Baaghi TV

Category: تعلیم

  • استاد ہمیشہ استاد ہی رہتا ہے تحریر صابر حسین

    استاد ہمیشہ استاد ہی رہتا ہے تحریر صابر حسین


    آج کل کے شاگرد اساتذہ کی خدمات کو سراہتے ہی نہیں بلکہ استاد کی ہمیشہ تذلیل کرتے ہیں ایسے بہت سے واقعات ہماری آنکھوں کے سامنے گزرے ہیں جہاں شاگرد اساتذہ کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں
    استاد روحانی ماں باپ کا درجہ رکھتا ہے جہاں ماں باپ بچے کی تربیت کرتے ہیں وہی استاد اسے تعلیم سے آراستہ کرکے ایک مضبوط انسان بتاتا ہے استاد ہمیشہ استاد ہی ہوتا ہے چاہے وہ زندگی کے کسی شعبے سے منسلک ہو آج ہم آپ کو ایک ایسے ہی استاد کا واقع بتاتے ہیں جس نے ایک شاگرد کو ہنر سکھایا اور وہی شاگرد استاد کے مقابلے میں ہو گیا
    ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﺸﺘﯽ ﻟﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﻓﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺳﺎﭨﮫ ﺩﺍﺅ ﭘﯿﭻ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﺅ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺸﺘﯽ ﻟﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺍﻧﺴﭩﮫ ﺩﺍﺅ ﺳﮑﮭﺎ ﺩیئے ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﺅ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﺎ ﯾﻌﻨﯽ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﻧﮧ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ۔

    ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﻣﯿﮟ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﮩﺮﺕ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﻠﮏ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺃﺕ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮯ ﺯﻋﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦِ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻓﻮﻗﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺰﺭﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﮐﮯ ﺣﻖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﮯ، ﻭﺭﻧﮧ ﻣَﯿﮟ ﻗﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻓﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦِ ﻭﻗﺖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﮑﺒﺮ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﻣﯿﮟ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔

    ﻣﻘﺮﺭﮦ ﺩﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺩَﻧﮕﻞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﺎﮨﺎﻧﮧ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﺎﺕ ﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ، ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﻋُﮩﺪﮮ ﺩﺍﺭ، ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﻓﺴﺮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮏ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺴﺖ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺩَﻧﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﮐﮭﺎﮌ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺍُﺳﺘﺎﺩ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﻗﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﺎ ﮨﻢ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﺱ ﺁﺧﺮﯼ ﺩﺍﺅ ﮐﺎ ﺗﻮﮌ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻭﮨﯽ ﺩﺍﺅ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﭘﭩﺦ ﺩﯾﺎ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﻭﺍﮦ ﻭﺍﮦ ﮐﺎ ﺷﻮﺭ ﻣﭻ ﮔﯿﺎ، ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﮑﺒﺮ ﺧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﻣِﻞ ﮔﯿﺎ

    ﺍﺱ ﺣﮑﺎﯾﺖ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﻭ ﻧﺼﯿﺤﺘﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﯿﮟ
    ﭘﮩﻠﯽ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺩﻭﻟﺖ، ﺷﮩﺮﺕ، ﻋﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻡ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻋﺎﺟﺰﯼ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﻭﻗﺘﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺩﮦ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﭘﺮ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮑﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺁ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻧﺎﺭﺍﺿﮕﯽ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ بنتا ﮨﮯ۔ ﺍﺱ لئے ﺍﺱ ﺗﮑﺒﺮ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ۔
    ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﺘﻨﺎ ﺑﮭﯽﺑﮍﮪ ﺟﺎﺋﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺩﻋﻮٰﯼ ﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﮮ ہرگز نہ کرے نہیں ﺗﻮ ﻭﮦ ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍﺩﺏ ﮐﮩﻼﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺷُﻌﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻣُﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﻧﮧ ﮐﮧ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ
    کچھ دن قبل ہمارے علاقے کے نامور پہلوان کلیم اللہ بچار جو ملکی و غیر ملکی کشتیوں میں اپنا مقام رکھتے تھے جنہوں بڑے بڑے نامور پہلوانوں کو دھول چٹا دی بجلی کا کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گئے کلیم اللہ بچار ضلع مظفرگڑھ کے نامور پہلوان تھے حکومت کی سرپرستی نا ہونے کی وجہ سے سوائے کرکٹ کے باقی کوئی کھیل نہیں بچا !
    کلیم اللہ بچار خوش مزاج ، ماں باپ اور اساتذہ کی عزت کرنے والے انسان تھے میری دعا ہے کہ :
    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اساتذہ کی عزت و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    ‎@SabirHussain43

  • عالمی تعلیم کی اہمیت:عاقب علی

    عالمی تعلیم کی اہمیت:عاقب علی

    عالمی تعلیم تعلیمی تجربات کی سہولت فراہم کرنے کے بارے میں ہے جو طلباء کو متنوع نقطہ نظر کی تعریف کرنے ، بالترتیب وسیع دنیا سے ان کے رابطوں کو سمجھنے اور مؤثر طریقے سے بات چیت کرنے اور ثقافتوں اور ممالک میں تعاون کرنے کی اجازت دیتا ہے ، اور انضباطی اور بین الضابطہ علم کا استعمال کرتے ہیں تاکہ ان مسائل کی تحقیقات اور کارروائی کی جاسکے۔ ان کے لیے اور وسیع دنیا کے لیے۔ عالمی تعلیم ایک "اضافی” یا "اچھا ہونا” کورس نہیں ہونا چاہیے جسے صرف مٹھی بھر طلباء ہی لے سکتے ہیں ، اور نہ ہی اسے اسکول کے آخری چند ہفتوں میں کسی تفریحی منصوبے سے منسلک کیا جانا چاہیے۔ کیوں؟ عالمی مسائل اور نقطہ نظر کو کسی بھی اور تمام مواد کے شعبوں کو سکھانے کے لیے بطور لینس آسانی سے مربوط کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں ، عالمی تعلیم مندرجہ ذیل جامع طالب علموں کے نتائج کا باعث بن سکتی ہے جو تعلیمی کامیابی اور مجموعی طور پر فلاح کا باعث بنتے ہیں۔
    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جب طلبہ مستند کاموں اور حقیقی دنیا کے تجربات کے ذریعے مواد سیکھتے ہیں تو ان کے مشغول ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے ، جس کے نتیجے میں زیادہ حاضری اور کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ عالمی تعلیم طلباء کو حقیقی دنیا کے مسائل اور سرگرمیوں سے براہ راست مشغول کرتی ہے۔ طالب علموں کو میکسیکو میں ساتھیوں کے ساتھ اسکائپ کرنے کے مقابلے میں ہسپانوی زبان پر آمادہ کرنے کا کیا بہتر طریقہ ہے ، یا انہیں عالمی موجودہ واقعات پر براہ راست سرخیوں سے کھینچ کر مباحثہ پر مبنی مضمون لکھنے کی مہارت سکھائیں۔
    ایک رپورٹ کے مطابق ، 40 ملین سے زیادہ امریکی ملازمتیں بین الاقوامی تجارت سے منسلک ہیں۔ آج کل آجر اعلی ثقافتی مہارتوں کے حامل اعلی گریجویٹس کے لیے بے چین ہیں جو انہیں متنوع ٹیموں اور پوری دنیا کے گاہکوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ طلباء کو وسیع دنیا اور اس میں لوگوں ، ثقافتوں اور نقطہء نظر کے تنوع کو سمجھنے کے مواقع فراہم کرتے ہوئے ، اسکول طلباء کو بازار میں مسابقتیہ برتری بھی دے رہے ہیں۔
    دنیا سے اور اس کے ساتھ سیکھنا نہ صرف طلباء کی تعلیمی ترقی کو فائدہ پہنچاتا ہے بلکہ ان کی سماجی جذباتی نشوونما میں بھی معاون ہوتا ہے۔ عالمی تعلیم کسی کی اپنی شناخت ، ثقافت ، عقائد اور وسیع تر دنیا کے ساتھ کس طرح جڑتی ہے ، سماجی ہمدردی بشمول ہمدردی ، نقطہ نظر لینے ، تنوع کی تعریف کرنے ، اور دوسروں کا احترام کرنے ، اور مختلف افراد اور گروہوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی مہارت کے بارے میں خود آگاہی پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مؤثر مواصلات اور تعاون کے ذریعے
    گلوبل لرننگ طلباء کو قابل بناتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے اور اپنے ارد گرد کی دنیا کو مثبت طور پر متاثر کرنے کے لیے بامقصد کارروائی کریں۔ جب طلبہ کو ان مسائل کی چھان بین کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں جنہیں وہ اہم سمجھتے ہیں (چاہے وہ بندوق کا تشدد ہو ، صاف پانی تک رسائی ہو ، یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو) ، ان مسائل کو کیوں کھولیں ، اور ان کو بہتر بنانے کے لیے حل نکالیں ، وہ بااختیار بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ متعدد اساتذہ اور اسکول کے منتظمین عالمی تعلیمی اقدامات کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں ، میں نے تصدیق کے ساتھ کام کیا ہے ، ایک بار جب آپ طلباء کے لیے ایکشن لینے کے دروازے کھولیں گے تو آپ فنڈ ریزرز ، مہمات ، پراجیکٹس ، پروگراموں اور احتجاج پر حیران رہ جائیں گے۔ دنیا کو ایک بہتر جگہ بنائیں۔
    @aliaqib7301

  • سوشل میڈیا،محبت اور پڑھائ  تحریر:خدیجہ نقوی

    سوشل میڈیا،محبت اور پڑھائ تحریر:خدیجہ نقوی

    چند دنوں پہلے کی بات ہے سوشل میڈیا کی زینت بنی ایک ویڈیو ہر عام و خاص کی زباں پہ محو گفتگو تھی۔ جی ہاں میں لاھور میں ایک نجی یونیورسٹی میں پرپوزل کی وائرل ویڈیو کی ہی بات کر رہی ہوں۔
    اس ویڈیو نے اپنے ہر طبقہ فکر کو اپنے اندر سمو لیا تھا کچھ لوگ لڑکی لڑکے کہ محبت کو رشک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے تو وہیں ایک طبقہ ایسا تو جو اسلامی نقطئہ نظر سے تنقید کا نشانہ بنا رہا تھا۔۔۔۔ جب بات عورت کی آۓ اور اس طرح آۓ تو میرا جسم میری مرضی والی سوچ سے ہم آہنگی رکھنے والے کیسے پیچھے رہ سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اسلام میں سے صرف اپنے مطلب کو justify کرتا حصہ اٹھایا اور اس عمل کی حمایت میں اس جواز کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوۓ کہ اسلام میں لڑکی کو اسکی مرضی کا پورا اختیار دیا ھے۔
    بات رسد و طلب کے خط کی طرح اپنی اونچائی کو چھو کہ آہستہ آہستہ گرنے لگی اور لوگ اس واقعے کو بھولنے لگے۔اس کے کچھ عرصے بعد سننے میں آیا کہ دونوں کی شادی ہو گئ ھے۔اور چ
    پھر یہ خبر آئ کہ شادی نہیں ہوئ بات پکی ہو گئ ھے تعلیم مکمل ہونے کے بعد شادی ہو جاۓ گی جس سے ایک تسلی ہوئ کہ چلو آخر کو جو ہوا س ہوا مگر یہ ایک اچھا انجام ہو گا۔ایک دن ہونہی فیس بک سکرولنگ کے دوران ایک ویب چینل پہ لاہور یونیورسٹی کی طالبہ کا انٹرویو نظروں سے گزرا کہ جسے دیکھ کہ میں سر پکڑ کہ رہ گئ کہ ایک لڑکی جو اپنی اپنے ماں باپ کی عزت کو پس پشت رکھ کہ سرعام شہریار کو پرپوز کرتی ھے اور وہ اس لئے کہ لوگوں کو پتہ چل جاۓ کہ یہ دونوں جلد شادی کرنے والے ہیں اور جس کا جواب شہریار بھی مثبت انداز میں دیتا دیکھائی دیتا ہے لیکن کچھ عرصے میں وہ لڑکا اپنے وعدوں کو وفا نہ کرتے ہوۓ فیملی پریشر میں رشتہ ختم کئے اگلی زندگی کی جانب رواں دواں ہوتا ھے۔
    یہاں سوال میرا ان لنڈے کے لبرلز سے ھے کہ کل تک جو محبت کے قصیدے پڑھتے تھکتے ہیں اب اس بے وفائی پہ کچھ تو شرم کر لیں۔
    سوشل میڈیا کی آزادی ڈراموں اور فلموں میں کالج یونیورسٹی کی عشق محبت کی لازوال داستانیں آپ کے بچوں کو یونیورسٹی میں آئنسٹائن یا نیوٹن نہیں بلکہ ہیر رانجھا۔۔۔ لیلیٰ مجنوں کا پیروکار بنا رہی ھے۔
    حد تو اس وقت ہوتی ھے جب یونیورسٹی کے انتظامیہ اس پہ کوئ سخت ایکشن نہیں لیتی جب تک ان پہ معاشرتی دباؤ نہ آۓ۔۔۔ شہریار اور حدیقہ کے کیس میں بھی یہی ہوا ان سے پہلے اس یونیورسٹی میں دو طلبہ کہ طرف سے دو بار یہ ڈرامہ ہو چکا ھے مگر وہ ایکسپیل ہونے سے بس اس لے بچے کہ انکی ویڈیوز وائرل نہیں ہوئ۔ اور یونیورسٹی پہ کوئی معاشرتی اور اخلاقی دباؤ نہ تھا۔
    یہاں ایک سوال ان تعلیمی اداروں سے بھی ھے کہ مدرسے تو صرف درس و تدریس کا مسکن تھے تو کیوں آج انڈین گانوں پہ کالج یونیورسٹی کی فنکشنوں میں نوجوان اساتذہ کے سامنے تھرکتے پھرتے ہیں۔
    کیوں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تعلیمی ادراے مغربی ثکافت کی پرچھائ بن گۓ ہیں۔۔۔
    یہاں سوال اس باپ سے ھے کہ جس نے اچھا کمانے کے لیے دن رات ایک کردیا اولاد کو خود سے دور اور زندگی کے نازک ترین دور میں اکیلا چھوڑ دیا کہ جہاں باپ کی نظر میں یہ تک نہ آیا کہ میرا بیٹا یا بیٹی کس سے بات کرتا ھے کس طرح کی بات کرتا ھے۔
    یہاں سوال ھے ایک ماں سے آج کی۔ماں جس کی زندگی میں گھر کے کام اور سوشل میڈیا رچ بس گیا ھے اپنا فارغ وقت اپنے پہ لگانے کی غرض سے یو ٹیوب فیس بک پہ وقت گزارنے والی خواتین اپنی بچیوں کی پرسنل زندگی میں اب کیوں دخل اندازی نہیں کرتی۔ بچوں کی آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں انکے حال پہ چھوڑ دیا جاۓ بلکہ آزادی تو یہ ھے کہ لڑکیاں جب کیپٹن مریم بن کے شہید ہوتی ھیں بے نظیر بن کے سیاست میں قدم رکھتی ہیں تو والدین کے ساتھ قوموں کا فخر بن جاتی ھیں۔

    Twitter ID ‎@KhadijaNaqvi01

  • بلوچستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں کو تحفظ فراہم کیجائے۔ تحریر: حمیداللہ شاہین

    بلوچستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں کو تحفظ فراہم کیجائے۔ تحریر: حمیداللہ شاہین

    کسی بھی قوم کی ترقی میں خواتین اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قومیں جنہوں نے خواتین کو علم کی روشنی سے محروم کیا وہ قومیں آباد نہیں ہوتیں، خواتین کو انکی بنیادی تعلیم حاصل کرنے کا پورا حق ہے،اور یہی خواتین تعلیم حاصل کر کے ملک و قوم کانام مختلف ڈیپارٹمنٹس میں روشن کرتے ہیں۔
    بلوچستان میں بھی اب خواتین کی بڑی تعداد مختلف شہروں اور قصبوں سے کوئٹہ میں اپنے خاندانوں سمیت صرف اس لئے مقیم ہیں کہ انہیں بنیادی تعلم حاصل کرنے میں رکاوٹ نہ ہوں، لڑکیاں مختلف سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں میں داخلہ لیتی ہیں اور جبکہ بڑی تعداد میں لڑکیاں صوبہ کے مستند ادارے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں اپنی تعلیم مکمل کرتی ہیں۔
    بلوچستان میں رہنا جہاں یونیورسٹیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے آسان اور پرامن نہیں۔
    سردار بہادر خان یونیورسٹی کی طالبہ نبیلا کے مطابق مجھے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی (ایس بی کے ڈبلیو یو) میں داخلہ ملا جہاں 15 جون 2013 کو ایک دھماکہ ہوا ، جس نے یونیورسٹی بس کو نشانہ بنایا۔ لڑکیاں گھر جانے کا انتظار کر رہی ہیں۔ اس خوفناک واقعے نے یونیورسٹی کے 15 طالبات کو ہلاک کر دیا۔ میں نے اس کا انتخاب کیا کیونکہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا ، کیونکہ ایس بی کے ڈبلیو یو صوبے کی واحد خواتین کی یونیورسٹی تھی اور لڑکیاں دور دراز علاقوں سے اپنی ڈگریاں مکمل کرنے آتی ہیں۔ اگرچہ مجھے 2015 میں داخلہ ملا، اس سفاکانہ واقعے کے دو سال بعد بھی میں کیمپس میں خوف محسوس کرتی تھی۔ یہ پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ تھا اور داخلہ لینے والے طلباء کی تعداد میں اضافہ ہوا تھا۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ ہم سیکھنے کے لیے اس یونیورسٹی میں ہونے سے نہیں ڈرتے تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچھا وقت گزارا اور اندر کا ماحول محفوظ محسوس کیا۔ لیکن کوئی اچانک یا بلند آواز ہمیں خوفزدہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ 2017 میں جب یونیورسٹی کی بسوں کو دوبارہ دھمکی دی گئی تو یونیورسٹی ایک ہفتے کے لیے بند تھی اور سکیورٹی مسائل کی وجہ سے بسیں ایک مہینے تک نہیں چل سکیں۔ کسی نے صوبے میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں بات نہیں کی۔ مرکزی دھارے میں شامل میڈیا کے پاس بلوچستان سے خبریں بلیک آؤٹ کرنے کی تاریخ تھی اس نے صوبے کے مسائل کو دبانے کے لیے کبھی ذمہ داری محسوس نہیں کی جیسے کہ یونیورسٹی کے طلباء خوف میں زندگی گزار رہے ہیں اور کیونکہ اس رویے کی وجہ سے اس نے صوبائی اور وفاقی حکومت کی توجہ کبھی نہیں لی۔ اور اب ہر والدین خوفزدہ اور صدمے کا شکار تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میری والدہ دوپہر میں کبھی نہیں سوئیں جب تک کہ وہ مجھے یونیورسٹی سے واپسی پر نہ دیکھیں۔ اس نے مجھے کبھی نہیں بتایا کہ وہ خوفزدہ ہے۔ وہ چاہتی تھی کہ میں اپنی گریجویشن مکمل کروں۔ یہ میرے ہر کلاس فیلو کی کہانی تھی۔ ہمارے خاندان چاہتے تھے کہ ہم فارغ التحصیل ہوں ، ماضی کو بھول جائیں اور بہتر مستقبل کی امیدیں رکھیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی نے ہم سے بہت سی جانیں لی ہیں۔ ان کے خاندانوں کی خوشیاں ختم ہو گئی ہیں۔ باشندے خوف سے زندگی گزار رہے ہیں یقین نہیں ہے کہ محفوظ اور محفوظ مستقبل ممکن ہے۔ آئی ٹی یونیورسٹی کو نشانہ بنانے والے بم دھماکے میں طالب علم مارے گئے، ہزارہ کوئلہ نکالنے والے مچھ میں ٹارگٹڈ حملے میں مارے گئے، اور سرینا ہوٹل کے احاطے میں حالیہ دھماکہ تمام مہلک واقعات ہیں جو سیکیورٹی کی نازک صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کیونکہ والدین یونیورسٹی میں داخل اس لئے کرتے ہیں کہ انہیں تعلیم حاصل کرنے اور تعلیم کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی لانے میں مددگار ثابت ہوں۔ والدین اب بھی جواب تلاش کر رہے ہیں کہ ان کی بیٹیوں کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔ وہ اس کے لیے ہر ایک کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ سیاستدان ، ریاست اور میڈیا جو اس مسئلے پر خاموش ہے۔ ہم اب بھی خوف میں رہتے ہیں یقین نہیں ہے کہ ہماری مستقبل کیا ہے۔ کیونکہ سیکورٹی کی صورتحال اب بھی نازک ہے۔ ہمیں اب بھی امید ہے کہ اقتدار میں رہنے والے ان لوگوں کی حالت زار پر توجہ دیں گے جو مسلسل خوف میں رہتے ہیں کہ ان بچوں کے ساتھ کچھ خطرناک ہو سکتا ہے جنہیں ہر روز تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حالات میں بہتری آئے لیکن یہ تب تک نہیں ہوگا جب تک اقتدار میں رہنے والے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں۔ اور اس مرحلے میں ہم صرف چیزوں کو بہتر بنانے کے لیے ادائیگی کر سکتے ہیں۔
    حکومت پاکستان اور سکیورٹی اداروں کو چاہئے کہ بلوچستان میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو تحفظ فراہم کی جائے تاکہ ہماری خواتین اپنی تعلیم مکمل کرکے مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ اور کل کو اگر کسی بھی جگہ انہیں مشکل وقت پیش آئے تو وہ تعلیم کی شعور رکھنے کی وجہ سے اس مشکل کا حل نکال سکے۔
    @iHUSB

  • غریب پرائیوٹ سکول اساتذہ اور امیر مالکان تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    غریب پرائیوٹ سکول اساتذہ اور امیر مالکان تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم آج میرا موضوع بہت سے دلخراش حقائق پہ مبنی ہے.
    معزز معاشروں میں استاد معمار قوم کہلاتا ہے.اس نسبت سے استاد کو وہ ادب اور وہ احترام میسر آتا ہے جو دیگر پروفیشنلز کو نہیں آتا.
    کہتے ہیں کہ ایک استاد ایک قوم بناتا ہے یہ وطن عزیز میں کہا تو جاتا ہے مگر مانا نہیں جاتا.
    پاکستان میں پرائیوٹ سکولز کی بھرمار ہے .اس کے دو اہم محرکات ہیں.پہلا یہ کہ گورنمنٹ سکولوں کا معیار تعلیم تا حال اس سطح تک نہیں پہنچ سکا جس تک سرمایہ دار اپنے بچوں کو دیکھنا چاہتے ہیں.دوسرا یہ کہ پرائیوٹ سکول میں امیر اور متوسط طبقے کے بچے زیر تعلیم ہوتے ہیں مگر اکثر اساتذہ تنگدستی کے باعث نوکری کے لیے مجبور ہو کر ان اداروں کا رخ کرتے ہیں.
    انکی اجرت ان کی تعلیم اور ان کی محنت کے مقابل ہر چند قلیل ہوتی ہے.
    کچھ پرائیوٹ سکولز برانڈ بن چکے ہیں.وہاں امکان کا کہ اساتذہ کو بہتر سہولیات میسر ہوں.
    مگر بہت سے سکولز مافیاز سے بد تر ہیں.اساتذہ کی محنت اور انکے بل پہ کروڑوں کماتے ہیں اور ان ہی اساتذہ کا استحصال کرتے ہیں.
    میں بات کر رہی ہوں ایسے پرائیوٹ سکولز کی جو اساتذہ کو چند ہزار تنخواہ دیتے ہیں.
    اس جدید مہنگے اور پر آشوب دور میں جہاں
    مزدور کی تنخواہ 900 فی یوم ہے اور مضحکہ خیزی دیکھیے معمار قوم کی یومیہ اجرت 350 روپے بنتی ہے
    اور گھی کی قیمت 350 فی کلو ہے..
    استاد کی 8 گھنٹے کام کی اجرت اور 350 روپے یومیہ؟
    اور ان کی محنت کا ثبوت ان پرائیوٹ سکولز کا معیار تعلیم اور بورڈ کلاسز کا رزلٹ ہے.
    پرائیوٹ سکول مالکان کے بڑھتے اثاثے اور اساتذہ کی بڑھتی مشکلات اس سسٹم کی ناانصافی کی داستان ہے.
    ان سکولوں میں مجبوراً اپنی معاشی ضروریات کے لیے پڑھانے والے اساتذہ کو حکومت کی جانب سے سکیورٹی کی ضرورت ہے حکومت ان مافیاز کو دائرے میں لائے اور اساتذہ کی تنخواہیں ان کی بنیادی ضروریات زندگی تو پوری کرنے کا لائق ہوں.
    رہی بات حکومت کی رٹ کی تو جب حکومت پرائیوٹ سکولز کو تعطیلات کے لیے مجبور کر سکتی ہے .نصاب کے لیے امتحانات کے لیے مجبور کر سکتی ہے ..کرونا ویکسین کے لیے مجبور کر سکتی ہے تو حکومت پرائیویٹ سکول ٹیچرز کے حق کے لیے بھی مجبور کر سکتی ہے.

    ابھی حال ہی میں کرونا وباء کے دوران اساتذہ کی تنخواہوں میں 50 فیصد کٹوتی کی گئی جبکہ طلباء کو محض پہلے دو مہینے 20 فی صد ریلیف دیا گیا باقی پوری فیس وصول کی گئی.
    دو سال ہو گئے کسی طرح کا کوئی انکریمنٹ نہیں دیا گیا جبکہ فیسوں میں سالانہ اضافہ کیا گیا.
    اس طریقۂ واردات کے بعد ان کے خلاف ایکشن نہ لیا گیا ان پئ چیک اینڈ بیلنس نہ رکھا گیا تو پرائیویٹ سکول اساتذہ کے مجرم ارباب اختیار ہوں گے.
    کیونکہ بطور شہری اساتذہ کی دادرسی حکومت کا فریضہ ہے.

    مالکان کے ہاتھ لمبے ہیں ایسوسیشنز کے نام پہ مافیاز ہیں.اساتذہ کے لیے ایسے فورمز اس لیے بھی کارگر نہیں کہ وہ گھروں سے بمشکل سکولوں تک پہنچ پاتے ہیں کورٹ کچہری نہیں کر سکتے.
    کیونکہ اس کے لیے ایک اور مافیا کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے گا.جس کے متحمل نہیں ہو سکتے.
    وزراء تعلیم کو ان کے ان فرائض سے آگہی کے لیے حکومتی دباؤ لازم ہے.
    یاد رکھئے معماران قوم کی قدر کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں.
    معماران قوم کا استحصال قوم پہ وبال ہے.

    @hsbuddy18

  • اساتذہ کے تجربے اور تعلیم کا معیار ۔  تحریر : مقبول حسین بھٹی

    اساتذہ کے تجربے اور تعلیم کا معیار ۔ تحریر : مقبول حسین بھٹی

    گزشتہ دو دہائیوں کے دوران معیاری تشخیص اور بعد میں شریک ممالک کی درجہ بندی میں طالب علموں کی کارکردگی کا بین الاقوامی موازنہ نے عوامی اور سیاسی اضطراب کو جنم دیا ہے ، جس کی وجہ سے اسکول کے طلباء کی تعلیمی کامیابی پر اثر انداز ہونے والے عوامل پر شدید توجہ دی گئی ہے ۔ 20 سالوں میں جب سے او ای سی ڈی کا پروگرام برائے بین الاقوامی طلباء کی تشخیص (PISA) شروع ہوئی ہے ، توجہ طلبہ کے حصول میں ایکوئٹی سے بدل کر رشتہ دار اور مطلق کارکردگی دونوں میں کمی کی طرف گئی ہے ، جس کی وجہ سے تدریس اور "اساتذہ کے معیار” کی جانچ پڑتال میں اضافہ ہوا ہے . توجہ میں یہ تبدیلی دعووں کے ذریعے آگے بڑھائی گئی ہے کہ "طلباء کی کارکردگی کے پیمانوں میں 40 فیصد سے زیادہ بقایا تغیرات (طلباء کے پس منظر اور انٹیک کی خصوصیات کے مطابق) کلاس/اساتذہ کی سطح پر ہے” ۔ قومی معیاری تشخیص کے نظام میں طالب علم کی کامیابی کی بنیاد پر اساتذہ کی تاثیر کے ویلیو ایڈڈ ماڈلز کی ترقی کے ذریعے اساتذہ کی جانچ میں اضافہ ، اساتذہ کے پیشہ ورانہ معیارات اور سرٹیفیکیشن کی ترقی اور نگرانی کے لیے قانونی اتھارٹیز کا قیام ، اور باضابطہ معائنوں کی بحالی ہوی۔ 2009 کے بعد سے ، ایجو ٹورزم-جہاں سیاستدانوں ، پرنسپلوں اور اساتذہ کے وفود اپنی کامیابی سے سیکھنے کی امید پر بین الاقوامی لیگ ٹیبل کے اوپری حصے میں تعلیمی نظام کا دورہ کرتے ہیں-"فن لینڈ کے معجزے” سے "ایشین ٹائیگرز” کی طرف بڑھ گئے ہیں۔ سنگاپور ، ہانگ کانگ ، جنوبی کوریا اور شنگھائی، دلچسپی ریاضی کی تدریس کے لیے "ریاضی کی مہارت” رہی ہے ، جسے انگلینڈ میں دو بے ترتیب کنٹرول ٹرائلز کے ذریعے متعارف کرایا گیا تھا جس میں 90 پرائمری اسکول اور 50 سیکنڈری سکول شامل تھے نیز خبروں کی سرخیاں بنانا کلاس روم شور اور خرابی کے لحاظ سے سسٹم کے مابین اختلافات کی اطلاع ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ آسٹریلیا جیسے کم درجہ والے ممالک میں اساتذہ رویے کے انتظام میں ناقص ہیں ۔ ٹیچنگ اینڈ لرننگ انٹرنیشنل سروے (TALIS) کے دھندلے تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تجربہ کار بمقابلہ نوسکھئیے اساتذہ کے لیے زیادہ سکور ظاہر کرتے ہیں کہ ابتدائی کیریئر اساتذہ کم مؤثر ہوتے ہیں ، اس انتباہ کے باوجود کہ ابتدائی اساتذہ زیادہ چیلنجنگ سکولوں کے لیے غیر متناسب طور پر مختص کیے جاتے ہیں۔ سکروٹنی اس وقت سے نظام کی سطح کے اثرات مثلا اسکول کی فنڈنگ ​​میں عدم مساوات اور مسابقتی اسکول مارکیٹوں کے ذریعہ انجینئر کردہ سماجی علیحدگی کے ذریعے فوائد/نقصان کا ارتکاز-اساتذہ کی تیاری کی تاثیر ہے ۔ یونیورسٹی کی ابتدائی ٹیچر ایجوکیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ وہ بہت زیادہ نظریاتی اور ناکافی طور پر اساتذہ کو کلاس روم کے عملی حقائق کے لیے تیار کررہا ہے یہ تنقید خاص طور پر رویے کے انتظام کے حوالے سے شدید ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں مسئلہ ہے ، یا کیا ابتدائی اساتذہ زیادہ تجربہ کار اساتذہ کے مقابلے میں رویے کے انتظام میں کم موثر ہیں۔ آئی ٹی ای اور "اساتذہ کے معیار” کو جوڑنے کا اثر یہ ہے کہ یہ گریجویٹ یا ابتدائی اساتذہ کو "مسئلہ” کے طور پر فریم کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں ، حل کی ترقی کو فریم کرتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ، آئی ٹی ای اور اس سے پیدا ہونے والے گریجویٹس پر ایک محدود توجہ کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اسکول کی تعلیم کو متاثر کرنے والے مسائل کی اصل نوعیت اور وسعت کا پتہ نہیں چلتا اور حل نہیں ہوتا ، جبکہ دیگر کو ان کی اصل یا عملی اہمیت سے باہر بڑھایا جاتا ہے۔ آئی ٹی ای کا خسارہ خاص طور پر آسٹریلیا میں نمایاں ہے ، جہاں یونیورسٹی ٹیچر ایجوکیشن نے 1990 کی دہائی میں ٹیچرس کالج کی جگہ لی اور جہاں زیادہ تر پریکٹس کرنے والے اساتذہ اب ڈگری کے اہل ہیں۔ آسٹریلیا میں معیاری تدریس کے "مسئلے” کے حالیہ حل نے بنیادی طور پر یونیورسٹی کے اساتذہ کی تعلیم اور آئی ٹی ای گریجویٹس کے معیار پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ آسٹریلیا کی یونیورسٹیوں پر اب دباؤ ہے کہ وہ "کلاس روم کے لیے تیار” گریجویٹ تیار کریں تاکہ ان کے کورس کے مواد کے زیادہ سے زیادہ نسخے رسمی منظوری کے عمل کے ذریعے ہوں ۔ 2016 میں ، مثال کے طور پر ، اساتذہ کی تعلیم کے طلباء کی خواندگی اور اعداد کی صلاحیت کا بیرونی جائزہ آسٹریلوی حکومت نے گریجویشن کی شرط کے طور پر متعارف کرایا تاکہ "گریجویشن کرنے والے اساتذہ کی مہارتوں پر اعتماد میں اضافہ” کو یقینی بنایا جا سکے۔ اساتذہ کی تعلیم کے طالب علموں کے لیے گریجویشن کی مزید رکاوٹ ، جو 2018 میں متعارف کرائی گئی اور یونیورسٹی ٹیچر ایجوکیشن پروگرامز کی منظوری سے منسلک ہے ، ٹیچر پرفارمنس اسسمنٹ (ٹی پی اے) کی کامیاب تکمیل ہے۔ طلباء کی تعلیم پر اثر پڑتا ہے اور اساتذہ کے لیے آسٹریلوی پیشہ ورانہ معیارات سے وابستہ ہے ۔
    مزید ، اور جیسا کہ یونیورسٹی آئی ٹی ای انٹری سکور کی ناکافی یا دوسری صورت میں بحث جاری ہے ، ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں آسٹریلیا کے سب سے بڑے تعلیمی نظام کی ذمہ دار حکومت نے لازمی قرار دیا ہے کہ گریجویٹس کو مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ گریجویشن کے بعد بطور استاد رجسٹر ہونے کے لیے ایک نفسیاتی امتحان میں اعلیٰ ذہانت اور کریڈٹ گریڈ پوائنٹ اوسط کو برقرار رکھیں – بشمول آئی ٹی ای میں تھیوری پیشہ ورانہ تجربے میں اضافہ اور استحقاق کے ساتھ ساتھ آسٹریلوی پروفیشنل سٹینڈرڈ فار ٹیچنگ میں "اسٹیج” اپروچ ، جو کہ گریجویٹ ، ماہر ، اعلی تکمیل ، اور لیڈ پریڈ کی پیش گوئی نہ صرف اس مفروضے پر کی جاتی ہے کہ گریجویٹ اور ماہر کے درمیان فرق ہے ، بلکہ یہ کہ تجربے اور تدریسی معیار کے درمیان مثبت رشتہ ہے۔ تاہم ، یہ تمام اصلاحات اس دعوے کی تائید کے لیے کسی تجرباتی ثبوت کی فراہمی کے بغیر ہوئی ہیں کہ ابتدائی اساتذہ اساتذہ کے مقابلے میں کم اہل ہیں جن کا تجربہ زیادہ سال ہے ، خاص طور پر رویے کے انتظام میں۔ یہ تجرباتی شواہد کی محدود دستیابی کی وجہ سے ہوسکتا ہے اور اس وجہ سے کہ جو ثبوت موجود ہیں وہ مخلوط ہیں۔ تدریسی معیار کا سب سے عام بالواسطہ پیمانہ معیاری تشخیص میں طالب علم کی کارکردگی ہے اور اس تحقیق کے نتائج ملے جلے ہیں۔ کچھ شواہد موجود ہیں کہ اساتذہ کے برسوں کے تجربے کا طالب علم کے نتائج پر بہت کم یا کوئی اثر نہیں پڑتا ہے ۔ ایک بار پھر ، یہ ثبوت واضح نہیں ہے ، یہ تجویز کرتا ہے کہ تجربے کا کچھ اثر ہے لیکن یہ محدود ہے اور مجموعی نہیں۔ مثال کے طور پر ، قومی اور بین الاقوامی سیاق و سباق میں کچھ تحقیق تجربے کے لیے ابتدائی اثر کا ثبوت فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے اساتذہ کی جلد اصلاح ہوتی ہے ، لیکن یہ انجمن میدان میں ان کی ابتدائی ایڈجسٹمنٹ کے بعد زوال پذیر ہوتی ہے ۔ اسی طرح ، فلوریڈا ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن کی طرف سے دستیاب اعداد و شمار پر شمالی امریکہ کے ایک بڑے مطالعے میں ، 4 سے 8 گریڈ کے 84،031 اساتذہ ، چنگوس اور پیٹرسن (2011) نے پایا کہ اساتذہ عام طور پر ریاضی پڑھنے کے شعبوں میں زیادہ موثر ہو جاتے ہیں۔ فیلڈ میں ابتدائی منتقلی (خاص طور پر پہلے سال کے بعد) ، لیکن چار یا پانچ سال کے بعد پلیٹاوس یا کمی کا تجربہ کرنے کے لیے واپسی۔ ایک اور شمالی امریکہ کے مطالعہ میں 300 اساتذہ پر پینل ڈیٹا اور 10،000 طلبہ کے لیے معیاری ٹیسٹ اسکور کا استعمال کرتے ہوئے ، (2010) میں ریاضی کی گنتی کے لیے پہلے دو سالوں میں ، اور پہلے 10 سالوں میں اساتذہ کے تجربے کا ایک چھوٹا لیکن مثبت اثر پایا۔ الفاظ اور پڑھنے کی سمجھ کے لیے تجربہ شمالی امریکہ میں اسی طرح کی ایک تحقیق میں 3 سے 7 گریڈ کے 3000 سے زائد اسکولوں میں نصف ملین سے زائد طلباء کا ڈیٹا شامل ہے ، ریاضی میں طالب علموں کے نتائج پر تدریس کے تجربے اور اساتذہ کے پڑھائی کے پہلے سال میں پڑھنے پر مثبت اثر پایا۔ تاہم ، یہ اثرات پیشے میں منتقلی کے ابتدائی دور سے آگے جاری نہیں رہے۔ اساتذہ کے برسوں کے تجربے اور تعلیم کے معیار سے بالواسطہ اقدامات (مثال کے طور پر ، طالب علموں کی کارکردگی) کے مابین وابستگی کے ثبوت بڑی حد تک ملے جلے ہیں اور معیار کے پیش گو کے طور پر تجربے کی اہمیت کے حوالے سے واضح نتائج کی تجویز نہیں کرتے ہیں۔ . ادب نے تدریسی معیار کے زیادہ براہ راست اشارے ، خاص طور پر کلاس روم مینجمنٹ کے شعبوں میں اساتذہ کے مشاہدہ کردہ کلاس روم کے طرز عمل ، طلباء کے لیے سماجی معاونت ، اور ہدایات دی ۔ اکثر حوالہ دی گئی رپورٹوں کے پیش نظر کہ نوسکھئیے اساتذہ کلاس روم مینجمنٹ میں چیلنجوں کی وضاحت کرتے ہیں اور تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ تجربے کے بڑھتے ہوئے سال اس ڈومین میں بہتر کارکردگی کا باعث بن سکتے ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اساتذہ کی اصل کلاس روم کی بات چیت کی جانچ پڑتال تجربے اور کارکردگی کے مابین روابط کو سمجھنے کی کوششوں میں مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ مزید برآں ، یہ دیکھتے ہوئے کہ طلباء کے ساتھ تعاملات طلباء پر اساتذہ کے اثر و رسوخ کا سب سے براہ راست اور قریب ترین اشارہ ہیں ، ان تعاملات کا مشاہدہ تعلیمی معیار کا ایک اہم اشارہ ہے۔

    Twitter handle :
    @Maqbool_hussayn

  • تین ضرب چار انچ کی “بوٹی” یا پاکٹ گائیڈز تحریر : آصف شہزاد

    تین ضرب چار انچ کی “بوٹی” یا پاکٹ گائیڈز تحریر : آصف شہزاد

    تین ضرب چار انچ کی چھوٹی سی کتاب نقل کیلئے خفیہ طور پر استعمال ہونے والے پاکٹ گائیڈز یا بوٹی کے نام سے مقبول ہے ان گائیڈز پر دفعہ ۱۴۴ کے تحت پابندی کے باوجود امتحانات کے دوران یہ پاکستان کے بیشتر شہروں میں بغیر کسی رکاوٹ کے فروخت کئے جاتے ہیں۔جن کے استعمال سے بجا طور پر ہونہار طلباء کی حق تلفی ہوتی ہے تاہم اس کے باوجود بیشتر طالب علم پاکٹ گائیڈز یا بوٹی کو امتحانات میں کامیابی کیلئے کارآمد ذریعہ سمجھتے ہیں اور اب بات یہاں تک بڑھ چکی ہے کہ جن طلباء کو پڑھنے میں دلچسپی تھی اور نقل کے ذرائع کو معیوب سمجھتے تھے اب وہ بھی ان مواد کے استعمال سے نہیں شرماتے کیونکہ امتحانی حال میں نقل کا استعمال عام ہے اور ان طلباء کے پاس دوسرا راستہ نہیں بچتا تو اپنی حق تلفی کے رد عمل کے طور پر ان میں پڑھنے اور محنت کرنے کی دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے اور ہونہار طلباء بھی اب نقل سے کام چلانے میں نہیں شرماتے۔

    یہ بوٹی یا پاکٹ گائیڈز اتنے مقبول ہیں کہ کسی بھی شہر کے تقریباً ہر کتب فروش کے پاس دستیاب ہوتے ہیں۔امتحانات کے دوران پاکٹ گائیڈز کی طلب میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے جس کیلئے بوٹی مافیا سے جڑے پبلشرز اور پرنٹرز دن رات کام کرتے ہیں اور کتب فروشوں کو بوریاں بھر بھر کے سپلائی کرتے ہیں ان کتب فروشوں میں ایک تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب ان گائیڈز پر پابندی کی خبریں آتی ہیں تو دکاندار ان بوٹیوں کو خفیہ طریقے سے فروخت کرتے ہیں تاہم اگر حکومتی اہلکاروں کی جانب سے کوئی مسلہ پیش آتا بھی ہے تو کچھ پیسے دیکر معامعلہ رفع دفع کرنا مشکل نہیں ہے

    چند دن قبل سوات میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکینڈری ایجوکیشن کی جانب سے انٹر اور میٹرک کے امتحانات کا انعقاد کیا گیا جن میں طلباء کی جانب سے پیپرز کے بعد انوکھے انداز سے نقل کی کاپیاں ہوا میں اچھال کر برسائے کئے اور سڑکوں پر پاکٹ گائیڈز اور دیگر مواد کی ہزاروں پرچیاں پھینک کر چھوڑ گئے اس عمل کے تصاویر اور ویڈیوز سواشل میڈیا پر وائرل ہوئے تو مختلف مکتبہ فکر کے افراد نے اس عمل سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا۔


    میٹرک کے امتحان میں مصروف ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ پیپر میں آئے ہوئے تقریباً ہر سوال کا جواب پاکٹ گائیڈ میں موجود ہوتا ہے جسے آسانی سے الگ کرکے لکھا جاسکتا ہے اگر حال میں سختی زیادہ ہو تو لکھنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جس سے کافی وقت ضائع ہوجاتا ہے تاہم پھر بھی بہت سے طریقے موجود ہیں جن کا استعمال کرکے ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو چکما دیا جاسکتا ہے۔

    پاکٹ گائیڈ المعروف “بوٹی” کا سائز اتنا چھوٹا ہے کہ طلباء اپنے ساتھ دو دو یا تین تین کاپیاں رکھتے ہیں،لہٰذا اگر حال میں سختی ہو تو طلباء کو کوئی خاص پریشانی نہیں ہوتی کیونکہ ایک پرزہ چھوٹ جانے سے لکھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی کیونکہ طالب علم متعلقہ موضع کا دوسرا پُرزہ نکال لیتے ہیں اور یہ ایک عام عمل ہے جسے ہر کوئی کرتا ہے بس میں نے بتادیا اور زیادہ لوگ بتانے سے شرماتے ہیں لیکن میں ایک مرتبہ پھر دہراتا ہوں کہ یہ ایک عام عمل ہے جسے تقریباً ہر طالب علم کرتا ہے

    ایک کتاب فروش کا کہنا تھا کہ پاکٹ گائیڈ کی فروخت چونکہ منافع بخش کاروبار ہے اسلئے دکانداروں کو امتحانات کا بے صبری سے انتظار رہتا ہے اس کا کہنا تھا کہ عام دکانداروں کے علاوہ چند ایسے دکاندار بھی ہیں جن کے پاس فوٹو کاپی کی مشینیں لگی ہوتیں ہیں اور وہ پاکٹ گائیڈ سے بھی بہتر مواد فروخت کرتے ہیں جوکہ مشین کے ذریعے اچھے کاغذ اور صاف لکھائی کیساتھ چھاپے جاتے ہیں یہاں تک کہ جاری پرچہ کے دوران بھی طالب علم رفع حاجت یا پانی پینے کا بہانہ بناکر ان دکانداروں کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور مطلوبہ سوالات کے جوابات پرنٹ کرواکر امتحانی حال لے جاتے ہیں۔

    ایک اسٹیشنری دکان کے مالک نے کہا کہ اگر حکومت پاکٹ گائیڈز کی فروخت بند کرنے میں واقعی سنجیدہ ہے تو کتب فروشوں اور اسٹشنری دکانوں کے بجائے شائع کرنے والے پبلشرز اور پرنٹرز پر چھاپے مارکر کاروائی کریں کیونکہ جب تک یہ پاکٹ گائیڈز دستیاب ہونگے تو طالب علموں کیلئے ان کا حصول مشکل نہیں اور یہاں تک کہ آجکل آن لائن کاروبار کا رجحان ہے اور ان چیزوں کو آن لائن بھی کسی کوڈ ورڈ کا استعمال کرکے خریدا یا فروخت کیا جاسکتا ہے غرض جب تک یہ گائیڈز چھپتے رہینگے جدید دور کے طالب علم انہیں حاصل کرتے رہینگے کیونکہ نئی نسل کے پاس ان مواد کو حاصل کرنے کیلئے سینکڑوں طریقے موجود ہیں۔

  • جدید دور کا نظام تعلیم  تحریر : شاہ زیب

    جدید دور کا نظام تعلیم تحریر : شاہ زیب

    وطن عزیز میں جدید دور اور نظام تعلیم کے نام پر جو فحاشی پھیلائی جا رہی ہے اس کے قصور وار سب سے پہلے ہمارے ملک کا میڈیا جو ڈراموں میں فحاشی کو پرموٹ کر رہا ہے۔

    اچھی تعلیم کے نام پر سب سے پہلے دوپٹہ چھین لیا جاتا ہے اور پھر یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم کے نام پر لباس تبدیل کر دیا جاتا ۔

    جدید دور کا آغاز فحاشی کو فروغ دینے سے ہرگز نہیں وطن عزیز کی بدقسمتی ہے کہ میڈیا ڈراموں میں مغربی لباس کو فروغ دیتا ہے اور ہماری عوام ان کے لباس کی کاپی کرنا شروع کر دیتے یہاں تک کے لڑکے لڑکیوں والا ڈریسنگ زیب تن کر رہے ہیں اور لڑکیاں لڑکوں والے

    نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” لعنت ان عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت پیدا کرتی ہیں اور اُن مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت پیدا کرتے ہیں ”

    میں اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ فحاشی کے نام سے عورت سے تعلیم چھین لی جائے یہ موضوع لکھنے کا مقصد صرف اپنی اور معاشرے کی بھلائی کے لئے ھے

    آپ سبھی جانتے ہیں انسان کا لباس موسم اثرات کے بچاؤ کے ساتھ ساتھ سماجی شخصیت بھی ظاہر کرتا ہے جیسے کہ ڈاکٹر پولیس فوجی جوان اور وکیل وغیرہ اپنے مخصوص لباس کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں اسی طرح اچھے مسلمان مردوں اور خواتین کی پہچان بھی اس کا لباس ہے جو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتایا ہوا ہے

    کامیابی اور ترقی صرف تعلیم سے آراستہ ہے لیکن اگر الیکٹرانک میڈیا والے ترقی کے نام سے پردہ چھین رہے ہو تو یہ گمراہی ہے مغرب کی کاپی کرنا ہے تو ڈراموں میں عدل و انصاف بھی کریں یی بچوں اور بچیوں کے حقوق دیں جس سے معاشرہ میں بگاڑ پیدا نہ ہو

    فحاشی کے روک تھام کے لئے حکومت کوشش تو کرتی ہے لیکن حکومت میں بیٹھے لبرل رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں جو ہماری اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں اس کا بہترین حل ہے پیمرا کوئی بھی ایسا ڈرامہ ریلیز نہ ہونے دیں جس میں بے حیائی پرموٹ کی جا رہی ہو
    تو کافی حد تک محفوظ رہ سکتے ۔
    دوسری بات روایتی تہذیبی و مذہبی پروگرام میں نوجوانوں کی تربیت کی جائے پبلک مقامات پر فحاشی کے خلاف مزاحمت کریں۔ شکریہ

    ‎@shahzeb___

  • رٹہ نہیں ہنر سکھاؤ . تحریر : نعمان سرور

    رٹہ نہیں ہنر سکھاؤ . تحریر : نعمان سرور

    پاکستان وہ ملک ہے جس کی آبادی کا بہت بڑا حصہ نوجوان آبادی پر مشتمل ہے، پاکستان کی تقریبا 63 فیصد آبادی نوجوان ہے یہ ہمارے ملک کا بہت بڑا اثاثہ ہے جسے برباد ہونے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے اور ماں باپ ،بچے اور اہل علم سمیت سب ہی بس اس راستے پر چلتے جا رہے ہیں یہ نہیں سوچ رہے کیا ہماری سمت درست ہے ؟؟

    پاکستان میں ہر سال لاکھوں بچے کالج سے فارغ ہو کر یونیورسٹی کی تعلیم کے لئے میدان میں آتے میرٹ کے مختلف مراہل سے گزر کر اگر اچھی یونیورسٹی میں داخلہ نہ بھی ملے تو کسی پرائیوٹ میں تو مل ہی جاتا ہے پھر نوجوان اپنے زندگی کے چار سال اس یونیورسٹی میں گزارتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ایک طالب علم کا اوسطا خرچ چار سالوں میں 20-25 لاکھ سے زیادہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ زندگی کے چار سال بھی اس میں جھونک دئیے جاتے ہیں۔

    دنیا اب تیز اور آگے کی طرف بڑھ گئی ہے کچھ فیلڈ ایسی ہیں جن میں واقعی طالب علم کو یونیورسٹی جانے کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن ہر فیلڈ کے لئے ایسا ہر گز نہیں ہے، یونیورسٹی سے لاکھوں خرچ کر کے بھی جب طالب علم ڈگری لے کر باہر نکلتا ہے تو اس کو اصل کام فیلڈ میں سیکھنا پڑتا ہے ہماری کتابوں میں موجود چیز یں اسے وہ نہیں سکھا پاتی جو فیلڈ میں وہ چند سالوں میں سیکھ جاتا ہے، اور اکثر نوجوان یونیورسٹی کی ڈگری لے کر بھی بے روزگار پھر رہے ہوتے ہیں کیا ہی اچھا ہو کے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کے بعد نوجوانوں کو انہیں یونیورسٹیوں کی فیسز کم کر کے ان کو وہ ہنر سکھایا جائے وہ تعلیم دی جائے جو آجکل کے وقت میں ان کے کام آئے اور وہ روزگار خود حاصل کر سکیں ہمارا سلیبس آج بھی فلاپی ڈسک پڑھا رہا، بچہ جب عملی میدان میں جاتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کے وہ تو 30 سال پیچھے کی تعلیم حاصل کر کے آیا ہے پھر وہ فیلڈ میں مار کھا کر سیکھنے کی کوشش کرتا ہے آن لائن سیکھتا ہے اور زندگی کے دو تین سال اس میں لگا دیتا ہے۔

    ہونا تو یہ چاہیے کے اسے یونیورسٹی میں جو عرصہ گزارا اس میں وہ کسی فیلڈ کا ماسٹر بن کر نکلے اور تمام یونیورسٹیوں کے پاس یہ بھی ڈیٹا ہونا چاہیے کے ملک میں کس فیلڈ میں کتنے لوگ درکار ہیں اتنے ہی لوگ اس فیلڈ میں لائے جائیں پھر یہ دیکھا جائے بیرون ممالک میں کونسے ہنر کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے ؟؟ آنے والے وقت میں بچے کیسے روزگار حاصل کر سکتے ہیں یونیورسٹی کا دورانیہ چار سال کے بجائے 1.5 سال کر دینا چاہیے جس میں بچے کو بیرون ملک میں بیٹھے لوگوں سے بات کرنے کا طریقہ سکھایا جائے، کاروبار کرنا سکھایا جائے، بچے کو یہ بتایا جائے کے زندگی کا مقصد رٹہ لگانا نہیں ہے اگر تمہاری یاداشت اچھی نہیں ہے تو کوئی بات نہیں تم پھر بھی ایک کامیاب انسان بن سکتے ہو۔۔۔تمہیں انگلش فر فر نہیں آتی تو کوئی بات نہیں اتنی سیکھ لو کے اگلے کو اپنی بات سمجھا سکو اور اس کی سمجھ سکو بچے میں اعتماد پیدا کیا جائے اس بنیادی معاشرتی زندگی کے اداب سکھائے جائیں اور اس سے یہ بآور کروایا جائے کے انگلش بولنا کسی کے لائق یا قابل ہونےکی نشاندہی نہیں بلکے یہ صرف ایک زبان ہے، یونیورسٹی کے بچوں کو فیکٹریوں کے بورڈ سے ملوایا جائے اور ان سے پوچھا جائے کے وہ اپنے کاروبار میں کیسی آسانی دیکھنا چاہتے ہیں پھر بچوں سے کہا جائے کے سوچیں کیا آپ یہ کر سکتے ہیں اگر وہ اس قابل ہوں تو ان کے اخراجات فیکٹری مالکان کے زمے لگائے جائیں زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی آپ یہ کر کے دیکھیں اس ملک کے نوجوان بہت قابل ہیں وہ آپ کو ہر مسئلے کا حل دیں گے۔ آپ ان نوجوان کو ہفتے ایک دن صرف اس بات پر ٹریننگ دیں کے لوگوں کے سامنے بات کیسے کرنی ہے حال میں سب کو جمع کر کے تقاریر کروائیں ان سے تاکہ ان کا اعتماد بحال ہو ان کے اندر کے چھپے ٹیلنٹ کو باہر نکالیں کیا پتہ جسے آپ زبردستی ڈاکٹر بنا رہے ہو وہ اچھا شاعر یا سنگر ہو ؟؟؟ پھر بچوں سے پینل بیٹھا کر ان سے انٹرویوز لیں تاکہ انہیں عملی زندگی میں گھبراہٹ نہ ہو یہاں جو لوگ نوکری کرنے آتے ہیں انٹرویو دینے سے ان کے ماتھے پر پسینہ آیا ہوتا ہے وہ اپنی بات منوانا نہیں جانتے اپنے آپ کو سستے میں بیچ آتے ان کو لوگوں سے بھاؤ کرنا سکھائیں ان کو یہ بتائیں کے نوکری آپ کی زندگی نہیں ہے وہ آپ کی زندگی کا چھوٹا سا حصہ ہو سکتی ہے پھر ان کو یہ سکھائیں کے اگر زندگی میں کامیاب ہونا ہے تو اس کا معیار پیسہ ہرگز نہیں۔
    یہ ایسی چیزیں ہیں اگر ان پر ہمارے تعلیمی نظام میں عمل ہو جائے تو یقین کریں پاکستان بدل جائے گا میں لکھنا چاہوں تو ایسی ہزار چیزیں اور گنوا سکتا ہوں۔
    اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو : آمین

    @Nomysahir

  • ‏یکساں قومی نصاب پر اعتراضات کیوں؟         تحریر: آصف گوہر

    ‏یکساں قومی نصاب پر اعتراضات کیوں؟ تحریر: آصف گوہر

    نصاب سے مراد کسی درجہ کے لئے مختلف مضامین کا مجموعہ جو کہ طلباء کو پڑھا کر مطلوبہ نتائج حاصل کرنا
    نصاب سازی کے عمل میں ماہرین تعلیم ریاست کے وضع کردہ رہنما اصولوں کی مدد سے ایسا علمی مواد مرتب کرتے ہیں جو کہ کسی درجہ تک کی تعلیمی اور تدریسی سرگرمیوں کا تعین کرتا ہے ۔
    ملک خدا دا میں طبقاتی تقسیم کی جھلک تعلیمی اداروں میں پڑھانے جانے والے نصاب میں بھی سرایت کر چکی تھی موجود حکومت پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں یہ بات شامل تھی کہ ملک میں جاری طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کیا جائے گا اور وزیراعظم عمران نے اقتدار میں آنے سے قبل ہمیشہ ملک میں جاری مختلف طبقاتی نظاموں پر تنقید کی اور اس پر زور دیا کہ ملک میں غریب اور امیر طبقے کے بچوں کے لئے یکساں نصاب ہونا چاہیے ۔ وزارت اعظمی سنبھالنے ہی وفاقی وزارت تعلیم کو یکساں نصاب کی تیاری کی ہدایت دی۔ جس پر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بڑی محنت کے ساتھ تمام صوبائی وزراء تعلیم اور صوبائی حکومتوں کو یکساں نصاب پر قائل کیا اور ملک کے ماہرین تعلیم پرائمری سطح کے ماہر اساتذہ والدین پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ایجوکیشنل ریسرچر چائیلڈ سیکالوجسٹ
    اور ہر مضمون کےماہر افراد پر مشتمل کمیٹی نے کئ ماہ کی عرق ریزی کے بعد مجوزہ مسودات صوبائی وزراء تعلیم کی کمیٹی میں پیش کئے ۔ جس پر صوبوں نے اپنی کمیٹیوں سے سفارشات لیں ۔پنجاب میں بھی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ پنجاب کی ماہرین تعلیم کی کمیٹی بنائی جس نے ان مسودات پر نظر ثانی کی پنجاب کے پرائیویٹ سکولز انتظامیہ کو آن بورڈ لیا گیا اور بڑی طویل مشاورت اور محنت کے بعد وفاق کی تمام اکائیاں پرائمری سطح کے یکساں قومی نصاب پر متفق ہوگئیں جو کہ بہت بڑی کامیابی اور خوش آئندہ بات تھی ۔ اب جبکہ یہ یکساں قومی نصاب نئےتعلیمی سال کےلئےطلباء میں تقسیم کیا جا رہا ہے تو کچھ مخصوص نام نہاد تجزیہ کاروں نے اس پر طرح طرح کےاعتراضات شروع کر دیاان میں ایک موصوفہ کو اعتراض ہےکہ انگلش کی کتاب میں وطن پرستی کی نظم اور اسلامی تہوارعید الاضحی بارےاسباق شامل کیوں کئےگئے
    اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محترمہ نے آج سے قبل کبھی پبلک سکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کو دیکھا تک نہیں کیوں کہ جن اسباق پر اعتراض کیا گیا ہے وہ پنجاب کے سرکاری سکولوں میں ایک مدت سے پڑھائے جا رہے ہیں ۔ ایک موصوفہ کو یہ اعتراض ہے کہ واقفیت عامہ کی کتاب اردو زبان میں کیوں مرتب کی گئ ۔ کیا امریکہ برطانیہ جرمنی فرانس اور چین میں کیا کسی غیر ملکی زبان میں پرائمری تعلیم دے جاتی ہے یا اس ملک کی قومی زبان میں ؟
    اس وقت قومی یکساں نصاب پر اعتراض وطن پرستی اور اسلامی مواد پر ہے لیکن اصل تکلیف اس بات پر ہے کہ یکساں قومی نصاب کے نفاذ کے سہرا عمران خان اور تحریک انصاف کے سر کیوں باندھا جا رہا ہےاور وفاق کی تمام اکائیاں کو متفق ہورہی ہیں ۔ان قوتوں کا مقصد تو پاکستانی قوم کو تقسیم در تقسیم کرنا تھا ۔
    پاکستان کےقیام میں مذہب اسلام سب بڑا محرک ہے ۔پاکستانیوں کا قومی نظریہ اسلام کے سنہری اصولوں سے مزین ہے اور یہ کہنا بےجا نہیں ہوگا کہ پاکستان کا قومی نظریہ اصل میں اسلامی نظریہ ہی ہے ۔ اس لئے لازمی سی بات ہے کہ پاکستان میں پرھائے جانے والے نصاب میں اسلامی طرز معاشرت اکابرین کی زندگیوں پر روشنی اور اسلامی تہواروں کا ذکر خیر ہی آئے گا۔ پنجاب حکومت نے صوبہ بھر کے پبلک اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں پرائمری سطح پر میں 2 اگست سے باقاعدہ یکساں قومی نصاب کا نفاز کر دیا گیا ہے جس پر والدین اور تعلیمی ماہرین نے اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ ‎@Educarepak