Baaghi TV

Category: تعلیم

  • جدید دور کا نظام تعلیم  تحریر : شاہ زیب

    جدید دور کا نظام تعلیم تحریر : شاہ زیب

    وطن عزیز میں جدید دور اور نظام تعلیم کے نام پر جو فحاشی پھیلائی جا رہی ہے اس کے قصور وار سب سے پہلے ہمارے ملک کا میڈیا جو ڈراموں میں فحاشی کو پرموٹ کر رہا ہے۔

    اچھی تعلیم کے نام پر سب سے پہلے دوپٹہ چھین لیا جاتا ہے اور پھر یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم کے نام پر لباس تبدیل کر دیا جاتا ۔

    جدید دور کا آغاز فحاشی کو فروغ دینے سے ہرگز نہیں وطن عزیز کی بدقسمتی ہے کہ میڈیا ڈراموں میں مغربی لباس کو فروغ دیتا ہے اور ہماری عوام ان کے لباس کی کاپی کرنا شروع کر دیتے یہاں تک کے لڑکے لڑکیوں والا ڈریسنگ زیب تن کر رہے ہیں اور لڑکیاں لڑکوں والے

    نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” لعنت ان عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت پیدا کرتی ہیں اور اُن مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت پیدا کرتے ہیں ”

    میں اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ فحاشی کے نام سے عورت سے تعلیم چھین لی جائے یہ موضوع لکھنے کا مقصد صرف اپنی اور معاشرے کی بھلائی کے لئے ھے

    آپ سبھی جانتے ہیں انسان کا لباس موسم اثرات کے بچاؤ کے ساتھ ساتھ سماجی شخصیت بھی ظاہر کرتا ہے جیسے کہ ڈاکٹر پولیس فوجی جوان اور وکیل وغیرہ اپنے مخصوص لباس کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں اسی طرح اچھے مسلمان مردوں اور خواتین کی پہچان بھی اس کا لباس ہے جو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتایا ہوا ہے

    کامیابی اور ترقی صرف تعلیم سے آراستہ ہے لیکن اگر الیکٹرانک میڈیا والے ترقی کے نام سے پردہ چھین رہے ہو تو یہ گمراہی ہے مغرب کی کاپی کرنا ہے تو ڈراموں میں عدل و انصاف بھی کریں یی بچوں اور بچیوں کے حقوق دیں جس سے معاشرہ میں بگاڑ پیدا نہ ہو

    فحاشی کے روک تھام کے لئے حکومت کوشش تو کرتی ہے لیکن حکومت میں بیٹھے لبرل رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں جو ہماری اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں اس کا بہترین حل ہے پیمرا کوئی بھی ایسا ڈرامہ ریلیز نہ ہونے دیں جس میں بے حیائی پرموٹ کی جا رہی ہو
    تو کافی حد تک محفوظ رہ سکتے ۔
    دوسری بات روایتی تہذیبی و مذہبی پروگرام میں نوجوانوں کی تربیت کی جائے پبلک مقامات پر فحاشی کے خلاف مزاحمت کریں۔ شکریہ

    ‎@shahzeb___

  • رٹہ نہیں ہنر سکھاؤ . تحریر : نعمان سرور

    رٹہ نہیں ہنر سکھاؤ . تحریر : نعمان سرور

    پاکستان وہ ملک ہے جس کی آبادی کا بہت بڑا حصہ نوجوان آبادی پر مشتمل ہے، پاکستان کی تقریبا 63 فیصد آبادی نوجوان ہے یہ ہمارے ملک کا بہت بڑا اثاثہ ہے جسے برباد ہونے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے اور ماں باپ ،بچے اور اہل علم سمیت سب ہی بس اس راستے پر چلتے جا رہے ہیں یہ نہیں سوچ رہے کیا ہماری سمت درست ہے ؟؟

    پاکستان میں ہر سال لاکھوں بچے کالج سے فارغ ہو کر یونیورسٹی کی تعلیم کے لئے میدان میں آتے میرٹ کے مختلف مراہل سے گزر کر اگر اچھی یونیورسٹی میں داخلہ نہ بھی ملے تو کسی پرائیوٹ میں تو مل ہی جاتا ہے پھر نوجوان اپنے زندگی کے چار سال اس یونیورسٹی میں گزارتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ایک طالب علم کا اوسطا خرچ چار سالوں میں 20-25 لاکھ سے زیادہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ زندگی کے چار سال بھی اس میں جھونک دئیے جاتے ہیں۔

    دنیا اب تیز اور آگے کی طرف بڑھ گئی ہے کچھ فیلڈ ایسی ہیں جن میں واقعی طالب علم کو یونیورسٹی جانے کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن ہر فیلڈ کے لئے ایسا ہر گز نہیں ہے، یونیورسٹی سے لاکھوں خرچ کر کے بھی جب طالب علم ڈگری لے کر باہر نکلتا ہے تو اس کو اصل کام فیلڈ میں سیکھنا پڑتا ہے ہماری کتابوں میں موجود چیز یں اسے وہ نہیں سکھا پاتی جو فیلڈ میں وہ چند سالوں میں سیکھ جاتا ہے، اور اکثر نوجوان یونیورسٹی کی ڈگری لے کر بھی بے روزگار پھر رہے ہوتے ہیں کیا ہی اچھا ہو کے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کے بعد نوجوانوں کو انہیں یونیورسٹیوں کی فیسز کم کر کے ان کو وہ ہنر سکھایا جائے وہ تعلیم دی جائے جو آجکل کے وقت میں ان کے کام آئے اور وہ روزگار خود حاصل کر سکیں ہمارا سلیبس آج بھی فلاپی ڈسک پڑھا رہا، بچہ جب عملی میدان میں جاتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کے وہ تو 30 سال پیچھے کی تعلیم حاصل کر کے آیا ہے پھر وہ فیلڈ میں مار کھا کر سیکھنے کی کوشش کرتا ہے آن لائن سیکھتا ہے اور زندگی کے دو تین سال اس میں لگا دیتا ہے۔

    ہونا تو یہ چاہیے کے اسے یونیورسٹی میں جو عرصہ گزارا اس میں وہ کسی فیلڈ کا ماسٹر بن کر نکلے اور تمام یونیورسٹیوں کے پاس یہ بھی ڈیٹا ہونا چاہیے کے ملک میں کس فیلڈ میں کتنے لوگ درکار ہیں اتنے ہی لوگ اس فیلڈ میں لائے جائیں پھر یہ دیکھا جائے بیرون ممالک میں کونسے ہنر کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے ؟؟ آنے والے وقت میں بچے کیسے روزگار حاصل کر سکتے ہیں یونیورسٹی کا دورانیہ چار سال کے بجائے 1.5 سال کر دینا چاہیے جس میں بچے کو بیرون ملک میں بیٹھے لوگوں سے بات کرنے کا طریقہ سکھایا جائے، کاروبار کرنا سکھایا جائے، بچے کو یہ بتایا جائے کے زندگی کا مقصد رٹہ لگانا نہیں ہے اگر تمہاری یاداشت اچھی نہیں ہے تو کوئی بات نہیں تم پھر بھی ایک کامیاب انسان بن سکتے ہو۔۔۔تمہیں انگلش فر فر نہیں آتی تو کوئی بات نہیں اتنی سیکھ لو کے اگلے کو اپنی بات سمجھا سکو اور اس کی سمجھ سکو بچے میں اعتماد پیدا کیا جائے اس بنیادی معاشرتی زندگی کے اداب سکھائے جائیں اور اس سے یہ بآور کروایا جائے کے انگلش بولنا کسی کے لائق یا قابل ہونےکی نشاندہی نہیں بلکے یہ صرف ایک زبان ہے، یونیورسٹی کے بچوں کو فیکٹریوں کے بورڈ سے ملوایا جائے اور ان سے پوچھا جائے کے وہ اپنے کاروبار میں کیسی آسانی دیکھنا چاہتے ہیں پھر بچوں سے کہا جائے کے سوچیں کیا آپ یہ کر سکتے ہیں اگر وہ اس قابل ہوں تو ان کے اخراجات فیکٹری مالکان کے زمے لگائے جائیں زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی آپ یہ کر کے دیکھیں اس ملک کے نوجوان بہت قابل ہیں وہ آپ کو ہر مسئلے کا حل دیں گے۔ آپ ان نوجوان کو ہفتے ایک دن صرف اس بات پر ٹریننگ دیں کے لوگوں کے سامنے بات کیسے کرنی ہے حال میں سب کو جمع کر کے تقاریر کروائیں ان سے تاکہ ان کا اعتماد بحال ہو ان کے اندر کے چھپے ٹیلنٹ کو باہر نکالیں کیا پتہ جسے آپ زبردستی ڈاکٹر بنا رہے ہو وہ اچھا شاعر یا سنگر ہو ؟؟؟ پھر بچوں سے پینل بیٹھا کر ان سے انٹرویوز لیں تاکہ انہیں عملی زندگی میں گھبراہٹ نہ ہو یہاں جو لوگ نوکری کرنے آتے ہیں انٹرویو دینے سے ان کے ماتھے پر پسینہ آیا ہوتا ہے وہ اپنی بات منوانا نہیں جانتے اپنے آپ کو سستے میں بیچ آتے ان کو لوگوں سے بھاؤ کرنا سکھائیں ان کو یہ بتائیں کے نوکری آپ کی زندگی نہیں ہے وہ آپ کی زندگی کا چھوٹا سا حصہ ہو سکتی ہے پھر ان کو یہ سکھائیں کے اگر زندگی میں کامیاب ہونا ہے تو اس کا معیار پیسہ ہرگز نہیں۔
    یہ ایسی چیزیں ہیں اگر ان پر ہمارے تعلیمی نظام میں عمل ہو جائے تو یقین کریں پاکستان بدل جائے گا میں لکھنا چاہوں تو ایسی ہزار چیزیں اور گنوا سکتا ہوں۔
    اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو : آمین

    @Nomysahir

  • ‏یکساں قومی نصاب پر اعتراضات کیوں؟         تحریر: آصف گوہر

    ‏یکساں قومی نصاب پر اعتراضات کیوں؟ تحریر: آصف گوہر

    نصاب سے مراد کسی درجہ کے لئے مختلف مضامین کا مجموعہ جو کہ طلباء کو پڑھا کر مطلوبہ نتائج حاصل کرنا
    نصاب سازی کے عمل میں ماہرین تعلیم ریاست کے وضع کردہ رہنما اصولوں کی مدد سے ایسا علمی مواد مرتب کرتے ہیں جو کہ کسی درجہ تک کی تعلیمی اور تدریسی سرگرمیوں کا تعین کرتا ہے ۔
    ملک خدا دا میں طبقاتی تقسیم کی جھلک تعلیمی اداروں میں پڑھانے جانے والے نصاب میں بھی سرایت کر چکی تھی موجود حکومت پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں یہ بات شامل تھی کہ ملک میں جاری طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کیا جائے گا اور وزیراعظم عمران نے اقتدار میں آنے سے قبل ہمیشہ ملک میں جاری مختلف طبقاتی نظاموں پر تنقید کی اور اس پر زور دیا کہ ملک میں غریب اور امیر طبقے کے بچوں کے لئے یکساں نصاب ہونا چاہیے ۔ وزارت اعظمی سنبھالنے ہی وفاقی وزارت تعلیم کو یکساں نصاب کی تیاری کی ہدایت دی۔ جس پر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بڑی محنت کے ساتھ تمام صوبائی وزراء تعلیم اور صوبائی حکومتوں کو یکساں نصاب پر قائل کیا اور ملک کے ماہرین تعلیم پرائمری سطح کے ماہر اساتذہ والدین پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ایجوکیشنل ریسرچر چائیلڈ سیکالوجسٹ
    اور ہر مضمون کےماہر افراد پر مشتمل کمیٹی نے کئ ماہ کی عرق ریزی کے بعد مجوزہ مسودات صوبائی وزراء تعلیم کی کمیٹی میں پیش کئے ۔ جس پر صوبوں نے اپنی کمیٹیوں سے سفارشات لیں ۔پنجاب میں بھی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ پنجاب کی ماہرین تعلیم کی کمیٹی بنائی جس نے ان مسودات پر نظر ثانی کی پنجاب کے پرائیویٹ سکولز انتظامیہ کو آن بورڈ لیا گیا اور بڑی طویل مشاورت اور محنت کے بعد وفاق کی تمام اکائیاں پرائمری سطح کے یکساں قومی نصاب پر متفق ہوگئیں جو کہ بہت بڑی کامیابی اور خوش آئندہ بات تھی ۔ اب جبکہ یہ یکساں قومی نصاب نئےتعلیمی سال کےلئےطلباء میں تقسیم کیا جا رہا ہے تو کچھ مخصوص نام نہاد تجزیہ کاروں نے اس پر طرح طرح کےاعتراضات شروع کر دیاان میں ایک موصوفہ کو اعتراض ہےکہ انگلش کی کتاب میں وطن پرستی کی نظم اور اسلامی تہوارعید الاضحی بارےاسباق شامل کیوں کئےگئے
    اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محترمہ نے آج سے قبل کبھی پبلک سکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کو دیکھا تک نہیں کیوں کہ جن اسباق پر اعتراض کیا گیا ہے وہ پنجاب کے سرکاری سکولوں میں ایک مدت سے پڑھائے جا رہے ہیں ۔ ایک موصوفہ کو یہ اعتراض ہے کہ واقفیت عامہ کی کتاب اردو زبان میں کیوں مرتب کی گئ ۔ کیا امریکہ برطانیہ جرمنی فرانس اور چین میں کیا کسی غیر ملکی زبان میں پرائمری تعلیم دے جاتی ہے یا اس ملک کی قومی زبان میں ؟
    اس وقت قومی یکساں نصاب پر اعتراض وطن پرستی اور اسلامی مواد پر ہے لیکن اصل تکلیف اس بات پر ہے کہ یکساں قومی نصاب کے نفاذ کے سہرا عمران خان اور تحریک انصاف کے سر کیوں باندھا جا رہا ہےاور وفاق کی تمام اکائیاں کو متفق ہورہی ہیں ۔ان قوتوں کا مقصد تو پاکستانی قوم کو تقسیم در تقسیم کرنا تھا ۔
    پاکستان کےقیام میں مذہب اسلام سب بڑا محرک ہے ۔پاکستانیوں کا قومی نظریہ اسلام کے سنہری اصولوں سے مزین ہے اور یہ کہنا بےجا نہیں ہوگا کہ پاکستان کا قومی نظریہ اصل میں اسلامی نظریہ ہی ہے ۔ اس لئے لازمی سی بات ہے کہ پاکستان میں پرھائے جانے والے نصاب میں اسلامی طرز معاشرت اکابرین کی زندگیوں پر روشنی اور اسلامی تہواروں کا ذکر خیر ہی آئے گا۔ پنجاب حکومت نے صوبہ بھر کے پبلک اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں پرائمری سطح پر میں 2 اگست سے باقاعدہ یکساں قومی نصاب کا نفاز کر دیا گیا ہے جس پر والدین اور تعلیمی ماہرین نے اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ ‎@Educarepak

  • 4 اگست بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرینس، طلباء کی امیدیں اور مطالبات : تحریر عبدالعظیم

    4 اگست بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرینس، طلباء کی امیدیں اور مطالبات : تحریر عبدالعظیم

    کورونا کے سنگین حالات کے پیش نظر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے وفاقی وزیر تعلیم کو بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرینس بلا کے تعلیمی اداروں کے بارے حتمی فیصلے کرنے کے احکامات جاری کیے۔
    ایسے میں پاکستان بھر کے نوی اور گیارویں کے بیس لاکھ سے زائد طلباء میں اُمید کی ایک کرن جاگی ہے، یقیناً یہ اجلاس طلباء پاکستان کی آخری اُمید ہے، اس سے پہلے بھی 28 جولائی کو شفقت محمود نے اپنی سربراہی میں بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرینس بلانے کا اعلان تو کیا مگر وہ اس اعلان پر پورا نہیں اُتر سکے اور کانفرینس سے پہلے لندن تشریف لے گئے یوں ایک بار پھر طلباء کو مایوس کیا گیا۔
    پاکستان بھر میں جس طرح کورونا کے حالات اب چل رہے ہیں یقیناً یہ حالات مئی 2020 سے بہت زیادہ سنگین ہیں، کورونا کی چوتھی لہر (ڈیلٹا ویرینٹ) کی سنگینی کے بارے میں عالمی ادارہ صحت (WHO) نے بہت مرتبہ خبردار کیا ہے، اس کی سنگینی کا ثبوت یہ ہے کہ نئی تحقیق کے مطابق یہ وائرس اُن لوگوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے جو ویکسین لگوا چکے ہیں اور اس وائرس میں مبتلا ایک شخص پانچ لوگوں کو شدید بیمار کر سکتا ہے۔ مئی 2020 کا حوالہ دینے کا مقصد صرف اتنا ہے جب مئی میں پاکستان میں کورونا پھیل رہا تھا تب حکومت پاکستان نے ملک بھر کے نوی سے باروی تک کے تمام تر پرچے منسوخ کیے تھے اور جو تھوڑے بہت پیپرز ہوئے تھے ملک بھر میں اُن کو بھی منسوخ تصوّر کر کے طلباء کو اگلی کلاس میں ترقی دی تھی ساتھ ہی انٹر بورڈ کمیٹی چیئرمین (IBCC) کے تیارکردہ فارمولہ کے تحت اُن تمام بچوں کے رزلٹ بنائے گئے تھے۔ یقیناً کورونا کے پیش نظر یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا جس سے بچوں کو لاحق جانی خطرات ٹل گئے، اُن کا تعلیمی سال بھی ضائع نہیں ہوا اور اُن کا رزلٹ بھی متاثر ہونے سے بچا۔ مگر اس بار حکومت کی طلباء کے ساتھ سلوک قابل افسوس اور نا قابلِ برداشت ہے وہ اس لئے کہ اس بار پورے سال میں کورونا کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو صرف تین سے چار مہینوں کے لئے کھولا گیا اور اُن مہینوں میں متبادل کلاسز کا انعقاد کیا گیا جو کہ پورے سال میں صرف پچاس سے پچپن دِن بچوں کو کلاسز میں پڑھایا گیا، جس سے بچوں کا تعلیمی سال شدید متاثر ہوا اور وہ مقررہ وقت میں اپنا کورس مکمل کرنے سے قاصر رہے اس بات کا اقرار شفقت محمود بہت بار کر چکے ہیں کہ طلباء کا یہ مطالبہ درست ہے کہ اُن کو کورس مکمل نہیں کروایا جا سکا، اس کے باوجود حکومت نے طلباء کو کیا ریلیف دیا؟ کچھ بھی نہیں، یہ سب اپنی جگہ، دوسری طرف اس وقت پورا مُلک کورونا کی لپیٹ میں ہے، سندھ میں مکمل لوک ڈاؤن اور دوسرے صوبوں میں اسمارٹ لوک ڈاؤن نافذ ہے، ہر قسم کی ممکنہ پابندیاں لگائی جا چکی ہیں ایسے میں نوی اور گیارویں کے بیس لاکھ سے زائد طلباء کو امتحان دینے پر مجبور کرنا طلباء کی جانی اور تعلیمی بربادی سے کم نہیں، وہ کیسے؟ جیسے 2 جون 2021 کو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے دو ٹوک اعلان کیا اس بار کسی بچے کو امتحان کے بغیر کوئی گریڈ نہیں دیا جائے گا، اور بیسوں مرتبہ یہ بات شفقت محمود کی طرف سے دہرائی گئی ہے بچوں کی صحت اولین ترجیح ہے، اب نوی اور گیارویں کے بچے اُن سے کسی گریڈ کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ وہ تمام بچے اس بات پر اسرار کر رہے ہیں کہ اگر حکومت ہماری صحت کو لیکے سنجیدہ ہے تو ہمیں بغیر کسی گریڈ کے اگلی کلاس میں ترقی دی جائے اور اگلی کلاس میں جب ہم امتحان دیں گے اُس کے نتائج کی بنیاد پر ہمارے اس سال کے مارکس لگائے جائیں جو کہ پچھلے سال بھی نوی اور گیارویں والوں کے ساتھ حکومت نے ایسا کیا تھا، اس سے شفقت محمود کی اس بات کی بھی تائید ہوگی کہ حکومت نے اس سال امتحان کے بغیر کسی بچے کو گریڈ نہیں دیا ساتھ ہی لاکھوں بچوں کو کورونا کے اس وبا سے کافی حد تک محفوظ کیا جا سکتا ہے، اس فیصلہ سے پاکستان بھر کے نوی اور گیارویں کے لاکھوں بچوں کا اگلا تعلیمی سال بھی وقت پر شروع ہوگا اور اگلے تعلیمی سال میں اس طرح کے نا خوشگوار واقعوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ کورونا کے بڑھتے کیسز کو مد نظر رکھتے ہوئے نوی اور گیارویں کے جو چند پیپرز ہوئے ہیں اُنکو اور جو ہو رہے ہیں اُن کو منسوخ تصوّر کرنا یقیناً ایک دانشمندانہ فیصلہ ہوگا۔ پیپرز کو مزید ملتوی کر کے طلباء کا اگلا تعلیمی سال بھی متاثر کرنا یہ کوئی موزوں فیصلہ نہیں ہوگا اور یقیناً اس سے طلباء کا بہت زیادہ نقصان ہوگا، ساتھ ہی وزراء تعلیم کو اپنے اجلاس میں دسویں اور باروی کے وہ تمام طلباء جو اس سال بغیر پڑھایئے کے امتحان دینے پر مجبور ہوئے اور اپنے امتحانات دے چکے ہیں اُن کو خصوصی رعایت دے کے طلباء کے ساتھ ہمدردی کا ثبوت دینا چاہئے، اب وہ وزراء پر منحصر ہے کہ وہ طلباء کو رعایت کس شکل میں دیتے ہیں، متاثرہ تعلیمی سال کو مدنظر رکھتے ہوئے آیا حکومت اُنکو کچھ فیصد اضافی مارکس دینے کا اعلان کرتی ہے یا پھر اس سال کسی بھی سٹوڈنٹ کو فیل نہ کرنے پر غور کرتی ہے۔ طلباء کے بہترین مفاد میں فیصلے کرنے میں نہ تو ملک و قوم کا کوئی نقصان ہے نا ہی حکومت کو کوئی حرج۔ اب دیکھنا یہ ہے چار اگست کو وزراء تعلیم کس رخ بیٹھتے ہیں، اگر قوم کے بچوں کے بہترین مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں تو ہم اس کی مکمل حمایت کریں گے اور کھل کر حکومت کو داد دیں گے، حکومت کو بھی چائیے قوم کے معماروں کے ساتھ انصاف کے تمام تر تقاضے پورے کر کے اُن کو ایک مثبت انداز میں پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے اجنڈے میں اپنے ساتھ شریک کرے بجائے اس کے کہ معصوم طلباء کے مفادات کو نظراداز کر کے اُن کو اشتعال دلائیں۔ شُکریہ
    Twitter account @Azeem_GB

  • ایک قوم، ایک نصاب تحریر : ایم ابراہیم

    ایک قوم، ایک نصاب تحریر : ایم ابراہیم

    2 اگست کو دو سے ڈھائی سال کی محنت کے بعد "سنگل نیشنل کریکولم” کا صوبہ پنجاب سے آغاز کر دیا گیا. ابتدائی طور پر یہ پہلی سے پانچویں کلاس کے لیے اور اس کا آغاز صوبہ پنجاب سے ہوا ہے بعد میں بتدریج ساری کلاسز اور اس کا دائرہ کار پورے ملک میں بڑھایا جائے گا. اس طرح صوبہ پنجاب پہلا صوبہ جس نے یکساں قومی نصاب کا اجرا کیا ہے، یقیناً وزیر تعلیم مراد راس صاحب، سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ مبارکباد کے مستحق ہیں.
    یکساں نصاب تعلیم وزیراعظم عمران خان کا ذاتی طور پر بھی ایک خواب تھا اور پاکستان تحریک انصاف کا 2018 کے الیکشن کے منشور کا پہلا ایجنڈا تھا جو اب اپنی تکمیل کو پہنچا. یکساں قومی نصاب، تعلیم کے شعبہ میں انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے. اب پورے ملک میں ایک ہی یکساں نصاب پڑھایا جائے گا اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور دینی مدارس میں بھی اسی نصاب کو پڑھایا جائے گا. اب سرکاری، پرائیویٹ اور مدارس کا فرق ختم ہو جائے گا. وزیراعظم عمران خان کی یہ ایک دیرینہ خواہش تھی کہ دینی مدارس کے طلباء بھی ڈاکٹر اور انجینئر بنیں اور باقی طلباء کی طرح عملی زندگی میں برابر کے مواقع حاصل کر سکیں جو کہ اب ممکن ہو سکے گا. پہلے سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب کو کمزور اور پرائیویٹ اداروں کے نصاب کو معیاری سمجھا جاتا تھا، اب جب سب اداروں میں ایک ہی نصاب ہو گا تو یہ فرق ختم ہو جائے گا اور یکسانیت پیدا ہو گی جو کہ بہت اچھی بات ہے.
    یکساں تعلیمی نصاب کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ایلیٹ پرائیویٹ، سرکاری اور دینی مدارس کا تصور ختم ہو اور تمام طلباء ایک ہی قسم کی تعلیم حاصل کریں تا کہ عملی زندگی میں یکساں مواقع حاصل کر سکیں. پہلے سرکاری سکولوں کے طلباء اور والدین کسی حد تک احساسِ کمتری کا بھی شکار تھے کہ پرائیویٹ سکولوں میں تو کوئی بہت ہی معیاری اور ہم سے اچھی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، اب یکساں قومی نصاب سے یہ سب باتیں دم توڑ جائیں گی اور پوری قوم میں یکسانیت کی فضا قائم ہو گی. اس نصاب سے قوم پر بھی خوشگوار اثر ہو گا. جب تمام صوبوں کے طلباء ایک ہی نصاب پڑھیں گے تو بین الصوبائی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا جو کہ قومی ترقی کے لئے انتہائی ضرورت ہے.
    یکساں قومی نصاب پاکستان میں یکساں نظام تعلیم کی طرف پہلا قدم ہے. اس سے آگے سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں تعلیمی سہولیات اور دیگر خصوصیات کی بھی یکسانیت پر توجہ دی جانے کی ضرورت ہے تا کہ تعلیمی معیار بلند ہو اور” یکساں نظام تعلیم” کا حصول ممکن ہو. یکساں سہولیات کی فراہمی اس تصور کو ختم کرے گی کہ سرکاری سکولوں میں غریب اور مڈل کلاس فیملی کے بچے بڑھتے ہیں جبکہ پرائیویٹ سکولوں میں ایلیٹ اور اَپر کلاس فیملی کے بچے پڑھتے ہیں. گو کہ سرکاری سکولوں میں پچھلے چند سالوں سے کافی بہتری آئی ہے لیکن ابھی بھی "کوالٹی ایجوکیشن” فراہم کرنے اور سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے میں کافی ضرورت ہے. کوالٹی ایجوکیشن اور معیار تعلیم کی بہتری کے لیے جہاں تعلیمی ماحول پیدا کرنے کے لیے سہولیات کی فراہمی ضروری ہے وہاں ماہر اور قابل اساتذہ کی بھی ضرورت ہے. اور یہ بات قابلِ ذکر ہے کے موجودہ صوبائی وزیر تعلیم پنجاب مراد راس صاحب اساتذہ کو صرف پڑھانے پر توجہ دینے کے قائل ہیں اور وہ اساتذہ سے پڑھانے کے علاوہ کی ذمہ داریوں کا بوجھ کم کر رہے ہیں جو کے خوش آئند بات ہے. ایسے ہی اقدامات سے ہمارے نظام تعلیم میں بہتری آ سکتی ہے.

    @ibrahimianPAK

  • ‏امتحانات ہیں اس بار پیچیدہ  تحریر:- مدثر حسین

    ‏امتحانات ہیں اس بار پیچیدہ تحریر:- مدثر حسین

    کرونا کے باعث جہاں دنیا بھر میں تمام نجی و سرکاری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، وہیں تعلیمی میدان میں بھی طلبہ کو بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے. کرونا کی صورتحال ملک کے سبھی علاقوں میں ایک جیسی نہیں ہے. گنجان آبادی والے علاقوں میں کرونا کے وار انتہائی تیز اور متاثرین کی تعداد لاکھوں میں ہے.
    2020 کے امتحانات میں میٹرک کے طلباء کو پروموٹ کیا گیا. جماعت دہم کے طلباء کو جماعت نہم میں حاصل کردہ نمبروں کی مناسبت سے نمبرز دے کر پاس کر دیا گیا جبکہ جماعت نہم کو دہم میں پروموٹ کر دیا گیا. امسال بھی شروع میں ایسی ہی پیشن گوئیاں گردش کرتی رہیں.
    حکومت پاکستان نے طلباء کی پریشانیوں کا ادراک کرتے ہوئے نصاب کو مختصر کیا، بعد ازاں مزید مختصر کیا گیا. سکول و کالج کے دوبارہ کھلنے پہ بچوں سے جو ٹیسٹ لئے گئے اس میں یہ بات سامنے آئی کہ طلباء کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے اور امتحانات کے حوالے سے خاصی پیچیدہ صورتحال نظر آ رہی ہے. اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے، وزیر تعلیم کی سربراہی میں کئی اجلاس ہوئے. جن میں ہفتے میں تین دن کلاس لگانے کے آرڈرز دئے گئے.
    کرونا کی بدلتی صورتحال کے باعث کئی دفعہ سکول و کالج بند کرنا پڑے جس سے طلباء کی کارکردگی پہ حد درجہ اثر پڑا.
    اپریل مئی میں ہونے والے اجلاسوں کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ صرف سائنسی مضامین کے امتحانات لئے جائیں گے اور ایک مضمون میں سے حاصل کردہ نمبر دوسرے مضامین کے بھی لگائے جائیں گے مثلا جماعت دہم کے طالب علم کے فزکس میں سے حاصل کردہ نمبر ہی اسکی جماعت نہم کی فزکس کے حاصل کردہ نمبرز کے برابر ہوں گے. اور اس کے ساتھ اردو یا انگلش کے بھی اتنے ہی نمبرز لگائے جائیں گے.
    اس وقت راولپنڈی بورڈ میٹرک کے امتحانات جاری ہیں، بہت سارے تعلیمی اداروں کے سربراہان (پرنسپلز) امتحانات کے نتائج کے حوالے سے کافی پریشان نظر آ رہے ہیں تاہم بعد اداروں میں طلباء کو نقل فراہم کرنے کی باتیں بھی گردش کر رہی ہیں. پرچہ شروع ہونے سے 15 منٹ قبل طلباء کو معروضی پرچہ کے جوابات بزریعہ واٹس ایپ اپلیکیشن بھیج دئیے جاتے ہیں. امتحانی مراکز کا عملہ اس عمل میں پیش پیش ہے. ظاہری طور پہ طلباء کی مدد کے لئے کی جانے والی یہ کوشش حقیقت میں ایک جرم ہے. پرچہ آؤٹ ہونے پہ گورنمنٹ کی طرف سے پرچہ کینسل بھی کیا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے طلباء کو دوبارہ امتحانات دینے پڑیں گے.

    ‎@MudassirAdlaka

  • تعلیم کی ضرورت و اہمیت  تحریر: اعجاز حسین

    تعلیم کی ضرورت و اہمیت تحریر: اعجاز حسین

    آج کے اس تیز ترین دور میں تعلیم بہت زیادہ ضرورت و اہمیت کی حامل ہے۔زمانہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
    حالانکہ آج کمپیوٹر اور ایٹمی ترقی کا دور ہے۔ساٸنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے ۔مگر سکولوں میں بنیادی عصری علوم ،ٹیکنیکل تعلیم،انجٸینٸرنگ،وکالت ،ڈاکٹری اور مختلف علوم حاصل کرنا جدید دور کا تقاضا ہے۔
    جدید علوم تو ضروری ہیں ہی ساتھ ہی دینی علوم کی تعلم بھی بہت اہمیت کی حامل ہے۔اس کیساتھ ساتھ انسان کو اخلاقی تعلیم کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔اسی تعلیم کیوجہ سے زندگی میں اللہ کی اطاعت،عبادت ،محبت،خلوص،ایثار،خدمت خلق ،وفاداری اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔اخلاقی تعلیم کیوجہ سے ہی ایک مثالی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
    تعلیم کے حصول کیلیے قابل اساتذہ کا میسرہونا لازم ہے۔جو بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد کرتے ہیں۔استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر مبّرا ہو گیا،بلکہ استاد وہ ہے جو طلبہ کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرتا ہے۔انہیں شعور اور ادراک سے مالامال کرتا ہے۔علم و آگہی نیز فکر و تدّبر پیدا کرتا ہے۔
    اگر موجودہ حالات کو دیکھا جاۓ تو شعبہ تدریس کو بھی آلودہ کر دیا گیا ہے۔
    محکمہ تعلیم،سکول انتظامیہ ،معاشرہ بھی بس چار کتابوں تک محدود ہو گیا ہے۔کل تک حصول علم کا مقصد تعمیر انسانی تھا۔آج ڈگری،نمبر اور مارک شیٹ پر ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے تعلیمی اداروں پر مفاد پرست ٹولہ قابض رہا ہے۔
    جن کے نزدیک اس عظیم شعبے کی کوٸی اہمیت نہیں رہی۔بدقسمتی اس بات کی ہے کچھ ایسے عناصر بھی تعلیم کے دشمن ہوتے ہیں جو اپنی خواہشات کی تکمیل کیلیے ہمارے تعلیمی نظام کے درمیان ایسی کشمکش کا آغاز کر رکھا ہے جسکی وجہ سے تعلیمی نظام درہم برہم ہے۔
    مگر پھر بھی جسطرح بیرونی دنیا کے لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اسی طرح مسلمان بھی جدید تعلیم سے کبھی دور نہیں رہے۔ بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں، زیادہ تر کے بانی مسلمان ہی ہیں ۔آج یورپ تک کی جامعات میں مسلمانوں کی تصنیف کردہ کتابیں نصاب میں شامل ہیں۔
    جہاں پوری دنیا کرونا کی وبا سے متاثر ہوٸی ہے وہیں تعلیمی نظام بھی بہت بری طرح متاثر ہوا ہے۔اس مشکل وقت میں حکومت ،تعلیمی اداروں اور معاشرے پر یہ ذمہ داری عاٸد ہوتی ہے کہ وہ باہمی تعاون سے تعلیمی نظام کو دوبارہ بحال کریں۔
    تعلیم ہی ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان ہوتی ہے۔
    حضرت معاذبن جبلؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا” علم سیکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کیلیے علم سیکھنا خشّیت، اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنا عبادت، اسکا پڑھنا پڑھانا تسبیح، اسکی جستجو جہاد ، ناواقف کو سکھانا صدقہ اور اسکی اہلیت رکھنے والوں کو بتانا ثواب کا ذریعہ ہے۔نیز علم تنہاٸی کا ساتھی، دین کا راہنما، خوشحالی و تنگدستی میں مددگار، دوستوں کے نزدیک وزیر، اور جنت کی راہ کا مینارِ ہدایت ہے۔
    علم ہی کے ذریعے اللہ کی اطاعت و عبادت کیجاتی ہے۔ اسکی حمدوثنا ہوتی ہے،اسی سے پرہیزگاری ہوتی ہے، اسی سے صلہ رحمی کیجاتی ہے، اسی سے حلال اور حرام میں فرق جانا جاتا ہے۔
    تعلیم ہر انسان چاہے وہ امیرہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے۔یہ انسان کا حق ہے جو کوٸی اس سے چھین نہیں سکتا۔انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہے۔غزوہ بدر کے قیدیوں کی رہاٸی کیلیے فدیہ کی رقم مقرر کی گٸی تھی ان میں سے جو نادار تھے وہ بلا معاوضہ ہی چھوڑ دٸیے گٸے۔ لیکن جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے ،انہیں حکم ہوا کہ دس ،دس بچوں کو لکھنا ،پڑھنا سکھادیں تو چھوڑ دیے جاٸیں گے۔چنانچہ سیّدنا زید بن ثابتؓ نے جو کاتب وحی تھے ۔اسی طرح لکھنا سیکھا تھا۔
    اسی بات سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تعلیم کی اہمیت کیا ہے۔اور اسکا حصول کتنا ضروری ہے۔
    تعلیم نام ہے کسی قوم کی روحانی اور تہذیبی قدروں کو نٸی نسل تک پہنچانے کا، کہ وہ انکی زندگی کا جز بن جاۓ۔ جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوۓ وہ غلام بنا لٸے گٸے یا پھر جب انہوں نے تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے۔
    قرآن مجید میں لگ بھگ پانچ سو مقامات پر حصول تعلیم کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
    ” جو شخص طلبِ علم کے راستے پر چلا،اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیا“۔
    اسوقت ہمارے مروّجہ روایتی طریقہ تدریس میں بچوں کیلیے کوٸی کشش باقی نہیں رہی۔بچے سکول، کالج اور جامعات میں جانے سے کتراتے ہیں۔لگ بھگ 70 فیصد بچے سکول جاتے ہیں۔ لیکن ان میں سے بھی کچھ فیصد بچے پراٸمری سطح کی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی سکول چھوڑ دیتے ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ روایتی طریقہ تدریس میں کوٸی تبدیلی نہیں کی گٸی اور دوسری وجہ مہنگاٸی کی شرح میں اضافہ ہے جس کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو چاٸلڈ لیبر کے طور پر کام میں مشغول کروا دیتے ہیں۔
    اس لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ بچوں کی دلچسپی کے لیے دیگر پروگراموں کو ترتیب دے کر ان میں دلچسپی کا سامان پیدا کیاجاۓ۔

    @Ra_jo5

  • 18 ماہ سے پاکستان میں پھنسے طلباء حکومتی مدد اور چین کے ویزا کے منتظر – تحریر :یاسر اقبال خان

    18 ماہ سے پاکستان میں پھنسے طلباء حکومتی مدد اور چین کے ویزا کے منتظر – تحریر :یاسر اقبال خان

    جب سے کورونا وبا آیا ہے دنیا کے ہر حصے میں موجود طلباء کی تعلیمی سرگرمیاں بہت متاثر ہوئی ہے۔ کورونا وبا کے شروع میں تو سب ممالک نے سٹوڈنٹ ویزا بند کیا تھا لیکن جب سے ویکسینیشن کا عمل شروع ہوا ہے، برطانیہ، امریکا اور دوسرے مغربی ممالک نے طلباء کیلئے ویزا پالیسی آسان کردی ہے- طلباء کو نہ صرف ویزا مل رہا بلکہ تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ بیرونی ممالک میں سیاحت سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں جتنے بھی پاکستانی زیرتعلیم طلباء تھے ان کو ویزے مل گئے ہیں وہ سب اپنے یونیورسٹیز جاچکے ہیں یا جا رہے لیکن ہزاروں کی تعداد میں چین میں زیر تعلیم طلباء آج بھی پاکستان میں پھنسے ہیں۔ جن کو 18 مہینوں سے چین کا ویزا نہیں مل رہا اور ویزا کے منتظر ہیں یہ طلباء مطالبہ کر رہے ہیں کہ مغربی ممالک کی طرح ہمیں اپنی تعلیم جاری رکھنے کیلئے چین کا ویزا جاری کیا جائے اور پاکستانی حکومت ہماری ذمہ داری لے اور چین کے ساتھ بات کرے تاکہ ہم پر کورونا وبا کی وجہ سے لگی یہ سفری پابندیاں نرم کی جائے۔

    جب دسمبر 2019 میں ووہان میں کوویڈ 19 وبائی بیماری پھیل گئی، چین میں حکام کا پہلا ردعمل شہر کو سیل کرنا تھا۔ جیسے جیسے وائرس پھیلتا گیا تو ہر طرف سفری پابندیاں لگا دی گئی تاکہ وائرس کو چین میں پھیلنے سے روکا جائے۔ چین سے غیر ملکی شہریوں میں گھر جانے والوں میں 196 ممالک کے نصف ملین سے زائد بین الاقوامی طلباء شامل تھے جن میں پاکستانی طلباء بھی کثیر تعداد میں تھے جو پاکستان آئے اور پھر پاکستان میں ہی پھنس کر رہ گئے۔ ان طلباء کا کہنا ہے کہ اب چین نے کورونا وبا پر کنٹرول حاصل کیا ہے اور چین نے تقریبا 40 فیصد سے زیادہ آبادی کی ویکسینیشن مکمل کی ہے تو مغربی ممالک کی طرح چین بھی پاکستانی طلباء کے لئے ویزا پالیسی میں نرمی کرے۔ 18 مہینے ہمارے تعلیم کے ضائع ہو چکے ہیں ہم شدید اضطرابی کیفیت کا شکار ہے۔

    چین میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء اکثر وزیراعظم عمران خان اور پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اپنے کمپین و ہیشٹیگ ‎#TakeUsBackToChina میں ٹویٹر پر اپنے ٹویٹس میں ٹیگ کرتے نظر اتے ہیں کہ ان کیلئے پاکستانی حکومت چینی حکومت سے بات کرے۔ طلباء نے اس سوشل میڈیا مہم کے ساتھ یو این، چینی پریذیڈنٹ ژی جنگ پنگ کو مدد کیلئے اور توجہ حاصل کرنے کیلئے ان کے اوپن لیٹرز بھی لکھے گئے ہیں جو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئے۔ پاکستان میں پھنسے ان طلباء میں بعض ایسے ہیں جو چین میں کورونا وبا پھوٹ پڑنے پر پاکستان آئے تھے اور بعض ایسے ہیں جن کو 2020 اور 2021 میں چین کے مختلف یونیورسٹیز میں داخلہ ملا ہے۔
    پاکستانی طلباء چین میں انڈر گریجویٹ، ماسٹر اور پی ایچ ڈی ڈگریوں میں رجسٹرڈ ہیں ان طلباء کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کو آن لائن کلاسز میں بہت سارے مسائل کا سامنا ہے، کچھ تو پسماندہ علاقوں سے ہیں جہاں انٹرنیٹ سروس ہی نہیں کہ آن لائن کلاسز لے سکے جو میڈیکل ڈاکٹری کی ڈگری پڑھ رہے ہیں آن لائن کلاسز میں ان کیلئے کلینکل کام کرنا ممکن نہیں اور ماسٹر و پی ایچ ڈی طلباء آن لائن کلاسز میں لیب کے بغیر ریسرچ نہیں کر سکتے۔ جن طلباء کو 2020 اور 2021 میں داخلے ملے ہیں ان میں سے کچھ کو تو یونیورسٹیوں نے یہ تک کہہ دیا ہے کہ اپ آن لائن کلاسز کے بجائے لمبا انتظار کرے اور جب تک سفری پابندیاں نرم نہیں ہوتے تو اس وقت تک اپ پڑھائی جاری نہیں رکھ سکتے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ کے ساتھ وزیر داخلہ شیخ رشید نے 3 جون 2021 کو ملاقات میں پاکستانی طلباء کا معاملہ اٹھایا تھا اور چینی سفیر نے یہ معاملہ جلد حل کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن اس بارے میں پاکستانی میڈیا میں زیادہ تفصیل نہیں ہے۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں ہوسٹ عدل شاہزیب نے وزیر تعلیم شفقت محمود کے ساتھ پاکستانی طلباء کا مسئلہ اٹھایا تھا جس پر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ چینی سفیر کے ساتھ پاکستانی طلباء کا مسئلہ اٹھاؤں گا اور میں سمجھتا ہوں چین میں حالات کافی اچھے ہوگئے ہیں، پاکستانی طلباء کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔

    Twitter: ‎@RealYasir__Khan

  • چائلڈ لیبر ایک لعنت:  تحریر  محمد جاوید

    چائلڈ لیبر ایک لعنت: تحریر محمد جاوید

    پاکستان میں چائلڈ لیبر ایک سنگین مسئلہ ہے خاص کر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لئے جہاں لوگوں کے حقوق کا کوئی پرسان حال نہیں تو وہاں ، بچوں کے حقوق کی تو بات ہی کوئی نہیں کرتا ۔
    یونیسیف کے مطابق پاکستان میں تقریبا 3.3 ملین بچے چائلڈ لیبر ہیں۔ یہ بچے مختلف انڈسٹریز میں کچھ ہوٹلوں اور ورکشابوں میں کام کرتے ہیں۔
    چائلڈ لیبر کے پیچھے اکثر بچوں کے گهريلویں حالات ہوتے جس کی وجہ سے مجبور ہو کر پڑھنے کی عمر میں یہ بچے محنت مشقت والا کام کرتے
    پاکستان کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں بچوں کی مزدوری کے استعمال کی سب سے اہم وجہ غربت ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر خاندان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اسے والدین کا اپنے بچوں کو کام پر بھیجنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا ہے تاکہ وہ خاندانی آمدنی میں اضافہ کرسکیں۔ روز بروز بڑھتی مہنگائی معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔
    مہنگائی کے بڑھنے کی وجہ سے پاکستان کے غریب خاندانوں کا اپنا پیٹ پالنا ہی مشکل ہو جاتا اوراسکی وجہ سے چايلڈ لیبر میں اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ معصوم بچے اس کم عمری میں اپنے خاندان کا پیٹ پلنے میں اپنی زندگی اور مستقبل داؤ پہ لگا دیتے ہیں۔
    پاکستان میں نظام تعلیم کا فقدان ہے جس کی وجہ سے بچے تعلیم حاصل کرنا اور اسکول جانے کے بجائے ملازمت پر چلے جاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی کمی ، سہولیات کا فقدان اور والدین کے اندر شعور نہ ہونے سے وہ اپنے بچوں کو اسکول بیجنے کے بجائے فیکٹریوں میں ملازمت کے لئے بھیجنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
    پاکستان میں اسکولوں سے باہر بچوں کی بہت بڑی تعداد ہے جن کی زیادہ تر عمر یں 5-16 سال کی ہے۔ ان بڑی تعداد میں بچوں کا اسکول میں نہیں ہونا ایک بہت بڑا المیہ ہے پاليسی سازوں کو اس بارے میں سوچنا چائے تاکہ ان معصوم بچوں کا مستقبل محفوظ کیا جاسکے۔
    اکثر کام کرتے ہوۓ بچوں کو جسمانی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے یہ بچے ہمیشہ کے لئے معذور بن جاتے ہیں
    چائلڈ لیبر کے نتائج در حقیقت بہت پرشان کن ہیں اس کی وجہ سے اکثر ان کی دماغی استحصال ہو جاتی ہے اور کند ذہن بن جاتے ہیں۔ کیونکہ ان بچوں کو خوشگوار بچپن نہیں ملتا جس کی وجہ سے سیکھنے کھلینے اور مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے سے محروم ہو جاتے اور ان شخصیت پہ برا اثر پڑتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ چائلڈ لیبر تیار کرنے اور بچوں پر برے اثرات پیدا کرنے میں منفی کردار ادا کرتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ ان چائلڈ لیبر کو مناسب اجرت نہیں دیتا اور وہ پیسے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دوسرے جرایم میں ملوث پاے جاتے جیسے کہ چوری کرنے اور چھیننے کی کوشش کرتے ہیں۔
    حکومت کو چائلڈ لیبر کے سماجی مسئلے پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسا کوئی مخصوص ادرہ بنائے جو صرف اور صرف بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کریں۔
    چائلڈ لیبر سے بچنے کے لیے قانون سازی کیا جاے ۔ کچھ ترقی یافتہ ممالک نے اپنے ملک کی کامیابی کے لیے اپنے اثاثوں کو بچانے اور اچھی طرح ترقی کرنے کے لیے چائلڈ لیبر پر پابندی عائد کی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان بھی بہت جلد ان میں سے ایک ہوگا اور یہ اقدامات اٹھا لے گا۔
    حکومت کو چائے کہ چائلڈ لیبر پہ پابندی لگایا جائے اس سلسلے میں قانون سازی کیا جائے تکہ ان معصوم جانوں کے مستقبل کو محفوظ کیا جاسکے۔

    @I_MJawed

  • تعلیم کی کمی، غربت ایک وجہ  تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    تعلیم کی کمی، غربت ایک وجہ تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ایک درخت کی طرح ، غربت کی بھی بہت سی جڑیں ہیں۔ لیکن عالمی غربت کی بہت سی وجوہات میں سے ایک عنصر کھڑا ہے” تعلیم”

    تعلیم کا شعبہ کسی بھی ملک کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے مگر بدقسمتی سے ، پاکستان میں تعلیم کے شعبے کی حالت بہت خستہ ہے۔غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں میں بھی اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیج سکتے جس کے باعث ان کے بچوں کو بھی غربت میں زندگی گزارنی پڑتی ہے

    ہمارے ملک میں معیاری تعلیم کی کمی 21 ویں صدی کے چیلنجوں سے نمٹنے سے قاصر ہے غربت کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کے لئے معیاری تعلیم کے متحمل نہیں ہیں۔. اس کے علاوہ ، حکومت کی غفلت صورتحال کو مزید مایوس کررہی ہے۔

    اگرچہ تعلیم کے فروغ کے لئے مختلف حکومتوں کے مختلف اقدامات اٹھائے گئے ہیں ، لیکن خواندگی کی شرح دہائی کے دوران 56٪ پر ہے۔. کم سرمایہ کاری کی وجہ سے ، سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات جیسے ناقص کلاس رومز ، پانی اور صفائی ستھرائی کی سہولیات ، بجلی کی کمی ہے۔

    نجی شعبہ اس سلسلے میں قابل ستائش کام کر رہا ہے۔. لیکن اس شعبے کا مقصد کمانے والی رقم ، تعلیم ناقص کی رسائ سے بالاتر ہے۔ پاکستان میں یونیسکو کے ذریعہ دی جانے والی بنیادی تکمیل کی شرح خواتین میں 33.8٪ اور مردوں میں 47٪ ہے ، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کے 6 ویں سب سے بڑے ملک میں لوگ بنیادی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں

    حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ اگر ہم غربت کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں تو غریب لوگوں کو پڑھنے کی سہولتيں دیں انہیں تعیلم دلاٶں کیونکہ تعلیم کو اکثر ایک عظیم مساوات کے طور پر جانا جاتا ہے اس سے ملازمتوں ، وسائل اور مہارتوں کا دروازہ کھل سکتا ہے جس کی وجہ سے ایک کنبہ کو نہ صرف زندہ رہنے کی ضرورت ہے بلکہ ترقی کی منازل طے کرنا ہے۔

    ‎@JahantabSiddiqi