Baaghi TV

Category: تعلیم

  • غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار  حصہ سوم تحریر۔   چوہدری عطا محمد

    غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار حصہ سوم تحریر۔ چوہدری عطا محمد

    میرا دل خون کے آنسورو رہا ہے حسرتیں ماتم کناں ہیں کہ میں اس بدقسمت معاشرے کا باسی ہوں جہاں غریبوں کے بچے تھل اور صحراؤں میں سسک سسک کر مر رہے ہیں اور امیروں کے کتے جرمن کے بنائے امپورٹڈ بسکٹ کھاتے ہیں منرل واٹر پیتے ہیں گرمیوں میں ائیر کنڈیشنز کمروں میں رہتے ہیں اور سردیوں میں مہنگے کمبل اوڑھ کر سوتے ہیں۔ ان کتوں کیلئے دنیا کے مہنگے ترین شیمپو، وٹامنز خوراک اور ادویات لائی جاتی ہیں ۔ ان کی رہائش غریب کی جھونپڑی کی بے بسی پر مسکراہٹ کے تازیانے برسارہی ہوتی ہے ۔

    دوسری طرف معصوم بچوں کے پڑھنے لکھنے کی عمر ہوتی ہے اس عمر میں یا تو میرے وطن کے غریب بچے محنت مزدوری کرتے ہیں یا سماج دشمنوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں
    اور وہ انہیں تخریبی سرگرمیوں میں طرح طرح سے استعمال کرتے ہیں جیب کترا بناتے ہیں چوری اور ڈاکے ڈالنے کے فن سے آگاہ کرتے ہیں۔ کچھ جرائم پیشہ افراد ان کے ہاتھ پیر توڑ کر ان سے بھیک منگواتے ہیں

    حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عوام کی خدمت بہتر طریقے سے کر رہی ہے لیکن وہ سڑکوں شاہراہوں پر ان بچوں کو بھیک مانگتے, ہاتھ پھیلاتے، گاڑیوں کے پیچھے دوڑتے بھاگتے نہیں دیکھتی ۔ بے شمار بچے ہر روز کچرے کے ڈھیر پر جھکے اپنا رزق تلاش کررہے ہوتے ہیں گلے سڑے پھل اور ڈبل روٹی کی ٹکڑوں سے اپنے شکم کی آگ بجھا رہے ہوتے ہیں ۔

    سخت سردی ہویا گرمی برسات ہویا موسموں کی سنگینی یہ بے پرواہ اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہیں انہیں اپنی ماں کیلئے روٹی کا انتظام کرنا ہوتا ہے وہ پرانی چیزیں جن میں شیشہ ، خالی بوتلیں، ردی ، لوہا، پلاسٹک، شامل ہوتے ہیں انہیں بیچ کر چند روپے کما کر اپنے گھر والوں کے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ مائیں توسب کی ہوتی ہیں ان محنت کش بچوں کی بھی مائیں ہیں جو خود انہیں رزق کی تلاش میں گھروں سے رخصت کرتی ہیں اور خود بھی محنت مزدوری کرتی ہیں جب کہ بہت ساری عورتیں مشقت کرتی ہیں فیکٹریوں اور کارخانوں میں چند روپے کے عوض پورا دن کام کرتی گزار دیتی ہیں ۔

    ایک طرف بھیک مانگنے والا طبقہ ہے تو دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو غربت کی لکیر سے نیچے رہ کر زندگی بسر کر رہے ہیں،
    وہ بچے جن کی عمریں بمشکل پانچ سال سے دس سال تک ہوتی ہیں ورکشاپوں پر ڈینٹ پینٹ کا کام کر ریے ہوتے ہیں
    ٹرین کا سفر ہویا بسوں کا معصوم بچے ہر شہر میں چائے اور دوسری کھانے پینے کی اشیاء بیچتے ہوئے نظر آئیں گے بجے گاڑیوں کے پاس آکر اپنا ہاتھ پھیلاتے ہیں اور مدد کے منتظرہوتے ہیں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو انہیں دھتکاتے نہیں ہیں ورنہ زیادہ تر وہ ڈانٹ ڈپٹ کا شکار رہتے ہیں بچوں پر تشدد کے حوالے سے بھی درد ناک واقعات سامنے آتے ہیں

    گھروں میں کام کرنے والے ننھے معصوم پھول جیسے بچوں پر معمولی سی غلطی کی بنا پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ہمارے ملک میں قانون نام کا ایک خوبصورت پرندہ ہوا کرتا تھا

    جو زمانہ ہوا اڑ چکا ہے کسی نے بھی پکڑنے کی کوشش نہیں کیں اگر حکومت لوگوں کے جینے کیلئے اسباب پیدا کردے تعلیم اور انصاف مفت فراہم کرے، تو کوئی بچہ نہ تو کچرے کی ڈھیر سے گلی سڑی غذا سے اپنا پیٹ بھرے گا اور نہ ہی تخریب کاروں کے ہتھے چڑھے گا۔ آج کے بچے پاکستان کا مستقبل ہیں ۔

    خدارا ! اپنے مستقبل کو بچا لیجئے

    @ChAttaMuhNatt

  • غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار  حصہ دوم تحریر چوہدری عطا محمد

    غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار حصہ دوم تحریر چوہدری عطا محمد

    دنیا بھر کے غریب ممالک کی طرح وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، بےروزگاری، غربت جیسے مسائل کی وجہ سے ننھے معصوم بچوں کو زیور تعلیم سے دور رکھ کر مشقت لی جارہی ہے جابجا پھول جیسے بچے گھریلو ملازم ، بوٹ پالش کرتے، ہوٹلوں، چائے خانوں، ورکشاپوں مارکیٹوں،

    چھوٹی فیکٹریوں خشت بھٹوں سی این جی اور پیٹرول پمپوں سمیت بہت سی جگہوں پر مشقت کرتے نظر آتے ہیں جبکہ بچوں سے جبری مشقت کو ہمارے معاشرے میں معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا۔

    کھیلنے کودنے اور لکھے پڑھنے کے دنوں میں ہاتھوں میں کتابوں کی بجائے اوزار تھامے پھول جیسے معصوم بچے جب حالات سے مجبور ہو کر کام کرنے کیلئے نکل کھڑے ہوں تو یقیناً اس معاشرے کیلئے ایک المیہ وجود پارہاہوتا ہے ۔

    بچوں سے مشقت خوشحالی وترقی کے دعویدار معاشرے کے چہرے پر بدنما داغ اور قوم کی اخلاقی اقدار کی زوال کی علامت ہے۔

    ددوسری طرف امیر ہیں۔ اشرافیہ ہیں ۔ سرمایہ کار ہیں ۔ جاگیر دار ہیں ۔ صنعت کار ہیں ۔ تاجر ہیں ۔ سوداگر ہیں ۔ ان کے بچوں کا غریبوں کے بچوں کے ساتھ کیا مقابلہ کروں ؟ مجھے توان امیروں کے کتے ان غریبوں کے بچوں سے زیادہ معتبر اور خوشحال دکھائی دیتے ہیں
    اچھی خوراک، حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق خوراک ان کے شکم میں اُترتی ہے ان کی آنکھیں نم ہو جائے تو دنیا کے مہنگے ترین ڈاکٹروں سے علاج کروایا جاتا ہے ۔ انہیں خالص دودھ پلایا جاتاہے ۔ ان کی خوراک بیرون ملک سے آتی ہے۔ ان کی رہائش بھی ان کے شیان شان ہوتی ہے جب امیروں کے کتے بھونکتے ہیں تو مجھے غریبوں کے بھوکے پیاسے خوراک رہائش، آسائشات اور دواؤں سے محروم بچوں کی سسکیاں سنائی دینے لگتی ہیں ۔

    جب دنیا کے ایسے اور خصوصا اپنی ارض پاک کے مناظر آنکھوں کے سامنے آتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کیا ہمیں ہماری اصل زندگی جو کہہ موت کے بعد شروع ہونی ہے اسکی بلکل بھی فکر یا یاد نہیں ہے کہہ ہم واقعی اپنی موت کو بھول چکے ہیں
    ہماری آنکھوں کے سامنے بچے سڑکوں پر کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں میں رزق تلاش کر کے کھاتے نظر آتے ہیں اور یہ منظر دیکھ کر بھی ہمیں اس مالک کی یاد نہیں آتی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے غریب کی محرومیوں پر لکھنے کو اتنا کچھ ہے جو ختم نہیں ہو رہا اگلی تحریر میں مزید کچھ ابھی تک کے لئے اس دعا کے ساتھ اجازت کہہ اللہ پاک ارض پاک کے باسیوں پر خصوصا اور پوری دنیا پر اپنا رحم فرمائیں اور ہمارے دلوں کو منور فرما دیں آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار تحریر چوہدری عطا محمد

    غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار تحریر چوہدری عطا محمد

    قوم و ملک کو ترقی کی معراج لے جانا ہے تو تعلیم پر بھر پور توجہ دینا ہوگی اس لئے نہ صرف ڈی نیشنلائزیشن کی پالیسی ترک کرنا ہوگی بلکہ مزید سرکاری تعلیمی ادارے قائم کرنے ہونگے۔ تعلیم وصحت کی سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی زمہ داری ہے مگر پاکستان میں جہاں غربت مہنگائی،بےروگاری نے غریب بچوں کو اسکولوں سےدور کردیاہے کہ ان کیلئے تعلیم ایک خواب بن کر رہ گئی ہے وہاں پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی اداروں نے تعلیم کو اس قدر مہنگا کردیا ہے کہ اوسط درجے کی آمدن والے لوگ بھی اپنی اولادوں کو معیاری تعلیم دلوانے سے قاصر ہیں

    ایسے حالات میں غریب مفلوک الحال خاندان اپنے پیٹ کی آگ بجھائے یہ تعلیم کے بھاری اخراجات برداشت کریں چاروں طرف لوگوں نے تعلیم کو کاروبار بنا لیا ہے گلی اور محلوں میں پرائیویٹ سکول کالجز اور یونیورسٹیاں تک قائم ہوچکی ہیں۔

    والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد اچھی سے اچھی تعلیم حاصل کرے لیکن آسمان سے باتیں کرتی فیسوں نے شفید پوش والدین کیلئے بچوں کی تعلیم کو ایک خواب بنا دیا ہے

    میڈیکل کی تعلیم کے اخراجات تو سرکاری اداروں میں بھی عام آدمی کیلئے برداشت کرنا بہت مشکل ہے ۔ پرائیویٹ میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں میں 40سے50لاکھ کون ادا کرے؟

    جس کو میرٹ کہا جاتا ہے وہ کہاں ہے؟ اب تو صرف دولت ہی میرٹ ہے صلاحیت کو کوئی اہمیت حاصل نہیں تعلیم نے بیوپار کا روپ اختیار کر لیا ہے یہی وجہ ہےکہ غریب کے بچے ہر طرح کی قابلیت کے باوجود پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اور ان کے والدین وسائل کی کمی کے سبب ان کو تعلیم نہیں دلواسکتے۔ محنت کش بچے کوئی پیدائشی محنت کش نہیں ہوتے۔

    ان کی شکلیں بھی ایسی ہی ہوتی ہے جیسے بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کی ہوتی ہے لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ معاشرے میں چھوٹے بن کر رہ جاتے ہیں
    اس پر لکھنے کو بہت سے الفاظ ہیں ان شاءاللہ اگلی تحریر میں مزید بات ہوگی غریب بچوں کی تعلیم کے مسائل پر
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    تحریر چوہدری عطا محمد

    @ChAttaMuhNatt

  • سالانہ نچوڑ. تحریر : محمد اسامہ

    سالانہ نچوڑ. تحریر : محمد اسامہ

    "امتحان ” اس جانچ کا نام ہے جس کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ طلباء نے کس خاص مضمون میں کس قدرمہارت اور سمجھ بوجھ حاصل کرلی ہے. تدریس کے مقاصد کس حد تک حاصل کیے گئے ہیں. اسکول میں تدریس کے عمل میں طلباء، اساتذہ اور والدین تینوں کا بنیادی کردار ہوتا ہے. کوئی ایک بھی اپنے کردار کو ادا کرنے میں غفلت کرے تو تدریس کا عمل متاثر ہوتا ہے. ملک عزیز میں کرونا کی آمد کے بعد معاشی، سماجی اور تعلیمی روابط بری طرح متاثر ہوئے ہیں.

    تعلیم کو ہی دیکھیں تو تدریسی عمل اورامتحانی عمل دونوں بری طرح متاثر ہوئے ہیں. پہلے تو احتیاط کے طور پر تعلیمی اداروں کو فوری طور پر بند کردیا گیا تھا. پھر تدریس کے عمل کو online classes کی طرف لے جایا گیا تھا. یہ عمل کارآمد ثابت نہ ہوسکا. کیونکہ کبھی بجلی کی بندش اور کبھی انٹرنیٹ کی مختلف علاقوں میں عدم دستیابی ہوتی ہے. لیکن پھربھی یہ ایک عمدہ کاوش ضرور تھی.

    گزشتہ سال طلباء کو بغیر امتحان لیے اگلی جماعت میں پروموٹ کردیا گیا تھا. انہیں تین نمبر اضافی بھی دیے گئے تھے. جبکہ انکی قابلیت میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہوا تھا. رواں سال طلباء سے صرف اختیاری مضامین کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے. اس فیصلے کا جواز سمجھ سے باہر ہے. جب طلباء مطلوبہ قابلیت نہیں رکھتے تو انہیں اپ کس حد تک سہارا دے سکتے ہیں.

    یہ بات سمجھ سے باہر ہے.
    کیا یہ لازمی مضامین کو نظر اندازکرنے کے مترادف نہیں ہوگا؟
    "لازمی ” کیسے غیر ضروری؟
    کیا یہ طلباء مستقبل میں معاشرے کے لئے اس حد تک کارآمد ہونگے جتنا کہ انکو ہونا چاہیئے ہے؟

    والدین نے کرونا کے دوان خراب معاشی حالات کے باوجود اپنے بچوں کے لئے معمول سے زیادہ کوشش کر کے online classes کے دوران اپنے بچوں کو کمپیوٹر اور موبائل لے کر دینا اور انٹرنیٹ کا اضافی بوجھ اٹھانا ہر طبقے کے لئے سہل نہیں تھا. اساتذہ اور طلباء نے ایک نئے طریقہ تدریس کو اپنایا جسکی اس سے پہلے مثال نہیں تھی. "سمارٹ لاک ڈاؤن کے ساتھ سمارٹ سلیبس” کی اصطلاح بھی سماعتوں نے سنی ہے. جب طلباء تمام سلیبس میں مہارت حاصل نہیں کریں گے تو مطلوبہ نتائج تو حاصل نہیں ہوں گے. بلکہ کمزورنتائج حاصل ہوں گے.

    یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے طلباء کے مسائل بھی توجہ طلب ہیں. یونیورسٹیاں کرونا کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال میں بھی اپنے مطلوبہ معیارسے نیچے آنے کو تیار نہیں ہیں. انکا کہنا ہے کہ پہلے سمسٹر کو مکمل کرنے سے پہلے گزشتہ امتحان میں مطلوبہ نمبرز کا ہونا ضروری ہے.

    جو طلباء مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اتریں گے ان کی یونیورسٹی کو ادا کی گئی فیسوں اور پہلے سمسٹر میں لگائے جانے والےوقت کا کیا ہوگا؟
    کیا ان پر یہ اضافی دبائو نہیں ہوگا کہ آگےانکے ساتھ کیا ہوگا؟

    سونے پرسہاگہ ہمارا تعلیمی نظام جو جدید تعلیمی اصولوں سے ابھی کوسوں دور ہے. تعلیمی اداروں کا تمام تر زور اپنے تعلیمی کاروبار سے منافع حاصل کرنے پر ہے. تعلیم کا معیار بہتر بنانا، طلباء کی صلاحیتوں کو نکھارنا انکا مطمع نظر ہے ہی نہیں. رہی سہی کسر ہمارا امتحانی نظام اور نقل کا بڑھتا ہوا رجحان پوری کردیتا ہے. امتحانات میں مارکنگ کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ عملے کی بہت ضرورت ہے. ہمارا تعلیمی نظام بہت زیادہ کمزوریوں کا شکار ہے. فوری توجہ کا طالب ہے. تاکہ تیزی سے گرتے ہوئے تعلیمی معیار کو بہتری کی طرف لے جایا جاسکے.

    جب تلک یہ سوچوں کا زاویہ نا بدلے گا
    منزلیں نا بدلیں گی ,راستہ نا بدلے گا

    @its_usamaislam

  • طلبہ کو درپیش مسائل  تحریر: سحر عارف

    طلبہ کو درپیش مسائل تحریر: سحر عارف

    کسی بھی ملک کے طلبہ اپنے ملک کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں ٹھیک ایسے ہی پاکستان کے طلبہ بھی ہمارے ملک کا مستقبل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ طلبہ جب پڑھ لکھ جاتے ہیں تو وہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ اپنے ملک کا روشن مستقبل ہوتے ہیں۔

    پر اس کے لیے ضروری یہ ہوتا ہے کہ طلبہ کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے انھیں تمام سہولیات سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے بغیر اچھی تعلیم حاصل کرسکیں۔

    آج پاکستان جہاں بہت سے مسائل میں جکڑا ہوا ہے انہیں میں سے ایک مسئلہ طلبہ کو درپیش مشکلات کا بھی ہے۔ اگر پاکستان میں گورنمنٹ سکولوں کو دیکھا جائے تو وہاں اساتذہ تو موجود ہوتے ہیں پر ان کی کارکردگی صفر ہوتی ہے۔ گورنمنٹ سکولوں میں بہت سے اساتذہ بچوں کے ساتھ اکثر زیادتی کر جاتے ہیں۔

    انھیں اچھی تعلیم نہیں دیتے۔ اس کے علاؤہ وہاں طلبہ کے لیے مکمل فرنیچر کی سہولت موجود نہیں ہوتی۔ اکثر بچے زمین پہ بیٹھ کر پڑھائی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر پرائیویٹ سکولوں کو دیکھا جائے تو وہاں سہولیات تو ساری ہوتی ہیں پر ان سکولوں کی فیس بہت ہوتی ہے۔

    جس کی وجہ سے کم ازکم ایک غریب کا بچہ تو اچھی تعلیم حاصل نہیں کرسکتا پھر اگر فرض کریں وہ داخلہ لے بھی لے تو وہاں کی مہنگی کتابیں اور دیگر ضروریات کے خرچے تو نہیں اٹھا سکتا۔ اس سب کے سبب بہت سے بچے تعلیم کی دنیا کو خیر باد کہہ دیتے ہیں اور جو باقی پیچھے تعلیم حاصل کرنے کے لیے رہ جاتے ہیں ان میں سے بھی آدھی تعداد کہیں نا کہیں ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتی ہے۔

    ہمارے ہاں تعلیم کو اب بہت مشکل بنا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے بہت سے بچے سکول کا نام سنتے ہی بھاگ جاتے ہیں اور باقی اگر جو تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکولوں کا رخ کرتے ہیں تو بچارے ڈر ڈر کر پڑھتے ہیں۔ پڑھائی کو اپنے اعصاب پر اس قدر سوار کرلیتے ہیں کے ذہنی مریض بن جاتے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کو بچوں کے لیے آسان بنانے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ایک غریب کا بچہ بھی آرام اور سکون سے تعلیم حاصل کرسکے۔

    @SeharSulehri

  • پاکستان کا تعلیم نظام  تحریر محمد عدیل علی خان

    پاکستان کا تعلیم نظام تحریر محمد عدیل علی خان

    ‏پاکستان میں جو تعلیمی نظام ہیں اسکا آپ اور میں بہتر انداز سے جانتے ہے کیوں آج کا طالب علم اکیڈمیوں کا محتاج ہے سب سے پہلے ہم سرکاری اسکول اور کالجز کے تعلیمی نظام پے روشنی ڈالتے ہیں اور کچھ حقیقی حقائق سے میں آپ کو آگاہ کرتا ہوں سرکاری اسکولوں میں تمام استادزہ آتے تو ہیں لیکن صرف دس یا پندرہ منٹ کی کلاس لیتے ہیں اگر کوئی طالب علم سوال اٹھائے تو اس سے کہتے ہے کہ اگر آپ کو اتنا پڑھنے کا شوق ہے تو جناب اعلیٰ آپ میری اکیڈمی میں آجایا کرے فیس بھی اتنا زیادہ نہیں ہے صرف پانچ سو روپے آپ اندازے لگائیں جس کے والد صاحب روز کے پانچ سو روپے یا اس سے کماتے ہیں اور بیچارے دیہاڑی دار مزدور ہے اور کبھی تو ہفتہ ہفتہ بھی مزدوری نہیں لگتی وہ بیچارہ گھر کے اخراجات پورے کرے یا بیٹے کو اکیڈمی میں داخلہ دلوائے اور اس طرح کے کئی بچے یا تو خودکشی کر گئے یا مزدوری کرنے چلے گئے اور اس طرح سے پاکستان کا مستقبل تباہ ہوا صرف ان نالائق اور لالچی استادزہ کی وجہ سے یہ تو وہ اساتذہ اکرام تھے جو صرف کچھ منٹوں کی کلاس لیتے تھے اب آتے ان استادزہ کی طرف جو صرف سکول کے اسٹاف روم میں صرف گپھے لڑانے آتے ہے اور پڑھانے کا تو کوئی سوال ہی نہیں اگر کبھی محکمہ تعلیم کی طرف سے کوئی افسر تعلیم چیکنگ کے لئے آئے تو طلباء کو دمھکی دی جاتی ہے اگر آپ نے کوئی شکایت کی تو ہم آپ کو اسکول سے نکال دے گے اور ایسا سرٹیفکیٹ بنا کر دے گے کہ آپ کو کہیں بھی داخلہ نہیں ملے گا اگر محکمہ تعلیم کا افسر کوئی شکایت لکھ بھی لے تو لے دے کر معاملہ ختم کر دیا جاتا ہے اگر ان اساتدزہ کو ایک مہینے کی تنخواہ نہ ملے تو حکومت کے خلاف پُر زور احتجاج کرتے ہیں جناب اعلیٰ پڑھائے گے نہیں پر تنخواہ پوری چاھئے ….
    اگر ہم ڈگری کالجز کی بات کرے تو وہاں آپ کو صرف ایک سختی بڑی دیکھنے کو ملے گی کہ پیر کے دن تمام طلبا کو یونیفارم میں لازماً آنا ہے ڈگری کالج کے استادزہ بھی کسی سے کم نہیں جناب اعلیٰ دس یا گیارہ بجے تک کالج میں اس کے بعد پرائیویٹ کالجز میں چلے جائیں گے اگر کوئی طالب علم ان استادزہ کی شکایت پرنسپل کو کرے تو وہ کہتے ہیں استادزہ کی شان میں گستاخی اگر آپ نے دوبارہ یہ بدتمیزی کی تو ہم آپکا داخلہ منسوخ کر دے گے اور آپ جیسے بدتمیز طلبا کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے…………..
    پرائیویٹ اسکول/کالجز بھی کسی سے کم نہیں ہے اس معاملے میں..
    ان کو صرف اپنی فیس سے مطلب ہوتا اگر کسی طالب علم کی ایک دو ماہ کی فیس رہتی ہے تو اسے دمھکی دی جاتی ہے اگر آپ نے فیس کلیئر نہ کرائی تو ہم آپکو سلپ نہیں دے گے ان کو طالب علم کے پورے سال کی کوئی اہمیت نہیں ہے ٹیچر آیا لیکچر دیا اور چلا گیا کسی کی سمجھ میں آئے یا نہیں اگر کوئی طالب علم سوال کرے مجھے فلاں چیز سمجھ میں نہیں آئی تو جواب روایتی ملتا ہے بیٹا کوچنگ سینٹر جوائن کر لیں آپ بہت وییک ہو اگر میرا کوچنگ سینٹر جوائن کرنا چاہو تو ‎#موسٹ_ویلکم
    اور دوسرا جواب سنے بیٹا مجھے دوسرے کالجز میں بھی جانا ہوتا اس وقت میرے کوئی وقت نہیں ہے میں پہلے ہی لیٹ ہوچکی/ہوچکا ہو………….
    یہ ہمارا تعلیمی نظام ہے جو میں نے لکھا ہے اس سے بھی گھٹیا ہے ہمارا تعلیمی نظام جو میں نے میں سمجھتا ہو کہ جو میں نے بہت کم لکھا ہے اگر اس طرح سے طالب علم کو پڑھیا گیا تو وہ بھی بڑا ہو کر منہ بھائی ایم بی بی ایس بنے گا اس بڑھ کر کچھ نہیں ہم نے اپنے بچوں کو منہ بھائی نہیں بلکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ڈاکٹر عبدالسلام اور جابر بن حیان بنانا ہے

    نوٹ……….

    میری اس تحریر میں ان استادزہ کو بلکل بھی نشانہ نہیں بنایا گیا جو ایمانداری سے اپنا کام کرتے ہیں اور اس ٹیچری کو جاب سمجھ کر نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں میرا نشانہ وہ استادزہ ہے جنہوں نے اس تعلیم کو کاروبار بنا دیا ہے میرا نشانہ صرف لالچی اور کرپٹ استادزہ ہے
    الحمدللہ عزوجل اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جو مجھے بہترین استادزہ ملے وہ استاد ملے جو جاب سمجھ کر نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر کے ادا کرتے ہے… .
    ایک اور ضروری بات اگر ایک استاد بہتر انداز سے اور اپنی پوری محنت سے اپنا سبجیکٹ پڑھاتا ہے وہ صرف پورے سلیبس 20% حصہ کوور کرسکتا ہے باقی کا 80% وہ کہاں سے پڑھے گے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے سرکاری اسکول اور کالجز کے لئے

    Twitter ‎@iAdeelalikhan

  • تعلیم اور تربیت کتنی ضروری تحریر:  سید محمد مدنی

    تعلیم اور تربیت کتنی ضروری تحریر: سید محمد مدنی

    تعلیم انسان کا حق ہے اور ہر انسان اچھی تعلیم کا حاصل کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں زیادہ تر اچھی تعلیم ان اسکول کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہے جہاں کی فیس عام آدمی ایفورڈ کر ہی نہیں سکتا پھر دوسری بات کے ایسے اسکول کالجز اور یونیورسٹیوں میں تعلیم ہونے کے باوجود بعض انسانوں کی تربیت اچھی نہیں ہوتی ان میں پیسے اور معیاری تعلیم ہونے کی وجہ سے غرور آج جاتا ہے.

    آپ نے کبھی نوٹ کیا ہوگا کے ایک ٹاٹ (فرش پر دری) پر بیٹھ کر پڑھنے والا انسان ایک کرسی پر بیٹھ کر پڑھنے والے سے بہت بہتر ہوتا ہے اس کی وجہ ہے اچھی تربیت تعلیم تو انسان حاصل کر ہی لیتا ہے مگر تربیت گھر سے اور گھر کا مطلب ہے کے والدین سے آتی ہے جہاں تعلیم حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے وہاں کہیں کہیں یہ انسان میں غرور بھی لاتی ہے اور پھر تکبر غرور ﷲ کو ہرگز پسند نہیں میرا کہنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کے اچھی تعلیم حاصل نا کی جائے مگر ساتھ بہترین تربیت بھی ہونی چاہیے.

    ہمارے مذہب اسلام میں تو جب آپ رسول ﷲ صلی ﷲ علیه وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو ﷲ کی طرف سے فرمایا گیا کے پڑھ اپنے رب کے نام سے پڑھ مطلب ابتداء ہی پڑھنے سے ہوئی تو اس لحاظ سے ہمارے مذہب میں تعلیم کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے پھر جس کا بہت زکر کیا جاتا ہے کے

    علم حاصل کرو خواہ اس کے لئے تمھیں چین ہی کیوں نا جانا پڑے

    ( اہم نوٹ یہ علم کے لیے چین جانے والی بات بہت سے لوگ اسے حدیث کہتے ہیں اور بہت سے لوگ اسے ضعیف سمجھتے تو اس کے لئے ﷲ مجھے معاف کرے)

    مشہور ہے کے گود سے گور تک علم حاصل کرو

    تعلیم ایک ایسا زیور ہے جس سے انسان نکھرتا ہے بغیر تعلیم کے انسان جاہل ہی کہلاتا ہے.

    آج کل کا دور کمپیوٹر کا ہے مگر بنیادی تعلیم بہت ضروری ہے ہم جہاں انگریزی اور ماڈرن تعلیم پر زور دیتے ہیں وہاں دینی تعلیم اور اخلاقی تعلیم بھی ضروہے تعلیم حاصل کرلی مگر دینی اخلاقی تعلیم اور تربیت حاصل نا کی تو ایس تعلیم کا کیا فائدہ جس کے پاس ڈگریاں تو ہوں مگر وہ اخلاقی اور دینی تربیت سے محروم ہو. آپ صرف وسطی ایشیائی ممالک کو لے لیں جہاں پر شرح خواندگی ٩٩٪ ہے وہاں ہر دوسرا شخص پڑھا لکھا ہے

    حدیث نبوی صلی الله علیه وسلم ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اب آپ یہ بھی اندازہ لگا لیں کے قرآن اور حمیں کتنا زور دیا گیا ہے تعلیم پر

    ہم اگر اپنے آپ سے وعدہ کریں کے تعلیم اور تربیت کے معاملے پر کوتاہی نہیں برتیں گے تو یقین کریں ہم بھی اپنی شرح خواندگی کو بہترین کر سکتے ہیں تعلیم نہایت ضروری ہے آخر کیوں وسطی ایشیا یا پھر کئی ممالک تہذیب یافتہ ہیں وجہ تعلیم پر زور اور سب کے لئے یکساں مواقع.

    ہم نے تعلیم اور تربیت ضرور حاصل کرنی ہے کیونکہ یہ ﷲ کا حکم اور حدیث بھی ہے.

    Twitter Id @ M1Pak

  • کرونا اور آجکل کے طالب علم . تحریر : نعمان سرور

    کرونا اور آجکل کے طالب علم . تحریر : نعمان سرور

    جب سے کرونا کی وبا آئی ہے تب سے تعلیم پر اس کا بہت زیادہ اثر پڑا ہے دنیا بھر میں سکول،یونیورسٹیاں اور دیگر تمام ادارے بند کر دئیے گئے، امتحانات منسوخ کر دئیے گئے اور کئی ممالک میں وبا کے پہلے سال طلباء کو اگلی کلاس میں بھیج دیا گیا پھر جب یہ دیکھا گیا کے یہ وبا اتنی جلدی ختم ہونے والی نہیں ہے تو دنیا نے اس کے ساتھ جینے کا فیصلہ کیا اور ایسے طریقے اختیار کئیے گئے کے روز مرہ کے معملات کاروبار،نوکریاں، تعلیم اور دیگر معملات کو ساتھ ساتھ چلایا جائے۔

    دنیا ٹیکنالوجی پر منتقل ہوگئی مختلف قسم کے نئے سوفٹ وئرز بنائے گئے جن سے آن لائن کلاسز کا آغاز کر دیا گیا، کاروبار اور دیگر چیزوں کے لئے بھی کئی ایپس مارکیٹ میں آ گئیں اور لوگ ان کا استعمال کرنے لگے جس کی وجہ سے جو خلا بنا تھا کافی حد تک ُپر ہوگیا، دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی یہی طریقہ کار اختیار کیا گیا۔

    پاکستان میں بھی یہی کیا گیا اور بچوں کو آن لائن پڑھانے کے ساتھ ان کے پیپر بھی آن لائن لئے گئے جس میں چار چار سٹوڈنٹس نے مل کر خوب نقل کی اور ہر کسی نے اچھے نمبر لئے اور آجکل کے زیادہ تر بچے ویسے ہی محنت کرنے کے عادی نہیں تو انہوں نے کرونا کو غنیمت جانا اور نمبروں پر خوب ہاتھ صاف کئے۔

    لیکن مسئلہ اسوقت ہوتا ہے جب شفقت محمود نے یہ اعلان کیا کے اب کوئی امتحان آن لائن نہیں بلکے تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے سب امتحان کمرہ امتحان میں لئے جائیں گے تو ان بچوں نے ایک طوفان بدتمیزی برپا کر دیا وہ بچے جو سارا دن بازاروں میں پھرتے تھے،کرکٹ کھیلتے تھے انہیں اب کرونا سے ڈر لگنے لگا۔

    وہ بچے جو سارا دن پب جی کھیل کھیل کر موبائل کے انٹرنیٹ اور بیٹری کا بیڑا غرق کرتے تھے انہوں نے اب یہ کہنا شروع کر دیا کہ پاکستان میں نیٹ ہی نہیں چلتا ہماری تیاری نہیں ہے۔ بعض جگہوں پر یہ مسئلہ واقعی تھا لیکن پورے پاکستان کے بچے حکومت اور تعلیمی اداروں کو بلیک میل کرنے لگے،ٹویٹر پر روزانہ کی بنیاد پر ٹرینڈز کئیے جانے لگے اور وہ شفقت محمود جو کبھی ان کی آنکھوں کا تارا تھا وہ اب ولن بنا گیا تھا سب بچے اس کی جان کے پیچھے پڑ گئے تھے یہ وہ بچے تھے جو اپنے آپ کے ساتھ اپنے ماں باپ کو بھی دھوکا دینے میں مصروف تھے جن کا تعلیم حاصل کرنے کا مقصد انہیں خود بھی نہیں معلوم، ان بچوں نے ٹویٹر پر ایک ایک دن میں 4،4 لاکھ ٹویٹس کئیے اور اس میں ہر قسم کی تصاویر،میمز،وڈیوز کا استعمال کیا سوال یہ بنتا ہے کے وہ بچے جو چند میگا بائٹس کے پی ڈی ایف ڈاکومنٹس ڈاؤنلوڈ کرنے میں مشکلات کا شکار تھے جن کی تعلیم انٹرنیٹ نہ ہونے سے بقول ان کے رک گئی تھی اب ان کے پاس اتنا تیز نیٹ کیسے آ گیا تھا ؟

    جواب یہ ہے کے نیت خراب تھی اور سستی دماغ پر سوار تھی پھر ان بچوں نے اپنے آپ کو یہاں نہ روکا بلکے عملی احتجاج بھی شروع کیا کئی جگہ مار پیٹ کی یہ اپوزیشن کو دیکھ کر شاید یہ سمجھ رہے تھے کے ایسا کرنے سے امتحان ملتوی ہو جائیں گے لیکن ان کی کوئی بات ان کے کام نہ آئی افسوس کا مقام یہ ہے کے اپوزیشن اور ملک بھر کے موقع پرست کئی لوگوں نے ان کو استعمال کیا اور بل آخر بات یہی طے ہوئی کے امتحان تو دینے ہونگے۔

    ہماری نوجوان نسل کو بے شک وقتی طور پر بہت تکلیف ہوگی اور ان کا دل بھی نہیں چاہے گا پڑھنے کا لیکن اگر آپ نے دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو آپ کو ہر معاملے میں اپنے آپ کو وقت کے مطابق ڈھالنا ہوگا زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے ایسے اگر پاس ہو بھی جاتے ہیں تو یاد رکھیں صرف ڈگری کی دنیا میں کوئی وقعت نہیں ہے یہ وقتی طور پر آپ کو اچھا لگے گا سہل لگے گا لیکن یہ اصل میں آپ کے لئے نقصان ہے۔

    دوسرا شفقت محمود اور حکومت کو اس پر داد ہے کے وہ ان کے پریشر میں نہیں آئے حالانکہ ان سب کو دوبارہ پاس کرکے کے ایک مقبول فیصلہ کر سکتے تھے لیکن حکومتوں کا کام مقبول ہونا نہیں ہوتا بلکے اپنی قوم کی بہتری دیکھنی ہوتی ہے اگر سب کو بغیر امتحان یا نقل والے آن لائن امتحان میں پاس کر دیتے تو ان طالب علموں کے ساتھ زیادتی ہوتی جو محنت پر یقین رکھتے ہیں جنہوں نے تین مہینے ٹویٹر پر ٹرینڈ نہیں کئے بلکے پڑھائی کی۔

    حکومت سے یہ اپیل ہے کے ان علاقوں میں جہاں انٹرنیٹ کے مسائل واقعی میں موجود ہیں ان کو حل کیا جائے بچوں کو فیسوں میں رعایت دی جائے پسماندہ علاقوں کے بچوں کو انٹرنیٹ کی مد میں پیسے دئیے جائیں اور ان کی مدد کی جائے لیکن امتحانات پر کوئی سودے بازی نہیں ہونی چاہیے بے شک آدھی کتابوں کے امتحان لیں لیکن یہ تعلیمی نظام کی بقا کے لئے ضروری ہے۔

    انسانی تاریخ کا یہ ایک مشکل وقت ہے دنیا میں پہلے بھی کئی وبائیں گزر چکی ہے لیکن اس نسل نے یہ پہلی وبا دیکھی ہے اور افسوس اس بات کا ہے کے بجائے اس کا مقابلہ کرنےکے احتیاطی تدابیر کے ہماری نوجوان نسل کے ایک بڑے حصے نے اس کی موقع غنیمت بنایا، اللہ تعالی جلد اس وبا سے ہماری جان چھڑائے اور ہماری نوجوان نسل کو ہدایت دے آمین

    @Nomysahir

  • تعلیم و تربیت تحریر : راجہ حشام صادق

    تعلیم و تربیت تحریر : راجہ حشام صادق

    اس دنیا میں آنے والا انسان پہلے دن سے ہی عالم نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ انسان بغیر استاد کے کچھ سیکھ سکتا ہے۔دنیا میں آنے کے بعد بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود کہلایا گیا ہے ۔میرے نزدیک والدین ہی اپنے بچے کے بہترین استاد ہوتے ہیں۔ ان کی دی گئی تربیت بچے کی زندگی کو اسی راستے پر لاتی ہے۔ جس پر والدین نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ہوتا ہے۔اور کچھ سبق زندگی سکھا دیتی ہے۔ تو کچھ استاد کی محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔

    استاد جس علم کی روشنی کو تقسیم کرتا ہے اس سے بہت سارے چراغ روشن ہوتے ہیں۔ علم ایک سے دوسرے میں منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور جاری رہےگا۔ قارئین علم بغیر عمل کے بے فائدہ ہے تعلیم آپ نے حاصل کر بھی لی اگر کسی چیز کے بارے میں تعلیم مکمل کرلیں اور اس کو یاد بھی کر لیا۔ لیکن اس پر خود عمل نہیں کرتے تو ایسے علم کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ علم پھیلانا دوسروں میں تقسیم کرنا صدقہ جاریہ ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ہوتا کیا ہے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انسان کے اندر تکبر آ جاتا ہے۔جسے اپنے علم پر گھمنڈ ہو جو تعلیم یافتہ دوسروں کو خود سے کمتر سمجھے تو ایسے عالم سے وہ جاہل بہتر ہے جس کے اندر کسی چیز کا گھمنڈ نہیں ہوتا بڑی عاجزی کے ساتھ بات سنتا اور عمل بھی کرتا ہے۔

    ہونا تو یہ چاہیے کہ ایک علم والا اپنے بہترین اخلاق اور بہترین تعلیمات کے ذریعے علم و شعور کی بیداری کے لئے اپنا کردار ادا کرے تاکہ سننے پڑھنے والوں کے اندر مطالعہ کا ذوق و شوق پیدا ہو اور اس کو حاصل کرنے کے بعد عمل کرنے کی تربیت بھی دی جائے۔
    بہت سی ایسی شکایات سننے کو ملتی ہیں کہ نوجوان نسل بدتمیز ہے اور ان میں کوئی شعور نہیں ہے۔ لیکن یہاں پر یہ سوال بھی جنم لیتا ہے ۔

    کیا آج کے دور میں علم تقسیم کرنے والے خود باعمل ہیں ؟
    کیا ان کا مقصد دوسروں تک علم کو امانت سمجھ کر پہنچانا ہے۔ یا پھر حصول روزگار کے لئے اس شعبے کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔اور ترجیحات میں صرف ذاتی فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔

    یاد رکھیں جہاں آج ایک نسل کو بد اخلاق تصور کیا جاتا ہے وہاں صرف آج کی پروان چڑھتی یہ نوجوان نسل قصوروار نہیں۔ بلکہ اس نسل کے والدین بھی اس کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے بغیر تحقیق کیئے اپنے بچوں کی تربیت کے لئے ایسا انتخاب کیا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں بسنے والا ہر باشعور شخص قصوروار ہے ۔ان سب کے سامنے علم کو صرف بیچا گیا ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج جہاں علم کی قیمت لگائی جاتی ہے علم کو بیچا جا رہا ہے۔ اس کے خریدار بھی اتنے ہی زیادہ ہیں جو جتنا طاقتور ہے وہ تعلیم کی ڈگریاں خرید لیتا ہے۔وہ لوگ جو دن رات محنت کرنے والوں بچوں کے حق پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ وہ کردار ذمہ دار ہیں جو بیچتے اور خریدتے ہیں سچ کہوں تو برا لگے گا حقیقت تو یہ ہے اب علم کی منڈی لگی ہوئی ہے۔ جو جتنا پیسے والا ہو گا اس کے پاس اتنی بڑی ڈگری ہو گی۔ اب ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جس کو خرید تو لیا جائے لیکن بے عمل ہو اس منڈی میں جب علم کے ہی سودے ہوں گے تو قوم میں علامہ اقبال کے شاہین نہیں بلکہ ایک جاہل نسل پروان چڑھے گی۔

    پھرہو گا کیا یہ کتابیں کسی سڑک کے کنارے آپ کو ملیں گی یا کسی کباڑیے کے پاس چند کوڑیوں کے عوض بک رہی ہوں گی۔ جب تعلیم حاصل کرنے کا مقصد روزگار ہو پھر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ ایک باشعور شہری ہیں اس ملک کے یا ایک پڑھے لکھے جاہل ہیں ۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @No1Hasham

  • سکول  میں ڈانس کلچر معاشرے کی تباہی تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    سکول میں ڈانس کلچر معاشرے کی تباہی تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    ماں کی گود کے بعد بچے کی درسگاہ کی زمہ داری اس کے اساتذہ پر عائد ہو جاتی ہے. جو اسے زندگی کے جھمیلوں سے نمٹنے کے لیے ہیرے کی طرح تراشتا ہے. اس زمرہ میں معاشرتی اصول و ضوابط کے مطابق تعلیمی اداروں میں یہ کام سر انجام دیا جاتا ہے. جہاں اساتذہ اپنے علم و ہنر کے جوہر آزماتے ہوئے طالب علم کو تراشتے اور انمول ہیرا بناتے ہیں.
    تعلیمی سرگرمیوں میں بچوں کی صحت اور جسمانی تروتازگی کے لیے مختلف کھیلوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے.
    گزشتہ چند سالوں میں جب تعلیمی اداروں میں Co-Education نظام کے ترجیحات کو ایک نیا رنگ دیا. پہلے پہل تو اوقات کار بچوں اور بچیوں کے الگ تھے. پھر رفتہ رفتہ اوقات کا تو درکنار کمرہ جماعت بھی اکٹھے ہو گئے. اس پر پھر جو آزادی دی گئی اس نے تعلیمی اداروں کے معیار کو برباد کر کے رکھ دیا. آج میٹرک جماعت کے طلبہ ٹک شاپس پر گلچھرے اڑاتے دکھائی دیتے ہیں. رہی سہی کسر سکولوں اور کالجز میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی مد میں ڈانس پارٹیوں نے نکال دی. آج کل تو معروف ادارے ماڈرنائزیشن کے نام سےکپل ڈانس جیسی لعنتوں کا سہرہ اپنے سر سجاتے نظر آتے ہیں. جس عمر میں بچوں کو اچھائی اور برائی کا شعور آنا چاہیے تھا اس عمر میں ان کی آپسی انڈرسٹینڈنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے.
    یہ کیسی تعلیم ہے جس میں بچوں کو انڈرسٹینڈنگ کے نام پر عشق و معشوقی کے جزبات سکھاے جا رہے ہیں. ہماری نسلوں کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے. میرا اتفاق ہوا انگلش لینگوج کا کورس کرنے کا. اتفاقاً اس ادارے میں صبح میں سکول اور شام میں ٹیوشن سنٹر قائم تھا. میں اور میرے برادر محترم سمیت ان کے چند دوست بھی جو کہ اس کورس میں دلچسپی رکھتے تھے نے شمولیت اختیار کی. شام میں ہم سب بھائی اور دوست اس ادارے میں اپنے انگریزی زبان کہ تقویت کا عزم لیے داخل ہوئے. وہاں ایک تعداد آٹھویں سے دسویں جماعت کے طلبہ اور طالبات کی بھی تھی. پہلا دن تو تعارف میں گزرا. لیکن انکی اٹکیلیوں اور شرارتوں سے فضا نامعقول محسوس ہوئی. اگلے دن جب ہم دوبارہ کلاس لینے پہنچے تو ہم سے پہلے ایک بڑی تعداد اس ادارے میں بچوں کی صف اول میں موجود تھی. مختصر تعارف سے معلوم ہوا کہ یہ اسی سکول کے بچے ہیں جو صبح یہاں سکول پڑھتے ہیں. کلاس کو شروع ہوئے 15 منٹ گزرے تو چٹ چیٹ کا آغاز ہو گیا. جو کہ بڑھتے بڑھتے کاغذ کے گولے بنا کر ایک دوسرے کو مارنے تک جا پہنچا. استاد محترم وہاں تہزیب کا درس دیتے بے بس دکھائی دے رہے تھے. بالآخر استاد محترم کی جوانی پر بات چھڑ گی اور نو عمر 28 سالہ استاد محترم بھی خوش گپیوں میں مشغول ہو گئے. کلاس کا وقت انہی خوش گپیوں میں مکمل ہوا. ہمارے بار بار اصرار پر کلاس پر توجہ دلانے کی ناکام کوشش بھی جاری رہی. وہ دن ہمارا اس ادارے میں آخری دن تھا. کیا یہ ہمارے مستقبل کے معمار ہیں؟
    میرا سوال ان طالبات سے بھی ہے جنہیں چٹ چیٹ سے فرصت نہیں تھی.
    جن طلبا کے جزبات چکنی چپٹی باتوں سے ابھارے گئے کیا وہ کل روشن مستقبل بنا پائیں گے. پھر گناہ سب لڑکوں کا ہوتا کہ اچھے رشتے نہیں ملتے. پڑھی لکھی بیٹیاں بوڑھی ہو رہی ہیں. کیا ہم یہ اپنا مستقبل بنا رہے ہیں. میرا سوال ان طلبا سے بھی ہی جنہیں بکنی چپٹی باتیں سننے کا شوق ہے. کیا اپنی گھر کی بہن بیٹی کو یہ آزادی دو گے. کہ وہ تمہاری من چاہی گڑیا کی طرح اپنے کسی شہزادے کی باہوں میں جھومتی پھرے؟
    کیا ماں باپ اس لیے بھیجتے کہ ان کے بڑھاپے کو اپنے نکھٹو مستقبل سے برباد کرو؟
    میرا سوال تعلیمی اداروں سے ہے. یہ انڈرسٹینڈنگ کے نام پر بچوں کے جزبات ابھار کر اور ڈانس پارٹیوں سے ان میں قربتیں بڑھا کر ڈانس پارٹیوں میں تنگ لباس سے بچیوں کے جسموں کی نمائش کروا کر اور شہوت کو فروغ دے کر کونسا بھلائی کا کام انجام دیا جا رہا ہے؟ اللہ رب العزت کے متعین کردہ حج و عمرہ کے فرائض جہاں عورت کو صفا مروہ دوڑنے تک کی اجازت نہیں تم بنت ہوا کو نا محرموں میں نچا کر کونسی روزی حلال کر رہے ہو؟
    حضور نبی کریم خاتم النبیںن محمد صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا. جو شخص چاہے کہ مسلمانوں میں فحاشی پھیلے اس کے لیے درد ناک عزاب ہے.
    خدارا ہوش کے ناخن لیں. ماں باپ اپنے بچوں کے لباس اور تہزیب کا خیال کریں. اساتذہ بچوں کے مستقبل کو خراب ہونے سے روکیں. تعلیمی ادارے اس طرح کے ماحول کو ترک کر کہ ایک اچھا پلیٹ فارم مہیا کریں. جہاں سے نکلنے والے طلبہ اور طالبات تمہارے سکھاے ہوے علم و اداب کی بدولت اپنا مستقبل روشن کر سکیں. تاکہ مستقبل کی نسل کو تباہی سے بچایا جا سکے.

    @EngrMuddsairH