ڈیرہ غازی خان کا شمار پاکستان کے سیاحتی مقامات میں سے ہوتا ہے
قدرت نے ڈیرہ غازی خان کو سبز پہاڑوں سے ڈھانپ رکھا ہے
آئیں آپکو لیں چلتے ہیں ڈیرہ غازی خان کا مری
یعنی فورٹ منرو
ڈیرہ غازی خان کا فورٹ منرو ڈیرہ غازی خان کے لوگوں کے لیے مری سے کم نہیں ہے جہاں گرمیوں میں بھی شدید سردی ہوتی ہے فورٹ منرو چاروں طرف سے خوبصورت پہاڑوں میں چھپا ہوا علاقہ ہے جس کا حدود بلوچستان سے بھی ملتا ہے اور یہ ٹرائبل ایریا کہلاتا ہے یہ علاقہ بلوچ لیوی کے کنٹرول میں ہوتا ہے
فورٹ منرو میں خوبصورت پہاڑ اور چین کی مدد سے بنایا گیا ایک خوبصورت اسٹیل پل سیاحوں کو اپنی طرف مائل کرتا ہے ڈیرہ غازی خان میں شدید گرمی کی وجہ سے کافی لوگ نقل مکانی کرکے فورٹ منرو چلے جاتے ہیں جہاں گرمیوں کا موسم گزارنے کے بعد واپس آجاتے ہیں
فورٹ منرو میں اونچے سرسبز پہاڑ اور پہاڑوں سے نیچے بادل لوگوں کے دل جیت لیتے ہیں یہاں گرمیوں میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے
فورٹ منرو میں بارشوں کا سلسلہ ہر دوسرے دن جاری رہتا ہے
ڈیرہ غازی خان فورٹ منرو قدرت کا حسین کرشمہ ہے
پاکستان بھر سے آئے سیاحوں کا دل جیت لیتا ہے
اگر آپ بھی اس علاقے کی سیر کرنا چاہتے ہیں تو بلاخوف خطر آپ تفریح کے لیے آسکتے ہیں
تحریر MAsgharBloch
Category: تفریح و سیاحت

تحریر: اصغر بلوچ ڈیرہ غازی خان کے سیاحتی مقامات

تحریر: وسیم اکرم عنوان: کشمیر کی داستان
کشمیر ایک جنت کی وادی ہے جہاں لوگ دور مقامات سے سیر کرنے کیلئے آتے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑھ رہا ہے اس جنت نظیر وادی کو نظر لگ گئی ہے وہاں کے مسلمانوں پر ظلم اور بربریت کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں
مگر افسوس صد افسوس! مسلم امہ انکھوں پہ پٹی باندہ کہ سوئ ہوئی ہے کسی کو کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم نظر نہیں آ رہے کیا ان کا قصور ہے کہ وہ مسلمان ہیں یا اپنا حق مانگتے ہیں؟
ہم سب کو چاہیے کشمیر یا جہاں بھی مسلمانوں پہ ظلم ہو رہا ہے اس کو اجاگر کریں اور لوگوں کو دیکھیں کہ دیکھیں کتنے معصوم بچے یتیم ہوگے کتنی بہنیں، بیٹیاں یتیم ، لاوارث ہوگئیں
یاد رکھو بے ضمیر مسلمانوں اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے ۔ ظلم جب حد اے بڑھ جاتا ہے مٹ جاتا ہے میں سلام پیش کرتا ہوں عمران خان صاحب کا اور ان انصافین کا جنہوں نے اپنے اکاؤنٹ کی پرواہ کئے بغیر ظلم کو لوگوں تک پہنچایا اور دیکھایا کہ دیکھو اے بے حس لوگ 73 سال سے وہ اپنا حق مانگ رہے ہیں مگر آج تک ان کو ان کا حق نہیں دیا گیا اب تو نسل کشی شروع کر دی ہے
میں پوچھتا ہوں ان لوگوں سے جو دوسرے ممالک میں رہتے ہیں کیا اپ کو اپکا حق نہیں دیا گیا کیا اپ پرجہاں رہتے ہیں ظلم کے پہاڑ تو نہیں توڑے گے پھر ایسا دوہرا معیار انڈیا میں کیوں؟
زرا سوچیئے سب ممالک اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں دکھ تکلیف اسی کو ہوتی ہیں جس کو درد ہوتا ہے دکھ درد اسی کو ہوتا ہے جس کے گھر کوئی چلا گیا ہو یا معزور کر دیا جاتا ہے
میرا کشمیر جہاں انسان کی حیثیت جانوروں سے بھی بدتر بنا دی گئی ہے۔ کل کا واقع ہے جہاں ایک بزرگ کشمیری خاتون کوانڈین آرمی نے جس بیدردی، سفاکیت سے فوجی گاڑی تلے کچلا اور شہید کیا اسکے بیان کیلئے الفاظ نہیں ہیں۔
کہاں ہے عالمی برادری؟ کہاں ہے اقوام متحدہ؟
کشمیریوں کی یہ قربانیاں پاکستان اور آزادکشمیر کے عوام پر قرض ہیں۔ کیا پاکستان کے حکمران یا مقتدر قوتیں آخری کشمیری کے مرنے کا انتظار کر رہے ہیں؟
@MalikGii06

سوشل میڈیا کے مثبت استعمال .تحریر:فروا نذیر
Twitter id: @InvisibleFari_
سوشل میڈیا نے معاشرے میں بہت ترقی پائی ہے
آجکل یہ سمجھ لیں کہ سوشل.میڈیا بغیر دنیا نامکمل ہے
اور اسی سوشل میڈیا کو انسان اپنے مقصد کیلیے بھی استعمال کرتا ہے
کوئی بھی انسان کچھ بھی بلاوجہ استعمال نہیں کرتا اسکو اپنے مقصد کو لاتا اور کوشش کرتا ہےکہ اس مقصد کو پورا کیا جائےسوشل میڈیا کے بہت سے اثرات ہوتے ہیں ہرعمر کے انسان پر چاہے وہ بچہ ہو جوان ہو بڑا ہو
اور اسی طرح کے اس کے مثبت اثرات بھی ہیں جو انسان کی زندگی میں بہت تبدیلی لاسکتا ہے اگر ہم اسکو اچھی نیت سے استعمال کریںکچھ بھی کرنے کیلیے ہماری نیت صاف ہونی چاہیے اور ہر اس کام کو عمل میں پہلے خود لے کر آنا چاہیے جسے ہم سوشل میڈیا پر لاتے ہیں
تاکہ ہم سب کو اندازہ ہو کونسے کام کو کہاں کیسے اور کسطرح استعمال میں لانا ہے..اس طرح سمجھ لیں کہ انسان اگر اپنا آپ دکھانا چاہتا ہے تو وہ سوشل میڈیا پر جائے گا سوشل میڈیا میں صرف کوئی ایک ایپ نہیں ہے بے تحاشا ایپس ہیں جن کا استعمال مفاد کیلیے اور مثبت انداز میں ہو رہا ہے
جن میں سے چند یہ ہیں:
• واٹس ایپ
• ٹویٹر
• انسٹاگرام
• فیسبک
• سکائپ
وغیرہ وغیرہ یہ سب سوش میڈیا کی اقسام ہیں
سب کے فائدے کیا کیا ہیں:– واٹسایپ
واٹس ایپ ہر انسان کہ ضرورت ہے اس سے آپ کسی بھی وقت کہی بھی رابطہ کر کے اہنا کام کر سکتے ہو
یہ آہکو رشتہ داروں سے بات کرنے کے مواقع بھی دیتی ہے اور اپنی فیملی سے جڑے رہنا ایک بہت اچھا کام ہے کیونکہ ہم سب کو ہمیشہ مل جل کے رہنا چاہہے تاکہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے کام آسکیں..– ٹویٹر
ٹویٹر کے جہاں نقصان وہی بہت سے فوائد ہیں.
آپ کو دنیا کی ہر خبر ٹویٹر سے مل سکتی یے آپ نے ڈائریکٹ اگر کسی سیاستدان سے بات کرنی تو ٹویٹر سب سے بیسٹ آپشن ہے آپ کسی مشکل میں ہیں ٹویٹر پر صرف ایک ٹرینڈ چلائے اور وزیراعظم کو مینشن کرتے جائے آہکا کام ہو گا
ہر طرح کے لوگ ہیں ٹویٹر پر جن سے آپ رابطہ کر کے بہت کچھ سیکھ سکتے ہو صرف ایک ٹویٹر ایسی ایپ ہے جو آہکو بہت کچھ سکھاتی رہتی یے– انسٹاگرام
یہ ایپ ٹویٹر سے زیادہ استعمال میں ہے لیکن اس کا اتنا فائدہ نہیں جتنا ٹویٹر ہے وہاں آپ آواز بلند کر سکتے ہو لیکن انسٹا پر اہسا کچھ نہیں ہوتا
انسٹا بھی اپنی جگہ مفید ہے کچھ یوتھ کیلیے جن کو ڈراماز شوبز والوں سے ملنے کا شوق ہو وہ سب انسٹا کو جوائن کرتے ہیں اس لیے ہر چیز کا کسی نہ کسی کیلیے فائدہ ہے– فیسبک
فیسبک ایک بہت ہی پرانی اور مفید سوشل ایپ ہے جہاں بہت سے مسائلز کو سامنے لایا جاتا پاکستان کے بارے میں
انڈیا کے پروپیگنڈاز بھی سامنے آتے ہیں ٹویٹر والے ان سب پروپیگنڈوز کو اجاگر کرتے ہیں اور فیسبک سے انکی شروعات ہے… بہت سے لوگ آج بھی فیسبک پر زیادہ ہیں خاص کر یوتھ وہاں سے بہت کچھ حاصل کر رہی ہے– سکائپ
سکائپ کا یہ فائدہ کہ آپ دنیا کے جس بھی کونے میں بیٹھے ہو اہنے عزیز کو باآسانی دیکھ سکتے ہو باآسانی بات کر سکتے ہو
اسکو بہت سے فارن لوگ استعمال کرتے ہیں خاص کر وہ جو اونلائن جاب کرتے ہو وہ اسکو ویڈیو پر بات چیت کیلیے استعمال کرتے ہیں
اسکا استعمال پہلے کی نسبت کم ہوتا جارہا ہے کیونکہ واٹسایپ سے ویڈیو کالز ہوجاتی ہیںجس طرح ہر چیز کے بننے کا کوئی نہ کوئی فائدہ ہے اسی طرح ہر سوشل ایپ کا اپنی جگہ فائدہ اور استعمال ہے
لیکن کوشش رہے سوشل میڈیا کو مثبت انداز میں استعمال کریں تاکہ مشکلات سے بچ سکیں اور بہت کچھ سیکھ سکیں

مختصر تاریخ قلعہ چلاس۔ تحریر:روشن دین دیامری
چلاس دیامر استور ڈویژن کا دارالخلافہ ہے یہاں کی ابادی تقریبا ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہیں ۔چلاس میں قراقرم یونیورسٹی کا ایک سب کمپس ایک لڑکوں کے ڈگری کالج ایک خواتین کی کالج کے علاوہ تین لڑکوں کے اور ایک لڑکیوں کی ہائی سکول ہے۔ آج ہم قلعہ چلاس پہ بات کرتے ہیں ۔یہ قلعہ چلاس کے مرکزی بازار میں موجود ہے اج کل یہ قلعہ پولیس کے ذیر استمال ہے۔
1852 کو مہاراجہ گلاب سنگھ نے کرنل لوچن سنگھ کو چلاس میں تعنات کیا ۔یہ فوجی دستہ چلاس پہنچا تو چلاس کے لوگ اس قلعہ کے اندر گھس گٸے،اس قلعہ پر باہر سے حملہ کرنا بہت مشکل تھا۔یہ قعلہ چلاس کی ایک ایسی جگہ پر بنایا گیا جہاں سے پوری چلاس نشانے پہ ہے۔لیکن فوج ڈوگرہ نے اس کا محاصرہ کرلیا اور مورچے تیار کرکے لڑاٸی شروع کردی،محاصرین نے بڑی بہادری سے مقابلہ کرلیا،قلعے کی فصیل سے پتھرو اور گولیوں کی ایسی بارش کردی ڈوگرہ فوج کو قلعہ تک پہنچنے تک بڑی سختی اُٹھانی پڑی اس لڑاٸی میں ڈوگرہ فوج کی ڈیڈھ ہزار سپاہی مجروح و مقتول ہوٸے،آخر کوٸی راستہ نہی ملا تو ڈوگرہ فوج نے اندر موجود پانی کے ہوز کو نقب کے زریعہ خالی کیا لیکن اندر موجود بہادر لوگوں نے تین دن تک پانی کی پرواہ نہی کی،اور روغن پیتے رہے بلا آخر پیاس کی وجہ مجبور ہوکر قلعہ کا دروازہ کھول کر بھاگنے لگے،کافی لوگ اس معرکہ میں شہید ہوٸے بعض کو قیدی بنادیاگیا،اور قلعہ کو آگ لگا کر فنا کر دیا کیا گیا۔
1892 کو جو ریاست کشمیر کا یہاں عہدیدار تعنات تھا چلاس کے لوگوں نے اُس کو بھگا دیا جو کندھے پر گولی کھاکر گلگت پہنچ گیا۔اور نومبر 1892 کو ڈاکٹر رابٹسن پھر سے چلاس پر حملہ آور ہوکر چلاس کو فتح کیا اور حکومت قاٸم کیا گیا،کافی عرصہ ڈوگرہ حکومت چلنے کے بعد 1893.94کو اس قلعہ کو دوبارہ جدید طریقے سے تعمیر کیا گیا۔اور اس میں باقاعدہ ڈوگرہ فوج تعنات کردی،اور 1935 میں روسی فوج کی خطرے کی پیش نظر برٹش گورنمنٹ نے گلگت کے محلقہ علاقہ جات اور چلاس کا انتظام براہ راست اپنے ہاتھ میں لیکر گلگت میں پولیٹیکل ایجنٹ اور چلاس میں ایسسٹنٹ ایجنٹ مقرر کٸے اور اس کی مدد کیلٸے گلگت سکاوٹس فورس کا قیام عمل میں لاٸی،اور یہ ڈوگرہ فوج کی جگہ تعینات رہی، یہ قلعہ سکاوٹس کا ملکیت تصور ہونے لگا،اور 1971 کے جنگ کے بعد سکاوٹس کو عملی جامہ دیا گیا،اور سکاوٹس کو این ایل ای کا نام دیکر 1974 کو بونجی منتقل کیا گیا۔اور یہ قلعہ خالی ہوا تو پولیس محکمے کی درخواست پر فروخت کیا جس کی قیمت 3لاکھ گیارہ ہزار روپے رہی اور آج یہ قلعہ دیامر پولیس لاٸن کے شکل میں موجود ہے۔
اگر اس قلعہ کو پولیس سے خالی کروا کے محکہ ٹوریزم کے حوالےکیا جائے تو اس سے ایک بہترین سیاحتی مقام بنایا جا سکتا ہے۔ ہمارے بارہا کوشش رہی ہے کہ اس تاریخی ورثہ کو پولیس کے محکمہ سے اٹھا کے عوام کے لے اوپن کیا جائے تاکہ التت بلتت فورٹ ہنزہ کے طرح اس کو بھی سیاحت کے لے لے استمال کیا جائے اور اس حاصل ہونے والے امدن سے علاقے کے ترقی کے استمال کیا جاسکے گا۔

ہندوستان حالات حاضرہ کی روشنی میں قسط نمبر(1).تحریر: محمد صابر مسعود
تنِ تنہا سفر کرنے کا میرا یہ پہلا موقع تھا جب دہلی سے میوات کا قصد کیا اس وقت عمر نو، دس سال تھی لیکن دل پر رنج و غم تھا، نا ہی پیشانی پر کسی بھی طرح کا بل جبکہ گھر تقریباً سو کلو میٹر کی مسافت پر تھا کیونکہ یہ سنہ 2008 – 2009 تھا اس وقت ہندوستان میں حقیقتاً ایک حد تک جمہوریت باقی تھی، ” ہندو، مسلم، سکھ، عیسائ سب آپس میں بھائ بھائ” کا نعرہ واقع کے مطابق تھا، تقسیم کرو (ہندو مسلم کو بانٹو) اور حکومت کرو کا نعرہ لگانے والی انگریز کی غلام، دوغلی، بدکار، زہرو نفرت پھیلانے والی اور ہندوستان کو بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کردینے والی بھارتی جنتا دل جیسی پارٹیوں کا راز نا تھا، مدرسے سے نکل کر، اساتذہ سے چھپ چھپاتے ہوئے اسٹیشن پہنچ کر سبز کلر کی کثیر ڈبوں پر مشتمل ایک پرانی سی ٹرین میں جا بیٹھا جسکی رفتار یک بیک کم و زیادہ ہو جاتی تھی، سامنے تین چار نوجوان لڑکے بیٹھے ہوئے تھے جنکی قد و قامت تقریباً ساڑھے پانچ، چھ فٹ تھی، دیکھنے سے وہ اسکول کے طلباء نظر آ رہے تھے، کمسن دیکھ کر میرا دل رکھنے کے لئے طنز و مزاح کی باتیں کرنے لگے، تعلیم و تعلم اور گھر کے احوال و کوائف کے بارے میں دریافت کرنے لگے، اسی طرح گفت و شنید چلتی رہی اور بڑے ہی آرام و سکون کے ساتھ گویا کہ میں اپنے بھائیوں کے ساتھ تکلم کر رہا ہوں پلول پہنچ گیا، انہوں نے مجھ سے معلوم کیا کہ تم گھر کے راستے سے آشنا ہو؟ میں نے معصوم سے لہجے میں مسکراتے ہوئے سر ہلا کر کہا’ جی ہاں’ باجود اس کے کہ مجھے راستے کا علم تھا انہوں نے آٹو والے سے کہا کہ اسے فلاں جگہ چھوڑ دینا مزید یہ کہ وہاں سے کسی دوسرے آٹو میں بٹھا کر اسے گھر کی جانب روانہ کردینا اور ہنستے و مسکراتے ہوئے الوداع کہ کر مجھے روانہ کردیا۔۔۔۔
یہ حقیقی جمہوری ہندوستان تھا اس وقت سب لوگ بھائی بھائیوں کی طرح رہا کرتے تھے لیکن آج اسی ہندوستان میں، اسی روٹھ پر جسکا میں نے ذکر کیا (2017/22/جون) کو میوات میں کھنداؤلی گاؤں کے سولہ سالہ حافظ جنید کو عید کی خریداری کے بعد دہلی سے گھر لوٹتے ہوئے متعصب و متنفر، غلیظ و ناپاک اور ذلیل و بدبودار ہندو غنڈوں نے ٹرین میں چاقو مار مار کر شہید کردیا تھا تعجب کی بات یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ کوئ اس ظلم کو روکتا جس پر آسمان بھی بلک بلک کر رویا ہوگا، فرشتے بھی ان ظالموں کو صفائے ہستی سے مٹانے کے لئے تڑپے ہونگے حاضرین میں سے بعض درندہ صفت انسانوں نے کہا کہ ان سب کو مار دو۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔

مقامات مقدسہ کی زیارت .تحریر:محمد آصف شفیق
کورونا کی وبا نے جہاں گھروں تک محدود کردیا وہیں دفتر کی بجائے گھر سے کام اور جمعہ ہفتہ کی چھٹی نے ایسے مواقع فراہم کر دئے کہ ہر ہفتہ آپ باقائدہ پروگرام بنا کر سعودیہ میں موجود مقامات مقدسہ کی زیارتیں خود بھی کرسکیں اور اپنے دوست احباب کیساتھ اپنا تجربہ شئر کرسکیں ، میں روزگار کے سلسلہ میں 2005 سے سعودیہ میں مقیم ہو ں ، اس وبا کے دوران سعودیہ کے طول و عرض میں گھومنے کا موقع میسر آیا ، کمپنی کا اللہ بھلا کرے انہوں نے گزشتہ فروری میں الریاض سے جدہ ٹرانسفر کردیا اور موقع ملا کہ کم و بیش ہر ہفتہ کسی نہ کسی مقدس مقام کی زیارت کی جائے
جدہ سے حدیبیہ کا فاصلہ کم و بیش 60 کلومیٹر ہے اپنی گاڑی پر آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں وہاں پہنچا جا سکتا ہے ، ہم بھی اپنے احباب کے ساتھ جدہ سے بزریعہ کار حدیبیہ پہنچے ٹھیک اسی مقام پر جہاں صلح حدیبیہ پیش آیا پرانی مسجد کی باقیات موجود ہیں اور گورنمنٹ کی طرف سے ایک رہنمائی کیلئے بورڈ بھی آویزاں ہے ، ایک نئی مسجد بھی تعمیر کی گئی ہے جسے مسجد حدیبیہ کا نام دیا گیا ہے ، مسجد حدیبیہ لکھ کر گوگل میپ سے با آسانی اس مقام تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے ، اسی رہنما ئی والے بورڈ پر عربی اور انگلش میں تحریر موجود ہے مگر سہولت کیلئے بورڈ پر بار کوڈ موجود ہے جسے سکین کرنے پر ساری معلومات اردو اور انڈونیشن زبان میں بھی تبدیل ہوجاتی ہےمکہ مکرمہ سے جدائی کے چھ سالوں بعد 1400 صحابہ کرامؓ کیساتھ حج کی غرض سے مدینہ منورہ سے ہی احرام باندھ کر قربانی کے جانور ساتھ لے کر اور نیام کی تلوار کے علاوہ کوئی ہتھیار بھی ساتھ نہیں مگر پھر بھی قریش مکہ نے آپ ﷺ کو اور صحابہ کرام ؓ کو مکہ جانے سے روک دیا اور آپ ﷺ نے حضرت عثمان غنی ؓ کو اپنا ایلچی بنا کر بھیجا جنہیں قریش مکہ نے روک لیا اور مسلمانوں کو یہ خبر ملی کہ حضرت عثمان ؓ کو شہید کردیاگیا ہے تو اصحاب رسول ﷺ میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہم اس وقت تک یہاں سے نہیں جائیں گے جب تک کہ مشرکین سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بدلہ نہ لے لیں اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ ببول کے درخت کے ساتھ ٹیک لگاکر بیٹھ گئے اور تمام صحابہ ؓ نے قصاص عثمان ؓ پر آپ ﷺ نے بیعت لی جسے بیعت رضوان کہا اور سورۃ الفتح میں جس کا ذکر آیا
جب جب آپ ان مقدس مقامات کی زیارت کو جائیں تو قرار اور سکون میسر آتا ہے اسے الفاظ میں بیان کیا جانا ممکن نہیں ، زیارت مقامات مقدسہ کا سلسلہ ان شاء اللہ جاری ہے اور ان شاء اللہ اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنے احساسات آپ سب پڑھنے والوں تک پہنچانے کی کوشش کرتا رہوں گا
دعاوں کا طلبگار
محمد آصف شفیق
جدہ ۔ سعودیہ
masief@gmail.com
عشق مجازی اور انسانی درندے .تحریر: محمد صابر مسعود
سوشانت اپنی حوس کی وجہ سے پاگل ہوچکا تھا قریب تھا کہ وہ بیہوش ہو جاتا اس نے دن کے تین بجے اپنی گرل فرینڈ (پریتی) کو کال کی، پریتی اکل و شرب سے فراغت کے بعد محو خواب ہو چکی تھی اسی اثناء میں موبائل کی رنگ بجی اور ڈرتے ہوئے موبائل کی جانب قدم رنجاں ہوئی ابھی تو ڈر کی وجہ سے کلیجہ منھ کو آ رہا تھا لیکن موبائل اسکرین پر نام دیکھ کر خوشی کی انتہا نا رہی (کیونکہ یہ کال پریتی کے لئے کسی عام شخص کی نہیں تھی بلکہ یہ اسکے دل کا ٹکڑا تھا) اور اسکرین کو اسکرول کرتے ہوئے فون اٹھایا، دوسری جانب سے حوس سے بھری آواز آئی (جسے یہ نادان لڑکی محبت کی انتہا سمجھ رہی تھی) جانی! لو یو ناں یار، کیا کر رہی ہو؟ اور ہاں کہاں ہو؟ یار تمھارے بغیر دل نہیں لگ رہا، تم سے ملنے کے لئے دل پرکٹے پرندے کی طرح پھڑ پھڑا رہا ہے اسلئے پلیز گھر آجاؤ یار۔ پریتی فرط محبت میں کچھ یوں گویا ہوئی۔ ٹو یو سو مچ میری جان، یار میں گھر پے ہوں، تھک کر سوگئ تھی لیکن تمھاری کال دیکھ کر نیندیں بالکل غبارے کی طرح اڑ گئ۔ اور ہاں تم سے ملنے کے لئے میں بھی بیقرار تھی لیکن دروازے سے گیٹ کیپر کی موجودگی میں کیسے آؤں؟ کیونکہ معلوم ہونے کی صورت میں والدین گھر سے باہر نکال دینگے۔
سوشانت! ارے یار میں ہوں ناں، اگر انہوں نے معلوم ہونے کی صورت میں تمہیں گھر سے نکلنے پر مجبور کر بھی دیا تو میں تمھیں شہزادیوں کی طرح رکھونگا، ہر چیز کا خیال رکھونگا۔
پریتی کا یہ سننا تھا کہ وہ چیخ کر بولی” آئی لو یو میری جان (کیونکہ ایک لڑکی کو پیار و محبت اور کئیر ہی کی ضرورت ہوتی ہے) کہا کہ میں تمھاری بانہوں میں کچھ وقت بتانے کے لئے آ رہی ہوں، ایک بیگ لیکر گیٹ کیپر سے چھپ چھاتے ہوئے سوشانت کی اور نکل پڑی جسمیں موبائل و پیسے موجود تھے۔ ایک آٹو والے کو آواز دیتے ہوئے کہا۔ بھیا ھدھد پور چلو گے؟ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ جی ہاں، کیوں نہیں
پریتی اپنی بڑی بڑی آنکھوں، بڑے بڑے بالوں، رخساروں و ہونٹوں پر میک اپ اور عمدہ قد و قامت کی وجہ سے ہر دیکھنے والے کو مسحور کر رہی تھی تا آنکہ وہ سوشانت کے ایک بڑے سے مکان کے پاس جا پہنچی اور پر کشش آواز میں ندا لگائی۔ جانی! آپ کی جان آ چکی ہے دروازہ کھولو۔۔سوشانت جسکا رنگ سانولا، گھنگریالے بال اور لمبے تڑنگے قد کا مالک تھا، نشے سے دھت، دروازہ کھولا اور پریتی کو سینے سے لگاتے ہوئے کہا، کچھ کھاؤ گی؟ پریتی نے انکار کرتے ہوئے کہا سوشانت بس مجھے تمھارا ساتھ چاہئے یہی میرے لئے سب کچھ ہے، سوشانت نے سگریٹ جلا کر ایک زور دار کش لگائی، دروازے پر کنڈی لگاتے ہوئے حوس بھری نگاہوں سے پریتی کی طرف بڑھا، برہنہ کرکے بانہوں میں لیکر اسے بیڈ پر ڈال دیا اور پریتی سوشانت کی محبت میں خود کو اس کے حوالے کرتے ہوئے ایک سرینڈر کرنے والے فوجی کی طرح پیروں کو دراز کرتے ہوئے لیٹ گئی، سوشانت نے پاس پڑے موبائل کا کیمرہ چالو کرکے پریتی کی طرف کردیا، پریتی کیمرہ دیکھ کر ہکی بکی رہ گئ کیونکہ کبھی اس نے کسی سے اپنی تصویر تک کلک نہیں کرائی تھی اور آج اسکی سیکسی ویڈیو بنائی جا رہی تھی اسلئے اس نے بڑے ہی درد بھرے لہجے میں کہا جانو پلیز کیمرہ بند کردو نا ۔ سوشانت نے کہا نہیں تمہارا چہرہ نہیں آئے گا ”
میں اپنی ماں کی قسم کھاتا ہوں ۔۔خود ہی دیکھوں گا یہ وڈیو پھر ڈیلیٹ کردوں گا کیونکہ اکیلے میں مجھے تمھاری بہت یاد آتی ہے۔ نہیں پلیزززز ” ہاتھ ہٹاؤ نا جان ”
” نہیں ” سوشانت نے بڑے ہی مان کے انداز میں کہا: اچھا میری قسم ہے تمہیں ہاتھ ہٹاؤ وڈیو بنانے دو
” اپنی قسمیں مت دیا کرو مجھے بہت برا لگتا ہے”
قسم دینا پڑجاتی ہے تم بھی تو بھروسہ نہیں کرتی میں نے بھلا کس کو دکھانی ہے۔۔۔ڈیلیٹ کردوں گا
"بھروسہ کرتی ہوں تبھی تو خود کو تمھارے حوالے کردیا ہے ”
” تو پھر بنانے دو نا "!
” تم باز نہیں آؤ گے۔۔۔۔۔ اچھا بنا لو ” !! لو یو ”
بہت محبت کرتی ہوں تم سے، میرا مان مت توڑنا اور ہاں چاہتی ہوں ہیر رانجھا کی طرح ہماری محبت کی بھی کہانیاں سنائی جائیں ”
"سوشانت نے پھیکے سے لہجے میں کہا ہمممم۔۔۔۔۔ لو یو ٹُو ”
کٹی پتنگ کی طرح جھولتی ہوئی گھر پہنچی اور کمرے میں آ کر سوگئی ۔۔۔۔
” وہ عام سے گھر کی گمنام لڑکی تھی ”
مگر جب اسکی آنکھ کُھلی تو وہ اور اسکی محبت مشہور ہوچکی تھی ” ..
پھر کیا ہوا لڑکا سرعام دندناتا پھر رہا ہے …
اس لڑکی کا کیا بنا … والدین اور شہر والوں کی نظر میں وہ طائفہ بن چکی تھی، یہ درد سہنا اسکے لئے بہت مشکل تھا کیونکہ کل تک اسکی بہت عزت تھی، ٹینشن میں بہت بڑی بیماری کا شکار بن چکی تھی بالآخر اس دار فانی سے دار بقا کی طرف لوٹ گئی کچھ دنوں بعد پتہ چلا کہ لڑکی کا گلہ کاٹ کے اس کو کسی کے بھی سامنے لائے بغیر والدین راکھ کر چکے ہیں اسی طرح ایک ہیر رانجھے کی کہانی اختتام ہوئی ۔۔نتیجہ ! نہیں نہیں میری بہنو میں آپ سے ہاتھ جوڑ کے درخواست کرتا ہوں ایسا ہر گز نا کرنا یہ آپ کی زندگی سے کھیلنے والے درندے ہیں جو آپ کو محبت کے نام پر کھلونا بنا کر استعمال کرتے ہیں، جب آپ سے من بھر جاتا ہے تو ٹشو پیپر کی طرح پھینک کر راستہ الگ کرلیتے ہیں لیکن اس وقت تک آپ سب کی نظر میں نہیں تو کم از کم اپنی نظر میں طائفہ بن چکی ہوتی ہو اور وہ بیغرت کھلے سانڈ کی طرح کسی دوسری کی تلاش میں ہوتا ہے یا پھر غیر ملک مزے لے رہا ہوتا ہے .اور آخر میں رہ جاتے ہیں آپ کے ماں باپ اور بھائی وہ تو جیتے جی ہر روز بیچارے شرم سے مر رہے ہوتے ہیں، بس زندہ لاش بنے ہوتے ہیں اسلئے اپنی، والدین کی اور رشتہ داروں کی عزت کا خود خیال کریں
تحریر ہر بہن تک پہنچا دیں تاکہ کوئی بھی بہن کسی درندے کے ہاتھ نہ لگ جائے۔۔۔

قدرت کا اک حسین تحفہ "رتی گلی جھیل” از محمد عبداللہ
آزاد جموں و کشمیر کےخوبصورت ترین مقامات میں سے ایک مقام "رتی گلی جھیل”.
ضلع نیلم میں واقع یہ خوبصورت مقام دواڑیاں سے 16 کلومیٹر بلندی پر واقع ہے. دواڑیاں تک اپنی گاڑی پر بھی جاسکتے اور لوکل بھی جاسکتے. دواڑیاں سے رتی گلی بیس کیمپ تک آپ کو جیپیں میسر آتی ہیں.
ویسے دواڑیاں سے رتی گلی جھیل کے بیس کیمپ تک کا راستہ بذات خود بہت ہی دلکش راستہ ہے جو ایک تند و تیز پہاڑی نالے کے ساتھ ساتھ بلندی کی طرف چڑھتا ہے. اگر آپ کے پاس وقت ہو اور ہمت بھی ہو تو آپ دواڑیاں میں رات بسر کرنے کے بعد صبح سویرے پیدل سفر کا آغاز کریں اور نالے کے کنارے دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے شام تک رتی گلی جھیل کے بیس کیمپ تک پہنچیں.
رتی گلی جھیل کے بیس کیمپ پر اگر آپ رات گزارنا چاہیں تو وہاں خیمہ جات موجود ہیں جو مناسب کرائے میں آپ کی رات گزارنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں. رتی گکی سے علی الصبح آپ جھیل کی طرف چڑھنا شروع کریں آدھے راستے میں گلیشیئرز کے درمیان ایک چھوٹی جھیل آتی ہے. آپ اس کے کنارے سے ہوکر بلندی کی طرف سفر جاری رکھتے ہیں.
یہاں پر فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیاں اور ان کے دامن میں موجود چراگاہیں آپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواتی ہیں اور یہاں پر اکثر سیاِح غلطی کرتے ہیں جو ہم نے بھی کہ جگہ جگہ رک کر تصاویر اور ویڈیوز بنانے میں مصروف ہوجاتے ہیں اور جب بندہ پہاڑ کی چوٹی پر جیسے ہی پہنچتا تو سامنے کا منظر اتنا دلفریب ہوتا کہ کچھ لمحات تک تو بندہ مبہوت ہوکر رہ جاتا وہ منظر دیکھ کت بندہ سوچتا کہ یار نیچے جگہ جگہ کر تو وقت ضائع کیا. بیس کیمپ سے جھیل تک لے جانے کے لیے خچر اور گھوڑے بھی بیس کیمپ پر موجود ہیں.
جیسے ہی آپ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے ہیں تو سامنے گلشیئر ، اس عقب میں گلشیئرز سے ہی ڈھکی جھیل اور جھیل کے عقب میں تین اطراف سے جھیل کو گھیرے میں لیے ہوئے دیو ہیبت کالی کھڑی چٹانیں آپ کے سامنے موجود ہوتے ہیں.یہ منظر اتنا دلفریب اور حسین ہے کہ آپ کی زبان بےساختہ پکار اٹھتی ہے "فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ”.
جون کے اواخر میں اس جھیل کا راستہ کھلتا ہے اور اگلی برفباری تک یہ راستہ کھلا رہتا ہے. جھیل تک قدرے مشکل ٹریک اور گلیشیئرز کی وجہ سے کم لوگ اس جھیل تک جاتے ہیں تو اس وجہ سے جھیل کی قدرتی خوبصورتی صاف ستھری حالت میں آپ کے سامنے موجود ہوتی ہے. البتہ دوست احباب کے ساتھ جانے والے انسان خالی بوتلیں اور ریپرز وغیرہ وہاں پھینک ہی آتے ہیں جو کہ ایک نامناسب عمل ہے. اگر سبھی ٹورسٹس تھوڑی سی کوشش کریں اور خالی بوتلوں اور ریپرز وغیرہ کو ڈال کر نیچے لے آیا کریں تو ان قدرتی مناظر کی قدرتی خوبصورتی کو برقرار رکھا جاسکتا ہے.محمد عبداللہ

ڈرامہ انڈسٹری بمقابلہ پاکستانی کلچر.تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری
کسی دور میں پاکستان فلم انڈسٹری بھارت سے مقابلہ کرتی تھی وحید مراد سنتوش کمار محمد علی ندیم جیسے اداکار ناصر پاکستان بلکہ برصغیر میں شہرت رکھتے تھے فلم انڈسٹری کے زوال کے بعد ناظرین کیلئے تفریح کا ذریعہ صرف ٹیلی ویژن رہ گیا ۔ ناظرین کی بڑی تعداد 8 بجے آنے والے ڈرامے شوق سے دیکھتی اور اکثر ڈرامہ سیریل مقبولیت کے ریکارڈ بھی قائم کرتے الفا براوو چارلی، بندھن، عینک والا جن، گیسٹ ہائوس اور آغوش غرض ھر عمر کے ڈرامے عوام میں پسند کئے جاتے سڑکیں ویران ھوجاتی۔ عمدہ اداکاری بہترین پروڈکشن اور بہت سبق آموز کہانیاں اداکار اتنے ڈوب کر اداکاری کرتے تھے کہ ان کا اصل نام ہی بھول جاتا تھا اور صرف کردار ذہنوں پر نقش ہو جاتے ۔ تاہم 2010ء کے بعد تو پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری بدل کر رہ گئی۔
معیاری کہانیوں کی جگہ ساس بہو کے جھگڑے طلاقوں گھریلو جھگڑوں نے لے لی اگرچہ کئی اچھے ڈرامے بھی پیش کے گئے تاہم زیادہ تر اوسط درجے کے ڈرامہ سیریل چھوٹی سکرین کا حصہ بنے۔ یہ زیادہ تر ڈرامہ سیریل نجی چینلز پر نشر ہوئے اور کچھ سرکاری ٹی وی کا بھی حصہ بنے۔ ماسوائے چند ڈرامے جیسے ڈرامہ ‘داستان‘ جوکہ 1947ء کی ہجرت کے تناظر میں عکسبند کیا گیا اور رضیہ بٹ کے ناول ‘بانو‘ سے ماخوذ تھا اس کے بعد ‘میری ذات ذرۂ بے نشان‘ نے شہرت کے ریکارڈ قائم کیے ‘درِ شہوار‘ بھی ایک بہترین ڈرامہ تھا اور اسکے علاوہ ‘ھم سفر ‘ ‘زندگی گلزار ہے‘ جیسے انگلی پر گنے جانے والے ڈرامے جن میں کوئی سبق ہویا وہ معاشرے کی حقیقت کے قریب ہوں وہ پیش ھوئے اور انھوں نے ریکارڈ مقبولیت حاصل کی۔ ایسے ڈرامے بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے جس سے کوئی سبق مل سکے۔ ”سرخ چاندی‘‘ تیزاب گردی پر بنایا گیا ڈرامہ تھا جس نے ناظرین کو ہلا کر رکھ دیا۔
ان چند سالوں میں پڑوسی ملک کے کلچر کو یہاں یوں فروغ دیا گیا جیسے ثواب کا کام ھو مگر افسسس لوطن کی محبت اور قومی ہیروز پر ڈرامے نا ھونے کے برابر بنائے گئے ڈرامہ نا صرف کردار سازی ذہن سازی میں کردار ادا کرتا بلکہ ملک کا کلچر بھی دنیا کو دکھانے کا ذریعہ بنتا یہ بات غور طلب ہے کہ سنہرے دن اور الفا براوو چارلی کے دو دہائیوں بعد عہدِ وفا بنایا گیا یہ بھی امر قابلِ غور ہے کہ پاک فضائیہ اور پاک بحریہ پر حالیہ سالوں میں کوئی ڈرامہ سیریل نہیں بنا۔ ۔ ہمارے نجی چینلز ساس بہو کے جھگڑوں سے باہر نہیں آنا چاہتے۔ زیادہ تر ڈراموں میں دو شادیوں‘ متعدد افیئرز اور ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
دوسری طرف بھارت ہمارے مسلمان ہیروز کے کرداروں کو مسخ کر رہا ‘ ایک فلم پدماوت میں علائو الدین خلجی کے کردار کو یکسر متضاد پیش کیا گیا ہے جبکہ ‘پانی پت‘ فلم میں احمد شاہ ابدالی کے کردار کو مسخ کیا گیا۔ اس کے ساتھ آن لائن ویب سٹریم پر بھی بھارت کی اجاہ داری ہے‘ ہر دوسرا سیزن پاکستان کے خلاف بن رہا ہے جبکہ پاکستانی ہدایتکار کشمیر، بلوچستان، ایل او سی، سیاچن، سرحدی امور، ملکی حالات، فوجی اور سویلینز شہدا کی قربانیوں سے نظر چرا کر ٹی وی پر معاشقے کروانے میں مصروف ہیں، عورتیں پیسے کے پیچھے بھاگ رہی ہیں، نندیں بھابھیوں کے گھر تباہ کر رہی ہیں اور گھروں میں ایک
خدارا پاکستانیوں پر رحم کریں‘ تحریک پاکستان، 1965، 1971، کارگل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ضربِ عضب، رد الفساد جیسے آپریشنز ان پر ڈرامے بنایئں وہ ہیں ہمارے اصل ہیرو‘ ان پر ڈرامے اور فلمز بنانی چاہئیں۔ اس کے علاوہ غازیوں، پولیس کے ہیروز اور سویلینز کی قربانیوں کو اجاگر کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے تاکہ آج کی نسل کو پتا ہو کہ ان کے اصل ہیرو کون ہیں ورنہ تیاری پکڑیں کچھ عرصے بعد ڈرامہ انڈسٹری کا بھی ویسا ہی حال ہو گا‘ جو فلم انڈسٹری کا ہو چکا۔

لاہور کے مسائل۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم
پطرس بخاری نے اپنے مضمون "لاہور کا جغرافیہ” میں لکھا کہ:
” کہتے ہیں، کسی زمانے میں لاہور کا حدوداربعہ بھی ہوا کرتا تھا، لیکن طلبہ کی سہولت کے ليے میونسپلٹی نے اس کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقعہ ہے۔ اور روزبروز واقع تر ہورہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے، کہ دس بیس سال کے اندر لاہور ایک صوبے کا نام ہوگا۔ جس کادارالخلافہ پنجاب ہوگا۔ یوں سمجھئے کہ لاہور ایک جسم ہے، جس کے ہر حصے پر ورم نمودار ہورہا ہے، لیکن ہر ورم مواد فاسد سے بھرا ہے۔ گویا یہ توسیع ایک عارضہ ہے۔ جو اس کے جسم کو لاحق ہے۔ “بڑھتی ہوئی آبادی اور پھیلتا ہوا رقبہ ایک ایسی کینسر نما بیماری ہے جو شہر لاہور کو لاحق ہو گئی ہے۔ جس سے نہ صرف لاہور کی خوبصورتی ماند پڑ گئی ہے بلکہ بُہت سارے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اِسکی کچھ رونقیں کھو سی گئی ہیں۔
اگرچہ بُہت سارے مسائل ہیں جو لاہور کو لاحق ہیں لیکن چند چیدہ چیدہ مسائل مسائل میں درختوں کی کٹائی، ماحولیاتی تغیر، زیرِ زمین پانی کی کمی، وینس کی جھلک، ٹرانسپورٹ کی کمی، زرعی زمینوں کا کم ہونا، صحت اور تعلیم کی نا کافی سہولیات، اور معدوم ہوتے تہوار وغیرہ شامل ہیں۔
گزشتہ حکومتوں کے بر عکس اگرچہ موجودہ حکومت بہت سارے مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے لیکن ان مسائل کو حل ہونے میں وقت لگے گا۔درختوں کی کٹائی اور ماحولیاتی تغیر
گزشتہ کئی سالوں سے لاہور ماحولیاتی تغیر سے نبرد آزما ہے۔ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی، شدید گرمی اور فاگ سے بہت سارے مسائل نے جنم لیا ہے۔ ہر سال سینکڑوں افراد گرمی کی شدت سے بیمار ہو کر ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ اسی طرح فضائی آلودگی اور فاگ کی وجہ سے ہونے والی بیماریاں، گلے اور آنکھوں کا انفیکشن، سانس لینے میں دشواری،دمہ اور کھانسی وغیرہ بھی پریشان کن ہیں۔ بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے لوگوں کے پھیپھڑے خراب ہو رہے ہیں۔
ان مسائل کی بڑی وجوہات میں دھواں چھوڑتی گاڑیاں، اینٹوں کے بھٹے، فیکٹریوں میں ربڑ کا استعمال اور درختوں کی کٹائی شامل ہیں۔
اگرچہ موجودہ حکومت نے تقریباً تمام بھٹے جدید ذگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کر دیے ہیں اور آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومت پاکستان نے گاڑیوں کے لیے اچھی کوالٹی کا ایندھن (euro 5) منگوانا شروع کیا ہے، لیکن دوسری وجوہات پر بھی قابو پانے کی ضرورت ہے۔
بڑھتی ہوئی گرمی اور آلودگی کی سب سے بڑی وجہ درختوں کی بے دریغ کٹائی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2007 سے 2017 تک لاہور کے 75٪ درخت کاٹ دیے گئے۔ جس کی وجہ سے نہ صرف بارشوں میں کمی ہوئی بلکہ گرمی کی شدت میں بھی اضافہ ہوا۔ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھنے کی وجہ سے فضائی آلودگی اور فاگ جیسے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ افسوس صد افسوس، باغوں کے شہر لاہور سے درخت ہی کاٹ دیے گئے ہیں۔
موجودہ حکومت نے اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے جاپانی تیکنیک پر شہر بھر میں 50 میاواکی جنگل لگانے کا منصوبہ شروع کیا ہے جو کہ اگرچہ نا کافی ہے لیکن حکومت کی سنجیدگی کو ضرور ظاہر کرتا ہے۔
لاہور لبرٹی مارکیٹ میں لگایا گیا مياواکی فوریسٹ 8 کنال رقبے پر مشتمل ہے اور اُس میں 10 ہزار سے زائد درخت/پودے لگائے گئے ہیں۔
درختوں کی کٹائی اور بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے بارشوں میں بھی کمی آئی ہے۔ بارشوں میں کمی اور زیرِ زمین سے مسلسل پانی نکالنے کی وجہ سے مستقبل میں پانی کا بحران نظر آ رہا ہے۔ جہاں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پانی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے وہیں زیرِ زمین پانی کے ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ اگرچہ موجودہ حکومت نے اس صورتِ حال سے نمٹنے کیلئے عملی اقدامات کا اعلان کیا ہے، اس ضمن میں راوی ریور پروجیکٹ شروع کیے گئے ہیں، لیکن یہ منصوبے پورے ہونے میں وقت لگے گا۔
لاہور کو پیرس بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، یہ پیرس تو نہ بن سکا لیکن ہر سال وینس کا نظارہ ضرور کرواتا ہے۔ سیوریج کے ناقص نظام کی وجہ سے ہر سال مون سون کی بارشوں میں لاہور کو سیلابی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جہاں ایک طرف پانی کی کمی ہے وہیں ہر سال بارشوں کا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ بارشوں کے پانی کو محفوظ بنانے اور سیلابی صورتحال کا تدراک کرنے کے لیے موجودہ حکومت سیوریج کا نظام بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین 10 سے زائد واٹر سٹوریج ٹینک بنا رہی ہے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ یہ کتنے مددگار ثابت ہوں گے۔پبلک ٹرانسپورٹ کی قلت
ایک وقت تھا کہ لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ پر پورے شہر میں کہیں بھی جایا جا سکتا تھا۔ ریلوے اسٹیشن کے قریب لاہور کا سب سے بڑا بس اسٹیشن تھا جہاں سے پورے لاہور کے لیے بسیں چلتی تھی۔ لیکن یہ شعبہ بھی اب زبوں حالی کا شکار ہے۔ 2009 میں پنجاب حکومت نے جہاں دیگر کئی کمپنیاں بنائی وہیں لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی بھی بنائی گئی۔
لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی نے ابتدا میں 400 ائیر کنڈیشنڈ بسوں کے ساتھ تقریباً 19 بڑے روٹس اور کچھ چھوٹے روٹس پر کام کا آغاز کیا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بسوں کی تعداد میں کمی ہوتی گئی۔ افسران کی غفلت کی وجہ سے کمپنی 2017 میں سروس آپریٹرز کے ساتھ ختم ہونے والے معاہدوں کی تجدید نہ کر سکی جس کی وجہ سے یہ کمپنی بند ہو گئی اور سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب۔
ریکارڈ کے مطابق 2014 سے مسلسل حکومت کو نئی بسوں کے لیے درخواست دی جاتی رہی لیکن کوئی کام نہ ہوا۔ اگرچہ لاہور میٹرو بس اور میٹرو ٹرین آپریشنل ہے لیکن ان کی سروس مخصوص روٹ پر ہے۔
اس وقت لاہور کی ٹرانسپورٹ کی سہولیات کو پورا کرنے کے لیے کم و بیش 1500 بسوں کی ضرورت ہے۔اگرچہ موجودہ حکومت سروس بحال کرنے کے لیے کام کر رہی ہے لیکن ابتدائی طور پر صرف 300 بسیں فراہم کی جائیں گی۔
اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو دیکھتے ہوئے بلیو لائن اور پرپل لائن کے منصوبے جو کہ 2007 میں تجویز کیے گئے تھے فلحال کاغذوں تک ہی محدود ہیں۔لاہور کے گرد پھپھوندی کی طرح پھیلتی ہاؤسنگ اسکیمز بذاتِ خود ایک مسئلہ ہیں۔ زرعی زمینوں پر بننے والی ان سوسائٹیوں میں نہ صرف سہولیات کا فقدان ہے بلکہ بے ہنگم بھی ہیں۔ اِن کی وجہ سے پیدا ہونے والا سب سے بڑا مسئلہ غذائی اجناس کی قلت ہے۔ ان زرخیز زمینوں پر پہلے سبزیاں، چاول، گندم اور دیگر غذائی اجناس کی کاشت کی جاتی تھی جو کہ شہر لاہور کی ضروریات کو کسی حد تک پورا کرتی تھیں لیکن اب حالات مختلف ہیں۔ اب زرخیزی کی جگہ صرف بے ہنگم آبادی ہے۔
لاہور میں جہاں دیگر بُہت سے مسائل ہیں وہیں پر صحت کی نا کافی سہولیات بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ گزشتہ کئی سالوں میں کوئی نیا ٹرشری کیئر ہسپتال نہیں بنایاگیا، اگرچہ موجودہ حکومت نے لاہور میں 2 نئے ہسپتال بنانے کا آغاز کیا ہے، لیکن شمالی اور مشرقی لاہور میں کوئی بھی بڑا سرکاری ہسپتال نہ ہی موجود ہے اور نہ ہی عنقریب کسی کی امید ہے۔ ہسپتالوں میں جدید مشینری یا تو موجود نہیں اور اگر موجود ہے تو وہ خراب ہے۔
یہ اور ایسے بُہت سے دیگر مسائل ہیں جو کہ شہر لاہور کو لاحق ہیں، اگر ان مسائل کی تفصیل بیان کرنا شروع کی جائے تو ہر مسئلے کے لیے ایک علیحدہ آرٹیکل لکھا جا سکتا ہے۔ گزشتہ حکومتوں میں ان مسائل کو حل کرنے کی بجائے صرف ایسے پروجیکٹ شروع کیے گئے جو کہ ذاتی مشہوری کے لیے ضروری تھے، اگرچہ موجودہ حکومت نے ایسے منصوبے شروع کیے ہیں جن سے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے حکومت کی سنجیدگی نظر آتی ہے لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ منصوبے مکمل ہو کر کس حد تک ان مسائل کو حل کریں گے۔









