Baaghi TV

Category: تعلیم

  • کرونا اور آجکل کے طالب علم . تحریر : نعمان سرور

    کرونا اور آجکل کے طالب علم . تحریر : نعمان سرور

    جب سے کرونا کی وبا آئی ہے تب سے تعلیم پر اس کا بہت زیادہ اثر پڑا ہے دنیا بھر میں سکول،یونیورسٹیاں اور دیگر تمام ادارے بند کر دئیے گئے، امتحانات منسوخ کر دئیے گئے اور کئی ممالک میں وبا کے پہلے سال طلباء کو اگلی کلاس میں بھیج دیا گیا پھر جب یہ دیکھا گیا کے یہ وبا اتنی جلدی ختم ہونے والی نہیں ہے تو دنیا نے اس کے ساتھ جینے کا فیصلہ کیا اور ایسے طریقے اختیار کئیے گئے کے روز مرہ کے معملات کاروبار،نوکریاں، تعلیم اور دیگر معملات کو ساتھ ساتھ چلایا جائے۔

    دنیا ٹیکنالوجی پر منتقل ہوگئی مختلف قسم کے نئے سوفٹ وئرز بنائے گئے جن سے آن لائن کلاسز کا آغاز کر دیا گیا، کاروبار اور دیگر چیزوں کے لئے بھی کئی ایپس مارکیٹ میں آ گئیں اور لوگ ان کا استعمال کرنے لگے جس کی وجہ سے جو خلا بنا تھا کافی حد تک ُپر ہوگیا، دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی یہی طریقہ کار اختیار کیا گیا۔

    پاکستان میں بھی یہی کیا گیا اور بچوں کو آن لائن پڑھانے کے ساتھ ان کے پیپر بھی آن لائن لئے گئے جس میں چار چار سٹوڈنٹس نے مل کر خوب نقل کی اور ہر کسی نے اچھے نمبر لئے اور آجکل کے زیادہ تر بچے ویسے ہی محنت کرنے کے عادی نہیں تو انہوں نے کرونا کو غنیمت جانا اور نمبروں پر خوب ہاتھ صاف کئے۔

    لیکن مسئلہ اسوقت ہوتا ہے جب شفقت محمود نے یہ اعلان کیا کے اب کوئی امتحان آن لائن نہیں بلکے تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے سب امتحان کمرہ امتحان میں لئے جائیں گے تو ان بچوں نے ایک طوفان بدتمیزی برپا کر دیا وہ بچے جو سارا دن بازاروں میں پھرتے تھے،کرکٹ کھیلتے تھے انہیں اب کرونا سے ڈر لگنے لگا۔

    وہ بچے جو سارا دن پب جی کھیل کھیل کر موبائل کے انٹرنیٹ اور بیٹری کا بیڑا غرق کرتے تھے انہوں نے اب یہ کہنا شروع کر دیا کہ پاکستان میں نیٹ ہی نہیں چلتا ہماری تیاری نہیں ہے۔ بعض جگہوں پر یہ مسئلہ واقعی تھا لیکن پورے پاکستان کے بچے حکومت اور تعلیمی اداروں کو بلیک میل کرنے لگے،ٹویٹر پر روزانہ کی بنیاد پر ٹرینڈز کئیے جانے لگے اور وہ شفقت محمود جو کبھی ان کی آنکھوں کا تارا تھا وہ اب ولن بنا گیا تھا سب بچے اس کی جان کے پیچھے پڑ گئے تھے یہ وہ بچے تھے جو اپنے آپ کے ساتھ اپنے ماں باپ کو بھی دھوکا دینے میں مصروف تھے جن کا تعلیم حاصل کرنے کا مقصد انہیں خود بھی نہیں معلوم، ان بچوں نے ٹویٹر پر ایک ایک دن میں 4،4 لاکھ ٹویٹس کئیے اور اس میں ہر قسم کی تصاویر،میمز،وڈیوز کا استعمال کیا سوال یہ بنتا ہے کے وہ بچے جو چند میگا بائٹس کے پی ڈی ایف ڈاکومنٹس ڈاؤنلوڈ کرنے میں مشکلات کا شکار تھے جن کی تعلیم انٹرنیٹ نہ ہونے سے بقول ان کے رک گئی تھی اب ان کے پاس اتنا تیز نیٹ کیسے آ گیا تھا ؟

    جواب یہ ہے کے نیت خراب تھی اور سستی دماغ پر سوار تھی پھر ان بچوں نے اپنے آپ کو یہاں نہ روکا بلکے عملی احتجاج بھی شروع کیا کئی جگہ مار پیٹ کی یہ اپوزیشن کو دیکھ کر شاید یہ سمجھ رہے تھے کے ایسا کرنے سے امتحان ملتوی ہو جائیں گے لیکن ان کی کوئی بات ان کے کام نہ آئی افسوس کا مقام یہ ہے کے اپوزیشن اور ملک بھر کے موقع پرست کئی لوگوں نے ان کو استعمال کیا اور بل آخر بات یہی طے ہوئی کے امتحان تو دینے ہونگے۔

    ہماری نوجوان نسل کو بے شک وقتی طور پر بہت تکلیف ہوگی اور ان کا دل بھی نہیں چاہے گا پڑھنے کا لیکن اگر آپ نے دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو آپ کو ہر معاملے میں اپنے آپ کو وقت کے مطابق ڈھالنا ہوگا زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے ایسے اگر پاس ہو بھی جاتے ہیں تو یاد رکھیں صرف ڈگری کی دنیا میں کوئی وقعت نہیں ہے یہ وقتی طور پر آپ کو اچھا لگے گا سہل لگے گا لیکن یہ اصل میں آپ کے لئے نقصان ہے۔

    دوسرا شفقت محمود اور حکومت کو اس پر داد ہے کے وہ ان کے پریشر میں نہیں آئے حالانکہ ان سب کو دوبارہ پاس کرکے کے ایک مقبول فیصلہ کر سکتے تھے لیکن حکومتوں کا کام مقبول ہونا نہیں ہوتا بلکے اپنی قوم کی بہتری دیکھنی ہوتی ہے اگر سب کو بغیر امتحان یا نقل والے آن لائن امتحان میں پاس کر دیتے تو ان طالب علموں کے ساتھ زیادتی ہوتی جو محنت پر یقین رکھتے ہیں جنہوں نے تین مہینے ٹویٹر پر ٹرینڈ نہیں کئے بلکے پڑھائی کی۔

    حکومت سے یہ اپیل ہے کے ان علاقوں میں جہاں انٹرنیٹ کے مسائل واقعی میں موجود ہیں ان کو حل کیا جائے بچوں کو فیسوں میں رعایت دی جائے پسماندہ علاقوں کے بچوں کو انٹرنیٹ کی مد میں پیسے دئیے جائیں اور ان کی مدد کی جائے لیکن امتحانات پر کوئی سودے بازی نہیں ہونی چاہیے بے شک آدھی کتابوں کے امتحان لیں لیکن یہ تعلیمی نظام کی بقا کے لئے ضروری ہے۔

    انسانی تاریخ کا یہ ایک مشکل وقت ہے دنیا میں پہلے بھی کئی وبائیں گزر چکی ہے لیکن اس نسل نے یہ پہلی وبا دیکھی ہے اور افسوس اس بات کا ہے کے بجائے اس کا مقابلہ کرنےکے احتیاطی تدابیر کے ہماری نوجوان نسل کے ایک بڑے حصے نے اس کی موقع غنیمت بنایا، اللہ تعالی جلد اس وبا سے ہماری جان چھڑائے اور ہماری نوجوان نسل کو ہدایت دے آمین

    @Nomysahir

  • تعلیم و تربیت تحریر : راجہ حشام صادق

    تعلیم و تربیت تحریر : راجہ حشام صادق

    اس دنیا میں آنے والا انسان پہلے دن سے ہی عالم نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ انسان بغیر استاد کے کچھ سیکھ سکتا ہے۔دنیا میں آنے کے بعد بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود کہلایا گیا ہے ۔میرے نزدیک والدین ہی اپنے بچے کے بہترین استاد ہوتے ہیں۔ ان کی دی گئی تربیت بچے کی زندگی کو اسی راستے پر لاتی ہے۔ جس پر والدین نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ہوتا ہے۔اور کچھ سبق زندگی سکھا دیتی ہے۔ تو کچھ استاد کی محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔

    استاد جس علم کی روشنی کو تقسیم کرتا ہے اس سے بہت سارے چراغ روشن ہوتے ہیں۔ علم ایک سے دوسرے میں منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور جاری رہےگا۔ قارئین علم بغیر عمل کے بے فائدہ ہے تعلیم آپ نے حاصل کر بھی لی اگر کسی چیز کے بارے میں تعلیم مکمل کرلیں اور اس کو یاد بھی کر لیا۔ لیکن اس پر خود عمل نہیں کرتے تو ایسے علم کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ علم پھیلانا دوسروں میں تقسیم کرنا صدقہ جاریہ ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ہوتا کیا ہے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انسان کے اندر تکبر آ جاتا ہے۔جسے اپنے علم پر گھمنڈ ہو جو تعلیم یافتہ دوسروں کو خود سے کمتر سمجھے تو ایسے عالم سے وہ جاہل بہتر ہے جس کے اندر کسی چیز کا گھمنڈ نہیں ہوتا بڑی عاجزی کے ساتھ بات سنتا اور عمل بھی کرتا ہے۔

    ہونا تو یہ چاہیے کہ ایک علم والا اپنے بہترین اخلاق اور بہترین تعلیمات کے ذریعے علم و شعور کی بیداری کے لئے اپنا کردار ادا کرے تاکہ سننے پڑھنے والوں کے اندر مطالعہ کا ذوق و شوق پیدا ہو اور اس کو حاصل کرنے کے بعد عمل کرنے کی تربیت بھی دی جائے۔
    بہت سی ایسی شکایات سننے کو ملتی ہیں کہ نوجوان نسل بدتمیز ہے اور ان میں کوئی شعور نہیں ہے۔ لیکن یہاں پر یہ سوال بھی جنم لیتا ہے ۔

    کیا آج کے دور میں علم تقسیم کرنے والے خود باعمل ہیں ؟
    کیا ان کا مقصد دوسروں تک علم کو امانت سمجھ کر پہنچانا ہے۔ یا پھر حصول روزگار کے لئے اس شعبے کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔اور ترجیحات میں صرف ذاتی فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔

    یاد رکھیں جہاں آج ایک نسل کو بد اخلاق تصور کیا جاتا ہے وہاں صرف آج کی پروان چڑھتی یہ نوجوان نسل قصوروار نہیں۔ بلکہ اس نسل کے والدین بھی اس کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے بغیر تحقیق کیئے اپنے بچوں کی تربیت کے لئے ایسا انتخاب کیا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں بسنے والا ہر باشعور شخص قصوروار ہے ۔ان سب کے سامنے علم کو صرف بیچا گیا ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج جہاں علم کی قیمت لگائی جاتی ہے علم کو بیچا جا رہا ہے۔ اس کے خریدار بھی اتنے ہی زیادہ ہیں جو جتنا طاقتور ہے وہ تعلیم کی ڈگریاں خرید لیتا ہے۔وہ لوگ جو دن رات محنت کرنے والوں بچوں کے حق پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ وہ کردار ذمہ دار ہیں جو بیچتے اور خریدتے ہیں سچ کہوں تو برا لگے گا حقیقت تو یہ ہے اب علم کی منڈی لگی ہوئی ہے۔ جو جتنا پیسے والا ہو گا اس کے پاس اتنی بڑی ڈگری ہو گی۔ اب ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جس کو خرید تو لیا جائے لیکن بے عمل ہو اس منڈی میں جب علم کے ہی سودے ہوں گے تو قوم میں علامہ اقبال کے شاہین نہیں بلکہ ایک جاہل نسل پروان چڑھے گی۔

    پھرہو گا کیا یہ کتابیں کسی سڑک کے کنارے آپ کو ملیں گی یا کسی کباڑیے کے پاس چند کوڑیوں کے عوض بک رہی ہوں گی۔ جب تعلیم حاصل کرنے کا مقصد روزگار ہو پھر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ ایک باشعور شہری ہیں اس ملک کے یا ایک پڑھے لکھے جاہل ہیں ۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @No1Hasham

  • سکول  میں ڈانس کلچر معاشرے کی تباہی تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    سکول میں ڈانس کلچر معاشرے کی تباہی تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    ماں کی گود کے بعد بچے کی درسگاہ کی زمہ داری اس کے اساتذہ پر عائد ہو جاتی ہے. جو اسے زندگی کے جھمیلوں سے نمٹنے کے لیے ہیرے کی طرح تراشتا ہے. اس زمرہ میں معاشرتی اصول و ضوابط کے مطابق تعلیمی اداروں میں یہ کام سر انجام دیا جاتا ہے. جہاں اساتذہ اپنے علم و ہنر کے جوہر آزماتے ہوئے طالب علم کو تراشتے اور انمول ہیرا بناتے ہیں.
    تعلیمی سرگرمیوں میں بچوں کی صحت اور جسمانی تروتازگی کے لیے مختلف کھیلوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے.
    گزشتہ چند سالوں میں جب تعلیمی اداروں میں Co-Education نظام کے ترجیحات کو ایک نیا رنگ دیا. پہلے پہل تو اوقات کار بچوں اور بچیوں کے الگ تھے. پھر رفتہ رفتہ اوقات کا تو درکنار کمرہ جماعت بھی اکٹھے ہو گئے. اس پر پھر جو آزادی دی گئی اس نے تعلیمی اداروں کے معیار کو برباد کر کے رکھ دیا. آج میٹرک جماعت کے طلبہ ٹک شاپس پر گلچھرے اڑاتے دکھائی دیتے ہیں. رہی سہی کسر سکولوں اور کالجز میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی مد میں ڈانس پارٹیوں نے نکال دی. آج کل تو معروف ادارے ماڈرنائزیشن کے نام سےکپل ڈانس جیسی لعنتوں کا سہرہ اپنے سر سجاتے نظر آتے ہیں. جس عمر میں بچوں کو اچھائی اور برائی کا شعور آنا چاہیے تھا اس عمر میں ان کی آپسی انڈرسٹینڈنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے.
    یہ کیسی تعلیم ہے جس میں بچوں کو انڈرسٹینڈنگ کے نام پر عشق و معشوقی کے جزبات سکھاے جا رہے ہیں. ہماری نسلوں کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے. میرا اتفاق ہوا انگلش لینگوج کا کورس کرنے کا. اتفاقاً اس ادارے میں صبح میں سکول اور شام میں ٹیوشن سنٹر قائم تھا. میں اور میرے برادر محترم سمیت ان کے چند دوست بھی جو کہ اس کورس میں دلچسپی رکھتے تھے نے شمولیت اختیار کی. شام میں ہم سب بھائی اور دوست اس ادارے میں اپنے انگریزی زبان کہ تقویت کا عزم لیے داخل ہوئے. وہاں ایک تعداد آٹھویں سے دسویں جماعت کے طلبہ اور طالبات کی بھی تھی. پہلا دن تو تعارف میں گزرا. لیکن انکی اٹکیلیوں اور شرارتوں سے فضا نامعقول محسوس ہوئی. اگلے دن جب ہم دوبارہ کلاس لینے پہنچے تو ہم سے پہلے ایک بڑی تعداد اس ادارے میں بچوں کی صف اول میں موجود تھی. مختصر تعارف سے معلوم ہوا کہ یہ اسی سکول کے بچے ہیں جو صبح یہاں سکول پڑھتے ہیں. کلاس کو شروع ہوئے 15 منٹ گزرے تو چٹ چیٹ کا آغاز ہو گیا. جو کہ بڑھتے بڑھتے کاغذ کے گولے بنا کر ایک دوسرے کو مارنے تک جا پہنچا. استاد محترم وہاں تہزیب کا درس دیتے بے بس دکھائی دے رہے تھے. بالآخر استاد محترم کی جوانی پر بات چھڑ گی اور نو عمر 28 سالہ استاد محترم بھی خوش گپیوں میں مشغول ہو گئے. کلاس کا وقت انہی خوش گپیوں میں مکمل ہوا. ہمارے بار بار اصرار پر کلاس پر توجہ دلانے کی ناکام کوشش بھی جاری رہی. وہ دن ہمارا اس ادارے میں آخری دن تھا. کیا یہ ہمارے مستقبل کے معمار ہیں؟
    میرا سوال ان طالبات سے بھی ہے جنہیں چٹ چیٹ سے فرصت نہیں تھی.
    جن طلبا کے جزبات چکنی چپٹی باتوں سے ابھارے گئے کیا وہ کل روشن مستقبل بنا پائیں گے. پھر گناہ سب لڑکوں کا ہوتا کہ اچھے رشتے نہیں ملتے. پڑھی لکھی بیٹیاں بوڑھی ہو رہی ہیں. کیا ہم یہ اپنا مستقبل بنا رہے ہیں. میرا سوال ان طلبا سے بھی ہی جنہیں بکنی چپٹی باتیں سننے کا شوق ہے. کیا اپنی گھر کی بہن بیٹی کو یہ آزادی دو گے. کہ وہ تمہاری من چاہی گڑیا کی طرح اپنے کسی شہزادے کی باہوں میں جھومتی پھرے؟
    کیا ماں باپ اس لیے بھیجتے کہ ان کے بڑھاپے کو اپنے نکھٹو مستقبل سے برباد کرو؟
    میرا سوال تعلیمی اداروں سے ہے. یہ انڈرسٹینڈنگ کے نام پر بچوں کے جزبات ابھار کر اور ڈانس پارٹیوں سے ان میں قربتیں بڑھا کر ڈانس پارٹیوں میں تنگ لباس سے بچیوں کے جسموں کی نمائش کروا کر اور شہوت کو فروغ دے کر کونسا بھلائی کا کام انجام دیا جا رہا ہے؟ اللہ رب العزت کے متعین کردہ حج و عمرہ کے فرائض جہاں عورت کو صفا مروہ دوڑنے تک کی اجازت نہیں تم بنت ہوا کو نا محرموں میں نچا کر کونسی روزی حلال کر رہے ہو؟
    حضور نبی کریم خاتم النبیںن محمد صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا. جو شخص چاہے کہ مسلمانوں میں فحاشی پھیلے اس کے لیے درد ناک عزاب ہے.
    خدارا ہوش کے ناخن لیں. ماں باپ اپنے بچوں کے لباس اور تہزیب کا خیال کریں. اساتذہ بچوں کے مستقبل کو خراب ہونے سے روکیں. تعلیمی ادارے اس طرح کے ماحول کو ترک کر کہ ایک اچھا پلیٹ فارم مہیا کریں. جہاں سے نکلنے والے طلبہ اور طالبات تمہارے سکھاے ہوے علم و اداب کی بدولت اپنا مستقبل روشن کر سکیں. تاکہ مستقبل کی نسل کو تباہی سے بچایا جا سکے.

    @EngrMuddsairH

  • استاد ہمیشہ استاد ہی رہتا ہے تحریر صابر حسین

    استاد ہمیشہ استاد ہی رہتا ہے تحریر صابر حسین


    آج کل کے شاگرد اساتذہ کی خدمات کو سراہتے ہی نہیں بلکہ استاد کی ہمیشہ تذلیل کرتے ہیں ایسے بہت سے واقعات ہماری آنکھوں کے سامنے گزرے ہیں جہاں شاگرد اساتذہ کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں
    استاد روحانی ماں باپ کا درجہ رکھتا ہے جہاں ماں باپ بچے کی تربیت کرتے ہیں وہی استاد اسے تعلیم سے آراستہ کرکے ایک مضبوط انسان بتاتا ہے استاد ہمیشہ استاد ہی ہوتا ہے چاہے وہ زندگی کے کسی شعبے سے منسلک ہو آج ہم آپ کو ایک ایسے ہی استاد کا واقع بتاتے ہیں جس نے ایک شاگرد کو ہنر سکھایا اور وہی شاگرد استاد کے مقابلے میں ہو گیا
    ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﺸﺘﯽ ﻟﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﻓﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺳﺎﭨﮫ ﺩﺍﺅ ﭘﯿﭻ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﺅ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺸﺘﯽ ﻟﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺍﻧﺴﭩﮫ ﺩﺍﺅ ﺳﮑﮭﺎ ﺩیئے ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﺅ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﺎ ﯾﻌﻨﯽ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﻧﮧ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ۔

    ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﻣﯿﮟ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﮩﺮﺕ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﻠﮏ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺃﺕ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮯ ﺯﻋﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦِ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻓﻮﻗﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺰﺭﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﮐﮯ ﺣﻖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﮯ، ﻭﺭﻧﮧ ﻣَﯿﮟ ﻗﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻓﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦِ ﻭﻗﺖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﮑﺒﺮ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﻣﯿﮟ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔

    ﻣﻘﺮﺭﮦ ﺩﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺩَﻧﮕﻞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﺎﮨﺎﻧﮧ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﺎﺕ ﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ، ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﻋُﮩﺪﮮ ﺩﺍﺭ، ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﻓﺴﺮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮏ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺴﺖ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺩَﻧﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﮐﮭﺎﮌ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺍُﺳﺘﺎﺩ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﻗﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﺎ ﮨﻢ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﺱ ﺁﺧﺮﯼ ﺩﺍﺅ ﮐﺎ ﺗﻮﮌ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻭﮨﯽ ﺩﺍﺅ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﭘﭩﺦ ﺩﯾﺎ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﻭﺍﮦ ﻭﺍﮦ ﮐﺎ ﺷﻮﺭ ﻣﭻ ﮔﯿﺎ، ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﮑﺒﺮ ﺧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﻣِﻞ ﮔﯿﺎ

    ﺍﺱ ﺣﮑﺎﯾﺖ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﻭ ﻧﺼﯿﺤﺘﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﯿﮟ
    ﭘﮩﻠﯽ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺩﻭﻟﺖ، ﺷﮩﺮﺕ، ﻋﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻡ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻋﺎﺟﺰﯼ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﻭﻗﺘﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺩﮦ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﭘﺮ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮑﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺁ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻧﺎﺭﺍﺿﮕﯽ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ بنتا ﮨﮯ۔ ﺍﺱ لئے ﺍﺱ ﺗﮑﺒﺮ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ۔
    ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﺘﻨﺎ ﺑﮭﯽﺑﮍﮪ ﺟﺎﺋﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺩﻋﻮٰﯼ ﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﮮ ہرگز نہ کرے نہیں ﺗﻮ ﻭﮦ ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍﺩﺏ ﮐﮩﻼﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺷُﻌﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻣُﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﻧﮧ ﮐﮧ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ
    کچھ دن قبل ہمارے علاقے کے نامور پہلوان کلیم اللہ بچار جو ملکی و غیر ملکی کشتیوں میں اپنا مقام رکھتے تھے جنہوں بڑے بڑے نامور پہلوانوں کو دھول چٹا دی بجلی کا کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گئے کلیم اللہ بچار ضلع مظفرگڑھ کے نامور پہلوان تھے حکومت کی سرپرستی نا ہونے کی وجہ سے سوائے کرکٹ کے باقی کوئی کھیل نہیں بچا !
    کلیم اللہ بچار خوش مزاج ، ماں باپ اور اساتذہ کی عزت کرنے والے انسان تھے میری دعا ہے کہ :
    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اساتذہ کی عزت و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    ‎@SabirHussain43

  • عالمی تعلیم کی اہمیت:عاقب علی

    عالمی تعلیم کی اہمیت:عاقب علی

    عالمی تعلیم تعلیمی تجربات کی سہولت فراہم کرنے کے بارے میں ہے جو طلباء کو متنوع نقطہ نظر کی تعریف کرنے ، بالترتیب وسیع دنیا سے ان کے رابطوں کو سمجھنے اور مؤثر طریقے سے بات چیت کرنے اور ثقافتوں اور ممالک میں تعاون کرنے کی اجازت دیتا ہے ، اور انضباطی اور بین الضابطہ علم کا استعمال کرتے ہیں تاکہ ان مسائل کی تحقیقات اور کارروائی کی جاسکے۔ ان کے لیے اور وسیع دنیا کے لیے۔ عالمی تعلیم ایک "اضافی” یا "اچھا ہونا” کورس نہیں ہونا چاہیے جسے صرف مٹھی بھر طلباء ہی لے سکتے ہیں ، اور نہ ہی اسے اسکول کے آخری چند ہفتوں میں کسی تفریحی منصوبے سے منسلک کیا جانا چاہیے۔ کیوں؟ عالمی مسائل اور نقطہ نظر کو کسی بھی اور تمام مواد کے شعبوں کو سکھانے کے لیے بطور لینس آسانی سے مربوط کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں ، عالمی تعلیم مندرجہ ذیل جامع طالب علموں کے نتائج کا باعث بن سکتی ہے جو تعلیمی کامیابی اور مجموعی طور پر فلاح کا باعث بنتے ہیں۔
    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جب طلبہ مستند کاموں اور حقیقی دنیا کے تجربات کے ذریعے مواد سیکھتے ہیں تو ان کے مشغول ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے ، جس کے نتیجے میں زیادہ حاضری اور کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ عالمی تعلیم طلباء کو حقیقی دنیا کے مسائل اور سرگرمیوں سے براہ راست مشغول کرتی ہے۔ طالب علموں کو میکسیکو میں ساتھیوں کے ساتھ اسکائپ کرنے کے مقابلے میں ہسپانوی زبان پر آمادہ کرنے کا کیا بہتر طریقہ ہے ، یا انہیں عالمی موجودہ واقعات پر براہ راست سرخیوں سے کھینچ کر مباحثہ پر مبنی مضمون لکھنے کی مہارت سکھائیں۔
    ایک رپورٹ کے مطابق ، 40 ملین سے زیادہ امریکی ملازمتیں بین الاقوامی تجارت سے منسلک ہیں۔ آج کل آجر اعلی ثقافتی مہارتوں کے حامل اعلی گریجویٹس کے لیے بے چین ہیں جو انہیں متنوع ٹیموں اور پوری دنیا کے گاہکوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ طلباء کو وسیع دنیا اور اس میں لوگوں ، ثقافتوں اور نقطہء نظر کے تنوع کو سمجھنے کے مواقع فراہم کرتے ہوئے ، اسکول طلباء کو بازار میں مسابقتیہ برتری بھی دے رہے ہیں۔
    دنیا سے اور اس کے ساتھ سیکھنا نہ صرف طلباء کی تعلیمی ترقی کو فائدہ پہنچاتا ہے بلکہ ان کی سماجی جذباتی نشوونما میں بھی معاون ہوتا ہے۔ عالمی تعلیم کسی کی اپنی شناخت ، ثقافت ، عقائد اور وسیع تر دنیا کے ساتھ کس طرح جڑتی ہے ، سماجی ہمدردی بشمول ہمدردی ، نقطہ نظر لینے ، تنوع کی تعریف کرنے ، اور دوسروں کا احترام کرنے ، اور مختلف افراد اور گروہوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی مہارت کے بارے میں خود آگاہی پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مؤثر مواصلات اور تعاون کے ذریعے
    گلوبل لرننگ طلباء کو قابل بناتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے اور اپنے ارد گرد کی دنیا کو مثبت طور پر متاثر کرنے کے لیے بامقصد کارروائی کریں۔ جب طلبہ کو ان مسائل کی چھان بین کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں جنہیں وہ اہم سمجھتے ہیں (چاہے وہ بندوق کا تشدد ہو ، صاف پانی تک رسائی ہو ، یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو) ، ان مسائل کو کیوں کھولیں ، اور ان کو بہتر بنانے کے لیے حل نکالیں ، وہ بااختیار بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ متعدد اساتذہ اور اسکول کے منتظمین عالمی تعلیمی اقدامات کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں ، میں نے تصدیق کے ساتھ کام کیا ہے ، ایک بار جب آپ طلباء کے لیے ایکشن لینے کے دروازے کھولیں گے تو آپ فنڈ ریزرز ، مہمات ، پراجیکٹس ، پروگراموں اور احتجاج پر حیران رہ جائیں گے۔ دنیا کو ایک بہتر جگہ بنائیں۔
    @aliaqib7301

  • سوشل میڈیا،محبت اور پڑھائ  تحریر:خدیجہ نقوی

    سوشل میڈیا،محبت اور پڑھائ تحریر:خدیجہ نقوی

    چند دنوں پہلے کی بات ہے سوشل میڈیا کی زینت بنی ایک ویڈیو ہر عام و خاص کی زباں پہ محو گفتگو تھی۔ جی ہاں میں لاھور میں ایک نجی یونیورسٹی میں پرپوزل کی وائرل ویڈیو کی ہی بات کر رہی ہوں۔
    اس ویڈیو نے اپنے ہر طبقہ فکر کو اپنے اندر سمو لیا تھا کچھ لوگ لڑکی لڑکے کہ محبت کو رشک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے تو وہیں ایک طبقہ ایسا تو جو اسلامی نقطئہ نظر سے تنقید کا نشانہ بنا رہا تھا۔۔۔۔ جب بات عورت کی آۓ اور اس طرح آۓ تو میرا جسم میری مرضی والی سوچ سے ہم آہنگی رکھنے والے کیسے پیچھے رہ سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اسلام میں سے صرف اپنے مطلب کو justify کرتا حصہ اٹھایا اور اس عمل کی حمایت میں اس جواز کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوۓ کہ اسلام میں لڑکی کو اسکی مرضی کا پورا اختیار دیا ھے۔
    بات رسد و طلب کے خط کی طرح اپنی اونچائی کو چھو کہ آہستہ آہستہ گرنے لگی اور لوگ اس واقعے کو بھولنے لگے۔اس کے کچھ عرصے بعد سننے میں آیا کہ دونوں کی شادی ہو گئ ھے۔اور چ
    پھر یہ خبر آئ کہ شادی نہیں ہوئ بات پکی ہو گئ ھے تعلیم مکمل ہونے کے بعد شادی ہو جاۓ گی جس سے ایک تسلی ہوئ کہ چلو آخر کو جو ہوا س ہوا مگر یہ ایک اچھا انجام ہو گا۔ایک دن ہونہی فیس بک سکرولنگ کے دوران ایک ویب چینل پہ لاہور یونیورسٹی کی طالبہ کا انٹرویو نظروں سے گزرا کہ جسے دیکھ کہ میں سر پکڑ کہ رہ گئ کہ ایک لڑکی جو اپنی اپنے ماں باپ کی عزت کو پس پشت رکھ کہ سرعام شہریار کو پرپوز کرتی ھے اور وہ اس لئے کہ لوگوں کو پتہ چل جاۓ کہ یہ دونوں جلد شادی کرنے والے ہیں اور جس کا جواب شہریار بھی مثبت انداز میں دیتا دیکھائی دیتا ہے لیکن کچھ عرصے میں وہ لڑکا اپنے وعدوں کو وفا نہ کرتے ہوۓ فیملی پریشر میں رشتہ ختم کئے اگلی زندگی کی جانب رواں دواں ہوتا ھے۔
    یہاں سوال میرا ان لنڈے کے لبرلز سے ھے کہ کل تک جو محبت کے قصیدے پڑھتے تھکتے ہیں اب اس بے وفائی پہ کچھ تو شرم کر لیں۔
    سوشل میڈیا کی آزادی ڈراموں اور فلموں میں کالج یونیورسٹی کی عشق محبت کی لازوال داستانیں آپ کے بچوں کو یونیورسٹی میں آئنسٹائن یا نیوٹن نہیں بلکہ ہیر رانجھا۔۔۔ لیلیٰ مجنوں کا پیروکار بنا رہی ھے۔
    حد تو اس وقت ہوتی ھے جب یونیورسٹی کے انتظامیہ اس پہ کوئ سخت ایکشن نہیں لیتی جب تک ان پہ معاشرتی دباؤ نہ آۓ۔۔۔ شہریار اور حدیقہ کے کیس میں بھی یہی ہوا ان سے پہلے اس یونیورسٹی میں دو طلبہ کہ طرف سے دو بار یہ ڈرامہ ہو چکا ھے مگر وہ ایکسپیل ہونے سے بس اس لے بچے کہ انکی ویڈیوز وائرل نہیں ہوئ۔ اور یونیورسٹی پہ کوئی معاشرتی اور اخلاقی دباؤ نہ تھا۔
    یہاں ایک سوال ان تعلیمی اداروں سے بھی ھے کہ مدرسے تو صرف درس و تدریس کا مسکن تھے تو کیوں آج انڈین گانوں پہ کالج یونیورسٹی کی فنکشنوں میں نوجوان اساتذہ کے سامنے تھرکتے پھرتے ہیں۔
    کیوں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تعلیمی ادراے مغربی ثکافت کی پرچھائ بن گۓ ہیں۔۔۔
    یہاں سوال اس باپ سے ھے کہ جس نے اچھا کمانے کے لیے دن رات ایک کردیا اولاد کو خود سے دور اور زندگی کے نازک ترین دور میں اکیلا چھوڑ دیا کہ جہاں باپ کی نظر میں یہ تک نہ آیا کہ میرا بیٹا یا بیٹی کس سے بات کرتا ھے کس طرح کی بات کرتا ھے۔
    یہاں سوال ھے ایک ماں سے آج کی۔ماں جس کی زندگی میں گھر کے کام اور سوشل میڈیا رچ بس گیا ھے اپنا فارغ وقت اپنے پہ لگانے کی غرض سے یو ٹیوب فیس بک پہ وقت گزارنے والی خواتین اپنی بچیوں کی پرسنل زندگی میں اب کیوں دخل اندازی نہیں کرتی۔ بچوں کی آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں انکے حال پہ چھوڑ دیا جاۓ بلکہ آزادی تو یہ ھے کہ لڑکیاں جب کیپٹن مریم بن کے شہید ہوتی ھیں بے نظیر بن کے سیاست میں قدم رکھتی ہیں تو والدین کے ساتھ قوموں کا فخر بن جاتی ھیں۔

    Twitter ID ‎@KhadijaNaqvi01

  • بلوچستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں کو تحفظ فراہم کیجائے۔ تحریر: حمیداللہ شاہین

    بلوچستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں کو تحفظ فراہم کیجائے۔ تحریر: حمیداللہ شاہین

    کسی بھی قوم کی ترقی میں خواتین اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قومیں جنہوں نے خواتین کو علم کی روشنی سے محروم کیا وہ قومیں آباد نہیں ہوتیں، خواتین کو انکی بنیادی تعلیم حاصل کرنے کا پورا حق ہے،اور یہی خواتین تعلیم حاصل کر کے ملک و قوم کانام مختلف ڈیپارٹمنٹس میں روشن کرتے ہیں۔
    بلوچستان میں بھی اب خواتین کی بڑی تعداد مختلف شہروں اور قصبوں سے کوئٹہ میں اپنے خاندانوں سمیت صرف اس لئے مقیم ہیں کہ انہیں بنیادی تعلم حاصل کرنے میں رکاوٹ نہ ہوں، لڑکیاں مختلف سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں میں داخلہ لیتی ہیں اور جبکہ بڑی تعداد میں لڑکیاں صوبہ کے مستند ادارے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں اپنی تعلیم مکمل کرتی ہیں۔
    بلوچستان میں رہنا جہاں یونیورسٹیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے آسان اور پرامن نہیں۔
    سردار بہادر خان یونیورسٹی کی طالبہ نبیلا کے مطابق مجھے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی (ایس بی کے ڈبلیو یو) میں داخلہ ملا جہاں 15 جون 2013 کو ایک دھماکہ ہوا ، جس نے یونیورسٹی بس کو نشانہ بنایا۔ لڑکیاں گھر جانے کا انتظار کر رہی ہیں۔ اس خوفناک واقعے نے یونیورسٹی کے 15 طالبات کو ہلاک کر دیا۔ میں نے اس کا انتخاب کیا کیونکہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا ، کیونکہ ایس بی کے ڈبلیو یو صوبے کی واحد خواتین کی یونیورسٹی تھی اور لڑکیاں دور دراز علاقوں سے اپنی ڈگریاں مکمل کرنے آتی ہیں۔ اگرچہ مجھے 2015 میں داخلہ ملا، اس سفاکانہ واقعے کے دو سال بعد بھی میں کیمپس میں خوف محسوس کرتی تھی۔ یہ پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ تھا اور داخلہ لینے والے طلباء کی تعداد میں اضافہ ہوا تھا۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ ہم سیکھنے کے لیے اس یونیورسٹی میں ہونے سے نہیں ڈرتے تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچھا وقت گزارا اور اندر کا ماحول محفوظ محسوس کیا۔ لیکن کوئی اچانک یا بلند آواز ہمیں خوفزدہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ 2017 میں جب یونیورسٹی کی بسوں کو دوبارہ دھمکی دی گئی تو یونیورسٹی ایک ہفتے کے لیے بند تھی اور سکیورٹی مسائل کی وجہ سے بسیں ایک مہینے تک نہیں چل سکیں۔ کسی نے صوبے میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں بات نہیں کی۔ مرکزی دھارے میں شامل میڈیا کے پاس بلوچستان سے خبریں بلیک آؤٹ کرنے کی تاریخ تھی اس نے صوبے کے مسائل کو دبانے کے لیے کبھی ذمہ داری محسوس نہیں کی جیسے کہ یونیورسٹی کے طلباء خوف میں زندگی گزار رہے ہیں اور کیونکہ اس رویے کی وجہ سے اس نے صوبائی اور وفاقی حکومت کی توجہ کبھی نہیں لی۔ اور اب ہر والدین خوفزدہ اور صدمے کا شکار تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میری والدہ دوپہر میں کبھی نہیں سوئیں جب تک کہ وہ مجھے یونیورسٹی سے واپسی پر نہ دیکھیں۔ اس نے مجھے کبھی نہیں بتایا کہ وہ خوفزدہ ہے۔ وہ چاہتی تھی کہ میں اپنی گریجویشن مکمل کروں۔ یہ میرے ہر کلاس فیلو کی کہانی تھی۔ ہمارے خاندان چاہتے تھے کہ ہم فارغ التحصیل ہوں ، ماضی کو بھول جائیں اور بہتر مستقبل کی امیدیں رکھیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی نے ہم سے بہت سی جانیں لی ہیں۔ ان کے خاندانوں کی خوشیاں ختم ہو گئی ہیں۔ باشندے خوف سے زندگی گزار رہے ہیں یقین نہیں ہے کہ محفوظ اور محفوظ مستقبل ممکن ہے۔ آئی ٹی یونیورسٹی کو نشانہ بنانے والے بم دھماکے میں طالب علم مارے گئے، ہزارہ کوئلہ نکالنے والے مچھ میں ٹارگٹڈ حملے میں مارے گئے، اور سرینا ہوٹل کے احاطے میں حالیہ دھماکہ تمام مہلک واقعات ہیں جو سیکیورٹی کی نازک صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کیونکہ والدین یونیورسٹی میں داخل اس لئے کرتے ہیں کہ انہیں تعلیم حاصل کرنے اور تعلیم کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی لانے میں مددگار ثابت ہوں۔ والدین اب بھی جواب تلاش کر رہے ہیں کہ ان کی بیٹیوں کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔ وہ اس کے لیے ہر ایک کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ سیاستدان ، ریاست اور میڈیا جو اس مسئلے پر خاموش ہے۔ ہم اب بھی خوف میں رہتے ہیں یقین نہیں ہے کہ ہماری مستقبل کیا ہے۔ کیونکہ سیکورٹی کی صورتحال اب بھی نازک ہے۔ ہمیں اب بھی امید ہے کہ اقتدار میں رہنے والے ان لوگوں کی حالت زار پر توجہ دیں گے جو مسلسل خوف میں رہتے ہیں کہ ان بچوں کے ساتھ کچھ خطرناک ہو سکتا ہے جنہیں ہر روز تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حالات میں بہتری آئے لیکن یہ تب تک نہیں ہوگا جب تک اقتدار میں رہنے والے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں۔ اور اس مرحلے میں ہم صرف چیزوں کو بہتر بنانے کے لیے ادائیگی کر سکتے ہیں۔
    حکومت پاکستان اور سکیورٹی اداروں کو چاہئے کہ بلوچستان میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو تحفظ فراہم کی جائے تاکہ ہماری خواتین اپنی تعلیم مکمل کرکے مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ اور کل کو اگر کسی بھی جگہ انہیں مشکل وقت پیش آئے تو وہ تعلیم کی شعور رکھنے کی وجہ سے اس مشکل کا حل نکال سکے۔
    @iHUSB

  • غریب پرائیوٹ سکول اساتذہ اور امیر مالکان تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    غریب پرائیوٹ سکول اساتذہ اور امیر مالکان تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم آج میرا موضوع بہت سے دلخراش حقائق پہ مبنی ہے.
    معزز معاشروں میں استاد معمار قوم کہلاتا ہے.اس نسبت سے استاد کو وہ ادب اور وہ احترام میسر آتا ہے جو دیگر پروفیشنلز کو نہیں آتا.
    کہتے ہیں کہ ایک استاد ایک قوم بناتا ہے یہ وطن عزیز میں کہا تو جاتا ہے مگر مانا نہیں جاتا.
    پاکستان میں پرائیوٹ سکولز کی بھرمار ہے .اس کے دو اہم محرکات ہیں.پہلا یہ کہ گورنمنٹ سکولوں کا معیار تعلیم تا حال اس سطح تک نہیں پہنچ سکا جس تک سرمایہ دار اپنے بچوں کو دیکھنا چاہتے ہیں.دوسرا یہ کہ پرائیوٹ سکول میں امیر اور متوسط طبقے کے بچے زیر تعلیم ہوتے ہیں مگر اکثر اساتذہ تنگدستی کے باعث نوکری کے لیے مجبور ہو کر ان اداروں کا رخ کرتے ہیں.
    انکی اجرت ان کی تعلیم اور ان کی محنت کے مقابل ہر چند قلیل ہوتی ہے.
    کچھ پرائیوٹ سکولز برانڈ بن چکے ہیں.وہاں امکان کا کہ اساتذہ کو بہتر سہولیات میسر ہوں.
    مگر بہت سے سکولز مافیاز سے بد تر ہیں.اساتذہ کی محنت اور انکے بل پہ کروڑوں کماتے ہیں اور ان ہی اساتذہ کا استحصال کرتے ہیں.
    میں بات کر رہی ہوں ایسے پرائیوٹ سکولز کی جو اساتذہ کو چند ہزار تنخواہ دیتے ہیں.
    اس جدید مہنگے اور پر آشوب دور میں جہاں
    مزدور کی تنخواہ 900 فی یوم ہے اور مضحکہ خیزی دیکھیے معمار قوم کی یومیہ اجرت 350 روپے بنتی ہے
    اور گھی کی قیمت 350 فی کلو ہے..
    استاد کی 8 گھنٹے کام کی اجرت اور 350 روپے یومیہ؟
    اور ان کی محنت کا ثبوت ان پرائیوٹ سکولز کا معیار تعلیم اور بورڈ کلاسز کا رزلٹ ہے.
    پرائیوٹ سکول مالکان کے بڑھتے اثاثے اور اساتذہ کی بڑھتی مشکلات اس سسٹم کی ناانصافی کی داستان ہے.
    ان سکولوں میں مجبوراً اپنی معاشی ضروریات کے لیے پڑھانے والے اساتذہ کو حکومت کی جانب سے سکیورٹی کی ضرورت ہے حکومت ان مافیاز کو دائرے میں لائے اور اساتذہ کی تنخواہیں ان کی بنیادی ضروریات زندگی تو پوری کرنے کا لائق ہوں.
    رہی بات حکومت کی رٹ کی تو جب حکومت پرائیوٹ سکولز کو تعطیلات کے لیے مجبور کر سکتی ہے .نصاب کے لیے امتحانات کے لیے مجبور کر سکتی ہے ..کرونا ویکسین کے لیے مجبور کر سکتی ہے تو حکومت پرائیویٹ سکول ٹیچرز کے حق کے لیے بھی مجبور کر سکتی ہے.

    ابھی حال ہی میں کرونا وباء کے دوران اساتذہ کی تنخواہوں میں 50 فیصد کٹوتی کی گئی جبکہ طلباء کو محض پہلے دو مہینے 20 فی صد ریلیف دیا گیا باقی پوری فیس وصول کی گئی.
    دو سال ہو گئے کسی طرح کا کوئی انکریمنٹ نہیں دیا گیا جبکہ فیسوں میں سالانہ اضافہ کیا گیا.
    اس طریقۂ واردات کے بعد ان کے خلاف ایکشن نہ لیا گیا ان پئ چیک اینڈ بیلنس نہ رکھا گیا تو پرائیویٹ سکول اساتذہ کے مجرم ارباب اختیار ہوں گے.
    کیونکہ بطور شہری اساتذہ کی دادرسی حکومت کا فریضہ ہے.

    مالکان کے ہاتھ لمبے ہیں ایسوسیشنز کے نام پہ مافیاز ہیں.اساتذہ کے لیے ایسے فورمز اس لیے بھی کارگر نہیں کہ وہ گھروں سے بمشکل سکولوں تک پہنچ پاتے ہیں کورٹ کچہری نہیں کر سکتے.
    کیونکہ اس کے لیے ایک اور مافیا کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے گا.جس کے متحمل نہیں ہو سکتے.
    وزراء تعلیم کو ان کے ان فرائض سے آگہی کے لیے حکومتی دباؤ لازم ہے.
    یاد رکھئے معماران قوم کی قدر کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں.
    معماران قوم کا استحصال قوم پہ وبال ہے.

    @hsbuddy18

  • اساتذہ کے تجربے اور تعلیم کا معیار ۔  تحریر : مقبول حسین بھٹی

    اساتذہ کے تجربے اور تعلیم کا معیار ۔ تحریر : مقبول حسین بھٹی

    گزشتہ دو دہائیوں کے دوران معیاری تشخیص اور بعد میں شریک ممالک کی درجہ بندی میں طالب علموں کی کارکردگی کا بین الاقوامی موازنہ نے عوامی اور سیاسی اضطراب کو جنم دیا ہے ، جس کی وجہ سے اسکول کے طلباء کی تعلیمی کامیابی پر اثر انداز ہونے والے عوامل پر شدید توجہ دی گئی ہے ۔ 20 سالوں میں جب سے او ای سی ڈی کا پروگرام برائے بین الاقوامی طلباء کی تشخیص (PISA) شروع ہوئی ہے ، توجہ طلبہ کے حصول میں ایکوئٹی سے بدل کر رشتہ دار اور مطلق کارکردگی دونوں میں کمی کی طرف گئی ہے ، جس کی وجہ سے تدریس اور "اساتذہ کے معیار” کی جانچ پڑتال میں اضافہ ہوا ہے . توجہ میں یہ تبدیلی دعووں کے ذریعے آگے بڑھائی گئی ہے کہ "طلباء کی کارکردگی کے پیمانوں میں 40 فیصد سے زیادہ بقایا تغیرات (طلباء کے پس منظر اور انٹیک کی خصوصیات کے مطابق) کلاس/اساتذہ کی سطح پر ہے” ۔ قومی معیاری تشخیص کے نظام میں طالب علم کی کامیابی کی بنیاد پر اساتذہ کی تاثیر کے ویلیو ایڈڈ ماڈلز کی ترقی کے ذریعے اساتذہ کی جانچ میں اضافہ ، اساتذہ کے پیشہ ورانہ معیارات اور سرٹیفیکیشن کی ترقی اور نگرانی کے لیے قانونی اتھارٹیز کا قیام ، اور باضابطہ معائنوں کی بحالی ہوی۔ 2009 کے بعد سے ، ایجو ٹورزم-جہاں سیاستدانوں ، پرنسپلوں اور اساتذہ کے وفود اپنی کامیابی سے سیکھنے کی امید پر بین الاقوامی لیگ ٹیبل کے اوپری حصے میں تعلیمی نظام کا دورہ کرتے ہیں-"فن لینڈ کے معجزے” سے "ایشین ٹائیگرز” کی طرف بڑھ گئے ہیں۔ سنگاپور ، ہانگ کانگ ، جنوبی کوریا اور شنگھائی، دلچسپی ریاضی کی تدریس کے لیے "ریاضی کی مہارت” رہی ہے ، جسے انگلینڈ میں دو بے ترتیب کنٹرول ٹرائلز کے ذریعے متعارف کرایا گیا تھا جس میں 90 پرائمری اسکول اور 50 سیکنڈری سکول شامل تھے نیز خبروں کی سرخیاں بنانا کلاس روم شور اور خرابی کے لحاظ سے سسٹم کے مابین اختلافات کی اطلاع ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ آسٹریلیا جیسے کم درجہ والے ممالک میں اساتذہ رویے کے انتظام میں ناقص ہیں ۔ ٹیچنگ اینڈ لرننگ انٹرنیشنل سروے (TALIS) کے دھندلے تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تجربہ کار بمقابلہ نوسکھئیے اساتذہ کے لیے زیادہ سکور ظاہر کرتے ہیں کہ ابتدائی کیریئر اساتذہ کم مؤثر ہوتے ہیں ، اس انتباہ کے باوجود کہ ابتدائی اساتذہ زیادہ چیلنجنگ سکولوں کے لیے غیر متناسب طور پر مختص کیے جاتے ہیں۔ سکروٹنی اس وقت سے نظام کی سطح کے اثرات مثلا اسکول کی فنڈنگ ​​میں عدم مساوات اور مسابقتی اسکول مارکیٹوں کے ذریعہ انجینئر کردہ سماجی علیحدگی کے ذریعے فوائد/نقصان کا ارتکاز-اساتذہ کی تیاری کی تاثیر ہے ۔ یونیورسٹی کی ابتدائی ٹیچر ایجوکیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ وہ بہت زیادہ نظریاتی اور ناکافی طور پر اساتذہ کو کلاس روم کے عملی حقائق کے لیے تیار کررہا ہے یہ تنقید خاص طور پر رویے کے انتظام کے حوالے سے شدید ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں مسئلہ ہے ، یا کیا ابتدائی اساتذہ زیادہ تجربہ کار اساتذہ کے مقابلے میں رویے کے انتظام میں کم موثر ہیں۔ آئی ٹی ای اور "اساتذہ کے معیار” کو جوڑنے کا اثر یہ ہے کہ یہ گریجویٹ یا ابتدائی اساتذہ کو "مسئلہ” کے طور پر فریم کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں ، حل کی ترقی کو فریم کرتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ، آئی ٹی ای اور اس سے پیدا ہونے والے گریجویٹس پر ایک محدود توجہ کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اسکول کی تعلیم کو متاثر کرنے والے مسائل کی اصل نوعیت اور وسعت کا پتہ نہیں چلتا اور حل نہیں ہوتا ، جبکہ دیگر کو ان کی اصل یا عملی اہمیت سے باہر بڑھایا جاتا ہے۔ آئی ٹی ای کا خسارہ خاص طور پر آسٹریلیا میں نمایاں ہے ، جہاں یونیورسٹی ٹیچر ایجوکیشن نے 1990 کی دہائی میں ٹیچرس کالج کی جگہ لی اور جہاں زیادہ تر پریکٹس کرنے والے اساتذہ اب ڈگری کے اہل ہیں۔ آسٹریلیا میں معیاری تدریس کے "مسئلے” کے حالیہ حل نے بنیادی طور پر یونیورسٹی کے اساتذہ کی تعلیم اور آئی ٹی ای گریجویٹس کے معیار پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ آسٹریلیا کی یونیورسٹیوں پر اب دباؤ ہے کہ وہ "کلاس روم کے لیے تیار” گریجویٹ تیار کریں تاکہ ان کے کورس کے مواد کے زیادہ سے زیادہ نسخے رسمی منظوری کے عمل کے ذریعے ہوں ۔ 2016 میں ، مثال کے طور پر ، اساتذہ کی تعلیم کے طلباء کی خواندگی اور اعداد کی صلاحیت کا بیرونی جائزہ آسٹریلوی حکومت نے گریجویشن کی شرط کے طور پر متعارف کرایا تاکہ "گریجویشن کرنے والے اساتذہ کی مہارتوں پر اعتماد میں اضافہ” کو یقینی بنایا جا سکے۔ اساتذہ کی تعلیم کے طالب علموں کے لیے گریجویشن کی مزید رکاوٹ ، جو 2018 میں متعارف کرائی گئی اور یونیورسٹی ٹیچر ایجوکیشن پروگرامز کی منظوری سے منسلک ہے ، ٹیچر پرفارمنس اسسمنٹ (ٹی پی اے) کی کامیاب تکمیل ہے۔ طلباء کی تعلیم پر اثر پڑتا ہے اور اساتذہ کے لیے آسٹریلوی پیشہ ورانہ معیارات سے وابستہ ہے ۔
    مزید ، اور جیسا کہ یونیورسٹی آئی ٹی ای انٹری سکور کی ناکافی یا دوسری صورت میں بحث جاری ہے ، ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں آسٹریلیا کے سب سے بڑے تعلیمی نظام کی ذمہ دار حکومت نے لازمی قرار دیا ہے کہ گریجویٹس کو مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ گریجویشن کے بعد بطور استاد رجسٹر ہونے کے لیے ایک نفسیاتی امتحان میں اعلیٰ ذہانت اور کریڈٹ گریڈ پوائنٹ اوسط کو برقرار رکھیں – بشمول آئی ٹی ای میں تھیوری پیشہ ورانہ تجربے میں اضافہ اور استحقاق کے ساتھ ساتھ آسٹریلوی پروفیشنل سٹینڈرڈ فار ٹیچنگ میں "اسٹیج” اپروچ ، جو کہ گریجویٹ ، ماہر ، اعلی تکمیل ، اور لیڈ پریڈ کی پیش گوئی نہ صرف اس مفروضے پر کی جاتی ہے کہ گریجویٹ اور ماہر کے درمیان فرق ہے ، بلکہ یہ کہ تجربے اور تدریسی معیار کے درمیان مثبت رشتہ ہے۔ تاہم ، یہ تمام اصلاحات اس دعوے کی تائید کے لیے کسی تجرباتی ثبوت کی فراہمی کے بغیر ہوئی ہیں کہ ابتدائی اساتذہ اساتذہ کے مقابلے میں کم اہل ہیں جن کا تجربہ زیادہ سال ہے ، خاص طور پر رویے کے انتظام میں۔ یہ تجرباتی شواہد کی محدود دستیابی کی وجہ سے ہوسکتا ہے اور اس وجہ سے کہ جو ثبوت موجود ہیں وہ مخلوط ہیں۔ تدریسی معیار کا سب سے عام بالواسطہ پیمانہ معیاری تشخیص میں طالب علم کی کارکردگی ہے اور اس تحقیق کے نتائج ملے جلے ہیں۔ کچھ شواہد موجود ہیں کہ اساتذہ کے برسوں کے تجربے کا طالب علم کے نتائج پر بہت کم یا کوئی اثر نہیں پڑتا ہے ۔ ایک بار پھر ، یہ ثبوت واضح نہیں ہے ، یہ تجویز کرتا ہے کہ تجربے کا کچھ اثر ہے لیکن یہ محدود ہے اور مجموعی نہیں۔ مثال کے طور پر ، قومی اور بین الاقوامی سیاق و سباق میں کچھ تحقیق تجربے کے لیے ابتدائی اثر کا ثبوت فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے اساتذہ کی جلد اصلاح ہوتی ہے ، لیکن یہ انجمن میدان میں ان کی ابتدائی ایڈجسٹمنٹ کے بعد زوال پذیر ہوتی ہے ۔ اسی طرح ، فلوریڈا ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن کی طرف سے دستیاب اعداد و شمار پر شمالی امریکہ کے ایک بڑے مطالعے میں ، 4 سے 8 گریڈ کے 84،031 اساتذہ ، چنگوس اور پیٹرسن (2011) نے پایا کہ اساتذہ عام طور پر ریاضی پڑھنے کے شعبوں میں زیادہ موثر ہو جاتے ہیں۔ فیلڈ میں ابتدائی منتقلی (خاص طور پر پہلے سال کے بعد) ، لیکن چار یا پانچ سال کے بعد پلیٹاوس یا کمی کا تجربہ کرنے کے لیے واپسی۔ ایک اور شمالی امریکہ کے مطالعہ میں 300 اساتذہ پر پینل ڈیٹا اور 10،000 طلبہ کے لیے معیاری ٹیسٹ اسکور کا استعمال کرتے ہوئے ، (2010) میں ریاضی کی گنتی کے لیے پہلے دو سالوں میں ، اور پہلے 10 سالوں میں اساتذہ کے تجربے کا ایک چھوٹا لیکن مثبت اثر پایا۔ الفاظ اور پڑھنے کی سمجھ کے لیے تجربہ شمالی امریکہ میں اسی طرح کی ایک تحقیق میں 3 سے 7 گریڈ کے 3000 سے زائد اسکولوں میں نصف ملین سے زائد طلباء کا ڈیٹا شامل ہے ، ریاضی میں طالب علموں کے نتائج پر تدریس کے تجربے اور اساتذہ کے پڑھائی کے پہلے سال میں پڑھنے پر مثبت اثر پایا۔ تاہم ، یہ اثرات پیشے میں منتقلی کے ابتدائی دور سے آگے جاری نہیں رہے۔ اساتذہ کے برسوں کے تجربے اور تعلیم کے معیار سے بالواسطہ اقدامات (مثال کے طور پر ، طالب علموں کی کارکردگی) کے مابین وابستگی کے ثبوت بڑی حد تک ملے جلے ہیں اور معیار کے پیش گو کے طور پر تجربے کی اہمیت کے حوالے سے واضح نتائج کی تجویز نہیں کرتے ہیں۔ . ادب نے تدریسی معیار کے زیادہ براہ راست اشارے ، خاص طور پر کلاس روم مینجمنٹ کے شعبوں میں اساتذہ کے مشاہدہ کردہ کلاس روم کے طرز عمل ، طلباء کے لیے سماجی معاونت ، اور ہدایات دی ۔ اکثر حوالہ دی گئی رپورٹوں کے پیش نظر کہ نوسکھئیے اساتذہ کلاس روم مینجمنٹ میں چیلنجوں کی وضاحت کرتے ہیں اور تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ تجربے کے بڑھتے ہوئے سال اس ڈومین میں بہتر کارکردگی کا باعث بن سکتے ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اساتذہ کی اصل کلاس روم کی بات چیت کی جانچ پڑتال تجربے اور کارکردگی کے مابین روابط کو سمجھنے کی کوششوں میں مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ مزید برآں ، یہ دیکھتے ہوئے کہ طلباء کے ساتھ تعاملات طلباء پر اساتذہ کے اثر و رسوخ کا سب سے براہ راست اور قریب ترین اشارہ ہیں ، ان تعاملات کا مشاہدہ تعلیمی معیار کا ایک اہم اشارہ ہے۔

    Twitter handle :
    @Maqbool_hussayn

  • تین ضرب چار انچ کی “بوٹی” یا پاکٹ گائیڈز تحریر : آصف شہزاد

    تین ضرب چار انچ کی “بوٹی” یا پاکٹ گائیڈز تحریر : آصف شہزاد

    تین ضرب چار انچ کی چھوٹی سی کتاب نقل کیلئے خفیہ طور پر استعمال ہونے والے پاکٹ گائیڈز یا بوٹی کے نام سے مقبول ہے ان گائیڈز پر دفعہ ۱۴۴ کے تحت پابندی کے باوجود امتحانات کے دوران یہ پاکستان کے بیشتر شہروں میں بغیر کسی رکاوٹ کے فروخت کئے جاتے ہیں۔جن کے استعمال سے بجا طور پر ہونہار طلباء کی حق تلفی ہوتی ہے تاہم اس کے باوجود بیشتر طالب علم پاکٹ گائیڈز یا بوٹی کو امتحانات میں کامیابی کیلئے کارآمد ذریعہ سمجھتے ہیں اور اب بات یہاں تک بڑھ چکی ہے کہ جن طلباء کو پڑھنے میں دلچسپی تھی اور نقل کے ذرائع کو معیوب سمجھتے تھے اب وہ بھی ان مواد کے استعمال سے نہیں شرماتے کیونکہ امتحانی حال میں نقل کا استعمال عام ہے اور ان طلباء کے پاس دوسرا راستہ نہیں بچتا تو اپنی حق تلفی کے رد عمل کے طور پر ان میں پڑھنے اور محنت کرنے کی دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے اور ہونہار طلباء بھی اب نقل سے کام چلانے میں نہیں شرماتے۔

    یہ بوٹی یا پاکٹ گائیڈز اتنے مقبول ہیں کہ کسی بھی شہر کے تقریباً ہر کتب فروش کے پاس دستیاب ہوتے ہیں۔امتحانات کے دوران پاکٹ گائیڈز کی طلب میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے جس کیلئے بوٹی مافیا سے جڑے پبلشرز اور پرنٹرز دن رات کام کرتے ہیں اور کتب فروشوں کو بوریاں بھر بھر کے سپلائی کرتے ہیں ان کتب فروشوں میں ایک تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب ان گائیڈز پر پابندی کی خبریں آتی ہیں تو دکاندار ان بوٹیوں کو خفیہ طریقے سے فروخت کرتے ہیں تاہم اگر حکومتی اہلکاروں کی جانب سے کوئی مسلہ پیش آتا بھی ہے تو کچھ پیسے دیکر معامعلہ رفع دفع کرنا مشکل نہیں ہے

    چند دن قبل سوات میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکینڈری ایجوکیشن کی جانب سے انٹر اور میٹرک کے امتحانات کا انعقاد کیا گیا جن میں طلباء کی جانب سے پیپرز کے بعد انوکھے انداز سے نقل کی کاپیاں ہوا میں اچھال کر برسائے کئے اور سڑکوں پر پاکٹ گائیڈز اور دیگر مواد کی ہزاروں پرچیاں پھینک کر چھوڑ گئے اس عمل کے تصاویر اور ویڈیوز سواشل میڈیا پر وائرل ہوئے تو مختلف مکتبہ فکر کے افراد نے اس عمل سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا۔


    میٹرک کے امتحان میں مصروف ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ پیپر میں آئے ہوئے تقریباً ہر سوال کا جواب پاکٹ گائیڈ میں موجود ہوتا ہے جسے آسانی سے الگ کرکے لکھا جاسکتا ہے اگر حال میں سختی زیادہ ہو تو لکھنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جس سے کافی وقت ضائع ہوجاتا ہے تاہم پھر بھی بہت سے طریقے موجود ہیں جن کا استعمال کرکے ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو چکما دیا جاسکتا ہے۔

    پاکٹ گائیڈ المعروف “بوٹی” کا سائز اتنا چھوٹا ہے کہ طلباء اپنے ساتھ دو دو یا تین تین کاپیاں رکھتے ہیں،لہٰذا اگر حال میں سختی ہو تو طلباء کو کوئی خاص پریشانی نہیں ہوتی کیونکہ ایک پرزہ چھوٹ جانے سے لکھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی کیونکہ طالب علم متعلقہ موضع کا دوسرا پُرزہ نکال لیتے ہیں اور یہ ایک عام عمل ہے جسے ہر کوئی کرتا ہے بس میں نے بتادیا اور زیادہ لوگ بتانے سے شرماتے ہیں لیکن میں ایک مرتبہ پھر دہراتا ہوں کہ یہ ایک عام عمل ہے جسے تقریباً ہر طالب علم کرتا ہے

    ایک کتاب فروش کا کہنا تھا کہ پاکٹ گائیڈ کی فروخت چونکہ منافع بخش کاروبار ہے اسلئے دکانداروں کو امتحانات کا بے صبری سے انتظار رہتا ہے اس کا کہنا تھا کہ عام دکانداروں کے علاوہ چند ایسے دکاندار بھی ہیں جن کے پاس فوٹو کاپی کی مشینیں لگی ہوتیں ہیں اور وہ پاکٹ گائیڈ سے بھی بہتر مواد فروخت کرتے ہیں جوکہ مشین کے ذریعے اچھے کاغذ اور صاف لکھائی کیساتھ چھاپے جاتے ہیں یہاں تک کہ جاری پرچہ کے دوران بھی طالب علم رفع حاجت یا پانی پینے کا بہانہ بناکر ان دکانداروں کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور مطلوبہ سوالات کے جوابات پرنٹ کرواکر امتحانی حال لے جاتے ہیں۔

    ایک اسٹیشنری دکان کے مالک نے کہا کہ اگر حکومت پاکٹ گائیڈز کی فروخت بند کرنے میں واقعی سنجیدہ ہے تو کتب فروشوں اور اسٹشنری دکانوں کے بجائے شائع کرنے والے پبلشرز اور پرنٹرز پر چھاپے مارکر کاروائی کریں کیونکہ جب تک یہ پاکٹ گائیڈز دستیاب ہونگے تو طالب علموں کیلئے ان کا حصول مشکل نہیں اور یہاں تک کہ آجکل آن لائن کاروبار کا رجحان ہے اور ان چیزوں کو آن لائن بھی کسی کوڈ ورڈ کا استعمال کرکے خریدا یا فروخت کیا جاسکتا ہے غرض جب تک یہ گائیڈز چھپتے رہینگے جدید دور کے طالب علم انہیں حاصل کرتے رہینگے کیونکہ نئی نسل کے پاس ان مواد کو حاصل کرنے کیلئے سینکڑوں طریقے موجود ہیں۔