Baaghi TV

Category: تعلیم

  • ہم پڑھے لکھے بے کار تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    ہم پڑھے لکھے بے کار تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم ہم نے پڑھے لکھے جاہل کی اصطلاح تو بہت بار سنی اور سمجھتے بھی ہیں.
    مگر یہ پڑھے لکھے بے کار کیا بلا ہے
    ہم اگر آج سے دس بیس سال پیچھے چلے جائیں تو خال خال گریجوایٹ ہوا کرتے تھے.ہر گھر سے کوئی ایک کالج یا یونیورسٹی جانے والا ہوتا تھا.
    مگر اب پرائیویٹ اداروں کی بھرمار نے نقشہ بدلا پڑھے لکھے اور بلخصوص کالج اور یونیورسٹی جانے والوں کی "تعداد” میں نمایاں اضافہ ہوا.
    اور اب ہر گھر میں گریجویٹ ملتا ہے.
    ان اعدادوشمار پہ خوشی تو ہوتی ہے مگر ایک دکھ کی کیفیت طاری رہتی ہے
    کہ تعداد تو بڑھ گئی معیار نہ رہا
    ڈگریاں تو آگئیں ہنر نہ رہا
    ہمارے کمزور اور بے ہنر ہاتھوں کی کرامت ہے کہ ہم سے رہبری چھن گئی ہے
    آج چودہ سولہ سال پڑھنے لکھنے کے بعد بھی ہم بے ہنر رہ جاتے ہیں.
    ہم اپنے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے بھی محتاج اور سراپا احتجاج بنے رہتے ہیں

    کرونا وباء نے جہاں تعلیمی ادارے بند کروائے وہیں تعلیمی معیار کی قلعی کھول کے رکھ دی کہ ہزار پڑھے لکھوں نے مل کے وہ نہ کمایا جو ایک ہنر مند نے کما لیا.
    فری لانسنگ اور ای کامرس میں ہنر کی ضرورت اور اہمیت نے ہمیں جھنجوڑ کے رکھ دیا
    کمانے کے لیے ایسی راہیں کھولیں جن پہ ڈگریوں والے ڈگمگا گرے اور ہنر والے بازی لے گئے
    ڈگری کے حصول کی حوصلہ شکنی نہیں کر رہی مگر یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ڈگری پروگرامز وقت کا ضیاع ہیں اور ہمارے جوان یونیورسٹیوں سے محض کاغذ کا ٹکڑا حاصل کر. کے نکلتے ہیں.
    آزاد چائے والا کے فلسفے کو سو بٹہ سو نمبر دیتے ہوئے تائید کروں گی کہ ڈگری سے بہتر ہنر ہے
    اب ہنر کو محض ویلڈنگ سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے تو جو کام آپ اپنی عملی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر کرتے ہیں اسکا مقابلہ کوئی ڈگری نہیں کر سکتی.
    ہمارے تعلیمی نظام کے تمام نقائص میں سب سے بڑا نقص پریکٹیکل کی کمی ہے.چین اور جاپان کے سکول سسٹم سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے
    جہاں طلباء حصول علم کے ساتھ گھرداری بھی سیکھتے ہیں .
    ہم پڑھ لکھ کر بے کار ہیں کیونکہ ہم نے صرف پڑھا ہے اس کو کہیں استعمال میں لانے کے لیے ہمارے پاس گراؤنڈ ہی نہیں تھا نہ ہی پریکٹس.
    علم اور ہنر کو جب تک لازم و ملزوم کر کے تعلیمی نظام کو ازسرنو تعمیر نہیں کیا جاتا ہم
    پڑھے لکھے بے کار پیدا کرتے رہیں گے.جو گلے شکوے اور شکایات کے ساتھ ٹائر جلایا کریں گے.
    عمل سے زندگی بنتی ہے ….

    @hsbuddy18

  • اسلام میں حضرات صحابہ کرام کا کردار تحریر: سید عمیر شیرازی

    اسلام میں حضرات صحابہ کرام کا کردار تحریر: سید عمیر شیرازی

    اسلام جب وجود میں آیا تو اللّه تبارک و تعالی نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہ السلام کو دنیا میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کیلئے بھیجا اور انکی اس دعوت و تبلیغ کے لیے کچھ مخصوص لوگ چنے،
    اسی طرح جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی اور آپکو جب نبوت سے نوازا گیا تو آپﷺ کے اس مشن کیلئے جو لوگ چنے رب العزت نے وہ حضرات صحابہؓ کی جماعت تھی اور صحابہ کرامؓ کی تعداد کم و بیش چونتیس ہزار بتائی گئی ہے بعض روایات میں یہ وہ جماعت تھی جن کی تربیت براہ راست میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔۔
    صحابہ کرام رضوان اللّه تعالی علیہم اجمعین میں بھی ہر صحابیؓ کو الگ الگ درجہ حاصل ہے جس میں عشرہ مبشرہ دس خوش نصیب صحابی رسولؑ بھی موجود ہیں جنہیں دنیا میں ہی جنّت کی بشارت سنا دی گئی تھی جن کے نام یہ ہیں
    ابو بکر
    عمر
    عثمان
    علی
    طلحہ بن عبید اللہ
    الزبیر بن العوام
    عبدالرحمن بن عوف
    سعد بن ابی وقاص
    سعید بن زید
    ابو عبیدۃ بن الجراح رضی اللہ تعالی عنہ

    یہاں عوام الناس کچھ غلط فہمیوں کا شکار بھی رہی ہے کہ اگر یہ صحابہ کرامؓ جنتی ہیں تو کیا باقی جنتی نہیں ہے؟
    تو یہاں یہ بات بتانا چاہوں گا صحابہ کرامؓ میں بھی ہر صحابیؓ کو اپنا الگ مقام حاصل ہے لیکن یہ بات ذہن نشین کر لیں حضور اکرمﷺ کے سارے صحابہ کرامؓ جنتی اور معیار حق ہیں۔
    انبیاء علیہ السلام کے بعد
    صحابہ کرامؓ میں سب سے افضل مرتبہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو حاصل ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام اور حضورﷺ کی پیروی میں گزاری اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیقؓ کو یہ شرف بھی حاصل ہے آپؓ نے حضورﷺ کی موجودگی میں انکے کہنے پر امامت بھی کروائی اسی طرح حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ جن کی شان یہ تھی کہ رب العزت نے انہیں حضورﷺ کی دعا کے مانگنے پر ساتھی چنا اور حدیث کی متعدد روایات میں محمد عربیؐ نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔۔
    اسی طرح حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کی شان دیکھیں جنہیں دو نور والا لقب حاصل ہے آپؓ کے نکاح میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیاں تھیں ایک بیٹی جب فوت ہوئی آپﷺ نے دوسری بیٹی نکاح میں دی اور جب دوسری بھی فوت ہوگی تو آپؐ نے فرمایا اگر میری اور بیٹیاں بھی ہوتی تو وہ بھی عثمانؓ کے نکاح میں دیتا حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ وہ جلیل القدر صحابی ہیں جن سے اللہ پاک بھی حیا کرتے ہیں اور قیامت کے روز آپؓ کی شہادت
    کی گواہی قرآن مجید دے گا۔۔
    حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ جنکو حیدر کرار کا لقب حاصل ہے
    آپؓ کی شجاعت اور بہادری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں آپؓ وہ صحابی ہیں جنہوں نے فتح خیبر کے موقع پر خبیر کا دروازہ اکیلے کھولا جو اس وقت بیس سے تیس لوگ بھی مل کر نہیں کھول سکتے تھے آپؓ کے نکاح میں خاتون جنت اور لخت جگر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا تھی۔
    اسی طرح پھر سیدنا امیر معاویہؓ جنہوں نے شام و روم کو فتح کیا آپؓ کو کاتب وحی کا لقب حاصل ہے آپؓ زہین اور باوقار شخصیت کے مالک تھے اور رشتے میں پوری امت مسلمہ کے ماموں لگتے ہیں آپ کے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ جب فتح مکہ ہوا تو حضور اکرم صلی وسلم نے فرمایا جس نے ابو سفیان کے ہاں پناہ لی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا،
    یہ تاریخ کا ادنا سا حصہ صرف بتایا ہے بلکے ادنا سے بھی ادنا حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی زندگی پر خدا کی قسم ہزاروں کتب بھی لکھی جائے کم ہے اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے ہمیں سیدھی راہ پر چلنے اور حضرات صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    آمین

    @SyedUmair95

  • سندھ کا فرسودہ تعلیمی نظام  تحریر: ام سلمیٰ

    سندھ کا فرسودہ تعلیمی نظام تحریر: ام سلمیٰ

    ہزاروں کی تعداد میں موجود سندھ کے سرکاری اسکول جن کا کوئی پرسان حال نہں ، سندھ کے سرکاری اسکو لوں کی کر کردگی مایوس کن نظر آتی ہے ، جس کی ایک اہم وجہ تدریسی عملے کی عدم موجودگی بھی ہے اور اساتذہ کا تعليمی معیار بھی جدید دور کے مطابق نہں ہے.

    تعلیم کسی بھی فرد کے معاشرے کی معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے اور ایک اچھے معاشرے کا سبب بھی تعلیم کا معیار ہے ۔ کئی دہائیوں سے اگرچہ بنیادی طور پر سندھ میں تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور بوسیدہ سرکاری اداروں کی وجہ سے سندھ کا نظام تعلیم ایک مایوس کن حالت سے گزر رہا ہے۔ پیپلز پارٹی 1970 کی دہائی سے سندھ پر حکمرانی کر رہی ہے ، لیکن انہوں نے صوبے میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے کئی سالوں سے کوئی خاص توجہ نہیں دی جس کے نتیجے میں نظام تعلیم کی بہتری میں بہت رکاوٹیں ہیں.

    ہزاروں کی تعداد سندھ کے سرکاری اسکول ایک مایوس کن کر گردگی دیکھا تے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے والدین بچوں کو پرائیویٹ اسکول بھیجنے پے مجبور ہوجاتے ہیں ، زیادہ تر اسکول جس میں تدریسی عملے کی عدم دستیابی اور بیت الخلا کی عدم دستیابی ، پینے کے پانی کا نہ ہونا اور بجلی جیسی مناسب بنیادی سہولیات کا فقدان ہونا ہے ، اور کھیل کے میدانوں یا لیبارٹریوں کی تو بات ہی نہ کریں کیوں کے وہ تو بلکل میسر نہں سرکاری اسکول میں جب کے اسکول بُنیادی درس گاہ ہے بچوں کی کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے مناسب سہولتیں فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے.

    سندھ میں تقریبا لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے کا تناسب لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ سندھ کے قبائلی اور دیہی علاقوں میں تعلیم حاصل کرنے میں صنفی فرق انتہائی واضح ہے۔ تاہم ہر سال اربوں روپے تعلیم کے شعبے کے لئے مختص کیے جاتے ہیں ، لیکن کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کہاں استعمال ہوتا ہے۔

    مزید یہ کہ پرائیویٹ اسکول مافیا ہر سال اربوں روپے پیدا کررہا ہے لیکن بچوں کے لئے معیاری تعلیم اور مناسب تعلیمی ماحول مہیا نہیں کررہا ہے۔ سندھ میں نجی اسکولوں کی بہت ساری عمارتیں 600 سے 700 فٹ سے زیادہ کی جگہوں پر واقع ہیں ، جہاں بچوں کے پاس کھیلوں کے میدان اور لیبارٹری نہیں ہیں۔جو کے بچوں کی بُنیادی ضرورت ہے.

    نظام تعلیم میں بہتری لانے کے لئے ، حکومت سندھ نے اسکول کے عملے کی موجودگی کی جانچ پڑتال کے لئے بائیو میٹرک تصدیقی نظام متعارف کرایا لیکن ہر کام توجہ مانگتا ہے نظام لگانا اور پھر اس کی مسلسل جانچ پڑتال کرتے رہنا کسی بھی کام میں بہتری لانے کا صحیح طریقہ ہے ،سندھ سرکار اس میں ناکام رہی۔ نظام کو چلانے کے لئے ، مانیٹرنگ آفیسرز کو بڑی تنخواہوں پر مقرر کیا گیا، حالانکہ ان کی ذمہ داری صرف اساتذہ کی دستیابی کی تصدیق تک محدود ہے اور سب مانیٹرنگ افسران کو صورتحال کی اطلاع دینا لیکن عملی طور پر ایسا کچھ نظر نہں آتا انتظامی سطح پر ، کوئی بھی خالی عہدوں ، غیر معیاری تدریسی طریقہ کار اور اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو خراب کرنے جیسے مسائلِ پر توجہ نہں دیتا اور نہ ہی ان مسائل کو ختم کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کرتا ہے۔ در حقیقت ، بایومیٹرک سسٹم کو شامل کرنے سے تعلیم کے معیار میں بہتری نہیں آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں ، ہزاروں اساتذہ استعفی دے چکے ہیں۔ اور ان کی جگہ کوئی نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں ، اسکول بند کردیئے گئے ہیں۔ان مسائل کا فوری حل نہں نکالا گیا جس کی وجہ سے اسکول میں تدریسی عملہ نہ ہونے کے برابر ہے.

    اس کے علاوہ ، سرکاری اسکولوں کے ناقص معیار کی وجہ سے ، والدین جو کے خود بھی انہی اسکول کے عملے سے تعلق رکھتے ہیں اور کچھ سرکاری اسکول اساتذہ بھی شامل ہیں انہوں نے اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں داخل کرایا ہے۔

    اس کے علاوہ ، سرکاری اسکولوں میں اوسطا ایک کلاس روم میں 200 طلبہ ہیں۔ ایسی صورتحال میں معیاری تعلیم کیسے دی جاسکتی ہے؟ وفاقی تعلیم کا اصول صرف 25 طلباء فی استاد ہیں۔ اس کے علاوہ کلاس رومز اور اساتذہ کی بھی کمی ہے۔ بہت سارے اسکولوں میں ، ایک ہی استاد مختلف گریڈ میں طلبا کی دیکھ بھال کرتا ہے اور سات سے آٹھ مضامین پڑھاتا ہے۔ تعلیم کے معیار کو متاثر کرنے والی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اسکول مینجمنٹ کمیٹیاں دیانتداری و احساس کے ساتھ اپنے کردار اور ذمہ داریوں کو نہں نبھاتی ہیں۔

    سندھ میں نظام تعلیم کو ٹھیک کرنے کے لئے تعلیمی اداروں کی طویل مدت انتھک کوششوں کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت کو تعلیمی اصلاحات کو ترجیح بنیادوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ایک یکساں نظام تعلیم ہو۔ ضلعی اور صوبائی سطح پر محکمہ تعلیم مضبوط بنانا ہوگا۔ اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کو اسکول اور والدین فاصلے کو ختم کرنے پر توجہ دینی ہوگی اور اسکول کے فنڈز کو دیانتداری سے استعمال کرنا ہوگا تاکہ بچوں کی اسکول میں جو بنیادی ضرورت کی کمی ہے اس کو ان فنڈز کے صحیح استعمال سے میسر کیا جا سکے۔ بدعنوانی کیلئے صفر رواداری ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں سے اقربا پروری کا بھی خاتمہ کیا جانا چاہئے اور تعلیم کے شعبے میں سیاسی مداخلت کو بھی روکا جانا چاہئے۔

    سب سے بڑھ کر اساتذہ کی کے تعلیمی معیار پر توجہ دینی ہوگی اِنکی صلاحیتوں کو بڑھانا اور مناسب تربیت دے کر تدریسی طریقہ کار کو بہتر بنانا ہوگا تبھی سندھ کے تعلیمی نظام میں جنگی بنیادوں پر بہتری آسکے گی.

    @umesalma_

  • قلم کا ادب   حُسنِ قدرت

    قلم کا ادب حُسنِ قدرت

    قرآن پاک میں جہاں علم کا ذکر آیا ہے وہیں قلم کا بھی آیا ہے کیونکہ علم سکھانے کا ذریعہ”قلم” ہے اسلیے قلم ہمارے لیے حرمت کا باعث ہے لیکن دکھ تب ہوتا ہے جب میں قلم کی بے حرمتی ہوتی ہوئی دیکھتی ہوں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے
    بچے اپنی پنسلز اور مارکرز کو پھینک رہے ہوتے ہیں ہمارے ہاتھ سے اگر سلیبس کی کتاب گِر جاتی تھی تو وہ ہم اٹھا کر چومتے تھے کہ یہ کتاب کی بے ادبی ہے ہم سے یہ زمین پہ گِر گئی، ہم نے اپنے استادوں کو بھی ایسے کرتے دیکھا تھا کہ اور وہ کہتے تھے کہ بیٹا اگر کتاب کی عزت کرو گے تو ہی علم آئے گا،ہمارے استاد سے پڑھانے کے دوران کتاب زمین پہ کبھی گِر جاتی تو وہ بسم اللہ پڑھ کر اٹھاتے تھے اسے چومتے تھے آنکھوں سے لگاتے تھے اور پھر استغفرُللہ پڑھتے تھے اسکے بعد دوبارہ ایک دفعہ بسم اللہ اور دور شریف پڑھ کے ہمیں پڑھانا شروع کرتے تھے اور آج کل بچے جیسے ہی بال پوائنٹ ختم ہو رہا ہے،مارکرزکی انک ختم ہو رہی ہے یا پین خراب ہو رہے ہیں تو ڈائریکٹ اسے ڈسٹ بین میں یعنی گند والی ٹوکری میں پھینک رہے ہوتے ہیں
    اکثر بچے تو نشانہ فکس کرتے ہیں ڈسٹ بین کا پھر ایک ساتھ استعمال شدہ پنسلز کوڑے دان میں پھینک کر خوش ہو رہے ہوتے ہیں جیسے انہوں نے بال پین ختم کرکے کوئی عظیم۔ کارنامہ سر انجام دیا ہو
    ایک دن سورہ علق پڑھتے
    ہوئے مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ ہم قلم کی بے حرمتی کرتے ہیں تب سے میں نے اپنی استعمال شدہ بال پین ڈسٹ بین میں نہیں ڈالتی تھی اور اپنی سہیلیوں کو بھی منع کرتی تھی تاکہ میرا نام قلم کی بے ادبی کرنے والوں میں نہ آئے
    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ قلم کی بےادبی کرنے سے بچیں اور آپکے بچے بھی قلم کا ادب کریں تو اسکے لیے آپ کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو بتائیں کہ قلم ہمارے لیے اسلیے بھی مقدس ہے کہ ہم اس کے ذریعے علم سیکھتے ہیں
    اسے اِدھر اُدھر نہ پٹخیں استعمال کرنے کے بعد آرام سے قلم کو اسکی جگہ ہر رکھ دیں
    جب ہمارا بال پین یا مارکرز ختم ہوں تو انہیں ایک باکس میں اکھٹا کریں اور جب وہ بھر جائے تو جو بندہ ری سائیلنگ کےلئے چیزیں لینے آتا ہے اسے دیں یا کسی ایسی شاپ پہ دے آئیں جہاں ریسائیکلنگ کا کام ہوتا ہے۔قلم کو گند میں نہ ڈالیں اور اس کا ادب کریں

  • تعلیم اور شعور   تحریر: فرمان اللہ

    تعلیم اور شعور تحریر: فرمان اللہ

    ہم ہمیشہ تعلیم یافتہ معاشرے کی بات کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اگر شعور کو اجاگر نہ کیا جائے تو وہ تعلیم یافتہ معاشرہ بھی کبھی کامیابی کی منزلوں کو چھو نہیں سکتا۔ آجکل ہم سب اپنے بچوں کو اچھی سے اچھی تعلیم دینے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور ہم اپنی اس کوشش اور مقصد میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں لیکن بدقسمتی کے ساتھ شعور اجاگر نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے ہم ہر میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

    شعور ہمارے اندر احساس کو جنم دیتا ہے اور احساس کے بغیر کوئی بھی انسان بہترین انسان نہیں بن سکتا، اگر ہم بہترین انسان نہیں بن پائیں تو ہماری تعلیم کس کام کی؟ کیا کریں اُس تعلیم کا اُن ڈگریوں کا؟

    میں نے بہت سارے ایسے تعلیم یافتہ لوگوں کو دیکھا ہے جن میں احساس نام کی کوئی چیز پائی نہیں جاتی اور ایسے لوگ معاشرے کے مستقبل کے لیے سب سے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں شعور اور احساس کے حوالے سے بچوں کی تربیت نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں شعور اور احساس کی شدید کمی ہے۔

    میں سمجھتا ہوں کہ تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بھی بنائیں تاکہ مستقبل میں ہماری آنے والی نسل ایک بہترین معاشرہ ترتیب دے سکیں۔

    Twitter Account
    @ForIkPakistan

  • مسلم طلبہ کے لئے اسلامی تعلیم کتنی اہم ہے  تحریر: زاہد کبدانی

    مسلم طلبہ کے لئے اسلامی تعلیم کتنی اہم ہے تحریر: زاہد کبدانی

    تعلیم کے دائرہ کار میں ، اسکولی طلباء کے لئے اسلامی تعلیم بہت ضروری ہے ، یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی اسکول کی دنیا میں داخلے سے قبل اسلامی تعلیم دینے کی ضرورت ہے تاکہ جب بچے دنیا کی تعلیم میں داخل ہوں تو وہ اس کی عادت ڈالیں اور وہ صرف اسے روزمرہ کی زندگی میں شامل کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں طلباء کے لئے اسلامی تعلیم کی بہت زیادہ ضرورت ہے ، کیوں کہ اس جدید دور کے ساتھ طلباء میں بہت سے منفی اثرات پائے جاتے ہیں ، مثال کے طور پر ، ابتدائی اسکول کے بچے جنہوں نے طلباء میں اسلام کو اکسایا اور اس کے بعد اچھی سمت سگریٹ پی۔ طلباء جدید دور کے منفی اثرات سے بچیں گے۔ اسلام زندگی کا ایک طریقہ ہے ، اگر ہم میں اور ہماری زندگیوں میں کوئی مذہب نہیں ہے تو پھر زندگی بے چین ہو جائے گی ، اور ہم پریشانی محسوس کریں گے کیونکہ کوئی ہدایت نامہ موجود نہیں ہے ، دین میں ہر چیز کا اہتمام قرآن اور احادیث میں کیا گیا ہے ، جس سے شروع ہوتا ہے۔ دل کا ارادہ ، عبادت ، سلوک ، تعلیم ، خرید و فروخت یا معیشت ، معاشرتی۔ جیسا کہ آیت نمبر 255 میں بیان کیا گیا ہے ،

    سور بقرہ۔ طلباء کو اسلامی تعلیم کے فوائد میں متعدد چیزیں شامل ہیں:

    پہلے ، بچوں کے روحانی معاملات میں ، اگر بچوں نے ٹی کے دی ڈپو سے اسلامی تعلیم حاصل کی ہے ، تو وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں اسلام کا اطلاق کرسکیں گے ، مثال کے طور پر باجماعت نماز پڑھنا ، والدین یا اساتذہ سے مصافحہ کرنا ، یقینا درخواست دینے میں ، طالب علم واقعتاً ماحول سے مدد اور تعاون کی ضرورت ہے ، خاندانی ماحول بنیادی چیز ہے جو والدین ہیں ، والدین کو لازمی ہے کہ وہ بچوں کو روزمرہ کی زندگی میں عمل درآمد کرنے کے لئے ہدایت کریں اور ان کی مدد کریں ، اس کے بعد طلباء کو اسلامی دینی تعلیم کے بارے میں اسکول میں جو کچھ ملتا ہے ، اس کے بعد والدین کو بھی اپنے بچوں کے تعلقات کی نگرانی کرنی ہوتی ہے ، کیونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ طالب علم کے مستقبل کا تعین کرنا ضروری ہے ، اس کی روحانی گہرائی جتنی زیادہ ہوگی وہ جدید دور میں ہونے والے نقصان سے بچ جائے گا ، کیونکہ وہ پہلے ہی جانتے ہیں کہ یہ اچھا ہے یا برا۔
    دوسرا ، سلوک یا اخلاقیات کے لحاظ سے ، اسلامی دینی تعلیم حاصل کرنے سے ان کے اخلاق بہتر ہوں گے ، مثال کے طور پر والدین اور اساتذہ کا فرمانبردار ، شائستہ ، سب کے ساتھ شائستہ ، ایک دوسرے کی مدد کرنے میں مدد کرنا ، اس موقع پر ، طلباء کو آزمائے جانے کی ضرورت ہے والدین اور اساتذہ کے طرز عمل یا اخلاق سے ، اسلامی مذہب اور اچھے اخلاقی سلوک کے علم کے ساتھ ، طلباء کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس کا اطلاق کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ سیکولہ ایس ڈی ٹربائک دی ڈپوک طلباء کو اسلامی تعلیم مہیا کررہے ہیں اور خاندانی ماحول ، والدین ، ​​تعلقات ، اساتذہ کی مدد سے ، جو اس کے بعد زندگی میں لاگو ہوتے ہیں ، مسلم نوجوانوں کی نسلوں کو ان منفی اثرات اور اخلاقی نقصان سے بچانے میں مدد فراہم کریں گے جو طلباء کو جدید معاشرے میں دوچار کرچکے ہیں۔

  • نوکریاں کیسے حاصل کریں . تحریر : نعمان سرور

    نوکریاں کیسے حاصل کریں . تحریر : نعمان سرور

    پرانے وقتوں میں یا آج سے 20 سال قبل ایک رواج تھا کے جب بھی کوئی شخص تھوڑا بہت پڑھ لیتا تھا تو اس کی نظر سرکاری نوکری پر ہوتی تھی چونکہ ان دنوں تعلیم کم ہوتی تھی وسائل کم ہوتے تھے تو لوگوں کو پڑھ کر نوکری مل جاتی تھی یا جو لوگ سرکاری نوکری حاصل نہیں کر پاتے تھے وہ فوج میں تو چلے ہی جاتے تھے۔

    دورگزرتا گیا تعلیم عام ہونے کے ساتھ کمرشل ہوگئی اور پاکستان نے گریجویٹس کے ڈھیر لگا دئیے نوکریاں کم ہونے لگیں اور بیروزگاری بڑھنے لگی لوگ پی ایچ ڈی کر کے بھی معمولی تنخواہ پر کام کرنے پرمجبور ہوگئے، پھر ٹیکنالوجی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا لیکن ہماری نوجوان نسل نے اس کو سمجھنے میں دیرکی آہستہ آہستہ لوگوں کو پتہ چلتا گیا اور لوگ اس نئی ٹیکنالوجی کو اپناتے گئے اس میں ایسے کئی ہنر شامل ہوگئے جو نوجوان سیکھ کر گھر بیٹھے نوکری حاصل کرنے لگے.

    نئی سکلز جو نوجوان سیکھ سکتے ہیں ان میں سوشل میڈیا مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ یہ بذات خود ایک وسیع فیلڈ ہے اس میں کسی بھی چیز میں مہارت حاصل کر لیں، وڈیو ایڈیٹنگ سیکھ لیں، کانٹینٹ رائٹنگ سیکھ لیں، ویب سائٹ بنانا، موبائل ایپ بنانا، آرٹیفشل انٹیلیجنس، ایکسل مینیجمنٹ، کاپی رائٹنگ، بلاگنگ، یوٹیوب چینل شروع کرسکتے ہیں ایسی کوئی 25 سے زیادہ سکلز ہیں جو آپ سیکھ کر آن لائن لاکھوں کما سکتے ہیں اور سیکھنے کے لئے کئی ایسی ویب سائٹس ہیں جو آپ کو مفت سکھا دیتی ہیں یوٹیوب سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے آپ اس سے سیکھ سکتے ہیں غرض کے اتنے ہنرایسے ہیں کے جن میں بس آپ کو سیکھنے کے بعد چند گھنٹے کام کرنے کے لاکھوں ملتے ہیں بات ساری آپ کی محنت اورمخلص پن کی ہے آپ جیسے جیسے محنت کرتے جائیں گے ترقی کرتے جائیں ان میں آپ کو کسی کی منت نہیں کرنی کوئی سفارش نہیں کروانی کوئی رشوت نہیں دینی،آپ خود اپنے بزنس کے مالک ہونگے اپنی مرضی کے گھنٹوں میں کام کرسکتے ہیں، اب نوکری صرف اس شخص کے لئے نہیں ہے جو کام کرنا ہی نہیں چاہتا ورنہ اگر کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو پوری دنیا مین کام موجود ہے بس آپ کو اپنی سوچ تبدیل کرنی ہے آپ کو اپنی سوچ سرکاری نوکری سے نکال کر محنت کی طرف لے کر آنی ہے جب آپ یہ کر لیں گے تو نوکریاں آپ کا راستہ دیکھ رہی ہیں۔

    آن لائن کام کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کے آپ کو وسائل کی ضرورت نہیں ہے آپ کے پاس ایک اچھا لیپ ٹاپ ہونا چاہیے اور انٹرنیٹ تو آجکل ہرکسی کے پاس ہے بس اس سے فائدہ اٹھائیں اورکام شروع کریں حکومتوں سے گلا کرنا چھوڑ دیں اپنی سی وی لے کر مقامی نمائندوں کے پیچھے بھاگنا چھوڑدیں، سرکاری اداروں میں ایک نوکری پر ہزاروں درخواستیں دے کر اپنے ذہن کو ایک عجیب کیفیت میں مبتلہ کرنے سے کچھ نہیں ہونے والا اللہ تعالی اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو قوم اپنے حالات خود نہ بدلنا چاہے۔

    پاکستان ایک ترقی پزید ملک ہے جو قرضوں میں جکڑا ہوا ہے صرف آئی ٹی کی صنعت اورنوجوانوں کو ہنر مند بنانے سے ہم اربوں ڈالر کما سکتے ہیں، اس سلسلے میں حکومت نے نوجوانوں کے لئے مفت ہنر سکھانے کا پروگرام شروع کیا ہے جس سے لاکھوں نوجوان فائدہ حاصل کرچکے ہیں ضرورت اس بات کی ہے ملکی سطح پرایک ایسا فورم بنایا جائے جہاں نوجوان اپنے آئیڈیاز لے کر آئیں اور سرمایہ کار ان پر میں سے بہترین آئیڈیازکو سپانسر کریں ایسے ایک ایسا سلسلہ شروع ہوجائے گا جو لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے گا۔

    پاکستان نے سال 2020-2021 میں تقریبا 2 ارب ڈالر تک اس صنعت سے کمائے ہیں اگر حکومتی وسائل اور نوجوان اس میں دلچسپی لینا شروع کردیں تو یہ صنعت اگلے 5 سال میں آسانی سے 10 ارب ڈالر تک جاسکتی ہے لیکن اس کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا حکومت نے ایک اور بہترین کام کیا ہے کہ آئی ٹی پر کوئی بھی ٹیکس نہیں لگایا گیا اس سے اس میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ حال ہی میں پاکستان حکومت ایمازون کو پاکستان میں لانے میں کامیاب ہوگئی ہے اب اگلی باری پے پال جیسی سروس کی ہے اگر حکومت اسی طرح نوجوانوں کی مدد کرتی رہے تو وہ وقت دور نہیں جب یہ صنعت پاکستان کے قرضے اتارنے میں مدد کرے گی۔
    آخر میں نوجوان نسل کو پیغام ہے ہمت کریں میدان میں آئیں اللہ تعالی مدد فرمائے گا۔
    اللہ ہم سب کا حامہ و ناصر ہو : آمین

    @nomysahir

  • تعلیم کا فقدان  عدنان علی

    تعلیم کا فقدان عدنان علی

    ہم اپنی آنے والی نسل کو کیسے باور کروائیں کہ علم سے ہی ہماری زندگی روشن ہوگی۔۔۔
    کچھ عرصے تک میں یہی سوچ رکھتا تھا کہ علم حاصل کرنا کوئی کامیابی کی کنجی نہیں ہے لیکن پھر احساس ہوا کہ اگر ایسا نہیں ہے تو یہ کالج یونیورسٹیاں کیوں بھری ہوئی ہیں؟؟
    ہر ماں باپ چاہتاہے کہ ہمارے بچے تعلیم سے آراستہ ہوں۔۔۔
    ہمارے بچوں کی سوچ ہے کہ اگر ہم کالج یا یونیورسٹی نہ جائیں گے تو ہمارے گھر والے ہمیں کہی مزدوری پر ڈال دیں گے اس لیے وہ چلے تو جاتے ہیں لیکن یہ لوگ اپنی جوانی کو انجواے کرنے کی سوچ میں رہتے ہیں
    اور تعلیم سے دوری کی بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری نسل سمجھتی ہے کہ خیر ہے کچھ نہیں ہوتا ہم کوئی نہ کوئی سفارش کروا لیں گے ۔ سفارش سے کسی نہ کسی جگہ سیٹ ہو جائیں گے
    تعلیم کا مقصد ہے انسان کی شخصیت میں نکھار پیدا کرنا، ذہن و شعور میں ایک مثبت تبدیلی لانا، قومی کردار کی روح پھونکنا، انسانی اقدار کے دریچے کھولنا، تعصب اور تنگ نظری کو ختم کر کے اخلاقی قدروں کو برقرار رکھتے ہوئے انسان کو تہذیب و تمدن کے بلند و بالا مقام تک پہنچانا ہے۔

    تعلیم کے لئے خود سے جنگ کرنی پڑے گی اپنے مستقبل کو سنوارنے کے شوق پیدا کرنا پڑے گا ۔
    ہمارے استاد ہوا کرتے تھے بہت ہی پیارے جو ہمیں کہا کرتے تھے کہ زندگی میں انجواے بھی کرو لیکن اپنے مقصد کو اگنور نہ کرو اگر آپ آج کچھ نہیں کریں گے تو کل کو آپکے سامنے آئے گا اور آج اکثر ان کی باتیں یاد آتی ہیں کہ وہ سنجیدہ تھے کہ ہمیں اپنے علم کی روشنی سے روشن کر دینے کو لیکن ہم تب نادان تھے جو جوانی کو زندگی کے خوبصورت ترین دن سمجھ کر ضائع کرتے رہے
    تعلیم کو پوری دنیا میں وہ واحد ہتھیار سمجھا جاتا ہے جو ایک غیر مہذب معاشرے کو مہذب معاشرے میں بدل سکتا ہے

    لہذا خود بھی اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی یہ باور ضرور کروائیں کہ تعلیم کا
    ہماری زندگی میں کیا کردار ہے
    ہمیں چاہیے کہ تعلیم حاصل کریں اور اس کا صیح استعمال کریں اور اگر ایسا ممکن ہوا تو وہ دن دور نہیں کہ ہم دنیا کے ان ملکوں میں شمار ہونا شروع ہوجائے گا جو جدید علوم سے اگاہی رکھتے ہیں۔
    @_Ryder007

  • کورونہ وائرس اور پاکستان میں تعلیم پر اس کے اثرات    تحریر: زاہد کبدانی

    کورونہ وائرس اور پاکستان میں تعلیم پر اس کے اثرات تحریر: زاہد کبدانی

    کورونا وائرس نے پاکستان کا نظام تعلیم اور امتحانات کا نظام درہم برہم کردیا ہے۔ پاکستان میں تعلیمی نظام 20،2020 مارچ کو تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے تھے ، کیونکہ کسی ملک کے نظام کی وجہ سے ، اس ملک سے سائنس دان ، ڈاکٹر اور انجینئر جتنے زیادہ آتے ہیں۔ COVID-19 کے وسیع پیمانے پر ، اور افراد کو گھر سے خود کو الگ تھلگ کرنے کی تاکید کی گئی۔ لاک ڈاؤن کا معیشت پر منفی اثر پڑا ، لیکن اس نے تمام تعلیمی سرگرمیاں بھی بند کردیں ، جس سے پوری دنیا میں طلباء کی تعلیم اورعلم میں ایک بہت بڑا فرق پڑ گیا۔ کسی بھی ملک کی ترقی سے شدید متاثر ہوئے ہیں اس کا انحصار اس کے نظام تعلیم پر ہے۔ کورونا وائرس کی بہتر تعلیم جس طلباء نے جس نے سارا سال محنت کی اور وہ طالب علم جنہوں نے اپنا وقت ضائع کیا اور اپنے والدین کا پیسہ ضائع کیا۔ دونوں قسم کے طلبہ کو فروغ دیا۔ اس مقداری مطالعے کا مقصد پاکستان میں اعلی سطح کے طلبا کی تعلیم پر COVID-19 کے اثر و رسوخ کا تعین کرنا تھا۔ انٹرمیڈیٹ ، انڈرگریجویٹ ، گریجویٹ ، اور پوسٹ گریجویٹ لیول میں داخلہ لینے والے لرن کو پانچ نکاتی لیکرٹ اسکیل سوالنامہ دیا گیا تھا۔ سروے میں کل 74 افراد نے جواب دیا۔ ایس پی ایس ایس
    ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے لئے 23 استعمال کیا گیا تھا۔ اعداد و شمار نے اشارہ کیا کہ طلبا کو آن لائن کلاسوں کے دوران کلیدی موضوعات کو سمجھنے میں بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ شاگردوں کے پاس انٹرنیٹ کنیکشن کی کمی تھی اور ان کو آن لائن پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کے بارے میں کوئی پیشگی ہدایت نہیں تھی۔ جب ایک ہی وقت میں آن لائن تعلیم کی بات آتی ہے تو اساتذہ اور طلبہ دونوں ہی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اس بات کا بھی پتہ چلا کہ اساتذہ کے باوجود طلبہ کو مطلوبہ اوزار اور آراء دیتے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے حکومت نے پہلے سمارٹ نصاب دیا اور پھر بعد میں اعلان کیا کہ صرف تین مضامین کے کاغذات ہوں گے لازمی مضامین نہیں لئے گئے ، حالانکہ پاکستان اور اسلام کے بارے میں جاننا زیادہ ضروری ہے۔ پاکستان میں باقی سب کچھ چل رہا تھا لیکن صرف تعلیمی ادارے ہی کیوں بند کیے گئے؟ اب اساتذہ اور طلبہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ سخت محنت کریں اور پچھلی تعلیم میں کسی قسم کی کوتاہیوں کا مقابلہ کریں۔

    @Z_Kubdani

  • سندھ کا تعلیمی معیار   تحریر: ایمن زاھد حسین

    سندھ کا تعلیمی معیار تحریر: ایمن زاھد حسین

    پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ملک ہے۔اور یہاں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام پر اگر نظر ڈالیں تو میں سمجھتاہوں تعلیم کو طبقاطی نظام میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ امیر حکمرانوں کے بچے ملک سے باہر تعلیم حاصل کر رہے ھین اور جو غریب حکمران ہیں انکے بچے پرائوٹ ہائے فائے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رھے ہیں ۔پاکستان کے چاروں صوبوں میں تعلیمی نصاب الگ الگ ہیں اور ہر ایک صوبے میں ایک نظام تعلیم کا ہننا چاہیے تھا لیکن ایسا ہوا نہیں بلکہ یہ کہنا چاہیئے کہ اسے ہر لحاظ سے تباہ کیا جارہا ہے۔دنیا کے بیشتر ممالک اپنی قومی زبان میں تعلیم دیتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں اور یہاں اسکول انتظامیہ سے لیکر والدین تک اپنے بچوں کو نہ مادری زبان پر عبور حاصل کرتے دیکھنا چاہتے ہیں اور نا ہی قومی زبان پر پڑھنے بولنے لکھنے میں عبور حاصل کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کا معیار 1999 سے پہلے بہترین تھا۔ جہاں بچہ یا طالب علم کی تربیت اپنے والدین،خاندان،معاشرے سے لیکر اسکول استاد تک کے سامنے ہوتی تھی اور داخلہ بھی سخت امتحان کے بعد ملتا تھا لیکن اس کے بعد تو جیسے سرکاری اسکولوں پر عزاب مسلط ہو گیا۔تعلیم تباہ ہو گئی پھر اس کے بعد پرائوٹ اسکولوں کا آغاز ھوگیا۔ انگلش میڈیم کی بھرمار آگئی اور ایک کاروباری دوڑ شروع ہو گئی لیکن مقصد تعلیم بہت پیچھے رہ گیا۔اب تو یہ حال ہے کہ سرکاری اسکول میں پڑھانے والے اساتذہ کے بچے بھی انگلش میڈیم میں پڑھتے ہیں بلکہ نظام تعلیم سے منسلک تمام ہی افسران کے بچے انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔انگلش میڈیم اسکولوں میں بھی الگ الگ معیار ہیں۔بھاری فیس والے اور نارمل فیس والے اور سستی فیس والے۔معیار اساتذہ اور دیگر سہولیات ہیں۔سرکاری اسکولوں میں پڑھانے والے ذیادہ تر اساتذہ سیاسی بھرتیاں ہیں جس سے سرکاری تعلیم کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔ 2011 کے بعد سندھ میں میرٹ سے بھرتی ہونے والے اساتذہ سے تعلیم 15% بہتر ہوئی 2014 -2015 میں میرٹ پر نئے اساتذہ بھرتے ہوئے جس سے سندھ میں تعلیم انقلاب پرباہ ہوا ۔پر افسوس کی بات یہ کہ سندھ حکومت کی طرف سے طرح طرح کے قوانین بننا پر ان پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ میں مختلف قسم کی پریشانیاں لاحق ہورہی ہیں۔پہلے تو اسکولوں کی خستہ حالت سے والدین اپنے بچوں کو اسکول نہیں بیجتے ۔دوسرا یہ کہ اسکولوں میں بنیادی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ پریشانیوں میں مبتلا ہیں ۔ جہاں بچے کم ہیں وہاں اساتذہ میسر نہیں اور جہاں اساتذہ ہیں وہاں بچے نہیں ۔ بہت سے ایسے گاؤں ہیں جو کئی سالوں سے بند پڑے ہیں۔ اس لیے میری سندھ حکومت سے عاجزانہ گذارش ہے کہ محکمہ تعلیم کا نظام بہتر بنانے کیلئے اوپر دیے گئے مسائل کو فوری حل کرکہ جئے بھٹو کی جگہ ” ہر گھر میں بچہ حاصل کریگا تعلیم کا نعرہ لگائیں کیونکہ تعلیم ہے تو قومیں ترقی کرتی ہیں،صرف نعرے سے کچھ نہیں ہوگا۔

    @ummeAeman