Baaghi TV

Category: تفریح و سیاحت

  • جنگلات ہمارا مستقبل . تحریر : محسن ریاض

    جنگلات ہمارا مستقبل . تحریر : محسن ریاض

    جنگلات اس وقت ہماری اہم ترین ضرورت بن چکا ہے کیونکہ موسم میں اتنی تیزی سے اور ڈرامائی انداز میں تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں کہ اس کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا اس کی ایک مثال بے موسمی اور اوسط سے زیادہ بارشوں کا ہونا ہے اس کی ایک تازہ مثال اس وقت چین میں موجود ہے جہاں گزشتہ دنوں اتنی شدید بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا کہ اس نے سیلاب کو صورتحال اختیار کر لی جس کی وجہ سے مالی نقصان کا تخمینہ لگانا تو اس وقت بہت مشکل ہے لیکن 33 کے قریب انسانی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے اس کے علاوہ اور بہت سارے جزائر جن کے ساحل پانی میں اضافے کی وجہ سے ڈوب رہے ہیں -درختوں کے کٹاؤ کے حوالے سے کوئی واضح قانون بھی نہیں جس کی وجہ سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں درختوں کو لکڑی کے حصول کی غرض سے یا پھر ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کے چکر میں کاٹ دیا جاتا ہے جس کا نقصان پورے ملک کو بھگتنا پڑتا ہے گزشتہ دنوں ملتان میں ڈی ایچ ائے سوسائٹی کے نئے فیز کے لیے لاکھوں آم کے درختوں کا قتل عام کیا گیا اور آم کا درخت کئی عشروں کے بعد جا کر پروان چڑھتا ہے مگر کاٹنے میں چند گھنٹوں کا وقت درکار ہوتا ہے اسکے علاوہ ایسی زمینوں پر بھی سوسائٹیاں بنائی جا رہی ہیں جہاں پر کاشتکاری کی جاتی ہے مگر کسانوں کو مناسب دام نے ملنے پر دلبرداشتہ ہو کر مافیا کو زمینیں بیچنے پر مجبور ہیں -اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی ہونی چاہیے کہ ایسی زمین جہاں پر باغات ہیں یا پھر زراعت کے لیے استعمال ہو رہی ہے وہاں پر کسی صورت بھی سوسائٹی یا کنسٹرکشن کی اجازت نہیں ہونی چاہیے-

    اس کے علاوہ اس وقت ٹیکنالوجی اور ریسرچ میں بہت ترقی ہو چکی ہے میواکی کے ذریعے بہت کم وقت میں گھنے جنگل اگائے جا سکتے ہیں اس طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے آپ پہلے ایسے ردخت لگاتے ہیں جو انتہائی تیز رفتاری سے بڑھتے ہیں اس کے بعد دیگر اقسام کے درخت لگائے جاتے ہیں اس طرح چند سالوں میں گھنا جنگل تیار ہو جاتا ہے اس طریقے پر عمل کرتے ہوئے لاہور اور کراچی میں چند چھوٹے چھوٹے جنگل لگائے جا چکے ہیں موجودہ حکومت اس بارے میں کافی حد تک سنجیدہ ہے اس حوالے سے شجر کاری مہم کا آغاز بھی کیا گیا ہے زیتون کے جنگلات لگائے جا رہے ہیں اور پہلے سے موجود درختوں کو پیوند کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ زرمبالہ بھی کمایا جا سکے -اور اہم وجہ جس کی وجہ سے جنگلات میں کمی واقع ہو رہی ہے وہ ہے فاریسٹ آفیسرز کی عدم توجہ اور ملی بھگت جس کی وجہ سی جنگلات سے قیمتی لکڑی چوری کی جاتی ہے-اس حوالے سے حکومت کو چاہئیے کہ ریکارڈ ترتیب دیا جائے جس کی بنا پر چیکنگ کی جائے تاکہ اس کی روک تھام کی جا سکے-درختوں کے موسم پر ہونے والے اثرات کے حوالے سے آنکھوں دیکھا حال آپ کو بتاتا چلوں کہ جس وقت آپ شہر لاہور میں پھرتے پھراتے جامعہ پنجاب میں داخل ہوتے ہیں تو درجہ حرارت ہیں کافی حد تک کمی دیکھنےکو ملتی ہے یہ صرف اس وجہ سے کہ وہاں درختوں کی بہتات ہے اس وقت بحثیت قوم یہ ہماری زمہ داری ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور دوسروں کو بھی اس طرف مائل کرئیں تاکہ ہم آنے والی نسلوں کو زندگی گزارنے کے لیے ایک بہتر ماحول فراہم کر سکیں-اس کے علاوہ گلیشئرز کے پگھلنے میں بھی گزشتہ کئی سالوں میں تیزی دیکنھے میں آئی ہے جس کی بنیادی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ ہے جس کی وجہ سے سیلاب کے خطرات موجود رہتے ہیں اس لیے ہم سب کو اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیےاور گلشن کو سنوارنے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئیے۔

    mohsenwrites@

  • ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات . تحریر : عمران اے راجہ

    ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات . تحریر : عمران اے راجہ

    پارٹ ۱:
    پاکستان کے لیے سنہ 1992 دو لحاظ سے بہت یادگار ہے۔ ایک تو ہم نے کرکٹ ورلڈ کپ جیتا دوسرا ساؤتھ افریقہ دریافت کیا۔
    وجۂ دریافت بھی جونٹی رھوڈز کا انضمام الحق کو کیا گیا رن آؤٹ تھا ورنہ شاید ہم مزید کچھ عرصہ اس ملک سے بےخبر رہتے۔
    کم ہی لوگ جانتے ہوں گے نیلسن منڈیلا کو اقتدار کی منتقلی اور apartheid کے خاتمے سے پہلے ساؤتھ افریقہ بھی اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے پاسپورٹ پر بین لسٹ میں موجود تھا۔ وجہ تھی گوروں کا کالوں کے ساتھ نسلی امتیاز۔ جو خیر آج کے دور میں بالکل ایک دوسرے کے الٹ ہو چکا ہے۔

    ساؤتھ افریقہ میں ویسے تو بہت سے مقامات ٹورازم میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں مگر نمایاں مقام “Table Mountain” اور “Kruger National Park” کو حاصل ہے۔ ٹیبل ماؤنٹین کو تو دنیا کا آٹھواں عجوبہ تسلیم کروانے کی مہم بھی چلی تھی جو فی الوقت پائپ لائن میں ہے۔ “کروگر نیشنل پارک” کو ساؤتھ افریقہ میں وہی مقام حاصل ہے جو پاکستان میں “لاہور” کو۔ افریقہ آئے اور آپ نے کروگر پارک نہیں دیکھا تو سمجھیں کچھ نہیں دیکھا۔ “Big Five” کے لیے مشہور اس پارک میں آپ ناصرف قدرتی جنگل سے محظوظ ہو سکتے ہیں بلکہ سیزن میں “شیر” کی جھلک بھی دکھ سکتی ہے۔ کروگر کے سفر کو تبھی کامیاب تصور کیا جاتا ہے جب آپ Big Five میں سے کم سے کم تین دیکھ لیں اور ان میں شیر بھی شامل ہو تو پیسہ وصول۔
    کروگر کا رقبہ اتنا وسیع ہے کہ تین ممالک کے بارڈر کو چھُوتا ہے اور تمام تر سہولیات کے باوجود دو تین دن میں بھی پورا دیکھنا ناممکن ہے۔

    اس پارک کو جہاں بڑھتی ہوئی انسانی آبادی سے خطرات لاحق ہیں وہیں جانوروں کا غیرقانونی شکار کھیلنے والے “پوچرز” بھی ہاتھی اور گینڈا کی نسل کو تیزی سے ختم کر رہے ہیں۔ موزمبیق کی طرف بارڈر بہت دشوارگزار ہونے کی وجہ سے مکمل نگرانی مشکل ہے اور یہیں سے فائدہ اٹھا کر شکاری اپنا داؤ کھیلتے ہیں۔ اس کے باوجود SanParks جن کے لیے میں فوٹوگرافی بھی کرتا ہوں ڈرون اور ہیلی کاپٹرز کے علاوہ اب ڈاگ یونٹ بھی میدان میں لایا ہے۔ صرف 2012 میں 300 کے قریب پوچرز کو پکڑا گیا اور لگ بھگ تیس سے چالیس مختلف مقابلوں میں مارے گئے۔ یاد رہے ان مقابلوں میں حفاظتی اہلکار جنہیں “رینجرز” کہا جاتا ہے اکثر جنگلی جانوروں یا پھر پوچرز کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ حال ہی میں پوچرز کے ایک ہیلی کاپٹر پر فائرنگ سے نوجوان رینجر اہلکار ہلاک ہو گیا۔ اور ایسے بہت سے واقعات ہیں جن میں شکاری بھی جنگلی جانوروں کا شکار ہوئے اور موزمبیق سے آنے والا اٹھارہ شکاریوں کا دستہ شیروں کے ایک جھنڈ کے راستے میں آ گیا جن میں سے بمشکل تین بچ کر واپس جا پائے۔

    کروگر پارک میں کیمپنگ کے لیے محفوظ مقامات بھی بنائے گئے ہیں اور مختلف جگہوں پر نائٹ سفاری کے علاوہ ریسٹ ہاؤسز بھی ہیں مگر ان کے لیے آپ کو ایڈوانس بکنگ کروانی پڑتی ہے۔ کچھ مقامات تو اتنے مہنگے ہیں کہ شاید دونوں گردے بیچ کر بھی کچھ بقایا دینا رھ جائیگا۔
    (جاری ہے)

    @ImranARaja1

  • گلگت بلتستان کی جنت نظیر وادیاں  تحریر : محمد جاوید

    گلگت بلتستان کی جنت نظیر وادیاں تحریر : محمد جاوید

    :
    گلگت بلتستان پاکستان کے شمال میں واقع ایک ایسی جگہ ہے، جو قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ اس علاقے کو سیاحوں کی جنت بھی کہا جاتا ہے۔ اس مقام کی خاص بات یہاں کے دلکش و دلفریب مناظر عمر بھر کے لئے سیاحوں کے ذہنوں میں انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔
    پاکستان کے شمال میں واقع کوہ قراقرم،ہندوکش اورہمالیہ دیگر پہاڑی سلسلوں کے دلکش قدرتی حصار میں موجود خوب صورت اوردلکش وادیوں پرمشتمل علاقہ گلگت بلتستان کہلاتاہےجسے پہلے شمالی علاقہ جات کے نام سے جاناجاتاتھا ۔ گلگت بلتستان بنیادی طور پر دو بڑے  حصوں پر مشتمل ہے۔ایک حصہ” بلتستان “کہلاتا ہے جبکہ دوسرا” گلگت” کے نام سے جانا جاتا ہے۔
    گلگت بلتستان میں دنیا کی تین عظیم پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم، کوہ ہمالیہ اور کوہ ہندوکش بھی یہاں آن ملتے ہیں۔دنیا کی دوسری بلند چوٹی کے ٹو اور قاتل پہاڑ کے نام سے جانے جانے والا نانگا پربت بھی گلگت بلتستان میں موجود ہیں۔ گلگت بلتستان کے کل 14 اضلاع ہیں۔ سیاحتی مقامات کی اگر ہم بات کریں تو یہاں درجنوں ایسی جگہیں موجود ہیں جو اپنی خوبصورتی کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ اس بات کا واضح ثبوت یہ ہے کہ سالانہ لاکھوں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح ان مقامات کی سیر و سیاحت کیلئے آتے ہیں۔ یہاں کے مشہور سیاحتی مقامات میں فیری میڈوس، دیوسائی، راما، خنجراب، بابوسر ٹاپ، عطا آباد جھیل، شنگریلا، خلتی جھیل، پھنڈر شندور، ہنزہ بلتت اور التت فورٹ، سکردو میں شگر فورٹ اور گانچھے فورٹ، خپلو میں ہزار سال قدیم مسجد چقچن اور نلتر وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تمام سیاحتی مقامات ایک سے بڑھ کرایک ہیں۔ موسم گرما کے شروع ہوتے ہی پاکستان کے مختلف شہروں سے اور دنیا کے مختلف ممالک سے سیاح ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔
    اگر آپ ایک پلان کے تحت اپنا پروگرام مرتب کرتے ہیں تو کم بجٹ اور کم وقت میں پورا گلگت بلتستان کو دیکھ سکتے ہیں
    اسلام آباد سے بائی ایئر سکردو جانے کی صورت میں آپ کو یہ فائدہ ضرور ہوگا کہ سکردو میں تفصیلی وزٹ کے بعد، آپ دیوسائی روٹ سے گلگت ڈویژن کے بھی تمام خوبصورت مقامات پر جا سکتے ہیں۔
    سکردو میں لینڈ کرنے کے بعد 4 سے 5 دن سکردو(شگر، کھرمنک،گانچھے) کے تمام حسین ٹورسٹ سپوٹ دیکھنے کے بعد دیوسائی(Roof of the world) روٹ سے استور چلا جائے۔استور میں یکدم ہونے کے بعد آپ گلگت ڈویژن کے کسی بھی خوبصورت مقامات کا رخ کرسکتے ،جیسے ہنزہ ،نلتر، نگر وغیرہ۔اور اس کے بعد آپ گلگت  بلتستان کی جنت نظیر وادی غذر کو اپنا منزل بنائیں
    گلگت بلتستان کاضلع غذر صوبے کے خوبصورت ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ خوبصورت آبشاریں فلک بوس پہاڑ اور یہاں کی جھیلیں سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتی ہیں اور غذر یہاں پر پانے جانے والے مختلف اقسام کے پھلوں کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے یہاں پر پائی جانے والی درجنوں اقسام کی چیری اس علاقے کی پہچان ہے۔ جبکہ باغبان حضرات کے باغات میں مختلف نسل کے خوبانی کے درخت ہیں اور یہ خوبانی ذائقے کے لحاظ سے ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ اس علاقے کو دیکھنے کے لئے سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح یہاں کی خوبصورت وادیوں میں خیمہ زن ہوتے ہیں اگر آپ گلگت بلتستان آگئیے اور غذر کی خوبصورت ترین وادی پھنڈر زمین میں جنت کا ایک ٹکڑا ہے اور اگر اسکو نہیں دیکھا تو آپ نے کچھ نہیں دیکھا زیر نظر تصویر بھی وادی پھنڈر کی ہے یہاں آنے والے سیاح اس خوبصورت وادی میں کئی کئی روز قیام کرتے ہیں۔ پھنڈر سے ہوتے ہوۓ آپ براستہ شندور چترال اور پھر پشاور سے ہوتے اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں

    @I_MJawed

  • قلعہ دراوڑ اور محکمہ سیاحت کی عدم دلچسپی . تحریر : جام محمد ماجد

    قلعہ دراوڑ اور محکمہ سیاحت کی عدم دلچسپی . تحریر : جام محمد ماجد

    قلعہ دراوڑ بہاول پور سے 48 کلو میٹر دور پاکستان کے قدیم اور بڑے قلعوں میں سے ایک ہے۔ اس قلعہ کی بدقسمتی کہیں کے جب بھی آثار قدیمہ اور لوک ورثہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو موھنجودوڑواور ھڑپہ کی تعمیرات کے علاوہ لوگوں کے ذہن میں قلع روہتاس کی بات ہوتی لیکن بھولے بسرے ہی کسی کو قلعہ دراوڑ کی یاد آتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کے محکمہ سیاحت اور آثار قدیمہ والوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے سابقہ ریاست بہاول پور کا عظیم الشان قلعہ جو کے سرائیکی علاقوں کی پہچان ہے رفتہ رفتہ بد حالی کا شکار ہو کے لوگوں کی یادوں سے محو ہوتا جا رہا ہے۔

    جب کہ قلعہ دراوڑ ایک بہت ہی اہمیت کا حامل سیاحتی مقام ہے جسے حکومت پنجاب اور اس کے متعلقہ محکموں کی دلچسپی سے بہت ہی اعلی سیاحتی مقام بنا کے بہاول پور جنوبی پنجاب اور پاکستان کی خوبصورتی کو دنیا میں دیکھا کے قیمتی زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔
    بہاول پور کے نوابوں اور ان کے خاندان کی قبریں اس قلعہ میں واقع ہیں اور ایک عرصے تک بہاول پور کا نواب خاندان اس قلعہ میں رہائش پذیر رہا۔

    قلعہ دراوڑ جس لاپرواہی اور عدم دلچسپی کا شکار ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کے اس قلعہ میں سیاحوں کے لئے نہ تو کوئی پینے کا صاف پانی ہے اور نہ ہی قلعہ کی خبر گیری رکھنے والا ہے نہ ہی کوئی محافظ۔
    نواب مبارک خان اور نواب صادق کے دور تک قلعہ کی صفائی اور دیکھ بھال ہوتی رہی لیکن ان کے بعد آنے والوں نے اس میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور یہ عالیشان اور عظیم قلعہ لاپرواہی کا شکار ہو کر اپنی اہمیت کھو دیا۔
    اگر ماضی کے اس شاندار اور تاریخی قلعہ کے تحفظ اور مرمت کے لئے اقدامات نہ اٹھائے گئے جلد ہی یہ عظیم قلعہ کھنڈر میں تبدیل ہو جائے گا۔

    اب جب کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور پنجاب حکومت بہت سے تاریخی مقامات کی بحالی میں دلچسپی لے رہی ہے تو جنوبی پنجاب اور سرائیکی وسیب کے لوگ حکومت پاکستان اور پنجاب حکومت سے یہ امید کرتے ہیں کے اس عظیم اور تاریخی قلعہ دراوڑ کی بحالی اور خوبصورتی کے لئے ہر ممکن ضروری اقدامات اٹھائیں تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو ریاست بہاول پور کی پاکستان کے لئے خدمات اور قلعہ دراوڑ کی تاریخ کا علم ہو۔

    پاکستان ہمیشہ پائندہ باد.
    کالم نگار سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں.

    @Majidjampti

  • ہماری ڈرامہ انڈسٹری کا دن بہ دن گرتا معیار.تحریر: امان الرحمٰن

    کہتے ہیں کہ کسی بھی قوم کواگر زوال پزیر کرنا ہوسب سے پہلے اُس کی تہذیب اُس کا کلچر اُس قوم سے چھین لو پھر وہ قوم کبھی بھی ترقی نہیں کر پائے گی، مگر ہمارا معاملہ ذرا کچھ اور ہی ہے یہاں ہم صرف ایک قوم نہیں ہم ایک اسلامی نظریہ پر وجود میں آنے والے اسلامی ریاست میں رہنے والے مسلمان ہیں اور ہمارا رہن سہن اور کلچر اسلامی اصولوں پر قائم ہے ۔۔۔۔ میرا مطلب تھا ،معزرت میں نے یہاں تھا کا لفظ استعمال کر لیا کیونکہ مجھے لگتا ہے کے ہم اپنے اصل سے ہٹ گئے ہیں کیوں کے ہم ناچاہتے ہُوئے بھی اپنی اصل روایات اور اپنی تہذیب خُود ہی چھوڑتے چلے جا رہے ہیں وہ بھی غیر ارادی طور پر ، اِس جدید دور میں جنگیں اب جنگ کے میدان میں نہیں لڑی جاتیں ۔۔۔ اب آپ حیران ہوں گے کہ اِس تحریر کا عنوان تو ڈرامہ انڈسٹری تھا ، خیر یہ بات ہم کسی صُورت اور کبھی بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوں گے کے ہم یہ کیسی جنگ میں ہیں ہر دوسرے تیسرے دن بات گُھوم پھر کر یہی کی جاتی ہے کے ہم حالتِ جنگ میں ہیں کیوں کے ہم ذہنی طور پر مفلوج ہو گئے ہیں ہمیں عام زندگی میں طرح طرح کہ معاملات میں اُلجھایا گیا ہے دُشمن تب ہی جان گیا تھا جب یہ دنیا کا واحد ملک جو نظریئے کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا اُس وقت اِس زندہ قوم نے کیسی کیسی قُربانیاں دیں تھیں اور یہ قوم کیا کر سکتی ہے تو لہٰذا مان لیں کے 1948 کی جنگ جب اِس ملک کو بنے ابھی ایک سال بھی نہ ہوا تھا تو کیسے ایک ایسی ریاست کوتسلیم کرلیا جاتا جو اسلامی نظریئے کے ساتھ بنی اور تب اِس قوم کو تقسیم کرنے کا عمل شُروع ہو گیا تھا پھر ٹی وی عام کیا گیا ساتھ ساتھ اِس قوم کو دنیا کی تفریحات کی دوڑ میں لگا دیا، پھر ڈرامہ آگیا جب یہی پاکستانی قوم بمشکل عشاء کی نماز پڑھا کرتی تھی کہ نیند کا غلبا ہوتا تھاوہ 6بجے اور پھر 7 بجے والا ڈرامہ 8 بجے دیکھے بنا سوتی نہیں تھی اُس کے بعد خبر نامہ بھی دیکھنا ضروری تھا اور دنیا ،کی پاکستانی حالات سے بھی بے خبر نہیں رہا جاتا تھا ہم سے پھر ہماری نیند ہم سے آہستہ آہستہ رُوٹھتی چلی گئی ۔۔۔۔ ارے ہاں پھر ہفتے میں ایک اُردو فیچر فلم دیکھنے کو بھی ہمیں ٹی وی پر ہی سہُولت دی گئی اور ہم بہت خُوش ہوے کے ارے واہ ۔۔۔۔کمال ہو گیا اب تو سینما بھی جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وہ قوم جو جب گھر کے مرد جب ٹی وی پر کچھ دیکھتے تو عورتیں ساتھ نہیں بیٹھا کرتی تھیں یا پروگرام کی مناسبت سے شریک ہوا کرتی تھیں پھر پروگرام کا طریقہ بدلنے لگا ہنسی مزاق سے بات چھیڑ چھاڑ تک پہنچی پھر ایک آدھا گانا ساتھ دل میں دھک دھک کرنے لگا پھر شیطان نے بھی دل میں آنے جانے کی وجہ بنا لی اور پھریہ جھجک بھی رفع دفع ہو گئی اور بے حیائی کا یہ چھُپا وار پہلے مزے دینے لگا اور بعد میں جان کا عذاب بن گیا اور آج ہم کہاں کھڑے ہیں ۔۔۔!!’

    نوٹ: اب آجائیں ہم پر تہذیبی یلغار کی شُروعات کیسے ہوئیں اور ہمیں معلوم ہونے کے باوجود ہم وہی کرتے بھی رہے جو ہمیں نہیں کرنا تھا کیوں کے یہ زہر تھا اور دُشمن یہ زہر ہمارے حلق میں آہستہ آہستہ اُتارتا جا رہا تھا ۔۔۔
    اچھا جی۔۔۔ پھر یہ کھیل تو چل ہی رہا ہوتا ہے ساتھ ساتھ سیاسی محاذگرم ہوتا ہے اور ریڈیو اور ٹی وی پر اِنہی سیاسی قومی لسانی خبروں کا تڑکا بھی ساتھ ساتھ چلتا ہے دُوسری طرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سرکاری ٹی وی کی نیوزکاسٹر سر پر دوپٹہ لئے خبریں دیا کرتی تھی اُس کا دوپٹہ سرکنا شُروع ہُوا ساتھ اِس ریاست جس کی قومی زبان "اُردو” تھی یہاں انگلش چینل بھی آگیا چلیں اچھی بات ہے عالمی دنیا میں ہم اپنا پیغام اچھی طرح پہنچائیں گے۔۔۔ جی چلیں ٹھیک ہے ۔پھر پرائیویٹ چینلز آئے اور مُقابلہ شُروع ہو گیا کے ہماری نیوز کاسٹر زیادہ ماڈرن ہے اُس نے دوپٹہ سر کے ماتھے تک آتا دوپٹہ سر کی بیک سائڈ پر پِن سے اٹکانا شُروع کیا تو دُوسرے پرائیویٹ چینل نے دوپٹہ سر سے اُتار کر گلے کا پٹہ بنادیا ۔۔۔ میرا مطلب گردن میں دوپٹہ ڈال لیا ۔۔۔ٹھیک ہو گیا اب آجائیں ایڈوانس ڈرامہ کی طرف جو کیبل نیٹ ورک کہ ذریئے سے دھڑا دھڑ ٹی وی چینلز کے لائسنس حاصل کرتے گئے اور انٹرٹینمنٹ کا نعرہ لگاتے کُود پڑے اِس قوم کو ماڈرن قوم بنانے کے لئے اور قوم بیچاری کیا کرتی اُسے نہ اسکولوں میں اپنی بنیاد بتائی گئی نہ ہی کلچر بتایا نہ ٹھیک سے دین سکھایا وہ حربے بھی ساتھ ساتھ چل رہے تھے مگر وہ ہمارے مختلف اِداروں کے ذمہ تھے اور اُن اُن اِداروں کے ساتھ بھی تو یہی الیکٹرونک میڈیا جُوڑا تھا ناں۔۔۔۔ سمجھیں بات کو کہ جس جس اِدارے کا افسر اپنی ڈیوٹی کر کے جب گھر آتا اور دن بھر کی تھکن مٹانے اپنی دن بھر کی توں توں میں میں کو ریلیکس کرنے کے لئے تفریح اُسے بھی تو چاہئے تھی ناں۔۔۔ وہ بیچارہ بھی تو یہ زہر پیتا ناں تو کیا کرتا کم بخت عادت جو پڑ گئی تھی ۔۔۔۔ وہی بچپن میں عشاء کے وقت سوتا تھا پھر جاگنے لگا اپنا آرام چھوڑا تھا تو طبیعت تو اِس افسر کی بھی بدلنا تھی ناں۔۔۔ زہر جو اندر باہر سے اثر کر رہا تھا ۔۔۔

    اچھا تو کہاں تھے ہم۔۔۔ جی ہم تھے پرائیویٹ چینلز کے لائسنس ، تو جی اب ساتھ آگیا نیا مقابلہ اور مقابلہ اپنوں کے ساتھ ساتھ پڑوسیوں سے بھی کیا جانے لگا اور پھر جب مقابلہ ہو ساتھ پیسہ ہو ساتھ ایکسٹرا فنڈنگ ہو تو کس سرمایہ دار کی "رال” نہ ٹپکتی بھئی۔۔۔ پھر تو جو ہُوا اللہ کی پناہ کے ڈرامہ ایسا کے اِس قوم کو نہ اپنے مذہب کا ہوش رہا نہ تہذیب کا اور نہ ہی کلچر کا ہر کوئی کسی نہ کسی ڈرامے کا کردار خُود کو سمجھنے لگا کیوں کہ وہ بھی اپنی زندگی میں ایسا ہوتا دیکھتا تھا کیونکہ ہر کسی کو "اُسی” ہلکے زہر نے اپنے پورے کنٹرول میں لینا جاری رکھا ہُوا تھا اور ہر کوئی اپنی تلاش میں ڈرامے دیکھ رہا تھا پھر ڈرامہ فلم کو پیچھے چھوڑ گیا اور وہی ہمارا پڑوسی جس سے ہم مقابلہ کرنے چلے تھے وہ ہم سے شرمانے لگا اور وہ ڈرامہ چھوڑ کر اپنی فلم کی طرف ہی چل دیا مگر ہم کہاں رکنے والے تھے ہم نے این جی اوز اور دنیا کے ایسے اُن اداروں کا سہارا لیا جو سپورٹر تھے اور جو وہی "زہر” یہاں سپلائی کرنے والے تھے وہ ایک بار پھر سے سپلائیر اور ہمدرد ایک ساتھ بن گئے اور ہم اپنا نظریہ کھو بیٹھے ۔۔۔۔ مگر ابھی بھی کچھ لوگ ہیں کچھ اِدارے ہیں کچھ افسران ہیں جو اپنے اُن لوگوں کو نہیں بھولتے جو اِس ریاست کی بنیادوں میں اپنا لہو ڈال کر مضبوط بنا گئے ہیں کے لاکھ دشمنوں کی کوشش کے اِس ملک کی بنیادیں کوئی نہیں ہلا سکتا کیوں کے یہ ملک "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ” کے نعرے سے وجود میں آیا ہے اِس ملک پاکستان کو ہم نے اُنہی شہداء کی نسلوں نے سنبھالنا ہے مگر کیسے کیا ہم اپنی شناخت بھول کر گنوا کر کبھی منزل کو حاصل کر پائیں گے۔۔؟ ہرگزنہیں، دیکھیں چائینہ کو جو ہمارے بعد آزاد ہُوا اُس قوم نے اپنی روایات اپنی زبان اپنا کلچر نہیں چھوڑا اور آج وہ دنیا کا سُپر پاور بن گیا ہے صرف علان کرنا باقی ہے اور وجہ ہے اُس کی اپنی اصل بنیاد چینی قوم اپنی اوقات نہیں بُھولی اور ترقی کی منزلیں عبورکرتی چلی جا رہی ہے۔
    دیکھیں جاپان کو جو ایک خوفناک جنگ کے بعد دو ایٹم بم کھانے کے بعد بھی ایک قوم بن کر اپنے پیروں پر کھڑا ہے ، کیوں۔۔؟ کیونکہ جاپانی بچے ایک بار دیکھے گئے کارٹون دوبارہ لگ جائیں تو اُس چینل پر کیس کر دیتے ہیں اور ہمارے یہاں 8 بجے والا ڈرامہ رات 2 بجے نشرِمقرر لگتا ہے پھر وہی ڈرامہ اگلے دن دوپہر کو لگتا ہے ارے کتنا فضول وقت ہے ہماری اِس قوم کے پاس ۔۔۔؟ کچھ اندازہ بھی ہے ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔؟
    آخر میں ایک بات کہانا چاہتا ہوں اگر آج پاکستانی قوم اپنانظریہ زندہ کردیں جو 1947 میں تھا جس کی بناء پر یہ ریاست اِس زمین پر وجود میں آئی یقین کیجئے اللہ ہماری رہنمائی فرمائے گا ہمارے ہر معاملے کا حل نکل آئے گا اِن شاء اللہ۔
    پاکستان زندہ باد
    @A2Khiza

  • اسلامی جمہوریہ پاکستان . تحریر: فہیم حسین

    اسلامی جمہوریہ پاکستان . تحریر: فہیم حسین

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں مختلف عقیدے کے لوگ نہایت احترام اور محبت کے ساتھ رہتے ہیں
    وطن عزیز پاکستان سے محبت ہمیں وراثت میں ملی ہے وطن سے محبت ہر ایک پاکستانی پر فرض ہے اس مٹی پر ہر پاکستانی مر مٹنے کو تیار رہتا ہے اور اس فرض کو پورا کرنے کے لیے ہمارے فوجی جوان سب سے آگے ہیں جو کہ اپنی جان کی پروا کئے بغیر دن رات ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں ہمیں اپنے فوجی جوانوں کی قدر کرنی چاہیے پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو سر سبز و شاداب ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے اونچے اونچے پہاڑ اور خوبصورت چشمہ جات پر بنا ہے موسم کے لحاظ سے اگر بات کی جائے تو پاکستان کو اللہ نے چار موسموں سے نوازا ہے.

    موسم گرما، موسم سرما،موسم بہار اور موسم خزاں.
    گرمی کی بات اگر کی جائے تو کئی شہریوں میں ایسا موقع بھی آیا ہے کہ جہاں درجہ حرارت 53 ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے مگر پاکستان ایسا ملک ہے جہاں کبھی پورے ملک میں یکساں درجہ حرارت نھی رہا ملک کا جنوبی حصہ جو خشک اور ریگستانی علاقوں پر مشتمل ہے جہاں درجہ حرارت زیادہ رہتا ہے جبکہ دوسری جانب شمالی علاقہ جات میں درجہ حرارت کم ہوتی ہے شمالی علاقہ جات میں بارشیں اور کئی مقامات پر برف باری بھی ہوتی ہے پاکستان میں کئی وادیاں ایسی ہیں جہاں دنیا بھر سے سیاح پاکستان کے خوبصورتی کا لطف اٹھانے آتے ہیں ان میں وادی نیلم کی اگر بات کی جائے تو میرے زہن میں اس وادی کے خوبصورتی بیان کرنے کے لیے الفاظ کم ہیں وادی نیلم کا شمار ان خوبصورت ترین وادیوں میں ہوتا ہے جہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح اس وادی کے خوبصورتی سے لطف اٹھانے آتے ہیں اس وادی میں سرسبز پہاڑ اور ٹھنڈے پانی کے خوبصورت چشمہ جات پائے جاتے ہیں.

    @faheempti0118

  • پردیس کی عید . تحریر : محمد اصغر

    پردیس کی عید . تحریر : محمد اصغر

    پردیس کی عید پردیسی بھائیوں کے لئے کسی اذیت سے کم نہیں ہوتا جب بھی پردیس عید میں گزرتا ہے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے انسان کی ساری مشکلات ٹینشن آج ہی ایک ہی دفعہ آئی ہو پردیس میں عید گزارنا انتہائی مشکل ہی نہیں بلکہ ناگوار ہے پردیسی بھائی عید نماز پڑھنے کے بعد کھانا کھاتے ہیں اور بعض تو گھر کی یاد میں کھانا بھی نہیں کھاتے سو جاتے ہیں اور شام کو اٹھتے ہیں یہ لمحہ یہ عید کا دن کسی بھی پردیسی بھائی کے لیے کسی تکلیف سے کم نہیں گھر کی یاد ماں باپ کی یاد بیوی بچوں کی یاد بھائیوں بہنوں کی یاد عید کا سارا دن سونے اور ٹینشن میں گزر جاتی ہے عید پر گھر پر بات تو ہوجاتی ہے لیکن دل کو اطمینان نہیں ہوتا وہ خوشی وہ پیار جو عید کے دن دیس میں رہنے والوں کو ملتی ہے یہاں پردیس وہ دن یاد آتے ہیں یقینا یہ بات کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ کسی بھی پردیسی کے لیے عید کا دن کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا اگر آپ پردیسی ہیں تو یقینا آپکو میری تمام باتیں دل میں چھب رہی ہونگی.

    پردیس کی عید پہلے دن سوتے گزر جاتی ہے دوسرے دن مارکیٹ شہر بازار کا چکر لگا لیتے ہیں پھر بھی وہاں کوئی جاننے پہنچاننے والا کوئی نہیں ہوتا شام کو پھر دوستوں کی دعوت پھر لوگ دوسرے یا تیسرے دن اپنے اپنے جاب پر چلے جاتے ہیں
    پردیس کی عید پردیسی بھائیوں کے لئے ٹینشن کا دن ہوتا ہے اور یہ بات وہی سمجھ سکتا ہے جو خود پردیسی ہو یا اس نے کچھ عرصہ پردیس میں گزارا ہوا ہماری دعا ہے اللہ عزوجل تمام پردیسی بھائیوں کی مشکلات آسان فرمائے. آمین.

    Twitter Handle @ZiDDiBlochPTI

  • یورپ کا لنڈا بازار. تحریر : محمد آصف شفیق

    یورپ کا لنڈا بازار. تحریر : محمد آصف شفیق

    بہت سے دوسرے پاکستانیوں کی طرح مجھے بھی یورپ جانے اوردیکھنے کا بہت شوق تھا، میں 2004 میں پاکستان سے بہترمستقبل اور بس چند سال لگا کرواپس پاکستان آنے کیلئے سعودیہ آیا تھا، پہلے چھ ماہ بہت ہی معمولی تنخواہ پرکام کیا اور پھرواپس پاکستان آگیا، چھ ماہ کی چھٹی گزاری اوربالکل آخری دن واپس سعودیہ پہنچا اوراسی پرانی نوکری پرکام شروع کیا اور ساتھ ساتھ اپنے رب سے رزق میں برکت کی دعا بھی کی اور وادی الدواسرنامی چھوٹے سے گاوں سے عمرہ کیلئے مکہ مکرمہ جانے کیلئے رخت سفرباندھا، پہلا عمرہ بس پرکیا ساتھ میں عبدالرحمان سلیم اورکچھ اورساتھی تھے الحمد للہ والدین کی دعاوں اوراللہ رب العالمین کی رحمت سے اگست 2005 میں ریاض میں ملازمت مل گئی جوکہ 2020 دسمبر تک ریا ض میں جارہی رہی.

    2009 میں یورپ جانے کیلئے کوششیں شروع کیں، بہت سے احباب نے اپنی اپنی معلومات کے مطابق ہمیں معلومات دینی شروع کیں، کسی بھائی کا خیال تھا کہ کوئی ایجنٹ پکڑا جائے اورکام کروایا جائے کسی بھائی نے حوصلہ افزائی کی تو کسی بھائی نے کہا کہ اگر آپ جیسوں کا ویزہ لگ گیا تو ہمارا تو اللہ ہی حافظ ہے، خیرمعلومات لیں تو پتا چلا کہ جس ملک جانا ہو وہاں کا رہائیشی بند ہ کسی وکیل سے ایک دعوت نامہ تحریرکروا کر بھیجے جس میں ان کی اورمیری سب معلومات ہوں، میرے بہنوئی اوربہن وہاں رہائش پزیر ہیں تو دعوت نامے والا معاملہ تو حل ہوگیا اورجو چیزیں چاہیں تھیں انکی ایک لمبی لسٹ تھی، میں نے بھی اپنی کمپنی سے گزارش کی کہ مجھے آئریش ایمبیسی کے نام لیٹر دیں اورگارنٹی لیٹربھی دیں کہ بندہ صرف سیر کی نیت سے جارہا ہے اورتین ماہ کی چھٹیاں گزارکرواپس اپنی نوکری پرلوٹ آئے گا، کمپنی والوں نے بھی کمال شفقت سے تعریفی لیٹر کیساتھ کیساتھ گارنٹی لیٹربھی بنا دیا اور لکھ کر دے دیا کہ ان کیساتھ میرا معاہدہ آئندہ پانچ سال تک کار آمد ہے.

    سب دستاوی مکمل کیں تو پتا چلا کہ ٹکٹ پہلے لینی پڑتی ہے پھرسے دوست احباب ہی کام آئے جس جس سے جتنا جتنا مال مل سکا نکلوا لیا گیا اور ٹکٹ خریداری والا معاملہ بھی الحمد للہ مکمل ہوا ترکش ائرلائن کی ٹکٹ خریدی جوکہ ریاض سے استنبول اوراستنبول سے ڈبلن کیلئے تھی اوراسی طرح واپسی ہونی تھی، میں بھی ٹائی وائی لگا کرسارے کاغزات لیکر آئرلینڈ ایمبیسی وقت سے دو گھنٹے پہلے پہنچ گیا، جب جاکرسکیورٹی والوں سے پوچھا تو پتا چلا کہ صبح 9:30 بجے سفارتخانہ کھلے گا اورآپ سے پہلے بھی چھ سات افراد موجود ہیں، طرح طرح کی فکریں لاحق ہوئی کبھی انگریزی میں ہونے والے انٹرویو کی فکر، کبھی ویزہ نہ ملنے کی فکر دامن گیرہوئی ،اللہ اللہ کرکے اپنی باری آئی تو سامنے اپنے ایک پاکستانی بھائی بیٹھے درخواستیں وصول کررہے تھے نا م تھا ملک قدیر صاحب ہنستے مسکراتے تعارف ہوا سب نے پیپر دیکھے اورامید دلائی کہ ان شاء اللہ ویزہ لگ جائے گا، قدیر ملک بھائی پاکستان پنڈ دادنخان کے رہنے والے ہیں، بہت ہی ملنسار نیک سیرت اوراچھا مزاج رکھنے والے بھائی ہیں ان سے 2009 سے بنا تعلق ان کی ریٹائرمنٹ 2020 تک قائم رہا ہرعید خوشی غمی میں ایک دوسرے کا حال احوال لینا اورغیر رسمی ملاقاتیں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ملک صاحب جہاں بھی ہوں اللہ رب العالمین انہیں بہترین صحت سے نوازیں.

    15 دن کےطویل انتظار کے بعد دوبارہ پاسپورٹ لینے آئیریش ایمبیسی آنا ہوا، ملک صاحب نے داخل ہوتے ہی ویزہ مل جانے کی خوش خبری سنائی اس طرح پہلی دفعہ کسی بھی دوسرے ملک کیلئے سفر کیا، ریاض سے ترکی استنول پہنچے استنبول کا ہوائی اڈہ انتہائی مصروف اوربہت بڑی ڈیوٹی فری مارکیٹ ہے جہاں دنیا جہان کی چیزیں خرید سکتے ہیں 4 گھنٹےانتظارکے بعد اگلی فلائٹ پکڑی اوراس طرح ڈبلن ائرپورٹ پہنچے، دورجہاز سے اتاردیا گیا اوراشارے سے کہا کہ وہ سامنے چلے جائیں، امیگریشن مکمل ہوئی بہن بہنوئی لینے آئے ہوئے تھے ڈبلن سے براستہ کارہم لونگ فورڈ پہنچے اور15 دن قیام کیا بہت عزیز رشتہ دارو ہاں مقیم ہیں پورے 15 دن دعوتیں ہوتی رہیں اورمختلف شہر اورمارکیٹیں دیکھنے کا موقع ملا ایسے ہی ایک بوٹ سیل ( جس میں لوگ اپنی استعمال شدہ چیزیں فروخت کرتے ہیں جاناہو ا) اور سیلفی لیکر دوستوں سے شئر کردی جس پر جواب آیا چوہدری صاحب یورپ جا کے وی لنڈا بزار لبھ لیا اے ( کہ یورپ جا کر بھی آپ نے لنڈابازارڈھونڈ لیا ) یہ ہی بات آج یاد آئی توسوچا کچھ اسی پرتحریرکرلیا جائے، کچھ پرانی یادیں تازہ کرلی جائیں، اپنے پڑھنے والوں کیلئے بھی کچھ لکھ دیا جائے باقی کا احوال بھی ان شاء اللہ جلد تحریرکیا جائے گا.

    @mmasief

  • سیاحت اور ہماری روایتی غیر ذمہ تحریر: زبیر احمد

    سیاحت اور ہماری روایتی غیر ذمہ تحریر: زبیر احمد

    پاکستان دنیا کے ان بابرکت ممالک میں شامل ہے جو قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ہیں یا تو وہ چار خوشگوار موسم ہیں ، موسمی پھل جن کا ہم بے چینی سے انتظار کرتے ہیں یا وہ پہاڑ جو ہماری آنکھوں کو سکون دیتے ہیں۔
    پاکستان کے شمال میں واقع سب سے اہم وادیوں میں سے ایک مشہور گلگت بلتستان ہے جو چین ، ہندوستان اور افغانستان کے ساتھ ایک سرحد ہے۔  قدرت نے پاکستان کے انتہائی شمال کو گلگت بلتستان سے نوازا ہے
    متنوع قدرتی خوبصورتی خطے کی خوبصورتی کی نشاندہی کرتی ہے۔  پرکشش مناظر ، سدا بہار جنگلات ، سرد صحرا ، برف پوش پہاڑ اور عظیم ثقافتی میراث سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
    ٹریکرز ، فطرت سے محبت کرنے والے اور کوہ پیما ہمیشہ پاکستان کے خوبصورت ورثے کا تصور کرتے ہیں کہ وہ ایک سفر کریں اور اس کی خوبصورتی کو سراہیں۔
    یہاں سیاحوں کی تعداد میں ہرسال مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو اپنی فطرت کی دلکشی کو دیکھنے کی پیاس بجھانے کے لئے گلگت بلتستان کی طرف گامزن ہوتے ہیں
    سیاحت کے بارے میں ایک اچھی بات یہ ہے کہ وہ صرف اس تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس سے سماجی و معاشی طور پہ لوگوں کے طرز زندگی و بودوباش میں ارتقاء آتا ہے
    جب آپ کسی چیز کو پسند کرتے ہیں تو ضروری ہوتا ہے  اس کا خیال رکھنا آپ کا فرض بن جاتا ہے لیکن سیاحوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا ہےجب سیاح شمالی علاقوں کا رخ کرتے تو یہاں کے مسحور کن قدرتی مناظر سے لطف اندوز تو ضرور ہوتے ہیں لیکن اس سیرو تفریح کے دوران فالتو اشیاء، کوڑا کرکٹ، فضلہ انتہائی غیرذمہ داری سے پھینک آتے ہیں
    سیاحت کا موسم ختم ہونے کے فوری بعد ان خوبصورت وادیوں میں پلاسٹک کے تھیلے اور ڈسپوز ایبل سامان سمیت ہر طرح کا کوڑا پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ وادیاں جو کہ فطرتی خوبصورتی کا مظہر ہوتی ہیں غیرذمہ دارانہ رویے کے باعث آلودگی کا شکار ہیں
    سوشل اور پرنٹ میڈیا پاکستان کے خوبصورتی سیاحتی مقامات کی بدترین آلودہ صورتحال کے بارے میں لوگوں کو تعلیم دینے کے لئے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے
    سیاحوں کو اس بارے میں بریفنگ دینے کا انتظام کرنا چاہیے کیونکہ یہ علاقے تب تک ہی خوبصورت نظر آئیں گے جب تک ہم ان کو اپنے گھر کی طرح صاف ستھرا رکھیں گے اور انکو صاف رکھنے کا احساس رکھیں گے۔ حکومت کو یہ بھی کوشش کرنی چاہئے کہ سیاحت کو جنگلوں، جھیلوں اور گلیشئر سے دور رکھیں تاکہ یہ تباہ کن سرگرمیوں سے محفوظ رہیں۔ اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے ہمارا پاکستان انتہائی خوبصورت یے اور  پاکستانی ہونے پہ ہم سب کو فخر ہے اور بے شک یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آلودگی سے اپنے ملک کو محفوظ رکھیں اور ماحول کو صاف ستھرا رکھیں
    (twitter @KharnalZ) 

  • پاکستان اوراس کی خوبصورتی . تحریر : حسیب احمد

    پاکستان اوراس کی خوبصورتی . تحریر : حسیب احمد

    پاکستان قدرتی وسائل اوررنگوں سے بھرپور ہے، پاکستان میں دیگر ممالک کے مقابلے بہت ساری حسیں نظارے ہیں، یہاں ہمارے پاس برف پوش پہاڑ اور رنگوں سے بھرے ہوئے چشمے، دل فریب جنگلات اور پرکشش صحرا۔۔!! پاکستان وہ ملک ہے جہاں کے سیاح ہر سال موسم سرما اور موسم گرما میں موسم کے مطابق شمالی علاقہ جات کا رخ کرتے ہیں۔ پاکستان میں بہت ساری حسیں وادیوں کے ساتھ ساتھ کچھ تاریخی مقامات جیسے "موئن جو دارو” اور "ہڑپہ” اور ایسے بہت سے مقامات جو پاکستان کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ پاکستان کے قدرتی وسائل اتنے ہیں کہ ہمیں باہر گھومنے پھرنے کی ضرورت نہیں۔ یقین جانیں پاکستان کا اگر آپ بائی روڈ سفر کریں گے تو وہ حسیں اور پرکشش وادیوں کا نظارہ کرسکتے ہیں جن کو دیکھنے کے لیے ہم باہر جاتے ہیں۔

    سربزو شاداب اور گھنے درخت و جنگلات خوبصورتی کا ایسا روپ ہیں جس کا کوئی نیم البدل نہیں۔ سوچئے اگر دنیا بھر میں بھر میں یہ قدرتی ذخائر ختم کردیئے جائیں تو ہماری دنیا کیسی لگے گی؟؟ کیا ہم زندہ رہ سکتے ہیں ان کے بغیر؟؟ یقین کریں یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی بالوں والے شخص کے سر سے بال ختم کردیئے جائیں تو وہ کیسا لگے گا۔
    دریا، سمندر، پہاڑ، درخت، جھیلیں، ندیاں، جنگلات اور صحرا۔۔۔۔ یہ سب کسی بھی علاقے کا خوبصورت و قدرتی حسن ہیں اور پاکستان بھی اس حسن سے مالا مال ہے۔

    اللہ تعالٰی نے پاکستان کو بہت خوبصورت تحفہ ان قدرتی وسائل کی صورت میں دیا ہے اس کو بربادی کی طرف نا لے جائیں۔ ان قدرتی وسائل اور رنگوں سے دل فریب چیزوں کی حفاظت کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کو خوبصورت اور پرنور پاکستان کا تحفہ دیں اور اگر آج آپ ان وسائل کی ترقی و حفاظت کریں گے تو آپ کی نسلیں بھی سیکھیں گی اور پھر پاکستان ان وسائل سے ہمیشہ مالا مال رہے گا اور ایسا وقت آئے گا باہر کے لوگ یہاں ہمارے وسائل اور قدرتی چیزوں پر پیسا خرچ کریں گے جس سے پاکستان کا ریونیو بڑھے گا اور پاکستان اپنے ان وسائل کی وجہ سے اپنے آپ مضبوط بنانے میں کامیاب ہوگا۔

    اس کی حفاظت کریں اور اس پر توجہ مرکوز کریں تاکہ یہ قدرتی اثاثے محفوظ رہیں اور ہمیشہ پاکستان کو اپنے حسن سے خوشبودار اور خوبصورت رکھے۔ پاکستان وہ خوبصورت سرزمین ہے جہاں چاروں موسموں کا مزہ اپنے اپنے انداز میں لیا جاتا ہے۔
    ہمیں بھی دیگر قوموں کی طرح اپنے وسائل اور ان قدرتی چیزوں کا محافظ بننا ہے.

    @JaanbazHaseeb