقی میری طرح کروڑوں پاکستانی بھی نہیں جانتے تھے کے علی سدپارہ کون ہے ؟ یہ ہماری قوم کا المیہ ہے کہ ہم اپنے قومی ہیروز کو جیتے جی یاد کرتے ہیں نہ حکومت کی طرف سے سپورٹ ہوتی ہے جس طرح حال ہی کے ایک اور قومی ہیرو ویٹ لفٹر طلحہ طالب جنہوں نے ٹوکیو اولمپکس 2020 میں پانچویں پوزیشن لے کر برونز میڈل پاکستان کے نام کیا ۔ طلحہ طالب کا بھی یہی کہنا تھا کہ اگر حکومت پاکستان یا کسی ادارے کی طرف سے مجھے تھوڑی سپورٹ ہوتی تو آج میں گولڈ میڈلسٹ ہوتا اور پورے پاکستان میں جشن ہوتا۔ ہاں بالکل!
حکومت پاکستان کو چاہیے جیسے دیگر ممالک کے کھلاڑی گولڈمیڈلسٹ ہیں انہیں جس طرح کے پلیٹ فارم و سہولیات ملتی ہے وہ دی جائیں تاکہ ہمارے قومی ہیروز بھی دیگر ممالک کی طرح گولڈمیڈلسٹ بنے اور دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں ۔ تو یاد رکھیں! جس سچے پاکستانی نے قسم کھائی ہے کہ اس ملک پاکستان کے لیے کچھ کرنا ہے تو پھر انہے کسی کی سپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ان کیلئے ان کا جذبہ ہمت اور ملک سے محبت ہی کافی ہوتی ہے ۔ جس طرح علی سدپارہ کے بقول
۔ چل کسی شوق کی تکمیل میں مارے جائیں،
ہمت کے آسمان کے اے تارہ آئے
اٹھ کر کسی چٹان سے سدپارہ آئے
برحق ہے موت پر عجب یہ معاملہ
سب چاہتے ہیں کہ آپ دوبارہ آئیں
آخری بات خدارا اس ملک کے قومی ہیروز کی جیتے جی مدد و سپورٹ اور حوصلہ افزائی کریں ۔ یہ قومی ہیروز فخر پاکستان ہے یہ جو کچھ کرتے ہیں پاکستان کیلئے کرتے ہیں۔@UsmanKbol

لاہور، اس کی ثقافت، سیاحت اور کھانے تحریر : مریم صدیقہ
لاہور، اس کی ثقافت، سیاحت اور کھانے
لاہور دنیا کے مشہور شہروں میں سے ایک ہے جو سیاحوں کے مطابق کوئی شہر نہیں بلکہ عادت یا نشہ ہے۔ یہ ،مشہور قول تو سنا ہی ہوگا کہ جن نے لاہور نہیں ویکھیا او جمیا ہی نہیں۔ کراچی کے بعد ملک کا دوسرا بڑا شہر لاہور جو کہ صوبہ پنجاب کا دارالحکومت بھی ہے ۔ یہ پاکستان کے امیر ترین شہروں میں سے ایک ہےجو کہ پاکستان کے سب سے زیادہ سماجی طور پر لبرل ، ترقی پسند اور کسمپولیٹن شہروں میں گنا جاتا ہے ، اسی طرح پنجاب کے بڑے صوبے میں یہ تاریخی ثقافتی مرکز ہے۔
پاکستان اور ہندوستان کی آزادی کی کوششوں میں لاہور کا بہت اہم قلیدی کردار رہا ہے کیوں کہ یہ شہر ہندوستان کے اعلان آزادی کے مقام کے طور پر جانا جاتا ہے اور یہاں ہی قیام پاکستان کی قرارداد منظور ہوئی تھی۔ دہائیوں تک لاہور نے پاکستان کی آزادی کے لیے کئی فسادات دیکھے۔ 1947 میں تحریک پاکستان کی فتح ہوئی اور اس کی بلآخر آزادی کے بعد لاہور کو صوبہ پنجاب کا دارالحکومت قرار دیا گیا۔
پاکستان بھر میں لاہور کی ثقافتی اہمیت ہے۔ یہ پاکستان میں اشاعت کا ایک اہم مرکز اور ادبی زندگی میں اس کا بہت قلیدی کردار ہے۔ شہر کے اندر متعدد مشہور تعلیمی اداروں کی موجودگی اسے پاکستان میں تعلیم کا ایک اہم مرکز بناتے ہیں۔ اس شہر میں سیاحوں کے لیے بہت سے پرکشش مقامات ہیں جیسے والڈ سٹی ، بادشاہی مسجداور وزیر خان جیسی مشہور مساجد اور مختلف صوفی کے مزارات بھی موجود ہیں، لاہور قلعہ اور شالیمار گارڈن بھیی یہاں واقع ہے جو سیاحت کو مزید فروغ دینے میں مدد کرتے ہیں۔
جدید شہر لاہور کا بہترین نظارہ اس کے شمالی حصےوالڈ سٹی میں واقع ہے جہاں دنیا کی معتدد اشیاء اور قومی اثاثے موجود ہیں۔لاہور کی شہری منصوبہ بندی نہ صرف ہندسی ڈیزائن پر بنی تھی ، بلکہ قریبی عمارتوں کے تناظر میں بنی ہوئی ایک بکھرے ڈھانچے پر بھی مبنی تھی ، جس میں چھوٹی چھوٹی کل-ڈی-ساکس اور سڑکیں تھیں۔ اگرچہ کچھ علاقوں کا نام مخصوص مذہبی یا نسلی گروہوں کے نام پر رکھا گیا تھا ، لیکن یہ علاقے خوداس سے اکثر مختلف ہوتے تھے اس لیے ناموں سے ان پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔
قدیم والڈ سٹی تیرہ دروازوں سے گھرا ہوا ہے۔ روشنایی ، مستی ، یکی ، کشمیری اور کزری ، شاہ برج ، اکبری اور لاہوری ان میں سے چند دروازے ہیں جو اب بھی قائم ہیں۔ عظیم برطانوی دور کا لاہور،والڈسٹی کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ والڈ لاہور دنیا کے قدیم شہروں میں سے ایک ہے اور اس میں بہت ساری کشش ہے۔ فورٹ لاہور مغلوں اور بعد میں سکھوں نے اپنے شاہی طریقوں کے ذریعہ سے ایک وسیع عمارت کی صورت میں تعمیر کیا۔ بادشاہی مسجد ، جو ایک عرصے تک کرہ ارض کی سب سے بڑی مسجد تھی ، مغل بادشاہ اورنگ زیب نے بنائی تھی۔
لاہورکا پاکستان کےسیاحوں کی سب سے بڑی توجہ کا مرکز بدستور قائم ہے۔ 2014 میں تجدید شدہ یہ شہر، لاہور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ سائٹس کے لئے مشہور ہے۔ والڈ سٹی کے قریب لاہور کے کچھ مشہور قلعے ہیں جن میں شیش محل ، عالمگری گیٹ ، نولہ پویلین اور موتی مسجد شامل ہیں۔ 1981 کے بعد سے ، یہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی سائٹ پر درج کیا گیا ، جیسا کہ قلعہ اور اس کے پڑوسی شالیمار باغات ہیں۔ اندرون شہر ،مندروں اور محلوں سے بھر پور ہے ، ان میں سب سے قابل ذکر آصف جاہ حویلی (حال ہی میں تجدید شدہ) ہے ۔یہاں پر کئی پرانے یادگاریں موجود ہیں ، جن میں مشہور ہندو مندر ، کرشنا مندر اور والمیکی مندر شامل ہیں۔ سمدھی رنجیت سنگھ بھی اس کے آس پاس ہی ہے جہاں سکھ بادشاہ مہاراجہ رنجیت سنگھ دفن ہیں۔1673 میں تعمیر ہونے والی بادشاہی مسجد دنیا کی مشہور عمارت ہے اور اس وقت یہ دنیا کی سب بڑی مسجد کے طور پہ بنائی گئی تھی۔ 1635 میں بنائی جانے والی وزیر خان مسجد اپنی بڑی بڑی ٹائلوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ مینار پاکستان، قلعے اور بادشاہی مسجد کے بالکل بالمقابل واقع ہے۔ یہ ایک خاص مسلم ریاست (پاکستان) کے قیام کی 1940 میں منظوری کے مقام پر بنایا گیا تھا۔
اب لاہوری کھانوں کی طرف چلتے ہیں اور اس بات سے انکار کرناممکن ہی نہیں کہ لاہور اور اس میں رہنے والے اپنے کھانے کی وجہ سے پاکستان کی ثقافت میں ایک اہم مقام رکھتےہیں۔ لاہور ایک ایسا شہر ہے جس میں ایک معتبر گیسٹرنومی روایت ہے۔ یہاں گیسٹرونک کے بہت سے مواقع فراہم کیے جاتےہیں۔ حال ہی میں ، اس طرح کا کھانا آسانی سے ہضم اور ہلکے ذائقہ کی وجہ سے دوسرے ممالک میں ، خاص طور پر پاکستانی ڈا ئسپورہ میں خاصے مشہور ہوچکے ہیں۔ لاہور کی کافی ڈشز میں مقامی پنجابی اور مغلائی ڈشز کا عنصر دیکھنے کو ملتا ہے۔ چینی ، مغربی اور بین الاقوامی کھانوں کے علاوہ روایتی مقامی کھانے شہر بھر میں مشہور ہے اور علاقائی ترکیبوں کے ساتھ مل کر ایسے بہترین ذائقوں کو تیار کیا جاتا ہے جس کو پاکستانی چینی کھانے بھی کہا جاتا ہے۔@MS_14_1

کوہ پیمائی کی دنیا میں منفرد ریکارڈ .تحریر : ارشد محمود
متروک شدہ کوہ پیمائی کا لباس پہن کر اپنا شوق پورا کرنے والا علی سدپارہ کا نام 2016ء میں عالمی میڈیا میں گونجا کہ انھوں نے سردیوں کے موسم میں قاتل پہاڑ (نانگا پربت) کو منفی 52 کے درجہ حرارت اور تیز برفیلی آندھی کے باجود سر کرلیا ہے ۔ یہ ایک ایسا ریکارڈ تھا جس کی جتنی تعریف کی جاے اتنی کم ہے ۔ سردی کے موسم میں بغیر آکسیجن نانگا پربت کو سر کرلینا ایک منفرد ریکارڈ تھا جس کی شاید ہی کسی میں ہمت ہو ۔ علی سدپارہ نے نانگا پربت پر سبز ہلالی پرچم لہرا کر پاکستان کا سر فخر سے بلند کردیا ۔ یہی وجہ تھی کہ جب علی سدپارہ کی گم شدگی کی اطلاع ملی تو ہر آنکھ نہ صرف اشک بار ہوئی بلکہ ہاتھ بھی دعا کے لیے اٹھے کہ علی سدپارہ مل جاے ۔علی سدپارہ کا پورٹر سے کوہ نوردی کا سفر جہاں اپنے اندر جہاں سموے ہوے ہے وہی پر اسباق در اسباق بھی ہیں جو نئے کوہ پیماؤں کو سیکھنے چاہیے ۔ علی سدپارہ کوہ پیمائی تشہیر کے لیے نہیں بلکہ اپنی تسکین کے لیے کرتے تھے گویا کہ انھیں برف پوش اور فلک بوس پہاڑوں سے عشق تھا ۔
علی سد پارہ پہلا پاکستانی کوہ پیما تھاجس نے 8 ہزار میٹر بلند دنیا کی سات چوٹیوں کو سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ پاکستان کی 5 بلند ترین چوٹیوں کو بھی سر کر چکا تھا جس میں 8611 میٹرز بلند K 2 بھی شامل ہے لیکن اب کی بار موسم علی سد پارہ کے حق میں نہ تھا ورنہ قاتل پہاڑ نانگا پربت کو سر کرنے کے بعد پہلے سے مفتوح ہو چکی کے ٹو چوٹی کی کیا حیثیت تھی؟ امسال فروری میں علی سدپارہ مع ساجد سدپارہ ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو کے ساتھ کےٹو کو سر کرنے کی مہم کو نکلے ۔ ساجد سدپارہ کو 8 ہزار میٹر کی بلندی پر ریگولیٹر خراب ہونے کی وجہ سے ساتھ چھوڑنا پڑا ۔ یہ آخری ملاقات تھی جو باپ کی اپنے بیٹے سے تھی ۔ بیٹا تو واپس آگیا جبکہ باقی تین افراد نے اپنی مہم جاری رکھی ۔ چند دنوں کے بھر پور ریسکیو آپریشن کے بعد بھی لاپتہ کوہ پیما نہ ملے تو انہیں مردہ قرار دیتے ہوئے ریسکیو آپریشن بند کردیا گیا لیکن ان کے بیٹے نے ازخود ریسکیو آپریشن جاری ر کھنے کا اعلان کیا ۔ٹویٹر پر علی سدپارہ نے 24 جولائی کو ٹویٹ کرتے ہوے بتایا کہ وہ علی سد پارہ کی تلاش کے لیے بوٹل نک اور اس سے آگے کے علاقوں میں چھان بین کریں گے ۔ اور پھر بیٹے کی محنت رنگ لائی اور انھیں اپنے والد علی سدپارہ اور دیگر دو کوہ پیماؤں کے لاشے مل گئے ہیں۔
کوہ پیمائی جہاں مہنگا ترین کام ہے وہی پر خطرناک حد خطرناک کام ہے ۔ علی سدپارہ کی زندگی جہاں مہم جوئی سے عبارت ہے وہی پر ان کی زندگی ثابت کرتی ہے کہ وسائل کے نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کچھ کر نہیں سکتا ۔ شروع میں ان کی مدد و حمایت کرنے والے نہ ہونے کے برابر تھے اور سرکاری سرپرستی تو پاکستان میں نصیب والوں کو ملتی ہے ۔خبروں کےمطابق چند ایک لالچی قسم کے افراد نے بعد ازاں سستی شہرت حاصل کرنے کی خاطر ان سے اپنی مرضی کے بیانات دلوانے کی کوشش بھی کی لیکن وہ مردقلندر اپنی بات پر اڑا رہا ۔ ایسے منفرد لوگ قوموں کو کبھی کبھی میسر آتے ہیں اور زندہ قومیں ان کی زندگی میں ہی ان کی اہمیت سے واقف ہوتی ہیں ۔ بعدازمرگ اعزازات و انعام واکرام کا مطلب اپنی شہرت کے سوا کیا ہوتا ہے ؟ معذرت کے میں آج تھوڑا تلخ ہوگیا ہوں ۔ ہم اپنے سیاست دانوں کو سونے کے برتنوں میں کھانا کھلا کر ان کی ہوس مزید بڑھاتے ہیں لیکن ان اصلی نمایندگان قوم و ملت کو سرکاری سرپرستی تک دینے سے انکاری ہو جاتے ہیں ۔ہمیں بطور قوم اپنے اجتماعی خیالات کو بدلنا ہوگا ہمیں تعین کرنا ہوگا کہ ہم کس راہ پر چل کر ترقی یافتہ ممالک میں کھڑے ہوسکتے ہیں ۔ یہ صرف سیاست سے ممکن نہ ہوگا بلکہ ہمیں اس طرح کے معاملات میں بھی درد دل رکھ کر فضا ہموار کرنا ہوگی تاکہ علی سدپارہ جیسے لوگ پاکستان کا نام روشن کرسکیں اور حالیہ اولمپکس جیسا حال بنواکر مزید جگ ہنسائی کا باعث نہ بنیں ۔

لہور لہور اے . تحریر : عمران اے راجہ
کسی نے سچ کہا ہے "لہور لہور ہے، جن نے لہور نی تکیا او جمیا نئ ” ( لاہور لاہور ہے، جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا)۔ یہ بات وہی جان سکتا ہے جس نے لاہور کو دیکھا ہو۔ لاہور کے اتنے رنگ اور چہرے ہیں کہ ان کو بیان کرنے کے لیے ایک ضخیم کتاب لکھنی پڑ جائے ۔ یہاں کے رنگ، ثقافت، تاریخ، قدیم روایات، جدید ترقی کی چکا چوند، باغوں کی ہریالی اور پھولوں کی خوشبو، درختوں سے ڈھکی دو رویہ سڑکیں، پاکستانی ثقافت کی لذت لیے روایتی کھانے، ماضی کی داستان بیان کرتے اور نشان عبرت بنے مقبرے، چمکتے فرش والے مزارات، عظیم درسگاہیں اور زندہ دلان لاہور کی مہمان نوازی یہ سب چیزیں سیاحوں کو بار بار کھینچ کر یہاں کا رخ کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ لاہور ایک شہر ہی نہیں ایک دیرپا احساس اور ایک ناقابل فراموش تجربہ بھی ہے۔ پاکستان کی ثقافت کو حقیقی معنوں میں سمجھنے کے لیے لاہور کو دیکھنا ضروری ہے۔
شاہی قلعہ
سیاح جب لاہور میں قدم رکھتے ہیں تو سب سے پہلے بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کا رخ کرتے ہیں۔ شاہی قلعہ مغلیہ فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ یہ جزوی طور پر اکبر نے تعمیر کیا تھا (1556-1605) اور اگلے تین شہنشاہوں نے اس میں توسیع کی۔ شاہی قلعہ میں دیوان عام، دیوان خاص، شیش محل قابل دید ہیں۔ شاہی قلعہ کا داخلی دروازہ بادشاہی مسجد کے سامنے ہے اور اسے "عالمگری گیٹ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 1981 میں یونیسکو نے لاہور قلعہ کو عالمی ثقافتی ورثہ کی حیثیت سے شامل کیا۔بادشاہی مسجد
شاہی قلعہ لاہور کے مغرب میں بادشاہی مسجد واقع ہے۔ اسے لاہور کے مشہور مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ بادشاہی مسجد مغل شہنشاہ اورنگ زیب نے 1671 اور 1673 کے درمیان تعمیر کروائی۔ یہ مسجد مغلیہ فن تعمیر کا شاہکار ہے ، یہ مغل عہد کی سب سے بڑی اور پاکستان کی دوسری بڑی مسجد ہے۔ یہاں بیک وقت ایک لاکھ نمازی نماز ادا کرسکتے ہیں۔ مسجد اور قلعے دونوں کو سنگ سرخ سے سجایا گیا ہے۔مینار پاکستان
شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد کے قریب ہی مینار پاکستان واقع ہے. مینار پاکستان ، لاہور کی ایک تاریخی یادگار ہے۔ اسے پاکستان کا سب سے بڑا ٹاور سمجھا جاتا ہے۔ یہ ٹاور اس جگہ پر 1960 اور 1968 کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا جہاں آل انڈیا مسلم لیگ نے 23 مارچ 1940 کو علیحدہ وطن کے حصول کے لیے قرارداد منظور کی تھی۔مسجد وزیر خان
وزیر خان مسجد کی تعمیر مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دور میں شروع کی گئی تھی۔ اس کی تعمیر کا آغاز 1634 میں ہوا اور یہ 1641 میں مکمل ہوا۔ یہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی عارضی فہرست میں شامل ہے۔ مغلیہ فن تعمیر اور کاشی کاری کے کام کی وجہ سے سیاح اس میں خصوصی دلچسپی لیتے ہیں۔شالامار باغ
لاہور مغلوں کا شہر ہے ، اور شالامار باغ مغلوں کی ایک اور حسین یادگار ہے۔ فواروں، چشموں ، سنگ مرمر کے تالاب ، درختوں اور گھاس کے میدانوں سے سجا یہ باغ پاکستان کے مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ باغات کی تعمیر 1641 میں شہنشاہ شاہ جہاں کے دور میں شروع ہوئی ، اور یہ 1642 میں مکمل ہوئی۔ 1981 میں شالیمار گارڈن کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر تحریر کیا گیا تھا.والڈ سٹی
اندرون لاہور جسے اولڈ سٹی بھی کہا جاتا ہے ، لاہور کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ شہر 1000 عیسوی کے قریب قائم کیا گیا تھا ۔ یہ درجنوں حکمرانوں اور کئی ادوار سے گزرا ہے۔ اندرون لاہور مغلیہ دور میں دارالحکومت کے طور پر منتخب ہونے کے بعد شہرت پذیر ہوا ، جس کے نتیجے میں لاہور قلعہ تعمیر ہوا۔ والڈ سٹی کو مغل عہد کے دوران شاہانہ طور پر سجایا گیا وزیر خان مسجد ، شاہی مسجد اور شاہی حمام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ سکھ حکمرانی کے دور میں ، اس شہر کو دوبارہ دارالحکومت کے طور پر منتخب کیا گیا ، اور یہ ایک بار پھر والڈ سٹی میں تعمیر کردہ متعدد مذہبی عمارتوں کے ساتھ نمایاں ہوا جس میں رنجیت سنگھ کی سمادھی ، اور گوردوارہ جنم آستھن گرو رام داس بھی شامل تھے۔ ابتداء میں اس کے 13 دروازے تھے جن میں سے اب صرف 6 باقی ہیں۔ ان چھ میں سے ہر ایک دیکھنے کے قابل ہے۔مقبرہ جہانگیر
اگر آپ فن تعمیر میں دلچسپی رکھتے ہیں تو مقبرہ جہانگیر یقینی طور پر لاہور میں دیکھنے کے لئے بہترین مقامات میں سے ایک ہے۔ مقبرہُ جہانگیر17 ویں صدی کا ایک مقبرہ ہے جو مغل بادشاہ جہانگیر کے لئے تعمیر کیا گیا تھا۔ مقبرہ 1637 سے قائم ہے ، اور دریائے راوی کے کنارے شاہدرہ باغ میں واقع ہے۔ اس کو سنگ مرمر سے سجایا گیا ہے اور دیواروں کو رنگین پتھروں کے ٹکڑوں سے مزین کیا گیا ہے۔کامران کی بارہ دری
کامران کی بارہ دری کو 1540میں پہلے مغل بادشاہ بابر کے بیٹے اور دوسرے مغل بادشاہ ہمایوں کے بھائی کامران مرزا نے تعمیر کیا۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شہر کا قدیم ترین مغل ڈھانچہ ہے جو اب بھی قائم ہے۔ یہ محل لاہور کے مضافات میں دریائے راوی کے پار ایک چھوٹے سے جزیرے پر واقع ہے۔ اس تک پہنچنے کے لئے کشتی کی مدد لی جاتی ہے۔اس کی دو منزلیں اور بارہ دروازے ہیں جنھیں ہوا کے گزر کےلئے تعمیر کیا گیا تھا۔ لاہور کے دیگر تاریخی مقامات کے برعکس ، اس کی حفاظت نہیں کی جارہی ہے -اور یہ زبوں حالی کا شکار ہے۔داتا دربار
آپ لاہور جائیں اور جنوبی ایشیاء کے سب سے بڑے بزرگ سید علی ہجویری داتا گنج بخش کے مزار پر نہ جائیں یہ ممکن ہی نہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ یہاں 11 ویں صدی میں رہتے تھے۔ یہ لاہور کا مقدس ترین مقام ہے اور اس کے سالانہ عرس میلے میں ملک بھر سے 10 لاکھ زائرین آتے ہیں۔مادھو لعل حسین کا مزار
لاہور ہی میں مادھو لال حسین کا مزار بھی بہت مشہور ہے۔ مادھو لعل حسین سولہویں صدی کے صوفی شاعر تھے۔ ان کے عرس کے موقع پر یہاں ہر سال میلہ چراغاں ہوتا ہے جو لاہور کا ایک مقبول تہوار ہے۔ یہ میلہ شالیمار گارڈن میں بھی ہوتا تھا ، یہاں تک کہ صدر ایوب خان نے سن 1958 میں اس کے خلاف حکم دیا تھا۔انارکلی بازار
انارکلی بازار ، لاہور میں دیکھنے کے لئے ایک بہترین مقام ہےچاہے وہ خریداری ، کھانے ، یا محض تفریح کرنی ہو۔ اس کے رومانوی نام کا اثر ہے یا کچھ اور لیکن لاہور آنے والوں کی تفریح اور شاپنگ انارکلی جائے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ یہ لاہور کے قدیم بازاروں میں سے ایک ہے۔باغ جناح
لاہور کے مال روڈ پر واقع ایک وسیع و عریض پارک ، باغ جناح صرف ایک تفریح گاہ نہیں، یہاں ایک نباتاتی باغ ، ایک مسجد اور قائد اعظم لائبریری بھی ہے جو 19 ویں صدی کی وکٹورین طرز کی عمارت میں واقع ہے۔اس باغ کی تعمیر 1860 میں شروع ہوئی۔یہاں پر اس دور کے قدیم درخت آج بھی موجود ہیں۔ پارک کے اندر تفریحی اور کھیلوں کی سہولیات بھی ہیں۔ ایک اوپن تھیٹر ، ایک ریستوراں ، ٹینس کورٹ اور جم خانہ کرکٹ گراؤنڈ۔فوڈ سٹریٹ
جب لاہور کے روایتی کھانوں کی بات ہو تو شاہی قلعہ سے متصل فوڈ سٹریٹ سے بہترین کوئی جگہ نہیں۔اندرون شہر لاہور میں واقع فوڈ اسٹریٹ صرف کھانے پینے کے لیے ہی نہیں بلکہ قدیم حویلیوں میں بنے یہ ریستوران اور اندرون لاہور کی ثقافت کو اجاگر کرتی عمارتیں سیاحوں کو یہاں کھینچ کر لانے پر مجبور کرتی ہیں۔ "حویلیاں ریستوران” اور "کوکوز ڈین” کی چھت پر بیٹھ کر نہ صرف کھانے کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے بلکہ آپ بادشاہی مسجد اور لاہور کے حسین نظاروں سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔یہ تو قدیم لاہور کی ثقافت کی ایک جھلک ہے۔لیکن اگر جدید لاہور کو دیکھنا ہو تو لبرٹی، ڈیفنس، امپوریم مال، پیکجز مال اور فورٹریس سٹیڈیم میں رنگ و نور کی برسات نظر آتی ہے۔ یہاں آپ کو زندگی بھاگتی دوڑتی اور رقص کرتی نظر آئے گی۔
جدید دور کا ساتھ دینے کے لیے نئے پلازے اور نئی تفریح گاہیں بنانا ملکی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔ لیکن تاریخی عمارات اور مقامی ثقافت کسی بھی ملک کی پہچان ہوتی ہے۔ ان کی حفاظت کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اسی ثقافت اور تہذیب کو دیکھنے سیاح کھنچے چلے آتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں حکومت اور عوام دونوں کا رویہ تاریخی عمارات اور ملکی املاک کی حفاظت کے بارے میں غیر سنجیدہ ہے۔ حکومت ان کی حفاظت اور تزئین و آرائش پر کوئی توجہ نہیں دیتی اور عوام ان مقامات پر گندگی پھیلانے اور نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ ہمیں چاہیے کہ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ان کی حفاظت کریں اور حکومت ان کی حفاظت اور تزئین و آرائش کے لیے خصوصی فنڈ مختص کرے۔ کیونکہ یہی وہ قیمتی سرمایہ ہے جسے دیکھنے دنیا بھر سے سیاح یہاں آتے ہیں۔ اور اسی سے ملکی ترقی اور بہت سے لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔
@ImranARaja1

سنگلاخ چٹان پہ کندہ بدھا کا دوسرا بڑا مجسمہ ،تحریر : آصف شہزاد
وادی سوات قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ قدیم تہذیبوں کے حوالے سے بھی نمایاں شہرت رکھتا ہے۔یہ علاقہ گندھارا تہذیب کا ایک بہت بڑا مرکز رہا ہے۔جہاں ہزاروں سال قدیم آثار اور کھنڈرات سے مختلف تہذیبوں کا سراغ ملتا ہے۔ ان آثار قدیمہ میں بین الاقوامی شہرت کا حامل مہاتمہ بدھ کا مجسمہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔
سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے نو کلو میٹر کے فاصلہ پر شمال کی طرف واقع منگلور نامی گاؤں ہے جہاں بدھ مت دور کے آثار بکھرے پڑے ہیں۔ ان آثار میں سب سے اہم “شخوڑئی مجسمہ” ہے جوکہ جہان آباد کے مقام پر واقع ہے، اس مجسمے کو حیران کن طور پر ہزاروں برس قبل ایک بڑی اور سخت چٹان پر کندہ کیا گیا ہے جس کی لمبائی تیرہ فٹ جبکہ چوڑائی سات فٹ تک ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھا کا یہ مجسمہ افغانستان کے صوبہ بامیان میں واقع مجسمہ کے بعد ایشیاء کا دوسرا بڑا مجسمہ ہے تاہم سنگلاخ چٹان پر کندہ ہونے کی وجہ سے منگلور کا شخوڑئی مجسمہ کافی اہمیت اور مقبولیت کی حامل ہے۔ اس مجسمے کا ذکر قدیم چینی سیاحوں کے سفرناموں میں بھی باقاعدہ طور پر موجود ہے۔
دو ہزار سات میں عسکریت پسندوں نے اس مجسمےکو تین بار تباہ کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں اس تاریخی مجسمے کو جزوی نقصان پہنچا تاہم اطالوی حکومت کے ارکیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے سوات کے قدیم آثار اور تاریخی مقامات کو مرمت کرکے اپنی اصل حالت میں واپس لانے کا عندیہ دے دیا ہے اور اس سلسلہ میں کئی ایک جگہ پر مرمت کا کام بھی کیا گیا ہے جوکہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کےلئے ایک دفعہ پھر توجہ کے مراکز بنے ہوئے ہیں۔ مرمت کردہ آثار قدیمہ میں جہان آباد کے مقام پر واقع دنیا کا دوسرا بڑا بدھا کا مشہور مجسمہ شخوڑئی بھی شامل ہے۔
شخوڑئی مجسمہ کو عسکریت پسندوں کی جانب سے رات کی تاریکی میں بارود سے اُڑانے کی کئی بار کوشش کی گئی تاہم شائد زیادہ اونچائی کی وجہ وہ اس کو مکمل طور پر تباہ نہ کرسکے یہاں تک کہ مجسمہ کے چہرے میں ڈرلنگ کے بعد بارود بھر دیا گیا اور دھماکے سے اڑادیا گیا تاہم بدھا کے چہرے کے بالائی حصے کے علاوہ باقی مجسمہ محفوظ رہا۔ جس کے بعد ڈاکٹر لوکا کی قیادت اور اطالوی حکومت کی کوششوں سے مجسمہ کی مرمت اور بحالی ممکن ہوئی اور مجسمہ اپنی اصلی حالت میں ایستادہ ہوا
منگلور میں واقع شخوڑئی بدھا کے بارے میں آثارِ قدیمہ کے ماہرین کہتے ہیں یہ مجسمہ ریاضی اور آرٹ کی اصولوں پر بنایا گیا ہے۔اونچائی ، چھوڑائی سمیت ابھرائی اور ناپ کا خاص خیال رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے اس مجسمہ کو جن زاویوں اور فاصلوں سے دیکھا جاسکتا ہے ان زاویوں اور فاصلوں کی کیلکولیشن کی گئی ہے اور کسی بھی زاویے سے اس کی شکل میں بگاڑ محسوس نہیں ہوتا۔
وادئی سوات میں اس قسم کے آثار جگہ جگہ بکھرے پڑے ہیں دریائے سوات کی وادی کئی ہزار سال سے حملہ آوروں کی آماجگاہ رہی ہے یہاں چکدرہ برج سے لے کر سیدوشریف تک گندھارا کے آثار، بدھ خانقاہیں اور شاہی عمارتیوں کے آثار پائے جاتے ہیں۔زیادہ تر قدیم تاریخی جگہیں بریکوٹ سیدو شریف اور اوڈیگرام کے آس پاس ہیں جن کی زیارت کیلئے سنہ دو ہزار سے قبل زائرین کا تانتا بندھا رہتا تھا تاہم جب عسکریت پسندی کا دور شروع ہوا اور حالات خراب ہوئے تو بین الاقوامی زائرین کا آنا بند ہوگیا تاہم بحالی کے بعد اب باہر دنیا سے ان آثار کو دیکھنے اور ان کی زیارت کرنے کیلئے لوگ آنا شروع ہوگئے ہیں اور حالیہ دنوں میں بھی سری لنکا سے زائرین نے سوات کا دورہ کیا تھا اور اپنے مذہبی مقامات کی زیارت کی تھی، اس حوالے سے محکمہ آثار قدیمہ اور محکمہ سیاحت کا مشترکہ موقف ہے کہ حکومت مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کیلئے سنجیدہ ہیں اور اس سلسلہ میں بدھسٹ ٹریل کے نام سے ایک منصوبہ بھی زیر تکمیل ہے جسے مکمل کرنے کیلئے حکومت پر عظم ہیں یہ ٹریل سوات اور صوابی سے ہوتے ہوئے صوبہ پنجاب کے علاقہ ٹیکسلا تک ہوگی اور اس ٹریل پر جگہ جگہ بدھ مت سے وابستہ آثار اور مقامات تک زائرین کی رسائی اور رہنمائی میں کافی آسانی پیدا ہوگی۔
آثار قدیمہ پر تحقیق کرنے والے سوات کے معروف محقق محمد پرویش شاھین جن کا تعلق بھی اسی گاؤں سے جہاں یہ مجسمہ واقع ہے کے مطابق دنیا میں واحد شخوڑئی وہ جگہ ہے جہاں اس مجسمہ کچھ ہی فاصلے پر بدھا کے اقوال پر مشتمل کتبے کندہ ہیں۔ماہرین کے مطابق سوات میں تقریباً ایک بزار سال قبل اسلام کی آمد ہوئی تاہم یہاں پر بسنے والے مسلمانوں نے مجموعی طور پر ان آثار کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس کے برعکس ان آثار کو محفوظ رکھا۔










وکٹوریہ بریج تحریر : حسن ریاض آہیر
میری آج کی تحریر کا عنوان ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل ملکوال اور ضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادنخان کے درمیان دریائے جہلم پر موجود وکٹوریہ بریج ہے۔ یہ پل آج سے تقریباً 90 سال پہلے برٹش راج میں انگریزوں نے تعمیر کیا۔ یہ پل ٹرین کی آمد و رفت کے لیے بنایا گیا تھا جو ملکوال سے پنڈ دادنخان، کھیوڑہ اور غریبوال کیطرف چلتی تھی۔
پنڈ دادنخان اور ملکوال کے درمیان آمد و رفت کا واحد ذریعہ یہ پل تھا اور افسوس کہ آج 90 سال بعد اس جدید دور میں بھی یہ ہی ایک ذریعہ ہے بلکہ اگر کہا جائے کہ دو ضلعوں کے درمیان آمد و رفت کا واحد ذریعہ یہ ہے ان علاقوں کی عوام کے لیے تو غلط نا ہو گا۔ ضلع جہلم اور ضلع منڈی بہاؤالدین کے علاؤہ ڈویژن سرگودھا کے ضلع بھلوال، بھیرہ کی عوام بھی اسی پل پر انحصار کرتی ہے۔
ہر سال عوام کے ساتھ متعدد حادثات اس لوہے کے بنے پل سے پیدل یا موٹر سائیکل گزارنے کے دوران پل سے گرنے کیوجہ پیش آتے ہیں یہاں سے اگر کوئی گرے تو نیچے موجود دریا اسے نگل جاتا ہے۔ عورتیں، بچے، بزرگ اور جوان متعدد جانیں یہاں گنوا چکے۔
ہر الیکشن کے قریب حکمران ان علاقوں کی عوام سے وعدہ کر کے ووٹ لیتے ہیں کہ یہ پل ہم بنائے گے 5 دہائیوں سے عوام یہاں پل بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔پہلے یہاں پل کی تعمیر کا مطالبہ ایوب خان کے دور حکومت میں سامنے آیا، جنرل ضیاالحق نے 1996 میں اس منصوبے کو مکمل کرنے کا وعدہ کیا، جنرل پرویز مشرف نے سنگ بنیاد رکھا اور اس کے لئے ایک ارب روپے کی منظوری دی تھی، پھر چوہدری پرویز الٰہی نے اکتوبر 2007 میں ملکوال میں سنگ بنیاد رکھا اور 2018 میں شہباز شریف نے بھی سنگ بنیاد رکھا اور عوام سے ووٹ مانگے۔
اس پل کی تاخیر میں ایک بڑی وجہ سیاسی مفادات ہیں کچھ سیاسی اثرورسوخ والے پل چک نظام کے قریب اور کچھ دامن حضر کے قریب چاہتے ہیں۔حکومت وقت اور خاص طور پر ندیم افضل چن صاحب اور فواد چوہدری صاحب سے درخواست ہے کہ برائے مہربانی اس مسلے پر توجہ مرکوز کریں اور پی ٹی آئی کے دور میں یہاں پل بنائے۔

حاسد، حسد اور شر تحریر: احسان الحق
حسد تقدیر اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم کے منافی سوچ ہے. حسد کے دو معنی ہیں. کسی انسان کی خوبصورتی، شکل و عقل، رزق وغیرہ جیسی نعمتوں اور کامیابیوں پر کڑھنا، جلنا اور غصہ کرنا. دوسرا معنی ہے کہ کسی انسان کی کامیابیوں اور نعمتوں کے زوال اور چھن جانے یا زائل ہونے کی خواہش کرنا. حسد دل کی بیماری ہے. حسد دل کے عوارض کا سبب بنتا ہے اور جب کسی کا دل تعصب، کینہ اور حسد کا شکار ہو جائے تو پھر دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو جاتے ہیں.
اللہ تعالیٰ نے سورۃ فلق میں جن شرور سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے ان میں حاسد کے حسد کا ذکر بھی ہے. اللہ تعالیٰ نے سورۃ فلق میں بڑے اور خطرناک شرور کا ذکر کیا ہے. اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ تمام مخلوق کے شر سے جو کسی شر یا نقصان کا سبب بن سکتی ہیں، اندھیرے کے شر سے، جادو کے شر سے اور حاسد کے حسد یا حسد کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے. یقیناً حاسد کا حسد یا حسد کا شر بہت مہلک بیماری ہے.حسد کا مطلب نعمتوں پر اعتراض اور اختلاف کرنا ہے. حاسد کسی بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں پر اعتراض یا اختلاف نہیں کر رہا ہوتا دراصل وہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم اور عطاء پر اعتراض کر رہا ہوتا ہے. اللہ تعالیٰ نے تقسیم کے فیصلے زمین و آسمان کی پیدائش سے 50 ہزار سال پہلے کئے. ایک مومن بندہ دنیا اور آخرت کی بہتری کے لئے رشک کر سکتا ہے. حسد اور رشک میں فرق ہے. حسد کا مطلب کہ فلاں کے پاس فلاں چیز کیوں ہے یا نہ ہو. رشک کا مطلب کہ اس کے پاس جو چیز ہے وہ میرے پاس بھی ہو. ایک مسلمان دوسرے انسان کی نعمتوں، کامیابیوں اور رزق کی فراوانی دیکھ کر رشک کر سکتا ہے، رشک کرنے میں کوئی حرج نہیں اور دینوی اور اخروی معاملات میں رشک کرنا بھی چاہئے.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بہترین کلیہ بتایا ہے کہ شرعی معاملات میں اپنے اوپر والے بندے کو دیکھو جو آپ سے علم، عمل اور تقوے میں بہتر ہو تاکہ تمہارے اندر عمل اور پرہیزگاری کا پہلے سے زیادہ شوق پیدا ہو. دنیاوی معاملات میں اپنے سے نیچے اور زیادہ غریب آدمی کو دیکھو تاکہ تمہارے اندر مال اور دنیا کی حرص پیدا نہ ہو اور نہ ہی تم احساس کمتری کا شکار ہو. جب انسان دنیا داری میں اپنے سے نیچے والے بندے کو دیکھے گا تو حسد پیدا نہیں ہوگا اور جب عبادت اور عمل میں اپنے سے اوپر والے بندے کو دیکھے گا تو اس میں عمل اور نیکی کا حرص پیدا ہوگا.
امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے ملنے کے لئے ایک ساتھی صحابی کے ساتھ حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے. آپ امیرالمؤمنین کسی سرکاری کام میں مصروف تھے اور دربان کو کہا کہ وہ میرا انتظار کریں. اسی اثناء میں حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ بھی ملاقات کی غرض سے تشریف لے آئے. امیرالمؤمنین کو پتہ چلا تو آپ کام چھوڑ کر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ کو ملنے چلے آئے. بعد میں حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے اپنے ساتھی صحابی سے گلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ امیرالمؤمنین نے عدل نہیں کیا، ہمیں انتظار کروایا اور بلال کو اسی وقت ملنے چلے آئے. ساتھی صحابی رسولۖ نے ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے فرمایا کہ حسد مت کرو، ہم نے فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا اور بلال نے جس وقت اسلام قبول کیا اس وقت اسلام قبول کرنا بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا اور بلال نے بہت صعوبتیں برداشت کیں. اللہ تعالیٰ نے بلال کو دنیا اور آخرت میں ہم سے بہتر مقام عطا کیا ہے لہذا جلنا اور حسد کرنا درست نہیں. جب آخرت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کو بڑی عزت و تکریم سے نوازیں گے تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کی تقسیم اور نوازش پر اعتراض کرے گا؟
اس دنیا میں رونما ہونے والے پہلے فتنے کی بنیاد بھی حسد اور غرور پر ہے. ابلیس کا خیال تھا کہ روئے زمین پر ایسی کوئی جگہ خالی نہیں جہاں میں نے سجدہ نہ کیا ہو، اب مجھے حکم دیا جا رہا ہے کہ مٹی کی پیداوار کو سجدہ کروں جو مجھ سے کمتر ہے. ابلیس مقام آدم کو دیکھ کر حسد میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ سے بغاوت کر گیا اور قیامت تک ملعون قرار پایا. شیطان نے اسی حسد کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے بھی نکلوایا.
اللہ تعالیٰ نے باقاعدہ تعلیم دی ہے کہ حاسد کے شر سے بچنے کے لئے پناہ طلب کرو. آخرت کے دن وہی لوگ جنت میں داخل ہونگے جو قلب سلیم لے کر آئیں گے. جن کے دل عوارض سے پاک ہوں گے مطلب ان کے دل کسی قسم کے حسد، تعصب اور بغض کی خباثت سے پاک ہوں گے.@mian_ihsaan

مانسہرہ کی تاریخ تحریر:یاسرشہزادتنولی
پاکستان کا سب سے خوبصورت شہر مانسہرہ ہے.
مانسہرہ شہر خیبر پختونخواہ کے صوبے میں واقع ہے. یہ پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ ہے. یہ ایبٹ آباد شہر کے قریب ہے. یہ کارکرم ہائی وے پر سیاحوں کے لئے ایک اہم سٹاپ ہے جس میں چین کی طرف جاتا ہے. یہ شمالی علاقوں اور مقامات جیسے کاغان وادی، ناران، شوگراں، جھیل سیف الملوک اور بابوسر اوپر کے لئے ایک اہم ٹرانزٹ نقطہ بھی ہے. اس شہر میں سب سے بڑی تعداد میں تاریخی مقامات موجود ہیں. سرن اور دریاۓ کہنار ضلع کے معروف دریا ہیں. سرن پنجول کے اور پکھلی کے مغربی کنارے کے ذریعے بہتی ہے. دو نہریں سرن دریا، شریریاری میں داراللہ اور کم سرن واال میں سرانڈر کے اوپر سے اوپر لے جایا گیا ہے.
مانسہرہ ضلع میں تین خوبصورت جھیل ہیں. یہ کاغان وادی میں پہاڑی کی حد کے برف پہاڑوں کی چوٹیوں سے گھیرۓ ہوۓ ہیں. ان جھیلوں کے نام لولیسر، آنسوجھیل اور جھیل سیف الملوک ہیں. بابرس کی چوٹی کے قریب سابق دو جھوٹے ہیں جبکہ ناران کے قریب ایک مؤرخ ایک بہت اچھا ہے، جب اس کا پورا چاند ہے اور آپ ضلع کے سب سے شاندار علاقے میں ہیں. مانسہرہ، شوگراں-ناران اور ناران میں جب آپ جھیل سیف الاسلام پر واقع ہوں گے. یہ ایک شاندار منظر ہے، چاند کی روشنی جھیل پر گر جاتی ہے اور ارد گرد کے پہاڑوں پر خوبصورت کرن کی عکاسی کرتا ہے۔
مانسہرہ میں سب سے بڑی تاریخ ہے.
اس کے جغرافیائی حدود گزشتہ مہینے میں مختلف راجس، مہاراجہ اور کنگز کے دور میں مسلسل تبدیل ہوگئے ہیں. شمالی فتح حاصل کرنے کے بعد الیگزینڈر نے عظیم. انڈیا اس کے بڑے حصے پر اپنا حکمران قائم کیا.
مختلف مورخین کا خیال ہے کہ سال 327 بی سی میں الیگزینڈر نے اس علاقے کو ابسراس کو پونچ ریاست کے راجا کے حوالے کردیا. موری خاندان کے دوران مینہرا ٹیکسیلا کا حصہ رہے. دوسری صدی میں ایک صوفیانہ ہندو بادشاہ راجہ رسوالو، سیالکوٹ کے راجا سالبھن کے بیٹے، اس علاقے کو اپنے راستے میں لے آئے مقامی لوگ اس کے ہیرو اور آج بھی والدین کے طور پر غور کرتے ہیں، اپنے بچے کو موسم سرما کی راتوں میں راجہ رسوالو اور ان کی بیوی رانی کونکلان کی کہانیاں بیان کرتے ہیں. یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ترکی شاہی اور ہندسی شاہی خاندانوں نے ایک بار پھر پاکھلی پر حکمرانی کی.
ایک بار پھر 11 ویں صدی میں ہندو شاہی خاندان کے خاتمے کے بعد کشمیریوں نے اس علاقے پر کلشن (1063 سے 1089 ع) کی قیادت میں قبضہ کر لیا. 12 ویں صدی کے آخری سہ ماہی میں اسسٹنٹ خان، محمد غوری کا ایک جنرل، اس علاقے پر قبضہ کر لیا لیکن جلد ہی محمد غوری کی موت کے بعد کشمیر ایک بار پھر اسے قبضہ کر لیا. 1472 ء میں ڈاکٹر شہزادہ شاہد الدین کابل سے آئے اور یہاں اس کا اقتدار قائم کیا. انہوں نے ریاستی طور پر پاکی سارکر کی بنیاد رکھی اور گاؤں گلبغ کو اپنی دارالحکومت کا انتخاب کیا. 18 ویں صدی کے پہلے سہ ماہی میں، ترکوں کے لئے بدقسمتی ہوئی کیونکہ ان کی حکمرانی ان کی وحدت کے قیام اور پختونوں اور ان کے اتحادی قوتوں کی بڑھتی جارہی ہے. سب سے زیادہ اہم حملہ 1703 ء میں سید جلال بابا کے حکم میں سوات کا تھا، انہوں نے ترکوں کو نکال دیا اور اس علاقے پر قبضہ کر لیا. 1849 میں. ڈی. اس علاقے میں برتانیہ کے براہ راست کنٹرول کے تحت آیا. 1901 ء میں جب NWFP صوبے قائم کیا گیا تو، ہزارہ پنجاب سے الگ ہوگئے اور سرحد سرحد کا حصہ بنا.
مانسہرہ کی مشہور سوغات میں کھوہ چپلی کباب اور پکوان مشہور ہیں۔
آج مانسہرہ خوبصورت خوبصورتی کی ایک جگہ ہے. موسم سرما میں زیادہ موسم سرما میں سرد ہے اور موسم گرما میں خوشی سے گرم ہے. کاغان وادی جیسے شمالی حصے موسم گرما میں سرد ہے اور موسم سرما میں انتہائی سردی ہے اور اس کی بھاری برف گرنے کا امکان ہے. ضلع دو مختلف موسم ہے؛ موسم گرما کا موسم جو اپریل سے ستمبر تک ہوتا ہے اور موسم سرما کا موسم ہے جو اکتوبر سے مارچ تک ہے. جون کے مہینے میں زیادہ سے زیادہ اور کم از کم درجہ حرارت کا اندازہ تقریبا 35 ° C اور 21 ° C ہے.
آگ لگادو آگ۔۔۔۔
تحریر:(یاسرشہزادتنولی)بجلی کے بلوں کو آگ لگادو جلدی جلدی میں بھی آگ لگارہا ہوں یہ دیکھو۔کوئی ٹیکس نہ دے بلکل نہ دے۔ ہم حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم متحد ہیں۔آج سے 2 سال پہلے ایک شخص کی طرف سے عوام سے محبت کااظہار کچھ اسطرح سے کیا گیا تھا کہ بجلی اگر سستی نہ ہوئی تو پاکستانی قوم اپنے بل نہیں بھرے گی، اور نہ ہی ٹیکس ادا کرےگی۔ لوگ حق حلال کا پیسہ کمارہے ہیں۔کیوں یہ سب برداشت کریں؟ بل جلوادیے گئے اور آج وہی لوگ عواپ کو تلقین کررہے ہیں کہ اگر آپ لوگ ٹیکس ادا کرینگے تو اپنے ملک کےلیے، اور فائدہ سوچیں تو اپنے ملک کی ترقی میں حصہ ڈالیں گے۔ تب ملک کی ترقی کہاں تھی جب صرف ایک دشمنی اور بغض کی وجہ سے اس عظیم ملک کو نقصان پہنچانے کی باتیں کی جارہی تھیں جس وطن کو اتنی تکلیفوں اتنی مصیبتوں اور جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیااور جہاں ہمارے بزرگوں کی قربانیاں، افواج پاکستان کا خون اس وطن کی مٹی میں شامل ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک نعرہ کسی بھی ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔اگر وہ نعرہ مثبت ہو تو ترقی کی راہیں کھل جاتی ہیں اور اگر وہ نعرہ منفی ہو تو تنزلی اور پستی مقدر بنتی ہے۔ اگر عوام میں شعور بیدار ہوگا تو انقلاب آئے گا اور اس دور میں یہ انقلاب آنا بہت ضروری ہے۔ قوم کی تقدیر عوام کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور باشعور قوم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ مگر اس ملک میں عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے اتنا دبا دیا ہے کہ وہ گیس ، بجلی اور پانی کے بلوں میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ حکمران کوئی بھی ہو جب تک عوام باشعور نہیں ہوگی اور یہ فرسودہ زنگ لگا ہوا نظام نہیں بدلےگا تب تک کچھ صحیح نہیں ہوسکتا۔لہٰذا تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے والوں کو چاہیے کہ یوـ ٹرن لینے کے بجائے عوام کے مسائل کو حل کریں نہ کہ انکے لئے مزید پریشانی کا سبب بنیں۔
https://twitter.com/YST_007?s=09
ہمارا بلوچستان . تحریر : سید غازی علی زیدی
جیو سٹریٹیجک مقام، پاکستان کا دوام، وسطی ایشیا کا در، دشمنوں کیلئے ڈر، معدنی وسائل سے مالامال، یہی خصائص جان کا وبال، پاکستان کی جان ہمارا بلوچستان
سکندر اعظم سے نادرشاہ تک اورمنگولوں سے انگریزوں تک، بلوچستان کی تاریخ قدیم بھی ہے اورجنگجویانہ بھی ممتازتاریخ دان ہرزفیلڈ کے مطابق لفظ بلوچ کے معنی "بلند چیخ” کے ہیں۔ جبکہ کچھ تاریخی کتب میں بلوچ کے معنی "اعلیٰ طاقتور” بیان کئے گئے ہیں۔ تہذیب وثقافت ہو یاطرز بودوباش، لباس ہو یا اقدار، بلوچوں کی روایات سب سے منفرد اور مختلف ہیں۔
رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، سب سے زیادہ پسماندگی کا شکار ہے۔ بلوچستان، اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے، ہمیشہ سے اپنے اور پرائے کی آنکھوں میں یکساں کھٹکتا، دنیا کے حساس ترین خطوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ خطہ ارض وسط ایشیا کا دروازہ بھی ہے اور گرم پانیوں تک رسائی کا ذریعہ بھی۔ طویل ساحل اور بیش بہا قدرتی وسائل کی بنیادپر ایشیا سے لیکر یورپ تک ہرعالمی طاقت نے اس پر تسلط کے خواب دیکھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کبھی گریٹر بلوچستان تو کبھی آزاد بلوچستان کے نام پر عالمی طاقتیں اس کو اپنے زیر نگیں لانا چاہتی ہیں۔
گوادر پورٹ ہو یا چائنا پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ؛ بلوچستان، جہاں ایک طرف غیر ملکی سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کی توجہ کا مرکز بن چکا وہیں پر امن و امان اور روشن مستقبل کو سبوتاژ کرنے کیلئےدہشتگرد اورعلیحدگی پسند قوتوں کی جارحیت کا بھی مسلسل نشانہ بنا رہاہے۔
لیکن اب موجودہ حالات میں بلوچستان تاریخ کے اہم ترین موڑ پرکھڑا ہے۔ دشمنوں اپنے ناپاک عزائم سمیت پورے طور پرآشکارہوچکےہیں۔ کبھی کلبھوشن یادیو کی صورت میں ازلی دشمن کا مہرہ اپنی چالوں سے خطے کو غیر مستحکم کرنے کی ناکام کوششیں کرتا تو کبھی بظاہر دوست بنے آستین کے سانپ فرقہ ورانہ فسادات کی آڑ میں امن و سکون کی دھجیاں بکھیر دیتے۔ لیکن شاید وہ اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ بلوچ سر کٹ تو سکتا مگر جھک نہیں سکتا۔
فی الوقت بلوچستان دو مختلف ادوار سے ایک ساتھ گزر رہا ایک طرف جا بہ جا بکھرے، چشم انسانی سے پوشیدہ، جلوے بکھیرتے قدرتی نظارے: اسرار میں ڈوبی جھیلیں، رنگ رنگ کے پہاڑ، بیش قیمت پتھروجواہرات، رسیلے تازہ پھل، دل موہ لیتی آبشاریں، گنگناتے چشمے، جھھومتے جھرنے ہیں، جبکہ دوسری طرف پسماندگی، غربت، جہالت، بےروزگاری،احساس محرومی، ناکافی ترقیاتی سرمایہ کاری، قبیلوں و قومیتوں میں بٹے، نسلوں سے نوابوں اور سرداروں کی غلامی کرتے بلوچ عوام، اور اندرونی و بیرونی ریشہ دوانیوں کا شکار معصوم جوان۔ وسائل اور مسائل کے درمیان حائل گہری خلیج نے برسوں سے اس خطے کو شرپسندوں کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔
بلاشبہ ماضی میں یہ صوبہ غیر مربوط منصوبہ بندی اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے بدحالی اور پسماندگی کا شکار رہا ہے۔ ماضی کی حکومتوں کے بلوچستان کیطرف معاندانہ رویے بھی بلوچ جوانوں میں بغاوت کی ایک بہت بڑی وجہ بنے ہیں حکومت اور عوام کا ٹکراؤ ہمیشہ غیر ضروری پیچیدگیوں کو جنم دیتا۔ نظریاتی سوچ کا چورن بیچتے قوم پرست سردار، غیر ملکی قوتوں کی پشت پناہی سے، چند نوجوانوں کو ورغلا کر اپنی ہی ریاست کیخلاف علم بغاوت بلند کئے ہوئے ہیں۔اس حقیقت کو فراموش کئے کہ غدار کی نہ تو کوئی عزت ہوتی نا وقار۔ بھٹکے ہوئے بلوچ نوجوان نواب، میر، سردار کے گرد گھومتی سیاست کی بھول بھلیوں میں بھٹک کر رہ گئے ہیں۔ تاریخی دوراہے پر کھڑا پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ترقی کی دہلیز پر ہے۔ خوشحال بلوچستان کا صدیوں پرانا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کو ہے۔ لیکن یہ تعمیر و ترقی دشمنان وطن کو کیسے ہضم ہوسکتی؟ مشرقی بارڈر سے لیکر مغربی بارڈر تک، دشمن حسد و جلن کی آگ میں جل رہے اور ان کی پوری کوشش کہ اس آگ کی لپٹیں خاکم بدہن بلوچستان کو جلا کر راکھ کر دیں۔ لیکن انشاء اللہ العزیز وہ اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے کیونکہ دشمن کے راستے کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار وہ غیور بلوچ سردار و جوان ہیں جن کا جینا مرنا پاکستان کیلئے ہے جو مر تو سکتے مگر مادر وطن سے غداری کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ رہی بات باقی صوبوں کے عوام کی تو وہ بخوبی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ بلوچستان کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی ہے۔ غیرت مند بلوچ نہ تو کبھی پاکستان کا دشمن ہو سکتا نہ کبھی دشمن کا آلہ کار بن سکتا۔
بقول اقبال
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہرفرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
پاکستان زندہ باد@once_says

















